Translate

Monday, May 11, 2020

قیامِ امن میں میڈیا کا مثبت کردار چودھری عدنان علیگ

قیامِ امن میں میڈیا کا مثبت کردار
چودھری عدنان علیگ



امن و سلامتی اور سماجی استحکام انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اور معاشرے کے سماجی استحکام اور امن و سلامتی کے لیے ہر جگہ سوشل مکینزم سوشل اسٹریکچر، سماجی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، سماجی حالات پر طائرانہ نظریں رکھنا عوام تک صحیح باتوں کی ترسیل اور امن وامان کے پیغامات کی تبلیغ ہر سماج کا جز لا ینفک ہے،اسکے بغیر معاشرہ سماج اور معاشرتی روابط وضوابط منظم نھی رہ سکتے، اسی لیے ہر ملک میں حالات کو قابو کرنے کے لیے ایک منظم اسٹریکچر موجود ہوتا ہے، جسکو ہم میڈیا کے نام سے جانتے ہیں، جو اب ایک وسیع پیرائے میں ڈھل کر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے، لیکن یہ کیا ہے اسکا کام کیا ہے؟ اور اب کس طرح اسکا اثر و رسوخ بدلتا جارہا ہے یہ بات قابلِ غور ہے، میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا مطلب " لوگوں کے لئے معلومات کی فراہمی کے لئے منظم انداز میں استعمال کیے جانے والے متعدد میڈیم یا چینلز کا استعمال کرنا ہے۔"اس منصوبے کے سلسلے میں ، میڈیا عام طور پر مرکزی دھارے میں شامل ہے یعنی آزاد (پرنٹ ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن)۔ ماضی قریب کی تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے 50 سالوں میں ، ٹیکنالوجی کی پیشرفت سے میڈیا کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ گیا ہے ، پہلے ٹیلی گراف تھا ، پھر ریڈیو ، اخبار ، میگزین ، ٹیلی ویژن اور اب انٹرنیٹ۔  بہت سے لوگ آج صحیح سمت پر گامزن رہنے کے لئے معلومات اور مواصلات پر پوری طرح منحصر ہوچکے ہیں اور ان کی روز مرہ کی سرگرمیاں جیسے کام ، تفریح ​​، صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، ذاتی تعلقات ، سفر ان کے پڑھنے ، سننے اور دیکھنے سے بہت کنٹرول ہوتے ہیں۔  مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز جیسے موبائل / ویڈیو فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز صحافیوں کو دنیا کے بہت سارے حصوں سے آسانی سے معلومات جمع کرنے اور پھیلانے میں اہم تعاون پیش کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی وی اور کمپیوٹرز (سوشل نیٹ ورکس جیسے فیس بک ، ٹویٹر ، اور یوٹیوب) نے دنیا بھر کے حالات تک لوگوں کی رسائ ، دستیابی میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے.نیوز انڈسٹری کا ڈیجیٹلائزیشن ، جس کی وجہ سے وقت اور جگہ کا مقابلہ ہوتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ ہم گلیوں میں ہونے والے کچھ ہی منٹ میں مظاہروں ، فسادات یا بغاوت کی خبریں دیکھ لیتے ہیں ۔ اسی لیے پچھلی چھ دہائیوں میں ، عالمی میدان میں میڈیا کے اثر و رسوخ کو تیزی سے تسلیم کیا گیا ہے ، خاص طور پر ممکنہ تنازعات پر قابو پانے کی اسکی طاقت کو سراہا گیا ہے. لیکن وہی اسکی  تنازعات کو بھڑکانے تشدد کو پھیلانے کی طاقت کو بھی نظر انداز نھی کیا گیا اور اس پر ہمیشہ تنقیدی پہلو اختیار کیا گیا۔کیونکہ اکثر و بیشتر سیاسی مذہبی معاملات میں میڈیا کا جتنا مثبت استعمال کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اسکے منفی استعمال سے سماجی اور انسانی زندگیوں کے بہت سے پہلوؤں کا استحصال بھی کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔  جب یہ عدم رواداری یا نامعلوم معلومات نفرت انگیز پیغامات کو عام کرتا ہے جو عوامی جذبات کو جوڑتا ہے تو یہ تشدد کا خوفناک ہتھیار ہوسکتا ہے۔  لیکن میڈیا کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
یہ تنازعات کے حل کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ،یعنی جب اسکی پیش کردہ معلومات قابل اعتماد ہوتی ہیں، انسانی حقوق کا احترام کرتی ہیں، اور متنوع نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تو تب یہی میڈیا معاشرے میں امن وامان کو قائم کرنے میں عمدہ کردار ادا کرتا ہے اور یہی میڈیا جمہوری حکمرانی کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔  ایک ایسا میڈیا جو تنازعات کو کم کرتا ہے اور انسانی سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔ لہذا میڈیا اگر مثبت سوچ اور مثبت استنتاج اور معتدل اپروچ کے ساتھ کام کرتا ہے تو پھر وہ ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر منفی رویوں اور غیر اخلاقی طور وطریقوں پر میڈیا قدم رکھتا ہے تو یہ ملک کے تمام شعبوں کے لیے مضر اور مہلک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا لوگوں کو تشدد کی طرف بآسانی اکسا سکتا ہے۔ جیسے ہٹلر نے میڈیا کو یہودیوں ، ہم جنس پرستوں اور دیگر اقلیتی گروہوں سے نفرت کا ایک مکمل عالمی نظریہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ اسی لیے تنازعات کے بڑھنے پر میڈیا کے اثرات کو امن کی تعمیر پر میڈیا کے اثرات سے زیادہ وسیع پیمانے پر پہچانا جاتا ہے۔  اس کے باوجود ماہرین کی یہ بات سننا غیر معمولی بات نہیں ہے کہ تنازعہ پر اس کے طاقتور اثرات کے پیش نظر امن کی تعمیر پر میڈیا کا اثر نمایاں ہونا ضروری ہے۔  تاہم ، تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لئے میڈیا کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری بات میڈیا کو اصولی طور پر سچ بولنے کی آذادی تھی لیکن بد قسمتی سے ہند وستانی میڈیا نے جھوٹ بولنے کو بھی آزادی میں شامل کر لیا. کیونکہ آج کی دنیا میں میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا معاشرے کی رگِ حیات ہے، اسکے ساتھ ساتھ حصول اقتدار کا موثر ہتھیار بھی ہے۔ میڈیا کو اپنی طاقت کاکامل ادراک ہے کہ عوام کے ذہن کس حد تک اسکے قابو میں ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کے اذہان بھی جو میڈیا کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے۔اسی وجہ سے پچھلے کچھ عرصوں میں ہمارے میڈیا کے ایک حصے نے حکومت کے اندر حکومتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اور یہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتا کرتا، ہماری تاریخ اور تہذیب کی شکل بگاڑتا ہوا حکمرانی کے اپنے معیارات وضع کرتا چلا جارہا ہے؛ یعنی ملک کے باشندوں کو آزادی کے خواب اور ترقی کے خواب دکھاتے ہوئے ملک کے اجارہ داروں کے ساتھ حصہ داری کررہا ہے، جتنے بھی چینلس آزادی سے خبریں ٹیلی کاسٹ کرتے تھے وہ سب چینل حکومت کے ہاتھوں بک چکے ہیں، اور کافی حد تک ان کے براڈ کاسٹر عوام کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد اور مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کے مواقع محدود تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں میڈیا کے دوغلے روئہ  نے ملک اور دنیا کے بارے میں خبروں اور دوسری اطلاعات کے معیار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا لوگوں کی بہتری کے بجائے تیزی سے ایک کمرشل انٹربرائز کی شک اختیار کرتا جارہا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ قومی امنگوں کی ترجمانی اور ملک کی آزادی و قومی وقار کا دفاع کرکے قومی ذمہ داری نبھائے۔ اب قدیم دور نھی ریا کہ صرف ایک خاص طبقہ ہی میڈیا کا کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ قدیم دور میں پرنٹ  میڈیا کی طاقت مقبول اور مسملہ تھی جو اب آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے اور پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا کی جانب سے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کیونکہ روایتی  میڈیا کی طاقت کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا کا رخ کرچکا ہے. اور اسکی اپنی ایک الگ طاقت الگ اثر و رسوخ ہے اور فرداً فرداً اسکا مثبت استعمال ملک کی فروخت شدہ میڈیا سے کہیں زیادہ مضبوط اور اثرانداز ہے، لہذا اگر آپ تمام لوگ مختلف میڈیا پر گروپ ایڈمن اور سماجی کارکن ہیں تو براہ کرم اپنے گروپس اور صفحات کو مثبت مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ جو بھی لکھیں مثبت اور معیاری انداز میں لکھیں تاکہ آپکی بات مخالف گروہ بھی سنے، کسی پیچیدہ مسلے پر گفتگو کریں بحث ومباحثہ کریں تنقید کریں لیکن تعمیری سوچ کے ساتھ تاکہ اس میں جھُوٹ اور تحقیر وتنقیص کا عُنصر شامل نہ ہو ، کیونکہ ہر وہ قوم جس نے ترقی کی ہے وہ ہمیشہ منظم منسق طریقوں سے آگے بڑھی ہے۔ تاکہ ہم بطور معاشرہ یہ سیکھ جائیں کہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں بڑی بڑی غلطیوں کو جنم دیتی ہیں ۔
لہذا اپنی اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ہنر آزمائیں کیونکہ آپ سب اس مثبت تبدیلی کے سفر میں ایک ایجنٹ کی حیثیت رکھتے ہیں. اور خاص پڑھے لکھے نوجوان تعلیم یافتہ مسلم باشعور افراد ان سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیں اور ملک وقوم کی مثبت ومعتدل مزاج کے ساتھ نمایندگی کریں، کیونکہ نوجوان ایک مہذب معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس وقت نوجوان سوشل ایکٹوسٹس جس طرح سوشل میڈیا اور عملی سیاست میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تاریخ کے وسیع اور گنجلک صفحات میں ان سب کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے اور انشاء اللہ انکا دن رات ایک کرکے  ایک جدوجہد ایک مقصد کی خاطر کام کرنا ایک دن نئے آزاد بھارت کو جنم دیگا۔
جمہوری ملک میں حقوق کی حفاظت
مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی حسنی ندوی
ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے، وہ جمہوری ملک ہے، اور وہاں قانون ساز مجلسیں قانون بناتی ہیں، جب یہ ملک جمہوری ہے تو پارلیمنٹ ہی قانون بنائے گی، اور جمہوریت کا یہ قاعدہ ہے کہ اکثریت کی رائے اور تائید سے قانون بنتا ہے، اس لیے ہر وقت اس کا خطرہ ہے کہ ایسے قوانین بنیں جو ہمارے بنیادی عقائد، مسلمات، ہمارے جذبات اور ہماری ضرورتوں کے خلاف ہوں.اب ہمارا کام یہ ہے کہ ایسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اپنے ملی تشخص کی حفاظت آئینی طریقہ پر کریں، ہم ہندوستان کے وفادار، مفید، کارآمد اور اس کے ضروری جزء ہونے کی حیثیت سے اپنی افادیت واہمیت ثابت کریں اور مطالبہ کریں کہ کوئی قانون ہماری شریعت، آسمانی کتاب اور ہمارے عقائد کے خلاف نہیں بننا چاہیے.اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کریں کہ خلاف شریعت قانون بننے سے ہم کو اس سے زیادہ اذیت ہوتی ہے، جتنا کھانا روکنے سے. ہم ثابت کردیں کہ اس نئے قانون سے ہم کو ایسی گھٹن ہو رہی ہے جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر باہر رکھنے سے ہوتی ہے، ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ، حرکات و سکنات سے معلوم ہوجائے کہ ہماری صحت اور توانائی اور کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے، اور یہ محسوس کرلیا جائے کہ یہ ایک مغموم قوم کے افراد ہیں، اس نئے قانون سے ان کا دم گھٹ رہا ہے."
(کاروان زندگی: ٣/ ١٥٥-١٥٦)




باہمی تعاون کی اہمیت مولانا محمد اعظم ندوی


 باہمی تعاون کی اہمیت    مولانا محمد اعظم ندوی








باہمی تعاون کا مفہوم
 تعاون عربی کے لفظ ’’عون ‘‘ سے بنا ہے ، جس کے معنی مددگار کے ہیں ، اس سے اعانت مدد کرنے کے معنی میں ہے ، اور اسی سے تعاون ہے جس کے معنی ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے ، شریعت میں بھی تعاون کے معنی یہی ہیں ؛ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ تعاون حق کے معاملہ میں ہو اور اللہ کی رضا کے لئے ہو ، باطل کے معاملہ میں تعاون ظلم ہے ، اس طرح اسلام میں تعاون کی اصطلاحی تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کا کا ر خیر ،اللہ کی اطاعت اور گناہوں سے اجتناب میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
باہمی تعاون کے فوائد:
 ۱۔بڑے سے بڑے کام باہمی تعاون سے انجام پاتے ہیں ۔
۲۔باہمی تعاون سے فرد کو قوت کااحساس ہوتا ہے اور وہ کسی کام کو مشکل نہیں سمجھتا ۔
۳۔باہمی تعاون دوسروں سے محبت کی دلیل ہے ۔
۴۔باہمی تعاون کے ذریعہ ہر قسم کے خطرات سے مقابلہ آسان ہوتا ہے ۔
۵۔باہمی تعاون ہر انسان کی ضرورت اور ایمان کی علامت ہے۔
۶۔باہمی تعاون اسلامی اورانسانی اخوت کا تقاضہ ہے ۔
تعاون ایک معاشرتی ضرورت
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں : انسانی معاشرہ انسان کے جینے کے لئے ضروری ہے ، حکماء اسی بات کو اس طرح کہتے ہیں کہ انسان فطری طور پر تمدن پسند ہے ، یعنی اس کے لئے معاشرہ کا وجود ناگزیر ہے ، اس کی وضاحت اس طرح ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور اس کا ڈھانچہ اس طرح بنایا ہے کہ اس کی زندگی او راس کی بقاء غذاپر موقوف ہے اور فطری طور پر غذا کو حاصل کرنے کی صلاحیت بھی اس میں ودیعت فرمادی ہے ؛ لیکن صرف ایک شخص اپنی ضرورت کی غذا خو د سے حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ اس کو اپنے جیسے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے ، یہی حال زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ہے ۔
باہمی تعاون کا بنیادی اصول اور اس کی وسعت
  اسلام نے مختلف بنیادوں پر باہمی تعاون کی ترغیب دی ہے اور اس سلسلہ میں ایک اصول متعین کردیا ہے ، قرآن مجید کی آیت ہے : ’’وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان‘‘]المائدۃ:[2
(جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو )۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ باہمی تعاون اللہ کا حکم ہے اور اس کی دو بنیادیں ہیں ،ایک ’’برّ‘‘ اور دوسری ’’تقویٰ ‘‘، برّ کے معنی نیکی ، بھلائی اور ہر ایسا کام جس سے اللہ کے بندوں کو فائدہ پہنچتا ہو ، ایک حدیث میں ہے :’’ برّ خوش خلقی کا نام ہے ‘‘ (مسلم : باب تفسیر البر والإثم ، حدیث نمبر : 2553)اور تقویٰ کے معنی ہیں ایساکام جس سے اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوتی ہو ، اگرچہ راست طور پر اس کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو ، اس حکم سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی تھی کہ ایسے کاموںمیں تعاون اسلام کے منشأ کے خلاف ہے ، جن سے اللہ کے بندوں کو نقصان پہنچتا ہو اور وہ اللہ کو ناپسند ہو ؛ لیکن تاکید اور مزید وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا کہ گناہ اور ظلم کے معاملہ میں کسی کا تعاون کرنا درست نہیں ، گنا ہ کے لئے ’’الإثم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی تعریف حدیث میں یہ کی گئی ہے کہ’’گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم یہ ناپسند کرو کہ لوگ تمہارے اس کام سے واقف ہوں ‘‘ (مسلم ، حدیث نمبر : 2553)اور ’’عُدْوَان‘‘ کے معنی دوسروں کی حق تلفی اور ظلم کے ہیں ، جس طرح پہلے دونوں کاموں کا کرنا قابل تعریف ہے ، ان میں دوسروں کا تعاون بھی شریعت کا حکم ہے ، اس کے برخلاف دوسرے دونوں کا کرنا بھی ممنوع ہے ، اور ان میں دوسروں کا تعاون بھی ناپسندیدہ اور قابل گرفت ہے ، پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ا  کو تسلی دی تھی اور یہ کہا تھاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا اور اس کے بعداس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ ا کے چند اوصاف ذکر کئے تھے ،تو ان میں ایک وصف یہ بھی ذکر کیا تھاکہ آپ ا حق کے معاملہ میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں (بخاری: باب أول ما بدئ بہ رسول اللہ ا ، حدیث نمبر : 6982) اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ تعاون کی اصل بنیاد نیکی ، بھلائی اور حق وصداقت ہے ۔
اس آیت نے باہمی تعاون کا ایک وسیع تصور پیش کیا ہے ، اگر خیر کا کوئی کا م ہو تو خوا ہ وہ کام سماجی ہو یامعاشی ، مذہبی ہو یا سیاسی ، مسلمانوں کے تعاون کا مستحق ہے ، تعاون کی ضرورت مسلمانوں کو ہو یا عام انسانوں کو ، اپنوں کو ہو یا بیگانوں کو ، تعاون کی ضرورت کسی انفرادی کام میں ہو یا اجتماعی کام میں ۔
  تعاون کے سلسلے میں یہ اصول بھی ذہن نشیں رہنا چاہئے کہ شریعت میں جو حکم اصل کا م کا ہے وہی اس میں تعاون کا ہے ، اگر وہ کام واجب ہے تو اس میں تعاون بھی واجب ہوگا اور اگر وہ کام مستحب ہے تو تعاون بھی مستحب ہوگا ، حضورا نے فرمایا :’’ خیر کی رہنمائی کرنے والا اس کارِ خیرکو انجام دینے والے کی طرح ہے ‘‘ (ابو داؤد : باب في الدال علی الخیر ، حدیث نمبر : 5129)اگر اس کام میں تعاون کرنے کی صلاحیت کئی لوگوں میں ہو تو ان سب پر مشترکہ طور پر تعاون واجب یا مستحب ہوگا اور اگر اس کام میں تعاون کرنے کی صلاحیت صرف ایک ہی شخص میں ہو تو صرف اسی پر تعاون واجب یا مستحب ہوگا ، مثلاً کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور پیراکی کا فن وہاں کوئی ایک شخص ہی جاننے والا ہو تو اس ڈوبنے والے کی جان بچانا متعینہ طور پر اسی پر واجب ہے ، ایک دوسری ضروری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اگر دو لوگ بیک وقت آپ کے یکساں تعاون کے محتاج ہوں تو جس کا آپ پر زیادہ حق ہے ، وہ آ پ کے تعاون کا زیادہ مستحق ہے ، مثلاً آپ کے والد بھی بیمار ہوں اور پڑوسی بھی اور آپ کے اندر کسی ایک ہی کے تعاون کی صلاحیت ہے تو ظاہر ہے کہ آپ پر اپنے والد کا تعاون پہلے ضروری ہے ۔
ایمانی بنیاد پر تعاون
 قرآن کریم میں ایمان والوں کو بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے ]الحجرات : [10 اور حضور ا نے ایمان والوںکے اتحاد وتعاون کی مثال ایک جسم سے دی ہے کہ اگر اس کے کسی عضو میں بھی کوئی درد ہو تو پورا جسم بے خوابی اور بخار سے تڑپ اٹھے (بخاري : باب رحمۃ الناس والبہائم ، حدیث نمبر : 6011) ایک اورحدیث میں آپ نے یہاں تک فرمایا :
 ’’مومن مومن کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے ، اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے‘‘ (بخاری : باب تشبیک الأصابع في المسجد وغیرہ ، حدیث نمبر : 481) ایک حدیث میں آپ ا نے فرمایا :’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے اور اس کو بے سہارا نہ چھوڑے ، جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرروت پوری فرمائی گا ، کسی مسلمان کی کسی مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عوض قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت کو دور فرمادے گا ، او رجو کسی مسلمان کے عیب پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائیں گے ‘‘ (بخاري : باب لا یظلم المسلم المسلم ، حدیث نمبر : 2442)ان احادیث میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں سے تعاون کا حکم دیا گیا ہے ، یہ تو انفرادی تعاون ہے ، مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون کی بہت سی اجتماعی شکلیں بھی ہیں، جیسے مسجد اور دینی اداروں کی تعمیر میں تعاون، جہاد کے لئے کسی مجاہد کا مالی تعاون ، زکوۃ کے ذریعہ مخصوص مسلمانوں کا تعاون وغیرہ ۔امام بخاری ؒ نے تعمیر مسجد کی فضیلت کے لئے جو احادیث ذکر کی ہیں ، ان پر یہ عنوان قائم کیا ہے ، ’’باب التعاون في بناء المسجد ‘‘ (بخاری ، باب نمبر : ۶۳) مسجد نبوی کی تعمیر میں حضور اکرم ا نے بہ نفس نفیس صحابہ ث کے ساتھ حصہ لیا ، اس سے پہلے حضرت اسماعیل ں نے خانہ کعبہ کی تعمیر میں حضرت ابراہیم ں کی مدد کی۔حضور ا نے فرمایا : ’’جس نے کسی غازی کو تیار کیا اس نے خود جہاد کیا ‘‘(بخاري : باب فضل من جہز غازیا، حدیث نمبر : 2843) ،غزوہ خندق میں حضور ااور صحابہ ث نے خندق کی کھودائی میں باہمی تعاون کا بے نظیر نمونہ پیش کیا یہاں تک کہ ان کو اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، اسلامی بنیاد پر ایک مسلمان کا سب سے بڑا تعاون تو یہ ہے کہ وہ دعوت دین کے کام میں حصہ لے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا کُونوا أَنصَارَ اللَّہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْ إِلَی اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّہِ فَآَمَنَت طَّائِفَۃٌ مِّن بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَکَفَرَت طَّائِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا عَلَی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاہِرِیْن‘‘ ]الصف : [14(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو جس طرح عیسی مریم نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا:  ہم ہیں اللہ کے مدد گار، اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا، پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے)۔حضرت موسی ں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنادیجئے ، اور ان کے ذریعہ میرے ہاتھوں کو مضبوط کردیجئے اور ان کو میرے کاموں کا شریک کردیجئے ۔]طہ :[32-29
صحابہ ث  حصول علم میں بھی ایک دوسرے کا تعاون کیا کرتے تھے ، حضرت عمر ا فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے ایک انصاری پڑوسی سے یہ طئے کرلیا تھا کہ ہم دونوںباری باری مجلس رسول میں حاضر ہواکریں گے ، چنانچہ ایک دن وہ جاتا ، ایک دن میں جاتا ، جب میں جاتا تو آکر اس دن کی باتیں اس کو بتاتا ،اور جب وہ جاتا تو وہ مجھے اس دن کی باتوں سے آگاہ کرتا ‘‘ (بخاری:باب الثناوب في العلم ، حدیث نمبر : 87) حضورا نے افضل ترین کاموں کا ذکر فرمایا تو اس میں ایک کام یہ بھی ذکر فرمایا کہ ’’تم کسی ہنر مند کی مدد کردو ، یا بے ہنر کا کام کردو‘‘(مسلم : باب بیان کون للإیمان ، حدیث نمبر : 84)وقف او رزکوۃ کا اجتماعی نظام مسلمانوں کے باہمی تعاون کی ہی علامت ہے ، مسلمانوں کے باہمی اجتماعی تعاون کا ایک نمونہ اسلام کا شورائی نظام بھی ہے ۔
خانگی بنیاد پر تعاون
اسلام نے عام انسانوں اور عام مسلمانوں کے مقابلہ میں رشتہ داروں او ربالخصوص اپنے اہل خانہ کو خصوصی حقوق دینے کی تاکید کی ہے ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو تعاون میں بھی مقدم رکھاجائے ، یہ تعاون جسمانی بھی ہوسکتا ہے اور مالی بھی، حضور ا نے اشعری لوگوں کی تعریف فرمائی کہ
’’جب کسی غزوہ میں ان کازاد سفر ختم ہوجاتا ہے ، یا مدینہ میں ان کا کھانا کم پڑجاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے ، اس کو ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں اور ایک برتن سے برابر سرابر اسے آپس میں تقسیم کرـتے ہیں ‘‘، آپ ا نے فرمایا : ’’وہ مجھ سے ہیں میں ان سے ہوں ‘‘(بخاری:باب الشرکۃ في الطعام، حدیث نمبر : 2486)
قرآن مجید میں جگہ جگہ والدین اور رشتہ داروں کے خصوصی حقوق بیان کئے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کو تعاون میں فوقیت دینا چاہئے ، حضور ا  اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے ، غلام بھی گھر میں رہتے ہیں ، حضور ا نے ان کے بارے میں بھی ہدایت فرمائی کہ ’’ان کو زیادہ کام نہ دیا جائے ، او راگر تم ان کو زیادہ کاموں کا مکلف بناؤتو ان کا تعاون کرو ‘‘(مسلم: باب إطعام المملوک مما یأکل ، حدیث نمبر : ؟؟؟)اسلام میں نفقہ اور وراثت وغیرہ کا نظام کا بھی اسی خانگی تعاون کا حصہ ہے ۔
انسانی بنیاد پر تعاون
  اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے ، فرمایا ہے :’’وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُمْ مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلا‘‘]بنی اسرائیل : [70
(ہم نے یقینا بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی)۔اس لئے تعاون کی سب سے بڑی بنیاد انسانیت ہے ، ظلم کسی پر بھی ہو وہ ہمارے تعاون کا مستحق ہے ، حضور ا نے فرمایا : ’’اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم ‘‘ صحابہ ث نے عرض کیا : اگر مظلوم ہوتو اس کی مدد کریںگے ، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ آپ ا نے فرمایا : ’’ظلم سے اس کا ہاتھ روک دو، یہی اس کی مدد ہے ‘‘(بخاري : باب أعن أخاک ظالمًا أو مظلوما ، حدیث نمبر : 2443)
نبوت سے پہلے حجاز کے علاقہ میں کوئی باضابطہ حکومت نہ تھی ؛ البتہ مختلف قبیلوں کے مخصوص طریقوں اور متعینہ دستور کے مطابق تحفظ ہواکرتا تھااور لوگوں کے باہمی تعلقات قائم رہتے تھے ، اسی زمانہ میں مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ مکہ کے ایک شخص نے ایک بیرونی شخص کا حق ادا کرنے سے انکار کردیا ، چونکہ اس کا تعلق مکہ سے نہیں تھااور مکہ میں اس کے قبیلہ کے افرادبھی نہ تھے ؛ اس لئے ممکن نہ تھاکہ وہ طاقت کے زور پر اپنا حق حاصل کرسکے ، اس اجنبی شخص نے صحن کعبہ میں مکہ کے لوگوں کے سامنے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا ذکر کیا اور ان کے ضمیر سے انصاف مانگا ، اس موقع سے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے کھڑے ہوگئے ، اور عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر اس کی نشست ہوئی ، اس میں آپ ا نے بھی شرکت کی اور اس طرح ’’حلف الفضول‘‘ نامی ایک معاہدہ ہوا جس کا مقصد انصاف کو قائم کرنا ، ظلم کو روکنا اور ظالم کے خلاف مزاحمت کرنا تھا، یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا تھا؛ لیکن رسول اللہ ا  کو یہ کام اس قدر پسند آیاتھاکہ آپ ا نے فرمایا : ’’اگر مجھے آج بھی اس کی طرف بلایاگیا تو میں اس پر لبیک کہوں گا ‘‘(البدایۃ والنہایۃ: ۲؍۲۹۱)یہ واقعہ مظلوم کی مدد کے لئے بھی دلیل فراہم کرتاہے اورحضور ا خواہش کہ اگر اب بھی مجھے کسی ایسے معاہدہ کے لئے بلایاجائے تو میں اسے قبول کروں گا ، اس بات کی دلیل ہے کہ انصاف پسند حکمرانوں کے ساتھ سیاسی تعاون بھی درست ہے ، اگر چہ وہ مسلمان نہ ہوں ، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ’’منکر‘‘ کو روکنے کا حکم دیا گیا ، منکر میں تمام برائیاں شامل ہیں ، اور یقینا ظلم بھی اس میں داخل ہے او ر ظلم کسی پر بھی ہو اسے روکنا اسلام کا حکم ہے ، یہاں تک کہ انسانوں کے علاوہ اللہ کی دوسری مخلوقات پر بھی ظلم ہوتو وہ ممنوع ہے ، اس کا روکنا اور روکنے میں تعاون کرنا ضروری ہے ۔
اسی طرح انسانی بنیادپر معاشی او رمالی تعاون بھی درست ہے ، نبوت کے بعد بھی رسول اللہا نے ابوسفیان اور جبیر بن مطعم کے ساتھ مضاربت کی ہے ، مکہ میں شدید قحط پڑا ،لوگ مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے ، یہ زمانہ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان شدید اختلاف کا تھا، اس کے باوجود آپ ا نے مکہ میں قحط زدہ مشرکین کے لئے پانچ سو دینا ربھیجے ، اور یہ رقم آپ نے سرداران قریش ابوسفیان اور صفوان بن امیہ کو بھیجی جو مسلمانوں کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور مشرکین کی قیادت کررہے تھے۔حضرت عمر صنے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ بھیک مانگ رہا ہے ، جب حضرت عمر ص نے اس کی وجہ معلوم کی تو اس نے کہا کہ وہ جزیہ ادا کرتا ہے ، حضرت عمر ص ،نے بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر فرمایا اور کہا کہ ہم نے تمہاری جوانی کو کھایا او راب پھر ہم تم سے جزیہ وصول کریں ، یہ انصاف کی بات نہیں۔ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے یہودی رشتہ داروں کو تیس ہزار درہم تقسیم فرمائے ، حضرت عبد اللہ بن عمر ص کے گھر میں بکری ذبح ہوئی ، انہوں نے پڑوسیوں کو بھیجنے کی ہدایت فرمائی ، واپسی پر دریافت فرمایا کہ کیا یہودی پڑوسی کو بھی اس میں سے بھیجا گیا ہے ، جب جواب : نہیں ، ملا تو خاص طور پر ان کو بکرے کا گوشت بھیجا ، حضرت عمر ص نے اپنے ایک مشرک بھائی کو تحفہ بھیجا۔چنانچہ فقہاء کا اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ نفلی صدقات غیر مسلموں کو دیا جاسکتا ہے ، احناف کے نزدیک راجح یہ ہے کہ زکوۃ کے علاوہ دوسرے واجب صدقات بھی غیر مسلموں کو دیئے جاسکتے ہیں ۔
باہمی تعاون میں تعاون حاصل کرنا بھی شامل ہے ، علم جیسی مقدس شے میں اسلام نے کسی تعصب سے کام نہیں لیا اور علم وحکمت کو مومن کی متاع گمشدہ قرار دیا (ترمذی: باب ما جاء في فضل النفقۃ علی العبادۃ ، حدیث نمبر :۲۶۸۷)چنانچہ جنگ بدر کے قیدیوں میں جوپڑھنے لکھنے سے واقف تھے ،آپ ا نے ان کا فدیہ یہی مقرر کیا تھاکہ وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں ،حضور ا نے ہجرت کے سفر میں ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کو اپنا رہبر بنایا اور اس سے تعاون حاصل کیا ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق وانصاف کے کاموں میں انسانیت کی بنیاد پر تعاون حاصل کرنا درست ہے ، حضور انے عام حکم فرمایا :’’ جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اس کو دیدے جس کے پاس کوئی سواری نہ ہو او رجس کے پاس زائد توشہ سفر ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو ‘‘(ابو داؤد ، باب في حقوق المال، حدیث نمبر : 1663) ۔
کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے پس منظر میں اس موضوع کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ دای ہے کہ اس مشکل گھڑی میں سماج کے تئیں اپنی خدمات اور تعاون پیش کریں،اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔

کرونا،عالمی طاقتیں اور امت مسلمہ مولانا سید محمد ریاض ندوی


کرونا،عالمی طاقتیں اور امت مسلمہ                        مولانا سید محمد ریاض ندوی



اس وقت ہمارےپیارے ملک ہندوستان کی جو موجودہ صورتحال ہے اور جن پریشانیوں و مشکلات کا ہم کو سامنا ہے جن حالات سے مسلم اقوام گزر رہی ہیں وہ بہت افسوس ناک اور باعث تشویش ہے ایک جانب اگر موجودہ حکومتوں نےمسلمانوں کو گھیر لیا ہے اور ہندوستان سے ان کو نکالنے جلاوطن کرنے کے بل پر دستخط ثبت ہو گئے ہیں تو دوسری جانب ظالموں کی آزادی سلب کرنے اور ان کو بے دست وپا کر نے اس صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے خدا عز وجل کی ذات والا صفات نے ایک ایسا نہ دکھنے والا جرثومہ مسلط کیا ہے جس نے بڑی بڑی طاقتوں کی نیند اڑا دی ہے اور ان کو زندگی کے ہر شعبہ میں خطرہ محسوس ہونے لگا ہےخوف گھبراہٹ جبن ان کے اوپر مسلط کردیا گیا ہے اپنی ترقیات ٹیکنالوجی ادویات  اور علاج ومعالجہ پر جنہیں نازتھا ان کا غرور ٹوٹ چکا ہے ان کی لاچاری وبے بسی ایک وائرس کے ذریعہ اللہ تعالی نے انہیں دکھا دی ہے نظر نہ آنے والا وائرس پوری دنیا کی طاقتوں پر غالب ہے وہ طاقتیں اور سلطنت و حکومت جن کا تکیہ کلام I Know تھا مجھے سب معلوم ہے میں جانتا ہوں اب وہ تحقیقات علم ومعلومات کا خزانہ زوال پذیر ہوچکا اس معلومات نے بھی کچھ ساتھ نہ دیا۔. گذشتہ ظالم اوردین حق وصراط مستقیم سے منحرف اقوام کوخدا تعالی نے اپنے مختلف عذاب میں پکڑا نامعلوم طریقوں سے ان کی گرفت کی گئی جو ان کے جرم کی پاداش(وحدت والوہیت کا انکار تکذیب رسل اور ایذاء رسانی) میں ان کے لئے عذاب اور سزائیں تھیں مینڈک ٹڈیاں کھٹمل خون اور قحط سالی ان عذاب میں ان قوموں کو گھیر کر نیست و نابود کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا جن پر آج کی ترقی یافتہ قومیں اور ان کی بڑی شخصیات شکوک وشبہات اور شش و پنج میں مبتلا تھیں  اب وہ شکوک و شبہات بھی رفع ہو گئے اور یقین آگیا ایک ذات وحدہ لا شریک ایسی ہے جو ایک غبار کے ذریعہ تمام طاقتوں کو زیر کر سکتی ہے  ایسا غبار اور وائرس جس کے ذریعہ انتقال کرجانے والی میت کو ہاتھ سے چھونا بھی منع ہے اکیلا مر رہا ہے اہل و عیال خاندان کو بھی نہیں دیکھ سکتادفن بھی قبرستان کے ایک کونے Side میں کیا جا رہا ہے بعض رپورٹ کے مطابق کچھ ملکوں میں دفن کی بھی اجازت نہیں  العیاذ باللہ . چند روز قبل ہمارے ملک میں کیا ماحول تھا ? کیا دعوے تھے? کیا پلاننگ تھیں? سب کہاں گئے،ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اب خود ڈسٹینس Distance کیلئے بولا جا رہا ہے یہاں تک کہ کابینہ کی ہنگا می میٹنیگ میں کرسیاں دو تین میٹر کے فاصلے پر تھیں اور خوف کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ ہے کہ راتوں کو خرانٹوں اور مست بھرے خوابوں میں گذارنے والے دن میں ملک کی اقلیتوں پرظلم کا پلان بناکر سونے والوں کی نیند اچٹ گئی ہے اب بھی نظر ثانی اور مہلت کا وقت ہے یہ ایشور کی جانب سے موقع اور چانس ہے۔ لیکن مسلم اقوام کو اب بھی ان حالات سے گھبرانے اورخوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں یہ حالات فائدہ اٹھانے کے لئے ہیں ان احوال و ظروف سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ہم اپنی مذہبی تعلیم پر یقین کامل رکھتے ہیں جو کہ معتدل اور برحق ہے آٹھویں صدی ہجری کے مستند محقق و محدث نامور فقیہہ امام ابن حجر عسقلانی رح  نے اپنی کتاب بذل الماعون فی فضل الطاعون میں تحریر فرمایا ہے وبا امراض و بیماریاں سب اللہ کی جانب سے آتی ہیں صحیح بخاری کی روایت کا مفہوم ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل میں تو عذاب ہے اور ساتھ میں فرمایا اللہ نے مومنین کے لئے رحمت بھی بنایا ہے وبا میں دونوں پہلو ہوتے ہیں ہم یہ تلاش کریں رحمت کا پہلو کونسا ہے  امام ابن حجرعسقلانی نے اپنی کتاب میں  من فوائد الوباء والطاعون کے تحت وباؤںں کے چار فائدے تحریرفرمائے ہیں(١)  تکثیر الامل اکثر انسان منصوبے اور پلان بناتے ہیں اور مسلسل پلان پر زندگی گزارتے ہیں انویسمینٹ دولت اور کاروبار کے خواب ہوتے ہیں اچانک وبائیں حادثات زندگی کی بے حقیقتی کو سامنے رکھ دیتے ہیں اور یہ انسان سے کہتے ہیں سنبھلو حقیقت پسندی سے کام لو  فریب اور دھوکہ میں مت رہو مشغولیات کی ترتیب بناؤ او ترجیحات کو فکس کرنے میں شریعت کا دامن تھامو ان کا یہ پیغام ہے سمجھو نئے سرے سے زندگی بدلو  یہ اپنی لائف اسٹائل کو روائز Revisedکرنے کا موقع ملا ہے چوبیس گھنٹے کی زندگی کے بارے میں سوچیں اور غور کریں(٢) تحسین العمل اپنے کریکٹر Character اپنے اعمال اپنے اخلاق کو بہتر بنائیےکوالٹی میں improvement پیدا کیجئے تلاوت اور ذکر اللہ کے ذریعہ اللہ تعالی سے رابطہ کو بہتر بنائیے دعا ذکر مناجات رکوع وسجود درود شریف استغفار کے ذریعہ بارگاہ خداوندی سے قربت حاصل کیجئے ہم اگر غور کریں تو لاک ڈاؤن کے ذریعہ بہت بڑے فوائد حاصل کرسکتے ہیں اور شر سے خیر وجود میں آسکتا ہے وبا اور بیماریاں بھی اللہ کے فیصلوں سے آتی ہیں اور اللہ کا فیصلہ حکمتوں اور مصلحتوں سے خالی نہیں ہوتا اگر ہم اس کومثبت سوچ کر فائدہ اٹھائیں گے تو اکتاہٹ اور تساہلی نہیں ہوگی یہ بہترین موقع ہے (٣)الیقظة من الغفلة  ہم چہار جانب سے غفلت میں ہیں اس موقع پر چاروں جانب سے موت کی خبریں آرہی ہیں زندگی کی بے حقیقتی یا د دلا ئی جارہی ہیں لیکن امت مسلمہ اب بھی اجتماعی و انفرادی غفلتوں کا شکار ہے (۴)التزود للرحلة سفر کی تیاری کا وقت ہے موت مومن کے لئے گھبرانے والی چیز نہیں ہے آخرت کی تمام عیش پانے کے لئے موت سے گزرنا ضروری ہے  معاملات صاف کریں خاندانی جھگڑوں کو ختم کریں ڈر خوف گھبراہٹ سے دور ہوکر تیاری کریں احتیاطی تدابیر اختیار کریں لیکن اپنی اپنی سطح پر آخری سفر کی تیاری کریں آخرت میں کام آنے والی تیاریاں شروع کریں یقینا اس مرض میں نہیں تو ایک روز تو ضرور مرنا ہے جس موت کو ہم بھول گئے تھے اس سفر کی تیاری کریں مومن گھبراتا نہیں جس دل میں ایمان ہے وہ آنے والی مصیبتوں پر صبر کرتا ہے خندہ پیشانی سے ان کا مقا بلہ کرتا ہے بیماریاں سازشوں سے نہیں اللہ کی مرضی سے پھیلتی ہیں  اور اس اللہ پر ہمارا یہ یقین ہے کہ ہمارا رب بے رحم نہیں ہے ہمارا رب بے خبر نہیں ہے اور ہمارا رب بےبس بھی نہیں ہے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اللہ تعالی طاقت اور قدرت والا ہے اجتماعی مصلحتیں انفرادی مصلحتوں پرمقدم ہوتی ہیں عالمی تبدیلی کا وقت شروع ہو چکا ہے تاریخی کتابوں میں مذکور ہے  اس طرح کے حالات یہاں تک کہ وبائیں اور امراض تبدیلی کا باعث بنے اس لئے امت مسلمہ ان حالات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہوئے اپنی زندگی کے لمحات کو کارآمد بنائے اور اس وقت کو غنیمت جان کر اپنے دائمی سفر کی تیاری کریں۔

اکیسویں صدی میں قلم کی طاقت مسلم ہے، قلم اس وقت کا وہ ہتھیار ہے جو لمحہ بھر میں اشیاء کی تصویر دھندلی یا صاف کرسکتا ہے، مگر افسوس کہ اس وقت امت ایسے ماہر قلم کاروں کی فراوانی سے محروم ہے جو اس میدان میں اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ سامنے آئیں اور باطل افکار کا مقابلہ کرسکیں.وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے فاضل نوجوان میدان میں اتریں، علمی صلاحیت سے لیس ہوں اور اپنی غیرت اسلامی کو قلم کی طاقت کے ذریعہ بروئے کار لائیں، تاکہ صحیح فکر کے ذریعہ باطل کا طلسم پارہ پارہ ہوسکے.الحمد للہ الہدی اردو لائبریری کے ذمہ داران نے امسال اس سلسلہ میں ایک خوش آئند قدم اٹھایا ہے اور سہ ماہی تعمیر افکار میگزین کی برقی اشاعت کے ذریعہ جدید اہل قلم کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تین شمارے شائع ہوکر مقبول عام بھی ہوچکے ہیں، ادارہ کے لیے سعادت کی بات ہے کہ اہل علم حلقہ میں اس کی مبتدیانہ کوشش کو کافی سراہا گیا.جدید اہل قلم سے پرخلوص درخواست ہے کہ اسلامی فکر کی نشر واشاعت میں ہمارا تعاون کریں اور اہم عناوین پر سپرد قرطاس کی گئی قلمی کاوشیں ہم تک پہنچانے کی زحمت کریں، تاکہ آپ کی فکر کو عام کرنے میں ادارہ بھی شریک ثواب ہوسکے ۔
نوٹ:- ان شا ء اللہ میگزین کا اگلا شمارہ جون تا اگست ٢٠٢٠ء کا ہوگا، جس کے لیے مندرجہ ذیل عناوین میں سے بھی کسی عنوان پر لکھ کر ہماری میل آئی ڈی پر مقررہ وقت تک ای میل کرسکتے ہیں:



پیام انسانیت نبوی اخلاق کو زندہ کرنے کا کام ہے مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی

پیام انسانیت نبوی اخلاق کو زندہ کرنے کا کام ہے              مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی


وطن عزیز کے حالات آے دن فرقہ وارانہ ہوتے چلے جارہے ہیں اور طاغوتی طاقتوں( یہود و ھنود کے گٹھ جوڑ) کے ناپاک عزائم طشت ازبام ہوچکے ہیں، پھر بھی بہت سے ذہنوں میں یہ بات آتی ہے کہ یہ کونسا نیا کام ہے؟اور سیاسی طور پر اسکا کیا فایده ہے؟ حالانکہ کتاب و سنت کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانیت کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا، برادران وطن کے ساتھ ﴿مُوالات یعنی دلی دوستی و رازداری کا نہیں بلکہ ﴿مَدارات} ظاہری اخلاق و رواداری کا برتاؤ کرنااسلام میں مطلوب ہے۔نبی پاک صلى الله عليه وسلم نے مکی زندگی میں "حلف الفضول" کے معاہدہ میں کفار مکہ کے ساتھ شرکت فرمائی اور نبوت ملنے کے بعد بھی آپ صلى الله عليه وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر آج بھی اس طرح کے معاہدہ میں مجھے شرکت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور شرکت کروں گا ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے مشترک مسائل کو بنیاد بنا کر آپس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کرنا انکے دکھ درد میں شریک ہونا یہ ایک بہت بڑا سماجی عمل ہے جس سے سماج میں امن اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ہوتا ہے اور آپس کی نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔جاننے والے سب جانتے ہیں کہ رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اسوہ اور دعوتی حکمت عملی کو ہندوستان میں خاص طور پر اولیاء کرام نے اپنایا جن میں سب سے نمایاں نام وکام سلطان الہند حضرت خواجہ سید محمد معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کاہے جنھوں نے اپنے وقت میں اسلام کی عدل و انصاف اور رحمدلی کی تعلیمات کو یہاں کی توحید نا آشنا آبادی کے سامنے اپنی دریادلی و کرم گستری کا عملی مظاہرہ کرکے اس طرح پیش کیا کہ نہ صرف یہاں کے سیاسی حالات پر اس کا گہرا اثر پڑا بلکہ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں  یہاں کےلوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔تقسیم کے بعد پیش آنے والے ملک کے فرقہ وارانہ فسادات اور روح فرسا واقعات نے بڑے بڑے قائدین اور لیڈران کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس کا مداوی آخر کیسے اور کیونکر کیاجائے؟ بالآخر اللہ تعالیٰ نے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن (علی میاں) ندوی رحمتہ اللہ علیہ کےدل میں یہ بات ڈالی اور انھوں نے اللّہ کا نام لیکر اس تحریک کی داغ بیل ڈالی اور 1974 میں باقاعدہ الہ آباد سے اس کا آغاز فرمایا اور اپنے چند مخلص و توفیق یافتہ رفقاء کو ساتھ لیکر ملک کے اکثر بڑے شہروں کا دورہ فرمایا اور  برادرانِ وطن کے ساتھ اہم ڈائیلاگ  کئے جسکے بہت ہی مثبت نتائج برآمد ہوئے (وہ سارے خطابات "انسانی کی مسیحائی "نامی کتاب میں جمع کرکے سید احمد شہید اکیڈمی سے شایع کردے گے ہیں اور ہندی وانگریزی میں پیام انسانیت کے وہی لٹریچرس بھی ہیں)1999 میں حضرت مولانا رح کی وفات کے بعد انکے بڑے پوتے،خلیفہ اور پیام انسانیت کے کام میں انکے معتمد علیہ مخدومی و مرشدی داعی اسلام حضرت مولانا سید عبد اللہ محمد الحسنی ندوی رحمتہ اللہ علیہ نے اس نازک ذمہ داری کو سنبھالا اور بحیثیت جنرل سکریٹری تحریک پیام انسانیت میں لٹریچر اور مشترک جلسوں کے ساتھ باقاعدہ چند عملی شکلوں کابھی اضافہ فرمایا جسکے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تحریک کو مزید فروغ عطا فرمایا اور پھر 2013 میں انکی وفات کے بعد مخدومی و استاذی حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی دامت برکاتہ نے اسے اور منظم فرمایا جسکے نتیجے میں الحمدلله کام میں باقاعدگی آئی اور ملک کے طول و عرض میں اسکی شاخیں (Unit's )قائم ہوئیں ۔الحمدلله ابھی موجودہ لاک ڈاؤن میں بھی پیام انسانیت کی ٹیمیں پوری طرح سرگرم رہ کر قابل ذکر رفاہی خدمات انجام دے رہی ہیں!!! تحریک کے مطالعہ کے لئے ان رسالوں کا مطالعہ از بس ضروری ہے 1:حضرت مولانا علی میاں ندوی رح سے ایک اہم انٹرویو 2:تحریک پیام انسانیت اہمیت، افادیت و ضرورت از مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی دامت برکاتہ۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا سےبھی اس کا خاطر خواہ مواد حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت ہے کہ وقت کی اس اہم ترین تحریک کو علی وجہ البصیرہ اور وسعت دی جائے اور اپنا کام سمجھ کر اسے اپنے اپنے علاقے میں شروع کردیا جائے دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ موجودہ صدر و سرپرست حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہ کی سرپرستی میں اس تحریک کو تمام شرور و فتن سے محفوظ فرماکر انسانوں کی ہدایت اور فلاح و بہبود کا زریعہ بنائے اور کام کرنے والوں کو اخلاص و استقامت عطا فرمائے! آمین
   



رمضان نیکیوں کا موسم بہار مولانا محمد ا فضل ندوی

  رمضان نیکیوں کا موسم بہار            مولانا محمد ا فضل ندوی    رمضان مبارک ومسعود اور بخشش ومغفرت کا مہینہ ہے قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے یہ مہینہ امت مسلمہ کے لئے بڑی افضلیت و اہمیت کا حامل ہے یہ جہاں کھانے پینے کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے وہیں انسانی خواہشات کو بھی لگام دیتا ہے اور اللہ تعالی کی مرضیات پر چلنے کی انسان کو راہ بتلاتا ہے اللہ تعالی نے اس مبارک مہینہ کی نسبت خاص اپنی ذات کی جانب فرمائی ہے حدیث شریف میں ہے کہ رمضان شهر الله رمضان اللہ کا مہینہ ہےاسی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے اس ماہ میں رحمت خداوندی موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے اور مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے اور سر کش جنوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے دوزخ کے دروازے بھی بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز دینے والا یہ ندا لگاتا ہے کہ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ اور اے بدی کے چاہنے والے پیچھے ہٹ  اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھیہ فضل ربی ہے کہ رمضان جیسا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اور اللہ تعالی نے اس متبرک ماہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہونے کا ہم کوموقع عنایت فرمایا ہے یہ دیگر بات ہے امسال اس ماہ میں کووڈ 19 کے پیش نظر اجتماعی عبادتوں سے دور ہیں لیکن انفرادی طور پر اپنے گناہوں کو بخشوانے اور اپنے معبود حقیقی کی رضا پانے کے لئے سرگرداں ہیں اور شب و روز عبادت وتلاوت ذکر و اذکار دعا ومناجات میں صرف کررہے ہیں اللہ تعالی نے اس مہینہ میں مسلمانوں پر روزے کو فرض کیا ہےچنانچہ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے. يايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون (البقرة)  اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئےگئے تھے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ.رمضان المبارک کی سب سے خاص اور منفرد عبادت روزہ ہے روزہ رکھنے کی بے پناہ فضیلتیں اور برکتیں احادیث میں بیان کی گئی ہیں.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے اس دروازے سے قیامت کے دن روزہ رکھنے والے ہی داخل ہونگے ان کے علاوہ کوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور کہا جائیگا کہ کہاں ہیں روزہ رکھنے والے پھر وہ اس دروازے سے داخل ہونگے اور جب روزہ رکھنے والوں میں سے آخری شخص داخل ہو جائیگا تو وہ دروازہ بند ہو جائیگا اور پھر کوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جسکو رب ذوالجلال نے اپنی جانب منسوب کیا ہے اور قیامت کے دن اس کا بدل اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے چنانچہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ  الصوم لي و أنا أجزى بہ یعنی روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں بذات خود ہوںسبحان اللہ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جسکا بدلہ اللہ تعالی خود اپنی ذات مقدسہ کو فرما رہا ہے یہ اعزاز دیگر کسی عبادت کو حاصل نہیں ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اگر میری امت کو یہ معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش پورا سال رمضان ہوتا"(ابن خزیمہ)اللہ تعالی نے رمضان المبارک کو امت محمدیہ کے لئے خاص نعمت بنایا ہے یہ مہینہ بقیہ تمام مہینوں سے افضل ہے یہ مہینہ داغ دھبوں کو دھونے اور نگاہ و دل زبان کو پاک کرنے اور دیگر اعضاءو جوارح کو غسل طہارت دینے کا مہینہ ہے.اس مہینہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کی یہ مہینہ ماہ قرآن و فرقان ہے قرآن جیسی پاک اور مقدس کتاب اسی مہینہ میں نازل ہوئی اس لئے قرآن اور روزہ کے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں قرآن کریم کی  تلاوت کثرت سے کیا کرتے تھےاور اللہ تعالی نے یہ نعمت ہم سب کو عطا فرمائی تو ہمیں چاہئے کہ رمضان المبارک کے دنوں کو روزہ سے اور اس کی راتوں کو نوافل سے آراستہ کریں.رمضان المبارک ہی وہ خاص مہینہ ہے جس میں ہر نیک عمل کا بدلہ ٧٠  گنا زیادہ ملتا ہے یعنی اس میں نوافل کا ثواب فرائض کے برابر اور فرائض کا ثواب ٧٠ گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے یعنی ہر نیکی کا بدلہ ٧٠ گنا زیادہ ہے عام دنوں میں جو ہم نیکی کرتے ہیں تو اس کا اجر تو ملتا ہی ہے لیکن رمضان میں جو نیکی کرتے ہیں اس کا اجر اللہ تعالی کے یہاں رمضان المبارک میں ٧٠ گنا زیادہ ملتا ہے. اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تراویح کو خاص رمضان میں ہی رکھا ہے اس میں بیس رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور بعض لوگ ۸ رکعتیں پڑھتے ہیں بہرحال اس مبارک مہینہ میں نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے، راتوں کو تہجد میں گزارا نا چاہیے اور جتنی نیکیاں آدمی  کر سکتا ہے  کرے، اور اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کر ے.    اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کو نیک اعمال کرنے اور برائیوں سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے نیز رمضان المبارک کے روزے سلامتی کے ساتھ رکھنے کی قوت عطا فرمائے۔

استقبال رمضان حافظ فرحان اشرف بگھونوی

استقبال رمضان        حافظ فرحان اشرف بگھونوی


اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں پر بے شمار احسانات کئے ہیں اور ان تمام احسانات کا اجمالی طور پر ذکر کر کے انسانوں کے مزاج کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ انسان کی حقیقت یہی ہے کہ وہ بڑا ہی ” لالچی اور ناشکرا ہے " وإن تعدوا نعمة الله لا تحصوها إن الإنسان لظلوم كفار “ چنانچہ جب انسانوں کی زندگی ہی گناہوں سے ملوث ہے تو ظاہر ہے کہ اُن کے خالق و مالک نے ان کے گناہوں کو بخشنے کے لیے کچھ اصول و ضوابط بھی مقررکئے ہو ں گے اور کچھ ایسے مواقع واوقات بھی فراہم کئے ہوں گے جن میں وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو زیادہ سے زیادہ بخشے - خداوندقدوس کے فراہم کردہ انہی مبارک مواقع ، اورمقدس وباعظمت اوقات میں سے ایک موقع” رمضان المبارک “ کا بھی ہے جو عنقریب ہمارے اوپر بڑی آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی کہ وہ رحمن ورحیم مالکِ دوجہان  کے بھیجے ہوئے مہمان کا استقبال پوری گرم جوشی کے ساتھ کریں اور عند اللہ ماجور ہوں ،اور اس کو غنیمت تصور کرتے ہوئے اپنے دامن مراد کو نیکیوں سے بھر لیں ۔ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدربے چینی سے رمضان کی آمدکاانتظار کرتے ، ان میں بہت سے رمضان سے چھ مہینے پہلے ہی سے یہ دعا کرتے تھے کہ  اے اللہ ! ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما ! اور جب یہ مہینہ رخصت ہو جاتا تو کہتے ، اے اللہ ! اس مہینے کی نیکیاں قبول فرما ! چونکہ ہمارے اسلاف اس مہینے کا خاص اہتمام کرتے اور اس کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ کو خوب سمجھتے تھے تو ہمیں بھی  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اوراللہ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اس مہینے کے فیوض و برکات سے مستفید ہونا چاہیے ، اور بھرپور جوش و ولولہ کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے تاکہ ہم اُس جنت کے مستحق بن سکیں جس کا ہم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔
ذیل میں ہم کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم رمضان المبارک کا استقبال کر سکتے ہیں -:
چ ایک دوسرے کو خوشخبری دینا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان المبارک“ کی آمد کی خوشخبری لوگوں کو دیتے تاکہ ان کے اندر عبادت کاشوق پیدا ہو اور وہ پوری طرح عبادتوں کے لیے کمر کس لیں - سنن نسائی کی ایک روایت ہے جس کے راوی حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان “کی آمد پر لوگوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہتے " أتاكم رمضان ، شهر مبارك ، فرض الله عز وجل عليكم صيامَه ، تفتح فيه أبواب الجنة ، وتغلق فيه أبواب الجحيم، و تغل فيه مردة الشياطين، لله فيه ليلة خير من ألف شهر ، من حرم خيرها فقد حرم “ تمہارے پاس رمضان آچکا ہے جو نہایت ہی بابرکت مہینہ ہے ، اللہ نے اس کے روزے تم پر فرض کئے ہیں ،  اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ،اس میں اللہ کی ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے  جو اس کی بھلائی سے محروم ہوا وہی حقیقی محروم ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو جو ایمان کی چلتی پھرتی تصویر تھے اس ماہ کی آمد کی بشارت دیتے- پھر ہمیں تو اپنے عوام کو بدرجۂ اولی اس کی آمد کی بشارت دینی چاہیے جو اسلام و ایمان کو بھول کر اپنی دنیا میں مگن ہیں اور اس رحمت کے مہینے میں بھی اپنے برے اعمال سے اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ۔
چ بغض و حسد و کینہ کو دل سے نکال دینا: اس سلسلے میں موقوف روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے  کہ ان سے پوچھا گیا کہ " آپ لوگ رمضان المبارک کا استقبال کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا: ما كان أحدنا يجرأ أن يستقبل الهلال وفي قلبه مثقال ذرة من حقد على أخيه المسلم “ہم میں سے کسی کی جرأت نہ تھی کہ وہ ہلا ل رمضان کو دیکھے اور اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف ذرہ برابر بھی کینہ ہو ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم رمضان المبارک میں ایسے گناہوں سے دور رہیں اور اللہ کی جنت کے مستحق بنیں ،
چ  رمضان سے ایک یا دو روز قبل احتیاطاً روزہ رکھنا ممنوع ہے: امام بخاری رح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" لا يستقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذالك اليوم “- تم میں سے کوئی رمضان کا استقبال ایک یا دو دن قبل روزہ رکھ کر نہ کرے الا یہ کہ کوئی اس دن کا روزہ رکھتا آیا ہو تو وہ رکھے ۔
چ نیک اعمال کے اندر منافست کا جزبہ رکھیں اور جنت کے حقدار بننے کے لیے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کی مرضی کے حوالے کر دیں ، اللہ فرماتے ہیں: ”  وسابقوا إلى مغفرة من ربكم و جنة عرضها السموات والأرض أعدت للمتقين “ سبقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے اور وہ متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے - قارئین ! ہم نے آپ احباب کے لئے دریا کو کوزے میں سمونے کی سعی لا حاصل کی ہے ،  ہمیں ان جزبات کے ساتھ رمضان میں داخل  ہونا ہے کہ ہر وہ کام جس‌ کا تعلق نیکی سے ہوگا اسے کرینگے ، اور ہر وہ کام جس‌ کا تعلق بدی سے ہوگا اس سے اجتناب کرینگے ، ہمیں یہ عزم مصمم کرنا ہے کہ اس رمضان کے اختتام کے ساتھ ہی  ہماری زندگی "روزہ کے مقصد" یعنی صفت تقویٰ سے متصف ہوجائے۔   تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہیں بروز قیامت  ”باب الریان “ سے آواز دی جائیگی
۔


فضائل رمضان اور انسانی ہمدردی مولا نا محمد امام الدین ندوی

فضائل رمضان اور انسانی ہمدردی 

مولا نا محمد امام الدین ندوی




اللہ تعالی نے اس امت پر رمضان کے روزے فرض فرمائے ہیں كتب عليكم الصيام  ایے ایمان والوں تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے یہ روزے کسی نہ کسی صورت میں سابقہ امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ارشاد ربانی ہے كما كتب على الذين من قبلكم اس روزہ کا مقصد اللہ تعالی نے بتایا کہ تم صاحب تقوی بنو لعلكم تتقونروزہ دار جب روزہ رکھتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے کوئی ایسا کام صادر نہ ہو جائے جو اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سبب ہو اور اس کا روزہ اس کے منہ پر مار دیا جائے اور سوائے بھوکے پیاسے رہنے کے اسے کچھ حاصل نہ اس کے حلق میں کوئی حرام لقمہ داخل نہ ہو.روزہ انسان کے ظاہری اور باطنی پاکیزگی اور قرب خداوندی کا بہترین ذریعہ ہے اس سے نفسانی خواہشات اور نفس کی پیروی کی نکسیر ہوتی ہے نفس امارہ کمزور ہوتا ہے قوت بہیمیت (حیوانی) میں کمی اور قوت ملوکیت میں زیادتی ہوتی ہے اور انسانی زندگی میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے دل و دماغ میں تازگی پیدا ہوتی ہے دل اللہ کے فرمان کو قبول کرنے کے لائق ہوتا ہے.روزہ عبد و معبود کا آپسی تعلق ہے جسکا اظہار اعضاء انسانی سے نہيں ہوتا کون روزہ دار ہے اور کون روزہ سے نہیں ہے کسی کو معلوم نہیں ہوتا صاحب معاملہ ہی اس سے واقف ہوتا ہے یاپھر اللہ تعالی !
رمضان المبارک کے مہینے میں ہی قرآن کا نزول ہوا اللہ کا فرمان ہے شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن اور اس کو لوگوں کی ہدایت اور گائیڈ لائن بتایا ہے۔هدى اللناس اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کا نسخہ سمجھایا گیا جس نے قرآن کو پڑھا اور اس پر عمل کیا اللہ اسے سر بلند فرمائے گا دنیا میں عزت سے نوازے گا اور آخرت میں نعمت بھری زندگی عطا فرمائے گا اور دوسری قوموں سے ممتاز کرے گا اس لئے راتوں میں تراویح کا اہتمام کیا تاکہ لوگ اس مہینے میں قرآن سے وا بستہ رہیں اور تلاوت قرآن سے اپنے دل و دماغ کو منور کرے صراط مستقیم پر چلنے کی اسے توفیق نصیب ہو.رمضان صبر کا مہینہ ہے بھوک کی بے تابی اور پیاس کی شدت نفس امارہ اور خواہشات نفسانی پر لگام کسنے حرام سے افطار پر روک لگانے بد زبانی اور بد کلامی سے بچنے نگاہوں کی حفاظت کرنے جیسے امور پر صبر کرنا ہے.روزہ عذاب جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الصوم جنة روزہ ڈھال ہے جس طرح انسان آپسی لڑائی جھگڑے اور قتل و قتال میں بطور حفاظت ڈھال کا استعمال کرتا ہے اسی طرح روزہ روزہ دار کے حق میں جہنم کی عذاب سے بچاؤ کے لئے ڈھال بنے گا روزہ اللہ کا حق ہے اور اللہ ہی اس کا بدلہ دے گا جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے (الصوم لي و أنا أجزى به) ایک روایت میں ہے میں ہی اس کا بدلہ ہو جاؤں گا الصوم لي وأنا أجزى به جسطرح دیگر عبادتوں کی عنداللہ مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے ٹھیک اسی طرح روزے کی عنداللہ مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے من صام إيمانا و إحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه جس  نے حالت ایمان اور ثواب کی امید میں روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اس قید ایمان سے دوسرے مذاہب کے لوگ نکل گئے جو صاحب ایمان نہيں ہیں اور ابواس کرتے ہیں روزہ دار کے منہ سے نکلی ہوئی بدبو مشک سے بھی عمدہ یہ مہینہ رحمت و مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پہلا عشرہ رحمت کا اور دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے چھٹکارے کا ہے.اس لئے بندہ کو چاہئے کہ اس مہینہ میں استغفار کی کثرت کرے عام دنوں میں فرائض نماز پر جو ثواب اللہ نے رکھا ہے وہ ثواب رمضان کی نفلی نمازوں کا ہے اس لئے کثرت سے نوافل نماز ادا کی جائے اس مہینہ میں ایک فرض نماز کا ثواب ستر(٧٠) فرض کے برابر ہو جاتا ہے اس لئے فرائض نماز کی پابندی نفلی نمازوں کی کثرت تلاوت کلام پاک میں انہماک ذکر و اذکار درود شریف تیسرے کلمہ کی ورد زبان پر جاری رکھنی چاہئے.اس مہینہ کے آخری عشرہ میں اللہ تعالی نے لیلتہ القدر رکھا ہے اور امت محمدیہ کو انمول تحفہ سے نوازہ یہ رات ہزار مہینوں رات سے بہتر ہے بندہ کو چاہئے کہ اس رات کو غنیمت جانے اور خدا کو راضی کرنے اور ثواب کی امید سے اچھے اعمال کرے اس رات نیند اور راحت و آرام کو قربان کر کے اللہ کے حضور ہشاش بشاش حاضر رہےاس رات کی تعین نہیں کی گئی اور کوئی تعین تاریخ نہیں بتائی گئی بلکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں  میں تلاش کرو ہم ان پانچ راتوں میں جگیں اور شب قدر کو تلاش کریں.اللہ کے حضور حاضر ہوں کبھی تلاوت میں کبھی ذکر و اذکار میں کبھی نوافل میں تاکہ یہ رات ہمارے لئے ایسے وقت میں سامان نجات بنیں جب ہم نیکی کے لئے محتاج ہوں اور سارے سہارے ٹوٹ جائیں۔
رمضان ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے اپنے ماننے والوں کو انسانی ہمدردی کا درس دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ انسان ایک دوسرے کا ہم درد اور مددگار بنے اس لئے صاحب ثروت کو مال خرچ کرنے کی تاکید کی اور صدقہ فطر کو متعین کیا مقرر کیا تاکہ غرباء و مساکین مفلس و نادار ان خوشیوں سے مایوس اور محروم نہ رہ جائیںامراء کے بچے زرق برق لباس زیب تن کریں اور ان کے بچے کپڑوں کے منتظر رہیں اور ان نعتوں کو حاصل نہ ہونے کی صورت میں شکستہ دل اور احساس کمتری کے شکار ہو جائیں اور ان کی خوشیوں پر پانی پھر جائے۔امراء کے دسترخوان پر سحر و افطار اور کھانے کے وقت پر لطف اور لذت بخش انواع و اقسام کے کھانے کی چیزیں ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات موجود ہوں اور ان کے فریج ان اشیاء سے بھرے ہوئے ہوں اور بغل کا غریب پڑوسی ان نعمتوں سے محروم صرف نمک روٹی اور پانی پر صبر و قناعت کرے  اسی دکھ اور درد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالی نے مالداروں کو اپنے راستہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا اور ان کے مال میں غریبوں کا حق رکھا ہے خفیہ طور پر خرچ کرنے کو بہتر بتایا ہے تاکہ لینے والے ہاتھ کو ذلت و رسوائی اور شرمندگی نہ ہو اس کی غریبی اس کی ذلت کا سبب نہ بن جائے اور دینے والے ہاتھ کبر و غرور کا شکار نہ ہو جائے۔آج بھی غریب پرور لوگ موجود ہیں جنہیں غریبوں کی فکر دامن گیر رہتی ہے وہ خفیہ یا اعلانیہ صدقہ کرتے ہیں مگر تصویر نہیں کھچواتے اور شہرت و ناموری کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں صدقہ و خیرات کر کے خدا سے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ کار خیر منہ پر نہ مار دئے جائیں اور خدا کے دربار میں دھت کار نہ دئے جائیں.آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ داروں کو افطار کرانے کی فضیلت بتائی ہے اور فرمایا کہ روزہ افطار کرانے سے پورا ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی.روزہ افطار کرانے کے لئے کھجور اور پانی کو بھی قابل قدر سمجھا اس لئے اپنی استطاعت کے بہ قدر روزہ داروں کے افطار کرانے کا جزبہ پیدا کرنا چاہئے تاکہ غریبوں کا بھلا ہو سکے اور اللہ کی نگاہ میں ہم سرخرو ہوں ہم رحم دل بنیں اور رحم دلی کا جزبہ پیدا کریں اسلام کے اس سبق کو یاد رکھتے ہوئے غریبوں محتاجوں کو تلاش کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہئے.رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہمارے لئے سراپا رحمت ہے اس کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھیں گھر کی عورتوں کو بھی آمادہ کریں کہ وہ نیکی اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے میں پیش پیش رہیں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن سنن و نوافل کی کثرت ذکر و اذکار کی پابندی صلوة و حاجت اور صلوة تہجد کا شوق پیدا کریں اللہ کے سامنے دامن پھیلا کر اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور آئندہ ان گناہوں کی قدم نہ اٹھانے کا عزم کریں اللہ رحیم ہے وہ ہمارے خطاؤں کو در گزر کرے گا ہمیں دنیا میں اچھی زندگی عطا کرے گا اور مرنے کے بعد قبر کی زندگی پل صراط کی ہولناکی اور محشر کی گرمی سے بچا کر اپنے فضل و کرم سے راحت آرام کی زندگی عطا کرے گا۔


تقویٰ اور ماہ رمضان المبارک مولانا عبدالستار ندوی

تقویٰ اور ماہ رمضان المبارک
مولانا عبدالستار ندوی



اے ایمان والو! تم پر  روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۳قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر تقویٰ حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور متقیوں کے مختلف اوصاف بیان کئے گئے ہیں، نیز ماہ رمضان المبارک کو تقوی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بتایا گیا ہے، روزے کی فرضیت صرف اسی امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہم سے پہلے ہر امت پر کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھنے کا تصور تھا، آخر کیا وجہ ہے کہ اس رکن کی فرضیت ہر امت میں رہی ہے اس علت کی طرف آیت بالا میں نشاندہی کی گئی ہے، چنانچہ آیت کے اختتام پر کہا گیا ہے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ" سب سے پہلے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ تقوی کا مطلب کیا ہے؟ اس کے فوائد کیا ہیں؟ اور اس کے ذرائع اور راستے کیا ہوسکتے ہیں؟ تقوی کا سیدھا سادہ ترجمہ بچنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا اور ڈرنا ہوتا ہے خدا سے ڈرنے کا تصور بالکل وہ نہیں ہوسکتا جو ہم عام طور پر اردو زبان میں ڈراؤنی چیزوں سے ڈرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں خوف اور فرار پنہا ہے، جبکہ اللہ سے ڈرنے میں محبت اور لجو کی کیفیت ہے۔ اور محبت بھی ایسی کی جتنا دل میں خوف خدا ہوگا اتنی ہی خدا سے محبت بڑھے گی اور انسان خدا سے اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ ڈر کے اس معیار کو پہنچ جائے جو کہ مطلوب ہے تو پھر وہ اس خوشخبری کا حقدار ہوتا ہے، ترجمہ "جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے  اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی  جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا سورہ طلاق آیت 2,3.تقویٰ کا دوسرا مطلب بچنا اور پرہیزگاری بھی ہے حصول تقوی کے لئے جو چیزیں ناگزیر ہیں اسے ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، ایک خدا کے اوامر واحکامات کو بجا لانا، دوسرا خدا کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا، اور ان دونوں چیزوں میں اصل پرہیزگاری ہی ہے یعنی منع کردہ چیزوں سے رکنا ہی اصل کمال عبودیت اور حقیقی فرما نبرداری ہے ورنہ یہ تو بہت ممکن ہے کہ ایک شخص ساری رات نوافل کا اہتمام کرے مگر  برائیوں سے بچنا اس کے لیے مشکل ہو، اس لیے حصول تقوی کے لئے زیادہ زور برائیوں سے بچنے پر دینا چاہئے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے ترمذی شریف میں ایک روایت ہے  ترجمہ "محارم یعنی اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچو سب سے زیادہ عبادت گذار انسان بن جاو گے" تقوی حاصل کرنا تو ہمہ وقت ہر مسلمان پر ضروری ہے مگر  ماہ رمضان المبارک میں اس کے مواقع زیادہ میسر رہتے ہیں متقی بننے کے لیے ایک انسان کو جن صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہوتا ہے روزے کی حالت میں ایک روزہ دار کو روزہ کے کمال ثواب کو پانے کے لئے تقریبا انھیں صفات سے متصف ہونا ضروری ہوتا ہے سورہ آل عمران میں اللہ رب العزت نے جنت کی خوبیوں کا تذکرہ کرکے کہا ہے کہ یہ متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد ہی متقیوں کے چند صفات کا ذکر کیا ہے ترجمہ "جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے اور لوگوں کو درگزر کرنے والے ہیں،اللہ ان نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے، جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے، یا کوئی گناہ کر بیٹھے تو فورا اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں عمران آیت 132، 33۔ آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی بات کہی گئی ہے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے تو ویسے بھی بہت سارے فضائل ہیں مگر ماہ رمضان المبارک میں اس کی نیکیاں دوچند ہوجاتی ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک روایت  ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں تو عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے لیکن رمضان میں تو گویا آپ سراپاجودوکرم ہی بن جاتے۔ آیت میں متقین کی صفات میں سے ایک صفت غصہ پینا بھی بتایا گیا ہے جب انسان بھوکا پیاسا ہوتا ہے تو اسے غصہ بھی بہت آتا ہے، ہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپے سے باہر ہونے لگتا ہے ایسی حالت میں اپنے غصے پر قابو پا لینا اور حدیث کے مطابق کسی جھگڑنے یا گالم گلوچ کرنے والے سے یہ کہہ دینا کہ "میں روزہ سے ہوں" یقینا قابل ستائش اور روزے کی بدولت قوت ارادی کے مضبوط ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھتا ہے تو پھر اس کے اندر محسنین کی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں، گناہوں پر آمادگی بہت کم ہو جاتی ہے، ملکوتی صفات سے آراستہ ہونے لگتا ہے،شہوانی اور نفسانی خواہشوں پر ایک گونہ کنٹرول کی قوت پیدا ہو جاتی ہے،  جذبہ ایثار و ہمدردی پروان چڑھنے لگتا ہے، قرآن کریم سے مناسبت بڑھنے لگتی ہے، جھوٹ سے انسان گریز کرنے لگتا ہے، اور سب سے بڑی چیز اس مہینہ میں تقوی حاصل کرنے کے لئے جو عنایت خداوندی ہے وہ ہے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا مسنون ہونا روزے کے اصل مقصد  یعنی تقوی و تزکیہ نفس کو بذریعہ اعتکاف درجہ کمال کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے،آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے  میں اعتکاف کا اہتمام ضرور فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے،اپنے اہل و عیال کو بھی شب بیداری  کے لیے اٹھاتےاور کمر کس کر اللہ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوجاتے۔اللہ تعالی ہمیں بھی تقویٰ حاصل کرنے اور ماہ رمضان المبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔


اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات اور اُن کا حل مفتی عین الحق امینی قاسمی

                     اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات اور اُن کا حل

مفتی عین الحق امینی قاسمی

  مصائب ومشکلات یہ دوایسے ہم معنی لفظ ہیں،جس سے تما م مخلوقات کواس کی نوعیت کے اعتبا ر سے واسطہ پڑتا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ، یہی وجہ ہے کہ جب ہم اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو انسانوں میں مختلف طبقات کے افراد ،الگ الگ پریشانیوں میں گھِرے نظر آتے ہیں،چاہے وہ نیکو کار ہوں یا حد اعتدال سے تجاوز کرنے والے انسان، مصائب ومشکلات سے دوچار ہونا سبھی کے مقدر کا حصہ رہا ہے ،البتہ یہ مصائب ومشکلات ،بعض کے لئے تنبیہ،تو بعض کے لئے آزمائش اور بعضوں کے لئے عذاب وسزاکے طور پر لاحق ہوتی ہیں ۔ عام طور پر جو مصائب وتکالیف گنہگاروں کو دی جاتی ہیں وہ تنبیہ کے طور پر ہوتی ہیں ،ان تکالیف کے نتیجے میں بہت سے بھلے انسان ہوش کے ناخن لے کر اپنی اصلیت پر لوٹ آتے ہیں ،یعنی عبدیت کو اختیار کرتے ہوئے وہ ان تکالیف سے عبرت پکڑتے ہیں، راہ راست پر آکر مطیع وفرماں بردار بن جاتے ہیں ،تو ایسوں کے حق میں یہ مصائب، تنبیہ ثابت ہوتی ہیں ،جب کہ بہت سے لوگ ،ہزار ہا تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے ،بلکہ وہ بے راہ روی ، عداواں و سرکشی کی طرف بڑھتے ہی جاتے ہیں ،ان جیسوں کے لئے یہ مصائب، دنیا ہی میں بطور عذاب وسزاہیں۔

    یہ بات طئے ہے کہ مصائب اللہ کے حکم سے آتی ہیں ، مگر انسانوں کے افعال کے عمل دخل کے سبب آتی ہیںجیسا کہ قرآن نے سورہ شوری کی آیت نمبر ۳۰ میں کہا ہے :اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوںکئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگذر ہی کرتا ہے۔ آگے سورہ فاطر آیت نمبر ۴۵ میں فرمایا :اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کرتو توں پر مواخذہ شروع فرمادے تو زمین پر کوئی چلنے والا ہی باقی نہ رہے۔ اسی طرح سورہ روم آیت نمبر ۴۱ میں فرمایا :  لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی ا س کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا ،تاکہ انہوں نے جو کام کئے ہیں اللہ اُن میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھا ئے ،شاید وہ باز آجائے ۔’’ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں ،مثلاً قحط،وبائیں،زلزلے،ظالموں کا تسلط،اُن سب کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی ،اور اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں،اور ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ ان مصائب سے دوچار ہوکر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑیںاوراپنے بُرے اعمال سے باز آئیں،یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ دنیوی مصیبتوں کا بعض اوقات کوئی ظاہری سبب بھی ہوتا ہے ،جو کائنات کے طبعی قوانین کے مطابق اپنا اثردِکھاتا ہے،لیکن ظاہر ہے کہ وہ سبب بھی اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کیا ہواہے اور اس کو کسی خاص وقت یا خاص جگہ پر مؤثر بنا دینا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے اور عموما ً  اُس کی بنیادی وجہ انسانوں کی بداعمالیاں ہوتی ہیں‘‘ (توضیح القرآن ،ج:۳،ص:۱۲۴۸)
       سورہ نساء آیت نمبر ۷۹ میں بیان کیا گیا کہ :  تمہیں جو کوئی اچھا ئی پہنچتی ہے وہ تو محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے وہ تو تمہارے اپنے کسی عمل کی وجہ سے پہنچتی ہے۔اسی طرح سورہ تغابن آیت نمبر ۱۱ میں فرمایا گیا کہ: کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیںآتی اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ، ’’یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ کے حکم سے آتی ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے‘‘  سورہ حدید آیت نمبر ۲۲ میں فرمایا کہ : کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو ،مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا ۔سورہ سجدہ میں فرمایا کہ : اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم اُنہیں کم در جے کے عذاب کا مزہ ضرورچکھائیں گے،شاید یہ باز آجائیں۔یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے  اسی دنیا میںانسان کو چھوٹی چھوٹی مصیبتیں اس لئے پیش آتی ہیں تا کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں سے باز آجائے۔
          مذکورہ بالا آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات کا ذمہ دار انسانی جانوں اور اس کے ذریعے وجود میںآنے والے اعمال کوبنایا گیا ہے ،اور ا یسا اس لئے کیا گیا ہے تا کہ بندہ اپنی طاقت وقوت ، عقل وخرد،مال وزرودیگر اسباب ووسائل پر بھروسہ کر کے اِترانے اور سرکشی کرنے کے بجائے دنیا میں آنے والی مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرے اور اپنی طرف سے ہونے و الے گناہوں سے توبہ کرے اور آئندہ ایسی بزدلی وسرکشی سے بچنے کی اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے۔
       یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اللہ کی طرف سے مومنوں کے لئے عمومی سزا یا آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب بندہ اجتماعی طور پر اعمال صالحہ کو ترک کرنا شروع کردیتا ہے ،یا مجموعی طور پر نواہی سے بچنا بند کردیتا ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کسی بھی بندے کا  ذاتی عمل، عمومی سزا کا سبب نہیں ہوتا ،مثلاً ایک شخص احکام خداوندی پر عمل نہیں کرتا تو اس سے پوری قوم کو سزا نہیں دی جاتی ، ہاں اس آدمی کے لئے یہ گناہ، موجب خسران ضرور ہوگا اور دنیا وآخرت میں اس کی سزا ضرور وہ بھگتے گا ،مگر جب نافرمانی عام ہوجاتی ہے ،عمومی سطح پر احکام خدا وندی کی پامالی ہونے لگتی ہے ،لوگ جب اسباب دنیا میں مست ہوکر اپنے رب سے غافل ہوجاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تنبیہ ،مختلف علاقوں میں الگ الگ شکلوں میں مصائب ومشکلات کا نزول ہوتا ہے ، اس میں وہ لوگ تو پِستے ہی ہیں جنہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ،اُس کے ساتھ وہ لوگ بھی مصائب وآلام کا شکار ہوجاتے ہیں جو دین پر عمل پیرا ہوتے ہیں ،جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ : اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور،کبھی خوف سے کبھی بھوک سے اور     کبھی مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔جولوگ ایسے حالات میں صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو۔ مصائب ومشکلات کے حوالے سے گذشتہ سے پیوستہ قوموں کی تاریخ یا موجودہ دور میں دین کے تعلق سے ہماری سرد مہری اور ذاتی عمل تک دین کو محدود کرنے او ر احکام خداوندی سے عملاًچشم پوشی کا جو مزاج ہے اور بے جاتاویلوں کے ذریعے چور دروازہ نکال کر دلوں کو جھوٹی تسلی دینے کا جو رجحان بڑھتا جارہا ہے وہ بھی دیدئہ عبرت ونگاہ ہے ۔ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود ،یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔ قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے ،تب کسی قوم کی قسمت پر زوال آتا ہے ۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ،نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا۔وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر ،اورتم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر۔ اور سورہ بقرہ کی یہ آیت بھی ہمارے فکر وشعور کی قلعی کھولنے کے لئےکافی ہے :  توکیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کو نہیں مانتے؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے دنیا کی زندگی کی ذلت ورسوائی کے، اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف، اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو‘‘۔ چنانچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں۔
     دوسری چیز یہ ہے کہ جب جب حضرات انبیا علیہم ا لصلوٰۃ والتسلیم یا اُن کے متبعیین نے اجتماعی طور پر دینی اعمال کو زندہ کرنے کی فکر کی ہے اور دین حق کی اشاعت وحفاظت کی کوشش شروع کی ہے تب تب اُن کو آزمائشوں سے گذرنا پڑا ہے یعنی اللہ کا ایک محبوب بندہ ذاتی طور پر ایک مقام پر رہ کر دین پر عمل کررہا ہے تو اُ س کے اُس ذاتی عمل کی وجہ سے اجتماعی طور پر آزمائشوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا ، ہاں انفرادی طور پر وہ بھی آزمایا جائے گا ،لیکن جب اُس عمل کی اشاعت اجتماعی فکروں کے ساتھ ہونے لگے گی تو سازشی کے کان کھڑے ہوجا  ئیں گے اوراُس عمل ،تحریک اور مشن کو ختم کرنے کے لئے اُن کی پلاننگ شروع ہوجائے گی اِس طرح آزمائشوں کے گھیرے میں نیکو کار آ تے چلے جائیں گے اورجب بھی اجتماعی مفاد اور سما جی قوت کے استحکام کے لئے کام کیا جائے گا ،آزمائشوں کا دور آئے گا ،اپنے اور بیگانے نشانے پر رکھنے کا کوئی موقع شاید ہاتھ سے جانے نہ دیں۔
        جہاں تک یہ سوال ہے کہ بدکاروں کے ساتھ نیکو کار ،مصائب ومشکلات میں کیوں مبتلا ہورہے ہیں ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ مصیبتیں تو آئیں گی ،یہ آنے کے لئے ہی بنائی گئی ہیں ،  بھلے بُرے سبھوں کے ساتھ آئیں گی ،مگر بھلے لوگ اگر مصیبت کی زد میں آتے ہیں تو اِس سے ان کی خطائیں معاف ہوں گی یا اُن کا درجہ بلند ہوگا ۔ خود رسول پاک  ﷺ نے فرمایا کہ: مومن کو کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس پر نیکی عطا فرماتے ہیں ۔(ترمذی) سورہ بقرہ میں فر مایا گیا کہ: مسلمانو! کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالاں کہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے،جیسے اُن لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے گذرے ہیں ،اُن پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انہیں ہلا ڈالا گیا ،یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ سورہ توبہ میں فرمایا کہ : کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ۔ یہ آیا ت بتا رہی ہیںکہ بھلے لوگ بھی آزمائشوں کی زد میں آئیں گے اور اُنہیں محبت و استقامت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا ، تاکہ یہ دنیا والوں کے سامنے واضح ہوجائے کہ بھلے کون ہیں اور برے کون ،کس نے ہر حال میں اپنے رب کو راضی کرنے اور اس کا حقیقی بندہ بن کر زندگی جینے کی پوری کوشش کی ہے اور مصائب ومشکلات پر صبر کیا  ہے ،  یقیناً ایسے ہی لوگوں کو  مصیبتوں میں نیکیاں ملتی ہیں اور انہیںکے لئے ہمیشہ کی جنت اور جنت کی ساری نعمتیں تیار کی گئی ہیں۔

      یہاں پر ایک سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا پچھلے لوگوں کی سزا موجودہ لوگوں کو مل سکتی ہے ؟یعنی جس طرح باپ دا کی نیکی آنے والی نسل کے آگے اُتر تی ہے کیا اسی طرح باپ دادا کی برائی کی سزا اس کی نسل کو بھی مل سکتی ہے ؟ اس بارے میں اخروی معاملہ بالکل صاف ہے کہ ہر ایک کو اس کے کئے کی سزا ملے گی البتہ دنیاوی معاملات میں قرآن سے جو ہمیں رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت موسی وخضر علیہما السلام ایک گاؤں پہنچے تو وہاں دو یتیم بچوں کے گھر کی ٹیڑھی دیوار کو سیدھی کرنے کا جوکام کیا تھا وہ دراصل اللہ نے کروایا تھا اور وجہ یہ بتا یا کہ چوں کہ اُن د ونوں کے والد نیک اور صالح تھے ، گویایہاں بچے کو اپنے والد کی نیکی کی جزا دی گئی ہے ،سورہ کہف آیت نمبر ۸۲ میں ہے  :رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑ کوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا،اس لئے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہونچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔مشہور محقق مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی لکھتے ہیں کہ : ’’ نیکی کے اچھے اثرات اور اس کا فیض کئی نسلوں تک پہنچتا ہے ،اثرات ِ بد میں کلام ہے ،البتہ صحیح یہ ہے کہ اگر کوئی باپ دادا کے برے اعمال میں شریک ہوگا یا اسے اچھا سمجھے گا توبر ے اثرات مرتب ہو ں گے،جیسا کہ سورہ کہف آیت نمبر ۸۲ اور سورہ مائدہ آیت نمبر ۱۰۴سے اس کی صراحت ہوتی ہے  ‘‘۔(مقالات نیموی)  اس کے علاوہ بھی بہت سی سماجی برائیاں اور مصائب ومشکلات ہیں جن کی قرآن نے نشاندہی کی ہے ،اگر ان سے نہ بچاگیا اور ان سے بچنے کی کوشش نہ ہوئی ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا سبق یاد نہیں رکھاگیا تو مشکلات سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا ،ہم دن بدن اللہ کی رحمتوں سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔
          ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ سے جڑیں اور ان کی اطاعت بجا لائیں ،گناہوں سے بچیں ،منکرات اور فواحش کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہ بنیں،ان کی دی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں ،اپنی پیشانیوں سے مسجدوں کو آباد رکھیں ،حرام وحلال کی تمیز کے ساتھ روزی کمانے کی فکر کر یں،اپنے گھروں میں دین زندہ رکھنے کی سچی فکر کریں،دین زندگی میں اللہ کی اطاعت سے آتا ہے ، ،اپنے ظاہر وباطن دونوں جگہ جب ہم رب کو حاضر وناظر جانیں گے تواطاعت والی زندگی نصیب ہوگی اور ہماری زندگی دیندارکہلائے گی۔اللہ سے دعائیں مانگنا ہمارے لئے بندگی کی علامت ہے، اپنے رب کی کامل بندگی سے دعائیں قبول ہوں گی،ہمیں اُن سے دعائیں کرنی چاہئے اور خوب دل سے پوری محتاجگی کے ساتھ مانگنی چاہئے ، یہ وقت ہے جب ہمارے لئے اللہ سے مانگنے کا موقع ملا ہوا ہے ، اس میں اپنے لئے ،اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے اور ملک کی امن و سلامتی کے لئے دعائیں کرنی چاہئے۔
         مصا ئب ومشکلات سے بچاؤاور اس سے تحفظ کے لئے ’’  توبہ واستغفار ‘‘ کی کثرت کو قرآنی اور نبوی علاج  بتلا یا گیا ہے،چنانچہ سورہ نوح،آیت نمبر۱۰ میں فرمایا گیا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو ،یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے ، سور ہ غافر میں فرمایا کہ : اللہ ہی گناہ کا بخشنے والا اورتوبہ کا قبول فرمانے والا سخت عذاب والا، انعام وقدرت والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی کی طرف واپس لوٹنا ہے ،اُسی سورہ میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : تو صبر کر ،اللہ کا وعدہ بلا شک وشبہ سچا ہی ہے تو اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہ اور صبح وشام اپنے پر ور دگا ر کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ ۔سورہ نساء میں فرمایا کہ: اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو ،بے شک اللہ تعا لیٰ بخشش کرنے والا ،مہر بانی کرنے والا ہے۔سورہ نصر میں ارشاد فرمایا کہ : تو اپنے رب کی تسبیح وتحمیدکر اور اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ ،بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ کہہ دواے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ،واقعی وہ بڑی رحمت اور بڑابخشش والا ہے ، (سورہ زمر ،آ یت ۵۳)نبی ﷺ نے فرمایا توبہ واستغفار کرنے سے مصائب ومشکلات دور ہوجاتی ہیں اور ایسی جگہ سے روزی  پہینچاتے ہیں جہاں سے بندے کو گمان بھی نہیں ہوتا ہے،،نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ابن آدم کا ہر فرد خطا کا ر ہے اور بہتریں خطاکار معافی مانگنے والا ہے ،نبی ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے معافی مانگو ،کیوں کہ میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں،(صحیح بخاری وترمذی)
            ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ بیماری اللہ دیتا ہے اوراللہ کے حکم سے ہی صحت و شفاملتی ہے ، چھواچھوت سے بیماری پیدا نہیں ہوتی جس اللہ نے پہلے کو بیمار کیا ہے وہ دوسرے کو بھی بیمار کرنے کی قدرت رکھتا ہے،مگر احتیاط رسول مقبول  ﷺ سے ثابت ہے، چاہے صحت مند اونٹ کو بیمار اونٹ سے الگ رکھنے کی بات ہو  یا جہاں طاعون پھیلا ہوا ہو وہاں سے بھاگنے یا وہاں نہ آنے کی ہدایت ہو اور یا کھانے سے پہلے ،کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کی تعلیم ہو یا کھانستے اور جمائی لیتے وقت اپنے منھ پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہو اور یا دواوعلاج کی سنت ہو ،اِن سب کے پیچھے احتیاطی تدابیر ہی کار فرما ہیں ، اس لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر جو بھی جائز طریقے سماجی سطح پر کورونا جیسی وبا ؤںسے بچنے کے لئے بتلائے جائیں ،اُنہیں برتنا چاہئے اور اس سلسلے میں جو تحفظاتی ہدایات جاری کئے گئے ہیں اس پر عمل بھی کرناچاہئے  ۔ اللہ کے کچھ نیک بندوں کی طرف سے انسانی ہمدردی میںکرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سوشل میڈیا پر اس وقت چند دعا ئیں اور وظائف کا عمل بتایا جارہا ہے، کچھ مختصر ہیں تو کچھ طویل تر، لوگوں کی مانیں تو وہ صحیح اور غلط سے زیادہ ضروری اور غیر ضروری میں شکوک وشبہات کے شکار ہیں ، متعدد واسطوں سے مذکور دعائیں اور طریقے جو سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،کہیں ۱۳ مرتبہ پڑھنے کی تاکیدمذکور ہے تو کسی میں ۳۱۳ مرتبہ،اسی طرح کئی دعائیں ہیں جن میں احباب تردد کے شکار ہیں کہ اُسے پڑھنا چاہئے یا اِسے ،یہ پڑھنا بہتر ہے یا وہ ، کچھ لوگ خواب کا حوالہ دے کر اپنے عمل کو مؤید کررہے ہیں اپنی طرف سے جاری کردہ معمولات کا پابند بنانے کے لئے وہ بشارتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
           حالاں کہ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن میںمذکور دعائیں اور حدیث پاک میں ذکر کردہ مسنون مناجات سے اللہ ہماری مشکلوں کو دور کرسکتا ہے ،اس لئے وہ دواؤں کے ساتھ دعاؤں کا سہارا لینا چاہتے ہیں ،مگر جب ایک موقع کی الگ الگ دعائیں ان کے سامنے ہوتی ہیں اور الگ الگ دینی رہنماؤں کی طرف سے ان کو پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ الجھنوں کے شکار ہوجاتے ہیں، ایسے میں ضرورت ہے کہ امت خود بھی کسی الجھن کا شکار ہوئے بغیر، اس سلسلے میں اپنے کسی قریبی عالم دین اور دین کے بھروسہ مند جانکار سے رابطہ کر کے اذکار مسنونہ کا تعین کرلے اور حسب سہولت جتنا ہوسکے اُن اذکار کی پابندی کرے ،اس میں شرعا ً کوئی جبر واکراہ نہیںہے،اپنی سہولت کے پیش نظر بتائے گئے معمولات میں سے کچھ متعین کرلے ،ہاں البتہ خواب وبشارت سے الگ اُن معمولات کو ترجیح دینا چاہئے ،جو مسنون ہوں ،دعاء مسنونہ مقبولیت اور مفید تر ہونے میں زیاد ہ مؤ ثرہے، دعاء مسنونہ کا مطلب ہے جو دعاء جناب محمد رسول اللہ  ﷺ سے پڑھنا ثابت ہو ،یقینا ً دعاؤں کے جو الفاظ رسول پاک سے ثابت ہوں گے ،بعینہ اُنہیں الفاظ کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنے میںہماری فریاد رب کے دربار میں جلد سنی جائے گی اور ہم مصائب ومشکلات سے بخوبی نکل پائیں گے ۔
        مشکلوں سے گھبرانا نہیں چاہئے ،مشکلوں سے نکلنے کی تدابیر اپنانی چاہئے ، اپنے بازو میں قوت وطاقت بھی چاہئے اور بطور اسباب کچھ مال وزر بھی ، جذبات پر قدرت رکھتے ہوئے میٹھے بول کا سہارا لے کر دلوں کو فتح کرنے کا حوصلہ رکھا جائے،مگر یہ بھی یاد رکھئے کہ کبھی کبھی پھپکار اور پھٹکار بھی علاج ثابت ہوتی ہے ۔ مشکلے نیست کہ آساں نہ شود،مرد باید کہ ہراساں نہ شود۔ مشکلات سے جو ڈر جائے وہ انسان نہیں ہوتا ، مصائب میں جو گھبرا جائے وہ مسلمان نہیں ہوتا ۔ حق کی راہ میں آزمائشیں آتی ہیں ،مگر جب بندہ کہتا ہے کہ میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور پھر اس پر جمتا ہے تو اللہ کی مدد آتی ہے اوردل میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ اللہ کہہ رہا ہے گھبراؤ مت ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ حالات کو پلٹنے والے اور دلوں کو پھیرنے والے ہیں ۔ آزمائش ہے نشان بندگان محترم ،امتحاں ہوتا ہے اس کا جس پہ ہوتا ہے کرم ۔ مومنوں کے ساتھ مصائب ومشکلات کا ایک لامتنا ہی سلسلہ رہا ہے ،مگر تمام تر پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے یہ گنگنانے کی سکت بھی ہونی چاہئے کہ : میں کسی حال میں مایوس نہیں ہوسکتا ،ظلمتیں لاکھ ہوں امید سحر رکھتا ہوں۔  موجودہ حالات کے پیش نظربہت ہی قیمتی نسخہ مخدوم گرامی قدر امیر شریعت بہار اڑیسہ جھار کھنڈمفکر اسلام محترم مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا ہے کہ :  دشواریاں آتی ہیں اور دشواریاں آئیں گی، مصیبتیں آتی ہیں اور مصیبتیں آئیں گی، مصیبتیں تو پیدا اِسی لیے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ آئیں، لوگوں کو پکڑیں، انہیں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا، اس لئے کہ مرضی مولا یہی ہے۔ اللہ تعالی نے مصیبتیں اس لیے نہیں بنائی کہ وہ کسی جیل خانے کے اندر بند رہیں، وہ تو اس لئے ہی بنائی گئی ہیں کہ بندوں کے درمیان آئیں، جسے چاہیں پکڑیں۔ شیطان اور ابلیس کا اپنا کام ہے وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے، مصیبتیں اور آفتیں بھی اپنی روش پر چل رہی ہیں، ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ارادے اور عزائم میں کمزوری نہیں آنی چاہیے، ہمیں اور آپ کو شکست حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگر میدان میں شکست کھا بھی جائیں، تو کوئی خاص بات نہیں، شکست حوصلہ نہ ہوں، یہ خطرناک بات ہے، اس لئے حوصلہ کے ساتھ جئیں اور حوصلے کے ساتھ مرنے کا ارادہ بنائیں۔
 خلاصہ کلام:    سورہ شوری کی آیت نمبر ۳۰ کی تفسیر میں علامہ بیضاوی ؒ نے بڑی اچھی بات لکھی ہے کہ :یہ آیت ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہوں، چنانچہ انبیاء علیھم السلام ،نابالغ بچے اور مجنوں اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں،چوں کہ اُن سے گناہ سرزد نہیں ہوتا ، یا گناہوں کے کفارے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،اس لئے اِس حکم میں یہ داخل نہیں،مگر انبیاء اور درجہ بدرجہ اللہ کے نیک اورمخلص بندوں کوجو تکلیف پہنچتی ہے اس کے اسباب الگ ہیں ،منجملہ اُن اسباب میں سے رفع درجات اورایک خاص تربیت بھی ہے۔عام مومنین کے ساتھ جو پریشانیاں آتی ہیں ،چاہے آسمانی آفت،بارش،آسمانی ،بجلی،زلزلہ،آپس کے جھگڑے،بد امنی ،گھریلو حالات،معاشی تنگی یا ملک میں پائی جانے والی بے چینی وغیر ہ یہ سب اُن کے اعمال اور گناہ کا نتیجہ ہے ، اِن حالات میں ایک تو اللہ اپنے مومن بندے کو پاک وصاف کرانہیں اجرو ثواب سے نوازتا ہے ،بعض دفعہ اُن کے درجات کو بلند کرتا ہے ،اُن کے گناہوں کو مٹاتا ہے ،جن گناہوں کی وجہ سے آزمائشوں میں ڈالتا ہے ،قیامت کے دن اُن گناہوں کے بارے میں باز پُرس نہیں فرمائیں گے  ،مگر  سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی مصیبتوں پر جو صبر کرے گا اُس بندئہ مومن کے لئے یہ سب بشارتیں ہیں اور اُن مصائب وآلام پر جوجزع فزع اور اللہ کی جانب شکوہ شکایت کاطریقہ اپنائے گا وہ اجر کے بجائے زجر کامستحق ہو گا،اور جو اِن حالات کے باوجود بھی رجوع الی اللہ نہیں کرے گاگنا ہوں سے باز نہیں آئے گا ، سچی پکی توبہ واستغفار کے ذریعہ معافی کا طلب گار نہیں ہوگا ،ایسے تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب وعتاب کا شکار اور سزا کے مستحق ٹھہریںگے۔ مصائب ومشکلات کا حل یہ ہے کہ کثرت سے توبہ واستغفار کا اہتما رکھا جائے ،اپنی دعاؤں میں اللہ سے فریاد کیا جائے، آئندہ گناہوں سے بچا جائے،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھ کر انکا اہتمام کیا جائے ،سماجی اور معاشرتی برائیوں سے بچا جائے، ذاتی زندگی میں بھی اور گھر خاندان کے سلسلے میں بھی نافرمانی کرنے سے ڈراجائے،احکام باری تعالیٰ اور تعلیمات نبوی ﷺ پر سختی سے عمل کرنے کی ہرممکن کوشش ہو تاکہ ہم ذلت ورسوائی اور دنیاکی چند روزہ زندگی میں بد دینی سے بچ کر آخرت کی ہمیشہ ہمیش والی زندگی میں سرخرو ہوسکیں












Sunday, May 10, 2020

رمضان اور قرآن کا باہمی ربط و تعلق مولانا محمد ظفیر الاسلام ندوی


رمضان اور قرآن کا باہمی ربط و تعلق
 مولانا محمد ظفیر الاسلام ندوی


ما ہ رمضان ربّ العالمین کی طرف سے اہل ایمان کے لئے گرانقدر تحفہ ہے، عظیم الشان نعمت ہے، نیکیوں کا موسم بہار ہے، یوں تو رمضان کی اہمیت و خصوصیت متعدد وجوہات کی بنا پر ہے، لیکن اس ماہِ مبارک کی سب سے بڑی خصوصیت اگر اس کو قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آخری وحی الٰہی کے نزول کا شرف آخری کتاب الٰہی کی شکل میں اس ماہِ مقدس کو حاصل ہوا، یہی وجہ ہے کہ خالقِ کائنات اس امتیاز کو اپنے کلام میں بیان فرمارہا ہےشَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیاُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚر مضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیاجو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں راہ یابی اور (حق و باطل میں ) امتیاز کی کھلی نشانیاں ہیں۔اس آیتِ کریمہ سے رمضان اور قرآن کے باہمی ربط و تعلق کو واضح کر دیا گیا، یہ وہ ربط ہے جس نے ایک طرف اس ماہِ مقدس کی برکتوں، رحمتوں، سعادتوں اور رونقوں کو دوبالا کردیا تو دوسری طرف کتابِ ہدایت کی عظمت کو بھی اجاگر کرکے زندہ جاوید بنادیا۔یہی ربط حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس طرح نظر آتا ہے، کہ رمضان المبارک کا مہینہ رحمۃ للعالمین کی طبع مبارک کے لیے یوں تو بہار و نشاط اور نشرِ خیر میں ترقی کا تھا ہی، لیکن جب رمضان کی راتوں میں روح القدس جبرئیل امین آپ سے ملتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے تو عالمِ انسانیت کے سب سے بڑے کریم کی صفتِ کریمانہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتی۔ رمضان اور قرآن کے اسی ربط و تعلق کو ایک جگہ پر محبوبِ خدا کی زبان مبارک سے اس طرح بیان کیا گیا ہے " روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے ( یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر اس کا پاک کلام پڑھے گا یا سنے گا) روزہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما ( اور اس کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما) اور قرآن کہے گا کہ: میں نے اس کو رات کے سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا، خداوندا آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ( اور اس کے ساتھ بخشش اور عنایت کا معاملہ فرما) چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول فرمائی جائے گی ( شعب الایمان)۔یہی وجہ ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جبکہ ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے، روحانیت پر بہیمیت کا غلبہ ہے، انسان دنیائے فانی کے جھمیلوں میں پھنس کر ہلاکت وتباہی کی طرف گامزن ہے، لیکن اس ربط و تعلق کو کسی نہ کسی شکل میں ہم اس طرح دیکھ رہے ہیں، کہ کثیر تعداد میں وہ لوگ بھی جو پورے سال مشکل ہی سے قرآن پڑھ پاتے ہیں تلاوتِ قرآن کریم میں مشغول نظر آتے ہیں، اور بسااوقات کثرتِ تلاوت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا خوبصورت منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے، وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ( اور یہ ہے وہ چیز جس میں مقابلہ کرنے والوں کو آگے آنا چاہیے)۔اور پھر نمازِ تراویح کی شکل میں رمضان المبارک کی نورانیت میں اضافہ کرنے والی عظیم الشان عبادت جس کی برکت کا نتیجہ ہے کہ اس امت میں پورا قرآنِ پاک زندہ ہے، قرآنِ پاک کو سنا جارہا ہے، لاکھوں کروڑوںمسلمان قرآن پاک سے اپنا ربط کم سے کم اس حد تک قائم رکھے ہوئے ہیں کہ نمازِ تراویح میں ان کو قرآنِ پاک از اول تا آخر سننے کا موقع مل جاتا ہے، عالمِ اسلام کی اکثر مسجدوں کے علاوہ لاکھوں کروڑوں گھروں، بیٹھکوں، چوپالوں اور کارخانوں میں نمازِ تراویح اور ان میں حفاظِ کرام کی دلکش آوازیں دلفریب منظر پیش کرتی ہیں۔ یہ تو کثرتِ تلاوت کی جھلکیاں تھیں، الحمدللہ اس ماہِ  مبارک میں فہمِ قرآن کے لیے بھی علماء کرام  درسہائے قرآن کی مجلسیں آراستہ کرتے ہیں، اس طرح الفاظِ قرآنی کے ساتھ ساتھ معانی قرآن کی طرف بھی توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ امت مسلمہ نے قرآن کو سمجھنے اور اس کو رہنما کتاب کی حیثیت سے متعارف کرانے میں زبردست کوتاہی اور غفلت سے کام لیا ہے، اور یہ اس امت کی ذلت ورسوائی کی ایک بڑی اہم وجہ ہے ۔            
  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر              
 تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
بڑے ہی افسوس کی بات یہ ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو قرآن کریم کی تلاوت بھی صرف رمضان ہی میں کرنے پر اکتفا کیے ہوئے ہے، حالانکہ ہمارے روزانہ کے معمولات میں تلاوتِ قرآن بلکہ ترجمہ قرآن بھی شامل ہونا چاہیے، رمضان میں تو مزید ( extra) کا مطالبہ ہے، یعنی ہم عام دنوں سے زیادہ اس مہینے میں قرآن کی طرف متوجہ ہوں، یہ بڑی محرومی کی بات ہے کہ اپنے خالق و مالک کے کلام جس کو سینوں میں بسانا تھا ہم نے صرف طاقوں میں سجا کر رکھا ہوا ہے،  امتِ مسلمہ کو چاہئیے کہ اپنا رشتہ قرآن سے مضبوط کرے۔آئیے اس رمضان میں ہم عہد کریں کہ قرآن سے مضبوط تعلق جوڑیں گے، قرآن کو پڑھیں گے بھی اور سمجھنے کی بھی کوشش کریں گے


آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...