Translate

Thursday, May 12, 2022

تزکیہ نفس کا مفہوم بہت وسیع ہے


محمد طارق بدایونی 
ریسرچ اسکالر: ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ

تزکیہ نام ہے کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا، اس کی نشو و نما کرنا اور غیر ضروری چیزوں سے کار آمد اشیا کی حفاظت کرنا یعنی نقصان دہ اور غلط افکار و نظریات اور رجحانات و میلانات سے چھٹکارا پا کر پاکیزگی کی طرف آنا۔
 اللہ تعالی کا ارشاد وارد ہے:
”نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی۔ یقینا فلاح پا گیاوہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔“ [سورة الشمس: ۷،۸،۹،۱۰] 

اللہ تعالی نے انسان کے اندر خیر وشر کے مابین امتیاز کرنے کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔ صرف انسان ہی میں نہیں بلکہ ہر مخلوق کے اندر یہ صفات ان کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے عطا فرمائی ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: "ربناالذي أعطى كل شيئ خلقه ثم هدی‘‘ [سورة طه: ۵۰]
(ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔) 
مولانا مودودی وضاحت کر تے ہوئے رقم طراز ہیں: ”مثلا حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے، جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندہ کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتا بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آ جاتا ہے۔ انسان کی اس و دیعت کردہ صلاحیت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو شرک و بدعت سے بچائے، فساد نیت، تحریف و کتمان حق، حسد و کینہ، نفاق، لڑائی جھگڑے اور دیگر اعمال بد جیسے کبر و غرور، دوسروں کو کم تر سمجھنے سے، عصبیت، لالچ، حرص و ہوس اور خواہشات نفسانی سے خود کو محفوظ رکھے۔ دل میں اللہ کی یاد اور عقبی کا تصور ہو، جزاء و سزا پر یقین ہو، احساس جواب دہی اور ضبط نفس ہو، ندامت و پشیمانی اور توبہ و استغفار کی کثرت، نیکو کاروں کی صحبت اختیار کی جائے اور زبان کی حفاظت ہو، سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ روزانہ اپنا محاسبہ کیا جائے یعنی بستر پر جانے سے قبل دن بھر اپنے تمام اعمال و افعال کے تعلق سے غور و فکر کرنا چاہیے کہ آج کون سا کام ایسا کیا جو قابل تعریف ہے اور کون سا ایسا کیا جو غلط تھا جس پر پکڑ ہو سکتی ہے؟ پھر اچھے کاموں پر خدا کا شکر ادا کیا جائے اور برے کاموں کی اللہ سے معافی مانگی جائے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ہو۔ کیوں کہ جب انسان تزکیہ کے نتیجے میں اعمال بد سے دوری اختیار کر لیتا ہے تو پھر رب العالمین کی محبت اور انعام و اکرام سے سرشار ہو تا ہے، عبادت و اطاعت میں لطف آنے لگتا ہے، خلوص وللہیت دل میں جاں گزیں ہو جاتی ہے، زندگی کے ہر رطب و یابس مرحلے میں اللہ تعالی کا شکر بجالا تا ہے اور غفلت ولا ابالی پن سے نکل کر اپنے حقیقی مقصد کی جانب گامزن ہو جا تا ہے۔ جب انسان اس طرح اپنا تزکیہ کر لیتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ فرمان وارد ہے۔: ’’قد أفلح من تزكي‘‘۔ اللہ رب کریم کا سب سے بڑا انعام ہے کہ ایسے شخص کو کامیابی کا سرٹیفیکیٹ عطا کیا جار ہا ہے۔
سید قطب شہید نے اس آیت کریمہ کو سورۃ البلد کی آیت ۱۰، سورہ الانسان کی آیت ۳، سورۃ ص آیت ٧١،٧٢، سورۃ المدثر آیت ۳۸، سورة الرعد آیت ااسے مربوط کیا ہے اور آخر میں یہ تبصرہ موجود ہے:
”ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ انسانی وجود اپنی تخلیق سے دوہری فطرت، دوہری صلاحیت اور دوہرا رخ رکھنے والا ہے اور زمین کی مٹی سے پیدا ہوا ہے اور خدا نے اس میں اپنی کچھ روح پھونکی ہے، اس لیے وہ خیر و شر اور ہدایت و گم راہی، دونوں کو اپنانے کی یکساں صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا خیر ہے اور کیا شر؟ ان میں تمیز کرنے پر قادر ہے خیر کی طرف رخ کرے یاشر کی طرف، دونوں امور پر اسے یکساں قدرت ہے اور یہ قدرت اس کے وجود کے اندر موجود ہے اسے قرآن کبھی الہام سے تعبیر کرتا ہے: ”و نفس و ما سواها، فألهمها فجورها و تقواها“ قسم نفس انسانی کی اور جیسا کچھ اسے ٹھیک ٹھاک کیا تو اس کو اس کے فجور اور تقوی کا الہام کیا۔ اور کبھی وہ اس کے لیے ہدایت کی تعبیر اختیار کرتا ہے:”و هدینہ النجدین‘‘ اور ہم نے اسے دو راہوں کی ہدایت دی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیز اس کی فطرت میں صلاحیت و استعداد کی شکل میں چھپی ہوئی ہے! دعوت و تبلیغ ، ترغیب و ترہیب اور خارجی عوامل ان صلاحیتوں کو بیدار اور تیز کرنے اور انھیں ادھر یا ادھر متوجہ کرنے اور لگانے کے لیے ہیں، ان صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے لیے نہیں! کیوں کہ یہ صلاحتیں تو اس کی فطرت میں ودیعت ہیں ،طبعاً اس کے اندر موجود ہیں اور خدا نے اس کو ان کا الہام کیا ہے۔

تزکیہ کسی بھی چیز کا ہو سکتا ہے چاہے وہ نباتات و جمادات کی قبیل سے ہو یا انسان و جنات۔ مثلاً کسی نے زمین جوت کر اسے فصل کے لائق بنا دیا پھر اس میں بیچ ڈالا اور کوئی پودا اُگ آیا، کچھ دنوں بعد اس کے ارد گرد گھاس جم گئی جو اس کے لیے نقصان دہ ہے، ایسی صورت میں اس کے آس پاس کی گھاس صاف کر نالازم ہے تا کہ اس پودے کی نشو و نما اچھے ڈھنگ سے ہو سکے۔ یہ صفائی کا عمل ہی تزکیہ ہے۔

عموما جب تزکیہ لفظ بولا جاتا ہے تو ذ ہن اپنے نفس کی جانب چلا جاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ، اس کا مطلب کیا ہے؟ 
واضح رہے تزکیہ نفس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ انسان اپنی ذات سے منکرات و نواہی کی چھٹائی کر کے صرف اللہ اللہ میں لگ جائے؛ بلکہ منکرات و نواہی کا مقابلہ معروف سے ہے۔ یوں تو انسانی زندگی کا حقیقی مقصد ہے تو اللہ کے نازل کردہ احکامات و قوانین کی پیروی کرنا؛ لیکن اس پیروی کا مطلب گوشہ گیری اختیار کر لینا نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ تقاضے ہیں جو انسان کو پورے کرنا ہوں گے۔ انسان کا تعلق ، تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال ، کنبہ و خاندان اور معاشرو و ریاست سے بھی ہونا چاہیے۔ اس میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک، بیوی بچوں کے حقوق کی ادائگی، پڑوسیوں کی خبر گیری معاشرہ میں موجود غریبوں اور یتیموں کی دیکھ ریکھ  اور ریاستی و حکومتی سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا وغیرہ شامل ہیں، ان ذمہ داریوں میں ایک فریضۂ جہاد بھی ہے، جس کے لیے ہر شہری کو بوقت ضرورت تیار رہنا ہوگا اور ہر حال میں اپنا حق لینا ہوگا اور دوسرے کے حقوق دلانا ہوں گے۔

Sunday, May 1, 2022

افسوس نہیں اپنا محاسبہ کرو


محمد امام الدین ندوی
مدرسہ حفظ القرآن، منجیا ، ویشالی

 میں رمضان ہوں ۔چند گھنٹوں کا مہمان ہوں۔میں پابہ رکاب ہوں۔میرا تیس (۳۰)دنوں کا سفر مکمل ہونے کو ہے۔اللہ جانےآئندہ سال تم سے ملاقات ہو یا نہ ہو۔
   میں سال کا انوکھا مہینہ ہوں۔اللہ نے ہر طرح کے خیر سے مجھے گھیردیاہے اور بحر دیا ہے۔اتنا خیر میری دوسری بہنوں کو میسر نہیں ہوا۔اللہ نے روزہ جیسی عظیم عبادت سے مجھے نوازہ۔جس میں بندہ اپنے کو بھوک،وپیاس،اور جائز نفسانی خواہشات سے درمیان روزہ اپنے کو بچاتا ہے۔زبان سے صادر ہونےوالی ہرقسم کی برائیوں سےاپنی زبان کو روکتا ہے۔اپنے اعضاء کی حفاظت کرتا ہے۔
     میری آمد نیکیوں کی بہار ہے۔لوگ کثرت سے نیکی کرتے ہیں۔نیکیوں کےثواب میں اللہ اضافہ کرتاہے۔نوافل کا بدلہ فرض کے برابر،فرض کابدلہ ستر فرض کے برابر ہوجاتا ہے۔لوگ کثرت سے ذکرواذکار، کرتے ہیں 
تسبیحات کی پابندی کرتے ہیں۔درود کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔میں اس اعتبار سے بھی خوش نصیب ہوں کہ نزول قرآن کے لئے اللہ نے میرا ہی انتخاب کیا۔لوگ کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔میرے آتے ہی جنت ہر روز سجتی ہے۔سرکش شیاطین بند کردیئے جاتے ہیں۔میں رحمت ومغفرت اور جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں۔بھوکے رہنے کی وجہ سے بندے کے خالی پیث کی بدبو مشک سے بھی بہتر ہے۔شام میں غروب آفتاب کے وقت لوگ اپنے دستر خوان پر بیٹھتے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں۔مغرب کی اذان کا بے بڑی سےانتظار کرتے ہیں۔اذان سنتے ہی اللہ کی دی ہوئی پاکیزہ نعمتوں سے افطار کرتے ہیں۔یہ سماں صرف میری وجہ سے ہے۔ورنہ غروب آفتاب تو ہردن ہوتاہے۔
     میری آمد نماز تراویح کو لاتی ہے۔نماز تراویح صرف میری خصوصیت ہے۔بندہ قرآن کی تلاوت سنتاہے اور بیس رکعت نماز اضافی اداکرتاہے۔میرے رخصت ہوتے ہی یہ اضافی نماز موقوف ہوجاتی ہے۔میں اعتکاف کبھی باعث ہوں۔بندہ دس روز اپنے مالک حقیقی کا دربان بنا گوشۂ مسجد میں مقید ہوتا ہے۔دوران اعتکاف صرف اپنے رب سے رازو نیاز کی باتیں کرتاہے۔اپنے کو کبھ تلاوت قرآن میں،کبھی ذکرواذکار میں تو کبھی نوافل میں مشغول رکھتاہے۔کبھی لمبی دعاؤں میں رب کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے۔اس پر اللہ اسے مزید انعام سے نوازتا ہے۔
     اللہ تعالٰی نے شب قدر سے میرے دامن کوبھردیاہے۔شب قدر پانچ(۵)بنائی ہے۔یہ آخری عشرے کی پانچ طاق راتیں ہیں۔اور ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس میں شب بیداری قرب خداوندی کا بہتر ذریعہ ہے۔ان راتوں میں بیدار رہنا،اور اپنے کو مختلف عبادتوں میں مشغول رکھنا بڑے ثواب اور نجات کا باعث ہے۔
صدقۂ فطر کی ادائیگی بھی میرے ہی وجود سے وابستہ ہے۔اس سے محتاجوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔لوگ ثواب میں اضافے کی امید میں اپنے مال کی زکوت بھی ادا کرتے ہیں۔
   میرے آنے سے لوگ لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرتے ہیں۔صبر کے دامن کو تھامتے ہیں۔ایک دوسرے سے ہمدردی بڑھاتے ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کی ضیافت کرتے ہیں۔غریبوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
     دیکھو اب میں  چلنے کوتیار ہوں۔میرے جانے پر حسرت وافسوس مت کرنا۔میں دوبارہ آؤں گا۔البتہ تم ملو یا نہ ملو۔میں تمہارے درمیان لمبے دنوں تک ٹھرارہا۔تم نے میری قدر اور عزت کس قدر کی۔میرے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا رہا۔مذکورہ تمام صفتوں کے ساتھ تم نے مجھے گلے لگایا تب تو بہتر ورنہ تمہیں افسوس کرنا چاہئے۔
 افسوس اس پر کرناچاہئے کہ تم تلاوت کے پابند بنے کہ نہیں۔اللہ سے رشتہ مضبوط ہوا کہ نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا جذبہ پیدا ہوا کہ نہیں۔نماز زندگی میں آئی کہ نہیں۔لڑائی جھگڑے،عداوت،دشمنی،بغض،حسد جلن،جھوٹ،چغلی،غیبت،دوسروں کی عیب جوئی،بہتان تراشی،زنگی سے نکلی یانہیں۔معاملات میں صفائی اور صاف گوئی پیدا ہوئی کہ نہیں۔افسوس اس بات پر ہونا چاہئے کہ مجھ سے وابستگی کے باوجود بھی انسانیت آئی یا نہیں۔زندگی کامقصد کیاہے اس باب میں فکر ہوئی کہ نہیں۔
   دیکھو میں تو جانے کو چلاجاؤں گا پر اپنی فکر کرنا۔اپنے رب کو راضی کرنا۔آخرت کو سنوارنا اور سجانا۔اپنے نفس کی غلامی قبول کرنے کی بجائے رب کی غلامی قبول کرنا۔اپنے آخری نبی کی سیرت وصورت اختیار کرنا۔دوست ودشمن سب کے لئے نفع بخش ثابت ہونا۔
    دیکھو زندگی کا چراغ کب،کہاں،کیسے،گل ہو جائے پتہ نہیں پر اپنی زندگی کو اللہ کی بندگی اور رسول کے طریقے پر گزارنا۔اپنے پرائے سب کے لئے دروزۂ دل صاف اور کھلا رکھنا۔امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا خاص خیال رکھنا۔
دیکھو میرا اور تمہارا ساتھ لمبے دنوں تک رہا۔اس میں بھی اچھی خصلت پیدا نہ ہوئی تو بہت افسوس کی بات ہے۔
     دیکھو ہر روز اپنا محاسبہ کرتے رہنا۔گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانہ۔ہر حال میں اپنے رب کو خوش رکھنا۔
   مجھے اس وقت بہت خوشی ہوگی جب تم اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئےجنت میں بنے باب ریان سے داخل ہونا۔
    میری دعاء ہے کہ اللہ تمہیں نیکی کی توفیق دے برائی سے بچنے کی توفیق دے۔کبر وغرور سے دل کو صاف کردے۔آمین۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...