قیامِ امن میں میڈیا کا مثبت کردار

امن و سلامتی اور سماجی استحکام انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اور معاشرے کے سماجی استحکام اور امن و سلامتی کے لیے ہر جگہ سوشل مکینزم سوشل اسٹریکچر، سماجی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، سماجی حالات پر طائرانہ نظریں رکھنا عوام تک صحیح باتوں کی ترسیل اور امن وامان کے پیغامات کی تبلیغ ہر سماج کا جز لا ینفک ہے،اسکے بغیر معاشرہ سماج اور معاشرتی روابط وضوابط منظم نھی رہ سکتے، اسی لیے ہر ملک میں حالات کو قابو کرنے کے لیے ایک منظم اسٹریکچر موجود ہوتا ہے، جسکو ہم میڈیا کے نام سے جانتے ہیں، جو اب ایک وسیع پیرائے میں ڈھل کر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے، لیکن یہ کیا ہے اسکا کام کیا ہے؟ اور اب کس طرح اسکا اثر و رسوخ بدلتا جارہا ہے یہ بات قابلِ غور ہے، میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا مطلب " لوگوں کے لئے معلومات کی فراہمی کے لئے منظم انداز میں استعمال کیے جانے والے متعدد میڈیم یا چینلز کا استعمال کرنا ہے۔"اس منصوبے کے سلسلے میں ، میڈیا عام طور پر مرکزی دھارے میں شامل ہے یعنی آزاد (پرنٹ ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن)۔ ماضی قریب کی تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے 50 سالوں میں ، ٹیکنالوجی کی پیشرفت سے میڈیا کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ گیا ہے ، پہلے ٹیلی گراف تھا ، پھر ریڈیو ، اخبار ، میگزین ، ٹیلی ویژن اور اب انٹرنیٹ۔ بہت سے لوگ آج صحیح سمت پر گامزن رہنے کے لئے معلومات اور مواصلات پر پوری طرح منحصر ہوچکے ہیں اور ان کی روز مرہ کی سرگرمیاں جیسے کام ، تفریح ، صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، ذاتی تعلقات ، سفر ان کے پڑھنے ، سننے اور دیکھنے سے بہت کنٹرول ہوتے ہیں۔ مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز جیسے موبائل / ویڈیو فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز صحافیوں کو دنیا کے بہت سارے حصوں سے آسانی سے معلومات جمع کرنے اور پھیلانے میں اہم تعاون پیش کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی وی اور کمپیوٹرز (سوشل نیٹ ورکس جیسے فیس بک ، ٹویٹر ، اور یوٹیوب) نے دنیا بھر کے حالات تک لوگوں کی رسائ ، دستیابی میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے.نیوز انڈسٹری کا ڈیجیٹلائزیشن ، جس کی وجہ سے وقت اور جگہ کا مقابلہ ہوتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ ہم گلیوں میں ہونے والے کچھ ہی منٹ میں مظاہروں ، فسادات یا بغاوت کی خبریں دیکھ لیتے ہیں ۔ اسی لیے پچھلی چھ دہائیوں میں ، عالمی میدان میں میڈیا کے اثر و رسوخ کو تیزی سے تسلیم کیا گیا ہے ، خاص طور پر ممکنہ تنازعات پر قابو پانے کی اسکی طاقت کو سراہا گیا ہے. لیکن وہی اسکی تنازعات کو بھڑکانے تشدد کو پھیلانے کی طاقت کو بھی نظر انداز نھی کیا گیا اور اس پر ہمیشہ تنقیدی پہلو اختیار کیا گیا۔کیونکہ اکثر و بیشتر سیاسی مذہبی معاملات میں میڈیا کا جتنا مثبت استعمال کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اسکے منفی استعمال سے سماجی اور انسانی زندگیوں کے بہت سے پہلوؤں کا استحصال بھی کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جب یہ عدم رواداری یا نامعلوم معلومات نفرت انگیز پیغامات کو عام کرتا ہے جو عوامی جذبات کو جوڑتا ہے تو یہ تشدد کا خوفناک ہتھیار ہوسکتا ہے۔ لیکن میڈیا کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
یہ تنازعات کے حل کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ،یعنی جب اسکی پیش کردہ معلومات قابل اعتماد ہوتی ہیں، انسانی حقوق کا احترام کرتی ہیں، اور متنوع نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تو تب یہی میڈیا معاشرے میں امن وامان کو قائم کرنے میں عمدہ کردار ادا کرتا ہے اور یہی میڈیا جمہوری حکمرانی کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔ ایک ایسا میڈیا جو تنازعات کو کم کرتا ہے اور انسانی سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔ لہذا میڈیا اگر مثبت سوچ اور مثبت استنتاج اور معتدل اپروچ کے ساتھ کام کرتا ہے تو پھر وہ ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر منفی رویوں اور غیر اخلاقی طور وطریقوں پر میڈیا قدم رکھتا ہے تو یہ ملک کے تمام شعبوں کے لیے مضر اور مہلک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا لوگوں کو تشدد کی طرف بآسانی اکسا سکتا ہے۔ جیسے ہٹلر نے میڈیا کو یہودیوں ، ہم جنس پرستوں اور دیگر اقلیتی گروہوں سے نفرت کا ایک مکمل عالمی نظریہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ اسی لیے تنازعات کے بڑھنے پر میڈیا کے اثرات کو امن کی تعمیر پر میڈیا کے اثرات سے زیادہ وسیع پیمانے پر پہچانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کی یہ بات سننا غیر معمولی بات نہیں ہے کہ تنازعہ پر اس کے طاقتور اثرات کے پیش نظر امن کی تعمیر پر میڈیا کا اثر نمایاں ہونا ضروری ہے۔ تاہم ، تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لئے میڈیا کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری بات میڈیا کو اصولی طور پر سچ بولنے کی آذادی تھی لیکن بد قسمتی سے ہند وستانی میڈیا نے جھوٹ بولنے کو بھی آزادی میں شامل کر لیا. کیونکہ آج کی دنیا میں میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا معاشرے کی رگِ حیات ہے، اسکے ساتھ ساتھ حصول اقتدار کا موثر ہتھیار بھی ہے۔ میڈیا کو اپنی طاقت کاکامل ادراک ہے کہ عوام کے ذہن کس حد تک اسکے قابو میں ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کے اذہان بھی جو میڈیا کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے۔اسی وجہ سے پچھلے کچھ عرصوں میں ہمارے میڈیا کے ایک حصے نے حکومت کے اندر حکومتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اور یہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتا کرتا، ہماری تاریخ اور تہذیب کی شکل بگاڑتا ہوا حکمرانی کے اپنے معیارات وضع کرتا چلا جارہا ہے؛ یعنی ملک کے باشندوں کو آزادی کے خواب اور ترقی کے خواب دکھاتے ہوئے ملک کے اجارہ داروں کے ساتھ حصہ داری کررہا ہے، جتنے بھی چینلس آزادی سے خبریں ٹیلی کاسٹ کرتے تھے وہ سب چینل حکومت کے ہاتھوں بک چکے ہیں، اور کافی حد تک ان کے براڈ کاسٹر عوام کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد اور مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کے مواقع محدود تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں میڈیا کے دوغلے روئہ نے ملک اور دنیا کے بارے میں خبروں اور دوسری اطلاعات کے معیار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا لوگوں کی بہتری کے بجائے تیزی سے ایک کمرشل انٹربرائز کی شک اختیار کرتا جارہا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ قومی امنگوں کی ترجمانی اور ملک کی آزادی و قومی وقار کا دفاع کرکے قومی ذمہ داری نبھائے۔ اب قدیم دور نھی ریا کہ صرف ایک خاص طبقہ ہی میڈیا کا کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ قدیم دور میں پرنٹ میڈیا کی طاقت مقبول اور مسملہ تھی جو اب آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے اور پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا کی جانب سے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کیونکہ روایتی میڈیا کی طاقت کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا کا رخ کرچکا ہے. اور اسکی اپنی ایک الگ طاقت الگ اثر و رسوخ ہے اور فرداً فرداً اسکا مثبت استعمال ملک کی فروخت شدہ میڈیا سے کہیں زیادہ مضبوط اور اثرانداز ہے، لہذا اگر آپ تمام لوگ مختلف میڈیا پر گروپ ایڈمن اور سماجی کارکن ہیں تو براہ کرم اپنے گروپس اور صفحات کو مثبت مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ جو بھی لکھیں مثبت اور معیاری انداز میں لکھیں تاکہ آپکی بات مخالف گروہ بھی سنے، کسی پیچیدہ مسلے پر گفتگو کریں بحث ومباحثہ کریں تنقید کریں لیکن تعمیری سوچ کے ساتھ تاکہ اس میں جھُوٹ اور تحقیر وتنقیص کا عُنصر شامل نہ ہو ، کیونکہ ہر وہ قوم جس نے ترقی کی ہے وہ ہمیشہ منظم منسق طریقوں سے آگے بڑھی ہے۔ تاکہ ہم بطور معاشرہ یہ سیکھ جائیں کہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں بڑی بڑی غلطیوں کو جنم دیتی ہیں ۔
لہذا اپنی اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ہنر آزمائیں کیونکہ آپ سب اس مثبت تبدیلی کے سفر میں ایک ایجنٹ کی حیثیت رکھتے ہیں. اور خاص پڑھے لکھے نوجوان تعلیم یافتہ مسلم باشعور افراد ان سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیں اور ملک وقوم کی مثبت ومعتدل مزاج کے ساتھ نمایندگی کریں، کیونکہ نوجوان ایک مہذب معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس وقت نوجوان سوشل ایکٹوسٹس جس طرح سوشل میڈیا اور عملی سیاست میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تاریخ کے وسیع اور گنجلک صفحات میں ان سب کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے اور انشاء اللہ انکا دن رات ایک کرکے ایک جدوجہد ایک مقصد کی خاطر کام کرنا ایک دن نئے آزاد بھارت کو جنم دیگا۔
جمہوری ملک میں حقوق کی حفاظت
مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی حسنی ندوی
ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے، وہ جمہوری ملک ہے، اور وہاں قانون ساز مجلسیں قانون بناتی ہیں، جب یہ ملک جمہوری ہے تو پارلیمنٹ ہی قانون بنائے گی، اور جمہوریت کا یہ قاعدہ ہے کہ اکثریت کی رائے اور تائید سے قانون بنتا ہے، اس لیے ہر وقت اس کا خطرہ ہے کہ ایسے قوانین بنیں جو ہمارے بنیادی عقائد، مسلمات، ہمارے جذبات اور ہماری ضرورتوں کے خلاف ہوں.اب ہمارا کام یہ ہے کہ ایسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اپنے ملی تشخص کی حفاظت آئینی طریقہ پر کریں، ہم ہندوستان کے وفادار، مفید، کارآمد اور اس کے ضروری جزء ہونے کی حیثیت سے اپنی افادیت واہمیت ثابت کریں اور مطالبہ کریں کہ کوئی قانون ہماری شریعت، آسمانی کتاب اور ہمارے عقائد کے خلاف نہیں بننا چاہیے.اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کریں کہ خلاف شریعت قانون بننے سے ہم کو اس سے زیادہ اذیت ہوتی ہے، جتنا کھانا روکنے سے. ہم ثابت کردیں کہ اس نئے قانون سے ہم کو ایسی گھٹن ہو رہی ہے جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر باہر رکھنے سے ہوتی ہے، ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ، حرکات و سکنات سے معلوم ہوجائے کہ ہماری صحت اور توانائی اور کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے، اور یہ محسوس کرلیا جائے کہ یہ ایک مغموم قوم کے افراد ہیں، اس نئے قانون سے ان کا دم گھٹ رہا ہے."
(کاروان زندگی: ٣/ ١٥٥-١٥٦)
چودھری عدنان علیگ

امن و سلامتی اور سماجی استحکام انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اور معاشرے کے سماجی استحکام اور امن و سلامتی کے لیے ہر جگہ سوشل مکینزم سوشل اسٹریکچر، سماجی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، سماجی حالات پر طائرانہ نظریں رکھنا عوام تک صحیح باتوں کی ترسیل اور امن وامان کے پیغامات کی تبلیغ ہر سماج کا جز لا ینفک ہے،اسکے بغیر معاشرہ سماج اور معاشرتی روابط وضوابط منظم نھی رہ سکتے، اسی لیے ہر ملک میں حالات کو قابو کرنے کے لیے ایک منظم اسٹریکچر موجود ہوتا ہے، جسکو ہم میڈیا کے نام سے جانتے ہیں، جو اب ایک وسیع پیرائے میں ڈھل کر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے، لیکن یہ کیا ہے اسکا کام کیا ہے؟ اور اب کس طرح اسکا اثر و رسوخ بدلتا جارہا ہے یہ بات قابلِ غور ہے، میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا مطلب " لوگوں کے لئے معلومات کی فراہمی کے لئے منظم انداز میں استعمال کیے جانے والے متعدد میڈیم یا چینلز کا استعمال کرنا ہے۔"اس منصوبے کے سلسلے میں ، میڈیا عام طور پر مرکزی دھارے میں شامل ہے یعنی آزاد (پرنٹ ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن)۔ ماضی قریب کی تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے 50 سالوں میں ، ٹیکنالوجی کی پیشرفت سے میڈیا کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ گیا ہے ، پہلے ٹیلی گراف تھا ، پھر ریڈیو ، اخبار ، میگزین ، ٹیلی ویژن اور اب انٹرنیٹ۔ بہت سے لوگ آج صحیح سمت پر گامزن رہنے کے لئے معلومات اور مواصلات پر پوری طرح منحصر ہوچکے ہیں اور ان کی روز مرہ کی سرگرمیاں جیسے کام ، تفریح ، صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، ذاتی تعلقات ، سفر ان کے پڑھنے ، سننے اور دیکھنے سے بہت کنٹرول ہوتے ہیں۔ مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز جیسے موبائل / ویڈیو فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز صحافیوں کو دنیا کے بہت سارے حصوں سے آسانی سے معلومات جمع کرنے اور پھیلانے میں اہم تعاون پیش کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی وی اور کمپیوٹرز (سوشل نیٹ ورکس جیسے فیس بک ، ٹویٹر ، اور یوٹیوب) نے دنیا بھر کے حالات تک لوگوں کی رسائ ، دستیابی میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے.نیوز انڈسٹری کا ڈیجیٹلائزیشن ، جس کی وجہ سے وقت اور جگہ کا مقابلہ ہوتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ ہم گلیوں میں ہونے والے کچھ ہی منٹ میں مظاہروں ، فسادات یا بغاوت کی خبریں دیکھ لیتے ہیں ۔ اسی لیے پچھلی چھ دہائیوں میں ، عالمی میدان میں میڈیا کے اثر و رسوخ کو تیزی سے تسلیم کیا گیا ہے ، خاص طور پر ممکنہ تنازعات پر قابو پانے کی اسکی طاقت کو سراہا گیا ہے. لیکن وہی اسکی تنازعات کو بھڑکانے تشدد کو پھیلانے کی طاقت کو بھی نظر انداز نھی کیا گیا اور اس پر ہمیشہ تنقیدی پہلو اختیار کیا گیا۔کیونکہ اکثر و بیشتر سیاسی مذہبی معاملات میں میڈیا کا جتنا مثبت استعمال کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اسکے منفی استعمال سے سماجی اور انسانی زندگیوں کے بہت سے پہلوؤں کا استحصال بھی کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جب یہ عدم رواداری یا نامعلوم معلومات نفرت انگیز پیغامات کو عام کرتا ہے جو عوامی جذبات کو جوڑتا ہے تو یہ تشدد کا خوفناک ہتھیار ہوسکتا ہے۔ لیکن میڈیا کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
یہ تنازعات کے حل کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ،یعنی جب اسکی پیش کردہ معلومات قابل اعتماد ہوتی ہیں، انسانی حقوق کا احترام کرتی ہیں، اور متنوع نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تو تب یہی میڈیا معاشرے میں امن وامان کو قائم کرنے میں عمدہ کردار ادا کرتا ہے اور یہی میڈیا جمہوری حکمرانی کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔ ایک ایسا میڈیا جو تنازعات کو کم کرتا ہے اور انسانی سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔ لہذا میڈیا اگر مثبت سوچ اور مثبت استنتاج اور معتدل اپروچ کے ساتھ کام کرتا ہے تو پھر وہ ملک کی سلامتی اور ترقی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر منفی رویوں اور غیر اخلاقی طور وطریقوں پر میڈیا قدم رکھتا ہے تو یہ ملک کے تمام شعبوں کے لیے مضر اور مہلک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا لوگوں کو تشدد کی طرف بآسانی اکسا سکتا ہے۔ جیسے ہٹلر نے میڈیا کو یہودیوں ، ہم جنس پرستوں اور دیگر اقلیتی گروہوں سے نفرت کا ایک مکمل عالمی نظریہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ اسی لیے تنازعات کے بڑھنے پر میڈیا کے اثرات کو امن کی تعمیر پر میڈیا کے اثرات سے زیادہ وسیع پیمانے پر پہچانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کی یہ بات سننا غیر معمولی بات نہیں ہے کہ تنازعہ پر اس کے طاقتور اثرات کے پیش نظر امن کی تعمیر پر میڈیا کا اثر نمایاں ہونا ضروری ہے۔ تاہم ، تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لئے میڈیا کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری بات میڈیا کو اصولی طور پر سچ بولنے کی آذادی تھی لیکن بد قسمتی سے ہند وستانی میڈیا نے جھوٹ بولنے کو بھی آزادی میں شامل کر لیا. کیونکہ آج کی دنیا میں میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا معاشرے کی رگِ حیات ہے، اسکے ساتھ ساتھ حصول اقتدار کا موثر ہتھیار بھی ہے۔ میڈیا کو اپنی طاقت کاکامل ادراک ہے کہ عوام کے ذہن کس حد تک اسکے قابو میں ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کے اذہان بھی جو میڈیا کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے۔اسی وجہ سے پچھلے کچھ عرصوں میں ہمارے میڈیا کے ایک حصے نے حکومت کے اندر حکومتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اور یہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرتا کرتا، ہماری تاریخ اور تہذیب کی شکل بگاڑتا ہوا حکمرانی کے اپنے معیارات وضع کرتا چلا جارہا ہے؛ یعنی ملک کے باشندوں کو آزادی کے خواب اور ترقی کے خواب دکھاتے ہوئے ملک کے اجارہ داروں کے ساتھ حصہ داری کررہا ہے، جتنے بھی چینلس آزادی سے خبریں ٹیلی کاسٹ کرتے تھے وہ سب چینل حکومت کے ہاتھوں بک چکے ہیں، اور کافی حد تک ان کے براڈ کاسٹر عوام کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد اور مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کے مواقع محدود تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں میڈیا کے دوغلے روئہ نے ملک اور دنیا کے بارے میں خبروں اور دوسری اطلاعات کے معیار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا لوگوں کی بہتری کے بجائے تیزی سے ایک کمرشل انٹربرائز کی شک اختیار کرتا جارہا ہے۔اب وقت ہے کہ ہم الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ قومی امنگوں کی ترجمانی اور ملک کی آزادی و قومی وقار کا دفاع کرکے قومی ذمہ داری نبھائے۔ اب قدیم دور نھی ریا کہ صرف ایک خاص طبقہ ہی میڈیا کا کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ قدیم دور میں پرنٹ میڈیا کی طاقت مقبول اور مسملہ تھی جو اب آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے اور پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا کی جانب سے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کیونکہ روایتی میڈیا کی طاقت کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا کا رخ کرچکا ہے. اور اسکی اپنی ایک الگ طاقت الگ اثر و رسوخ ہے اور فرداً فرداً اسکا مثبت استعمال ملک کی فروخت شدہ میڈیا سے کہیں زیادہ مضبوط اور اثرانداز ہے، لہذا اگر آپ تمام لوگ مختلف میڈیا پر گروپ ایڈمن اور سماجی کارکن ہیں تو براہ کرم اپنے گروپس اور صفحات کو مثبت مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ جو بھی لکھیں مثبت اور معیاری انداز میں لکھیں تاکہ آپکی بات مخالف گروہ بھی سنے، کسی پیچیدہ مسلے پر گفتگو کریں بحث ومباحثہ کریں تنقید کریں لیکن تعمیری سوچ کے ساتھ تاکہ اس میں جھُوٹ اور تحقیر وتنقیص کا عُنصر شامل نہ ہو ، کیونکہ ہر وہ قوم جس نے ترقی کی ہے وہ ہمیشہ منظم منسق طریقوں سے آگے بڑھی ہے۔ تاکہ ہم بطور معاشرہ یہ سیکھ جائیں کہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں بڑی بڑی غلطیوں کو جنم دیتی ہیں ۔
لہذا اپنی اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ہنر آزمائیں کیونکہ آپ سب اس مثبت تبدیلی کے سفر میں ایک ایجنٹ کی حیثیت رکھتے ہیں. اور خاص پڑھے لکھے نوجوان تعلیم یافتہ مسلم باشعور افراد ان سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیں اور ملک وقوم کی مثبت ومعتدل مزاج کے ساتھ نمایندگی کریں، کیونکہ نوجوان ایک مہذب معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس وقت نوجوان سوشل ایکٹوسٹس جس طرح سوشل میڈیا اور عملی سیاست میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تاریخ کے وسیع اور گنجلک صفحات میں ان سب کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے اور انشاء اللہ انکا دن رات ایک کرکے ایک جدوجہد ایک مقصد کی خاطر کام کرنا ایک دن نئے آزاد بھارت کو جنم دیگا۔
جمہوری ملک میں حقوق کی حفاظت
مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی حسنی ندوی
ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے، وہ جمہوری ملک ہے، اور وہاں قانون ساز مجلسیں قانون بناتی ہیں، جب یہ ملک جمہوری ہے تو پارلیمنٹ ہی قانون بنائے گی، اور جمہوریت کا یہ قاعدہ ہے کہ اکثریت کی رائے اور تائید سے قانون بنتا ہے، اس لیے ہر وقت اس کا خطرہ ہے کہ ایسے قوانین بنیں جو ہمارے بنیادی عقائد، مسلمات، ہمارے جذبات اور ہماری ضرورتوں کے خلاف ہوں.اب ہمارا کام یہ ہے کہ ایسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اپنے ملی تشخص کی حفاظت آئینی طریقہ پر کریں، ہم ہندوستان کے وفادار، مفید، کارآمد اور اس کے ضروری جزء ہونے کی حیثیت سے اپنی افادیت واہمیت ثابت کریں اور مطالبہ کریں کہ کوئی قانون ہماری شریعت، آسمانی کتاب اور ہمارے عقائد کے خلاف نہیں بننا چاہیے.اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کریں کہ خلاف شریعت قانون بننے سے ہم کو اس سے زیادہ اذیت ہوتی ہے، جتنا کھانا روکنے سے. ہم ثابت کردیں کہ اس نئے قانون سے ہم کو ایسی گھٹن ہو رہی ہے جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر باہر رکھنے سے ہوتی ہے، ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ، حرکات و سکنات سے معلوم ہوجائے کہ ہماری صحت اور توانائی اور کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے، اور یہ محسوس کرلیا جائے کہ یہ ایک مغموم قوم کے افراد ہیں، اس نئے قانون سے ان کا دم گھٹ رہا ہے."
(کاروان زندگی: ٣/ ١٥٥-١٥٦)



























