Translate

Tuesday, July 28, 2020

دل ناداں اگر سنبھل جائے

محمد صلاح الدین رضوی
مظفر پور ، بہار

دل کی حسرت اگر نکل جائے
وقت رخصت بھی دل مچل جائے

جب بکھر جائے زلف شانے پر
دھوپ چھا ئوں میں پھربدل جائے

سارا عالم خموش بیٹھا ہے
کچھ تو کہئے کہ دل بہل جائے

راہ تکتا ہوں اسکی میں لیکن
آتے آتے  نہ وہ   بدل     جائے

عزم کرتا ہوں ترک الفت کا
دل ناداں اگر سنبھل جائے

چاند تارے بھی توڑ لاؤںگا
 قلب ظالم کا جو پگھل جائے


شمع روشن ہو جب کبھی رضوی
کوئی   پروانہ   آئے    جل   جائے



Monday, July 27, 2020

نبیﷺکا طرز دعوت مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

نبیﷺکا طرز دعوت مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

دعوتی میدان میں داعی کی ذاتی زندگی کی بڑی اہمیت ہے، اور اس کے طرز تخاطب کو بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺکی ذاتی زندگی کے شب و روز بجائے خود پیغام دعوت تھے، اور آپﷺکا اندازِ گفتگو بھی فطری، مؤثر، دل نشیں اور قابل کشش تھا۔ آپﷺکے طرز دعوت میں بہت تنوع ہے، اس لیے کہ آپﷺ مخاطب کی ذہنی، فکری اور علمی استعداد خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔اگر مخاطب بدوی ہے تو اس کو اسی کے معیار اور اسی کی زبان میں سمجھاتے تھے، تاکہ اس کے سامنے مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔اگر مخاطب اہل کتاب ہیں تو ان سے آسمانی تعلیمات کی روشنی میں بات کرتے اور وہی اسلوب اختیار کرتے تھے جوان کو مانوس کرے۔اگر مخاطب بادشاہ ہے تو اس کے لیے وہی اسلوب اختیار کرتے تھے، جو قابل فہم اور زود اثر ہو، اور عزم و استقلال سے لبریز اور مرعوبیت کے شائبہ سے بھی پرے ہو۔آپﷺکا یہ عمل اس فرمان کی عملی تصویر تھا:’’أنزلوا الناس منازلہم‘‘(لوگوں سے ان کی قدر و منزلت کے مطابق پیش آؤ۔)(سنن أبی داؤد: ۴۸۴۴)
آپﷺکا طرزِ دعوت ٗحکمت، نصیحت اور مجادلۂ حسنہ سے تعبیر تھا، اور حکمت کا پہلو تمام مراحل دعوت میں قدرے مشترک تھا۔ آپﷺکارِ دعوت میں بتدریج افراد کی اسلامی ذہن سازی کے قائل تھے، اور یہی مقصود الٰہی بھی تھا، صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
’’إنما نزل أول ما نزل منہ سورۃ من المفصل فیہا ذکر الجنۃ والنار حتی إذا ثاب الناس إلی الاسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیٔ لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا  أبداـ‘‘(قرآن کریم میں سب سے پہلے مفصل کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ جب لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تو پھر حلال و حرام کا حکم نازل ہوا، اور اگر پہلے ہی مرحلہ میں یہ شراب کی ممانعت کا حکم نازل ہوجاتا تو یقینا لوگوں کا رد عمل یہ ہوتا کہ وہ کہتے: ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر ان کو حکم دیا جاتا کہ تم زنا مت کرو، تو وہ کہتے: ہم زنا نہیں چھوڑ سکتے۔)
(صحیح البخاری: ۴۹۹۳)
آپﷺکا دعوتی اسلوب نہایت نرم لہجہ تھا، اور اس ہدایت کا عملی نمونہ تھا:
’’علیک بالرفق والقول السدید ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا‘‘(نرمی اختیار کرو، محکم بات کہو، اور ترش لہجہ نہ اختیار کرو، اور نہ ہی گھمنڈ کرو اور نہ ہی کسی سے حسد کرو۔)
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱/۳۱۵)
آپﷺجب لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے تو مختصر مگر جامع خطبے دیتے اور وہ بھی موقع محل کی پوری رعایت کے ساتھ، آپﷺ صحابہ کرام کو بھی مختصر وعظ و نصیحت کی تلقین فرماتے تھے، سنن ابو داؤد میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’أمرنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم باقصار الخطب‘‘(ہمیں رسول اللہﷺنے مختصر تقاریر کی ہدایت فرمائی۔)(سنن أبی داؤد: ۱۱۰۸)
آپﷺکے وعظ و نصیحت کا انداز نہایت ناصحانہ، مشفقانہ اور مربیانہ تھا، اسی لیے آپﷺ کا خطاب ایسا عمومی ہوتا تھا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے، اسی لیے اکثر روایات کے شروع میں ہمیں ایسے جملے ملتے ہیں:
’’ما بال أقوام‘‘(لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔)
(سنن أبی داؤد: ۴۷۹۰، سنن الترمذی: ۲۲۷۰)
آپﷺکی طبیعت نرم خو اور مانوس کن تھی، اور آپ کا یہ طبعی وصف میدان دعوت میں نمایاں تھا، خود آپ کا فرمان عالی ہے:’’إن اﷲ لم یبعثنی معنتا ولکن بعثنی معلما میسرا‘‘(اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا ہے،بلکہ مجھے سکھانے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بناکر مبعوث کیا ہے۔)(صحیح مسلم: ۳۷۶۳)
آپﷺممکنہ حد تک سہولت پسندی کے قائل تھے، تاکہ مدعو اکتاہٹ سے محفوظ رہے،اور اس کی جذبۂ طلب میں اضافہ کے ساتھ انس بھی برقرار رہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یتخولنا بالموعظۃ فی الأیام مخافۃ السآمۃ علینا‘‘(نبی اکرمﷺہم کو دنوں کے ناغہ کے ساتھ وعظ فرماتے تھے، ہماری اکتاہٹ کے اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔)(صحیح مسلم: ۷۳۰۵)
نبیﷺکا دعوتی مشن ۲۳ ؍سال پرمحیط ہے، لیکن اس میں بھی مختلف مراحل ہیں، آپﷺکی دعوتی زندگی کا پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں چھپ کر آپ کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں، پھر جب متبعین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مکہ میں علی الاعلان دعوتی سرگرمیاں جاری ہوگئیں، مگر انداز نہایت دفاعی اور مثبت تھا، اور بہر صورت صبر و تحمل پر مبنی تھا، پھر جب مکہ کے حالات از حد دگرگوں ہوگئے، تو آپ ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی، مدینہ میں آپﷺکے دعوتی حدود نہایت وسیع ہوگئے، جہاں آپﷺ نے دس سال کے مختصر عرصہ میں ایک عظیم امانت کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔
بعثت نبوی کے تین سال تک دعوت کا کام مخفی رہا، اور ایک مختصر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی، پھر حکم الٰہی ہوا کہ دعوت کے حدود کو وسعت بخشی جائے، لہٰذا آپﷺ  نے دعوت و تبلیغ کے مختلف طریقے اختیار کیے، آپﷺ کی دعوت و تبلیغ پر اہل مکہ کا سخت رد عمل ظاہر ہوا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اذیتیں دیں، سماجی بائیکاٹ کیا، اور سخت پھبتیاں بھی کسیں، لیکن آپﷺ نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیااور اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ مکہ مکرمہ کے ان نازک حالات میں آپ ﷺکی دنیوی دل بستگی کے دو اہم مصادر(ابو طالب، خدیجہ) تھے، جن کی سیاسی و معاشی پشت پناہی حضور ﷺ کو حاصل تھی، اور ان کی موجودگی اہل مکہ کی ایذا رسانیوں میں بڑی حد تک حاجب تھی۔ اسی لیے جب سن ۱۰؍ نبوی میں ایک مہینہ کے فاصلہ سے یہ دونوں ہستیاں دار فانی سے رخصت ہوگئیں تو آپﷺ کو طبعاً سخت رنج و غم ہوا اور دو اہم سہاروں کے اٹھ جانے کا شدید قلق رہا، اسی لیے آپﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال)سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں کی وفات کے بعد اہل مکہ کی زبانیں آپ ﷺ پر مزید دراز ہونے لگی تھیں۔گویا مکہ کی زمین اپنی وسعتوں کے باوجود آپ پر تنگ ہوگئی تھی اور خیر کی امیدیں کم ہی نظر آرہی تھیں، اسی لیے آپﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر پیغام حق کی دعوت کا ارادہ کیا اور ہجرت فرمائی۔

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر   مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

سیرت نبوی علیہ السلام کا ہر پہلو نمایاں اور سورج سے زیادہ روشن ہے اور دنیا کی آخری تاریخ تک اسی طرح روشن وتاباں رہے گا، سیرت دراصل ایک ناپیدا کنار سمندر ہے، اس میں جس قدر غوطہ لگایا جائے گا، اسی قدر لعل وگوہر برآمد ہوتا  رہے گا، اﷲ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کو کامل ترین انسان اور آپ (ﷺ)کی ذات اقدس کو بہترین وہمہ گیر اسوہ بنایا۔ ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’گویا پورا قرآن حکیم آپ کے اخلاق وسیرت ہے۔‘‘
اوراق سیرت میں آپﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ گھریلو زندگی کیسی ہوتی ہے اور گھر سے باہر کی زندگی کیسی؟ سیرت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ آپ کی دعوت اور گھر کی زندگی میں یکسانیت پائی جاتی ہے، گھر سے باہر الگ اور گھر کے اندر کی زندگی الگ نہیں، بلکہ آپ کی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو ہر ایک کے لیے کھلی کتاب ہے، یہاں پر آپ کی گھریلو زندگی کے چند پہلو کی طرف اشارہ پر اکتفا کیا جائے گا۔
آپ ﷺ کی زندگی کو اگر گھر کے ماحول میں ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ایک مثالی شوہر کی حیات طیبہ سامنے آئے گی کہ آپ کی پاک زندگی میں آبگینوں کے ساتھ حسن سلوک اور بے مثال عادلانہ ومنصفانہ معاشرتی زندگی کا اہتمام ہے، آپ ﷺ نے ایک شوہر کی حیثیت سے ازواج مطہرات (رضی اﷲ عنہن)کی ناز برداری بھی فرمائی، آپ کی ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ ہے،ان سب کا تعلق مختلف معززقبائل اور شریف خاندانوں سے تھا، اور طبیعت ورنگ ونسل کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے فرق تھا، اور نسوانی فطرت کی اساس پر اگر کوئی واقعہ پیش آجاتا تو آپ ﷺ خوش اسلوبی سے مسئلہ کو حل کرتے اور نسوانی جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انگیز فرماتے تھے۔ اﷲ کے رسولﷺ نے امت کو یہ تعلیم فرمائی کہ ’’اس آدمی کا ایمان کامل ہے جس کا اخلاقی برتاؤ (سب کے ساتھ) اچھا ہو(اور خاص کر) بیوی کے ساتھ اس کا رویہ لطف ومحبت کا ہو‘‘۔ آپ ﷺ کی اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لطف ومحبت کو ’’ایمان کامل‘‘ سے تعبیر کرکے ایسی تاکید فرمائی گویا بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کمال ایمان کی شرط ہے۔
شوہر کا ایک خوشگوار اور اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اگر اس کے کئی بیویاں ہوں تو سب کے ساتھ برابری اور مساوات کا معاملہ کرے۔ آپ ﷺ نے ازواج مطہرات کے درمیان مساوات اور عدل وانصاف کا برتاؤ فرمایا، اور انصاف کے ساتھ ہر ایک کا پورا حق ادا فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’اﷲ کے نبیﷺ اپنی ازواج کے مابین حقوق کی تقسیم میں عدل وانصاف فرماتے تھے‘‘۔ آپ ﷺ نے اسی کی بابت فرمایا کہ ’’اے اﷲ! میری یہ تقسیم ہے ان چیزوں پر جن پر میرا قابو ہے، بس تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ کر جو خاص تیرے قبضے میں ہے اور میرے قبضے میں نہیں‘‘۔ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت خوشگوار تھے۔
اور اس شخص کے بارے میں جو بیویوں کے درمیان انصاف اور مساوات کا سلوک نہیں کرتا،آپ ﷺنے حدیث شریف میں اس آدمی کی نسبت بتایا ہے کہ ’’اگر کسی کے دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ انصاف ومساوات کا برتاؤ نہیں کیا تو قیامت کے روز اس حال میں وہ شخص آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گر گیا ہوگا‘‘۔ گھر کے ماحول کو اچھا رکھنے کے لیے اچھا اور معیاری ومثالی برتاؤ اختیار کرنے کی آپ ﷺ کی طرف سے ہدایت ہے کہ ’’تم میں سب اچھا وہ آدمی ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہوں‘‘۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بحیثیت شوہر آپ نے ازواج کو ان کے حقوق ادا فرمائے اور ان کی حتی الامکان دلداری ودل جوئی فرمائی، اور اس عمل کے ذریعہ یہ درس دیا کہ دل جوئی ودل داری کرنا بھی شوہر کے حسن سلوک وحسن معاملہ میں داخل ہے۔ایک مرتبہ کی بات ہے کہ ایک سفر میں ازواج مطہراتؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں، انجشہ نامی ایک حبشی غلام حدی خوانی کرتا جاتا تھا اور اونٹ حدی سن کر مست ہوکر تیز چلنے لگتے ہیں تو اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’انجشہ! دیکھو، آبگینے ٹوٹنے نہ پائیں‘‘۔اسی طرح آپ ﷺکا معمول یہ تھا کہ کہیں ’’اگر سفرہوتا اورازواج میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہوتی تو قرعہ اندازی سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا اور سفر میں اس کو ساتھ لے جاتے‘‘۔ یہ قرعہ اندازی صرف آپ ﷺ کی طرف سے دل جوئی اور دلداری کے واسطے ہوتی تھی جب کہ آپ کو کسی کو ساتھ لے جانے کا اختیار تھا۔آپ ﷺ عشاء کے بعد کبھی کبھی ازواج کی دل جوئی کی خاطر قصے سناتے تھے اور ان سے سنتے بھی تھے، احادیث کی کتابوں میں ’’حدیث خرافہ‘‘ اور ’’حدیث أم زرع‘‘ اس کی بہترین مثال ہیں۔
آپﷺ کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اور ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت محبت اور اخلاص کے تھے، لیکن ان سب کے ساتھ آپ دینی وشرعی امور کی نگرانی بھی فرماتے تھے، دین وشرع کے خلاف کوئی بات ہوتی تو آپ تنبیہ اور سرزنش فرماتے تھے، تنبیہ اور سرزنش کے معاملہ میں آپ کا انداز اور اسلوب خاص تھا کہ مخاطب بات بھی سمجھ لے اور اس پر کچھ زیادہ گراں بھی نہ گزرے، آپ کی یہ تنبیہ اور محاسبہ بھی حقیقت میں آپ کی محبت ہی کا ایک پہلو تھا۔اس کو سمجھنے کے لیے ایلاء کا واقعہ نہایت موزوں اور مناسب ہے۔
ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ’’حسبک من صفیۃ کذا وکذا‘‘یہ بات سن کر آپ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’اے عائشہ! تم نے ایسی بات زبان سے نکال دی ہے کہ اگر وہ سمندر میں بھی ملا دی جائے تو اس کی کڑواہٹ اس کو بھی تلخ کرکے رکھ دے‘‘۔ اسی طرح متعدد مواقع پر آپ نے ازواج مطہرات کی دینی رہنمائی اور دینی نگرانی فرمائی اور خلاف شرع معاملات میں تنبیہ بھی فرمائی۔
  سیر وتفریح سے انسان کے ذہن ودماغ کو سکون اور آرام ملتا ہے، نیک مقصد کی خاطر سیر کرنا شریعت کی نگاہ میں ممنوع نہیں ہے، سیر کی جگہ ایسی ہو جو شرع کی نگاہ میں ممنوع نہ ہو،کیونکہ اس سے زوجین کے باہمی تعلقات پرلطف اور مزید خوشگوار ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ایک پہلو بحیثیت شوہر یہ بھی موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ کے کھیل کود اور تفریح کے واقعات احادیث میں موجود ہیں، حدیث میں یہ واقعہ بھی درج ہے کہ آپ علیہ السلام اور حضرت عائشہؓ کے مابین دو دفعہ دوڑ کا مقابلہ ہوا،ایک دفعہ میں تو حضرت عائشہ ؓ آگے نکل گئیں اور دوسری دفعہ میں آپ ﷺ آگے نکل گئے اور وہ پیچھے رہ گئیں، اس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ اس دن کا جواب ہے‘‘۔
نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے خوشگوار باہمی تعلقات پر زاد المعاد میں لکھا ہے کہ ’’نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ نہایت محبت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے تھے، حضرت عائشہؓ کے پاس انصار کی لڑکیاں جمع ہوجاتیں اور آپ ان کو ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتے، اگر وہ کسی ایسی بات کی خواہش کرتیں جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہوتی تو آپ ﷺ ان کی خواہش پوری کردیتے، وہ جس برتن سے پانی پیتیں آپ بھی اس برتن سے ان کے منھ لگانے کی جگہ سے منھ لگاکر پانی پی لیتے، جس ہڈی کو وہ چوستیں اس ہڈی کو آپ بھی لے کر چوستے، ایک مرتبہ اہل حبشہ مسجد نبوی میں اپنے کرتب دکھارہے تھے، آپ نے حضرت عائشہؓ کے لیے اس کا موقع پیدا فرمایا کہ وہ آپ کے کندھے کی اوٹ سے ان کے کرتب دیکھ لیں، دو مرتبہ آپ سفر کے موقع پر ان کے ساتھ دوڑے بھی، آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں، عصر کی نماز پڑھ کر آپ کا یہ معمول بنا ہوا تھا کہ تمام ازواج کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے احوال دریافت فرماتے، پھر شب میں جس کی باری ہوتی اس کے یہاں قیام فرماتے‘‘۔

محمد مصطفی ﷺکی معرفت مولانامحمد فاروق عبدالسمیع ندوی

محمد مصطفی ﷺکی معرفت  مولانامحمد فاروق عبدالسمیع ندوی

اللہ سے محبت کا پہلا زینہ اطاعت رسول ہے، اطاعت کاملہ اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ رسول کی عظمت و محبت دلوں میں رچی بسی ہو، اور عظمت و محبت کا دارو مدار معرفت پر ہے، بدون معرفت عظمت و محبت اور اطاعت رسول کا تصور ہی ناممکن ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر چند حقوق ہیں جو ثابت شدہ ہیں، انکی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، ان میں سے سب سے پہلا حق معرفت ہے جو دوسرے حقوق کیلیے مدخل کی حیثیت رکھتا ہے ،باقی حقوق کی ادائیگی اسی پر موقوف ہے جیسے کسی کے بارے میں معرفت ہوتی ہے اسی طرح اس کے بارے میں عقیدہ اور عمل ہو تا ہے ،البتہ اس مقام پر اس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ا گر رسول گرامی کی معرفت کا ملہ کا حصول نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔
ا س کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی معرفت کا ملہ اس وقت حاصل ہو گی جب آپ کے تما م شؤون (حیثیتوں ) سے پوری آگاہی حاصل ہو جو کہ اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،بعض شؤون نبی درج ذیل ہیں ۔
دنیوی-اخروی-ظاہری-باطنی -جسمانی- عقلانی- روحانی- قرآن مجید اور باقی آسمانی کتب میں۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان آپ کی معرفت کا ملہ کا دعوایدار نہیں ہے۔معرفت نبی ۖکے (Sources)درج ذیل ہیں
۱-قرآن مجید۲-دیگر آسمانی کتب۳-سنت رسول ۴-اقوال اہل بیت۵-اقوال امہات المومنین ۶-اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۷-مسلمان مفکرین کی آراء ۸-غیر مسلم مفکرین کی آراء۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ ﷺ کی اجمالی معرفت کے درج ذیل پہلو ہیں ۔
(الف )ختم نبوت :آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ ختم نبوت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ،ارشاد الٰہی ہے :’’مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَآ اَ حَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِيینَ‘‘'(محمد )تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ص اور خاتم النبین ہیں '۔
خاتم یعنی مہر جیسے خط کے آخر میں اس کے اختتام کی نشاہدہی کر تی ہے اسی طرح آپ ﷺ کام وجودِ مبارک تمام انبیاء عظام کے صحیفہ نبوت کے ختم ہو جانے کی گواہی دیتا ہے، اب اور قیامت تک نہ کو ئی نبی آئے گا اور نہ کو ئی رسول ، آپ ﷺ کے بعدنزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ،البتہ نازل شدہ وحی کی تشریح و تفسیر اور تبیین کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ختم نبوت کا عقیدہ امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد کر تا ہے کہ وہ اب انسانی معاشرہ میں نبوت کا پیغام دوسروں تک پہنچائے اور اپنے قول وفعل سے دوسروں کو ہدایت کرے، علامہ محمد اقبال نے کتنے خوبصورت انداز میں اس ذمہ داری کی تشریح کی ہے ۔
پس خدا برما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق از مامحفل ایام را او رسل راختم وما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت داد ما آخریں جامے کہ داشت
ترجمہ :خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی ہے (جیسے) رسول اللہ ﷺ پر رسالت ختم کر دی ہے ، محفلِ ایام (دنیا) کی زینت و رونق ہماری وجہ سے ہے (آپ ﷺ تما م نبیوں اور رسولوں میں سے اکرم و افضل ہیں اور ہم امت مسلمہ تمام امتوں میں سے افضل ہیں)اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے (اب ہمارا فریضہ دوسری امتوں تک پیغام ہدا یت پہنچانا ہے)اللہ تعالیٰ (ہدایت )کا جو آخری جام بنی نوع انسان کو عطا کرنا چاہتا تھا وہ اس نے ہمیں(قرآن مجید کی شکل میں ) عطافرما دیا ۔
(ب)انسان کامل :آپ صورت وسیرت ،خلق وخُلق کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بے مثل ہیں ،اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر قسم کے عیوب سے پاک و پا کیزہ پیدا کیا ہے۔
اس واقعیت کا اظہار شاعر ِرسول ص،ثنا خوان نبی حضرت حسان بن ثابت نے یہ کہہ کر کیا ہے :
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ کُلِّ عَيبٍ
کَأَنَّکَٔ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآء
آپ ہر عیب سے خالی پیدا کیے گئے ہیں گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کے منشاء کے مطابق کی گئی ہے
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَينِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاء
اور آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ جمیل، عورتوں نے کبھی جنا
شیخ سعدی نے آپ کی اعلیٰ وبرتر شخصیت اور خوبصورت شمائل کے بارے میں فرمایا ہے :
بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہ
کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ
آپ اپنے کمال کی طاقت سے بلندیوں پر پہنچے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے تاریکیاں چھٹ گئیں
حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِہ
صَلُّوْ عَلَیہْ وَآلِہ
آپ  کے شمائل بہت خوبصورت تھے آپ ص پر اور آپ  کی آل پر درود بھیجو؛
اس ذیل میں عظیم شاعر حافظ شیرازی نے فرمایا ہے
یاَ صَاحِبَ الْجَمَالِ وَيا سَيدَ البَشَرِ
مِنْ وَجْھِکَ الْمُنْیرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرُ
اے صاحب جمال ،اے سیدالبشر! آپ کے چہرہ پر نور سے ہی چاند منورہوا
لاَ یمْکنُ الثَنآء  کَمَا کَانَ حَقُّہ
بعد از خدا بزرگ، توئی قصہ مختصر
آپ ﷺ کی ثنا اور نعت کا حق ادا کرنا ممکن نہیں مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد بزرگ تر آپ  ہی کی ذات ہے
(ج)افضل الا نبیا ء والمرسلین :آپ  تمام انبیا ء و مرسلین میں سے افضل ہیں اور ا س فضلیت کے کئی اسباب ہیں :
(۱)حضرت عیسیٰ ـ نے آپﷺ کی آمد کی بشارت دی ہے ،ارشاد ربانی ہے
’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ ياتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہ اَحْمَدُ‘‘
'جناب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہو ں تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کانام احمد ہے۔
اگر پیغمبر اسلام اور دیگر انبیا ء عظام یا حضرت عیسیٰ ـ آپ ﷺ کے ہم رتبہ ہو تے تو اس بشارت کی کیا اہمیت رہتی ہے؟ اسی طرح قرآن مجید میں کئی مقامات پر اور زبور میں بھی آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے ۔
(۲)مخلوق اول :روایات کی روشنی میں آپ خلقت نوری کے اعتبار سے اولین مخلوق ہیں ،فرمان نبوی ﷺ ہے :
’’أول ماخلق اللہ نوری ‘‘'سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نو ر کو خلق کیا ہے '۔
یہ مضمون متعدد، روایات میں آیا ہے ۔
(۳)صاحبِ لولاک:
مشہور حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے :
’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘'اے حبیب اگر آپ نہ ہو تے تو ہم افلا ک یعنی کائنات کو خلق نہ کرتے '۔
اس حدیث قدسی کے مطابق آپ وجہِ تخلیق کا ئنات ، مقصودِ کائنات اور اصلِ وجان کائنات ہیں ۔کائنات کی رونق اور عظمت آپ ﷺکی تشریف آوری کی بدولت ہے، علامہ محمد اقبال بھی اسرار و رموز میں فرماتے ہیں؛
اے ظہور تو شباب زندگی جلوہ ات تعبیر ِخواب زندگی
آپ کی تشریف آوری سے زندگی کوشباب نصیب ہوا اورآپﷺ کا ظہور خوابِ زندگی کی تعبیر ہے۔
اگر آپ ﷺ کا ظہور نہ ہو تا تو حیات ِکا ئنات کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو تا۔
(۴)مقام نور ی میں پہلے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :
آپﷺ مقام نوری میں اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم ـ تخلیق کے عمل سے گزر رہے تھے
ارشاد نبوی ہے:
’’کُنْتُ نَبِياً وَآدَمُ بَينَ الْمآ ء وَالطِّينِ ‘‘'میں اس وقت نبی تھا جب آدم ـ پانی اور مٹی کے درمیان تھے '۔
علامہ اقبال نے بھی کہا ہے :
جلوہ او قدسیاں راسینہ سوز بود اندر آب و گل آدم ہنوز
آپﷺ کا جلوہ اس وقت بھی فرشتوں کے سینو ں کو گرما رہا تھا جب حضرت آدم ـپانی اور مٹی کے درمیان تھے
(۵)گزشتہ شرائع منسوخ:
آپﷺ کی شریعت کے بعد تمام گزشتہ شرائع منسوخ کی گئیں اور نزول قرآن کریم کے بعد تمام گزشتہ آسمانی کتابیں منسوخ ہو ئیں ،قیامت تک شریعت محمدیہ اور قرآن کی تعلیمات حاکم ہیں۔

ربیع الاول کا پیغام عالم انسانیت کے نام مولانا محمد امام الدین ندوی

ربیع الاول کا پیغام عالم انسانیت کے نام     مولانا محمد امام الدین ندوی


ربیع الاول کا مہینہ آگیا یہ مہینہ نہایت ہی بابرکت ہے کیونکہ اس میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی جس وجہ سے ہرسوپھیلی تاریکی چھٹنے لگی، ہر طرف اجالاہی اجالا پھیلنے لگا، ظلم وستم کا دوردورہ ختم ہو گیا، اورامن وامان کی فضا قائم ہوگئی، لوگ اپنے مقصد حیات کو چھوڑکر خدافراموشی اور خود فراموشی کے عمیق غار میں جاچکے تھے انہیں نئی روشنی ملی، امانت داری اوردیانت داری دوردورتک نظر نہیں آرہی تھی اس کی شعا ئیں ہر سو بکھرنے لگیں، خادم ومخدوم کا بھیدبھاؤ ختم ہو گیا، معمولی بات پر صدیوں کے قتل وقتقل اور خوں ریزیوں سدباب ہوگیا، قبیلے کی برتری ختم ہو گٰٰئی اور سب کو بھائی بھائی بنادیا، عورتوں کو اس کا حق اور حیا عصمت وعفت کی چادر ملی، یتیموں اور بیواؤں کو انصاف ملا، خادموں اور غلاموں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بند ہو گئیں، پر. خطرراستے مامون ہو گئے۔راہزنراہرو بن گئے ۔ظالم مظلوم کا مسیحا بن گیا ۔طاقتور کمزوروں کا غمگسار بن گیا اور پریشانیوں میں ان کا مددگار بن گیا ۔محتاجوں کی محتاجی دور ہونے لگی ۔خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے میں لطف آنے لگا ۔بچیوں کا وجود رحمت بن گئی انہیں بھی دنیا کی بہاریں دیکھنے کا حق ملا ،انہیں زندہ درگور کرنا ظلم عظیم اورباعث عار بن گیا ۔یتیموں کے سرپر دست شفقت رکھنے والے اٹھ کھڑے ہوئےاور انکے مال کے سچے محافظ بن گے۔ بواؤں کی خبرگیری کرنے اورانکی دیکھ بھال کرنے کے لے افراد تیار ہو گے ۔صدیوً لڑنے والے امن کے پیکر وداعی بن گے ۔گلہ بان اور اونٹوں کے چرواہے ملک وملت کے سچے خادم ووفادار بن گے اورملک کے زمام حکومت تھام کر امن وسلامتی کی فضا قایم کرنے والے بن گئے۔
بندوں کو خدا سے رشتہ جو ڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،لوگ اپنے خالق حقیقی سے آشنا  ہو گئے،جاہلیت کی ساری رسمیں مٹ گئی اور جہالت اپنا بستر لپیٹ چلتی بنی۔جھوٹ ،چغلی ،غیبت، سب وشتم، فتراپردازی، بہتان تراشی امانت میں خیانت، دھوکا دھڑی کا جنازہ نکل گیا۔شراب خوری ،قماربازی، بدکاری و زناکاری،سود خوری کا خاتمہ ہوگیا360 خداؤں کے پجاری خدائے واحد کے  پرستار بن گئے۔بندوں کو جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا راستہ مل گیا۔انسانوں کو نئی زندگی ملی ظلم و جور کا خاتمہ ہوگیا،دنیا امن کا گہوارہ بن گئی اور یہ سب صرف 63 سال کے قلیل عرصے میں ہوا جو تاریخی انسانی کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے 14 سو سال سے زائد عرصہ گذر گیا ہمارے اندر وہ تمام خرابیاں پیدا ہو گئیں جو آپ کی بعثت سے پہلے تھیں دیگر قومیں ہمارے اوپر ہنس رہی ہیں۔ہمارے رویے نے  انہیں اسلام سے بدظن کر دیا ہے ہےوہ اسلام کی حقانیت اور آفاقیت تو سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے عمل سے متنفر ہیں کیونکہ جو بیماریاں دیگر قومیں ہیں ہیں وہی بیماریوں میں یہ مبتلا ہیں۔اخلاق و کردار کا فقدان ہو گیا ہےآپسی رساکشی سر چڑھ کر بولنے لگی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا مسلکی جھگڑے تنا ور درخت بن گئے۔ دلوں میں نفرت و کدورت کا غبار جم گیا آپس میں سلام و کلام بند ہوگئے، سلام نکاح توڑنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا دل تو بٹ ہی گئے خانہ خدا بھی بٹ گیا،مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہنے لگا فروعی مسائل حقیقی بن گئے اور حقیقی مسائل ناپید ہوگئے۔آپس میں سب دست وگریباں ہوگئے ۔جو کبھی ایک دسترخان پر کھاتے تھے اب وے اپنوں کی بجاے بجاے خیروں کے دستر خان کی زینت بن گے اور اپنے بھای کے دسترخوان پر کھانا حرام سمجھنے لگے نیزاپنے مسایل غیروں سے سلجھانے لگے خدائے واحد کی بندگی کے بجائےبتوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھنے لگے رسول اکرم کی پاکیزہ سیرت سے ہم کوسوں دور ہو گئے یہی خدا فراموشی نے ہمیں خود فرا موشی کا سبب بنا دیا اس لئے ہماری حکمرانی اور سیادت بھی چلی گئی ۔اور ہم دوسری قوم کے مرہون منت ہو کر رہ گئےاور دردر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہو گئے۔
ربیع الاول کا پیغام تو بس یہی ہے کہ ہم آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سراپا زندگی کو اپنا نصب العین بنا لیں ،زندگی کےہر شعبہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پاکیزہ کردار نظر آئے ہمارا ظاہری اور باطنی شباہت نبی کے طریقے پر ہو،بدعات و خرافات سے مکمل بچنے والے بنیں،ایک مخلص داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں۔آپ کا پاکیزہ کردار تمام انسانوں کے لئیے اور قیامت تک کے لیے ہے جو اس کو اختیار کرے گا وہ دنیا سرخ رو رہے گا۔ہمیں رسول کی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی زندگی میں ڈھالنا چاہئیےیہی اس ماہ کا پیغام ہے۔دنیا کو آج بھی اس پیغام کی ضرورت ہےجس سےدنیا امن شانتی کا گہوارہ بن جائے گی۔



سیرت سید الانبیاء ﷺ:ایک پیغام- ایک سبق- ایک تاریخ مولانا عبد المنان قاسمی

سیرت سید الانبیاء ﷺ:ایک پیغام- ایک سبق- ایک تاریخ   مولانا عبد المنان قاسمی


سیرت سید الانبیاء ﷺ رہتی دنیا تک کے لیے ایک پیغام، ایک سبق، ایک تاریخ، ایک اسوہ، ایک نمونہ، ایک رہ نما اصول اور ایک لاثانی ولافانی دستورِ حیات ہے۔ہر دور میں مصنفین، مولفین، مرتبین، علماء، فضلاء، صلحاء، اتقیاء، اصفیاء، فقہاء اور محدثین ومفسرین نے سیرت النبی ﷺ کو مختلف نوعیتوں اور متعدد جہات سے پیش کرنے کی وسعت بھر کوششیں کیں اور لاکھوں کی تعداد میں سیرت پر کتابیں وجود میں آتی رہیں، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالی! یوں تو ہر انسان آپ ﷺ کی سیرت وشخصیت سے اپنے دین ودنیا کو سنوار وسدھار سکتا ہے؛ لیکن خاص طور پر ایک مسلمان کے لیے اس سے سبق حاصل کرنا اور اس پر اپنی سیرت وشخصیت کو ڈھالنا ازحد ضروری وناگزیر ہے؛ کیوںکہ دنیوی واخروی کامیابی وکامرانی ایک مومن کا ہدفِ اساسی اور مقصدِ حیات ہے، جو حضرت سید الانبیاء وخاتم المرسلین ﷺ کی سیرت وکردار، رفتار وگفتار اور اطوار واقدار کو اپنائے بغیر ناممکن ہے۔ سیر ت النبی ﷺ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اہل اسلام واہل ایمان، اتباع رسول ﷺ کو فرض سمجھیں اور اپنے آپ کو، اپنے معاشرے اور سماج کو سیرت النبیﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی انتھک کوشش اور سعیٔ پیہم کریں؛ کیوںکہ اگر آج ہم اپنے معاشرے کے ارد گرد نظر دوڑائیں، تو معاشرہ سنت نبوی ﷺکے اسلامی احکامات کو چھوڑ کر شرک و بدعات جیسے خرافات کی دلدل میں لپٹا ہوا نظر آئے گا۔ مسلمان سیرت النبی ﷺ کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کرنے کے بجائے نہ سلجھنے والے مسائل اور لاینحل مصائب ومشکلات کی دلدلوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ آئیے! سیرت النبیﷺ کی روشنی میں حیاتِ انسانی کی دائمی کامیابی کا درس اور سرمدی فلاح ونجاح کا پروانہ تلاش کیا جائے، جس کے سیرت کے چند اہم ترین گوشوں کا مطالعہ ازحد لازم اور ضروری ہے، جو درج ذیل ہیں۔
ولادت باسعادت، حلیہ مبارکہ اور عناصر ترکیبی:
۹/یا ۲۱/ ربیع الاوّل (عام الفیل) کو آپ نے شکمِ مادر سے اِس جہانِ رنگ وبو میں تولد فرمایا۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ نے ’’شمائل ترمذی‘‘ میں آپ ﷺ کے حلیہ مبارکہ اور عناصر ترکیبی کو اس طرح بیان کیا ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد، سرخی مائل، سفید گورا رنگ، سر اقدس پر سیاہ ہلکے گھنگھریالے ریشم کی طرح ملائم، انتہائی خوب صورت بال، جو کبھی شانہ مبارک تک دراز ہوتے، تو کبھی گردن تک اور کبھی کانوں کی لوتک رہتے تھے۔ رخِ انور اتنا حسین کہ ماہِ کامل کے مانند چمکتا تھا، سینہ مبارک چوڑا، چکلا، کشادہ، جسم اطہر نہ دبلا، نہ موٹا؛ انتہائی سڈول، چکنا، کہیں داغ دھبہ نہیں، دونوں شانوں کے بیچ پشت پر ’’مہرِ نبوت‘‘ کبوتر کے انڈے کے برابر سرخی مائل ابھری ہوئی، کہ دیکھنے میں بے حد بھلی لگتی تھی، پیشانی کشادہ، بلند اور چمک دار، ابروئے مبارک کمان دار غیر پیوستہ، دہن شریف کشادہ، ہونٹ یاقوتی، مسکراتے تو دندانِ مبارک موتی کے مانند چمکتے، دانتوں کے درمیان ہلکی ہلکی درازیں تھیں، بولتے تو نور نکلتا تھا، سینہ مبارکہ پر بالوں کی ہلکی لکیر ناف تک تھی، باقی پیکر بالوں سے پاک تھا۔ شیدائیانِ مصطفی وجاںنثارانِ مجتبیٰ، یارانِ باصفا، شہیدانِ صدق ووفا ’’صحابۂ کرام‘‘ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ جیسا خوب صورت نہیں دیکھا گیا۔ نہ آپ ﷺ سے پہلے آسمان وزمین نے کبھی ایسا حسن وجمال والا دیکھا اور نہ آپ ﷺ کے بعد کبھی میسر ہوگا۔ شاعرِ رسول اللہ ﷺ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نعتیہ قصیدے میں اس طرح نقشہ کھینچتے ہیں   ؎
وَأَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِي
وَأَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّیًٔ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ
ترجمہ: آپ ﷺ سے حسین مرد میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھااور آپ ﷺ سے زیادہ خوب صورت مرد کسی عورت نے نہیں جنا۔ آپ ﷺ ہر قسم کے ظاہری وباطنی عیب سے پاک پیدا ہوئے، گویا آپ ﷺ اپنی حسب مرضی پیداہوئے ہیں۔
نہ کبھی آپ ﷺ چیخ کر بات کرتے تھے، نہ قہقہہ لگاتے تھے، نہ شور کرتے تھے، نہ چلاکر بولتے تھے، ہر لفظ واضح بولتے، اندازِ کلام باوقار، الفاظ میں حلاوت کہ بس سنتے رہنے کو دل مشتاق، لبوں پر ہمہ دم ہلکا سا تبسم، جس سے لب مبارک اور رخِ انور کا حسن بڑھ جاتا تھا، راہ چلتے تو رفتار ایسی ہوتی تھی، گویا کسی بلند جگہ سے اتررہے ہوں، نہ دائیں بائیں مڑمڑکر دیکھتے تھے، نہ گردن کو آسمان کی طرف اٹھاکر چلتے تھے، تواضع کی باوقار مردانہ خوددارانہ رفتار ہوتی، قدمِ مبارک کو پوری طرح رکھ کر چلتے تھے کہ نعلین شریفین کی آواز نہیں آتی تھی، ہاتھ اور قدم ریشم کی طرح ملائم وگداز تھے اور قدم پُرگوشت، ذاتی معاملہ میں کبھی غصہ نہیں ہوتے تھے، اپنا کام خود کرنے میں تکلف نہ فرماتے تھے، کوئی مصافحہ کرتا تو اس کاہاتھ نہیں چھوڑتے تھے، جب تک وہ الگ نہ کرلے، جس سے گفتگو فرماتے پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوتے، کوئی آپ سے بات کرتا تو پوری توجہ سے سماعت فرماتے تھے، پھر بھی ایسا رعب تھا کہ صحابہ کو گفتگو کی ہمت نہ ہوتی تھی، ہر فرد یہی تصور کرتا تھا کہ مجھ کو ہی سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔
آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ اور اطوارِ زاہدانہ کی ایک جھلک:
نبی کائنات ﷺ صداقت وسچائی، امانت ودیانت، سخاوت وکریمیت، عفو ودرگزر، عدل وانصاف، ایفائے عہد، شجاعت وبہادری، جواں مردی وپامردی، اخوت وبھائی چارگی، رواداری، خدمتِ خلق، عاجزی وانکساری، طہارت وپاکیزگی، نفاست ونظافت، تحمل وبردباری، شرم و حیاء، وسطیت ومیانہ روی، مساوات وبرابری، صبرواستقامت اور عزم مصمم وجواں حوصلگی جیسی صفاتِ کمالیہ کا جامع اور حسن وجمال، قرب ونوال، تعلق واتصال، خوب صورتی وخوب روئی، جاذبیت ودل کشی، رعنائی وزیبائی جیسے اوصافِ جمالیہ کے مظہرِ اتم تھے۔ نیز کردار کے دھنی، اطوار کے غنی، اقدار کے پاس دار، رفتار وگفتار کے بے تاج بادشاہ، انسانیت کے تمام مراتبِ علیا پر براجمان اور خدا کے بعد سب سے بزرگ وبرتر اور ممتاز تھے۔ آپ ﷺ اخلاق کے تمام اعلی مراتب پر فائز اور خلقِ عظیم پر جلوہ گر ہیں(إِنَّکَ لَعَلَی خُلُقٍ عَظِیْمٍ) اسی لیے آپ ﷺ کی اطاعت واتباع کو اللہ تعالی نے اپنی محبت سے تعبیر فرمایا (قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللہُ، آپ (ﷺ) فرما دیجیے! کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا)(سورۂ آل عمران:۱۳)
دعوت و تبلیغ کا آغاز:
حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے تاجِ رسالت اور خلعت نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد، ایک ایسے سماج ومعاشرہ کو ایمان و توحید اور اتحاد ویکجہتی کی دعوت دی، جو شرک و کفر اور ضلالت وجہالت کی دلدل میں گرفتار تھا، انسانیت شرافت ونجابت سے کوسوں دور اور غلاظت ورذالت کی وادیوں میں غرق تھی، درندگی اور حیوانیت کا راج تھا، ہر طاقتور، فرعون بنا ہوا تھا۔ قتل وغارت گری کی وبا ہر سُو عام تھی، نہ عزت وعصمت محفوظ، نہ عورتوں کا کوئی مقام، نہ غریبوں کے لیے کوئی پناہ، شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی، بے حیائی اپنے عروج پر تھی، روئے زمین پر وحدانیت حق کا کوئی تصور نہ تھا؛ بدکاری وفحش انگیزی اپنے عروج پر تھی اور ظلم وجور، جبر وتشدد اور ناانصافی اپنے شباب پر تھی، ایک اللہ کی پرستش کے بجائے، معبودانِ باطلہ کے سامنے پیشانیاں جھکتی تھیں، نفرت وعداوت اور تعصب وعناد کی زہریلی فضا، انسان کو انسان سے دور کرچکی تھی، انسانیت آخری سانس لے رہی تھی، اس دور کا انسان قرآن کریم کے مطابق جہنم کے کنارے کھڑا تھا، کہ رحمتِ حق کو رحم آیا اور کوہِ صفا سے صدیوں بعد انسانیت کی بقا وارتقاء کا اعلان ہوا کہ ’’یَآ أَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ تُفْلِحُوْا‘‘ اے لوگو! لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلو، کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجاؤگے۔
وہ  بجلی  کا  کڑکا تھا  یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی
یہی اُس عظیم الشان انقلاب کی ابتداء تھی، جس نے دنیائے انسانیت کی تاریخ بدل دی۔ یہ محض ایک اعلان ہی نہیں؛ بل کہ توحیدکی حیاتِ نو کا پیغام تھا، جس نے مردہ دل عربوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی اور پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا، جس کا تصور بھی نہ تھا۔
جو نہ تھے خود راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو  مسیحا کردیا
صبر واستقلال اور استقامت وپامردی:
رسول اللہﷺ  کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پورا سماج آپ کے خلاف عَلمِ بغاوت لے کر میدان میں آیا اور طرح طرح کی الزام تراشیاں اور ہتھکنڈے اپنانا شروع کردیا۔ ایسے موقع پر آپ ﷺ صبر واستقلال اور استقامت وپامردی کے کوہِ گراں تھے۔ دشمنانِ اسلام نے قدم قدم پر آپ کو ستایا، جھٹلایا، بہتان لگایا، مجنون ودیوانہ کہا، ساحرو کاہن کا لقب دیا، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر غلاظت ڈالی، لالچ دیا، دھمکیاں دیں، اقتصادی ناکہ بندی اور سماجی مقاطعہ کیا، آپ کے شیدائیوں پر ظلم وستم اور جبر واستبداد کے پہاڑ توڑے، نئے نئے لرزہ خیز عذاب کا جہنم کھول دیا کہ کسی طرح حق کا قافلہ رک جائے، حق کی آواز دب جائے؛ مگر دورِ انقلاب شروع ہوگیا تھا، توحید کا نعرہ بلند ہوچکا تھا، اس کو غالب آنا تھا۔ ’’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِوء ُوْا نُوْرَ اللہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ(سورۂ صف:۸)’’کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (ایمان واسلام) کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں‘‘۔ خودرسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ابتلا وآزمائش میں جتنا مجھ کو ڈالاگیا، کسی اور کو نہیں ڈالاگیا‘‘۔
ہجرتِ مبارکہ:
جب مکہ معظمہ کی سرزمین آپﷺ اور آپ کے جاںنثار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بالکل تنگ کردی گئی؛ تب بحکم الٰہی آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور صحابۂ کرامؓ نے اللہ کے لیے اپنے گھر بار، آل و اولاد، زمین وجائداد؛ سب کو چھوڑ کر حبشہ ومدینہ کا رخ کیا۔ پہلی ہجرت، صحابہؓ کے ایک گروہ نے حبشہ کی طرف کی تھی، پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے، تو مدینہ منورہ اسلام کا مرکز بن گیا۔
غزوات و سرایا:
آپ ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت فرماجانے کے بعد ایک طرف آپ ﷺ کو دعوت وتبلیغ اسلام کی تحریک میں کشادہ میدان اور مخلص ومعاون افراد ملے، جس کے باعث قبائل عرب میں تیزی سے اسلام پھیلنے لگا؛ تو دوسری جانب مشرکین مکہ کی عداوت ودشمنی اور یہودمدینہ کے تعصب ونفرت سے مقابلہ بھی تھا۔ مکہ مکرمہ میں مسلمان کمزور، نہتے اور بے قوت و طاقت تھے؛ اس لیے ان کو صبر و استقامت کی تاکید وتلقین تھی؛ لیکن مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو وسعت و قوت حاصل ہوئی اور اجتماعیت و مرکزیت نصیب ہوئی، تواللہ تعالیٰ نے دشمنوں سے لڑنے اور ان کو منھ توڑ جواب دینے کی اجازت عطا فرمائی اور غزوات وسرایا کا سلسلہ شروع ہوا، اور اسلام کا پرچم چہار دانگ عالم میں پھیلتا ہی چلاگیا۔
چند مشہور غزوات:
(۱)غزوۂ بدر ۲ہجری میں پیش آیا، جس میں مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳؍ اور مشرکین مکہ کی ایک ہزار تھی۔
(۲)غزوۂ اُحد: ۳ھ، شوال میں یہ غزوہ ہوا، مسلمان سات سو اور کفار تین ہزار تھے۔
(۳)غزوۂ ذات الرقاع ۴ھ میں پیش آیا، اسی میں آپ نے صلاۃ الخوف ادا فرمائی۔
(۴)غزوۂ احزاب (خندق) ۵ھ میں ہوا، مشرکین مکہ نے قبائل عرب کا متحد محاذ بناکر حملہ کیا تھا۔ آنحضور ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓکے مشورہ سے مدینہ منورہ کے اردگرد چھ کلو میٹر لمبی خندق کھدوائی تھی؛ اسی لیے اس کو ’’غزوۂ خندق‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۵)غزوۂ بنی المصطلق ۶ھ میں ہوا۔
(۶)صلحِ حدیبیہ ۶ھ میں ہوئی، جب کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایاتھا اور چودہ سو صحابۂ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے تھے کہ مشرکین مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور وہیں صلح ہوئی کہ آئندہ سال عمرہ کرسکتے ہیں۔
(۷)غزوۂ خیبر ۷ھ میں پیش آیا، یہ یہودیوں سے آخری غزوہ تھا، اس سے قبل غزوۂ بنونضیر اور غزوۂ بنوقریظہ میں یہودیوں کو سنگین جرائم کی وجہ سے جلاوطن اور قتل کیاگیا تھا۔
(۹)غزوۂ تبوک ۹ھ میں پیش آیا، ہرقل سے مقابلہ تھا، دور کا سفر تھا، شام جانا تھا، شدید گرمی کا زمانہ تھا؛ اس لیے خلاف عادت آپ ﷺ نے اس غزوہ کا اعلان فرمایا، چندہ کی اپیل کی، صحابہؓنے دل کھول کر چندہ دیا اور تیس ہزار کا عظیم الشان لشکر لے کر آپ ﷺ تبوک روانہ ہوئے؛ مگر ہرقل بھاگ گیا اور آپ ﷺ مع صحابہ واپس بخیریت مدینہ تشریف لائے۔
یہ چند اہم غزوات تھے، ان کے علاوہ بہت سے سرایا صحابۂ کرام کی سرکردگی میں مختلف مواقع پر روانہ فرمائے۔
خلاصۂ کلام:
سیرت النبیﷺ کا مطالعہ جس بھی زاویہ اور گوشے سے کیا جائے، انسانیت کی رہنمائی کرتی نظر آئے گی؛ کیوںکہ آپ ﷺ کو اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کی انسانیت کے لیے رہنمائے کامل اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو اسوۂ حسنہ بناکر ختمِ نبوت ورسالت کا مہر ثبت فرمادیا ہے۔ اسی لیے رہتی دنیا تک کی انسانیت کی ابدی وسرمدی حیاتِ نو کا دستور اور لازوال قانون اگر کہیں مل سکتا ہے، تو وہ سیرت طیبہ ہی ہے، اور یہ دعوی اس وجہ سے بھی درست ہے؛ کیوںکہ سیرت طیبہ ’’قرآن مجید‘‘ کی عملی تفسیر ہے، اور کون نہیں جانتا کہ قرآن کریم انسانیت کی ہدایت کے لیے آخری سامان اور توشۂ دین ودنیا ہے؛ آپﷺ کی سیرت طیبہ، حیات انسانی کے ہر ہرگوشہ کا کامل احاطہ کرتی ہے۔سیرت النبیﷺ مشکلات میں صبر وشکر، استقلال واستقامت کی تلقین کرتی ہے۔ قوت واسباب کا فقدان ہو، اور دشمن سرچڑھ کر بولنے لگے، تو ہجرت کا پیغام دیتی ہے۔ فراخی وخوش حالی میں دشمنوں سے دفاعی لشکر سازی کا درس دیتی ہے۔ خوش اخلاقی، اعلی ظرفی اور بلند حوصلگی کی تعلیم دیتی ہے۔ اخوت وبھائی چارگی اور اتحاد واتفاق کی فضا ہموار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی کا سبق دیتی ہے۔ انسانیت کی بھلائی اور خیرخواہی کو ازحد ناگزیر گردانتی ہے۔
اللہ تبارک وتعالی ہمیں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنانے اور اس سے درس وعبرت حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین!

نبی پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نصاب مولانا محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری

نبی پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نصاب   مولانا محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری

نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر ہے، بغیر سیرت ِ نبویہ کے مطالعہ کے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا ناممکن ہے، اسی لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ایک ترتیب سے سیرت کا مطالعہ کرے اور کوشش کرے کہ یہ مطالعہ پوری زندگی جاری رہے، تاکہ دل نبی کی محبت سے آباد و سرشار رہے، اور آپﷺ کی اطاعت و اتباع کا ذوق وعمل تازہ رہے، اردو زبان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ سیرت نبویہ کے موضوع پر سب سے زیادہ مالامال ہے:
(۱)سیرت خیر البشر، از؛ مفتی شفیع عثمانیؒ
(۲)رحمت عالم، از؛ علامہ سید سلیمان ندویؒ
(۳)سیرت رسول اکرم، از؛ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ
(۴)النبی الخاتم، از؛ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ
(۵)درِّ یتیم، از؛ ماہری القادریؒ
(۶)نبی رحمت، از؛ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ
(۷)محسن انسانیت، از؛ نعیم صدیقی
(۸)رہبر انسانیت، از؛ مولانا محمد رابع حسنی ندوی
(۹)اسوۂ رحمت، از؛ مولانا بلال حسنی ندوی
(۱۰)سیرت نبوی-عبرت و نصیحت کا لازوال خزانہ، از؛ ڈاکٹر مصطفی سباعیؒ
(۱۱)رحمۃ للعالمین، از؛ قاضی سلیمان منصوپوریؒ
(۱۲)سیرت مصطفی، از؛ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
(۱۳)اصح السیر، از؛ مولانا عبد الرؤوف داناپوریؒ
(۱۴)سیرۃ النبی(۸جلدیں)از؛ علامہ شبلی نعمانیؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ
(۱۵)شمائل ترمذی، از؛ مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
اس کے علاوہ متعدد رسائل کے خاص سیرت نمبرات بھی ہیں جن سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر؛
(۱)نقوش رسول نمبر، ۱۳ جلدیں، لاہور
(۲)نوائے ہادی سیرت نمبر، کانپور، وغیرہ
نوٹ:- عمر اور علمی استعداد کے فرق کے ساتھ مذکورہ ترتیب میں تبدیلی کی جائے، جہاں دشواری ہو مستند علماء سے رجوع کیا جائے۔

عصر حاضر میں صلح حدیبیہ کی معنویت وپیغام مولانا کفیل احمد ندوی

عصر حاضر میں صلح حدیبیہ کی معنویت وپیغام  مولانا کفیل احمد ندوی


اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پوری زندگی بلکہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کاہر ہر واقعہ اپنے اندرقیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے نصیحت عبرت وموعظت کے بے شمار پہلو رکھتاہے، قرآن کریم کے اندرنبی پاک ﷺ کی پوری زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ ونمونہ اور قابل تقلید قراردیاگیا ہے۔
آج ہمارے ملک ِعزیز بھارت میں ہر سمت عجیب افرا تفری کا ماحول ہے، پوراملک اخلاقی امراض وبگاڑ میں مبتلاہے، جب سے ایک فرقہ پرست پارٹی برسراقتدار ہے، اس وقت سے حالات نے مزید سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے، اقلیتوں خصوصامسلمانوں کو بے شمار سنگین مسائل کا سامناہے، پورے ملک کے مسلمان خوف ودہشت، اضطراب وبے چینی کاشکار ہیں،انہیں اپنی جان ومال عزت وآبرو اور دین وشریعت کے بارے میں بے اطمینانی کی کیفیت سے گزرناپڑرہاہے،ملک کی اکثریت کے ذہن ودماغ میں مسلمانوں کی نفرت تعصب عناد اور دشمنی کی آگ سلگادی گئی ہے، مسلمانوں کی جان ومال پر بھی چوطرفہ حملے ہیں اور دین وشریعت پر بھی ہر طرح کے اعتراضات واشکالات کاسلسلہ جاری وساری ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے موجودہ حالات عہد نبوی ﷺ کے مکی حالات کے مشابہ ہوچکے ہیں،ہر وقت خوف،ڈر،دہشت،اپنے تعاقب وگرفتاری اور اچانک اچک لیے جانے کااندیشہ-لیکن ایسے حالات میں بھی مسلمانوں کو ہرگز مایوس نہیں ہوناچاہیے، بلکہ سیرت نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، حضور پاک ﷺ اور صحابہ کرام کو پورے مکی دور میں اور ہجرت مدینہ کے بعد بھی کچھ سالوں تک اسی طرح کے مشکل حالات سے گزرناپڑاتھا، ہندوستان میں جو یہ موجودہ حالات پیداہوئے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ ملک کی غیرمسلم اکثریت آج بھی اسلام اور اسلام کے محاسن اور اسکی محبت بھری تعلیمات سے ناواقف ہے۔
اس لیے ہندوستان کے موجودہ اسلام ومسلم مخالف حالات کا سب سے بڑاتقاضہ یہ ہیکہ مسلمان ملک کی اخلاقی وسماجی اصلاح وریفارم کی مخلصانہ مہم شروع کریں، خود ہرجگہ زندگی کے ہر شعبہ ومرحلہ میں سچی اور مؤمنانہ اسلامی زندگی کامظاہرہ کریں، غیر مسلموں کے ساتھ اعلی اسلامی اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں،اوراسلام کا بھرپور تعارف بھی کرائیں اور اسلام کاعملی نمونہ پیش کریں،اس عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اور غلط فہمیاں ختم ہونگی،حضور پاک ﷺ کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی تنازعہ اور دشمنی کی فضا کو ختم کرکے غیر مسلموں مشرکوں دشمنوں اور کافروں کو مسلمانوں کے قریب آکر انکی عبادات انکے رہن سہن پیارومحبت اعلی اخلاق وضیافت کے واقعات کے مشاہدہ وتجزیے کا موقع فراہم کریں،مکہ کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کی صلح میں یہی جزبہ کارفرماتھا، صلح حدیبیہ کا واقعہ اسلام ومسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، سن چھ ہجری میں حضور پاک ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے رفقاکے ساتھ عمرہ کررہے ہیں اور کلید کعبہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہے، یہ اشارہ غیبی تھا کہ آپ ﷺ عمرہ کارادہ فرمائیں، چنانچہ حضور پاک ﷺ عمرہ کی مکمل تیاریوں کے بعد پندرہ سوصحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے آپ کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے قریش کو آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کو کومقام”حدیبہ“ میں روکدیا اور مکہ میں داخل ہوکر ارکانِ عمرہ کی ادائیگی کاموقع بھی نہیں دیا حالانکہ حضور پاک ﷺاور صحابہ کرام کو مکہ میں داخل نہ ہونے دینے کا یہ عمل ہراعتبار سے غلط تھا اور عربوں کی روایات کےبھی خلاف تھا، اس موقع پر قریش مکہ اور مسلمانوں کےدرمیان اس بات پر صلح ہوئی کہ
(۱)مسلمان اس سال یہیں سے واپس چلے جائیں، (۲)آئندہ سال انکو صرف تین دن مکہ میں قیام کی اجازت ہوگی،(۳)اگر مکہ کاکوئی فرد مسلمان ہوکر مدینہ جائے گاتو اسے واپس کیاجائے گا لیکن اگر مدینہ سے کوئی شخص مکہ آجائے تو اسے نہیں لوٹایاجائے گا،(۴)چوتھی شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بندی رہے گی،اور آزادانہ سفروتجارت کاسلسلہ جاری رہےگا۔
صحابہ کرام کی ناپسندیدگی اور غم وصدمہ سے نڈھال ہونے کے باوجو حضوررحمت اللعالمینﷺ نے ان شرائط پر صلح کرلی،واپسی میں ”سورۃ الفتح“ نازل ہوئی اور اس صلح کوفتح مبین قرادیاگیا، اور واقعتا یہ صلح اسلام ومسلمانوں کے حق میں کھلی فتح ثابت ہوئی، اس صلح کے نتیجہ میں مسلمانوں کو طویل جنگوں سے نجات ملی، قریش کی طاقت ٹوٹ گئی مختلف قبائل کے ساتھ قائم ان کااتحاد ٹوٹ گیا،پورے جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کارعب ودبدبہ قائم ہوا انہیں اطمینان کے ساتھ پورے عالم میں اسلام کی دعوت پہونچانے کاموقع ملا، سب سے بڑھ کر یہ کہ مکہ ومدینہ کے لوگوں کی ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت شروع ہوئی،اس طرح قریش اوردیگر مخالفین ومعاندین کو مسلمانوں کی عبادات انکے اخلاق عالیہ انکی معاشرت وطرز زندگی اوراسلامی تعلیمات کے عملی مظاہروں کے مشاہدہ کاموقع ملا، جس سے وہ بہت متاثر ہوئے، انکی غلط فہمیاں دور ہوئیں، قبول اسلام کے لیے ذہن ودماغ کھلتے چلے گئے، اور صرف دوسال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہوگئے،اس وقفہ میں بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کیااور اسلام تیزی سے پھیلتاگیا۔
غرض کہ صلح حدیبیہ ناکامی کی صورت میں فتح وپیش قدمی کاذریعہ ثابت ہوئی، اور یہ صلح اسلام ومسلمانوں کی ترقی اقبال وعروج فتح وکامرانی اور اسلام کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ذریعہ بن گئی، اگر بھارت کے مسلمان آج بھی صلح حدیبیہ کے سبق آموز پہلوؤں کو سامنے رکھیں اوراسے اپنے لیے مشعل راہ بنائیں،غیروں کے ساتھ تمام ہی برادران وطن کے ساتھ اچھے اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں اپنے اور غیروں کے درمیان حائل اجنبیت کی دیواروں کو توڑدیں، غیروں تک اسلام کاپیغام حکمت کے ساتھ پہونچائیں،انکے سامنے عملااسلام کامظاہرہ کریں،انکی ہر طرح خیرخواہی کریں، غیروں میں اسلام کا تعارف کرائیں اور زوال پزیر ملک کی اصلاح اور ملک کی قدیم اخلاقی وروحانی اقداروروایات کے احیاکی کوششیں کریں تو ملک میں ان کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا اور وہ فتح مبین سے ہم کنار ہوسکتے ہیں،وماذلک علی اللہ بعزیز۔

عشق تمام مصطفیﷺ کامران غنی صبا




ایمان دراصل عشق کی اعلی ترین منزل ہے۔یہ وہ منزل ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنا وجود تک بھول جاتا ہے۔محبوب کی رضا، اور اُس کی خوشنودی کے لیے وہ ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے کی نہ صرف قوت رکھتا ہے بلکہ ان صعوبتوں میںبھی اسے لذت و سرور حاصل ہوتا ہے۔عشق وہ جذبہ ہے جو دنیا کی تمام آسائشوں سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف وصال محبوب اور رضائے محبوب کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔دین کی ساری عمارتیں بھی عشق کے انھیں لافانی جذبات پر قائم ہیں۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہی دراصل ایمان ہے۔ قرآن کی متعدد آیات اور بے شمار احادیث مبارکہ نہ صرف محبت خدا و رسول پر دلالت کرتی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہیںکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بغیر ہمارا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآئُ کُمْ وَ اَبْنآَئُ کُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ وَ عَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَ تِجَا رَۃُٗ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَ مَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْ حَتّٰی یا تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ۔ وَاَللَّہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ (التوبۃ:۲۴)
(اے نبیؐ،کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں ، اورتمہارے عزیز و اقارب، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ گھر جو تم پسند کرتے ہو، تم کو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ،اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا)
نیز فرمایا:قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُبَکُمْ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ{آل عمران :۳۱}(کہہ دو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا۔اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔)
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا۔ {النسآء :۸۰}
(جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اورجو منھ موڑ گیا ، تو بہرحال ہم نے تمھیں اُن لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔)
اسی طرح متعدد حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا گیاہے۔بخاری و مسلم کی مشہور حدیث ہے:
’’لا یُؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس أجمعین۔‘‘
(تم میں سے کوئی ایمان میں اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میری محبت اس کے دل میں اس کے باپ،بیٹے اورتمام انسانوں سے بڑھ کر راسخ نہ ہو جائے۔)
قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ محبت رسول صلی علیہ وسلم ایمان کا لازمی جز ہے۔ روایتوںمیں مذکور ہے کہ اسلام کی سیاسی طاقت بڑھ جانے کے بعد مدینہ کے بہت سے اعراب(دیہاتی) دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور اسلامی احکامات کی پابندی بھی کرنے لگے لیکن ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اب تک راسخ نہیں ہو سکی تھی، انھوں نے بعض مواقع پر اپنے ایمان لانے کا اس طرح دعویٰ کیا گویا انھوں نے ایمان لاکر اللہ کے رسولﷺ پر کوئی احسان کر دیا ہو چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بذریعۂ وحی ان کے ایمان کی حقیقت واضح کر دی :
’’اور یہ اعرابی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی، ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر نہیں داخل نہیں ہوا ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات)
اس آیت مبارکہ نے واضح کر دیا کہ محض اطاعت یعنی ظاہر رسوم و قیود ہی دائرۂ ایمان میں آنے کے لیے کافی نہیں بلکہ ایمان کا تعلق براہِ راست قلب و نظر سے ہے اور ایمان کی حقیقی لذت تب تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک ہمارے دلوں میں جذبۂ عشق راسخ نہ ہو جائے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اطاعت سے محبت نہیں ہوتی بلکہ محبت اطاعت و اتباع پر مجبور کرتی ہے۔محبوب کی محبت میںمحب سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہو جاتا ہے اور ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب محب جان دے کر بھی یہ تصور کرتا ہے کہ اس نے حق بندگی ادا نہیں کیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں محبت آزمائی جاتی ہے  ؎
کاش خوباں ہمہ از عاشق خود جاں طلبند
تابہر بولہوسے عاشقی آساں نہ شود
صحابہ کرامؓ کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اسی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سے بڑی باطل طاقتیں بھی انھیں سر نگوں نہ کر سکیں۔اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت نے ان کے دلوں میں ایثار، وفا، خلوص، خاکساری،خلق خدا سے محبت جیسے عظیم جوہر پیدا کر دئیے تھے۔آج ہم محبت رسولﷺ کا دم بھرتے ہیں لیکن محبت کے تقاضوں کو ہم نے فراموش کر دیاہے۔جس رسولﷺ نے ہمیں محبت و اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا اس رسولﷺ کے پیغام کو ہم نے صرف اپنی تحریر و تقریر کی زینت بنا کر چھوڑ دیا۔جس رسولﷺ نے ہمیں متحد کرنے کے لیے صعوبتیں اٹھائیں اس رسولﷺ سے ہم نے صرف زبانی محبت کے ہی دعوے کیے، ہم نے ایک جگہ رہتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ عمارتیں تعمیر کر لیں۔ ہم متحد ہو کر اپنے نبیﷺ سے پیغام کو ساری دنیا میں کیا پہنچاتے ہم نے آپس میں ہی اختلافات و انتشار پیدا کر لیے۔اگر ہمارے دلوںمیں اللہ کے رسولﷺ کی سچی محبت جا گزیں ہوتی تو نظریاتی اختلافات کے باوجود ہم متحد ہوتے۔
اللہ کا شکر و احسان ہے کہ ہم محمدﷺ کے امتی ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان کی محبت بھی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی اس جذبے کو مزید بڑھایا جائے۔یہاں تک کہ محبت رسولﷺ تمام محبتوں پر غالب آ جائے۔اگر ہمارے دلوں میں اللہ کے رسولﷺ سے سچی محبت پیدا ہو گئی تو پھر اللہ کی نظر عنایت و التفات بھی ہم پر ہوگی اور محبت رسولﷺ کے طفیل ہماری کوتاہیاں بھی در گزر کر دی جائیں گی(ان شاء اللہ) اور ہمارا شمار بھی اللہ کے مقرب بندوںمیں ہوگا   ؎
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

دنیائے انسانیت پر آپ ﷺ کے احسانات مولانا مفتیمحمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری



اللہ تبارک و تعالی کی بنائی ہوئی اس کائنات ِارض و سماء میں سب سے زیادہ جس ذات وشخصیت کے احسانات اس عالم دنیوی پر ہیں ، وہ اس کائنات کے آخری نبی، ہمارے آقائے نامدار احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ ہیں، آپ ﷺ ہی کے ذریعہ اللہ تعالی نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ِ راست د ِکھایا اور دنیا کو اللہ کی صحیح معرفت نصیب ہوئی، آپ ﷺ سے پہلے عالم ِ انسانیت کی تقریبا ً  پوری آبادی ہر طرح کی شرک و بت پرستی ، اخلاقی گراوٹ ، ظلم و زیادتی ، حرام کاری و بدکاری اور نا زیبا سلوک کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی،اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا، جہاں اللہ کی عبادت صحیح طرح سے کی جاتی ہو ، اہل ِ عرب کے ساتھ ساتھ اہل ِیورپ بھی اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کو پہونچے ہوئے تھے،حضرت عیسی ؑ کی تعلیمات بھی اپنی اصلی حالت پر نہیں تھی۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: لیکی کی کتاب ــ’’تاریخ اخلاق یورپ‘‘History of European Morals, by Lecky)
آپ ﷺ کی محنت سے انسانوں کی بستی ہری بھری ہوگئی اور ہر طرح کے فضائل سے اسے آشنائی نصیب ہوئی، آپ ﷺ کی تعلیمات نے ہر طبقہ کو فائدہ پہونچایا، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، آپ کے ماننے والوں میں ہو یا انکار کرنے والوں میں، اس لحاظ سے قیامت تک آنے والے عالم ِ انسانی پر آپ ﷺ کے اتنے احسانات ہیں جن کا شمار نا ممکن ہے، چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے؛کیوں کہ صفحات کی تنگ دامنی تفصیل کی اجازت نہیں دیتی:
(۱)عقیدئہ توحید کی نعمت : آپﷺ کی بعثت کے وقت انسانوں کا عقیدہ انتہائی گراوٹ کا شکار ہوچکا تھا ، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ لکھتے ہیں :ـــــ’’یہ اپنے سے کہیں زیادہ مجبور و ذلیل ، بے حس و حرکت ،بے جان و مردہ اور بعض اوقات خود اپنی ساختہ پرداختہ چیزوں کے سامنے جھکتا تھا، ان سے ڈرتا اور ان کی خوشامد کرتا تھا، یہ پہاڑوں ، دریائوں ، درختوں ، جانوروں، ارواح و شیاطین اور مظاہر قدرت ہی کے سامنے نہیں؛بلکہ کیڑوں ،مکوڑوں تک کے سامنے سجدہ ریز ہوتا تھا اور اس کی پوری زندگی انھیں سے خوف و امید اور انھیں خطرات میں بسر ہوتی تھی، جس کا نتیجہ بُزدلی، ذہنی انتشار ، وہم پرستی اور بے اعتمادی تھا۔ (نبی رحمت، ص:۶۲۵)  ایسے وقت میں آپ ﷺ نے بحکم ِ خداوندی ساری دنیا کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اسی کی عبادت کی دعوت دی، جس سے عقیدئہ توحید کی تعلیم عام ہوئی، لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کا خوف دور ہوا اور ایک نئی قوت ، نیا حوصلہ ، نئی شجاعت اور نئی وحدت پیدا ہوئی اورپھر اسی (اللہ) کو ہر طرح کا نافع و ضار سمجھا جانے لگا۔
(۲)وحدت ِ انسانی کا تصور : آپ ﷺ کی آمد سے پہلے انسان اپنے فرسودہ خیالات کی بنیاد پر مختلف ذات پات اور اعلیٰ ادنیٰ طبقوں میں بٹا ہوا تھا، اور ان کے درمیان انسانون اور جانوروں ، آقائوں اور غلاموں اور عبد و معبود کا سا فرق تھا، وحدت و مساوات کا کوئی تصور نہیں تھا، ایسے وقت میں آپ  ﷺ نے اللہ کا یہ حکم سنایا: ’’یٰا ایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر و انثی و جعلنٰکم شعوبا ً و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم ‘‘ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، خدا کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے(الحجرات:۱۳)۔ اور آپ  ﷺ نے اپنی زبان میں ارشاد فرمایا:لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے والد بھی ایک ہیں ، تم سب اولاد آدم ہو اور آدم  ؑ مٹی سے بنے تھے، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ پاک باز ہے، کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ، مگر تقویٰ کی بنا پر(حدیث)، اس اعلان کے بعد سارے انسانوں کے بھائی بھائی ہونے کا تصور عام ہوااور لوگوں کو بہت راحت ملی۔
(۳)احترام انسانیت:اسلام کے ظہور کے زمانے میںایک لحاظ سے انسان سے زیادہ ذلیل کوئی نہیں تھا،وہ انسان جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ، اس کا وجود بالکل بے قیمت اور بے وزن ہو کر رہ گیا تھا، بعض اوقات پالتو جانورسے بھی بدتر یہ سمجھا جاتا، اس سے کہیں زیادہ اہمیت باطل عقائد کی وجہ سے حیوانات اور بعض درختوں کو دیے جاتے،ان کے لیے انسانوں کی جانیں لی جاسکتی تھیں،اور انسان کے خون اور گوشت پوست کے چڑھاوے چڑھائے جاسکتے تھے، آج بھی بعض بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہن و دماغ میں یہ نقش بٹھا دیا کہ اس کائنات کی سب سے عظیم اور قیمتی شئی انسان ہے ، اسی کے لیے پوری کائنات بنائی گئی ہے ، وہ اشرف المخلوقات ہے: ’’ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ‘‘وہی (اللہ)ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو اس زمین پر ہے (البقرۃ:۲۹)  اور ایک دوسری جگہ سورہ اسراء آیت ۷ میں فرمایا : ’’و لقد کرمنا بنی آدم و حملنٰھم فی البر و البحر و رزقنٰھم من الطیبٰت و فضلنٰھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلا‘‘  اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ، ان سب سے آگے بڑھ کر یہاں تک کہاں گیا کہ انسان خدا کا کنبہ ہیں، اور خدا کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کو آرام پہونچائے’’الخلق عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ‘‘ (مشکوٰۃ بروایت بیہقی)
(۴)تہذیب و تمدن: بعثت ِ نبوی سے پہلے ظلم و زیادتی کی وجہ سے طاقتوروں کا بول بالا تھا، کمزوروں کا گذر ذلت کے ساتھ ہوتا تھا، عورتوں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا تھا، اسلام نے عقائد کے ساتھ ساتھ سب کے حقوق بھی بتائے اور معاشرہ کو ایک صاف ستھری ، اخلاق و احترام سے بھر پور، بڑے چھوٹے اور مرد و عورت کے فرق کے ساتھ بہترین تہذیب و تمدن اور عمدہ ثقافت عنایت کی اور نیکی و فضائل کے کاموں پر اجر و ثواب کا وعدہ سنایا اور برائی پر سزا کی وعیدبتائی ، جس کے بعد ایک بہترین امت وجود میں آئی اور دنیا ایک ایسی تہذیب و تمدن سے واقف ہوئی، جس کا  اس نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا، ایک ایسی تہذیب جس نے انسان ہی کو نہیں بلکہ جانوروں تک کو تمام حقوق عنایت کیے، اور اس کی وجہ سے ساری دنیا روشن ہوگئی،رابرٹ بری فالٹ (Robert Briffault) اپنی کتاب ’’تعمیر انسانیت ‘‘ (The making of humanity) میں یوں لکھتا ہے: ’’یورپ کی ترقی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے ، جس میں اسلامی تمدّن کا دخل نہ ہو اور اس کی ایسی نمایاں یادگار نہ ہوں ، جنہوں نے زندگی پر بڑا اثر ڈالا ہے ‘‘۔ (ص:۱۹۰)
(۵)مقصد ِزندگی سے آگہی: انسان اپنی منزل مقصود سے بے خبر تھا، اس کی ذہانت اور صلاحیت چھوٹے چھوٹے کاموں میں صرف ہورہی تھی، کامیاب اور بڑا انسان بننے کا صرف یہ مطلب تھاکہ وہ دولت مند بن جائے ، یا طاقتور حاکم بن جائے ، یابڑی تعداد پر حکمرانی کرے، یا یہ کہ من مانی زندگی گذارے، آپ ﷺ نے سارے انسان کو مقصد زندگی سے واقف کرایا ، بقول مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ: ’’محمد رسول اللہ ﷺ نے نسل انسانی کے سامنے اس کی حقیقی منزل لا کر کھڑی کردی، آپ ﷺ نے یہ بات دل پر نقش کردی کہ خالق ِکائنات کی صحیح معرفت، اس کی ذات و صفات اور اس کی قدرت و حکمت کا صحیح علم، ملکوت السماوات و الارض کی وسعت و عظمت اور لا محدودیت کی دریافت ، ایمان و یقین کا حصول، خدا کی محبت و محبوبیت، اس کو راضی کرنا اور اس سے راضی ہوجانا، اس کثرت میں وحدت کی تلاش اور یافت، انسان کی حقیقی سعادت اورکمال ِ آدمیت ہے ، اپنی باطنی قوتوں کو ترقی دینا، ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہونا، انسانوں کی خدمت اور ایثار و قربانی کے ذریعہ خدا کی خوشنودی کا حاصل کرنا، اور کمال و ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک پہنچ جانا، جہاں فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے، انسان کی کوششوں کا حقیقی میدان ہے‘‘۔
 (نبی رحمت ، ص:۶۴۱، ۶۴۲)
یوں تو عالم ِ انسانیت پر ہمارے نبی ﷺ کے بہت سارے احسانات ہیں ، جن کا اعتراف غیرمسلوں نے بھی کیا ہے ،یہاں ہم نے ان احسانات میں سے چند کو ذکرکیا، آج ہم صاف صاف مشاہدہ کررہے ہیں کہ دنیا پھر اسی گذشتہ جاہلیت کی طرف رواں دواں ہے، جس سے ہمارے نبی ﷺ  نے اسے نکالا تھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نبیﷺ کے احسانات سے اس عالم کو روشناس کرائیں ، ان پر عمل کریں اور نبی ﷺ پر کثرت سے صلوۃ و سلام کا اہتمام کریں ، یہ اپنے نبی ِ محسن ﷺکی بہترین قدر دانی ہے ،کسی شاعر نے کہا:
اک نام ِ مصطفی ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں
ورنہ ہر اک عروج میں پنہاں زوال ہے

سیرت کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی

سیرت کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں  مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی


ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے ،عام طور پر یہ مہینہ ہمارے ملک میں سیرت النبی کی محفلوں ،جلسوں اور کانفرنسوں کی ایک عجیب وغریب بہار لیکر آتا ہے ، اس مبارک مہینے کی آمد پر ملک کی مسلم اکثریت والی شاید ہی کوئی ایسی بستی اور شہری حلقے کا شاید ہی کوئی محلہ ایسا ہو جہاں سیرت طیبہ کے مبارک تذکرے کے لئے کوئی نہ کوئی محفل منعقد نہ ہوتی ہو ،اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس ماہ کے آتے ہی ہر طرف نہ صرف سیرت کے تذکروں اور سیرت کی محفلوں کا ایک دور چل پڑتا ہے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوسوں کی غیر معمولی ہما ہمی شروع ہو جاتی ہے، عمارتوں کو چراغاں کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ تقریبات کے ایسے سلسلے چل پڑتے ہیں جس پر تبصرے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ،ان سب کے علاوہ اخبارات ورسائل میں اس موقع پر خصوصی نمبر کی اشاعت کو باعث برکت سمجھ کر اپنے اخبارات کی وقعت بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
غرض یہ کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں آج کی نسل انسانی کا ایک بڑا طبقہ سیرت کے نام پر وہ سب کچھ کر تا دکھائی پڑتا ہے جن کو شاید کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا، بلاشبہ آپ کی سیرت طیبہ کا ذکر دنیا وآخرت دونوں کی سعادت کا ذریعہ ہے اور آپ کے ذکر سے دلوں کی کایا پلٹ جاتی ہے، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آپ کی سیرت ایک ایسا سدا بہار موضوع ہے جس کے پرانا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں اور نہ ہی یہ ایسا عنوان ہے جس کے کمزور پڑنے کا کوئی امکان ہو سکتا ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کی فلاح وکامیابی کا اگر کوئی راستہ ہو سکتا ہے تو وہ اسی سیرت طیبہ کی اتباع وپیروی میں مضمر ہے ،اس لئے اپنے آقا سے عشق اور آپ کی سیرت مبارکہ تو ہر مسلمان کا وظیفہ حیات ہونا ہی چاہیے۔
لیکن اگر موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اسی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال یہ بھی توجہ کا طالب ہے کہ جب ہم صحابہ و تابعین کی زندگی میں جھانکتے اور قرون اولی کے مسلمانوں کی حالات زندگی میں دیکھتے ہیں تو وہاں سیرت کی محفلوں اور مجلسوںکے انعقاد کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ صحابہ ،تابعین یا تبع تابعین نے اس حوالے سے کسی جلسے جلوس کی تحریک کو عملی شکل دی ہو حالانکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں یہ دن دو مرتبہ آیا ،حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں یہ دن دس مرتبہ آیا ،خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ کے دور میں پندرہ بار اور حضرت علیؓ کے دور خلافت میں پانچ مرتبہ آیا۔اسی طرح حضرت حسن بصریؓ کے دور میں ایک بار اور حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں یہ دن انیس بار آیا، یہی دن حضرت امام اعظمؒ کے زمانے میں 47 بار امام مالکؒ کےزمانے میں 68 بار امام شافعیؒ کے زمانے میں 55 بار اور امام احمد بن حنبلؒ کے دور میں 36 مرتبہ آیا ، حتی کہ یہ تاریخ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے دور میں 65 بار، بابا فرید الدین شکر گنجؒ کے زمانے میں 70 بار، خواجہ اجمیریؒ کے دور میں 53 بار اور قطب الدین بختیار کاکیؒ کے دور میں 55 بار آیا مگر نہ کہیں کوئی ہنگامہ ہوا نہ کوئی جلوس نکلا اور نہ نعرے بازی ہوئی ، بلکہ اس کے بر خلاف وہاں حالت یہ نظر آتی ہے کہ ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا ،اس کی بارہ تاریخ بھی آتی مگر دوسرے مہینے کی طرح یہ دن بھی سادگی اور معمول سے آتااور رخصت ہو جاتا ،نہ سیرت النبیﷺ کے عنوان کا کوئی جلسہ ہوتا نہ اس طرح کی کوئی تقریب منعقد ہوتی۔
لیکن اس کے باوجود جب ہم اس دور کے مسلمانوں کے مجموعی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی زندگی مکمل طور پر سیرت وسنت اور اعلی اخلاق وکردار کے ڈھانچے میں ڈھلی ہوئی دکھائی پڑتی ہے ،اور ان کی ہر ہر ادا سے سیرت کی خوشبو پھوٹنے کے ساتھ ان کے عمل کے ہر شعبے میں سنت رسول کا وہ حسن وجمال نظر آتا ہے جسے دیکھ کر نہ صرف انسانوں کے قافلے اسلام کی صف میں داخل ہوتے چلے گئے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا بلند پرچم مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے جنوب تک میں پوری شان سے لہرانے لگا ،لیکن آج حالات بڑے بدلے بدلے سے ہیں اس وقت حالت تو یہ ہے کہ آئے دن سیرت کے عنوان پر لمبی لمبی تقریریں سننے اور طویل مقالے پڑھنے کے باوجود نہ تو ہمارے دل کی دنیا بدلتی ہے اور نہ ہی ہمارے اندر کوئی سوز وگداز پیدا  ہوتا ہے اور ہماری زندگی کے طرز وانداز میں بھی کو ئی ایسی قابل ذکر تبدیلی نہیں آتی جسے ہم اپنے شاندار دینی مستقبل کی علامت قرار دے سکیں۔
یہاں رک کر شاید آپ بھی سوچنے کے لئے مجبور ہو جائیں کہ آخر یہ صورت حال کیوں ہے اور وہ کون سی ہماری کمزوری ہے جس نے ہماری زندگی سے سیرت کو نکال کر ہمیں بے چینی و بے قراری کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے ،لیکن نہیں اگر ہم پوری ایمانداری و حق پسندی کے ساتھ اس سوال کے جواب پر غور کرتے ہوئے قرون اولیٰ سے آج کے حالات کا موازنہ کریں تو اس نتیجے تک پہونچنے تک دیر نہیں لگے گی کہ آج ہمارے اور ان کے درمیان وہی فرق ہے جو کسی شی کی ظاہری نمائش اور اور اس کی حقیقت میں ہوتا ہے ،در اصل آج کے اس بدلتے وبگڑتے ماحول میں ہماری ساری کوششیں اور ساری توانائیاں چند ایسے رسمی مظاہروں کی ادائگی تک محدود ہیں جو اندر سے کھوکھلے بے جان اور روح سے خالی ہیں اور ان کے ذریعہ ہم اپنے آپ کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کر تے ہیں کہ ہم نے سیرت کا حق ادا کر دیا ،جبکہ سچائی یہ ہے کہ سیرت طیبہ کی حقیقت اور اس کی روح سے ہمارا فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قرون اولیٰ کے لوگ ان ظاہری رسموں سے کوسوں دور تھے ،چونکہ سیرت طیبہ ان کے رگ وریشہ میں سرایت کی ہوئی تھی اس لئے انہیں سیرت طیبہ کے ذکر کے لئے کوئی محفل منعقد کرنے یا عشق رسولﷺ کے اظہار کے لئے جلوس وچراغاں کی ضرورت نہیں تھی ،بلکہ ان کے دل کے نہاں خانے میں ہر لمحہ عشق ومحبت کے وہ خوبصورت چراغ روشن تھے جن کے آگے بازاروں اور عمارتوں پر جھلملاتے ہوئے چراغوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی ،اس کے علاوہ ان کی اداؤں سے ہر ہر لمحہ سیرت وسنت کا جو مظاہرہ ہوتا تھا وہ جلسوں اور کانفرنسوں سے بالکل بے نیاز تھا ،سیرت طیبہ ان کے لئے کوئی ایسا قصہ پارینہ بھی  نہیں تھا جس کی یاد منا کر اسے زندہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ،بلکہ ان حضرات کے لئے یہ ایسی جیتی جاگتی حقیقت تھی جس کے نور سے انہوں نے سیاست ومعیشت اور تہذیب ومعاشرت سے لےکر ممبر ومحراب تک کی زندگی کے ہر شعبے کو منور کر رکھا  تھا ،مگر یہ تو نفس انسانی کی پرانی عادت وخصلت رہی ہے کہ جب کسی شی کی حقیقت کو تھامے رکھنا اس کے آرام طلب مزاج پر بار ہو جاتا ہے تو وہ چند رسمی مظاہروں میں پناہ لے کر ضمیر کو تھپکیاں دینے کی ناکام کوشش کر تا ہے ،اور عام ذہن ودماغ کو یہ تاثر دیا چاہتا ہے کہ ہم جوکچھ کر رہے ہیں وہی سچ اور عین سیرت وسنت کی پیروی ہے ،غور کریں تو آج ہمارے معاشرے میں سیرت کے حوالے سے جوکچھ بھی ہو رہا ہے وہ در اصل اسی کی واضح دلیل وتصویر ہے۔
آج ہم نے یہ محسوس کر لیا کہ سیرت وسنت کی حقیقت کو اپنانے اور دعوت کی خوار زار راہوں پر چلنے کی بجائے داد وتوصیف کے نعروں میں کچھ بک لینا زیادہ آسان ہے ،ہم نے جان لیا کہ اپنی زندگی کے طرز انداز کو بدل کر سیرت وسنت کے ڈھانچے میں ڈھالنےکی بجائے کسی جلسے میں بیٹھ کر سیرت کے واقعات پر سبحان اللہ اور الحمد للہ کا شور بر پا کر لینا ،یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ میں کوئی نعت پڑھ لینا بہت ہی آسان اور سہل ہے اس لئے ہمارے دلوں نے اسی کو ذریعہ نجات سمجھ لیا اور ہم نعروں میں ڈوبی تقریروں کے سہارے اپنے دل کو یہ تسلی دینے کی کوشش کرنے لگے کہ سیرت وسنت اور دعوت دین کا حق ہم سے ادا ہو رہا ہے۔
غرض یہ کہ جدھر دیکھئے ہم رسوم وظواہر کے پردے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ورنہ جہاں تک سیرت طیبہ کی حقیقی روح کا تعلق ہے اس سے نہ صرف یہ کہ ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں ،بلکہ ہم مسلسل سنت سے رو گردانی اور اسکی مخالفت پر تلے ہیں ،ان سب کے علاوہ سیرت کی محفلوں میں مرد وزن کا اختلاط نعت پڑھنے کے لئے ساز وسرور کا سہارا لیا جانا یہ وہ حالات ہیں جنہوں نے ہمارے دلوں کو اور ہی زیادہ گندااور بے حس بنا کر رکھا ہوا ہے، سیرت کی محفلوں کا منعقد ہونا کوئی غلط نہیں مگر اس وقت جو صورت حال ہے وہ یقینا مایوس کن ہے ،جس کی وجہ سے آئے دن ہماری زندگی میں خرابی آتی جارہی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اگر ہم ہدایت کی سچی تڑپ اور اصلاح حال کا یقینی جذبہ لے کر سیرت طیبہ کامذاکرہ کریں تو ممکن نہیں کہ ہماری عملی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے ،اور اگر ہم آج کی تاریخ میں منعقد ہونے والی مجلسوں سے اٹھنے کے بعد اپنی زندگی کو سیرت رسول کے مطابق گزارنے کا فیصلہ کرلیں تو ایک تھوڑے سے عرصے میں ہماری زندگی کے اندر صالح انقلاب آسکتا ہے، کہنے والے کے دل میی اگر دعوت اصلاح کا سوز ہو اور سننے والا اصلاح حال کی تشنگی کوبجھانے کا جذبہ رکھتے ہوں تو چند لمحوں میں ساری برائیوں کاسد باب ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کے موضوع کو سنجیدگی سے لیں اور بدعات و خرافات کے راستے کو چھوڑ کر ایسا طریقہ اختیار کریں جن سے ہماری زندگی سیرت کے راستے پر آسکتی ہو ،بقول حضرت مولانا رابع حسنی ندوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کے لئے دو شرطیں ہیں ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفادارانہ و محبتانہ تعلق ہو اور وہ ایسا ہو جو اس عظیم ذات پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہو ،صرف زبان سے محبت کا اظہار نہ ہو بلکہ وہ حقیقت ہو اور اس میں اخلاص ہو اور یہ سچ ہے کہ اخلاص اپنے اندر کسی رسمی مظاہرے کو جگہ نہیں دیتا آج اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے کو سیرت کے رنگ میں رنگنے کا عہد کر لیں تو نہ صرف معاشرہ کی بہت سی بیماریوں کا سد باب ہو سکتا ہے بلکہ سیرت کے نام پر برپا ہونے والے رسمی ہنگاموں کا سلسلہ بھی تھم سکتا ہے ،بس اس کے لیے اخلاص شرط ہے ۔

ابتداازربیع الا ول انتہاتا ربیع الاول دنیائے انسانیت کا ہمہ گیراور کامل انقلا ب مولانا سید محمد ریاض ندوی کھجناوری

ابتداازربیع الا ول انتہاتا ربیع الاول  دنیائے انسانیت کا ہمہ گیراور کامل انقلا ب مولانا سید محمد ریاض ندوی کھجناوری



کبھی آپ نے ایسا انقلاب دیکھا جس نے سوچ تبدیل کی ہو ،تخریبی فکرکو تعمیر سے ہمکنا ر کیا ہو ،عقائد رذیلہ کو چھوڑ کر اسلامی عقائد زندگی میں راسخ کئے ہوں ،اقدار کو فروغ نصیب ہو ا ہو ،عزائم جواں ہو گئے ہوں ،مقاصد بدل گئے ہوں ،یہاں تک کہ آرزوئیں تمنائیں بدل گئی ہوں ،شب وروز صبح و شام روشن ہو گئے ہوں؟
جی ہاں !ایسا انقلاب ہجری کلینڈر کے تیسرے مہینہ ربیع الاول (پہلی بہار)میں پیدا ہونے والے در یتیم نے برپا کیا اور پھر بہار ہی نہیں بلکہ’’ سدا بہار‘‘ اس پوری دنیا کو بنا دیا جس کا اعتراف پوری انسانیت کو کرنا چا ہئے ،کیونکہ اس ماہ میں انسانیت کو اپنے خالق و ما لک کی جانب سے ایک ابدی پیغام اور زندگی گذارنے کا قانون عطا ہوا، اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ اور بعد میں ان کے اصحاب (محمد رسول اللہ والذین معہ)کی جد و جہد کو شش محنت و مشقت اور ایثار و قربا نی کے نتیجہ میں لکھوکھا مربع میل زمین کے ایک ملک کے رہنے والوں کی زندگیوں میں ایک ایسا انقلا ب عظیم برپا ہو گیا کہ ان کی سوچ بدل گئی ،ان کا فکر بدل گیا ،عقائد اسلامی ہو گئے ،اقدار کو فروغ نصیب ہوگیا عزائم جواں ہو گئے ،مقاصد بدل گئے ، آرزوئیں تمنائیں بدل گئیں ،ان کے شب و روز تبدیل ہو گئے صبح و شام روشن ہو گئے ،یہاں تک کہ انہیں اگر پہلے زندگی عزیز تھی اب مو ت عزیز تر ہوگئی رہزن راہبر بن گئے جو امی محض تھے وہ متعدد علوم و فنون کے موجد بن گئے ذمائم اخلاق میں مبتلا مکارم اخلا ق کے معلم و داعی بن گئے، زانی و نفس پرست عفت و عصمت کے محافظ بن گئے ،بے قید حصول معاش کے عادی اسراف و تبذیر کے خوگر مال و دولت کے امین بن گئے ،یہ اس انقلا ب کی وسعت و ہمہ گیری اور برکت تھی جس کو حضرت محمد ﷺ نے برپا کیا ۔
 اس دنیائے رنگ و بو میں انقلابا ت کا دور دورا ہے ،کہیں سیاسی انقلاب ہے تو کہیں معاشی ،کہیں معاشرتی ہے تو کہیں روحانی و اخلاقی ،لیکن جہاں کہیں بھی انقلابات نے قدم رکھا ،تو وہ جزوی انقلا با ت تھے ،وقتی تھے،اس دنیا میں صرف ایک انقلاب کا مل انقلا ب Totel Revolution حضرت محمد ﷺ نے قائم کیا اس کو کا مل اور ہمہ گیر انقلا ب کہا جا تا ہے۔
پھر یہ انقلاب ایک ایسا انقلا ب تھا جو صرف ایک فرد واحد کے اندر تھا اس کی زندگی میں مکمل طور پر جلوہ گر تھا اس کی نظیر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سوا دنیا کے اندر نہیں ملتی ہے ،ایک فرد واحد ۶۱۰ء عیسوی میں ایک انقلابی دعوت لے کر کھڑاہو تا ہے اور ۶۳۰ ء عیسوی یعنی کل بیس برس کی مدت قلیل میں عرب میں انقلا ب تکمیل پا جا تا ہے ،با قی دوسال اس انقلا ب کی توسیع میں گذرے ،۰۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد مختلف سربراہان مملکت کو دعوتی خطوط ارسال کئے گئے ،۰۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا اس کے بعد دو سال کے عرصہ میں جنگ موتہ ہوئی جس میں سلطنت روما جیسی وقت کی سپر طا قت کے ساتھ مسلح تصادم ہوا ،اس کے بعد ۰۹ھ میں خود نبی کریم ﷺ کی قیادت و سیادت میں سفر تبوک ہوا ،اس وقت ۳۰ہزار جاں نثار حضور ﷺ کے جلو میں تھے ،پھر وفات سے چند روز قبل ایک لشکر حضرت اسامہ بن زید ؓکی سربراہی میں ترتیب فرمایا ادھر مرض نے شدت اختیار کی اور ربیع الا ول ۱۱ھ میںنبی کریم ﷺ الرفیق الأعلی کی جانب مراجعت فر مائی۔
اندازہ کیجئے اس اکیس بائیس برس کے قلیل مختصر ترین عرصہ میں نبی اکرم ﷺ نے ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی انقلا ب کی از ابتدا تا انتہا بنفس نفیس تکمیل فرمادی، جس کی دنیا میں نہ کوئی نظیر پہلے مو جو د تھی نہ تا قیا مت ملے گی جبکہ تاریخی دنیا میں دو انقلا ب مشہور ہو ئے انقلا ب فرانس اور انقلا ب روم اور یہ دونوں انقلاب جزوی تھے اور ان کی فکر دینے والا اور بر پا کرنے والے الگ الگ تھے ،پھر فکر دینے اور بپا ہو نے میں اچھا خاصا زما نی فصل ہے انقلاب فرانس جس فکر کے نتیجہ میں رونما ہوا ایک طویل عرصہ تک بے شما ر مصنفوںکی کتا بوں کے ذریعہ پھیلتا رہا اسی طرح انقلا ب روس کی اساس کارل مارکس کی کتا ب پر قائم ہوئی لیکن خود مارکس کی زندگی میں ایک گاؤں میں بھی انقلا ب کے عملا برپا ہونے کا امکان تک پیدا نہ ہو سکا ،مارکس جرمنی کا رہنے والا تھا اور انقلاب روس میں آیا اور اس کی موت کے تقریبا پچا س سال بعد آیا وہ بھی روس کے داخلی معاملا ت بگڑنے پر آیا غرض یہ کہ اس عالمگیر انقلاب کی تکمیل صرف ایک بار ہوئی اور وہ نبی کریم ﷺ کے دست مبارک سے ہوئی اور بعد میں رونما ہونے والے انقلابات نے بھی اس سے رہنمائی حاصل کی ،اس انقلا ب کی اسا س کیا تھی اور کس بنیا د پر یہ انقلا ب کا میابی کی منزل تک پہنچا ،اس انقلاب کے لئے کونسا نظریہ اور کونسی فکر اور ذہنی اختراعات نے کام کیا اس انقلاب کی فکر نظریہ اور فلسفہ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی نے عطا فرما یا جبکہ دنیوی انقلابا ت انسانی ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں پہلا نظریہ توحید کامل ترین اور خالص ترین توحید جس کی بنیاد قرآن حکیم ہے اس قرآن کے ذریعہ سے یہ انقلا بی نظریہ لوگوں کے سا منے آنا شروع ہوا اس حقیقت کو نہا یت سادہ اور سلیس انداز میںحالی نے بیان کیا :
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہا دی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
اور نہایت پر شکوہ الفاظ میں شا عر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے اس طرح بیان کیا:
در شبستان حرا خلوت گزید
قوم وآئین و حکومت آفرید
اس انقلابی نظریہ کی اول اساس و بنیاد قرآن ہے یعنی دعوت تبلیغ ،انداز ،تبشیر ،تذکیر،حتی کہ تزکیہ اور تربیت قرآن کے ذریعہ ہوئی ،اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کا مرکز و محور اور منبع و سر چشمہ قرآن بنا پھر اس دعوت کے تین حصہ شما ر کئے گئے توحید ،رسالت ،آخرت ان میں جہاں تک نطام کا تعلق ہے وہ درحقیقت نظریہ تو حید پر ایمان ہے کیونکہ آخرت میں ایمان انسان کی سیرت و کردار کی تربیت اور صحیح تعمیر کی بینا د بنتا ہے نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج اصل میں اسی تربیتی مراحل کی چیزیں ہیں اشخاص کے سیرت و کردار کو اس خاص سانچہ میں ڈھا لنا جس میں ڈھل کر ایک صحیح اور درست اسلا می انقلا ب آسکے اس تربیت کا نا م ہے ،دل میں چھپے ہو ئے امراض اور روگوں کا مداوا اور علا ج بھی قرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوا جس کے لئے قرآنی اور دینی اصطلا ح تزکیہ بنیاد قرار پا ئی ،الغرض ایمان بالآخرت انسان کے جذبہ عمل کو متحرک کر نیکا نہایت مؤثر عامل ہے جبکہ رسالت پر ایمان کا تعلق قانو ن سے ہے حضور ﷺ کو دل و جان سے رسول تسلیم کرنے اور آپ ﷺ کی دی ہو ئی تمام خبروں کی تصدیق کا نام ہی دراصل ایمان ہے اس کے بغیر ہم نہ توحید کو صحیح معنوں میں جان سکتے ہیں ،نہ آخرت کو مان سکتے ہیں اور نہ ہی اعمال صالحہ اور افعال سیئہ کو صحیح طور پر پہچا ن سکتے ہیں یہی مطلوب و مفہوم اور مقصود ہے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد مبارک کا، لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کو ئی شخص مؤمن ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس ہدایت کے تابع نہ ہو جا ئے جو میں لے کر آیا ہوں ۔
 پھر اس انقلا بی نظریہ اور دعوت کے متضمنات اس کے مضمرات و مقتضیات اور بدیہی نتائج و عواقب کیا تھے ؟جس کے بغیر اس انقلابی فکر کا صحیح ادراک و شعور نہیں ہو سکتا ،توحید کے ذریعہ سے انسانی حاکمیت کی کلی نفی کی گئی یہ سب سے بڑاعظیم انقلا بی نظریہ ہے جس کو مشرکین نے بھی تسلیم کیا ،اور انسانی حاکمیت کے بجا ئے خلافت کا تمغہ عنا یت کیا گیا ،ملکیت کی جگہ امانت کا تصور دیا گیا،کامل معاشرتی مساوات میں پرویا گیا، اس انقلابی تنظیم کی تشکیل و تنظیم کی اساس بھی قرآن نے بیان کی پہلی قرآنی اصطلاح بنیا ن مرصوص سیسہ پلائی ہو ئی دیوار ہے اس کے لئے بنیاد سمع و طا عت کو بنا یا گیا واسمعوا و أطیعوا اور تیسرا عنصر اس میںأشداء  علی الکفار رحماء بینھم شامل کیا گیا جس سے یہ تنظیم ایک انقلا بی تنظیم بنی اور اس نے پہلے عرب پھر عجم کو فتح کیا اس سے بڑا انقلاب دنیائے انسانیت میں نہ کبھی آیا ہے نہ آئے گا اور یہ انقلا ب اس ایک شخص نے خدائی تمغہ کو ساتھ لے کر برپا کیا اب بھی اگر انقلا ب کی فکر اور اس کی ضرورت ہے تو اسی طرح سے تکمیل ہو سکتی ہے ورنہ اس کے بغیر کوئی انقلا ب تو درکنا ر معمولی تبدیلی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔




سیرت نبی پاک ﷺایک نظر میں

سیرت نبی پاک ﷺایک نظر میں 



نام : محمد، احمد (صلی ﷲعلیہ وسلم )
لقب : آمین، صادق
والد : عبدا ﷲ
والدہ : آمنہ
دادا : عبد المطلب
قبیلہ : قریش
خاندان : بنی ہاشم
نکاح : ۲۵سال کی عمر میں حضرت خدیجہ ؓسے۔
نبوت : ۴۰سال کی عمر مبارک میں۔
نبوت کی جگہ : جبل نور پہاڑی کے غار حرا میں۔
پہلی وحی : سورۃ العلق کی ابتدائی ٥ آیتیں۔
مصائب و آزمائش:
نبی پاکؐ اور صحابہ کرامؓکو زبردست تکالیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، نبی پاکؐ اور صحابہؓ طرح طرح سے ستائے جاتے لیکن اسلام کی دعوت و تبلیغ سے نہیں رکے۔
شعب ابی طالب میں محاصرہ :
مشرکین مکہ نے مل کر۳ سال تک بائکاٹ کیا ۔
عام الحزن :
 ۱۰نبوی میں پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے محبوب چچا حضرت ابو طالب اور وفا شعار بیوی حضرت خدیجہؓ کا انتقال، پیارے نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے لیے یہ غم کا سال تھا ۔
معراج :
اﷲ نے راتوں رات پیارے نبیﷺ کو مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ کا سفر کروایا، وہاں آپؐ نے تمام انبیاءؑ کی امامت فرمائی اور پھر وہاں سے ساتوں آسمان کی سیر فرمائی نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اورپنج وقتہ نماز کا تحفہ ا ﷲ نے عطا کیا۔
مکہ میں قیام : ۵۳ سال (نبوت کے بعد ۱۳  سال)
ہجرت : نبوت کے۱۳ سال بعد ا ﷲ کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت۔
مدینہ میں قیام : ۱۰سال۔
مواخات : مکہ سے مدینہ گئے ہوئے مسلمانوں (مہاجر) اور مدینہ کے مسلمانوں (انصار) کو آپس میں بھائی بھائی بنانا۔
جنگ بدر :
۲ہجری میں ۳۱۳مسلمانوں اور۱۰۰۰ مشرکین کے درمیان حق و باطل کی جنگ فرشتوں کے ذریعہ ا ﷲ کی غیبی مدد اور اہل حق کی جیت ۔
جنگ احد :
مشرکین مکہ کا بدر کا انتقام، حضرت حمزہؓکی شہادت، نبی پاکﷺ کے چار دندان مبارک شہید۔
غزوہ خندق یا احزاب :
مدینہ کے بہار اروں طرف خندق کھود کر کفار سے حنگ، مسلمانوں کے ساتھ ﷲ کی غیبی مدد و نصرت۔
غزوہ خیبر:
یہود اور مسلمانوں کی جنگ، مسلمانوں کی فتح، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کے جوہر۔
صلح حدیبیہ:
مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح، مسلمانوں کی کھلی جیت، مسلمانوں اور مشرکین کا میل جول اسلامی اخلاق کا کفار پر زبردست اثر، بڑی تعداد اور اہم شخصیات کا قبول اسلام۔
فتح مکہ :
۸ ہجری میں مشرکین کا صلح حدیبیہ معاہدہ کی خلاف ورزی، مشرکین نے مسلمانوں کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ۱۰ہزار مسلمانوں کی فوج کا مکہ کی فتح ساتھ ہی رحم دلی کا ایسا مظاہرہ کے تمام مشرکین مکہ کو معافی کر دیا گیا۔
حجۃ الوداع :
۱۰ ہجری میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا آخری حج ، دین کی تکمیل۔
وفات :
۱۲ ربیع الاول ۱۱ہجری کو اس دار فانی سے ﷲ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری، حضرت عائشہؓ کے سینہ پر سر مبارک رکھ کر روح پرواز کر گئی۔( صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم )
پاک دامن بیویاں :
۱-حضرت خدیجہؓ ۲-حضرت سودہؓ ۳-حضرت عائشہؓ
۴-حضرت حفصہؓ ۵-حضرت زینبؓ ۶-حضرت ام سلمہؓ
۷-حضرت ام حبیبہؓ ۸-حضرت زینبؓ بنت جحش
۹-حضرت صفیہؓ ۱۰-حضرت میمونہؓ ۱۱-حضرت جویریہؓ
پاک دامن بیٹیاں:
۱-حضرت زینبؓ ۲-حضرت رقیہؓ
۳-حضرت ام کلثومؓ ۴-حضرت فاطمہؓ
بیٹے:
۱-حضرت ابراہیمؓ ۲-حضرت قاسمؓ
۳-حضرت عبداﷲؓ (بیٹوں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا)۔
حوالے :
۱-سیرت النبیؐ، از؛ علامہ شبلی
۲-سیرت رسول اکرمؐ، از؛ مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی
۳-اﷲ کے رسولؐ،از؛ حکیم شرافت حسین
۴-رحمۃ للعالمینؐ، از؛ قاضی سلیمان منصور پوری
۵-رحمت عالمؐ، از؛ علامہ سید سلیمان ندوی


حدیث دل محمد نظام الدین ندوی

حدیث دل    محمد نظام الدین ندوی 

علمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئی ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔

Friday, July 24, 2020

قربانی کا پیغام مولانا فہیم احمد ندوی

قربانی کا پیغام
مولانا فہیم احمد 
ندوی
قربانی کا پیغام             مولانا فہیم احمد ندوی 




قربانی کا مقصد حلال جانور کو اللہ کے تقرب کے حصول کی خاطر ذبح کرنے کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ھابیل اور قابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے ،یہ سب سے پہلی قربانی تھی جوپیش کی گئی تھی، حق تعالی کاارشاد ہے
’’وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ بْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْقَرَّبَاقُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْاٰخَرِ ‘‘(المائدة)
اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر ؒ نے حضرت ابنِ عباس ؓسے روایت نقل کی ہے کہ ھابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی ، اُس زمانے کے دستور کے مطابق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھالیا،قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا،اس سے معلوم ہوا کہ قربانی حضرت آدم ؑ کے زمانہ سے جاری ہے اور اس کاوجود تقریبًا ہر ملت میں رہا ہے، البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ سے ہوئی اور اسی کی یادگار کے طور پر امتِ محمدیہ ﷺ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔
قربانی کی حقیقت،عظمت اور اس کے مقصد کو قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے ، سورۃ الحج میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
’’وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمْ مِنْ شَعَآئِرِاللّٰہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوااسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَکُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوْاالْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَالِکَ سَخَّرْنٰہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ لَنْ یَّنَا لَ اللّٰہَ لُحُوْ مُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَا لُہُ التَّقْوٰی مِنْْکُمْ کَذَالِکَ سَخَّرَھا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدَاکُمْ وَ بَشِّرِالْمُحْسِنِیْنَ ‘‘
سورہ حج ہی میں دوسرے مقام پر قربانی کو شعائراللہ میں سے قرار دیتے ہوئے اس کی عظمت بتلائی گئی اور اس کی تعظیم کو دل میں پائے جانے والے تقویٰ خدا وندی کا مظہر قرار دیاگیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
’’وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّہَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ‘‘ 

سابق انبیا کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں قربانی کا تسلسل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت تک پہنچتاہے ، جس کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی ذبح کی جاتی اور وقت کے نبی دعاء مانگتے اور آسمان سے ایک خاص کیفیت کی آگ آتی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی جسے قبولیت کی نشانی سمجھا جاتا تھا ،اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:
’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍجَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْاا سْمَ اللّٰہِ عَلیٰ مَا رَزَقَہُمْ مِّنْ بہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ‘‘
قربانی کی عظمت اور اس کی اہمیت کو احادیث نبوی ﷺ میں بھی کافی وضاحت کےساتھ بیا ن کیا گیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے اس کی بہت ترغیب دلائی ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اھرَاقِ الدَّمِ وَاِنَّہٗ لیأتی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِہَا وَاَشْعَارِھا وَ اَظْلَافِہَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِہَا نَفْسًا ۔
ترجمہ!حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابنِ آدم (انسان) نے قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ ہو ،اور قیامت کے دن ذبح کیا ہواجانوراپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبول ہوجاتا ہے،لہٰذا تم قربانی خوش دلی کے ساتھ کیاکرو۔‘‘
’’عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَا ہٰذِہِ الْا َضَاحِیْ ؟ قَالَ :سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامِ، قَالُوْا:  فَمَا لَنَا فِیْہَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ، قَالُوْا: فَالصُّوْفُ یَا رَسُوْلَ اللّہِ؟ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍمِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ ‘‘
ترجمہ! ’’ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ (انکی سنت ) ہے ، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ پھر اس میں ہمارے لئے کیا (اجر و ثواب ) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (جانورکے ) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ،صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ (دُنبہ وغیرہ اگر ذبح کریں تو ان کی )اُون (میں کیا ثواب ہے )؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہ اُون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔ ‘‘
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ اَضْحٰی : مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ فِیْ ھٰذَالْیَوْمِ اَفْضَلَ مِنْ دَمٍ یُہْرَاقُ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ رَحِمًا تُوصَلُ ‘‘ 
ترجمہ ! ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدالاضحی کے دن ارشاد فرمایا : آج کے دن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادہ افضل عمل نہیں کیا ، ہاں! اگر کسی رشتہ دار کے ساتھ حسنِ سلوک اس سے بڑھ کر ہوتو ہو ۔ ‘‘
ان کے علاوہ بھی اور بہت سی روایات ہیں جن میں قربانی کی حقیقت ،عظمت اور مقاصد بیان کئے گئے ہیں ،اگر مختصر الفاظ میں بیان کریں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ قربانی سنتِ ابراھیمی کی یادگار ہے اور ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ ، قربانی کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک روح ہوتی ہے ، صورت تو جانور کاذبح کرنا ہے، اور اس کی روح،ایثارکا جذبہ پیدا کرنا، اور تقربِ الی اللہ ہے،اصل میں قربانی کی حقیقت تو یہ تھی کہ عاشق خود اپنی جان کو خدا تعالی کے حضور پیش کرتا،مگر خدا تعالی کی رحمت دیکھئے اس کو یہ گوارہ نہ ہوا،اس لئے حکم دیا کہ تم جانورکو ذبح کردو ہم یہی سمجھیں گے کے تم نے خود اپنے آپکو قربان کردیا،اس سے پتا چلا کہ قربانی کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے ،چنانچہ اس سے انسان میں جاں سپاری اور جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،اور یہی اس کی روح ہے۔
قربانی کا فریضہ تو اکثر مسلمان ہر سال ادا کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ قربانی کے اصل مقصد کو فراموش کئے رکھتے ہیں ، قربانی کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ اپنی جان اپنی اولاد اور اپنے مال کو خداتعالی کے لئے قربان کرنےکے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے  اور اس کے لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے بھی گریزکرنا چاہئے،اسی کے ساتھ قربانی کا یہ بھی مقصد ہے کہ جب بندہ اپنے رب کے نام پرجانور کے گلے پر چھری چلائے تو تصور میں اپنے سرکش نفس پر بھی چھری چلا کر اسے سرکشی سے نجات دلادے ، اپنے نفس کو اللہ تعالی کا فرماں بردار بنانے کے لئے جانور کے ہمراہ اسے بھی ذبح کرڈالے تاکہ وہ تکبر ونافرمانی کے غرور سے چھٹکارہ پاجائے،اپنے دل میں اپنے رب کی اور اس کے بندوں کی محبت پیدا کرسکے ،اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کی دل سے اطاعت کرے، اپنے آس پاس کے لوگوں کا اور غریبوں کا خیال رکھے،نادار اور مفلسوں کی مددکرے ،یہ اس قربانی کا اوَّلین و اصل مقصد ہے، مگر ہمارے یہاں تو یہ حال ہے کہ ہم لاکھوں کی قیمت کا جانور خرید کر لاتے ہیں پھر باقاعدہ اس کی نمائش کی جاتی ہے ، عوام ایسے جانور کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں ، غریب اور نادار لوگ جو قربانی کی حیثیت نہیں رکھتے وہ یہ سب دیکھ کر اپنے دل مسوس کر رہ جاتے ہیں ، کیا یہی قربانی ہے ؟ جو دوسروں کے دلوں کو رنج پہنچانے کا سبب ہو ، کیا یہ قربانی مقبولِ بارگاہِ رب ہوسکتی ہے ؟
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہم ذرا غورکریں کہ جس شخصیت کے صدقہ میں ہمیں یہ تحفہ ملا ہے اس نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی امتحانات میں گزری، آخری عمر میں بیٹے کا ملنا ،پھر اسکی قربانی کا حکم ، اور اسے اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کردینا ، یہ بہت ہی بڑا امتحان تھا ،لیکن باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے رب کی رضا کے لئے اپنی جبینِ نیاز کو اللہ کے دربار میں خم کردیا ،اللہ تعالی کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ جب آنکھوں سے پٹی کھولی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام زندہ سلامت تھے ، مگر خدا ئے کریم اپنے خلیل کے جذبہ ایثاراور وارفتگی کو پسند اور قبول فرماچکا تھا ،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَا اِنَّا کَذَالِکَ نَجْزِالْمُحْسِنِیْنَ اِنَّ ھذَالَہوَالْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ ، وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ، وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ‘‘
ترجمہ ! ’’تم نے خواب کو سچ کر دکھا یا،یقینًا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں، یقینا یہ ایک کھلا امتحان تھا،اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے (کر اس بچہ کو بچالیا) دیا اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی۔ ‘‘
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اللہ کے پیغمبر جیسا وہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ، کہ اللہ کے دین اور اس کے حکم کی سر بلندی کے لئے اگر ہمیں بھی کبھی اپنے جگر کے ٹکڑوں کو راہِ خدا میں پیش کرنے کی نوبت آئے تو ہم بھی اللہ کی رضا اور تقوٰی حاصل کرنے کے لئے یہ کام کرگزریں گے یا نہیں ،اگر ہم نے جانور وں کی قربانی کے ساتھ وہی عزم ،وہی جذبہ خلیل اللہ پالیا تو یقین مانئے کہ ہم کامیاب اور اللہ کے نزدیک سرخ رو ہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اللہ کی جانب سےجوبھی احکام نازل کئے گئے ہیں یا جو مذہبی تہوار ہمیں شریعت نے مرحمت کئے ہیں ان کو عین تقاضہ کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے شریعت کے کسی بھی حکم کو ہماری نادانی کی وجہ سے محض تفریح کا ذریعہ نہ سمجھیں، اپنے اعمال کو درست کرنے کی کوشش کریں،اور جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی جھوٹی انا، اور خواہشات ِ نفس کی بھی قربانی کردیں، جو مسلمان آج قربانی کر رہے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم الشان عمل کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں ،ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قربانی سے زیادہ قربانی کے پیغام کو سمجھیں ، اور وقت کے نمرود کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت اپنے اندر پیدا کریں ، دین و ایمان اور ملت اسلامیہ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے گریز اور دریغ نہ کریں ، چاہے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے ، جیلوں کی مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، اجنبی سرزمین پر بُود و باش اختیار کرنی پڑے ، حتی کہ اگر اپنی اولاد کو قربان کرنے کا مرحلہ در پیش ہوتب بھی ہمت و حوصلہ سے کام لیا جائے ، خاردار وادیوں ، اور سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چاک کرنا پڑے پھر بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے خود کو مٹاتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں ، حتی کہ کامیابی ہمارے قدم چوم لے ، اللہ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین ۔

قربانی -فضائل اوراحکام ومسائل مولانا کفیل احمد ندوی


قربانی -فضائل اوراحکام ومسائل

قربانی -فضائل اوراحکام ومسائل
مولانا کفیل احمد ندوی 

مولانا کفیل احمد ندوی

  قربانی کی روایت
قربانی چونکہ اللہ کے تقرب اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہےاس لیےاُسے قربانی کہا گیا ہے، جہاں تک اللہ کے حکم پر جانور کو ذبح کرنے،اور اِس طرح اللہ تعالی کا قرب ورِضا حاصل کرنے کا تعلق ہے تو اِس کا سلسلہ بہت قدیم ہے،اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ”ھابیل“ اور ”قابیل“ کی قربانی کا ذکر کیا ہے۔
یہود کی یہ بات اللہ نے قرآن میں ذکر کی کہ انہوں نے کہا کہ جب تک کہ یہ رسول، مقبول قربانی پیش نہ کردیں،اوراُسکوآسمانی آگ آکرنہ کھاجائے ہم انکی رسالت ونبوت کوتسلیم نہیں کریں گے۔(آل عمران: ١٨٣)
قربانی کارواج ہردورہرزمانہ ہرقوم اورہرملت وامت میں رہاہے، تمام آسمانی کتابوں میںاورہرنبی ورسول کوقربانی کاحکم دیاگیاتھا، قربانی کا تعلق ہر دور ہر زمانہ اور ہر شہروملک سے رہا ہے، یہودونصاری اورہندوؤں کے یہاں بھی جانور کو قربان کرنے کا تصور رہا ہے،اللہ نے قرآن میں فرمایا:
وَلِکُلِّ أُمَّۃٍجَعَلْنَا مَنْسَکَا(الحج: ٣٤ )
زمانہ جاہلیت میں جنات وشیاطین،بتوں، دیویوں اور دیوتاؤں کو خوش کرنے،اوراُنسے اپنی مرادیں پوری کرانے کے لئے جانورذبح کرناعام معمول تھا،کفارومشرکین،شرکیہ اڈوں، آستھانوں اور بت خانوں پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے، زمانہ جاہلیت میں ایک قربانی”فرع“ کے نام سے ایک قربانی ”عتیرہ“ کے نام سے اورایک ”رجبیہ “ کے نام سے مشہورتھی،اونٹنی کے پہلے بچہ کوبتوں کے نام پرذبح کرتے تھے اُسے ”فرع “کہاجاتاتھا، رجب کے مہینہ میں بتوں کے نام پرجوقربانی کرتے اسکو ”رجبیہ“ اور ”عتیرہ “ کہتے تھے،اسلام کے آنے کے بعد غیراللہ کے نام پرکی جانے والی اِس طرح کی تمام قربانیاں ناجائز  وحرام قراردےدی گئیں:
وَمَاأھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہ۔(االمائدہ : ٣)
 قربانی کی فضیلت واہمیت جہاں تک ”ذی الحجہ“ کی دس تاریخ کو عید الاضحی کے موقع پر جانور کو قربان کرنے کی مشروعیت کا سوال ہے تو اِس کی ابتداء حضرت ابراہیمؑ کی اُس تاریخی،حیرت انگیز،اور نادرہ روزگار قربانی سے ہوئی جب اُنہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگراور نورِ نظر حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کی پوری کوشش کرلی تھی،اُس وقت حضرت ابراہیمؑ کاامتحان مقصودتھا،انکی تمام محبتوں، الفتوں، دلچسپیوںاورتعلقات کارخ اللہ کی طرف موڑناتھا،جب یہ مقصدپوراہوگیا اوروہ امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اسماعیلؑ کی جگہ جنت کامینڈھاذبح کردیاگیا، لیکن حضرت ابراہیمؑ کی اُس قربانی کو بعدوالوں کے لئے اسوہ ونمونہ،اورقابلِ تقلید عمل قراردےدیاگیا،اورامت محمدیہ علی صاحبہاالف الف تحیۃ وسلام کا،حضرت ابراہیمؑ سے خاص روحانی ومعنوی ربط وتعلق پیداکیاگیا اوراِس امت کو انکی ہرہر اداءکے اختیارکرنے کاحکم ہوا:
وَاتَّبِعْ مِلَّةَ اِبرَاھیْمَ حَنِیفا۔(النحل: ١٢٣)
مِلَّةَ أبِیْکُمْ إبراھِیْم ھُوَسَمَّاکُمُ المُسْلِمِین۔
(الحج: ٧٨)
قربانی حضرت ابراہیمؑ کی بھی سنت ہے اورحضرت محمد مصطفیؐ اوردیگرنبیوں کی بھی سنت ہے،کتاب وسنت قربانی کی اہمیت وفضیلت اوراسکےاجروثواب کے ذکرسے بھرے ہوئے ہیں، اس بارے میں بےشمارآیاتِ قرآنیہ کے علاوہ احادیث نبویہ حدتواترکوپہونچی ہوئی ہیں،قربانی،نمازوروزہ کی طرح ہجرتِ مدینہ کے دوسرے سال مشروع ہوئی۔
(الفقہ الإسلامی وأدلتہ-ج: ٣ ص ٥٩٤)
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:
 ”إنَّا أعْطیْناکَ الکوْثرَ فصَلِّ لِرَبِّکَ وانْحرْ“
(الکوثر: ٢)
علماء فرماتے ہیں کہ اس جگہ"فَصَلِّ لِرَبِّکَ"سے عید کی نماز مراد ہے اور "وانْحرْ" کے ذریعے قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔(ابن کثیر-تفسیرسورۃ الکوثر)
اور چونکہ "وانْحر" امر ہے اس سے قربانی کے وجوب کے قائل علماء استدلال کرتے ہیں،ایک جگہ اللہ نے فرمایا:
قُل إنَّ صَلاتِی وَنُسُکی ومَحْیای ومَمَاتِی لِلّٰہ ربِّ العَالَمِیْن(الأنعام: ١٦٢)
میری نماز میری قربانی میراجینااورمرناسب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔
ایک حدیث میں حضور ﷺ نےارشاد فرمایا: ” جو شخص وسعت کے باوجودقربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ “(سنن ابن ماجہ:باب الأضاحی)
ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
”عیدالاضحی کے دن اللہ کے نزدیک کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔“
(سنن 1الترمذی: باب ماجافی الأضحی)
ایک حدیث میں قربانی کے اجرکواِن الفاظ میں بیان کیاگیا: ” قربانی کے جانورکے ہربال کے بدلہ ایک نیکی ملتی ہے۔ “(ابن ماجة: باب ثواب الأضحیة)
بہرحال قربانی ایک محبوب وپسندیدہ عمل ہے ، یہ اسلام کی پہچان وشعار ہے تمام نبیوں کی سنت ہے، حضورؐ نے قیامِ مدینہ کے دوران ہرسال قربانی کی، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ” حضورؐ دومینڈھوں کی قربانی کرتےتھے میں بھی دوہی مینڈھوں کی کرتاہوں۔ “(بخاری:٥٥٥٣،مسلم: ١٩٦٦)
حضرت ابن عمرؓفرماتے ہیں کہ حضورؐ نے مدینہ میں دس سال قیام کیا،اس دوران آپؐ نےہرسال قربانی کی۔
(ترمذی: ابواب الاضاحی)
صحابہ کرام وتابعین کامعمول بھی ہمیشہ قربانی کا رہا ہے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: ہم  نے حدیبیہ کے سال حضورؐ کے ساتھ ایک اونٹ سات لوگوں کی طرف سے،اورایک گائےسات لوگوں کی طرف سے قربان کی۔
اسلام کی تاریخ میں کبھی بھی کسی مشکل ودقت کےوقت یا معاشی تنگی کی وجہ سے قربانی کاعمل ترک نہیں کیاگیا ”جواھر الاکلیل“ میں لکھاہے کہ اگرکسی شہرکے لوگ قربانی ترک کردیں تو ان سے قتال کیاجائے گا،قربانی کی مشروعیت کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے انسان کوعطاکردہ متعدد نعمتوں، سالِ گزشتہ سےاس سال تک انسان کوزندگی بخشنے،انسان کی سیئات کومعاف کرنے اورقربانی کی وسعت دینے پراللہ کاشکراداکیاجائے۔
(الفقہ الأسلامی وادلتہ- ج ٣-ص ٥٩٥)
قربانی کا حکم
 قربانی کی مشروعیت پر تو سب کا اتفاق ہے، لیکن اُس کی حیثیت اور حکم میں اختلاف ہے،امام ابو حنیفہ، ربیعہ، لیث بن سعد،اوزاعی،اورامام احمد کی ایک روایت میں قربانی واجب ہے،جب کہ حضرت ابوبکر ،حضرت عمر،حضرت بلال،ابومسعودبدری رضی اللہ عنھم اورسعیدبن مسیب، علقمہ، اسود، امام مالک،امام احمد اورشافعی کے نزدیک قربانی سنت ہےاور ابویوسف ومحمدکے نزدیک سنت موکدہ ہے،یاد رہے کہ یہ اختلاف مالدار یعنی صاحب نصاب کے تعلق سے ہے، اگر انسان صاحب نصاب نہیں ہے توکسی کے نزدیک کوئی حکم نہیں ہے۔
(شرح مسلم للنووی-ج: ٢ ص:١٥٣-کتاب الأضاحی-باب وقتھا،اورشیخ ابن عثیمینؒ کی تصنیف” أحکام الأضحیة والذکاة“ص ٥ تا٢٠)
قربانی کے وجوب کی شرطیں
کسی بھی شخص پرقربانی واجب ہونے کے لئے چارشرطوں کاپایاجاناضروری ہے:
(۱)مسلمان ہونا،کافر وغیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ہے۔
دلیل:-لأنھا قُرْبَةُٗ والکافِرُ لیْس منْ أھْلِ القُرْبِ۔
(۲)آزاد ہونا،غلام پر قربانی واجب نہیں ہے۔
دلیل:- لأنّ العبْدَلایمْلِک۔
(۳)مقیم ہونا، مسافر کے لیے قربانی کا حکم نہیں ہے۔
دلیل:-عن علی موقوفا”لیس علی الْمسافِر أُضْحِیة۔
(۴)مالدار وصاحب نصاب ہونا،اگرکوئی شخص صاحب نصاب ہے مالدار ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، اگرصاحب نصاب نہیں ہےتوقربانی واجب نہیں،صاحبِ نصاب وہ شخص ہوتاہے جس کے پاس گھراورگھرکےضروری سامان اورروزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء کےعلاوہ سونا،چاندی،زمین،مالِ تجارت، یانقدروپیہ سب ملاکراتنی مقدارکوپہنچ جائے کہ جس سے ساڑھےباون تولہ چاندی خریدی جاسکےتوایساشخص صاحب نصاب ہے،اب جوبھی مردوعورت اتنی مالیت کامالک ہوتواس پرقربانی واجب ہے،یادرہے کہ وجوب قربانی میں قربانی کےآخری وقت کااعتبارہے،اس لئے اگرکوئی شخص ١٣ ذی الحجہ کوبھی غروب سےقبل صاحبِ نصاب ہوگیاتواس پر قربانی واجب ہوگی۔
(”المحلی بالآثارلإبن حزم“ج٦: ص٣٧)
 مزیدتفصیل اورائمہ کے اختلاف ودلائل کے لئے دیکھیں:
(الفقہ الإسلامی وأدلتہ“ج٣ص-٦٠٣ تا٦٠٥)   
قربانی کےجانور
جب کوئی صاحبِ نصاب شخص قربانی کا ارادہ کرے توسب سے اہم مسئلہ جانورکی خریداری کا ہوتا ہے، شریعت نے قربانی کے جانور،انکےخصائص اورعمریں طے کر دی ہیں،قربانی کے جانور صرف آٹھ جوڑے ہیں،یعنی حلال جانوروں میں سے بھی صرف ان ہی آٹھ کی اجازت ہے اور انمیں سے بھی صرف چوپایوں اور پالتو(گھریلو)کی اجازت ہے جنگلی کی نہیں،اللہ تعالی کاارشاد ہے:
”ثٙمٙانِیةَأزواج مِنَ الضّأنِ اثْنْینِ ومِنَ المعْزِاثْنیْن ومِنالإبلِ إثْنیْن ومن البَقَرِإثْنیْنِ “(الأنعام: ١٤٣ و١٤٤)
یہ آٹھ جانورہیں،دوبھیڑوں میں سے،اوردوبکریوں میں سے، دوانٹوں میں سے اوردوگائیوں میں سے،علماءمحققین بھینس کوگائے کی قسم میں شمارکرتے ہیں،اس لئے اسکی قربانی بھی بلاکراھت جائز ہے،ائمہ کااس بارے میں اختلاف ہے کہ کس جانورکی قربانی سب سےافضل وبہترہے،ائمہ جمہور، اورابوحنیفہ کی رائےیہ ہے کہ سب سے افضل اونٹنی کی پھراونٹ کی،پھرگائے کی پھربیل کی،پھربھیڑاورپھربکری کی ہے، احناف کے یہاں اونٹنی کی اونٹ سے اورگائے کی بیل سے افضل ہے۔(”أحکام الأضحیة والذکاة“ لإبن عثیمین ص ٢٤تا٣٠)
 جانوروں کی عمریں
شریعت نے قربانی کےجانوروں کی عمربھی طے کردی ہے تاکہ کسی شخص کواپنی عقل لڑانے کاموقع نہ مل سکے،اونٹ اوراونٹنی کاپانچ سال سے اوپرہوناضروری ہے،گائے بیل بھینس اورپڑوے میں دوسال کاہونالازم ہے،بکرابکری،بھیڑ اودنبہ کے لئےایک سال کاہوناضروری ہے،دنبہ اوربھیڑمیں یہ گنجائش ہے کہ اگریہ چھ ماہ ہی میں اتنے موٹےتازے ہوجائیں کہ سال بھرکے معلوم ہونے لگیں توان دونوں کی قربانی درست ہوگی، قربانی کے لئے ایسے جانورکاانتخاب کیاجائے جوموٹاتازہ قیمتی ومہنگااورخوبصورت ہو، تمام عیوب ونقائص اورامراض وبیماریوں سے پاک ہو، کامل الخلقت ہو، حضوؐ قربانی کے لئے بہترسے بہتر جانور خریدتےتھے۔
(شرح مسلم للنووی ج: ٢-کتاب الأضحیة)
قربانی کے جانوروں میں شرکاءکی تعداد
بکرا بکری اور بھیڑ و دنبہ صرف ایک شخص کی طرف سے کافی ہوگا،اونٹ اونٹنی،گائے بیل، بھینس اورپڑوے میں سات لوگ شریک ہوسکتے ہیں، بعض علماءکے نزدیک گائے اوراونٹ وغیرہ میں دس لوگ بھی شریک ہوسکتے ہیں،امام مالک کے نزدیک بکرا بکری اور بھیڑ و دنبہ آدمی کی طرف سے اوراسکے گھرکے ایسےلوگوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا جن کانفقہ شرعااس پرعائدہے۔
(فقہ السنة-ج:٣-ص ١٩٢،وأحکام الأضحیة والذکاة-ص ٢٤ تا٣٠)
قربانی کے جانورکی خدمت
جب کسی شخص نے قربانی کے لیےجانور خریدلیاتواب وہ قربانی کے لیے مخصوص ہوگیا، اب اسکوگھرلاکرباندھنا،اسکی خدمت کرنا،اسکوکھلاناپلانا،موٹاتازہ کرنا، اسکے نشان لگانااورگلے میں قلادہ ڈالنامسنون ومستحب اور باعث اجروثواب ہے،جمہورقربانی کے جانورکے موٹا کرنے کوجائزقراردیتے ہیں اورامام مالک ناجائزقراردیتے ہیں،اس طرح خدمت کرنے سے جانورکی محبت پیداہوگی اورقربانی کےشوق ورغبت میں اضافہ بھی ہوگا۔
(الفقہ الاسلامی وأدلتہ-ج:٣-ص ٦٢٤)
قربانی کےارادہ سے خریدےگئے جانورکوبیچنا،ملکیت سے خارج کرنا،صدقہ یاھبہ کرنا، ذاتی استعمال میں لانا،اس پرسوارہونا،کھیت میں استعمال کرنا،اسکےبال یااون کاٹنا، یا دودھ دوہ کرپیناناجائز ومکروہ ہوگا۔(شرح مسلم للنووی-ج٢:ص-١٥٥-کتاب الأضاحی)
قربانی کے ایام اوراوقا ت
قر بانی کے وقت میں اول دو طرح کا اختلاف ہے،ایک تو اِس میں کہ قربانی کے ایام تین ہیں یاچار،امام ابو حنیفہؒ،مالکؒ اور احمدؒ کے یہاں قربانی کے تین دن ہیں ،دس،گیارہ اور بارہ، امام شافعیؒ کے نزدیک قربانی کے چار دن ہیں،اُن کے نزدیک ١٣ذی ا لحجہ تک قربانی ہو سکتی ہے۔
 یہ قول حضرت علیؓ ،حضرت ابن عباسؓ،جبیربن مطعمؒ،حسن بصریؒ،عطاء،عمربن عبدالعزیز،سلیمان بن موسی الاسدی، مکحول اوزاعی اوردائودظاہری کابھی ہے۔
اس پر سب کااتفاق ہیکہ دس ذی الحجہ کو زوال سے پہلے پہلےقربانی کرنا سب سے افضل ہے، اسی طرح ذی الحجہ کی دس تاریخ کو قربانی کے اول وقت میں بھی اختلاف ہے، اِس میں امام ابوحنیفہ نے اہل سواداور اہل حضرمیں فرق کیا ہے،اہلِ حضر جہاں عیدکی نماز پڑھی جاتی ہے،وہاں نمازِعید اور خطبہ کے بعد قربانی جائز ہوگی،اِس میں امام مالک کہتے ہیں کہ اھلِ شہر کے لیے اُس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک کہ امام نماز وخطبہ،اوراپنی قربانی سے فارغ نہ ہوجائے، امام احمد کے نزدیک امام کی نماز کے بعد قربانی کا جواز ہوگا،اور جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی ہو وہاں طلوعِ صبح صادق کے بعد قربانی جاسکتی ہےلیکن سورج نکلنے کے بعد کرنا مستحب وافضل ہے،امام شافعی کےیہاں یہ حکم عام ہے،وہ کہتے ہیں کہ طلوعِ فجر کے بعد جب ایک نماز اوردو خطبوں کا وقت گزر جائےتو سب کے لیے قربانی جائز ہے،اِس میں شہری یا دیہاتی،اور امام کے ذبح کرنے یا نہ کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیں؛
نووی شرح مسلم-ج٢:ص١٥٣،کتاب الاضاحی اورسیدسابق کی”فقہ السنہ“ج٣:ص-١٩٢اور”الفقہ الاسلامی وأدلتہ“ج:٣ ص-٦٠٥تا٦١١)
ذبح کی حکمتیں اوراسلام کی اصلاحا ت
اسلام سے قبل ذبح کے حوالے سے بھی بہت سی بےاعتدالیاں پائی جاتی تھیں جوآج بھی موجودہیں،اسلام نے لوگوں کوذبح کے اصولِ حسنہ تلقین کئے،جانور کا ذبح کرنا اِس لئے ہوتا ہےتاکہ اُس کا فاسد خون اور گندی رطوبات نکل جائیں، خون نکل جانے سے گوشت پاک ہوجاتاہے،اِس طرح شرعی طریقہ کےمطابق جانورکے ذبح کرنے کو''نحْر'' ”ذبْح“ اور ”ذکاۃ“ کہتے ہیں، ذکاۃ کے معنی طیب کے ہیں کہ اُس سے گوشت پاک ہو جاتا ہے، ذبح دو طرح کا ہوتا ہے، ذبحِ اختیاری اورذبحِ اضطراری، ذبحِ اضطراری میں اگرجانوربےقابوہوجائےتو مقررہ جگہ سے ذبح کرنا ضروری نہیں بلکہ بسم اللہ پڑھ کر ہتھیار چلا دیا جائے جس سے خون نکل جائے تو جانورحلال ہوجائے گا، بہرحال حلال جانور کو شرعی طریقہ کے مطابق ذبح کرنے کے لئےنو(٩) شرطوں کا ہوناضروری ہے،اگر جانور حلال ہےلیکن ذبح کے وقت ان نو شرطوں میں سے کسی ایک کا بھی خیال نہ رکھا گیا،ایک شرط میں بھی کوتاہی ہوئی تب بھی جانور حرام اور مردار کے حکم میں ہوگا،ذبح کا حکم اور یہ شرائط، ذبحِ شرعی کو ذبحِ حرام سے مُمَیِّزکرنےوالے بھی ہیں اور اِس طرح ذبح کرنے سے اسلام کا اظہار بھی ہوتا ہے،گوشت بھی پاک ہو جاتا ہے، اگرجانورکوذبح نہ کیاجائے تو خون کے بقاء کی وجہ سے گوشت ناپاک ہی رہتا ہے،ذبح کے نوشرائط حسبِ ذیل ہیں ؛
ذبح        کےشرائط:
(۱)ذبح کرنے والا مُمَیِّزوعاقل ہو، ایساعاقل وسمجھدار کہ ذبحِ شرعی کا قصد و ارادہ کر سکتا ہو،اس لئے جو شخص با شعور نہ ہو،بلکہ مجنون ہو بچہ ہو یا نشے میں ہو، یاایسابوڑھاہو جس کے حواس باقی نہ ہوں تو ایسوں کاذبیحہ درست نہ ہو گا،قصد تذکیہ کی شرط”إلاّماذکیتمْ “(المائدة: ٣) کی وجہ سے ہے، قرآنی آیت کے اس حصہ سے سے ذبح کے قصد کا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
 (۲)ذبح کرنے والا مسلم ہو، مجوسی،پارسی،ہندو یا کسی بھی غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا،ان سب کاذبیحہ حرام ہے،جہاں تک اہل کتاب کے ذبیحہ کا تعلق ہے تو آیت کریمہ”وٙطٙعٙامُ الّٙذِینٙ اُوتُوالْکِتٙابٙ حِلُّٗ لّٙکُمْ وٙطٙعٙامُکُمْ حِلُّٗ لّٙھُمْ“ (المائدة: ٥)کی وجہ سے انکاذبیحہ حلال ہوگا،یہ حکم اُس وقت ہے جب اہل کتاب صحیح دین پرعامل ہوں،اگروہ شرک وکفرمیں ملوث ہوں توانکاذبیحہ حلال نہ ہوگا موجودہ اہل کتاب کایہی حکم ہے۔
(۳) ذبح کرتے وقت ذبح کی نیت کی جائے،اگر ذبحِ شرعی کی نیت نہ کی توجانور حلال نہ ہوگا،اس کی مثال یہ ہے کہ کسی جانور نے کسی شخص پر حملہ کیا اب اس نے اپنے دفاع و بچائوکی نیت سے حملہ آورجانور کو ذبح کردیا،حملہ کرنے والے جانورپر اپنے دفاع کے لئے گولی چلا دی،یا کسی چیز کو کاٹنے یا مارنے کے لیےچھری یا گولی چلائی جو جانور کولگ گئ تب بھی جانور حلال نہ ہوگا۔
(۴) چوتھی شرط یہ ہے کہ غیر اللہ کے لئے،غیر اللہ کو راضی اور خوش کرنے کے لئے ذبح نہ کیاجائے،جیسے بتوں،دیویوں، اوردیوتاؤں کے نام پر ذبح کرنا، بزرگوں کےنام پر،کسی بادشاہ کسی ولی،یاکسی جن کو خوش کرنے کے لئے،یا کسی کی تعظیم میں ذبح کرنایا والدین کی عظمت کی خاطر ذبح کرنا،اس نوع کے سبھی ذبیحے” وماذُبِحَ عَلیَ النُّصُبْ“(المائدة: ٣) کی وجہ سے مردارکےحکم میں ہوں گے۔
(۵) غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کرنا،یعنی ذبح کے وقت صرف اللہ کا نام لیاجائے،کسی دوسری ذات کانام نہ لیاجائے مثلا ” باسم النبی“ ” باسم محمد “ ” باسم الشیخ عبدالقادر “ ” باسم جبرئیل “ اس طرح غیراللہ کے نام  پرذبح کئے گئے جانورمردارکےحکم میں ہوں گے۔
(۶)ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیاجائے اللہ کانام پکاراجائے "واذْکروااسْمَ اللہ علیہ"(المائدة:٤) اگر قصدا بسم اللہ ترک کی توامام ابوحنیفہ کےنزدیک جانورمردارکےحکم میں ہوگا۔
(۷)ایسے دھاردارآلہ سے ذبح کیاجائے جومطلوبہ رگوں اور نالیوں کو کاٹنے والا ہو اور خون بہانے والا ہو،جیسے چھری،چاقو، تلوار،پتھر،شیشہ،تیز دھار والی لکڑی بانس وغیرہ، ناخن اور دانت جسم سے جداہوں توابوحنیفہ کےنزدیک ان سے ذبح کرناجائزہے اوراگرجسم سے لگے ہوں تو انسے ذبح کرنا حرام ہے۔
(۸)مطلوبہ رگوں اور نالیوں کو کاٹنا،یہ چار نالیاں ہیں؛ (۱)حلقوم:سانس کاراستہ جس کے کٹنے سے سانس بند ہو جاتا ہے۔ (۲) مری: یہ کھانے اورپانی کی نلی ہے، اسکےکٹنے سے کھانااورپانی اندرجانابندہوجاتاہے۔(۳) وَدْجَیْن: خون کی دوموٹی اوربھاری رگیں جوحلقوم کوگھیرے ہوئے ہوتی ہیں،یہ چاروں ہی کٹ جائیں توزیادہ بہترہے لیکن تین کاکٹناشرط ہے،امام ابوحنیفہ کے نزدیک حلقوم،مری اورخون کی ایک رگ کا کٹنا ضروری ہے،امام شافعی کے نزدیک حلقوم اورمری کا کٹناواجب اورودجین کاکٹنامستحب ہے،امام مالک کے نزدیک حلقوم اورودجین کاکٹناشرط ہےمری کانہیں،لیث،ابو ثور اورابن المنذرکےنزدیک چاروں کاکٹناضروری ہے۔
(۹)نویں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والے کو ذبح کی اجازت دی گئی ہو،ممنوع جانوردوطرح کے ہیں،ایک وہ جن کا حق اللہ کےطورپرذبح کرناممنوع ہو، جیسے کہ احرام کی حالت میں ذبح کرناسب کے نزدیک ممنوع ہے، دوم یہ کہ حق آدمی جانورسے متعلق ہو ایسے جانورکو اُسکےمالک کی اجازت کے بغیرذبح کرنا حرام ہے، غرض کہ جانورکے حلال ہونے کے لئے ضروری ہےکہ اسمیں کسی دوسرے کاحق متعلق نہ ہو۔
یہ ذبح کے نو(۹) شرائط ہیں جنکی رعایت لازم وضروری ہے ، ذبح کے وقت اگر مذکورہ شرائط میںسےایک میں بھی کوتاہی کی گئی اورکوئی شرط چھوٹ گیا توجانورمردارہوجائے گا۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں ”فقہ السنہ“ج: ۳ص ۱۸۳ تا ۱۸۵اورابن عثیمینؒ کی ”أحکام الاضحیہ والذکاۃ“ص ۵۶ تا۸۷)
ذبح کے آداب                     ومستحبات
 ذبح کے کچھ آداب ومستحبات بھی ہیں جنکی کی رعایت بہتر، مستحب اور افضل ہے،اگرانکی رعایت نہ کی جائے تب بھی قربانی درست ہوگی:
(۱)جانور کو مذبح کی طرف آہستہ آہستہ اورنرمی کے ساتھ پہونچایاجائے ،کھینچ کرنہ پہنچایاجائے۔
(۲)ذبح کے وقت جانور کو قبلہ کی طرف منھ کرکے اِس طرح لٹایاجائے کہ اُسکے پچھلے دونوں پیراور اگلا ایک پیر بندھاہوا ہو، ذبح کے وقت جانورکوبائیں پہلو پر لٹایاجائے کیونکہ اِس طرح ذبح کرنا اسہل وآسان ہے،ذبح کرنے والاکارخ بھی جانب قبلہ ہو۔
(۳) اونٹ کو کھڑا کر کے اور غیر اونٹ کو لٹا کر ذبح کیا جائے، انٹ کوبٹھاکربھی ذبح کیاجاسکتاہے۔
(۴)اونٹ میں نحر اور دیگر جانوروں میںذبح مستحب ہے ، اونٹ میں ذبح اوردیگر میں نحرکابھی جوازہے۔
(۵)چھری تیز ہواورذبح کے وقت سرعت،تیزی اورقوت کے ساتھ چلائی جائے۔
(۶) ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیاجائے اور نہ ہی جانور کے سامنے چھری تیزکی جائے،چھری چھپاکرلائی جائے تاکہ جانورکی نظرچھری پر نہ پڑسکے۔
(۷)جانورکو اس طرح ذبح کیاجائے کہ ذابح وجانور دونوں جانب قبلہ ہوں،ذبح کرنے والا جانورکے سر کو پکڑ لے اور سر کو اٹھا لے،ذبح کے بعد اگرجانور حرکت کرے تو اسکی حرکت کونہ روکاجائے کیونکہ اِس طرح خون پوری مقدار میں نکل جاتا ہے۔
(۸) چاروں رگوں کو اچھی طرح کاٹاجائے۔
(۹) ذبح کے وقت بسم اللہ کے بعد تکبیر کا اضافہ کیاجائے اوراس طرح دعاپڑھی جائے” بسم اللہ واللہ أکبر “ اس موقع پردرودنہ پڑھاجائے کیونکہ یہ درود کامقام نہیں ہے۔
(۱۰)ذبح کے وقت حصہ داروں کے نام لئے جائیں، حضورؐ ذبح کے وقت دعافرماتے تھے؛”اللھم ھذاعنی وعن لم یضح من امتی“
(۱۱)ذبح کے وقت قبولیت کی دعا کی جائے، حضورؐ اس طرح دعافرماتے تھے؛” اللھم تقبل منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراھیم علیہ السلام“
(۱۲)جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اسکی گردن جدانہ کی جائے نہ کھال اتاری جائے ، ایساکرناکروہ ہے۔
(۱۳)جواچھی طرح ذبح کرسکتاہواسکےلئےمسنون ومستحب یہی کہ اپنے ہاتھ سے جانورکوذبح کرے،اگرخودذبح نہ کرسکےتودوسرےسے کروالے لیکن جانورکےذبح کے وقت موجودرہے اورذبح کے عمل کامشاہدہ کرے۔
(أحکام الأضحیة والذکاة لإبن عثیمین ص ٨٨ تا٩٣)
مکروہاتِ ذبح
(۱)غیر دھار آلے سے ذبح کرنامکروہ ہے۔
(۲)گردن کو روح نکلنے سے قبل جداکرنایاکھال اتارنا۔
(۳)جانور کے سامنے دھار تیز کرنا۔
(۴) ایک جانورکو دوسرے کے سامنے ذبح کرنا۔
(۵)قبلہ کے علاوہ کسی دوسری طرف رخ کرنا، یہ سب مکروہات ہیں جن سے احتیاط واجتناب بہتر ہے۔
(یہ سارے مکروہات احادیث سے ثابت ہیں ،تفصیل کے لئے دیکھیں”فقہ السنہ“ج: ۳ ص ۱۸۵) 
گوشت کی تقسیم
قربانی کرنے والے کو قربانی کاساراگوشت کھالینے، سارے کوذخیرہ کرلینے،اورصدقہ کردینے کااختیارہے،بعض احادیث کی بنیادپربعض علماء ذخیرہ اندوزی اورتین دن کے بعدگوشت گھر میں رکھنے،اورکھانے کوحرام سمجھتے ہیںاورحرمت کےحکم کوباقی سمجھتے ہیں ، جمہورعلماء تین دن کےبعد بھی کھانے اوررکھنے کےجوازکےقائل ہیں اورحرمت کومنسوخ سمجھتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں کہ "ممانعت کی علت ضرورت اورفقروفاقہ تھا جب جب علت پائی جائے گی توحکم بھی پایاجائے گا۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
قربانی کے ایام میں اگرفقروفاقہ ہوتوذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہوگی۔
گوشت کے سلسلہ میں افضل یہ ہے کہ اسکے تین حصے کئے جائیں،ایک حصہ اہل وعیال کے لئے رکھاجائے، ایک حصہ احباب واقارب کو ہدیہ کیاجائے اورتیسراحصہ فقراء وغرباء کےدرمیان صدقہ کردیاجائے۔
(نووی شرح مسلم:۲ /۱۵۷-۱۵۸)
کھال اوربال وغیرہ کاحکم
قربانی کے جانورکے کسی بھی حصہ، گوشت، کھال، بال، ہڈی وغیرہ کابیچنادرست نہیں ہے،اگرکوئی حصہ فروخت کیا تو اس کی قیمت صدقہ کرناواجب ہوگا،اسی طرح قَصَّاب کواُسکی مزدوری واجرت کے عوض کھال گوشت یاچربی وغیرہ دینابھی نا جائز ہے،جانورکی کھال کااوراس سے تیارکی گئی مختلف چیزوں کااستعمال قربانی کرنے والے کے لئے جائز ہوگا۔
(فقہ السنہ :۳/۱۹۳)







آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...