Translate

Sunday, April 27, 2025

”اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی، یہ گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے“اردو کے حق میں سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے کی تلخیص سہیل انجم

”اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی، یہ گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے“
اردو کے حق میں سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے کی تلخیص
سہیل انجم
دنیا کی کوئی بھی زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک مکمل تہذیب بھی ہوتی ہے۔ وہ اپنے بولنے والوں کی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کو اس کی ساخت، رسم الحظ یا بولنے والوں کے حجم کے پیش نظر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ زبانوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ پھوٹ ڈالنے کے بجائے لوگوں کو جوڑتی ہیں، باہمی رابطے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ کسی بھی زبان کو اس لیے بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں میں مستعمل ہے۔ زبانوں کو کسی مذہب سے جوڑنا جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ اور اردو تو خاص طور پر پیار محبت کی زبان ہے۔ وہ اپنی شیرینی و لطافت سے دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اردو کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ایسی کوششیں آزادی سے قبل بھی ہوئی ہیں اور آزدای کے بعد بھی اور آج بھی ہو رہی ہیں۔ بعض مخصوص حلقے اسے مسلمانوں کی زبان بتا کر تختہ مشق بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس کے گلے میں ایک خاص مذہب کا طوق لٹکانے کوشش ہوتی رہی ہے۔ اس زبان کو آئینی و قانونی تنازعات میں بھی پھنسانے کی کوششیں کی گئیں اسے عدالتی کٹہرے میں ایک ملزم کی طرح کھڑا کیا گیا لیکن فاضل جج حضرات نے اس کے حق میں فیصلہ صادر کرکے اس پر لگائی جانے والی تہمتوں کے داغ دھو دیے۔
اس تسلسل میں سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کو تاریخ ساز کہا جا سکتا ہے۔ اس نے اردو کے حق میں ایک غیر معمولی فیصلہ سنا کر اردو مخالفین کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے یہ کہہ کر کہ، اردو کوئی اجنبی زبان نہیں بلکہ ہندوستان میں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور یہ کہ زبان کسی مذہب کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ وہ کسی کمیونٹی، کسی خطے اور عوام سے تعلق رکھتی ہے، اردو کو مذہبی، لسانی اور آئینی تناظر میں عدالتوں میں گھسیٹنے کی کوششوں کی نفی کر دی ہے۔
یہ مقدمہ مہاراشٹر کے ضلع اکولہ کی پاتور میونسپل کونسل کی ایک سابق رکن مسز ورشا تائی زوجہ سنجے بگاڈے نے ریاستی حکومت کے خلاف دائر کیا تھا۔ انھوں نے میونسپل کونسل کی نئی عمارت پر نصب کیے جانے والے بورڈ پر مراٹھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھنے کی مخالفت کی تھی۔ ان کی دلیل تھی کہ کونسل کا کام کاج صرف مراٹھی میں ہوتا ہے لہٰذا اردو کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی، یہاں تک کہ سائن بورڈ پر بھی نہیں۔ انھوں نے سب سے پہلے میونسپل کونسل میں مقدمہ پیش کیا جس نے 14 فروری 2020 کو اکثریت سے یہ اعتراض مسترد کر دیا اور کہا کہ سائن بورڈ پر اردو کا استعمال بالکل جائز ہے۔ اس کے بعد ورشا تائی نے ”مہاراشٹر میونسپل کونسل نگر پنچایت اینڈ انڈسٹریئل ایکٹ 1965“ کے تحت اکولہ کے ضلع کلکٹر کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ انھوں نے ان کی دلیل تسلیم کی اور حکم دیا کہ بورڈ پر صد فیصد مراٹھی لکھی جائے۔ کونسل کے بعض اراکین نے ڈویژنل کمشنر امراوتی کے سامنے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ ڈویژنل کمشنر نے کلکٹر کے فیصلے کو رد کر دیا۔ اس کے بعد ورشا تائی بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ میں اپنا مقدمہ لے کر پہنچ گئیں۔ میونسپل کونسل کے ارکان نے ان کے دلائل کی رد میں اپنے دلائل دیے جنھیں عدالت نے تسلیم کیا۔ اس نے تمام قانونی پہلوو ¿ں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد 30 مئی 2021 کو ورشا تائی کے دلائل کو مسترد کر دیا اور یہ کہتے ہوئے عرضداشت خارج کر دی کہ آئین ہند کے آٹھویں شیڈول کی انٹری نمبر 22 کے مطابق اردو کو زبانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہ عدالت اس درخواست کو قابل اعتنا سمجھے۔ لہٰذا اسے خارج کیا جاتا ہے۔ درخواست دہندہ نے اسی عدالت میں ”اسپیشل لیو پٹیشن“ داخل کرکے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور عدالت نے 10 اپریل 2024 کو دوبارہ اسے خارج کر دیا۔ اس کے بعد ورشا تائی نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بینچ نے تمام آئینی، قانونی اور تاریخی پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے ورشا تائی کی درخواست مسترد کر دی۔ اس نے اپنے فیصلے میں متعدد خوبصورت باتیں کہی ہیں۔ اس نے فیصلے کا آغاز برطانیہ میں مقیم ایک اینگلو الجزائری مصنف، مترجم اور محقق مولود بن زادی کے اس قول سے کیا ہے کہ ”جب آپ کوئی زبان سیکھتے ہیں تو آپ صرف ایک زبان بولنا اور لکھنا نہیں سیکھتے بلکہ آپ انسانیت کے تئیں فراخ دلی، آزاد خیالی، تحمل اور رحم دلی بھی سیکھتے ہیں۔“ بینچ نے اپنے فیصلے میں آگے کہا کہ ہمارا یہ نظریہ بالکل واضح ہے کہ زبان مذہب نہیں ہے۔ وہ مذہب کی نمائندگی بھی نہیں کرتی۔ زبان کسی برادری، خطے اور عوام سے تعلق رکھتی ہے مذہب سے نہیں۔ زبان ثقافت ہے۔ وہ کسی بھی کمیونٹی یا عوام کی تہذیبی و ثقافتی پیش رفت کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔ جہاں تک اردو کی بات ہے تو وہ گنگا جمنی تہذیب یا ہندوستانی تہذیب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ لیکن زبان کا بنیادی مقصد اسے سیکھنے سے قبل ہمیشہ مواصلات یا رابطہ کاری رہا ہے۔
فیصلے کے مطابق ہمیں اپنے لسانی تنوع کا احترام کرنا اور اس سے خوش ہونا چاہیے۔ عدالت نے 2001 کی مردم شماری کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان میں مجموعی طور پر 122 بڑی زبانیں ہیں۔ جن میں 22 شیڈولڈ زبانیں ہیں (یعنی وہ آئین میں درج ہیں)۔ ملک میں 234 مادری زبانیں ہیں۔ اردو ہندوستان میں مندرج زبانوں میں چھٹی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مندرج زبانوں میں انگریزی نہیں ہے کیونکہ وہ غیر ملکی زبان ہے۔اس لسانی تنوع کے ساتھ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا کثیر لسانی ملک ہے۔
عدالتی بینچ نے آئین ساز اسمبلی میں اردو کے سلسلے میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیا اور کہا کہ کون سی زبان مواصلات کی اور پورے ملک کی اور قومی زبان قرار دی جائے، یہ بات پیچیدہ بحث کے طور پر سامنے آئی تھی۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ زبان صرف زبان نہیں ہوتی بلکہ ثقافت کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال نے زبان کے سلسلے میں بحث کو حساس اور پیچیدہ بنا دیا۔ ہم ہندوستانیوں نے اس مسئلے کو حل کرنے میں بہت دشواری اٹھائی ہے۔ بالآخر طویل بحث و مباحثے کے بعد آئین ساز اسمبلی کے ارکان اس بات پر متفق ہوئے کہ ہندی یونین آف انڈیا کی راج بھاشا یا سرکاری زبان ہوگی اور انگریزی کو پندرہ سال تک (سرکاری کام کاج میں) استعمال کیا جائے گا۔ تاہم پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہے تو اس مدت میں توسیع کر دے۔ .... مختلف ریاستوں نے عملی ضرورت کے تحت سرکاری زبان میں کوئی دوسری زبان بھی شامل کی۔ جو ریاستیں یا مرکز کے زیر انتظام علاقے ایک سے زائد سرکاری زبان رکھتے ہیں یا سرکاری کام کاج کے لیے ایک سے زائد زبانوں کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹر، منی پور، میگھالیہ، میزورم، اڑیسہ، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تیلنگانہ، تریپورہ، اترپردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، انڈمان و نکوبار، دادر اور نگر حویلی اور دمن دیو، دہلی، جموں و کشمیر، لداخ اور پانڈیچری۔ ان میں سے چھ ریاستوں آندھرا پردیش، بہار، جھارکھنڈ، تیلنگانہ، اترپردیش اور جموں و کشمیر میں سرکاری کام کاج کے لیے اردو کو دوسری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان میں 28 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام آٹھ خطے ہیں۔
 اردو مخالفین کا طبقہ عام طور پر اردو کو غیر ملکی زبان قرار دیتا ہے۔ حالانکہ یہ پیدائشی طور پر ہندوستانی ہے۔ یہ غلط فہمی، خیال یا تصور تعصب کی بنیاد پر ہے نہ کہ حقیقی بنیاد پر۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں اس تعصب کو نشان زد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اردو کے خلاف تعصب اس غلط فہمی کی بنیاد پر ہے کہ اردو ہندوستان کے لیے اجنبی زبان ہے۔ یہ خیال بالکل باطل ہے۔ اردو مراٹھی اور ہندی کی طرح ہند آریائی زبان ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو اسی سرزمین میں پیدا ہوئی۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے عوام کی ضرورت کی وجہ سے، جو کہ آپس میں تبادلہ خیالات اور رابطہ چاہتے تھے، ہندوستان میں پلی بڑھی اور پھلی پھولی۔ اس نے صدیوں میں زیادہ تطہیر حاصل کی اور بہت سے مشہور شعرا کی پسندیدہ زبان بن گئی۔
عدالت نے زبان کے سلسلے میں عوامی بحث کو بھی اپنے دائرہ تحریر میں رکھا۔ اس نے اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ بحث آزادی سے قبل چھڑ گئی تھی۔ جنگ آزادی کے دوران ہندوستانی زبانوں کے استعمال کی ضرورت پہچانی گئی۔ ہندوستانیوں کے بہت بڑے طبقے نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ زبان جو ہندی، اردو اور پنجابی جیسی مختلف زبانوں کے اشتراک سے بنی ہے اور جسے ملک کا بہت بڑا طبقہ بولتا ہے وہ ”ہندوستانی“ ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے 1932 میں کوکاناڈا (کاکی ناڈا) کے اپنے اجلاس میں اپنے آئین میں ترمیم کی اور کہا کہ کانگریس اپنی کارروائی میں ہندوستانی، انگریزی اور صوبائی زبانوں کا استعمال کرے گی۔ اس اجلاس میں یہ عہد و پیمان کیا گیا کہ سوراج تمام برادریوں کا ہدف ہے۔ اس عہد و پیمان نے ’ہندوستانی‘ کو ہندوستان کی قومی زبان تسلیم کیا۔ کانگریس کے آئین میں 1934 میں یہ بات شامل کی گئی کہ پارٹی کی تمام کارروائیاں ’ہندوستانی‘ میں ہونی چاہئیں۔ ہندوستان کے موجودہ آئین کی طرح کانگریس کے آئین میں بھی یہ انتظام کیا گیا کہ اگر مقرر ’ہندوستانی‘ زبان نہیں بول سکتا تو وہ کسی بھی صوبائی زبان میں گفتگو کرے یا کانگریس صدر اس کو ایسا کرنے کی اجازت دیں۔
ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی اپنے ایک مضمون میں ’ہندوستانی‘ کا ذکر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس مضمون کے ایک اقتباس کو شامل کیا ہے جس میں پنڈر نہرو نے کہا ہے کہ مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 222 زبانیں یا بولیاں ہیں۔ امریکہ کی مردم شماری میں بڑی تعداد میں زبانوں کا ذکر ہے۔ جرمن مردم شماری میں ساٹھ سے زائد زبانوں کا ذکر ہے۔ لیکن ان میں سے بیشتر زبانیں یا تو چھوٹے طبقات میں بولی جاتی ہیں یا وہ محض بولیاں ہیں۔ ہندوستان میں عوامی سطح پر تعلیم کے فقدان کی وجہ سے بولیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے ہندوستان ایک اکائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وسیع ہندوستان میں درجنوں زبانیں ہیں جو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے دو زمرے ہیں۔ ایک شمال، وسطی اور مغربی خطے کی انڈو آرین زبانیں اور دوسرے مشرق اور جنوب کی دراوڑ زبانیں۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ’ہندوستانی‘ (ہندی یا اردو)ہے جو کہ کروڑوں لوگ بولتے ہیں اور کروڑوں اس کو جزوی طور پر سمجھتے ہیں۔ یہ زبان بڑی صوبائی زبانوں کو بے دخل کیے بغیر دوسری زبان کے طور پر رابطے کی کل ہند زبان بننے کی اہل ہے۔ سنیما اور ریڈیو کی بدولت ’ہندوستانی‘ کا دائرہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ ناچیز کو متعدد مواقع پر پورے ملک میں لوگوں سے خطاب کرنے کا موقع ملا ہے اور تقریباً جنوب کو چھوڑ کر اس نے ہر جگہ ’ہندوستانی‘ میں گفتگو کی اور سب نے اسے سمجھا۔
جسٹس دھولیا اور جسٹس ونود چندرن نے اپنے فیصلے میں آئین ساز اسمبلی میں کی جانے والی پنڈت نہرو کی تقریر کے ایک اقتباس کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سرکاری زبان ہندی میں اردو کے الفاظ داخل کرکے اسے لسانی اعتبار سے مالا مال کیا جائے گا۔ ان کے بقول ہم بعض قسم کے موضوعات پر ہندی میں بہتر بولتے ہیں اور بعض دیگر قسم کے موضوعات کے لیے اردو بہتر ہے۔ زبان کے استعمال کا انحصار موضوعات پر ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ہندی کو، جو کہ ہماری سرکاری اور قومی زبان کی حیثیت سے پروان چڑھ رہی ہے، مضبوط کرتی ہیں۔
عدالتی بینچ نے عوامی سطح پر اردو زبان کے وسیع تر استعمال کی نشان دہی کی اور کہا کہ آج بھی عوام جو زبان بولتے ہیں اس میں اردو کے الفاظ کی بھرمار ہے۔ یہاں تک کہ جو اردو نہیں جانتے وہ بھی اردو کے الفاظ بولتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کوئی بھی شخص اردو کے الفاظ یا اردو سے اخذ کیے گئے الفاظ کے استعمال کے بغیر یومیہ تبادلہ خیالات نہیں کر سکتا۔ لفظ ’ہندی‘ خود فارسی لفظ ’ہندوی‘ سے نکلا ہے۔ یہ بہاو دوطرفہ ہے۔ اردو نے بھی سنسکرت سمیت دیگر زبانوں کے بہت سے الفاظ کو اخذ کیا ہے۔
بڑی تعداد میں اردو کے الفاظ کورٹ کچہری اور پولیس تھانوں میں بھی مستعمل ہیں۔ اگر ہم ماضی قریب یا بعید کی عدالتوں کی دستاویزات کا مطالعہ کریں تو پائیں گے کہ ان کی زبان مکمل طور پر اردو ہے۔ آج بھی جبکہ بہت سے الفاظ کے ہندی متبادل استعمال ہو رہے ہیں اردو کے الفاظ کے کثرت ہے۔ عدالتی کاغذات انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی رسم الخط میں بھی تیار کیے جاتے ہیں اور ان میں اردو کے الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اسی طرح پولیس اسٹیشنوں میں درج کی جانے والی رپورٹوں میں بھی اردو کے الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ پولیس کسی وقوعے کے سلسلے میں جو پنچ نامہ تیار کرتی ہے اس میں بھی اردو کے بے شمار الفاظ ہوتے ہیں۔ حالانکہ دہلی ہائی کورٹ نے چند سال قبل پولیس تھانوں میں استعمال ہونے والی عربی و فارسی آمیز زبان کی جگہ پر آسان زبان کے استعمال کی ہدایت دی تھی۔ تھانوں میں اس زبان کا استعمال انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے۔ پولیس محکمہ میں بھرتی ہونے والوں کو ان الفاظ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اسی طرح عدالتی کارروائیوں میں بھی اردو کے الفاظ کی بھرمار ہے۔ متعدد جج حضرات ایسے گزرے ہیں جنھوں نے اپنے فیصلوں میں اردو کے بیشتر الفاظ تو استعمال کیے ہی، بہت سے برمحل اشعار کا بھی استعمال کیا۔ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے۔ لہٰذا انھوں نے کہا کہ عدلیہ میں اردو کے الفاظ کے خاصے اثرات ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے عدالت، حلف نامہ، وکالت نامہ، دستی اور پیشی وغیرہ کی مثال دی۔ انھوں نے یہ بات واضح کی کہ گو کہ دستور کی دفعہ 348 کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کی سرکاری زبان انگریزی ہے لیکن آج بھی عدالتوں میں اردو کے بے شمار الفاظ مستعمل ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا آئین کی دفعہ 120 کے تحت پارلیمنٹ کی سرکاری زبان ہندی یا انگریزی ہے لیکن وہ ایوان کے صدر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر کوئی رکن ہندی یا انگریزی میں بولنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی مادری زبان میں خطاب کر سکتا ہے۔ ریاستی اسمبلیوں میں بھی یہی اصول اپنایا گیا ہے۔ عدالت کے خیال میں اردو پر تنقید دراصل ہندی پر بھی تنقید ہے۔ کیونکہ ماہرین لسانیات اور ادبا و شعرا کے مطابق ہندی اور انگریزی دو زبانیں نہیں بلکہ ایک زبان ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اردو نستعلیق میں لکھی جاتی ہے اور ہندی دیو ناگری میں۔ لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ رسم الحظ زبان نہیں بناتا۔ بلکہ صرف و نحو، گرامر اور صوتی آہنگ سے زبان بنتی ہے۔ اس معاملے میں ہندی اور اردو ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ فاضل جج حضرات نے اپنے فیصلے میں اردو کے معروف نقاد گیان چند جین کے ایک مضمون ’اردو، ہندی یا ہندوستانی‘ کے ایک اقتباس کو جو کہ مجلہ ’ہندوستانی زبان‘ کے جنوری تا اپریل 1974 کے شمارے میں شائع ہوا تھا، شامل کیا ہے۔ اقتباس کے مطابق ’یہ بالکل واضح ہے کہ اردو اور ہندی دو الگ الگ زبانیں نہیں ہیں۔ ان کو دو زبانیں کہنا لسانیات کے تمام اصولوں کو جھٹلانا ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ اردو اور ہندی ادب دو الگ الگ اور آزاد ادب ہیں لیکن اردو اور ہندی دو الگ زبانیں نہیں ہیں۔ ہندوستانی آئین میں دونوں کو الگ الگ شمار کرنا سیاسی مصلحت ہے لسانی حقیقت نہیں‘۔ ججوں نے اس اقتباس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر گیان چند جین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ آئین میں اردو اور ہندی کو الگ الگ مانا گیا ہے لیکن ان کے خیال میں سیاسی مجبوری یا مصلحت کے تحت ایسا کیا گیا نہ کہ لسانی سچائی کے تحت۔ اس تعلق سے انھوں نے ہندی ادیب اور کہانی نویس امرت رائے، معروف ہندی اسکالر رام ولاس شرما اور بابائے اردو ڈاکٹر عبد الحق کے اقتباسات کی مثالیں بھی دی ہیں۔
فیصلے میں ہندوستان کے سابق چیف جسٹس ایم این وینکٹ چلیا کی اس تقریر کا اقتباس بھی شامل کیا گیا ہے جو انھوں نے دہلی میں منعقدہ ایک سمینار میں کی تھی۔ انھوں نے اردو کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان میں اردو زبان کو خاص مقام حاصل ہے۔ اردو زبان جوڑتی ہے۔ یہ صوفی ازم کی عظمتوں کی پراسراریت سے لے کر رومانیت، بھائی چارے کے مہک، زندگی کی اداسی اور انسانی ر شتوں تک کے جذبات و خیالات کو جنم دیتی ہے۔ اردو اس ملک کی صرف ایک زبان نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک تہذیب ہے، ایک ثقافت ہے۔ آج اس بات کی شدید ثقافتی ضرورت ہے کہ اس کی بقا کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اردو ثقافت کی زرخیزی اور ماضی کی اس کی عظمت کی بحالی کی ضرورت ہے۔
جبکہ آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہماری بد گمانیوں کو، جو کہ شاید اس زبان کے تعلق سے تعصب پر مبنی ہے، حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ ہماری طاقت کبھی بھی ہماری کمزوری نہیں بن سکتی۔ ہمیں اردو اور تمام زبانوں کا دوست بننا چاہیے۔ بالکل آخر میں فاضل جج حضرات نہ یہ کہتے ہوئے اردو زبان کے بارے میں معروف شاعر اقبال اشہر کی اس نظم کے اشعار پیش کیے ہیں کہ اگر اردو بول سکتی تو یہی کہتی:
اردو ہے مرا نام میں خسرو کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں جانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
 بہرحال سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جہاں تاریخ ساز ہے اور بہت سی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کرتا ہے وہیں اس سے امید کی کرن بھی پھوٹتی ہے۔ یہ فیصلہ اردو مخالفین کے لیے ایک آئینہ ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس آئینے میں اپنے نقطہ نظر کا جائزہ لیں اور اردو کے حوالے سے اپنی رائے درست کریں۔
موبائل: 9818195929

Monday, April 21, 2025

امارت شرعیہ سازشوں ے نرغے میں عبداللہ ممتاز قاسمی

امارت شرعیہ سازشوں ے نرغے میں

عبداللہ ممتاز قاسمی

 امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ ایک تنظیم نہیں؛ ایک فکر ہے، ایک ادارہ نہیں؛ اسلامی عدالتی نظام کی ایک نظیر ہے۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا نظام برپا کیا، جس کی مثال اس وقت دنیا بھر میں موجود نہیں۔

 حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد رحمۃ اللہ علیہ اس کے بانی تھے؛ لیکن خود امیر بننے کے بجائے، اس وقت کی دو معروف خانقاہوں، خانقاہ رحمانی مونگیر اور خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشینوں (حضرت مولانا محمد علی مونگیری اور حضرت مولانا سید شاہ بدر الدین قادری) کو اس کے امیر بننے کی پیش کش کی۔ پھر حضرت مولانا مونگیریؒ کے مشورے اور تائید سے امیر شریعت اول حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادری منتخب کرلیے گئے اور خود نائب امیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ میرے استاذ مولانا قاضی عبدالجلیل صاحب عہدوں کی کش مکش کے تناظر میں بڑی معصومیت سے طلبہ سے فرماتے کہ "مولانا ابوالمحاسن کتنےبُڑبک آدمی تھے جنھوں نے امارت قائم کی اور ساری تگ ودو خود ہی کرتے رہے؛ لیکن امیرشریعت خود بننے کے بجائے دوسرے کو بنادیا"۔

 لوگ کہتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کی عمر سو سال ہوتی ہے۔ 1921ء میں امارت شرعیہ قائم ہوا تھا اور 2021ء آتے آتے یہ ادارہ آپسی کش مکش اور کھینچا تانی کی آماجگاہ بن گیا۔ فتنے 2021ء میں پہلی مرتبہ رو نما نہیں ہوے تھے، اس سے پہلے بھی امارت میں اختلافات جنم لیتے رہے؛ لیکن تب ایسی شخصیتیں موجود تھیں، جنھوں نے اپنے مفادات کی قربانی دے کر امارت کا تحفظ کیا۔ امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب کی وفات کے بعد امیر شریعت سادس کے لیے اس وقت کی سب سے معتبر اور لائق شخصیت حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی تھی؛ لیکن لوگوں کی ایک بھیڑ ایسی بھی تھی جو قاضی صاحبؒ کے بجائے مولانا محمد ولی رحمانی کو امیر کے عہدے پر فائز کرنا چاہتی تھی، اس حوالے سے امارت کے اندر انتشار وخلفشار مچانے کی بھی کوشش کی گئی؛ لیکن حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ دونوں شخصیتوں نے اپنی فراست ودانائی سے اور اپنے انا کی قربانی دے کر خود کو پیچھے کرلیا اور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو امیر شریعت سادس منتخب کرلیا گیا۔

 حضرت مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ امارت کی دوڑ میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجود وہ امیر منتخب کرلیے گئے؛ لیکن انھوں نے اپنی پوری حیات اس عہدے کو ایسا نبھایا کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ لوگ بتاتے ہیں کہ اس وقت ایک ہی دفتر ہوا کرتا تھا، جو بیت المال، امیر شریعت اور ناظم امارت کی آفس سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ بیٹھنے کے لیے بوریہ سے زیادہ کا انتظام نہ تھا؛ لیکن جب ان کی وفات ہوئی تو امارت کے پاس نہ صرف اپنی سہ منزلہ شاندار عمارت تھی، بلکہ سجاد ہاسپیٹل، ٹیکنیکل انسٹیوٹیوٹ، المعہد العالی اور دارالعلوم الاسلامیہ جیسے عظیم ادارے موجود تھے۔ حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی نے جہاں امارت شرعیہ کودنیا بھر میں علمی اور قضائی شناخت دیا وہیں مولانا سید نظام الدین نے انتظامی اور عوامی شناخت کو بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کے گاؤں گاؤں تک پہنچایا۔ اللہ تعالی ان کی خوب مغفرت فرمائےاور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

 حضرت مولانا کی وفات حضرت عثمان کی شہادت تھی، یعنی یہ ایک ایسا سانحہ تھا، جس کے بعد باندھ ٹوٹ گیا اور فتنوں کے سیلاب نے امارت کو چاروں طرف سے گھیرنا شروع کردیا۔ مولانا محمد ولی رحمانی ایک مضبوط شخصیت تھے، انھوں نے امارت کو نئی اونچائیوں پر لے جانے کی تگ ودو شروع کی، ان کے جو ترقی پسند افکار ونظریات تھے، امارت کے پلیٹ فارم سے انھیں بروئے کار لانا شروع کیا؛ لیکن وہ امارت کی زمین سے نہیں جڑ سکے۔ ایک طرف سید نظام الدین تھے، جن تک ایک معمولی چپراسی کی بھی رسائی تھی، دوسری طرف مولانا محمد ولی رحمانی کی شخصیت کا امارت میں ایسا خوف پھیلایا گیا کہ قاضی ومفتی کی باریابی کے لیے بھی وقت درکار ہوا کرتے تھے۔ امارت میں ان کی آمد ہٹو بچو جیسی تھی۔ اس لیے ان کے گرد چاپلوسوں اور مفاد پرستوں نے گھیرا بنالیا۔ 

 دارالعلوم الاسلامیہ کا قضیہ ان ہی کے زمانے میں رونما ہوا۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے معتمد خاص، مفتی جنید احمد قاسمی جنھوں نے الف با سے لے کر دورہ حدیث شریف تک دارالعلوم الاسلامیہ کو اپنی محنت وکاوش اور امارت شرعیہ کی سرپرستی میں پہنچایا، آپسی اختلاف کی بنیاد پر دارالعلوم الاسلامیہ سے نکال دیے گئے اور امارت میں مفتی کے عہدے سے بھی انھیں مستعفی ہونا پڑا۔ دارالعلوم پر قبضے کی ایسی جنگ برپا ہوئی جس میں امارت کے ذمے داران اور طلبہ دارالعلوم کے درمیان ہاتھا پائی اور لاٹھی وبانس چلنے کی بھی نوبت آئی۔ 

 حضرت الامیر کے حکم پر"دین بچاؤ ، دیش بچاؤ" جیسا بہار کی تاریخ کا ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کے کنوینر اور اجلاس کے حوالے سے مولانا کے دست وبازو خالد انور نے اجلاس اور مولانا کی شخصیت کو سیڑھی بناکر کسی الیکشن میں کامیابی حاصل کیے بغیر نتیش کمار کی پارٹی سے ایم ایل سی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 

 مولانا شبلی قاسمی جو پٹنہ کی کسی مسجد میں امام تھے، حضرت الامیرکی قربت وچاپلوسی میں کامیاب ہوگئے، جس نے کبھی ایک منٹ کے لیے بھی بطور امارت کے کارکن کے بھی کام نہیں کیا تھا۔ انھیں قائم مقام ناظم کے عہدے سے سرفراز کردیا گیا۔ ناظم بنتے ہی انھوں نے مولانا محمد ولی رحمانی کی قربت اور اپنے عہدے کا دھونس اپنے سے نچلی سطح کے ملازمین پر جمانا شروع کردیا۔ امارت کے اکثر ملازمین ان سے خائف تھے؛ چوں کہ حضرت الامیر کی ان تک پہنچ تھی۔ان پر باورچن کے ساتھ جنسی زیادتی اور مالی غبن کا الزام اسی عرصے میں لگا؛ لیکن زبانیں خاموش رہیں؛ چوں کہ حضرت الامیر تک ان کی پہنچ تھی۔

 نام نہاد مولانا ابوطالب رحمانی (جو نہ تو مولانا ہیں اور نہ ہی رحمانی) جو کبھی نتیش کمار کے پرچاک اور فرنٹ مین رہے تھے، انھوں نے بھی اپنی چاپلوسی وچرب زبانی سے مولانا محمد ولی رحمانی کی قربت حاصل کی۔ حضرت امیر شریعت کے رحم وکرم پر امارت شرعیہ کے رکن شوری اور ٹرسٹ کے ممبر بنائے گئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بھی ممبران میں شامل ہوگئے۔ جدیو نیتا اشفاق کریم بھی امارت کے ٹرسٹی بنائے گئے، وہ بھی مولانا سید محمد ولی رحمانی کے مرہون منت ہیں۔ (یہ وہ نام ہیں جنھوں نے موجودہ امیر کے خلاف بغاوت کی پیشوائی کی ہے، اس لیے قابل ذکر ہیں)
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ڈھال تھے، فتنے ان کے زمانے میں پلے اور بڑھے اور سازشوں نے جنم ضرور لیا؛ لیکن بہرحال ان کے رعب ودبدبہ نے ان فتنوں کو کبھی سر اٹھانے نہیں دیا۔ نہ معلوم کیا مصلحت تھی جو انھوں نے اپنے دور امارت میں نائب امیر اور ناظم جیسے اہم اور کلیدی عہدوں کو بھی خالی رکھا۔ ناظم امارت کا عہدہ تو آج تک خالی ہے۔ ان کے مرض الوفات میں پھر حسب عادت ایک دور کی شخصیت جس کا نہ صرف امارت سے کوئی لینا دینا نہیں؛ بلکہ وہ خالص تدریسی شخصیت ہیں، کو نائب امیر منتخب کیا گیا۔

خیر! امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد امارت میں ایک بھونچال آیا۔ امیر بننے کی ریس لگ گئی۔ جو امیر بننے کے ریس میں شامل تھے، انھوں نے پیڈ قلمکاروں سے اپنے فضائل ومناقب لکھوانا شروع کیا، ارباب حل وعقد میں خرد برد کیے گئے، پٹنہ اور اطراف میں کمپین چلائے گئے، جمہوری الیکشن کی طرح نومینیشن اور الیکشن ہوے اور امارت کی روح کو مجروح کرکے انتخاب عمل میں آیا۔
جن کی فتح ہوئی، انھوں نے جشن منایا اور جن کی شکست ہوئی، انھوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ صاحب الیکشن میں جھول تھا، "ای وی ایم ہیک تھے" وغیرہ؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی الیکشن اور "اسی ای وی ایم "کے ذریعہ آپ بھی امیر بننےکے خواہاں تھے۔ اب شکست کے بعد الزام کیسا؟ یقینا موجودہ امیر اصطلاح میں عالم نہیں ہیں، جو لوگ انھیں عالم جانتے ہیں وہ انجینیر محمد علی مرزا کو انجینیر فیصل ولی رحمانی سے بڑا عالم سمجھتے ہوں گے اور ڈاکٹر اسرار احمد اور ڈاکٹر ذاکر نائک کو بھی صف علماء میں اول مقام پر رکھتے ہوں گے۔

ان کوتاہیوں کے باوجود، جو ہونا تھا سو ہوگیا۔ انتخاب کے چار سال بعد انتخاب میں دھاندلی یا ان کے غیر عالم یا غیر ملکی ہونے کا حوالہ دے کر امارت میں شورش برپا کرنا، نہ صرف خطرناک قسم کی فتنہ انگیزی ہے؛ بلکہ بہار کی سطح پر اتحاد امت کو پارہ کرنے کی سازش بھی ہے۔ منتخب امیر کے مقابلے جنھیں امیر بنایا گیا ہے، وہ باب سیاست میں ایسے نوآموز ہیں، جنھیں 2021ء کے انتخاب کے وقت اتنی بات سمجھ نہیں آئی کہ دستور امارت میں غیر عالم امیر نہیں بن سکتا تو پھر غیر عالم کے ساتھ زور آزمائی کیوں کی؟ ارباب حل وعقد کے انتخاب میں دھاندلی ہوئی، پھر انھیں ووٹ دینے کی اجازت کیوں دی؟ اور دستور کے کس ضابطے سے اراکین ٹرسٹ منتخب امیر کو معزول کرسکتے ہیں اور نئے امیر کا انتخاب کرسکتے ہیں؟ اگر اتنی بات انھیں نہیں سمجھ میں آرہی ہےتو ان کے مقابلے کسی عام فہم انسان کا امیر بننا زیادہ بہتر ہے، انجینیر صاحب تو پھر بھی ڈپلومہ ہولڈر ہیں اور ملٹی لینگول بھی ہیں اور اس پر مستزاد سیاست کے داؤ پیچ سے واقف بھی۔

جن لوگوں نے امارت میں فتنہ انگیزی کی ہیں، ان میں پیش پیش، ابوطالب رحمانی، شبلی قاسمی اور اشفاق کریم، خالد انور اور مفتی سہیل جیسے لوگ ہیں۔ یہ کرسی کے پجاری اور برسر اقتدار حکومت کی چاکری کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کے نزدیک امارت شرعیہ حصول مفاد کا ایک ذریعہ تھا، سو انھوں نے اختیار کیا۔ جب ان کے آقاؤں کا مفاد امارت شرعیہ سے متصادم ہوا، انھوں نے ملت کے پشت میں چھرا گھونپ کر آقا کی خوش نودی حاصل کی۔ فیصل ولی رحمانی سے ہزار اختلاف؛ لیکن وہ اب منتخب امیر ہیں۔ ان کے خلاف بغاوت امارت کے خلاف بغاوت ہے۔ ان کے خلاف سازش ملت کے اتحاد کے خلاف سازش ہے، پولیس میں ان کی شکایتیں لگانا اور ان پر الزام تراشیاں کرنا ، ملت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

 امیر شریعت پر طور پر تین الزام ہیں، جنھیں بنیاد بناکر امارت شرعیہ میں شورش برپا کی گئی ہےاور امارت کو توڑنے کی پوری سازش کی جاچکی ہے۔ آئیے ان تینوں کا جائزہ لیں۔

(1) "امیر شریعت عالم نہیں ہے"۔ ہاں یقیناوہ اصطلاحی عالم نہیں ہیں اور دستور امارت میں امیر کے لیے عالم ہونے کی شرط ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ شرط قرآن وحدیث سے مستنبط ہےیا اس کا تعلق انتظام واجتہاد سے ہے۔ یقینا ایک عام فہم شخص بھی یہی کہے گا کہ اس کا تعلق انتظام واجتہاد سے ہے۔ یہ ضابطہ بنایا کس نے ہے؟ امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب کے زمانے میں شوری نے اس دستور کو منظوری دی تھی۔ امیر شریعت ثامن فیصل ولی رحمانی کی زمانے میں شوری نے اس ضابطے کی عملا وضاحت کردی کہ ایسا شخص جو اصطلاحی عالم تو نہ ہو؛ لیکن شریعت کا ایک معتد بہ علم رکھتا ہو، وہ بھی امیر بن سکتا ہے؛ چوں کہ انتخاب امیر کے وقت شوری اور انتخاب کمیٹی نے ان کی اہلیت پر اس حوالے سے سوال نہیں اٹھایا اور"معرض سوال میں سکوت، رضامندی کی دلیل ہوتی ہے"۔ پھر یہ کہ انسانوں کے بنائے ہوے دستور کا جب ٹکڑاؤ خدا کے دیے حکم سے متصادم ہو تو ظاہر ہے، خدا کے حکم کی تعمیل کی جائے گی، نہ کہ انسانی دستور کی۔ اللہ کا صاف حکم ہے: ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو‘‘(آل عمران ؍103) اور "آپس میں جھگڑا مت کرو، ورنہ دشمنوں کے سامنے تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ (الانفال:46) اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’اگر تم پر ناک یا کان کٹا غلام بھی امیر بنادیا جائے جو اللہ کی کتاب کی روشنی میں تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو‘‘ (مسلم) اور ’’سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام (امیر) مقرر ہو جائے اگرچہ اس کا سر ( چھوٹا ہونے کی وجہ سے) منقہ جیسا ہو‘‘ (بخاری)۔ انتخاب امیر سے پہلے اختلاف کوئی معیوب بات نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت بھی اختلاف ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت بھی؛ لیکن انتخاب کے بعد اختلاف بغاوت ہے، چاہے وہ امیر آپ سے کہتر ہو؛ چناں چہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تمام کارناموں کے باوجود ( کہ شہادت عثمان کے بعد جو فتنوں کا دروازہ کھلا تھا اور اسلام کی فکری اور ملکی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں تھیں، انھیں محفوظ بنانے کا عظیم کارنامہ انھوں نے ہی انجام دیا تھا) حضرت علی سے بغاوت کو ہم ان کی اجتہادی خطا جان کر ہی انھیں کلین چٹ دیتے ہیں۔

(2) "وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں"۔ اسلام سرحدی بندشوں کا پابند نہیں۔ یہ لکیریں ہم نے کھینچی ہیں۔ اس لیے امارت کے دستور میں بھی ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ اس کا تعلق خالص انتظام سے ہے۔ اگر ہندوستانی آئین میں، ان کا امریکی شہری ہونا، امارت شرعیہ کا امیر بننے کے منافی ہے تو بلاشبہ انھیں اس عہدے سے معزول کیا جانا چاہیے چوں کہ ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور اس کے دستور کی پاسداری کرنا ہر شہری کی ذمے داری ہے؛ لیکن اگر ہندوستانی قانون میں اس کی گنجائش ہے، تو پھر اسے بنیاد بناکر انھیں معزول کرنے کی گنجائش شرعی ضابطے میں ہے اور نہ ہی امارت شرعیہ کے دستور میں۔
البتہ امیر شریعت سے میری یہ گزارش ضرور ہے کہ آپ چوں کہ ہندوستان میں پیدا ہوے، آپ کی پرورش وپرداخت ہندوستان میں ہوئی، بعد میں آپ نے اپنی قابلیت کی بنیاد پر امریکی شہریت حاصل کی۔ خبروں کے مطابق آپ کے پاس او سی آئی بھی ہے۔ نہ تو آپ امریکہ میں پیدا ہوے اور نہ ہی آپ کو دیش نکالا کیا گیا ہے۔ اس لیے واپس ہندوستانی شہریت حاصل کرنا کوئی جوئے شیر لانے جیسا کام نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکی شہریت بآسانی نہیں ملتی، اس سے آپ کی اور آپ کے فیملی کے بہت سے مفادات وابستہ ہیں؛ لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری اور امارت شرعیہ کے امیر سے زیادہ اس کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔

(3) "مالی بدعنوانی، ڈکٹیٹرشپ، شوری کی میٹنگ نہ بلانے جیسے چھوٹے موٹے الزامات"۔ دنیا میں ایسا کون شخص ہے، جو دودھ سے دھلا ہو۔ الزام لگانے والے پر کوئی الزام نہیں؟ اگر ایسے الزامات کی بنیاد پر امیر شریعت کو معزول کیا جانے لگےتو گزشتہ سو سالوں میں سات امیر نہیں، سات سو امیر منتخب اور معزول ہوچکے ہوتے۔

امارت شرعیہ سے بغاوت کرنے والوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، شاید عدالت میں آپ امارت کو توڑنے اور اپنی ایک الگ امارت بنانے میں کامیاب بھی ہوجائیں؛ لیکن شاید آپ کسی خوش فہمی میں ہیں، جس طرح دارالعلوم، جمعیت اور مظاہر کی طرح آپ کی امارت کی بھی وہی اہمیت ہوگی جو ان کی ٹوٹنے بعد بھی باقی رہی تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ نے قدم پیچھے نہیں ہٹایا، تو یہ آپ کے نہ صرف مستقبل کے کریر کے لیے ہلاکت ہوگی؛ بلکہ ماضی میں آپ نے امارت کے لیے جو کچھ کیا، اس پر بھی پانی پھر جائے اور تاریخ امارت میں آپ کے سامنے بس ایک لفظ لکھا جائے گا "باغی"۔چوں کہ امارت کی بنیاد ہی اتحاد پر ہے، اگر اتحاد باقی نہیں رہا تو پھر باقی کیا رہا؟امید ہے کہ مولانا انیس الرحمن قاسمی اس بات کو سمجھیں گےاور مفاد پرستوں کے نرغے سے خود کو نکالیں گے۔ آپ قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے معتمد رہے ہیں اور امارت کے لیے طویل خدمات ہیں ان کی۔ آپ کی شناخت انتظامی حیثیت سے زیادہ علمی حیثیت سے رہی ہے۔ آپ اپنی کھلوں آنکھوں سے دیکھیے اور محسوس کیجیے کہ جنھوں نے آج آپ کے گرد ہالہ بنایا ہوا ہے اور جو آپ کو امیر شریعت کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں، کیا یہی کل تک فیصل ولی کو امیر بنانے کے لیے پوری تگ ودو نہیں کر رہے تھے۔ ان سے مفادات حاصل نہیں ہوے، اس لیے ان کے باغی بن گئے، کل آپ سے مفادات حاصل نہیں ہوں گے تو کیا وہ آپ کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے؟

 اس پورے واقعہ میں ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جو امارت کے رکن شوری ہیں اور امارت سے خاص وابستگی ہے، (مسلم پرسنل لاء کے قضاء کی تربیت یہیں ہوتی ہے) خاموش تماشائی ہیں۔ شاید آپ سمجھ رہے ہیں کہ خاموش رہ کر امارت میں اپنے کردار کونیوٹرل رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے؛ لیکن معمولی سیاسی شد بد رکھنے والے بھی آپ کی خاموشی کو معنی خیز سمجھ رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء سے ان کا نکالاجانا، جھارکھنڈ امارت کی علیحدگی، پھر امارت میں شورش اور ان سب پر آپ کی گہری خاموشی بے وجہ نہیں ہے۔

Saturday, April 19, 2025

آج ایسے مدارس کی امت کو ضرورت ہے ! محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ایسے مدارس کی امت کو ضرورت ہے ! 

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی اور اصلاح کی جب بھی بات آتی ہے، اور اس موضوع پر قلم اٹھایا جاتا ہے، تو ایک طبقہ فورا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ نصاب و نظام میں تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ مدارس کو اسکول میں بدل دیا جائے گا اور وہاں سے دینی تعلیم کو نکال دیا جائے گا، جب کہ بات صرف اتنی ہے کہ زمانہ کی رعایت، اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس میں ایسی معمولی اور جزئی تبدیلی لائی جائے کہ دینی نصاب پر بھی کوئی آنچ نہ آئے اور زمانے کی رفتار اور اس کے مزاج و مذاق کو دیکھتے ہوئے ، زمانہ کے اسلوب اور زبان میں امت اور قوم و وطن کی اصلاح کی جائے اور ان کو ان کی زندگی کا مقصد بتایا جائے، ظاہر ہے اس کے لئے جدید علوم اور زبان کا سیکھنا اور جدید اسباب و وسائل کا اختیار کرنا لازمی ہوگا۔۔۔۔
 یہ بات ذہن میں رہے کہ موجودہ نصاب تعلیم کوئی منزل من اللہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ منصوص ہے کہ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ اس ضد پر ڈٹے رہنا کہ ہم جو کر رہے ہیں وہی بہتر اور وہی افضل ہے ، ہمارا اختیار کردہ نصاب و نظام قطعی اور حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے، یہ تاریخ سے آنکھیں چرانے اور زمانہ کے تقاضوں سے منھ موڑ لینے کے مرادف ہے، ریت کے طوفانوں میں شترمرغ گردن جھکالے اور سمجھے کہ وہ محفوظ ہے، تو اسے حماقت اور بیوقوفی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے ؟۔ نصاب اور نظام تعلیم کے تغیر کا یہ عمل تاریخ کے ہر دور، ہر زمانہ اور ہر عہد کا حصہ رہا ہے، تغیرات کے اس دور اور زمانے میں اس سے پہلو تہی اختیار کرنے پر حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے ان الفاظ میں حیرت و استعجاب کا اظہار کیا ہے،، جو نصاب تعلیم ہندوستان میں برابر بدلتا رہا اور تغیر و ترقی کے منازل طے کرتا رہا اس کا ایسے عہد میں جو سب سے زیادہ پر از انقلابات ہے نہ بدلنا ایک غیر معقول اور ایک غیر طبعی فعل ہے، علمی تاریخ کا یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ اس نصاب کی زندگی میں وقوف و جمود کا سب سے طویل عہد وہ ہے، جو سب سے زیادہ تغیر و انقلابات کا طالب ہے،، ۔ (تعلیم و تربیت ۳۰/۲۹)
   نصف صدی سے پہلے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رح نے مدارس عربیہ کے نصاب میں ترمیم و اصلاح کی غرض سے ایک مضمون سپرد قلم کیا تھا، جس کی تمہید کچھ اس طرح تھی،، عرصہ دراز سے دینی حلقوں میں مسئلہ نصاب تعلیم زیر بحث ہے اور شدت سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ موجودہ مدارس دینیہ کا مروجہ نصاب تعلیم قابل ترمیم ہے اور مسائل حاضرہ کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے یہ نصاب کافی نہیں، امت کے مصالح اور وقت کے تقاضے اس سے پورے نہیں ہوسکتے،،۔ (تعلیم و تربیت از ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی، صفحہ ۳۰) 
   مفتی شفیع صاحب رح نے پاکستان بنتے ہی فرمایا تھا کہ ہمیں دیوبند، ندوہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ ایک چوتھے نظام تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ 
   اس تمہیدی گفتگو اور پس منظر میں نیچے کی تحریر کو پڑھا جائے اور اس کے مطابق تیاری کی جائے۔۔۔۔۔۔ 
  *دار العلوم دیوبند* کے سب سے پہلے طالب علم اور اس نظام مدارس کے عظیم معمار شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رح ان حضرات میں سے تھے، جو صاف ستھرے اور "اپنے ماحول میں؛؛ عصری تعلیم کی ضرورت کو بھی بہت شدت سے محسوس کرتے تھے، چناچہ انہوں نے ۲۹/اکتوبر /۱۹۲۰ کو "علی گڑھ کالج؛؛ کی مسجد میں ایک نئے ادارے کے قیام کے موقع پر اپنے خطبہ افتتاحیہ میں کہا تھا :"مسلمانوں کی تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، اور اغیار کے اثر سے مطلقا آزاد ،کیا باعتبار عقائد و خیالات اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال ،ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں ،ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہئیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے غلام پیدا کرتے رہیں ،بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں "بغداد ؛؛اور قرطبہ؛ ؛کی یونیورسٹیوں کے، اور عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا ،اس سے پیشتر کہ ہم ان کو اپنا استاد بناتے ؛؛- 
قدیم نظام تعلیم و تربیت کا ایک اور شاندار نمونہ *مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح* نے ایک جگہ لکھا ہے :
:میرے نزدیک اسلامی ممالک میں صحیح زندگی کی بنیاد عوام میں صحیح اور طاقتور دینی شعور کا وجود ہے ---اور دوسری مضبوط بنیاد صحیح نظام تعلیم اور وحی نبوت کے ذریعے آئے ہوئے اس علم کو ،جو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اور جو ہر دور کا علم اور ہر صالح تہذیب کی بنیاد و اساس ہے، ان طبعی علوم ،عصری معلومات، اور ان تجربوں اور ایجادات و انکشافات کے ساتھ جمع کرنا ہے، جن میں مغرب فوقیت لے گیا ہے ؛؛-
*ہندوستان* کے ان دو عظیم ہستیوں اور اسکالرز کے ان اقتباس کو غور سے پڑھیے اور پھر تجزیہ کیجئے کہ آج مسلمانوں کو کیسے علمی اداروں ، دانش گاہوں اور مدرسوں کی ضرورت ہے اور علم اور تعلیم کے میدان میں کس منصوبہ بندی اور پلانگ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ؟ ۔ اور اس کے لئے اہل علم اور دانشوران امت کو کس قدر سنجیدگی کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھانا چاہیے ۔ 
     مدارس کی ضرورت و اہمیت اور افادیت سے کس کو انکار ہے ؟
     لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم مدارس کے لوگ نصاب تعلیم کو اپٹوڈیت کرنے کے اعتبار سے اور جدید آلات اور اسباب و وسائل سے استفادہ اور شرعی علوم کے حصول میں اس سے معاونت کے اعتبار سے بہت پیچھے نہیں ہیں؟ ۔ 
  آج ضرورت ہے کہ کچھ مدارس اس انداز کے بھی ہوں کہ ان کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہو، جس کے اندر دو خوبیاں ہوں ایک طرف تو ان کے اندر تقویٰ و طہارت اخلاص و للہیت علم کی گہرائی اور عمل کی پاکیزگی ہو اور اس سلسلہ میں وہ اسلاف کا نمونہ ہوں، اور ان کے ذوق و مزاج کے وارث ہوں وہ عالم و داعی بنکر دین کی خدمت کریں تو دوسری طرف یہ کوشش بھی کی جارہی ہو کہ ان کے اندر عصری اور ماڈرن تعلیم اتنی دے دی جائے اور اتنی صلاحیت اور لیاقت پیدا کر دی جائے کہ اگر وہ قانون، انتظامیہ، سول سروسیز، صحت ،تعلیم، سائنس، صنعت و حرفت اور تجارت کے میدان میں اگر آگے جانا چاہیں تو ان کو کوئی دقت نہ اور وہاں جاکر اپنے دائرہ عمل میں وہ اسلام کی نمائندگی کریں اور اس بہانے خدمت خلق اور دعوت دین کا کام ان ماڈرن طبقے میں آسانی سے ہو سکے ۔
اس کے لئے ایسے مدارس میں نصاب تعلیم کے ساتھ چوبیس گھنٹے کا نظام الاوقات کھیل کود اور خورد و نوش وغیرہ کا انتظام اعلیٰ پیمانے پر کرنا ہوگا ۔اور خوب سے خوب تر کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھنا ہوگا ۔ 
اور پھر ان جدید طرز کے مدارس کے سامنے یہ ہدف بھی ہو کہ دینی تعلیم کا حصول صرف غریب نادار اور دیہاتی گھرانوں کے بچوں کا فرض نہیں ہے ۔خوش حال اور روشن دماغ گھرانوں کے بچوں کو بھی قرآن و حدیث کے علم سے اپنے دل و دماغ کو منور و تابندہ کرتا چاہیے ۔ 
     مدارس میں اہل ثروت اور مالداروں کے بچے کے نہ آنے کی وجہ مدارس اسلامیہ کا بندھا ٹکہ اور فرسودہ نظام اور نصاب بھی ہے۔ تربیت کی کمی بھی ہے، رہن سہن اور خورد و نوش و رہائش کا صحیح انتظام نہ ہونا بھی ہے۔ تنبیہ اور مارپیٹ اور سخت نگرانی بھی ہے ،جو موجودہ اصول تربیت کے خلاف ہے۔ 
    اگر مدارس اسلامیہ تمام نہیں، بعض بھی اپنے نظام تعلیم و تربیت کو درست کرلیں، تعلیم کا معیار حالات کی رفتار کیساتھ کرلیں۔ خورد و نوش زیب و زینت،لباس و پوشاگ اور رہائش و تربیت کا اعلیٰ نظام مرتب کرلیں کہ مالدار گھرانے کے بچوں کو وہاں وحشت و اجنبت نہ ہو، وہ اس ماحول میں اپنے آپ کو ایڈیجیسٹ کرلیں اور مانوس ہو جائیں، ان کو نگران و اساتذہ کی طرف سے ایسی کسی سختی کا سامنا نہ کرنا پڑے، جو اس کو مدارس کے ماحول سے متنفر کردے تو بعید نہیں کہ مالدار گھرانے کے بچے بھی مدارس اسلامیہ کا حصہ بن جائیں اور جب خود کفیل اور مالدار گھرانے کے بچے فارغ ہوکر نکلیں گے تو وہ امت کے لیے بعض اعتبار سے مفید زیادہ ہوں گے اور ان کے اندر حق گوئی، جرآت ، اور بے باکی زیادہ ہوگی، وہ علی الاعلان حق بات کہہ سکیں گے، کسی سے متاثر اور مرعوب نہیں ہوں گے۔ اور فکر معاش سے بھی بہت حد تک فارغ البال ہوں گے۔ 
   آج حال یہ ہے کہ مدارس میں اسی فیصد بچے غریب اور پسماندہ گھرانے کے ہوتے ہیں، مالدار گھرانے کے وہ بچے زیادہ تر مدارس میں آتے ہیں ،جو زیادہ تر ذھنانت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں یا والدین ان سے تنگ آجاتے ہیں ، اصلاح سے ناامید ہو جاتے ہیں تو مدارس کے اساتذہ کے حوالے دین داری کا لبادہ دکھا کر کردیتے ہیں۔ الحمدللہ ان بچوں پر محنت کی جاتی ہے اور وہ بھی لائق بن جاتے ہیں۔ میری نظر میں اگر مدارس اسلامیہ غریب مسلمان بچوں کو مفت تعلیم دے کر ان کو کسی لائق بنا دیتے ہیں، تو یہ خود ان کا بہت بڑا احسان بلکہ معجزہ اور کارنامہ ہے۔ لیکن اگر مدارس اسلامیہ سے مالدار گھرانے کے بچے بھی فارغ ہو کر ایک بڑی تعداد میں نکلنے لگیں تو نور علی نور ہو جائے اور دعوت اسلامی کے کاموں کی رفتار بڑھ جائے اور خود دار علماء کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو جائے۔           
      آج دعوت اسلامی کے ایک نئے مرحلے اور دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ایسے علماء کی سخت ضرورت ہے جو انگریزی اور دوسری علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں پر عبور رکھتے ہوں اور شریعت اسلامی کے گہرے علم کے ساتھ جدید مسائل سے بھی بخوبی واقف ہوں ۔ 
   درس نظامی اور مدارس نظامیہ کی افادیت اور اس کے ثمرات و برکات سے کون انکار کرسکتا ہے؟ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے مدارس میں جو نصاب تعلیم اب تک رائج ہے جسے ہم درس نظامی کے نام سے جانتے ہیں، وہ علوم دینیہ کی حفاظت و اشاعت کے لیے تو بلاشبہ کافی ہے، مگر ملکی ،اور دفتری ضروریات آج بالکل بدلی ہوئی ہیں، ان میں ہماری قدیم منطق و فلسفہ اور قدیم ریاضی اور فارسی زبان کام نہیں دیتی، آج فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے اور قدیم معقولات کی جگہ نئی سائنس نے، نیز دوسرے علوم جدید نے لے لی ہے، اگر ہمارے اسلاف اور متقدمین اپنے زمانہ کی ضروریات کے پیش نظر فارسی زبان کو اپنا سکتے ہیں، یونانی منطق و فلسفہ اور ریاضی کو نصاب تعلیم کا ایک بڑا جزء بنا سکتے ہیں، تو ان کی اتباع آج اس میں نہیں کہ ہم اس وقت وہی منسوخ شدہ سکے لے کر بازاروں میں گھومیں، بلکہ وقت کی ضرورت اور حالات کے تقاضے کے مطابق انگریزی زبان کو پڑھنا پڑھانا اور فنون جدیدہ اور نئے اسباب و وسائل کو استعمال میں لانا وہی درجہ رکھے گا جو اس زمانہ میں فارسی اور یونانی فلسفہ کا مقام تھا، اگر ہم ایسا کرلیتے ہیں اور ان علوم کو ان قدیم علوم اور نصاب کی جگہ پر رکھ لیتے ہیں، تو یہ کوئی غلط تبدیلی اور تصرف نہیں ہوگا اور نہ یہ اسوئہ اسلاف کے خلاف ہوگا۔۔ بلکہ مضر اسباب سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے انگریزی زبان اور عصری علوم و فنون کو پوری کوشش اور توجہ سے حاصل کیا جائے تو پچھلے منطق و فلسفہ سے زیادہ اسلامی عقائد اور اسلامی علوم کے خادم نظر آئیں گے۔۔ 
   جدید علوم کو شجر ممنوعہ سمجھنا دانشمندی اور عقل مندی کی بات نہیں ہے۔۔ ہمیں علم نافع سے ہر حال میں فائدہ اٹھانا چاہیے ، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو اور زمانے سے آنکھیں ملا کر گفتگو کر سکنے کی اس کے اندر ہمت اور طاقت ہو،تو ہمیں دین و دنیا کے بعد کا تصور ختم کرکے دین و دنیا کی جامعیت کا نمونہ پیش کرنا ہوگا اور دینی علوم میں بصیرت کے ساتھ دین کی دعوت و اشاعت کا سائینٹفک انداز اور موجودہ زمانے کے لحاظ سے قریب الفہم طریقہ اختیار کرنا پڑے گا، ورنہ اس سے اغماض برتنے کی صورت میں فرد کا نہیں قوم و ملت کا زیاں، نقصان اور خسارہ ہوگا۔۔ اور سچ ہے کہ۔۔ 

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے 
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف 

الحمد بعض مدارس اور دانش گاہیں اس طرز کے بھی قائم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں، لیکن ان کی تعداد ابھی بہت کم ہے، اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے اور ان کو مزید معیاری بنانے کی حاجت ہے۔

  ناشر / مولانا علاؤالدین الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

Monday, April 14, 2025

اپنے اختلافات کو امت کے لیے نافع بنانے کی کوشش کریں مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علی گڑھ

اپنے اختلافات کو امت کے لیے نافع بنانے کی کوشش کریں 

مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علیگ
علی گڑھ

 *امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے قضیے کے بعد ٬ اب کرناٹک میں مسلمانوں کا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف ٬ وقف جائدادوں سے متعلق اپنی بےچینی کے اظہار نے ٬ امت کو پوری طرح توڑ کر رکھ دیا ہے.* 
 
اتحاد و اتفاق ٬ یکجہتی اور ہمدردی کی خوشبو حاصل کرنے کے بعد ٬ میدان عمل کے ہمارے وہ ساتھی جو اپنی زندگی کی بیش قیمت ٬ خوش گوار یادیں ہمارے ساتھ رکھتے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہےکہ ٬ وہ خود کو بد نامی و رسوائ کے عذاب اور پریشانی میں ڈالنے کے بجائے وہ اپنے اختلاف کو «کسی ادارے یا شخصیت کو نیچا دکھانے کے بجائے» امت کے لئے نافع بنانے کی کوشش کریں۔
 
 جمیعت علماء ہند ٬ جس نے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر لے رکھی تھی ٬ اس نے آج تک اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں دلچسپی نہی دکھا سکی ۔  

امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ ٬ جس کے بنیاد میں سیاسی استحکام کے لئے ٬ اس کی خود کی مسلم سیاسی پارٹی تھی ٬ اس نے بھی اس باڈی کے احیاء کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہی کی ۔ 

مسلم پرسنل لاء بورڈ ٬ جو خود کو سیاست سے دوری کے اظہار کے ساتھ ٬ صرف مذہبی مسائل کی ذمہ داری کے اصول کے ساتھ چلتی ہے ٬ اس کے متعلق کرناٹک کے مسلمانوں کا یہ مطالبہ کیا جارہاہے کہ ٬ بورڈ نے وقف کی جائدادوں کو غلط لوگوں کے قبضہ سے چھڑانے کا اب تک کتنی بار تحریک چلایا ؟ اگر نہی چلایا تو کیا وہ آئندہ کوئ ٹھوس لائحہ عمل بنانے اور تحریک چلانے کا وعدہ کرتی ہے ؟

قارئین کو یاد ہوگا کہ مودی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر بندش کی بات ٬ جب شدت اختیار کرنے لگی تو ٬ *مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے یہ کہاگیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کمی کوتاہی کچھ مسلم لڑکوں کی طرف سے ہورہی ہے اور ایک ہی مجلس میں تین طلاق بول کر لڑکی کی زندگی اور عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اس کی روک تھام کے لئے « ہم خود ایک رجسٹر نکاح نامہ کا تیار کریں گے ٬ جس میں ایسی ایسی شرطیں داخل کریں گے ٬ جس سے کسی بھی لڑکی کے ساتھ اس طرح کی نازیبا اور غیر مناسب حرکت پر روک لگانا آسان ہوگا* » ۔ 

 *کیا کوئ بتاسکتے ہیں کہ وہ قول و قرار والا « نکاح نامہ والا رجسٹر » اب تک بورڈ نے کیوں نہی تیار کیا ہے ؟ یا پھر وہ رجسٹر اگر تیار ہوچکا ہے تو اب تک ائمہ کرام اور امت کے ہاتھوں میں کیوں نہی پہونچ سکا ہے ؟* 

ائمہ کرام جو امت کے لئے پیشوا ہیں ٬ ان کے عزت و وقار کی بحالی کے لئے بورڈ نے آج تک ملکی سطح پر کوئ ایسی تجویز پیش نہی کرسکی ٬ جس میں ائمہ کرام کے لئے زمانہ کے حساب سے معیاری تنخواہ کی لازمیت پر گفتگو کی گئی ہو ٬ *کسی بھی امام کو مسجد میں مقرر کرنے اور ہٹانے سے متعلق ٬ شریفانہ انداز کی لازمیت پر بحث کی گئ ہو ٬ کسی بھی امام صاحب ٬ جنہوں نے اپنی زندگی کی بیش قیمت حصہ ٬ مسجد کی خدمت میں گزار دیا ہو ٬ ان کے لئے بوڑھاپے میں پینشن کی سہولیات پر بورڈ کی طرف سے بات کی گئ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ !* بورڈ نے آج تک ائمہ کرام کی بد حالی اور خستہ حالی کو دور کرنے کی طرف ملکی سطح پر کوئ ٹھوس لائحہ عمل تیار ہی نہی کیا ۔  

یقیناً یہ وقت ان سب باتوں کو باہر لانے کا نہی ہے ۔ لیکن معاملہ کی سنگینی اور بے چینی سے یہ معاملات بھی جدا نہی ہیں۔  

 *اتحاد و اتفاق کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ہی ہم سب کی کامیابی اور عزت ہے۔* لیکن جو لوگ حکومتی سطح پر کچھ دباؤ میں ہوں ٬ ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے اختلاف کو امت کے لئے نافع ضرور بنائیں۔ اپنوں سے دوری اور علیحدگی کے بعد بھی ہماری کوشش یہ ہو کہ امت مسلمہ کے لئے جو کام اب تک ہمارے ادارے اور ہمارے لوگ کسی وجہ سے نہی کرسکے ہیں ان کو پورا کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے لیں ۔ 

حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب ٬ جوکہ سلجھے ہوئے انسان اور ملکی سطح پر سیاسی نشیب و فراز کی فہم رکھتے ہیں ان کے لئے یہ وقت بہت قیمتی اور مفید ہے کہ وہ یہ سب کام جو اب تک ہمارے مذہبی ادارے نہی کر سکے ہیں ٬ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ نئ مسلم سیاسی پارٹی کا وجود اس لئے لائیں تاکہ کٹر ہندو عوام میں جو مسلمانوں کے خلاف زہر بھر دیا گیا ہے اس کا خاتمہ ہوسکے۔ 

اس زہر کا خاتمہ کرنے کے لئے جس پارٹی اور گروہ نے یہ بیج بویا ہے اسی کے ساتھ اتحاد اور ساتھ چلنے کے اعلان کے ساتھ نئی سوچ اور نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان سیاست میں ٬ اس اصول کے ساتھ کہ ملک میں بسنے والی تمام پارٹیاں ٬جو ملک کی سالمیت اور عوام کی فلاح پر یقین رکھتی ہے ان تمام پارٹیوں کے ساتھ ٬ خواہ وہ کانگریس ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ٬ آر جے ڈی ٬ جےڈی یو وغیرہ کوئ بھی ہو ان تمام پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کے لئے اپنا دروازہ کھلا رکھنے کے اعلانیہ کے ساتھ میدان میں ضرور تشریف لائیں ۔ 
تاکہ امت مسلمہ ان کو ایک بار پھر اپنی پیشانی کا جھومر بنا سکے۔ اور آپسی اختلاف کو مزید گہرا کرنے کے بجائے ہر کوئ اپنے اپنے کام میں مثبت انداز میں لک سکے۔ ہم سب کی کوشش ہوکہ ہم جب تک ہم ایک ساتھ رہیں ٬ ایک ادارے میں رہیں تب بھی اور جب ادارے سے الگ ہوجائیں یا آپسی دوری ہوجائے تب بھی اپنے اختلاف کو امت کے لئے نافع بنانے کے عزم کے ساتھ زندگی گزاتے رہیں۔ 

 *میری زندگی کا مقصد تیری دیں کی سرفرازی* 
 *میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی۔*


مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علیگ

علی گڑھ 

Ishtiyaqrabbani95@gmail.com

Thursday, April 3, 2025

وقف ترمیمی بل2024: شریعت پر ریاستی یلغار اور آئینی بقا کی جنگ ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

وقف ترمیمی بل2024: 
شریعت پر ریاستی یلغار اور آئینی بقا کی جنگ

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی 

یہ بل محض قانون سازی نہیں، ایک ذہن سازی ہے، ایسا ذہن جو ریاست کو سماج پر بالادست، اکثریت کو اقلیت پر حاکم، اور زبردستی تھوپے گئے قانون کو انسانی ضمیر پر غالب دیکھنا چاہتا ہے، وقف ترمیمی بل 2024 دراصل آئینی روح کے خلاف ایک مسلسل مہم کا حصہ ہے، جو مذہبی آزادی کو خود ساختہ ضابطوں کی زنجیروں میں جکڑ کر، اقلیتوں کے تشخص کو بتدریج تحلیل کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے۔

وقف کا ادارہ محض املاک کا انتظام نہیں، ایک تہذیبی بیانیہ ہے، اس بیانیہ میں عبادت، خدمت اور تسلسل کے وہ عناصر شامل ہیں جو کسی قوم کے تمدنی شعور کو زندہ رکھتے ہیں، وقف کا تصور اس اعتراف پر مبنی ہے کہ کچھ مال ایسا ہے جو انسان کی ملکیت میں نہیں، بلکہ اس کی روحانی وابستگی میں ہوتا ہے، ریاست جب ایسے ادارہ پر اپنی گرفت مضبوط کرتی ہے تو وہ صرف زمین نہیں چھینتی، ایک روحانی رشتہ کو منقطع کردیتی ہے۔

یہ تصور کوئی نیا نہیں، اسلامی تاریخ میں وقف کا ادارہ علم، فلاح، عدل، اور تمدن کی علامت رہا ہے، عباسیوں کے دور میں وقف کے ذریعہ کتب خانوں، ہسپتالوں، اور مسافر خانوں کا نظام قائم ہوا، سلطنت عثمانیہ میں ہزاروں تعلیمی ادارے، شفا خانے، اور عوامی فلاحی ادارے وقف کی بنیاد پر کھڑے تھے، قاہرہ، دمشق، بغداد اور استنبول کی گلیوں میں وقف کی خوشبو ہر تعلیمی اور تمدنی ادارہ سے آتی تھی، برطانیہ میں بھی چرچ املاک کے لیے الگ ادارے موجود ہیں، جن میں ریاستی مداخلت کا تصور تک نہیں، ہندوستان میں بھی وقف کا نظام مغلیہ دور سے ریاستی معاونت سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے چلتا رہا ہے۔

حکومت برطانیہ کے دور میں وقف پر قانون سازی کی گئی، لیکن اس کی روح سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی، 1810 میں Bengal Regulation XIX اور دیگر ریاستوں میں بھی اسی جیسا قانون، اور پھر 1913 کا Mussalman Short title and Wakf Validating Act اس کی مثالیں ہیں، انگریزوں نے تجارتی مقاصد کے لیے ضرور متبادل راستے نکالے، لیکن شریعت کے بنیادی اصولوں کو قانون کی سطح پر چیلنج نہیں کیا، اس کے برعکس موجودہ ترمیمی بل میں براہِ راست شریعت کی روح پر وار کیا گیا ہے، جو کہ غیر معمولی تشویش کا باعث ہے۔

بل میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کسی بھی متنازعہ جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کرے گی، یہ شق بذاتِ خود وقف کے اصولوں کو منسوخ کرتی ہے؛ کیوں کہ وقف شدہ مال کسی انسان یا ادارہ کی ملکیت نہیں ہوتا، بلکہ وہ ’حبس فی سبیل اللہ‘ ہوتا ہے، اسے متنازعہ قرار دے کر ریاستی تصرف میں دینا فقہی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہی پیغام تھا جو لوک سبھا کے ایوان میں گونجا جب ممبر پارلیمنٹ جناب اسدالدین اویسی صاحب نے، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر کی حیثیت سے، بل کی کاپی پھاڑ کر اپنے غصہ کا اظہار کیا، اویسی نے اسے صرف ایک قانونی سقم نہیں، بلکہ اقلیتوں کی توہین قرار دیا، ان کے الفاظ میں یہ اقدام گاندھی جی کے جنوبی افریقہ میں احتجاج سے مشابہ ہے، اویسی صاحب کا یہ طریقہ جذباتی ضرور تھا، مگر اس کے پیچھے جو سچائی تھی، وہ ناقابلِ تردید ہے: یہ بل آئین کی روح کے خلاف تو ہے ہی، مسلمانوں کی مذہبی خود مختاری کے خلاف ایک باقاعدہ حملہ ہے۔

اب یہ بل راجیہ سبھا میں جائے گا، جہاں حکومت کو اپنی اکثریت کے بل پر اس کی منظوری کی امید ہے، اگرچہ اپوزیشن جماعتیں اس کی سخت مخالفت کر رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق یہی ہیں کہ اب اس بل کو روکنے کے لیے عددی طاقت تو حاصل ہے نہیں، اس لیے ایک ہمہ گیر فکری مزاحمت کی ضرورت ہے۔

یہ بل درحقیقت ایک خاموش استیصال ہے، جس میں اقلیتوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اب ان کے دینی ورثہ پر بھی ان کی گرفت باقی نہیں رہی، وقف بورڈز کی خود مختاری چھیننا، ان کے انتظام میں سرکاری افسران کو دخیل کرنا، اور جائیدادوں کے استعمال کو حکومتی اجازت سے مشروط کرنا، دراصل مذہبی اداروں کو بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے۔

قانون کی حکمرانی (Rule of Law) صرف ضابطوں کی بالادستی کا نام نہیں بلکہ اس اصول کا نام ہے کہ قانون سب پر یکساں ہو، اور وہ بنیادی حقوق کا محافظ ہو، لیکن جب قانون خود کسی خاص طبقہ کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو تو وہ قانون نہیں رہتا، سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے، یہی اس بل کی سب سے خطرناک جہت ہے۔

اکثریت پسندی (Majoritarianism) جب آئین کی شکل اختیار کر لے تو اقلیت صرف گنتی کا مسئلہ نہیں رہتی، وہ ایک تہذیبی سوال بن جاتی ہے، یہ بل اسی سوال کو مستقل بنا دینے کی کوشش ہے، اس کا پیغام صاف ہے: تمہاری شریعت، تمہارا نظم، اور تمہارا نظریہ — سب کچھ اب ریاست کی اجازت کا محتاج ہے۔

عدالتوں میں اس بل کے خلاف موقف مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے—جیسے S.A. Syed v. State of Maharashtra (1966)، اور T.M.A. Pai Foundation v. State of Karnataka (2002)— اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کے انتظام کا مکمل اختیار تسلیم کرتے ہیں، آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت ہر مذہبی گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی امور خود چلا سکے؛ لہٰذا ریاست کی مداخلت آئینی حدود سے متجاوز ہے۔

پالیسی کی سطح پر مسلمانوں کو عدالتوں کے راستہ ایک جامع، متبادل تجویز پیش کرنی چاہیے، مثلاً وقف بورڈز میں حساب وکتاب کا ایک آزاد، خود مختار آڈٹ نظام قائم کیا جائے، شریعت سے ہم آہنگ ایک نگران کونسل، جس میں معیاری ماہرینِ قانون، مفتیان کرام، اور مالیاتی ماہرین شامل ہوں، جو شفافیت اور دیانت داری کو یقینی بنائیں، حکومت اگر واقعی شفافیت کی خواہاں ہے تو اسے اقلیتوں کے مذہبی اداروں میں دخل دینے کے بجائے انہیں مؤثر ادارہ جاتی مدد فراہم کرنی چاہیے۔

یہ جد وجہد صرف علماء یا وکلاء کی ذمہ داری نہیں، پوری ملت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، ہر وہ شخص جسے وقف کی حقیقت، امت کے مزاج، اور آئین کے وقار سے لگاؤ ہے، اسے اس مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، خاموشی اب جرم اور بے عملی اب گناہ سمجھی جائے گی 

ہمیں شور سے نہیں، شعور سے لڑنا ہے، ہمیں فتووں سے نہیں، فہم سے مقابلہ کرنا ہے، وقف کا دفاع صرف فقہی نہیں، تمدنی فریضہ ہے، اور یہی فریضہ آج ہمیں آواز دے رہا ہے، اس کی پکار تاریخ میں درج ہوگی یا ہمارے سکوت سے دفن—یہ فیصلہ ہمارے عمل پر ہے۔

Tuesday, April 1, 2025

مدارس سے طلبہ کی بے رغبتی کیوں بڑھ رہی ہے ؟؟؟؟ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 0660072595

مدارس سے طلبہ کی بے رغبتی کیوں بڑھ رہی ہے ؟؟؟؟
  محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 0660072595

     شوال المکرم یوں تو عربی سال و تقویم کا دسواں مہینہ ہے ،لیکن برصغیر ہندوپاک کے مدارس عربیہ کے لئے یہ نیا تعلیمی سال ہوتا ہے ،اس مہینے میں مدارسِ اسلامیہ لمبی تعطیل کے بعد کھلتے ہیں اور نئے اور پرانے داخلے شروع ہوجاتے ہیں اور وسط شوال یا اخیر شوال کے اخیر عشرہ میں اکثر مدارسِ میں تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے۔جن مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور جہاں نظم و نسق اور سہولیات بہتر ہوتے ہیں یا جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں وہاں ہفتہ عشرہ میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوجاتی ہے۔لیکن جو مدارس دیہات اور انٹییر علاقے میں ہوتے ہیں وہاں شوال کے بعد تک داخلے ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔
لاک ڈاؤن کے بعد صورت حال کافی بدل گئی ہے ،مدارس میں طلبہ کا قحط ہے ،ہر طرف سے شور ہے اور آواز آرہی ہے کہ مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،ذمہ داران مدارس بہت ہی فکر مند ہیں ۔ اس کی وجوہات پر غور کررہے ہیں ۔
    میری نظر میں اس کی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں ،،۔۔۔
    لاک ڈاؤن میں مدارس اسلامیہ میں تقریباً تعلیمی انقطاع رہا ،صرف پانچ چھ فیصد مدارس میں آن لائن تعلیم کا نظم رہا ۔مدارس سے طلبہ کا ربط ٹوٹ گیا۔
اس لیے طلبہ نے اپنا رخ اور اپنی لائن بدل لی وہ کام کاج میں مشغول ہوگئے یا اسکول کی طرف رخ کرلیا جس کی وجہ سے اس درمیان کے جو طلبہ مدارس میں زیر تعلیم تھے، وہ تقریباً مدارس سے علیحدہ ہوگئے ۔
  لاک ڈاؤن میں اکثر مدارس کے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا اور معاشی اعتبار سے جو ان کی حالت رہی اور جس طرح ایک بڑی تعداد کو در بدر بھتکنا پڑا اس سے بھی طلبہ میں منفی اثرات پڑے ہیں ،میں نے خود ایک بڑی تعداد اساتذہ کی دیکھی جنہوں نے اپنا میدان بدل دیا اور وہ تجارت میں لگ گئے ،بعض تو تھیلے پر سبزی فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ،۔
  مدارس کی سندیں اور ان کی ڈگریاں حکومت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے اور نہ اس کی اہمیت کو منوانے کی طرف کبھی توجہ دی گئی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ مدارس سے عالم اور فاضل کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظر میں ناخواندہ ہیں اگر آپ پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ان اسناد اور ڈگریوں کے بعد بھی آپ کا شمار مزدوروں اور ناخواندہ لوگوں میں ہوتا ہے ۔۔ 
      جب مدارس اسلامیہ کی طرف سے یہ اعلان آنے لگا کہ طلبہ ہائی اسکول کرکے ہی مدارس میں آئیں اور خود مدارس میں ہائی اسکول کے نصاب کی بات ہونے لگی تو طلبہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جب ہائی اسکول کرنا ہی ہے تو گارمنٹ اسکول میں کیوں نہ کریں ۔ اس وجہ سے بھی طلبہ کا رجحان اسکول کی طرف بڑھ گیا۔
       یوپی میں ہی اکثر بڑے مدارس ہیں جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ پڑھنے آتے ہیں ،پچھلے کچھ سالوں سے یہاں کی جو صورت۔ حال ہے اور خصوصاً امن عامہ کی جو صورت حال ہے بہار بنگال جھارکھنڈ اور آسام کے لوگ اپنے بچوں کو یہاں تعلیم کے لئے بھیجنے سے گھبرا رہے ہیں ۔
      حفظ کرنے کے بعد طلبہ کا رجحان عالم بننے سے ختم ہوتا جارہاہے ،جگہ جگہ شاہین گروپ کی شاخیں قائم ہورہی ہیں اور انہیں حفظ پلس کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے تو اب بھلا وہ مدارس کی طرف کہاں آئیں گے ۔۔۔؟
    مدارس اسلامیہ میں اکثر جگہ نظم و نسق اور خورد و نوش میں افرا تفری کا ماحول ہے ،اعتدال و توازن کی کمی ہے جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی فکر نہیں ہوتی، اس لیے امیر گھرانے کے طلبہ ادھر کا رخ بہت کم کرتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس صرف غریب بچوں کے لیے ہے ۔۔
    رمضان المبارک کے مہینے میں جب نئی نسل مدارس کے اساتذہ کو چندہ کرتے دیکھتے ہیں اور ان کی پریشانی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک بھاینک تصویر نظر آتی ہے کہ اگر مدارس میں تعلیم حاصل کرینگے تو انجام یہی ہوگا کہ سال بھر پڑھاؤ اور رمضان المبارک میں اپنی تنخواہوں کا انتظام خود کرو اور اب تو بچوں کا بھی چندہ کرو۔اس کی وجہ سے بچے ہمت ہار رہے ہیں اور مدارس سے ان کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،۔
      مدارس کا داخلی انتشار ،اساتذہ کا بار بار جگہ کی تبدیلی اور اساتذہ کرام کا خود اپنے بچوں اور اپنی اولاد کو مدارس میں نہ پڑھانے کا رجحان سے بھی غلط پیغام لوگوں میں جارہا ہے کہ اساتذہ جب خود ان مدارس سے مطمئن نہیں ہیں تو ہم کیسے مطمئن ہوں گے ۔۔۔۔
  قدیم نصاب تعلیم پر ضد اور اصرار اور اس کے اندر مناسب اور مفید تبدیلی نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،منطق و فلسفہ کو نصاب میں اب بھی پہلے کی طرح شامل رکھنا اور اس کی جگہ پر نئے مضامین کو شامل نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،ہم نے دنیا کے تمام شعبوں میں جدید سہولیات اور اسباب و وسائل کو اختیار کر لیا چاہے وہ طب کا میدان ہو خورد و نوش اوردیگر میدان ہو ، لیکن ہم نے مدارس میں نئے اور مفید اسباب و وسائل اور ذرائع کو استعمال نہیں کیا نیز نصاب تعلیم کو اپڈیٹ نہیں کیا ۔قرآن و حدیث کے مضامین تو وہی رہیں گے قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں آئے گی لین ان علوم کی تدریس میں جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال از حد ضروری ہے جو خلاف شریعت بھی نہیں ہے ۔
   فقہ اسلامی میں میں بھی ہم تبدیلی کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن جو قدیم کتابیں اس فن کی پڑھائی جاتی ہیں ان میں بعض تو آج کے طلبہ کے لئے بہت ہی مشکل ہیں ،مثلا بعض مدارس میں ابھی کنز الدقائق جیسی گنجلک عبارت والی کتاب داخل نصاب ہیں حسامی اور نور الانوار ،نخبہ جیسی کتابیں بھی،، جب کہ اس فن کی بہترین جدید کتابیں آچکی ہیں ۔ اسی طرح نور الایضاح کی جگہ الفقہ المیسر کو داخل نصاب نہ کرنا سمجھ سے پرے ہے ،جبکہ یہ کتاب موجوددہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔ 

  نوٹ/ باقی کل کے پیغام میں ملاحظہ کریں

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...