ڈاکٹر احتشام فریدی
مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان کے موت کی خبر ملنا مانو ایک وقت میں پوری دنیا ٹہر سی گئی ہو
مرحوم کی ولادت ١ جنوری ١٩٩٠ وفات ١٩ اپریل ٢٠٢٦ مرحوم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی جامعہ ایوبیہ سے ہوئی بعد از اعلیٰ تعلیم کے لیۓ مدرسہ محبوبیہ چین پور بنگرہ گۓ وہاں سے ناظرہ مکمل کرنے کے بعد اپنے والد محترم کے ساتھ مہاراشٹر اکل کنواں کے شاخ مدرسہ اشاعت العلوم سونوری چلے گۓ اور وہاں سے حفظ مکمل کیا مرحوم کند ذہن ہونے کے بعد بھی اپنی محنت و لگن کی بدولت سن ٢٠٠٠ سے ٢٠٠٤ تک وہاں رہے اور حفظ مکمل کیا پھر اپنے گھر آگۓ ٢٠٠٣ میں دینیات عربی کے لیۓ پٹنہ کا رخ اختیار کیا اور پھر ٢٠٠٦ تک جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ میں رہے پھر اپنے استاذ محترم فضیلت الشیخ حضرت مولانا ناظم صاحب کے حکم پر دیوبند کا رخ کیا پھر ٢٠١١ سے مرحوم اپنے رزق کی تلاش میں سب سے پہلے رحیم پور رکسا مدرسہ حسینیہ صدیقیہ کا رخ کیا کچھ سال گزرنے کے بعد مظفر پور کے سکری سریا چلے گۓ اور وہاں تقریباً ١٢ سال کا ایک طویل عرصہ گزار رہے تھے
مرحوم نے اپنی حیات زندگی میں کچھ ایسے کارنامے بھی کر گۓ ہیں جو قیامت کی صبح تک فراموش نہی کی جا سکتی ہے جب وہ پہلی مرتبہ سکری سریا گۓ تب وہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی مرحوم اپنی محنت وکوشش کی بدولت چھوٹی مسجد شہید کر کے جامع مسجد کا قیام کیا اور پھر مسجد کے احاطہ میں ہی مکتب کا بھی قیام شروع کیا گیا اور اسی مکتب کی برکت سے اس گاؤں میں کئی بچوں کے ساتھ ایک بچی بھی حافظہ ہوئی ۔ مرحوم عمدہ اخلاق کے حامل تھے اللہ نے انہیں علم کی صلاحیت اس قدر دی تھی کہ غیروں نے بھی اپنے ہتھیلی پہ سجایا تھا اور ان کے ہاتھوں پر ہی ایمان لے آۓ ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مرحوم اپنی جان بچانے کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے لیکن سکری سریا کے عوام نے ان کا ساتھ اس نازک دور میں بھی نہیں چھوڑا اور ڈھال بن کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے پھر ایک وقت کے بعد وہ سیاہ وقت بھی گزر گیا
مرحوم اپنا نکاح ٢٠٢٠ میں ضلع سیتا مڑھی میں ایک عالمہ سے کیا اور سن ٢٠٢٤ کے ستمبر ماہ میں اللہ نے ایک اولاد جیسی نعمت سے نوازا جو ابھی ڈیڑھ سال کا ذیان فریدی توتلی زبان سے ہر وقت ابو ابو کی صدائیں بلند کرتا رہتا ہے لیکن رب حقیقی کی مرضی کے سامنے اس ننھا فرشتہ کا بھی کچھ چل نا سکا اور باپ جیسی نعمت سے مرحوم ہوگیا
آج بھی دل اس بات کو ماننے سے اورلکھتے ہوۓ قاصر ہے کہ میرا بھائی اب دور فانی سے کوچ کر گۓ لیکن اللہ نے اپنے مقدس کتاب میں کہا ہے
(کل نفس ذائقت الموت) ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر کیا اس آیت کو یاد کرتے ہوۓ صبر کا دامن تھامنا ہوتا ہے
مرحوم کی خوبیوں کی بات کریں تو نیک دل کے ساتھ ملنسار خوش مزاجی اپنوں کے ساتھ دوسروں سے بھی نیک دلی اور اچھا سلوک خوش اسلوبی سے رابطہ رکھنا اپنے خاندان کو جاننا ان پر لکھنا یہ ان کی فطرت میں شامل تھا ۔اور یہی وجہ ہیکہ ان کے موت کی خبر سنتے ہی لوگ ایک وقت گزارے بغیر دوحہ قطر کا سفر طے کرتے ہوۓ نماز جنازہ میں شریک ہوۓ
مرحوم دنیا سے الوداع کہتے ہوۓ اپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ چار بھائی ایک بہن اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک ڈیڑھ سالہ شیر خوار بچہ کو روتے بلکھتے چھوڑ گۓ
مرحوم ایک سڑک حادثہ کا شکار ہوۓ اور یہ حادثہ تب در پیش آیا جب وہ اپنے ننھے شیر خوار بچہ ذیان فریدی سے ملنے گھر آرہے تھے تبھی مظفرپور سمستی پور قومی شاہراہ ٢٨ پر ایک بے لگام ١٨ چکہ ٹرک نے انہیں کچل دیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گۓ اور موقع پر ہی آخری سانس لیا اور اپنے رب حقیقی سے جا ملے یہ حادثہ ١٩ اپریل ٢٠٢٦ کو ہوا اور ان کے جنازے کی نماز ٢٠ اپریل ٢٠٢٦ کو ان کے آبائی گاؤں چک نصیر سکی پاتےپور ویشالی میں ادا کی گئی ۔ان کے جنازے کی نماز مدرسہ قاسم العلوم تریپولیہ عالم گنج کے بانی و ناظم اور مرحوم کے استاذ محترم جناب مولانا ناظم صاحب نے پڑھائی جنازے کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوۓ عوام کا کہنا تھا کہ اب تک کے تاریخ میں اتنی بڑی جماعت کسی نے نہیں دیکھا تھا اور یہ ان کے عمدہ اخلاق و کردار کا نتیجہ ہے ۔لفظ آخر موجود لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا اور دعاۓ مغفرت کی ?
تم اپنے بخت پہ نازاں نہیں ہو حیرت ہے
ہم ایسے لوگ دعاؤں میں مانگے جاتے ہیں
دعائیں مانگ تیری عمر مجھ سے زیادہ ہو
تجھے میں جاکے دکھاؤنگا ایسے جاتے ہیں
No comments:
Post a Comment