Translate

Friday, July 21, 2023

مرد خود آگاہ مولانا محمد اسلام قاسمی رحمہ اللہ ✒️:عین الحق امینی قاسمیمعہد عائشہ الصدیقہ ،بیگوسرا

مرد خود آگاہ مولانا محمد اسلام قاسمی رحمہ اللہ

 
 ✒️:عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ ،بیگوسرائے

ازلی دنیا سے لوگوں کا ناپائدار عارضی رشتہ ،ایک مسلم حقیقت ہے ،مگر کچھ گوہر نایاب و تاب کار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی جدائی سوہان روح ثابت ہوتی ہے ،بلا شبہ عہد رواں کے ادیب ،خلیق وفہیم ،متین وزعیم مولانا محمد اسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ سابق استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند  کی جدائی بھی امت کے لئے عظیم خسارہ ہے،مولانا محمداسلام قاسمی میرے استاذ تو نہیں تھے ،مگر غائبانہ میں ان کا عقیدت مند رہا  ،ان کی تحریریں ضرورت سمجھ کر پڑھتا تھا،شوسل میڈیا میں وہ میرے دوست تھے ،ان کے تبصرے سےاکثر اتفاق رہتا ،مگر بعض تبصرے قابل تبصرے ہوتے تھے ،لیکن وہ خندہ پیشانی سے تبصروں کو برداشت کرلیا کرتے تھے،ان کی بیماری کا علم تھا ، مگرقلمی لہجوں میں وہ قطعا بیمار نہیں لگتے تھے ۔افسوس کہ میری ان سے کوئی بالقصد وبامراد،باضابطہ ملاقاتیں نہ ہوسکیں ،ہاں دیوبند قیام کے دوران ان سے راہ چلتے بعد عصر  ایک سے زائد ملاقاتیں ضروررہی ہیں ،جن میں علیک سلیک سے زیادہ اور کچھ مزید نہیں۔ باوقارعلمی شخصیت ہونے کی وجہ سے ان وقتی ملاقاتوں کا اثرمیری زمانہ طالب علمی پر بھی چھایہ رہا اوربعد کے دنوں میں بھی ۔تاآں کہ مولانا کی وفات ہوگئی اور وہ رب قدیر اور محبوب حقیقی سے جاملے ۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے انتقال کی خبر پر سب سے زیادہ غم اس ا مر کا رہا کہ اب ایسی وضع کے لوگ کہاں رہ گئے جو سراپا علم وادب اور "مرد خود آگاہ "ہیں عہد رواں میں دبستان دیوبند کے گویاشان وپہچان تھے مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی !
زندگی میں شان وپہچان کی بڑی اہمیت بھی ہے اور بڑی ضرورت بھی ،بلاشبہ مولانا مرحوم ہم سبھوں کی ضرورت اور شان وانعام تھے ، ان کی ایک شخصیت میں کئی روشن جہتیں تھیں ، وہ ہر زاوئیے میں الگ الگ رنگ وآہنگ میں نظر آتے تھے :گفتگو میں ان کا اپنا جمال تھا ،تدریس کا لب ولہجہ بھی خود ساختہ تھا ،قلم سے بکھرے موتیوں کا رنگ بھی پکا تھا ،فہم وفراست ،استغنی خلق خدا سے ربط و تعلق کی الگ ہی شان تھی ،اسٹیج پر میرکارواں ،خلوت میں مرد قلندر ،اور طلباء دارالعلوم کے بیچ جلوت نشینی میں نکتہ سنج شیخ الحدیث ۔سراپا کو دیکھنا ہو تو وہ آپ کو  دور سے دکھ جاتے ،ان میں عام احباب کے لئے تکلف تھا، وہ پر تکلف ضرور جیتے تھے، ظاہر داری تھی، مگر تصنع اور نمائش سے پاک تھے،وہ تکلف بھی در اصل اجلے ذہن اور مزاج میں خوب روئی کی علامت تھا جو ان کے مربئ جلیل حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہ اللہ کی لانبی صحبت اور ہمہ رنگ مجلسوں سے نصیبے میں آیاتھا اور جو دم آخر تک مولانا مر حوم کی ذات اقدس پر فروزاں تھا۔مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب کے شعور کی بالیدگی اور فکر وفہم کی بلندیوں نے انہیں غیر معمولی طور پر معاصرین میں ممتاز بنادیا تھا ،وہ زمانہ طالب علمی سے ہی  معاصرین میں الگ نام وصفات کے ساتھ امتیازی شناخت کے مالک تھے۔
 
میانہ قد، وجیہ چہرہ اور اکہرے بدن پر شیروانی کے ساتھ علم وادب کا گراں مایہ رعب ووقار خوب جچتا  تھا اور سچی بات یہ ہے کہ اساتذہ سے ان کی وارفتگی ،ماننے اورمان کر جینے کا گن ،کتاب ودرس سے بے پناہ لگاؤجیسی خوبیوں نے ان کی شخصیت و صلاحیت کو عمر کے آخری پڑاو میں "ولایت" کا مقام بخش دیا تھا ،مولانادیگر بانصییبوں کی طرح آباواجداد کی طرف سے بھاری بھرکم نسبتوں کے مالک نہ تھے ،جس سے ان کو دبستان دیوبند کے بیچ وقار اعتماد حاصل ہوسکا ،بلکہ اس حوالے سے جو کچھ بھی ان کے پاس تھا،وہ ان کا اپنا سرمایہ تھا ،ذاتی محنت وکوشش سے انہوں نے مرکز علم وفن کے بیچ جگہ بنائی تھی اور مرکزیت حاصل کی تھی ،ان کی زندگی کا یہ حصہ اتنا سبق آموز ہے کہ ہر طالب علم کو پڑھنا اور سمجھنا چاہئے ،ان کے اندر حصول علم کی راہ میں جو تڑپ وبے چینی تھی اور  کاروان علم وفن کے گرد،خود کو پامال کر دینے کا جوعزم وعمل تھا ،ان جیسی بے مثال خوبیوں نے ان کے نہ صرف قد کو بڑا بنایا ،بلکہ قد سے کیا ہوتا ہے، ان کی ذات  کو انجمن بنادیاتھا ۔

ذاتی احساس یہ ہے کہ مولانا اپنے دھن اور مشن کے بڑے پابند رہے ،آتے جاتے گذرگاہوں کی ملاقات وزیارت سے راقم کوجو محسوس ہوا اور جس چیز نے ان سے متآثر کیا وہ ان کی "خود آگاہی" کی صفت تھی ،وہ راہ چلتے ہوئے بھی مانو کوئی نہ کوئی خاکہ سازی کررہے ہوتے تھے ،جس میں رنگ بھری کے لئے  وقت کو برباد کرنا یا بے مقصد کی ملاقاتوں میں خود کو الجھانا پسند نہیں کرتے تھے۔ایک جگہ مولانا احمد سجاد قاسمی ابن سابق مفتی دارلعلوم دیوبند مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی اپنے مضمون "ساتھیوں کا پیر مغان" میں  لکھتے ہیں کہ اسلام بھائی دانشوری اور دیدہ وری میں بے مثال ،کتب بینی اور وسعت مطالعہ میں باکمال، اردو زبان و ادب میں ممتاز، عربی ادب کے گوہر مایہ ناز، مضمون نگاری اور انشاءپردازی میں اپنی مثال آپ، خوش قلم، اعجاز رقم، خط نسخ، خط نستعلیق، خط رقاع، خط کوفی اور بھی مختلف خطوط کے اپنے دور کے نادر و یکتا خطاط، گفتگو میں شستگی، تحریر میں برجستگی، رہن سہن میں سادگی کے ساتھ شائستگی، دوستوں سے بےتکلفی، آزاد مزاج، آزاد منش، سراپا اخلاص ۔۔۔ الغرض خواجہ حافظ شیرازی کے اس شعر کی ترجمان شخصیت۔۔۔۔

 بس نکتہ غیر حسن   بباید  کہ  تا  کسے 
مقبول  طبع  مردم  صاحب نظر   شود 
    
 بہت سارے اوصاف ایسے ان میں جمع تھے جس کی وجہ سے وہ محبوب دوستاں رہے، مجالس احباب میں وہ ہمیشہ میر مجلس رہے، دوستوں کی قدر دانی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش، فراخ دل اور کشادہ چشم رہے، اور صحیح معنی میں انکی صحبت میں بہت جی لگتا تھا، احباب محسوس کرتے۔۔۔۔ 
  
   آں روز بر دلم در معنی کشادہ شد 
     کز ساکنان  درگہ  پیر مغاں  شدم

مولانا محمد اسلام صاحب کے بارے میں بعض ساتھیوں نے یہ بات بھی بتائی تھی کہ وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں غیر معمولی محنتی رہے اور بعد کے دنوں میں مطالعہ گویا ان کی خوراک بنارہا ،وہ یومیہ مطالعہ غذا کی حیثیت سے کرتے رہے ،طالب علمی سے زمانہ تدریس کے پورے دورانیئے میں انہوں نے اعتماد ووقار کا جو حصہ بھی پایا وہ بلاشبہ اپنی جفاکشی ،جہد اور روز و شب کے منصفانہ استعمال  کی وجہ سے۔ اللہ پاک نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اوقات میں بھی بڑی برکت دی تھی ،انہوں نے خوب پڑھا اور ملت اسلامیہ کے لئے حسب توفیق خوب لکھا ،صلاحیت وصالحیت کی جامع شخصیت ،وہ سلجھے ذوق بھی رکھتے تھے ،اور ستھری تحریر کے مالک بھی تھے ،اب وہ نہیں ہیں مگر ان کے قلمی آبشارے،دنیا بھر میں  پھیلے شاگرد، ان کی مغفرت کا سامان ،بلندئ درجات کا واسطہ اور ہم مستفیدین کے درد کا درماں ثابت  ہوں گے ان شاء اللہ۔

Thursday, July 13, 2023

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے تحریر:Leo Babautaترجمہ: نایاب حسن

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے 
تحریر:Leo Babauta
ترجمہ: نایاب حسن
”مطالعے کی عادت بنانااپنے لیے زندگی کی تمام مشکلات اور غم وفکر سے دورایک محفوظ پناہ گاہ تعمیر کرناہے“۔(سمرسٹ ماہم)
معمول کی زندگی میں بہت سے لوگ آئے دن اپنے لیے کوئی نہ کوئی ہدف مقررکرتے رہتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ وہ اس ہدف کے تئیں کتنے سنجیدہ ہوتے اور اگر سنجیدہ ہوتے ہیں،تو وہاں تک پہنچ پاتے ہیں یانہیں۔دیگر اہداف کی طرح بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا بھی ہدف بناتے ہیں اور یہ ایک سچائی ہے کہ ایک بہترین کتاب بڑی حد تک اطمینان بخش ہوسکتی ہے،وہ آپ کو آپ کی روزمرہ پہنچ سے بہت دور کی باتیں اور چیزیں سکھاسکتی ہے،آپ کے سامنے ماضی قریب یا بعید کی ایسی شخصیات کو لاکھڑا کرسکتی ہے،جنھیں آپ اپنے پاس، اپنے قریب محسوس کریں گے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھناچاہیے کہ اگرآپ کے پاس کوئی اچھی کتاب (جوآپ کو بھی اچھی لگتی ہو)دستیاب ہے، تواسے پڑھنے کا عمل نہایت ہی لطف انگیزاور مزے دار ہوتاہے؛لیکن اگر آپ کوئی بیکارسی،بورنگ یا بہت مشکل کتاب لے کر بیٹھے ہیں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بس ایک معمول پورا کررہے ہیں۔اگر لگاتار کئی دن تک آپ کو اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے،توبہتر یہ ہے کہ آپ کتاب بینی کا چکر چھوڑیں اور کسی ایسے کام میں لگیں،جو آپ واقعی کرنا چاہتے ہیں اورآپ کو اس کام سے محبت ہے۔اگر معاملہ اس کے برعکس ہے،تو پھر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت کوراسخ اور پختہ کرنے کے لیے درجِ ذیل طریقوں پر عمل کریں:
1-وقت متعین کریں:
آپ کے پاس روزانہ مختلف اوقات میں کم سے کم ایسے پانچ یا دس منٹ ہونے چاہئیں،جن میں آپ مطالعہ کرسکیں۔ آپ کو اس متعینہ وقت میں روزانہ ہر حال میں مطالعہ کرنا ہے۔مثال کے طورپر آپ اگر اکیلے کھانا کھارہے ہوں،توناشتے، دن کے کھانے یا رات کے کھانے کے دوران مطالعے کا معمول بنالیں،اسی طرح اگر آپ سفر کے دوران یا سونے سے پہلے بھی  پڑھنے کا معمول بنالیں،تو اس طرح آپ کے پاس مطالعے کے لیے دن بھر میں چالیس یا پچاس منٹ ہوں گے۔اس طرح ایک بہترین شروعات ہوسکتی ہے،پھر روز بروز خود ہی اس میں تیزی بھی آتی جائے گی،مگر آپ اس سے بھی زیادہ کرسکتے ہیں۔
2-ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں:
آپ جہاں بھی جائیں،اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھیں۔میں جب بھی گھر سے نکلتاہوں،تو یہ اچھی طرح چیک کرتاہوں کہ میرے پاس میرا ڈرائیونگ لائسنس، چابی اور کم سے کم ایک کتاب ہے یانہیں۔کارمیں بھی کتاب میرے ساتھ رہتی ہے،آفس میں بھی،کسی سے ملنے جاؤں توبھی؛بلکہ جہاں بھی جاتاہوں تو کتاب ضرور ساتھ لے جاتا ہوں،الایہ کہ ایسی جگہ جاؤں،جہاں کتاب پڑھنا قطعی مشکل ہوتا ہے۔اگر آپ کہیں گئے اور وہاں کسی کا انتظار کرنا پڑرہاہے،تو آپ کے پاس وقت ہے،اتنے وقت میں آپ کتاب نکالیں اور پڑھنا شروع کردیں،یہ انتظار کے لمحات گزارنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ 
3-کتابوں کی ایک فہرست بنالیں:
آپ جن کتابوں کو پڑھنا چاہتے ہیں،ان کی ایک فہرست بنالیں۔اس فہرست کو آپ کسی میگزین،ڈائری، موبائل، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ہوم پیج پر رکھ سکتے ہیں۔پھر جب بھی آپ کو کسی اچھی کتاب کے بارے میں پتا لگے،تو اس کانام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیجیے،فہرست رکنی نہیں چاہیے،جب اس میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے نشان زد کردیں۔
4-ٹکنالوجی کا استعمال:
اپنی کتابوں کی فہرست کے لیے جی میل کا استعمال کریں اور جب بھی کسی اچھی کتاب کے بارے میں سنیں،تو اس کا ایڈریس میل کردیں۔اب آپ کا ای میل ہی آپ کی ریڈنگ لسٹ ہوگا۔جب آپ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے Done کردیں، اگر آپ چاہیں تو متعلقہ کتاب کے تعلق سے اپنا تبصرہ بھی اسی میسج کو رپلائے کرسکتے ہیں، اس طرح آپ کا  Gmail accountآپ کا مطالعہ رجسٹر بھی ہوجائے گا۔
5-پرسکون جگہ تلاش کریں:
گھر میں کوئی ایسی جگہ تلاش کریں،جہاں آپ اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کربغیر کسی کی دخل اندازی کے کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔عام حالات میں لیٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے،الایہ کہ آپ سونے جارہے ہوں۔آپ کے آس پاس ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہو کہ آپ کی توجہ بٹ جائے، گانے کی آواز، گھر کے لوگوں یارفقاے کمرہ کا شوروشغب بھی نہ ہو۔اگر آپ کو ایسی جگہ میسر نہ ہو،تو پڑھنے کے لیے ایسی جگہ بنانے کی تدبیر کیجیے۔
6-ٹی وی/انٹرنیٹ کا استعمال کم کریں:
اگر آپ واقعی زیادہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں،تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال کم کردیجیے،یہ بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوسکتا ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ منٹ جو آپ ٹی وی یا انٹر نیٹ سے بچائیں گے،وہ پڑھنے میں استعمال ہوسکتا اور اس طرح آپ کے مطالعے کا مجموعی دورانیہ کئی گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
7-بچے کے سامنے پڑھیں:
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں،تو آپ کو ضروربالضرور ان کے سامنے پڑھنا چاہیے۔اگر آپ بچوں میں ابھی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں گے،تویقینی طورپر وہ بڑے ہوکر پڑھنے والے بنیں گے اور یہ عادت ان کی کامیاب زندگی کا سبب بنے گی۔بچوں سے متعلق کچھ اچھی کتابیں منتخب کریں اور انھیں پڑھ کر سنائیں۔اس طرح آپ خود اپنی مطالعے کی عادت کو بھی بہتر بنائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بہتر وقت بھی گزار سکیں گے۔
8-ایک رجسٹر رکھیں: 
کتابوں کی فہرست کی طرح آپ کے پاس ایک رجسٹر بھی ہونا چاہیے، جس میں صرف کتاب اورمصنف کانام نہ ہو؛بلکہ آپ نے کب مطالعہ شروع کیا اور کب ختم کیا،وہ تاریخ بھی اس رجسٹر میں درج کرنے کی کوشش کریں۔بہتر یہ بھی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق آپ کی کیارائے ہے،وہ بھی اس رجسٹر میں لکھیں۔اگر ایسا کرتے ہیں،تو چند ماہ بعد جب آپ اس رجسٹر کو دیکھیں گے اوراس میں مذکور مطالعہ کردہ کتابوں،مصنفوں کے نام اور ان کتابوں سے متعلق اپنے تاثرات دیکھیں گے،تو ذہنی و قلبی طورپرآپ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی و مسرت حاصل ہوگی۔
9-مستعمل کتابوں کی دکان پر جائیں:
میری سب سے پسندیدہ وہ جگہ ہے،جہاں رعایت کے ساتھ کتابیں ملتی ہیں،میں اپنی پرانی کتابیں وہاں چھوڑ دیتاہوں اور وہاں سے بہت ہی کم قیمت پر بہت سی کتابیں حاصل کرلیتا ہوں۔میں ایک درجن یا اس سے زیادہ کتابوں پرعموماً صرف ایک ڈالر خرچ کرتا ہوں،اس طرح کم خرچ میں زیادہ کتابیں پڑھ لیتاہوں۔وہاں بعض دفعہ خیرات کی ہوئی نئی کتابیں بھی مل جاتی ہیں،پھر مزا آجاتاہے؛لہذا آپ کو مستعمل کتابوں کے سٹور کا چکر پابندی سے لگانا چاہیے۔
10-ہفتے میں کم سے کم ایک دن لائبریری جائیں:
مستعمل کتابوں کی دکان پرجانے سے بھی سستاسودایہ ہے کہ آپ ہفتے میں ایک دن لائبریری کا چکر لگالیں۔
11-مطالعے کو پرلطف بنائیں:
پڑھنے کے لیے آپ دن بھر کا اپنا سب سے پسندیدہ وقت مختص کریں، مطالعے کے دوران چائے یا کافی یا کوئی اور ہلکی پھلکی کھانے پینے کی چیز ساتھ رکھیں۔اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت یاBeach پربیٹھ کرپڑھنے کا الگ ہی مزاہے۔
12-بلاگ لکھیں:
آج کل کسی بھی کام کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے بلاگ پر درج کریں۔اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے،تو بنائیں،مفت میں بن جاتا ہے۔آپ کے جاننے والے یا فیملی میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اسے دیکھیں گے اور آپ کو کتابوں کے سلسلے میں اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔اس طرح آپ کے اندر اپنے مقصد کے تئیں احساسِ ذمے داری پیدا ہوجائے گا۔
13-ایک اعلیٰ  ہدف بنائیں:
اپنے دل میں سوچ لیں کہ سال بھر میں اتنی(مثلاً پچاس یا سو)کتابیں پڑھنی ہیں،پھر اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کی تدبیر کریں۔البتہ یہ ضروری ہے کہ پڑھنے میں آپ کو ذہنی سکون مل رہاہو اور مزا آرہاہو، بوجھ یا روٹین سمجھ کر مطالعہ کرنا لاحاصل ہے۔
14-ایک دن یاایک گھنٹہ برائے مطالعہ مختص کریں:
اگر آپ شام کے وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ کو آف کردیں،تو آپ کے پاس کم سے کم ایک گھنٹہ ایسا ضرور ہوگا،جس میں آپ؛بلکہ آپ کے تمام گھر والے ہر رات مطالعہ کرسکتے ہیں۔آپ ہفتے میں کسی ایک دن کوبھی عملی طورپر صرف پڑھنے کے لیے خاص کرسکتے ہیں،یہ نہایت ہی مزے دار عمل ہوگا۔
(مضمون نگارانگریزی کے معروف بلاگراورZen Habitsکے بانی ہیں)

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...