Translate

Tuesday, March 31, 2026

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایک مشہور عالم دین اور اسلامی اسکالر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں : 
مسجد میں ایک اہل حدیث بزرگ تھے۔ نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ صف میں میرے پاس تھے۔ حسب معمول میرے دونوں پاؤں قریب قریب تھے۔ انھوں نے اپنا پاؤں پھیلانا شروع کیا ، یہاں تک کہ میرے پاؤں سے ملا دیا۔ ہر بار وہ قیام میں ایسا ہی کرتے رہے۔ 
    نماز کے بعد انھوں نے کسی قدر تلخ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کی نماز درست نہیں ہوتی۔ حدیث میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور آپ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ قدم سے قدم ملانا ایک علامتی حکم ہے۔ اصل مقصد تو دل سے دل ملانا ہے۔ آپ نے قدم سے قدم ملانے کا مسئلہ تو جانا مگر دل سے دل ملانے کا مسئلہ آپ نہ جان سکے۔
(ڈائری مولاناوحیدالدین خان 9 اپریل 1992ء)
دوستو ! 
انسانی زندگی کی کامیابی، کامرانی، بلکہ ساری خوبصورتی اور معنویت دل کی کیفیت سے جڑی ہوئی ہے۔ بظاہر انسان کا ظاہر کتنا ہی اچھا اور سجا ہوا کیوں نہ ہو، اگر اس کا دل صاف نہیں، تو اس کی شخصیت ناقص اور ادھوری رہ جاتی ہے۔ دل ہی وہ مرکز اور محور ہے، جہاں سے خیالات، جذبات اور اعمال جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں دل کی صفائی اور اصلاح کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو دنیا میں سکون و اطمینان اور راحت عطا کرتا ہے، بلکہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بظاہر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، دوستی کا اظہار کرتے ہیں، دستر خوان پر خورد و نوش بھی کرتے ہیں ،لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ زبان پر محبت کے دعوے ہیں، مگر دلوں میں حسد، بغض اور نفرت کے بیج پنپ رہے ہیں۔ یہی وہ اندرونی بیماریاں ہیں، جو انسان کو بے سکون اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیتی ہیں۔
دل کا صاف ہونا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک روحانی اور ایمانی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، کامیاب وہی ہوگا جو "قلبِ سلیم" لے کر حاضر ہوگا۔ یہ قلبِ سلیم دراصل ایسا دل ہے جو تعصب، کینہ، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک ہو۔ ایسا دل جو دوسروں کے لیے خیر خواہی رکھتا ہو اور اللہ کی رضا کو مقدم جانتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے بھی دل کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی اصل اصلاح ظاہری اعمال سے زیادہ باطنی کیفیت کی اصلاح میں مضمر ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کے دل کو کیا ہو گیا ہے؟ کیوں دلوں میں اتنی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی، مفاد پرستی اور خود غرضی ہے۔ انسان نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ دولت، شہرت اور ذاتی مفاد کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے میں دوسروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریبی رشتوں میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں، دوستیاں وقتی مفادات تک محدود ہو گئی ہیں، اور اخلاص ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسرے سے دور ہیں۔ تعلقات کی بنیاد سچائی اور خلوص کے بجائے دکھاوے اور مفاد پر قائم ہو گئی ہے۔ بظاہر محبت کا اظہار ہوتا ہے، لیکن دل میں بدگمانی اور رقابت چھپی ہوتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
دل کی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری حسد ہے۔ یہ انسان کو اندر ہی اندر جلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح بغض اور کینہ انسان کو سکون سے محروم کر دیتے ہیں۔ تکبر انسان کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے اور خود پسندی اسے حقیقت سے بے خبر رکھتی ہے۔ یہ سب بیماریاں مل کر انسان کے دل کو سیاہ کر دیتی ہیں، اور پھر وہ نہ خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔
اس صورتحال کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ خود سے سوال کریں کہ کیا ہمارے دل میں کسی کے لئے نفرت تو نہیں؟ کیا ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں یا دل میں تکلیف اور چبھن محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اپنے تعلقات میں مخلص ہیں یا صرف ظاہری طور پر تعلق نبھا رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں اپنی اصلاح کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
دل کی صفائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم در گزر کرنا ،معاف کرنا سیکھیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کریں اور اپنے اندر درگزر کا جذبہ پیدا کریں۔ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں، کیونکہ جب دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے، تو اس میں نفرت کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ اسی طرح سچائی، دیانت داری اور خلوص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی دل کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دلوں کا ملنا ہاتھوں اور قدموں کے ملنے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو فاصلے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے بلکہ اسے لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت دلوں کی اصلاح کی ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے اندر زندہ کرنا ہے کہ اصل کامیابی ظاہری چمک دمک میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی میں ہے۔
اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو یقیناً ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

Monday, March 30, 2026

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725


  انسانی زندگی آزمائشوں، تجربات اور مسلسل تغیرات کا نام ہے۔ ایک مومن کے لئے یہ زندگی محض وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ ایک شعوری سفر ہے، جس کا مقصد اپنے ایمان کو مضبوط بنانا، اپنے کردار کو سنوارنا اور اپنے رب کی خوشنودی و رضا حاصل کرنا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے تین بنیادی اوصاف نہایت اہم ہیں: صبر، محاسبہ اور غور و فکر (توسم)۔ یہ تینوں صفات دراصل مومن کی داخلی تعمیر کا وہ نظام ہیں جو اسے نہ صرف مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے، بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرتا ہے۔

صبر: استقامت کا سرچشمہ ہے۔
صبر مومن کی زندگی کا سب سے بنیادی ستون ہے۔ دنیا میں انسان کو ہر لمحہ موافق اور غیر موافق حالات کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی کامیابی کی خوشی ہوتی ہے تو کبھی ناکامی کا صدمہ، کبھی لوگوں کی تعریف نصیب ہوتی ہے تو کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام حالات میں ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رکھے۔
صبر کا مطلب صرف خاموشی سے برداشت کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک فعال کیفیت ہے ،جس میں انسان اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور حق کے راستے سے نہیں ہٹتا۔ جب انسان کو کوئی ایسی بات پیش آئے جو اسے بے برداشت کر دے، تب اس کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت صبر اختیار کر لیتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی حفاظت کر لیتا ہے۔
صبر انسان کو انحراف سے بچاتا ہے۔ یہ اسے جذباتی فیصلوں سے روک کر سوچ سمجھ کر عمل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کو ایمان کا نصف کہا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

محاسبہ: اصلاح کا ذریعہ

انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں، بھول چوک ہوتی ہے، اور بعض اوقات وہ اپنی خواہشات کے زیر اثر ایسے فیصلے کر لیتا ہے جو اس کے ایمان کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے محاسبہ، یعنی خود احتسابی، مومن کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔
محاسبہ کا مطلب ہے اپنے اعمال، نیتوں اور رویوں کا بے لاگ جائزہ لینا۔ یہ دیکھنا کہ ہم نے کیا کیا، کیوں کیا، اور اس کے نتائج کیا نکلے۔ ایک مومن وہ ہے، جو دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا احتساب اور محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔
محاسبہ انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے عاجزی کی راہ پر ڈالتا ہے۔ جب انسان اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے تو اس کے اندر بہتری کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی خواہش اسے مسلسل اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔ یوں وہ ایک بہتر انسان اور پختہ مومن بنتا چلا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محاسبہ محض ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جیسے ایک تاجر روزانہ اپنا حساب کتاب دیکھتا ہے، ویسے ہی ایک مومن کو بھی روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہی عمل اسے غفلت سے بچاتا اور بیداری کی حالت میں رکھتا ہے۔

غور و فکر (توسم): شعور کی بیداری

تیسری اہم صفت غور و فکر ہے، جسے یہاں “توسم” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے زندگی، اپنے تجربات اور اپنے اردگرد کے حالات پر گہری نظر ڈالنا اور ان سے سبق حاصل کرنا۔
ایک مومن محض دیکھنے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہر چیز میں معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے تجربات سے سیکھتا ہے، دوسروں کی زندگیوں سے نصیحت لیتا ہے اور کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے۔ یہی غور و فکر اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے ایک بصیرت والا انسان بناتا ہے۔
غور و فکر دراصل ایمانی غذا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی ترقی ممکن نہیں۔ جب انسان سوچتا ہے تو اس کے اندر سوال پیدا ہوتے ہیں، اور یہی سوال اسے سچائی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عمل اسے سطحی زندگی سے نکال کر ایک بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں انسان مصروفیت اور بے فکری کا شکار ہے، وہاں غور و فکر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر انسان رک کر سوچے ہی نہیں تو وہ اپنی غلطیوں کو کیسے پہچانے گا اور اپنی زندگی کو کیسے بہتر بنائے گا ؟

تینوں صفات کا باہمی تعلق

صبر، محاسبہ اور غور و فکر تین الگ الگ صفات نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہیں۔ صبر انسان کو حالات میں ثابت قدم رکھتا ہے، محاسبہ اسے اپنی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، اور غور و فکر اسے صحیح سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اگر صبر نہ ہو تو انسان مشکلات میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر محاسبہ نہ ہو تو وہ اپنی غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اور اگر غور و فکر نہ ہو تو وہ صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس لئے ایک کامل مومن کے لئے ان تینوں کا امتزاج ضروری ہے۔
شعوری سفر کی ضرورت
اسلامی زندگی ایمان سے شروع ضرور ہوتی ہے، لیکن یہ محض آغاز ہے، انتہا نہیں۔ اس کے بعد انسان کو مسلسل عمل صالح، صبر اور حق کی تلقین کے راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے، جو رسمی اعمال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے شعور کی بیداری ضروری ہے۔
یہ شعوری سفر انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے، اپنے اعمال کو پرکھے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔ جب انسان اپنے شعور کو متحرک کرتا ہے، تو وہ ان صفات کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے، اور یہی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔
مختصر یہ کہ صبر، محاسبہ اور غور و فکر ایک مومن کی زندگی کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ صفات اسے آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتی ہیں، اس کی اصلاح کرتی ہیں اور اسے شعور کی بلندیوں تک پہنچاتی ہیں۔ ان کے بغیر ایمان ادھورا رہ جاتا ہے اور انسان اپنی حقیقی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔
لہٰذا ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، ان پر مسلسل عمل کرے اور ایک شعوری، بامقصد اور متوازن زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ یہی راستہ کامیابی کا ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے انسان اس دنیا کے امتحان میں سرخرو ہو سکتا ہے۔

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی توقیر بدر آزاد

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی

توقیر بدر آزاد

انسانی زندگی کی بنیاد اگر کسی ایک ستون پر قائم ہے تو وہ تعلیم ہے۔ یہی وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر انسان کو شعور، تمیز اور وقار عطا کرتا ہے۔ تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو فرد کی شخصیت کو سنوارتی، معاشرے کو مہذب بناتی اور قوموں کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتی ہے۔ جس قوم نے علم کو اپنایا، اس نے عزت پائی؛ اور جس نے علم سے منہ موڑا، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو گئی۔یوں انسانی زندگی میں تعلیم کی حیثیت روح کی مانند قرار پاتی ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے جان ہوتا ہے، اسی طرح تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی بے مقصد اور تاریک ہو جاتی ہے۔آج کی دنیا میں جہاں ترقی کا دار و مدار علم پر ہے، وہاں تعلیم کے بغیر نہ فرد کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کی منزل طے کر سکتی ہے۔

تعلیمی پس منظر میں آج یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ بہار کے وہ طلبہ جنہوں نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ کا مرحلہ کامیابی سے طے کیا ہے، وہ درحقیقت اپنی زندگی کے ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ اس مرحلے پر صحیح رہنمائی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ ملک و ملت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہت سے والدین اور طلبہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آگے کون سا تعلیمی مرحلہ اختیار کیا جائے۔
بہت سے والدین نے راقم سے اس بابت ذاتی طور پر فون کرکے اور ملاقات کرکے مشورہ لینے کی کوشش کی ہے۔سو اس کے پیش نظر اس وقت انہی کے لیے یہ ساری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں،
 بالخصوص یہ ان نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے ہیں ،جو مستقبل میں _*سول جج*_ بننے کا عزم رکھتے ہیں۔

دھیان رہے آج *سول جج* بننا صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ یہ وہ منصب ہے جہاں انسان کو انصاف کا محافظ، مظلوم کا سہارا اور قانون کا امین بننا ہوتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلا قدم قانون (Law) کی تعلیم ہے۔انٹر کے بعد طلبہ کے لیے بہترین راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، جو نہ صرف قانونی تعلیم و مہارت فراہم کرتا ہے، بلکہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی و تجزیاتی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے مرحلے میں جیسا کہ بتایا گیا کہ سول جج بننے کے لیے بنیادی شرط قانون (LLB) کی تعلیم ہے۔ انٹر کے بعد طلبہ کے لیے سب سے موزوں راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، اگرچہ تین سالہ LLB بھی ایک راستہ ہے، مگر وہ ان طلبہ کے لیے ہے جو پہلے کسی اور مضمون میں گریجویشن مکمل کرچکے ہوتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ایک اچھے لا کالج کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ اگر طلبہ قومی سطح کے امتحانات جیسے CLAT یا دیگر AILET داخلہ امتحانات کے ذریعے پٹنہ علی گڑھ بنگلور دہلی ممبئی وغیرہ میں واقع معروف اداروں میں داخلہ حاصل کر لیں تو یہ ان کے لیے مزید آسانی پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا انحصار صرف ادارے پر نہیں بلکہ طالب علم کی ذاتی محنت، لگن اور خود اعتمادی پر ہوتا ہے۔ ایک اوسط درجے کے کالج میں پڑھنے والا محنتی طالب علم بھی بڑے سے بڑے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں سول جج (Judicial Services) کے امتحان کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ امتحان تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:ابتدائی امتحان (Prelims)، تحریری امتحان (Mains) اور زبانی امتحان (Interview)۔ ان تینوں مراحل کو کامیابی سے عبور کرنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد، تجزیاتی سوچ اور اظہار کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

چوتھے مرحلے میں ان مضامین کی اہمیت سامنے آتی ہے جو اس امتحان کی بنیاد ہیں۔ ان میں آئین ہند، تعزیرات ہند (IPC)، دیوانی و فوجداری قوانین (CPC, CrPC)، قانون شہادت، معاہدات کا قانون اور جائیداد کی منتقلی جیسے بنیادی قوانین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان، علاقائی زبان (ہندی/اردو) اور عمومی معلومات بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پانچویں مرحلے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیاری کب سے شروع کی جائے؟ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ تیاری کا آغاز پہلے ہی سال سے کر دینا چاہیے۔ ابتدائی دو سالوں میں بنیادی تصورات کو مضبوط کیا جائے، تیسرے اور چوتھے سال میں قوانین اور کیس لاز کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، اور آخری سال میں مکمل تیاری کے ساتھ مشق اور امتحانی انداز اپنایا جائے۔

چھٹے مرحلے میں کامیاب مطالعہ کا طریقہ سامنے آتا ہے۔ روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی سنجیدہ پڑھائی، قوانین (Bare Acts) کا مستقل مطالعہ، خود سے نوٹس تیار کرنا اور سابقہ سوالات کو حل کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ وہ اصول ہے جسے اہلِ قانون ایک سنہری اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ “Bare Act ہی اصل رہنما ہے”۔

ساتویں مرحلے میں مناسب کتابوں کا انتخاب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بنیادی قوانین کے ساتھ ساتھ آئین ہند کے لیے معیاری کتب، اور دیگر قانونی موضوعات کے لیے مستند مواد کا مطالعہ کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

آٹھویں مرحلے میں کوچنگ کے حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوچنگ ضروری نہیں، لیکن اگر مناسب رہنمائی میسر ہو، تو یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل کامیابی کا دار و مدار خود مطالعہ اور مستقل مزاجی پر ہے۔

نویں مرحلے میں وقت اور مدت کا تعین کیا جاتا ہے۔ پانچ سالہ LLB کے ساتھ اگر طالب علم مسلسل تیاری کرتا رہے تو وہ پانچ سے چھ سال کے اندر اس قابل ہو سکتا ہے کہ سول جج کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکے۔

دسویں مرحلے میں کامیابی کے راز پوشیدہ ہیں: مستقل مزاجی، قوانین پر مکمل عبور، تحریری مشق، ماک ٹیسٹ اور صبر و تحمل۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ایک عام طالب علم کو ایک کامیاب جج بنا سکتے ہیں۔

گیارہویں اور آخری مرحلے میں ایک منظم عملی منصوبہ (Roadmap) پیش کیا جا سکتا ہے:ابتدائی دو سال بنیاد سازی، درمیانی دو سال گہرائی اور مہارت، اور آخری سال مکمل تیاری اور امتحانی مشق کے لیے وقف کیا جائے۔

ان تمام مراحل کے ساتھ عمر کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ سول جج کے امتحان کے لیے عموماً کم از کم عمر 22 سال اور زیادہ سے زیادہ 35 سال مقرر ہوتی ہے، جبکہ 24 سے 28 سال کی عمر کو کامیابی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سنہری دور ہے جب ذہن تیز، علم تازہ اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔لہذا آج جو طلبہ و طالبات اٹھارہ برس کی عمر میں انٹرمیڈیٹ پاس آوٹ کرچکے ہیں ،بائیس تئیس برس کی عمر تک انکے لیے LLB میں داخل ہوکر لا گریجویٹ ہونا کوئی مشکل نہیں!

آخر میں والدین سے یہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف ڈگری دلوانا کافی نہیں بلکہ ان کے اندر دینی شعور، اخلاقی اقدار، بڑوں کا احترام اور وقت کی قدر پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کو چھٹی جماعت سے ہی پہچاننے کی کوشش کریں اور انگلش اردو زبان ،میتھ و بنیادی سائنس اور جنرل معلومات میں انہیں اسی کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کریں۔ یہی بروقت توجہ انہیں ایک کامیاب اور باکردار انسان بنا سکتی ہے۔یہی وہ راستہ ہے جو علم سے عدالت تک جاتا ہے—اور یہی وہ سفر ہے جو ایک فرد کو انصاف کا علمبردار اور معاشرے کا معمار بناتا ہے.
30/03/2026
________
*ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء و التحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار انڈیا 
muftitmufti@gmail.com 
+918789554895

Friday, March 27, 2026

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے ! محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے !

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی 9506600725

  تعلیم، تدریس،نظام تعلیم، طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم پر برابر گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہے، اور جس زمانہ میں جو چیزیں حدود شریعت میں رہ کراس سلسلہ میں مفید ہوں ان کو اخذ کرنا چاہیے ، اس کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا چاہیے ، اور جدید اسباب و وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے ، زندگی کے ہر میدان اور شعبہ میں ندرت اور جدت شرعی حدود میں ہم قبول کر رہے ہیں تو تعلیم، نظام تعلیم تدریس اور طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم میں اس ندرت اور جدت کو قبول کرنے میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ہر زمانے کے اعتبار سے افراد و اشخاص کو تیار کرنا اور زمانہ کی زبان اور اسلوب میں اسلام اور فلسفئہ اسلام کو پیش کرنا اور شریعت کے مزاج سے واقف کرانا کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟ کیا ہم اس کے مکلف نہیں ہیں؟ 
اس سلسلہ میں راقم کے ذہن میں چند باتیں ہیں ،جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ امید کہ اس پر توجہ دی جائے گی ۔ 
دوستو !!!
    یہ دور اور زمانہ عالمی معاشی ترقی کا دور ہے، ہر شعبہ میں وسعت، جدت اور ندرت پیدا ہو رہی ہے ، سائنس ، صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا اتنی ترقی کرگئی ہے کہ پوری دنیا ایک گاؤں کے مانند ہوگئ ہے۔ تحقیق و ریسرچ اور حوالہ و ریفرنس کے بغیر لوگ کسی بات اور حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے میدان کار میں آنے کی ضرورت ہے ۔ 
   دوسری طرف مسلمان اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں اور زمانہ جس تیز رفتاری سے ترقی کی راہ پر ہے، اس پس منظر میں امت کو اس وقت دو طرح کے افراد کی شدید ضرورت ہے ۔ 
    امت کو جہاں ایک طرف دینی، مذھبی، ملی اور سیاسی قیادت کے لئے ایسے راسخ علماء کی ضرورت ہے ، جو ایک طرف تقویٰ و طہارت، صدق و صفا، اخلاص و للہیت ،علم کی گہرائی اور عمل کی پاکیزگی میں اپنے اسلاف کا نمونہ اور ان کے ذوق و مزاج کے امین و وارث ہوں، دوسری وہ حالات زمانہ اور اس کی گردش و رفتار سے واقف ہوں ،نیز وہ جدید اور ماڈرن تعلیم یافتہ طبقے بالخصوص نئی نسل اور نوجوان طبقہ کی الجھنوں اور نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوں اور ان کے اندر یہ صلاحیت اور استعداد ہو کہ وہ ان سے ان کی زبان اسلوب اور معیار میں بات کرسکتے ہوں اور ان کو مطمئن کرسکتے ہوں ۔
 علماء کے اس طبقہ میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اسلام کے دین فطرت اور مسائل زندگی کے واحد حل ہونے کا یقین دلا سکیں ۔ 
ان علماء کے دل و دماغ اور ذوق و مزاج پر بگڑے ہوئے سماج اور سوسائٹی کے لئے غصہ اور نفرت کے بجائے داعیانہ ہمدردی اور خیر خواہی کے مثبت جذبات کا غلبہ ہو اور جو محبت،ہمدردی، حکمت اور دلسوزی کے ساتھ نہ صرف اپنوں کو بلکہ برادران وطن اور اور پوری انسانیت کے سامنے اسلام کا محبت بھرا پیغام اچھے انداز اور بہتر اسلوب میں زبان قال اور زبان حال سے رکھ سکیں ۔ آج کےحالات میں یقینا اس امت کو ایسے علماء کرام اور رہبران ملت اور داعیان قوم کی ہر ہر قدم پر ضرورت ہے ۔ 
    اس کے علاؤہ ملت اسلامیہ کو آج کے حالات میں میں اس کی بھی سخت ضرورت ہے کہ امت کا وہ بڑا طبقہ جو قانون، انتظامیہ، سول سروسز، دفاع ،صحت، تعلیم، اکونامس (معاشیات) صحافت، ادب ،سائنس، انجینئرنگ اور صنعت و تجارت کے شعبوں میں ہیں یا ان شعبوں میں پہنچنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں، ان لوگوں پر صحیح محنت کے لئے اور ان کی صحیح اور اسلامی تربیت کے لئے ایسے افراد کی سخت ضرورت ہے جو عصری تعلیم یافتہ لوگوں یا ان اداروں میں زیر تعلیم افراد پر ایسی محنت کریں کہ ان شعبوں میں موجود مسلمان صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں اور وہ اپنے اپنے دائرے عمل میں وہ اسلام کی نمائندگی کرنے لگیں ۔ وہ ان شعبوں کی فنی مہارت کے ساتھ ایمانداری اور جذبہ خدمت کے لحاظ سے اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ان کا کام صرف مال کمانا اور عہدہ حاصل کرنا نہیں رہ جائے ۔اور ان کی یہ پیشہ وارانہ مشغولیت صرف مال کمانے کا ذریعہ نہ رہے ۔ بلکہ ان کا مقصد کسب معاش کے ساتھ خدمت خلق دعوت دین اور رضائے الٰہی کا حصول بھی بن جائے ۔ اور وہ اس راستے سے اسلام کا داعی دین کا ترجمان اور نمونہ بن جائیں ۔
    پہلے افراد یعنی راسخ مخلص اور دین دار علماء کی تیاری کے لئے مدارس کی چہار دیواریاں کافی ہیں شرط یہ کہ اس کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ محنت کی جائے اور ان صفات کے حامل علماء کی پوری ٹیم تیار کی جائے، مدارس کو صرف رسمی انداز میں نہ چلایا جائے بلکہ اس کو بیک وقت تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ نیز تبلیغ و اشاعت دین کا مرکز بنایا جائے ۔ 
   دوسری قسم کے لوگوں کو تیار کرنے کے لئے یعنی عصری تعلیم یافتہ لوگوں کے مزاج کو دینی اور دعوتی بنانے کے لئے بہت سے نسخے ہیں اور ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کامیاب حل اور طریقہ وہ ہے جس کا خاکہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح سابق صدر شعبئہ دینیات عثمانیہ یونیورسٹی نے پیش کیا تھا کہ اس کے لئے اسلامی اقامت خانے کو قائم کیا جائے، لیکن افسوس کہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح کی اس تجویز پر امت نے نہ دھیان دیا نہ اس کی طرف پیش قدمی کی ۔ 
   مولانا مرحوم کی فکر تھی کہ مسلمانوں کے لئے کالج اور یونیورسٹیوں کے قائم کرنے سے زیادہ ضروری اسلامی ہوسٹل یا اسلامی اقامت خانے قائم کرنا ہے، جہاں ان کی پوری علمی اور فکری تربیت کی جاسکے، جہاں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی ہوسکے، اور ان کی زندگی کو ملت کے لئے مفید اور آئیڈیل بنایا جاسکے، ان اقامت خانوں میں وہ طلبہ قیام کریں، جو سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوں ۔ اس تجویز کا فائدہ تعلیم گاہوں کے قیام سے زیادہ تھا ،اور کم خرچ بالانشیں کا مصداق تھا ۔لیکن افسوس کہ اب تک کسی نے اس بے مثال تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اگر جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا ملی کونسل، جمعیت اہل حدیث ، جماعت اسلامی ہند چاہ لے اور مخلص مسلمان سرمایہ داروں کو یہ لوگ اس جانب متوجہ کرلیں اور اپنی نگرانی میں اس کام کا بیڑہ اٹھایا لیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ 
اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 

  ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

Wednesday, March 25, 2026

مدارس میں طلبہ کی تعداد کم کیوں ہوتی جارہی ہے ؟؟؟؟ محمد قمر الزماں ندوی.....۔۔ جنرل سکریٹری/مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ

مدارس میں طلبہ کی تعداد کم کیوں ہوتی جارہی ہے ؟؟؟؟

  محمد قمر الزماں ندوی.....۔۔ 
جنرل سکریٹری/مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

   شوال المکرم یوں تو عربی سال و تقویم کا دسواں مہینہ ہے ،لیکن برصغیر ہندوپاک کے مدارس عربیہ کے لئے یہ نیا تعلیمی سال ہوتا ہے،اس مہینے میں مدارسِ اسلامیہ لمبی تعطیل کے بعد کھلتے ہیں اور نئے اور پرانے داخلے شروع ہوجاتے ہیں اور وسط شوال یا شوال کے اخیر عشرہ میں اکثر مدارسِ میں تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے۔جن مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور جہاں نظم و نسق اور سہولیات بہتر ہوتے ہیں یا جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں، وہاں ہفتہ عشرہ میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوجاتی ہے۔لیکن جو مدارس دیہات اور انٹییر علاقے میں ہوتے ہیں وہاں شوال کے بعد تک داخلے ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔
لاک ڈاؤن کے بعد صورت حال کافی بدل گئی ہے ،مدارس میں طلبہ کا قحط ہے ،ہر طرف سے شور ہے اور آواز آرہی ہے کہ مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،ذمہ داران مدارس بہت ہی فکر مند ہیں ۔ اس کی وجوہات پر غور کررہے ہیں ۔
    میری نظر میں اس کی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں ،،۔۔۔
    لاک ڈاؤن میں مدارس اسلامیہ میں تقریباً تعلیمی انقطاع رہا ،صرف پانچ چھ فیصد مدارس میں آن لائن تعلیم کا نظم رہا ۔مدارس سے طلبہ کا ربط ٹوٹ گیا۔
اس لئے طلبہ نے اپنا رخ اور اپنی لائن بدل لی وہ کام کاج میں مشغول ہوگئے یا اسکول کی طرف رخ کرلیا، جس کی وجہ سے اس درمیان کے جو طلبہ مدارس میں زیر تعلیم تھے، وہ تقریباً مدارس سے علیحدہ ہوگئے ۔
  لاک ڈاؤن میں اکثر مدارس کے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا اور معاشی اعتبار سے جو ان کی حالت رہی اور جس طرح ایک بڑی تعداد کو در بدر بھتکنا پڑا اس سے بھی طلبہ میں منفی اثرات پڑے ہیں ،میں نے خود ایک بڑی تعداد اساتذہ کی دیکھی ہے، جنہوں نے اپنا میدان بدل دیا اور وہ تجارت میں لگ گئے ،بعض تو ٹھیلے پر سبزی فروخت کرنے یا آٹو چلانے پر مجبور ہو گئے ،۔
  مدارس کی سندیں اور ان کی ڈگریاں حکومت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے اور نہ اس کی اہمیت کو منوانے کی طرف کبھی سنجیدگی سے توجہ دی گئی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ مدارس سے عالم اور فاضل کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظر میں آپ ناخواندہ ہیں ،اگر آپ پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ان اسناد اور ڈگریوں کے بعد بھی آپ کا شمار مزدوروں اور ناخواندہ لوگوں میں ہوتا ہے ۔۔ 
    جب مدارس اسلامیہ کی طرف سے یہ اعلان آنے لگا کہ طلبہ ہائی اسکول کرکے ہی مدارس میں آئیں اور خود مدارس میں ہائی اسکول کے نصاب کی بات ہونے لگی، تو طلبہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جب ہائی اسکول کرنا ہی ہے ،تو گارمنٹ اسکول میں کیوں نہ کریں ۔ اس وجہ سے بھی طلبہ کا رجحان اسکول کی طرف بڑھ گیا۔
    یوپی میں ہی اکثر بڑے مدارس ہیں ،جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ پڑھنے آتے ہیں ،پچھلے کچھ سالوں سے یہاں کی جو صورت حال ہے، اور خصوصاً امن عامہ کی جو صورت حال ہے بہار بنگال جھارکھنڈ منی پور اور آسام کے لوگ اپنے بچوں کو یہاں تعلیم کے لئے بھیجنے سے گھبرا رہے ہیں ۔
      حفظ کرنے کے بعد طلبہ کا رجحان عالم بننے سے ختم ہوتا جارہاہے ،جگہ جگہ شاہین گروپ کی شاخیں قائم ہورہی ہیں اور انہیں حفظ پلس کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے تو اب بھلا وہ مدارس کی طرف کہاں آئیں گے اور ادھر کا رخ کیا کریں گے۔۔۔؟
    مدارس اسلامیہ میں اکثر جگہ نظم و نسق اور خورد و نوش میں افرا تفری کا ماحول ہے ،اعتدال و توازن کی کمی ہے، جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی فکر نہیں ہوتی، اس لئے امیر گھرانے کے طلبہ ادھر کا رخ بہت کم کرتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس صرف غریب یتیم و نادار اور محتاج بچوں کے لئے ہے ۔۔
    رمضان المبارک کے مہینے میں جب نئی نسل مدارس کے اساتذہ کو چندہ کرتے دیکھتے ہیں اور ان کی پریشانی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک بھاینک تصویر نظر آتی ہے کہ اگر مدارس میں تعلیم حاصل کرینگے تو انجام یہی ہوگا کہ سال بھر پڑھاؤ اور رمضان المبارک میں اپنی تنخواہوں کا انتظام خود ہی کرو اور اب تو بچوں کا بھی چندہ کرو۔اس کی وجہ سے بچے ہمت ہار رہے ہیں اور مدارس سے ان کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،۔
    مدارس کا داخلی انتشار ،اساتذہ کا بار بار جگہ کی تبدیلی اور اساتذہ کرام کا خود اپنے بچوں اور اپنی اولاد کو مدارس میں نہ پڑھانے کا رجحان سے بھی غلط پیغام لوگوں میں جارہا ہے کہ اساتذہ جب خود ان مدارس سے مطمئن نہیں ہیں، تو ہم کیسے مطمئن ہوں گے ۔۔۔۔
  قدیم نصاب تعلیم پر ضد اور اصرار اور اس کے اندر مناسب اور مفید تبدیلی نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،منطق و فلسفہ کو نصاب میں اب بھی پہلے کی طرح شامل رکھنا اور اس کی جگہ پر نئے مضامین کو شامل نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،ہم نے دنیا کے تمام شعبوں میں جدید سہولیات اور اسباب و وسائل کو اختیار کر لیا چاہے وہ طب کا میدان ہو خورد و نوش اور دیگر میدان ہو ، لیکن ہم نے مدارس میں نئے اور مفید اسباب و وسائل اور ذرائع کو استعمال نہیں کیا نیز نصاب تعلیم کو اپڈیٹ نہیں کیا ۔قرآن و حدیث کے مضامین تو وہی رہیں گے قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں آئے گی لیکن ان علوم کی تدریس میں جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال از حد ضروری ہے، جو خلاف شریعت بھی نہیں ہے ۔
   فقہ اسلامی میں میں بھی ہم تبدیلی کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن جو قدیم کتابیں اس فن کی پڑھائی جاتی ہیں، ان میں بعض تو آج کے طلبہ کے لئے بہت ہی مشکل ہیں ،مثلا بعض مدارس میں ابھی بھی کنز الدقائق جیسی گنجلک عبارت والی کتاب داخل نصاب ہیں حسامی اور نور الانوار ،نخبہ جیسی کتابیں بھی،، جب کہ اس فن کی بہترین جدید کتابیں آچکی ہیں ۔ اسی طرح نور الایضاح کی جگہ الفقہ المیسر کو داخل نصاب نہ کرنا سمجھ سے پرے ہے ،جبکہ یہ کتاب موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔ 
   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                     
      مادیت اور دنیا پرستی کے اس دور میں جہاں ہر شخص دنیا کی ہوڑ اور دوڑ میں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہے اور منافست کا جذبہ تیز سے تیزتر ہے ، مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ بھی حالات سے متاثر ہوئے ہیں،الشیطن یعدکم الفقر کا شیطانی حربہ اور وسوسہ بھی اس کے سامنے ہے ،جس سے ان کا سامنا ہے ۔۔۔۔۔۔
 انہیں مدارسِ اسلامیہ میں رہ کر اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے، اس لئے باتوفیق اور دینی مزاج رکھنے والے طلبہ کے علاوہ اکثر طلبہ کالج اور یونیورسٹی کی طرف رخ کررہے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں کی ڈگریوں اور اسناد سے ہمیں سرکاری ملازمت نہیں مل سکتی، ہمارے لئے صرف مکتب اور مدرسہ میں تدریس ہی آخری راہ ہے اور وہ مدارس کے اساتذہ کو مدارس کی زندگی سے غیر مطمئن پاتے ہیں اور اساتذہ سے اپنی بے سروسامانی اور پریشانی کا تذکرہ کرتے سنتے ہیں ،تو وہ اس راہ کی طرف آنے کو تیار نہیں ہوتے ،یاد رہے کہ پہلے کے حالات اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے ایک زمانے میں درس نظامی ایک کامیاب نظام تعلیم تھا،شاہان مغل کے دربار میں معقولات و منقولات کے علماء اپنے علوم کی بنا پر نوازے جاتے تھے ،اسی نصاب تعلیم کے فارغین مملکت کا حصہ بن جاتے تھے ،یعنی اس نظام و نصاب کے فارغین اپنی دینی و دنیاوی امور کی قیادت کررہے تھے ،لیکن حالات کا رخ بدلا، زمانے نے نئی کروٹ لی اور دین و دنیا کی تفریق قائم ہوگئی ،ایک طرف لارڈ میکالے کا نظام تعلیم اپنا سکہ جمانے میں کامیاب رہا ، جس کے نتیجہ میں و اذا رآوا تجارة او لھوا انفضوا الیھا وترکوک قائما کا منظر اہل دل کے لئے پریشان کن ہوگیا ،تو دوسری طرف مدارس کا وہ نظام قائم ہوگیا ،جس کی محدود افادیت و نافعیت سے کسی کو انکار نہیں ،لیکن امت کی مجموعی ضرورت ان سے پوری نہیں ہوتی ،بلکہ نظام تعلیم کی اس تفریق سے امت کا سرمایہ جس طرح استعمال ہونا چاہیئے اور اس کے نتیجہ میں قوم کا مستقبل جس طرح روشن ہونا چاہیے نہیں ہو پا رہا ہے۔اس کا اعتراف ہم سبھی کو ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مدارس اسلامیہ میں ماضی کی طرح وحدانی نظام تعلیم کو پھر سے نافذ کیا جائے اس کےبغیر صورتحال پر قابو پانا ناممکن ہے ۔۔جہاں تعلیم کا نظام ایسا مرتب کیا جائے کہ ثانویہ کی تکمیل کیساتھ ہائی اسکول بھی بچہ کرلے کہ اگر وہ تعلیم ترک بھی کردے اور کسی آفس یا کمپنی میں کام کرنے لگے تو وہ آفس کے میدان کا بھی اچھا جان کار ہو اور وقت پر وہ امامت اور خطابت کے فرائض بھی انجام دے لے ۔
  (مستفاد تعلیم و تربیت ،ص،29)
    مدارس اسلامیہ کے دفتری نظام میں بھی کمی اور نقص کی وجہ سے طلبہ کا رجحان مدارس سے کم ہوا ہے ،یہاں کے دفتری نظام میں یا تو اس قدر لچک اور بے اصولی ہے کہ کوئی ریکارڈ اور نظام ہی نہیں ہے، وقت پر اگر آپ کو ٹیسی یا دیگر کاغذات کی ضرورت پڑ جائے تو ان کے پاس کوئی ریکارڈ ہی نہیں ،جدید آلات اور کمپیوٹر نظام سے آفس و دفتر کو منظم کیا ہی نہیں، جو وقت کی ضرورت ہے،اس کا نہ ہونا ایک بہت بڑی کمی اور نقص ہے، تو دوسری طرف بہت سے بڑے مدارس میں دفتری نظام کو اتنا سخت کردیا گیا ہے اور وہاں کے عملہ کا سلوک اور برتاؤ طلبہ کیساتھ اس قدر سخت اور منفی ہے کہ وہ یہاں کے نظام سے بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی اولاد کو مدارس کی چہار دیواری سے قریب نہیں ہونے دیتے ۔جبکہ سرکاری اسکولوں میں دفتری نظام میں بہت حد تک سہولت اور رعایت رہتی ہے ۔
   مثلا سرکاری دانشگاہوں ،محکموں اور شعبوں میں ایسا نظام ہوتا ہے کہ اگر نام اور تاریخ پیدائش کے اندراج میں کوئی بھول چوک ہو جائے اور اس کے پاس کوئی ریکارڈ سرکاری اور دفتری موجود ہے تو اس میں تبدیلی ہو جاتی ہے لیکن مدارس دینیہ میں اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں برتی جاتی اور جو درج ہوگیا اس میں تبدیلی کی کوئی معقول اور شرعی وجہ کے بعد بھی گنجائش نہیں ہوتی، گویا قلم اٹھا لیا گیا اور روشنائی خشک ہوگئی ،اس سلسلے میں مدارسِ عربیہ کے منتظمین کو غور کرنا چاہیے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق اگر کچھ تبدیلی طالب علم کرائے تو اس کی صورت ہونی چاہیے ،الحمد للہ بہت سے مدارسِ دینیہ نے اس بارے میں حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رویے کو بدلا ہے اور نظام میں تبدیلی کی ہے ۔۔۔
     ادھر چند سالوں سے مشاہدہ یہ ہےکہ اکثر مدارسِ اسلامیہ کے منتظمین انگریزی علوم و فنون اور عصری تعلیم گاہوں سے مرعوب نظر آرہے ہیں اور آئے دن مدارس کو اسکول کے طرز پر ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں ،اس کے لئے مہنگی فیس رکھنے لگے ،گارجئین اور سرپرست حضرات یہ سمجھنے لگے کہ اتنی مہنگی تعلیم اگر ہم مدارس میں دلائیں گے تو اس سے بہتر ہے کہ اسکول ہی میں بچے کا داخلہ کرادو ،دین سیکھنے کے لئے اور دینی تربیت کے لیے تبلیغی جماعت میں وقفہ وقفہ سے بھیجتے رہیں گے ۔۔
       مدارس اسلامیہ میں ہاسٹل کا نظام بہت فرسودہ ہے ،جدید آلات و سائل سے استفادہ نہ کے برابر ہے ،خورد و نوش کا نظام جس انداز و معیار کا ہونا چاہیے نہیں ہوتا ،گرمی سردی اور مچھر سے بچاؤ کے لئے بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا ،جس کی وجہ سے مالدار گھرانے کے طلبہ مدارسِ عربیہ کا رخ کم کرتے ہیں ،مہمان خانہ اور دفتر تو بہت خوبصورت اور پرکشش ہوتا ہے، لیکن ہاسٹل ،باتھ روم اور باورچی خانہ بالکل صاف ستھرا نہیں رہتا ۔۔
  بعض ادارے میں تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کم رہتی ہے ،صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے کے چکر میں داخلہ پر داخلہ لیتے رہتے ہیں تاکہ چندے میں دقت نہ ہو ،طلبہ کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جب یہ طلبہ گھر 🏠 پہنچتے ہیں اور ان کے والدین بچوں میں دینی مزاج اور ماحول نہیں پاتے ہیں تو وہ بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے بچوں کو مدارس نہیں بھیجتے ۔۔۔
    مدارس میں پورے سال کا کوئی نظام ، شیڈول اور ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا ،پہلے سے پورے سال کا نظام اور خاکہ تیار نہیں کیا جاتا ،چھٹی اور تعطیل کی تفصیلات پہلے سے ترتیب نہیں دی جاتی ،عین موقع پر فیصلہ لیا جاتا ہے ،اسی طرح کوئی لیسن پلان نہیں ہوتا کہ کس انداز سے پڑھانا ہے روزانہ کس مقدار میں اور کتنا پڑھانا ہے ،تعلیم کے ایام کتنے دن میں تقسیم کرنے ہیں ،ہر مہینے کتنی تعلیم ہونی ہے ،یہ چیزیں واضح نہیں ہوتیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پلانگ کی جاتی ہے ۔ بقر عید تک صرف چار صفحے پڑھائی ہوئی اور اس کے بعد نصاب کو جلدی جلدی پورا کردیا گیا ۔
     مدارس اسلامیہ میں طلبہ کو ان کا ہدف اور ان کی منزل کا پتہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے سامنے کوئی منصوبہ ہوتا ہے ،اس لیے ان کے اندر شوق ،لگن اور یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مدارس میں طلبہ کی تعداد دن بدن گھٹی جارہی ہے ۔

Monday, March 23, 2026

بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری محمد جمیل اخترجلیلی ندوی

بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری
محمد جمیل اخترجلیلی ندوی



 تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے، جوحیثیت انسانی جسم کے اندرریڑھ کی ہڈی کی ہے، اگر ریڑھ کی ہڈی کو کچھ ہوجائے توانسان چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتاہے، ٹھیک اسی طرح کسی قوم میں اگرتعلیم کا رواج نہ ہوتووہ قوم دنیاکے اسٹیج میں بے حیثیت بن جاتی ہے۔
 سولہویں صدی عیسوی سے قبل اگریوروپ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں توہم اسے غیرترقی یافتہ پاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ تعلیم سے دوری ہے؛ لیکن پھرانھوں نے تعلیم کی طرف توجہ دی ، جس کے نتیجہ میں وہ آج ترقی کی اس منزل پرقدم رکھ چکاہے، جہاں تک پہنچنے کے لئے اب بھی ہمیں برسوں لگ جائیں گے۔
 اسلام نے تعلیم سے روکانہیں؛ بل کہ اس کے حصول کا حکم دیاہے، اس کی نظرمیں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺپر سب سے پہلی وحی جونازل ہوئی، وہ اقرأ(پڑھو)کی تھی، دوسری وحی میںبھی تعلیم کا ذکر موجود ہے، پھرنبی کریمﷺ کی ذات نے تواسے فرض قرار دے دیا، فرمایا:طلب العلم فریضة علی کل مسلم (سنن ابن ماجة،باب فضل العلماء…حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مردہویاعورت)پرفرض ہے‘‘، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں تعلیم کی بہت زیدہ اہمیت ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں کون سی تعلیم حاصل کرنی چاہئے؟ اس کے جواب کے لئے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کی دوقسمیں کی گئی ہیں:(۱) فرض عین۔(۲) فرض کفایہ۔
  مشہوراسلامی فلاسفرامام غزالیؒ نے اپنی مشہورکتاب (’’احیاء علوم الدین ‘‘:۱ /۳۱)میں تین طرح کے علوم کوفرض علم میں داخل کیاہے:
  (۱)عقائد سے متعلق علم:جس کوہم مختصراً’’ایمانِ مجمل‘‘میں پڑھتے ہیں، یعنی اللہ ، رسول، ملائکہ، کتاب، آخرت کے دن، تقدیرکے اچھے وبُرے اورمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر(ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں بیان نہیں کیاجاسکتا)ایمان لانا۔
  (۲) عمل سے متعلق علم:ایمان واعتقاد کے بعد ’’عمل‘‘ کا نمبرآتاہے، یعنی ان چیزوں کی واقفیت، جن کے کرنے کا ہمیں حکم دیاگیاہے اورنہ کرنے کی صورت میں ’’عذابِ ألیم‘‘ (دردناک عذاب)کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے: نماز، روزہ، زکوۃ اورحج وغیرہ سے متعلق جان کاری۔ 
 (۳) تَرْک سے متعلق علم:’’ایمان ‘‘و’’عمل‘‘ سے متعلق علم جان لینے کے بعد اب ہمیں ان ممنوعات کے بارے میں جاننا ضروری ہے ،جن کے کرنے سے ہمیں روکاگیاہے اورکرلینے کی صورت میں سزاکامستحق قراردیاگیاہے۔
 جب کہ زراعت، صناعت، حرفت، ڈاکٹری، انجنیئرنگ، ریاضی وغیرہ کی تعلیم کو فرض کفایہ علوم میں شامل کیاہے (إحیاء علوم الدین:۱ /۳۴)، اب ظاہر ہے کہ ہمیں سب سے پہلے وہ علم حاصل کرناچاہئے، جوفرض عین ہو، نہ کہ فرض کفایہ؛ لیکن دین بیزاری کے اس دورلوگ اپنے بچوں کوتعلیم دلانے کی طرف متوجہ توضرورہوئے ہیں؛ لیکن اکثرکارجحان فرض کفایہ کی طرف ہے، جوہمارے لئے اورہمارے بچوں کے لئے یقینا ایسا نقصان دہ ہے، جس کی تلافی شایدہی ہوسکے، بدقسمتی ہماری یہ بھی ہے کہ جن اداروں میں فرض عین کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ فرض کفایہ کی طرف نہیں کے برابرتوجہ دیتے ہیں، جس کانتیجہ آج کے مادی دورمیں یہ ہوتاہے کہ قوم کے اکثرافراد اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ان اداروں کارخ ہی نہیں کرتے، نیز ایسے ادارے آٹے میں نمک کے برابرہیں، جہاں فرض عین کے ساتھ ساتھ فرض کفایہ کی بھی تعلیم ہوتی ہے؛ بل کہ اکثرادارے وہ ہیں، جوغیروں کے ہیں اورجہاں ایسی تعلیم کا نام لینابھی قابل گرفت ہے، جوہمارے لئے فرض عین ہے۔
 موجودہ زمانہ میں بچوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھنا تو کسی طورپردرست نہیں؛ لیکن ظاہرہے کہ ان کے ایمان کابھی تو سودا نہیں کیاجاسکتا، لہٰذا اگرایسے اداروں میں تعلیم دلانا پڑے، جہاں فرض عین کی تعلیم نہیں ہوتی توبچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین پردرج ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
 ۱-ضروری دینی تعلیم کاانتظام کرنا:اتنی مقدارمیں دینی تعلیم کاحصول ضروری ہے، جس کے ذریعہ سے عقیدہ کے اندردرستگی اورحلال وحرام کے درمیان تمیز کی جاسکے، فرائض کوجاناجاسکے اوراوامر(جن اعمال کے کرنے کاحکم دیا گیا ہے)اورنواہی(جن اعمال سے رکنے کاحکم دیاگیاہے)کی واقفیت ہوسکے، اللہ کے رسولﷺکے مبارک ارشاد {طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم} (سنن ابن ماجۃ،باب فضل العلماء… حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مرد ہو یا عورت) پرفرض ہے‘‘ کامطلب بھی یہی ہے، والدین کوچاہئے کہ اپنے بچہ کے سلسلہ میں اس کی فکرکریں؛ کیوں کہ بنیادی دینی تعلیم کے بغیرتووضوبھی درست نہیں ہوتا؛ چہ جائیکہ نماز! اسی لئے اللہ کے رسول ﷺنے جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک وفدحضوراکرم ﷺ کی صحبتِ بابرکت میں بیس دن تک سعادت مندیوں اورخوش بختیوں کی نعمتوں سے بہرہ مندہونے کے بعد گھرواپسی کاارادہ کیا تواللہ کے رسول ﷺ نے زادِ راہ سے سرفراز فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:ارجعوا إلی أھلیکم، فأقیموافیھم، وعلموھم، ومروھم۔(بخاری،حدیث نمبر:۶۳۱،مسلم،حدیث نمبر:۶۷۴)اپنے گھروالوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھیں کے درمیان قیام کرو، انھیں سکھاؤ اورانھیں حکم دو۔
 اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں:اسلامی شریعت کی تعلیم دو اورواجبات کی ادائے گی اورمحرمات سے اجتناب کاحکم دو۔(ارشادالساری:۰۱ /۲۸۷)، اور ظاہرہے کہ بنیادی دینی تعلیم میں یہی باتیں شامل ہوتی ہیں،اِس کے لئے والدین درج ذیل صورتیں اختیارکرسکتے ہیں:
 (الف)کسی ایسے معلم کاانتظام، جوگھرمیں آکربنیادی دینی تعلیم دے۔
 (ب)تقریباً ہرمسجد میں صباحی ومسائی مکاتب کانظام رائج ہے، والدین اپنے بچوں کوان میں بھیجنے کااہتمام کریں۔
 (ج)اگربچے بالغ اورباشعور ہیں توانھیں تبلیغی جماعت میں بھی بھیج کربنیادی دینی تعلیم و عملی تربیت دی جاسکتی ہے۔
 ۲-پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کرانا: نماز اسلام کا ایسا بنیادی اوراہم رکن ہے، جس کی تربیت دینے کاحکم سات سال ہی سے دیا گیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشادہے: مروا أولادکم والصلاۃ وھم أبناء سبع سنین، واضربوھم علیھا وھم ابناء عشرسنین۔(ابوداود، متی یؤمرالغلام بالصلاۃ، حدیث نمبر:۴۹۵)اپنی اولادکوسات سال کی عمرمیں نماز کاحکم دو اوردس سال کی عمرمیں اس کے چھوڑنے پرمارو۔
 والدین کواپنے آپ سے یہ عہدکرناہوگاکہ بچوں کی کوئی بھی نماز قضاء نہیں ہوگی، خواہ وہ کہیں بھی رہیں، سیروتفریح کے لئے جائیں یاشادی بیاہ میں شرکت کے لئے، کھیل کے میدان میں ہوں یا ہاسپٹل کے وارڈ میں، دوستوں کے جمگھٹوں میں یا بازارکے شورہنگاموں میں، کہیں بھی ہوں بہرصورت ان کی نماز قضا نہیں ہوگی۔
 ۳-دینی اجتماعات میں شرکت کرانا:علاقہ یااطراف واکناف میں ہونے والے دینی اجتماعات میں بچوں کی شرکت کرانی چاہئے، وہاں تھوڑے وقت میں زیادہ نفع حاصل ہوجایاکرتاہے، اِسی طرح ہفتہ واری مجالس، مثلا: درسِ حدیث اوردرسِ قرآن کی مجالس میں حاضری دلوانی چاہئے کہ یہ بھی کم وقت میں زیادہ نفع بخش ہوتی ہیں۔
 ۴-دینی کتابوں کے مطالعہ کااہتمام کرانا: فارغ اوقات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انھیں دینی کتابوں کابھی مطالعہ کراناچاہئے، خصوصاً اُس ذات کی سیرت پڑھوانی چاہئے، جس کی امت میں ہمارا شمارہوتاہے، یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ آج اُس قدسی صفت ذات پردشمن کیچڑ لگارہے ہیں، اگر بچے اُن کی سیرت پڑھیں گے تودشمن کومنھ توڑجواب دے سکیں گے، ورنہ دشمن کی طرف سے لگائے گئے الزام کے نتیجہ میں خود اُوبنے ڈوبنے لگیں گے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، بزرگانِ دین اورامت کے مصلحین کی سوانح وسیرت کابھی مطالعہ ضرورکروانا چاہئے، اسی طرح اسلامی اور مسلم فاتحین کی تاریخ سے بھی روشناس کراناضروری ہے۔
 ۵-گھرکواسلامی ماحول دینا: مذکورہ تمام امورکے ساتھ ساتھ اپنے گھرکے فضاکواسلامی بناناضروری ہے، جب تک گھر کواسلامی ماحول میں تبدیل نہیں کریں گے، اس وقت تک بچوں کا ذہن اسلامی سانچہ میں نہیں ڈھل سکتااورجب تک اسلامی سانچہ میں ذہن نہ ڈھلے، اس وقت تک مذکورہ امورکو سود مند قرارنہیں دیاجاسکتا۔
 اگروالدین ان ذمہ داریوں کوادا نہیں کررہے ہیں تو بچوں کے ایمان کی حفاظت کی عملی طورپرگارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے؛ لیکن والدین اگران ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سنجیدہ ہوں اور اپنے بچوں کوان پرعمل درآمد کرائیں توان شاء اللہ ان کا ایمان عملی طورپرمحفوظ رہے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے،آمین!
Mobile:8292017888
jamiljh04@gmail.com

Sunday, March 22, 2026

اطمینانِ قلب کی دولت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔دگھی،گڈا،جھارکھنڈ

اطمینانِ قلب کی دولت

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دگھی،گڈا،جھارکھنڈ 

   آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑا نظر آتا ہے، مگر باطن میں ایک عجیب اضطراب، بے چینی اور خلا محسوس کرتا ہے۔ جدید دور کی چکاچوند، سائنسی ترقی، مادی آسائشیں اور سہولیات کے انبار کے باوجود انسان کے دل کو وہ سکون میسر نہیں، جو اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں، ہر طبقے میں، ہر عمر کے انسان میں ایک انجانی بے قراری پائی جاتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا،ہر ایک کے لبوں پر یہی شکوہ ہے کہ دل مطمئن نہیں۔
یہ بے اطمینانی محض معاشی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی بحران ہے۔ انسان نے اپنی توجہ مادّی ترقی پر مرکوز کر دی ہے اور روحانی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجتاً دل کی وہ کیفیت، جسے اطمینان کہا جاتا ہے، ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت، شہرت، طاقت یا عہدہ انہیں سکون فراہم کرے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جتنا انسان ان چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے، اتنا ہی وہ اندر سے خالی اور بے چین ہوتا جاتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی مسائل کی نوعیت بدل چکی ہے۔ خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے، اولاد نافرمان ہو رہی ہے، میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اعتماد و محبت کا فقدان عام ہو چکا ہے۔ کوئی اپنی اولاد کے رویے سے پریشان ہے، کوئی شریکِ حیات کی بے اعتنائی سے دل گرفتہ ہے، تو کوئی معاشی تنگی یا معاشرتی دباؤ کا شکار ہے۔ ان تمام مسائل کا مشترکہ نتیجہ ایک ہی ہے: دل کا بے سکون ہونا۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کے دل کو حقیقی سکون عطا کر سکتی ہے؟ کیا اس کا حل مزید دولت کمانا ہے؟ یا مزید طاقت حاصل کرنا؟ یا دنیاوی لذتوں میں اضافہ؟ تاریخ اور تجربہ دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز دل کے سکون کی ضامن نہیں۔
یہاں قرآنِ مجید ایک نہایت واضح، جامع اور حتمی رہنمائی فراہم کرتا ہے:
“الا بذکر اللہ تطمئن القلوب”
یعنی خبردار! دلوں کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دل کا سکون کسی مادی ذریعے سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات سے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا، اس سے جڑتا نہیں، اور اس کی یاد میں نہیں رہتا، تب تک اس کے دل کو حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔
ذکرِ الٰہی کا مفہوم محض زبان سے چند الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر کیفیت کا نام ہے۔ یہ انسان کے دل، دماغ، سوچ اور عمل سب پر محیط ہوتا ہے۔ ذکر کا مطلب ہے کہ انسان اپنے رب کو ہر حال میں یاد رکھے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے، اس کے احکام کی اطاعت کرے، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
جب انسان اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے، اس کی مشکلات کو جانتا ہے، اور وہی اس کا حقیقی مددگار ہے۔ یہ یقین انسان کو ہر طرح کے خوف، اضطراب اور بے چینی سے نجات دلاتا ہے۔
اسی طرح اللہ پر بھروسہ (توکل) بھی اطمینانِ قلب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اللہ کی مشیت سے ہو رہا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے، تو وہ حالات کی سختیوں سے ٹوٹتا نہیں بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس کے دل کو مضبوط اور مطمئن بناتی ہے۔
ذکرِ الٰہی کا ایک پہلو شکرگزاری بھی ہے۔ جو انسان اللہ کی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، اس کا دل حسد، لالچ اور بے اطمینانی سے پاک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن رہتا ہے اور دوسروں سے تقابل میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو شخص ہمیشہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اپنی کمیوں اور محرومیوں پر نظر رکھتا ہے، وہ کبھی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔
موجودہ دور میں انسان نے مختلف فلسفوں، نظریات اور نظاموں کو آزما لیا ہے، مگر دل کا سکون پھر بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام کوششیں انسان کے ظاہر کو سنوارنے پر مرکوز ہیں، جبکہ اصل مسئلہ اس کے باطن کا ہے۔ جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوگی، باہر کی دنیا کی کوئی بھی تبدیلی انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔
قرآن کا پیغام دراصل انسان کو اس کے اصل مرکز کی طرف واپس بلاتا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ تمہاری اصل حقیقت ایک بندہ ہونا ہے، اور تمہارا حقیقی سکون اپنے رب کی بندگی میں ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے، تو اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے، اور اپنی ترجیحات کو اسی کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔
اطمینانِ قلب کی دولت دراصل وہ نعمت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے، نہ چھینی جا سکتی ہے، اور نہ ہی کسی مادی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے، اس کی یاد میں رہنے، اور اس پر کامل یقین و اعتماد رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج کی بے چین دنیا کو اگر کسی ایک چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ ذکرِ الٰہی ہے۔ یہی وہ نسخہ ہے جو انسان کے دل کو سکون، اس کی زندگی کو توازن، اور اس کے وجود کو معنویت عطا کرتا ہے۔ اگر انسان واقعی اطمینانِ قلب کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، اس کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اور اسی پر بھروسہ کرے۔ یہی راستہ ہے، اور اسی میں کامیابی اور سکون پوشیدہ ہے۔

Thursday, March 19, 2026

ہم عید کیسے منائیں ؟ محمد قمر الزماں ندوی

خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔30/ رمضان المبارک 

ہم عید کیسے منائیں ؟ 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
 
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
برادرانِ اسلام! آج ہم ایک ایسے مبارک اور مسرت افزا موقع کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کا انتظار پورا مہینہ دل کی گہرائیوں سے کیا گیا۔ رمضان المبارک کی رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور مغفرتوں سے لبریز ساعتیں اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہیں، اور اب ہمارے سامنے عید الفطر کا روشن، پرنور اور بابرکت دن طلوع ہونے والا ہے۔ یہ محض ایک عید اور تہوار نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے انعام، اکرام، بخشش، مغفرت اور خوشی کا وہ دن ہے جس میں بندہ اپنی عبادتوں کی قبولیت کی امید کے ساتھ اپنے رب کے حضور شکرانہ ادا کرتا ہے۔
عید کا دن درحقیقت اس عظیم تربیت گاہ، یعنی رمضان المبارک، کا ثمرہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک مومن اپنے نفس پر قابو پانے، بھوک و پیاس برداشت کرنے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے بعد روحانی کامیابی کا جشن مناتا ہے۔ یہ جشن محض ظاہری خوشیوں، نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا حقیقی پیغام شکر، تواضع، اخوت، محبت اور بندگی ہے۔ گویا عید کا دن اس بات کا اعلان ہے کہ جس بندے نے رمضان میں اپنے رب کو پہچان لیا، اس نے اصل کامیابی حاصل کرلی۔
محترم سامعین! عید الفطر کا مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ دن کیوں عطا کیا گیا؟ کیا یہ صرف خوشی منانے، میل جول بڑھانے اور دنیاوی لذتوں میں مشغول ہونے کا نام ہے؟ یا اس کے پسِ پردہ کوئی گہرا پیغام، کوئی عظیم مقصد اور کوئی دائمی سبق بھی پوشیدہ ہے؟ یقیناً شریعتِ مطہرہ نے اس دن کو محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل، بامقصد اور باوقار طرزِ عمل متعین فرمایا ہے، جس کے ذریعے ایک مومن اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایک ماہ تک جس ضبطِ نفس، صبر، تقویٰ اور عبادت کا اہتمام کیا، وہ محض چند دنوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہماری پوری زندگی کا حصہ بن جائے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازیں آباد رہیں، دلوں میں اللہ کا خوف اور محبت باقی رہے، زبانیں ذکرِ الٰہی اور تلاوت قرآن سے تر رہیں، اور ہمارے معاملات میں دیانت و امانت جلوہ گر ہو، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے عید کا حقیقی پیغام پالیا۔
عید کا دن سماجی ہم آہنگی اور ملی وحدت کا بھی مظہر ہے۔ اس دن امیر و غریب، چھوٹا و بڑا، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی عملی تصویر ہے کہ اسلام میں رنگ، نسل، ذات اور حیثیت کی کوئی تفریق نہیں۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کے محتاجوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو نہ بھولیں، بلکہ ان کی خوشیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ صدقۂ فطر کا نظام اسی مقصد کے تحت رکھا گیا تاکہ کوئی بھی شخص عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔
معزز حضرات! آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید کو اس کے اصل روح اور پیغام کے ساتھ منائیں۔ ہم اس دن کو فضول خرچی، نمود و نمائش اور غیر شرعی رسومات سے پاک رکھیں، اور اسے عبادت، شکرگزاری اور انسانی ہمدردی کا عملی نمونہ بنائیں۔ ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ناراضگیوں کو ختم کریں، دلوں کو جوڑیں، اور معاشرے میں محبت و اخوت کا پیغام عام کریں۔
یہ عید ہمیں یہ بھی درس دیتی ہے کہ بندگی کا سفر رمضان کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو ایک نئی شروعات ہے۔ اگر ہم نے رمضان میں اپنے اندر جو نیکیوں کا چراغ روشن کیا ہے، اسے باقی سال بھی روشن رکھا، تو یہی عید کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ ورنہ اگر رمضان گزرتے ہی ہم دوبارہ غفلت کی نیند میں سو گئے، تو یہ ہماری محرومی کی علامت ہوگی۔
لہٰذا آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اس عید کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق منائیں گے۔ ہم اس دن کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں گے، اپنا جائزہ لیں گے ،اپنے اعمال کا محاسبہ کریں گے، اور آئندہ زندگی کو مزید بہتر بنانے کا عزم کریں گے۔ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں گے، دلوں کو صاف کریں گے، اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جو محبت، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول بھی فرمائے۔ 
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستو بزرگو اور بھائیو! 
علماء کرام عید کو کیسے منایا جائے اور اس دن ہم کیا کریں اس حوالے لکھتے ہے ۔
"اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کے اندر ملکوتی (فرشتوں والی) اور حیوانی (جانوروں والی) دونوں صفتیں ودیعت کی ہیں،جو حالات اور ماحول کے اثرات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر غالب آتی رہتی ہیں، الٰہی ماحول مل جائے تو ملکوتی صفت غالب آجاتی ہے اورشیطانی ماحول مل جائے تو بہیمی صفت قبضہ جمالیتی ہے، ہمارے ارد گرد کے عام ماحول پرچوں کہ ابلیسیت کا طنطنہ ہے، اس لئے سال بھر ہمارے اندر صفتِ بہیمی منھ زور گھوڑے کی طرح دُم اُٹھائے دوڑتی پھرتی ہے، اسی کی توڑ اورمقابلہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزے جیسی اہم چیز ہمیں عنایت کی ہے۔
 پھرروزہ رکھنے کے لئے ایک پورامہینہ عطا کیا، جسے ہم ’’رمضان المبارک ‘‘کے نام سے جانتے ہیں، انسان جب پورا ایک مہینہ روزہ رکھ لیتا ہے تواس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اب وہ افطارکرے، اللہ تعالیٰ اس کی اس فطرت کی رعایت کرتے ہوئے شوال کا چاند نظرآتے ہی یہ موقع فراہم کردیتاہے؛ لیکن یہ موقع یوںہی فراہم نہیں کردیتا؛ بل کہ افطارکے پہلے دن کواس کے لئے بطوریادگاربنادیتاہے، اسی یادگار کو ’’عیدکادن‘‘ کہا جاتا ہے۔
 عیدکادن بطورخاص روزہ داروںکے لئے تحفہ اورانعام کا دن ہوتاہے،بندہ اپنے مالک کی بات مان کرپورا ایک مہینہ بھوک اورپیاس برداشت کرتاہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی اس اطاعت کی قدردانی کرتاہے اوراس کے روزہ رکھنے کے عمل کوخالص اپناعمل قرار دیتاہے اوریہ فرماتاہے کہ میں بذات خوداس کابدلہ دوں گا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:کل عمل بن آدم له الا الصیام، فانه لی وأنا أجزی به۔(مسلم، حدیث نمبر:۲۷۰۶)ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے، سوائے روزہ کے، کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ (اجر) دوں گا،اللہ تعالیٰ نے روزہ کو اپنا عمل کیوں قراردیا؟ اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے: یترک طعامه وشرابه وشھوته من اجلی(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۹۴)کہ بندہ کھانا، پینااور قضائے شہوت کوصر ف میرے لئے چھوڑتاہے، حقیقت یہ ہے کہ جس قدر نفس کشی روزہ کے اندر پائی جاتی ہے، کسی دوسری عبادت میں نہیں پائی جاتی، اسی لئے اس روزہ بدلہ بھی خاص ہوتاہے۔
 ایک خاص بدلہ تویہ ہے کہ قیامت کے دن انھیں جنت کے خاص دروازہ’’ریان‘‘سے جنت میں داخل کیاجائے گا، اس دروازہ سے کسی اورکوداخل نہیں ہونے دیاجائے گا(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۱۲)، دوسرابدلہ ان کی ’’مغفرت‘‘ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں: …فإذاکان یوم عیدهم، باهی بهم ملائکته، فقال: یاملائکتی!ماجزاء أجیر وفی عمله؟قالوا: ربناجزاء ہ أن یوفی أجرہ، قال: یاملائکتی، عبیدی وإمائی، قضوا فریضتی علیهم، ثم خرجوا یعجون إلی الدعاء، وعزتی وجلالی وکرمی وعلوی وارتفاع مکانی لأجیبنهم، فیقول: ارجعوا فقدغفرت لکم، وبدلت سیئاتکم حسنات۔(شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر:۳۱۱۷) ’’جب عیدکادن آتاہے توفرشتوں کے سامنے ان پرفخرکرتاہے، کہتاہے: میرے فرشتو! اس مزدورکابدلہ کیاہوگا، جواپنا کامل مکمل کرلے، وہ کہیں گے: پروردگار!اس کوپوراپورابدلہ دیاجائے گا، اللہ فرمائے گا: میرے فرشتو! میرے بندے اوربندیوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی، پھروہ لوگ گڑگڑاتے ہوئے دعاکرتے ہوئے نکلے ہیں، میری عزت وجلال اورمیری رفعت وبلندی کی قسم! میں ضروران کی دعاء قبول کروں گا، پھراللہ فرمائے گا: تم لوگ لوٹ جاؤ، میں نے تم سب کی مغفرت کردی اورتمہاری برائیوں کوبھلائیوں سے بدل دیا‘‘۔
 عیدکادن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کادن ہوتاہے؛ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کویہ تک معلوم نہیں رہتا کہ اس دن کیاکیاکام کرنے چاہئیں؟ ذیل کے مضمون میں عیدکے دن کرنے کے ان کاموں کی وضاحت کی گئی ہے، جوشرعاً درست ہیں اوروہ درج ذیل ہیں:
 ۱-تکبیر:رمضان المبارک کے اختتام کے بعدافطارکی گھڑی آتی ہے، جس کی ابتداء ہلال عیدکے نظرآنے کے بعدسے شروع ہوجاتاہے، ظاہرہے کہ خیروخوبی کے ساتھ رمضان کے گزرنے پراللہ ہی کی کبریائی اوربڑٓئی بیان کی جانی چاہئے کہ اسی کے حسن توفیق سے اس گھڑی تک ہم پہنچ سکے؛ اس لئے چاندکے نظرآنے کے بعدسے اللہ کی بڑائی بیان کرنے کوایک مستحسن عمل قراردیاگیاہے، قرآن میں بھی اس کا ذکرملتاہے، اللہ تعالیٰ کاارشادہے: وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّهَ عَلَی مَا هَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون(البقرۃ:۱۸۵)’’ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو‘‘،تکبیرمیں یہ الفاظ کہے جائیں: الله أکبر الله أکبر، لاإله إلاالله ، والله أکبرالله أکبر، ولله الحمد، تکبیر کہنے کایہ عمل حسب استطاعت وقتاًفوقتاً ہوناچاہئے اور انفرادی طور پر ہوناچاہئے، اجتماعی طورپرتکبیرکہنے کو نادرست قراردیاگیاہے۔

 ۲-غسل کرنا:اسلام میں صفائی ستھرائی اورنظافت کوبہت زیادہ پسند کیاگیاہے؛ بل کہ اسے ایمان کاجزء قراردیاگیاہے، ارشادنبوی ہے: الطهورشطرالإیمان (مسلم، حدیث نمبر:۳۶۰) ’’پاکی ایمان کاجزء ہے‘‘، اسی پاکی میں سے ایک غسل ہے، بعض خاص موقعوں سے اسے مستحب قراردیاگیاہے، ان میں سے ایک عید کے دن کاغسل بھی ہے، حدیث میں ہے: رسول اللہ ﷺجمعہ، عرفہ، عیدالفطراورعیدالاضحی کے دن غسل فرمایاکرتے تھے(جامع المسانید والسنن، حدیث نمبر:۷۶۸۶۵: ۱۰/۱۴۵۴)۔
 ۳-کھجوریامیٹھی چیزکھانا: پورے مہینہ روزہ رکھنے کے بعدعیدکی سعادت سے ہمیں نوازا گیا، چوں کہ روزہ کے بعدیہ دن دیاگیاہے؛ اس لئے عیدگاہ جانے سے پہلے کھجور یاکوئی میٹھی چیزکھانے کومستحب قراردیاگیاہے، اللہ کے رسولﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی؛ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں:کان النبیﷺ لایغدویوم الفطر؛ حتی یأکل تمرات، ویأکلهن وترا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۲۹)’’رسول اللہ ﷺ عیدالفطرکے دن کھجورکھائے بغیر(عیدگاہ کے لئے) نہیں نکلتے تھے اورطاق عدد میں کھاتے تھے‘‘، کچھ کھاکرعیدگاہ جانے کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ نہ کھانے کی صورت میں عید کی نمازتک روزہ کاگمان ہوسکتاہے، مہلب کہتے ہیں:الحکمة فی الأکل قبل الصلاۃ أن لایظن ظان لزوم الصوم حتی یصلی العید’’نمازسے پہلے کھانے میں حکمت یہ ہے کہ گمان کرنے والایہ گمان نہ کرے کہ نمازعیدتک روزہ لازم ہے‘‘، پھرکھجورکھانے کی حکمت یہ نقل کی جاتی ہے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے بینائی میں کچھ صغف پیداہوجاتاہے اور کجھورکے ذریعہ سے یہ کمزوری ختم ہوجاتی ہے، پھربعض تابعین نے مطلق میٹھی چیزکے استعمال کومستحب قرار دیا ہے (فتح الباری:۲/۴۴۷)۔
 ۴-اچھے لباس کاانتخاب:عید کادن عام دن کی طرح نہیں ہے، یہ خوشی کادن ہوتاہے، لہٰذاخوشی کااظہاربھی ہوناچاہئے، اس کے لئے بہتراوراچھا لباس زیب تن کرناچاہئے، اچھے لباس کاہرگزمطلب یہ نہیں کہ ہرحال میں وہ نیا ہی ہو؛ بل کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کے پاس جوبہتراوراچھاہو، وہ زیب تن کرے، خودرسول اللہ کے پاس ایک لباس تھا، جسے جمعہ وعیدین میں زیب تن کیاکرتے تھے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: کان للنبیﷺ جبة یلبسهاللعیدین ویوم الجمعة(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۱۷۶۵)’’نبی کریم ﷺکاایک جبہ تھا، جسے عیدین اورجمعہ کے دن زیب تن فرماتے تھے‘‘، اچھے لباس کے انتخاب میں اس بات کاخیال رکھناچاہئے کہ وہ شرعی اعتبارسے درست بھی ہو، آج کل بالخصوص نوجوان ایسے ایسے لباس زیب تن کرتے ہیں، جوشریعت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں، سال میں ایک دن عیدکی نمازپڑھناہے، اس دن توکم ازکم شرعی لباس زیب تن ضرورہی کرناچاہئے۔
 ۵-صدقۂ فطرکی ادائے گی:محتاجوں کے تعاون کی جن شکلوں کوصاحب نصاب بندوں پرلازم کیاگیاہے، ان میں سے ایک صدقۃ الفطر بھی ہے، ’’صدقۃ الفطر ‘‘اس صدقہ کو کہا جاتا ہے، جورمضان المبارک کے روزہ افطارکی وجہ سے لازم ہوتاہے، یعنی اس کے واجب ہونے کاسبب افطار(شوال کا چاند دیکھ کرروزہ کھولنا)ہے، اس کی دوبنیادی حکمتیں ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اللہ کے رسول ﷺ کاارشادنقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ نے لغوورفث سے روزہ دار کوپاک کرنے اورمسکینوں کی غذا کے طورپرزکات فطر کو فرض کیا، جس نے (عید)کی نماز سے پہلے اسے ادا کیا تویہ مقبول زکات ہوگی، اورجس نے نماز کے بعد ادا کیا تو(اس صورت میں) یہ عام صدقات کے مثل ہے‘‘(ابوداود،حدیث نمبر:۱۶۱۱)، اب ایک اہم سوال یہ پیداہوتاہے کہ صدقۃ الفطر کی ادائے گی کن چیزوں کے ذریعہ سے کی جائے گی؟اس سلسلہ میں پانچ اشیاء کاذکراحادیث میں مذکورہے:(۱)شعیر( جو)(۲)تمر(کھجور)(۳)زبیب(کشمش)(۴)اقط(پنیر)(۵)طعام(غلہ)، حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں ہم ایک صاع غلہ، یاایک صاع جو، یاایک صاع کھجور، یاایک صاع کشمش ، یاپھرایک صاع پنیرزکات فطر(صدقۂ فطر) میں نکالتے تھے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۶۷۳، صحیح البخاری، حدیث نمبر۱۵۰۶)، جوشخص جَو، کھجور، کشمش اورپنیرسے اداکرناچاہے تووہ ایک صاع (تقریبا: 3.180grmsتین کلوایک سواسی گرام)کے حساب سے اداکرے؛ البتہ اگرگیہوں سے اداکرناچاہتاہے تونصف صاع(تقریباً:1.590grmsایک کلوپانچ سونوے گرام) کے حساب اداکرے۔
 ۶-نمازعیدکی ادائے گی:عیدکے دن کاایک اہم کام ’’عیدکی نماز‘‘کی ادائے گی ہے، احناف کے نزدیک اصح قول کے مطابق واجب ہے، حسن بن علی شرنبلالی لکھتے ہیں: صلاۃ العیدین واجبة فی الأصح۔(نورالإیضاح،باب العیدین، ص:۱۰۶) ’’اصح قول کے مطابق عیدین کی کی نماز واجب ہے‘‘(مجمع الأنہر، باب صلاۃ العیدین:۱/۲۵۵)، تاہم مرجوح قول سنت ہونے کابھی ہے، علامہ سرخسیؒ نے اس کے سنت ہونے کواظہرقراردیتے ہوئے فرمایاہے: والأظهرأنهاسنة؛ ولکنها من معالم الدین، أخذها هدی وترکهاضلالة۔(المبسوط، باب صلاۃ العیدین:۲/۳۷)’’اظہریہ ہے کہ یہ سنت ہے؛ لیکن دین کے شعائراورعلامت میںسے ہے، جس کواختیارکرناہدایت اورچھوڑناگمراہی ہے‘‘،حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردخاص حضرت امام ابویوسفؒ اسے فرض کفایہ قراردیتے ہیں (مجمع الأنہر، ۱/۲۵۵، تحفۃ الفقہاء، باب صلاۃ العیدین: ۱/۱۶۵)، عام دنوں میں سنت طریقہ پراس کی ادائے گی ہوتی گی؛ لیکن جولوگ ادانہ کرسکیں یاجہاں جمعہ کی نمازنہ ہوتی ہو، وہ لوگ چاشت کی نمازاداکرنے کی طرح دویاچاررکعت اداکرلیں، علامہ حصکفیؒ لکھتے ہیں: فإن عجز صلی أربعاً کالضحی’’اگرعاجزہوجائے توچاشت کی طرح چاررکعت نماز پڑھے‘‘، علامہ شامیؒ نے لکھاہے کہ یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نمازعیدکی قضاء نہیں ہے کہ نمازعید کی ہیئت میں نہیں پڑھی جائے گی(ردالمحتار مع الدرالمختار:۱/ ۵۸-۵۹)؛ البتہ ثواب کے حصول کے لئے پڑھ لینابہترہے، علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:فلوصلی مثل صلاۃ الضحی لینال الثواب کان حسناً ’’اگرثواب کے حصول کے لئے چاشت کی نمازکی طرح پڑھ لیتاہے توبہترہے‘‘(بدائع الصنائع، فصل صلاۃ العیدین:۲/ ۲۴۹)۔
 ۷-مبارک باد دینا:عیدکے دن نمازکی ادائے گی کے بعد مبارک باد دینانہ صرف یہ کہ جائزہے؛ بل کہ اسے مستحب بھی قراردیاگیاہے، علامہ شامی نے محقق ابن امیرحاج کے حوالہ سے نقل کیاہے:بل الأشبه أنهاجائزۃ مستحبة فی الجملة۔(ردالمحتار:۲/ ۱۶۹) ’’اشبہ یہ ہے کہ وہ فی الجملہ جائزمستحب ہے‘‘، اسی کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ ایساکیاکرتے تھے؛ چنانچہ حافظ ابن حجرؒنے سندحسن سے جبیربن نفیرکاقول نقل کیاہے، وہ فرماتے ہیں: کان أصحاب رسول الله ﷺ إذالتقوا یوم العیدیقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنک۔(فتح الباری:۲/ ۴۴۷)’’اصحاب رسولﷺ جب عیدکے دن ملتے توایک دوسرے سے کہتے: اللہ ہم سے اورآپ سے قبول کرے‘‘، اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ عیدکے دن مبارک بادی دینادرست ہے، وہاں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مبارک باد دیتے وقت ’’تقبل اللہ منا ومنک‘‘کہناچاہئے، نیزمبارک بادی دیتے وقت مصافحہ یامعانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ اس کولازمی سمجھ کرنہ کیاجائے(banuri.edu.pkفتوی نمبر: 143909200979)، مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ ؓ لکھتے ہیں: عیدین میں معانقہ کرنایا عیدکی تخصیص سمجھ کرمصافحہ کرناشرعی نہیں؛ بل کہ محض ایک رسم ہے(کفایت المفتی:۳/ ۳۰۲)۔
 ۸-خوشی کااظہار:عیدکادن خوشی کادن ہے، اس کا اظہار بھی ہوناچاہئے؛ لیکن خوشی کے اظہارکے لئے وہی طریقہ اختیارکرناچاہئے، جوشریعت کے دائرہ میں درست ہو، ایسے اعمال سے گریزکرناچاہئے، جوشریعت کے خلاف ہو، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: دخل أبوبکروعندی جاریتان من جواری الأنصار تغنیان بماتقاولت الأنصاریوم بعاث- قالت: ولیستابمغنیتین- فقال أبوبکر: أبمزامیرالشیطان فی بیت رسول اللهﷺ وذلك فی یوم عید، فقال رسول اللهﷺ: یاأبابکر، إن لکل قوم عیداً، وهذاعیدنا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۵۲) ’’ابوبکرؓمیرے پاس اس وقت آئے، جب کہ میرے پاس انصار کی دولڑکیاں جنگ بعاث میں انصارکاکارنامے ذکرکرکے گارہی تھیں- فرماتی ہیں کہ وہ مغنیہ نہیں تھیں- ابوبکرنے کہا: عیدکے دن رسول اللہ ﷺ کے گھرمیں شیطان کے مزامیرسے کام لیاجارہاہے تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر!ہرقوم کی عید ہوتی ہے اوریہ ہماری عیدہے‘‘، اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ عیدکے دن خوشی کااظہارکیاجاسکتاہے، یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ خوشی کے اظہارکے لئے اچھے اشعار(حمد، نعت اورنظم وغیرہ)بھی پڑھے اورسنے جاسکتے ہیں؛ لیکن آج کل بعض جگہوں پراس دن ڈی جے(DJ)وغیرہ بجایاجاتاہے، یہ کسی طورپردرست نہیں۔
 یہ ہیں وہ کام ، جوہمیں عیدکے دن کرنے چاہئیں کہ یہ شرعاً درست ہیں اور ان کاموں سے مکمل طورپراجتناب کرنا چاہئے، جوشریعت کے خلاف ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین "!

نوٹ/ واوین کی تحریر ہمارے فاضل دوست اور علمی کاموں میں مشیر جمیل اختر جلیلی ندوی کی ہے

Monday, March 16, 2026

عالمہ کی سند حاصل کرنے والی بیٹیوں کے نام مولانا آفتاب عالم ندوی۔ ناظم جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ

عالمہ کی سند حاصل کرنے والی بیٹیوں کے نام
°°°°°°°°°°°°°°°°°
از: آفتاب عالم ندوی۔ 
ناظم جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ ۔ 
موبائل ۔۔ 7004464267

آج سے پچیس تیس سال پہلے ملک میں ملت کی بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے، خاص طور پر بہار، بنگال اور جھارکھنڈ میں غالباً ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں تھا جہاں عالمہ کا مکمل نصاب پڑھایا جاتا ہو۔ ساؤتھ میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ نوے کی دہائی سے پہلے خود اترپردیش میں بھی، جو دینی تعلیم کی راجدھانی ہے، لڑکیوں کے ادارے مشکل سے دو تین ہی ہوں گے۔ نوے کی دہائی میں مدارس البنات کی شروعات ہوئی اور پھر تیزی سے لڑکیوں کے مدرسے قائم ہونے لگے۔ اب ماشاء اللہ ہر جگہ بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے موجود ہیں۔ اگرچہ ابھی تعلیم و تربیت، نصاب اور نظم و نسق میں سدھار اور بہتری کیلئے ان مدرسوں کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ یہ الگ موضوع ہے، اس پر پھر کبھی گفتگو ہوگی۔
آج مجھے اپنی ان بیٹیوں سے بات کرنی ہے جو عالمہ کے نصاب کی تکمیل کرکے فارغ ہورہی ہیں۔
جامعہ ام سلمہ مسلم لڑکیوں کی دینی و عصری تعلیم و تربیت کیلئے 1996 میں قائم ہوا۔ اس وقت لڑکیوں کی دینی تعلیم کیلئے بہار، بنگال، نیپال وغیرہ میں شاید ایک بھی مدرسہ نہیں تھا۔ اس لیے جب جین مذہب کے مقدس پارسناتھ اسری سے قریب نواٹانڈ گاؤں میں ام سلمہ کا افتتاح ہوا تو موجودہ جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع کے علاوہ بہار کے متعدد علاقوں کی بچیاں ام سلمہ میں داخل ہوئیں اور نصاب کی تکمیل کے بعد سند حاصل کرکے اپنے وطن لوٹیں۔
اگرچہ اب ہر علاقہ میں دخترانِ ملت کی دینی تعلیم کیلئے ادارے قائم ہوچکے ہیں، اس کے باوجود آج بھی جھارکھنڈ، مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دور دراز خطوں سے جامعہ ام سلمہ میں طالباتِ علومِ نبوت کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سال بھی فارغ ہونے والی طالبات میں پٹنہ، پورنیہ، مونگیر، کھگڑیا، جہان آباد، جامتاڑہ، گریڈیہ اور دھنباد کی بیٹیاں شامل ہیں۔
پیاری بیٹیو! آپ نے اپنے مدرسہ کی چہار دیواری میں معلمات کی شفقتوں کی گھنی چھاؤں اور جامعہ کے ذمہ داروں کی دیکھ ریکھ میں آٹھ دس سال گزارے۔ آپ نے کتابیں بھی پڑھیں اور یہاں کے ماحول اور ٹیچروں سے، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے فکر و سوچ سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ وقتاً فوقتاً ادارہ میں تشریف لانے اور خطاب کرنے والے روشن ضمیر بزرگوں کی قیمتی نصیحتوں سے بھی آپ نے اذہان و قلوب کو جلا بخشی۔
آپ نے یہاں جو وقت گزارا، وہ آپ کی زندگی کے انتہائی قیمتی لمحات ہیں، کوالیٹی کے اعتبار سے بھی اور کونٹیٹی کے اعتبار سے بھی۔ انسان کی یہی عمر سیکھنے اور ذہن و فکر کی تشکیل کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں انسان کو جیسا ماحول ملتا ہے، جیسی تعلیم و تربیت ملتی ہے، عموماً وہ ویسا ہی بنتا ہے۔ اسی عمر کی تعلیم و تربیت اس کا مستقبل طے کرتی ہے۔
اتنے اہم اور قیمتی دن جہاں بھی گزریں، وہ جگہ چاہ کر بھی آدمی نہیں بھلا سکتا۔ خاص طور پر بطور طالبعلم کے جس اسکول اور جس مدرسہ میں آٹھ دس سال گزریں، وہ ماہ و سال کیونکر بھلائے جاسکتے ہیں؟ وہاں کی صبحیں، وہاں کی شامیں، وہاں کے اشجار و طیور، ہاسٹل سے کلاس اور کلاس سے ہاسٹل آنے جانے کے مناظر، معلمات کا جلدی سلانے کی کوشش اور فجر میں جگانا آپ انہیں کیونکر فراموش کرسکتی ہیں؟
آپ اپنی مادرِ علمی سے فارغ ہوکر جارہی ہیں۔ پندرہ بیس روز کی چھٹیوں میں جانے سے اس بار کا جانا مختلف ہے۔ آپ کی چھوٹی بہنیں اسی طرح جارہی ہیں کہ جامعہ جس دن کھلے گا اسی دن ان کی حاضری ضروری ہے، لیکن اس بار آپ نہیں لوٹیں گی، کہ آپ فائنل امتحان دے چکی ہیں۔ جامعہ ام سلمہ کی طالبات جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے زیر انتظام میٹرک اور مادرِ علمی ام سلمہ کے عالمہ کے امتحانات سے فارغ ہوچکی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں ایک روایت یہ رہی ہے کہ فارغ ہونے والی طالبات کے اعزاز میں جونیر طالبات الوداعیہ تقریب کا انعقاد کرتی ہیں۔ اس موقع پر فارغ ہونے والی طالبات نظم و نثر میں اپنے جذبات و احساسات، ادارہ میں گزرے ہوئے ایام اور سینیر و جونیر سہیلیوں کے ساتھ بیتے خوبصورت شب و روز کو بیان کرکے خود بھی روتی اور محفل کو بھی رلاتی ہیں۔ طالبات اپنی بڑی بہنوں کے تجربات دلچسپی سے سنتی ہیں تاکہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ چھوٹی بہنیں فارغ ہونے والی بڑی بہنوں سے اپنی غلطیاں اور گستاخیاں معاف کرواتی ہیں۔
بیٹیو! آج کے پرفتن دور میں اپنے عقائد اور اپنی تہذیب و شناخت کے ساتھ باقی رہنا ایک بڑا چیلنج اور آزمائش ہے۔ خاص طور پر مسلم خواتین اور بیٹیوں کیلئے بازار سے لے کر تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، دفتروں اور پبلک پلیس ہر جگہ دشواریاں اور آزمائشیں گھات میں لگی ہوئی ہیں۔ بے دینی اور انحراف و فساد کی ہر طرف یلغار ہے۔ مادیت اور سماج میں اونچا مقام و مرتبہ کے حصول کا طوفان آیا ہوا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ فتنے نہیں تھے، لیکن آج یہ فتنے بڑے طاقتور اور ہر طرح کے اسباب و وسائل سے آراستہ ہیں۔ دین اسلام ہمیں ان تمام چیلنجوں، آزمائشوں اور فتنوں سے مقابلہ کرنے اور اپنی شخصیت و شناخت کی حفاظت کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام پوری زندگی کا ایک کامل و متوازن دستورِ حیات ہے۔ قرآن و حدیث میں زندگی کے تمام مسائل و مشکلات کا حل موجود ہے۔
صحابۂ کرام نے اور پھر تابعین و تبع تابعین، فقہاء و محدثین و مجتہدین اور مجددین و مفکرین نے ہر زمانے میں وقت کے اسلوب و زبان میں شریعت کی توضیح و تفسیر پیش کی ہے۔ دین کے کسی شعبہ میں کسی بھی زمانے میں کوئی غموض و ابہام نہیں رہا ہے۔
آپ نے یہاں اپنے اساتذہ اور استانیوں سے براہِ راست کلامِ الٰہی اور کلامِ نبوت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان دینیات و اسلامیات کے معاملہ میں بڑی مالدار اور خوش نصیب زبان ہے۔ اردو میں دنیا کی بہترین تفسیریں، فقہ و فتاویٰ کے مستند ترین مجموعے اور سیرت و علمِ کلام کے موضوعات پر قابلِ فخر لٹریچر موجود ہے۔ دنیا کی بیسیوں زبانوں میں ان کتابوں کا ترجمہ ہوچکا ہے۔
آپ ان کتابوں سے اپنے مطالعہ میں وسعت و گہرائی پیدا کرسکتی ہیں۔ فراغت کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سیکھنے اور مطالعہ کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب مزید پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہرگز فراغت کا یہ مطلب نہیں ہے۔ فارغ ہونے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا یا رسمی تعلیم اور کلاس میں اساتذہ سے پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا۔
تو آپ مطالعہ کا سلسلہ کبھی بند نہ کریں۔ وقت کو مرتب شکل میں تقسیم کرلیں اور مداومت اختیار کریں۔ جو بھی طے کریں، سختی سے اس کی پابندی کریں۔ پابندی اور مداومت میں بڑی برکت ہے۔
أحبُّ الأعمال إلى الله أدومها وإن قلَّ۔
قرآن و حدیث سے ثابت شدہ عقائد اور متفق علیہ امور میں اختلاف سے پرہیز کریں۔ ائمۂ مجتہدین اور فقہاء کے اختلافات کو کفر و ایمان کا اختلاف نہ سمجھیں۔ تصلب اور شدت اصول و عقائد میں ہو، فروع و جزئیات میں شدت سے بچنا چاہیے۔ قرآن و حدیث سے ماخوذ و مستنبط مسائل میں اختلافات کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔
سیرت نبوی، اسلام کے ابتدائی عہد کی تاریخ اور نامور اسلامی شخصیات کے افکار و خدمات سے آپ کو واقف ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملک کی تاریخ سے آپ کو نابلد نہیں رہنا چاہیے۔ ہندو اور بدھ مذہب اور ان کی دینی شخصیات سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ مغربی تہذیب اور دوسرے جدید معاشی، ادبی، فکری اور سیاسی تحریکات سے ناواقفیت داعی اور مبلغ کیلئے بڑا عیب اور مضر ہے۔ آپ کو اردو میں بھی ان موضوعات پر کتابیں مل جائیں گی۔
آپ میں سے کچھ ہوسکتا ہے آگے کی تعلیم کے لیے دوسرے دینی یا عصری اداروں کا رخ کریں یا گھر سے قریب کسی کالج میں داخلہ لیں۔ جہاں بھی رہیں، آپ اس طرح رہیں کہ آپ کا ادارہ، آپ کے والدین اور دینی تعلیم کا نام روشن ہو۔ اس کا خیال رہے کہ آپ کا کوئی قدم، کوئی عمل، کوئی فیصلہ آپ کے ادارے یا آپ کے خاندان کا سر نہ جھکادے۔
آپ کی چھوٹی غلطی دوسری لڑکیوں کی بڑی غلطی سے بھی بڑی سمجھی جائے گی۔ آپ امہات المؤمنین، صحابیات اور تاریخ اسلام کی قابلِ فخر خواتین کی نمائندہ ہیں۔ آپ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنی ہے۔
آپ مدرسہ میں جان چکی ہیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں، آپ کو کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ لیکن انسان کو صحیح راستے سے بھٹکانے والی چیزیں بے شمار ہیں۔ اللہ سے نیک کاموں کی توفیق و ہمت اور برے کاموں سے بچنے کی ہر مومن کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔
گھر اور سماج کا پاس و لحاظ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شریعت کی پامالی ہوجائے، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوجائے۔ ہر وقت ذہن میں وہ عظیم نسبت رہنی چاہیے جو آپ کو حاصل ہوئی ہے: دینی تعلیم اور جامعہ ام سلمہ کی نسبت، اور جس عظیم خاتونِ اسلام کی طرف آپ کی مادرِ علمی کو انتساب کا شرف حاصل ہے، یعنی ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نسبت۔
آپ اس مقدس و اعلیٰ نسبت کو کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں۔
دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں، زمانہ کے فتنوں سے اللہ آپ کی حفاظت کرے اور آپ کے علم و عمل اور اخلاق و کردار سے خلقِ خدا کو نفع پہنچائے۔
آمین۔

24 رمضان 1447ھ 13 مارچ 2026ء، بروز سنیچر

Sunday, March 15, 2026

رمضان ختم ہونے سے پہلے ذرا محاسبہ کیجئے ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

رمضان ختم ہونے سے پہلے ذرا محاسبہ کیجئے ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

رمضان المبارک اپنی تمام تر سعادتوں ،رحمتوں، برکتوں اور روحانی فیوض کے ساتھ اختتام کے قریب ہے، اب صرف گنتی کے تین چار دن رہ گئے ہیں۔ زیادہ تر ایمان والوں کا یہ پورا مہینہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، روزوں، تسبیحات ، تلاوتِ قرآن، تراویح ،صدقہ و خیرات اور دعا و استغفار میں گزرا۔ اب جب کہ اس مبارک مہینے کے آخری دن باقی رہ گئے ہیں تو ہر صاحبِ ایمان کے لیے یہ لمحۂ فکر ہے کہ وہ کچھ دیر رک کر اپنے دل سے سوال کرے اور اپنا محاسبہ کرے کہ : ہم نے رمضان سے کیا سیکھا؟ اس مہینے نے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی؟ اور کیا اس کے اثرات ہماری زندگی اور شب و روز میں آئندہ مہینوں تک بھی باقی رہیں گے؟
رمضان دراصل محض بھوکا اور پیاسا رہنے اور خواہشات نفسانی سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کی تربیت، روح کی پاکیزگی اور کردار کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ حلال چیزوں کو بھی اللہ کے حکم کی تعمیل میں دن بھر چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے اندر تقویٰ و طہارت پیدا ہو۔ قرآن کریم میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بھی یہی تقویٰ اور پرہیز گاری بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا ہو اور وہ اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھ لے۔
یہ مہینہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر، ہمدردی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ جب انسان خود بھوک اور پیاس کی تکلیف اور شدت کو محسوس کرتا ہے تو اسے ان لوگوں کی تکلیف کا بھی احساس ہوتا ہے جو سارا سال غربت اور محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ اسی احساس کے نتیجے میں اس کے اندر صدقہ و خیرات اور دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو رمضان کے پیغام کو زندہ رکھتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس مہینے کی حقیقی روح کو سمجھا؟ کیا ہماری عبادتوں میں خلوص تھا؟ کیا ہم نے قرآن کو صرف پڑھا یا اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کبھی کی؟ کیا ہم نے اپنی زبان، نگاہ اور اعمال کی حفاظت کی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہر مسلمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اپنا جائزہ اور محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔
رمضان دراصل دینِ اسلام کے تربیتی نظام کا ایک نہایت قیمتی باب ہے۔ تربیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کوئی سبق سیکھے اور پھر اسے بھول جائے۔ حقیقی تربیت وہ ہے جو انسان کی زندگی میں مستقل تبدیلی پیدا کر دے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازوں میں پابندی آجائے، ہمارے اخلاق میں نرمی پیدا ہو جائے، ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ ہو جائے اور ہمارے دل میں اللہ کا خوف اور محبت بڑھ جائے اور ہم حسد کینہ نفرت اور تعصب سے بچ جائیں ، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے رمضان سے صحیح فائدہ اٹھایا ہے۔
اس کے برعکس اگر رمضان ختم ہوتے ہی ہماری زندگی پہلے جیسی ہو جائے، عبادتوں میں سستی آجائے اور گناہوں کی طرف رجحان بڑھ جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اس مہینے کے حقیقی مقصد کو حاصل نہیں کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس کا رمضان اچھا گزرتا ہے اس کے باقی مہینے بھی اچھے گزرتے ہیں ۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کو یاد رکھا جائے اور اس کی رضا کو مقدم سمجھا جائے، رب چاہی زندگی گزاری جائے اور من چاہی زندگی سے بچا جائے۔
رمضان کے آخری عشرے کی خاص اہمیت ہے۔ یہی وہ عشرہ ہے، جس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات رکھی گئی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے اور اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کا عزم کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان آخری دنوں کو غفلت میں ضائع نہ کریں بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا اور استغفار میں گزاریں۔
اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رمضان کے بعد ہماری زندگی کیسی ہوگی ؟۔ کیا ہم قرآن سے اپنا تعلق قائم رکھیں گے؟ کیا ہم نماز کی پابندی کریں گے؟ کیا ہم صدقہ و خیرات اور نیکی کے کاموں کو جاری رکھیں گے؟ اگر ہم نے دل سے یہ عہد کر لیا کہ رمضان کے بعد بھی ہم نیکی کے راستے پر چلنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً رمضان ہمارے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر ایک پاکیزہ اور باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح میں ہے۔
لہٰذا رمضان کے اختتام سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں۔ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری عبادتوں کی مقدار اور معیار کیا رہا، ہمارے اعمال میں کتنی بہتری آئی اور ہماری نیتوں میں کتنی اخلاص پیدا ہوا۔ اگر کہیں کمی رہ گئی ہے تو ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے نیک ارادے کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ بقول شخصے کہ رمضان دین مبین کے تربیتی نظام کا بہت قیمتی باب ہے ، تربیت کا معنی یہ نہیں کہ سیکھو اور بھول جاؤ۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ جو سیکھا ہے اسے صرف وقتا فوقتاً برتو ۔تربیت یہ ہے کہ پہلے کی اور بعد کی زندگی میں اس کی وجہ سے نمایاں تبدیلی آجائے، پہلے کی زندگی میں جو نیکیاں نہیں تھیں وہ اب آجائیں ۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے کی قدر کرتے ہیں اور اس سے اپنی زندگی کو سنوار لیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ رمضان کے جانے سے پہلے اپنے دلوں کو جھانکیں، اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنا محاسبہ کریں'،اور یہ عہد کریں کہ ہم اس مہینے کی روح کو اپنی زندگی کے ہر دن میں زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے۔
اگر ہم نے یہ عزم کر لیا تو یقیناً رمضان ہمارے لیے محض ایک مہینہ نہیں رہے گا بلکہ ہماری زندگی کی اصلاح اور کامیابی کا مستقل ذریعہ بن جائے گا۔

Sunday, March 8, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت اور احکام و مسائل مولانا محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

خطاب جمعہ/ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔23/ رمضان المبارک 

صدقۂ فطر کی حکمت اور احکام و مسائل 

مولانا محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ۔9506600725
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوستو بزرگو اور بھائیو!

   ’’صدقۂ فطر‘‘ در اصل روزہ میں واقع ہونے والی کوتاہی اور نقص و کمی کی تلافی اور غرباء کو عید الفطر کے موقع پر اپنی خوشی و مسرت میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے، اسی لئے ہر صاحب نصاب پر یہ صدقۂ فطر واجب ہے ۔ 
      مذہب اسلام اور شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی عید و تہوار اور خوشی و مسرت کا موقع آئے تو صرف امیروں اور مالداروں کے دولت کدہ اور محلوں ہی میں خوشی و مسرت اور فرحت و شادمانی کا چراغ اور قمقمے نہ جلے، بلکہ ضرورت مندوں، غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کے غربت کدہ اور جھونپڑیوں میں بھی خوشی و مسرت کی روشنی پہنچے اور قمقمے جلے ۔ اسی لئے شریعت میں ہر ایسے موقع پر سماج کے غریب اور محتاج افراد کو یاد رکھنے اور اپنی خوشی میں شریک کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ اسی لئے بقر عید کے موقع پر بھی قربانی میں ایک تہائی حصہ غریبوں کا حق قرار دیا گیا ہے ۔ ولیمہ کے بارے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : 
جس ولیمہ میں سماج کے مالداروں لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے وہ بدترین ولیمہ ہے ۔ 
غرض اسلام نے عید الفطر کی خوشی میں غرباء اور مساکین کو شریک کرنے کے لئے اور روزے میں پیش آنے والی کمیوں اور کوتاہیوں کی تلافی اور بھر پائی کے لئے صدقۂ فطر کو ہر صاحب نصاب پر لازم قرار دیا ہے ۔ 
       حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت پر صدقۂ فطر کو فرض کیا ہے ،جو ایک صاع کجھور یا جو ہونا چاہئے ( بخاری ،۱۵۱۱) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اہتمام سے صدقۂ فطر ادا کرتے تھے ( بخاری شریف ۱۵۰۶)
روایت میں آتا ہے، عمرو بن شعیب حدیث کے راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ بھیجا کہ مکہ کے گلی کوچوں میں اعلان کردے کہ صدقۂ فطر واجب ہے ۔ (ترمذی جلد ، ۱ باب ما جاء فی صدقة الفطر)
 زکوٰۃ ہی کی طرح صدقة الفطر نکالنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال آیا ۔ اور جیسا کہ بتایا گیا اس کا ایک مقصد محتاج اور غرباء کی مدد کرنا ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ روزوں میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہو اس صدقہ کے زریعہ اس کی تلافی ہو جائے ۔ 
     یہ حقیقت ہے کہ روزہ دار روزہ کی حالت میں اگر چہ مجسم نیکی اور تقویٰ و طہارت کی کیفیت میں ہوتا ہے، اس کے مادی جسم میں ملکوتی یعنی فرشتوں جیسی روح پیدا ہو جاتی ہے، وہ جھوٹ ،بدگوئی، لا یعنی،چغلی ،بدکلامی ایذا رسانی اور حق تلفی اور ہر طرح کی برائیوں سے بہت حدتک دور رہتا ہے ، یا کم از کم دور رہنے کی کوشش اور جد و جہد کرتا ہے ۔ لیکن پھر بھی وہ انسان ہے فرشتہ نہیں، اور انسان خطا و چوک اور لغزش کا مرکب و مجموعہ ہے، اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے غلطیاں اور لغزشیں ہوہی جاتی ہیں ۔ زبان سے بے ہودہ اور لا یعنی باتیں نکل ہی جاتی ہیں، اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص و عیب اور کمی و کوتاہی سے پاک رہنا ممکن نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعہ سے روزہ داروں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک و صاف کرنے کے لئے صدقۂ فطر کو ادا کرنے کا حکم دیا ۔ 
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بے ہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اور مساکین کے خورد و نوش کا بھی انتظام ہو جائے ۔     
    ویسے فطر کے معنی روزہ افطار کرنے اور کھولنے کے ہیں، رمضان المبارک کے روزوں سے فراغت کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے مسلمان بندوں پر ایک صدقہ لازم کیا ہے ، جسے ’’صدقۂ فطر‘‘ کہا جاتا ہے ،بعض علماء اور اہل علم نے صدقۂ فطر کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’فطر‘‘ کے معنی خلقت اور ذات کے ہیں، گویا یہ آدمی کی ذات اور نفس کا صدقہ ہے ۔ ’’صدقۂ فطر‘‘ کی تعبیر اسلامی ہے ،اس لئے علامہ نووی رح نے لکھا ہے :
ھی لفظة مولدة لا عربیة ولا معربة بل ھی اصطلاحیة للفقھاء ( العمدة للعینی ؛ ۹/۱۰۷) یعنی یہ عربی زبان میں ایک نیا لفط ہے ،نہ عربی ہے اور نہ معرب بلکہ فقہاء اسلام کا اصطلاحی لفظ ہے ۔ علامہ عینی رح نے لکھا ہے کہ ۔۔ اسلامی لفظ ۔۔ کہنا زیادہ بہتر ہے ۔
  ’’صدقۂ فطر‘‘ کے دوسرے نام بھی ہیں، لیکن وہ سب زیادہ مشہور و معروف نہیں ہیں ۔ جیسے زکوة الفطر ،زکوة رمضان،زکوة الصوم، زکوة الابدان،صدقة الصوم اور صدقة الروؤس وغیرہ (فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی ایک تحریر سے مستفاد) 
    اگر غور کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اسلام کا جامع اور مانع تعارف صرف ایک جملہ میں کرایا جائے، جس سے اسلامی تعلیمات و ہدایات کا خلاصہ اور نچوڑ سامنے آجائے تو میرے حساب سے وہ تعبیر اور جملہ یہ ہوسکتا ہے کہ: ’’مذہب اسلام کا خلاصہ خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت ہے‘‘۔ 
    سچائی یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات و ہدایات میں سب سے زیادہ زور ان ہی دو چیزوں پر ہے ،اگر تمام عبادتوں کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اس کی گہرائی و گیرائی میں جائیں گے، نیز اس کے اسرار و رموز کا باریک بینی سے مطالعہ کریں گے، تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی کا حاصل اور مقصد تخلیق انسانیت کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ بندہ خدائے وحدہ لا شریک کے سامنے جبین نیاز خم کردے، اس کے حکموں کے آگے سر جھکا دے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ’’ہم نے انسانوں اور جناتوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘۔ 
        لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالٰی نے مخلوق کی خدمت اور انسانیت کے کام آنے کو بہت اونچا مقام بتایا اور حکم دیا کہ جہاں جہاں( زیادہ تر مقامات پر) عبادت میں نقص اور کمی واقع ہو جائے، وہاں کفارہ، فدیہ اور ہرجانے کے طور پر غلام آزاد کرے یا ساٹھ یا کہیں دس مسکین کو کھانا کھلائے وغیرہ ۔
یہی وجہ ہے کہ قسم ،ظہار ،ایلاء اور روزہ کے کفارہ میں مخلوق کی خدمت و نصرت ان کے گردن کو آزاد کرانے کو عبادت و معاشرت میں کمی کی صورت میں کفارہ قرار دیا گیا ہے ،اسی طرح حج کے بعض اعمال میں کوتاہی اور زیادتی کی صورت میں دیت اور دَم کو لازم کیا گیا ہے، جس کا مقصد بھی مخلوق کی خدمت ہی ہے ۔ 
    صدقۂ فطر کی تہہ میں اور اس کے وجوب و فرضیت کی حکمت میں بھی خلق خدا کی خدمت ہی پیش نظر ہے ۔  
ان تفصیلات کے بعد اب ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ’’صدقۂ فطر‘‘ کے بعض ضروری احکام و مسائل کو بیان کر رہے ہیں؛ تاکہ استحضار رہے اور وقت ضرورت مسائل بیان کرنے میں کام آئے ۔ 
     پہلا سوال یہ ہے کہ صدقۂ فطر کن لوگوں پر واجب ہے ؟ اس سلسلہ میں حکم شریعت یہ ہے کہ بنیادی ضروریات کے علاوہ جو بھی مسلمان نصاب کے بقدر مالک ہوگا، اس پر صدقۂ فطر واجب ہوگا، خواہ وہ مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت، نابالغ ہو یا بالغ ۔ 
فقہاء کرام صدقۂ فطر کے وجوب کے سلسلہ میں اس حدیث شریف کو اپنا مستدل بناتے ہیں، جس میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک منادی مکہ کی گلیوں میں یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ: آگاہ ہو جاو ! ہر مسلمان پر صدقۂ فطر واجب ہے، خواہ مرد ہو یا عورت ،آزاد ہو یا غلام چھوٹا ہو یا بڑا ۔ ( ترمذی ،باب ما جاء فی صدقة الفطر )
 صدقۂ فطر مالداروں پر واجب ہے اور غرباء اس کا مصرف ہیں ۔ علماء کرام لکھتے ہیں کہ: 
مال دار سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکان، کپڑے، گھر کا ضروری سامان ،استعمال کی سواری وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ کے علاوہ کوئی چیز نصاب زکوة کی قیمت کی موجود ہو، زکوة اور صدقة الفطر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوۃ کچھ مخصوص مالوں ہی میں واجب ہوتی ہے ،یعنی: سونا چاندی ،مال تجارت، بعض جانور اور زرعی پیداوار، اگر کسی کے پاس ڈھیر ساری زمینین ہوں ،کئ مکانات ہوں؛ مگر بیچنے کے لئے نہیں رکھے گئے ہوں تو ان میں زکوة واجب نہیں ہوگی ،لیکن صدقة الفطر کے لئے مخصوص اموال کا ہونا ضروری نہیں، کوئی بھی مال نصاب زکوة کی قیمت کا موجود ہو تو صدقة الفطر واجب ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کہ جس شخص کے پاس دولت نہ ہو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں؛ لا صدقة الا عن ظھر غنی،شریعت نے دولت مندی کا معیار نصاب زکوة کے بقدر مال کو قرار دیا ہے۔                                
      یکم شوال المکرم یعنی عید الفطر کی صبح صادق کے وقت جو مسلمان زندہ ہو اور ضرورت سے زائد ایسے نصاب کا مالک ہو، جس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے، یا اس کے گھر میں روز مرہ کے استعمال کی چیزوں سے زائد ایسا سامان ہو، جو ساڑھے باون تو چاندی برابر (612.360 گرام ) یا ساڑھے سات تو سونا برابر ( 87.479 گرام) کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس پر صدقۂ فطر واجب ہے، خواہ اس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں ۔ غیر روزہ دار پر بھی صدقۂ فطر واجب ہے، کیونکہ وجوب صدقۂ فطر کے لئے محض مسلمان ہونا شرط ہے، نہ کہ روزہ رکھنا بھی،اس لئے کہ روزہ مستقل فریضہ ہے اور صدقۂ فطر مستقل واجب ہے ۔ پس روزہ نہ رکھنے کا گناہ ہوگا اور صدقۂ فطر نکالنے سے اس کے ذمہ سے ایک وجوب ساقط ہو گا اور اس کا ثواب اس کو ملے گا ۔ البتہ روزہ کی قبولیت اور اس کی کمی کی تلافی کا مقصد حاصل نہ ہونا ظاہر ہے؛ لیکن اس کے علاوہ صدقۂ فطر کے ثواب اور فوائد ان شاءاللہ حاصل ہوں گے ۔ 
     صدقة الفطر اپنی طرف سے اور نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے، بالغ لڑکے ،لڑکیاں، بیوی ،اس کے زیر پرورش چھوٹے بھائی بہن اور والدین کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے، لیکن ہندوستانی سماج اور معاشرہ میں بیوی اور شوہر کا مال ملا جلا ہوتا ہے اور بالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا ذمہ دار اور مکھیہ خود ہی انجام دیتا ہے ،یہی حال ان چھوٹے بھائی، بہن اور والدین کا ہے، جن کی کفالت گھر کا کوئی مرد انجام دیتا ہو، اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقة الفطر ادا کیا جائے ۔ جس غلام کو اپنی خدمت کے لئے رکھا جائے نہ کہ بیچنے کے ارادہ سے ہو، اس کا صدقۂ فطر نکالنا بھی مالک پر ضروری ہے ۔ آج کے زمانہ میں گھر میں خادم اور خادمہ رکھنے کا رواج عام ہے، یہ اگر چہ غلام نہیں ہوتے ۔ خادم ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی انسان کو وہی سہولت اور آرام پہنچاتے ہیں جو اس زمانہ میں غلام پہنچایا کرتے تھے، اس لئے بہتر ہے کہ ان کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کردیاجائے، اگر واجب نہ بھی ہو تو باعث اجر و ثواب ضرور ہوگا ۔ 
 صدقۂ فطر کے مصارف بھی تقریبا وہی ہیں، جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں، جن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ،ان کو صدقة الفطر بھی نہیں دیا جاسکتا۔ ( بدائع الصنائع :۲/۴۹ / ) 
         غیر مسلم محتاج اور فقیر کو صدقۂ فطر دینا کیا جائز ہے؟ صحیح قول کے مطابق غیر مسلم (ہندو،عیسائ،یہودی وغیرہ) کو صدقۂ فطر دینا جائز نہیں ہے، بلکہ صدقۂ فطر ادا ہی نہیں ہوگا،احناف میں امام ابو یوسف رح کا قول عدم جواز کا نقل کیا گیا ہے اور حاوی قدسی کے حوالے سے اسی پر فتویٰ نقل کیا گیا ہے، اور امام طحاوی رح نے امام ابو یوسف رح کے قول کو اختیار کیا ہے ۔ علامہ عینی رح نے بھی امام ابو یوسف رح کے قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔ غرض اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ صدقئہ فطر غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے ۔ لیکن کیا حالات کے پیش نظر اور تالیف قلب یعنی غیر مسلم بھائیوں کی دلجوئی کے لئے دینا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس سلسلے میں علماء کرام اور فقہاء عظام کی رائیں الگ الگ ہیں، جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ تالیف قلب کا مصرف ساقط نہیں ہوا ہے بلکہ اب بھی باقی ہے اس لئے اس طور پر یہ رقم غیر مسلم کو بھی وقت ضرورت دے سکتے ہیں ۔ پس اگر موجودہ دور میں تالیف قلب کی واقعی ضرورت پڑے (بلکہ واقعی ضرورت ہے ) تو علماء اور اہل افتاء کے مشورے اور رائے سے غیر مسلم کو بھی مصلحتا صدقۂ فطر دینا درست ہوگا ۔ لیکن جمہور علماء صدقات واجبہ سے غیر مسلم کی اعانت کو درست قرار نہیں دیتے ہیں؛ البتہ صدقات نافلہ میں اس کی گنجائش نکالتے ہیں؛ اس لئے اس تعلق سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ 
     صدقة الفطر ادا کرنے کا بہترین اور مسنون وقت عید کے دن عید کو جانے سے پہلے ہے،لیکن اگر پہلے بھی یعنی رمضان میں بھی ادا کردے تو ادائیگی ہو جائے گی بلکہ بعض علماء نے حسن انتظام کے لئے اس کو افضل کہا ہے ۔
       بسا اوقات باہر رہنے والے لوگوں کی طرف سے ان کے عزیز و اقارب اور رشتہ دار صدقۂ فطر ادا کرتے ہیں، اس میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ باضابطہ صریح اجازت لی جائے ۔ اگر گیہوں ادا کر رہا ہے تو عمدہ گیہوں ۱ کلو چھہ سو بتیس گرام ادا کرے اور اگر قیمت ادا کر رہا ہے تو جہاں آدمی رہ رہا ہے وہاں کی قیمت کے لحاظ سے مقدار گیہوں کی قیمت ادا کرے اور اگر ہندوستان میں قیمت زیادہ ہو تو یہاں کی قیمت ادا کرے اس میں فقراء کا فائدہ زیادہ ہے۔ 
    جو آدمی زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے ،اسے فطرہ دینا بھی جائز ہے ۔ صدقۂ فطر کے مستحق پاس پڑوس، گاؤں اور شہر میں رہنے والے فقراء اور مساکین ہیں، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں ،بعض لوگ غریبوں کو دینے کے بجائے مدرسہ میں دیتے ہیں، جہاں عید کے بعد؛ بلکہ اس سے پہلے (غریب) کو رخصت (چھٹی) رہتی ہے، عید کے بعد جب وہ مدرسہ آتے ہیں تو ان کو پہنچتا ہے، یہاں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اگر چہ ذمہ دار کو دے دینے سے ادائیگی ہو جاتی ہے، لیکن یہ طریقہ اختیار کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ۔ بعض لوگ خیرات فنڈ کو صدقۂ فطر دے دیتے ہیں، جو غرباء پر خرچ کرنے کے علاوہ خیراتی کاموں میں بھی اس رقم کو خرچ کرتے ہیں ۔ اسی طرح بعض مدارس میں مدات کی رعایت نہیں ہوتی اور یہ رقم عمارت میں خرچ ہو جاتی ہے ،ان تمام صورتوں میں صدقۂ فطر کی ادائیگی مشکوک ہوکر رہ جاتی ہے ،اس لئے احتیاط اور مقصد کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔
 ایک فقیر کو ایک صدقۂ فطر دینا مستحب اور بہتر ہے، البتہ کم دینا بھی جائز ہے اور زیادہ دینے کی بھی گنجائش ہے ۔ ( فتاوی رحیمیہ ۸/۲۴۷)
             صدقئہ فطر کی مقدار کی تفصیلات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسی متعینہ مقدار کو صدقئہ فطر کے طور پر نکالتے تھے ۔ 
صدقئہ فطر کی مقدار کی تفصیلات یہ ہیں ۔ اگر گیہوں دیا جائے تو نصف صاع اور اس کے علاوہ دوسری چیز مثلا جو، کھجور اور کشمش میں ایک صاع دینا واجب ہے ،آج کے رائج اوزان کے لحاظ سے ایک صاع کا وزن تین کلو ایک سو انچاس گرام،دوسو ملی گرام ( 3.149گرام، 280 ملی گرام) ہے ۔ جب کہ نصف صاع کا وزن ایک کلو پانچ سو چوہتر گرام،چھ سو چالیس ملی گرام( 1.574 گرام، 640 ملی گرام) ہے ۔ صدقۂ فطر میں گاوں، قصبہ یا جو قریبی بازار ہو،وہاں کی قیمت سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہئے، شہر والے شہر کی منڈی کے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کریں گے ۔ اگر آدمی گہیوں دے رہا ہے تو اسے نصف صاع یعنی ایک کلو چھ سو گرام احتیاطا نکالنا واجب ہے ۔ بعض علماء نے پونے دو کلو لکھے ہیں وہ بھی احتیاط پر مبنی ہے ۔ اگر قیمت دے دے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن عام بازاری قیمت ہونی چاہئے، کنٹرول کی قیمت سے ادا کرنا درست نہیں، اس لئے کہ اس قیمت سے فقیر بازار سے نصف صاع نہیں خرید سکے گا ۔ ( مستفاد فتاوی رحیمیہ: ۵/ ۱۷۱)
  آج ہم مسلمان صرف گہیوں ہی سے نصف صاع کی قیمت صدقۂ فطر میں نکالتے ہیں؛ کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے، اور اس کی قیمت کم ہوتی ہے جبکہ چاہئے یہ تھا کہ صدقۂ فطر کے طور پر جن اجناس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ کیا ہے اور آپ جس طرح کجھور اور کشمش سے صدقۂ فطر نکالتے تھے ہم کو بھی ان اجناس کی قیمت کے اعتبار سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے خاص طور پر جو زیادہ متمول اور مالدار ہیں ان کو تو ضرور اس کا خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ انفع للفقراء ہوگا ۔ گہیوں کے سلسلہ میں نصف صاع اور ایک صاع دونوں طرح کی روایات کتب حدیث میں موجود ہے، اس لئے کبھی کبھی ایک صاع گیہوں کی قیمت بھی ادا کرنا زیادہ بہتر ہوگا تاکہ اس حدیث پر بھی عمل ہوجائے اور فقراء کا بھی فائدہ زیادہ ہو جائے ۔ 
     آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم زیادہ تر کھجور اور کشمش سے صدقۂ فطر ادا کرتے تھے، کیونکہ حجاز میں گہیوں کی پیداوار نہیں ہوتی تھی، حجاز میں گیہوں شام اور یمن سے اسپورٹ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے جن غذائی اشیاء کو صدقۂ فطر کا معیار بنایا گیا تھا ان میں گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی، اس لئے دوسری چیز ایک صاع مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گہیوں نصف صاع ۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ 
اس لئے خاکسار کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں پر صدقۂ فطر واجب ہے ان میں سے جو زیادہ متمول ہیں یا بڑے تاجر ہیں ان کو کجھور اور کشمش کی قیمت سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہئے اور جو ان سے کم درجے کے ہیں ان کو بھی نصف صاع گیہوں کے بجائے ایک صاع گہیوں کی قیمت صدقۂ فطر ادا کرنا چاہئے؛ تاکہ تمام روایات پر عمل ہو جائے ۔ یہی رائے استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی بھی ہے۔
نوٹ/ ماہ رمضان المبارک میں مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی کا مالی تعاون کریں ۔ اس ادارے میری تدریسی وابستگی تیس سال سے یہ ہے ، یہ ندوہ کی اہم شاخ اور بافیض ادارہ ہے ۔

Friday, March 6, 2026

کبھی برادران وطن کو افطار میں شریک کیجئے ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

کبھی برادران وطن کو افطار میں شریک کیجئے ! 

 محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔
 مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ ۔ 9506600725

  اس وقت ملک عزیز ہندوستان میں نفرت و عداوت اور مسلم دشمنی کی کیا حالت ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، مسلمان سفر حضر کہیں بھی محفوظ و مطمئن نہیں ہیں اور ہر وقت اور ہر جگہ آج وہ اپنے کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور خطرے میں دیکھ رہے ہیں، یہ یقینا بہت تشویش کی بات ہے ،اس میں جہاں ہمارے لئے من جانب اللہ امتحان و آزمائش ہے ،وہیں ان حالات کے وقوع میں ہماری کوتاہیوں اور بداعمالیوں کا بھی دخل ہے ، بد اعمالی تو اس حدتک ہے کہ امت مسلمہ کا بڑا طبقہ صرف نام کا مسلمان رہ گیا ہے، زیادہ تر لوگ اسلامی تشخص سے کوسوں دور ہوچکے ہیں اور ہماری کوتاہیوں اور فرض منصبی سے دوری کا حال یہ ہے کہ ہم اپنی دعوتی ذمہ داریاں کبھی ادا کرنے کی سوچتے بھی نہیں ہیں اور یہ دعوتی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ برادران وطن میں، ہم سے نفرت و بیزاری کا عام ماحول پیدا ہوگیا ہے ، آج تک ہم ان کو اسلام کی تعلیمات، اس کی خوبیاں اور اچھائیاں نہیں بتا سکے ۔ حد تو یہ ہے کہ ان کو یہ بھی بتا نہیں سکے کہ اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں اور اذان میں کیا کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ان حالات کے وقوع کے ہم خود ذمہ دار اور سبب ہیں ۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور اپنے فرض منصبی کو انجام دینا ہوگا، تبھی یہ حالات بدلیں گے ۔ ماہ رمضان المبارک میں ہم غیر مسلم بھائیوں کو اسلام کا روحانی منظر کیسے دکھا سکتے ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرسکتے ہیں؟ اس سلسلہ میں کچھ مفید باتیں پیش خدمت ہے، سال گزشتہ ہم نے ڈاکٹر انس ندوی الہ آباد حال مقیم آسٹریلیا کے مشورہ توجہ اور تعاون سے اس طرح کا افطار پروگرام کیا تھا ،جو خالص سماجی انداز کا تھا اور گاؤں اور اطراف کے غیر مسلم بھائیوں کو مدعو کیا تھا ، اس پروگرام میں شرکت اور افطار اور مغرب کی نماز کے منظر دیکھ کر وہ لوگ بے حد متاثر ہوئے اور اکثر کی زبان پر تھا کہ پہلی بار ہم لوگوں نے روزہ، افطار اور نماز کے منظر کو دیکھا اور بڑی خوشی و مسرت کا اظہار کیا ۔
ہم نے آج کی اس تحریر میں تحریر میں استاد محترم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی تحریر سے بھی استفادہ کیا ہے ، اس تحریر کو غور اور توجہ سے پڑھیں ،یقینا اس پر عمل کرکے ہم ہندو مسلم نفرت کو بہت حد تک کم کرسکتے ہیں ۔ 
دوستو ! 
  اللہ تبارک و تعالٰی نے پوری انسانیت کو ایک ہی ماں باپ آدم اور حوا علیھم السلام سے وجود بخشا، گویا ساری مخلوق ایک ہی کنبہ کے افراد اور ایک ہی خاندان کے ارکان ہیں ۔ 
   نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک موقع فرمایا: کہ الخلق کلھم عیال اللہ ساری کی ساری مخلوق اللہ ہی کا کنبہ ہے ۔
  اس اعتبار اور اس زوایے سے اگر دیکھا جائے تو یہ رشتہ اور تعلق ہمیں برادران وطن اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک، خیر خواہی اور بہتر رویہ کی راہ دکھاتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں اور اسلام نے تمام مذاہبِ کے مقابلے میں اس پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور مسلمانوں نے اس کو عملا کرکے دکھایا ہے اور آج بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
 آج کے ملکی اور غیر ملکی حالات میں ہم مسلمانوں کو اس پہلو سے بھی ضرور غور کرنا چاہئے کہ ہم کس طرح برادران وطن کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں اور عید الفطر اور افطار کا اسلامی اور روحانی منظر دکھا کر ان کا دل جیتیں اور مذہب اسلام سے مالوف و مانوس کریں ۔
  شریعت کی رو سے رمضان المبارک کا مہینہ صبر،ضبط نفس، ایثار اور غم خواری کا مہینہ ہے، یہ انسانیت اور آدمیت کے دکھ درد مصیبت و پریشانی اور تکلیف و غم کو سمجھنے اور محسوس کرنے کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں جہاں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور نفلی نمازوں اور تلاوت و تسبیحات و اذکار کی زیادتی کی تلقین کی گئی ہے، وہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ راہ خدا میں خرچ خرچ کرو اور خلق خدا کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنی ذات کو نافع بلکہ انفع بناؤ۔ خلق خدا میں ساری انسانیت شامل ہے، اس میں مذہب و مسلک اور ذات و برادری کی کوئی قید نہیں ہے، اسلام نے دست سوال بڑھانے والے کی مدد میں بھی مذہب اور ذات و برادری کی کوئی قید نہیں رکھا اور حکم دیا و اما السائل فلا تنھر ،، اگر تمہارے پاس کوئی سائل آئے تو اسے مت جھڑکو ، یہاں سائل اور مانگنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے، مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید نہیں ہے۔ 
  علماء نے لکھا ہے کہ صدقات واجبہ یعنی زکوٰۃ تو صرف مسلمان فقراء اور مستحقین پر خرچ کریں، کیونکہ ہمیں اسی کا پابند شریعت نے بنایا ہے،لیکن صدقات نافلہ جہاں ہم مسلمان غرباء اور مستحقین پر خرچ کریں، وہیں برادران وطن پر بھی ہم اس مد میں سے کچھ خرچ کریں ،اور خصوصا آج کے حالات اور حساس دور میں اس کی سخت ضرورت ہے ،جہاں برادران وطن کے ذہنوں میں ہمارے تئیں بہت ہی نفرت، کدورت، غلط فہمیاں ہیں اور دوریاں ہیں ۔ 
   ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات کے لئے ایمان اور عمل صالح شرط لازم ہے، اس کے بغیر انسان خسارہ میں ہے سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر اس بات کو بیان کیا کہ زمانہ کی قسم سارے کے سارے انسان خسارے اور گھاٹے میں ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا، حق اور صبر پر جمے رہے اور اس کی تلقین اور فہمائش کرتے رہے ۔ 
    اس سے معلوم ہوا کہ ایمان سے محرومی کی وجہ سے ایسے لوگ ہمیشہ دوزخ کا ایندھن بنے رہیں گے اور یہ دوزخ کس قدر ہولناک تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوگا کہ دنیا میں اس کی ہولناکی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ تعالٰی انسان کے سارے جرم اور گناہ کو معاف کر دیں گے لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر دون ذلک مایشاء ۔
    تو ان ایمان سے محروم اور شرک میں مبتلا لوگوں کی نجات اور کامیابی کی فکر کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت (مسلمہ) کو خاص طور پر اس کی ہدایت کی ہے، اور اس کا مکلف بنایا ہے ۔ 
     تو ہماری یہ دعوتی ذمہ داری تو پورے سال اور پوری زندگی پر محیط ہے، لیکن رمضان المبارک کے مہینہ میں ہماری یہ ذمہ داری دو گنی اور دو چند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ مہینہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں انسانیت کی ہدایت کے لئے اللہ تعالی نے آخری آسمانی الہامی کتاب یونی قرآن مجید نازل کیا۔ 
   لہذا اس کتاب ہدایت کو اور اس کے آفاقی پیغام کو برادران وطن تک اس ماہ مبارک میں پہچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
رمضان المبارک کا یہ مہینہ ہمارے لئے اس کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔
الحمد للہ ایک حلقہ اس عمل اور اس محنت کے لئے کوشاں اور سرگرداں ہے اور اس کے مفید نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ 
دوسرا کام جو ہم مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں آج کے ملکی حالات کی روشنی میں خاص طور پر انجام دینا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم افطار کے موقع پر برادران وطن کو بھی مدعو کریں اور وہ ہمارے کھانے میں بطور خاص افطار میں شریک ہوں اور خدا کی بندگی کے اس غیر معمولی نظارہ کو وہ اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھیں لیکن یہ افطار پارٹی کی طرح رسمی پارٹی نہ ہو ، جہاں شور و ہنگامہ اور افرا تفری اور تصویر کشی کا ماحول ہوتا ہے اور روحانیت اور عبادت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ افطار کے نظم کو شور و ہنگامہ اور محض کھانے پینے کے انتطام اور تصویر کشی اور دیگر خرافات سے بچاتے ہوئے وہ ماحول پیدا کیا جائے جو افطار کے لئے مطلوب ہے اور غذائی دعوت سے زیادہ جس میں روحانی دعوت کا عنصر اور حصہ شامل اور نمایاں ہو ۔ افطار سے پہلے روزہ کی حکمت و مصلحت اور اس کے روحانی و جسمانی فائدے پر گفتگو کی جائے اور روزہ کے فلسفہ کو عقل و نقل کی روشنی میں سمجھایا اور بتایا جائے اور اس وقت غیر مسلم بھائیوں کے سامنے انسان اور انسانیت کے مقام کو اجاگر کیا جائے اور حسب حال مختصر سے بیان میں توحید و رسالت اور آخرت کے کے تصور پر بھی روشنی ڈالی جائے ۔ نیز قرآن مجید کا تعارف کرایا جائے اور قرآن مجید کا ہندی اور انگریزی نسخہ ان لوگوں کی خدمت میں پیش کیا جائے ۔ 
اجتماعی نماز کا منظر وہ دیکھ سکیں اس کے لئے افطار کے بعد ان کے بیٹھنے کا مناسب انتظام بھی کیا جائے ۔ اس دعوت کو صرف کھانے کا دسترخوان نہ بنایا جائے، بلکہ ہدایت ربانی کا دستر خوان بھی بنانے کی کوشش کی جائے ۔ 
جب افطار کے وقت موجود ہمارے یہ برادران وطن ہماری نماز کو دیکھیں گے تو ضرور اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ خود نماز کا منظر بھی بہت ہی پر کیف اور متاثر کن ہے ۔ 
آئیے رمضان المبارک میں ہم اس پہلو اور اس جہت سے بھی اپنی ذمہ داری کو ادا کریں یقینا آج کے ماحول میں اس طرح کی دعوتی حکمت عملی کی سخت ضرورت ہے ۔ 
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق بخشے اور صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل ہم سب اس کام کو انجام دینے لگیں،اس کی ہمت اور حوصلہ بخشے ۔ آمین


Monday, March 2, 2026

مفتی عبدالسلام قاسمی کا ریٹائرمنٹ محمد صدر عالم ندوی ویشالی

مفتی عبدالسلام قاسمی کا ریٹائرمنٹ

محمد صدر عالم ندوی ویشالی 
9661819412

مفتی عبد السلام قاسمی مدرسہ اسلامیہ اماموری ،پاتے پور، ویشالی کے مدرس تھے ،بعد میں صدر مدرس اور اسی عہدہ سے 28 فروری 2026 دس رمضان المبارک 1447ھج بروز سنیچر مدرسہ بندی میں اپنی باسٹھ سالہ مدت ملازمت بحسن و خوبی پوری کرنے کے بعد ریٹائر کر گئے ،مفتی صاحب میرے والد محترم مولانا عبد القیوم شمسی کے ریٹائرمنٹ نومبر 2022 کے بعد مدرسہ کے صدر مدرس منتخب ہوئے تھے گویا کہ تین سال صدر مدرس رہے 2025 سے ہی اپنی بیماری کی وجہ سے چارج مولانا انور رحمانی کو دے کر میڈیکل پر چلے گیے تھے اس لحاظ سے اب مولانا محمد انور رحمانی صدر مدرس ہوئے مدرسہ اسلامیہ اماموری میں پرائیویٹ سطح سے بہت سارے اساتذہ آءے اور چلے گئے سبھوں نے اپنی اپنی جگہ مدرسہ کی خوب محنت کی اور بام عروج تک پہونچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن چھ لوگوں کی جوڑی بے مثال تھی جس میں سے پانچ لوگ ریٹائر کرکے تین لوگ حافظ محمد توحید عالم ،ماسٹر محمد شمیم انجم اور ماسٹر محمد مظفرعالم اللہ کو پیارے ہو گئے اب والد محترم مولانا عبد القیوم شمسی اور مفتی عبدالسلام با حیات ہیں مولانا محمد انور رحمانی ضابطہ کے مطابق اپریل دو ہزار چھبیس تک ہیں اس کے بعد چھ پہیے کی گاڑی مدرسہ سے ختم ہو جاءے گی ۔ان لوگوں نے مدرسہ کو اپنا سمجھا اور اسی سوچ کے ساتھ مدرسہ کا کام کیا کبھی ذہن و دماغ میں بھی نہیں آیا کہ یہ سرکاری مدرسہ ہے اور ہم سرکاری اساتذہ ہیں ان لوگوں کی بحالی بھی صاف ستھرے ماحول میں ہوئی تھی اور اس وقت کے ذمہ دار بھی مخلص اور مدرسہ کے حق میں بہی خواہ تھے آج جو مولانا محمد امام الدین ندوی ،مولانا محمد جنید عالم ندوی، مولانا محمد قمر عالم ندوی، حافظ رضی احمد ،محمد ابصار عالم ندوی، حافظ ندیم انجم ندوی اور راقم الحروف وغیرہ اسی دور کی پیدوار ہیں مولانا محمد نظیر عالم ندوی نے ماحول بنایا تھا اور ان کے مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں چلے جانے کے بعد مفتی عبدالسلام قاسمی نے اس ماحول کو اور چار 🌙 لگا دیا یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے مفتی صاحب مدرسہ میں قابلیت اور صلاحیت کی بنا پر بحال ہوئے تھے اسی وجہ کر ان پر کسی کی انگلی نہیں اٹھتی تھی ۔ مجھ سے بے تکلف تھے اور بہت کھل کر بات کرتے تھے شکوہ شکایت سے دور رہتے تھے خالی اوقات کو تلاوت یا مطالعہ میں صرف کرتے تھے کتاب کے شوقین تھے ایک چھوٹی سی لائیبریری بھی ان کی اپنی تھی میری کتاب جب بھی چھپ کر آتی بہت خوش ہوتے اور یہ بھی کہتے کہ اپنی کتاب مجھے بھی دیجیے اور جو قیمت ہو لے لیں گے یہ ان کا بڑکپن تھا اور چھوٹوں کو آگے بڑھانے کا جذبہ ۔اب ایسے لوگ کہاں؟ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ لفظ مفتی ایسا ان کے ساتھ سابقہ کے طور پر لگا کہ لوگ اصل نام بھول گیے اور سابقہ ہی سے مدرسہ اور اس کے آس پاس مشہور ہوئے ۔مفتی صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے مدرسہ حسینیہ دلدار نگر یوپی میں بھی پڑھایا تھا مفتی صاحب کے آنے کے بعد عوام کا رشتہ مدرسہ سے بڑھا اور شرعی امور میں دریافت کرنے کے لیے قرب و جوار سے لوگ آنے لگے ان کے جانے کے بعد اس جگہ کا پر ہونا بظاہر مشکل نظر آرہا ہے ویسے اللہ کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے مفتی صاحب مدرسہ میں تیس سال سے زیادہ رہے اور جب تک رہے اپنی عالمانہ شان میں میں رہے مفتی صاحب ضیافت کے بھی دھنی تھے جب بھی میں حاضر ہوتا اگر صبح کا وقت ہوتا تولٹی اور چاءے پیش کرتے اس کے علاوہ کوئی وقت ہوتا تو چاءے ضرور پیش کرتے میں بخوشی اس کو قبول کرلیتا اور جیب خاص سے رقم ادا کرتے ۔ اس لحاظ سے میں مفتی صاحب کا بہت قرض دار ہوں اور نہ جانے یہ قرض کیسے ادا ہوگا ۔مفتی صاحب کی جاءے پیدائش تو اجرا مدھوبنی رہی لیکن جائے عمل مدرسہ اسلامیہ اماموری ویشالی رہا اپنے دونوں بچوں کو اسی مدرسہ میں پڑھایا کچھ سال اپنی فیملی کے بھی ساتھ رہے چند سال اماموری کے بغل کے گاؤں کواہی اور چک نصیر میں بھی امامت کے فرائض انجام دیے بعد کے دنوں میں گھٹنے کے درد سے پریشان رہتے تھے جس کی وجہ چلنا پھرنا کم کر دیے تھے اور معتکف فی المدرسہ ہو گئے تھے مفتی صاحب کے اندر نمایاں وصف میں نے دیکھی وہ تھی قناعت اور صبر ۔جو ملتا اس پر مضبوطی سے قانع رہتے اور دوسری چیز کتابوں کا شوق ۔خوب مطالعہ کرتے تھے جس کی وجہ کر مدرسہ میں پڑھنے پڑھانے کا ماحول تھا اب مفتی صاحب کس حال میں ہیں پتا نہیں لیکن اللہ سے امید ہے کہ جہاں بھی رہیں گے خیر خوبی کے ساتھ رہیں گے اور اپنا اثر ڈالتے رہیں گے

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...