Translate

Thursday, April 30, 2026

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ

 ڈاکٹر احتشام فریدی
مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان کے موت کی خبر ملنا مانو ایک وقت میں پوری دنیا ٹہر سی گئی ہو 
مرحوم کی ولادت ١ جنوری ١٩٩٠ وفات ١٩ اپریل ٢٠٢٦ مرحوم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی جامعہ ایوبیہ سے ہوئی بعد از اعلیٰ تعلیم کے لیۓ مدرسہ محبوبیہ چین پور بنگرہ گۓ وہاں سے ناظرہ مکمل کرنے کے بعد اپنے والد محترم کے ساتھ مہاراشٹر اکل کنواں کے شاخ مدرسہ اشاعت العلوم سونوری چلے گۓ اور وہاں سے حفظ مکمل کیا مرحوم کند ذہن ہونے کے بعد بھی اپنی محنت و لگن کی بدولت سن ٢٠٠٠ سے ٢٠٠٤ تک وہاں رہے اور حفظ مکمل کیا پھر اپنے گھر آگۓ ٢٠٠٣ میں دینیات عربی کے لیۓ پٹنہ کا رخ اختیار کیا اور پھر ٢٠٠٦ تک جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ میں رہے پھر اپنے استاذ محترم فضیلت الشیخ حضرت مولانا ناظم صاحب کے حکم پر دیوبند کا رخ کیا پھر ٢٠١١ سے مرحوم اپنے رزق کی تلاش میں سب سے پہلے رحیم پور رکسا مدرسہ حسینیہ صدیقیہ کا رخ کیا کچھ سال گزرنے کے بعد مظفر پور کے سکری سریا چلے گۓ اور وہاں تقریباً ١٢ سال کا ایک طویل عرصہ گزار رہے تھے 
مرحوم نے اپنی حیات زندگی میں کچھ ایسے کارنامے بھی کر گۓ ہیں جو قیامت کی صبح تک فراموش نہی کی جا سکتی ہے جب وہ پہلی مرتبہ سکری سریا گۓ تب وہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی مرحوم اپنی محنت وکوشش کی بدولت چھوٹی مسجد شہید کر کے جامع مسجد کا قیام کیا اور پھر مسجد کے احاطہ میں ہی مکتب کا بھی قیام شروع کیا گیا اور اسی مکتب کی برکت سے اس گاؤں میں کئی بچوں کے ساتھ ایک بچی بھی حافظہ ہوئی ۔ مرحوم عمدہ اخلاق کے حامل تھے اللہ نے انہیں علم کی صلاحیت اس قدر دی تھی کہ غیروں نے بھی اپنے ہتھیلی پہ سجایا تھا اور ان کے ہاتھوں پر ہی ایمان لے آۓ ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مرحوم اپنی جان بچانے کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے لیکن سکری سریا کے عوام نے ان کا ساتھ اس نازک دور میں بھی نہیں چھوڑا اور ڈھال بن کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے پھر ایک وقت کے بعد وہ سیاہ وقت بھی گزر گیا 
مرحوم اپنا نکاح ٢٠٢٠ میں ضلع سیتا مڑھی میں ایک عالمہ سے کیا اور سن ٢٠٢٤ کے ستمبر ماہ میں اللہ نے ایک اولاد جیسی نعمت سے نوازا جو ابھی ڈیڑھ سال کا ذیان فریدی توتلی زبان سے ہر وقت ابو ابو کی صدائیں بلند کرتا رہتا ہے لیکن رب حقیقی کی مرضی کے سامنے اس ننھا فرشتہ کا بھی کچھ چل نا سکا اور باپ جیسی نعمت سے مرحوم ہوگیا 
آج بھی دل اس بات کو ماننے سے اورلکھتے ہوۓ قاصر ہے کہ میرا بھائی اب دور فانی سے کوچ کر گۓ لیکن اللہ نے اپنے مقدس کتاب میں کہا ہے 
(کل نفس ذائقت الموت) ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر کیا اس آیت کو یاد کرتے ہوۓ صبر کا دامن تھامنا ہوتا ہے 
مرحوم کی خوبیوں کی بات کریں تو نیک دل کے ساتھ ملنسار خوش مزاجی اپنوں کے ساتھ دوسروں سے بھی نیک دلی اور اچھا سلوک خوش اسلوبی سے رابطہ رکھنا اپنے خاندان کو جاننا ان پر لکھنا یہ ان کی فطرت میں شامل تھا ۔اور یہی وجہ ہیکہ ان کے موت کی خبر سنتے ہی لوگ ایک وقت گزارے بغیر دوحہ قطر کا سفر طے کرتے ہوۓ نماز جنازہ میں شریک ہوۓ 
مرحوم دنیا سے الوداع کہتے ہوۓ اپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ چار بھائی ایک بہن اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک ڈیڑھ سالہ شیر خوار بچہ کو روتے بلکھتے چھوڑ گۓ 
مرحوم ایک سڑک حادثہ کا شکار ہوۓ اور یہ حادثہ تب در پیش آیا جب وہ اپنے ننھے شیر خوار بچہ ذیان فریدی سے ملنے گھر آرہے تھے تبھی مظفرپور سمستی پور قومی شاہراہ ٢٨ پر ایک بے لگام ١٨ چکہ ٹرک نے انہیں کچل دیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گۓ اور موقع پر ہی آخری سانس لیا اور اپنے رب حقیقی سے جا ملے یہ حادثہ ١٩ اپریل ٢٠٢٦ کو ہوا اور ان کے جنازے کی نماز ٢٠ اپریل ٢٠٢٦ کو ان کے آبائی گاؤں چک نصیر سکی پاتےپور ویشالی میں ادا کی گئی ۔ان کے جنازے کی نماز مدرسہ قاسم العلوم تریپولیہ عالم گنج کے بانی و ناظم اور مرحوم کے استاذ محترم جناب مولانا ناظم صاحب نے پڑھائی جنازے کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوۓ عوام کا کہنا تھا کہ اب تک کے تاریخ میں اتنی بڑی جماعت کسی نے نہیں دیکھا تھا اور یہ ان کے عمدہ اخلاق و کردار کا نتیجہ ہے ۔لفظ آخر موجود لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا اور دعاۓ مغفرت کی ?
تم اپنے بخت پہ نازاں نہیں ہو حیرت ہے 
ہم ایسے لوگ دعاؤں میں مانگے جاتے ہیں
دعائیں مانگ تیری عمر مجھ سے زیادہ ہو
تجھے میں جاکے دکھاؤنگا ایسے جاتے ہیں

Monday, April 27, 2026

ہر سطح پر تعلیم و تربیت کی ضرورت مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

ہر سطح پر تعلیم و تربیت کی ضرورت 

 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
تعلیم کے حوالے سے انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں، ایک تو مذہبی ضرورت ہے، جس کا ایک سرا اس دنیا سے اور دوسرا آخرت سے جڑا ہوا ہے، یہ تعلیم دنیوی سعادت اور اخروی نجات کے لیے ضروری ہے، اسی لیے اس تعلیم کو فرض قرار دیا گیا ، جسے اصطلاح میں بنیادی دینی تعلیم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سرکار کے رائٹ ٹو ایجو کیشن ( تعلیم کے حق ) سے الگ ایک چیز ہے، جب ہم حق کی بات کرتے تو اس سے لزوم کا پتہ نہیں چلتا، کیونکہ اپنے حق سے دست برداری کو سماج میں بُرا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اگر اس کا تعلق مالی حقوق سے ہو اور کوئی اس سے دست بردار ہو جائے تو اسے ایثار قرار دیا جاتا ہے، لیکن فرض وہ چیز ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، اور اگر کوئی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو وہ باز پرس ، دارو گیر اور سزا کا مستحق ہوتا ہے، اس لیے تعلیم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا ، یعنی اس میں کوتاہی پر سزا بھی دی جاسکتی ہے، جبکہ حقوق کے حصول میں کوتا ہی سزا کا موجب نہیں ہوا کرتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بچے کے بجائے تنبیہ اور دار و گیر گارجین کی ، کی جائیگی، کیونکہ بچوں کی طرف احکام متوجہ نہیں ہوتے۔ تعلیم کے اس مرحلے کے لیے ضروری ہے کہ سماج کے ہر طبقہ کے بچہ کو کم عمری میں ہی تعلیمی اداروں سے جوڑ دیا جائے ، انہیں زری کے کارخانوں اور ہوٹلوں سے اٹھا کر مکتب، مدرسہ اور اسکول کی میز و چٹائی پر بیٹھالا جائے؛ تاکہ ان کی بنیادی دینی تعلیم سلیقے سے ہو سکے اور ان کا بچپنہ ضائع ہونے سے بچ جائے ۔ پورے ہندوستان میں پھیلے مکاتب و مدارس الحمد للہ اس کام کو بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں اور عمدگی اور خوش اسلوبی سے انجام دےرہے ہیں، لیکن خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
دوسرے علوم وہ ہیں جن کی ضرورت ہمیں اپنی زندگی بسر کرنے میں پڑتی ہے، اور چونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس لیے ان علوم کو اس درجہ میں تو نہیں رکھا جا سکتا کہ سب کے اوپر اس کا حصول فرض قرار دیا جائے، لیکن سماجی اور تمدنی ضرورت کے اعتبار سے مہذب سماج کی تشکیل، عمرانی ضروریات اور زندگی برتنے کے فن کی واقفیت کے لیے الگ الگ علوم و فنون میں مہارت بھی ضروری ہے، ہمیں رہنے کے لیے گھر چاہیے؛ اس گھر کا نقشہ بنانے کے لیے اچھے انجینئر کی ضرورت ہے، بغیر انجینئرنگ میں مہارت کے ہم اس کام کو سلیقے سے نہیں کر سکتے، یہ سلیقگی مکتبی تعلیم سے اوپر اٹھ کر جدید عصری اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے لیے مسلمانوں کو انجینئرنگ کالج کھولنے بھی چاہیے اور اپنے بچوں کو اس شعبے میں تیار بھی کرنا چاہیے، کیونکہ آج یہ معاشی استحکام کا بڑا ذریعہ ہے، اور پوری دنیا میں سول اور مکینیکل انجینئرنگ کی مانگ بہت زیادہ ہے، اس میدان میں آگے بڑھنے کا سیدھا مطلب اعلیٰ تعلیم میں مہارت کے ساتھ مسلمانوں کے افلاس اور پس ماندگی کو دور کرنا ہے۔
اسی طرح ہماری صحت کا مسئلہ ہے، یہ ایک جسمانی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمارے پاس اچھے ڈاکٹر ہونے چاہیے، جو ہماری بیماریوں کا علاج کر سکیں، میڈیکل کی تعلیم کے لیے ہمارے پاس میڈیکل کالج بھی ہونے چاہیے اور اچھے ہسپتال بھی، دو چار مسلمانوں کے میڈیکل کالج اور دس بیس ہسپتال، آبادی کی ضرورت کو پوری نہیں کر پاتے، یقیناً ہسپتال کا کام انسانی بنیادوں پر ہوتا ہے اور مریض اور ہسپتال کے منتظمین کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کس علاقے اور کس مذہب کا ہے، لیکن ہسپتال بڑی تعداد میں ہوں گے تو مریضوں کو سہولت ہوگی اور کم خرچ میں علاج کے حصول کے لیے بھی سوچنا ممکن ہوگا، بہر حال دیگر سائنسی علوم میں مہارت کا ہے، ہمارے بچے ابتدائی تعلیم سے ثانوی تک جاتے جاتے گھر بیٹھنے اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے فکر مند ہو جاتے ہیں، اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ کم ہے، اس لیے ہماری حصہ داری اوپر میں کم ہوتی جا رہی ہے، آئی، ایس، آئی پی ایس، میں نمائندگی گھٹتی جا رہی ہے، سیاسی گلیاروں اور حکومت کے ایوانوں میں بھی آزادی کے بعد ہم مسلسل کم ہو رہے ہیں، ہمارے یہاں لیاقتوں کی کمی نہیں ہے، کئی فکر مندی، منصوبہ بندی اور اس حوصلے کی ہے جو انسان کو آگے بڑھنے کے لیے مہمیز کیا کرتا ہے، یہ مہمیز کرنے والی قوت الگ ہونی چاہیے، اس کے لیے ادارے، تنظیمیں، جماعتیں، شخصیتیں اور سماج کے مختلف طبقات کو آگے آنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی صلاحیتوں کو جدید اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے، یونیورسٹی، کالج، انٹر کالج اور عصری علوم کے اداروں کے کھولنے میں لگانی چاہیے، شرعی حدود و قیود کے ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی تعلیمی ادارے کھولنے چاہیے اور ان کو آگے بڑھانا چاہیے اس لیے کہ ایک مرد پڑھتا ہے تو فرد پڑھتا ہے، لیکن ایک لڑکی پڑھتی ہے تو گھر پڑھتا ہے، خاندان کی تعلیم کی بنیاد پڑتی ہے، اور آنے والی نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، ہمیں ذریعہ تعلیم کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے، انگلش میں بچے کی مہارت اور چیز ہے اور ذریعہ تعلیم اسے بنانا بالکل دوسری چیز، ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے حصول میں زیادہ معاون اور مؤثر ہے لیکن ہمارا رجحان انگلش میڈیم اسکولوں اور کونونٹوں کی طرف بڑھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے بچے بھی اردو زبان سے نابلد ہیں اور اردو کا بڑا سرمایہ ان کی پہونچ سے باہر ہے، ہمیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، یہ ایک تہذیب ہے، یہ ایک ثقافت اور کلچر ہے، اردو زبان سے نابلد رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک تہذیب اور ثقافت و کلچر سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں، ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہم اپنی مادری زبان کو فراموش نہ کریں، تاکہ ہماری تہذیب، مذہب اور ثقافت سے ہمارا رشتہ منقطع نہ ہو، ان تمام باتوں کے ساتھ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محض تعلیم کا حاصل کر لینا کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیں ہر سطح پر اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جس کے بغیر انسانی ہمدردی، خیر خواہی اور بھلائی کا تصور ناپید ہوتا ہے، غرض تعلیم کے ساتھ تربیت بھی انتہائی ضروری ہے، ان اداروں میں تربیتی نظام کو اعلیٰ پیمانے پر رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان اداروں سے فارغ ہونے والے صرف ڈاکٹر انجینئر سیاست داں، دانشور نہ ہوں؛ بلکہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے فرد سے لے کر سماج کے مختلف طبقات کو فائدہ پہونچا سکیں۔
ایک بڑا مسئلہ حصولِ تعلیم میں گراں قدر اخراجات کا ہے، مسلمانوں کی معاشی حالت عمومی طور پر ایسی نہیں ہے کہ وہ تعلیم کی انڈسٹری سے مطلوبہ علوم حاصل کر سکیں، اس کے لیے ان تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکیموں سے ہمیں طلبہ کو واقف کرانا چاہیے، جس سے فائدہ اٹھا کر ہمارے بچے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں، اور تعلیم چھوڑنے کے تناسب میں کمی آسکے، میرا خیال ہے کہ تھوڑی سی چوکسی اور مختلف تنظیموں کی طرف سے تھوڑی معلومات کی فراہمی سے ہم اس پریشانی سے چھٹکارا پا سکتے ہیں، ضرورت ہے عزم و ارادہ کی، عزم کمزور ہو اور ارادہ متزلزل تو مالی مشکلات راستے میں حائل ہو جائیں گی اور ان کو عبور کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے ہمیں اپنے جوانوں میں، طالب علموں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے کہ تم ساری رکاوٹوں دشواریوں اور مشکلات کے باوجود بہت کچھ کر سکتے ہو بقول شاعر:

چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزمِ سفر پیدا

ایک بڑا کام یہ بھی کرنے کا ہے کہ جو طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے معیاری تعلیم کا نظم کیا جائے، ادارہ جس سطح کا ہو اور جس طرح کا بھی، وہاں سے ہمارے فارغین اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے مکمل ہوں، ہم جانتے ہیں کہ یہ دور مقابلوں کا ہے، معیار کا ہے، کوالٹی نہیں رہے گی تو ہم کمپٹیشن کے اس دور میں بچھڑتے چلے جائیں گے، ہم جس معیار کی بات کرتے ہیں، وہ ہمارے مقابل سے کئی گنا آگے ہونا چاہیے، اس لیے کہ بحالی والا قلم جن کے ہاتھ میں ہے، وہ عام حالات میں ہم تک پہونچتے پہونچتے شل ہو جاتا ہے اور ہمارے طلبہ کو مختلف قسم کے تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہمیں ہیوی ایکسٹرا صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، میں بات صلاحیت کی کر رہا ہوں، صرف نمبرات کی نہیں، نمبرات کے باوجود کاغذات کے اس ٹکڑے کے پیچھے علمی صلاحیت کا فقدان ہو تو ہمیں کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہے، علم کے میدان میں، تحقیق کے میدان میں، تجربات کے میدان میں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و ملت کا مفید حصہ بننا ہے، یہ ایک تحریک ہے، یہ مہم ہے اس تحریک اور مہم کو کامیاب کرنے کے لیے سب کو آگے آنا چاہیے۔

زندگی کے ہر موڑ پر اسپیڈ بریکر کی ضرورت ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

زندگی کے ہر موڑ پر اسپیڈ بریکر کی ضرورت !  

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ 

دوستو ! 
اس دنیا میں مومن کی زندگی حدود و قیود، شرائط و آداب اور قواعد و ضوابط سے مربوط ہے اور وہ ان چیزوں کا پابند ہے ، نظم و نسق اور قانون و ڈسیلین اس کی زندگی کا حصہ اور لازمہ ہے، وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں شتر بے مہار نہیں ہوسکتا، شریعت کے گائڈ لائن ہیں، اختیارت اور حدود و آداب ہیں، یہ حلال ہے ، وہ حرام ، یہ جائز وہ ناجائز ہے ، یہ بہتر ہے ، وہ بہتر نہیں ہے ، یہ مکروہ ہے وہ مباح ہے ، ایسا کرو ، ویسا نہیں کرو ، اتنا کھاؤ اس سے زیادہ نہ کھاؤ، اتنا خرچ کرو اس زیادہ خرچ نہ کرو ، اتنا بولو ،اس زیادہ مت بولو، وہاں جاؤ، یہاں مت جاؤ ، ایسا پہنو ویسا مت پہنو ،اس سے جائز حد تک تفریح و مزاح کرو، اور اس سے ہنسی مذاق مت کرو، بلکہ اس کو اپنے لئے موت سمجھو، اس سے محبت کرو اور اس سے اللہ ہی کے لئے بعض رکھو، اس کو دو ،اس کو نہیں دو ۔ 
غرض جگہ جگہ یہ بورڈ اور تختی لگی ہے ۔،،تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا،، یہ اللہ کے بنائے ہوئے حدود ہیں اسے مت پھلانگو ۔
 حدیث شریف میں تو یہ الفاظ ہیں کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں حکم و قانون کی پابندی کی قید والی زندگی گزاریں اور دنیا سے زیادہ جی نہ لگائیں، جو حدود و احکام ہیں اس کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ اس دنیا کو اپنی جنت سمجھنا اور اس سے اپنا دل لگانا اور اس کے عیش کو اپنا مقصود بنانا کافرانہ طریقہ ہے ، یہ حدیث ایک آئینہ ہے ،جس میں ہر مومن اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے ۔قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اسی طرح مومن اس دنیا میں آزاد نہیں وہ پابند عہد ،وہ پابند شریعت ہے، وہ پابند دین ہے ، یہاں ان کی ہر جائز خوائش پوری نہیں ہوسکتی ، اس کے لئے جنت بنائی گئی ہے ، جہاں مومن کی ہر خواہش پوری ہوگی، وہ رب چاہی زندگی گزارنے کا پابند اور مکلف ہے اور انہیں من چاہی زندگی گزارنے سے روکا گیا ہے۔ 
بہر حال اوپر کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ مومن اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے، بلکہ اس کے لیے جگہ جگہ اسپیڈ بریکر ہے، جیسے ہی اس جگہ اور اس حد پر پہنچے اپنی زندگی کی رفتار کچھ دیر کے لئے کم کردے اور پھر آگے کی طرف پرواز کرے ۔
اسی حقیقت کے ایک مرد دانا نے اپنی تحریر میں بڑی حکمت کے ساتھ اپنے واقعہ سے جوڑ کچھ یوں لکھا ہے کہ: 
 "گاڑی تیزی سے سٹرک پر چلی جارہی تھی ۔
 اچانک ڈرائیور نے رفتار بہت کم کر دی ۔ اس کے بعد ایک ہلکا سا جھٹکا ہوا اور پھر گاڑی اپنی رفتار سے چلنے لگی ۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو سٹرک کے کنارے ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا رفتار روک (Speed Breaker) سڑک کے حادثے زیادہ تر گاڑی تیز دوڑانے سے ہوتے ہیں، چنانچہ سٹرکوں پر جگہ جگہ اونچا سا مینڈ کی مانند بنا دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو رفتار گھٹانے پر مجبور کیا جاسکے۔ اسی بنا پر اس کو اسپیڈ بریکر (رفتارہ توڑنے والا ) کہا جاتا ہے۔
یہ سڑک کے سفر کو محفوظ بنانے کا طریقہ ہے۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ زندگی کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے بھی اسپیڈ بریکر ہوں ۔ آدمی اپنے کو آزاد سمجھ کر بے لگام ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کو صاحب اختیار پاکر سرکشی کرنے لگتا ہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں رہوں، جو چاہوں بولوں اور جتنا چاہوں بولوں ، دوسروں کا وقت بھی میں ہی لے لوں، دوسروں کو بولنے کا موقع نہ دوں ۔ ایسی حالت میں اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو آدمی بالکل بے قید ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ آدمی کی زندگی میں اسپیڈ بریکر رکھے جائیں ۔ زندگی کے سفر میں اس پر جگہ جگہ روک لگائی جائے۔
اسلام کے احکام ایک اعتبار سے گویا زندگی کے لئے اسپیڈ بریکر ہیں۔ وہ آدمی کو بار بار روکتے ہیں تاکہ وہ اپنے معاملات میں حد سے باہر نہ جانے پائے، آدمی دنیا کے کام میں مشغول ہے کہ اچانک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر نماز کے لئے چلو۔ آدمی اپنے مال کو صرف اپنا سمجھ رہا ہوتا ہے کہ حکم آجاتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ دوسروں کے لئے نکالو۔ آدمی کھا رہا ہے اور پی رہا ہے کہ رمضان آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کھانا پینا چھوڑ دو ۔ آدمی اپنے عزیز و اقارب کے درمیان ہوتا ہے کہ حکم آتا ہے کہ سب کو چھوڑ کر حج کے لئے چلے جاؤ ۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب گویا زندگی کے لئے ایک قسم کے اسپیڈ بریکر ہیں۔ یہ انسان کی رفتار کو بار بار کم کرتے ہیں تاکہ وہ حد کے اندر رہے، تاکہ وہ انصاف اور احتیاط کے ساتھ زندگی گزارے ۔ تاکہ وہ ہر مرحلہ میں اعتدال کی زندگی پر قائم رہے" ۔
(بحوالہ کتاب، الربانیہ؛ صفحہ: ۲۶)
  لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ بعض لوگ زندگی میں اپنے لیے اسپیڈ بریکر کی ضرورت سمجھتے ہی نہیں، وہ اپنی رفتار میں مست رہتے ہیں اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بے پرواہ رہتے ہیں ۔
ایسے لوگ اپنے کو دانا سمجھتے ہیں کہ میری رفتار تیز ہے، میری پرواز بلند ہے، اس میں کبھی کمی نہیں آسکتی ہے ۔ 
حالانکہ وہ غفلت میں ہیں ، زندگی کی تیز رفتاری کے ساتھ بھی اسپیڈ بریکر کی سخت ضرورت ہوتی ہے ، جو اس ضرورت کو سمجھے گا اور اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب رہے گا اور اس کو جو ضروری نہیں سمجھے گا وہ کبھی بھی حادثہ کا شکار ہوسکتا ہے اور پٹری سے گر سکتا ہے ۔

Wednesday, April 8, 2026

انسان کی رعایت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسان کی رعایت 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو محبت و شفقت اور حکمت و دانائی کے ساتھ سمجھاؤ ،جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت ۔ 
اسلام ہمیشہ بشارت و خیر خواہی، یسر و سہولت اور نرمی و آسانی پر زور دیتا ہےاور سختی اور شدت سے منع کرتا ہے ۔ 
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
یسروا ولا تعسروا و بشروا 
ولا تنفروا (بخاری شریف حدیث نمبر 79)
یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو ۔ تم لوگوں کو خوشخبری دو ،تم لوگوں کو متنفر نہ کرو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رعایت کے پہلو کو ترجیح دی اور پوری زندگی اس کی تلقین کرتے رہے اور اس انداز سے صحابہ کرام کی تربیت فرماتے رہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں فجر کی جماعت میں اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غضب ناک ہوگئے ۔ حتیٰ کہ اس سے زیادہ غضب ناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا یا ایھا الناس ان منکم منفریں ، فمن ام الناس فلیتجوز، فان خلفہ الضعیف و الکبیر و ذا الحاجة،، (صحیح بخاری شریف حدیث نمبر 704)
یعنی اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں ۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے ،اس کو چاہیے کہ مختصر نماز پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے ،کوئی بوڑھا ، کوئی ضرورت مند ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی ، ایک آدمی لمبی قرآت سے گھبرا کر نماز سے الگ ہوگیا ۔اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا ۔ البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا:
فتان ،فتان ،فتان ،،( بخاری شریف حدیث نمبر 701)
یعنی فتنہ انگیز فتنہ انگیز فتنہ انگیز 
ان سب سے بڑھ کر ذرا اس واقعے کو سنئیے ۔ ایک دیہاتی شخص مسجد نبوی آیا اور مسجد نبوی کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا ۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا فانما بعثتم مبشرین ولم تبعثوا معسرین ۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6128)
یعنی تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو ۔
روایت میں ہے کہ قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی کی وجہ سے گر گئی تھی، قریش نے دو بارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا ، بلکہ چھوٹا کرکے بنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس کو دو بارہ بنائے ابراہیمی کے مطابق بنوا دیں ، مگر اس اندیشہ سے کہ کہیں کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس ہے ، اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کرسکیں ۔ آپ اس سے باز رہے یعنی اس کام سے رکے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:
لولا حداثة عھد قومک بالکفر لنقضت الکعبة ، و لجعلتھا علی اساس ابراھیم ،، (صحیح البخاری حدیث نمبر 1585/ صحیح مسلم حدیث نمبر 1333)
یعنی اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ 
ان احادیث اور واقعات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انسان کی رعایت کس درجہ رکھا گیا ہے اور عفو و درگزر کی کتنی تعلیم دی گئی ہے، نیز فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے کہ کہیں ماحول خراب اور پراگندہ نہ ہو ،کیسی حکمت اور رعایت اپنائی گئی ہے کہ ایک جائز کام کو بھی انجام دینے سے سدا للذرائع روک دیا گیا ۔
 دوستو ! 
انسانی معاشرہ محبت، رواداری، خیر خواہی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ جہاں سختی، نفرت اور انتقام کا غلبہ ہو وہاں دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ نرمی، درگزر اور رعایت سے دل جڑتے ہیں اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانی رعایت کو نہ صرف ایک اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی تعلیمات کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔ اسلام کی روح میں یسر، سہولت، محبت اور خیر خواہی رچی بسی ہے، اور یہی اوصاف ایک متوازن اور پرامن انسانی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت ہی جنم لیتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ انسانی فطرت کا یہی اصول اسلام کے اسلوبِ دعوت میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اسے حکمت، دانائی، شفقت اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ، نہ کہ سختی اور تحقیر کے ساتھ۔ یہ انداز بالکل اس شفقت بھرے رویے کی مانند ہے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اختیار کرتا ہے—جس میں اصلاح بھی ہو اور محبت بھی۔
اسلام کی بنیاد ہی آسانی اور سہولت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی تعلیم ہے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، ان پر سختی نہ کرو، اور انہیں خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔ یہی اصول انسانی رعایت کی اساس فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہرگز ایسا دین نہیں جو انسان کو ناقابلِ برداشت پابندیوں میں جکڑ دے، بلکہ یہ انسان کی فطرت، اس کی کمزوریوں اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معتدل اور قابلِ عمل نظام پیش کرتا ہے۔
اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ خود ظلم کا شکار بنو۔ اسی طرح نقصان پہنچانے اور بدلہ لینے کے بجائے درگزر اور اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام محض ظاہری قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتا ہے اور اسے ایک بااخلاق اور باوقار فرد بناتا ہے۔
اسلام کا لفظ خود “سلم” سے نکلا ہے، جس کے معنی امن، سلامتی، سکون اور بھائی چارے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اسلام کا ہر حکم اور ہر تعلیم انسانیت کے امن اور فلاح کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اسلام یہاں تک تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی سچ کے اظہار سے فتنہ و فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے روک لیا جائے، اور اگر کسی موقع پر ایسی نرمی یا مصلحت اختیار کرنے سے معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہو تو اس کی گنجائش بھی دی گئی ہے۔ یہ پہلو اسلام کی عملی حکمت اور انسان دوستی کو واضح کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ظلم کرنے والوں کو معاف کیا گیا، مجرموں کے ساتھ رعایت برتی گئی، اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو اصلاح کا موقع دیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اسلام انتقام کے بجائے اصلاح کو ترجیح دیتا ہے اور سختی کے بجائے نرمی کو اختیار کرتا ہے۔ تاہم، یہ رعایت ہرگز اس معنی میں نہیں کہ انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو معاشرہ انتشار اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔
درحقیقت، رعایت کا مفہوم یہ ہے کہ اصلاح کے عمل میں توازن برقرار رکھا جائے۔ اعمال کے ظاہری پہلوؤں میں نرمی اختیار کی جائے، جبکہ اصل توجہ انسان کے باطنی پہلو—یعنی نیت، اخلاص اور اخلاق—پر دی جائے۔ کیونکہ محض ظاہری اصلاح سے دلوں کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی، بلکہ جب اندر سے تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر خود بخود ظاہر پر بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔
انسانی رعایت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ دین کو قابلِ عمل اور دلکش بنا دیتی ہے۔ جب انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالا جا رہا، بلکہ اس کی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق رہنمائی کی جا رہی ہے، تو وہ خوش دلی کے ساتھ دینی تعلیمات کو قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر دین کو سختی اور جبر کے ساتھ پیش کیا جائے تو انسان اس سے متنفر ہو سکتا ہے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو انسانی رعایت صرف اسلام ہی کا خاصہ نہیں بلکہ تمام مذاہب اور اخلاقی نظاموں میں اس کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ لیکن اسلام اس معاملے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ اس نے رعایت کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عملی اصول کے طور پر متعارف کرایا ہے، اور اس کی مکمل رہنمائی فراہم کی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی رعایت دراصل انسانیت کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور معاشرے کو امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بناتی ہے۔ اسلام نے جس وسعت، حکمت اور توازن کے ساتھ اس تصور کو پیش کیا ہے، وہ اسے ایک عالمگیر اور ابدی پیغام بنا دیتا ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا شدت، تعصب اور نفرت کا شکار ہے، انسانی رعایت کا یہی پیغام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

Saturday, April 4, 2026

ایثارِ نفس: انسانی عظمت کا درخشاں عنوان محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایثارِ نفس: انسانی عظمت کا درخشاں عنوان

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، یہ انسانی عظمت کا ایک درخشاں عنوان ہے، ایثار نفس کا مطلب ہے اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا،اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کا حق پورا کر دینا، یہ صفت ایک فرد کے لئے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے ،جو کسی گروہ اور طبقہ کو تاریخ ساز گروہ اور مثالی طبقہ بناتی ہے ۔
قرآن مجید کی سورہ حشر میں اعلیٰ انسانوں کی جو صفات بتائی گئی ہیں ۔ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثار نفس بھی ہے ۔اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیت ہے ،، ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصة ،، یعنی اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں ۔ 
اگر چہ یہ آیت انصار مدینہ کے حوالے سے نازل ہوئی تھی ،مگر اس کا حکم عام ہے ۔
آج کی مجلس میں ہم ،،ایثار نفس،، کے تعلق سے کچھ وضاحت کریں گے اور سماج میں اس کی ضرورت کے تعلق سے خامہ فرسائی کریں گے ۔ 
دوستو ! 
 انسانی اوصاف میں بعض صفات ایسی ہیں، جو فرد کو محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک مثالی انسان بناتی ہیں۔ انہیں اعلیٰ اور پاکیزہ صفات میں ایک نمایاں صفت ایثارِ نفس ہے۔ ایثار کا مفہوم محض کسی کو کچھ دے دینا نہیں بلکہ اپنی ضرورت کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو انسان کو خود غرضی اور مفاد پرستی کی تنگ حدود سے نکال کر وسیع انسانی ہمدردی کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔
قرآن مجید میں اس صفت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
"ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ"
یعنی وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، اگر چہ وہ خود تنگ دستی کا شکار ہوں۔
یہ آیت ایثار کے اس بلند معیار کو واضح کرتی ہے، جہاں انسان اپنی ذاتی ضرورت کے باوجود دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتا ہے۔ درحقیقت یہی وہ روح ہے، جو انسانی معاشرے کو باہم جوڑتی اور اسے استحکام بخشتی ہے۔
ایثارِ نفس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کے حق کو پورا کرے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی رویہ ہے جو نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتا ہے ،بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک ایسا فرد جو ایثار کو اپناتا ہے، وہ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتا ہے، ان کی ضرورتوں کا احساس کرتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو اعلیٰ انسانیت کے درجے پر فائز کرتا ہے۔
سماجی نقطۂ نظر سے ایثارِ نفس ایک نہایت اہم صفت ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، خوشحال اور متوازن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد میں ایثار کا جذبہ پایا جائے، وہاں خود غرضی، حسد، کینہ اور بخل جیسی برائیاں پنپ نہیں سکتیں۔ ایسے لوگ نہ صرف دوسروں کی مدد کرتے ہیں، بلکہ ان کی کامیابی پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ دوسروں کو دیتے ہیں، اپنی سہولت قربان کرکے دوسروں کو راحت پہنچاتے ہیں اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہ کر انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایسے معاشرے میں اجتماعی ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ جب افراد ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ،تو وہ معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط خاندان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بھائی بہن کی طرح محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی اور ہمدردی ہوتی ہے، جو کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
ایثارِ نفس بظاہر ایک قربانی معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اسی میں انسان کے ذاتی فائدے کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو شخص ایثار کرتا ہے، وہ لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔ اور جب دل جیت لئے جائیں، تو دنیا کی کوئی بھی کامیابی اس کے مقابلے میں اہم نہیں رہتی۔ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہ کامیابی ایثار کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ وہی اقوام ترقی کی بلندیوں کو چھوتی ہیں جن کے افراد میں ایثار اور قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ایسی اقوام مشکلات کا مقابلہ متحد ہو کر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ، جہاں ہر فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو، وہاں انتشار، بے چینی اور زوال جنم لیتا ہے۔
آج کے دور میں جب مادہ پرستی اور خود غرضی نے انسانی اقدار کو متاثر کیا ہے، ایثارِ نفس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صفت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں ایثار کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کا آئینہ دار ہو۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایثارِ نفس محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہ انسان کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، معاشرہ کو ترقی دیتا ہے اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں کامیاب اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایثار کے اس سنہری اصول کو اپنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو جوڑتا اور انسانیت کو زندہ رکھتا ہے۔
انسانیت کی مجموعی ترقی کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے ، جس سماج میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں ،وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کرکے اس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے ۔

Friday, April 3, 2026

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری ڈاکٹر ریحان غنی

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری

ڈاکٹر ریحان غنی

          میں جمعرات کو  ارریہ ضلع کے گیاری میں   اپنے دیرینہ اور قریب ترین  دوست اقبال اختر کے بیٹے عزیزم کاشف سلمہ کے ولیمہ میں شریک ہوا ۔ میں ابھی اسی گاؤں میں ہوں۔ جمعہ کی صبح میں پٹنہ واپسی ہو گی ۔ ان شاءاللہ ۔ اقبال اختر اسی ( 80 )  کی دہائی میں  پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبہ  اردو میں میرے کلاس فیلو تھے ۔ وہ 2015 سے 2018 تک بہار اردو اکادمی کے معزز رکن بھی رہ چکے ہیں ۔ میں 1982 میں ارریہ میں ان کی  برات میں بھی شریک ہوا تھا اور پھر ان کے بیٹوں کے ولیمے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔   مجھے ولیمہ کے موقع پر یہاں کی مسجد انصار ، پورب  ٹولہ   میں کئی وقت کی نماز میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ مجھے مسجد میں نماز پڑھتے وقت شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ائمہ اور  علماء آج بھی  مسجد سے غفلت برت رہے ہیں ۔ انہوں نے نہ تو نمازیوں کی تربیت پر توجہ دی اور نہ  مسجد آنے والوں سے کوئی سماجی سروکار یا رشتہ  رکھا۔ بس امامت کی ، خطبہ دیا ، نماز پڑھا اور پڑھایا اور چلے گئے ۔ اگر ان محترم شخصیات نے تھوڑی توجہ دی ہوتی تو لوگ شائستہ کپڑے پہن کر مسجد  آتے ، جیسے تیسے کپڑے پہن کر آنے سے گریز کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ عام طور پر اور نوجوان خصوصی طور پر ایسے کپڑے پہن کر مسجد آنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے جس سے ستر پوشی بھی نہیں ہوتی ۔ اس کا احساس یقینآ سب کو ہوگا۔ ائمہ کرام اور علماء نے بھی محسوس کیا ہو گا کہ ہماری مسجدوں سے تہذیب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے یہ بات لکھنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ہماری مسجدوں میں وقت پر نماز شروع ہونے کے علاوہ کچھ بھی اچھی بات نہیں رہ گئی ہے ۔ کسی بھی مسجد میں وقت مقررہ پر آپ کو جماعت  کھڑی ملے گی۔ ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں ہو گی۔  ورنہ امام کی سرزنش ہونے لگے گی۔ اس کے علاوہ ہر  مسجد کی حالت ایک جیسی ہے۔ وضو کرتے وقت لوگ دھڑلے سے پانی بہاتے ملیں گے، ایک مرتبہ جو نل کھولا تو پھر پیر دھو کر ہی نل بند کیا  ۔ اس دوران اتنا پانی بہہ  گیا ہوگا کہ اس سے ایک آدمی نہا سکتا تھا۔ ہمیں مسجدوں میں  بیٹھنے کا سلیقہ بھی  نہیں سکھایا گیا۔ جو جہاں چاہتا ہے بیٹھ جاتا ہے اور جیسے چاہتا ہے بیٹھتا ہے ۔ پہلی دوسری صف خالی ملے گی ۔ لوگ مختلف صفوں میں بیٹھے ملیں گے ۔ لوگ کندھے پھلانگ پھلانگ کر اگلی صفوں  میں جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہماری مسجدوں میں اب یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ بہار کے سابق امیر اور نامور خطیب ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ علیہ رحمہ  کا ایک کتابچہ میں نے بہت پہلے پڑھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا " نماز قرب الہٰی کا ذریعہ" اس کتابچے پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ نماز قرب الہٰی کا ذریعہ تو ہے ہی ، یہ سماجی رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز ، پھر ہفتے میں ایک دن جمعہ کو  جامع مسجدوں میں ، اس کے بعد سال میں دو دن عید گاہوں اور پھر سال میں ایک مرتبہ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم دے کر اس امت کو محلے سے لے کر عالمی سطح تک  جس مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ جوڑا ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ۔ لیکن نماز کی سماجی اہمیت کو بھی ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کا احساس مجھے پہلے بھی اکثر ہوتا رہا ہے اور جمعرات کو  ارریہ ضلع کی گیاری جامع مسجد میں شدت سے ہوا۔ گیاری ایک گاؤں ہے جو ارریہ زیرو مائل کے قریب ہے ۔ گیاری کی  اس مسجد میں ظاہر ہے کہ گاؤں اور اس کے آس پاس کے مسلمان نماز پڑھتے ہوں  گے ۔ اس لئے اس مسجد میں باہری نمازیوں کی شناخت مشکل نہیں ۔ لیکن وہاں میرا کسی سے تعارف  نہیں ہوا ۔ حالانکہ لوگوں نے محسوس کیا کہ میں اس گاؤں کا رہنے والا نہیں ہوں ۔ میرے خیال میں جب مسجد میں کوئی نیا نمازی نظر آئے تو اس مسجد کے امام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سے  ملے ، اس کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے  کہ وہ اس علاقے میں کس لئے آیا ہے۔ یہ کام شہروں کی مساجد اور کثیر آبادی والی مساجد میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن چھوٹی چھوٹی مساجد میں یہ کام  ائمہ اور علماء کو کرنا چاہئیے ۔ اس سے لوگوں کو مسجدوں کی سماجی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے گا اور آپسی میل جول سے آپس کے  مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔

Tuesday, March 31, 2026

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایک مشہور عالم دین اور اسلامی اسکالر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں : 
مسجد میں ایک اہل حدیث بزرگ تھے۔ نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ صف میں میرے پاس تھے۔ حسب معمول میرے دونوں پاؤں قریب قریب تھے۔ انھوں نے اپنا پاؤں پھیلانا شروع کیا ، یہاں تک کہ میرے پاؤں سے ملا دیا۔ ہر بار وہ قیام میں ایسا ہی کرتے رہے۔ 
    نماز کے بعد انھوں نے کسی قدر تلخ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کی نماز درست نہیں ہوتی۔ حدیث میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور آپ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ قدم سے قدم ملانا ایک علامتی حکم ہے۔ اصل مقصد تو دل سے دل ملانا ہے۔ آپ نے قدم سے قدم ملانے کا مسئلہ تو جانا مگر دل سے دل ملانے کا مسئلہ آپ نہ جان سکے۔
(ڈائری مولاناوحیدالدین خان 9 اپریل 1992ء)
دوستو ! 
انسانی زندگی کی کامیابی، کامرانی، بلکہ ساری خوبصورتی اور معنویت دل کی کیفیت سے جڑی ہوئی ہے۔ بظاہر انسان کا ظاہر کتنا ہی اچھا اور سجا ہوا کیوں نہ ہو، اگر اس کا دل صاف نہیں، تو اس کی شخصیت ناقص اور ادھوری رہ جاتی ہے۔ دل ہی وہ مرکز اور محور ہے، جہاں سے خیالات، جذبات اور اعمال جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں دل کی صفائی اور اصلاح کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو دنیا میں سکون و اطمینان اور راحت عطا کرتا ہے، بلکہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بظاہر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، دوستی کا اظہار کرتے ہیں، دستر خوان پر خورد و نوش بھی کرتے ہیں ،لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ زبان پر محبت کے دعوے ہیں، مگر دلوں میں حسد، بغض اور نفرت کے بیج پنپ رہے ہیں۔ یہی وہ اندرونی بیماریاں ہیں، جو انسان کو بے سکون اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیتی ہیں۔
دل کا صاف ہونا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک روحانی اور ایمانی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، کامیاب وہی ہوگا جو "قلبِ سلیم" لے کر حاضر ہوگا۔ یہ قلبِ سلیم دراصل ایسا دل ہے جو تعصب، کینہ، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک ہو۔ ایسا دل جو دوسروں کے لیے خیر خواہی رکھتا ہو اور اللہ کی رضا کو مقدم جانتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے بھی دل کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی اصل اصلاح ظاہری اعمال سے زیادہ باطنی کیفیت کی اصلاح میں مضمر ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کے دل کو کیا ہو گیا ہے؟ کیوں دلوں میں اتنی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی، مفاد پرستی اور خود غرضی ہے۔ انسان نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ دولت، شہرت اور ذاتی مفاد کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے میں دوسروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریبی رشتوں میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں، دوستیاں وقتی مفادات تک محدود ہو گئی ہیں، اور اخلاص ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسرے سے دور ہیں۔ تعلقات کی بنیاد سچائی اور خلوص کے بجائے دکھاوے اور مفاد پر قائم ہو گئی ہے۔ بظاہر محبت کا اظہار ہوتا ہے، لیکن دل میں بدگمانی اور رقابت چھپی ہوتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
دل کی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری حسد ہے۔ یہ انسان کو اندر ہی اندر جلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح بغض اور کینہ انسان کو سکون سے محروم کر دیتے ہیں۔ تکبر انسان کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے اور خود پسندی اسے حقیقت سے بے خبر رکھتی ہے۔ یہ سب بیماریاں مل کر انسان کے دل کو سیاہ کر دیتی ہیں، اور پھر وہ نہ خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔
اس صورتحال کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ خود سے سوال کریں کہ کیا ہمارے دل میں کسی کے لئے نفرت تو نہیں؟ کیا ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں یا دل میں تکلیف اور چبھن محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اپنے تعلقات میں مخلص ہیں یا صرف ظاہری طور پر تعلق نبھا رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں اپنی اصلاح کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
دل کی صفائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم در گزر کرنا ،معاف کرنا سیکھیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کریں اور اپنے اندر درگزر کا جذبہ پیدا کریں۔ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں، کیونکہ جب دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے، تو اس میں نفرت کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ اسی طرح سچائی، دیانت داری اور خلوص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی دل کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دلوں کا ملنا ہاتھوں اور قدموں کے ملنے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو فاصلے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے بلکہ اسے لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت دلوں کی اصلاح کی ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے اندر زندہ کرنا ہے کہ اصل کامیابی ظاہری چمک دمک میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی میں ہے۔
اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو یقیناً ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

Monday, March 30, 2026

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725


  انسانی زندگی آزمائشوں، تجربات اور مسلسل تغیرات کا نام ہے۔ ایک مومن کے لئے یہ زندگی محض وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ ایک شعوری سفر ہے، جس کا مقصد اپنے ایمان کو مضبوط بنانا، اپنے کردار کو سنوارنا اور اپنے رب کی خوشنودی و رضا حاصل کرنا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے تین بنیادی اوصاف نہایت اہم ہیں: صبر، محاسبہ اور غور و فکر (توسم)۔ یہ تینوں صفات دراصل مومن کی داخلی تعمیر کا وہ نظام ہیں جو اسے نہ صرف مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے، بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرتا ہے۔

صبر: استقامت کا سرچشمہ ہے۔
صبر مومن کی زندگی کا سب سے بنیادی ستون ہے۔ دنیا میں انسان کو ہر لمحہ موافق اور غیر موافق حالات کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی کامیابی کی خوشی ہوتی ہے تو کبھی ناکامی کا صدمہ، کبھی لوگوں کی تعریف نصیب ہوتی ہے تو کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام حالات میں ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رکھے۔
صبر کا مطلب صرف خاموشی سے برداشت کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک فعال کیفیت ہے ،جس میں انسان اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور حق کے راستے سے نہیں ہٹتا۔ جب انسان کو کوئی ایسی بات پیش آئے جو اسے بے برداشت کر دے، تب اس کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت صبر اختیار کر لیتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی حفاظت کر لیتا ہے۔
صبر انسان کو انحراف سے بچاتا ہے۔ یہ اسے جذباتی فیصلوں سے روک کر سوچ سمجھ کر عمل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کو ایمان کا نصف کہا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

محاسبہ: اصلاح کا ذریعہ

انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں، بھول چوک ہوتی ہے، اور بعض اوقات وہ اپنی خواہشات کے زیر اثر ایسے فیصلے کر لیتا ہے جو اس کے ایمان کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے محاسبہ، یعنی خود احتسابی، مومن کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔
محاسبہ کا مطلب ہے اپنے اعمال، نیتوں اور رویوں کا بے لاگ جائزہ لینا۔ یہ دیکھنا کہ ہم نے کیا کیا، کیوں کیا، اور اس کے نتائج کیا نکلے۔ ایک مومن وہ ہے، جو دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا احتساب اور محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔
محاسبہ انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے عاجزی کی راہ پر ڈالتا ہے۔ جب انسان اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے تو اس کے اندر بہتری کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی خواہش اسے مسلسل اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔ یوں وہ ایک بہتر انسان اور پختہ مومن بنتا چلا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محاسبہ محض ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جیسے ایک تاجر روزانہ اپنا حساب کتاب دیکھتا ہے، ویسے ہی ایک مومن کو بھی روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہی عمل اسے غفلت سے بچاتا اور بیداری کی حالت میں رکھتا ہے۔

غور و فکر (توسم): شعور کی بیداری

تیسری اہم صفت غور و فکر ہے، جسے یہاں “توسم” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے زندگی، اپنے تجربات اور اپنے اردگرد کے حالات پر گہری نظر ڈالنا اور ان سے سبق حاصل کرنا۔
ایک مومن محض دیکھنے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہر چیز میں معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے تجربات سے سیکھتا ہے، دوسروں کی زندگیوں سے نصیحت لیتا ہے اور کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے۔ یہی غور و فکر اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے ایک بصیرت والا انسان بناتا ہے۔
غور و فکر دراصل ایمانی غذا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی ترقی ممکن نہیں۔ جب انسان سوچتا ہے تو اس کے اندر سوال پیدا ہوتے ہیں، اور یہی سوال اسے سچائی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عمل اسے سطحی زندگی سے نکال کر ایک بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں انسان مصروفیت اور بے فکری کا شکار ہے، وہاں غور و فکر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر انسان رک کر سوچے ہی نہیں تو وہ اپنی غلطیوں کو کیسے پہچانے گا اور اپنی زندگی کو کیسے بہتر بنائے گا ؟

تینوں صفات کا باہمی تعلق

صبر، محاسبہ اور غور و فکر تین الگ الگ صفات نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہیں۔ صبر انسان کو حالات میں ثابت قدم رکھتا ہے، محاسبہ اسے اپنی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، اور غور و فکر اسے صحیح سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اگر صبر نہ ہو تو انسان مشکلات میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر محاسبہ نہ ہو تو وہ اپنی غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اور اگر غور و فکر نہ ہو تو وہ صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس لئے ایک کامل مومن کے لئے ان تینوں کا امتزاج ضروری ہے۔
شعوری سفر کی ضرورت
اسلامی زندگی ایمان سے شروع ضرور ہوتی ہے، لیکن یہ محض آغاز ہے، انتہا نہیں۔ اس کے بعد انسان کو مسلسل عمل صالح، صبر اور حق کی تلقین کے راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے، جو رسمی اعمال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے شعور کی بیداری ضروری ہے۔
یہ شعوری سفر انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے، اپنے اعمال کو پرکھے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔ جب انسان اپنے شعور کو متحرک کرتا ہے، تو وہ ان صفات کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے، اور یہی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔
مختصر یہ کہ صبر، محاسبہ اور غور و فکر ایک مومن کی زندگی کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ صفات اسے آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتی ہیں، اس کی اصلاح کرتی ہیں اور اسے شعور کی بلندیوں تک پہنچاتی ہیں۔ ان کے بغیر ایمان ادھورا رہ جاتا ہے اور انسان اپنی حقیقی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔
لہٰذا ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، ان پر مسلسل عمل کرے اور ایک شعوری، بامقصد اور متوازن زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ یہی راستہ کامیابی کا ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے انسان اس دنیا کے امتحان میں سرخرو ہو سکتا ہے۔

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی توقیر بدر آزاد

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی

توقیر بدر آزاد

انسانی زندگی کی بنیاد اگر کسی ایک ستون پر قائم ہے تو وہ تعلیم ہے۔ یہی وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر انسان کو شعور، تمیز اور وقار عطا کرتا ہے۔ تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو فرد کی شخصیت کو سنوارتی، معاشرے کو مہذب بناتی اور قوموں کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتی ہے۔ جس قوم نے علم کو اپنایا، اس نے عزت پائی؛ اور جس نے علم سے منہ موڑا، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو گئی۔یوں انسانی زندگی میں تعلیم کی حیثیت روح کی مانند قرار پاتی ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے جان ہوتا ہے، اسی طرح تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی بے مقصد اور تاریک ہو جاتی ہے۔آج کی دنیا میں جہاں ترقی کا دار و مدار علم پر ہے، وہاں تعلیم کے بغیر نہ فرد کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کی منزل طے کر سکتی ہے۔

تعلیمی پس منظر میں آج یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ بہار کے وہ طلبہ جنہوں نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ کا مرحلہ کامیابی سے طے کیا ہے، وہ درحقیقت اپنی زندگی کے ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ اس مرحلے پر صحیح رہنمائی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ ملک و ملت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہت سے والدین اور طلبہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آگے کون سا تعلیمی مرحلہ اختیار کیا جائے۔
بہت سے والدین نے راقم سے اس بابت ذاتی طور پر فون کرکے اور ملاقات کرکے مشورہ لینے کی کوشش کی ہے۔سو اس کے پیش نظر اس وقت انہی کے لیے یہ ساری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں،
 بالخصوص یہ ان نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے ہیں ،جو مستقبل میں _*سول جج*_ بننے کا عزم رکھتے ہیں۔

دھیان رہے آج *سول جج* بننا صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ یہ وہ منصب ہے جہاں انسان کو انصاف کا محافظ، مظلوم کا سہارا اور قانون کا امین بننا ہوتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلا قدم قانون (Law) کی تعلیم ہے۔انٹر کے بعد طلبہ کے لیے بہترین راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، جو نہ صرف قانونی تعلیم و مہارت فراہم کرتا ہے، بلکہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی و تجزیاتی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے مرحلے میں جیسا کہ بتایا گیا کہ سول جج بننے کے لیے بنیادی شرط قانون (LLB) کی تعلیم ہے۔ انٹر کے بعد طلبہ کے لیے سب سے موزوں راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، اگرچہ تین سالہ LLB بھی ایک راستہ ہے، مگر وہ ان طلبہ کے لیے ہے جو پہلے کسی اور مضمون میں گریجویشن مکمل کرچکے ہوتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ایک اچھے لا کالج کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ اگر طلبہ قومی سطح کے امتحانات جیسے CLAT یا دیگر AILET داخلہ امتحانات کے ذریعے پٹنہ علی گڑھ بنگلور دہلی ممبئی وغیرہ میں واقع معروف اداروں میں داخلہ حاصل کر لیں تو یہ ان کے لیے مزید آسانی پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا انحصار صرف ادارے پر نہیں بلکہ طالب علم کی ذاتی محنت، لگن اور خود اعتمادی پر ہوتا ہے۔ ایک اوسط درجے کے کالج میں پڑھنے والا محنتی طالب علم بھی بڑے سے بڑے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں سول جج (Judicial Services) کے امتحان کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ امتحان تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:ابتدائی امتحان (Prelims)، تحریری امتحان (Mains) اور زبانی امتحان (Interview)۔ ان تینوں مراحل کو کامیابی سے عبور کرنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد، تجزیاتی سوچ اور اظہار کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

چوتھے مرحلے میں ان مضامین کی اہمیت سامنے آتی ہے جو اس امتحان کی بنیاد ہیں۔ ان میں آئین ہند، تعزیرات ہند (IPC)، دیوانی و فوجداری قوانین (CPC, CrPC)، قانون شہادت، معاہدات کا قانون اور جائیداد کی منتقلی جیسے بنیادی قوانین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان، علاقائی زبان (ہندی/اردو) اور عمومی معلومات بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پانچویں مرحلے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیاری کب سے شروع کی جائے؟ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ تیاری کا آغاز پہلے ہی سال سے کر دینا چاہیے۔ ابتدائی دو سالوں میں بنیادی تصورات کو مضبوط کیا جائے، تیسرے اور چوتھے سال میں قوانین اور کیس لاز کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، اور آخری سال میں مکمل تیاری کے ساتھ مشق اور امتحانی انداز اپنایا جائے۔

چھٹے مرحلے میں کامیاب مطالعہ کا طریقہ سامنے آتا ہے۔ روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی سنجیدہ پڑھائی، قوانین (Bare Acts) کا مستقل مطالعہ، خود سے نوٹس تیار کرنا اور سابقہ سوالات کو حل کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ وہ اصول ہے جسے اہلِ قانون ایک سنہری اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ “Bare Act ہی اصل رہنما ہے”۔

ساتویں مرحلے میں مناسب کتابوں کا انتخاب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بنیادی قوانین کے ساتھ ساتھ آئین ہند کے لیے معیاری کتب، اور دیگر قانونی موضوعات کے لیے مستند مواد کا مطالعہ کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

آٹھویں مرحلے میں کوچنگ کے حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوچنگ ضروری نہیں، لیکن اگر مناسب رہنمائی میسر ہو، تو یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل کامیابی کا دار و مدار خود مطالعہ اور مستقل مزاجی پر ہے۔

نویں مرحلے میں وقت اور مدت کا تعین کیا جاتا ہے۔ پانچ سالہ LLB کے ساتھ اگر طالب علم مسلسل تیاری کرتا رہے تو وہ پانچ سے چھ سال کے اندر اس قابل ہو سکتا ہے کہ سول جج کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکے۔

دسویں مرحلے میں کامیابی کے راز پوشیدہ ہیں: مستقل مزاجی، قوانین پر مکمل عبور، تحریری مشق، ماک ٹیسٹ اور صبر و تحمل۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ایک عام طالب علم کو ایک کامیاب جج بنا سکتے ہیں۔

گیارہویں اور آخری مرحلے میں ایک منظم عملی منصوبہ (Roadmap) پیش کیا جا سکتا ہے:ابتدائی دو سال بنیاد سازی، درمیانی دو سال گہرائی اور مہارت، اور آخری سال مکمل تیاری اور امتحانی مشق کے لیے وقف کیا جائے۔

ان تمام مراحل کے ساتھ عمر کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ سول جج کے امتحان کے لیے عموماً کم از کم عمر 22 سال اور زیادہ سے زیادہ 35 سال مقرر ہوتی ہے، جبکہ 24 سے 28 سال کی عمر کو کامیابی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سنہری دور ہے جب ذہن تیز، علم تازہ اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔لہذا آج جو طلبہ و طالبات اٹھارہ برس کی عمر میں انٹرمیڈیٹ پاس آوٹ کرچکے ہیں ،بائیس تئیس برس کی عمر تک انکے لیے LLB میں داخل ہوکر لا گریجویٹ ہونا کوئی مشکل نہیں!

آخر میں والدین سے یہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف ڈگری دلوانا کافی نہیں بلکہ ان کے اندر دینی شعور، اخلاقی اقدار، بڑوں کا احترام اور وقت کی قدر پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کو چھٹی جماعت سے ہی پہچاننے کی کوشش کریں اور انگلش اردو زبان ،میتھ و بنیادی سائنس اور جنرل معلومات میں انہیں اسی کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کریں۔ یہی بروقت توجہ انہیں ایک کامیاب اور باکردار انسان بنا سکتی ہے۔یہی وہ راستہ ہے جو علم سے عدالت تک جاتا ہے—اور یہی وہ سفر ہے جو ایک فرد کو انصاف کا علمبردار اور معاشرے کا معمار بناتا ہے.
30/03/2026
________
*ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء و التحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار انڈیا 
muftitmufti@gmail.com 
+918789554895

Friday, March 27, 2026

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے ! محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے !

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی 9506600725

  تعلیم، تدریس،نظام تعلیم، طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم پر برابر گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہے، اور جس زمانہ میں جو چیزیں حدود شریعت میں رہ کراس سلسلہ میں مفید ہوں ان کو اخذ کرنا چاہیے ، اس کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا چاہیے ، اور جدید اسباب و وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے ، زندگی کے ہر میدان اور شعبہ میں ندرت اور جدت شرعی حدود میں ہم قبول کر رہے ہیں تو تعلیم، نظام تعلیم تدریس اور طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم میں اس ندرت اور جدت کو قبول کرنے میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ہر زمانے کے اعتبار سے افراد و اشخاص کو تیار کرنا اور زمانہ کی زبان اور اسلوب میں اسلام اور فلسفئہ اسلام کو پیش کرنا اور شریعت کے مزاج سے واقف کرانا کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟ کیا ہم اس کے مکلف نہیں ہیں؟ 
اس سلسلہ میں راقم کے ذہن میں چند باتیں ہیں ،جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ امید کہ اس پر توجہ دی جائے گی ۔ 
دوستو !!!
    یہ دور اور زمانہ عالمی معاشی ترقی کا دور ہے، ہر شعبہ میں وسعت، جدت اور ندرت پیدا ہو رہی ہے ، سائنس ، صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا اتنی ترقی کرگئی ہے کہ پوری دنیا ایک گاؤں کے مانند ہوگئ ہے۔ تحقیق و ریسرچ اور حوالہ و ریفرنس کے بغیر لوگ کسی بات اور حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے میدان کار میں آنے کی ضرورت ہے ۔ 
   دوسری طرف مسلمان اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں اور زمانہ جس تیز رفتاری سے ترقی کی راہ پر ہے، اس پس منظر میں امت کو اس وقت دو طرح کے افراد کی شدید ضرورت ہے ۔ 
    امت کو جہاں ایک طرف دینی، مذھبی، ملی اور سیاسی قیادت کے لئے ایسے راسخ علماء کی ضرورت ہے ، جو ایک طرف تقویٰ و طہارت، صدق و صفا، اخلاص و للہیت ،علم کی گہرائی اور عمل کی پاکیزگی میں اپنے اسلاف کا نمونہ اور ان کے ذوق و مزاج کے امین و وارث ہوں، دوسری وہ حالات زمانہ اور اس کی گردش و رفتار سے واقف ہوں ،نیز وہ جدید اور ماڈرن تعلیم یافتہ طبقے بالخصوص نئی نسل اور نوجوان طبقہ کی الجھنوں اور نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوں اور ان کے اندر یہ صلاحیت اور استعداد ہو کہ وہ ان سے ان کی زبان اسلوب اور معیار میں بات کرسکتے ہوں اور ان کو مطمئن کرسکتے ہوں ۔
 علماء کے اس طبقہ میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اسلام کے دین فطرت اور مسائل زندگی کے واحد حل ہونے کا یقین دلا سکیں ۔ 
ان علماء کے دل و دماغ اور ذوق و مزاج پر بگڑے ہوئے سماج اور سوسائٹی کے لئے غصہ اور نفرت کے بجائے داعیانہ ہمدردی اور خیر خواہی کے مثبت جذبات کا غلبہ ہو اور جو محبت،ہمدردی، حکمت اور دلسوزی کے ساتھ نہ صرف اپنوں کو بلکہ برادران وطن اور اور پوری انسانیت کے سامنے اسلام کا محبت بھرا پیغام اچھے انداز اور بہتر اسلوب میں زبان قال اور زبان حال سے رکھ سکیں ۔ آج کےحالات میں یقینا اس امت کو ایسے علماء کرام اور رہبران ملت اور داعیان قوم کی ہر ہر قدم پر ضرورت ہے ۔ 
    اس کے علاؤہ ملت اسلامیہ کو آج کے حالات میں میں اس کی بھی سخت ضرورت ہے کہ امت کا وہ بڑا طبقہ جو قانون، انتظامیہ، سول سروسز، دفاع ،صحت، تعلیم، اکونامس (معاشیات) صحافت، ادب ،سائنس، انجینئرنگ اور صنعت و تجارت کے شعبوں میں ہیں یا ان شعبوں میں پہنچنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں، ان لوگوں پر صحیح محنت کے لئے اور ان کی صحیح اور اسلامی تربیت کے لئے ایسے افراد کی سخت ضرورت ہے جو عصری تعلیم یافتہ لوگوں یا ان اداروں میں زیر تعلیم افراد پر ایسی محنت کریں کہ ان شعبوں میں موجود مسلمان صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں اور وہ اپنے اپنے دائرے عمل میں وہ اسلام کی نمائندگی کرنے لگیں ۔ وہ ان شعبوں کی فنی مہارت کے ساتھ ایمانداری اور جذبہ خدمت کے لحاظ سے اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ان کا کام صرف مال کمانا اور عہدہ حاصل کرنا نہیں رہ جائے ۔اور ان کی یہ پیشہ وارانہ مشغولیت صرف مال کمانے کا ذریعہ نہ رہے ۔ بلکہ ان کا مقصد کسب معاش کے ساتھ خدمت خلق دعوت دین اور رضائے الٰہی کا حصول بھی بن جائے ۔ اور وہ اس راستے سے اسلام کا داعی دین کا ترجمان اور نمونہ بن جائیں ۔
    پہلے افراد یعنی راسخ مخلص اور دین دار علماء کی تیاری کے لئے مدارس کی چہار دیواریاں کافی ہیں شرط یہ کہ اس کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ محنت کی جائے اور ان صفات کے حامل علماء کی پوری ٹیم تیار کی جائے، مدارس کو صرف رسمی انداز میں نہ چلایا جائے بلکہ اس کو بیک وقت تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ نیز تبلیغ و اشاعت دین کا مرکز بنایا جائے ۔ 
   دوسری قسم کے لوگوں کو تیار کرنے کے لئے یعنی عصری تعلیم یافتہ لوگوں کے مزاج کو دینی اور دعوتی بنانے کے لئے بہت سے نسخے ہیں اور ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کامیاب حل اور طریقہ وہ ہے جس کا خاکہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح سابق صدر شعبئہ دینیات عثمانیہ یونیورسٹی نے پیش کیا تھا کہ اس کے لئے اسلامی اقامت خانے کو قائم کیا جائے، لیکن افسوس کہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح کی اس تجویز پر امت نے نہ دھیان دیا نہ اس کی طرف پیش قدمی کی ۔ 
   مولانا مرحوم کی فکر تھی کہ مسلمانوں کے لئے کالج اور یونیورسٹیوں کے قائم کرنے سے زیادہ ضروری اسلامی ہوسٹل یا اسلامی اقامت خانے قائم کرنا ہے، جہاں ان کی پوری علمی اور فکری تربیت کی جاسکے، جہاں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی ہوسکے، اور ان کی زندگی کو ملت کے لئے مفید اور آئیڈیل بنایا جاسکے، ان اقامت خانوں میں وہ طلبہ قیام کریں، جو سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوں ۔ اس تجویز کا فائدہ تعلیم گاہوں کے قیام سے زیادہ تھا ،اور کم خرچ بالانشیں کا مصداق تھا ۔لیکن افسوس کہ اب تک کسی نے اس بے مثال تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اگر جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا ملی کونسل، جمعیت اہل حدیث ، جماعت اسلامی ہند چاہ لے اور مخلص مسلمان سرمایہ داروں کو یہ لوگ اس جانب متوجہ کرلیں اور اپنی نگرانی میں اس کام کا بیڑہ اٹھایا لیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ 
اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 

  ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

Wednesday, March 25, 2026

مدارس میں طلبہ کی تعداد کم کیوں ہوتی جارہی ہے ؟؟؟؟ محمد قمر الزماں ندوی.....۔۔ جنرل سکریٹری/مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ

مدارس میں طلبہ کی تعداد کم کیوں ہوتی جارہی ہے ؟؟؟؟

  محمد قمر الزماں ندوی.....۔۔ 
جنرل سکریٹری/مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

   شوال المکرم یوں تو عربی سال و تقویم کا دسواں مہینہ ہے ،لیکن برصغیر ہندوپاک کے مدارس عربیہ کے لئے یہ نیا تعلیمی سال ہوتا ہے،اس مہینے میں مدارسِ اسلامیہ لمبی تعطیل کے بعد کھلتے ہیں اور نئے اور پرانے داخلے شروع ہوجاتے ہیں اور وسط شوال یا شوال کے اخیر عشرہ میں اکثر مدارسِ میں تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے۔جن مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور جہاں نظم و نسق اور سہولیات بہتر ہوتے ہیں یا جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں، وہاں ہفتہ عشرہ میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوجاتی ہے۔لیکن جو مدارس دیہات اور انٹییر علاقے میں ہوتے ہیں وہاں شوال کے بعد تک داخلے ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔
لاک ڈاؤن کے بعد صورت حال کافی بدل گئی ہے ،مدارس میں طلبہ کا قحط ہے ،ہر طرف سے شور ہے اور آواز آرہی ہے کہ مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،ذمہ داران مدارس بہت ہی فکر مند ہیں ۔ اس کی وجوہات پر غور کررہے ہیں ۔
    میری نظر میں اس کی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں سے چند یہ ہیں ،،۔۔۔
    لاک ڈاؤن میں مدارس اسلامیہ میں تقریباً تعلیمی انقطاع رہا ،صرف پانچ چھ فیصد مدارس میں آن لائن تعلیم کا نظم رہا ۔مدارس سے طلبہ کا ربط ٹوٹ گیا۔
اس لئے طلبہ نے اپنا رخ اور اپنی لائن بدل لی وہ کام کاج میں مشغول ہوگئے یا اسکول کی طرف رخ کرلیا، جس کی وجہ سے اس درمیان کے جو طلبہ مدارس میں زیر تعلیم تھے، وہ تقریباً مدارس سے علیحدہ ہوگئے ۔
  لاک ڈاؤن میں اکثر مدارس کے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا اور معاشی اعتبار سے جو ان کی حالت رہی اور جس طرح ایک بڑی تعداد کو در بدر بھتکنا پڑا اس سے بھی طلبہ میں منفی اثرات پڑے ہیں ،میں نے خود ایک بڑی تعداد اساتذہ کی دیکھی ہے، جنہوں نے اپنا میدان بدل دیا اور وہ تجارت میں لگ گئے ،بعض تو ٹھیلے پر سبزی فروخت کرنے یا آٹو چلانے پر مجبور ہو گئے ،۔
  مدارس کی سندیں اور ان کی ڈگریاں حکومت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے اور نہ اس کی اہمیت کو منوانے کی طرف کبھی سنجیدگی سے توجہ دی گئی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ مدارس سے عالم اور فاضل کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظر میں آپ ناخواندہ ہیں ،اگر آپ پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ان اسناد اور ڈگریوں کے بعد بھی آپ کا شمار مزدوروں اور ناخواندہ لوگوں میں ہوتا ہے ۔۔ 
    جب مدارس اسلامیہ کی طرف سے یہ اعلان آنے لگا کہ طلبہ ہائی اسکول کرکے ہی مدارس میں آئیں اور خود مدارس میں ہائی اسکول کے نصاب کی بات ہونے لگی، تو طلبہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جب ہائی اسکول کرنا ہی ہے ،تو گارمنٹ اسکول میں کیوں نہ کریں ۔ اس وجہ سے بھی طلبہ کا رجحان اسکول کی طرف بڑھ گیا۔
    یوپی میں ہی اکثر بڑے مدارس ہیں ،جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ پڑھنے آتے ہیں ،پچھلے کچھ سالوں سے یہاں کی جو صورت حال ہے، اور خصوصاً امن عامہ کی جو صورت حال ہے بہار بنگال جھارکھنڈ منی پور اور آسام کے لوگ اپنے بچوں کو یہاں تعلیم کے لئے بھیجنے سے گھبرا رہے ہیں ۔
      حفظ کرنے کے بعد طلبہ کا رجحان عالم بننے سے ختم ہوتا جارہاہے ،جگہ جگہ شاہین گروپ کی شاخیں قائم ہورہی ہیں اور انہیں حفظ پلس کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے تو اب بھلا وہ مدارس کی طرف کہاں آئیں گے اور ادھر کا رخ کیا کریں گے۔۔۔؟
    مدارس اسلامیہ میں اکثر جگہ نظم و نسق اور خورد و نوش میں افرا تفری کا ماحول ہے ،اعتدال و توازن کی کمی ہے، جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی فکر نہیں ہوتی، اس لئے امیر گھرانے کے طلبہ ادھر کا رخ بہت کم کرتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس صرف غریب یتیم و نادار اور محتاج بچوں کے لئے ہے ۔۔
    رمضان المبارک کے مہینے میں جب نئی نسل مدارس کے اساتذہ کو چندہ کرتے دیکھتے ہیں اور ان کی پریشانی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک بھاینک تصویر نظر آتی ہے کہ اگر مدارس میں تعلیم حاصل کرینگے تو انجام یہی ہوگا کہ سال بھر پڑھاؤ اور رمضان المبارک میں اپنی تنخواہوں کا انتظام خود ہی کرو اور اب تو بچوں کا بھی چندہ کرو۔اس کی وجہ سے بچے ہمت ہار رہے ہیں اور مدارس سے ان کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے،۔
    مدارس کا داخلی انتشار ،اساتذہ کا بار بار جگہ کی تبدیلی اور اساتذہ کرام کا خود اپنے بچوں اور اپنی اولاد کو مدارس میں نہ پڑھانے کا رجحان سے بھی غلط پیغام لوگوں میں جارہا ہے کہ اساتذہ جب خود ان مدارس سے مطمئن نہیں ہیں، تو ہم کیسے مطمئن ہوں گے ۔۔۔۔
  قدیم نصاب تعلیم پر ضد اور اصرار اور اس کے اندر مناسب اور مفید تبدیلی نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،منطق و فلسفہ کو نصاب میں اب بھی پہلے کی طرح شامل رکھنا اور اس کی جگہ پر نئے مضامین کو شامل نہ کرنا بھی اس کی ایک وجہ ہے ،ہم نے دنیا کے تمام شعبوں میں جدید سہولیات اور اسباب و وسائل کو اختیار کر لیا چاہے وہ طب کا میدان ہو خورد و نوش اور دیگر میدان ہو ، لیکن ہم نے مدارس میں نئے اور مفید اسباب و وسائل اور ذرائع کو استعمال نہیں کیا نیز نصاب تعلیم کو اپڈیٹ نہیں کیا ۔قرآن و حدیث کے مضامین تو وہی رہیں گے قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں آئے گی لیکن ان علوم کی تدریس میں جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کا استعمال از حد ضروری ہے، جو خلاف شریعت بھی نہیں ہے ۔
   فقہ اسلامی میں میں بھی ہم تبدیلی کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن جو قدیم کتابیں اس فن کی پڑھائی جاتی ہیں، ان میں بعض تو آج کے طلبہ کے لئے بہت ہی مشکل ہیں ،مثلا بعض مدارس میں ابھی بھی کنز الدقائق جیسی گنجلک عبارت والی کتاب داخل نصاب ہیں حسامی اور نور الانوار ،نخبہ جیسی کتابیں بھی،، جب کہ اس فن کی بہترین جدید کتابیں آچکی ہیں ۔ اسی طرح نور الایضاح کی جگہ الفقہ المیسر کو داخل نصاب نہ کرنا سمجھ سے پرے ہے ،جبکہ یہ کتاب موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔ 
   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                     
      مادیت اور دنیا پرستی کے اس دور میں جہاں ہر شخص دنیا کی ہوڑ اور دوڑ میں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہے اور منافست کا جذبہ تیز سے تیزتر ہے ، مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ بھی حالات سے متاثر ہوئے ہیں،الشیطن یعدکم الفقر کا شیطانی حربہ اور وسوسہ بھی اس کے سامنے ہے ،جس سے ان کا سامنا ہے ۔۔۔۔۔۔
 انہیں مدارسِ اسلامیہ میں رہ کر اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے، اس لئے باتوفیق اور دینی مزاج رکھنے والے طلبہ کے علاوہ اکثر طلبہ کالج اور یونیورسٹی کی طرف رخ کررہے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں کی ڈگریوں اور اسناد سے ہمیں سرکاری ملازمت نہیں مل سکتی، ہمارے لئے صرف مکتب اور مدرسہ میں تدریس ہی آخری راہ ہے اور وہ مدارس کے اساتذہ کو مدارس کی زندگی سے غیر مطمئن پاتے ہیں اور اساتذہ سے اپنی بے سروسامانی اور پریشانی کا تذکرہ کرتے سنتے ہیں ،تو وہ اس راہ کی طرف آنے کو تیار نہیں ہوتے ،یاد رہے کہ پہلے کے حالات اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے ایک زمانے میں درس نظامی ایک کامیاب نظام تعلیم تھا،شاہان مغل کے دربار میں معقولات و منقولات کے علماء اپنے علوم کی بنا پر نوازے جاتے تھے ،اسی نصاب تعلیم کے فارغین مملکت کا حصہ بن جاتے تھے ،یعنی اس نظام و نصاب کے فارغین اپنی دینی و دنیاوی امور کی قیادت کررہے تھے ،لیکن حالات کا رخ بدلا، زمانے نے نئی کروٹ لی اور دین و دنیا کی تفریق قائم ہوگئی ،ایک طرف لارڈ میکالے کا نظام تعلیم اپنا سکہ جمانے میں کامیاب رہا ، جس کے نتیجہ میں و اذا رآوا تجارة او لھوا انفضوا الیھا وترکوک قائما کا منظر اہل دل کے لئے پریشان کن ہوگیا ،تو دوسری طرف مدارس کا وہ نظام قائم ہوگیا ،جس کی محدود افادیت و نافعیت سے کسی کو انکار نہیں ،لیکن امت کی مجموعی ضرورت ان سے پوری نہیں ہوتی ،بلکہ نظام تعلیم کی اس تفریق سے امت کا سرمایہ جس طرح استعمال ہونا چاہیئے اور اس کے نتیجہ میں قوم کا مستقبل جس طرح روشن ہونا چاہیے نہیں ہو پا رہا ہے۔اس کا اعتراف ہم سبھی کو ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مدارس اسلامیہ میں ماضی کی طرح وحدانی نظام تعلیم کو پھر سے نافذ کیا جائے اس کےبغیر صورتحال پر قابو پانا ناممکن ہے ۔۔جہاں تعلیم کا نظام ایسا مرتب کیا جائے کہ ثانویہ کی تکمیل کیساتھ ہائی اسکول بھی بچہ کرلے کہ اگر وہ تعلیم ترک بھی کردے اور کسی آفس یا کمپنی میں کام کرنے لگے تو وہ آفس کے میدان کا بھی اچھا جان کار ہو اور وقت پر وہ امامت اور خطابت کے فرائض بھی انجام دے لے ۔
  (مستفاد تعلیم و تربیت ،ص،29)
    مدارس اسلامیہ کے دفتری نظام میں بھی کمی اور نقص کی وجہ سے طلبہ کا رجحان مدارس سے کم ہوا ہے ،یہاں کے دفتری نظام میں یا تو اس قدر لچک اور بے اصولی ہے کہ کوئی ریکارڈ اور نظام ہی نہیں ہے، وقت پر اگر آپ کو ٹیسی یا دیگر کاغذات کی ضرورت پڑ جائے تو ان کے پاس کوئی ریکارڈ ہی نہیں ،جدید آلات اور کمپیوٹر نظام سے آفس و دفتر کو منظم کیا ہی نہیں، جو وقت کی ضرورت ہے،اس کا نہ ہونا ایک بہت بڑی کمی اور نقص ہے، تو دوسری طرف بہت سے بڑے مدارس میں دفتری نظام کو اتنا سخت کردیا گیا ہے اور وہاں کے عملہ کا سلوک اور برتاؤ طلبہ کیساتھ اس قدر سخت اور منفی ہے کہ وہ یہاں کے نظام سے بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی اولاد کو مدارس کی چہار دیواری سے قریب نہیں ہونے دیتے ۔جبکہ سرکاری اسکولوں میں دفتری نظام میں بہت حد تک سہولت اور رعایت رہتی ہے ۔
   مثلا سرکاری دانشگاہوں ،محکموں اور شعبوں میں ایسا نظام ہوتا ہے کہ اگر نام اور تاریخ پیدائش کے اندراج میں کوئی بھول چوک ہو جائے اور اس کے پاس کوئی ریکارڈ سرکاری اور دفتری موجود ہے تو اس میں تبدیلی ہو جاتی ہے لیکن مدارس دینیہ میں اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں برتی جاتی اور جو درج ہوگیا اس میں تبدیلی کی کوئی معقول اور شرعی وجہ کے بعد بھی گنجائش نہیں ہوتی، گویا قلم اٹھا لیا گیا اور روشنائی خشک ہوگئی ،اس سلسلے میں مدارسِ عربیہ کے منتظمین کو غور کرنا چاہیے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق اگر کچھ تبدیلی طالب علم کرائے تو اس کی صورت ہونی چاہیے ،الحمد للہ بہت سے مدارسِ دینیہ نے اس بارے میں حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے رویے کو بدلا ہے اور نظام میں تبدیلی کی ہے ۔۔۔
     ادھر چند سالوں سے مشاہدہ یہ ہےکہ اکثر مدارسِ اسلامیہ کے منتظمین انگریزی علوم و فنون اور عصری تعلیم گاہوں سے مرعوب نظر آرہے ہیں اور آئے دن مدارس کو اسکول کے طرز پر ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں ،اس کے لئے مہنگی فیس رکھنے لگے ،گارجئین اور سرپرست حضرات یہ سمجھنے لگے کہ اتنی مہنگی تعلیم اگر ہم مدارس میں دلائیں گے تو اس سے بہتر ہے کہ اسکول ہی میں بچے کا داخلہ کرادو ،دین سیکھنے کے لئے اور دینی تربیت کے لیے تبلیغی جماعت میں وقفہ وقفہ سے بھیجتے رہیں گے ۔۔
       مدارس اسلامیہ میں ہاسٹل کا نظام بہت فرسودہ ہے ،جدید آلات و سائل سے استفادہ نہ کے برابر ہے ،خورد و نوش کا نظام جس انداز و معیار کا ہونا چاہیے نہیں ہوتا ،گرمی سردی اور مچھر سے بچاؤ کے لئے بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا ،جس کی وجہ سے مالدار گھرانے کے طلبہ مدارسِ عربیہ کا رخ کم کرتے ہیں ،مہمان خانہ اور دفتر تو بہت خوبصورت اور پرکشش ہوتا ہے، لیکن ہاسٹل ،باتھ روم اور باورچی خانہ بالکل صاف ستھرا نہیں رہتا ۔۔
  بعض ادارے میں تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کم رہتی ہے ،صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے کے چکر میں داخلہ پر داخلہ لیتے رہتے ہیں تاکہ چندے میں دقت نہ ہو ،طلبہ کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جب یہ طلبہ گھر 🏠 پہنچتے ہیں اور ان کے والدین بچوں میں دینی مزاج اور ماحول نہیں پاتے ہیں تو وہ بدظن ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے بچوں کو مدارس نہیں بھیجتے ۔۔۔
    مدارس میں پورے سال کا کوئی نظام ، شیڈول اور ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا ،پہلے سے پورے سال کا نظام اور خاکہ تیار نہیں کیا جاتا ،چھٹی اور تعطیل کی تفصیلات پہلے سے ترتیب نہیں دی جاتی ،عین موقع پر فیصلہ لیا جاتا ہے ،اسی طرح کوئی لیسن پلان نہیں ہوتا کہ کس انداز سے پڑھانا ہے روزانہ کس مقدار میں اور کتنا پڑھانا ہے ،تعلیم کے ایام کتنے دن میں تقسیم کرنے ہیں ،ہر مہینے کتنی تعلیم ہونی ہے ،یہ چیزیں واضح نہیں ہوتیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پلانگ کی جاتی ہے ۔ بقر عید تک صرف چار صفحے پڑھائی ہوئی اور اس کے بعد نصاب کو جلدی جلدی پورا کردیا گیا ۔
     مدارس اسلامیہ میں طلبہ کو ان کا ہدف اور ان کی منزل کا پتہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے سامنے کوئی منصوبہ ہوتا ہے ،اس لیے ان کے اندر شوق ،لگن اور یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مدارس میں طلبہ کی تعداد دن بدن گھٹی جارہی ہے ۔

Monday, March 23, 2026

بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری محمد جمیل اخترجلیلی ندوی

بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری
محمد جمیل اخترجلیلی ندوی



 تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے، جوحیثیت انسانی جسم کے اندرریڑھ کی ہڈی کی ہے، اگر ریڑھ کی ہڈی کو کچھ ہوجائے توانسان چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتاہے، ٹھیک اسی طرح کسی قوم میں اگرتعلیم کا رواج نہ ہوتووہ قوم دنیاکے اسٹیج میں بے حیثیت بن جاتی ہے۔
 سولہویں صدی عیسوی سے قبل اگریوروپ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں توہم اسے غیرترقی یافتہ پاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ تعلیم سے دوری ہے؛ لیکن پھرانھوں نے تعلیم کی طرف توجہ دی ، جس کے نتیجہ میں وہ آج ترقی کی اس منزل پرقدم رکھ چکاہے، جہاں تک پہنچنے کے لئے اب بھی ہمیں برسوں لگ جائیں گے۔
 اسلام نے تعلیم سے روکانہیں؛ بل کہ اس کے حصول کا حکم دیاہے، اس کی نظرمیں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺپر سب سے پہلی وحی جونازل ہوئی، وہ اقرأ(پڑھو)کی تھی، دوسری وحی میںبھی تعلیم کا ذکر موجود ہے، پھرنبی کریمﷺ کی ذات نے تواسے فرض قرار دے دیا، فرمایا:طلب العلم فریضة علی کل مسلم (سنن ابن ماجة،باب فضل العلماء…حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مردہویاعورت)پرفرض ہے‘‘، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں تعلیم کی بہت زیدہ اہمیت ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں کون سی تعلیم حاصل کرنی چاہئے؟ اس کے جواب کے لئے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کی دوقسمیں کی گئی ہیں:(۱) فرض عین۔(۲) فرض کفایہ۔
  مشہوراسلامی فلاسفرامام غزالیؒ نے اپنی مشہورکتاب (’’احیاء علوم الدین ‘‘:۱ /۳۱)میں تین طرح کے علوم کوفرض علم میں داخل کیاہے:
  (۱)عقائد سے متعلق علم:جس کوہم مختصراً’’ایمانِ مجمل‘‘میں پڑھتے ہیں، یعنی اللہ ، رسول، ملائکہ، کتاب، آخرت کے دن، تقدیرکے اچھے وبُرے اورمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر(ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں بیان نہیں کیاجاسکتا)ایمان لانا۔
  (۲) عمل سے متعلق علم:ایمان واعتقاد کے بعد ’’عمل‘‘ کا نمبرآتاہے، یعنی ان چیزوں کی واقفیت، جن کے کرنے کا ہمیں حکم دیاگیاہے اورنہ کرنے کی صورت میں ’’عذابِ ألیم‘‘ (دردناک عذاب)کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے: نماز، روزہ، زکوۃ اورحج وغیرہ سے متعلق جان کاری۔ 
 (۳) تَرْک سے متعلق علم:’’ایمان ‘‘و’’عمل‘‘ سے متعلق علم جان لینے کے بعد اب ہمیں ان ممنوعات کے بارے میں جاننا ضروری ہے ،جن کے کرنے سے ہمیں روکاگیاہے اورکرلینے کی صورت میں سزاکامستحق قراردیاگیاہے۔
 جب کہ زراعت، صناعت، حرفت، ڈاکٹری، انجنیئرنگ، ریاضی وغیرہ کی تعلیم کو فرض کفایہ علوم میں شامل کیاہے (إحیاء علوم الدین:۱ /۳۴)، اب ظاہر ہے کہ ہمیں سب سے پہلے وہ علم حاصل کرناچاہئے، جوفرض عین ہو، نہ کہ فرض کفایہ؛ لیکن دین بیزاری کے اس دورلوگ اپنے بچوں کوتعلیم دلانے کی طرف متوجہ توضرورہوئے ہیں؛ لیکن اکثرکارجحان فرض کفایہ کی طرف ہے، جوہمارے لئے اورہمارے بچوں کے لئے یقینا ایسا نقصان دہ ہے، جس کی تلافی شایدہی ہوسکے، بدقسمتی ہماری یہ بھی ہے کہ جن اداروں میں فرض عین کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ فرض کفایہ کی طرف نہیں کے برابرتوجہ دیتے ہیں، جس کانتیجہ آج کے مادی دورمیں یہ ہوتاہے کہ قوم کے اکثرافراد اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ان اداروں کارخ ہی نہیں کرتے، نیز ایسے ادارے آٹے میں نمک کے برابرہیں، جہاں فرض عین کے ساتھ ساتھ فرض کفایہ کی بھی تعلیم ہوتی ہے؛ بل کہ اکثرادارے وہ ہیں، جوغیروں کے ہیں اورجہاں ایسی تعلیم کا نام لینابھی قابل گرفت ہے، جوہمارے لئے فرض عین ہے۔
 موجودہ زمانہ میں بچوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھنا تو کسی طورپردرست نہیں؛ لیکن ظاہرہے کہ ان کے ایمان کابھی تو سودا نہیں کیاجاسکتا، لہٰذا اگرایسے اداروں میں تعلیم دلانا پڑے، جہاں فرض عین کی تعلیم نہیں ہوتی توبچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین پردرج ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
 ۱-ضروری دینی تعلیم کاانتظام کرنا:اتنی مقدارمیں دینی تعلیم کاحصول ضروری ہے، جس کے ذریعہ سے عقیدہ کے اندردرستگی اورحلال وحرام کے درمیان تمیز کی جاسکے، فرائض کوجاناجاسکے اوراوامر(جن اعمال کے کرنے کاحکم دیا گیا ہے)اورنواہی(جن اعمال سے رکنے کاحکم دیاگیاہے)کی واقفیت ہوسکے، اللہ کے رسولﷺکے مبارک ارشاد {طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم} (سنن ابن ماجۃ،باب فضل العلماء… حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مرد ہو یا عورت) پرفرض ہے‘‘ کامطلب بھی یہی ہے، والدین کوچاہئے کہ اپنے بچہ کے سلسلہ میں اس کی فکرکریں؛ کیوں کہ بنیادی دینی تعلیم کے بغیرتووضوبھی درست نہیں ہوتا؛ چہ جائیکہ نماز! اسی لئے اللہ کے رسول ﷺنے جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک وفدحضوراکرم ﷺ کی صحبتِ بابرکت میں بیس دن تک سعادت مندیوں اورخوش بختیوں کی نعمتوں سے بہرہ مندہونے کے بعد گھرواپسی کاارادہ کیا تواللہ کے رسول ﷺ نے زادِ راہ سے سرفراز فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:ارجعوا إلی أھلیکم، فأقیموافیھم، وعلموھم، ومروھم۔(بخاری،حدیث نمبر:۶۳۱،مسلم،حدیث نمبر:۶۷۴)اپنے گھروالوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھیں کے درمیان قیام کرو، انھیں سکھاؤ اورانھیں حکم دو۔
 اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں:اسلامی شریعت کی تعلیم دو اورواجبات کی ادائے گی اورمحرمات سے اجتناب کاحکم دو۔(ارشادالساری:۰۱ /۲۸۷)، اور ظاہرہے کہ بنیادی دینی تعلیم میں یہی باتیں شامل ہوتی ہیں،اِس کے لئے والدین درج ذیل صورتیں اختیارکرسکتے ہیں:
 (الف)کسی ایسے معلم کاانتظام، جوگھرمیں آکربنیادی دینی تعلیم دے۔
 (ب)تقریباً ہرمسجد میں صباحی ومسائی مکاتب کانظام رائج ہے، والدین اپنے بچوں کوان میں بھیجنے کااہتمام کریں۔
 (ج)اگربچے بالغ اورباشعور ہیں توانھیں تبلیغی جماعت میں بھی بھیج کربنیادی دینی تعلیم و عملی تربیت دی جاسکتی ہے۔
 ۲-پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کرانا: نماز اسلام کا ایسا بنیادی اوراہم رکن ہے، جس کی تربیت دینے کاحکم سات سال ہی سے دیا گیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشادہے: مروا أولادکم والصلاۃ وھم أبناء سبع سنین، واضربوھم علیھا وھم ابناء عشرسنین۔(ابوداود، متی یؤمرالغلام بالصلاۃ، حدیث نمبر:۴۹۵)اپنی اولادکوسات سال کی عمرمیں نماز کاحکم دو اوردس سال کی عمرمیں اس کے چھوڑنے پرمارو۔
 والدین کواپنے آپ سے یہ عہدکرناہوگاکہ بچوں کی کوئی بھی نماز قضاء نہیں ہوگی، خواہ وہ کہیں بھی رہیں، سیروتفریح کے لئے جائیں یاشادی بیاہ میں شرکت کے لئے، کھیل کے میدان میں ہوں یا ہاسپٹل کے وارڈ میں، دوستوں کے جمگھٹوں میں یا بازارکے شورہنگاموں میں، کہیں بھی ہوں بہرصورت ان کی نماز قضا نہیں ہوگی۔
 ۳-دینی اجتماعات میں شرکت کرانا:علاقہ یااطراف واکناف میں ہونے والے دینی اجتماعات میں بچوں کی شرکت کرانی چاہئے، وہاں تھوڑے وقت میں زیادہ نفع حاصل ہوجایاکرتاہے، اِسی طرح ہفتہ واری مجالس، مثلا: درسِ حدیث اوردرسِ قرآن کی مجالس میں حاضری دلوانی چاہئے کہ یہ بھی کم وقت میں زیادہ نفع بخش ہوتی ہیں۔
 ۴-دینی کتابوں کے مطالعہ کااہتمام کرانا: فارغ اوقات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انھیں دینی کتابوں کابھی مطالعہ کراناچاہئے، خصوصاً اُس ذات کی سیرت پڑھوانی چاہئے، جس کی امت میں ہمارا شمارہوتاہے، یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ آج اُس قدسی صفت ذات پردشمن کیچڑ لگارہے ہیں، اگر بچے اُن کی سیرت پڑھیں گے تودشمن کومنھ توڑجواب دے سکیں گے، ورنہ دشمن کی طرف سے لگائے گئے الزام کے نتیجہ میں خود اُوبنے ڈوبنے لگیں گے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، بزرگانِ دین اورامت کے مصلحین کی سوانح وسیرت کابھی مطالعہ ضرورکروانا چاہئے، اسی طرح اسلامی اور مسلم فاتحین کی تاریخ سے بھی روشناس کراناضروری ہے۔
 ۵-گھرکواسلامی ماحول دینا: مذکورہ تمام امورکے ساتھ ساتھ اپنے گھرکے فضاکواسلامی بناناضروری ہے، جب تک گھر کواسلامی ماحول میں تبدیل نہیں کریں گے، اس وقت تک بچوں کا ذہن اسلامی سانچہ میں نہیں ڈھل سکتااورجب تک اسلامی سانچہ میں ذہن نہ ڈھلے، اس وقت تک مذکورہ امورکو سود مند قرارنہیں دیاجاسکتا۔
 اگروالدین ان ذمہ داریوں کوادا نہیں کررہے ہیں تو بچوں کے ایمان کی حفاظت کی عملی طورپرگارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے؛ لیکن والدین اگران ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سنجیدہ ہوں اور اپنے بچوں کوان پرعمل درآمد کرائیں توان شاء اللہ ان کا ایمان عملی طورپرمحفوظ رہے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے،آمین!
Mobile:8292017888
jamiljh04@gmail.com

Sunday, March 22, 2026

اطمینانِ قلب کی دولت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔دگھی،گڈا،جھارکھنڈ

اطمینانِ قلب کی دولت

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دگھی،گڈا،جھارکھنڈ 

   آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑا نظر آتا ہے، مگر باطن میں ایک عجیب اضطراب، بے چینی اور خلا محسوس کرتا ہے۔ جدید دور کی چکاچوند، سائنسی ترقی، مادی آسائشیں اور سہولیات کے انبار کے باوجود انسان کے دل کو وہ سکون میسر نہیں، جو اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں، ہر طبقے میں، ہر عمر کے انسان میں ایک انجانی بے قراری پائی جاتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا،ہر ایک کے لبوں پر یہی شکوہ ہے کہ دل مطمئن نہیں۔
یہ بے اطمینانی محض معاشی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی بحران ہے۔ انسان نے اپنی توجہ مادّی ترقی پر مرکوز کر دی ہے اور روحانی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجتاً دل کی وہ کیفیت، جسے اطمینان کہا جاتا ہے، ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت، شہرت، طاقت یا عہدہ انہیں سکون فراہم کرے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جتنا انسان ان چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے، اتنا ہی وہ اندر سے خالی اور بے چین ہوتا جاتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی مسائل کی نوعیت بدل چکی ہے۔ خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے، اولاد نافرمان ہو رہی ہے، میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اعتماد و محبت کا فقدان عام ہو چکا ہے۔ کوئی اپنی اولاد کے رویے سے پریشان ہے، کوئی شریکِ حیات کی بے اعتنائی سے دل گرفتہ ہے، تو کوئی معاشی تنگی یا معاشرتی دباؤ کا شکار ہے۔ ان تمام مسائل کا مشترکہ نتیجہ ایک ہی ہے: دل کا بے سکون ہونا۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کے دل کو حقیقی سکون عطا کر سکتی ہے؟ کیا اس کا حل مزید دولت کمانا ہے؟ یا مزید طاقت حاصل کرنا؟ یا دنیاوی لذتوں میں اضافہ؟ تاریخ اور تجربہ دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز دل کے سکون کی ضامن نہیں۔
یہاں قرآنِ مجید ایک نہایت واضح، جامع اور حتمی رہنمائی فراہم کرتا ہے:
“الا بذکر اللہ تطمئن القلوب”
یعنی خبردار! دلوں کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دل کا سکون کسی مادی ذریعے سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات سے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا، اس سے جڑتا نہیں، اور اس کی یاد میں نہیں رہتا، تب تک اس کے دل کو حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔
ذکرِ الٰہی کا مفہوم محض زبان سے چند الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر کیفیت کا نام ہے۔ یہ انسان کے دل، دماغ، سوچ اور عمل سب پر محیط ہوتا ہے۔ ذکر کا مطلب ہے کہ انسان اپنے رب کو ہر حال میں یاد رکھے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے، اس کے احکام کی اطاعت کرے، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
جب انسان اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے، اس کی مشکلات کو جانتا ہے، اور وہی اس کا حقیقی مددگار ہے۔ یہ یقین انسان کو ہر طرح کے خوف، اضطراب اور بے چینی سے نجات دلاتا ہے۔
اسی طرح اللہ پر بھروسہ (توکل) بھی اطمینانِ قلب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اللہ کی مشیت سے ہو رہا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے، تو وہ حالات کی سختیوں سے ٹوٹتا نہیں بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس کے دل کو مضبوط اور مطمئن بناتی ہے۔
ذکرِ الٰہی کا ایک پہلو شکرگزاری بھی ہے۔ جو انسان اللہ کی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، اس کا دل حسد، لالچ اور بے اطمینانی سے پاک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن رہتا ہے اور دوسروں سے تقابل میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو شخص ہمیشہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اپنی کمیوں اور محرومیوں پر نظر رکھتا ہے، وہ کبھی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔
موجودہ دور میں انسان نے مختلف فلسفوں، نظریات اور نظاموں کو آزما لیا ہے، مگر دل کا سکون پھر بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام کوششیں انسان کے ظاہر کو سنوارنے پر مرکوز ہیں، جبکہ اصل مسئلہ اس کے باطن کا ہے۔ جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوگی، باہر کی دنیا کی کوئی بھی تبدیلی انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔
قرآن کا پیغام دراصل انسان کو اس کے اصل مرکز کی طرف واپس بلاتا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ تمہاری اصل حقیقت ایک بندہ ہونا ہے، اور تمہارا حقیقی سکون اپنے رب کی بندگی میں ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے، تو اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے، اور اپنی ترجیحات کو اسی کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔
اطمینانِ قلب کی دولت دراصل وہ نعمت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے، نہ چھینی جا سکتی ہے، اور نہ ہی کسی مادی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے، اس کی یاد میں رہنے، اور اس پر کامل یقین و اعتماد رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج کی بے چین دنیا کو اگر کسی ایک چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ ذکرِ الٰہی ہے۔ یہی وہ نسخہ ہے جو انسان کے دل کو سکون، اس کی زندگی کو توازن، اور اس کے وجود کو معنویت عطا کرتا ہے۔ اگر انسان واقعی اطمینانِ قلب کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، اس کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اور اسی پر بھروسہ کرے۔ یہی راستہ ہے، اور اسی میں کامیابی اور سکون پوشیدہ ہے۔

Thursday, March 19, 2026

ہم عید کیسے منائیں ؟ محمد قمر الزماں ندوی

خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔30/ رمضان المبارک 

ہم عید کیسے منائیں ؟ 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
 
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
برادرانِ اسلام! آج ہم ایک ایسے مبارک اور مسرت افزا موقع کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کا انتظار پورا مہینہ دل کی گہرائیوں سے کیا گیا۔ رمضان المبارک کی رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور مغفرتوں سے لبریز ساعتیں اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہیں، اور اب ہمارے سامنے عید الفطر کا روشن، پرنور اور بابرکت دن طلوع ہونے والا ہے۔ یہ محض ایک عید اور تہوار نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے انعام، اکرام، بخشش، مغفرت اور خوشی کا وہ دن ہے جس میں بندہ اپنی عبادتوں کی قبولیت کی امید کے ساتھ اپنے رب کے حضور شکرانہ ادا کرتا ہے۔
عید کا دن درحقیقت اس عظیم تربیت گاہ، یعنی رمضان المبارک، کا ثمرہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک مومن اپنے نفس پر قابو پانے، بھوک و پیاس برداشت کرنے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے بعد روحانی کامیابی کا جشن مناتا ہے۔ یہ جشن محض ظاہری خوشیوں، نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا حقیقی پیغام شکر، تواضع، اخوت، محبت اور بندگی ہے۔ گویا عید کا دن اس بات کا اعلان ہے کہ جس بندے نے رمضان میں اپنے رب کو پہچان لیا، اس نے اصل کامیابی حاصل کرلی۔
محترم سامعین! عید الفطر کا مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ دن کیوں عطا کیا گیا؟ کیا یہ صرف خوشی منانے، میل جول بڑھانے اور دنیاوی لذتوں میں مشغول ہونے کا نام ہے؟ یا اس کے پسِ پردہ کوئی گہرا پیغام، کوئی عظیم مقصد اور کوئی دائمی سبق بھی پوشیدہ ہے؟ یقیناً شریعتِ مطہرہ نے اس دن کو محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل، بامقصد اور باوقار طرزِ عمل متعین فرمایا ہے، جس کے ذریعے ایک مومن اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایک ماہ تک جس ضبطِ نفس، صبر، تقویٰ اور عبادت کا اہتمام کیا، وہ محض چند دنوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہماری پوری زندگی کا حصہ بن جائے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازیں آباد رہیں، دلوں میں اللہ کا خوف اور محبت باقی رہے، زبانیں ذکرِ الٰہی اور تلاوت قرآن سے تر رہیں، اور ہمارے معاملات میں دیانت و امانت جلوہ گر ہو، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے عید کا حقیقی پیغام پالیا۔
عید کا دن سماجی ہم آہنگی اور ملی وحدت کا بھی مظہر ہے۔ اس دن امیر و غریب، چھوٹا و بڑا، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی عملی تصویر ہے کہ اسلام میں رنگ، نسل، ذات اور حیثیت کی کوئی تفریق نہیں۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کے محتاجوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو نہ بھولیں، بلکہ ان کی خوشیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ صدقۂ فطر کا نظام اسی مقصد کے تحت رکھا گیا تاکہ کوئی بھی شخص عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔
معزز حضرات! آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید کو اس کے اصل روح اور پیغام کے ساتھ منائیں۔ ہم اس دن کو فضول خرچی، نمود و نمائش اور غیر شرعی رسومات سے پاک رکھیں، اور اسے عبادت، شکرگزاری اور انسانی ہمدردی کا عملی نمونہ بنائیں۔ ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ناراضگیوں کو ختم کریں، دلوں کو جوڑیں، اور معاشرے میں محبت و اخوت کا پیغام عام کریں۔
یہ عید ہمیں یہ بھی درس دیتی ہے کہ بندگی کا سفر رمضان کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو ایک نئی شروعات ہے۔ اگر ہم نے رمضان میں اپنے اندر جو نیکیوں کا چراغ روشن کیا ہے، اسے باقی سال بھی روشن رکھا، تو یہی عید کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ ورنہ اگر رمضان گزرتے ہی ہم دوبارہ غفلت کی نیند میں سو گئے، تو یہ ہماری محرومی کی علامت ہوگی۔
لہٰذا آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اس عید کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق منائیں گے۔ ہم اس دن کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں گے، اپنا جائزہ لیں گے ،اپنے اعمال کا محاسبہ کریں گے، اور آئندہ زندگی کو مزید بہتر بنانے کا عزم کریں گے۔ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں گے، دلوں کو صاف کریں گے، اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جو محبت، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول بھی فرمائے۔ 
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستو بزرگو اور بھائیو! 
علماء کرام عید کو کیسے منایا جائے اور اس دن ہم کیا کریں اس حوالے لکھتے ہے ۔
"اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کے اندر ملکوتی (فرشتوں والی) اور حیوانی (جانوروں والی) دونوں صفتیں ودیعت کی ہیں،جو حالات اور ماحول کے اثرات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر غالب آتی رہتی ہیں، الٰہی ماحول مل جائے تو ملکوتی صفت غالب آجاتی ہے اورشیطانی ماحول مل جائے تو بہیمی صفت قبضہ جمالیتی ہے، ہمارے ارد گرد کے عام ماحول پرچوں کہ ابلیسیت کا طنطنہ ہے، اس لئے سال بھر ہمارے اندر صفتِ بہیمی منھ زور گھوڑے کی طرح دُم اُٹھائے دوڑتی پھرتی ہے، اسی کی توڑ اورمقابلہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزے جیسی اہم چیز ہمیں عنایت کی ہے۔
 پھرروزہ رکھنے کے لئے ایک پورامہینہ عطا کیا، جسے ہم ’’رمضان المبارک ‘‘کے نام سے جانتے ہیں، انسان جب پورا ایک مہینہ روزہ رکھ لیتا ہے تواس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اب وہ افطارکرے، اللہ تعالیٰ اس کی اس فطرت کی رعایت کرتے ہوئے شوال کا چاند نظرآتے ہی یہ موقع فراہم کردیتاہے؛ لیکن یہ موقع یوںہی فراہم نہیں کردیتا؛ بل کہ افطارکے پہلے دن کواس کے لئے بطوریادگاربنادیتاہے، اسی یادگار کو ’’عیدکادن‘‘ کہا جاتا ہے۔
 عیدکادن بطورخاص روزہ داروںکے لئے تحفہ اورانعام کا دن ہوتاہے،بندہ اپنے مالک کی بات مان کرپورا ایک مہینہ بھوک اورپیاس برداشت کرتاہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی اس اطاعت کی قدردانی کرتاہے اوراس کے روزہ رکھنے کے عمل کوخالص اپناعمل قرار دیتاہے اوریہ فرماتاہے کہ میں بذات خوداس کابدلہ دوں گا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:کل عمل بن آدم له الا الصیام، فانه لی وأنا أجزی به۔(مسلم، حدیث نمبر:۲۷۰۶)ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے، سوائے روزہ کے، کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ (اجر) دوں گا،اللہ تعالیٰ نے روزہ کو اپنا عمل کیوں قراردیا؟ اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے: یترک طعامه وشرابه وشھوته من اجلی(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۹۴)کہ بندہ کھانا، پینااور قضائے شہوت کوصر ف میرے لئے چھوڑتاہے، حقیقت یہ ہے کہ جس قدر نفس کشی روزہ کے اندر پائی جاتی ہے، کسی دوسری عبادت میں نہیں پائی جاتی، اسی لئے اس روزہ بدلہ بھی خاص ہوتاہے۔
 ایک خاص بدلہ تویہ ہے کہ قیامت کے دن انھیں جنت کے خاص دروازہ’’ریان‘‘سے جنت میں داخل کیاجائے گا، اس دروازہ سے کسی اورکوداخل نہیں ہونے دیاجائے گا(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۱۲)، دوسرابدلہ ان کی ’’مغفرت‘‘ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں: …فإذاکان یوم عیدهم، باهی بهم ملائکته، فقال: یاملائکتی!ماجزاء أجیر وفی عمله؟قالوا: ربناجزاء ہ أن یوفی أجرہ، قال: یاملائکتی، عبیدی وإمائی، قضوا فریضتی علیهم، ثم خرجوا یعجون إلی الدعاء، وعزتی وجلالی وکرمی وعلوی وارتفاع مکانی لأجیبنهم، فیقول: ارجعوا فقدغفرت لکم، وبدلت سیئاتکم حسنات۔(شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر:۳۱۱۷) ’’جب عیدکادن آتاہے توفرشتوں کے سامنے ان پرفخرکرتاہے، کہتاہے: میرے فرشتو! اس مزدورکابدلہ کیاہوگا، جواپنا کامل مکمل کرلے، وہ کہیں گے: پروردگار!اس کوپوراپورابدلہ دیاجائے گا، اللہ فرمائے گا: میرے فرشتو! میرے بندے اوربندیوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی، پھروہ لوگ گڑگڑاتے ہوئے دعاکرتے ہوئے نکلے ہیں، میری عزت وجلال اورمیری رفعت وبلندی کی قسم! میں ضروران کی دعاء قبول کروں گا، پھراللہ فرمائے گا: تم لوگ لوٹ جاؤ، میں نے تم سب کی مغفرت کردی اورتمہاری برائیوں کوبھلائیوں سے بدل دیا‘‘۔
 عیدکادن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کادن ہوتاہے؛ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کویہ تک معلوم نہیں رہتا کہ اس دن کیاکیاکام کرنے چاہئیں؟ ذیل کے مضمون میں عیدکے دن کرنے کے ان کاموں کی وضاحت کی گئی ہے، جوشرعاً درست ہیں اوروہ درج ذیل ہیں:
 ۱-تکبیر:رمضان المبارک کے اختتام کے بعدافطارکی گھڑی آتی ہے، جس کی ابتداء ہلال عیدکے نظرآنے کے بعدسے شروع ہوجاتاہے، ظاہرہے کہ خیروخوبی کے ساتھ رمضان کے گزرنے پراللہ ہی کی کبریائی اوربڑٓئی بیان کی جانی چاہئے کہ اسی کے حسن توفیق سے اس گھڑی تک ہم پہنچ سکے؛ اس لئے چاندکے نظرآنے کے بعدسے اللہ کی بڑائی بیان کرنے کوایک مستحسن عمل قراردیاگیاہے، قرآن میں بھی اس کا ذکرملتاہے، اللہ تعالیٰ کاارشادہے: وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّهَ عَلَی مَا هَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون(البقرۃ:۱۸۵)’’ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو‘‘،تکبیرمیں یہ الفاظ کہے جائیں: الله أکبر الله أکبر، لاإله إلاالله ، والله أکبرالله أکبر، ولله الحمد، تکبیر کہنے کایہ عمل حسب استطاعت وقتاًفوقتاً ہوناچاہئے اور انفرادی طور پر ہوناچاہئے، اجتماعی طورپرتکبیرکہنے کو نادرست قراردیاگیاہے۔

 ۲-غسل کرنا:اسلام میں صفائی ستھرائی اورنظافت کوبہت زیادہ پسند کیاگیاہے؛ بل کہ اسے ایمان کاجزء قراردیاگیاہے، ارشادنبوی ہے: الطهورشطرالإیمان (مسلم، حدیث نمبر:۳۶۰) ’’پاکی ایمان کاجزء ہے‘‘، اسی پاکی میں سے ایک غسل ہے، بعض خاص موقعوں سے اسے مستحب قراردیاگیاہے، ان میں سے ایک عید کے دن کاغسل بھی ہے، حدیث میں ہے: رسول اللہ ﷺجمعہ، عرفہ، عیدالفطراورعیدالاضحی کے دن غسل فرمایاکرتے تھے(جامع المسانید والسنن، حدیث نمبر:۷۶۸۶۵: ۱۰/۱۴۵۴)۔
 ۳-کھجوریامیٹھی چیزکھانا: پورے مہینہ روزہ رکھنے کے بعدعیدکی سعادت سے ہمیں نوازا گیا، چوں کہ روزہ کے بعدیہ دن دیاگیاہے؛ اس لئے عیدگاہ جانے سے پہلے کھجور یاکوئی میٹھی چیزکھانے کومستحب قراردیاگیاہے، اللہ کے رسولﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی؛ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں:کان النبیﷺ لایغدویوم الفطر؛ حتی یأکل تمرات، ویأکلهن وترا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۲۹)’’رسول اللہ ﷺ عیدالفطرکے دن کھجورکھائے بغیر(عیدگاہ کے لئے) نہیں نکلتے تھے اورطاق عدد میں کھاتے تھے‘‘، کچھ کھاکرعیدگاہ جانے کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ نہ کھانے کی صورت میں عید کی نمازتک روزہ کاگمان ہوسکتاہے، مہلب کہتے ہیں:الحکمة فی الأکل قبل الصلاۃ أن لایظن ظان لزوم الصوم حتی یصلی العید’’نمازسے پہلے کھانے میں حکمت یہ ہے کہ گمان کرنے والایہ گمان نہ کرے کہ نمازعیدتک روزہ لازم ہے‘‘، پھرکھجورکھانے کی حکمت یہ نقل کی جاتی ہے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے بینائی میں کچھ صغف پیداہوجاتاہے اور کجھورکے ذریعہ سے یہ کمزوری ختم ہوجاتی ہے، پھربعض تابعین نے مطلق میٹھی چیزکے استعمال کومستحب قرار دیا ہے (فتح الباری:۲/۴۴۷)۔
 ۴-اچھے لباس کاانتخاب:عید کادن عام دن کی طرح نہیں ہے، یہ خوشی کادن ہوتاہے، لہٰذاخوشی کااظہاربھی ہوناچاہئے، اس کے لئے بہتراوراچھا لباس زیب تن کرناچاہئے، اچھے لباس کاہرگزمطلب یہ نہیں کہ ہرحال میں وہ نیا ہی ہو؛ بل کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کے پاس جوبہتراوراچھاہو، وہ زیب تن کرے، خودرسول اللہ کے پاس ایک لباس تھا، جسے جمعہ وعیدین میں زیب تن کیاکرتے تھے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: کان للنبیﷺ جبة یلبسهاللعیدین ویوم الجمعة(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۱۷۶۵)’’نبی کریم ﷺکاایک جبہ تھا، جسے عیدین اورجمعہ کے دن زیب تن فرماتے تھے‘‘، اچھے لباس کے انتخاب میں اس بات کاخیال رکھناچاہئے کہ وہ شرعی اعتبارسے درست بھی ہو، آج کل بالخصوص نوجوان ایسے ایسے لباس زیب تن کرتے ہیں، جوشریعت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں، سال میں ایک دن عیدکی نمازپڑھناہے، اس دن توکم ازکم شرعی لباس زیب تن ضرورہی کرناچاہئے۔
 ۵-صدقۂ فطرکی ادائے گی:محتاجوں کے تعاون کی جن شکلوں کوصاحب نصاب بندوں پرلازم کیاگیاہے، ان میں سے ایک صدقۃ الفطر بھی ہے، ’’صدقۃ الفطر ‘‘اس صدقہ کو کہا جاتا ہے، جورمضان المبارک کے روزہ افطارکی وجہ سے لازم ہوتاہے، یعنی اس کے واجب ہونے کاسبب افطار(شوال کا چاند دیکھ کرروزہ کھولنا)ہے، اس کی دوبنیادی حکمتیں ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اللہ کے رسول ﷺ کاارشادنقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ نے لغوورفث سے روزہ دار کوپاک کرنے اورمسکینوں کی غذا کے طورپرزکات فطر کو فرض کیا، جس نے (عید)کی نماز سے پہلے اسے ادا کیا تویہ مقبول زکات ہوگی، اورجس نے نماز کے بعد ادا کیا تو(اس صورت میں) یہ عام صدقات کے مثل ہے‘‘(ابوداود،حدیث نمبر:۱۶۱۱)، اب ایک اہم سوال یہ پیداہوتاہے کہ صدقۃ الفطر کی ادائے گی کن چیزوں کے ذریعہ سے کی جائے گی؟اس سلسلہ میں پانچ اشیاء کاذکراحادیث میں مذکورہے:(۱)شعیر( جو)(۲)تمر(کھجور)(۳)زبیب(کشمش)(۴)اقط(پنیر)(۵)طعام(غلہ)، حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں ہم ایک صاع غلہ، یاایک صاع جو، یاایک صاع کھجور، یاایک صاع کشمش ، یاپھرایک صاع پنیرزکات فطر(صدقۂ فطر) میں نکالتے تھے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۶۷۳، صحیح البخاری، حدیث نمبر۱۵۰۶)، جوشخص جَو، کھجور، کشمش اورپنیرسے اداکرناچاہے تووہ ایک صاع (تقریبا: 3.180grmsتین کلوایک سواسی گرام)کے حساب سے اداکرے؛ البتہ اگرگیہوں سے اداکرناچاہتاہے تونصف صاع(تقریباً:1.590grmsایک کلوپانچ سونوے گرام) کے حساب اداکرے۔
 ۶-نمازعیدکی ادائے گی:عیدکے دن کاایک اہم کام ’’عیدکی نماز‘‘کی ادائے گی ہے، احناف کے نزدیک اصح قول کے مطابق واجب ہے، حسن بن علی شرنبلالی لکھتے ہیں: صلاۃ العیدین واجبة فی الأصح۔(نورالإیضاح،باب العیدین، ص:۱۰۶) ’’اصح قول کے مطابق عیدین کی کی نماز واجب ہے‘‘(مجمع الأنہر، باب صلاۃ العیدین:۱/۲۵۵)، تاہم مرجوح قول سنت ہونے کابھی ہے، علامہ سرخسیؒ نے اس کے سنت ہونے کواظہرقراردیتے ہوئے فرمایاہے: والأظهرأنهاسنة؛ ولکنها من معالم الدین، أخذها هدی وترکهاضلالة۔(المبسوط، باب صلاۃ العیدین:۲/۳۷)’’اظہریہ ہے کہ یہ سنت ہے؛ لیکن دین کے شعائراورعلامت میںسے ہے، جس کواختیارکرناہدایت اورچھوڑناگمراہی ہے‘‘،حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردخاص حضرت امام ابویوسفؒ اسے فرض کفایہ قراردیتے ہیں (مجمع الأنہر، ۱/۲۵۵، تحفۃ الفقہاء، باب صلاۃ العیدین: ۱/۱۶۵)، عام دنوں میں سنت طریقہ پراس کی ادائے گی ہوتی گی؛ لیکن جولوگ ادانہ کرسکیں یاجہاں جمعہ کی نمازنہ ہوتی ہو، وہ لوگ چاشت کی نمازاداکرنے کی طرح دویاچاررکعت اداکرلیں، علامہ حصکفیؒ لکھتے ہیں: فإن عجز صلی أربعاً کالضحی’’اگرعاجزہوجائے توچاشت کی طرح چاررکعت نماز پڑھے‘‘، علامہ شامیؒ نے لکھاہے کہ یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نمازعیدکی قضاء نہیں ہے کہ نمازعید کی ہیئت میں نہیں پڑھی جائے گی(ردالمحتار مع الدرالمختار:۱/ ۵۸-۵۹)؛ البتہ ثواب کے حصول کے لئے پڑھ لینابہترہے، علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:فلوصلی مثل صلاۃ الضحی لینال الثواب کان حسناً ’’اگرثواب کے حصول کے لئے چاشت کی نمازکی طرح پڑھ لیتاہے توبہترہے‘‘(بدائع الصنائع، فصل صلاۃ العیدین:۲/ ۲۴۹)۔
 ۷-مبارک باد دینا:عیدکے دن نمازکی ادائے گی کے بعد مبارک باد دینانہ صرف یہ کہ جائزہے؛ بل کہ اسے مستحب بھی قراردیاگیاہے، علامہ شامی نے محقق ابن امیرحاج کے حوالہ سے نقل کیاہے:بل الأشبه أنهاجائزۃ مستحبة فی الجملة۔(ردالمحتار:۲/ ۱۶۹) ’’اشبہ یہ ہے کہ وہ فی الجملہ جائزمستحب ہے‘‘، اسی کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ ایساکیاکرتے تھے؛ چنانچہ حافظ ابن حجرؒنے سندحسن سے جبیربن نفیرکاقول نقل کیاہے، وہ فرماتے ہیں: کان أصحاب رسول الله ﷺ إذالتقوا یوم العیدیقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنک۔(فتح الباری:۲/ ۴۴۷)’’اصحاب رسولﷺ جب عیدکے دن ملتے توایک دوسرے سے کہتے: اللہ ہم سے اورآپ سے قبول کرے‘‘، اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ عیدکے دن مبارک بادی دینادرست ہے، وہاں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مبارک باد دیتے وقت ’’تقبل اللہ منا ومنک‘‘کہناچاہئے، نیزمبارک بادی دیتے وقت مصافحہ یامعانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ اس کولازمی سمجھ کرنہ کیاجائے(banuri.edu.pkفتوی نمبر: 143909200979)، مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ ؓ لکھتے ہیں: عیدین میں معانقہ کرنایا عیدکی تخصیص سمجھ کرمصافحہ کرناشرعی نہیں؛ بل کہ محض ایک رسم ہے(کفایت المفتی:۳/ ۳۰۲)۔
 ۸-خوشی کااظہار:عیدکادن خوشی کادن ہے، اس کا اظہار بھی ہوناچاہئے؛ لیکن خوشی کے اظہارکے لئے وہی طریقہ اختیارکرناچاہئے، جوشریعت کے دائرہ میں درست ہو، ایسے اعمال سے گریزکرناچاہئے، جوشریعت کے خلاف ہو، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: دخل أبوبکروعندی جاریتان من جواری الأنصار تغنیان بماتقاولت الأنصاریوم بعاث- قالت: ولیستابمغنیتین- فقال أبوبکر: أبمزامیرالشیطان فی بیت رسول اللهﷺ وذلك فی یوم عید، فقال رسول اللهﷺ: یاأبابکر، إن لکل قوم عیداً، وهذاعیدنا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۵۲) ’’ابوبکرؓمیرے پاس اس وقت آئے، جب کہ میرے پاس انصار کی دولڑکیاں جنگ بعاث میں انصارکاکارنامے ذکرکرکے گارہی تھیں- فرماتی ہیں کہ وہ مغنیہ نہیں تھیں- ابوبکرنے کہا: عیدکے دن رسول اللہ ﷺ کے گھرمیں شیطان کے مزامیرسے کام لیاجارہاہے تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر!ہرقوم کی عید ہوتی ہے اوریہ ہماری عیدہے‘‘، اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ عیدکے دن خوشی کااظہارکیاجاسکتاہے، یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ خوشی کے اظہارکے لئے اچھے اشعار(حمد، نعت اورنظم وغیرہ)بھی پڑھے اورسنے جاسکتے ہیں؛ لیکن آج کل بعض جگہوں پراس دن ڈی جے(DJ)وغیرہ بجایاجاتاہے، یہ کسی طورپردرست نہیں۔
 یہ ہیں وہ کام ، جوہمیں عیدکے دن کرنے چاہئیں کہ یہ شرعاً درست ہیں اور ان کاموں سے مکمل طورپراجتناب کرنا چاہئے، جوشریعت کے خلاف ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین "!

نوٹ/ واوین کی تحریر ہمارے فاضل دوست اور علمی کاموں میں مشیر جمیل اختر جلیلی ندوی کی ہے

Monday, March 16, 2026

عالمہ کی سند حاصل کرنے والی بیٹیوں کے نام مولانا آفتاب عالم ندوی۔ ناظم جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ

عالمہ کی سند حاصل کرنے والی بیٹیوں کے نام
°°°°°°°°°°°°°°°°°
از: آفتاب عالم ندوی۔ 
ناظم جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ ۔ 
موبائل ۔۔ 7004464267

آج سے پچیس تیس سال پہلے ملک میں ملت کی بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے، خاص طور پر بہار، بنگال اور جھارکھنڈ میں غالباً ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں تھا جہاں عالمہ کا مکمل نصاب پڑھایا جاتا ہو۔ ساؤتھ میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ نوے کی دہائی سے پہلے خود اترپردیش میں بھی، جو دینی تعلیم کی راجدھانی ہے، لڑکیوں کے ادارے مشکل سے دو تین ہی ہوں گے۔ نوے کی دہائی میں مدارس البنات کی شروعات ہوئی اور پھر تیزی سے لڑکیوں کے مدرسے قائم ہونے لگے۔ اب ماشاء اللہ ہر جگہ بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے موجود ہیں۔ اگرچہ ابھی تعلیم و تربیت، نصاب اور نظم و نسق میں سدھار اور بہتری کیلئے ان مدرسوں کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ یہ الگ موضوع ہے، اس پر پھر کبھی گفتگو ہوگی۔
آج مجھے اپنی ان بیٹیوں سے بات کرنی ہے جو عالمہ کے نصاب کی تکمیل کرکے فارغ ہورہی ہیں۔
جامعہ ام سلمہ مسلم لڑکیوں کی دینی و عصری تعلیم و تربیت کیلئے 1996 میں قائم ہوا۔ اس وقت لڑکیوں کی دینی تعلیم کیلئے بہار، بنگال، نیپال وغیرہ میں شاید ایک بھی مدرسہ نہیں تھا۔ اس لیے جب جین مذہب کے مقدس پارسناتھ اسری سے قریب نواٹانڈ گاؤں میں ام سلمہ کا افتتاح ہوا تو موجودہ جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع کے علاوہ بہار کے متعدد علاقوں کی بچیاں ام سلمہ میں داخل ہوئیں اور نصاب کی تکمیل کے بعد سند حاصل کرکے اپنے وطن لوٹیں۔
اگرچہ اب ہر علاقہ میں دخترانِ ملت کی دینی تعلیم کیلئے ادارے قائم ہوچکے ہیں، اس کے باوجود آج بھی جھارکھنڈ، مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دور دراز خطوں سے جامعہ ام سلمہ میں طالباتِ علومِ نبوت کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سال بھی فارغ ہونے والی طالبات میں پٹنہ، پورنیہ، مونگیر، کھگڑیا، جہان آباد، جامتاڑہ، گریڈیہ اور دھنباد کی بیٹیاں شامل ہیں۔
پیاری بیٹیو! آپ نے اپنے مدرسہ کی چہار دیواری میں معلمات کی شفقتوں کی گھنی چھاؤں اور جامعہ کے ذمہ داروں کی دیکھ ریکھ میں آٹھ دس سال گزارے۔ آپ نے کتابیں بھی پڑھیں اور یہاں کے ماحول اور ٹیچروں سے، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے فکر و سوچ سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ وقتاً فوقتاً ادارہ میں تشریف لانے اور خطاب کرنے والے روشن ضمیر بزرگوں کی قیمتی نصیحتوں سے بھی آپ نے اذہان و قلوب کو جلا بخشی۔
آپ نے یہاں جو وقت گزارا، وہ آپ کی زندگی کے انتہائی قیمتی لمحات ہیں، کوالیٹی کے اعتبار سے بھی اور کونٹیٹی کے اعتبار سے بھی۔ انسان کی یہی عمر سیکھنے اور ذہن و فکر کی تشکیل کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں انسان کو جیسا ماحول ملتا ہے، جیسی تعلیم و تربیت ملتی ہے، عموماً وہ ویسا ہی بنتا ہے۔ اسی عمر کی تعلیم و تربیت اس کا مستقبل طے کرتی ہے۔
اتنے اہم اور قیمتی دن جہاں بھی گزریں، وہ جگہ چاہ کر بھی آدمی نہیں بھلا سکتا۔ خاص طور پر بطور طالبعلم کے جس اسکول اور جس مدرسہ میں آٹھ دس سال گزریں، وہ ماہ و سال کیونکر بھلائے جاسکتے ہیں؟ وہاں کی صبحیں، وہاں کی شامیں، وہاں کے اشجار و طیور، ہاسٹل سے کلاس اور کلاس سے ہاسٹل آنے جانے کے مناظر، معلمات کا جلدی سلانے کی کوشش اور فجر میں جگانا آپ انہیں کیونکر فراموش کرسکتی ہیں؟
آپ اپنی مادرِ علمی سے فارغ ہوکر جارہی ہیں۔ پندرہ بیس روز کی چھٹیوں میں جانے سے اس بار کا جانا مختلف ہے۔ آپ کی چھوٹی بہنیں اسی طرح جارہی ہیں کہ جامعہ جس دن کھلے گا اسی دن ان کی حاضری ضروری ہے، لیکن اس بار آپ نہیں لوٹیں گی، کہ آپ فائنل امتحان دے چکی ہیں۔ جامعہ ام سلمہ کی طالبات جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے زیر انتظام میٹرک اور مادرِ علمی ام سلمہ کے عالمہ کے امتحانات سے فارغ ہوچکی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں ایک روایت یہ رہی ہے کہ فارغ ہونے والی طالبات کے اعزاز میں جونیر طالبات الوداعیہ تقریب کا انعقاد کرتی ہیں۔ اس موقع پر فارغ ہونے والی طالبات نظم و نثر میں اپنے جذبات و احساسات، ادارہ میں گزرے ہوئے ایام اور سینیر و جونیر سہیلیوں کے ساتھ بیتے خوبصورت شب و روز کو بیان کرکے خود بھی روتی اور محفل کو بھی رلاتی ہیں۔ طالبات اپنی بڑی بہنوں کے تجربات دلچسپی سے سنتی ہیں تاکہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ چھوٹی بہنیں فارغ ہونے والی بڑی بہنوں سے اپنی غلطیاں اور گستاخیاں معاف کرواتی ہیں۔
بیٹیو! آج کے پرفتن دور میں اپنے عقائد اور اپنی تہذیب و شناخت کے ساتھ باقی رہنا ایک بڑا چیلنج اور آزمائش ہے۔ خاص طور پر مسلم خواتین اور بیٹیوں کیلئے بازار سے لے کر تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، دفتروں اور پبلک پلیس ہر جگہ دشواریاں اور آزمائشیں گھات میں لگی ہوئی ہیں۔ بے دینی اور انحراف و فساد کی ہر طرف یلغار ہے۔ مادیت اور سماج میں اونچا مقام و مرتبہ کے حصول کا طوفان آیا ہوا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ فتنے نہیں تھے، لیکن آج یہ فتنے بڑے طاقتور اور ہر طرح کے اسباب و وسائل سے آراستہ ہیں۔ دین اسلام ہمیں ان تمام چیلنجوں، آزمائشوں اور فتنوں سے مقابلہ کرنے اور اپنی شخصیت و شناخت کی حفاظت کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام پوری زندگی کا ایک کامل و متوازن دستورِ حیات ہے۔ قرآن و حدیث میں زندگی کے تمام مسائل و مشکلات کا حل موجود ہے۔
صحابۂ کرام نے اور پھر تابعین و تبع تابعین، فقہاء و محدثین و مجتہدین اور مجددین و مفکرین نے ہر زمانے میں وقت کے اسلوب و زبان میں شریعت کی توضیح و تفسیر پیش کی ہے۔ دین کے کسی شعبہ میں کسی بھی زمانے میں کوئی غموض و ابہام نہیں رہا ہے۔
آپ نے یہاں اپنے اساتذہ اور استانیوں سے براہِ راست کلامِ الٰہی اور کلامِ نبوت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان دینیات و اسلامیات کے معاملہ میں بڑی مالدار اور خوش نصیب زبان ہے۔ اردو میں دنیا کی بہترین تفسیریں، فقہ و فتاویٰ کے مستند ترین مجموعے اور سیرت و علمِ کلام کے موضوعات پر قابلِ فخر لٹریچر موجود ہے۔ دنیا کی بیسیوں زبانوں میں ان کتابوں کا ترجمہ ہوچکا ہے۔
آپ ان کتابوں سے اپنے مطالعہ میں وسعت و گہرائی پیدا کرسکتی ہیں۔ فراغت کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سیکھنے اور مطالعہ کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب مزید پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہرگز فراغت کا یہ مطلب نہیں ہے۔ فارغ ہونے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا یا رسمی تعلیم اور کلاس میں اساتذہ سے پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا۔
تو آپ مطالعہ کا سلسلہ کبھی بند نہ کریں۔ وقت کو مرتب شکل میں تقسیم کرلیں اور مداومت اختیار کریں۔ جو بھی طے کریں، سختی سے اس کی پابندی کریں۔ پابندی اور مداومت میں بڑی برکت ہے۔
أحبُّ الأعمال إلى الله أدومها وإن قلَّ۔
قرآن و حدیث سے ثابت شدہ عقائد اور متفق علیہ امور میں اختلاف سے پرہیز کریں۔ ائمۂ مجتہدین اور فقہاء کے اختلافات کو کفر و ایمان کا اختلاف نہ سمجھیں۔ تصلب اور شدت اصول و عقائد میں ہو، فروع و جزئیات میں شدت سے بچنا چاہیے۔ قرآن و حدیث سے ماخوذ و مستنبط مسائل میں اختلافات کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔
سیرت نبوی، اسلام کے ابتدائی عہد کی تاریخ اور نامور اسلامی شخصیات کے افکار و خدمات سے آپ کو واقف ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملک کی تاریخ سے آپ کو نابلد نہیں رہنا چاہیے۔ ہندو اور بدھ مذہب اور ان کی دینی شخصیات سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ مغربی تہذیب اور دوسرے جدید معاشی، ادبی، فکری اور سیاسی تحریکات سے ناواقفیت داعی اور مبلغ کیلئے بڑا عیب اور مضر ہے۔ آپ کو اردو میں بھی ان موضوعات پر کتابیں مل جائیں گی۔
آپ میں سے کچھ ہوسکتا ہے آگے کی تعلیم کے لیے دوسرے دینی یا عصری اداروں کا رخ کریں یا گھر سے قریب کسی کالج میں داخلہ لیں۔ جہاں بھی رہیں، آپ اس طرح رہیں کہ آپ کا ادارہ، آپ کے والدین اور دینی تعلیم کا نام روشن ہو۔ اس کا خیال رہے کہ آپ کا کوئی قدم، کوئی عمل، کوئی فیصلہ آپ کے ادارے یا آپ کے خاندان کا سر نہ جھکادے۔
آپ کی چھوٹی غلطی دوسری لڑکیوں کی بڑی غلطی سے بھی بڑی سمجھی جائے گی۔ آپ امہات المؤمنین، صحابیات اور تاریخ اسلام کی قابلِ فخر خواتین کی نمائندہ ہیں۔ آپ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنی ہے۔
آپ مدرسہ میں جان چکی ہیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں، آپ کو کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ لیکن انسان کو صحیح راستے سے بھٹکانے والی چیزیں بے شمار ہیں۔ اللہ سے نیک کاموں کی توفیق و ہمت اور برے کاموں سے بچنے کی ہر مومن کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔
گھر اور سماج کا پاس و لحاظ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شریعت کی پامالی ہوجائے، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوجائے۔ ہر وقت ذہن میں وہ عظیم نسبت رہنی چاہیے جو آپ کو حاصل ہوئی ہے: دینی تعلیم اور جامعہ ام سلمہ کی نسبت، اور جس عظیم خاتونِ اسلام کی طرف آپ کی مادرِ علمی کو انتساب کا شرف حاصل ہے، یعنی ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نسبت۔
آپ اس مقدس و اعلیٰ نسبت کو کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں۔
دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں، زمانہ کے فتنوں سے اللہ آپ کی حفاظت کرے اور آپ کے علم و عمل اور اخلاق و کردار سے خلقِ خدا کو نفع پہنچائے۔
آمین۔

24 رمضان 1447ھ 13 مارچ 2026ء، بروز سنیچر

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...