منظر عالم ویشالوی
چند رفقائے ذوق کی معیت میں 20 نومبر 2025 دارالمصنّفین کی طرف رخ ہوا، دل میں ایک عجب سی انقباض اور لطیف سی کشش ساتھ ساتھ تھی، اور دل میں برسوں سے پرورش پانے والی دار المصنفین کی شرف زیارت کی تمنا پوری ہوئی اور ہمارے خواب کی تکمیل ہوئی جیسا کہ علامہ شبلی نعمانی کے خواب کی تعبیر ان کے بے مثل شاگرد رشید سید سلیمان ندوی نے تعبیر بخشی تھی پھر سید صاحب نے گلشنِ افکارِ شبلی سے علم و تحقیق کے دریچے وا کیے ان سے سوتے پھوٹے، ادیب پیدا ہوۓ،محقق و مؤرخ نمو پاۓ اور افراد سازی کی۔
یہ وہی آستانہ تھا جہاں کبھی سید سلیمان ندوی قدم بوسی فرمایا کرتے تھے، جہاں تحقیق و تنقید کے چراغاں روشن کیا کرتے تھے، جہاں کبھی صباح الدین عبد الرحمن یکسوئی اور انہماک کے ساتھ تحقیق و تفتیش میں ڈوب کر اپنے مقالات رقم کیا کرتے تھے، جہاں مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا مسعود عالم ندوی تصنیف و تالیف کے ذریعے تاریخی اور فکری قندیلیں جلایا کرتے تھے۔
اسی دیار تحقیقِ شبلی میں ہم لوگ دید اشتیاق اور اقتناء کتب کی تمنا لیے ہوۓ آستانۂ شبلی میں قدم رنجا ہوۓ۔
وہاں کی در و دیوار دیکھی، خاموش فضا دیکھی، مقبرۂ شبلی پر فاتحہ پڑھی اور جو کیفیت وہاں فاتحہ کے وقت طاری ہوئی وہی لطیف احساس ہر وقت اندرون خانہ میں دیر تک اترتا چلا گیا۔ دل نے ملال کیا کہ علمی و تحقیقی ذخائر پیش کرنے والا یہ مرکزی ادارہ جو کبھی ادیبوں، مؤرخوں اور افراد سازی کا گہوارہ تھا، اب وہ وقت کے چیلنجزوں کا سامنا کرنے سے معذور سا ہوگیا ہے
ہم لوگ تو دار المصنفین کے خوشہ چیں طالب علم ہیں، اس کے زوال پر دل کیوں پژمردہ نہ ہو۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کی تصنیفات ہر پڑھا لکھا شخص پڑھ کر خود کو سنوارتا ہے اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے اور بہت سے خوشہ چیں ایسے بھی ہیں کہ اسی تھالی میں کھا کر نمک حرامی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
بعد ازاں ہم نے ظہر کی نماز ادا کی، ادارے کے کارکنان سے ملاقات ہوئی، شبلی میوزیم کی زیارت کا شرف ملا جہاں سب سے پہلی نظر علامہ کے مصنوعی پیر پر پڑی، جس کے سہارے انہوں نے بقیہ زندگی بسر کی تھی، میوزیم اور لائیبریری سے ہوتے ہواتے اور آنکھ کو سیکتے ہوۓ اقتناء کتب کی آرزو ہمیں مکتبہ تک لے آئی اور چند کتابیں خریدیں جن میں دار المصنفین کی سب سے نمایاں اور استاذ و شاگرد کی مشترکہ عظیم تصنیف سیرت النبی ﷺ بھی شامل تھی۔
پھر خواہش ہوئی کہ اس وقت دار المصنفین کی باگ ڈور سنبھالنے والے مولانا عمیر الصدیق ندوی دریابادی سے شرف لقا حاصل کیا جاۓ لیکن ہم سب کی حرماں نصیبی کہ مولانا کولکاتا کے سفر پر روانہ ہوچکے تھے۔ ماہر شبلیات الیاس اعظمی سے ملنے کی تمنا بھی دل میں تھی لیکن بوجوہ ان سے بھی ملاقات نہ ہوسکی۔
برادرم زید امام،( متعلم: عالیہ رابعہ شریعہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، جو ہماری فہرستِ دوستاں میں سرِفہرست ہیں بلکہ مخلص، بے لوث، متحرک اور فعال انسان، خوش الحان قاری اور اچھے خطیب بھی ہیں۔) انہی کی توسط سے تمام رفقائے سفر کا قیام مدرسہ تحفیظ القرآن میں ہوا، جہاں وہ خود بھی عرصۂ دراز تک فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ اس مدرسہ کے بانی و ناظم مولانا عبدالعظیم قاسمی صاحب ہیں۔ جو بنفس نفیس موجود نہ تھے کسی سفر پر روانہ تھے ورنہ شرف ملاقات نصیب ہوتا، تاہم عدم موجودگی کے باوجود ناظم صاحب نے میزبانِ کامل کا کردار نبھایا کھانے پینے کا نہایت اچھا نظم کیا، گھر کے پکوان سے ضیافت فرمائی، اور ہر ضرورت کا پھر پور خیال کیا۔
طلبہ بھی ہر لحظہ خاطر مدارات میں لگے رہے بالخصوص کلیم بھائی لمحہ بہ لمحہ خیال کرتے رہے، ان کی ایسی کرم فرمائی اور عزت نوازی سے بعض اوقات عار سا محسوس ہونے لگتا تھا۔ گرچہ طلباء ابتدائی و اوسط درجات کے تھے مگر جسم و جثہ کے اعتبار سے لحیم شحیم اور تقریباً ہم عمر محسوس ہوتے تھے۔
یہ حسنِ اخلاق اور اپنائیت درحقیقت یہاں کے اساتذۂ کرام کی عمدہ تربیت کی روشن جھلک تھی۔
اس سفر میں مولانا ضیاء الحق خیرآبادی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، جو اہلِ علم کے حلقے میں حاجی بابو کے نام سے معروف ہیں، مولانا کا تفصیلی تعارف تحصیلِ حاصل ہوگا اتنا کہنا کافی ہے کہ ان کی ذرہ نوازی، شفقت اور احسان ہم سب کے ساتھ شاملِ حال رہی، انہی کے توسط سے دارالمصنفین سے کتابیں پچاس فیصد رعایت کے ساتھ ملیں، جو ہمارے لیے نعمتِ غیر مُتَرَقَّبہ تھی۔
اعظم گڑھ کے اس سفر میں کئی علمی و تعلیمی اداروں کی زیارت بھی ہوئی۔ شبلی کالج گئے اور پھر جامعۃ الرشاد میں حاضری ہوئی، جہاں کا نظم و ضبط، تربیتی فضا اور تعلیمی ماحول اپنے مقصد سے نہایت قریب تر محسوس ہوا۔
اس ادارے کے جوان عالم دین مولانا اسامہ ندوی صاحب سے ملاقات ہوئی جو انتہائی متحرک، دردمند اور نئی نسل کے حوالے سے گہری فکر رکھنے والے۔ نوجوانوں کی اصلاح، زمانے کے تقاضوں اور تعلیمی تحریک سے متعلق گفتگو ہوئی۔ جو کچھ بن سکا وہ ناشتہ میں پیش کیا، پھر دوپہر کے کھانے کا بھی اصرار کرتے رہے مگر قلتِ وقت نے اجازت نہ دی۔ ہم نے دارالمصنفین کی زیارت کی اجازت چاہی تو مولانا نے بڑی عزت افزائی فرمائی اور فوراً ڈرائیور کو حکم دیا کہ "ان حضرات کو دارالمصنفین چھوڑ آئیے"
دلی خواہش تھی کہ مولانا نعیم صدیقی ندوی دامت برکاتہم سے بھی ملاقات کی جاۓ فون پر رابطہ بھی کیا گیا تو مولانا نے فرمایا کہ "میں سفر پر ہوں" آپ لوگ جامعۃ الرشاد تشریف لے جائیں، میں اطلاع کر دیتا ہوں" یوں ملاقات کی آرزو فقط آرزو ہی رہ گئی اور یوں ہمارے سفر کا اختتام بالخیر ہوا۔
No comments:
Post a Comment