Translate

Tuesday, December 3, 2024

سب سے زیادہ محبت کس سے ؟مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپور

سب سے زیادہ محبت کس سے ؟
مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی 
جمشیدپور 


انسان کو طبعی طور پر سب سے زیادہ محبت اپنے آپ سے ہوتی ہے،غور  کیجیئے، دوسرے سے  بھی ہم محبت  کرتے ہیں تو اسی لۓ کہ وہ بھی ہم سے محبت کرے،کوئ ہنر،کوئ خوبی  اللہ نے دے رکھی ہے تو اس کے اظہار میں بھی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ مجھے پہچان لیں، کوئی میری تعریف کرتا ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں حتی کہ میرے بچوں  کی کوئ تعریف کردے تو یہ بھی ہماری خواہش کے عین  مطابق ہوتی ہے حتی کہ جنت کے حصول کی تمنا بھی اسی لۓ ہوتی ہے کہ ہمیں ابدی اور اخروی زندگی میں ہمیشہ کاآرام ہو،حالانکہ جنت کی طلب  اور جہنم سے پناہ مانگنا نہ غلط اور نہ کسی مقام کے خلاف بات ہے ،
اور محبت مجازی کی تو  بات ہی رہنے دیجیے کہ وہ تو ہوتی ہی  ہے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے چاہے اس پر پاکیزہ محبت وغیرہ کے جتنے بھی حسین عنوان لگادیے جائیں 
اور یہ  بات طبعی طور پر ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں  پائی جاتی ہے اور یہ کوئی خلاف طبیعت یا عقل سے مستبعد بات بھی نہیں، لیکن شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی اس طبعی چاہت کو اللہ کی محبت پر قربان کرے،یہاں تک قربان کرنے کی کوشش کرے کہ ذات خداوندی ہی کی رضا میں اس کی رضا ہو ،انھیں کی خوشی میں اس کی خوشی ہو ،جنت سے بھی زیادہ جنت کے مالک کا دیدار ولقا اس کا مطلوب ہو،جیسا کہ حضرت رابعہ بصریہ کے واقعے میں اس طرح کی کیفیت کا ذکر آتا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے سب سے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پہ قربان کرے  اور یہ طبعی محبت عقلی اور اختیاری محبت کے سامنے مغلوب ہو جائے،اسی مضمون  کو" والذين امنوا والذين امنوا اشد حبا لله "(بقرہ:165 اور جو مؤمن ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ قوی محبت ہے)کی آیت میں اور " لا يؤمن احدكم  حتى أكون احب اليه من والده وولده والناس أجمعين"(بخاری:15  تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کے بچے اور دنیا تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)
 والی حدیث میں  بیان کیا گیا ہے
محبت ہی میں پوشیدہ دو عالم کی سعادت ہے
محبت ہی کو ہم اس زیست کا حاصل سمجھتے ہیں 
کیونکہ ہمارا وجود  اللہ کے فضل وکرم کا مظہر ہے، ان کا کرم نہ ہوتا تو سرے سے ہمارا وجود ہی نہ ہوتا ،پھر اس کے بعد وحی الٰہی کو ہم تک پہنچانے والے ،ہماری تکلیفوں  پر بے چینو بے قرار ہو جانے والے،ہماری ہدایت کے بھوکے  اور مومنوں کے لۓ رؤوف ورحیم ، اور سراپا احسان ،و پیکر حسن وجمال خواجۂ کونین  اللہ کے آخری اور دلارے نبی جی ہیں  تو ہمیں آپ سے محبت ہونی چاہیے اور محبت الٰہی اور عشق نبی ہی پھر انسان کی زندگی میں معجزے دکھاتی ہے،جیسا کہ اصحاب نبی، بوبکر وعمر،عثمان وعلی،زبیر وطلحہ،عبدالرحمن وسعید،اور سعد وابو عبیدہ کی زندگیاں زہد و ورع عدل و انصاف،سخاوت و شجاعت فتح وفیروزمندی اور امانت و دیانت کے محیر العقول واقعات وکرامات سے بھری ہوئ ہے اور اب بھی اللہ ورسول کے سچے عاشقوں اور صحابہ کی راہ چلنے والے غازیوں اور فلسطین کے جیالوں کی زندگیاں ایمانی فتوحات سے لبریز ہیں،سچ ہے 

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں 
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار
 ✍️ ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
 استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

 قرآن مجید "أبوّۃ" یعنی اولاد کے ساتھ باپ کے رشتہ کو انسانی رشتوں میں سب سے مضبوط اور اہم تعلق کے طورپر پیش کرتا ہے، باپ پر ہی پر مادی اور معنوی حقوق و فرائض کا دارومدار ہوتا ہے، گو کہ اس تعلق سے انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لیکن باپ ہونا حقیقت میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت اورخصوصی عطیہ ہے، جیسا کہ رحمن کے خاص بندوں کی دعاؤں میں ایک دعا اپنے تئیں نیک وصالح اولاد کے باپ ہونے کی بھی ہے: "رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ" (الفرقان: ۷۴) (اے ہمارے رب!ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرمادیجئے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں)، قرآنی نمونوں میں سب سے مقدس نمونہ کبر سنی میں حضرت براہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کا خدا کے حضور اولاد کی عاجزانہ طلب ہے، اور بارگاہ خداوندی سے اس کی بشارتوں کا فیضان ہے۔ 

 باپ ایک ایسا لفظ جو صرف تین حروف پر مشتمل ہے؛ لیکن اس کے معنی کی گہرائی سمندر کی وسعتوں کو شرمندہ کر تی ہے، باپ محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک سایہ دار شجر، ایک مضبوط دیوار، اور ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، یہ اس شخصیت کا نام ہے جو اپنی ذات کی چمک کو ماند کر کے اولاد کے لیے روشن راہوں کی ضمانت دیتی ہے، اگر ماں کی محبت نرم شفق جیسی ہے، تو باپ کی محبت چھاؤں کی مانند ہے، وہ اپنی مشکل چھپائے اولاد کے دکھ سمیٹتا ہے، باپ کا کردار ہمیشہ سے ایک ان کہی داستان رہا ہے، وہ داستان جو روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گم ہو جاتی ہے؛ لیکن اس کے بغیر زندگی کے کسی باب کا آغاز ممکن نہیں، باپ وہ معمار ہے، جو اپنے خون پسینے سے نسلوں کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرتا ہے، اس کی خاموش دعائیں اولاد کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں، اور اس کے دل میں پنہاں امیدیں دنیا کے بڑے بڑےخزانوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، باپ کی محبت کو سمجھنا آسان نہیں، یہ محبت ماں کی طرح اظہار کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان خاموش قربانیوں میں چھپی ہوتی ہے جو وہ ہر دن پیش کرتا ہے۔

 باپ اپنی خواہشات کو مٹا کر اولاد کی خواہشات کو پروان چڑھاتا ہے، اپنے پیروں کے جوتے گھس کر وہ اپنے بچوں کے لیے نئے جوتے خریدتا ہے، اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی اور جسم پر مشقت کی نشانیاں اس کی محبت کی گواہی دیتی ہیں، لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتا، باپ ایک رہنما، ایک مشیر، اور ایک محافظ ہے، وہ زندگی کے نشیب و فراز میں اولاد کو رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اپنی حکمت وبصیرت کے ذریعہ ان کے مسائل کا حل نکالتا ہے، اگرچہ وہ سخت گیر نظر آ سکتا ہے، لیکن اس کی سختی دراصل اس کی محبت کا دوسرا رخ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو، اور اسی لیے وہ انہیں مضبوط بننے کی تربیت دیتا ہے، باپ کی کہانی صرف موجودہ وقت کی نہیں، بلکہ یہ ماضی، حال، اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہے، وہ اپنے آبا و اجداد کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اپنی اولاد کو ان کی جڑوں سے جوڑتا ہے، وہ وقت کے بدلتے دھارے میں اپنی نسل کو ایسا بیج دیتا ہے جو زمین کی سختی اور ہوا کی شدت کے باوجود اپنی جگہ قائم رہ سکے، باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی فراہمی تک محدود نہیں، وہ اولاد کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا ہے، اس کی خوشی ان خاص لمحات میں چھپی ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو کامیاب اور مطمئن دیکھتا ہے، باپ کا کردار نسلوں کی تعمیر کا ضامن ہے، وہ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے ایک ستون ہے بلکہ معاشرہ کے لیے بھی ایک مثال ہے، باپ یعنی ایسی روشنی جو اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، ایک ایسا سائبان جو زندگی کےسرد وگرم کو برداشت کر کے اپنے بچوں کو سکون فراہم کرتا ہے، اورایک ایسا کوہ استقامت جو طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کی نسل محفوظ رہے، باپ کے بغیر زندگی کی تصویر نامکمل ہے، وہ حالات کی سنگلاخ زمینوں میں دفن ایک ایسی بنیاد ہے جو ہر کامیابی، ہر خوشی، اور ہر سکون کا ذریعہ ہے، باپ کا وجود نعمت ہے، اس کا سایہ سکون ہے، اور اس کی محبت دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے، اس ہستی کا شکر ادا کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے سمجھنا اور اس کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہر فرد کا فرض ہے، لفظ"أب" کا اصل مطلب ہی تیاری اور ارادہ کرنا ہے، عربی زبان میں کہا جاتا ہے: "أبّ الرجل"، یعنی وہ شخص جو کسی عمل یا مقام کی طرف تیاری کرے یا قصد کرے، اسی طرح اس لفظ کا مطلب وطن کی جانب رجوع کرنا بھی ہے، لسان العرب کے مطابق، "أبوة" اصل ثلاثی (أبى) سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "امتناع" یعنی کسی چیز سے رک جانا یا پرہیز کرنا یا تحفظ اور حمایت فراہم کرنا، اس طرح "أبوة" کا مطلب معاشرتی اور تربیتی حوالہ سے تیاری اور ارادہ بھی ہو سکتا ہے، اور وہ تحفظ اور حمایت بھی جو باپ اپنی اولاد کو فراہم کرتا ہے۔

 اصطلاحی طور پر باپ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ "وہ انسان جس کے ذریعہ سے دوسرا انسان پیدا ہوا" جیسا کہ کفوی نے لکھا ہے، جب کہ مناوی کے مطابق" باپ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے وجود، اصلاح یا ظہور کا ذریعہ ہو"، لغت کے ماہرین نے "أب" اور "والد" کے درمیان فرق کیا ہے، "أب" کا مفہوم "والد" سے زیادہ وسیع ہے؛ کیوںکہ "أب" کا اطلاق بچے کے والد، دادا اور چچا پر بھی ہوتا ہے، جب کہ "والد" صرف بچے کے حقیقی والد کو کہا جاتا ہے، "أبوة" ایک وسیع تر معنوی رشتہ ہے، جو والدین کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اور عقیدے سے جڑا ہوا تعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "أبوالانبیاء" کہا گیا،قرآن کریم میں "أبوة" کا ذکر تقریباً ۱۱۷ مرتبہ مختلف صیغوں میں ہوا ہے، مثلاً مفرد، تثنیہ اور جمع کی شکل میں، اس کی مثالیں قرآن میں یوں ملتی ہیں: "قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ" (یوسف: 78) اور:"فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى، قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ، سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ‘‘(الصافات: 102)، یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قرآن کریم میں "أب" کے ذکر سے باپ کے معنوی اور حقیقی دونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
 قرآن مجید میں "أب" کا استعمال متعدد سیاق و سباق میں ہوا ہے، قرآن میں والد، دادا اور چچا تینوں معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثال کے طور پر، والد کے طور پر ارشاد ہوا: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَبِيهِ" (عبس: 34)، دادایا جد امجد یا انہیں کی مانند انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر ذکر آیا: "مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ" (الحج: 78)، چچا کے طور پر مثلاً حضرت اسماعیلؑ کو حضرت یعقوب ؑکا "أب" کہا گیا: "نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ" (البقرہ: 133)،قرآن میں "أب" کا ذکر اکثر احترام اور اولاد پر ان کی اطاعت کو واجب قرار دئیے جانے کے پس منظر میں آتا ہے، جیسا کہ حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں نے حضرت موسیٰؑ سے بات کرتے ہوئے کہا: "وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ" (القصص: 23)، اسی طرح حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے حاکم مصر حضرت یوسفؑ سے کہا: "إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا" (یوسف: 78)۔  

 ڈاکٹر فاضل السامرائی کے مطابق، قرآن مجید باپ اور ماں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دو مختلف الفاظ استعمال کرتا ہے:"الأبوين" اور"الوالدين"، "الأبوين" کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہو، جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے: "وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ" (یوسف: 100)،یہاں ماں کے مقابلہ میں باپ کا ذکر پہلے آیا؛ کیوں کہ ان مواقع پر باپ کی حیثیت کو مقدم سمجھا گیا، "الوالدين" کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں ماں کی قربانیوں اور خدمات کو نمایاں کیا گیا ہو، جیسے کہ اس آیت میں: "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (البقرہ: 83)، یہاں حمل اور تربیت میں ہونے والی ماں کی مشقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت دی گئی، ڈاکٹر السامرائی مزید کہتے ہیں کہ قرآن مجید رشتوں کی ترتیب کو ان کی قوت کے لحاظ سے طے کرتا ہے، اور اس حوالہ سے باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اولاد کو مدد اور تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ ماں عمومی طور پر کمزور ہوتی ہے اور اسے خود مدد کی ضرورت ہوتی ہے؛ اسی لیے قیامت کے دن انسان کے بھاگنے کی ترتیب میں پہلے بھائی، پھر ماں اور اس کے بعد باپ کا ذکر آیا ہے: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ" (عبس: 34)، یہ آیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو قیامت کے دن اپنے باپ کی ضرورت زیادہ محسوس ہوگی؛ اسی لیے ماں سے فرار کا ذکر باپ سے پہلے آیا۔

 یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ باپ کے ساتھ احترام کا تعلق تمام اولاد پر ہر حال میں واجب ہے، قرآن مجید نے باپ کی کئی خصوصیات کو بیان کیا ہے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صالحیت باپ کے رشتہ کی ایک بنیادی صفت ہے، قرآن میں صالح باپ کے کئی نمونے پیش کیے گئے ہیں، جیسے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ اور لقمان، اس کے برخلاف، آزر کا کردار غیر صالح والد کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باپ کا اصل کردار تربیت، رہنمائی اور محبت پر مبنی ہوتا ہے، قرآن مجید میں باپ کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ایمان وعمل کی نصیحت کی، جب کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو عقیدے اور اخلاق کی تعلیم دی، یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہے، قرآن میں باپ کے کردار کو محبت اور قربانی کے حوالہ سے بھی پیش کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کے لیے قربانی دینے کا فیصلہ کیا، جو ان کی محبت اور اللہ کے حکم کی اطاعت کا مظہر تھا، اسی طرح حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے آخری لمحے تک کوشش کی، قرآن میں باپ کے کردار کو حکمت اور مکالموں کے ذریعے بھی نمایاں کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ نے اپنی اولاد سے بات چیت میں حکمت اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ باپ کو اولاد کے ساتھ گفتگو میں حکمت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
 قرآن مجید نے حضرت یعقوبؑ کو ایک مثالی باپ کے طور پر پیش کیا ہے، ان کی خصوصیات میں صالح خاندان سے تعلق، اولاد کی محبت، دور اندیشی، اور مشکلات کے باوجود صبرو حکمت سے کام لینا شامل ہیں، حضرت یعقوب ؑنے اپنی اولاد کے ساتھ محبت اور احترام کا رویہ اپنایا، جیسا کہ ان کے بیٹوں کے لیے دعا اور نصیحت کے واقعات سے واضح ہوتا ہے، انہوں نے تحمل اور دعاؤں کے ذریعہ اپنے بچوں کی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی، جو ایک مثالی باپ کی خصوصیات میں ہیں، قرآن مجید میں باپ کے کردار کو ایک مقدس اور ذمہ دارانہ حیثیت دی گئی ہے، صالح والدین کے قرآنی نمونے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ باپ کا کردار اولاد کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت میں کس قدر اہم ہے، یہ نمونے نہ صرف ایک فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں، گویاوالد کا وجود قرآن کی زبان میں محبت، حکمت اور قربانی کی ایک خاموش داستان ہے، وہ ایک شجر سایہ دار ہے، جس کی جڑیں دعاؤں میں پیوست اور شاخیں قربانیوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، والد کا مقام الفاظ کی گرفت سے باہر ہے، جہاں ہر لمحہ قربانی اور ہر سانس رہنمائی کا استعارہ ہے، یہی وہ مقام ہے جو قرآن نے والد کو عطا کیا، اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی نسل در نسل بکھرتی رہتی ہے، طاہر شہیر کا یہ شعر خوب ہے:
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے✨✨

Monday, December 2, 2024

آپ کا اختلاف تعمیری ہو تخریبی نہیں ! مولانا محمد قمر الزماں ندوی

آپ کا اختلاف تعمیری ہو تخریبی نہیں ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فکر و نظر کا اختلاف ایک فطری امر ہے،اختلاف ہونا اور پایا جانا ضروری ہے ،ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ لوگوں میں فکر و نظر اور عقل و شعور کا اختلاف نہ ہو ، کیوں کہ تمام انسانوں کو ایک ہی شکل اور رنگ و روپ پر پیدا نہیں کیا گیا ہے، بلکہ تمام انسانوں کی شکل و صورت رنگ و روپ اور جسمانی طاقت و قوت میں پیدائشی اختلاف اور فرق و تفاوت پایا جاتا ہے ۔اسی طرح سے مختلف انسانوں کے درمیان عقل و شعور فکر و نظر اور غور و خوض کی صلاحیتوں اور مدارج میں فرق پایا جانا بالکل فطری امر ہے ۔ یاد رہے جس طرح سے ہماری زبان ہمارے رنگ اور ہماری جسمانی ساخت کا مختلف ہونا خدا کے وجود کی دلیل اور علامت ہے ۔اسی طرح سے ہماری عقلی صلاحیتوں اور ذہنی ساختوں اور ان کے نتائج میں اختلاف پایا جانا، خدا کے وجود کی عظیم تر نشانی اور دلیل ہے ۔یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر انسان کی تخلیق  کسی خالق حکیم کے بغیر خود بخود وجود میں آجاتی تو تمام انسانوں کے رنگ اور شکل کی یکسانیت کے ساتھ ان کی ذہنی و فکری ساخت بھی یکساں ہوتی اور پھر انسانی زندگی ارتقاء و ارتفاع کے بجائے جمود و تعطل کا شکار ہوکر رہ جاتی ۔اس لیے ذہن و دماغ اور عقل و شعور کے مدارج کا مختلف ہونا ایک طرف خدا کی قدرت کاملہ کی ایک واضح دلیل اور بین ثبوت ہے، تو دوسری طرف یہ اختلاف کائنات کی تعمیر و ترقی،وجود انسانی کے ارتقاء اور زندگی کی بقا و تعمیر کے لیے لازمی و ضروری ہے ۔
  ان تفصیلات کا حاصل اور خلاصہ یہ نکلا کہ اختلاف فکر و نظر ایک ضروری اور فطری امر ہے ،اور یہ محمود ہے ،مبغوض اور ناپسندیدہ نہیں ۔
البتہ اس بات پر غور کرنا اور نظر رکھنا ضروری ہے کہ اس فطری اختلاف کے حدود اور درجات کیا ہوں اور اسکا دائرئہ کار کیا ہو ؟ 
  اگر اختلاف رائے ذاتی مفاد ،شخصی اغراض مادی منفعت یا حظ نفس کے لیے ہو، تو وہ ناجائز اور غیر محمود ہے ،اس طرح کے اختلاف کو کتاب و سنت اور شریعت کی تعبیر و اصطلاح میں ھویٰ کہا گیا ہے اور ھویٰ گمراہی و ضلالت کا سر چشمہ اور فساد و کرپشن کا منبع ہے ۔ تاریخ انسانی شاہد اور گواہ ہے کہ جب کوئی قوم، سماج اور معاشرہ ھویٰ اور نفسانیت کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کو زوال و انحطاط پستی و تنزلی ادبار و تخلف سے نہیں بچایا جاسکتا ، جب اختلاف نفسانیت اور انانینت کی بنیاد پر ہوتا ہے، تو انسان کے اندر کبر، غرور، اناننیت، ضد اور ہٹ دھرمی کے جذبات کار فرما ہوتے ہیں یا اپنی علمی قابلیت اور بلندئی فکر و نظر کا رعب جمانا مقصود ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی بات اور اپنی فکر و سوچ کو منوانے کے لیے تمام ذرائع بلکہ ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ، زبان کو قینچی کی طرح بے دریغ استعمال کرتا ہے ،رطب و یابس باتوں پر بھی اتر آتا ہے، اپنی سطح سے کافی نیچے چلا جاتا ہے،،حد اعتدال سے بڑھ جاتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے ملت کی شیرازہ بندی کو بھی پارہ پارہ کر دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا ۔ آج یہی صورت حال ہے، جس سے پوری دنیا میں مسلمان دو چار ہے ۔
   ہم سب کو اپنا جائزہ لینا ہے اور محاسبہ کرنا ہے کہ آیا ہمارا کسی سے اختلاف ھویٰ اور نفسانیت کی بنیاد پر ہے یا امت مسلمہ کی تعمیر و ترقی اور خیر خواہی کے لیے ہے ۔ ہمارا دل اس سوال کے جواب کے لیے کافی ہے ،، بس سوال کرنے کی دیر ہے ۔۔ 
   دوستو !
  آپ سب ذرا کان قریب کیجیے نا ! ایک بات کہنی ہے جو ضروری ہے کہ ذرا اپنے دل سے پوچھئیے نا کہ آپ کا یہ اختلاف کس وجہ سے ہے اور اس کی اصل وجہ اور بنیاد کیا ہے ؟؟؟؟؟یقینا آپ کے سوال کا آپ کو جواب مل جائے گا اور ممکن ہے آپ اپنے رویئے اور طرز عمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہو جائیں ۔

Monday, September 30, 2024

شخصیت کے حصار سے نکل کر ملک و ملت کے لیے سوچیں!

 شخصیت کے حصار سے نکل کر ملک و ملت کے لیے

 سوچیں! 


محمد قمر الزماں ندوی ۔



 اس وقت پوری دنیا کے مسلمان انتہائی نازک، مشکل اور کٹھن دور سے گزر رہے،ہیں، کفر پوری طاقت کیساتھ مسلمانوں کے خلاف متحد اور برسر پیکار ہے ،اور اسلام کے خلاف متحدہ محاذ کھولے ہوئے ہے ۔ 

خاص طور پر ملک عزیز ہندوستان کی حالت تو انتہائی ناگفتہ بہ ہے ، ہمارے عائلی نظام پر حملہ ہے ، اوقاف کو ہڑپنے کی سازش اور پلانگ ہے ، باطل کی سازش اور پلانگ کی وجہ سےارتداد کی لہر ہے، ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی تیاری ہورہی ہے ، مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کی کوشش ہورہی ہے بلکہ شروعات ہوچکی ہے،غرض ہر طرف سے مسلمان دشمن کے نشانے پر ہیں ، لیکن افسوس کہ مسلمان ایسے نازک اور مشکل گھڑی میں بھی خواب غفلت کے شکار ہیں ، فضول بحث و مباحثہ اور لایعنی موضوعات میں مشغول ہیں، ایک دوسرے کی عزت کے درپئے ہیں ،ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں مشغول ہیں، شخصیت پرستی کا شکار ہیں ،اکثر لوگ صرف اپنے ممدوح اور اپنے قائد کی مدح سرائی اور مخالف کی مذمت میں پوری طاقت جھونک رہے ہیں اور اس کو انا اور ایگو کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور اس میں اتنی شدت پسندی کہ الامان و الحفیظ ۔ دوسری طرف زمینی حقائق سے اکثر لوگ ناواقف ہیں اور ہندوستان میں اس سیاست کی بات کرتے ہیں ، ایسا لگتا کہ یہاں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں اور وہی فیصلہ کی طاقت میں ہیں ۔ 

     اس وقت سوشل میڈیا پر مدنی اور اویسی کے مخالفین و مواففقین کے درمیان جنگ بپا ہے اور ایک دوسرے کی مخالفت و موافقت میں حد اعتدال سے نکل کر شریعت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور نوبت ایں جا رسید کہ طعن و تشنیع اور دشنام طرازی تک پہنچ گئے ہیں ، حد یہ ہے کہ اس میں زیادہ تر علماء اور پڑھے لکھے لوگ مشغول ہیں ۔

ارادہ تھا کہ آج اس موضوع پر کچھ لکھوں اور اصل حقائق کو سامنے لاؤں اور نوجوانوں کو بتاؤں کہ تمہارے اس لایعنی اور فضول بحثوں سے دشمن ہنس رہے ہیں اور تمہاری نادانی پر ٹٹھٹے اڑا رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ایک مبارک سفر ،سفر عمرہ پر نکلنے جارہا ہوں ، اس لیے احباب کی خواہش کے باوجود اس موضوع پر کچھ لکھنا میرے لیے مشکل ہورہا ہے ،البتہ اس موضوع پر مشہور صحافی شکیل رشید صاحب کا ایک اداریہ بہت عمدہ اور حقیقت پر مبنی ہے ، اس مضمون کو ان کے شکریہ کے ساتھ ہدئہ قارئین کرتا ہوں ۔۔ م۔ ق۔ ن 


"ان دنوں سوشل میڈیا مولانا محمود مدنی اور اسدالدین اویسی کے موافقین و مخالفین کے درمیان جنگ کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے ، لوگ جی بھر کر انہیں کوس بھی رہے ہیں ، ان کی سراہنا بھی کر رہے ہیں ، ان کے لتے بھی لے رہے ہیں اور ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے بھی ملا رہے ہیں ، اعتدال کو سوشل میڈیائی بھیڑ نے رخصت کر دیا ہے ، جبکہ ہمیں اعتدال سے کام لینے کا حکم ہے ، ہمیں امت وسط کہا گیا ہے ۔ کئی لوگوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ اس معاملہ میں تم کیا کہتے ہو؟ میں دونوں ہی شخصیات کا احترام کرتا ہوں ، لیکن اختلافات کے ساتھ ، اور اختلاف کرتے ہوئے ذاتی حملے کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ جیسے تعریف کھل کر کی جاتی ہے اسی طرح اختلاف بھی کھل کر کیا جا سکتا ہے لیکن اخلاقی قدروں کی برقرای کے ساتھ ۔ محمود مدنی اور اسدالدین اویسی کے کام کرنے کے ڈھنگ مختلف ہیں ، ایک کام کرتا ہے اور دوسرا آواز اٹھاتا ہے ، اور مسلمانوں کے لیے فی الحال کام بھی ضروری ہے اور آواز کا اٹھانا بھی ۔ لوگ جمعیتہ پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ فسادات کے بعد حرکت میں آتی ہے ! بات سچ نہیں ہے ، میں ایک جرنلسٹ کے طور پر جانتا ہوں کہ یہ جماعت فسادات سے قبل ، کشیدگی کے دوران بھی تشدد روکنے کے لیے کوشاں رہتی ہے اور فسادات کے دوران بھی ۔ فسادات کے بعد جب لوگ اجڑتے ہیں ، اور جب وہ لوگ جن کے پیارے مارے جاتے ہیں اور وہ غم کے سمندر میں ڈوبے ہوتے ہیں اور جب پولیس مقدمات کی بھرمار کر دیتی ہے اور خانماں بربادوں کو دور دور تک اندھیرا نظر آتا ہے تب بھی یہ جماعت ( اور بڑی حد تک جماعت اسلامی) سرگرم رہتی ہے ۔ یہ کام کھیل نہیں ہے ۔ گجرات اور میوات کی مثال سامنے ہے ، آج بھی یہ جماعت مقدمے لڑ رہی اور بازآبادکاری کر رہی ہے ۔ دہشت گردی میں ملوث کیے گیے افراد کے مقدمے لڑنا کھیل نہیں ہے ، لیکن یہ کام بھی یہ جماعت کر رہی ہے ۔ مدارس و مساجد کے معاملات ، شہریت کا مقدمہ اور نہ جانے کتنے مسائل ہیں جن پر یہ جماعت توجہ دے رہی ہے ۔ ہاں مگر شکایت ہے کہ اس جماعت نے اسکول اور کالج بنانے پر توجہ نہیں دی ، اسپتال اور مسافروں کے لیے ہوسٹلوں کا قیام نہیں کیا اور نہ ہی ایسے منصوبے تیار کیے جو مسلم نوجوانوں کو روزگار دلانے میں مدد دیں ، یہانتک کہ روزگار ورک شاپ بھی یہ نہیں کراتے ۔ لیکن جو کام یہ کرتے ہیں اور اس جماعت کے اکابروں نے کیا ہے وہ اور کوئی نہ کرتا ہے اور نہ کر سکتا ہے ۔ مولانا محمود مدنی سے ایک بڑی شکایت ان بیانات کے لیے ہے جو لگتا ہے کہ حکومت کے دفاع میں ہیں ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولتے ہیں تو خوب بولتے ہیں ۔ اسدالدین اویسی ان سیاست دانوں میں سے ہیں جو آواز اٹھاتے ہیں، پارلیمنٹ میں بھی اور سڑک پر بھی اور زوردار آواز اٹھاتے ہیں ۔ مسلم مسائل پر آواز اٹھنی بھی چاہیے ، لیکن اعتدال کے ساتھ ۔ ان کے بھائی اکبرالدین اویسی کا یہ کہنا کہ پندرہ منٹ کے لیے پولیس کو ہٹالو ، یا اسدالدین اویسی کا یہ کہنا کہ یوگی اور مودی ہمیشہ نہیں رہیں گے ، اعتدال سے ہٹ کر ہیں ۔ پولیس ہٹے یا یوگی اور مودی نہ رہیں ، کیا ہوجائے گا ! تشدد ہی ہوگا ! اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ مسلمانوں کا محفوظ رہنا ضروری ہے ۔ اویسی کی آواز کا خیر مقدم ہے مگر ان کے ایسے جملوں کا نہیں جو کسی مسلمان کی جان جانے کا سبب بنیں ۔ اویسی مسلمانوں کے مسائل اٹھائیں ، ان کے کام کریں ، ان کی روزی روٹی کے لیے حکومت پر دباؤ بنائیں اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے ان کے آئینی حقوق انہیں دلوائیں ۔ یہ سب کریں کہ ایک سیاست داں کے یہ کام ہیں، بھلے وہ عام مسلمانوں کے مقدمے نہ لڑیں اور فسادات کے دوران بازآبادکاری کے لیے سرگرم نہ رہیں ۔ اور الیکشن بھی لڑیں لڑوائیں مگر جیتنے کے لیے ہارنے کے لیے نہیں ۔ ہارنے کے لیے لڑیں گے تو فرقہ پرست تو جیت جائیں گے مگر وہ مسلم لیڈر جو ایوانوں میں رہ کر کچھ کام کرتے رہے ہیں وہ ضرور ہار جائیں گے "۔

Sunday, July 7, 2024

سال نوکی آمد -مرحبامفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ

سال نوکی آمد -مرحبا

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ 

1445ھ گذرگیا اور ہم 1446ھ میں داخل ہوگیے، یعنی نئے سال کا سورج ہماری زندگی کے مہ وسال سے ایک سال اور کم کرنے والا ہے، ہم موت سے اور قریب ہو گیے، انسان بھی کتنا نادان ہے وہ بڑھتی عمر کا جشن مناتا ہے، مبارک بادپیش کرتا ہے، قبول کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ ہماری عمر جس قدر بڑھتی ہے، موت اور قبر کی منزل قریب ہوتی رہتی ہے اور بالآخر وقت موعود آجاتا ہے اور آدمی قبر کی آغوش میں جا سوتا ہے۔ جو لوگ صاحب نظر ہیں اور جن کے ذہن میں فکر آخرت رچی بسی ہوئی ہے، وہ گذرے ہوئے سال سے سبق لیتے ہیں، اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں، نئے سال کا استقبال تجدید عہد سے کرتے ہیں کہ آئندہ ہماری زندگی رب مانی گذرے گی، من مانی ہم نہیں کریں گے، اس عہد پر قائم رہ کر جو زندگی وہ گذارتے ہیں وہ رب کی خوش نودی کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں بندہ جنت کا مستحق ہوتا ہے۔
 نئے سال کی آمد پر ہم لوگ نہ محاسبہ کرتے ہیں اور نہ ہی تجدید عہد، بلکہ ہم میں سے بیش تر کو تو یاد بھی نہیں رہتاکہ کب ہم نئے سال میں داخل ہو گیے، عیسوی کلینڈر سب کو یادہے، بچے بچے کی زبان پر ہے، انگریزی مہینے فرفر یاد ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے سے جب چاہیے سن لیجئے؛ لیکن اسلامی ہجری سال، جو اسلام کی شوکت کا مظہر ہے، اس کا نہ سال ہمیں یاد رہتا ہے اور نہ مہینے، عورتوں نے اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ یاد رکھا ہے، لیکن اصلی نام انہیں بھی یاد نہیں بھلا،بڑے پیراور ترتیزی، شب برأت، خالی، عید، بقرعید کے ناموں سے محرم صفر، ربیع الاول، ربیع الآخر، جمادی الاولیٰ، جمادی الآخر، رجب، شعبان، رمضان، شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ جو اسلامی مہینوں کے اصلی نام ہیں، ان کو کیا نسبت ہو سکتی ہے، ہماری نئی نسل اور بڑے بوڑھے کو عام طور پر یا تو یہ نام یاد نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ترتیب سے نہیں، اس لیے ہمیں اسلامی مہینوں کے نام ترتیب سے خود بھی یاد رکھنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی یاد کرانا چاہیے، یاد رکھنے کی سب سے بہتر شکل یہ ہے کہ اپنے خطوط اور دوسری تحریروں میں اسلامی کلینڈر کا استعمال کیا جائے۔پروگرام اور تقریبات کی تاریخوں میں بھی اس کا استعمال کیا جائے، کیونکہ بعض اکابر اسے شعار اسلام قرار دیتے ہیں اور شعار کے تحفظ کے لیے اقدام دوسری عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہے ۔

 ہجری سال کی تعیین سے پہلے، سال کی پہچان کسی بڑے واقعے سے کی جاتی تھی۔ جیسے قبل مسیح،عام الفیل، عام ولادت نبوی وغیرہ، یہ سلسلہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے وقت تک جاری تھا، حضرت عمر ؓ نے اپنے عہد خلافت میں مجلس شوریٰ میں یہ معاملہ رکھا کہ مسلمانوں کے پاس اپنا ایک کلینڈر ہونا چاہیے۔ چنانچہ مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ اسلامی کلینڈر کا آغاز ہجرت کے واقعہ سے ہو، چنانچہ سال کا شمار اسی سال سے کیاجانے لگا، البتہ ہجرت کا واقعہ ربیع الاول میں پیش آیا تھا،لیکن سال کا آغاز محرم الحرام سے کیا گیا، کیونکہ یہ سال کا پہلا مہینہ زمانہ جاہلیت میں بھی تھا۔اس طرح اسلامی ہجری سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔
 محرم الحرام ان چا ر مہینوں میں سے ایک ہے، جس کا زمانہ جاہلیت میں بھی احترام کیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہیں اور یہ اسی دن سے ہیں، جس دن اللہ رب ا لعزت نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، ان میں چار مہینے خاص ادب کے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار مہینوں کی تفصیل رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم بیان کی ہے، پھر حضرت ابو ذر غفاری ؓکی ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمام مہینوں میں افضل ترین اللہ کا وہ مہینہ ہے جس کو تم محرم کہتے ہو، یہ روایت سنن کبریٰ کی ہے، مسلم شریف میں ایک حدیث مذکور ہے کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے ہیں، اس ماہ کی اللہ کی جانب نسبت اور اسے اشہر حرم میں شامل کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس مہینے کی فضیلت شہادت حسین کی وجہ سے نہیں، بلکہ بہت پہلے سے ہے۔
 اسی مہینے کی دس تاریخ کو یوم عاشوراء کہا جاتا ہے، رمضان المبارک کے روزے کی فرضیت کے قبل اس دن کا روزہ فرض تھا، بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق قریش بھی زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس روزہ کا اہتمام فرماتے تھے، یہودیوں کے یہاں اس دن کی خاص اہمیت ہے، کیوں کہ اسی دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ ہجرت کرکے تشریف لے گیے تو یہودیوں کو یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا، معلوم ہوا کہ یہودی فرعون سے نجات کی خوشی میں یہ روزہ رکھتے ہیں، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم یہودیوں سے زیادہ اس کے حقدار ہیں کہ روزہ رکھیں، لیکن اس میں یہودیوں کی مشابہت ہے، اس لیے فرمایا کہ تم عاشورا کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اس طرح کہ عاشوراء سے پہلے یا بعد ایک روزہ اور رکھو۔ علامہ عینی کے مطابق اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی،حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے اور حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے باہر آئے، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی اسی دن واپس ہوئی، حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے، حضرت ایوب علیہ السلام کو مہلک بیماری سے نجات ہوئی، حضرت سلیمان علیہ السلام کو خصوصی حکومت ملی، اور ہمارے آقا مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دن ”غفر لہ ما تقدم من ذنبہ“کے ذریعہ مغفرت کا پروانہ عطا کیا گیا۔ اس طرح دیکھیں تو یہ سارے واقعات مسرت وخوشی کے ہیں اور اس دن کی عظمت وجلالت کو واضح کرتے ہیں،اس لیے اس مہینے کو منحوس سمجھنا، اوراس ماہ میں شادی بیاہ سے گریز کرنا نا واقفیت کی دلیل ہے اور حدیث میں ہے کہ بد شگونی کوئی چیز نہیں ہے ۔

یقیناً اس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی اہل خاندان کے ساتھ شہادت تاریخ کا بڑاا لم ناک، کرب ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے، جس نے اسلامی تاریخ پر بڑے اثرات ڈالے ہیں، اس کے باوجود ہم اس دن کو بْرا بھلا نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی ماتم کر سکتے ہیں، اس لیے کہ ہمارا عقیدہ ہے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادے اللہ کی راہ میں شہید ہوئے، حق کی سر بلندی کے لیے شہید ہوئے اور قرآن کریم میں ان حضرات کے بارے میں ارشاد ہے کہ جو اللہ کے راستے میں قتل کردیے گئے انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، البتہ تم ان کی زندگی کو سمجھ نہیں سکتے، قرآن انہیں زندہ قرار دیتا ہے، اور ظاہر ہے ہمیں تومْردوں پر بھی ماتم کرنے، گریباں چاک کرنے، سینہ پیٹنے اور زور زور سے آواز لگا کر رونے سے منع کیا گیاہے، پھر جو زندہ ہیں، ان کے ماتم کی اجازت کس طور دی جا سکتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے
روئیں وہ، جو قائل ہیں ممات شہداء کے
ہم زندہ ٔجاوید کا ماتم نہیں کرتے
اس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں تعزیے نکالے جاتے ہیں، تعزیہ نکالنے کی اجازت تو شیعوں کو چھوڑ کر کسی کے یہاں نہیں ہے، پھر جس طرح تعزیہ کے ساتھ نعرے لگائے جاتے ہی یاعلی، یا حسین یہ تو ان حضرات کے نام کی توہین لگتی ہے، حضرت علی، کے نام کے ساتھ کرم اللہ وجہہ اور حضرت حسین کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لگانا عظمت صحابہ کا تقاضہ اور داماد رسول اور نواسہ رسول کے احترام کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن جلوس میں اس کی پرواہ کس کو ہوتی ہے، اس طرح ان حضرات کا نام ٹیڑھا میڑھا کرکے لیتے ہیں کہ ہمارے باپ کا نا م اس طرح بگاڑ کرکوئی لے تو جھگڑا رکھا ہوا ہے، بے غیرتی اور بے حمیتی کی انتہا یہ ہے کہ اسے کار ثواب سمجھا جا رہا ہے، دیکھا یہ گیا ہے کہ اس موقع سے جلوس کے ساتھ بعض جگہوں پر رقاصائیں رقص کرتی ہوئی چلتی ہیں، عیش ونشاط اور بزم طرب ومسرت کے سارے سامان کے ساتھ حضرت حسین کی شہادت کا غم منایا جاتا ہے، اس موقع سے شریعت کے اصول واحکام کی جتنی دھجیاں اڑائی جا سکتی ہیں، سب کی موجودگی غیروں کے مذاق اڑانے کا سبب بنتی ہے، اور ہمیں اس کا ذرا بھی احساس وادراک نہیں ہوتا۔
جلوس کے معاملہ میں ہمیں ایک دوسرے طریقہ سے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، تاریخ کے دریچوں سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت حسین رضی اللہ علیہ کی شہادت کے بعد اس خانوادہ میں بیمار حضرت زین العابدین اور خواتین کے علاوہ کوئی نہیں بچا تھا،یہ ایک لٹا ہوا قافلہ تھا، جس پریزیدی افواج نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے، ان کے پاس جلوس نکالنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تھا، تیر،بھالے، نیزے اورعَلم تو یزیدی افواج کے پاس تھے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر نیزے پر تھا اوریزیدی بزعم خود اپنی فتح وکامرانی کاجلوس لیکر یزیدکے دربار کی طرف روانہ ہوئے تھے، ہمارے یہاں جلوس میں جو کروفراور شان وشوکت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ کس کی نقل کی جا رہی ہے؟ ذرا سوچئے کھلے ذہن سے سوچیے تو معلوم ہوگا کہ ہم کسی اور کی نقل کر رہے ہیں، حسینی قافلہ کی تو اس دن یہ شان تھی ہی نہیں، اس لیے مسلمانوں کو ایسی کسی بھی حرکت سے پر ہیز کرنا چاہیے، ایسے جلوس میں نہ خود شامل ہوں اور نہ اپنے بچوں کو اس میں جانے کی اجازت دیں۔

Monday, January 15, 2024

مفتی محمد ثناء الھدی قاسمی بہ حیثیت صحافی محمدامام الدین ندوی خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی

مفتی محمد ثناء الھدی قاسمی بہ حیثیت صحافی
     محمدامام الدین ندوی 
خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ،ورئیس التحریر ہفتہ واری جریدہ نقیب،کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔علمی حلقے میں یہ نام بہت ہی مانوس ہے۔محفل ارباب فکرونظر میں بھی یہ قد درازتر ہے۔زبان وقلم  کا یہ شہنشاہ صحرائے صحافت کے سفرمیں بھی منفرد اور ممتاز ہے۔
     صحافت بڑا ہی نازک اور نہایت اہم ترین فن ہے۔اس کی بنیاد حق پرستی،انصاف پسندی،پر رکھی گئی ہے۔تعصب ،وبیجاطرف داری،کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔کسی بھی ملک اور قوم کی یہ ریر کی ہڈی ہے۔ملک و ملت کی تقدیر سنوارنے،اور بگاڑنے میں اس کا بڑا ہی اہم کردار رہا ہے۔ظالم کو مظلوم،اور مظلوم کو ظالم گرداننے،جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے،تل کوتار اور تار کوتل بنانے،میں اسے ید طولی حاصل ہے۔جسے چاہے گرادے اور جسے چاہے اٹھادے اس کا ہنر اسے خوب آتا ہے۔
       مفتی صاحب بہ حیثیت صحافی اپنا منفر پہچان رکھتے ہیں۔آپ کی صحافت حق پسندی اور حق پرستی کے محور تلے گردش کرتی ہے۔انصاف پسندی آپ کی صحافت میں بہ درجہ اتم جھلکتی ہے۔آپ کی صحافت غیر جانب دارانہ ہوتی ہے۔ان دنوں کچھ صحافی مداہن بن کر لوگوں کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں تاکہ انہیں پسند کی جگہ اور مال مل سکے یہ غلامانہ حرکت میدان صحافت کے وسیع وعریض تاریخ میں بدنماداغ اور انمٹ دھبے ہیں۔حضرت مفتی صاحب کی صحافت ان آلائشوں سے بالکل پاک وصاف ہے۔آپ کی تحریر حق بہ جانب ہوتی ہے۔آپ کی صحافت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ جب آپ کسی چیز کا تجزیہ بہ طور صحافی کرتے ہیں تو تشفی بخش تجزیہ کرتے ہیں اور آپ کی آرا اتفاق کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔بالکل سچی رہنمائی ہوتی ہیں۔آپ کی تحریر بتاتی ہے کہ مظلوم کو اس کا واجبی حق ملے اور ظالم کو مناسب ترین قانونی سزا۔
     مفتی صاحب کی صحافت میں دینی پہلو بھی جھلکتا ہے۔بات کہیں کی بھی ہو دینی نظریہ سے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ خالق ومخلوق کا حق واضح ہوجائے۔
 عام طور پر صحافت تجارت بنتی نظر آرہی ہے۔مال کے لین دین سے خبر میں تبدیلی آجاتی ہے۔بڑے بڑے حادثات لمحوں میں زمیں دوز ہوجاتے ہیں اور حقائق پردہ خفا میں گم ہوجاتے ہیں۔ایسے حادثات اکثروبیشتر رونما ہوتے رہتے ہیں۔اس طرح کی حرکت سے صحافیوں سےاعتماد آٹھ جاتاہے اور ان کے تئیں دل ودماغ میں غلط تصورات طواف کرنے لگتے ہیں۔پھر وہ شخصیت مجروح ہوجاتی ہے۔مفتی صاحب کی صحافت میں قومی،وملی،وطنی،خدمات پنہاں ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی صحافت حقائق کی تصویر اور آئینہ ہے۔
  صحافت کی روح یہ بھی ہے کہ کسی کی بات،واقعات،پیش آمدہ حادثات کو من وعن بغیرکتر بیونت،کے پیش کی جائے۔اسی روح کی بنیاد پر صحافت،دیابت وامانت کی آماج گاہ ہوتی ہے ۔جب صحافت سے یہ روح نکل جاتی ہے تو صحافت بےمعنی اور مذاق بن کر جاتی ہے۔مفتی صاحب کی صحافت میں وہی روح پنہاں ہے۔آپ اپنی بات بہ طریق احسن پیش کرتے ہیں۔ من مانی نہیں کرتے ہیں۔جس نے جیسا کہا آپ نے ویسا ہی پیش کیا۔
    ان دنوں صحافت میں خوشامدانہ پہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس نے صحافت کی ساکھ کو مکمل گرادیا ہے اورحق گوئی اور حقیقت بیانی سے زبان گنگ ہو گئی ہے۔مفتی صاحب کی صحافت خوشامدانہ پہلوسے بالاترہے۔
       صحافت کی دنیابڑی وسیع ہے،اس کے دل ودماغ میں توسع ہے۔تعصب پرستی اور تعصب پسندی،تنگ نظری،مذہب ومسلک کی ترویج سے اوپر اٹھ کے ملک وملت کی خدمت کے جذبے سے میدان عمل میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔صحافت سب کے لئے اپنے دروازے وا رکھتی ہے۔مظلوم کی مظلومیت ظالموں کے ظالمانہ روش کو طشت از بام کرتی ہے اور عوام الناس کے سامنے اجاگر کرنے کا درس دیتی ہے۔تعصب کے دھندلکے چشمے،ظلم کے پراگندہ چولے اترواتی ہے۔انسانیت کی خدمت کرنے کو ہی حقیقی مقصد باور کراتی ہے۔وقت آ نے پر حاکم وقت اور صاحب مسند کی بھی صحیح رہنمائی کرتی ہے۔اسی لئے اسے  جمہوریت کاچوتھا ستون کہاجاتاہے۔جس دن یہ ستون اپنی معنویت کھودےاور اسے دنیاوی لالچ،حرص وہوس،طلب جاہ ومنصب،مال ومتاع کے دیمک لگ گئے تو سمجھنا چاہئے کہ ملک وملت تنزلی کے عمیق غار میں گرچکی ہے۔اورملک وملت کی سالمیت خطرےمیں ہے۔اس کی شادابی،ویرانی میں تبدیل ہوگئ ہے۔پھرحاکم وقت کی فطرت آمرانہ بن جاتی ہے۔
      مفتی صاحب کی صحافت ان عیوب سے پاک ہے۔پراگندہ خیالوں سے منزہ ہے حرص وہوس سے دور ہے۔
دنیا چاپلوس بنتی جارہی ہے۔اہل صحافت کا ایک بڑا طبقہ اس دلدل میں پھنس چکاہے۔یہ خسیس حرکت نے بھی صحافت کو غیرمعمولی نقصان پہونچایا ہے۔یہ صفت،حق گوئی اور بےباکی کو مانع ہے۔یہ قلم کی آزادی کو چھین لیتی ہے۔قلم غلامی کی دہلیز کا دربان بن جاتاہے۔
    مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی کی صحافت ان صفات سے پاک ہے۔آپ کا قلم حق لکھنے،حق بولنے،حق کی تشہیر میں شب وروز اپنی منزل طئے کرنے میں مصروف وسرگرم ہے۔کسی نے بجا فرمایاپے۔

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی 

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
  اللہ تعالی اس شجر کو مزید بارآور بنائےتاکہ ہر راہ رو اس کے سائے سے مستفید ہو

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...