Translate

Thursday, August 17, 2023

ہمارا عروج زوال میں کیسے بدل گیا محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ

ہمارا عروج زوال میں کیسے بدل گیا؟؟؟      محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ     ۲۵/دسمبر 1947ءمیں اس وقت کے تحریک جماعت اسلامی ہند کے قائد اور روح رواں مولانا سید ابو الاعلی مودودی رح نے (انجمن)اتحاد المسلمین حیدر آباد دکن کے قائدین کے نام ایک  مکتوب (خط) تحریر فرمایا تھا، یہ مکتوب مولانا مرحوم کی علمی و فکری بلندی،سیاسی بصیرت اور بر عظیم کے حالات پر ان کی  گرفت کا آئینہ دار ہے ۔ ان کے تجزئیے کا ایک حصہ، جو انتہائی حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے اور جو بہت ہی موثر اور سبق آموز ہے، ہم موجودہ ہندوستانی حالات کے پس منظر اور ملکی تناظر میں اپنے قارئین کی خدمت میں ،،آج کا پیغام،، یومیہ کالم میں  پیش کرتے ہیں ۔    مولانا مرحوم نے جو مفید اور انتہائی اہم اور قیمتی مشورے اس وقت کی حیدر آباد کی مسلم حکومت و قیادت کو دئیے تھے ،ان کو اس قیادت نے در خور اعتنا نہ سمجھا (توجہ کے لائق نہیں سمجھا ) اور چند ماہ بعد ہی سلطنت آصفیہ (آصف جاہی) کی پوری عمارت دھڑام سے زمین پر آرہی ،اور ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے جو کچھ سسلی کی مسلم حکومت اور حکمراں کے بارے میں کہا تھا اس کی مصداق ہوگئی۔ وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار       مولانا مرحوم نے جو کچھ اس خط میں تحریر فرمایا تھا : اس کا ایک حصہ ملاحظہ کیجئیے اور آج کے حالات کی روشنی میں اس خط کے مشمولات کو مربوط کرنے کی کوشش کیجئے کہ ہماری دعوتی، تبلیغی اور علمی اور تعلیمی غفلت نے آج ہم سب کو کس اجنبی مقام اور جگہ پر کھڑا کردیا ہے، ہماری اپنی ذمہ داریوں سے غفلت اور دوری کا انجام کس قدر بھیانک ،مشکل،دشوار،ہولناک اور پیچیدہ شکل میں، آج ہمارے سامنے ہے ۔ آج کے حالات میں ضرورت ہے، کہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے،اس کے بتائے ہوئے علاج اور طریقہ کو تلاش کیا جائے، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جائے ،انتشار و خلفشار و باہمی نزاع سے بچا جائے ، ذکر اللہ اطاعت خدا و اطاعت رسول کو اپنا شیوہ بنایا جائے ،صبر کے تقاضوں پر عمل کیا جائے۔۔۔۔۔۔نیز اسلاف کی تحریروں کا ان کے بتائے ہوئے رہنما اصول کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور اس سے صحیح نتائج تک پہنچا جائے ۔ لیکن تکلیف دہ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کی بعض قائدین کی تحریروں کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے، تو فورا ایک طبقہ نیتوں پرحملہ شروع کر دیتا ہے اور کسی مخصوص جماعت کی طرف اس کی نسبت اور انتساب کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ جو انتہائی کم علمی کی بات اور بے بصیرتی کی دلیل ہے ۔ ایک مومن مخلص کی شان تو یہ ہے کہ حکمت کی بات جہاں ملے، مرض اور بیماری کا نسخہ جس طبیب کے پاس ملے ،  وہ اس کو آزمالے۔ حدیث شریف میں بھی اسی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ ،، الحکمة ضالة المومن حیث وجدھا فھو احق بھا،،      علم و حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے جہاں کہیں ملے وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ مستحق اور حقدار ہے ۔ خیر اس تمہد طولانی کے بعد مولانا مرحوم کے خط کے مشمولات کو ملاحظہ کیجئے ۔مولانا مرحوم لکھتے ہیں :" ہندوستان کے مسلمانوں نے ابھی ابھی اپنا جو انجام دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں، وہ در اصل خمیازہ ہے ،ان کوتاہیوں کا جو پچھلی صدیوں میں ہمارے حکمران ،ہمارے امراء ،ہمارے مذہبی پیشواؤں کا ایک بڑا گروہ اور باستثنا چند ،ہمارے عام اہل ملت اپنے اس فرض کی ادائی میں برتتے رہے ہیں،جو مسلمانوں کی حیثیت سے ان پر عائد تھا ۔ اگر وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کرتے،اگر وہ اپنے اخلاق اور معاملات اور اپنی سیرتوں میں اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرتے، اور اگر اپنی سیاست اور حکمرانی میں عدل و انصاف پر قائم رہتے ،اور اپنی طاقتوں کو اسلام کی سچائی پھیلانے میں صرف کرتے تو آج دہلی اور مغربی یوپی اور مشرقی پنجاب سے مسلمان اس طرح بیک بیتی و دو گوش نہ نکال دئے جاتے، جیسے اس وقت نکالے گئے ہیں، اور یوپی ،بہار اور وسط ہند میں ان کے سر پر اس طرح تباہی منڈلا رہی نہ ہوتی ، جیسی آج منڈلا رہی ہے ۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سات آٹھ سو سال تک مسلمانوں کا اقتدار رہا ہے،جہاں مسلمانوں کی بڑی بڑی عظیم الشان جاگیریں ،حیدر آباد کی پائے گاہوں سے کئی کئی زیادہ بڑی جاگیریں قائم رہی ہیں  اور جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ان کے علوم و فنون کے عظیم الشان مرکز موجود رہے ہیں ۔ لیکن عیش دنیا میں انہماک، فوجی طاقت اور سیاسی اقتدار پر انحصار ،اسلام کی دعوت پھیلانے سے تغافل اور انفرادی سیرتوں اور اجتماعی طرز عمل میں اسلام کے اخلاقی اصولوں سے انحراف کا یہ نتیجہ ہوا ،کہ ان علاقوں کی عام آبادی غیر مسلم رہی ،مسلمان ان کے درمیان آٹے میں نمک کے برابر رہے اور دلوں کو مسخر کرنے کی بجائے معاشی اور سیاسی دباؤ سے گردنیں اپنے سامنے جھکوانے پر اکتفا کرتے رہے ۔ پھر جب سیاسی اقتدار  ان سے چھنا اور ایک غیر ملکی قوم ان پر مسلط ہوئی ،تب بھی انھوں نے اور ان کے رہنماؤں نے ان اسباب کو سمجھنے کی کوشش نہ کی،جن کی بنا پر وہ حاکم سے محکوم بن کر رہ گئے تھے،بلکہ انہوں نے غیر ملکی حکمرانوں کے بل پر جینے کی کوشش کی اور اپنے سیاسی مطالبے اور دعوے کو ہمسایہ اکثریت کے مقابلے میں اس تیسری طاقت سے،جس کے اقتدار کو بہر حال عارضی ہی ہونا تھا ،منواتے رہے ۔ اس تمام مدت میں زندگی کی جو مہلت مسلمانوں کو ملی تھی ،اس میں اپنی اخلاقی اصلاح کرنے اور اپنے بزرگوں کی غلطیوں کی تلافی کرنے کے بجائے ، مسلمان محض معاشی اور سیاسی فائدوں کے لئے غیر مسلم اکثریت کے ساتھ کشمکش کرکے بظاہر یہ سمجھتے رہے ، کہ وہ اپنے جینے کا سامان کر رہے ہیں، لیکن در اصل اپنی قبر کھود رہے تھے ۔ آخر کار آج ہماری بد قسمت آنکھوں نے دیکھ لیا کہ بہت سے اس قبر میں دفن ہوگئے اور بہت سے زندہ درگور ہیں " ( ترجمان القرآن جون ۱۹۹۶ ء)      اس تحریر سے ہم اور آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جس ملک میں ہم اور آپ رہ رہے ہیں یہاں کار انسانیت، دعوت و تبلیغ، پیام انسانیت، سماجی خدمات اور  ملی و سماجی کاموں کے کرنے کی کتنی سخت ضرورت ہے اور یہ کہ بحیثیت مسلم امہ ہماری کیا کیا ذمہ داریاں  بنتی ہیں، اور کن کاموں اور ذمہ داریوں کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اور  یہ کہ موجودہ ملکی صورتحال میں سماجی ملی اور دعوتی کاموں کی انجام دہی کس قدر ضروری اور لازمی ہے ۔     لہذا ضرورت ہے کہ ہم وقت اور حالات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے وسیع تر ملی و قومی اور انسانی مفاد کے لیے اجتماعی جدو جہد کریں اور ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے دعوتی فضا اور ماحول کو قائم کریں اور ہر آدمی اپنی بساط بھر اس کے لیے ضرور کوشش کرے، دعوت دین کے جتنے ذرائع ہیں مثلاً تقریر و خطاب، دعوتی خطوط و مضامین، دعوتی اسفار، دعوتی و علمی مجلسیں اور مذاکرات ان سب کے ذریعے ہم اسلام کی زریں تعلیمات کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں، انسانی نفسیات اور مخاطب کی ذہنی و فکری سطح کی رعایت کرتے ہوئے، منطقی طرز استدلال اور دعوت دین میں تدریج کا خیال کرتے ہوئے, کیونکہ کار دعوت کے ساتھ حکمت اور موعظت حسنہ نیز جدال احسن لازم و ملزوم ہے، ایک آخری بات جس کا ذکر بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے مضامین دعوت بھی ہو، آنحضرتﷺ نے ابتدا میں صرف ان باتوں کی تعلیم دی، جن کی بنیاد اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مضامین یہ تھے۔ وحدانیت، رسالت محمدی، قرآن کی دعوت، تصور آخرت کی دعوت، مقام انسانیت و مقصد تخلیق انسانیت۔۔    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی طریقئہ کار کی اہمیت کو جاننا بھی ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کی بنیاد انسانیت کے وسیع ترین تصور پر رکھی، قوموں، نسلوں، زبانوں، رنگوں اور جغرافیائی تفرقوں کو نظر انداز کیا، صحیح عقیدہ و فکر سے لوگوں کو واقف کرایا، قومی عصبیت، علاقائی امتیاز اور اونچ نییچ کی جڑ کاٹ دی، اور ایک عالمگیر اخوت کی بنیاد ڈالی، اور ایک عظیم معاشرتی انقلاب برپا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کاآغاز خالص خدا پرستی کی بنیاد پر کیا تھا، آپ پوری انسانیت کی فلاح کے لیے اٹھے تھے، آپ کی دعوت ہر ملک ہر قوم اور زمانے کے لیے تھی، آپ کی دعوت نے انسانوں کو انسانیت کی عظمت سے آشنا کیا اور ایسا انقلاب برپا کیا کہ جو لوگ اس میں شامل ہوئے وہ اخلاص، بے نفسی خدا کی رضا جوئی ، ایثار و قربانی اور بے غرضی کا پیکر بن گئے اور اس طرح ایک مختصر اور قلیل مدت میں دنیا ایک صالح نظام حیات، شاندار تہذیب وتمدن سے آشنا ہوئی اور پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا اور رسالت محمدی کی حقانیت ایک صداقت بن گئی۔۔ (مستفاد امثال الحدیث / ۱۹۰/۱۹۱)       آج ضرورت ہے کہ داعیان حق اور کار دعوت میں لگے لوگ موجودہ زمانے کے فساد و بگاڑ کو دور کرنے کے لیے اس وسیع تصور کے ساتھ دعوت کا فریضہ انجام دیں اور پیغمبرانہ طریقئہ تبلیغ کی پیروی کریں۔    ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی، گڈا، جھارکھنڈ 6393915491

Monday, August 14, 2023

جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی

-

         *جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی*
         
    ✍️محمد نصر الله ندوی
    
     
            ہم جس ملک ہندوستان میں رہتے ہیں،یہ مختلف تہذیبوں کا گلدستہ ہے،یہاں ہر مذہب کے ماننے والے لوگ بستے ہیں،جن کو دستور نے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے،یہ ایک نہایت عظیم ملک ہے،جس کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا :سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
  
                  اس ملک کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے،اس کے چپہ چپہ پر سرفروشی کی داستان رقم ہے،اس ملک کی آزادی میں صرف خون کے قطرے ہی نہیں،بلکہ خون کی ندیاں بہائی گئی ہیں،آزادی کی داستان اتنی دل فگار اور دلدوز ہے کہ اس کو سننے کے بعد انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں!
  
                 جب اس ملک پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہوگیا اور سات سمندر پار سے آنے والے سفید انگریز، یہاں کے سیاہ وسپید کے مالک بن بیٹھے،تو سب سے پہلے جس نے انگریزی سامراج کے خلاف منظم لڑائی کا آغاز کیا، وہ نواب سراج الدولہ کےنانا علی وردی خان تھے،انہوں نے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج پر انگریزوں کے خلاف دھاوا بول دیا، جہاں انگریزوں نے پناہ لے رکھی تھی، اور ان کو بھاگنے کیلئے مجبور کردیا۔ ،اس کے بعد ان کے نواسے سرج الدولہ نے انگریزوں سے میدان جنگ میں مقابلہ کیا،تاریخ میں یہ واقعہ پلاسی کی جنگ سے جانا جاتا ہے ، پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ نے انگریزوں کے چھکے چھڑا دیئے اور اتنی ہمت اور جواں مردی کا ثبوت دیا کہ ان کے دانت کھٹے کر دیئے،اس جنگ میں اگر چہ سراج الدولہ کو شکست ہوئی،لیکن انہوں نے بغاوت کی جو چنگاری بھڑکائی تھی،وہ ایک شعلہ میں تبدیل ہو گئی،1783 میں شیر ہندوستان ٹیپو سلطان نے میسور کا اقتدار سنبھالا اور انگریزوں کا جینا حرام کر دیا،وہ انگریزوں سے مقابلہ کرتے رہے اور پوری طاقت کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے،ان کا ایک تاریخی جملہ ہے،جو آج بھی آزادی کے سپاہیوں کو ایک نیا حوصلہ عطا کرتا ہے،انہوں نے کہا تھا کہ شیر کے ایک دن کی زندگی ،گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے،ٹیپو سلطان آخری سانس تک پوری ہمت کے ساتھ آزادی کیلئے جنگ کرتے رہے،لیکن آخر کار شہید ہو گئے،ان کی لاش پر کھڑے ہو کر انگریز وائے سرائے نے کہا تھا:
 آج سے ہندوستان ہمارا ہے!
  
                  ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد آزادی کی لڑائی کو شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور ان کے رفقاء نے نئی توانائی عطا کی،1803 میں شاہ عبد العزیز نے فتوی دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہے،اور انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے،اس فتوی کا ملک گیر اثرا ہوا اور ہر طرف سے انگریزوں کی زمین تنگ ہو نے لگی،اس فتوی کا اثر تھا کہ سید احمد شہید اپنے رفقاء کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے اور بالا کوٹ کی سرزمین پر جام شہادت نوش کیا،ان کی شہادت نے اپنا رنگ دکھایا اور علماء کرام میدان جنگ میں آگئے اور انگریزوں کے خلاف محاذ کھول دیا،1857 کی خونیں جنگ جس کو انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا،آزادی کا ٹرننگ پوانٹ تھا،اس جنگ میں مولانا رحمت الله  کیرانوی،مولانا فضل حق خیر آبادی ،حاجی امداد الله  مہاجر مکی ،مولانا قاسم نانوتوی ،مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا احمد الله مدراسی ،مولانا یحیی علی اور مولانا جعفر تھانیسری نے نمایاں کردار کیا،یہ جنگ اتنی قیامت خیز تھی کہ لفظوں میں بیاں نہیں کیا جا سکتا،کشتوں کے پشتے لگ گئے،خون کی ندیاں بہ پڑیں،علماء کرام کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا،دلی سے لاہور تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا،جس پر علماء کو پھانسی نہ دی گئی ہو،انگریزوں کو اس سے بھی تسلی نہیں ہوئی ،انہوں نے کھولتے ہوئے تیل میں علماء کو ڈالا،توپوں کے دہانے ان کے جسم پر کھول دیئے اور ان کے پرخچے اڑا دیئے ،خود انگریز مؤرخ نے لکھا ہے کہ علماء کے ہاتھ پیر باندھ دیئے جاتے اور ان کو توپوں کے سامنے رکھ دیا جاتا،ان کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا جاتا ،اور چند لمحوں جل کر وہ کباب بن جاتے !
 
                آزادی کی جنگ طویل عرصہ تک جاری رہی، اس کی تاریخ مسلمانوں کے خون سے عبارت ہے ،یہ جنگ1857 کے بعد بھی جاری رہی اور انیسویں صدی کے آغاز میں برادران وطن کی شمولیت ہوئی ،گاندھی جی کی قیادت میں بھارت چھوڑو  تحریک شروع ہوئی، جس میں مولانا محمد علی جوہر ،مولانا محمد علی شوکت،مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور مولانا ابو الکلام آزاد نے زبردست رول ادا کیا اور آخر کار انگریزوں کو یہاں سے بھاگنا پڑا، 1947 میں یہ ملک آزاد ہو گیا،لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد حکومتوں کی طرف سے
 مسلسل مسلمانوں کو نظر انداز کیا گیا،ان کے حقوق کو پامال کیا گیا،ان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کو روا رکھا گیا،جنگ آزادی میں ان کی قربانیوں کو فراموش کردیا گیا،ان کی روشن تاریخ کو اوراق سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے،ان کی جان،مال اور آبرو پر دست درازی کی جارہی ہے،حتی کہ ان کے دین وشریعت پر حملہ کیا جارہا ہے،میوات  سے گروگرام تک ،اترا کھنڈ سے مدھیہ پردیش تک،یوپی سے آسام تک ہر جگہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے،ان کے گھروں کو بلڈوز کیا جارہا ہے،نوجوانوں کو اندھا دھند گرفتار کیا جارہا ہے،ان کو بڑی تعداد میں پس زندان پہنچایا جارہا ہے،چلتی ٹرین میں مسلمانوں پر گولیاں برسائی جارہی ہیں،ان کا معاشی بائیکاٹ کیا جارہا ہے،ان کے آثار ونقوش کو کھرچ کھرچ کر مٹایا جارہا ہے،ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر اس ملک میں رہنا ہے تو ہمارے کلچر کو اختیار کرنا پڑے گا!

               یہ صورتحال ہے نہایت تکلیف دہ اور خطرناک ہے،ہمارے اجداد نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری قربانیوں کا صلہ ہماری نسلوں کو اس طرح ملے گا،جس چمن کو مسلمانوں نے اپنے لہو سے سینچا تھا اور جس کی آبیاری میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا،آج اسی چمن میں ان کے آشیانہ کو اجاڑ کر ان کے جگر کو چھلنی کیا جارہا ہے!
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی 
تو سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی 
جب بہار آئی تو کہتے ہیں اہل چمن 
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...