Translate

Wednesday, December 31, 2025

مفتی عین الحق امینی قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھے ہیں کئی روپ نرالے تیرے(ارشد فیضی قاسمی ،ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے )

مفتی عین الحق امینی قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھے ہیں 
کئی روپ نرالے تیرے

(ارشد فیضی قاسمی ،ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے )
جب بھی میں مایوسی یا افسردگی کے عالم میں اپنی پرانی یادوں کے دریچے کھولتا ہوں تو میرے سامنے برسوں ساتھ وقت گزارے ہوئے ان باحوصلہ افراد کے چمکتے دمکتے چہرے میرے لئے امید کی روشن کرن بن کر اپنے خاص انداز میں وہ پیغام دے جاتے ہیں جس کی بیساکھی مجھے آگے بڑھنے اور زندگی کے میدان میں مسلسل بڑھتے چلے جانے کا قابل اطمینان سبق بتاتی ہے ۔
مجھے خوب یاد ہے کہ نیم بے شعوری کے عالم میں جب تعلیم کے مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا میرا تعلیمی سفر مادر علمی دارالعلوم دیوبند پہونچا تو بھلے ہی اس خوبصورت فضا میں جہاں تعلیم،تعلیم اور صرف تعلیم کے فارمولے پر عمل پیرا رہنے کا ایسا خوشنما ماحول ہے کہ اپنی تعلیمی مشغولی بہت کم لوگوں کو دوسرے کے مستقبل کے تئیں فکر مند رہنے کا موقع دیتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ علم وادب کی اس چہار سو پھیلی دنیا میں ہم مزاج کا مل جانا بھی کسی بڑی خوش نصیبی سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔
تاہم مجھے خوشی کے ساتھ اپنے اوپر ناز بھی ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی ماحول میں اپنے سفر کی شروعات کے ساتھ ہی چند ایسے افراد کی دیرینہ رفاقت میرے حصے میں آئی جنکی علمی گہرائی،فکری بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں نے اس وقت بھی میرے حوصلے کو زندگی دی اور آج بھی مایوسی کے اوقات میں انہی احباب کے تصوراتی خاکے میرا سہارا بن کر مجھے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جانے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔
اگر چہ میرے احباب کی فہرست میں کچھ زیادہ لوگ شامل نہیں رہے ہیں،اور نہ یہ میرا مزاج رہا ہے مگر اس اعتبار سے میں خود پر نازاں رہتا ہوں کہ میرے حصے میں جن باوقار افراد کی رفاقت آئی ان میں ایک نہایت معتبر اور قابل قدر نام مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کا بھی ہے،جو طالب علمی کے دور سے لے کر آج تک ایک چلتی پھرتی انجمن کی شکل میں نے جانے کتنوں کا درد اپنے سینے میں سمائے مسلسل کامیابی کی طرف رواں دواں ہے، مجھے یاد ہے کہ مادر علمی کے چھ سالہ تعلیمی دور میں قدم قدم پر جن لوگوں کی انگلیاں پکڑ کر میں مسلسل کامیابی کی طرف بڑھتا چلاگیا یا کہ لیں کہ جن احباب نے میرے کمزور حوصلے کو جوانی کی دہلیز تک پہونچاکر کسی قابل بنایا ان میں مفتی عین الحق قاسمی ناظم معہد عائشة الصدیقہ خاتو پور بیگو سرائے سر فہرست رہے ہیں،نام تو کئی اور بھی ہیں جن کا ذکر کسی اور موقع پر آئے گا ۔لیکن سچ کہوں تو مفتی عین الحق قاسمی جن کو اللہ رب العزت نے ایسی امتیازی خوبیوں سے نوازا ہے کہ وہ پہلے بھی ہم لوگوں میں ممتاز رہے اور آج بھی ہیں ،بات چاہے درسگاہ کی چٹائی پر بیٹھ کر علمی گتھتیوں کا سلجھانے کی ہو،یا علاقائی انجمنوں سے لے کر بہار اڑیسہ ،جھارکھنڈ اور نیپال کی مشترکہ انجمن بزم سجاد کے مسابقاتی پروگراموں کے خوبصورت اور باوقار اسٹیج کی،معاملہ چاہئے انتظامی صلاحیتوں کے مظاہرے کی ہو یا مختلف مزاج کے حامل حلقہ احباب کو ایک اتحادی لڑی میں پروکر ساتھ چلنے پر زور دینے کی ہر مقام پر وہ طاق رہے۔ان سب خوبیوں کے ساتھ ہر وقت اپنے احباب کو میسر رہنے اور خود کو تکلف وخود نمائی سے اوپر اٹھا کر کار آمد بنانے کی فکر نے انہیں ایسے مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ ہم انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔یقین جانئے تو ان کا ہنستا مسکراتا اور بے تکلفانہ لہجہ ان کی خاص پہچان کراتا تھا ۔
مفتی عین الحق قاسمی صرف ایک نام نہیں بلکہ ان کو میں نے ہمیشہ چلتی پھرتی ایسی تحریک کے طور پر دیکھا ہے جس نے نا امیدی ،مایوسی اور قدم قدم پر درپیش مسائل کا سینہ چیر کر اپنے کے لئے کامیابی کی ایسی راہیں بنائی کہ بعد میں آنے والے ان کے نقش راہ کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھ کر آگے بڑھتے چلے گئے۔بلا تکلف اعتراف کروں تو میرے تحریری شعور کو زندگی دینے میں جن چند افراد کی کوششوں کا خاص دخل ہے ان میں ایک وہ بھی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی پانچ سالہ رفاقت کی یادیں تو دو دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہے حالانکہ اس طویل مرحلے میں ملاقات کے مواقع بہت کم آسکے جس میں کمزوری صرف میری رہی مگر مختلف ذرائع پرانی یادوں کی تجدید کا مسلسل باعث بنتے رہے،کاش ان یادوں نے گزرتے وقت کی رفتار میں زنجیر ڈال دی ہوتی۔
مادر علمی سے سیرابی کے بعد انہوں نے جس میدان عمل کا انتخاب کیا وہ ان کا عین مزاج تھا ،پھر بات یہ بھی رہی ہے کہ اس راہ پر وہ ایسے چلے کہ ان کی کامیابیوں نے انہیں بڑوں کا عزیز ،چھوٹوں کا رہنما اور مجھ جیسے لوگوں کے لئے قابل رشک بنا دیا ،وہ ایک ساتھ کئی محاذوں پر اپنی حاضری درج کراتے رہے اور ہر محاذ سر کرنا ان کی عادت بنتی چلی گئی،چاہے بات تعلیمی ادارہ کے پلیٹ فارم سے نئی نسل کی تربیت کی ہو یا جمعیة جیسی تحریک سے وابستہ رہ کر انقلابی اقدامات کی میں نے کم از کم اپنے ہم عصروں میں ان جیسے کردار کے ساتھ بہت کم لوگوں کو عملی میدان میں رواں دواں دیکھا ہے ۔ایسا بھی نہیں کہ انہیں بنی بنائی راہ میسر آئی جس پر ان کو صرف چلنے کا دکھاوا کرنا تھا بلکہ حق بات یہ ہے کہ زندگی کے ہزار طوفانوں کا سینہ چاک کر کے انہوں نے جو راہ نکالی اور اس پر جس اعتماد کے ساتھ چلے کہ قدم قدم پر حوصلے مکمل حیاء کے ساتھ ان کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔ان دنوں مسلسل کئی کتابوں کے سر ورق نظر سے گزرے جن کی تالیف ان سے منسوب تھی دیکھ کر قلب کو جو سرور ہوتا ہے اس کے اظہار کا حوصلہ تو ہے مگر مناسب الفاظ ابھی تک میسر نہیں ۔۔۔بس میں ان کے بڑھتے قدم کو اپنی کم علمی وکم مائگی کا کفارہ مانتا ہوں ۔۔۔۔۔انہوں نے مجھے سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔کہ

پاوں پتھر کر کے چھوڑے گی اگر رک جائیے 
چلتے رہئے تو زمیں بھی ہم سفر ہو جائے گی ۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...