مولانامحمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری
آج پوری دنیا میںمسلمانوں کو جن مسائل ومشکلات کا سامنا ہے، چاہے وہ سیاسی مسائل ہوں، معاشی مسائل ہوں یا پھر معاشرتی اور اخلاقی مسائل ہوں، نہج نبوت،طرز صحابہؓ اور اسوۂ سلف کی روشنی میں تو اس کا بس ایک ہی حل نظر آتا ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو ختم نبوت کے صدقہ میں کار نبوت کا جو عظیم فریضہ ملا ہے اسے وہ اپنی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد بنالیں، دعوت دین اور تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کا مشن اور عنوان بنالیں، بالکل اسی طرح جس طرح آخری رسول ؐ کے عاشقینِ صادقین صحابہ کرام ؓ نے اسلام کے دور اول میں اسے اپنا مقصد ِحیات بنایا تھا۔
مسلمانوں کو خدائے بخشندہ کی جانب سے بخشے گئے اس تیر بہدف علاج سے کبھی بھی کسی دور میں نہ غافل ہونا چاہئے اور نہ کسی ادنیٰ شک وشبہ میں پڑکر ثانوی اور ثالثی ذرائع کو ترجیح دینا چاہئے، یہ تیر نبی اور جانشینانِ نبی کا آزمایا ہوا ہے، یہ وہ داروئے شفا ہے جس نے ہر مرض کو دور کیا ہے، یہ وہ سکہ ہے جو ہر زمانہ میں رائج رہا ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دعوت نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں جو بعض دفعہ بڑی بڑی حکومت اور سیاست بھی انجام نہ دے سکی، جس کی سب سے بڑی اور محیر العقول مثال فتنۂ تاتار کی خطرناکی وامتداد کے باوجود شیخ جمال الدین ؒ اور ان کے خلف رشید شیخ رشید الدین ؒ کی حکیمانہ دعوت کے ذریعہ تاتاریوں کے اسلام قبول کرنے اور کعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں مل جانے کی ہے۔
(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:تاریخ دعوت وعزیمت: ۱؍۳۳۱)
امام مالک ؒ نے اسی راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنا یہ تاریخی جملہ فرمایا تھا :’’لن یصلح آخر ہذہ الامۃ الا بما صلح بہ اوّلہا‘‘کہ اس امت کے آخری دور میں افراد کی اصلاح ِحال بھی اسی طریقہ پہ ہوگی جس طریقہ پہ اولین طبقہ کی ہوئی تھی، یعنی اصلاحِ حال کے لئے جو تدبیر خیر القرون میں قابل ترجیح تھی آج بھی اسی کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے، اور آج امر واقعہ ہے یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی بحالی اور تعلیم واقتصاد کے میدان میں رزرویشن کی حصولیابی کی مطلوبہ ساری سیاسی کوششوں کے بعد بھی اپنے مسائل کا پائیدار حال نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں ، اور صرف سیاسی لڑائی کے ذریعہ کبھی وہ اپنے مسائل حل کرا بھی نہیں سکتے، اُنہیں ضرورت ہے کہ قرآن وسنت کی گائڈ لائن کے مطابق اسلام کے تابناک ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے از سر نو اپنی نئی حکمت عملی (Strategy) تیار کریں، جس میں سیاست سے کہیں زیادہ دعوت کو جگہ دی جائے؛ بلکہ دعوت ہی کو مقصد ِ اصلی ٹھہراکر حسب ضرورت سیاست کو وسیلہ اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
مشہور ومایہ ٔ ناز عربی صحافی ، ادیب قدیر مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی ؒ اپنے ایک عربی مقالہ ’’اسلام دشمنی کے مقابلہ کے لئے علم اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضروت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’گذشتہ عہد میں اسلامی عمل کے میدان کا یہ المیہ تھا کہ دعوت کے لیے اور ملکی معاملات کے سلسلہ میں سیاسی انداز اختیار کیا گیا ،جس کی وجہ سے حکام، غیر اسلامی ماحول میں تعلیم پانے والوں اور خارجی دنیا کے دشمنوں سے ٹکراؤ پیدا ہوگیا؛ حالانکہ وہی دعوتی طریقۂ کار اختیار کرنا چاہئے جسے ہمارے اسلاف نے اختیار کرکے دلوں کو فتح کرلیا تھا، بلکہ پوری دنیا پر حکمرانی کی، اور وہ طریقہ موعظہ ٔ حسنہ، حسن اخلاق ، نرمی ، محبت، رواداری اور انسانی غمخواری کا طریقہ ہے۔‘‘
موجودہ صورتحال میں دعوت واصلاح کے میدان میں طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے، اور جب مخاطب ، ماحول اور وقت کے تقاضوں کی رعایت کے ساتھ موثر طریقۂ کاراختیار کیا جائے گا تو دشمن بھی دوست بن جائیں گے، اسلامی تاریخ میں اس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں، قرآن مجید کہتا ہے:{ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ} (سخت کلامی کا ایسے طریقہ سے جواب دو جو سب سے اچھا ہو، ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے، یہ انہی کو حاصل ہوتی ہے ، جو برداشت کرنے والے ہیں، اور انہی کو نصیب ہوتی ہے، جو بڑے صاحب ِ نصیب ہیں۔)
مذکورہ بالا نقطۂ نظر کی تائید میں مندرجہ ذیل اخباری رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے:
’’اس وقت دنیا کے تمام خطوں میں دہشت گردی کے نام پر اسلام کے خلاف چلائی جارہی عالمی مہم کے باوجود اسلام کی مقبولیت روز افزوں ہے اور خود یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعہ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے،اخباری رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور نبی ٔ رحمت سرورِکائنات محمدرسول اللہ ﷺ کے خلاف چلائی جانے والی جارحانہ مہم قبول اسلام کا سبب بن رہی ہے، مثال کے طور پر ڈنمارک میں اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے بعد سیرت ِ رسول کے مطالعہ کا رجحان اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سیرت ِ نبوی سے متعلق مطلوبہ زبان میں لٹریچر ختم ہوگیا اور بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ نیویارک سٹی میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے قریب جب مسلمانوں نے مسجد بنانے کی کوشش کی اور پھر اس کے بعد ردعمل کے طور پر پادری ٹیری جانس نے قرآن کریم کے نسخوں کے جلانے کا اعلان کیا تو اس کے ردعمل میں ایک سو اسی(۱۸۰) امریکیوں نے اسلام قبول کرلیا۔برطانیہ کی مسلم آبادی میں حالیہ چھ سالوں میں نصف ملین کا اضافہ ہوا ہے، اور اس کے مقابل برطانیہ میں عیسائیوں کی تعداد میں دو ملین سے زیادہ کمی ہوئی ہے، اور اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کی مہم کے باوجود ایک ہزار برطانوی خواتین نے اسلام قبول کیا ہے، اور اسلام لانے کے بعد اسلام کی برتری اور اس کی افضلیت کو ثابت کررہی ہیں،ان میں سرِفہرست سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ، براڈ فورڈ کی وکیل جان بیلی (عمر؍۳۰ سال) ، لندن چلڈرن اسکول کی معلمہ کاتھرین ہنرلٹائن (عمر؍۳۱سال)، لندن کی مشہور شاعرہ سکینہ دوگلاس (عمر؍۲۸ سال) اور ٹیلی ویژن پروگرامر کیسٹن بیکر ہیں۔‘‘
اس حوصلہ افزا صورتحال کا سبب ایجابی اور مثبت طریقۂ کار ہے، گذشتہ عہد میں مسلمان اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے دینے لگتے تھے اور سڑکوں پر نکل آئے تھے، جس سے مخالف کیمپ میں ردعمل پیدا ہوتا تھا اور اسلام پر حملہ کرنے والوں کو اپنے حلقے میں حمایتی اور مؤیدین مل جاتے تھے اور وہ ہیرو بن جاتے تھے اور اپنی ذلیل حرکتوں اور گستاخیوں سے خوب دولت کماتے تھے، لیکن اب مسلمانوں کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے، اشتعال انگیزی اور احتجاج کی بجائے علم وحکمت پر مبنی ایجابی دفاع، پرامن مذاکرات، باہمی مفاہمت اور حلم وبرداشت کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے، جس کے بڑے ہمت افزا نتائج برآمد ہورہے ہیں۔
متعدد مسلم تنظیموں اور قائدین نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو جمع کرکے مذاکرات کا جو طریقہ اختیار کیا اور اسلام کے تعارف اور دفاع کے لئے لٹریچر فراہم کیا ، اس کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، ابھی حال میں واشنگٹن میں ’’اسنا‘‘ کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے مسلمان، عیسائی، یہودی، سکھ اور ہندو شریک ہوئے ، تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف چلائی جانے والی مہم بند کی جائے، کیونکہ مذہب ِ اسلام امن وشانتی کا مذہب ہے، ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جائے اور شخصی اور انفرادی تشدد کی بنیاد پر کسی مذہب کو بدنام نہ کیا جائے، اس کانفرنس سے بہت سے غیر مسلم دانشوروں کا ذہن صاف ہوا، خود ہندوستان میں ’’تحریک ِ پیامِ انسانیت‘‘ (بانی مولانا علی میاں ندویؒ) کے جلسوں اور غیر مسلم طلبہ کے درمیان اسلام کی حقانیت وافادیت پر مبنی انعامی تحریریں مقابلوں سے غیر مسلموں کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہورہی ہیں۔