Translate

Sunday, September 11, 2022

اسلام میں یتیم بے سہارا نہیں ہے

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
میرےجواں سال پڑوسی جناب حافظ رہبر صاحب مظاہری اس دنیا میں نہیں رہے،موصوف نہایت شریف اور سادہ انسان تھے،بنگلہ مسجد گیاری میں امامت اوربچوں کو قرآن پڑھانا مشغولیت رہی،زندگی بڑی عسرت بھری ملی، میرے بچوں کے بھی مرحوم استاد رہے،عمر بہت ہی مختصر ملی،تقریبا سال بھر بیماررہےاورجوانی میں ہی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے، انتقال کے دوسرے دن ہی مرحوم کےگھر دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی ہے,یہ واقعی اس بچہ کے لئے بھی تکلیف دہ گھڑی ہے کہ وہ یتیم پیدا ہوا ہے،لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ حافظ جی کے دونوں بچے بے سہارا ہوگئے ہیں۔
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہی آپ کے والد وفات پاچکے تھے، قرآن کریم کی سورت "الضحى" میں آپ صلی علیہ وسلم کی یتیمی کو موضوع سخن بنایا گیا ہے، اور رب کریم نےبطور احسان یہ بتلایا ہے کہ ہم نے آپ کو اس یتیمی سےنکالا ہے،سیرت کی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ کا انتقال ہوجاتا ہےتودادا کی کفالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل جاتی ہے،پھر آٹھ سال کی عمر میں دادا کی وفات ہوتی ہے تو شفیق چچا خواجہ ابوطالب کی بے پناہ شفقت نصیب ہوجاتی ہے، یہ سلسلہ وار سرپرستی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی ہے قرآن کی زبان میں خاص فضل الہی اور انعام خداوندی ہے ،بظاہر ایک انسان بے یار ومددگار نظر آتا ہے، مگر خدا کا فضل جب اس کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ دنیا وآخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوجاتا ہے،چنانچہ سورة الضحى میں کہا گیا ہے، اے محمد! لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ تیرے رب نے تجھے چھوڑ دیا ہے اور تو بے سہارا ہوگیا ہے، یہ بات درست نہیں ہے، یتیمی کی حالت میں بھی تیرے رب نے سہارا دیا ہے اور مضبوط ٹھکانہ نصیب کیا ہے، آپ یتیمی کے درد کو خوب محسوس کرتے ہیں ،یہ خاص مشن آپ کا ہوناچاہئے،یتیم کےساتھ دلداری اور دلجوئی کا معاملہ کیجئے،سختی نہ کیجئے، جیسا ہم نے آپ کے ساتھ کیا ہے وہی آپ یتیموں کے ساتھ کیجئے۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کی کفالت فرمائی ہے، اور یہ ارشاد فرمایا ہے: یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ ہوگا، (بخاری )
آپ صلی علیہ وسلم نےیتیم کےسرپرپراپناپیارا ہاتھ رکھا ہے،یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو، اس عمل سے تمہارے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے،( رواہ احمد)
حدیث شریف میں بہترین گھروہ ہےجسمیں یتیم کے ساتھ حسن سلوک ہوتا ہے،جہاں یتیم کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہےاسے بدترین گھر قرار دیا ہے(ابن ماجہ )
قرآن وحدیث کا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ مذہب اسلام میں ایک یتیم بے سہارا نہیں ہے،آج ہر آدمی یتیم کے تعلق سے یہی کہتا ہے کہ وہ بے سہارا ہے،بے سہارا کو سہارا چاہئے ،اس کی فکر دامنگیر نہیں ہوتی ہے۔گزشتہ دو تین سالوں سے جوانوں کی بکثرت اموات دیکھنے میں آئی ہیں، شکم مادر میں بچہ چھوڑ کر جوان فوت ہورہا ہے، مال واسباب اکٹھا کرنے کا اسے موقع نہیں مل سکا ہے ،ہر گاؤں اور ہرعلاقے میں یتیم ہیں جو نادار ہیں، انہیں مسلم سماج کی نصرت واعانت کی سخت ضرورت ہے مگر دانشوروں کی نظرکبھی ادھر نہیں جاتی ہے۔ڈھیر ساری مسلم تنظیمیں ہیں اور تحریکیں ہیں ،مگر انکے پاس یتیموں کو سہارا دینے کے لئے خاکہ ہے اور نہ کوئی پروگرام ہے، آج اس عنوان پر بیداری پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
رابطہ، 9973722710اسلام میں یتیم بے سہارا نہیں ہے 
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 

Saturday, September 10, 2022

کامیاب استاذ بننے کےلیے بیس رہنما اصول

  مولانا یوسف خان

بہترین استاذ وہ ہے جو بیک وقت نفسیات، اخلاقیات اور روحانیت میں مہارت رکھتا ہو۔ ان میں سے ہر مہارت کی خصوصیات دوسری مہارت سےگہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم ان تینوں مہارتوں کے لیے کچھ مشترکہ اصول ذکر کریں گے۔

1۔ اخلاص
اچھا استاذ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ جس قدر بےلوث ہوگا، اس کی دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اتنی ہی کم ہوتی چلی جائیں گی۔ اخلاص وہ جوہر ہے جس سے عمل میں لذت پیدا ہوجاتی ہے۔

2۔ تقوی
علم اور تقوی کا باہم گہرا تعلق ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک میں خشیت الہی کا مدار ”علم“ کو قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بات ہم پر مخفی نہیں کہ استاذ کے دل میں جتنی خدا خوفی ہوتی ہے، اس کی زبان میں اسی قدر تاثیر ہوتی ہے۔

3۔ بہترین عملی کردار
شاگرد اپنے استاذ کو بہت باریک بینی سے دیکھتا ہے، یوں استاذ کی چال ڈھال، عادات واطوار اور اخلاق و کردار لاشعوری طور پر بھی اس میں اترنے لگتے ہیں۔ شاگرد کی دقتِ نظری کیسی ہوتی ہے اس ضمن میں، میں ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔ ہوا یوں کہ ایک دن میری گھڑی خراب تھی تو میں گھر والوں کی گھڑی پہن کر کلاس میں چلا گیا، دورانِ درس میری پوری کوشش رہی کہ گھڑی کپڑوں میں چھپی رہے، دن گزر گیا، بات آئی گئی ہوگئی، کچھ مدت کے بعد ایک طالب علم سے گفتگو ہو رہی تھی، وہ درسگاہ میں میری کسی بات کا حوالہ دے رہا تھا مگر مجھے یاد نہیں آرہا تھا، میں نے مزید استفسار کیا تو اس نے کہا: ”استاد جی جس دن آپ لیڈیز گھڑی پہن کر آئے تھے۔“ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ طلبہ کتنی گہرائی سے استاد کو پڑھتے ہیں، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے یاد رکھتے ہیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔

4۔ تلاوت کا معمول
تلاوت کا معمول روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تلاوت کم از کم اتنی اونچی آواز سے کرنی چاہیے کہ اسے خود سن سکے، ان شاء اللہ اس عمل کی تاثیر وہ خود محسوس کرے گا۔

5۔ذکر اللہ
بہتر ہوگا کہ تلاوت کے علاوہ ذکر الہی کے لیے کچھ وقت الگ سے نکالے۔ قلب کے احیا (دل کو زندہ رکھنے) کے لیے یہ عمل نہایت موثر ہے۔

6۔ شکر
اچھا مدرس وہ ہوتا ہے جس کی طبیعت میں شکر کا وصف موجود ہو، شکر سے مراد اس کی تینوں قسمیں ہیں، یعنی قلبی، لسانی اور عملی۔ قلبی شکر کا مطلب ہے کہ دل میں منعم (محسن) کا احترام اور اس سے محبت ہو۔ جس ادارے سے اس کا روزگار وابستہ ہے وہاں کے منتظمین کا قلبی شکر بےحد ضروری ہے۔ جو مدرس اپنے طلبہ کے سامنے اپنے منعم کی برائیاں بیان کرتا ہے اور اس پر تنقید کرتا ہے، وہ ناکام ترین مدرس ہے۔ شکرِ لسانی دو طریقوں سے ہوتا ہے، ایک وہ جس کی سورہ ضحی میں تعلیم دی گئی ہے۔واما بنعمۃ ربک فحدث

یعنی اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کیجیے، جسے تحدیث بالنعمت کہا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے محسن کا شکر زبان سے بھی ادا کرے جسے اللہ تعالی نے فرمایا۔ان اشکر لی ولوالدیک 

میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ

جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ عملی شکر سے مراد ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو ڈھنگ سے استعمال کرے، جو استاذ نعمتوں کا درست استعمال نہیں کرتا وہ ناشکرا اور ناکام مدرس ہے۔

7۔ حیا
استاذ کے لیے حیا ایک ناگزیر وصف ہے۔ حیا کا مطلب ہے۔انقباض النفس عن القبیح 

یعنی اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دی گئی باتوں /چیزوں سےاس کا جی تنگ پڑے، ایسی باتوں کی طرف جانا اس کے لیے گرانی کا باعث ہو۔ استاد میں حیا ہوگی تو آگے بھی یہ وصف ضرور متعدی ہوگا، مگر افسوس ہے کہ موبائل نے ہم اساتذہ کی حیا اگر ختم نہیں کی تو کم ضرور کردی ہے۔

8۔ ذمہ داری کا احساس
یہ بات مشاہدے اور تجرے سے ثابت ہے کہ طلبہ کا غیر ذمہ دارانہ رویے کا ایک بڑا باعث استاد کا غیر ذمہ دارانہ مزاج ہے۔ کامیاب مدرس بننے کے لیے اپنے اندر ذمہ داری کا احساس جگانے کی ضرورت ہے۔

9۔اچھی صحبت
اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس کا مزاج اچھا ہو، اس کی بیٹھک اچھے لوگوں کے ساتھ ہو، اس کی پہچان اچھی سوسائٹی ہو۔ حدیث کے مطابق اسے عطار کے مانند ہونا چاہیے جس کے پاس سے گزرنے والا کم ازکم معطر ضرور ہو سکے، نہ کہ لوہار کی طرح جس کی صحبت اختیار کرنے والے کو بھٹی کی تپش بھی گوارا کرنا پڑتی ہے۔ برے لوگوں سے خیرخواہی اور اصلاح کا تعلق تو رکھے مگر دوستی کا نہیں۔

10۔ تحمل اور برداشت
تعلیم اور تزکیہ کے میدان میں صبر وتحمل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ انبیا کو اللہ نے بار بار اس کی تلقین فرمائی ہے۔ استاذ میں جس قدر یہ خوبی ہوگی وہ اتنا ہی کامیاب مدرس ثابت ہوگا۔

11۔ زہد اور بےرغبتی
ایک اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس میں کمال درجے کا زہ

د ہو، شاگرد کے مال پر اگر استاذ کی رال ٹپک رہی ہو تو شاگرد کی نظر میں ایسا استاذ ٹکے کا نہیں رہتا۔ حدیث میں جو ارشاد ہے۔ازھد في الدنيا يحبك اللہ و ازھد فيما عند الناس يحبك الناس 

دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو اللہ تم سے محبت کرے گااور لوگوں کےمال ومتاع سے نظریں پھیر لو لوگ تمہارے دیوانے بن جائیں گے، اس میں الناس کی جگہ طلبہ کو رکھ کر عملی مشاہدہ کیجیے، پھر ادراک ہوگا کہ کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

12۔ عفو و درگزر اور وسعتِ قلبی
ہر معمولی بات پر پکڑ کرنے والا کبھی کامیاب مدرس نہیں بن سکتا، استاذ کو اپنے اندر وسعتِ قلبی پیدا کرنی چاہیے۔ اللہ کی بھی یہی سنت ہے۔او یوبقھن بما کسبوا ویعف عن کثیر

13۔ خدمت خلق کا جذبہ
افسوس ہے کہ اس اہم ترین عبادت کو ہم نے شعبوں میں تقسیم کردیا ہے، روزمرہ زندگی میں بطور عبادت اس اصول کا اطلاق ہمارے ہاں نادر ہے۔ تبلیغ میں جانے والے احباب سفرِ دعوت میں ہر طرح کی خدمت اکرامِ مسلم سمجھ کر کرتے ہیں مگر گھر پہنچتے ہی یہ خدمت انہیں ذلت محسوس ہوتی ہے۔ استاذ اگر اپنے طلبہ کے سامنے خدمتِ خلق کا عملی نمونہ پیش کرے گا تو ان کے دل میں عظمت بڑھے گی۔ اس سلسلے میں اپنا ایک واقعہ بیان کروں گا کہ ضعف اور نقاہت کی وجہ سے چونکہ طبیعت مستعد نہیں رہی، ایک مرتبہ میں نے کھانا تناول کرنے کے بعد بچوں سے کہا کہ بیٹا دسترخوان اٹھا لو، اتنے میں کیا سنتا ہوں کہ میرا چھوٹا نواسا دروازے سے نکلتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ خود تو بڑے بنے بیٹھے ہیں اور ہمیں کام پر لگایا ہواہے. ایسے موقع پر اگر بچوں کو ڈانٹ دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ فرق پڑے گا کہ وہ یہی بات آپ کے سامنے کہنے سے باز رہیں گے مگر ان کے ذہنوں کو آپ صرف اور صرف اپنے کردار سے کھرچ سکتے ہیں۔

14۔ قوت اور امانت
اچھا پیشہ ور وہ ہوتا ہےجس میں قوت اور امانت کا وصف بخوبی موجود ہو۔ قرآن پاک میں حضرت شعیب علیہ السلا م کی بیٹیوں کا تبصرہ ذہنوں سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے،ان خیر من استاجرت القوی الامین

بہترین اجیر وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی. استاد کی قوت اس کا وسعتِ مطالعہ، علمی رسوخ اور اپنے فن/مضمون پر دسترس ہے۔ نالائق سے نالائق طالب علم بھی اپنے استاذ کی علمی قابلیت کو اچھی طرح بھانپ لیتا ہے۔ استاذ کی امانت کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ علم کو آگے منتقل کرنے میں کس قدر محتاط اور سخی ہے۔

15۔رجائیت (پراُمید ہو)
اچھا استاذ کبھی مایوس نہیں ہوتا، اس کی مثال اس پھل بیچنے والے کی سی ہے جو اپنے گاہک کے سامنے پھل کی ایسی تعریف کرے کہ وہ تھوڑے کے بجائے زیادہ لینے پر مجبور ہوجائے اور اگر خدانخواستہ وہ اس طرح کے جملے دہرانے لگے کہ جناب بس کیلے کا تو موسم ہی نہیں رہا، اس کا گاہک بھی آج کل ڈھونڈے نہیں ملتا، یہ دیکھیے پڑے پڑے کیلے کالے ہونے لگے ہیں، شکر ہے کوئی تو آیا، یہ سن کر کوئی بےوقوف ہی اس سے سودا خریدے گا۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم جس علم کو ”بیچ“ رہے ہیں اس کی قدر خود ہمارے دل میں بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استادکے ذریعے شاگروں میں مایوسی منتقل ہورہی ہے۔

16۔ اخلاقی جرات
ایک اچھا استاذ اپنے اندر اخلاقی جرات رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اخلاقی جرات کا تعلق اخلاق سے ہے، آپ کے اندر جتنی بھی بری باتیں ہوں جب تک ان سے جان نہیں چھڑا لیتے اخلاقی جرات کا فقدان رہے گا۔

17۔ قول وفعل میں مطابقت
جس استاذ کے قول وفعل میں تضاد ہو، وہ ایک بدنام اور ناکام مدرس ہے۔

18۔وضع قطع
استاذ کو چاہیے کہ اپنے باطن کی طرح ظاہر کو بھی اللہ کے رنگ میں رنگ دے۔ شریعت کے مطابق وضع قطع نہ صرف سنتِ نبوی کی اتباع ہے بلکہ اس سےآپ باوقار تشخص کی تعمیر کرسکیں گے۔

19۔للّٰہیت
دینی خدمات محض تنخواہ کے لئے سرانجام نہ دے۔اس سے چاشنی اور لذت جاتی رہتی ہے۔اپنے کسی قول وفعل کے ذریعے شاگردوں کے سامنے بھی ایسا تاثر دینے سے باز رہے۔

20۔شاگردوں کے حق میں دعا
اپنے شاگردوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ یہ عمل اجر اور اخلاص بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ استاذ کو اپنے شاگرد پر ہاتھ اٹھانے کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک اس کے لیےتہجد میں چالیس راتیں اللہ سے نہ مانگ لے.

(مولانا یوسف خان استاذ جامعہ اشرفیہ، لاہور کا الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں خطاب کا خلاصہ ان کے شاگرد امیر حمزہ نے تیار کیا)

Sunday, August 7, 2022

بند آنکھ سے دیکھ تماشا دنیا کا

محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ

جدھر دیکھئے تماشا ہی تماشا ہے۔ کہیں سرکار بنانے کو لے کر تماشا ہے تو کہیں سرکار گرانے کو لے کر تماشا ہے۔ کہیں ای ڈی کا خوف پیدا کرکے تماشا چل رہا ہے تو کہیں سی بی آئی کے ذریعے تماشا دکھایا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ آپ تماشائی فلم دیکھ رہے ہیں اور باہر نکل کر سماج کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ وہی فلم اور فلم کے اداکار باہر تماشا دکھا رہے ہیں۔ یہ تماشے آپ کو بھارت کی سرزمین میں ہی دیکھنے کو ملیں گے کیوں کہ اس سر زمین کے علاوہ ایسے تماشے دنیا میں ناپید ہیں ۔ 
کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا
ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر 
تماشوں کی شروعات سیاسی گلیاروں سے کرتے ہیں جہاں رنگ برنگ کے تماشے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا  ٹویٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " اپوزیشن صاف اور بھارتی جنتا پارٹی کا راج ہی ہمارا مقصد ہے " اور آج ہمارے ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اسے دیکھ کر لگتا بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے مخالفین کا بالکل صفایا کر دینا چاہتی ہے۔ اب آپ دیکھ لیجئے کہ پنجاب کے اندر سے اکالی دل کا خاتمہ ہو گیا۔ مہاراشٹر کے اندر شیو سینا کے دو ٹکڑے ہو گئے ۔ ادھو ٹھاکرے جو بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے ہیں ، بی جے پی نے پارٹی کی کمان ان کے ہاتھ سے لے کر ایکناتھ شنڈے کو دے دی اور شیو سینا کے ایم پیز اور ایم ایل ایز ای ڈی کے ڈر سے کبھی اس پارٹی تو کبھی اس پارٹی کا چکر لگا رہے ہیں۔ مدھے پردیش کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے شیو راج سنگھ چوہان یہ کہہ رہے ہیں کہ " مدھے پردیش کی سرکار کو گرانا ہی تھا کیوں کہ یہ ہمارے پردھان منتری نریندر مودی کی ناک کا مسئلہ تھا اور ہم ان کی ناک کو کیسے کٹنے دیتے"۔ اب پردھان سیوک کی ناک اتنی اہمیت کی حامل ہو گئی ہے کہ اس کی خاطر سرکار بنائی اور گرائی جا سکتی ہے۔ بہار کی حالت بھی مردے پر فاتحہ خوانی سے کچھ کم نہیں ہے۔ بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں تاکہ ان کا وجود ختم ہو جائے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی سرکار ہے لیکن ایک کے بعد ایک ان پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کی سرکار کو گرانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ متھن چکرورتی جیسے ضمیر فروش لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹی ایم سی کے 38 ایم ایل ایز ہمارے رابطے میں ہیں مطلب بالکل صاف ہے کہ خطرے کی گھنٹی ممتا بنرجی کے لئے کسی بھی وقت بج سکتی ہے۔ 
جھارکھنڈ کی سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پوجا سنگھل کے ذریعے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ گڑے مردے نکالے جا رہے ہیں تاکہ کوئی سراغ ہاتھ لگ جائے۔ بی جے پی کے ٹاپ لیڈر جھارکھنڈ میں " آپریشن لوٹس " کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جس طرح مہاراشٹر میں آپریشن لوٹس کا جال بچھا کر شیو سینا کے وزیروں اور مشیروں کو پھنسایا  اسی طرح مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں بھی یہ جال بچھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہر ایسی آواز کو دبا دینا چاہتی ہے جو اس کے خلاف اٹھے اور اس کی تازہ مثال شیو سینا کے قد آور نیتا سنجے راوت کی صورت ہمیں دیکھنے کو ملی۔ سنجے راوت بھاجپا مخالف بیان دینے میں سب سے آگے رہتے تھے اس لئے اس کو پاترا چال بھومی گھوٹالے میں جیل کا راستہ دکھا دیا گیا۔ اسی طرح کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ کیس میں حراست میں رکھا۔ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے پر راہل گاندھی کو دہلی پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے۔ ایک کچرا اٹھانے والے کو صرف اس لئے اپنی پانچ ہزاری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے کیوں کہ اس کے کچرے میں پردھان منتری اور یوگی جی کی تصویر موجود تھی ۔ ایک پرنٹنگ پریس کے مالک سمیت پانچ لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بائے بائے مودی کی ہورڈنگ بورڈ چسپاں کیا تھا۔ پارلیمنٹ سے سانسدوں کی برخاستگی بھی بڑے زوروں پر ہے ۔ مودی کے دور حکومت میں اب تک 139 سانسد معطل کئے جا چکے ہیں۔ دراصل یہ حکومت ہر ایسی چیز کو کچل دینا چاہتی ہے جو اس کے اور ہندو راشٹر قائم کرنے کے درمیان حائل ہو۔ اس ملک میں یہ تماشا بھی پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ پارلیمنٹ کے معطل سانسدوں نے پارلیمنٹ کے باہر مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے رات بھر احتجاج کرتے ہوئے جمہوریت کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر دیا ہے۔ ایک طرف ایس ایس سی جی ڈی کے وہ طلباء جنہوں نے امتحان پاس کیا ، میڈیکل پاس کیا لیکن پھر بھی بھرتی نہیں ملتی ہے وہ ناگپور سے دلی پیدل مارچ کرتے ہیں اکسٹھ دنوں سے وہ پیدل چل رہے ہیں، ناگپور سے لے کر دلی تک ، جنتر منتر سے لے نتن گڈکری کے گھر کے باہر تک ہر جگہ احتجاج کرتے ہیں اور سرکار ایسے  نوجوانوں کے بارے کہتی ہے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔ 
دیش؛ مہنگائی ، بے روزگاری ، ناخواندگی کی لڑائی لڑ رہا ہے ، اپوزیشن جماعتیں اپنے وجود کے بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی کے لوگ اپنے پرچار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کو لے کر پورا ملک پریشانی کا سامنا کر رہا ہے لیکن وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یہ کہہ رہی ہیں کہ بھارت سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بنا ہوا ہے۔ اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو لوگوں کو معاش کیوں میسر نہیں ؟ بے روزگاری کیوں بڑھتی جا رہی ہے ؟ یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے تھا لیکن سوال تو یہ ہے کہ بلی کی گردن پر رسی کون باندھے اور کسے اپنی عافیت محبوب نہیں۔ 

دھوکا ہے ، نمائش ہے ، تماشا ہے گزر جا 
یہ رونق بازار ، یہ دنیا ہے گزر جا

Monday, July 4, 2022

تربیت اولادمیں والدین کا کردار

محمدامام الدین ندوی
 مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
 
       اولاد اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت،ورحمت ہے۔ اس کا صحیح اندازہ اسے ہےجس کا گود اس نعمت ورحمت سے خالی ہے۔جن کے گود ان نعمتوں سےخالی ہیں انہیں دعاء کرنی چاہئے۔"رب لا تذرنی فرداوانت خیرالوارثین" "رب ھب لی من الصالحین" "ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ آعین وجعلنا للمتقین اماما"
مذکورہ دعائیں انبیاءعلیھم السلام نے کی ہیں۔ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہئے۔
     بچہ فطرۃ اسلام پے پیدا ہوتا ہے۔والدین اس کو جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھال دیں۔اسے موحدبنائیں،مشرک بنائیں،آتش پرست بنائیں،یہودی بنائیں،نصاری بنائیں۔دیندار یا بے دین بنائیں۔
   والدین بچوں کو جس قالب میں ڈھالنا چاہیں گے بچے ان میں ڈھل جائیں گے۔بچےکی ضرورت سب کو ہے۔شادی کے بعد انسان کی پہلی ترجیح اولاد ہوتی ہے۔اس کی ساری خوشیاں حصول اولاد پر مرکوز ہوتی ہیں۔اولاد کی خوش خبری ملتے ہی پورے کنبہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔یقینا اولاد کی نعمت بہت بیش بہا ہے۔۔جو لوگ اس نعمت سےمحروم ہیں وہ اسے پانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کےیہاں چکر لگاتے ہیں۔مختلف قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔دعاءوتعویذ کاطویل سلسلہ چلتا ہے۔نذرونیازاور منتیں مانی جاتی ہیں۔مزارات کے چکر کاٹے جاتے ہیں۔زندےپیرسےلیکر مردہ پیر کے آستانے کی حاضری دی جاتی ہے۔لوگ غیراللہ تک کا سہارا لیتے ہیں۔یہ بہت بڑا ظلم ہے۔اللہ جب ،جسے،جیسے،چاہے اولاد سے نوازدے۔یہ صرف اس کی طاقت وقدرت ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے صرف بیٹا دیتا ہے۔جسے چاہتاہے صرف بیٹیاں عطاکرتاہے۔جسے چاہتاہے بیٹےاور بیٹیاں دونوں عطا کرتاہے۔اور جسے چاہتاہے بانجھ بنادیتا ہے۔یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہےاللہ کا فرمان ہے "للہ ملک السموات والارض یخلق مایشاء یھب لمن یشاءاناثا ویھب لمن یشاء الذکور او یزوجھم ذکراناواناثا ویجعل من یشاء عقیما"۔جب انسان کواولاد ملتی ہے تو اس کی حقیقی قدر نہیں ہوتی ہے۔اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔اس کی قدر یہ ہے کہ اس کی بہتر تعلیم تو ہوہی کمال درجہ کی تربیت بھی ہو۔یہی تربیت اولاد کو والدین کے لئے آنھوں کی ٹھنڈک،اور تسکین قلب ودماغ بناتی ہے۔بڑھاپے کا حقیقی سہارا بناتی ہے۔لوگوں میں عزت واحترام اور وقار عطا کرتی ہے۔ذخیرۂ آخرت بناتی ہے۔
    والدین کا بہترین تحفہ اولاد کی اچھی تربیت ہے۔والدین اولاد کو مہذب،باادب،بنادے یہی اولاد کے لئے سب سے بڑا تحفہ ہے۔نبی صلعم نے فرمایا"مانحل والد ولدا من نحل افضل من ادب حسن" والدکابہترین تحفہ اولاد کی اچھی تربیت ہے۔(مشکوۃشریف)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی تربیت پر بہت زور دیاہے۔بڑی تاکید کی ہے۔آپ صلعم نے فرمایا کہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا کوئی چیز ایک صاع صدقہ کرنے بہتر ہے۔"یؤدب الرجل ولدہ خیر من ان یتصدق بصاع"۔(ترمذی)
     صدقہ کی فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے ۔پر اولاد کی اچھی تربیت کو آپ نےصدقہ کرنے پر فوقیت دی ہے۔ اس سے اولاد کی اچھی تربیت کہ اہمیت کا بہ خوبی پتہ چلتا ہے۔
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے اکرام پر بھی زور دیا ہے۔اور اچھا ادب سکھانے کی تاکید کی ہے۔فرمایا "اکرموا اولادکم واحسنوا ادبھم" اولاد کی عزت کرو اور اچھا ادب سکھاؤ۔اسے باادب بناؤ(ابن ماجہ)
اولاد کی نششت وبرخاست پر والدین کو خاص دھیان دینے کی ضرورت۔ان کے دوست واحباب کا حلقہ کیسا ہے؟ اس سے بھی باخبر ہونے کی ضرورت ہے۔صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔اچھی صحبت ،اچھا بناتی ہے اور بری صحبت برا بناتی ہے۔اولاد نافرمان بنتی ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں بروں کی صحبت کارفرما ہوتی ہے یا تربیت میں بڑی چوک ہوتی ہے۔وہ والدین کامیاب ہیں جو اپنی اولاد کو اچھی صحبت میں رکھتے ہیں۔
 انسان دوستوں کے اثر کو قبول کرتا ہے۔ان کی عادت وخصلت کو اختیار کرتا ہے۔
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل"
     انسان اپنے دوستوں کے طور طریق کو اختیار کرتا ہے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہئے کہ اس کی دوستی کیسے لوگوں سے ہے۔(ابوداؤد)
      والدین کا اپنی اولاد کی تربیت میں اہم رول،و کردار ہوتا ہے۔جو والدین اس طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ان کی اولاد کامیاب ہوتی ہے۔ 
    اولاد کو بچپن ہی سے دینی غذا دینا چاہئے۔اسلامی تہذیب سے روسناش کرانا چاہئے۔ کھانے،پینے کے آداب،کپڑے،جوتےچپل، پہننے اور اتارنے کے آداب،بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کے آداب،مسجد میں آنے جانے کے طریقے ذہن نشیں کرانا چاہئے۔بڑوں کا ادب،کیسے کرنا ہے،اپنے سے چھوٹوں سے کس طرح پیش آناہے یہ گھریلو ماحول سے ملے گا اس لئے گھر کی فضا صاف ستھری ہونی چاہئے۔چھوٹی چھوٹی دعائیں سکھائی جائیں اور روز مرہ زندگی میں انہیں استعمال کرائے جائیں۔سلام کے طریقے سکھائے جائیں۔آداب گفتگو بھی بتلایا جائے۔یہ اس وقت ممکن ہوگا جب والدین،یا گھر کے دوسرے افراد ان آداب سے واقف ہوں گے۔
     موجودہ مسلم سماج خود ان آداب سے ناواقف ہے اور واقفیت حاصل کرنا بھی نہیں چاہتا ہے۔بچہ صحیح سے چل بھی نہیں پاتا کہ اسے"پلے اسکول"(Play School)کے حوالے کردیا جاتا ہے۔جب پڑھنا شروع کرتا ہے تو موٹی رقم دے کر عیسائی مشنری کے سپرد کیا جاتا ہے۔وہاں اسلام کے خلاف ان کے ذہن کو مسموم کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔بچہ کودونوں ماحول(گھر اوراسکول)میں اسلامی تربیت میسر نہیں ہوتی ہے۔اس لئے اگروالدین زمانہ کے شانہ بشانہ چلنا چاہتے ہیں تو چلیں پر اپنے بچوں کے لئے دینی خوراک کا بھی معقول انتظام کرے۔جب بچہ بڑا ہوتاہے تو اسلامی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ سماج کے لئے بوجھ بن جاتا ہے۔تعلیم میں وہ بہت آگے ضرور چلاجاتا ہے۔پیسے بھی ٹھیک ٹھاک کماتاہے پر تربیت سے کورا اور عاری ہوتا ہے۔اس لئے صالح معاشرے کی تشکیل نہیں ہوپاتی ہے۔انسانیت مفقود ہوجاتی ہے۔حیوانیت سر چڑھ کے بولتی ہے۔آئے دن ہوش ربا خبریں آتی ہیں۔پروفیسر صاحب نے چار منزلہ عمارت سے ماں کو نیچے پھینک دیا جس سے اس کی موت ہوگئ۔اسکول کے استاد نے اپنی بیٹی کو ہوس کا شکار بنایا۔فلاں ٹیچر چند بچوں کی ماں کو لیکر چلا گیا وغیرہ۔یہ وہ خریں ہیں جو سوشل میڈیا پر آجاتی ہیں۔ورنہ دلدوز واقعات ہر روز رونما ہوتی ہیں جن کا اتا پتہ نہیں ہوتا۔اور ایسی نازیباحرکت کوئی جاہل نہیں بلکہ تعلیم یافتہ لوگ کرتے ہیں۔یہ صحیح تربیت نہ ہونے کا ثمرہ ہے۔ان دنوں جگہ جگہ عصری دانش گاہیں موجود ہیں۔اور مختلف سبجیکٹ کے لئے الگ الگ اساتذہ ہیں کاش ان دانش گاہوں میں ایک سبجیکٹ ادب سکھانے کابھی ہوتا تو سماج جہنم نما نہیں بنتا۔تعلیم وتربیت لازم وملزوم شئے ہے۔ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر شعبے میں صحابہ کی تربیت کی ہے۔
 ایک بچہ آپ کے ساتھ دستر خوان پر کھا رہاتھا۔اس کا ہاتھ پوری پلیٹ میں گھوم رہا تھا۔آپ نے اس بچہ سے کہا اے لڑکے بسم اللہ پڑھو اور سامنے سے کھاؤ۔ایک آدمی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنا شروع کردیا۔لوگ اس کی طرف روکنے کے لئے لپکے آپ صلعم نے لوگوں کو روکا جب وہ پیشاب کرکے فارغ ہوا تو آپ صلعم نے اسے سمجھایا کہ مسجد میں پیشاب نہیں کرنا چاہئیے۔ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ کے سامنے زنا کی خواہش کی آپ صلعم نے فرمایا اگر کوئی تمہاری ماں کے ساتھ وہی کام کرے تو تمہیں کیسا لگےگا۔ایک دفعہ ایک بچہ دوسرےکےکھجور کے باغ میں جاکر کھجور توڑ رہاتھا آپ تک شکایت پہونچی آپ نے اس بچہ کو بلایا اور پیار سے سمجھایا کہ دوسروں کی چیزیں بغیر اجازت کے نہیں توڑتے۔اس بچے نے کہا اےاللہ کے رسول آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔
     والدین اور گھر کے بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو معمولی غلطیوں،لغزشوں، پر حکیمانہ، مشفقانہ،تادیب کرے۔اچھے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ اللہ کی وحدانیت،اور رسول صلعم کی رسالت،ان کےرگ وریشے میں داخل کردیں۔شرک،بدعات وخرافات،رسم ورواج،سے اسے نفرت پیدا کرائیں۔عظمت صحابہ، تکریم اولیا کاملین،ہر بڑوں کے احترام کا جذبہ ان کی زندگی کا مقصد بن جائے۔ورنہ آنے والی آندھی کے لپیٹ وچپیٹ،سےبچنا اور اپنے ایمان کو بچانا بہت مشکل ثابت ہوگا۔پھر وہ اولاد ہم سب کے لئے،سماج ومعاشرے کے لئے بڑی مصیبت بن جائے گی۔
      حضرت یعقوب علیہ السلام پر جب موت کےآثارظاہرہوئے تو انہوں نے اپنے تمام لڑکوں کو بلایا اور کہا کہ میرے مرنے کے بعد تم لوگ کس کی عبادت کروگے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں گے اسی کے حکم پر سرتسلیم خم کریں گے ۔قرآن نے اس کا نقشہ اس انداز میں کھینچا ہے۔"ام کنتم شھداء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالوا نعبد الھک والہ آبائک ابراہیم واسماعیل واسحاق آلہ واحدا ونحن لہ مسلمون"(سورۂ بقر)
       حضرت یعقوب علیہ السلام نبی ہیں اولادیں بھی نبی ہیں اس کے باوجود ان کے ایمان کی فکر کا یہ عالم ہے ۔ہمیں بھی اپنی اولاد کے ایمان کی فکر ہونی چاہئے۔
     حضرت لقمان علیہ السلام کو بھی اپنے بیٹے کے ایمان کی فکر دامن گیر ہوئی تو بیٹے کو اس طرح نصیحت کی "اذقال لقمان لابنہ وھو یعظہ یبنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم "(سورۂ لقمان)
      ترجمہ "یاد کیجئے اس وقت کو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو ناصحانہ انداز میں کہا اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو پاٹنر اور ساجھےدار مت بنانا شرک بہت بڑا ظلم ہے"
     "ویبنی ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ اوفی السموات اوفی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر"(لقمان)
      ترجمہ اور اے میرے بیٹے اگر رائی کا ایک دانہ کسی پتھر یا آسمان،یازمین،کے اندر ہو اللہ اپنی قدرت سے اسے لے آئے گا بیشک اللہ باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔
       "ویابنی اقم الصلوۃ وأمر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذالک من عزم الامور" (لقمان)
   ترجمہ اے میرے بیٹے نماز قائم کرنا،بھلائی کی تلقین کرتے رہنا،برائی سے بچنا،آنے والے مصائب پر صبر کرنا،بیشک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
    "ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ان اللہ لایحب کل مختال فخور"(سورہ لقمان)
         ترجمہ لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین اکڑ کر مت چل بیشک اللہ تکبر کرنے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتاہے۔
      "واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوۃ الحمیر"(لقمان)
      اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو،اوراپنی آواز پست رکھو بیشک ناپسندیدہ آواز کدھے کی آواز ہے۔
     اولاد کی تربیت کا یہ ناصحانہ انداز بہت نرالا ہے۔قرآن کا یہ حکیمانہ انداز بہت پیارہ ہے۔ہر فرد اس نصیحت کو سامنے رکھ کر اپنی اولاد کی تربیت کرے۔یہ صالح معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار نبھائے گی۔
   ہمارے گھر وسماج اسلامی تربیت سےمکمل بے بہرہ ہیں۔اسلامی تربیت کی آراستگی فضول اور لہو سمجھتے ہیں۔جس کا نتیجہ ہے کہ ہماری زندگی میں اسلام دوردرتک نظر نہیں آتاہے۔ ہمارے بچے،بچیاں،انارکی،فسادوبگاڑ،بےراہ روی،فکری ارتداد،اسلامی تعلیمات سےدوری،جیسے مہلک وباؤں میں گرفتار ہیں۔فنا ہونے والی دنیا کو آخرت کی بقا پر ترجیح دیتی ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب کوتعلیم کے ساتھ اولاد کی اچھی سے اچھی تربیت کی توفیق دے آمین۔

قربانی اللہ کی اطاعت کا عظیم مظہر

 
محمدامام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی 
9801805853
       عید الاضحٰی ہرسال ماہ ذی الحجہ کے دسویں تاریخ کو ادا کیا جاتا ہے۔عیدالاضحٰی سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال،عظیم ترین،سنت ہے ۔یہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔اس طرح کی قربانی نہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی نے دی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد ۔یہ مطالبہ اللہ کا تھا اور اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پورا کرنا تھا۔یہ محیرالعقول فرمائش خالق کائنات کی طرف سے تھا۔جو خود مختار ہے۔پاور فل ہے۔کسی کا محتاج نہیں ہے۔فرمائش بھی ابو الانبیاء سے تھی۔جنہیں شروع سے ہی مختلف امتحانات سے گزرنا پڑا۔یہ فرمائش عجب نوعیت کی تھی۔زروجواہرات،زمین جائیداد،مال ودولت،اپنی جان،کو قربان کرنا نہیں تھا بلکہ بڑھاپے کا سہارا،دل کا ٹکڑا،آنکھ کی ٹھنڈک،مستقبل کاخواب،گھر کی رونق،باپ کا پیار،ماں کی ممتا،صفاومروہ کی،سعی،اور زم زم کے موجد،سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تھا۔عقل انسانی حیران تھی کہ پوری تاریخ انسانی میں اس طرح کا روح فرساں واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ایک باپ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں حقیقت میں ذبح کرے گا؟۔انسانی تاریخ شروع سے آج تک جانوروں کو ذبح کرتے آئی ہے۔بھلا انسان بھی ذبح ہوگا ؟۔اللہ کا ایسا حکم اس سے پہلے کسی کو نہیں ملا۔
       یہ نوٹیفیکیشن اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام جاری ہوا جس کا موضوع حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھا۔
  یہ نوٹیفیکیشن غیر معمولی اور اہم ترین تھا۔جس کے نام جاری ہوا وہ بھی غیر معمولی شخصیت تھی۔اور مضمون بھی غیر معروف تھا۔ 
     حضرت نے اس نوٹیفیکیشن کے مضمون کو اپنے لاڈلے کے سامنے پڑھ سنایا قرآن اس کی شہادت یوں دیتا ہے"یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذاتری "
   بیٹے میں بےخواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں (اللہ کا یہ حکم ہے)تمہاری کیا رائے ہے۔
    بیٹے نے جواب دیا "یا ابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شاءاللہ من الصبرین "
      ابا آپ اس حکم کی تعمیل کیجئے ان شاءاللہ آپ مجھے وفادار پائیں گے۔
    آپسی گفتگو اور رضامندی، کے بعد امتثال حکم خداوندی کی تکمیل کچھ اس طرح کی گئی۔
    باپ بیٹے دونوں سوء منی روانہ ہوئے۔دونوں مکمل تیاری میں گھر سے نکلیں۔اپنے اپنے دائرے میں دونوں برگزیدہ بندے ثابت قدم۔نہ زندگی کے ختم ہونے کا کوئی ملال اور نہ کوئی خوف دہشت۔نہ بیٹے کی جدائی کا غم اور دردوالم اور نہ ہی انقطاع نسل کی کوئی فکر۔بس ایک ہی دھن " اللہ کے حکم کی تعمیل"۔اس پر ثابت قدمی کی فکر۔
   دونوں منی پہوچیں۔حسب وعدہ باپ نے اپنے ہاتھ میں چھری سنبھالا۔بیٹا چت لیٹ گیا۔بیٹے نے باپ سے کہا کہ آپ آنکھ پر پٹی باندھ لیں کہیں ہماری محبت غالب نہ آجائے اور آپ سے چھری نہ چل سکے۔والد بزرگوار نے ایساہی کیا۔اور حلقوم اسماعیل پر چھری چلادی۔اللہ تعالٰی نے چھری کے کاٹنے کی صلاحیت صلب کرلی۔چھری کند اور بھوتھی ہوگئی۔ادھر والد بزرگوار پریشان ہیں کہ چھری کیوں نہیں چل رہی ہے۔چھری کو پٹخ رہے ہیں جھنجھلا رہے ہیں۔اس ماجرا کو دیکھ کر پوری مخلوق حیران وششدر ہے۔پورا عالم ساکت ہے گویا سارا نظام عالم تھم سا گیا ہے۔سب ساکت ہیں۔
     جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا جبرئیل جلدی جا میرے خلیل کے محبوب کو چھری کے نیچے سے ہٹا۔جبرئیل جلدی کر ۔جا جلدی جا۔بچالے۔میرے خلیل کے لخت جگر کو بچالے۔جنت سے دنبہ لیتے جا۔ذرا جلدی کر ۔ذبیح اللہ کو کنارہ لگا۔مینڈھے کو اس کی جگہ پر رکھ۔جا جبرئیل جلدی جا۔میرا خلیل میری محبت میں سر تا پا غرق ہے۔میری محبت کے آگےاسے کچھ دکھتا ہی نہیں۔میرے تعمیل حکم میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔بیوی بچوں کو بے آب وگیاہ اور لق ودق میدان میں میری خاطر چھوڑنے کی نوبت آئی تو خوشی خوشی انہیں چھوڑ آیا۔نار نمرود میں بھی میری یاد میں تڑپا۔اب بیٹے کو میری خاطر قربان کرنا ہے تو اس پر بھی آمادہ ہے۔جا جلدی جا۔
    حضرت جبرئیل جنت سے مینڈھے کو لیکر منی پہونچے۔اسماعیل علیہ السلام کو ہٹایا۔اس کی جگہ مینڈھے کو پٹخا۔مینڈھا ذبح ہوا۔والد کو تسلی ہوئی چلو اللہ کا حکم پورا ہوا ۔اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی۔پٹی کھولی تو دیکھا بیٹا دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔مینڈھا زمین پر مذبوح پڑا ہے۔اتنے میں من جانب اللہ ندا آئی "یاابراھیم قد صدقت الرؤیا اناکذلک نجزی المحسنین"
   ابراھیم تونے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہم وفا شعاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    ہمیں آپ کے گوشۂ جگر کو قربان کرانا قطعی مقصود نہیں تھا۔آپ کے عصائے پیری سے محروم کرنا ہرگز مطلوب نہ تھا۔بس یہ دیکھنا تھا کہ آپ کو آپ کا رب زیادہ محبوب وپیارا ہے یا آپ کا لاڈلا۔آپ کہیں بیٹے کی محبت میں مغلوب تو نہیں ہیں۔ہمیں آپ سے آپ کے بیٹے کو چھیننا مقصود نیہں تھا ۔بس یہ دیکھنا تھا کہ بیٹے کی محبت میں آپ کہیں ڈگمگاتو نہ جائیں۔پر آپ دونوں نے وہ کر دکھایا جو میں چاہتا تھا۔میری محبت دنیا کی محبوب ترین شئے پر غالب رہی۔
     پدروپسر(باپ بیٹے) کی یہ قربانی رضاء الھی کا عظیم نمونہ تھا جسے دونوں بزرگوار نے پیش کیا۔حکم خدا کے سامنے بلا چوں چرا اپنے کو پیش کردیا۔محبوب کی آرزو،تمنا،اور خواہش کی تکمیل کو ہر خواہشات پر دونوں نے ترجیح دیا۔دنیا والوں کی لعنت وملامت،طعن وتشنیع،تضحیک وتذلیل،استہزا،کی پرواہ کئے بغیر رب کے مطالبات کی تکمیل کو فوقیت دی۔اللہ تعالٰی کا حکم آیا اور بلا ہچکچاہٹ اسے پورا کردیا۔بلا تاخیر اسے پایۂ تکمیل کو پہوچادیا۔نفس کی غلامی کو کچل دیا اور اللہ کی غلامی قبول کرلی۔اللہ تعالٰی کو یہی مطلوب تھا۔
        اصل قربانی یہی ہے۔اللہ کو یہی مطلوب ہے۔اللہ کے ہر حکم کو مقدم رکھنا ہی مومن کی شان ہے۔
   قربانی ہر سال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کی تکمیل کے لئے ہر لمحہ اپنے کو ذہنی وجسمانی طور پر تیار رہے۔ہر آنے اور جانے والی سانس مرضی مولی کی منتظر رہے۔آل واولاد،اپنے پرائے،رشتےناطے،جان ومال، عزت وآبرو، بیوی بچے، گھربار،زمین جائیداد، کھیت کھلیان،دوکان ومکان،تجارت،سب پر اللہ کی محبت اور امتثال احکام خداوندی مقدم رہے۔در حقیقت یہی عظیم قربانی ہے جو اللہ کو محبوب ہے۔ 
     ایک مومن کی زندگی کا ہر لمحہ وہرپل قربانی سے عبارت ہے۔گھریلو زندگی ہو۔عائلی زندگی ہو،معاشرتی زندگی ہو،اجتماعی زندگی ہو ،انفرادی زندگی ہو،سماجی زندگی ہو،ان کی کامیابی کا راز قربانی میں ہی پنہاں ہے۔بدنی عبادت ہو چاہے مالی،یا پھر دونوں۔چھوٹی عبادت ہو یا بڑی،یہ سب قربانی چاہتی ہے۔
   سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں امتثال احکام الھی کو من وعن،بلا ترددوتأمل،اور بلا تاخیر ہر شعبہائے زندگی میں پورا کرنے کی تاکید کرتی ہے۔یہی تقرب الھی کا بہترین اور مضبوط ذریعہ ہے۔
            حضرت اسماعیل کی بجائے مینڈھے کی قربانی قیامت تک جاری ہوگئی۔شریعت محمدی میں بھی اسے باقی رکھا گیا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول صلعم سے پوچھا قربانی کیا ہے؟۔آپ نے کہا "سنۃ ابیکم ابراھیم"۔تمہارے باپ ابراھیم کا طریقہ ہے۔"قالوا فمالنافیھایارسول اللہ" ہمیں اس میں کیا ملےگا" قال بکل شعرۃ حسنۃ"۔ہربال کے بدلے ایک نیکی۔قربانی کے دن اللہ کی نگاہ میں خون بہانے سے زیادہ محبوب عمل اور کوئی نہیں۔قربانی کا جانور اپنے اعضاء کے ساتھ آئے گا۔قربانی کے مستحق افراد کو قربانی نہ کرنے پر بڑی وعید آئی ہے۔آپ صلعم نے فرمایا "لا یقربن مصلانا" وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
      قربانی کا مقصد گوشت خوری نہیں ہے۔شہرت وناموری نہیں ہے۔گوشت کا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔فخرومباحات قطعی نہیں ہے۔ایک دوسرے پر فوقیت وبرتری نہیں ہے۔قربانی کا اصل مقصد حصول تقوی ہے۔امتثال حکم الہی ہے۔
     ہماری قربانی کس کے لئے ہے۔اللہ کی خوشنودی کے لئے ہے یا نام ونمود کے لئے۔اگر اللہ کی رضاجوئی کے لئے ہے تو بہتر ہے۔اگر نام ونمود کے لئے ہے تو وبال جان ہے۔
"ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین"
   بیشک میری نماز میری قربانی میرا جینا میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پالنہارہے 
        اللہ ہم سب کو حقیقی قربانی کی لذت نصیب فرمائے۔آمین

Thursday, May 12, 2022

تزکیہ نفس کا مفہوم بہت وسیع ہے


محمد طارق بدایونی 
ریسرچ اسکالر: ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ

تزکیہ نام ہے کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا، اس کی نشو و نما کرنا اور غیر ضروری چیزوں سے کار آمد اشیا کی حفاظت کرنا یعنی نقصان دہ اور غلط افکار و نظریات اور رجحانات و میلانات سے چھٹکارا پا کر پاکیزگی کی طرف آنا۔
 اللہ تعالی کا ارشاد وارد ہے:
”نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی۔ یقینا فلاح پا گیاوہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔“ [سورة الشمس: ۷،۸،۹،۱۰] 

اللہ تعالی نے انسان کے اندر خیر وشر کے مابین امتیاز کرنے کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔ صرف انسان ہی میں نہیں بلکہ ہر مخلوق کے اندر یہ صفات ان کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے عطا فرمائی ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: "ربناالذي أعطى كل شيئ خلقه ثم هدی‘‘ [سورة طه: ۵۰]
(ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔) 
مولانا مودودی وضاحت کر تے ہوئے رقم طراز ہیں: ”مثلا حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے، جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندہ کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتا بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آ جاتا ہے۔ انسان کی اس و دیعت کردہ صلاحیت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو شرک و بدعت سے بچائے، فساد نیت، تحریف و کتمان حق، حسد و کینہ، نفاق، لڑائی جھگڑے اور دیگر اعمال بد جیسے کبر و غرور، دوسروں کو کم تر سمجھنے سے، عصبیت، لالچ، حرص و ہوس اور خواہشات نفسانی سے خود کو محفوظ رکھے۔ دل میں اللہ کی یاد اور عقبی کا تصور ہو، جزاء و سزا پر یقین ہو، احساس جواب دہی اور ضبط نفس ہو، ندامت و پشیمانی اور توبہ و استغفار کی کثرت، نیکو کاروں کی صحبت اختیار کی جائے اور زبان کی حفاظت ہو، سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ روزانہ اپنا محاسبہ کیا جائے یعنی بستر پر جانے سے قبل دن بھر اپنے تمام اعمال و افعال کے تعلق سے غور و فکر کرنا چاہیے کہ آج کون سا کام ایسا کیا جو قابل تعریف ہے اور کون سا ایسا کیا جو غلط تھا جس پر پکڑ ہو سکتی ہے؟ پھر اچھے کاموں پر خدا کا شکر ادا کیا جائے اور برے کاموں کی اللہ سے معافی مانگی جائے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ہو۔ کیوں کہ جب انسان تزکیہ کے نتیجے میں اعمال بد سے دوری اختیار کر لیتا ہے تو پھر رب العالمین کی محبت اور انعام و اکرام سے سرشار ہو تا ہے، عبادت و اطاعت میں لطف آنے لگتا ہے، خلوص وللہیت دل میں جاں گزیں ہو جاتی ہے، زندگی کے ہر رطب و یابس مرحلے میں اللہ تعالی کا شکر بجالا تا ہے اور غفلت ولا ابالی پن سے نکل کر اپنے حقیقی مقصد کی جانب گامزن ہو جا تا ہے۔ جب انسان اس طرح اپنا تزکیہ کر لیتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ فرمان وارد ہے۔: ’’قد أفلح من تزكي‘‘۔ اللہ رب کریم کا سب سے بڑا انعام ہے کہ ایسے شخص کو کامیابی کا سرٹیفیکیٹ عطا کیا جار ہا ہے۔
سید قطب شہید نے اس آیت کریمہ کو سورۃ البلد کی آیت ۱۰، سورہ الانسان کی آیت ۳، سورۃ ص آیت ٧١،٧٢، سورۃ المدثر آیت ۳۸، سورة الرعد آیت ااسے مربوط کیا ہے اور آخر میں یہ تبصرہ موجود ہے:
”ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ انسانی وجود اپنی تخلیق سے دوہری فطرت، دوہری صلاحیت اور دوہرا رخ رکھنے والا ہے اور زمین کی مٹی سے پیدا ہوا ہے اور خدا نے اس میں اپنی کچھ روح پھونکی ہے، اس لیے وہ خیر و شر اور ہدایت و گم راہی، دونوں کو اپنانے کی یکساں صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا خیر ہے اور کیا شر؟ ان میں تمیز کرنے پر قادر ہے خیر کی طرف رخ کرے یاشر کی طرف، دونوں امور پر اسے یکساں قدرت ہے اور یہ قدرت اس کے وجود کے اندر موجود ہے اسے قرآن کبھی الہام سے تعبیر کرتا ہے: ”و نفس و ما سواها، فألهمها فجورها و تقواها“ قسم نفس انسانی کی اور جیسا کچھ اسے ٹھیک ٹھاک کیا تو اس کو اس کے فجور اور تقوی کا الہام کیا۔ اور کبھی وہ اس کے لیے ہدایت کی تعبیر اختیار کرتا ہے:”و هدینہ النجدین‘‘ اور ہم نے اسے دو راہوں کی ہدایت دی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیز اس کی فطرت میں صلاحیت و استعداد کی شکل میں چھپی ہوئی ہے! دعوت و تبلیغ ، ترغیب و ترہیب اور خارجی عوامل ان صلاحیتوں کو بیدار اور تیز کرنے اور انھیں ادھر یا ادھر متوجہ کرنے اور لگانے کے لیے ہیں، ان صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے لیے نہیں! کیوں کہ یہ صلاحتیں تو اس کی فطرت میں ودیعت ہیں ،طبعاً اس کے اندر موجود ہیں اور خدا نے اس کو ان کا الہام کیا ہے۔

تزکیہ کسی بھی چیز کا ہو سکتا ہے چاہے وہ نباتات و جمادات کی قبیل سے ہو یا انسان و جنات۔ مثلاً کسی نے زمین جوت کر اسے فصل کے لائق بنا دیا پھر اس میں بیچ ڈالا اور کوئی پودا اُگ آیا، کچھ دنوں بعد اس کے ارد گرد گھاس جم گئی جو اس کے لیے نقصان دہ ہے، ایسی صورت میں اس کے آس پاس کی گھاس صاف کر نالازم ہے تا کہ اس پودے کی نشو و نما اچھے ڈھنگ سے ہو سکے۔ یہ صفائی کا عمل ہی تزکیہ ہے۔

عموما جب تزکیہ لفظ بولا جاتا ہے تو ذ ہن اپنے نفس کی جانب چلا جاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ، اس کا مطلب کیا ہے؟ 
واضح رہے تزکیہ نفس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ انسان اپنی ذات سے منکرات و نواہی کی چھٹائی کر کے صرف اللہ اللہ میں لگ جائے؛ بلکہ منکرات و نواہی کا مقابلہ معروف سے ہے۔ یوں تو انسانی زندگی کا حقیقی مقصد ہے تو اللہ کے نازل کردہ احکامات و قوانین کی پیروی کرنا؛ لیکن اس پیروی کا مطلب گوشہ گیری اختیار کر لینا نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ تقاضے ہیں جو انسان کو پورے کرنا ہوں گے۔ انسان کا تعلق ، تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال ، کنبہ و خاندان اور معاشرو و ریاست سے بھی ہونا چاہیے۔ اس میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک، بیوی بچوں کے حقوق کی ادائگی، پڑوسیوں کی خبر گیری معاشرہ میں موجود غریبوں اور یتیموں کی دیکھ ریکھ  اور ریاستی و حکومتی سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا وغیرہ شامل ہیں، ان ذمہ داریوں میں ایک فریضۂ جہاد بھی ہے، جس کے لیے ہر شہری کو بوقت ضرورت تیار رہنا ہوگا اور ہر حال میں اپنا حق لینا ہوگا اور دوسرے کے حقوق دلانا ہوں گے۔

Sunday, May 1, 2022

افسوس نہیں اپنا محاسبہ کرو


محمد امام الدین ندوی
مدرسہ حفظ القرآن، منجیا ، ویشالی

 میں رمضان ہوں ۔چند گھنٹوں کا مہمان ہوں۔میں پابہ رکاب ہوں۔میرا تیس (۳۰)دنوں کا سفر مکمل ہونے کو ہے۔اللہ جانےآئندہ سال تم سے ملاقات ہو یا نہ ہو۔
   میں سال کا انوکھا مہینہ ہوں۔اللہ نے ہر طرح کے خیر سے مجھے گھیردیاہے اور بحر دیا ہے۔اتنا خیر میری دوسری بہنوں کو میسر نہیں ہوا۔اللہ نے روزہ جیسی عظیم عبادت سے مجھے نوازہ۔جس میں بندہ اپنے کو بھوک،وپیاس،اور جائز نفسانی خواہشات سے درمیان روزہ اپنے کو بچاتا ہے۔زبان سے صادر ہونےوالی ہرقسم کی برائیوں سےاپنی زبان کو روکتا ہے۔اپنے اعضاء کی حفاظت کرتا ہے۔
     میری آمد نیکیوں کی بہار ہے۔لوگ کثرت سے نیکی کرتے ہیں۔نیکیوں کےثواب میں اللہ اضافہ کرتاہے۔نوافل کا بدلہ فرض کے برابر،فرض کابدلہ ستر فرض کے برابر ہوجاتا ہے۔لوگ کثرت سے ذکرواذکار، کرتے ہیں 
تسبیحات کی پابندی کرتے ہیں۔درود کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔میں اس اعتبار سے بھی خوش نصیب ہوں کہ نزول قرآن کے لئے اللہ نے میرا ہی انتخاب کیا۔لوگ کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔میرے آتے ہی جنت ہر روز سجتی ہے۔سرکش شیاطین بند کردیئے جاتے ہیں۔میں رحمت ومغفرت اور جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں۔بھوکے رہنے کی وجہ سے بندے کے خالی پیث کی بدبو مشک سے بھی بہتر ہے۔شام میں غروب آفتاب کے وقت لوگ اپنے دستر خوان پر بیٹھتے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں۔مغرب کی اذان کا بے بڑی سےانتظار کرتے ہیں۔اذان سنتے ہی اللہ کی دی ہوئی پاکیزہ نعمتوں سے افطار کرتے ہیں۔یہ سماں صرف میری وجہ سے ہے۔ورنہ غروب آفتاب تو ہردن ہوتاہے۔
     میری آمد نماز تراویح کو لاتی ہے۔نماز تراویح صرف میری خصوصیت ہے۔بندہ قرآن کی تلاوت سنتاہے اور بیس رکعت نماز اضافی اداکرتاہے۔میرے رخصت ہوتے ہی یہ اضافی نماز موقوف ہوجاتی ہے۔میں اعتکاف کبھی باعث ہوں۔بندہ دس روز اپنے مالک حقیقی کا دربان بنا گوشۂ مسجد میں مقید ہوتا ہے۔دوران اعتکاف صرف اپنے رب سے رازو نیاز کی باتیں کرتاہے۔اپنے کو کبھ تلاوت قرآن میں،کبھی ذکرواذکار میں تو کبھی نوافل میں مشغول رکھتاہے۔کبھی لمبی دعاؤں میں رب کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے۔اس پر اللہ اسے مزید انعام سے نوازتا ہے۔
     اللہ تعالٰی نے شب قدر سے میرے دامن کوبھردیاہے۔شب قدر پانچ(۵)بنائی ہے۔یہ آخری عشرے کی پانچ طاق راتیں ہیں۔اور ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس میں شب بیداری قرب خداوندی کا بہتر ذریعہ ہے۔ان راتوں میں بیدار رہنا،اور اپنے کو مختلف عبادتوں میں مشغول رکھنا بڑے ثواب اور نجات کا باعث ہے۔
صدقۂ فطر کی ادائیگی بھی میرے ہی وجود سے وابستہ ہے۔اس سے محتاجوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔لوگ ثواب میں اضافے کی امید میں اپنے مال کی زکوت بھی ادا کرتے ہیں۔
   میرے آنے سے لوگ لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرتے ہیں۔صبر کے دامن کو تھامتے ہیں۔ایک دوسرے سے ہمدردی بڑھاتے ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کی ضیافت کرتے ہیں۔غریبوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
     دیکھو اب میں  چلنے کوتیار ہوں۔میرے جانے پر حسرت وافسوس مت کرنا۔میں دوبارہ آؤں گا۔البتہ تم ملو یا نہ ملو۔میں تمہارے درمیان لمبے دنوں تک ٹھرارہا۔تم نے میری قدر اور عزت کس قدر کی۔میرے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا رہا۔مذکورہ تمام صفتوں کے ساتھ تم نے مجھے گلے لگایا تب تو بہتر ورنہ تمہیں افسوس کرنا چاہئے۔
 افسوس اس پر کرناچاہئے کہ تم تلاوت کے پابند بنے کہ نہیں۔اللہ سے رشتہ مضبوط ہوا کہ نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا جذبہ پیدا ہوا کہ نہیں۔نماز زندگی میں آئی کہ نہیں۔لڑائی جھگڑے،عداوت،دشمنی،بغض،حسد جلن،جھوٹ،چغلی،غیبت،دوسروں کی عیب جوئی،بہتان تراشی،زنگی سے نکلی یانہیں۔معاملات میں صفائی اور صاف گوئی پیدا ہوئی کہ نہیں۔افسوس اس بات پر ہونا چاہئے کہ مجھ سے وابستگی کے باوجود بھی انسانیت آئی یا نہیں۔زندگی کامقصد کیاہے اس باب میں فکر ہوئی کہ نہیں۔
   دیکھو میں تو جانے کو چلاجاؤں گا پر اپنی فکر کرنا۔اپنے رب کو راضی کرنا۔آخرت کو سنوارنا اور سجانا۔اپنے نفس کی غلامی قبول کرنے کی بجائے رب کی غلامی قبول کرنا۔اپنے آخری نبی کی سیرت وصورت اختیار کرنا۔دوست ودشمن سب کے لئے نفع بخش ثابت ہونا۔
    دیکھو زندگی کا چراغ کب،کہاں،کیسے،گل ہو جائے پتہ نہیں پر اپنی زندگی کو اللہ کی بندگی اور رسول کے طریقے پر گزارنا۔اپنے پرائے سب کے لئے دروزۂ دل صاف اور کھلا رکھنا۔امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا خاص خیال رکھنا۔
دیکھو میرا اور تمہارا ساتھ لمبے دنوں تک رہا۔اس میں بھی اچھی خصلت پیدا نہ ہوئی تو بہت افسوس کی بات ہے۔
     دیکھو ہر روز اپنا محاسبہ کرتے رہنا۔گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانہ۔ہر حال میں اپنے رب کو خوش رکھنا۔
   مجھے اس وقت بہت خوشی ہوگی جب تم اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئےجنت میں بنے باب ریان سے داخل ہونا۔
    میری دعاء ہے کہ اللہ تمہیں نیکی کی توفیق دے برائی سے بچنے کی توفیق دے۔کبر وغرور سے دل کو صاف کردے۔آمین۔

Friday, April 15, 2022

اک_جیت_کے_خمار_میں_مارے_گئے_ہیں_ہم



چودھری عدنان علیگ. 

آج جب مسلم تہذیب و شناخت اور اس کے شعور و عمل کو ہر سطح پر سبوتاژ کرتے ہوئے آرتھوڈاکس کمیونسٹ، ھندوتوا لبرل اور ڈاکنسٹ ملحد,ہاتھ سے ہاتھ ملائے نظر آتے ہیں،  ایسے میں ضروری ہے کہ مسلمان آپسی اتحاد و اتفاق پر زور دیں، کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے، آج ایک طرف جہاں آر ایس ایس اپنی مذہبی قدامت پسندی اور پرانی روایات کی تشہیر کررہی ہے، وہی دوسری طرف نیوز چینلس، فلمیں اسلام مخالف پروپیگنڈں کے ذریعہ ھندی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور زہر اگلنے میں مصروف ہیں،
نیوز چینلس نفرت اور زہر افشانی کرکے مسلمانوں کے مستقبل کے لیے گہری تاریک خندق کھود رہے ہیں، وہی دوسری طرف ھندوتوا ذھنیت کے غلام اور دہشت گرد عناصر مسلم ویاپار، تاجر اور دکانداروں کے خلاف نفرت انگیز ماحول بنانے میں مصروف ہیں، ھندو اکثریت مسلم مارکیٹ سے خرید و فروخت کرنے سے گریز کررہی ہے،  اب آپ خود اپنا مستقبل دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے، یہ تو ٹریلر تھا اصل اسکرین پلے ابھی باقی ہے. منصوبوں اور پروپیگنڈوں کا پلاٹ دیکھ کر آپ اصل کہانی کا کلائ میکس اور معاون کردار بخوبی پہنچانے سکتے ہیں..
افسوس ان لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلمان ہوکر معاون علی الشرک بنے بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن لوگوں نے لبرلزم، سیکولزم اور حب الوطنی کے نام پر پہلے چراغاں کیا اور اب ہولی، دیوالی، نیوراتری جیسے گندے شرکیہ اعمال میں ملوث مشرکین و کفار کی خدمت میں لگے ہوئے  تھے، سڑکوں پر شربت کی بارش کررہے تھے، ایسے لوگوں  کو بس اتنا سمجھ لینا ہی کافی ہوگا کہ جب بھی آپکے علاقے میں ھندوتوا دہشتگردی کی لپٹیں پہنچیں گی تو آپکو ان لپٹوں میں دکھیلنے والا آپکا پڑوسی کمار، شنکر، وجے ہی ہوگا جسکی کل آپ نے شربت کے ساتھ مہمان نوازی کی تھی. 
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھائ چارہ کا گیت تو گاتے ہیں لیکن حالات کی نزاکت کو نھی سمجھتے، ہمکو اسپین کی تاریخ پڑھ کر کچھ سبق لے لینا چاہیے کہ کس طرح وہاں دھیرے دھیرے مسلم مخالف سازشوں نے اپنے پنجے جمائے تھے، جسکی عکاسی آج کے ھندوستان کے حالات بخوبی کررہے ہیں، 
آپ خود سوچیں کہ سیکولرازم کا بھوت سوار کیے ایک صدی گزر گیی، گنگا جمنی تہذیب کا علم تھامے ایک نسل گزر گیی کیا اب تک آپ کامیاب ہو پائے، پوچھیں خود سے، سوال کیجیے، اپنا احتساب کیجیے، جائزہ لیجیے، اور آج کے سرخ  ھندوستان کے سیاہ آئینے میں اپنا مستقبل دیکھیے، میں تو کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو محض مشرکین کی دس منٹ کی جھوٹی تعریفیں بٹورنے کے چکر میں شرکیہ اعمال میں معاون بن جاتے ہیں وہ قابلِ مذمت اور قابلِ توہین ہیں، کیونکہ اسلام میں شرک کی کہیں بھی کسی بھی حالت میں گنجائش نھی، وہ وحدانیت پر قائم ہے اور جو وحدانیت پر قائم ہے وہی دراصل مسلمان اور مومن ہے، اور نصرتِ الہی صرف مومنین کے لیے آتی ہے منافقین اور ایمان فروشوں کے لیے نھی.
ایک ایسا وقت جب قوم پر ھند کی زمین تنگ کی جارہی ہے ، مایوسی اور نا امیدی کے بادل اس قدر گہرے ہوتے جارہے ہیں کہ قوم کے باشعور نوجوان معاشی پسماندگی، تعلیمی انحطاط اور ذہنی غلامی کے عادی ہو چکے ہیں ، ایسے وقت میں تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے لوگوں کو متحد ہوکر ایک لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، جس طرح ھندوتوا دہشتگرد نئے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ اپنے رنگ بدل رہا ہے، ہر دن کی ایک نئ کہانی ہے  تو کیا تمام مسلم اسکالرز اور مسلم ائمہ کی ذمہ داری نھی بنتی کہ مساجد کے ممبران سے قوم کے نوجوان کو حالات سے واقف کرائے، مسلم ویاپاری، مسلم تاجروں اور دکانداروں سے زیادہ خریدو فروخت کی ترجیح دی جائے، بزنیس شراکت میں بھی مسلم شریک اور پارٹنر کا تعین ضروری سمجھا جائے، جابس اور روزگار میں مسلم نوجوانوں کو زیادہ ترجیح دی جائے، جب ایک سنگھی ایچ آر (HR) ، ایک سنگھی مینجر مسلم امیدوار کو چہرہ اور نام دیکھ کر رجیکٹ کردیتا ہے تو مسلم مینجر، مسلم ایچ آر کو بھی یہی پالیسی اپنانی چاہیے، کیوں سیکولرازم کا ٹھیکہ تم نے لیا ہوا ہے، کیا ھندو پڑھ لکھ کر متعصب نھی ہوجاتا، کیا ھندو آفیسر بننے کے بعد مسلم مخالف سوچ کا حامل نھی ہوجاتا، تو کیوں مسلمان پڑھ لکھ کر سیکولر بن جاتا ہے، جتنا پڑھتا ہے  اتنا ہی لبرل اتنا ہی سیکولر اتنا ہی دینی حمیت سے دور، کیوں؟ کیا خود کو بنا لینا خود کو سیٹل کرلینا ہی اصل زندگی کا مقصد ہے، کیا قوم کی فکر، ملی شعور مولویوں کی ذمہ داری ہے بس؟ جنکے پاس نہ وسائل ہیں نہ طاقت ہے نہ پیسہ، کیوں ہمارا پڑھا لکھا طبقہ، معاشرے میں کامیاب سمجھا جانے والا پروفیشنل طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے منھ پھیرے بیٹھا ہے، کیوں عوام  ان کے جوتے نھی مارتی، کیوں لوگ انکو نھی کوستے؟ میرے نزدیک قومی تباہی اور ملی انحطاط کا ذمہ دار قوم کا ہر ایک فرد ہے میں بھی ہوں آپ بھی ہیں، ہماری قوم کا ہر ایک ڈاکٹر بھی ہے ہر ایک انجینیر بھی ہے، ہر ایک بزنیس مین بھی ہے، سب کے سب برابر کے مجرم ہیں، اور اگر ہم نے ابھی بھی اپنی اصلاح نھی کی تو یاد رکھیں کہ ابھی ھندوستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے،مسلم قوم کا مستقبل کیا ہونے والا ہے صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے، امت انحطاط وزوال، اور ذھنی شرودیت،اور علمی عملی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے، تاریخی اوراق میں صاف لفظوں میں لکھا جائگا کہ جب ھند کی بنجر زمین پر مسلم قوم کو اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت تھی، اس وقت قوم سے پہلے قوم کا کل اثاثہ اور انکی قیادت ذھنی غلامی کے ساتھ ساتھ علمی،عملی پسماندگی کا شکار ہو چکی تھی، علماء وراثت اور جاگیرداری کی خستہ چادر اوڑھ کر افسانوی شتر مرغ کی طرح  خود کو روحانیت وتقدس کے لبادہ میں چھپائے بیٹھے تھے.، اور جو لوگ اس وقت روحانیت کے دیوتاؤں کی عظمت گزشتہ اور انکے جھوٹے سرکاری تقدس کی خاطر، متحرک اور فعال نوجوانوں اور اہلِ علم کی فکروں پر بندشیں لگانے کی گھٹیہ کاوشیں کررہے تھے وہی در اصل اپنی اور قوم کی اموات کے محضر نامے پر دستخط کرنے کا کام انجام دے رہے تھے ، یہی سچ ہے یہی حق ہے. اگر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی فکر ہے تو اس کشتی میں سب کو سوار ہونا پڑیگا، اس نفرت کی جنگ کو متحد ہوکر سب کو لڑنا پڑیگا، ورنہ یاد رکھیں ایک دن نہ آپ بچیں گے نہ آپکی نسلیں اور نہ آپکا رتبہ، نہ آپکی پوزیشن اور نہ آپکی عزت و آبرو، ابھی وقت اشارہ کررہا ہے کہ ایک مضبوط اتحادی فوج کی تشکیل کی جائے ، متحد اور موحد و مومنین بنا جائے، مسلم نوجوان جو دیگر ممالک میں اچھی اور بہترین پوزیشن پر فائز ہیں انکی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی قلمی زبانی علمی اور عملی طاقت سے وہاں کے لوگوں کو ھندوستان کے حالات سے واقف کرائیں، دنیا کو یہاں کی خونریزی، قتل و غارت گری، عصمت دری اور انسانی استحصال سے روبرو کرائیں، ہمارے مساجد کے ائمہ اکرام لوگوں کو یہ تنبیہ کریں کہ جب مسلم رکشہ والوں اور مسلم حجام اور مسلم دکانداروں کا ھندو کھل کر بائیکاٹ کررہے ہیں تو مسلم برادری بھی اپنے آس پاس کے مسلم دکانداروں سے ہی خریدو فروخت کرے، ھندو دہشتگرد اور نفرت کے پجاریوں کا کھلا بائیکاٹ کیا جائے ایک چھوٹا سا سامان بھی ان سے نہ خریدا جائے، ایک حد تک برداشت جائز ہے لیکن حد سے زیادہ ظلم سہنا اور برداشت کرنا خود اپنے اپر ظلم کرنے میں شمار ہوتا ہے، اب یا تو خود کے لیے ظالم بن جاؤ یا نفرت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجاؤ یہ دو آپشن بھی ابھی ہیں ایک وقت بعد یہ آپشن بھی آپ کے بساط سے باہر ہوں گے.
خدا کرے کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات.

Tuesday, April 12, 2022

میں رمضان ہوں میرا احترام کرو


محمد امام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی 

میں رمضان ہوں۔اسلامی کیلینڈر کا
 نواں مہینہ ہوں۔میں خیرکثیر لیکر آیاہوں۔
میری آمد سے مسجدوں میں بہار آجاتی ہے۔ہر سو چہل پہل نظرآتی ہے ۔خردوکلاں سب خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہیں۔میری آمد تراویح کو جنم دیتی ہے۔لوگ امام کی اقتداء میں مکمل قرآن سنتے ہیں۔میں رحمت،ومغفرت،اور جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں۔میرے ابتدائی دس دن باعث رحمت ہیں۔اسے لوگ پہلا عشرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔دوسرےدس دن باعث مغفرت ہیں۔اسے لوگ دوسرا عشرہ کہتے ہیں۔اور تیسرے دس دن جہنم سے چھٹکارے کےہیں۔اسےلوگ آخری عشرہ کہتے ہیں۔
    میں خیر کثیر لیکر آتا ہوں۔جو میرے سایہ میں ایک فرض نماز ادا کرتاہے اللہ اسے ستر(70)نمازوں کے برابر ثواب دیتا ہے۔جو ایک نفل ادا کرتا ہے اسے عام دنوں کے فرض کے برابر ثواب ملتا ہے۔میرا ہر پل قیمتی ہے۔عقل والے مجھے ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ایک ایک پل کو غنیمت سمجھتے ہیں اور کام میں لاتے ہیں۔
  میرے آنے سے ایک اہم عبادت اور اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون روزہ کی ابتداء ہوتی ہے۔روزہ عبد ومعبود کا ذاتی معاملہ ہے۔ظاہری  اعضاء سے اس عبادت کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔
بندہ ہی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔کون روزہ ہے اور کون نہیں اس کا پتہ لگانا ممکن نہیں ہے۔روزہ کا بدلہ اللہ خود دیتا ہے یا اللہ خود ہی بدلہ ہوجاتا ہے۔روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے افضل ہے۔روزہ دار جائز خواہشات کی تکمیل سے اپنے کو روکتا ہے۔روزہ نہ رکھنے والوں کے حق میں بڑی وعید آئی ہے۔روزہ دار کودخول جنت کے لئےخاص دروازہ ہے جس کانام باب الریان ہے۔افطار کے وقت روزہ دار کی دعاء قبول ہوتی ہے۔افطار کے وقت کاسماں بھی عجب ہوتا ہے۔یہ قابل دید وقابل رشک ہوتا ہے۔روزہ دار کے سامنے انواع و اقسام کی چیزیں دسترخوان کی زینت ہوتی ہیں پر روزہ دار اسے قبل از وقت ہاتھ بھی نہیں لگاتا ہے۔
       میرے آخری عشرہ میں اعتکاف جیسی عظیم نعمت ہے۔معتکف کے لئے بڑی خوش خبری ہے۔معتکف اللہ کے گھر اللہ کا مہمان ہوتاہے۔میرے اختتام پر وہ اپنے گھر لوٹتا ہے۔میں شب قدر کو بھی لاتا ہوں۔میرے آخری عشرے کی طاق راتیں( ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹،)شب قدر کی ہیں۔ان راتوں میں بیدار رہنا اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا بڑے ثواب کا کام ہے۔اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی رات سے افضل ہے۔
    مجھےلوگ غم خواری،صلہ رحمی،کا مہینہ بھی کہتےہیں۔اس لئے لوگوں کو اپنےاور اپنے بچوں کی طرف سےصدقہ فطر اداکرنے کا حکم دیاگیا ہے۔تاکہ غریبوں،محتاجوں،بیواؤں،یتیموں،
ضرورت مندوں،کی خوشی پھیکی نہ ہو۔ان کی عید بھی حقیقی عید بن جائے۔میرے آتے ہی اہل ثروت وتجارت اپنے مال کا حساب لگاتے ہیں اور زکوت ادا کرتے ہیں۔اس سے بھی ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔
   میں از ابتداء تاانتہا خیر ہی خیر ہوں۔میرے قدرداں میرے آنے سے بہت خوش ہوتے ہیں اور میرے جانے سے مایوس واداس ہوجاتے ہیں۔میرے دامن شب میں سحری رکھی گئی ہے۔سحری نبی صلعم کی سنت ہے۔یہودیوں کی مخالفت ہے۔روزہ دار اس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔سحری میں کچھ نہ کچھ ضرور کھاتے ہیں۔میری شام بہت انمول ہے۔اس میں افطار کا خاص مقام ہے۔افطار کرنا اور کرانا باعث برکت ہے۔دوسروں کو افطار کرانے کا بڑا ثواب ہے۔روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی ہے۔اس لئے لوگوں کو اپنے پڑوسیوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ایسا  نہ ہو کہ بعض لوگوں کے دسترخوان انواع و اقسام کے کھانے پینے کی لذیذ چیزوں سے مزین ہوں اور بعد افطار بچے کھچے سامان کوڑے کے نذر ہو جائے اور بغل کاپڑوسی صرف پانی پر اکتفا کرے۔
   میں صبر کا مہینہ ہوں۔ہرطرح کا صبر مجھ میں شامل ہے۔کھانا ترک کرنا۔لڑائی جھگڑا بند کرنا۔نفسانی خواہشات قربان کرنا۔زبان کو چغلی،غیبت،جھوٹ،گالی گلوج،لایعنی باتوں،سے باز رکھنا۔
    میں نیکیوں کا موسم بہار ہوں۔ذکرواذکار، درود پاک کی کثرت، سے میرے متعلقین اپنے دل کو منور کرتے ہیں۔کثرت استغفار سے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں۔
 میرا تذکرہ قرآن میں ہے۔  میں نزول قرآن کا مہینہ ہوں۔اس لئے لوگ تلاوت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔رات میں تراویح کی شکل میں قرآن سنتے ہیں۔
    میں ۲۹یا ۳۰ دن کے لئے آتا ہوں۔جو میری اہمیت سمجھتے ہیں ان کا ہرلمحہ،ہر پل،میرے ساتھ گذرتا ہے۔جو مجھ سے سچی عقیدت ومحبت رکھتے ہیں وہ ہرحال میں میرا احترام کرتے ہیں۔
کچھ ایسے بھی محروم القسمت ہیں جن کےنزدیک  میری کوئی وقعت نہیں ہے۔میری آمد سے اسے پریشانی ہوتی ہے۔ایسے لوگ اپنی آخرت برباد کرتےہیں۔
   میری زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔جو اپنےقیمتی وقت کو لہو ولعب سے بچا کر یاد خدا میں صرف کرتاہے اور روزہ رکھتا ہےدام تقوی میں وہ گرفتار ہوجاتاہے۔
    پتہ نہیں آئندہ سال کون رہے یا دنیا کو الوداع کہ دے۔یا زندہ ہو پر روزہ رکھنے کا اہل نہ ہو۔ویسےمیرا تو آنا جانا لگا ہی رہے گا۔میری نصیحت مانو ۔میرا مکمل احترام کرو۔ میری ناقدری نہ کرو۔
  تراویح کی پابندی کرو۔سبحان اللہ، الحمدللہ،اللہ اکبر،لاحول ولاقوۃ الاباللہ،استغفراللہ،سےاپنی زبان کوترو تازہ رکھو۔اپنے نبی پر درود شریف کثرت سے پڑھو۔تلاوت کی پابندی کرو۔اپنی وسعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کرو۔تہجد کا خاص اہتمام کرو۔اپنے گناہوں پرندامت کے آنسو بہاؤ۔زبان کو بری باتوں سے بچالو۔کان کو بیہودہ باتیں سننے سے باز رکھو۔آنکھوں کی حفاظت کرو۔اپنے حلق میں حلال لقمہ ڈالو۔چاہے ایک ہی نوالہ کیوں نہ ہو۔اپنے نفسانی خواہشات  کو مرضیات خالق پے چلاؤ۔نفس کشی کرو۔افطار میں پہلے کھجور،یا پانی کو ترجیح دو پھر اس کے بعد اللہ کی دی ہوئی دیگر نعمتوں کو ہاتھ لگاؤ۔
   میں ۲۹/یا ۳۰/کو چلاجاؤں گا۔میرا دیا ہوا یہ سبق آخری سانس تک یاد رکھواوراپنی زندگی میں اتارو۔ایسا نہ ہو کہ میرے جانے کےبعد زندگی پہلی حالت پر چلی جائے۔ یہ روٹین پوری زندگی کے لئے مفیداورکارگرہے۔اس سے پہلوتہی زیبا نہیں۔اس وقت کا منظر کتنا حسین ہوگا جب تم باب ریان سے گزرو گے۔تمہارا رب خود تمہارے لئے روزے کا بدلہ بن جائے گا۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...