Translate

Friday, August 29, 2025

مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع بچوں کی عمر اور نصابِ دینیات سے مطابقت قاری ممتاز احمد جامعی

مکاتبِ دینیہ اور وقت کا ضیاع
بچوں کی عمر اور نصابِ دینیات سے مطابقت

قاری ممتاز احمد جامعی

مدارس و مکاتب کا اصل مقصد صرف عبارت خوانی یا دینیات کی چند کتابوں کی تدریس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نئی نسل کو فہم و فراست، موقع و محل کا شعور، حالاتِ حاضرہ کی سوجھ بوجھ اور کم از کم متعلقہ ماخذ تک رجوع کرنے کی صلاحیت دینا نہایت ضروری ہے۔ علم کو محض پڑھانے تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کو یقینی بنانا وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ افسوس کہ اکثر اداروں میں اساتذہ ہی نہیں بلکہ ذمہ داران اور مہتممین بھی وقت کی نزاکت کو سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معصوم طلبہ اور والدین نقصان اٹھاتے ہیں۔ بعض جگہ تو یہ بھی دیکھا گیا کہ پورے سال طلبہ دارالاقامہ میں مقیم رہے لیکن اسکولی نصاب کے اعتبار سے کسی درجہ میں ان کا اندراج ہی نہیں کیا گیا، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوگیا۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینیات کے ساتھ ساتھ اسکولی تعلیم کم از کم دسویں جماعت (10th) تک لازمی اور یقینی بنائی جائے، تاکہ ہر طالب علم کا بنیادی مستقبل محفوظ ہو۔ اس کے بعد طلبہ کو اپنی اہلیت اور رجحان کے مطابق دو راستوں میں اختیار دیا جائے: یا تو وہ کالج کے ذریعے عصری تعلیم کی تکمیل کریں، یا پھر درسِ نظامی کے ذریعے دینی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔ یہ طریقہ نہ صرف طلبہ کا وقت بچائے گا بلکہ والدین کو بھی اطمینان ہوگا اور اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔ اگر ہم نے وقت اور تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کیا تو یہ قوم زمانے کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ اس لیے وقت کی نزاکت کو سمجھنا، نصاب و نظام کو مضبوط بنانا، اور نئی نسل کو بامقصد و بامعرفت تعلیم دینا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔


Wednesday, August 27, 2025

ذہنی تناؤ: علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کامران غنی صبا

ذہنی تناؤ: علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامران غنی صبا 

کبھی کبھی میں اپنی کلاس میں طلبا کو ایک سادہ کاغذ دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ وہ اس پر اپنی وہ باتیں لکھ دیں جو وہ کلاس میں سب کے سامنے نہیں کہہ سکتے۔ اس کاغذ پر وہ اپنا نام نہیں لکھتے تاکہ ان کی شناخت پردے میں رہے۔ میں نے بارہا محسوس کیا کہ ان بے نام اور بے چہرہ تحریروں میں جو صدائیں ابھرتی ہیں، وہ خوشی یا مسرت کی آوازیں نہیں ہوتیں بلکہ ایک دباؤ، ایک اندھیرا اور ایک بے نام سا درد ہوتا ہے۔ اکثر یہ کاغذ ایسے دل کے حال سناتے ہیں جو اپنی ہی خاموشی میں گھٹ رہا ہے۔ ان پر لکھی سطریں بتاتی ہیں کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اندر ہی اندر اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو کلاس روم کی چہل پہل اور نصاب کی گونج میں کہیں دب جاتا ہے لیکن بس ذرا چھیڑ بھر دیجیے اور یہ اعتماد دلادیجیے کہ اس کا راز کہیں افشاں نہیں ہوگا تو طالب علم اپنی اصلی حالت ظاہر کر دیتا ہے۔
یہ تجربہ محض انفرادی مشاہدہ نہیں بلکہ ہندوستانی نوجوانوں کی موجودہ نفسیاتی کیفیت کا ایک عکس ہے۔ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلبا کی ذہنی صحت کا مسئلہ رفتہ رفتہ ایک سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یکے بعد دیگرے مختلف رپورٹس اور سرویز نے یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبا میں ذہنی دباؤ، اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی بحران کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے جو براہِ راست تعلیمی معیار، معاشرتی توازن اور قومی ترقی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
 اگر ہم اس مسئلے کا ایک ہلکا سا تاریخی تناظر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طلبا ہمیشہ سے کسی نہ کسی نوعیت کے دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ امتحانات کی تیاری، کیریئر کا دباؤ، خاندانی توقعات اور مالی مشکلات ہمیشہ ان کے ہمراہ رہی ہیں۔ لیکن آج کے دور میں یہ دباؤ ایک غیر معمولی شدت اختیار کر چکا ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں مسابقت کا دائرہ صرف مقامی یا علاقائی نہیں رہا بلکہ عالمی سطح تک پھیل چکا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے بھی طلبا کی نفسیات کو ایک نئی اور پیچیدہ کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
 ٹائمز آف انڈیا میں 12 مارچ 2024 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجوں کے تقریباً 35 فیصد طلبا ڈپریشن کی مختلف سطحوں کا شکار ہیں جبکہ 40 فیصد سے زائد طلبا نے اعتراف کیا کہ وہ امتحانی دباؤ اور تعلیمی بوجھ کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صرف میڈیکل کے طلبا ہی نہیں بلکہ انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کے طلبا بھی اسی طرح کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
 اسی طرح انڈین جرنل آف سائیکاٹری میں 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً 30 سے 35 فیصد طلبا ایسے ہیں جو یا تو ڈپریشن کا شکار ہیں یا اس کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 20 فیصد طلبہ نے خودکشی کے خیالات آنے کا اعتراف کیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تعلیمی ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں رہے بلکہ ان میں نفسیاتی بحران کے آثار بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
 یہ بات بھی اہم ہے کہ طلبا میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی وجوہات یکساں نہیں ہوتیں۔ بعض طلبہ کے لیے یہ دباؤ خاندانی پس منظر اور معاشی مشکلات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بڑی تعداد میں طلبا نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لیے فیس، ہاسٹل کا خرچ، کتابوں اور دیگر ضروریاتِ تعلیم کا بوجھ ایک مستقل پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ دوسری طرف بعض طلبا ایسے بھی ہیں جو تعلیم میں بہترین کارکردگی کے باوجود خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور مقابلہ بے حد سخت ہے۔ اس صورتِ حال میں ان کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے اور وہ رفتہ رفتہ ذہنی دباؤ کے شکنجے میں جکڑ جاتے ہیں۔
 سوشل میڈیا کے اثرات بھی اس تناظر میں کم اہم نہیں۔ آج کے نوجوان طلبا کا ایک بڑا طبقہ دن رات مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وقت گزارتا ہے۔ ایک طرف یہ پلیٹ فارمز معلومات کے تبادلے اور تخلیقی اظہار کا ذریعہ ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسلسل تقابل، لائکس اور فالوورز کی دوڑ، اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کے نمائش زدہ مناظر کے باعث طلبا میں احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کو بڑھا رہے ہیں۔ متعدد مطالعات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جو طلبا روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
 حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایسے طلبا جنہیں بظاہر ہر سہولت میسر ہے، وہ بھی ذہنی دباؤ سے محفوظ نہیں ہیں۔ بڑے شہروں کے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا بھی اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان پر کامیابی کی ایسی غیر حقیقی توقعات لاد دی جاتی ہیں جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں ناکامی یا معمولی کمی بھی انہیں شدید ذہنی بحران سے دوچار کر دیتی ہے۔ یہ کیفیت اکثر اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ان کے والدین یا اساتذہ انہیں سمجھنے کے بجائے مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔
 مسئلہ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر کسی کلاس یا ہاسٹل میں ایک طالب علم ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کے اثرات دوسروں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس طرح ایک پورا تعلیمی ماحول منفی اثرات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ جب کسی کلاس میں بڑی تعداد میں طلبا ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو تدریسی سرگرمیوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اساتذہ کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ طلبا کی تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔
 یہ سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ کیا تعلیمی ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں؟ افسوس کہ بیشتر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ اگرچہ بعض بڑے اداروں نے کاؤنسلنگ سینٹر قائم کیے ہیں اور ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کی ہیں لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں اب بھی یہ سہولت ناپید ہے۔ اکثر اوقات طلبا کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جائیں اور کس سے رجوع کریں۔ سماجی سطح پر بھی ذہنی صحت کے مسائل کو عموماً کمزوری یا عیب سمجھا جاتا ہے جس کے باعث طلبا اپنے مسائل چھپاتے ہیں اور نتیجتاً ان کی کیفیت مزید بگڑ جاتی ہے۔
 یقیناً یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے صرف فرد یا خاندان نہیں بلکہ پورے سماج کو سنجیدگی سے نمٹنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کاؤنسلنگ کی سہولت لازمی قرار دے۔ ہر تعلیمی ادارے میں ماہرینِ نفسیات کی مستقل تعیناتی ہونی چاہیے تاکہ طلبا کو فوری اور بروقت مدد میسر آ سکے۔ اساتذہ کو بھی اس حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنے طلبا میں ذہنی دباؤ کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں اور انہیں بروقت رہنمائی فراہم کر سکیں۔ میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ اس مسئلے کو عیب یا کمزوری کے بجائے ایک حقیقی بیماری سمجھا جائے جس کا علاج اور سدباب ممکن ہے۔
  ہندوستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی سب سے بڑی طاقت ہے، اگر اسی طبقے کو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہونے دیا گیا تو یہ نہ صرف ان کی انفرادی زندگی بلکہ قومی ترقی کے سفر کو بھی متاثر کرے گا۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ متوازن، پُراعتماد اور صحت مند شخصیتوں کی تشکیل بھی ہے۔ اگر ہم نے آج اس پہلو کو نظر انداز کیا تو کل یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر لے گا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، والدین اور سماج سب مل کر طلبا کی ذہنی صحت کو اولین ترجیح بنائیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہندوستان اپنے تعلیمی اور سماجی مستقبل کو روشن اور مستحکم بنا سکتا ہے۔
 یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف کاؤنسلنگ اور ماہرینِ نفسیات کی خدمات طلبا کے تمام مسائل حل کر سکتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی صرف ذہنی یا جسمانی نہیں بلکہ روحانی پہلو سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جب انسان اپنے اندر کی پیاس بجھانے سے غافل ہو جاتا ہے تو وسائل اور کامیابیاں بھی سکون نہیں دے پاتیں۔ جدید دور کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ انسان نے اپنی دنیا کو مشینوں اور اسکرینوں سے بھر تو دیا ہے لیکن اپنے دل کو ویران چھوڑ دیا ہے۔
 نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی کامیابی اور خوشی محض ایک فریب ہے۔ حقیقی خوشی نمود و نمائش سے نہیں بلکہ سادہ اور بامقصد زندگی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنی روزمرہ زندگی میں دکھاوا اور اسٹیٹس کی دوڑ کم کر دے تو اس کی نفسیات خود بخود متوازن ہو جاتی ہے۔
 روحانی قدریں نوجوانوں کے لیے ایک ڈھال کا کام کر سکتی ہیں۔ خدا پر یقین اور اس کی رضا میں جینے کا احساس انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی زندگی کا سب کچھ نہیں۔ صبر، شکر، ہمدردی، ایثار اور محبت وہ اوصاف ہیں جو انسان کے دل کو بوجھ سے آزاد کرتے ہیں۔ جب انسان دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے اور اپنی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹے تو زندگی ایک نیا سکون عطا کرتی ہے۔
 انسانیت کا لمس بھی اسی وقت بیدار ہوتا ہے جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں سے براہِ راست تعلق قائم کریں۔ ایک دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھنا، والدین کے ساتھ مکالمہ کرنا، استاد سے رہنمائی لینا، اور غریب کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو کسی بھی دوا یا مشین سے زیادہ دل کو سکون دے سکتی ہیں۔
 نوجوانوں کے لیے یہ وقت کا سب سے بڑا مشورہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو ذریعہ بنائیں، سہارا نہ بنائیں۔ انسان کو انسان کے ساتھ بدلنے کی بجائے انسان کو انسان کے قریب لائیں۔ حقیقی رہنما اور آئیڈیل وہ ہیں جو گوشت پوست کے انسان ہیں، جو دکھ اور خوشی میں ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ اسکرین پر جگمگاتی ہوئی شخصیات۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف کامیاب پیشہ ور نہ بنائیں بلکہ اچھا انسان بھی بنائیں۔ ان کے دلوں کو خدا کی یاد سے جوڑیں، ان کی نگاہوں کو دنیا کے فریب سے بچائیں، اور ان کی شخصیت کو سادگی، محبت اور ایثار کے زیور سے آراستہ کریں۔یہی وہ راستہ ہے جو نوجوانوں کو ڈپریشن اور اضطراب کی تاریکی سے نکال کر امید اور اطمینان کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے.

Monday, August 25, 2025

افادات مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اصلاح و استفادہ سے کوئی مستغنی نہیں ! (1) محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

افادات مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح 

اصلاح و استفادہ سے کوئی مستغنی نہیں ! 
                      (1)

 محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
                
 راقم الحروف نے ابتدائی عربی تعلیم ندوہ کی شاخ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی میں حاصل کی، جو اہل اللہ کا مرکز ہے، اور ایک سال مدرسہ انوار الاسلام مادھو پور سیوان میں تعلیم حاصل کی، اور عربی چہارم سے فضیلت تک کی تعلیم دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں ہوئی،مزید ایک سال فقہ و افتاء کا خصوصی کورس دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد میں کیا، وہاں حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح اور فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی سے استفادہ کا بھر پور موقع ملا۔
   ندوہ میں حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی تصنیفات و تالیفات کو پڑھنے اور ان کی مجالس سے بھی استفادہ کا موقع ملا ، حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی تصانیف اور ان کی مجالس نے ذہنی و فکری اعتدال کیساتھ یہ ذہن بھی بنایا کہ ہمیشہ سلف اور سواد اعظم کے منہج پر قائم رہوں اور اہل سنت و الجماعت کی ڈگر سے سر مو انحراف نہ ہونے پائے ، اصلاح و استفادہ سے کبھی اپنے کو مستغنی نہیں سمجھوں ،علماء و صلحاء کی محفل میں شرکت کروں ان سے محبت و عقیدت رکھوں ،ان کی خدمت میں محض اس لئے شرکت کروں کہ ایسی بات سننے میں آئے جس سے دل میں کچھ کیفیت پیدا ہو،یقین میں اضافہ ہو اور اس میں ایمانی حلاوت نصیب ہو اور رسم و صورت میں حقیقت پیدا ہو ۔ 
میں اکثر عربی کے یہ اشعار گنگناتا ہوں ،،
احب الصالحین و لست منہم 
لعل اللہ یرزقنی صلاحا 

نیک لوگوں سے محبت رکھتا ہوں اگر چہ میں نیک لوگوں میں سے نہیں ہوں 
بعید نہیں ان سے تعلق کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بننے کی توفیق دے دے ۔
 تشںبھوا ان لم تکونوا مثلھم 
فان التشبہ بالکرام فلاح 
نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرو اگر چہ تم ان کی طرح نہیں ہو 
بیشک نیک لوگوں کی مشابہت میں فلاح و کامیابی مضمر ہے 
   مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی مجالس، ان کی تصانیف ان کی زندگی اور مشن سے بہت کچھ سیکھنے اور برتنے کا موقع ملا ، بطور تحدیث نعمت یہ کہتا ہوں کہ ان کی فکر کا عکس اور پرتو میری تحریر و تقریر میں بھی موجود ہے ۔
  آج کی مجلس میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں مذکورہ عنوان کے تحت مفکر اسلام کی قیمتی افادات میں سے کچھ پیش کریں گے ،جس میں ہم سب کہ لئے عبرت و نصیحت کے بہت کچھ سامان موجود ہیں ۔
    حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ہمیشہ طلبہ اور اپنے مسترشدین کو یہ نصیحت کرتے تھے کہ سلف اور سواد اعظم کے منھج و موقف پر ہمیشہ قائم رہو ان کی تحقیق و جستجو پر اعتماد رکھو اور اصلاح و استفادہ سے کبھی اپنے کو مستغنی نہ سمجھو ، وقفہ وقفہ سے اہل اللہ کی خدمت میں حاضری دیا کرو ، مولانا رح خود ہمیشہ اس کا التزام فرماتے اور حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رح حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رح حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاپگڑھی اور اپنے پیر و مرشد حضرت عبد القادر رح کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان کی مجالس سے کسب فیض کرتے اور اس کو کسی طرح اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتے ۔ 
مولانا رح لکھتے ہیں ،، 
میری مثال بالکل ایسی ہے ، اس لیے میں ہمیشہ اپنے بزرگوں کی خدمت میں اور خصوصا آخری دور میں حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رح کی خدمت میں محض اس لئے آتا تھا کہ ایسی کوئی بات سننے میں آئے جس سے دل میں کچھ کیفیت پیدا ہو، یقین میں اضافہ ہو اور اس میں ایمانی حلاوت نصیب ہو اور رسم و صورت میں حقیقت پیدا ہو۔ 
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ کچھ لکھ پڑھ جاتے ہیں یا ان کو کچھ تصنیف و تالیف کا اتفاق ہوتا ہے اور ان کی طرف کچھ نگاہیں اٹھنے لگتی ہیں کہ ہم بھی کچھ جانتے بوجھتے ہیں تو پھر اب ان کو کچھ سننے کی اور کہیں جانے کی اور کسی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں تو ان کا خیال بالکل صحیح نہیں ، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دور میں بھی اور کسی عمر میں بھی اور کسی حالت میں بھی استفادے سے بلکہ اصلاح سے مستغنی نہیں ہوتا،، ۔ 
    صحابئہ کرام کو بھی اپنے ایمان کی فکر رہتی تھی ، ہمہ شما کا تو کیا ذکر ؟ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسی صحبت حاصل تھی، جس کو کیمیا اثر کہنا بھی حقیقت میں اس کی کچھ تعریف نہ ہوگی ، بس یوں سمجھئے کہ ایسی پاک صحبت ،جس کے بعد کسی صحبت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور کوئی صحبت اس سے بڑھ کر موثر نہیں ہوسکتی ،مگر پھر بھی صحابہ کرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ اس بات کی فکر و طلب رہتی تھی کہ اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور ہمارے قلوب میں وہی سوز و گداز اور کیفیات پیدا ہوں جو صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاصل ہوا کرتی تھی یا کم از کم اس کا اثر اور عکس ہی نصیب ہو جائے ۔ 
بخاری شریف میں ایک جلیل القدر صحابی کا یہ قول امام بخاری نے نقل کیا ہے،، اجلس بنا نومن ساعة، ،، آؤ بھائی تھوڑی دیر بیٹھ کر ذرا ایمان کی باتیں کرلیں ، اور ایمان کا مزہ اٹھا لیں ،ایمان کے جھوکے آئیں اور ہم اس سے لطف اندوز ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو بعد والے کیونکر اس سے مستغنی ہوسکتے ہیں ؟ 
      حضرت مولانا علی میاں ندوی رح فرمایا کرتے تھے ،،
اپنے کو ہمیشہ قابل اصلاح سمجھو ، جن لوگوں کو ذرا بھی تجربہ ہے ان کے قلوب مردہ نہیں ہو چکے ہیں وہ خود جانتے ہیں کہ ان کو دوسروں سے زیادہ ہزار درجہ زیادہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ والوں کی بات ادب و احترام اور تعظیم کے ساتھ سننے کی ضرورت ہے اگر وہ سمجھیں کہ ہم مستغنی ہیں یا ہم بھرے ہوئے ہیں ،تو ان سے زیادہ محروم و بدقسمت کوئی نہیں ، اس لیے ضرورت ہے کہ اپنے کو اصلاح کا محتاج ظاہر کیا جائے ، اللہ والوں کے یہاں اس طرح حاضر ہوا جائے کہ ہم بالکل خالی ہیں ، مفلس و محتاج بن کر آپ کی خدمت میں کچھ لینے آئے ہیں ،،۔
     مولانا لکھتے ہیں ،، 
مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی ندوی رح نے جب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح سے رجوع کیا تو ان کے بہت سے غالی معتقدین کو ناگوار ہوا اور سید صاحب سے احتجاج کیا کہ ہماری جماعت کی ایک طرح کی سبکی ہوئی ہے کہ ہم نے آپ کو بڑا بنایا تھا ،گویا آپ شیخ الکل تھے اور ہر چیز میں آپ امام کا درجہ رکھتے تھے اور آپ نے دوسرے کا دامن پکڑ لیا تو اس سے ہماری خفت ہوئی ،اس پر ایک دن سید صاحب رح نے فرمایا کہ عجیب لوگ ہیں ،ایک طرف تو میرے معتقدین بنتے ہیں دوسری طرف مجھ پر ہی اعتماد و اعتبار نہیں کرتے ، یعنی میں اپنا فائدہ سمجھ کر وہاں گیا تو ان کو اس سے اختلاف ہے، گویا میرے استاد بن کر مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کہاں چلے گئے ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں ان سے پوچھ کر وہاں جاتا، میں تو اپنا فائدہ اس میں دیکھتا ہوں اور آپ کی خاطر وہاں نہ جاؤں ،گویا اس دولت سے محروم رہوں ،،۔( مستفاد ماہنامہ رضوان جلد 65/ فروری 2012ء)

نوٹ/ باقی کل کی مجلس میں ملاحظہ فرمائیں

Sunday, August 24, 2025

آس یاس میں تبدیل ہوگئی محمدامام الدین ندوی مدرسہ حفظ القرآن،منجیا ویشالی۔

آس یاس میں تبدیل ہوگئی
  محمدامام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن،منجیا ویشالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بوڈر پٹنہ صوبہ بہار کاایک باوقار ادارہ ہے۔یہ بہار کی اقلیتوں کی عظیم شناخت ہے۔مسلم طلبہ وطالبا ت کے امتحان لینے کی ذمہ داری اسی کو ہے۔درجہ وسطانیہ،فوقانیہ،مولوی،وغیرہ کے امتحانات یہی ادارہ لیتاہے۔اس کے ماتحت بہت سارے ادارے آتے ہیں جو ملحقہ مدارس کے نام سےجانے جاتے ہیں۔اساتذہ کی تنخواہیں،ان کی بحالی،امتحانوں کے سوالات کی ترتیب،امتحان کے لئے کاپی مہیا کرانے اور جوابی کاپیوں کو چیک کرانے رزلٹ دینے جیسے اہم کام اس کے ذمے آتے ہیں۔
     اس ادارے میں مختلف عہدے ہیں ۔ان عہدوں میں ایک عہدہ چیر مین کا ہے۔اس پر عموما صوبہ بہار کی حکمراں جماعت سے وابستہ کوئی فرد متمکن ہوتا ہے۔وہ فرد عموما مسلمان ہوتاہے۔
      اس عہدے پر متمکن شخص خود مختار نہیں ہوتا ہے۔وہ حکومت کے اشاروں پر ہی ناچتاہے۔ان کے منہ میں سرکار کی زبان ہوتی ہے۔
      سرکار کے منشے کے مطابق ہی وہ عمل کرتا ہے۔
     اس ادارے نے اپنی عمر کے تقریبا ١۰٣ برس مکمل کر لئے ہیں
    مؤرخہ ٢١ اگست ٢۰٢۵ کو اس ادارے کا صد سالہ جشن منایا گیا۔اس کے لئے تاریخ طے کی گئی ۔پرچار وپرسار خوب ہوئے ۔موجودہ چیرمین جناب سلیم پرویز نے بہارکےمختلف اضلاع کے مختلف ملحقہ مدارس کے دورے کئے ۔اساتذہ کو ان کے مسائل حل کرانے کی وکالت بھی کی۔اساتذہ کو سبز باغ بھی دکھائے۔ضلع ویشالی کا بھی ان کا دورہ ہوا۔
    اس ضلع میں ایک قدیم ادارہ "مدرسہ احمدیہ" ابابکر پور ہے جو بورڈ سے ملحق ہے۔اس کا ماضی غیر معمولی شاندار رہاہے۔اس مدرسے کی خوش نصیبی کپئے یا چیرمین کی بدنصیبی کہ وہ اس ادارے کی زیارت سے محروم رہے جبکہ اس ادارے سے تقریبا دو کیلو میٹردور موضع شاہ پور خرد میں عارف حسن سابق مکھیا کے دروازے پر تشریف لائے۔اور مدرسہ احمدیہ کے انچارج پرنسپل،اساتذہ اور قریب کے دیگر ملحقہ مدارس کے اساتذہ نے ان کا استقبال کیا تصویر کشی بھی ہوئی۔
     پچھلے دنوں چیرمین کا ایک آئیڈیو خوب مشتہر ہواتھا جس میں وہ ایک مخصوص برادری کو برا،بھلا کہتے سنے گئےتھے۔انہیں اس کا خدشہ دامن گیر تھا کہ کہیں لوگ ان اس پرجواب نہ طلب کرلیں اس لئے مدرسہ میں نہ جانےکوہی موصوف نےغنیمت سمجھا۔
      چیر مین کا عہدہ ایک باوقار عہدہ ہوتاہے۔اس پر متمکن شخص اگر داروخانہ یا تاڑی خانہ والی زبان استعمال کرے تویہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔اس طرح کی خسیس حرکت غیر مناسب ہے۔
     صدسالہ جشن کے موقع سے ملحقہ مدارس میں تعطیل کردی گئ تاکہ بھیڑ زیادہ سے زیادہ اکٹھی ہوسکے۔اور ایساہی ہوا۔اساتذہ جوق درجوق باپو سبھاگار پٹنہ کی جانب رواں دواں نظر آئے۔دل وماغ میں توقعات کے شیش محل سجائے ہوئے،امید کی شمع جلائے ہوئےسرزمین پٹنہ میں داخل ہوئے۔انہیں حق الیقین تھا کہ آج کے اسٹیج کے مہمان ذی وقار نتیش کمار انہیں قیمتی سوغات سے نوازیں گے اور ان کے مسائل کو حل کریں گے۔
        ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے بہت سے مسائل ہیں۔تنخواہ کا وقت پر نہ ملنا۔کئی کئی ماہ تنخواہ کا انتظار کرنا۔تنخواہ میں گاہے بہ گاہے اضافہ کا نہ ہونا۔ریٹاٹر منٹ کے بعد خالی ہاتھ لوٹنا۔مدارس کے خالی عہدے کی بحالی میں رشوت خوری کا مکمل سد باب ہونا وغیرہ۔
 بورڈ کے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کی مالی حالت دگرگوں ہے۔ان کی زندگی کی گاڑی پٹری سے اتر چکی ہے۔سوائے صدر مدرس کے ۔انہیں کچھ نہ کچھ آمدنی کے ذرائع میسر ہوتے ہیں۔
     بورڈ کے اس صدسالہ جشن میں شرکت کے لئے ویشالی ضلع سے بھی لوگ گئے ان میں ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے علاوہ کچھ دوسرے چہرےبھی تصویر کشی کراتے نظر آئے۔
       بہار کے وزیر اعلی نے تقریر کی۔سن 2005 سےقبل اور بعد کا موازنہ طنزیہ انداز میں خوب کیاجیسا کہ نیتاؤں کی خصلت ہوتی ہے۔اپنے زمانہ اقتدار میں کئے کاموں کی دوہائی دی۔ہم نے یہ کیا وہ کیا ۔125 یونٹ بجلی مفت کردی ۔مسلمانوں کے لئے باگھ مارا شیر پچھاڑا ۔وزیر اعلی نے اس بات کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ ان کو اس کرسی تک کون لایا؟ ۔یہ 2005 سے اب تک اقتدار پر قابض ہیں تو اس کا سہرا کس کے سرجاتاہے؟. سن 2005 سے پہلے ان کا کیا وقار تھااور یہ کس صف میں شمار ہوتے تھے؟.وزیر اعلی پر بہار کے مسلمانوں نےمکمل بھروسہ کیا ۔ان کو اپنا محسن ومشفق سمجھا ۔وزیر اعلی نے جہاں بہت سے کام کا تذکرہ کیا وہاں یہ بھی کہنا چاہئے تھاکہ وقف ترمیمی بل کا بھی ہم نے کھل کر حمایت کیا۔یہ حمایت ان کے تمام کاموں پر مقدم ہے۔انہوں نےاس کا تذکرہ دانستہ طورپرچھوڑ دیا۔ بھاگل پور کے فساد کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ بھاگل پور میں فساد ہوا۔اس جملے سے لگتاہے کہ وزیراعلی اس وقت شیر خوار تھےاس لئےانہیں اس کاپتہ نہیں چلا۔
       مسلمان کی حیثیت صرف دری بچھانے،تھیلہ ڈھونے،پارٹی کا جھنڈا بلند کرنے،پارٹی کے لئے بھیڑ اکٹھا کرنے کی ہے۔اگر کسی سیاسی پارٹی میں مسلمان ایم پی،ایم ایل اے ہے بھی تو وہ خود مختار نہیں ہے وہ اپنے آقا کے مرہون منت ہے۔آج بھی میر جعفر کی ایک اچھی تعداد اپنے آقاؤں کی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں۔
      وزیر اعلی نے اپنی پوری تقریر میں ملحقہ مدارس کےاساتذہ کے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوئی بات نہیں۔ان کے توقعات کے شیش محل لمحوں میں بکھر گئے۔ان کی آس ،یاس میں تبدیل ہوگئ ۔ان کی خوشی،سوگ میں بدل گئی۔چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔پاؤں بوجھل ہوگئے۔وہ مکمل اداس ہوگئے۔جس جوش جذبے سے گئے تھے اس سے کئی گنا زیادہ مایوس اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔
     جشن صدسالہ ہنگاموں کے نذر ہوگیا۔وزیر اعلی کی تقریر ہوتی رہی لوگوں کے ہنگامے بھی ہوتے رہے۔
    موجودہ چیر مین نے گھوم گھوم کر اساتذہ کو یقین دلایاتھا کہ ہم آپ کےدرپیش مسائل کا تصفیہ وزیر اعلی کے ذریعہ کروائیں گےآپ بڑی تعداد میں اس جشن صد سالہ کی زینت ضرور بنیں۔اس سے ان کا مقصد اپنی کرسی کی حفاظت اورآئندہ انتخاب میں مسلم ووٹ کےسپورٹ کے ذدیعہ وزیر اعلی کی کرسی کو بھی بچاناتھا۔
     بھیڑ اکٹھی تو ہوئی پر ان کے جوش سرد پڑ گئے نہ تو وزیر اعلی نے ان کے مسائل حل کرنے کی بات کی اور نہ چیر مین نے اس پر لب کشائی کرنے کی زحمت کی۔اس طرح یہ جشن صدسالہ تاریخ ساز بننے کہ بہ جائے تاریخ کا سیاہ باب بن گیا۔
      اس تقریب میں ارباب بورڈ نے وزیر اعلی کو ٹوپی پہنانے کی بھرپورکوشش کی پروہ ٹوپی پہننے سے انکار کرگئے جبکہ ٹوپی سرکا تاج ہوتی ہے۔اور ماضی میں مسلمانوں کے مختلف پروگرام میں وہ ٹوپی استعمال کر چکے ہیں۔
     حقیقت میں جوبرابر دوسروں کو ٹوپی پہناتا ہو اسے کوئی کیسے ٹوپی پہنا سکتاہے۔
       بہر حال بورڈ سے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے بہت سے واجبی مسائل ہیں انہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں ان کی نہ سنی جائےگی تو کب سنی جائے گی۔
      

Monday, August 18, 2025

مصنوعی ذہانت (AI) کااستعمال (شرعی جائزہ)محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

مصنوعی ذہانت (AI) کااستعمال
 (شرعی جائزہ)
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
 انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر دور میں علوم و فنون نے ترقی کی نئی راہیں ہموار کی ہیں، آج کی دنیا میں جس علم نے سب سے زیادہ توجہ اپنی طرف مبذول کی ہے، وہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence: AI) ہے، یہ محض ایک سائنسی ایجاد نہیں؛ بل کہ انسانی سوچ اور مشین کی کارکردگی کے حسین امتزاج کا نام ہے، جس نے تعلیمی، معاشی، تجارتی اور سماجی میدانوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔

 یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ’’ذہانت‘‘اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے، اسی ذہانت کی طبعی خصوصیات کو سائنسی وسائل کے ذریعہ’مصنوعی ذہانت‘‘کی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے؛تاکہ مشینیں بھی سوچنے، سمجھنے، سیکھنے اور فیصلے کرنے کے قابل ہو سکیں؛

 البتہ سوال یہ ہے کہ: کیا اس عظیم ایجاد سے بڑھ چڑھ کر استفادہ کیا جائے یا اس کے استعمال میں احتیاط اور تحفظ برتا جائے؟ اورکیا یہ سہولت انسانیت کے لئے خیر کا ذریعہ ہے یا خطرات کا پیش خیمہ؟ 

 اس سلسلہ میں سب سے پہلےتو یہ جاننا ضروری ہے کہ’’ذہانت‘‘ کیاہے؟ پھراس کے بعدہم ’’مصنوعی ذہانت‘‘ اور ’’AI‘‘ کی طرف قدم بڑھائیں گے، جس کی اس وقت آئی ٹی آئی کی دنیا میں دھوم مچی ہوئی ہے، تواس کاجواب یہ ہے کہ : 

’’ذہانت قدرت کی طرف سے عطاکردہ ایک نعمت اورتحفۂ خاص ہے، جودماغ کے خلیوں میں جمع معلومات کے ذخیرہ (Data)کوہنرمندی کے ساتھ برتتی یا استعمال کرتی ہے اور اس سے نتائج اخذ کرنے کے بعد عمل کے لئے جسم اوراس کے حواس خمسہ کواحکام صادر کرتی ہے، جن کے نتیجہ میں آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتا ہے، زبان بولتی ہے، اعضاءوجوارح حرکت کرتے ہیں، انسان کے اندرقوت تفکیرپیداہوتی ہےاور وہ کسی عمل پرحالات کے مطابق رد عمل ظاہرکرتا ہے اور متعینہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔ (مصنوعی ذہانت، از: باقر نقوی، ص:۳۳)

 ویکی پیڈیامیں ذہانت کی تعریف یوں کی گئی ہے:

’’ذہانت (Intelligence) اصل میں عقل (Mind) کی وہ صلاحیت یا خاصیت ہوتی ہے، جس کی مدد سے وہ کسی بات یا تجربے کا ادراک و فہم کر سکتی ہو یعنی اس کو سمجھ سکتی ہو، اس سمجھ بوجھ کے عمل میں بہت سی ذہنی خصوصیات شامل ہوتی ہیں، جن میں سبب، منصوبہ، بصیرت اور تجرید (Abstraction) وغیرہ شامل ہیں‘‘۔

 اب آتے ہیں مصنوعی ذہانت کی طرف، اس کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالرحیم لکھتے ہیں:

أنه عبارۃ عن تحویل الآلة من حالة الجمود إلی حالة تجعلها قادرۃ علی الفهم والإدراك والتعلم والتصرف بأسلوب مماثل للطبیعة البشریة، وذلک اعتماداً علی مایتوفر لدیها من مفاهیم وخبرات ومعارف (مجلۃ الدراسات القانونیة، العددالخامس والخمسون، الجزء الأول، مارس۲۰۲۲، عنوان:الذکاء الاصطناعي وأثرہ فی الضمان فی الفقه الإسلامي، ص:۷)

’’یہ علم، فہم اورتجربے کی بنیاد پرمشین کوجمود کی حالت سے ایک ایسی حالت میں تبدیل کرنے سے عبارت ہے، جواسے سمجھنے، سیکھنے اور عمل کرنے کے اس طرح قابل بنائے، جوانسانی فطرت سے ہم آہنگ ہو‘‘۔

 ڈاکٹرعادل عبدالنور نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

ھوعلم ھدفه الأول جعل الحاسوب وغیرہ من الآلات تکتسب صفة الذکاء، ویکون لها القدرۃ علی القیام بأشیاء مازالت إلی عهد قریب حصراً علی الإنسان کالتفکیر والتعلم والإبداع والتخاطب(مدخل إلی علم الذکاء الاصطناعي، ص:۷)

’’ایساعلم اورسائنس، جس کامقصد ایسی مشینیں، کمپوٹراورسافٹ ویئرتیارکرنا ہے، جوذہانت کی صفت سے متصف ہوں اوران امور کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو ابھی تک صرف انسان انجام دیاکرتے تھے، جیسے: غوروفکر، علم کا حصول، تخلیقی صلاحیتیں اوربات چیت‘‘۔

 مذکورہ سطورسے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مصنوعی ذہانت کامطلب ایسی مشینوں کی ایجادہے، جوعمل وردعمل اورسوچ وفکر کے لحاظ سے انسان جیسا ہو، ظاہرہے کہ ایسی مشینوں کااستعمال نہ توفی نفسہ نادرست قرارپائے گا اورنہ ہی علی الاطلاق استعمال کوروا رکھا جائے گا؛ کیوں کہ یہ ایک مشین ہے، جس کا استعمال انسان اچھائی کے لئے بھی کرسکتا ہے اوربرائی کے لئے بھی کرسکتا ہے، وہ مشین ہے اور کمانڈ کاپابندہے اوربس، لہٰذا اس کے استعمال کاحکم معلق ہوگا، اگر اچھائی کے لئے استعمال کیاجائے توحرج نہیں؛ لیکن اگراس کااستعمال برائی کے لئےکیاجائے تونادرست ہوگا، لہٰذا اصل کے اعتبار سے اس کااستعمال درست ہے؛ کیوں کہ قاعدہ ہے: الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم(القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة :1/ 190،الأشباه والنظائر لابن نجيم:1/ 57)’’اشیاء کی اصل مباح ہونا ہے؛ یہاں تک کہ اس کی حرمت پر دلیل قائم ہوجائے‘‘۔

  نیز قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾[ سورة:الجاثية، من الآية ١٣]اور یہ سائنس کی تسخیر ہے؛ اس لئے اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔

 علامہ سخاوی کی تفسیرمیں ہے:

{هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا} فيه دليل على أن أصل الأشياء بعد ورود الشرع على الإباحة.وعلي هامشه:‌الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة؛لأن الإباحة هي الحكم الأصلي لموجودات الكون، وإنما يحرم ما يحرم منها بدليل من الشارع لمضرتها، والدليل على أن الحكم الأصلي للأشياء النافعة هو الإباحة: قوله - تعالى - ممتنا على عباده: وسخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون [الجاثية: 13] وقوله - تعالى: هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا [البقرة: 29] ولا يتم الامتنان ولا يكون التسخير إلا إذا كان الانتفاع بهذه المخلوقات مباحا.( تفسير القرآن العظيم للسخاوي،تفسير سورة البقرة:1  /63 )

’’وہی ہے، جس نے زمین میں موجود سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں‘‘، اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت آنے کے بعد چیزوں کی اصل حالت اباحت (جائز ہونا) ہے،اور حاشیہ میں ہےکہ:چیزوں کی اصل اباحت ہی ہے؛کیوںکہ کائنات کی موجودات کے لئے یہی اصل حکم ہے، ان میں سے جو چیز نقصان دہ ہے، وہ شارع (اللہ اور اس کے رسول ﷺ) کی دلیل سے حرام کی جاتی ہے اور جو چیزیں نفع بخش ہیں، ان کے اصل حکم کے اباحت ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان جتاتے ہوئے فرمایا:’’اور اس نے تمہارے لئے سب کچھ مسخر کردیا، جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور وفکر کرتے ہیں‘‘[الجاثیہ:13]، اسی طرح فرمایا:’’وہی ہے، جس نے زمین میں موجود سب کچھ تمہارے لئے پیدا کیا‘‘ [البقرہ:29]،اور احسان کا پایۂ تکمیل تک پہنچنا اور تسخیر کا مقصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہے، جب ان مخلوقات سے نفع اٹھانا (انتفاع) جائز ہو‘‘۔

 امام سرخسی فرماتے ہیں:"أن ‌الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة، وأن الحرمة بالنهي عنها شرعا".(المبسوط للسرخسي،باب الإكراه،باب تعدي العامل،ج:24،ص:77،ط:دارالفكر)’’اشیاء کی اصل اباحت ہے، اور حرمت صرف اس وقت ثابت ہوتی ہے جب شریعت میں اس سے منع کیا گیا ہو‘‘۔

 یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ ایسی چیزوں کے استعمال کے حکم کامدار ان کے مقاصد پرہے، اگرمقصددرست ہوتواستعمال بھی درست؛ لیکن اگرمقصد نادرست ہوتواستعمال بھی نادرست، قاعدہ ہے:الأمور بمقاصدھا، جس کی بنیادحدیث إنماالأعمال بالنیات ہے۔

 معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت(AI) استعمال کرنے کی فی نفسہ گنجائش ہے؛ البتہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہ ایک مشین ہے، جس کاسوفیصد درست ہونا محل نظر ہے، بالخصوص علمی ودینی معلومات کے تعلق سے،دوسری بات یہ کہ اس کے تیار کرنے والے بہرحال اسلام دشمن افراد ہیںاوردشمنوں سے یہ امیدکہ ہمارے تعلق سے صحیح معلومات ہی فراہم کریں، ضروری نہیں، لہٰذا اس پرمکمل بھروسہ کسی طور درست نہیں،تحفظ ضروری ہے، ہذا ماعندی واللہ أعلم بالصواب!

Thursday, August 14, 2025

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں مولانا محمد طاہر ندوی

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں         مولانا محمد طاہر ندوی 
N
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

مولانا محمد طاہر ندوی


ملک کی حقیقی آزادیانسان ارتقاء آزادی سے وابستہ ہے ، انسان اگر آزاد ہو تو اسکی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، عقل و شعور کو تازگی، خیالات و تصورات کو بالیدگی، عزم و استقلال کو قوت ارادی، ذہن و دماغ کو بالغ نظری، اور افکارو نظریات کو نشوونما ملتی ہے۔15 اگست 1947 کو برادرانِ وطن عزیز نے انگریزوں کی غلامی کا طوق اتار کر غلاموں کی غلامی کا طوق زیب تن کرلیا جو کہ کروڑہا کروڑ درجے کی بدترین غلامی کی علامت تھی۔پہلے انگریزوں کے غلام تھے اور اب مادہ پرست، انتہا پسند، فرعونی و طاغوتی طاقت و قوت کے مالک، ظلم و بربریت کے علمبردار، مطلق العنان ظالم و جابر اور غاصب حکمران، کارپوریٹ سیکٹر کے پروردہ ، اور نفرت و عداوت کے ٹھیکیدار گودی nnu کے غلام ہیں۔
آزادی ایک تحفہ ہے ، ایک خواب ہے، ایک خوبصورت احساس ہے،  ایک نعمت ہے ، اور ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ آزادی کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو باشندگانِ عالم کے تمام انسانوں میں جاں گزیں ہوتا ہے ۔کارگاہِ ہستی میں موجود تمام انسانوں کی ایک مشترکہ خواہش، تمنا اور آرزو ہوتی ہے کہ انکی زندگی میں کسی غیر کی اجارہ داری اور تسلط کارفرما نہ ہو بلکہ زندگی گزارنے کے لئے وہ آزاد ہوں ، کھلی فضاؤں میں وہ سانسیں لے سکیں ، آسمانوں سے باتیں کرسکیں ، بادلوں سے مزاح کر سکیں ، ہواؤں سے تبادلئہ خیال کر سکیں ، چرند و پرند کے ہمراہ نغمہ ساز بن سکیں ، اور برادرانِ وطنِ عزیز سے پیار و محبت کا اظہار کر سکیں ۔
ایسی آزادی کا تصوّر ہر شخص کرتا ہے لیکن یہ تصورات صرف عالم تخیلات کو مزین اور خوبصورت بناتے ہیں ۔آزادی کا یہ تصور ایک خوبصورت نما خواب ہے جس میں ایک طویل عرصے سے ہم باشندگانِ وطنِ عزیز کو  سیر و تفریح کرایا جا رہا ہے۔
آزادی کا یہ تصور و فلسفہ سرکاری محکمے اور دفاتر میں مدفون اور گرد آلود دستاویزات کی زیب و زینت سے زیادہ کچھ نہیں۔ آزادی کا یہ تصور صرف فاشسٹ حکمرانوں، سرمایہ داروں، انتہا پسندوںاور دوسروں پر اجارہ داری قائم کرنے والوں کی موروثی دولت بن چکی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی صرف دفتری کاغذات تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور آج تک اس کا نفاذ نہ ہو سکا اور تعجب کی بات تو یہ کہ باشندگانِ وطنِ عزیز برملا یہ اعلان کرتے انکی زبانیں نہیں تھکتیں کہ ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کے باشندے ہیں۔
ہمارے وطن عزیز کو حقیقی آزادی اس وقت میسر ہوگی جب غربت و افلاس کا خاتمہ، بے روزگاری کا سدِ باب، ناخواندگی کا حل، ظلم و ستم، قتل و خون ریزی، تعصب و انتہا پسندی، نفرت و بیزاری اور باہمی منافرت پھیلانے والوں پر قدغن اور جب تک منو واد سے آزادی نہ مل جائے اس وقت تک حقیقی آزادی کا راگ الاپنا حماقت ، کم عقلی اور خود فریبی  سے زیادہ کچھ نہیں۔
حقیقی آزادی تو یہ ہے کہ کسانوں کو انکی فصل کے مناسب دام ملے، انکی مجبوری کا استحصال نہ کیا جائے، روز افزوں خود کشی کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ دلتوں ( جو ملک کے اصل باشندے ہیں) اور پسماندگی کا شکار طبقات کو جو ہزارہا سالوں سے برہمنوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں انکے حقوق فراہم کئے جائیں، ان کو مشقِ ستم نہ بنایا جائے۔ غرباء و مساکین اور فقراء کو ایک خوش گوار اور بہتر سے بہتر مستقبل فراہم کی جائے، ان کو زیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا جائے، ان کو معاشرے اور سوسائٹی کا جزوِ لاینفک سمجھا جائے، ان کی غریبی، تنگدستی ، فاقہ کشی اور بدحالی کو مضحکہ خیز نہ بنایا جائے۔ملک میں بودو باش اختیار کر نے والے تمام انسانوں کو درسِ محبت کا پیغام دیا جائے، باہمی نفرت و عداوت اور ظلم و تشدد کا پرچار کرنے والوں کو پابندِ سلاسل کیا جائے، تمام باشندگانِ ملک کو اوّل درجے کا  شہری تسلیم کیا جائے، ہر طرح کی بھید بھاؤ اور اعلیٰ و اسفل نظریاتی جنگ کا خاتمہ کیا جائے، مساویانہ حقوق کو نافذ کیا جائے، ملک میں روز افزوں بڑھتی بے روزگاری، ناخواندگی اور دیگر انسانی مقتضیات سے متعلق مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
اگر کسی ملک کے باشندے خوف و ہراس کے گہرے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔اگر کسی ملک کے باشندے دہشتناک فضاؤں میں سانس لینے پر مجبور ہوں اور امن و امان، سکون و اطمینان سے محروم القسمت ہوں تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔اگر کسی ملک کے شہریوں پر ہمیشہ خطروں اور اندیشوں کی تلوار معلق ہو،  ان کی زندگی کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی جارہی ہو، ہر طرف سے ان پر عرصہ حیات تنگ کی جا رہی ہو، وطن عزیز سے متعلق ان کی محبت کو شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہو ، مذہبی تشخصات پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہوں، ان کی طرزِ زندگی اور ملبوسات کو تشدد پسند عناصر گردانا جا رہا ہو،تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔اگر ماؤں کا گلشن، بہنوں کی عصمت و عفت اور بیٹیوں کی زندگی محفوظ نہ ہو، بھوک و پیاس کی شدت سے شیر خواروں اور نونہالوں کے رونے اور بلکنے کی آوازیں حکومتِ وقت کی درو دیوار سے نہ ٹکرائیں،ان کے رونگٹے کھڑے نہ ہوں تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔جہاں ماب لنچنگ کے ذریعے ایک خاص طبقہ کو زدو کوب کرنا آسان ہو، انسانوں سے زیادہ جانوروں کی جان کی قیمت اور اہمیت دی جاتی ہو، جہاں محافظ قاتل کا حرزِ جاں بن جائے، جہاں منصف ظالم کا رفیق سفر بن جائے تو حقیقت میں وہ ملک اور اس کے باشندے آزاد نہیں ہیں۔بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو توبہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو تویہ کیا ہوا کہ سلامت نہیں کوئی دامنچمن میں پھول کھلے ہیں کہ خار دیکھو تواگر بہار چمن تم اسی کو کہتے ہوتو اس طرح کی بہار چمن سے کیا ہوگا۔
اسی خیال کو فیض احمد فیض نے یوں پیش کیا؛
یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
ہمارے اسلاف نے آزادی کا جو خواب دیکھا اور اس کے لئے قربانیاں دیں ، مالٹا کی اسیری اور کالا پانی جیسی سزاؤں کو برداشت کیا ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آزادی کا جو خواب سجایا ، مہاتما گاندھی کی بے لوث خدمات ، بھگت سنگھ کا تختہ دار پے مسکراتے پھانسی کے پھندے کو اپنے گلے سے لگا لینا ، یہ قربانیاں ایسی آزادی کے لئے نہیں تھیں بلکہ ذات برادری ، بھید بھاؤ سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لئے تھیں ، جس میں اظہارِ خیال کی آزادی ، حکومت وقت سے احتساب کی آزادی ، سوال کرنے کی آزادی ، اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے اور لڑنے کی آزادی ، حق بولنے کی آزادی ، اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی ، عدل و انصاف میں برابری ، روزگاری میں مساویانہ حقوق اور تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی آزادی۔
یہ وہ آزادی ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا ۔ یہ ہماری بد نصیبی اور بدقسمتی ہے کہ آزادی کے 73 سال بعد بھی زمام اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہیں آئی جو حقیقی معنوں میں عوام الناس کو آزادی کا معنیٰ و مفہوم سمجھا سکے۔حقیقی آزادی کا تصور تو اسلام نے پیش کیا۔ جب مصر کا ایک شخص خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دربار میں حاضر ہوکر یہ عرض کرتا ہے کہ امیر المومنین: میں ایک گھڑ سوار ہوں اور گھڑ سواری کے مقابلے میں حصہ لیا اس مقابلے میں مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بھی شریک تھے میرا گھوڑا آگے نکل گیا تو وہ غصے میں آ گئے اور انھوں نے مجھے ایک کوڑا مارا اور کہا: میں معزز ماں باپ کا بیٹا ہوں۔ اب آپ ہی انصاف فرما ئیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مصر کے گورنر اور انکے بیٹے کو بلا بھیجا جب وہ دونوں حاضر خدمت ہوئے تو معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آپ نے مصری سے فرمایا اپنا بدلہ لو اس نے اپنا بدلہ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا عمرو بن العاص کے چندیا پر بھی ایک کوڑا لگاؤ۔ اس نے کہا: امیر المومنین میں نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔اس کے بعد آپ نے ایک تاریخی جملہ فرمایا جس کو کتب تواریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا گیا:
                     "متىٰ استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحراراً "
کہ تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کردیا جبکہ انکی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے۔قربان جائیں مذہب اسلام پر جس نے آزادی کا معنیٰ و مفہوم سمجھا یا اور حقیقی آزادی کسے کہتے ہیں آشکارا کردیا اور اسلام کے ماننے والوں نے  اس پر عمل کرکے دکھا دیا ۔



آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...