Translate

Tuesday, June 24, 2025

جو تم کچھ بننا چاہوالجھے ذہنوں کے لیے ایک رہنما چراغ منظر عالم ویشالوی

جو تم کچھ بننا چاہو

الجھے ذہنوں کے لیے ایک رہنما چراغ

منظر عالم ویشالوی

آپ ایک طالب علم ہیں، دینی ادارے کے خوشہ چیں ہیں، علم کے راہوں پر چلنے والے ہیں، لیکن آپ کا دل اپنے مستقبل کے حوالے سے بےچین ہے، سوچیں الجھی ہوئی ہیں، خیالات منتشر ہیں، ذہن کسی ایک ہدف پر مرکوز نہیں ہو پا رہا ہے آپ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ زندگی کی سَمت کیا ہو، مقصد کیا ہو، اور منزل کہاں ہو۔

ایسے ہی الجھے ذہنوں، بھٹکے قدموں، سوالوں سے بھرے دلوں اور بےسمت خوابوں کے لیے مولانا فرید حبیب ندوی کی کتاب "جو تم کچھ بننا چاہو" ایک روشن چراغ ہے، ایک مشعلِ راہ ہے۔

آئیے ذرا کتاب کے نام پر غور کریں!
"جو تم کچھ بننا چاہو" یہ کوئی حکم نہیں، کوئی زبردستی نہیں، بلکہ ایک محبت بھری دعوت ہے۔ یہ عنوان قاری کے دل میں یہ سوال جگاتا ہے کہ آخر میں کیا بننا چاہتا ہوں؟
یہ عنوان سوچ کی سمت متعین کرتا ہے، اور قاری کو اختیار اور حوصلہ دیتا ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر خود تلاش کرے۔

اگر آپ دل کی بے چینی کا، ذہن کی الجھنوں کا اور زندگی کے بے سمتی کا کوئی حل ڈھونڈھ رہے ہیں تو "مولانا فرید حبیب ندوی" کی یہ کتاب پڑھیے، بلکہ شوق کے ہاتھ سے پڑھیے، دل کی زبان سے پڑھیے اور غور سے پڑھیے تا آنکہ آپ کوئی ہدف متعین نہ کرلیں کیونکہ یہ کتاب محض مطالعے کے لیے نہیں بلکہ خود شناسی کی دعوت دیتی ہے کچھ بننے اور بن کر نکھرنے کا پیغام دیتی ہے یہ کتاب طالب علم کو برؤ کار لانے پر آمادہ کرتی ہے اور مقصد کا تعین کراتی ہے
مصنف کتاب نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے

پہلا باب: تشکیلِ ذہن

کتاب کا پہلا باب "تشکیلِ ذہن" ہے، جس میں قوتِ ارادی، خود اعتمادی، مدارِ قابلیت اور نسخۂ شفاء جیسے موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ عنوانات نہایت فکر انگیز اور تربیتی لحاظ سے مؤثر ہیں۔ مصنف قاری کو یہ باور کراتے ہیں کہ فکری آزادی، مثبت سوچ، اعتمادِ نفس اور صلاحیتوں کی پہچان کسی بھی ترقی یافتہ شخصیت کی بنیاد ہیں۔ اس باب میں ذہن سازی کے ساتھ ساتھ قاری کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خود کو بہتر سے بہترین بنا سکتا ہے۔

دوسرا باب: تعمیرِ شخصیت

دوسرے باب میں "تعمیرِ شخصیت" جیسے اہم عنوان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس حصے میں مقصدیت، اختصاص، درسی کتب اور خارجی کتب جیسے مباحث شامل ہیں۔ مصنف یہاں طلبہ کو نہ صرف زندگی میں ایک واضح ہدف طے کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، بلکہ خود احتسابی، علمی سنجیدگی اور مطالعے کے شعور کو بھی اُجاگر کرتے ہیں۔ درسی و غیر درسی کتب کے مطالعے کو لازم قرار دے کر مصنف نے فکر و دانش کی وسعت کو بڑھانے کا پیغام دیا ہے، جو ایک باشعور طالب علم کے لیے نہایت ضروری ہے۔

تیسرا باب: عملی ہدایات

تیسرا باب مکمل طور پر عملی زندگی کے اصولوں پر مشتمل ہے۔ اس میں سادہ لیکن کارآمد ہدایات دی گئی ہیں جو طلبہ کی تعلیمی اور ذاتی زندگی میں مفید رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
عناوین مندرجہ ذیل ہیں
یاد داشتوں کو مجموعے بنائیں
ہر فن کے مشہور علماء اور اہم کتابوں کے نام یاد کریں
زیادہ سے زیادہ موضوعات کے مبادیات سے واقفیت بہم پہنچائیے
کوئی چیز سمجھے بغیر آگے نہ پڑھیے
سوال کرنے کا مزاج بنائیے
ابتداء میں درسیات پر توجہ دیں
یاد کیسے کریں/ اور محفوظ کیسے رکھیں؟
غلط عادتیں بدلیے
نظام الاوقات بنائیے
اپنا ہدف لکھ لیجیے
کسی کو مشرف ضرور بنائیے
روز نامچہ لکھنے کا معمول بنائیے
عملی زندگی پر بھی توجہ دیجیے
دوسروں کی دعائیں لیجیے
جب جاگے تبھی سویرا
ایک گزارش

یہ تمام نکات عملی زندگی میں کامیابی کے بنیادی اصولوں میں شمار ہوتے ہیں، جن پر عمل کر کے کوئی بھی طالب علم اپنے وقت، ذہن اور توانائی کا بہترین استعمال کر سکتا ہے۔

کتاب میں ایک ہی بات کو کئی مقامات پر نئے انداز سے کہنے کی کوشش کی گئ ہے، جس سے بظاہر تکرار کا احساس تو ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ صاحبِ کتاب کے اخلاص، فکر اور نئی نسل کے تئیں ان کی تڑپ و دردمندی کا یہ مظہر ہے۔

ہاں اگر مصنف کتاب سیرتِ نبوی ﷺ، اصحابِ رسولؓ اور اسلافِ امت کے روشن واقعات کو بھی شامل کر لیتے تو کتاب کی افادیت دوچند ہو جاتی اور اس کی تاثیر دوبالا ہو جاتی۔
بلاشبہ مصنف کتاب کی یہ کاوش محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ خلوص کا پیرہن ہے، ہر سطر میں تربیت کی ایک تڑپ، ایک مشفق استاذ کی صدا سنائی دیتی ہے یہ کتاب مجموعی اعتبار سے ایک فکری تربیتی سفر ہے جو ذہن کی تشکیل سے آغاز ہوکر شخصیت کی تعمیر تک پہنچتی ہے اور قاری کو عملی میدان میں اترنے کی دعوت دیتی ہے

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...