Translate

Saturday, November 28, 2020

مسلم مسائل کا حل سیاست سے زیادہ دعوت میں

مولانامحمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری


 آج پوری دنیا میںمسلمانوں کو جن مسائل ومشکلات کا سامنا ہے، چاہے وہ سیاسی مسائل ہوں، معاشی مسائل ہوں یا پھر معاشرتی اور اخلاقی مسائل ہوں، نہج نبوت،طرز صحابہؓ اور اسوۂ سلف کی روشنی میں تو اس کا بس ایک ہی حل نظر آتا ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو ختم نبوت کے صدقہ میں کار نبوت کا جو عظیم فریضہ ملا ہے اسے وہ اپنی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد بنالیں، دعوت دین اور تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کا مشن اور عنوان بنالیں، بالکل اسی طرح جس طرح آخری رسول ؐ کے عاشقینِ صادقین صحابہ کرام ؓ نے اسلام کے دور اول میں اسے اپنا مقصد ِحیات بنایا تھا۔

مسلمانوں کو خدائے بخشندہ کی جانب سے بخشے گئے اس تیر بہدف علاج سے کبھی بھی کسی دور میں نہ غافل ہونا چاہئے اور نہ کسی ادنیٰ شک وشبہ میں پڑکر ثانوی اور ثالثی ذرائع کو ترجیح دینا چاہئے، یہ تیر نبی اور جانشینانِ نبی کا آزمایا ہوا ہے، یہ وہ داروئے شفا ہے جس نے ہر مرض کو دور کیا ہے، یہ وہ سکہ ہے جو ہر زمانہ میں رائج رہا ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دعوت نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں جو بعض دفعہ بڑی بڑی حکومت اور سیاست بھی انجام نہ دے سکی، جس کی سب سے بڑی اور محیر العقول مثال فتنۂ تاتار کی خطرناکی وامتداد کے باوجود شیخ جمال الدین ؒ اور ان کے خلف رشید شیخ رشید الدین ؒ کی حکیمانہ دعوت کے ذریعہ تاتاریوں کے اسلام قبول کرنے اور کعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں مل جانے کی ہے۔ 

(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:تاریخ دعوت وعزیمت: ۱؍۳۳۱)

امام مالک ؒ نے اسی راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنا یہ تاریخی جملہ فرمایا تھا :’’لن یصلح آخر ہذہ الامۃ الا بما صلح بہ اوّلہا‘‘کہ اس امت کے آخری دور میں افراد کی اصلاح ِحال بھی اسی طریقہ پہ ہوگی جس طریقہ پہ اولین طبقہ کی ہوئی تھی، یعنی اصلاحِ حال کے لئے جو تدبیر خیر القرون میں قابل ترجیح تھی آج بھی اسی کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے، اور آج امر واقعہ ہے یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی بحالی اور تعلیم واقتصاد کے میدان میں رزرویشن کی حصولیابی کی مطلوبہ ساری سیاسی کوششوں کے بعد بھی اپنے مسائل کا پائیدار حال نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں ، اور صرف سیاسی لڑائی کے ذریعہ کبھی وہ اپنے مسائل حل کرا بھی نہیں سکتے، اُنہیں ضرورت ہے کہ قرآن وسنت کی گائڈ لائن کے مطابق اسلام کے تابناک ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے از سر نو اپنی نئی حکمت عملی (Strategy) تیار کریں، جس میں سیاست سے کہیں زیادہ دعوت کو جگہ دی جائے؛ بلکہ دعوت ہی کو مقصد ِ اصلی ٹھہراکر حسب ضرورت سیاست کو وسیلہ اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

مشہور ومایہ ٔ ناز عربی صحافی ، ادیب قدیر مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی ؒ اپنے ایک عربی مقالہ ’’اسلام دشمنی کے مقابلہ کے لئے علم اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضروت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’گذشتہ عہد میں اسلامی عمل کے میدان کا یہ المیہ تھا کہ دعوت کے لیے اور ملکی معاملات کے سلسلہ میں سیاسی انداز اختیار کیا گیا ،جس کی وجہ سے حکام، غیر اسلامی ماحول میں تعلیم پانے والوں اور خارجی دنیا کے دشمنوں سے ٹکراؤ پیدا ہوگیا؛ حالانکہ وہی دعوتی طریقۂ کار اختیار کرنا چاہئے جسے ہمارے اسلاف نے اختیار کرکے دلوں کو فتح کرلیا تھا، بلکہ پوری دنیا پر حکمرانی کی، اور وہ طریقہ موعظہ ٔ حسنہ، حسن اخلاق ، نرمی ، محبت، رواداری اور انسانی غمخواری کا طریقہ ہے۔‘‘

موجودہ صورتحال میں دعوت واصلاح کے میدان میں طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے، اور جب مخاطب ، ماحول اور وقت کے تقاضوں کی رعایت کے ساتھ موثر طریقۂ کاراختیار کیا جائے گا تو دشمن بھی دوست بن جائیں گے، اسلامی تاریخ میں اس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں، قرآن مجید کہتا ہے:{ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ} (سخت کلامی کا ایسے طریقہ سے جواب دو جو سب سے اچھا ہو، ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے، یہ انہی کو حاصل ہوتی ہے ، جو برداشت کرنے والے ہیں، اور انہی کو نصیب ہوتی ہے، جو بڑے صاحب ِ نصیب ہیں۔)

مذکورہ بالا نقطۂ نظر کی تائید میں مندرجہ ذیل اخباری رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے:

’’اس وقت دنیا کے تمام خطوں میں دہشت گردی کے نام پر اسلام کے خلاف چلائی جارہی عالمی مہم کے باوجود اسلام کی مقبولیت روز افزوں ہے اور خود یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعہ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے،اخباری رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور نبی ٔ رحمت سرورِکائنات محمدرسول اللہ ﷺ کے خلاف چلائی جانے والی جارحانہ مہم قبول اسلام کا سبب بن رہی ہے، مثال کے طور پر ڈنمارک میں اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے بعد سیرت ِ رسول کے مطالعہ کا رجحان اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سیرت ِ نبوی سے متعلق مطلوبہ زبان میں لٹریچر ختم ہوگیا اور بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ نیویارک سٹی میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے قریب جب مسلمانوں نے مسجد بنانے کی کوشش کی اور پھر اس کے بعد ردعمل کے طور پر پادری ٹیری جانس نے قرآن کریم کے نسخوں کے جلانے کا اعلان کیا تو اس کے ردعمل میں ایک سو اسی(۱۸۰) امریکیوں نے اسلام قبول کرلیا۔برطانیہ کی مسلم آبادی میں حالیہ چھ سالوں میں نصف ملین کا اضافہ ہوا ہے، اور اس کے مقابل برطانیہ میں عیسائیوں کی تعداد میں دو ملین سے زیادہ کمی ہوئی ہے، اور اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کی مہم کے باوجود ایک ہزار برطانوی خواتین نے اسلام قبول کیا ہے، اور اسلام لانے کے بعد اسلام کی برتری اور اس کی افضلیت کو ثابت کررہی ہیں،ان میں سرِفہرست سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ، براڈ فورڈ کی وکیل جان بیلی (عمر؍۳۰ سال) ، لندن چلڈرن اسکول کی معلمہ کاتھرین ہنرلٹائن (عمر؍۳۱سال)، لندن کی مشہور شاعرہ سکینہ دوگلاس (عمر؍۲۸ سال) اور ٹیلی ویژن پروگرامر کیسٹن بیکر ہیں۔‘‘

اس حوصلہ افزا صورتحال کا سبب ایجابی اور مثبت طریقۂ کار ہے، گذشتہ عہد میں مسلمان اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے دینے لگتے تھے اور سڑکوں پر نکل آئے تھے، جس سے مخالف کیمپ میں ردعمل پیدا ہوتا تھا اور اسلام پر حملہ کرنے والوں کو اپنے حلقے میں حمایتی اور مؤیدین مل جاتے تھے اور وہ ہیرو بن جاتے تھے اور اپنی ذلیل حرکتوں اور گستاخیوں سے خوب دولت کماتے تھے، لیکن اب مسلمانوں کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے، اشتعال انگیزی اور احتجاج کی بجائے علم وحکمت پر مبنی ایجابی دفاع، پرامن مذاکرات، باہمی مفاہمت اور حلم وبرداشت کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے، جس کے بڑے ہمت افزا نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

متعدد مسلم تنظیموں اور قائدین نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو جمع کرکے مذاکرات کا جو طریقہ اختیار کیا اور اسلام کے تعارف اور دفاع کے لئے لٹریچر فراہم کیا ، اس کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، ابھی حال میں واشنگٹن میں ’’اسنا‘‘ کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے مسلمان، عیسائی، یہودی، سکھ اور ہندو شریک ہوئے ، تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف چلائی جانے والی مہم بند کی جائے، کیونکہ مذہب ِ اسلام امن وشانتی کا مذہب ہے، ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جائے اور شخصی اور انفرادی تشدد کی بنیاد پر کسی مذہب کو بدنام نہ کیا جائے، اس کانفرنس سے بہت سے غیر مسلم دانشوروں کا ذہن صاف ہوا، خود ہندوستان میں ’’تحریک ِ پیامِ انسانیت‘‘ (بانی مولانا علی میاں ندویؒ) کے جلسوں اور غیر مسلم طلبہ کے درمیان اسلام کی حقانیت وافادیت پر مبنی انعامی تحریریں مقابلوں سے غیر مسلموں کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہورہی ہیں۔


عصر حاضر میں دعوت وتبلیغ کے مؤثر اسالیب

 مولاناعین الحق امینی قاسمی 


دعوت اورتبلیغ جب دونوں لفظ ایک ساتھ اور ایک جگہ استعمال ہوتے ہیں تو دونوں مرادی معنی میں یکساں مفہوم اداکرتے ہیں ،اسی لئے عموما ایک کے تلفظ سے دوسرے کا مفہوم بھی ازخود ذہن میں آجاتا ہے ۔ورنہ دونوں اصل وضع کے اعتبار سے الگ الگ معنی ومفہوم کے لئے ہیں،دعوت کے معنی ،بلانے، پکارنے اور مطالبہ کرنےکے ہوتے ہیں ،جب کہ تبلیغ کا معنی پہنچانا ہوتا ہے ،لیکن عموماً دعوت وتبلیغ بول کر اللہ  اور اس کے رسول کے احکام وتعلیمات کو ان لوگوں تک پہنچا نا مراد ہوتا ہے ،جو کسی وجہ سے اپنے مقصد تخلیق سے غافل اور اپنے رب حقیقی کی کامیابی والی راہ صراط مستقیم سے دور ہوتے ہیں ،اسی لئے دعوت کے اس اہم کام کی انجام دہی کرنے والے کو داعی یا مبلغ کہتے ہیں۔ دعوت الی اللہ کی ڈھیروں فضیلت وارد ہوئی ہے ،قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (آل عمران، 3/ 104)اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور وہی لوگ بامراد ہیں۔ يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ط وَاللهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ  اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِيْنَ (اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بے شک اللہ کافروں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا)

 کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں)

 قُلْ هٰذِهِ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللهِ عَلٰی بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْن (اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجیے: یہی میری راہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔)

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے (ہر بات لوگوں تک) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔(مشکوۃ المصابیح)

ایک روایت میں حضرت ابو ِقرْصَاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی تم مجھ سے سنتے ہو اسے بیان کیا کرو اور کسی شخص کے لیے بھی مجھ پر جھوٹ باندھنا جائز نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اور میرے فرمان کے علاوہ میری طرف کچھ منسوب کیا اُس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا جس میں آتشِ جہنم اُس کی غذا ہوگی۔(ترمذی شریف)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی، کَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، کَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔(مسلم شریف)

دینی مآخذ سے ثابت ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے، البتہ حسب استطاعت جملہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسب توفیق اس اہم فریضے کو انجام دیتے رہیں۔عصری تقاضوں کے پیش نظر اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔

دعوت وتبلیغ کے مؤثراسالیب سے مراد: اسلوب ، طریقہ کار اور حکمت عملی ہے اور ہمیشہ دعوت وتبلیغ کا اسلوب اور طریقہ کار ،وقت حالات کے اعتبار سے مختلف رہا ہے ، تبدیلی اسلوب  بھی دعات اور عام عوام کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے،چوں کہ بعض اوقات دعوت وتبلیغ کا ایک اسلوب ،ایک شخص کے لئے بہت مؤثر ہوتا ہے اور وہی طریقہ دوسرے کے لئے بالکل بھی اثر انداز نہیں ہوتا،اسی طرح اسلوب دعوت کے مؤثر ہونے نہ ہونے میں ادوار کا بھی خاصا فرق پڑتا ہے ،ایک دور میں ایک انداز کا فی مقبول ہوتا ہے ،جب کہ دوسرے دور میں وہ طریقہ عمل کچھ بھی کار گر نہیں ہوتا،اسی لئے اپنی دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ داعی ،حکمت عملی میں تبدیلی کی گنجائش کے ساتھ میدان دعوت وتبلیغ میں اپنا فرض نبھائے ۔جہاں تک دعوت وتبلیغ سے سیکھنے سیکھانے کے عمل کو فوقیت دینے کی بات ہے تو یہ سلسلہ اچھا ہے ،مگر یہ کا م نجی مجلسوں تک ہی محدود رہے تو زیادہ مفید ہے ،ورنہ عام طورپر نوآموز کے ذریعے وعظ و نصیحت کا طریقہ بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ نوآموزوں کی تعلیم وتربیت کے لئے مخصوص اوقات کا  ہی استعمال ہو ،تاکہ غیر سنجیدہ اور نئے ساتھیوں کے ذریعہ کوئی بے سند باتیں عام لوگوں تک نہ پہنچے ،جس سے کہ دینی  امور میں اختلاف وانتشارسے بے چینی کا ماحول تیار ہو۔

عمومی خطاب ،یا تشکیلی وترغیبی بات چیت ہر لحاظ سے کسی معتمد عالم دین کے ذریعے ہی کرائی جائے اور پوری کوشش ہوکہ علماء کی نگرانی میں اور علماء کرام کے ذریعے مستند باتیں بطور پیغام لوگوں تک پہونچائی جائے۔داعی کو اپنے اسلوب دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے  جہاں ہمت وحوصلہ ،صبر تحمل ، قوت برداشت ، برد باری وجفاکشی ،اخلاص وللہیت اور فکر ولگن کی بہت ضرورت ہوتی ہے وہیں طریقہ کار اوراپنے اسلوب کو مؤثر بنانے کے لئے استقامت فی العمل ، گہرے علم ومطالعہ اور اللہ والوں کی صحبت یافتہ ہونے کی بھی اہم ضرورت ہے چوں کہ علم ومطالعے اور اہل اللہ کی مجالس کا حاضر باش بنے   بغیر اسرار دعوت کا کھلنا  نہ صرف محال ہے ،بلکہ اس راہ کے مجاہدے کو  پوری طرح سےجھیلنا اور استقامت کے ساتھ اس پر جمنا بھی  ناممکن ہے ،جب داعی علم ومطالعے اورزمانے کے  حالات وواقعات پر نگاہ رکھ کر دعوتی عمل کو سر انجام دے گا تو یقینا زمانے کے وقتی تقاضے بھی اس کے سامنے ہوں گے اور لوگوں کے رخ کا بھی صحیح اندازہ ہوگا ،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر دور کے حالات اور اس کے تقاضے مختلف رہا کرتے ہیں ،داعی جب ان باریکیوں پر نظر رکھ کر چاق وچوبند ہوکر دعوتی مشن کو لے کر چلے گا تو وہ بہت سی آنے والی آفتوں سے بچے گا ،ورنہ رٹو طوطے کے طرز پر شکاری آئے گا ،جال پھینکے گا تب وہ شکار کرے گا، تب تک معلوم ہوا کہ وہ شکار ہو بھی چکا  تو ایسی سونچ ،دعوت کو مؤثر بنانے میں ناکام رہی ہے ،ابھی کورونا کال میں ’’دعوتی مشن‘‘ پر آفتیں آئیں ،اس میں یقینا ہماری ناعاقبت اندیشی کا بھی کہیں نا کہیں دخل رہا ہے ،ہمیں حالات پر بھی نگاہ رکھنا ہوگا اورآ نے والی ہواؤں کے رخ کو  بھی بھانپناہوگا، تبھی ہم طوفان بلا خیز سے اپنے مشن کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح ہم جس طبقے میں بھی دعوت پیش کریں ،ضروری ہے کہ اس طبقے کے عمومی احوال کابھی ہمیں علم ہو ،تاکہ ہم اس حوالے سے بات کو شروع کرکے اپنے مدعا پر انہیں لاسکیں ،حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ اہل علم کے سامنے اس کے مبلغ علم کی روشنی میں گفتگو کریں،مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ افراد کے سامنے ہمیں دین کی دعوت پیش کرنی ہے ،مگر سب کے لئے ایک انداز ،ایک لہجہ، ایک اسلوب اور ایک حکمت عملی نہیں اپنائی جاسکتی ،ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے دعوتی مواد وامور میں بھی تنوع رکھنی ہوگی ،تاکہ لوگوں سے اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ  رکھ کر ہی دعوتی غرض  بیان کی جائے ۔

مؤثر اسالیب اور منصوبہ بند حکمت عملی کے ضمن میں اس بات کو بھی کشادہ قلبی کے ساتھ جگہ دی جائے کہ  بدلتے تقاضے کے پیش نظر عصری تکنیکی پروگرامس کے ذریعے بھی مستند دینی معلومات کو عام کرنے کی طرف توجہ دی جائے تاکہ وہ طبقہ بھی اس سے براہ راست مستفید ہوسکے جو کسی وجہ سے اب تک  روایتی دعوت وتبلیغ کا برہ راست حصہ نہ بن سکا ہو ۔ عصر حاضر میں اپنی دعوتی حکمت عملی کو بدلنے اور بدل کر اسے مؤثر بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

موجودہ ماحول میں مؤثر اسلوب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ احباب اپنے اپنے مقام پر محنت کریں ، فکر مند علماء کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دیں ،دعوت وتبلیغ کا یہ مبارک کام اس کمیٹیی کی نگرانی میں ہو ،اپنے اپنے مقا م پر رہتے ہوئے گھروں میں یا کسی مخصوص جگہ پر چھوٹی  چھوٹی مجلسیں قائم کی جائیں  ،جن میں نئے تشکیل شدہ ساتھیوں کو دین کے احکام وامور سکھلائے جائیں۔ اسی طرح مقامی احباب کو ساتھ لے کر دینی تعلیمی حلقوں کو مضبوط کیا جائے ،یہ حلقے، مردحضرات کے ذریعے مردوں کےدرمیان لگائے جائیں ،جب کہ مستورات کے  بھی حلقے لگیں ،مگر ان کے حلقے الگ ہوں  اور ایسی کسی بھی طرح کی کوشش یا ایسا کوئی وعظ بیان قطعا نہ ہو جس سے ملک بیزاری اور یا امن ومحبت کو بھنگ کرنے میں شرپسندوں کو کوئی موقع ہاتھ لگ جائے ۔برادران وطن کے بیچ بھی دعوت کا کام مضبوطی ، حکمت عملی ،رجوع الی اللہ اور کامل یقین سمیت علمی مواد کی روشنی میں کیا جائےجس سے باتوں میں وزن بھی پیدا ہو اور عقلا بھی وہ قابل قبول ہو ۔


عدالت صحابہؓ

 مولانا ابو حسن ندوی


جب دنیا کل طور پر فسادوبگاڑ کا شکار ہو گئی۔انسانوں کے اندر سے انسانیت ناپید ہو گئی ۔تعلیمات نبوی اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہیں بلکہ ان میں تحریف کر دی گئیں ۔مسجود حقیقی کو چھوڑ بندوں نے اصنام پرستی سے ارض خدا کو بھر دیا۔ ظلمت وجہالت سے دنیا آباد تھی ۔اللہ واحد کی عبادت کا تصور ختم ہو چکا تھا ۔دنیا تثلیث کی قائل ہو چکی تھی ۔حضرت عیسی کے آسمان پر اٹھائے جانے کا وقفہ طویل تر ہو گیا تھا ۔ایسی صورت میں دنیا کو ایک ہادی کی اشد ضرورت تھی ،جو بندوں کا رشتہ معبود بر حق سے جوڑ کر ظلمت و جہالت کے پردے کوچاک کرکے نور کی کرنوں سے گلستان عالم کو منور ومجلی کر کے انسانوں کو ظلم و جور کے عمیق غار سے نکال کرعدل وانصاف کے راستے پر کھڑا کردے ۔

اللہ تعالی نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کے طور پر دنیا والوں کو دیا ۔ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہے ۔آپ آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔آپ کی آمد ہی انسانوں کی کامیابی وکام رانی کا ذریعہ بنی دنیا سے فسادوبگاڑ کا خاتمہ ہوا۔ انسانوں کا تعلق اللہ واحد سے وابستہ ہوا ۔آپ نے لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدی راحت بخش زندگی کا یقین پیدا کیا ۔لوگ آپ کی بات تسلیم کرتے گئے اور اسلام میں داخل ہوتے گئے ۔آپ نے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا ۔زندگی بسر کرنے کے سارے طریقے سکھائے۔ آپ کی صداقت وامانت کے چرچے عام تھے۔ آپ نے لوگوں کو دیانت داری ،امانت داری،اخلاق بلندی ،معاملات کی درستگی ،آپسی لین دین میں انصاف کی پیروی،صدق وصفا،بلاتفریق رنگ ونسل سب کے ساتھ باہمی تعاون و ہمدردی ،اولوالعزمی،اپنےاور پرائے کے ساتھ ہر جگہ حق گوئی و بےباکی،تقوی وطہارت،خلوص وللٰھیت،امن پسندی ،کا سبق پڑھایا۔لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ سے اٹوٹ محبت کرنے لگے۔آل واولاد ،بیوی بچوں کی محبت آپ کی محبت کے سامنے ہیچ ہوگئے۔آپ کے ایک اشارہ پر اپنی جان ومال آپ کی قدموں میں رکھنا ان کے لیے آسان ہوگیا ۔

ان لوگاں نے بحالت ایمان آپ کو دیکھا اور ان کا خاتمہ بھی ایمان پر ہواصحابی کہلائے ۔آپ نے ان برگزیدہ ہستیوں کی تربیت نبوی انداز سے کی۔بڑےاور چھوٹے امور سکھائے۔ حقوق اللہ ،اور حقوق العباد سکھائے۔حتٰی کہ پیشاب و پاخانہ کے طریقے بتائے ۔

اللہ تعالی نے صحابہ کے دل کی کھیتی کو تقوی کے لیے زرخیز بنا دیاتھا ۔ان کی ایمانی کھیتی قابل کاشت اور لہلہا اٹھی۔

یہی وہ جماعت تھی جسے آپ کی شاگردی کا شرف ملا۔ اس جماعت کا انتخاب خود اللہ تعالی نے فرمایا اور آپ کے حوالے کیا۔یہ پاکیزہ نفوس زیادہ اوقات آپ کے ساتھ گزارتے۔آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کو قابل عمل سمجھتے اور اسے اپنے دل ودماغ میں محفوظ کرلیتے ۔قرآنی احکام،شان نزول،مکان نزول قرآن، نزول وحی،سب کو محفوظ کرتےاور بغیر کمی بیشی من وعن دوسروں تک پہنچاتے۔فرمان مصطفی،عمل نبوی، تقریر رسول کی حفاظت اور اس کے نشرو اشاعت ہی کے لیے اللہ نے اس جماعت کو چنا تھا۔ اس جماعت نے اپنی ذمہ داری پورے طور پر ادا کی، یہی وہ جماعت ہے جو اسلامی وراثت اورنبوی تعلیمات کی ضامن ، آسمانی احکام اور وحی الٰہی کی امین ہے ۔اس نے گھر بار ،مال و دولت لٹا کر اس وراثت کی مکمل حفاظت کی ۔اپنے اور اپنے آل واولاد ،بیوی بچوں کو فاقے میں رکھ کر اس دین کی مکمل حمایت کی ۔

اس جماعت پر ہی دین کا مدار اور بنیاد ہے ۔یہی اس دین کے خشت اول ہیں جسے پورے 3اعتماد کے ساتھ رسول اللہ صلعم نے رکھا تھا ۔ان پر آپکا پورا بھروسہ تھا۔جلوت،و خلوت میں ،خوشی وغم میں ،رنج والم،ان کا پورا تعاون رہا۔یہ آپ کے راز دار اور مشیر بھی بنے ۔بسا اوقات وحی الٰہی بھی ان کے مشورے کے مطابق نازل ہوئے ۔ان کی پوری زندگی فرمان نبوی کے حصول ،وحی الٰہی کی کتابت میں گزی ۔بھوکے ،پیاسے قرآنی آیات،فرمان نبوی کی کتابت کرتے اس طرح وراثت اثاثہ اسلام کی بقا ٕوتحفظ کی ذمہ داری نبھانے میں یہ حضرات عدیم المثال بنے۔صحابہ کرام کی عدالت، صداقت، ثقاہت، امانت، دیانت، ایفا ٕ عہد،انابت الی اللہ،ایثار وہمدردی،جاں نثاری و سرفروشی اپنی مثال آپ تھی ۔اس جیسی جماعت تیار کرنا بنی کے ہی بس کی بات تھی جس کی نظر کرم نے گلہ بان،کو دین کا امین بنا دیا ۔وراثت دین کی حفاظت کی وجہ سے زمام عالم کے مالک بن گئے۔

 دین کے جو بھی احکام ،وقوانین،اصول وفروع آج ہمیں میسر ہیں وہ اسی مقدس نفوس کی دین ہے ۔ صحابہ معیار حق ہیں ۔ صحابہ دین متین کےمضبوط قلعےاورمحور ہیں ۔صحابہ تفقہ فی الدین میں دسترس رکھنے والے حضور کے بعد سب سے بڑے معلم تھے ۔صحابہ نصوص کو زیادہ سمجھنے والے تھے۔انہیں کے ذریعہ ہمیں شریعت ملی ۔انہیں کے ذریعہ ہم نے دین کو سمجھا ۔یہ ہمارے لیے چراغ ہدایت ہیں۔ان سے اللہ و رسول دنیا ہی میں راضی ہو گئے ۔ان کے بارے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔زبان کو کبٹرول رکھنا چاہیے ۔ان کے متعلق کسی طرح کی بدزبانی،بدکلامی،بد ظنی،غلط بیانی، ہمیں دین سے خارج کر سکتی ہے ۔صحابہ سب کے سب عادل تھے ان کے متعلق ادنی سی بے ادبی ، بہتان تراشی وافترا پردازی ،علوم نبوی ،اور وراث دین متین ،پر بلا واسطہ حملہ ہے ۔صحابہ پر حملہ نبی پر حملہ ہے جوآخرت کی بربادی کے لیے کافی ہے ۔ 

صحابہ کے متعلق فرمایا گیا:’’الصحابۃ کلھم عدول‘‘کہیں کہا:  بأیھم اقتدیتم اھتدیتم، اللہ اللہ فی أصحابی لاتتخذوھم من بعدی غرضاً فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم الخ۔

یہ سب صحابہ کی شان ،ان کی عدالت وثقاہت کی بین ثبوت ہے ۔صحابہ کی طعن وتشنیع حرام اور جرم عظیم ہے ۔ صحابہ دین کے صدفی صد حامل وعامل ان پر تنقیدوتنقیص ڈائرکٹ دین پر تنقید وتنقیص ہے ۔اپنی دنیا وآخرت کو سنوارنے کے لیے صحابہ کی عدالت و ثقاہت پر مکل بھروسا کر نے کی ضرورت ہے ۔دین کے اصول و فروع کو زندگی میں لانے کے لیے صحابہ کے ذریعہ ملی تعلیمات نبوی پر اعتماد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ ہمیں صحابہ کے نقش قدم پر چلنے ،ان سے سچی محبت کرنے، ان کی شان کو برقرار رکھنے،اپنی زبان پرکنٹرول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہجرت مدینہ منصوبہ بندی کی بہترین مثال

  مولانا انتخاب پاشا ندوی

ہمارے رب نے دین اسلام کا پیغام قرآن کریم کے ذریعے محض نظریاتی طور پر عطا نہیں فرمایا بلکہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ، ان تمام مشکلات کا حل سنت رسول میں شامل کردیا جو قیامت تک اہل ایمان کو درپیش ہو سکتی ہیں ، ہجرت مدینہ اسی سنت رسول کا ایک فکر انگیز باب ہے، سفر ہجرت کے دوران کئی واقعات پیش آئے،یہ واقعات جہاں ولولہ انگیز ہیں وہیں اسلامی سوچ و فکر اور دینی مزاج کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں    ہمارا قادر مطلق رب اگر چاہتا تو اپنے سب سے پیارے بندہ حضرت محمد ﷺکو بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے شب معراج کی طرح مدینہ منورہ لے جاتا ۔ لیکن اللہ نے ایسا نہ کیا ، اس دانا و حکیم کا ہر کام حکمت سے معمور ہوتا ہے ، جس کا ہم ادراک نہیں کر سکتے، وہ علیم و خبیر اس موقع پر قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر اپنے دین کا خاص مزاج اسوہء حسنہ کی صورت میں واضح کرنا چاہتا تھا ۔ 

سفر ہجرت میں قدم قدم پر یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ آپ نے دستیاب انسانی وسائل کا بھرپور استعمال کیا ،  بہترینی تدابیر کا مظاہرہ کیا ، اور جب انسانی وسائل بے بس نظر آنے لگے تو اس وقت اللہ پر توکل کی شاندار مثال قائم کی ۔     آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کا واقعہ اگرچہ گزر چکا ہے لیکن اس کے احکام زندہ ہیں ، جب جب مسلمان مکہ جیسے حالات سے دوچار ہوں گے ، تب تب ہجرت کے احکام ان پر لاگو ہوں گے ، وجہ یہ ہے کہ ہجرت کا مفہوم ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جانے تک کا نہیں ، بلکہ یہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی کا نام ہے ۔ ہجرت ہی کی بدولت اسلامی دعوت کمزوری سے طاقت کے عالم میں منتقل ہوئی ۔ قبل ہجرت یثرب کے لوگ تفرقہ و انتشار کا شکار تھے ، ہجرت کی بدولت اتحاد و اتفاق کا نمونہ بن گئے۔ ہجرت سے قبل مہاجرین اور انصار داخلی مسائل اور مشکلات کا شکار تھے جسکی وجہ سے وسیع پیمانے پر تبلیغ کا کام مشکل تھا جبکہ ہجرت کے بعد عظیم تحریک اور وسیع کارواں میں بدل گئے ۔

ہجرت نبوی پر غور کرنے سے کئی نکات سامنے آتے ہیں:

۱_ -اہل باطل کے غلبہ کی صورت میں مداہنت و سودے بازی کے بجائے اس سے نجات و دوری کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنا ۔

۲- اللہ تعالی پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ مشروع و مباح مادی اسباب کا اختیار کرنا۔

۳- اپنے دفاع و نجات کے لیے تدابیر اختیار کرنا ۔      

اسی طرح حضور نے مدینہ میں پہلی بار اسلامی حکومت کا سنگ بنیاد رکھا ، ہجرت سے قبل سرزمین عرب میں اسلامی حکومت اور نظام سیاست کا وجود نہیں تھا ، اسی وجہ سے خاندانی اور قبائلی جنگیں سال بھر پورے عرب میں ہوا کرتی تھیں،  مگر آپ کی تشریف آوری کے بعد تمام قبائلی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا ۔

ہجرت کے سبب سے جو مقاصد حاصل ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

۱- مشرکین مکہ کے شر سے حضور کی حفاظت ۔

۲- اسلام ہجرت کے بعد رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

۳- اسلام نے ہجرت کے بعد سیاسی اور سماجی زاویہ سے اپنے آپ کو مستحکم کیا ۔

۴- مسلمانوں نے ہجرت کے بعد دینی احکام اور اسلامی تعلیمات کا کھلم کھلا اظہار کیا ۔

۵- ہجرت کے بعد اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی۔

۶- ہجرت کے بعد مدینہ میں کھل کر مبلغین اسلام کی تربیت کی گئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا ۔

ہجرت کی ان خصوصیات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے جس طرح انصار نے مہاجرین کے ساتھ کیا ، اور دعوت و تبلیغ اسلام کا فریضہ اسی جوش و جذبہ اور حکمت عملی کے ساتھ انجام دینا چاہیے جیسا کہ مہاجرین اور انصار نے انجام دیا اور زندگی اسوہ نبوی کو سامنے رکھ کر اسی طرح گذارنا چاہیے جس طرح کہ صحابہ نے گزاری ۔ کیوں کہ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لیے نمازی 


ماہِ ربیع الاول کا پیغام

ماہِ ربیع الاول کا پیغام


محمد نظام الدین ندوی


 اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ گیر مذہب ہی نہیں بلکہ ایک بہترین نظام زندگی اور نظریہ حیات بھی ہے جس کا اعتراف صرف اسلام کے ماننے والوں نے ہی نہیں بلکہ دنیا کے غیر مسلم دانشوروں اور مفکروںو مؤرخوں نے بھی کیا ہے۔ اسلام خدا کی وحدانیت کا درس دیتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف ایک خدا ہے اور وہی عبادت و پرستش کے لائق ہے اس کا کوئی اور شریک نہیں۔خدا نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے، انہیں ضلالت وگمراہی اور بے راہ روی سے روکنے، نجات اور ہدایت کی راہ دکھا نے کے لیے دنیا میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور نبی بھیجے اور سب سے آخر میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے کے لیے حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر دنیا میں بھیجا۔ حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو احکام دیے اور جس پر عمل پیرا ہونے کو ذریعۂ نجات بتایا وہ آج بھی ہمارے پاس قرآن مجید کی شکل میں محفوظ ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گا اور اسوۂ رسول ﷺ بھی حدیث کی شکل میں محفوظ ہے۔

یہ امت مسلمہ ہی کا امتیاز ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی آئیڈیل شخصیت موجود ہے جس کی زندگی کا ہر ورق روشن اور عیاں ہے، وہ شخصیت ہر زمانہ اور ہر طبقہ کے لیے قابل اسوہ ہے، ورنہ دنیا کے تمام مذاہب ایک آئیڈیل پرسن سے محروم ہیں، اگر ان مذاہب میں کوئی اعلیٰ شخصیت گذری بھی ہے تو شومی قسمت کہ انہوں نے اس کو اپنا اوتار یعنی خدا کا نائب سمجھ لیا۔ لیکن حضور اکرمﷺ کی شخصیت ایسی ہے جس میں شاہ و گدا سب کے لیے اسوہ ہے، دنیا کے ماہرین و منصفین اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جیسی شخصیت تاریخ میں نہیں ملتی۔

افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسی مہتم بالشان ہستی کی ہم سے کما حقہ قدر نہ ہوسکی، اس کی آخری وحی کو ہم اپنی زندگیوں میں نافذ نہ کرسکے، جس میں جینے کا مزہ مخفی تھا، ترقی کی منازل پوشیدہ تھیں۔

ماہِ ربیع الاول ہر سال ہمیں یہ پیغام دےکر جاتا ہے کہ ہمیں اپنے نبیﷺ سے محبت کا جائزہ لینا چاہیے، ان کی سنتوں سے ہمارا کس درجہ تعلق ہے، اس کا احتساب ہونا چاہیے، آپ کی تعلیمات اور آپ کی ذاتی زندگی سے ہماری کتنی حد تک واقفیت ہے، اس کا ہمیں علم ہونا چاہیے، آپ کی زندگی کا بنیادی مقصد اور مشن کیا تھا، یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ دراصل یہ ماہ انہیں سب مقاصد کی تجدید کا پیغام ہے۔


Tuesday, September 29, 2020

 *اعلان*


انگریزی زبان کا مشہور محاورہ ہے؛ *The pen is mightier than the sword* یعنی قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، اکبر الہ آبادی کا مشہور شعر ہے؛

  کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

  جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو


واقعہ یہ ہے کہ اس عالم کون و فساد کا نظام قلم ہی کی وساطت سے برقرار ہے، شرافت کی حس اور انسانیت کی رمق اسی سے باقی ہے، اخلاق و کردار اور تہذیب و تمدن کا رشتہ بھی اسی سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کے قلم کار اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، تاریخ کی زندگی انہیں کی بدولت ہے، معاشرہ کا توازن انہیں سے استوار ہے، قوموں کی تقدیریں انہیں کے سپرد ہیں، معاشرہ کی اصلاح و تربیت کا جوا بھی انہیں کے سر ہے۔ ایک بیدار مغز، حساس اور امانت دار قلم کار اپنے زور قلم سے اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ بلاشبہ قلم ایک مخلص صحافی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ صحافی کی قلم رو میں ایک کائنات ہے۔


*صحافت* در اصل اطلاع رسانی کے ساتھ معاشرتی بیداری کا ایک مؤثر وسیلہ اورانسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن ہے، صحافت معاشرہ کے ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے، جو رائے عامہ کی ترجمان اور اس کی عکاس ہوتی ہے۔


موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے باشعور صحافیوں کا فقدان ہے جن کی آواز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب تک یکساں طور پر مؤثر ہو، جن کی ایک تحریر سے باطل لرزہ براندام ہوجائے اور وہ سماج کی حقیقی بیماری سے باخبر کریں، لہٰذا اس وقت شدید ضرورت ہے کہ قوم و ملت کے اصحاب علم اور اہل قلم ہمت کریں، جدید چیلنجز کا بغور جائزہ لیں اور پوری دیانت داری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑیں۔


یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ کو برقی صحافت میں انقلاب کی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعہ ہر کام انتہائی آسان اور غیر معمولی تیز ہوگیا ہے، اس سے پہلے شاید اس کا تصور مشکل تھا، مگر اب حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جدید وسائل اختیار کرتے ہوئے اپنے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کریں اور اس سلسلہ میں جو لوگ بھی اپنی مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا تعاون کریں۔


سہ ماہی *تعمیر افکار* آن لائن اردو میگزین بھی انہیں عزائم کی ایک منھ بولتی تصویر ہے، جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، (فللّٰہ الحمد ولہ الشکر) یہ رسالہ نو عمر اور تعمیری و مثبت جذبات سے بھرپور اہل قلم کا قدرداں ہے اور امید کرتا ہے کہ انشاء اللہ ہمارے وہ نوجوان حضرات بھی اس کے علمی معاون بنیں گے جن کی صلاحیتیں اب تک لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔


ان شاء اللہ ہمارا آئندہ شمارہ (ستمبر - نومبر ۲۰۲۰ء) کی اشاعت پر مشتمل ہوگا، جس کے لیے مضمون ارسال کرنے کی آخری تاریخ ۱۸/اکتوبر ۲۰۲۰ء طے کی گئی ہے، امید ہے کہ اہل ذوق حضرات قبل از وقت ہی اپنا قیمتی مضمون بذریعہ میل یا واٹسیپ بھیجنے کی زحمت گوارہ کریں گے، ذیل میں چند عناوین بھی چسپاں کردیے گئے ہیں، جن کی روشنی میں تحریر کردہ مضمون کو اشاعت کے وقت ترجیح دی جائے گی؛


*اسوۂ حسنہ کی جامعیت*

*نبیﷺکا عہد شباب*

*نبیﷺکی سیاسی بصیرت*

*نبیﷺکا انداز تربیت*

*عظمت صحابہ*

*عدالت صحابہ*

*مشاجرات صحابہ*

*فتنوں کا دور اور اسلامی تعلیمات*

*ملک کی زبوں حالی کے مادی و سیاسی اسباب*

*دعوت وتبلیغ کے مؤثر اسالیب*



                والسلام

        *محمد نظام الدین ندوی*

        مدیر تعمیر افکار (بہار)

       9027780226

alhudaurdulibrary@yahoo.com

Thursday, September 10, 2020

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری رحمہ اللہ :ایک خورد نواز بزرگ

                                                              حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری رحمہ اللہ :ایک خورد نواز بزرگ

              عین الحق امینی قاسمی

  معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر ،کھاتوپور،بیگوسرائے

           موت ایک سچی حقیقت ہے،وہ نہ تو کمزور وتوانا کو دیکھتی ہے اور نا ہی صاحب علم وفضل کو،اْس کے سامنے ہر کوئی بے بس وبے کس،وہاں تو صرف ’’ ہوئے نامور بے نام نشان کیسے کیسے‘‘اور زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے،کی کہانی ہے، وہ کہاں دیکھتی کہ ملت کے لئے کون کتنی اہمیت کا حامل ہے ،کس کے اْٹھ جانے سے ملت اسلامیہ یتیم ہوجائے گی،موت کو اس کا کوئی غم نہیں کہ جانے والا اپنے پیچھے کتنا بڑا خلا چھوڑ کر جارہا ہے جس کی بھر پائی بظاہر دور تک مشکل نظر آرہی ہے ،اْسے اس سے کیا مطلب کہ مولانا محمد قاسم صاحب مظفرپوری کون ہیں ؟اْن کی ایک شخصیت میں کتنوں کا عکس پنہاں ہے ،وہ کیوں کر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ ادلہ حنفیہ کی تکمیلات کے مصنف ہیں یا امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی اور قاضی القضاۃمولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمی کیپرتَو ہیں ،آخر وہ یہ جان کر کرے گی بھی کیا کہ مولاناسرتا پا منکسر المزاج اور تواضع انکساری میں تنہا تھے ،زبردست داعی، فقیہ اور کار قضا کے لئے طویل تر تجربہ کے مالک تھے اور ان سب کے علاوہ ،وہ ایک خورد نواز بزرگ تھے،وہ اب اْس موت کے آغوش میں جا چکے ہیں ، جسے منٹ اور سکنڈ بھر کے لئے بھی تقدیم وتاخیر کی گنجائش نہیں۔ مولانا اب مرحوم ہوگئے، ہمارے درمیان نہیں رہے ،مگر زندگی بھر جلسوں میں ،سیمیناروں میں یا خلوت سے جلوت میں اور قلم سے کتابوں میں جو کچھ وہ لکھ گئے یاکہہ گئے  اس حوالے سے یقیناً  : 

                  تمہیں کہتا ہے مردہ کون ،تم زندوں کے زندہ ہو                  تمہاری خوبیاں زندہ تمہاری نیکیاں باقی

      اِس عاجز کی اْن سے پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب وہ بیگوسراے کے ایس کمال بلاک کے موضع صاحب پور کمال مدرسہ سعیدیہ میں 17/ذی قعد1428ھ کو منعقد ایک جلسے میں تشریف لائے تھے ،اِس سے قبل اْن کے بارے میں صرف سنا تھا ،اْس جلسے میں بحیثیت سامع میری شرکت صرف مولانا کی وجہ سے ہوئی تھی ،جلسہ دیر گئے رات تک جاری رہا ،بعد فجر اس عاجز نے ملاقات کی سلام ودعا کے بعد بڑے بھائی سابق قاضی شریعت مظفر پور مولانا محمد زین العابدین قاسمی زید مجدہ کے حوالے سے اپنا تعارف کرایا ،حضرت بہت مسرور ہوئے اور فرمایا کہ : " مولانا بہت نیک ہیں ،سادے آدمی ہیں ، خاموشی سے قضاء کے کاموں کو دیکھ رہے ہیں ، مظفر پور کے مسلمانوں کا رجحان جامع العلوم کی طرف اچھا خاصا ہے ،اس نسبت سے وہاں کا دارالقضاء￿  بھی ملک کے مصروف ترین دارالقضاؤں میں سے ہے ،پھر خود ہی عاجز سے پوچھنے لگے کہ آپ کیا کرتے ہیں  "بس جلدی سے سوال کا مختصر سا جواب دے کر اپنا مدعا رکھ دیا کہ حضرت آپ کی واپسی چوں کہ کھاتوپور بیگوسرائے کے راستے ہی ہے ،اس لئے خواہش تھی کہ تھوڑی دیر کے لئے ادارے میں آپ کی حاضری ہوجاتی تو ہم لوگوں کو خوشی ہوتی ،مزاحاً فرمایا کہ ایسے کیا آپ ناراض ہوجائیں گے ؟یہ کہہ کر خود بھی مسکرائے اور مجلس میں شریک دیگر حضرات بھی حضرت والا کے اس جملے سے بہت محضوض ہوئے اس طرح سے پوری مجلس  بیک وقت میری طرف متوجہ ہوگئی۔ معا ًحضرت نے یہ بھی دریافت فرمایا کہ آپ کتنے لوگ ہیں عرض کیا کہ حضرت تنہا ہوں ،ارشاد فرمایا کہ تو بس میرے ساتھ ہی چلیں۔حضرت کے اس خورد نوازی سے بے پناہ مسرت ہورہی تھی ،یہ اس لئے بھی کہ جناب قاری نسیم احمد صاحب رحمہ اللہ  مظفرپوری جو کہ قیام معہد کے وقت افتتا حی اجلاس منعقدہ  9/3/2007,بروزجمعہ مونگیری گنج بیگوسرائے تشریف لائے تھے ،اس کے بعد سے کوئی قابل قدر بزرگ ہستی کی  بابرکت آمد معہدمیں نہ ہو سکی تھی۔ انتظامیہ کی طرف سیمختصر ضیافت کے بعد حضرت  قاضی صاحب مرحوم اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاڑی پر خود بھی  بیٹھ گئے  اور اس عاجز کو بھی ساتھ لے کر معہد عائشہ الصدیقہ  کھاتوپور تشریف لے آئے،معہد  عائشہ الصدیقہ کی  تعمیری حالت اس وقت پھونس کے   ایک کٹیا سے زیادہ کی نہ تھی،اسی میں تخت وغیرہ لگا کر ایک مختصر نشست قاضی صاحب  کے استقبال  میں ہوئی ،مگر قاضی صاحب میں نہ اکتاہٹ تھی اور نہ ہی جلدی،وہ دیر تلک ماضی میں خواتین  اسلام کی مثالی خدمات اور قربانیوں پہ روشنی ڈالتے رہے اور  معہد عائشہ کی مرکزیت اور اس کے بافیض ہونے کی نسبت سے دعا ئیہ کلمات بھی فرماتے رہے،مجمع مختصر ،مگرسراپا سمع وطاعت بن کر قاضی صاحب کو سنتا رہا ،اس درمیان حضرت نے ازخود معائنہ رجسٹر طلب فرماکر  معہد کی تاریخ میں سب سے پہلا اپنا معائنہ تفصیل سے درج فرمایا۔(فرحمہ اللہ رحم? واسعہ)

یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ اسی طرح حضرت قاضی صاحب کا پروگرام  یبگوسرائے سے مشرق ، کسی ضلع میں پروگرام تھا ،وہاں سے فرصت پاکر پیشگی اطلاع کے بغیر اچانک دس بجے دن میں معہد تشریف لے آئے اور اندر آکر سیدھے درسگاہ میں بیٹھ گئے ،قاضی صاحب کو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی ،اتفاق سے وہ دن جمعرات کا تھا ،ہمارے یہاں معمول کے مطابق اس روز دینیات کا حلقہ لگاہوا تھا ،بچیاں اپنے اپنے حلقے میں رہ کر حضرت رحمہ اللہ کے سوالات کے جو ابات دیتی رہیں اورآپ انہیں  سمجھاتے بھی رہے۔  اسی درمیان یہ نصیحت بھی فرمائی     کہ بچیوں کو باجمات نماز پڑھوایا کریں ،اس سے ان کے لئے نماز کی رکعتوں کی تعدادبھی اور اس میں پڑھی جانے والی سورتیں اورادعیہ وسنن کا سیکھنا بھی آسان ہوگا ۔ادھرکچھ نہ کچھ ماحضر  سے ضیافت کے لئے جب حضرت  کی مجلس سے یہ عاجز اٹھنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ بھائی میں آج سیکھنے کے  ارادے سے یہاں حاضر ہوا ہوں ،کچھ نہ کریں ،آپ کا نظام تعلیم  کیاہے؟دارالاقامہ میں رکھ کر چھوٹی بچیوں کے  لئے   کیا سب سہولیات فراہم کرتے ہیں  اور یہ چھوٹی چھوٹی بچیاں جن میں سے اکثر کی عمر کھیلنے کی ہے  کیا یہ سب  یہاں  مانوس ہوجارہی ہیں ،آپ کا طریقہ تعلیم کیا ہے ،کیا کوئی نصاب پڑھاتے ہیں یا اپنا ہی کچھ تیار کردہ   مضامین حالات اور تقاضے کے اعتبار سے پڑھادیتے ہیں اور ان بچیوں کا تعلیمی مستقبل کیا ؟ہے۔ 

       آپ یقین مانئے وہ سیکھنے کیا آئے یا آتے وہ درحقیقت بڑے بھائی جان مولانا قاضی محمد زین العابدین قاسمی سابق قاضی شریعت مظفر پور کی نسبت ومحبت میں میری تربیت و خورد نوازی کے لئے تشریف لائے تھے ۔ظاہر ہے جنہوں نے ہزاروں علماء و فضلاء کی، اپنے بے پناہ علم وتجربے سے تعلیم وتربیت فرمائی ہو وہ اس چھپر کے نیچے کٹیا میں ایک ناتجربے کار ،محض جوش وجذبے کا پلندہ اور علم وعمل سے عاری شخص سے کیا سیکھنے آتے ،مگر ہاں یہ ان کی سراپا خورد نوازی تھی ،شفقت تھی ، چھوٹوں کو نوازنے کی ادا اوربے پایاں دینے کی طلب وتڑپ تھی ،وہ اپنا کچھ وقت نکال کر ایک بے مایا کو ڈھارس بندھانے آئے تھے،وہ  ’’بلغوا عنی ولو آیۃ  ‘‘ کے حقیقی مصداق تھے ، وہ اپنی انفرادی مجلسوں میں کہا کرتے تھے کہ مولانا ہم اپنی ذمہ داری پوری پوری نہیں نبھا رہے ہیں ،ہمیں جو کچھ اور جیسا کچھ آتا ہے ہم دوسروں تک پہونچا نہیں رہے ہیں ,ہم پانچ وقت کی اذان پڑھتے ہیں ،مگر اس کے مطالب ومقاصد سے اوروں کو یابرادران وطن کو واقف نہیں کر اپاتے ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں کو قریب رکھ کر اورخود ان سے قریب ہوکر انہیں خوشی ملتی تھی ،وہ خاص طور پر مکاتب کے نظام تعلیم سے بہت خوش ہوتے تھے ،اور اس کی ضرورت پر متوجہ کرتے رہتے تھے اس کی اہمیت پر جب گفتگو فرماتے تو بعض دفعہ چہرے کا رنگ

 اور گفتگو کا لہجہ بدل جاتا تھا ،مکاتب جہاں بچو ں کوعقائد ،ایمانیات ،اخلاقیات ، معاشرت اور قرآن کی تعلیم دی جاتی تھی، وہاں کے چھوٹے چھوٹے بچوں سے مل کر ان کے بازو میں قوت آجاتی تھی،اسی لئے وہ مکاتب میں پڑھانے والوں سے بھی چل کر ملتے تھے،ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اوربنیادی دینی تعلیم دینے والوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ،جن میں زیادہ تر نوجوان، کم تجربہ کار حفاظ اور نئے فضلاء کی جماعت رہا کرتی ہے ،حضرت اس نئی پود کی خون جگر سے تربیت فرماتے اور اس خدمت کو بسا غنیمت قرار دیتے ہوئے فرماتے کہ اسی راستے پر قائم رہیے گا ،اس کو چھوڑئیے گا مت ،اسی سے اللہ آپ کے لئے مزید علم ومعاش کے راستے کھولے گا ،آپ کی بات گویا دل میں اترتی جاتی تھی ،یہاں تک کہ سامنے والا عزم بالجزم کے ساتھ اپنی قوت ارادی کو مضبوط تر کرلیتا۔یہ کم ازکم ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ضرور ہے کہ مذکورہ  بالاسوالات کے ضمن میں ان کی غیر معمولی حوصلہ افزائی اور ظاہری و باطنی توجہات وتربیت  نے ہم جیسوں کو دینی خدمات کی راہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہے۔

                                                                         

                                                                                                                                                             نائب صدر جمعیۃ علماء ہند بیگوسرائے

                                                                                                                                                                       8851978378


Monday, August 3, 2020

مطالعہ کے چند بنیادی اصول :- محمد طارق بدایونی ندوی

مطالعہ کے چند بنیادی اصول

  محمد طارق بدایونی ندوی 

ضروری نہیں کہ پھل پھول، جعلی قصے کہانیاں، حکومتی پالیسیاں یا عشق ومعاشقی میں گزر اوقات کی جائے، واقعہ یہ ہے کہ گزر اوقات کے لیے سب سے موزوں اور قابل رشک طریقہ مطالعہ ہے، درج ذیل سطور میں راقم نے اپنے مطالعاتی تجربہ کی روشنی میں مطالعہ سے متعلق چند نکات سپرد تحریر کیے ہیں، ممکن ہے اہل علم میں کسی کو ان سے اختلاف ہو، اس لیے کہ یہ خالص طبعی ذوق کی بنیاد پر لکھے گئے چند پوائنٹس ہیں۔

قلم و قرطاس   

  د وران مطالعہ میں جو تعبیرات اور اہم چیزیں پسند آئیں وہ کاپی یا ایک ڈائری پر فوراً نوٹ کی جائیں۔

زبا ن

صرف آنکھوں سے کتاب پڑھنے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ زبان سے الفاظ بھی ادا کیے جائیں اور ہوسکے تو اپنے کانوں تک پڑھنے کی آواز بھی پہنچائی جائے

غرقابی 

پڑھتے وقت آپ کی پوری توجہ صرف کتاب پر ہو اور اپنے ذہن کو حتی الامکان منتشر ہونے سے بچایا جائے۔

یکسوئی 

مطالعہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت بھوک اور نیند آپ کے پاس تک نہ بھٹکے، قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی صحت کا جائزہ لیتا رہے۔ایک بات یہ بھی دھیان رہے کہ خالی پیٹ اور حالت نیند میں پڑھنا نیز گھریلو امور سے یکسوئی کے بغیر مطالعہ کرنا بالکل بے سود ہے۔

   اعاد ہ     

مطالعہ کے بعد کتاب بند کرکے اپنے ذہن کو یکسو کرے اور بطور خلاصہ جو پڑھا ہے اپنے ذہن میں اس کا اعادہ کرے۔

خلاصہ 

مطالعہ کے قیمتی مواد کو ذہن نشین کرنے کا ایک عمدہ طریقہ یہ بھی ہے کہ جو پڑھا جائے اس کا خلاصہ مطالعہ کی ڈائری پر لکھ لیا جائے۔

مذاکرہ  

خلاصہ نہ لکھنے کی صورت میں مطالعہ کے مواد کو ازبر کرنے کا ایک مؤثر ومفید طریقہ مذاکرہ بھی ہے، وہ اس طرح کہ ایسے دوستوں کے ساتھ جو آپ ہی کے مزاج ومذاق کے موافق ہوں، ہفتہ واری محفلیں سجائیں، جن میں ہر ایک اپنے اپنے مطالعہ کی روشنی میں اپنا سبق دہرائے۔

نگہ داشت 

مطالعہ کے لیے ایک تجربہ کار نگراں کا ہونا بہت ضروری ہے، جس کے اشراف میں مطالعہ کیا جاسکے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلا نگرانی مطالعہ کما حقہ کر پانا بڑا ہی مشکل ہے، بقول مولانا علی میاں ندوی: "مطالعہ دو دھاری تلوار ہے" جو بگاڑ بھی سکتا ہے اور سنوار بھی سکتا ہے۔

لحاظ 

مطالعہ سے قبل اپنے ذوق و طبیعت کا لحاظ بھی ضروری ہے، لہٰذا آپ کی طبیعت کو جس موضوع سے مناسبت ہو، اس کو ملحوظ رکھ کر اپنے مشرف مطالعہ کی ایما کے مطابق کتاب کا انتخاب کریں۔

جگہ 

کسی خاص جگہ کا انتخاب ضروری نہیں بلکہ جہاں آپ اپنے آپ کو یکسو جانیں وہاں کتاب نکل کر پڑھنے بیٹھ جائیں ظاہر ہے وہ جگہیں جق جق و شور و غوغے سے دور ہی ہوں گی جیسے پارک ، کھیت کھلیان ، خالی پڑا کھیل گراؤنڈ ، ندی وغیرہ کا کنارہ ، مسجد ، گھر کی منزل کا خالی پڑا کوئی کمرہ جہاں رہائش نہ ہو ، بعد نماز فجر و عصر کے بعد کسی عمارت کی چھت پر وغیرہ۔

انتخا ب 

مبتدی طلبہ کے لیے بہترین ٹائٹل اور عمدہ ورق والی کتاب کا انتخاب زیادہ موزوں ہوگا، تاکہ پوری دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا جاسکے. ابتدائی طالب علم میں ذوق وشوق کے اضافہ اور مطالعہ میں تقویت کے واسطہ یہ نکتہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

Tuesday, July 28, 2020

دل ناداں اگر سنبھل جائے

محمد صلاح الدین رضوی
مظفر پور ، بہار

دل کی حسرت اگر نکل جائے
وقت رخصت بھی دل مچل جائے

جب بکھر جائے زلف شانے پر
دھوپ چھا ئوں میں پھربدل جائے

سارا عالم خموش بیٹھا ہے
کچھ تو کہئے کہ دل بہل جائے

راہ تکتا ہوں اسکی میں لیکن
آتے آتے  نہ وہ   بدل     جائے

عزم کرتا ہوں ترک الفت کا
دل ناداں اگر سنبھل جائے

چاند تارے بھی توڑ لاؤںگا
 قلب ظالم کا جو پگھل جائے


شمع روشن ہو جب کبھی رضوی
کوئی   پروانہ   آئے    جل   جائے



Monday, July 27, 2020

نبیﷺکا طرز دعوت مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

نبیﷺکا طرز دعوت مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

دعوتی میدان میں داعی کی ذاتی زندگی کی بڑی اہمیت ہے، اور اس کے طرز تخاطب کو بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺکی ذاتی زندگی کے شب و روز بجائے خود پیغام دعوت تھے، اور آپﷺکا اندازِ گفتگو بھی فطری، مؤثر، دل نشیں اور قابل کشش تھا۔ آپﷺکے طرز دعوت میں بہت تنوع ہے، اس لیے کہ آپﷺ مخاطب کی ذہنی، فکری اور علمی استعداد خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔اگر مخاطب بدوی ہے تو اس کو اسی کے معیار اور اسی کی زبان میں سمجھاتے تھے، تاکہ اس کے سامنے مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔اگر مخاطب اہل کتاب ہیں تو ان سے آسمانی تعلیمات کی روشنی میں بات کرتے اور وہی اسلوب اختیار کرتے تھے جوان کو مانوس کرے۔اگر مخاطب بادشاہ ہے تو اس کے لیے وہی اسلوب اختیار کرتے تھے، جو قابل فہم اور زود اثر ہو، اور عزم و استقلال سے لبریز اور مرعوبیت کے شائبہ سے بھی پرے ہو۔آپﷺکا یہ عمل اس فرمان کی عملی تصویر تھا:’’أنزلوا الناس منازلہم‘‘(لوگوں سے ان کی قدر و منزلت کے مطابق پیش آؤ۔)(سنن أبی داؤد: ۴۸۴۴)
آپﷺکا طرزِ دعوت ٗحکمت، نصیحت اور مجادلۂ حسنہ سے تعبیر تھا، اور حکمت کا پہلو تمام مراحل دعوت میں قدرے مشترک تھا۔ آپﷺکارِ دعوت میں بتدریج افراد کی اسلامی ذہن سازی کے قائل تھے، اور یہی مقصود الٰہی بھی تھا، صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
’’إنما نزل أول ما نزل منہ سورۃ من المفصل فیہا ذکر الجنۃ والنار حتی إذا ثاب الناس إلی الاسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیٔ لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا  أبداـ‘‘(قرآن کریم میں سب سے پہلے مفصل کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ جب لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تو پھر حلال و حرام کا حکم نازل ہوا، اور اگر پہلے ہی مرحلہ میں یہ شراب کی ممانعت کا حکم نازل ہوجاتا تو یقینا لوگوں کا رد عمل یہ ہوتا کہ وہ کہتے: ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر ان کو حکم دیا جاتا کہ تم زنا مت کرو، تو وہ کہتے: ہم زنا نہیں چھوڑ سکتے۔)
(صحیح البخاری: ۴۹۹۳)
آپﷺکا دعوتی اسلوب نہایت نرم لہجہ تھا، اور اس ہدایت کا عملی نمونہ تھا:
’’علیک بالرفق والقول السدید ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا‘‘(نرمی اختیار کرو، محکم بات کہو، اور ترش لہجہ نہ اختیار کرو، اور نہ ہی گھمنڈ کرو اور نہ ہی کسی سے حسد کرو۔)
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱/۳۱۵)
آپﷺجب لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے تو مختصر مگر جامع خطبے دیتے اور وہ بھی موقع محل کی پوری رعایت کے ساتھ، آپﷺ صحابہ کرام کو بھی مختصر وعظ و نصیحت کی تلقین فرماتے تھے، سنن ابو داؤد میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’أمرنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم باقصار الخطب‘‘(ہمیں رسول اللہﷺنے مختصر تقاریر کی ہدایت فرمائی۔)(سنن أبی داؤد: ۱۱۰۸)
آپﷺکے وعظ و نصیحت کا انداز نہایت ناصحانہ، مشفقانہ اور مربیانہ تھا، اسی لیے آپﷺ کا خطاب ایسا عمومی ہوتا تھا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے، اسی لیے اکثر روایات کے شروع میں ہمیں ایسے جملے ملتے ہیں:
’’ما بال أقوام‘‘(لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔)
(سنن أبی داؤد: ۴۷۹۰، سنن الترمذی: ۲۲۷۰)
آپﷺکی طبیعت نرم خو اور مانوس کن تھی، اور آپ کا یہ طبعی وصف میدان دعوت میں نمایاں تھا، خود آپ کا فرمان عالی ہے:’’إن اﷲ لم یبعثنی معنتا ولکن بعثنی معلما میسرا‘‘(اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا ہے،بلکہ مجھے سکھانے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بناکر مبعوث کیا ہے۔)(صحیح مسلم: ۳۷۶۳)
آپﷺممکنہ حد تک سہولت پسندی کے قائل تھے، تاکہ مدعو اکتاہٹ سے محفوظ رہے،اور اس کی جذبۂ طلب میں اضافہ کے ساتھ انس بھی برقرار رہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یتخولنا بالموعظۃ فی الأیام مخافۃ السآمۃ علینا‘‘(نبی اکرمﷺہم کو دنوں کے ناغہ کے ساتھ وعظ فرماتے تھے، ہماری اکتاہٹ کے اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔)(صحیح مسلم: ۷۳۰۵)
نبیﷺکا دعوتی مشن ۲۳ ؍سال پرمحیط ہے، لیکن اس میں بھی مختلف مراحل ہیں، آپﷺکی دعوتی زندگی کا پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں چھپ کر آپ کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں، پھر جب متبعین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مکہ میں علی الاعلان دعوتی سرگرمیاں جاری ہوگئیں، مگر انداز نہایت دفاعی اور مثبت تھا، اور بہر صورت صبر و تحمل پر مبنی تھا، پھر جب مکہ کے حالات از حد دگرگوں ہوگئے، تو آپ ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی، مدینہ میں آپﷺکے دعوتی حدود نہایت وسیع ہوگئے، جہاں آپﷺ نے دس سال کے مختصر عرصہ میں ایک عظیم امانت کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔
بعثت نبوی کے تین سال تک دعوت کا کام مخفی رہا، اور ایک مختصر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی، پھر حکم الٰہی ہوا کہ دعوت کے حدود کو وسعت بخشی جائے، لہٰذا آپﷺ  نے دعوت و تبلیغ کے مختلف طریقے اختیار کیے، آپﷺ کی دعوت و تبلیغ پر اہل مکہ کا سخت رد عمل ظاہر ہوا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اذیتیں دیں، سماجی بائیکاٹ کیا، اور سخت پھبتیاں بھی کسیں، لیکن آپﷺ نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیااور اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ مکہ مکرمہ کے ان نازک حالات میں آپ ﷺکی دنیوی دل بستگی کے دو اہم مصادر(ابو طالب، خدیجہ) تھے، جن کی سیاسی و معاشی پشت پناہی حضور ﷺ کو حاصل تھی، اور ان کی موجودگی اہل مکہ کی ایذا رسانیوں میں بڑی حد تک حاجب تھی۔ اسی لیے جب سن ۱۰؍ نبوی میں ایک مہینہ کے فاصلہ سے یہ دونوں ہستیاں دار فانی سے رخصت ہوگئیں تو آپﷺ کو طبعاً سخت رنج و غم ہوا اور دو اہم سہاروں کے اٹھ جانے کا شدید قلق رہا، اسی لیے آپﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال)سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں کی وفات کے بعد اہل مکہ کی زبانیں آپ ﷺ پر مزید دراز ہونے لگی تھیں۔گویا مکہ کی زمین اپنی وسعتوں کے باوجود آپ پر تنگ ہوگئی تھی اور خیر کی امیدیں کم ہی نظر آرہی تھیں، اسی لیے آپﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر پیغام حق کی دعوت کا ارادہ کیا اور ہجرت فرمائی۔

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر   مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

سیرت نبوی علیہ السلام کا ہر پہلو نمایاں اور سورج سے زیادہ روشن ہے اور دنیا کی آخری تاریخ تک اسی طرح روشن وتاباں رہے گا، سیرت دراصل ایک ناپیدا کنار سمندر ہے، اس میں جس قدر غوطہ لگایا جائے گا، اسی قدر لعل وگوہر برآمد ہوتا  رہے گا، اﷲ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کو کامل ترین انسان اور آپ (ﷺ)کی ذات اقدس کو بہترین وہمہ گیر اسوہ بنایا۔ ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’گویا پورا قرآن حکیم آپ کے اخلاق وسیرت ہے۔‘‘
اوراق سیرت میں آپﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ گھریلو زندگی کیسی ہوتی ہے اور گھر سے باہر کی زندگی کیسی؟ سیرت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ آپ کی دعوت اور گھر کی زندگی میں یکسانیت پائی جاتی ہے، گھر سے باہر الگ اور گھر کے اندر کی زندگی الگ نہیں، بلکہ آپ کی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو ہر ایک کے لیے کھلی کتاب ہے، یہاں پر آپ کی گھریلو زندگی کے چند پہلو کی طرف اشارہ پر اکتفا کیا جائے گا۔
آپ ﷺ کی زندگی کو اگر گھر کے ماحول میں ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ایک مثالی شوہر کی حیات طیبہ سامنے آئے گی کہ آپ کی پاک زندگی میں آبگینوں کے ساتھ حسن سلوک اور بے مثال عادلانہ ومنصفانہ معاشرتی زندگی کا اہتمام ہے، آپ ﷺ نے ایک شوہر کی حیثیت سے ازواج مطہرات (رضی اﷲ عنہن)کی ناز برداری بھی فرمائی، آپ کی ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ ہے،ان سب کا تعلق مختلف معززقبائل اور شریف خاندانوں سے تھا، اور طبیعت ورنگ ونسل کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے فرق تھا، اور نسوانی فطرت کی اساس پر اگر کوئی واقعہ پیش آجاتا تو آپ ﷺ خوش اسلوبی سے مسئلہ کو حل کرتے اور نسوانی جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انگیز فرماتے تھے۔ اﷲ کے رسولﷺ نے امت کو یہ تعلیم فرمائی کہ ’’اس آدمی کا ایمان کامل ہے جس کا اخلاقی برتاؤ (سب کے ساتھ) اچھا ہو(اور خاص کر) بیوی کے ساتھ اس کا رویہ لطف ومحبت کا ہو‘‘۔ آپ ﷺ کی اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لطف ومحبت کو ’’ایمان کامل‘‘ سے تعبیر کرکے ایسی تاکید فرمائی گویا بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کمال ایمان کی شرط ہے۔
شوہر کا ایک خوشگوار اور اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اگر اس کے کئی بیویاں ہوں تو سب کے ساتھ برابری اور مساوات کا معاملہ کرے۔ آپ ﷺ نے ازواج مطہرات کے درمیان مساوات اور عدل وانصاف کا برتاؤ فرمایا، اور انصاف کے ساتھ ہر ایک کا پورا حق ادا فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’اﷲ کے نبیﷺ اپنی ازواج کے مابین حقوق کی تقسیم میں عدل وانصاف فرماتے تھے‘‘۔ آپ ﷺ نے اسی کی بابت فرمایا کہ ’’اے اﷲ! میری یہ تقسیم ہے ان چیزوں پر جن پر میرا قابو ہے، بس تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ کر جو خاص تیرے قبضے میں ہے اور میرے قبضے میں نہیں‘‘۔ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت خوشگوار تھے۔
اور اس شخص کے بارے میں جو بیویوں کے درمیان انصاف اور مساوات کا سلوک نہیں کرتا،آپ ﷺنے حدیث شریف میں اس آدمی کی نسبت بتایا ہے کہ ’’اگر کسی کے دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ انصاف ومساوات کا برتاؤ نہیں کیا تو قیامت کے روز اس حال میں وہ شخص آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گر گیا ہوگا‘‘۔ گھر کے ماحول کو اچھا رکھنے کے لیے اچھا اور معیاری ومثالی برتاؤ اختیار کرنے کی آپ ﷺ کی طرف سے ہدایت ہے کہ ’’تم میں سب اچھا وہ آدمی ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہوں‘‘۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بحیثیت شوہر آپ نے ازواج کو ان کے حقوق ادا فرمائے اور ان کی حتی الامکان دلداری ودل جوئی فرمائی، اور اس عمل کے ذریعہ یہ درس دیا کہ دل جوئی ودل داری کرنا بھی شوہر کے حسن سلوک وحسن معاملہ میں داخل ہے۔ایک مرتبہ کی بات ہے کہ ایک سفر میں ازواج مطہراتؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں، انجشہ نامی ایک حبشی غلام حدی خوانی کرتا جاتا تھا اور اونٹ حدی سن کر مست ہوکر تیز چلنے لگتے ہیں تو اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’انجشہ! دیکھو، آبگینے ٹوٹنے نہ پائیں‘‘۔اسی طرح آپ ﷺکا معمول یہ تھا کہ کہیں ’’اگر سفرہوتا اورازواج میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہوتی تو قرعہ اندازی سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا اور سفر میں اس کو ساتھ لے جاتے‘‘۔ یہ قرعہ اندازی صرف آپ ﷺ کی طرف سے دل جوئی اور دلداری کے واسطے ہوتی تھی جب کہ آپ کو کسی کو ساتھ لے جانے کا اختیار تھا۔آپ ﷺ عشاء کے بعد کبھی کبھی ازواج کی دل جوئی کی خاطر قصے سناتے تھے اور ان سے سنتے بھی تھے، احادیث کی کتابوں میں ’’حدیث خرافہ‘‘ اور ’’حدیث أم زرع‘‘ اس کی بہترین مثال ہیں۔
آپﷺ کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اور ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت محبت اور اخلاص کے تھے، لیکن ان سب کے ساتھ آپ دینی وشرعی امور کی نگرانی بھی فرماتے تھے، دین وشرع کے خلاف کوئی بات ہوتی تو آپ تنبیہ اور سرزنش فرماتے تھے، تنبیہ اور سرزنش کے معاملہ میں آپ کا انداز اور اسلوب خاص تھا کہ مخاطب بات بھی سمجھ لے اور اس پر کچھ زیادہ گراں بھی نہ گزرے، آپ کی یہ تنبیہ اور محاسبہ بھی حقیقت میں آپ کی محبت ہی کا ایک پہلو تھا۔اس کو سمجھنے کے لیے ایلاء کا واقعہ نہایت موزوں اور مناسب ہے۔
ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ’’حسبک من صفیۃ کذا وکذا‘‘یہ بات سن کر آپ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’اے عائشہ! تم نے ایسی بات زبان سے نکال دی ہے کہ اگر وہ سمندر میں بھی ملا دی جائے تو اس کی کڑواہٹ اس کو بھی تلخ کرکے رکھ دے‘‘۔ اسی طرح متعدد مواقع پر آپ نے ازواج مطہرات کی دینی رہنمائی اور دینی نگرانی فرمائی اور خلاف شرع معاملات میں تنبیہ بھی فرمائی۔
  سیر وتفریح سے انسان کے ذہن ودماغ کو سکون اور آرام ملتا ہے، نیک مقصد کی خاطر سیر کرنا شریعت کی نگاہ میں ممنوع نہیں ہے، سیر کی جگہ ایسی ہو جو شرع کی نگاہ میں ممنوع نہ ہو،کیونکہ اس سے زوجین کے باہمی تعلقات پرلطف اور مزید خوشگوار ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ایک پہلو بحیثیت شوہر یہ بھی موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ کے کھیل کود اور تفریح کے واقعات احادیث میں موجود ہیں، حدیث میں یہ واقعہ بھی درج ہے کہ آپ علیہ السلام اور حضرت عائشہؓ کے مابین دو دفعہ دوڑ کا مقابلہ ہوا،ایک دفعہ میں تو حضرت عائشہ ؓ آگے نکل گئیں اور دوسری دفعہ میں آپ ﷺ آگے نکل گئے اور وہ پیچھے رہ گئیں، اس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ اس دن کا جواب ہے‘‘۔
نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے خوشگوار باہمی تعلقات پر زاد المعاد میں لکھا ہے کہ ’’نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ نہایت محبت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے تھے، حضرت عائشہؓ کے پاس انصار کی لڑکیاں جمع ہوجاتیں اور آپ ان کو ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتے، اگر وہ کسی ایسی بات کی خواہش کرتیں جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہوتی تو آپ ﷺ ان کی خواہش پوری کردیتے، وہ جس برتن سے پانی پیتیں آپ بھی اس برتن سے ان کے منھ لگانے کی جگہ سے منھ لگاکر پانی پی لیتے، جس ہڈی کو وہ چوستیں اس ہڈی کو آپ بھی لے کر چوستے، ایک مرتبہ اہل حبشہ مسجد نبوی میں اپنے کرتب دکھارہے تھے، آپ نے حضرت عائشہؓ کے لیے اس کا موقع پیدا فرمایا کہ وہ آپ کے کندھے کی اوٹ سے ان کے کرتب دیکھ لیں، دو مرتبہ آپ سفر کے موقع پر ان کے ساتھ دوڑے بھی، آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں، عصر کی نماز پڑھ کر آپ کا یہ معمول بنا ہوا تھا کہ تمام ازواج کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے احوال دریافت فرماتے، پھر شب میں جس کی باری ہوتی اس کے یہاں قیام فرماتے‘‘۔

محمد مصطفی ﷺکی معرفت مولانامحمد فاروق عبدالسمیع ندوی

محمد مصطفی ﷺکی معرفت  مولانامحمد فاروق عبدالسمیع ندوی

اللہ سے محبت کا پہلا زینہ اطاعت رسول ہے، اطاعت کاملہ اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ رسول کی عظمت و محبت دلوں میں رچی بسی ہو، اور عظمت و محبت کا دارو مدار معرفت پر ہے، بدون معرفت عظمت و محبت اور اطاعت رسول کا تصور ہی ناممکن ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر چند حقوق ہیں جو ثابت شدہ ہیں، انکی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، ان میں سے سب سے پہلا حق معرفت ہے جو دوسرے حقوق کیلیے مدخل کی حیثیت رکھتا ہے ،باقی حقوق کی ادائیگی اسی پر موقوف ہے جیسے کسی کے بارے میں معرفت ہوتی ہے اسی طرح اس کے بارے میں عقیدہ اور عمل ہو تا ہے ،البتہ اس مقام پر اس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ا گر رسول گرامی کی معرفت کا ملہ کا حصول نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔
ا س کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی معرفت کا ملہ اس وقت حاصل ہو گی جب آپ کے تما م شؤون (حیثیتوں ) سے پوری آگاہی حاصل ہو جو کہ اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،بعض شؤون نبی درج ذیل ہیں ۔
دنیوی-اخروی-ظاہری-باطنی -جسمانی- عقلانی- روحانی- قرآن مجید اور باقی آسمانی کتب میں۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان آپ کی معرفت کا ملہ کا دعوایدار نہیں ہے۔معرفت نبی ۖکے (Sources)درج ذیل ہیں
۱-قرآن مجید۲-دیگر آسمانی کتب۳-سنت رسول ۴-اقوال اہل بیت۵-اقوال امہات المومنین ۶-اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۷-مسلمان مفکرین کی آراء ۸-غیر مسلم مفکرین کی آراء۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ ﷺ کی اجمالی معرفت کے درج ذیل پہلو ہیں ۔
(الف )ختم نبوت :آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ ختم نبوت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ،ارشاد الٰہی ہے :’’مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَآ اَ حَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِيینَ‘‘'(محمد )تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ص اور خاتم النبین ہیں '۔
خاتم یعنی مہر جیسے خط کے آخر میں اس کے اختتام کی نشاہدہی کر تی ہے اسی طرح آپ ﷺ کام وجودِ مبارک تمام انبیاء عظام کے صحیفہ نبوت کے ختم ہو جانے کی گواہی دیتا ہے، اب اور قیامت تک نہ کو ئی نبی آئے گا اور نہ کو ئی رسول ، آپ ﷺ کے بعدنزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ،البتہ نازل شدہ وحی کی تشریح و تفسیر اور تبیین کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ختم نبوت کا عقیدہ امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد کر تا ہے کہ وہ اب انسانی معاشرہ میں نبوت کا پیغام دوسروں تک پہنچائے اور اپنے قول وفعل سے دوسروں کو ہدایت کرے، علامہ محمد اقبال نے کتنے خوبصورت انداز میں اس ذمہ داری کی تشریح کی ہے ۔
پس خدا برما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق از مامحفل ایام را او رسل راختم وما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت داد ما آخریں جامے کہ داشت
ترجمہ :خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی ہے (جیسے) رسول اللہ ﷺ پر رسالت ختم کر دی ہے ، محفلِ ایام (دنیا) کی زینت و رونق ہماری وجہ سے ہے (آپ ﷺ تما م نبیوں اور رسولوں میں سے اکرم و افضل ہیں اور ہم امت مسلمہ تمام امتوں میں سے افضل ہیں)اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے (اب ہمارا فریضہ دوسری امتوں تک پیغام ہدا یت پہنچانا ہے)اللہ تعالیٰ (ہدایت )کا جو آخری جام بنی نوع انسان کو عطا کرنا چاہتا تھا وہ اس نے ہمیں(قرآن مجید کی شکل میں ) عطافرما دیا ۔
(ب)انسان کامل :آپ صورت وسیرت ،خلق وخُلق کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بے مثل ہیں ،اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر قسم کے عیوب سے پاک و پا کیزہ پیدا کیا ہے۔
اس واقعیت کا اظہار شاعر ِرسول ص،ثنا خوان نبی حضرت حسان بن ثابت نے یہ کہہ کر کیا ہے :
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ کُلِّ عَيبٍ
کَأَنَّکَٔ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآء
آپ ہر عیب سے خالی پیدا کیے گئے ہیں گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کے منشاء کے مطابق کی گئی ہے
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَينِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاء
اور آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ جمیل، عورتوں نے کبھی جنا
شیخ سعدی نے آپ کی اعلیٰ وبرتر شخصیت اور خوبصورت شمائل کے بارے میں فرمایا ہے :
بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہ
کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ
آپ اپنے کمال کی طاقت سے بلندیوں پر پہنچے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے تاریکیاں چھٹ گئیں
حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِہ
صَلُّوْ عَلَیہْ وَآلِہ
آپ  کے شمائل بہت خوبصورت تھے آپ ص پر اور آپ  کی آل پر درود بھیجو؛
اس ذیل میں عظیم شاعر حافظ شیرازی نے فرمایا ہے
یاَ صَاحِبَ الْجَمَالِ وَيا سَيدَ البَشَرِ
مِنْ وَجْھِکَ الْمُنْیرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرُ
اے صاحب جمال ،اے سیدالبشر! آپ کے چہرہ پر نور سے ہی چاند منورہوا
لاَ یمْکنُ الثَنآء  کَمَا کَانَ حَقُّہ
بعد از خدا بزرگ، توئی قصہ مختصر
آپ ﷺ کی ثنا اور نعت کا حق ادا کرنا ممکن نہیں مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد بزرگ تر آپ  ہی کی ذات ہے
(ج)افضل الا نبیا ء والمرسلین :آپ  تمام انبیا ء و مرسلین میں سے افضل ہیں اور ا س فضلیت کے کئی اسباب ہیں :
(۱)حضرت عیسیٰ ـ نے آپﷺ کی آمد کی بشارت دی ہے ،ارشاد ربانی ہے
’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ ياتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہ اَحْمَدُ‘‘
'جناب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہو ں تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کانام احمد ہے۔
اگر پیغمبر اسلام اور دیگر انبیا ء عظام یا حضرت عیسیٰ ـ آپ ﷺ کے ہم رتبہ ہو تے تو اس بشارت کی کیا اہمیت رہتی ہے؟ اسی طرح قرآن مجید میں کئی مقامات پر اور زبور میں بھی آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے ۔
(۲)مخلوق اول :روایات کی روشنی میں آپ خلقت نوری کے اعتبار سے اولین مخلوق ہیں ،فرمان نبوی ﷺ ہے :
’’أول ماخلق اللہ نوری ‘‘'سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نو ر کو خلق کیا ہے '۔
یہ مضمون متعدد، روایات میں آیا ہے ۔
(۳)صاحبِ لولاک:
مشہور حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے :
’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘'اے حبیب اگر آپ نہ ہو تے تو ہم افلا ک یعنی کائنات کو خلق نہ کرتے '۔
اس حدیث قدسی کے مطابق آپ وجہِ تخلیق کا ئنات ، مقصودِ کائنات اور اصلِ وجان کائنات ہیں ۔کائنات کی رونق اور عظمت آپ ﷺکی تشریف آوری کی بدولت ہے، علامہ محمد اقبال بھی اسرار و رموز میں فرماتے ہیں؛
اے ظہور تو شباب زندگی جلوہ ات تعبیر ِخواب زندگی
آپ کی تشریف آوری سے زندگی کوشباب نصیب ہوا اورآپﷺ کا ظہور خوابِ زندگی کی تعبیر ہے۔
اگر آپ ﷺ کا ظہور نہ ہو تا تو حیات ِکا ئنات کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو تا۔
(۴)مقام نور ی میں پہلے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :
آپﷺ مقام نوری میں اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم ـ تخلیق کے عمل سے گزر رہے تھے
ارشاد نبوی ہے:
’’کُنْتُ نَبِياً وَآدَمُ بَينَ الْمآ ء وَالطِّينِ ‘‘'میں اس وقت نبی تھا جب آدم ـ پانی اور مٹی کے درمیان تھے '۔
علامہ اقبال نے بھی کہا ہے :
جلوہ او قدسیاں راسینہ سوز بود اندر آب و گل آدم ہنوز
آپﷺ کا جلوہ اس وقت بھی فرشتوں کے سینو ں کو گرما رہا تھا جب حضرت آدم ـپانی اور مٹی کے درمیان تھے
(۵)گزشتہ شرائع منسوخ:
آپﷺ کی شریعت کے بعد تمام گزشتہ شرائع منسوخ کی گئیں اور نزول قرآن کریم کے بعد تمام گزشتہ آسمانی کتابیں منسوخ ہو ئیں ،قیامت تک شریعت محمدیہ اور قرآن کی تعلیمات حاکم ہیں۔

ربیع الاول کا پیغام عالم انسانیت کے نام مولانا محمد امام الدین ندوی

ربیع الاول کا پیغام عالم انسانیت کے نام     مولانا محمد امام الدین ندوی


ربیع الاول کا مہینہ آگیا یہ مہینہ نہایت ہی بابرکت ہے کیونکہ اس میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی جس وجہ سے ہرسوپھیلی تاریکی چھٹنے لگی، ہر طرف اجالاہی اجالا پھیلنے لگا، ظلم وستم کا دوردورہ ختم ہو گیا، اورامن وامان کی فضا قائم ہوگئی، لوگ اپنے مقصد حیات کو چھوڑکر خدافراموشی اور خود فراموشی کے عمیق غار میں جاچکے تھے انہیں نئی روشنی ملی، امانت داری اوردیانت داری دوردورتک نظر نہیں آرہی تھی اس کی شعا ئیں ہر سو بکھرنے لگیں، خادم ومخدوم کا بھیدبھاؤ ختم ہو گیا، معمولی بات پر صدیوں کے قتل وقتقل اور خوں ریزیوں سدباب ہوگیا، قبیلے کی برتری ختم ہو گٰٰئی اور سب کو بھائی بھائی بنادیا، عورتوں کو اس کا حق اور حیا عصمت وعفت کی چادر ملی، یتیموں اور بیواؤں کو انصاف ملا، خادموں اور غلاموں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بند ہو گئیں، پر. خطرراستے مامون ہو گئے۔راہزنراہرو بن گئے ۔ظالم مظلوم کا مسیحا بن گیا ۔طاقتور کمزوروں کا غمگسار بن گیا اور پریشانیوں میں ان کا مددگار بن گیا ۔محتاجوں کی محتاجی دور ہونے لگی ۔خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے میں لطف آنے لگا ۔بچیوں کا وجود رحمت بن گئی انہیں بھی دنیا کی بہاریں دیکھنے کا حق ملا ،انہیں زندہ درگور کرنا ظلم عظیم اورباعث عار بن گیا ۔یتیموں کے سرپر دست شفقت رکھنے والے اٹھ کھڑے ہوئےاور انکے مال کے سچے محافظ بن گے۔ بواؤں کی خبرگیری کرنے اورانکی دیکھ بھال کرنے کے لے افراد تیار ہو گے ۔صدیوً لڑنے والے امن کے پیکر وداعی بن گے ۔گلہ بان اور اونٹوں کے چرواہے ملک وملت کے سچے خادم ووفادار بن گے اورملک کے زمام حکومت تھام کر امن وسلامتی کی فضا قایم کرنے والے بن گئے۔
بندوں کو خدا سے رشتہ جو ڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،لوگ اپنے خالق حقیقی سے آشنا  ہو گئے،جاہلیت کی ساری رسمیں مٹ گئی اور جہالت اپنا بستر لپیٹ چلتی بنی۔جھوٹ ،چغلی ،غیبت، سب وشتم، فتراپردازی، بہتان تراشی امانت میں خیانت، دھوکا دھڑی کا جنازہ نکل گیا۔شراب خوری ،قماربازی، بدکاری و زناکاری،سود خوری کا خاتمہ ہوگیا360 خداؤں کے پجاری خدائے واحد کے  پرستار بن گئے۔بندوں کو جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا راستہ مل گیا۔انسانوں کو نئی زندگی ملی ظلم و جور کا خاتمہ ہوگیا،دنیا امن کا گہوارہ بن گئی اور یہ سب صرف 63 سال کے قلیل عرصے میں ہوا جو تاریخی انسانی کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے 14 سو سال سے زائد عرصہ گذر گیا ہمارے اندر وہ تمام خرابیاں پیدا ہو گئیں جو آپ کی بعثت سے پہلے تھیں دیگر قومیں ہمارے اوپر ہنس رہی ہیں۔ہمارے رویے نے  انہیں اسلام سے بدظن کر دیا ہے ہےوہ اسلام کی حقانیت اور آفاقیت تو سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے عمل سے متنفر ہیں کیونکہ جو بیماریاں دیگر قومیں ہیں ہیں وہی بیماریوں میں یہ مبتلا ہیں۔اخلاق و کردار کا فقدان ہو گیا ہےآپسی رساکشی سر چڑھ کر بولنے لگی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا مسلکی جھگڑے تنا ور درخت بن گئے۔ دلوں میں نفرت و کدورت کا غبار جم گیا آپس میں سلام و کلام بند ہوگئے، سلام نکاح توڑنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا دل تو بٹ ہی گئے خانہ خدا بھی بٹ گیا،مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہنے لگا فروعی مسائل حقیقی بن گئے اور حقیقی مسائل ناپید ہوگئے۔آپس میں سب دست وگریباں ہوگئے ۔جو کبھی ایک دسترخان پر کھاتے تھے اب وے اپنوں کی بجاے بجاے خیروں کے دستر خان کی زینت بن گے اور اپنے بھای کے دسترخوان پر کھانا حرام سمجھنے لگے نیزاپنے مسایل غیروں سے سلجھانے لگے خدائے واحد کی بندگی کے بجائےبتوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھنے لگے رسول اکرم کی پاکیزہ سیرت سے ہم کوسوں دور ہو گئے یہی خدا فراموشی نے ہمیں خود فرا موشی کا سبب بنا دیا اس لئے ہماری حکمرانی اور سیادت بھی چلی گئی ۔اور ہم دوسری قوم کے مرہون منت ہو کر رہ گئےاور دردر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہو گئے۔
ربیع الاول کا پیغام تو بس یہی ہے کہ ہم آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سراپا زندگی کو اپنا نصب العین بنا لیں ،زندگی کےہر شعبہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پاکیزہ کردار نظر آئے ہمارا ظاہری اور باطنی شباہت نبی کے طریقے پر ہو،بدعات و خرافات سے مکمل بچنے والے بنیں،ایک مخلص داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں۔آپ کا پاکیزہ کردار تمام انسانوں کے لئیے اور قیامت تک کے لیے ہے جو اس کو اختیار کرے گا وہ دنیا سرخ رو رہے گا۔ہمیں رسول کی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی زندگی میں ڈھالنا چاہئیےیہی اس ماہ کا پیغام ہے۔دنیا کو آج بھی اس پیغام کی ضرورت ہےجس سےدنیا امن شانتی کا گہوارہ بن جائے گی۔



سیرت سید الانبیاء ﷺ:ایک پیغام- ایک سبق- ایک تاریخ مولانا عبد المنان قاسمی

سیرت سید الانبیاء ﷺ:ایک پیغام- ایک سبق- ایک تاریخ   مولانا عبد المنان قاسمی


سیرت سید الانبیاء ﷺ رہتی دنیا تک کے لیے ایک پیغام، ایک سبق، ایک تاریخ، ایک اسوہ، ایک نمونہ، ایک رہ نما اصول اور ایک لاثانی ولافانی دستورِ حیات ہے۔ہر دور میں مصنفین، مولفین، مرتبین، علماء، فضلاء، صلحاء، اتقیاء، اصفیاء، فقہاء اور محدثین ومفسرین نے سیرت النبی ﷺ کو مختلف نوعیتوں اور متعدد جہات سے پیش کرنے کی وسعت بھر کوششیں کیں اور لاکھوں کی تعداد میں سیرت پر کتابیں وجود میں آتی رہیں، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالی! یوں تو ہر انسان آپ ﷺ کی سیرت وشخصیت سے اپنے دین ودنیا کو سنوار وسدھار سکتا ہے؛ لیکن خاص طور پر ایک مسلمان کے لیے اس سے سبق حاصل کرنا اور اس پر اپنی سیرت وشخصیت کو ڈھالنا ازحد ضروری وناگزیر ہے؛ کیوںکہ دنیوی واخروی کامیابی وکامرانی ایک مومن کا ہدفِ اساسی اور مقصدِ حیات ہے، جو حضرت سید الانبیاء وخاتم المرسلین ﷺ کی سیرت وکردار، رفتار وگفتار اور اطوار واقدار کو اپنائے بغیر ناممکن ہے۔ سیر ت النبی ﷺ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اہل اسلام واہل ایمان، اتباع رسول ﷺ کو فرض سمجھیں اور اپنے آپ کو، اپنے معاشرے اور سماج کو سیرت النبیﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی انتھک کوشش اور سعیٔ پیہم کریں؛ کیوںکہ اگر آج ہم اپنے معاشرے کے ارد گرد نظر دوڑائیں، تو معاشرہ سنت نبوی ﷺکے اسلامی احکامات کو چھوڑ کر شرک و بدعات جیسے خرافات کی دلدل میں لپٹا ہوا نظر آئے گا۔ مسلمان سیرت النبی ﷺ کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کرنے کے بجائے نہ سلجھنے والے مسائل اور لاینحل مصائب ومشکلات کی دلدلوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ آئیے! سیرت النبیﷺ کی روشنی میں حیاتِ انسانی کی دائمی کامیابی کا درس اور سرمدی فلاح ونجاح کا پروانہ تلاش کیا جائے، جس کے سیرت کے چند اہم ترین گوشوں کا مطالعہ ازحد لازم اور ضروری ہے، جو درج ذیل ہیں۔
ولادت باسعادت، حلیہ مبارکہ اور عناصر ترکیبی:
۹/یا ۲۱/ ربیع الاوّل (عام الفیل) کو آپ نے شکمِ مادر سے اِس جہانِ رنگ وبو میں تولد فرمایا۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ نے ’’شمائل ترمذی‘‘ میں آپ ﷺ کے حلیہ مبارکہ اور عناصر ترکیبی کو اس طرح بیان کیا ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد، سرخی مائل، سفید گورا رنگ، سر اقدس پر سیاہ ہلکے گھنگھریالے ریشم کی طرح ملائم، انتہائی خوب صورت بال، جو کبھی شانہ مبارک تک دراز ہوتے، تو کبھی گردن تک اور کبھی کانوں کی لوتک رہتے تھے۔ رخِ انور اتنا حسین کہ ماہِ کامل کے مانند چمکتا تھا، سینہ مبارک چوڑا، چکلا، کشادہ، جسم اطہر نہ دبلا، نہ موٹا؛ انتہائی سڈول، چکنا، کہیں داغ دھبہ نہیں، دونوں شانوں کے بیچ پشت پر ’’مہرِ نبوت‘‘ کبوتر کے انڈے کے برابر سرخی مائل ابھری ہوئی، کہ دیکھنے میں بے حد بھلی لگتی تھی، پیشانی کشادہ، بلند اور چمک دار، ابروئے مبارک کمان دار غیر پیوستہ، دہن شریف کشادہ، ہونٹ یاقوتی، مسکراتے تو دندانِ مبارک موتی کے مانند چمکتے، دانتوں کے درمیان ہلکی ہلکی درازیں تھیں، بولتے تو نور نکلتا تھا، سینہ مبارکہ پر بالوں کی ہلکی لکیر ناف تک تھی، باقی پیکر بالوں سے پاک تھا۔ شیدائیانِ مصطفی وجاںنثارانِ مجتبیٰ، یارانِ باصفا، شہیدانِ صدق ووفا ’’صحابۂ کرام‘‘ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ جیسا خوب صورت نہیں دیکھا گیا۔ نہ آپ ﷺ سے پہلے آسمان وزمین نے کبھی ایسا حسن وجمال والا دیکھا اور نہ آپ ﷺ کے بعد کبھی میسر ہوگا۔ شاعرِ رسول اللہ ﷺ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نعتیہ قصیدے میں اس طرح نقشہ کھینچتے ہیں   ؎
وَأَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِي
وَأَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّیًٔ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
ترجمہ: آپ ﷺ سے حسین مرد میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھااور آپ ﷺ سے زیادہ خوب صورت مرد کسی عورت نے نہیں جنا۔ آپ ﷺ ہر قسم کے ظاہری وباطنی عیب سے پاک پیدا ہوئے، گویا آپ ﷺ اپنی حسب مرضی پیداہوئے ہیں۔
نہ کبھی آپ ﷺ چیخ کر بات کرتے تھے، نہ قہقہہ لگاتے تھے، نہ شور کرتے تھے، نہ چلاکر بولتے تھے، ہر لفظ واضح بولتے، اندازِ کلام باوقار، الفاظ میں حلاوت کہ بس سنتے رہنے کو دل مشتاق، لبوں پر ہمہ دم ہلکا سا تبسم، جس سے لب مبارک اور رخِ انور کا حسن بڑھ جاتا تھا، راہ چلتے تو رفتار ایسی ہوتی تھی، گویا کسی بلند جگہ سے اتررہے ہوں، نہ دائیں بائیں مڑمڑکر دیکھتے تھے، نہ گردن کو آسمان کی طرف اٹھاکر چلتے تھے، تواضع کی باوقار مردانہ خوددارانہ رفتار ہوتی، قدمِ مبارک کو پوری طرح رکھ کر چلتے تھے کہ نعلین شریفین کی آواز نہیں آتی تھی، ہاتھ اور قدم ریشم کی طرح ملائم وگداز تھے اور قدم پُرگوشت، ذاتی معاملہ میں کبھی غصہ نہیں ہوتے تھے، اپنا کام خود کرنے میں تکلف نہ فرماتے تھے، کوئی مصافحہ کرتا تو اس کاہاتھ نہیں چھوڑتے تھے، جب تک وہ الگ نہ کرلے، جس سے گفتگو فرماتے پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوتے، کوئی آپ سے بات کرتا تو پوری توجہ سے سماعت فرماتے تھے، پھر بھی ایسا رعب تھا کہ صحابہ کو گفتگو کی ہمت نہ ہوتی تھی، ہر فرد یہی تصور کرتا تھا کہ مجھ کو ہی سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔
آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ اور اطوارِ زاہدانہ کی ایک جھلک:
نبی کائنات ﷺ صداقت وسچائی، امانت ودیانت، سخاوت وکریمیت، عفو ودرگزر، عدل وانصاف، ایفائے عہد، شجاعت وبہادری، جواں مردی وپامردی، اخوت وبھائی چارگی، رواداری، خدمتِ خلق، عاجزی وانکساری، طہارت وپاکیزگی، نفاست ونظافت، تحمل وبردباری، شرم و حیاء، وسطیت ومیانہ روی، مساوات وبرابری، صبرواستقامت اور عزم مصمم وجواں حوصلگی جیسی صفاتِ کمالیہ کا جامع اور حسن وجمال، قرب ونوال، تعلق واتصال، خوب صورتی وخوب روئی، جاذبیت ودل کشی، رعنائی وزیبائی جیسے اوصافِ جمالیہ کے مظہرِ اتم تھے۔ نیز کردار کے دھنی، اطوار کے غنی، اقدار کے پاس دار، رفتار وگفتار کے بے تاج بادشاہ، انسانیت کے تمام مراتبِ علیا پر براجمان اور خدا کے بعد سب سے بزرگ وبرتر اور ممتاز تھے۔ آپ ﷺ اخلاق کے تمام اعلی مراتب پر فائز اور خلقِ عظیم پر جلوہ گر ہیں(إِنَّکَ لَعَلَی خُلُقٍ عَظِیْمٍ) اسی لیے آپ ﷺ کی اطاعت واتباع کو اللہ تعالی نے اپنی محبت سے تعبیر فرمایا (قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللہُ، آپ (ﷺ) فرما دیجیے! کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا)(سورۂ آل عمران:۱۳)
دعوت و تبلیغ کا آغاز:
حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے تاجِ رسالت اور خلعت نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد، ایک ایسے سماج ومعاشرہ کو ایمان و توحید اور اتحاد ویکجہتی کی دعوت دی، جو شرک و کفر اور ضلالت وجہالت کی دلدل میں گرفتار تھا، انسانیت شرافت ونجابت سے کوسوں دور اور غلاظت ورذالت کی وادیوں میں غرق تھی، درندگی اور حیوانیت کا راج تھا، ہر طاقتور، فرعون بنا ہوا تھا۔ قتل وغارت گری کی وبا ہر سُو عام تھی، نہ عزت وعصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کے لیے کوئی پناہ، شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی، بے حیائی اپنے عروج پر تھی، روئے زمین پر وحدانیت حق کا کوئی تصور نہ تھا؛ بدکاری وفحش انگیزی اپنے عروج پر تھی اور ظلم وجور، جبر وتشدد اور ناانصافی اپنے شباب پر تھی، ایک اللہ کی پرستش کے بجائے، معبودانِ باطلہ کے سامنے پیشانیاں جھکتی تھیں، نفرت وعداوت اور تعصب وعناد کی زہریلی فضا، انسان کو انسان سے دور کرچکی تھی، انسانیت آخری سانس لے رہی تھی، اس دور کا انسان قرآن کریم کے مطابق جہنم کے کنارے کھڑا تھا، کہ رحمتِ حق کو رحم آیا اور کوہِ صفا سے صدیوں بعد انسانیت کی بقا وارتقاء کا اعلان ہوا کہ ’’یَآ أَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ تُفْلِحُوْا‘‘ اے لوگو! لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلو، کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجاؤگے۔
وہ  بجلی  کا  کڑکا تھا  یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
یہی اُس عظیم الشان انقلاب کی ابتداء تھی، جس نے دنیائے انسانیت کی تاریخ بدل دی۔ یہ محض ایک اعلان ہی نہیں؛ بل کہ توحیدکی حیاتِ نو کا پیغام تھا، جس نے مردہ دل عربوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی اور پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا، جس کا تصور بھی نہ تھا۔
جو نہ تھے خود راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو  مسیحا کردیا
صبر واستقلال اور استقامت وپامردی:
رسول اللہﷺ  کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پورا سماج آپ کے خلاف عَلمِ بغاوت لے کر میدان میں آیا اور طرح طرح کی الزام تراشیاں اور ہتھکنڈے اپنانا شروع کردیا۔ ایسے موقع پر آپ ﷺ صبر واستقلال اور استقامت وپامردی کے کوہِ گراں تھے۔ دشمنانِ اسلام نے قدم قدم پر آپ کو ستایا، جھٹلایا، بہتان لگایا، مجنون ودیوانہ کہا، ساحرو کاہن کا لقب دیا، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر غلاظت ڈالی، لالچ دیا، دھمکیاں دیں، اقتصادی ناکہ بندی اور سماجی مقاطعہ کیا، آپ کے شیدائیوں پر ظلم وستم اور جبر واستبداد کے پہاڑ توڑے، نئے نئے لرزہ خیز عذاب کا جہنم کھول دیا کہ کسی طرح حق کا قافلہ رک جائے، حق کی آواز دب جائے؛ مگر دورِ انقلاب شروع ہوگیا تھا، توحید کا نعرہ بلند ہوچکا تھا، اس کو غالب آنا تھا۔ ’’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِوء ُوْا نُوْرَ اللہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ(سورۂ صف:۸)’’کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (ایمان واسلام) کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں‘‘۔ خودرسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ابتلا وآزمائش میں جتنا مجھ کو ڈالاگیا، کسی اور کو نہیں ڈالاگیا‘‘۔
ہجرتِ مبارکہ:
جب مکہ معظمہ کی سرزمین آپﷺ اور آپ کے جاںنثار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بالکل تنگ کردی گئی؛ تب بحکم الٰہی آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور صحابۂ کرامؓ نے اللہ کے لیے اپنے گھر بار، آل و اولاد، زمین وجائداد؛ سب کو چھوڑ کر حبشہ ومدینہ کا رخ کیا۔ پہلی ہجرت، صحابہؓ کے ایک گروہ نے حبشہ کی طرف کی تھی، پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے، تو مدینہ منورہ اسلام کا مرکز بن گیا۔
غزوات و سرایا:
آپ ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت فرماجانے کے بعد ایک طرف آپ ﷺ کو دعوت وتبلیغ اسلام کی تحریک میں کشادہ میدان اور مخلص ومعاون افراد ملے، جس کے باعث قبائل عرب میں تیزی سے اسلام پھیلنے لگا؛ تو دوسری جانب مشرکین مکہ کی عداوت ودشمنی اور یہودمدینہ کے تعصب ونفرت سے مقابلہ بھی تھا۔ مکہ مکرمہ میں مسلمان کمزور، نہتے اور بے قوت و طاقت تھے؛ اس لیے ان کو صبر و استقامت کی تاکید وتلقین تھی؛ لیکن مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو وسعت و قوت حاصل ہوئی اور اجتماعیت و مرکزیت نصیب ہوئی، تواللہ تعالیٰ نے دشمنوں سے لڑنے اور ان کو منھ توڑ جواب دینے کی اجازت عطا فرمائی اور غزوات وسرایا کا سلسلہ شروع ہوا، اور اسلام کا پرچم چہار دانگ عالم میں پھیلتا ہی چلاگیا۔
چند مشہور غزوات:
(۱)غزوۂ بدر ۲ہجری میں پیش آیا، جس میں مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳؍ اور مشرکین مکہ کی ایک ہزار تھی۔
(۲)غزوۂ اُحد: ۳ھ، شوال میں یہ غزوہ ہوا، مسلمان سات سو اور کفار تین ہزار تھے۔
(۳)غزوۂ ذات الرقاع ۴ھ میں پیش آیا، اسی میں آپ نے صلاۃ الخوف ادا فرمائی۔
(۴)غزوۂ احزاب (خندق) ۵ھ میں ہوا، مشرکین مکہ نے قبائل عرب کا متحد محاذ بناکر حملہ کیا تھا۔ آنحضور ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓکے مشورہ سے مدینہ منورہ کے اردگرد چھ کلو میٹر لمبی خندق کھدوائی تھی؛ اسی لیے اس کو ’’غزوۂ خندق‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۵)غزوۂ بنی المصطلق ۶ھ میں ہوا۔
(۶)صلحِ حدیبیہ ۶ھ میں ہوئی، جب کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایاتھا اور چودہ سو صحابۂ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے تھے کہ مشرکین مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور وہیں صلح ہوئی کہ آئندہ سال عمرہ کرسکتے ہیں۔
(۷)غزوۂ خیبر ۷ھ میں پیش آیا، یہ یہودیوں سے آخری غزوہ تھا، اس سے قبل غزوۂ بنونضیر اور غزوۂ بنوقریظہ میں یہودیوں کو سنگین جرائم کی وجہ سے جلاوطن اور قتل کیاگیا تھا۔
(۹)غزوۂ تبوک ۹ھ میں پیش آیا، ہرقل سے مقابلہ تھا، دور کا سفر تھا، شام جانا تھا، شدید گرمی کا زمانہ تھا؛ اس لیے خلاف عادت آپ ﷺ نے اس غزوہ کا اعلان فرمایا، چندہ کی اپیل کی، صحابہؓنے دل کھول کر چندہ دیا اور تیس ہزار کا عظیم الشان لشکر لے کر آپ ﷺ تبوک روانہ ہوئے؛ مگر ہرقل بھاگ گیا اور آپ ﷺ مع صحابہ واپس بخیریت مدینہ تشریف لائے۔
یہ چند اہم غزوات تھے، ان کے علاوہ بہت سے سرایا صحابۂ کرام کی سرکردگی میں مختلف مواقع پر روانہ فرمائے۔
خلاصۂ کلام:
سیرت النبیﷺ کا مطالعہ جس بھی زاویہ اور گوشے سے کیا جائے، انسانیت کی رہنمائی کرتی نظر آئے گی؛ کیوںکہ آپ ﷺ کو اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کی انسانیت کے لیے رہنمائے کامل اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو اسوۂ حسنہ بناکر ختمِ نبوت ورسالت کا مہر ثبت فرمادیا ہے۔ اسی لیے رہتی دنیا تک کی انسانیت کی ابدی وسرمدی حیاتِ نو کا دستور اور لازوال قانون اگر کہیں مل سکتا ہے، تو وہ سیرت طیبہ ہی ہے، اور یہ دعوی اس وجہ سے بھی درست ہے؛ کیوںکہ سیرت طیبہ ’’قرآن مجید‘‘ کی عملی تفسیر ہے، اور کون نہیں جانتا کہ قرآن کریم انسانیت کی ہدایت کے لیے آخری سامان اور توشۂ دین ودنیا ہے؛ آپﷺ کی سیرت طیبہ، حیات انسانی کے ہر ہرگوشہ کا کامل احاطہ کرتی ہے۔سیرت النبیﷺ مشکلات میں صبر وشکر، استقلال واستقامت کی تلقین کرتی ہے۔ قوت واسباب کا فقدان ہو، اور دشمن سرچڑھ کر بولنے لگے، تو ہجرت کا پیغام دیتی ہے۔ فراخی وخوش حالی میں دشمنوں سے دفاعی لشکر سازی کا درس دیتی ہے۔ خوش اخلاقی، اعلی ظرفی اور بلند حوصلگی کی تعلیم دیتی ہے۔ اخوت وبھائی چارگی اور اتحاد واتفاق کی فضا ہموار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی کا سبق دیتی ہے۔ انسانیت کی بھلائی اور خیرخواہی کو ازحد ناگزیر گردانتی ہے۔
اللہ تبارک وتعالی ہمیں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنانے اور اس سے درس وعبرت حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین!

نبی پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نصاب مولانا محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری

نبی پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نصاب   مولانا محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری

نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر ہے، بغیر سیرت ِ نبویہ کے مطالعہ کے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا ناممکن ہے، اسی لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ایک ترتیب سے سیرت کا مطالعہ کرے اور کوشش کرے کہ یہ مطالعہ پوری زندگی جاری رہے، تاکہ دل نبی کی محبت سے آباد و سرشار رہے، اور آپﷺ کی اطاعت و اتباع کا ذوق وعمل تازہ رہے، اردو زبان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ سیرت نبویہ کے موضوع پر سب سے زیادہ مالامال ہے:
(۱)سیرت خیر البشر، از؛ مفتی شفیع عثمانیؒ
(۲)رحمت عالم، از؛ علامہ سید سلیمان ندویؒ
(۳)سیرت رسول اکرم، از؛ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ
(۴)النبی الخاتم، از؛ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ
(۵)درِّ یتیم، از؛ ماہری القادریؒ
(۶)نبی رحمت، از؛ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ
(۷)محسن انسانیت، از؛ نعیم صدیقی
(۸)رہبر انسانیت، از؛ مولانا محمد رابع حسنی ندوی
(۹)اسوۂ رحمت، از؛ مولانا بلال حسنی ندوی
(۱۰)سیرت نبوی-عبرت و نصیحت کا لازوال خزانہ، از؛ ڈاکٹر مصطفی سباعیؒ
(۱۱)رحمۃ للعالمین، از؛ قاضی سلیمان منصوپوریؒ
(۱۲)سیرت مصطفی، از؛ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
(۱۳)اصح السیر، از؛ مولانا عبد الرؤوف داناپوریؒ
(۱۴)سیرۃ النبی(۸جلدیں)از؛ علامہ شبلی نعمانیؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ
(۱۵)شمائل ترمذی، از؛ مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
اس کے علاوہ متعدد رسائل کے خاص سیرت نمبرات بھی ہیں جن سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر؛
(۱)نقوش رسول نمبر، ۱۳ جلدیں، لاہور
(۲)نوائے ہادی سیرت نمبر، کانپور، وغیرہ
نوٹ:- عمر اور علمی استعداد کے فرق کے ساتھ مذکورہ ترتیب میں تبدیلی کی جائے، جہاں دشواری ہو مستند علماء سے رجوع کیا جائے۔

عصر حاضر میں صلح حدیبیہ کی معنویت وپیغام مولانا کفیل احمد ندوی

عصر حاضر میں صلح حدیبیہ کی معنویت وپیغام  مولانا کفیل احمد ندوی


اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پوری زندگی بلکہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کاہر ہر واقعہ اپنے اندرقیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے نصیحت عبرت وموعظت کے بے شمار پہلو رکھتاہے، قرآن کریم کے اندرنبی پاک ﷺ کی پوری زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ ونمونہ اور قابل تقلید قراردیاگیا ہے۔
آج ہمارے ملک ِعزیز بھارت میں ہر سمت عجیب افرا تفری کا ماحول ہے، پوراملک اخلاقی امراض وبگاڑ میں مبتلاہے، جب سے ایک فرقہ پرست پارٹی برسراقتدار ہے، اس وقت سے حالات نے مزید سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے، اقلیتوں خصوصامسلمانوں کو بے شمار سنگین مسائل کا سامناہے، پورے ملک کے مسلمان خوف ودہشت، اضطراب وبے چینی کاشکار ہیں،انہیں اپنی جان ومال عزت وآبرو اور دین وشریعت کے بارے میں بے اطمینانی کی کیفیت سے گزرناپڑرہاہے،ملک کی اکثریت کے ذہن ودماغ میں مسلمانوں کی نفرت تعصب عناد اور دشمنی کی آگ سلگادی گئی ہے، مسلمانوں کی جان ومال پر بھی چوطرفہ حملے ہیں اور دین وشریعت پر بھی ہر طرح کے اعتراضات واشکالات کاسلسلہ جاری وساری ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے موجودہ حالات عہد نبوی ﷺ کے مکی حالات کے مشابہ ہوچکے ہیں،ہر وقت خوف،ڈر،دہشت،اپنے تعاقب وگرفتاری اور اچانک اچک لیے جانے کااندیشہ-لیکن ایسے حالات میں بھی مسلمانوں کو ہرگز مایوس نہیں ہوناچاہیے، بلکہ سیرت نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، حضور پاک ﷺ اور صحابہ کرام کو پورے مکی دور میں اور ہجرت مدینہ کے بعد بھی کچھ سالوں تک اسی طرح کے مشکل حالات سے گزرناپڑاتھا، ہندوستان میں جو یہ موجودہ حالات پیداہوئے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ ملک کی غیرمسلم اکثریت آج بھی اسلام اور اسلام کے محاسن اور اسکی محبت بھری تعلیمات سے ناواقف ہے۔
اس لیے ہندوستان کے موجودہ اسلام ومسلم مخالف حالات کا سب سے بڑاتقاضہ یہ ہیکہ مسلمان ملک کی اخلاقی وسماجی اصلاح وریفارم کی مخلصانہ مہم شروع کریں، خود ہرجگہ زندگی کے ہر شعبہ ومرحلہ میں سچی اور مؤمنانہ اسلامی زندگی کامظاہرہ کریں، غیر مسلموں کے ساتھ اعلی اسلامی اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں،اوراسلام کا بھرپور تعارف بھی کرائیں اور اسلام کاعملی نمونہ پیش کریں،اس عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اور غلط فہمیاں ختم ہونگی،حضور پاک ﷺ کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی تنازعہ اور دشمنی کی فضا کو ختم کرکے غیر مسلموں مشرکوں دشمنوں اور کافروں کو مسلمانوں کے قریب آکر انکی عبادات انکے رہن سہن پیارومحبت اعلی اخلاق وضیافت کے واقعات کے مشاہدہ وتجزیے کا موقع فراہم کریں،مکہ کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کی صلح میں یہی جزبہ کارفرماتھا، صلح حدیبیہ کا واقعہ اسلام ومسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، سن چھ ہجری میں حضور پاک ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے رفقاکے ساتھ عمرہ کررہے ہیں اور کلید کعبہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہے، یہ اشارہ غیبی تھا کہ آپ ﷺ عمرہ کارادہ فرمائیں، چنانچہ حضور پاک ﷺ عمرہ کی مکمل تیاریوں کے بعد پندرہ سوصحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے آپ کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے قریش کو آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کو کومقام”حدیبہ“ میں روکدیا اور مکہ میں داخل ہوکر ارکانِ عمرہ کی ادائیگی کاموقع بھی نہیں دیا حالانکہ حضور پاک ﷺاور صحابہ کرام کو مکہ میں داخل نہ ہونے دینے کا یہ عمل ہراعتبار سے غلط تھا اور عربوں کی روایات کےبھی خلاف تھا، اس موقع پر قریش مکہ اور مسلمانوں کےدرمیان اس بات پر صلح ہوئی کہ
(۱)مسلمان اس سال یہیں سے واپس چلے جائیں، (۲)آئندہ سال انکو صرف تین دن مکہ میں قیام کی اجازت ہوگی،(۳)اگر مکہ کاکوئی فرد مسلمان ہوکر مدینہ جائے گاتو اسے واپس کیاجائے گا لیکن اگر مدینہ سے کوئی شخص مکہ آجائے تو اسے نہیں لوٹایاجائے گا،(۴)چوتھی شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بندی رہے گی،اور آزادانہ سفروتجارت کاسلسلہ جاری رہےگا۔
صحابہ کرام کی ناپسندیدگی اور غم وصدمہ سے نڈھال ہونے کے باوجو حضوررحمت اللعالمینﷺ نے ان شرائط پر صلح کرلی،واپسی میں ”سورۃ الفتح“ نازل ہوئی اور اس صلح کوفتح مبین قرادیاگیا، اور واقعتا یہ صلح اسلام ومسلمانوں کے حق میں کھلی فتح ثابت ہوئی، اس صلح کے نتیجہ میں مسلمانوں کو طویل جنگوں سے نجات ملی، قریش کی طاقت ٹوٹ گئی مختلف قبائل کے ساتھ قائم ان کااتحاد ٹوٹ گیا،پورے جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کارعب ودبدبہ قائم ہوا انہیں اطمینان کے ساتھ پورے عالم میں اسلام کی دعوت پہونچانے کاموقع ملا، سب سے بڑھ کر یہ کہ مکہ ومدینہ کے لوگوں کی ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت شروع ہوئی،اس طرح قریش اوردیگر مخالفین ومعاندین کو مسلمانوں کی عبادات انکے اخلاق عالیہ انکی معاشرت وطرز زندگی اوراسلامی تعلیمات کے عملی مظاہروں کے مشاہدہ کاموقع ملا، جس سے وہ بہت متاثر ہوئے، انکی غلط فہمیاں دور ہوئیں، قبول اسلام کے لیے ذہن ودماغ کھلتے چلے گئے، اور صرف دوسال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہوگئے،اس وقفہ میں بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کیااور اسلام تیزی سے پھیلتاگیا۔
غرض کہ صلح حدیبیہ ناکامی کی صورت میں فتح وپیش قدمی کاذریعہ ثابت ہوئی، اور یہ صلح اسلام ومسلمانوں کی ترقی اقبال وعروج فتح وکامرانی اور اسلام کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ذریعہ بن گئی، اگر بھارت کے مسلمان آج بھی صلح حدیبیہ کے سبق آموز پہلوؤں کو سامنے رکھیں اوراسے اپنے لیے مشعل راہ بنائیں،غیروں کے ساتھ تمام ہی برادران وطن کے ساتھ اچھے اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں اپنے اور غیروں کے درمیان حائل اجنبیت کی دیواروں کو توڑدیں، غیروں تک اسلام کاپیغام حکمت کے ساتھ پہونچائیں،انکے سامنے عملااسلام کامظاہرہ کریں،انکی ہر طرح خیرخواہی کریں، غیروں میں اسلام کا تعارف کرائیں اور زوال پزیر ملک کی اصلاح اور ملک کی قدیم اخلاقی وروحانی اقداروروایات کے احیاکی کوششیں کریں تو ملک میں ان کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا اور وہ فتح مبین سے ہم کنار ہوسکتے ہیں،وماذلک علی اللہ بعزیز۔

عشق تمام مصطفیﷺ کامران غنی صبا




ایمان دراصل عشق کی اعلی ترین منزل ہے۔یہ وہ منزل ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنا وجود تک بھول جاتا ہے۔محبوب کی رضا، اور اُس کی خوشنودی کے لیے وہ ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے کی نہ صرف قوت رکھتا ہے بلکہ ان صعوبتوں میںبھی اسے لذت و سرور حاصل ہوتا ہے۔عشق وہ جذبہ ہے جو دنیا کی تمام آسائشوں سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف وصال محبوب اور رضائے محبوب کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔دین کی ساری عمارتیں بھی عشق کے انھیں لافانی جذبات پر قائم ہیں۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہی دراصل ایمان ہے۔ قرآن کی متعدد آیات اور بے شمار احادیث مبارکہ نہ صرف محبت خدا و رسول پر دلالت کرتی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہیںکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بغیر ہمارا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآئُ کُمْ وَ اَبْنآَئُ کُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَ تِجَا رَۃُٗ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْ حَتّٰی یا تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ۔ وَاَللَّہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ (التوبۃ:۲۴)
(اے نبیؐ،کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں ، اورتمہارے عزیز و اقارب، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ گھر جو تم پسند کرتے ہو، تم کو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ،اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا)
نیز فرمایا:قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُبَکُمْ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ{آل عمران :۳۱}(کہہ دو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا۔اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔)
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا۔ {النسآء :۸۰}
(جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اورجو منھ موڑ گیا ، تو بہرحال ہم نے تمھیں اُن لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔)
اسی طرح متعدد حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا گیاہے۔بخاری و مسلم کی مشہور حدیث ہے:
’’لا یُؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس أجمعین۔‘‘
(تم میں سے کوئی ایمان میں اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میری محبت اس کے دل میں اس کے باپ،بیٹے اورتمام انسانوں سے بڑھ کر راسخ نہ ہو جائے۔)
قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ محبت رسول صلی علیہ وسلم ایمان کا لازمی جز ہے۔ روایتوںمیں مذکور ہے کہ اسلام کی سیاسی طاقت بڑھ جانے کے بعد مدینہ کے بہت سے اعراب(دیہاتی) دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور اسلامی احکامات کی پابندی بھی کرنے لگے لیکن ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اب تک راسخ نہیں ہو سکی تھی، انھوں نے بعض مواقع پر اپنے ایمان لانے کا اس طرح دعویٰ کیا گویا انھوں نے ایمان لاکر اللہ کے رسولﷺ پر کوئی احسان کر دیا ہو چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بذریعۂ وحی ان کے ایمان کی حقیقت واضح کر دی :
’’اور یہ اعرابی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی، ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر نہیں داخل نہیں ہوا ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات)
اس آیت مبارکہ نے واضح کر دیا کہ محض اطاعت یعنی ظاہر رسوم و قیود ہی دائرۂ ایمان میں آنے کے لیے کافی نہیں بلکہ ایمان کا تعلق براہِ راست قلب و نظر سے ہے اور ایمان کی حقیقی لذت تب تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک ہمارے دلوں میں جذبۂ عشق راسخ نہ ہو جائے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اطاعت سے محبت نہیں ہوتی بلکہ محبت اطاعت و اتباع پر مجبور کرتی ہے۔محبوب کی محبت میںمحب سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہو جاتا ہے اور ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب محب جان دے کر بھی یہ تصور کرتا ہے کہ اس نے حق بندگی ادا نہیں کیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں محبت آزمائی جاتی ہے  ؎
کاش خوباں ہمہ از عاشق خود جاں طلبند
تابہر بولہوسے عاشقی آساں نہ شود
صحابہ کرامؓ کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اسی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سے بڑی باطل طاقتیں بھی انھیں سر نگوں نہ کر سکیں۔اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت نے ان کے دلوں میں ایثار، وفا، خلوص، خاکساری،خلق خدا سے محبت جیسے عظیم جوہر پیدا کر دئیے تھے۔آج ہم محبت رسولﷺ کا دم بھرتے ہیں لیکن محبت کے تقاضوں کو ہم نے فراموش کر دیاہے۔جس رسولﷺ نے ہمیں محبت و اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا اس رسولﷺ کے پیغام کو ہم نے صرف اپنی تحریر و تقریر کی زینت بنا کر چھوڑ دیا۔جس رسولﷺ نے ہمیں متحد کرنے کے لیے صعوبتیں اٹھائیں اس رسولﷺ سے ہم نے صرف زبانی محبت کے ہی دعوے کیے، ہم نے ایک جگہ رہتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ عمارتیں تعمیر کر لیں۔ ہم متحد ہو کر اپنے نبیﷺ سے پیغام کو ساری دنیا میں کیا پہنچاتے ہم نے آپس میں ہی اختلافات و انتشار پیدا کر لیے۔اگر ہمارے دلوںمیں اللہ کے رسولﷺ کی سچی محبت جا گزیں ہوتی تو نظریاتی اختلافات کے باوجود ہم متحد ہوتے۔
اللہ کا شکر و احسان ہے کہ ہم محمدﷺ کے امتی ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان کی محبت بھی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی اس جذبے کو مزید بڑھایا جائے۔یہاں تک کہ محبت رسولﷺ تمام محبتوں پر غالب آ جائے۔اگر ہمارے دلوں میں اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت پیدا ہو گئی تو پھر اللہ کی نظر عنایت و التفات بھی ہم پر ہوگی اور محبت رسولﷺ کے طفیل ہماری کوتاہیاں بھی در گزر کر دی جائیں گی(ان شاء اللہ) اور ہمارا شمار بھی اللہ کے مقرب بندوںمیں ہوگا   ؎
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

دنیائے انسانیت پر آپ ﷺ کے احسانات مولانا مفتیمحمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری



اللہ تبارک و تعالی کی بنائی ہوئی اس کائنات ِارض و سماء میں سب سے زیادہ جس ذات وشخصیت کے احسانات اس عالم دنیوی پر ہیں ، وہ اس کائنات کے آخری نبی، ہمارے آقائے نامدار احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ ہیں، آپ ﷺ ہی کے ذریعہ اللہ تعالی نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ِ راست د ِکھایا اور دنیا کو اللہ کی صحیح معرفت نصیب ہوئی، آپ ﷺ سے پہلے عالم ِ انسانیت کی تقریبا ً  پوری آبادی ہر طرح کی شرک و بت پرستی ، اخلاقی گراوٹ ، ظلم و زیادتی ، حرام کاری و بدکاری اور نا زیبا سلوک کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی،اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا، جہاں اللہ کی عبادت صحیح طرح سے کی جاتی ہو ، اہل ِ عرب کے ساتھ ساتھ اہل ِیورپ بھی اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کو پہونچے ہوئے تھے،حضرت عیسی ؑ کی تعلیمات بھی اپنی اصلی حالت پر نہیں تھی۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: لیکی کی کتاب ــ’’تاریخ اخلاق یورپ‘‘History of European Morals, by Lecky)
آپ ﷺ کی محنت سے انسانوں کی بستی ہری بھری ہوگئی اور ہر طرح کے فضائل سے اسے آشنائی نصیب ہوئی، آپ ﷺ کی تعلیمات نے ہر طبقہ کو فائدہ پہونچایا، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، آپ کے ماننے والوں میں ہو یا انکار کرنے والوں میں، اس لحاظ سے قیامت تک آنے والے عالم ِ انسانی پر آپ ﷺ کے اتنے احسانات ہیں جن کا شمار نا ممکن ہے، چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے؛کیوں کہ صفحات کی تنگ دامنی تفصیل کی اجازت نہیں دیتی:
(۱)عقیدئہ توحید کی نعمت : آپﷺ کی بعثت کے وقت انسانوں کا عقیدہ انتہائی گراوٹ کا شکار ہوچکا تھا ، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ لکھتے ہیں :ـــــ’’یہ اپنے سے کہیں زیادہ مجبور و ذلیل ، بے حس و حرکت ،بے جان و مردہ اور بعض اوقات خود اپنی ساختہ پرداختہ چیزوں کے سامنے جھکتا تھا، ان سے ڈرتا اور ان کی خوشامد کرتا تھا، یہ پہاڑوں ، دریائوں ، درختوں ، جانوروں، ارواح و شیاطین اور مظاہر قدرت ہی کے سامنے نہیں؛بلکہ کیڑوں ،مکوڑوں تک کے سامنے سجدہ ریز ہوتا تھا اور اس کی پوری زندگی انھیں سے خوف و امید اور انھیں خطرات میں بسر ہوتی تھی، جس کا نتیجہ بُزدلی، ذہنی انتشار ، وہم پرستی اور بے اعتمادی تھا۔ (نبی رحمت، ص:۶۲۵)  ایسے وقت میں آپ ﷺ نے بحکم ِ خداوندی ساری دنیا کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اسی کی عبادت کی دعوت دی، جس سے عقیدئہ توحید کی تعلیم عام ہوئی، لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کا خوف دور ہوا اور ایک نئی قوت ، نیا حوصلہ ، نئی شجاعت اور نئی وحدت پیدا ہوئی اورپھر اسی (اللہ) کو ہر طرح کا نافع و ضار سمجھا جانے لگا۔
(۲)وحدت ِ انسانی کا تصور : آپ ﷺ کی آمد سے پہلے انسان اپنے فرسودہ خیالات کی بنیاد پر مختلف ذات پات اور اعلیٰ ادنیٰ طبقوں میں بٹا ہوا تھا، اور ان کے درمیان انسانون اور جانوروں ، آقائوں اور غلاموں اور عبد و معبود کا سا فرق تھا، وحدت و مساوات کا کوئی تصور نہیں تھا، ایسے وقت میں آپ  ﷺ نے اللہ کا یہ حکم سنایا: ’’یٰا ایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر و انثی و جعلنٰکم شعوبا ً و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم ‘‘ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، خدا کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے(الحجرات:۱۳)۔ اور آپ  ﷺ نے اپنی زبان میں ارشاد فرمایا:لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے والد بھی ایک ہیں ، تم سب اولاد آدم ہو اور آدم  ؑ مٹی سے بنے تھے، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ پاک باز ہے، کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ، مگر تقویٰ کی بنا پر(حدیث)، اس اعلان کے بعد سارے انسانوں کے بھائی بھائی ہونے کا تصور عام ہوااور لوگوں کو بہت راحت ملی۔
(۳)احترام انسانیت:اسلام کے ظہور کے زمانے میںایک لحاظ سے انسان سے زیادہ ذلیل کوئی نہیں تھا،وہ انسان جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ، اس کا وجود بالکل بے قیمت اور بے وزن ہو کر رہ گیا تھا، بعض اوقات پالتو جانورسے بھی بدتر یہ سمجھا جاتا، اس سے کہیں زیادہ اہمیت باطل عقائد کی وجہ سے حیوانات اور بعض درختوں کو دیے جاتے،ان کے لیے انسانوں کی جانیں لی جاسکتی تھیں،اور انسان کے خون اور گوشت پوست کے چڑھاوے چڑھائے جاسکتے تھے، آج بھی بعض بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہن و دماغ میں یہ نقش بٹھا دیا کہ اس کائنات کی سب سے عظیم اور قیمتی شئی انسان ہے ، اسی کے لیے پوری کائنات بنائی گئی ہے ، وہ اشرف المخلوقات ہے: ’’ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ‘‘وہی (اللہ)ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو اس زمین پر ہے (البقرۃ:۲۹)  اور ایک دوسری جگہ سورہ اسراء آیت ۷ میں فرمایا : ’’و لقد کرمنا بنی آدم و حملنٰھم فی البر و البحر و رزقنٰھم من الطیبٰت و فضلنٰھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلا‘‘  اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ، ان سب سے آگے بڑھ کر یہاں تک کہاں گیا کہ انسان خدا کا کنبہ ہیں، اور خدا کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کو آرام پہونچائے’’الخلق عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ‘‘ (مشکوٰۃ بروایت بیہقی)
(۴)تہذیب و تمدن: بعثت ِ نبوی سے پہلے ظلم و زیادتی کی وجہ سے طاقتوروں کا بول بالا تھا، کمزوروں کا گذر ذلت کے ساتھ ہوتا تھا، عورتوں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا تھا، اسلام نے عقائد کے ساتھ ساتھ سب کے حقوق بھی بتائے اور معاشرہ کو ایک صاف ستھری ، اخلاق و احترام سے بھر پور، بڑے چھوٹے اور مرد و عورت کے فرق کے ساتھ بہترین تہذیب و تمدن اور عمدہ ثقافت عنایت کی اور نیکی و فضائل کے کاموں پر اجر و ثواب کا وعدہ سنایا اور برائی پر سزا کی وعیدبتائی ، جس کے بعد ایک بہترین امت وجود میں آئی اور دنیا ایک ایسی تہذیب و تمدن سے واقف ہوئی، جس کا  اس نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا، ایک ایسی تہذیب جس نے انسان ہی کو نہیں بلکہ جانوروں تک کو تمام حقوق عنایت کیے، اور اس کی وجہ سے ساری دنیا روشن ہوگئی،رابرٹ بری فالٹ (Robert Briffault) اپنی کتاب ’’تعمیر انسانیت ‘‘ (The making of humanity) میں یوں لکھتا ہے: ’’یورپ کی ترقی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے ، جس میں اسلامی تمدّن کا دخل نہ ہو اور اس کی ایسی نمایاں یادگار نہ ہوں ، جنہوں نے زندگی پر بڑا اثر ڈالا ہے ‘‘۔ (ص:۱۹۰)
(۵)مقصد ِزندگی سے آگہی: انسان اپنی منزل مقصود سے بے خبر تھا، اس کی ذہانت اور صلاحیت چھوٹے چھوٹے کاموں میں صرف ہورہی تھی، کامیاب اور بڑا انسان بننے کا صرف یہ مطلب تھاکہ وہ دولت مند بن جائے ، یا طاقتور حاکم بن جائے ، یابڑی تعداد پر حکمرانی کرے، یا یہ کہ من مانی زندگی گذارے، آپ ﷺ نے سارے انسان کو مقصد زندگی سے واقف کرایا ، بقول مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ: ’’محمد رسول اللہ ﷺ نے نسل انسانی کے سامنے اس کی حقیقی منزل لا کر کھڑی کردی، آپ ﷺ نے یہ بات دل پر نقش کردی کہ خالق ِکائنات کی صحیح معرفت، اس کی ذات و صفات اور اس کی قدرت و حکمت کا صحیح علم، ملکوت السماوات و الارض کی وسعت و عظمت اور لا محدودیت کی دریافت ، ایمان و یقین کا حصول، خدا کی محبت و محبوبیت، اس کو راضی کرنا اور اس سے راضی ہوجانا، اس کثرت میں وحدت کی تلاش اور یافت، انسان کی حقیقی سعادت اورکمال ِ آدمیت ہے ، اپنی باطنی قوتوں کو ترقی دینا، ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہونا، انسانوں کی خدمت اور ایثار و قربانی کے ذریعہ خدا کی خوشنودی کا حاصل کرنا، اور کمال و ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک پہنچ جانا، جہاں فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے، انسان کی کوششوں کا حقیقی میدان ہے‘‘۔
 (نبی رحمت ، ص:۶۴۱، ۶۴۲)
یوں تو عالم ِ انسانیت پر ہمارے نبی ﷺ کے بہت سارے احسانات ہیں ، جن کا اعتراف غیرمسلوں نے بھی کیا ہے ،یہاں ہم نے ان احسانات میں سے چند کو ذکرکیا، آج ہم صاف صاف مشاہدہ کررہے ہیں کہ دنیا پھر اسی گذشتہ جاہلیت کی طرف رواں دواں ہے، جس سے ہمارے نبی ﷺ  نے اسے نکالا تھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نبیﷺ کے احسانات سے اس عالم کو روشناس کرائیں ، ان پر عمل کریں اور نبی ﷺ پر کثرت سے صلوۃ و سلام کا اہتمام کریں ، یہ اپنے نبی ِ محسن ﷺکی بہترین قدر دانی ہے ،کسی شاعر نے کہا:
اک نام ِ مصطفی ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں
ورنہ ہر اک عروج میں پنہاں زوال ہے

سیرت کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی

سیرت کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں  مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی


ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے ،عام طور پر یہ مہینہ ہمارے ملک میں سیرت النبی کی محفلوں ،جلسوں اور کانفرنسوں کی ایک عجیب وغریب بہار لیکر آتا ہے ، اس مبارک مہینے کی آمد پر ملک کی مسلم اکثریت والی شاید ہی کوئی ایسی بستی اور شہری حلقے کا شاید ہی کوئی محلہ ایسا ہو جہاں سیرت طیبہ کے مبارک تذکرے کے لئے کوئی نہ کوئی محفل منعقد نہ ہوتی ہو ،اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس ماہ کے آتے ہی ہر طرف نہ صرف سیرت کے تذکروں اور سیرت کی محفلوں کا ایک دور چل پڑتا ہے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوسوں کی غیر معمولی ہما ہمی شروع ہو جاتی ہے، عمارتوں کو چراغاں کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ تقریبات کے ایسے سلسلے چل پڑتے ہیں جس پر تبصرے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ،ان سب کے علاوہ اخبارات ورسائل میں اس موقع پر خصوصی نمبر کی اشاعت کو باعث برکت سمجھ کر اپنے اخبارات کی وقعت بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
غرض یہ کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں آج کی نسل انسانی کا ایک بڑا طبقہ سیرت کے نام پر وہ سب کچھ کر تا دکھائی پڑتا ہے جن کو شاید کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا، بلاشبہ آپ کی سیرت طیبہ کا ذکر دنیا وآخرت دونوں کی سعادت کا ذریعہ ہے اور آپ کے ذکر سے دلوں کی کایا پلٹ جاتی ہے، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آپ کی سیرت ایک ایسا سدا بہار موضوع ہے جس کے پرانا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں اور نہ ہی یہ ایسا عنوان ہے جس کے کمزور پڑنے کا کوئی امکان ہو سکتا ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کی فلاح وکامیابی کا اگر کوئی راستہ ہو سکتا ہے تو وہ اسی سیرت طیبہ کی اتباع وپیروی میں مضمر ہے ،اس لئے اپنے آقا سے عشق اور آپ کی سیرت مبارکہ تو ہر مسلمان کا وظیفہ حیات ہونا ہی چاہیے۔
لیکن اگر موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اسی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال یہ بھی توجہ کا طالب ہے کہ جب ہم صحابہ و تابعین کی زندگی میں جھانکتے اور قرون اولی کے مسلمانوں کی حالات زندگی میں دیکھتے ہیں تو وہاں سیرت کی محفلوں اور مجلسوںکے انعقاد کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ صحابہ ،تابعین یا تبع تابعین نے اس حوالے سے کسی جلسے جلوس کی تحریک کو عملی شکل دی ہو حالانکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں یہ دن دو مرتبہ آیا ،حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں یہ دن دس مرتبہ آیا ،خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ کے دور میں پندرہ بار اور حضرت علیؓ کے دور خلافت میں پانچ مرتبہ آیا۔اسی طرح حضرت حسن بصریؓ کے دور میں ایک بار اور حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں یہ دن انیس بار آیا، یہی دن حضرت امام اعظمؒ کے زمانے میں 47 بار امام مالکؒ کےزمانے میں 68 بار امام شافعیؒ کے زمانے میں 55 بار اور امام احمد بن حنبلؒ کے دور میں 36 مرتبہ آیا ، حتی کہ یہ تاریخ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے دور میں 65 بار، بابا فرید الدین شکر گنجؒ کے زمانے میں 70 بار، خواجہ اجمیریؒ کے دور میں 53 بار اور قطب الدین بختیار کاکیؒ کے دور میں 55 بار آیا مگر نہ کہیں کوئی ہنگامہ ہوا نہ کوئی جلوس نکلا اور نہ نعرے بازی ہوئی ، بلکہ اس کے بر خلاف وہاں حالت یہ نظر آتی ہے کہ ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا ،اس کی بارہ تاریخ بھی آتی مگر دوسرے مہینے کی طرح یہ دن بھی سادگی اور معمول سے آتااور رخصت ہو جاتا ،نہ سیرت النبیﷺ کے عنوان کا کوئی جلسہ ہوتا نہ اس طرح کی کوئی تقریب منعقد ہوتی۔
لیکن اس کے باوجود جب ہم اس دور کے مسلمانوں کے مجموعی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی زندگی مکمل طور پر سیرت وسنت اور اعلی اخلاق وکردار کے ڈھانچے میں ڈھلی ہوئی دکھائی پڑتی ہے ،اور ان کی ہر ہر ادا سے سیرت کی خوشبو پھوٹنے کے ساتھ ان کے عمل کے ہر شعبے میں سنت رسول کا وہ حسن وجمال نظر آتا ہے جسے دیکھ کر نہ صرف انسانوں کے قافلے اسلام کی صف میں داخل ہوتے چلے گئے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا بلند پرچم مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے جنوب تک میں پوری شان سے لہرانے لگا ،لیکن آج حالات بڑے بدلے بدلے سے ہیں اس وقت حالت تو یہ ہے کہ آئے دن سیرت کے عنوان پر لمبی لمبی تقریریں سننے اور طویل مقالے پڑھنے کے باوجود نہ تو ہمارے دل کی دنیا بدلتی ہے اور نہ ہی ہمارے اندر کوئی سوز وگداز پیدا  ہوتا ہے اور ہماری زندگی کے طرز وانداز میں بھی کو ئی ایسی قابل ذکر تبدیلی نہیں آتی جسے ہم اپنے شاندار دینی مستقبل کی علامت قرار دے سکیں۔
یہاں رک کر شاید آپ بھی سوچنے کے لئے مجبور ہو جائیں کہ آخر یہ صورت حال کیوں ہے اور وہ کون سی ہماری کمزوری ہے جس نے ہماری زندگی سے سیرت کو نکال کر ہمیں بے چینی و بے قراری کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے ،لیکن نہیں اگر ہم پوری ایمانداری و حق پسندی کے ساتھ اس سوال کے جواب پر غور کرتے ہوئے قرون اولیٰ سے آج کے حالات کا موازنہ کریں تو اس نتیجے تک پہونچنے تک دیر نہیں لگے گی کہ آج ہمارے اور ان کے درمیان وہی فرق ہے جو کسی شی کی ظاہری نمائش اور اور اس کی حقیقت میں ہوتا ہے ،در اصل آج کے اس بدلتے وبگڑتے ماحول میں ہماری ساری کوششیں اور ساری توانائیاں چند ایسے رسمی مظاہروں کی ادائگی تک محدود ہیں جو اندر سے کھوکھلے بے جان اور روح سے خالی ہیں اور ان کے ذریعہ ہم اپنے آپ کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کر تے ہیں کہ ہم نے سیرت کا حق ادا کر دیا ،جبکہ سچائی یہ ہے کہ سیرت طیبہ کی حقیقت اور اس کی روح سے ہمارا فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قرون اولیٰ کے لوگ ان ظاہری رسموں سے کوسوں دور تھے ،چونکہ سیرت طیبہ ان کے رگ وریشہ میں سرایت کی ہوئی تھی اس لئے انہیں سیرت طیبہ کے ذکر کے لئے کوئی محفل منعقد کرنے یا عشق رسولﷺ کے اظہار کے لئے جلوس وچراغاں کی ضرورت نہیں تھی ،بلکہ ان کے دل کے نہاں خانے میں ہر لمحہ عشق ومحبت کے وہ خوبصورت چراغ روشن تھے جن کے آگے بازاروں اور عمارتوں پر جھلملاتے ہوئے چراغوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی ،اس کے علاوہ ان کی اداؤں سے ہر ہر لمحہ سیرت وسنت کا جو مظاہرہ ہوتا تھا وہ جلسوں اور کانفرنسوں سے بالکل بے نیاز تھا ،سیرت طیبہ ان کے لئے کوئی ایسا قصہ پارینہ بھی  نہیں تھا جس کی یاد منا کر اسے زندہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ،بلکہ ان حضرات کے لئے یہ ایسی جیتی جاگتی حقیقت تھی جس کے نور سے انہوں نے سیاست ومعیشت اور تہذیب ومعاشرت سے لےکر ممبر ومحراب تک کی زندگی کے ہر شعبے کو منور کر رکھا  تھا ،مگر یہ تو نفس انسانی کی پرانی عادت وخصلت رہی ہے کہ جب کسی شی کی حقیقت کو تھامے رکھنا اس کے آرام طلب مزاج پر بار ہو جاتا ہے تو وہ چند رسمی مظاہروں میں پناہ لے کر ضمیر کو تھپکیاں دینے کی ناکام کوشش کر تا ہے ،اور عام ذہن ودماغ کو یہ تاثر دیا چاہتا ہے کہ ہم جوکچھ کر رہے ہیں وہی سچ اور عین سیرت وسنت کی پیروی ہے ،غور کریں تو آج ہمارے معاشرے میں سیرت کے حوالے سے جوکچھ بھی ہو رہا ہے وہ در اصل اسی کی واضح دلیل وتصویر ہے۔
آج ہم نے یہ محسوس کر لیا کہ سیرت وسنت کی حقیقت کو اپنانے اور دعوت کی خوار زار راہوں پر چلنے کی بجائے داد وتوصیف کے نعروں میں کچھ بک لینا زیادہ آسان ہے ،ہم نے جان لیا کہ اپنی زندگی کے طرز انداز کو بدل کر سیرت وسنت کے ڈھانچے میں ڈھالنےکی بجائے کسی جلسے میں بیٹھ کر سیرت کے واقعات پر سبحان اللہ اور الحمد للہ کا شور بر پا کر لینا ،یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ میں کوئی نعت پڑھ لینا بہت ہی آسان اور سہل ہے اس لئے ہمارے دلوں نے اسی کو ذریعہ نجات سمجھ لیا اور ہم نعروں میں ڈوبی تقریروں کے سہارے اپنے دل کو یہ تسلی دینے کی کوشش کرنے لگے کہ سیرت وسنت اور دعوت دین کا حق ہم سے ادا ہو رہا ہے۔
غرض یہ کہ جدھر دیکھئے ہم رسوم وظواہر کے پردے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ورنہ جہاں تک سیرت طیبہ کی حقیقی روح کا تعلق ہے اس سے نہ صرف یہ کہ ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں ،بلکہ ہم مسلسل سنت سے رو گردانی اور اسکی مخالفت پر تلے ہیں ،ان سب کے علاوہ سیرت کی محفلوں میں مرد وزن کا اختلاط نعت پڑھنے کے لئے ساز وسرور کا سہارا لیا جانا یہ وہ حالات ہیں جنہوں نے ہمارے دلوں کو اور ہی زیادہ گندااور بے حس بنا کر رکھا ہوا ہے، سیرت کی محفلوں کا منعقد ہونا کوئی غلط نہیں مگر اس وقت جو صورت حال ہے وہ یقینا مایوس کن ہے ،جس کی وجہ سے آئے دن ہماری زندگی میں خرابی آتی جارہی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اگر ہم ہدایت کی سچی تڑپ اور اصلاح حال کا یقینی جذبہ لے کر سیرت طیبہ کامذاکرہ کریں تو ممکن نہیں کہ ہماری عملی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے ،اور اگر ہم آج کی تاریخ میں منعقد ہونے والی مجلسوں سے اٹھنے کے بعد اپنی زندگی کو سیرت رسول کے مطابق گزارنے کا فیصلہ کرلیں تو ایک تھوڑے سے عرصے میں ہماری زندگی کے اندر صالح انقلاب آسکتا ہے، کہنے والے کے دل میی اگر دعوت اصلاح کا سوز ہو اور سننے والا اصلاح حال کی تشنگی کوبجھانے کا جذبہ رکھتے ہوں تو چند لمحوں میں ساری برائیوں کاسد باب ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کے موضوع کو سنجیدگی سے لیں اور بدعات و خرافات کے راستے کو چھوڑ کر ایسا طریقہ اختیار کریں جن سے ہماری زندگی سیرت کے راستے پر آسکتی ہو ،بقول حضرت مولانا رابع حسنی ندوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کے لئے دو شرطیں ہیں ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفادارانہ و محبتانہ تعلق ہو اور وہ ایسا ہو جو اس عظیم ذات پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہو ،صرف زبان سے محبت کا اظہار نہ ہو بلکہ وہ حقیقت ہو اور اس میں اخلاص ہو اور یہ سچ ہے کہ اخلاص اپنے اندر کسی رسمی مظاہرے کو جگہ نہیں دیتا آج اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے کو سیرت کے رنگ میں رنگنے کا عہد کر لیں تو نہ صرف معاشرہ کی بہت سی بیماریوں کا سد باب ہو سکتا ہے بلکہ سیرت کے نام پر برپا ہونے والے رسمی ہنگاموں کا سلسلہ بھی تھم سکتا ہے ،بس اس کے لیے اخلاص شرط ہے ۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...