Translate

Sunday, November 30, 2025

دیکھو انہیں جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو ـ اصل سرمایہ ایمان و عقیدہ کی حفاظت ہے ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

دیکھو انہیں جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو 

اصل سرمایہ ایمان و عقیدہ کی حفاظت ہے ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

انسان کی نجات، ایمان کی پختگی اور روحانی ارتقا کا حقیقی دارومدار محض ظاہری علم، خاندانی وجاہت یا ذہنی فہم کی فراوانی پر نہیں ہے۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم کبھی کبھی ہدایت کا وسیلہ بنتا ہے اور کبھی اپنے حامل کے لئے حجابِ اکبر بھی۔ 
اگر طلبِ صادق اور توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہوں تو علم، انسان کو ہدایت کے بجائے غرور اور غفلت کی پستیوں میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے نجات کو ایمان، اخلاص اور طلبِ حق سے جوڑا ہے، نہ کہ محض معلومات اور ذہانت کے اثبات سے۔
ابلیس، جو فرشتوں میں عبادت و معرفت کے اعتبار سے ممتاز سمجھا جاتا تھا، وسیع علم رکھنے کے باوجود رب کے حکم سے انکار، اپنے تکبر اور باطنی عناد کے سبب مردود ہوا۔
 اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ علم اگر طلبِ حق، تسلیمِ حقیقت، اور انکساری سے خالی ہو تو وہ نجات کا ضامن نہیں بنتا۔ اسی طرح انسانی معاشرے میں ایسے بہت سے افراد ملتے ہیں ،جو وسیع علمی ذخیرہ رکھتے ہیں، ادب و ثقافت اور فلسفے اور سائنس کے دقائق سے واقف ہیں، مگر چونکہ ان کے دل میں طلبِ صادق نہیں ہوتی، اس لیے وہ الحاد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات تو ہوتی ہیں، مگر وہ نورِ ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہوتے، کیونکہ ہدایت علم سے زیادہ قلب کی کیفیت اور اخلاصِ نیت کا تقاضا کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا دروازہ اُنہی پر کھلتا ہے، جن کے دل میں سچی تلاش، عاجزی، اور حقیقت کے سامنے جھکنے کا جذبہ موجود ہو۔ ورنہ محض ذہانت، علمی تحقیق، یا خانوادے کی مذہبی حیثیت انسان کو نہ ایمان عطا کر سکتی ہے اور نہ نجات کی ضمانت بن سکتی ہے۔ ایمان و ہدایت کی بنیاد ہمیشہ سے طلبِ صادق، تواضع، اور توفیقِ الٰہی پر قائم رہی ہے؛ جو دل ان اوصاف سے خالی ہو، وہ علم کے باوجود محروم بھی رہ سکتا ہے اور گمراہ بھی۔
ذیل کی یہ تحریر اسی حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرے گا کہ ہدایت کا اصل سرچشمہ علم نہیں بلکہ اخلاص، طلب اور توفیق ہے؛ اور انسان کی سرکش نفسیات، ابلیس کی مثال اور جدید ملحدوں کے علمی پس منظر سے یہ حقیقت کیسے منکشف ہوتی ہے۔ 
دوستو ! 
دنیا میں دولت، شہرت ،عزت عہدہ و منصب کا ملنا اور ناموری حاصل کرنا یہ اصل کمال نہیں ہے ، اصل یہ ہے کہ دنیا میں اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے ساتھ ضرورت کے بقدر معاش اور نیک نامی مل جائے اور اصل دولت اور پونجی جو ہمارا اور ہماری نسلوں کا ایمان و عقیدہ ہے وہ صحیح سالم اور محفوظ رہے اور ہمارا مرنا جینا سب اللہ کی رضا کے مطابق ہو جائے ۔ 
 اندازہ کیجئے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جو خود نبی تھے اور ان کے والد اور دادا بھی نبی تھے ، جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے تمام اہل خانہ بیٹوں بیٹیوں اور پوتوں پوتیوں نواسوں اور نواسیوں سے یہ اطمینان حاصل کرنا چاہا کہ بتاؤ میرے مرنے کے بعد کسی کی عبادت کرو گے ؟ ،،ما تعبدون من بعدی ؟،،
  جب نبی وقت کو اپنی اولاد اور اپنے خاص متعلقین کے آئندہ ایمان و یقین کے بارے میں اس قدر خطرہ ہے کہ کہیں وہ اسلامی اور دینی ماحول کے باوجود کہیں ایمان کی دولت سے دور تو نہیں ہو جائیں گے؟ ۔ 
ہمیں اور آپ سب کو اپنے ماتحتوں اور اپنی اولاد کے ایمان و عقیدہ کے لیے کس قدر متفکر ہونا چاہیے ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنی اولاد سے آخری وقت کی یہ گفتگو اور مکالمہ ہمیں بہت کچھ سبق دے رہا ہے اور بہت سے حقائق کو کھول رہا ہے ۔ اس مکالمہ اور گفتگو سے ملنے والے پیغام کو ہم سب کو سمجھنا چاہیے اور اس کا استحضار رہنا چاہیے ۔ 
  حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ آنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر زور دیتے تھے اور اس پر مہمیز لگاتے تھے ۔ 
 ایک موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا :

   ,,آخری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسل کی حفاظت کیجیے مکتب قائم کیجیے، دینی تعلیم کو رواج دیجیے، قریب مدرسہ ہے، وہاں اپنے بچوں کو بھیجئے کہ محلہ ہے محلہ کے بچے، برادری ہے برادری کے بچے اور وہ اس قابل ہو جائیں کہ قرآن کو پڑھنے لگیں گے، دینی کتابوں کو سمجھنے لگیں گے، عقائد وفرائض اور احکام سے واقف ہو جائیں گے تب ہی مسلمان رہ سکیں گے۔ 
اس وقت بہت خطرناک منصوبہ چل رہا ہے، مسلمانوں کے ذہنوں سے، جن کو اللہ نے اولاد دی ہے یا جن کے زیر اثر ایک نئی نسل ہے، انہیں بالکل اس کی فکر نہ رہے، ان کا عقیدہ کیا ہوگا، کس شریعت کو مانیں گے، پیغمبر کو مانیں گے، اس کے حکموں کو مانیں گے، اس کی پیروی کریں گے، دیندار بنیں گے، اللہ کو راضی کرنے اور ناراض کرنے کا فرق پہچانیں گے یا نہیں، تو آپ کے لیے فرض ہے اور ساری چیزوں سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ مکتب قائم کریں، مدرسہ قائم کریں، اور گھر میں بھی ایسا ماحول بنائیں، بیبیوں سے کہہ دیجیے، خواتین، مستورات سے کہہ دیجیے کہ گھر میں دینی باتیں کیا کریں، بچوں کو انبیاء کے قصے، صحابہ کے واقعات، صلحاء کی حکایات بیان کیا کریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنائیں کہ انہوں نے توحید کا کیا نمونہ پیش کیا، اور کس طرح سے بتادیا کہ جن کو آپ لوگ پوجتے ہیں، ان کے قبضہ میں کچھ نہیں ہے، جن کی آپ پرستش کرتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے، میں نے ان کے ساتھ کیا کیا، وہ اپنے کو بھی نہیں بچا سکے تو آپ کو وہ کیا بچائیں گے؟ انبیاء علیہم السلام کے قصے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسی علیہ السلام اور پھر سرور کائنات حضور صلى الله عليه وسلم کے قصے سنانا اور ان سے واقف کرانا اور محبت پیدا کرنا۔
 (حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
(سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
دوستو !!!!!
ہندوستان میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ آنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر توجہ نہیں دی گئی ،ان کی دینی تعلیم و تربیت کا نظم نہیں کیا گیا ، آئندہ وہ مسلمان رہیں اس کی فکر نہیں کی گئی ، تو ایسا وقت بھی آیا ،تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ علماء اور اہل دین و دانش کے خاندان میں نسلیں ملحد ہوگئیں اور بے راہ روی کی شکار ہوگیئں۔۔
خلیل الرحمٰن چشتی صاحب حال امریکہ نے 18/ مئی 2025ء کو ایک مضمون تحریر کیا تھا اور یہ ثابت کیا تھا کہ اگر ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر زور نہیں دیا جاتا ہے اور اس کے لئے فکر مندی نہیں پائی جاتی ہے، تو علماء اور اہل علم و فضل کی نسلیں بھی بے راہ روی اور الحاد کی راہ اپنا لیتی ہیں۔ 
 انہوں نے اپنے مضمون میں جو کچھ لکھا ہے، وہ دیدئہ عبرت نگاہ کے لئے حاضر خدمت کرتے ہیں ،تاکہ ہم لوگ بھی سبق لیں اور اپنی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے تئیں حساس اور فکر مند ہوں ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 وہ لکھتے ہیں: 
مولانا فضل حق خیر آبادی بہت بڑے عالم تھے۔ مجاھد آزادی بھی ۔
1857ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ 1861 ء میں وفات پائی۔
ان کے بیٹے  احمد حسن رُسوا شاعر تھے۔ 
رُسوا کے بیٹے مُضطر خیر آبادی  بھی مشہور شاعر ہوئے۔گوالیار میں قیام کیا۔
1927 ء میں وفات پائی۔ امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ بہت نام کمایا۔
مُضطر خیر آبادی کے بیٹے جان نثار اختر مشہور ترقی پسند شاعر تھے۔ 1976ء میں وفات پائی۔ یہ بھی ملحد تھے۔
جان نثار اختر کا بیٹا  ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا۔یہ ملحد شاعر جاوید اختر ہے۔ 
1945 ء میں ولادت ہوئی۔ اب عمر 80 سال ہے۔  جاوید اختر کے ماموں مشہور شاعر مجاز لکھنوی تھے ، جن کی جوانی میں کثرت مئے نوشی سے وفات ہوئی۔
جاوید اختر نے فلموں میں کہانیاں وغیرہ لکھ کر خوب دولت کمائی۔پہلے ارونا ایرانی سے شادی کی۔ بچے ہوئے۔ طلاق کے بعد ملحد ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی بیٹی اداکارہ و سیاست دان شبانہ اعظمی سے شادی کی۔ 
موصوف خدا اور دین اسلام کے خلاف اعلانیہ ہر روز زہر اگلتے رہتے ہیں۔
 
تازہ ترین بیان میں فرماتے ہیں۔
" اگر مجھے پاکستان اور جہنم کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو جہنم کا انتخاب کروں گا۔ " 

علمائےخیر آباد کی اولاد کا اب یہ عالم ہے۔
یہی عالم ہم میں سے اکثر کا ہے۔ 
ہمارے آبآء و اجداد کیا تھے ؟ ہم کیا ہیں ؟  
 *فَاعْتَبِرُوا يَا اولی الابصار*

ایک صاحب نظر جاوید اختر کے خاندانی وجاہت کے باوجود اس ملحدانہ روئے پر  پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
ان کے پردادا، *فضل حق خیر آبادی* 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہد، شیخ الاسلام، قرآن کے عالم، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا.
ان کے دادا، *مضطر خیر آبادی* بڑے شاعر اور عالم، دینی روایت کے وارث.
ان کے والد، *جانثار اختر* عظیم شاعر، مگر ... سوشلسٹ فکر میں ڈوب گئے، یعنی مذہب میں کمزور ہوتے گیے.
اور پھر *جاوید اختر* ایک مشہور شاعر، مگر مُلحِد ، جو خدا کے وجود ہی کا انکار کرتا ہے.
دیکھا؟؟؟
*چَند نَسلوں کے اندر ایک خاندان کہاں سے کہاں جا پہنچا.*
دین سے وَفاداری کرنے والے عُلماء کا خاندان، ایک اِلحاد پر فَخر کرنے والے شَخص پر خَتم ہوا.
سوچئے ... اگر ہم اپنی نَسل کو دین سے جوڑنے کے بجائے سکْرِین، مَغربی فَلسفہ اور نَفْس کی غُلامی کے حوالے کردیں گے... تو ہماری آئندہ نسلوں کا اَنجام کیا ہوگا؟؟؟ 
آج اگر ہمارے گھر میں اِیمان کی شَمَع ہے بھی؛ تو کَل ہَمارے بیٹے (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) جاوید اختر سے بھی آگے بڑھ کر شایَدْ کُھلَّم کُھلّا دین کا مَذاق اُڑائیں گے...
اور پھر... ہماری اَولاد کی اَولاد (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) خُدا کو ماننے کا نام بھی جُرم سَمجھے گیں...!
*تَفَکَّروا وَ تَدَبَّرُوا*

Wednesday, November 26, 2025

دستورکی حفاظت ہر بھارتی شہری کی اولین ذمہ داری:انیس الرحمن قاسمی

دستورکی حفاظت ہر بھارتی شہری کی اولین ذمہ داری:انیس الرحمن قاسمی
پھلواری شریف 26/نومبر 2025(پریس ریلیز)
ہمارا ملک بھارت دنیا کا ایک عظیم جمہوریت ہے،اس کا اپنا دستور وآئین ہے،جس کی پابندی ملک کے ہر شہری پر لازم ہے،ہمارا دستور26/نومبر 1949ء کو پارلیامنٹ سے منظورکیا گیااور26/جنوری 1950ء کو ہم نے اس دستور کو اپنے اوپر نافذ کیا،آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزارصدرحضرت امیر شریعت مولاناانیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ ہمارے ملک کی سالمیت اوراس کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت اوراسی کثرت میں وحدت کے نظریہ پر قائم ہیں،امن کی فضا قائم رہے گی اوردستور کے مطابق جب ہر شہری اورہندوستان کا ہر محکمہ دیانت داری سے فیصلے کرے گا تو ملک ترقی اورخوش حالی کی طرف تیزگامی سے سفر کرے گا،لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کثرت میں وحدت کے نظریہ اوراخوت وبھائی چارگی کو کمزورکرنے کوششیں جاری ہیں،نیز بہت سی ریاستوں میں دستورہند کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے تناظرمیں یہ ضروری ہے کہ جمہوری اقدار اوراس کے سماجی،سیاسی تانے بانے کے استحکام کی غرض سے ملک کے سبھی انصاف پسند طبقات،دلت،آدی باسی, بدھسٹ،جین،سیکھ،عیسائیوں اورسیکرلزم پر یقین رکھنے والوں نیز ہر طبقہ اورسوسائیٹی کے ساتھ ساتھ ماہر ین قانون،میڈیا کے افرادکو دستور کے تحفظ کے لیے آگے آناہوگا؛کیوں کہ آج ہمارا دستور ہی ایک خاص طبقہ کی زدمیں ہیں،جس کا تحفظ ہر بھارتی کی اولین ذمہ داری ہے،کیوں کہ اگر دستورپر زد پڑی اوردستورختم ہو گیا،توہماراملک ظلم وناانصافی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوب جائے گا،مولاناقاسمی نے ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ اس جمعہ کو اپنی تقریروں کا موضو ع دستور ہنداوروقف بورڈمیں رجسٹرڈاوقاف کوامیدپرٹل پراندراج کرنے کوبنائیں اوردستورہند میں دیئے گئے حقوق سے لوگوں کوواقف کرائیں۔

حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ—خدمتِ علم و اردو کا روشن مینار(مولانا)طفیل احمد ندوی موسی پور،پاتے پور،ویشالی

حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ—خدمتِ علم و اردو کا روشن مینار
(مولانا)طفیل احمد ندوی 
 موسی پور،پاتے پور،ویشالی
096935 04846
بلاک پاتے پور،ضلع ویشالی کی علمی و دینی سرزمین میں حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ اماموری کا نام ایک تابندہ ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانا نے اپنی پوری زندگی خدمتِ علم،فروغِ اردو اور تربیتِ نسلِ نو کے لیے وقف کر دی۔بچوں کی اخلاقی و علمی تربیت،ان کی رہنمائی اور اردو زبان کے فروغ کی جدوجہد مولانا کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو رہی۔
اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے مولانا شمسی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو کے جس محاذ پر بھی آواز بلند ہوئی،مولانا وہاں سرگرمِ عمل دیکھے گئے۔اسی جدوجہد کے اعتراف میں پروفیسر عبدالمغنی کے دورِ صدارت میں آپ کو انجمن ترقی اردو،بلاک پاتے پور کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم سے مولانا نے علاقے میں اردو کے چراغ روشن کیے اور کئی علمی و ادبی تحریکوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
مدرسہ اسلامیہ اماموری میں مولانا نے عمر بھر اردو کی تدریس کا فریضہ نبھایا۔سینکڑوں طلبہ و طالبات نے آپ سے علمِ اردو سیکھا اور آج مختلف حصوں میں علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خصوصاً اردو اساتذہ کی تربیت،رہنمائی اور تقرری میں مولانا کا کردار نہایت اہم رہا ہے،جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد آج مختلف اداروں میں اردو کی شمع روشن کر رہی ہے۔
تعلیم و تربیت پر مشتمل منتخب مقالات کا ایک گراں قدر مجموعہ بھی مولانا نے ترتیب دیا، جس کا عنوان ’’تعلیم و تربیت کا فکری کارواں‘‘ ہے۔اس مجموعہ میں علامہ ابن خلدون،مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ، مولانا سید محمد رابع ندوی اور مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی جیسے اکابر کے قیمتی مقالات شامل ہیں،جو علمی دنیا میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ سے سبکدوشی کے بعد بھی مولانا نے خدمتِ خلق کا سفر نہیں روکا۔آج بھی جامع مسجد دھنکول میں نمازِ عصر کے بعد بچوں کو دینیات اور اردو کی بنیادی تعلیم دیتے ہیں۔عمر کے اس حصے میں بھی مولانا کا علم سے تعلق،تربیتی جذبہ اور دین کی خدمت کا شوق اہلِ علم کے لیے روشن مثال ہے۔
مولانا کی طویل خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا نیاز احمد قاسمی، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ انجمن فلاح المسلمین حاجی پور نے ’’علم و فضل کے نیرِ تاباں:حضرت مولانا الحاج عبدالقیوم شمسی‘‘ کے عنوان سے ایک جامع کتاب تصنیف کی،جس کی رسمِ اجرا نہایت شان و وقار کے ساتھ مدرسہ اسلامیہ انجمن فلاح المسلمین اور مدرسہ حسینیہ چھپرہ خُرد میں انجام پایا۔اس کتاب میں مولانا کی زندگی،علمی جدوجہد اور خدماتِ اردو کا جامع تذکرہ کیا گیا ہے۔
مولانا عبدالقیوم شمسی کے دل میں ہمیشہ یہ فکر رہی کہ علاقہ میں دینی تعلیم کس طرح عام ہو اور کون سے مقامات اس نعمت سے ابھی تک محروم ہیں۔اپنی مصروفیات کے باوجود آپ ایسے گاؤں اور بستیوں کا دورہ کرتے جہاں نہ کوئی بڑا مدرسہ تھا نہ مکتب،تاکہ وہاں بنیادی دینی تعلیم کا آغاز ممکن ہو سکے۔ اسی فکر کے تحت مولانا اکثر ہمارے گاؤں موسیٰ پور (بنجر) بھی تشریف لے آتے—وہ علاقہ جو طویل عرصے سے علمی و دینی سرگرمیوں سے محروم سمجھا جاتا تھا۔وہاں کے ذمہ داران،خصوصاً عم محترم حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب سے ملاقاتیں کرتے اور اس بات کی ترغیب دیتے کہ یہاں بھی کسی نہ کسی صورت میں دینی تعلیم کا نظم قائم ہونا چاہیے۔
جب مدرسہ عظمتیہ رحیمیہ موسی پور کی ازسرِنو تعمیر کا مرحلہ آیا تو مالی دشواریوں کے باعث ذمہ داران عارضی دیواریں،کرکٹ شیٹ وغیرہ لگا کر تعلیم شروع کرنے کا سوچ رہے تھے۔ایسے میں مولانا شمسی نے نہایت حکیمانہ مشورہ دیا کہ          
  "دینی کام کو کبھی عارضی بنیاد پر نہ کیجیے؛ چاہے ایک اینٹ ہی رکھنی پڑے،مگر بنیاد پختہ ہو۔ ’’دین کا کام اللہ کے حوالے کیجیے،نیت صاف رکھیے،اور مضبوط بنیاد رکھیے‘‘—
        مولانا کے ان الفاظ نے ذمہ داران کو نئی سمت دی۔انہوں نے مشورے پر عمل کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہی مدرسہ دو منزلہ مضبوط عمارت کی شکل اختیار کر چکا ہے،جس میں چھ پختہ کمرے،غسل خانے،بیت الخلاء اور رہائش کا مکمل انتظام ہے۔اگر اس وقت عارضی ڈھانچہ کھڑا کیا جاتا تو ہر سال مرمت پر ہی خرچ ہوتا اور ترقی کی راہیں مسدود رہتیں۔
مولانا شمسی کا یہ بصیرت افروز مشورہ آج بھی علاقے کے لیے قیمتی مثال ہے، جو بتاتا ہے کہ بڑے لوگوں کی رہنمائی میں ہمیشہ خیر اور مصلحت ہوتی ہے۔ان کی اس نگرانی اور مسلسل کوشش کے نتیجے میں موسیٰ پور جیسے علاقے میں بھی اب دینی تعلیم کا چراغ روشن ہے اور بچے اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
حضرت مولانا عبدالقیوم شمسی کی زندگی علم، خدمت اور اخلاص کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی فکر،ان کی محنت اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو صحت و عافیت کے ساتھ درازیِ عمر عطا فرمائے اور ان کے فیوض سے علاقہ مزید مستفید ہو۔آمین

Tuesday, November 25, 2025

احسان جتانے والوں کا ہدیہ کبھی قبول نہ کریں ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

احسان جتانے والوں کا ہدیہ کبھی قبول نہ کریں !  

  محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  ہمارے اسلاف، مشائخ، اور علماء کرام نے ہمیشہ استغنا، خود داری، اور خود اعتمادی والی زندگی گزاری اور کبھی کسی کی دولت و ثروت اور جاہ و جلال اور منصب و اقتدار سے متاثر و مرعوب نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی مرکزی حساس دینی ادارے کے ذمہ داران نے حکومت کی بخشش و اکرامیہ قبول کرنے کی ضرورت سمجھی بلکہ اس کو بڑی حکمت و دانائی کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردیا اور انہوں نے استغنا میں ہی معراج مسلمانی سمجھا، آج بھی علماء اور مشائخ کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے اور ایسے کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ والے انسان کا ہدیہ اور تحفہ قبول نہیں کرنا چاہیے، جو بعد میں سر عام احسان جتائے اور علماء برادری کو رسوا اور ذلیل کرے، اور لفافہ کلچر کا طعنہ دے کر طبقئہ علماء کو نیچے کرنے کی کوشش کرے، بلکہ اگر کبھی مجبوری میں لینا ہی پڑے تو اس کو خرچ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس جو من و عن محفوظ رکھنا چاہیے کہ وقت پڑے تو ہم ایسے بے ضمیر لوگوں کو واپس کر دیں، جو ہدیہ اور تحفہ کے بدلے میں اپنا مفاد پورا کرانا چاہتا ہو۔ 
   ہمارے اسلاف کی روشن تاریخ کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ قاضی بکار بن قتیبہ رح کو بادشاہ وقت ہر سال ایک ایک ہزار دینار الگ سے ہدیہ دیتا تھا اور یہ سلسلہ اٹھارہ سال سے جاری تھا ، کسی مسئلہ پر قاضی بکار کا بادشاہ وقت ابن طولون سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگیا ، قاضی صاحب سے بادشاہ کوئی ایسا فیصلہ کرانا چاہتا تھا ، جو قاضی صاحب درست نہیں سمجھتے تھے ۔ 
بادشاہ نے قاضی صاحب کو گرفتار کردیا اور یہ پیغام بھیجا کہ جتنے دینار اٹھارہ سال سے آپ کو بطور ہدیہ دئیے ہیں، وہ سب واپس کریں ۔
 جب یہ پیغام قاضی صاحب کے پاس پہنچا تو قاضی صاحب کسی تردد کے بغیر گھر کے اندر گئے اور گھر سے اٹھارہ تھیلیاں مہر بند نکال لائے ،جس میں سے ہر ایک میں ایک ایک ہزار دینار تھے ۔
یہ تھیلیاں جب بادشاہ ابن طولون کے پاس پہنچیں تو اس نے دیکھا کہ یہ بعینہ وہی تھیلیاں ہیں، جو قاضی صاحب کے پاس تھیں اور ان کی مہریں تک نہیں ٹوٹی تھیں ۔ ابن طولون یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ قاضی بکار رح نے ان میں سے ایک تھیلی بھی نہیں کھولی ، بلکہ جوں کا توں محفوظ رکھ لیا تھا، بعد میں معلوم ہوا کہ قاضی بکار رح نے اس خیال سے استعمال نہیں کیا تھا کہ امیر سے بلا شبہ اس وقت تعلقات اچھے ہیں ، لیکن کبھی اختلاف پیدا ہوا تو انہیں جوں کا توں لوٹایا جاسکے ، ابن طولون قاضی بکار کی بلندئی کردار ذہانت و حکمت اور استغنا کی نرالی شان دیکھ کر شرم سے عرق عرق ہوگیا ۔ (النجوم الزاہرة فی اخبار ملوک مصر و القاہرة،)
   ایک یا دو سال پہلے راقم الحروف نے ہدیہ و تحفہ کے تعلق سے ایک مختصر مضمون تحریر کیا تھا، جس میں اس تعلق سے کچھ ضروری باتیں بھی آگئی تھیں ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ،،قند مکرر،، کے طور پر پھر قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔
   دوستو ! 
مانگ کر اپنے لیے کسی سے کچھ لینا یہ سوال ہے، بلکہ اس کو عرف عام میں بھیک کہتے ہیں، شریعت میں بلا کسی شدید مجبوری کے ، کسی کے سامنے دست سوال پھیلانا بہت بری چیز ہے، حدیث میں آیا ہے کہ سوال کرنا یعنی کسی سے کچھ مانگنا بری بات ہے،، السؤال ذل،، ۔حدیث ۔ 
مانگنا بری چیز ہے۔ 
ہاں دین کی اشاعت، ملت کے نادار افراد کی خدمت و اعانت کے لیے ،تعلیم کے فروغ کے لیے نیز غریب بچوں اور نونہالوں کی دینی تربیت کے لیے دوسروں سے کہنا اور ان کاموں کی تکمیل کرانا، یہ اس سے الگ چیز ہے، یہاں تو یہ کام کار ثواب بن جاتا ہے، شرط یہ ہے کہ یہ کام اخلاص دیانت داری اور ذمہ داری کیساتھ ہو۔ 
   بہر حال ایک سال پہلے کی بات ہے،میں مادر علمی ندوہ میں ایک عطر فروش کی دکان پر عطر لینے گیا اور اپنی پسند کا عطر لیا، میرے قریب ہی ایک نوجوان کھڑا تھا وہ بھی اسی مقصد کے لیے آیا تھا، اس نے دوکاندار سے کہا کہ آپ نے مولانا صاحب کو جو عطر دیا، وہی ہمیں بھی دے دیں۔ 
میں جب عطر کی قیمت دکان دار کو دینے لگا تو اس نوجوان نے کہا کہ مولانا صاحب یہ میری طرف سے ہدیہ اور گفٹ ہے، آپ اس کی قیمت بالکل نہیں دیں، میں نے بہت کوشش کی کہ قیمت میں ادا کر دوں، لیکن وہ اس پر تیار نہیں ہوئے اور مصر رہے، اور انہوں نے قیمت ادا کردی۔ میں نے بھی یہ سمجھ کر کہ عطر، تکیہ اور بھی بعض چیزیں ہیں، ان کو لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے، بعد میں اس نوجوان نے اپنا تعارف کرایا کہ میں خطئہ شیراز ہند ضلع جون پور کا رہنے والا ہوں، ندوہ کا طالب علم رہا ہوں، لیکن میری قسمت میں عالم اور ندوی ہونا مقدر نہیں تھا، اب یہیں لکھنؤ میں تجارت کرتا ہوں، اپنی تعلیم کے مکمل نہ ہونے کا مجھے بڑا صدمہ اور افسوس ہے۔ لیکن اب کر ہی کیا سکتا ہوں، پھر علیک سلیک کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے ۔ 
   چونکہ بات ہدیہ کی آئی اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ ،،ہدیہ اور اسلامی تعلیمات،،کے حوالے سے دو تین باتیں قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر دوں۔ کیونکہ کہ یہ عمل بھی نبی کریم ﷺ کی ایک اہم اور دائمی سنت رہی ہے، اور صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نیز اسلاف کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ وہ آپس میں ہدیہ لیتے دیتے رہتے تھے ،۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی زندگی میں جہاں بہت سے امور میں شریعت کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور لوگ سستی اور بے توجہی برت رہے ہیں ، ان میں ہدیہ اور تحفہ کی بہت سی شکلیں ہیں۔ 
آج لوگ ہدیہ کی شکل میں رشوت دیتے ہیں اور ہر جگہ اس کے پیچھے کوئی مفاد جوڑ کر رکھتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجائے آپسی محبت و الفت کے اضافہ کے آپس میں دوریاں پیدا ہو جارہی ہیں،اس لیے یہاں بھی اور اس میدان میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس سے متعلق احکام و مسائل سے واقفیت بھی ضروری ہے ۔ 
      ہدیہ کے معنی تحفہ اور گفٹ کے ہیں، تحفہ معمولی ہو یا قیمتی کسی انسان کی محبت میں اور اس سے اظہار تعلق کے لیے اس کو کچھ دینا ہدیہ کہلاتا ہے اور کسی محتاج کو اللہ سے تقرب کی نیت سے کوئی چیز دینا صدقہ نافلہ کہلاتا ہے ۔ (المغنی لابن قدامہ کتاب الھبة و العطیة / قاموس الفقہ جلد ۵) 
   ہدیہ دینا سنت اور مسنون عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی عنھم کو ہدیہ دیا کرتے تھے، آپ نے ہدیہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو۔ کہ یہ باہمی محبت و الفت کا باعث ہے۔ تھادوا تحابوا۔ (موطا امام مالک ۳۶۵) 
    ہدیہ کے اداب میں علماء نے لکھا ہے کہ جو چیز ہدیہ کی جائے خواہ وہ مقدار میں کم اور کیفیت کے اعتبار سے معمولی ہو، پھر بھی پوری رغبت اور دل داری کے ساتھ اسے قبول کیا جائے، آپ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص مجھے بکری کے کھر پر بھی دعوت کرے گا تو میں اسے قبول کروں گا۔( بخاری) 
    ہدیہ واپس کرنا کسی طرح مناسب نہیں کہ اس سے ہدیہ کرنے والے کی دل آزاری ہوتی ہے۔ لیکن خاص طور پر تین تحفوں کو واپس کرنے سے آپ نے منع فرمایا۔ تکیہ، خوشبو اور دودھ۔۔(شمائل ترمذی) 
    جس طرح عام لوگوں کے لیے ہدیہ لینا جائز ہے وہیں واعظ اور مفتی کے لیے بھی ہدیہ قبول کرنا جائز ہے اگر پہلے سے لوگ انہیں ہدیہ لے دے رہیں ہوں، اور اس سے یہ خطرہ نہ ہوکہ فیصلے اور افتاء پر فرق پڑے گا۔۔ 
غیر مسلموں کو بھی ہدیہ دینا اور ان سے لینا یہ جائز ہے، احادیث اور پیارے نبی ﷺ کے عمل سے اس کے ثبوت ملتے ہیں ۔ 
  ایک موقع پر حضرت اسماء رضی اللہ عنھا کی والدہ آئیں، وہ مشرکہ تھیں، حضرت اسماء نے پوچھا کیا ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ مشرکین کو ہدیہ دینے پر اس آیت سے استدلال کیا ہے، جس میں امن پسند مشرکین کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ (سورہ الممتحنہ) 
     اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے خچر اور چادر کا تحفہ قبول کیا، دومتہ الجندل کے موقع پر ایک غیر مسلم نے ایک ریشمی جبہ دیا وہ آپ صلی اللہ علیہ نے اسے قبول کیا۔ 
     کن صورتوں میں ہدیہ لینا درست اور کس صورت میں نا درست ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی کے پاس کل آمدنی حرام ہو ایسے آدمی کا ہدیہ لینا درست نہیں ہے۔ 
اگر آمدنی کا زیادہ تر حصہ حرام ہو اور اس کی تفصیل نہ ہو کہ کہ ہدیہ میں جو مال دیا جارہا ہے، وہ حرام ہے یا حلال؟ تو ایسے شخص کا بھی ہدیہ قبول کرنا درست نہیں ہے۔جن کے پاس مال مشکوک ہو اس کے ہدیہ کو بھی لینے سے پرہیز کرنا چاہیے، اگر کسی کے پاس مال مخلوط ہو، حلال حرام دونوں، لیکن حلال کا حصہ غالب ہو تو اس کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔ لیکن معلوم ہی نہ ہو کہ کون سا مال غالب ہے تو ایسی صورت میں بھی احتیاط لازم ہے۔۔ 
    ہدیہ دینے کے بعد احسان جتانا، اس کو دوسرے سے بتانا، تذکرہ کرنا اور بیان کرنا انتہائی غلط اور نازیبا بات ہے، ایسے لوگوں کو شریعت میں پسندیدہ اور بہتر نہیں مانا گیا ہے، اس سے بچنا چاہیے ورنہ سارا کیا، بے کار ہو جاتا ہے ، ثواب کے بجائے گناہ ہوتا ہے۔۔ 
    ہدیہ لے کر واپس مانگنا انتہائی بری بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی آدمی کے لیے جائز کہ وہ کسی کو تحفہ دے اور پھر اپنے تحفہ کو واپس لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو ہدیہ دے کر واپس لے سکتا ہے، جو شخص ہدیہ دے کر واپس لیتا ہے اس کی مثال اس کتا کی سی ہے جو خوب کھا کر قے کرتا ہے، اور دو بارہ اپنی قے چانٹ لیتا ہے۔ (ترمذی) 
   بعض مخصوص صورتوں میں شریعت میں ہدیہ واپس لینے یا کرنے کی گنجائش ہے جس کی تفصیل پھر کبھی آئے گی۔۔۔ 
   جن کے بارے میں ذرا بھی یہ شبہ ہو کہ وہ اس ہدیہ یا مدرسہ اور ادراہ کا تعاون کرکے اپنا کوئی سیاسی یا دنیاوی فائدے اٹھائے گا یا بعد میں احسان جتائے گا، اور سامنے والے کو ذلیل و رسوا کرے گا، ایسے لوگوں کا ہدیہ اور تعاون کبھی قبول نہیں کرنا چاہیے ۔ 
    سب سے برا احسان جتانا یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین کو کچھ دے یا گھر میں خرچ کرے اور پھر باپ کو جتائے کہ ہم نے یہ کیا ، وہ کیا،ہم نے آپ کے لیے یہ کیا۔ پوری زندگی بھی اگر کوئی ماں باپ کے لیے قربان کر دے، اپنی ساری کائنات لٹا دے،تب بھی وہ والدین کے احسان کا ادنیٰ حق ادا نہیں کرسکتا۔۔ ہدیہ سے متعلق یہ چند تعلیمات ہیں جس کو میں نے ذکر کردیا ہے، سفر کے دوران یہ تحریر احقر نے ضبط کیا ہے اس لیے حوالے کا التزام نہیں ہوسکا ہے۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو ان تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ۔۔۔۔۔۔۔
  نوٹ/ اس وقت لفافہ کلچر پر بہت گفتگو ہورہی ہے ، ان شاءاللہ اس کے مثبت و منفی پہلو پر ہم آگے تحریر کریں گے ۔

Monday, November 24, 2025

بڑی مشکل سے کوئی باپ اپنا گھر چلاتا ہےتحریر...جمیل اختر شفیق

بڑی مشکل سے کوئ باپ اپنا گھر چلاتا ہے

تحریر...جمیل اختر شفیق

زندگی کے سردوگرم سے گزرتے ہوئے،حال کے شعلوں میں جل کر روشن مستقبل کے احساس سے نکھرتے ہوئے ، ہر قدم پہ ہزاروں ٹھوکریں کھاکر بھی سنورتے ہوئے میری آنکھوں نے سب سے پہلے جس انسان کو بہت قریب سے دیکھا وہ میرے والد صاحب تھے،تلاشِ رزق میں پاگلوں کی طرح دوڑتے بھاگتے ان کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے کی قطرے میرے جذبوں کی پتھریلی زمین کو آج بھی سرسبزوشاداب رکھتے ہیں ، میں نے پوری زندگی میں اُنہیں کبھی تھک ہار کر اپاہج کی طرح بیٹھتے ہوئے نہیں دیکھا ،کچھ فطری نقل وعمل سے نظریاتی اختلافات کے باوجود مجھے اپنے ابو سے بےپناہ محبت ہے، یہی وجہ ہے آج بھی زندگی کی کٹھنائیوں کے بیچ جب جب میرے حوصلوں کے پیر لڑکھڑانے لگتے ہیں تو سب سے پہلے جو صورت میری نگاہوں کے سامنے اُبھر کر آتی ہے،جو چہرہ صبرواستقلال کی علامت بن کر رقص کرنے لگتا ہے وہ ابو کا ہی ہوتا ہے اور میں ایک نئے عزم کے ساتھ ہر مصائب کی آندھی سے مقابلہ کے لیے تیار ہوجاتا ہوں-

*جلاکر خون سارا جسم کا پیسہ کماتا ہے*
*بڑی مشکل سےکوئ باپ اپنا گھرچلاتا ہے*

ایک روز ایک نوجوان اپنے والد صاحب کے حوالے سے کچھ شکایت کر رہا تھا حقائق کی تہہ تک پہونچنے سے قطعِ نظر اس کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ غلطی اس کے والد صاحب کی ہی ہے،اس کا تیور بتا رہا تھا کہ وہ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اپنے والدین سے وہ فاصلہ بناکر رکھنے میں ہی اپنے مسائل کا حل سمجھتا ہے، اس کے غصے اور ناراضگی کی لو تھوڑی ہلکی ہوئ تو میں نے بڑی سنجیدگی سے اُس سے کہا :آپ مجھے یہ بتائیں ویسے بات اپنے اپنے مقدر کی ہے پھر بھی مان لیا جائے اگر آپ کے مقدر میں کوئ شرابی باپ ہی اگر آجائے تو کیا آپ اُسے دھکے مار کر گھر سے باہر نکال دوگے؟ میرے اس سوال پہ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتی احساسِ شرمندگی کی عبارت میں صاف طور پر پڑھ سکتا تھا۔

   خود میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غلطی اپنی ہو یا نہ ہو ، بات چاہے اصول کی ہو یا خلافِ اصول کی ،حالات کے تحت چاہے جیسے مسائل پیش آجائیں ابو کی پیشانی پہ اُبھرنے والی پریشانی کی لکیریں مجھے کس درجہ اندر سے مضطرب کرتی ہیں اسے میں ہی محسوس کرسکتا ہوں، مجھے نہیں معلوم وقت کے ساتھ والدین کے نظریات کس حدتک تبدیل ہوجاتے ہیں ؟بچے اگر کئ ہوں تو ہر بچے کے تعلق سے ان کی سوچ کیسے الگ الگ ہوجاتی ہے؟وہ میرے حق میں بھلا سوچتے ہیں یا بُرا؟ بس اتنا جانتا ہوں کہ لاکھ منفی خیالات کو دل میں جگہ دینے کے باوجود اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ میری رگوں میں ان ہی کا خون دوڑ رہا ہے ،وہ میرے ان لمحوں اور ان سانسوں کے گواہ ہیں جہاں خاموشی سے اگر کسی معصوم کا گلا گھونٹ بھی دیا جائے تو سماج طبعی موت سمجھ کر اس حادثے پہ پردہ ڈال کر ہمیشہ کے لیے سکوت اختیار کرلے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان لمحوں میں بھی قیمتی خزانے کی طرح ہمارے والدین نے ہماری حفاظت کی ہے تو کیا ان کے خلوص پہ کوئ انگلی اٹھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں !!

ماں کی طرح باپ کی موجودگی کو بھی غنیمت جانیے ،ان کے سایے کو اللہ کی خصوصی عنایت،ان کے غصے کو ان کا حق، ان کی بیزارگی کو شدید محبت کی علامت، ان کی پھٹکار کو آبشاروں کا ترنم ،ان کے لہجے کی کرختگی کو ابرِ رحمت، ان کی برہمی کو اپنائیت کا ثبوت سمجھنے کی ہمت جُٹا لیجیے تو زندگی بہت تلخ ہوتے ہوئے بھی خوبصورت معلوم ہوگی۔

Friday, November 21, 2025

اعظم گڑھ کا سفر: آستان شبلی کی زیارت منظر عالم ویشالوی

اعظم گڑھ کا سفر: آستان شبلی کی زیارت
منظر عالم ویشالوی 
چند رفقائے ذوق کی معیت میں 20 نومبر 2025 دارالمصنّفین کی طرف رخ ہوا، دل میں ایک عجب سی انقباض اور لطیف سی کشش ساتھ ساتھ تھی، اور دل میں برسوں سے پرورش پانے والی دار المصنفین کی شرف زیارت کی تمنا پوری ہوئی اور ہمارے خواب کی تکمیل ہوئی جیسا کہ علامہ شبلی نعمانی کے خواب کی تعبیر ان کے بے مثل شاگرد رشید سید سلیمان ندوی نے تعبیر بخشی تھی پھر سید صاحب نے گلشنِ افکارِ شبلی سے علم و تحقیق کے دریچے وا کیے ان سے سوتے پھوٹے، ادیب پیدا ہوۓ،محقق و مؤرخ نمو پاۓ اور افراد سازی کی۔
یہ وہی آستانہ تھا جہاں کبھی سید سلیمان ندوی قدم بوسی فرمایا کرتے تھے، جہاں تحقیق و تنقید کے چراغاں روشن کیا کرتے تھے، جہاں کبھی صباح الدین عبد الرحمن یکسوئی اور انہماک کے ساتھ تحقیق و تفتیش میں ڈوب کر اپنے مقالات رقم کیا کرتے تھے، جہاں مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا مسعود عالم ندوی تصنیف و تالیف کے ذریعے تاریخی اور فکری قندیلیں جلایا کرتے تھے۔
اسی دیار تحقیقِ شبلی میں ہم لوگ دید اشتیاق اور اقتناء کتب کی تمنا لیے ہوۓ آستانۂ شبلی میں قدم رنجا ہوۓ۔
وہاں کی در و دیوار دیکھی، خاموش فضا دیکھی، مقبرۂ شبلی پر فاتحہ پڑھی اور جو کیفیت وہاں فاتحہ کے وقت طاری ہوئی وہی لطیف احساس ہر وقت اندرون خانہ میں دیر تک اترتا چلا گیا۔ دل نے ملال کیا کہ علمی و تحقیقی ذخائر پیش کرنے والا یہ مرکزی ادارہ جو کبھی ادیبوں، مؤرخوں اور افراد سازی کا گہوارہ تھا، اب وہ وقت کے چیلنجزوں کا سامنا کرنے سے معذور سا ہوگیا ہے

ہم لوگ تو دار المصنفین کے خوشہ چیں طالب علم ہیں، اس کے زوال پر دل کیوں پژمردہ نہ ہو۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کی تصنیفات ہر پڑھا لکھا شخص پڑھ کر خود کو سنوارتا ہے اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے اور بہت سے خوشہ چیں ایسے بھی ہیں کہ اسی تھالی میں کھا کر نمک حرامی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
بعد ازاں ہم نے ظہر کی نماز ادا کی، ادارے کے کارکنان سے ملاقات ہوئی، شبلی میوزیم کی زیارت کا شرف ملا جہاں سب سے پہلی ‌نظر علامہ کے مصنوعی پیر پر پڑی، جس کے سہارے انہوں نے بقیہ زندگی بسر کی تھی، میوزیم اور لائیبریری سے ہوتے ہواتے اور آنکھ کو سیکتے ہوۓ اقتناء کتب کی آرزو ہمیں مکتبہ تک لے آئی اور چند کتابیں خریدیں جن میں دار المصنفین کی سب سے نمایاں اور استاذ و شاگرد کی مشترکہ عظیم تصنیف سیرت النبی ﷺ بھی شامل تھی۔
پھر خواہش ہوئی کہ اس وقت دار المصنفین کی باگ ڈور سنبھالنے والے مولانا عمیر الصدیق ندوی دریابادی سے شرف لقا حاصل کیا جاۓ لیکن ہم سب کی حرماں نصیبی کہ مولانا کولکاتا کے سفر پر روانہ ہوچکے تھے۔ ماہر شبلیات الیاس اعظمی سے ملنے کی تمنا بھی دل میں تھی لیکن بوجوہ ان سے بھی ملاقات نہ ہوسکی۔

برادرم زید امام،( متعلم: عالیہ رابعہ شریعہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، جو ہماری فہرستِ دوستاں میں سرِفہرست ہیں بلکہ مخلص، بے لوث، متحرک اور فعال انسان، خوش الحان قاری اور اچھے خطیب بھی ہیں۔) انہی کی توسط سے تمام رفقائے سفر کا قیام مدرسہ تحفیظ القرآن میں ہوا، جہاں وہ خود بھی عرصۂ دراز تک فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ اس مدرسہ کے بانی و ناظم مولانا عبدالعظیم قاسمی صاحب ہیں۔ جو بنفس نفیس موجود نہ تھے کسی سفر پر روانہ تھے ورنہ شرف ملاقات نصیب ہوتا، تاہم عدم موجودگی کے باوجود ناظم صاحب نے میزبانِ کامل کا کردار نبھایا کھانے پینے کا نہایت اچھا نظم کیا، گھر کے پکوان سے ضیافت فرمائی، اور ہر ضرورت کا پھر پور خیال کیا۔
طلبہ بھی ہر لحظہ خاطر مدارات میں لگے رہے بالخصوص کلیم بھائی لمحہ بہ لمحہ خیال کرتے رہے، ان کی ایسی کرم فرمائی اور عزت نوازی سے بعض اوقات عار سا محسوس ہونے لگتا تھا۔ گرچہ طلباء ابتدائی و اوسط درجات کے تھے مگر جسم و جثہ کے اعتبار سے لحیم شحیم اور تقریباً ہم عمر محسوس ہوتے تھے۔
یہ حسنِ اخلاق اور اپنائیت درحقیقت یہاں کے اساتذۂ کرام کی عمدہ تربیت کی روشن جھلک تھی۔

اس سفر میں مولانا ضیاء الحق خیرآبادی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، جو اہلِ علم کے حلقے میں حاجی بابو کے نام سے معروف ہیں، مولانا کا تفصیلی تعارف تحصیلِ حاصل ہوگا اتنا کہنا کافی ہے کہ ان کی ذرہ نوازی، شفقت اور احسان ہم سب کے ساتھ شاملِ حال رہی، انہی کے توسط سے دارالمصنفین سے کتابیں پچاس فیصد رعایت کے ساتھ ملیں، جو ہمارے لیے نعمتِ غیر مُتَرَقَّبہ تھی۔

اعظم گڑھ کے اس سفر میں کئی علمی و تعلیمی اداروں کی زیارت بھی ہوئی۔ شبلی کالج گئے اور پھر جامعۃ الرشاد میں حاضری ہوئی، جہاں کا نظم و ضبط، تربیتی فضا اور تعلیمی ماحول اپنے مقصد سے نہایت قریب تر محسوس ہوا۔
اس ادارے کے جوان عالم دین مولانا اسامہ ندوی صاحب سے ملاقات ہوئی جو انتہائی متحرک، دردمند اور نئی نسل کے حوالے سے گہری فکر رکھنے والے۔ نوجوانوں کی اصلاح، زمانے کے تقاضوں اور تعلیمی تحریک سے متعلق گفتگو ہوئی۔ جو کچھ بن سکا وہ ناشتہ میں پیش کیا، پھر دوپہر کے کھانے کا بھی اصرار کرتے رہے مگر قلتِ وقت نے اجازت نہ دی۔ ہم نے دارالمصنفین کی زیارت کی اجازت چاہی تو مولانا نے بڑی عزت افزائی فرمائی اور فوراً ڈرائیور کو حکم دیا کہ "ان حضرات کو دارالمصنفین چھوڑ آئیے"
دلی خواہش تھی کہ مولانا نعیم صدیقی ندوی دامت برکاتہم سے بھی ملاقات کی جاۓ فون پر رابطہ بھی کیا گیا تو مولانا نے فرمایا کہ "میں سفر پر ہوں" آپ لوگ جامعۃ الرشاد تشریف لے جائیں، میں اطلاع کر دیتا ہوں" یوں ملاقات کی آرزو فقط آرزو ہی رہ گئی اور یوں ہمارے سفر کا اختتام بالخیر ہوا۔

Thursday, November 20, 2025

مولانا شفیق الرحمن ندوی علیہ الرحمہ الرائد کے پہلے مدیرطارق شفیق ندوی

مولانا شفیق الرحمن ندوی علیہ الرحمہ الرائد کے پہلے مدیر
طارق شفیق ندوی 

ندوہ نے روز اول سے عربی زبان کو ایک زندہ ، متحرک اور حرارت سے لبریز زبان کی حیثیت سے پڑھنے لکھنے پر زور دیا ، بہت کم مدت میں عربی صحافت کو اپنی فکری تخیل کا آئینہ دار بنایا اور عالم عربی کے لوح قلب پر گہرا اور مؤثر نقش ثبت کیا ۔ 
مئی/ 1932 میں ندوہ کے سرمایہ افتخار و نازش سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی (ولادت 1884 ، وفات 1953 ) نور اللہ مرقدہ کی سرپرستی اور حضرت مولانا مسعود عالم ندوی ( ولادت11 / فروری 1910 پٹنہ ، وفات 16 / مارچ 1954 ) رحمۃ اللہ علیہ کی ادارت میں عربی زبان میں *الضیاء* نامی ایک علمی ، ادبی اور ثقافتی ماہنامہ وجود میں آیا . اس کا افتتاحیہ سید الطائفہ نے لکھا اور خوب لکھا جس میں ہندوستان میں عربی صحافت کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے اور اس کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی جسے ہر طبقہ نے پسند کیا . اس وقت یہ رسالہ عرب ممالک کے علمی و ادبی رسالوں پر فائق تھا اور ندوۃ العلماء کو عرب کے گوشے گوشے میں متعارف کرانے کا ایک کامیاب ذریعہ بھی تھا اس مؤقر رسالہ نے ایک طرف متعدد نئے قلمکاروں سے روشناس کرایا تو دوسری طرف اس کی وجہ سے طلبائے مدارس میں عربی لکھنے بولنے کا شوق افزوں بھی ہوا نيز عرب ادباء نے کھل کر ندوی قلم کو سراہا لیکن افسوس صد افسوس الضیاء زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا ، دو ڈھائی سال بعد اس کی ضوفشانیوں سے عالم اسلام محروم ہوگیا .
دوسرا عربی ماہنامہ *البعث الاسلامی* اکتوبر/ 1955 میں مولانا محمد الحسنی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 13 / جون 1979 ) کی ادارت میں منصۂ شہود پر آیا جس نے عرب قومیت ، الحاد و دہریت ، تجدد و مغربیت ، سرمایہ داری و اشتراکیت اور دوسری خدا فراموش تحریکات کے تعاقب و احتساب اور صحیح اسلامی فکر کی نمائندگی میں گرانقدر حصہ لیا اور اس کا اعتراف عالم عرب میں ہر جگہ کیا گیا ۔ الحمد للہ آج بھی *من الظلمات الی النور* آؤ تاریکی سے روشنی کی طرف کا علمبردار ہے . الحمدللہ آج بھی یہ رسالہ ڈاکٹر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی حفظہ اللہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی ادارت میں کماحقہ اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے .
*الرائد* یہ عربی کا پہلا پندرہ روزہ رسالہ 1959 میں طلباء کی انجمن *النادی العربی* کی طرف سے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں نکلنا شروع ہوا جس کے پہلے مدیر حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ بقول ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی ندوی حفظہ اللہ حال مقیم کینیڈا " الرائد کی ابتدا میرے سامنے ہوئی مولانا سید محمد رابع صاحب علیہ الرحمہ اس وقت عربی ادب کے استاذ تھے انھوں نے الرائد کا منصوبہ بنایا اور مرحوم شفیق الرحمن بھائی کو ادارت دی جو مجھ سے درجہ میں کئی سال آگے تھے." 
اس رسالہ کی ترتیب و تزئین میں حضرت مولانا اقبال اعظمی ندوی حفظہ اللہ اور حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین فردوسی ندوی ( سن ولادت 1943 ) رحمہ اللہ کی معاونت اور شراکت بھی تھی۔ رسالہ کی علمی و دینی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی اور اپنی خصوصیات اور مقاصد کے اعتبار سے عالم اسلام میں بہت مقبول ہوا . برصغیر ہند و پاک کا سب سے بہترین عربی رسالہ قرار پایا ۔
 حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ
'' پندرہ روزہ عربی اخبار الرائد کے نام سے طلباء کی عربی انجمن النادی العربی کی طرف سے ادیب اول حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہ کی زیر نگرانی نکلا اور عرب دنیا میں اس کا زبردست استقبال ہوا ۔ وہاں سے لوگوں نے اپنی پسندیدگی کے بے شمار خطوط لکھے اور اس اقدام پر ندوہ کے طلباء کو مبارکباد دی۔ ''
( اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء صفحہ 106 )
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمۃ اللہ اس زمانہ میں خوب لکھتے تھے اور لکھاری کہے جاتے تھے ۔ الرائد میں شائع مضامین ان کی عربی انشاء پرردازی کی بہترین نمونہ ہیں . اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کی تحریروں میں دلآویزی ، آمد ، جاذبیت اور ادبیت ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے جدید و قدیم دونوں حلقوں میں ان کی دھاک بیٹھ گئی تھی . 
ڈاکٹر مولانا محمد نعیم صدیقی ندوی حفظہ اللہ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے جوہر زمانہ طالب علمی ہی میں کھلنے لگے تھے انھوں نے اپنی جانکاہ محنت و لگن سے عربی زبان و ادب پرغیر معمولی عبور حاصل کرلیا تھا چنانچہ موصوف طلباء ندوہ کی عربی انجمن *النادی العربی* کے امین العام منتخب ہوئے ۔سال1959میں مذکورہ انجمن کی طرف سے الرائد کا اجراء عمل میں آیا تو مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور پھر الرائد کے مطلع پر ان کی عربی نگارشات کی چمک نے دھوم مچا کر رکھ دی .وہ بلاشبہ کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی عربی زبان لکھتے تھے. ان دنوں راقم الرائد میں *فی محیط دارالعلوم* کے تحت ایک کالم لکھتا تھا . راقم اپنی سعادت پر مفتخر ہے کہ مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ اپنے دور ادارت میں میری نگارشات کو شرف قبول عطا کرتے ، میری حقیر عربی دانی کی تحسین آمیز حوصلہ افزائی کیا کرتے اور قیمتی نصائح و مشوروں سے نوازتے تھے.( بزم دانشوراں )
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی علیہ الرحمہ ایک طویل عرصہ تک بعض اپنے داخلی اسباب کی وجہ سے ندوہ سے باہر رہے . الرائد سے ان کا رشتہ کمزور پڑگیا لیکن جب دوبارہ تدریس کے لئے ندوہ باصرار بلائے گئے تو ایک بار پھر الرائد سے انھیں وابستہ کر دیا گیا لیکن دنیا بدل چکی تھی کافی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ اب وہ الرائد کے نوک وپلک سنوارتے ، عربی قواعد کے لحاظ سے خامیوں کی اصلاح کرتے ، ذیلی عنوانات لگاتے اور اپنی نگرانی خاص میں اشاعت سے قبل تک کے تمام مراحل طے کراتے ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خاص تاکید تھی کہ جب تک مولانا شفیق الرحمٰن صاحب کی الرائد پر آخری نگاہ نہ پڑجائے اور وہ ہر طرح سے مطمئن نہ ہوجائیں اسے اشاعت کے لئے پریس ہرگز نہ بھیجا جائے

Saturday, November 15, 2025

ضلع سیتامڑھی کے چند مدرسوں میں حاضری محمد صدر عالم ندوی ویشالی

ضلع سیتامڑھی کے چند مدرسوں میں حاضری محمد صدر عالم ندوی ویشالی 

سیتا مڑھی ترہت پرمنڈل کا ایک اہم اور تاریخی ضلع ہے پہلے یہ مظفر پور میں شامل تھا 11/ دسمبر 1972ء کو یہ اس سے الگ ہوا اور ایک مستقل ضلع بن گیا یہ ضلع بہار کے اتری حصے میں ہے ، ہندو دھرم کے مطابق یہاں " دیوی سیتا جی" کا جنم استھان ہے اور یہاں ایک مشہور جانکی مندر بھی ہے جو ہندوؤں کا تیرتھ استھل ہے ، ہندو زائرین اچھی خاصی تعداد میں یہاں آتے ہیں اس کے علاوہ یہاں اسلامی علوم کی چھوٹی بڑی کئی معروف درسگاہیں ہیں جیسے الجامعتہ العربیہ اشرف العلوم کنھواں ، جامعہ قاسمیہ دارالعلوم بالا ساتھ ، مدرسہ امدادیہ اشرفیہ طیب نگر راجو پٹی ، ادارہ دعوت الحق مادھو پور سلطان پور ، مدرسہ ابو بکر صدیق راجوپٹی سیتامڑھی ، مدرسہ نعیمیہ ٹھکہا مجہور وغیرہ یہاں دینی ، تعلیمی ، تربیتی اداروں کے علاوہ بڑی بڑی علمی فکری اور دعوتی شخصیتں بھی گذریں ہیں جیسے حضرت علامہ مولانا صوفی رمضان علی آواپوری ، حضرت مولانا عبد العزیز بسنتی ، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کنھواوی و کماوی ،مولانا بشارت کریم گرھولوی، حضرت مولانا محمد اویس القاسمی رائے پوری ، حضرت مولانا عبد الحنان صاحب قاسمی ، حضرت مولانا حکیم محمد ظھیر صاحب قاسمی اور بریلوی مکتب فکر کے ایک بڑے عالم علامہ شبنم کمالی صاحب کا وطن بھی اسی ضلع کی ایک معروف بستی پوکھریرہ میں تھا یہ بھی ایک اچھے اور وسیع الفکر عالم ، بڑے خطیب اور بر جستہ شاعر تھے جن کا انتقال 2006 میں ہوا ہے ان کی نعتیہ شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان میں انوار عقیدت ، ریاض عقیدت ، ضیاۓ عقیدت ، فردوس عقیدت ، اور صہباۓ عقیدت مشہور ہیں سیتا مڑھی ضلع کا ویشالی ضلع سے ایک خاص دینی ، علمی اور دعوتی رشتہ رہا ہے پہلے ویشالی ضلع بھی سیتا مڑھی کی طرح مظفر ضلع میں شامل تھا 14/ اکتوبر 1972ء کو ویشالی بھی الگ ضلع بنا ۔ جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالا ساتھ کے بانی و ناظم حضرت مولانا عبد الحنان صاحب قاسمی رحمہ اللّٰہ اپنی حیات مبارکہ میں ویشالی برابر جلسوں میں مدعو کئے جاتے تھے اور اپنے ماتحت مکاتب بھی چلواتے تھے اب یہ مکاتب بند ہو چکے ہیں اس وقت مولانا محمد انوار اللہ فلک قاسمی ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی ہیں اچھے خطیب ہیں ، اپنی خطابت کے ذریعہ بہت جلد لوگوں کو مسحور کر لیتے ہیں ان دنوں مولانا فلک صاحب ویشالی کا سفر کر تے رہتے ہیں اور وہ یہاں کے چھوٹے بڑے پروگراموں میں یاد کیے جاتے ہیں ان کا ایک عرصہ سے بڑا اصرار تھاکہ سیتامڑھی کا ایک سفر ہو اور یہاں کے مدارس کی زیارت کی جاۓ ۔ اس سلسلہ میں ایک سفر مولانا محمد قمر عالم صاحب ندوی استاد مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی ، مولانا محمد وہاج الہدی قاسمی ، بابو محمد صفوان القمر اور راقم الحروف محمد صدر عالم ندوی پر مشتمل ایک قافلہ 19/ اکتوبر 2025 ء مطابق 26 / ربیع الآخر 1447ھج بروز اتوار ، بعد نماز فجر مہوا , ویشالی سے روانہ ہوا ، اب بہار میں سفر کرنا آسان ہو گیا ہے چاروں طرف راستے بن گیۓ ہیں ,خوف کا ماحول نہیں ہے ۔ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنا جانا آسان ہو گیا ہے موجودہ حکومت نے بہار کی راجدھانی پٹنہ کو پورے بہار سے چار سے پانچ گھنٹے میں جوڑنے کا ہدف لیا ہے اور لوگ آسانی سے بہار کی راجدھانی پٹنہ کا سفر کر رہے ہیں ۔ ہم لوگ سیتامڑھی دس بجے پہنچ گئے پہلے سے مولانا محمد انوار اللہ صاحب فلک قاسمی منتظر تھے لیکن پھلوریہ گاؤں میں مولانا کے رشتہ دار میں ایک خاتون کا انتقال ہو گیا تھا ان کی نمازِ جنازہ مولانا کو پڑھانی تھی اس لیے مولانا وہیں تھے ، ہم لوگ بھی اسی جگہ پہنچ گئے اور وہیں سے ہم لوگوں کے ساتھ ہو گئے سب سے پہلے جمعیتِ علماء ضلع سیتامڑھی کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد احسان اللہ صاحب شمس کے گاؤں" بسول "پہنچے مولانا محمد احسان اللہ صاحب مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے فارغ التحصیل ہیں اور بہت فعال ہیں ، اسی فعالیت کا نتیجہ ہے کہ متعدد دینی ، ملی سرگرمیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں لڑکیوں کا ایک اچھا ادارہ چلاتے ہیں وہاں کی صورت حال کے تناظر میں لڑکیوں کے جسم و جان اور دین ایمان کی بنیادی فکر کے ساتھ لڑکیوں کا مدرسہ قائم کیا ہے یقیناً مدرسہ کی پختہ عمارت تو نہیں ہے لیکن معمولی رہائش اور شکستہ مکان میں لڑکیوں کی تعلیم کا پختہ انتظام ہے ، عربی اول تک تعلیم ہوتی ہے لڑکیاں اس کثرت سے آتی ہیں کہ انتظامیہ کو بچیاں واپس کرنی پڑتی ہیں آج بھی یہ سچائی مشکبار ہے کہ تعلیم اچھی ہوتی ہے تو بچے وسائل نہیں کھوجتے ہیں بلکہ اپنی تعلیمی تشنگی بجھانے کے لئے پریشان رہتے ہیں یہاں کی تعلیم قابل اطمینان ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بے سروسامانی کا گلہ شکوہ نہیں کرتے ہیں بلکہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں یہاں کے بعد ہم لوگ مدرسہ طیب العلوم پریہار ضلع سیتامڑھی بہار ، تقریباً دن کے ساڑھے بارہ بجے پہونچے ۔ مدنی مسجد اور مدرسہ دونوں ساتھ میں ہے مدرسہ کی عمارت بھی قابل رحم اور حد درجہ قابل توجہ ہے ، یہاں ناظرہ اور شعبہ حفظ میں دوسو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں نئے تعلیمی سال شوال کے مہینے میں بچے داخلے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں کم جگہ کی وجہ سے انتظامیہ بچوں کو واپس کردیتی ہے آٹھ اساتذہ کا ایک خوبصورت قافلہ شب و روز ان طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل رہتا ہے قاری احمد اللہ صاحب اس مدرسہ کے ذمہ دار ہیں اور بہت فعال ہیں یہاں کی خصوصیت یہ ہے کہ ناظم مدرسہ جب تک حافظ ہونے والے بچوں کا حفظ قرآن خود سن نہیں لیتے ہیں اس وقت تک ان بچوں کی دستاربندی نہیں ہوتی ہے اور حفظ قرآن کی سند اُنہیں نہیں دی جاتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چھوٹے اداروں میں وہ مدرسہ اپنی تعلیم و تربیت کی وجہ سے مرجعیت رکھتا ہے اور طلبہ کا رجحان خاص طور پر حفظ قرآن کے لیے یہ مدرسہ اہم ہے ۔ یہ ساری باتیں اسی خطے کے احباب نے بتائیں اور ہم لوگوں نے بچشم خود جو دیکھا تو اس میں صداقت پائی اسی درمیان ہم لوگ ظہر کی نماز سے پہلے ناشتہ اور کھانے سے فارغ ہو چکے تھے ڈیڑھ بجے ظہر کی نماز ہوئی ہم لوگوں نے باجماعت نماز اداکی اور نماز بعد مولانا محمد قمر عالم صاحب ندوی کا پر مغز ، بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب ہوا مولانا نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آپ منتخب طلبہ ہیں ، اللہ نے آپ کو قرآن کریم کی خدمت کے لیے چن لیا ہے اور قرآن اللہ کی کتاب ہے قرآن کے حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لیا ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون جب قرآن اللہ کی حفاظت میں ہیں تو قرآن کو پڑھانے والے اور قرآن پڑھنے والے سب لوگ اللہ کے امان میں ہیں اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کتاب سے جو لوگ جڑ جاتے ہیں وہ بھوکھے نہیں مرتے ہیں بلکہ ہر وقت شاداں و فرحاں رہتے ہیں بلکہ ان کے صدقے میں کتنے بھوکوں کو روزی مل جاتی ہے مدرسہ کے استاذ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں ہم لوگوں کی آمد کو نیک فال بتایا اور کہا کہ آپ لوگ برابر آتے رہیں جس سے ہم لوگوں کو حوصلہ ملے گا مولانا محمد وہاج الہدی قاسمی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا یہ مدرسہ پریہار شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جہاں مدرسہ کے آس پاس ہندوؤں کی بھی آبادی ہے گرمی کے زمانے میں ہندو بھائی مدرسہ کے پانی سے بھی مستفیض ہوتے ہیں یہ مدرسہ ایک طرف قرآن کے درس و تدریس میں مشغول ہے تو دوسری طرف پیام انسانیت کے کام میں بھی مشغول ہے یہاں کے ذمہ دار نے بتایا کہ یہاں پر غیر مسلم بھائیوں سے بھی اچھے تعلقات ہیں ہم لوگ ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں اہل ثروت حضرات کو اس طرح کے مدرسوں کی بھر پور مدد کرنی چاہیے اور گاہے بگاہے جائزہ بھی لینا چاہیے ہم لوگ یہاں سے تین بجے جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنھواں کے لیے روانہ ہوۓ دور ہی سے مدرسہ کا فیض نظر آرہا تھا اس کی روحانیت و نورانیت کا سماں بندھا ہوا تھا یہ مدرسہ ہندوستان اور نیپال کے سرحد پر قائم ہے دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق درجہ ششم تک تعلیم ہوتی ہے یہاں تعلیم و تربیت دونوں قابل اطمینان اور تشفی بخش ہے ہم لوگ چار بجے کے آس پاس پہونچے طلبہ اساتذہ پڑھنے پڑھانے میں مشغول تھے ناظم جامعہ حضرت الحاج مولانا محمد اظہار الحق صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ سفر پر تھے ان کی غیر موجودگی میں مفتی صدر عالم صاحب قاسمی نائب ناظم جامعہ نے ہم لوگوں کی رہنمائی کی ۔ جامعہ کی وسیع عریض شاہکار لآیبریری بھی دیکھایا کچھ طلبہ سے ملاقات ہوئی یہاں آٹھ سو سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں پچاس کے آس پاس مدرسین ہیں عمارت دیدہ زیب ہے 1920ء کا یہ جامعہ ہے اہالیان کنھواں کا اس مدرسہ سے اچھے روابط ہیں پورا گاؤں مدرسہ کا محافظ ہے یہاں موروثی نظام نہیں چلتا ہے اسی وجہ کر یہاں نظامت بدلتی رہتی ہے مدرسہ میں ایک چیز کی کمی کا بہت احساس ہوا وہ ہے صفائی ستھرائی ۔صفای ستھرائی نہیں کے برابر تھی اس پر توجہ کی ضرورت ہے مدرسہ کی طرف سے ہم لوگوں کو ہدیتا کتابیں بھی دی گئیں ۔تاریخ اشرف العلوم مرتب حضرت مولانا نسیم احمد صاحب القاسمی ، فتاوی اشرف العلوم ترتیب و تحقیق مجلس تحقیقات علمیہ اشرف العلوم کہنواں ، اسلام کا قانون طلاق عقل کی نظر میں مرتب مفتی صدر عالم صاحب قاسمی ، حیات زبیر مرتب مفتی صدر عالم صاحب قاسمی ۔ یہ جامعہ شمالی بہار کا تعلیمی و تربیتی قبلہ سمجھا جاتا ہے اس کے خدمات کا دائرہ سوسال سے متجاوز ہے آییے اس جامعہ کے تعلق سے حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللّٰہ علیہ سابق استاد دارالعلوم دیوبند کی تحریر پڑھتے ہیں "مدرسہ اشرف العلوم کے سر پرستوں میں پہلا نام تو اس کے بانی و مدرسین اولیں عالم ربانی مذکور الصدر فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا صوفی رمضان علی کا ہے ۔ان کے بعد اس کے سرپرست ان ہی کے رفیق درس اور پیر بھائی فاضل دارالعلوم دیوبند عارف باللہ مولانا عبد العزیز بسنتی رہے،انھی نے مدرسہ اشرف العلوم کہنواں کی تاسیس کا تولیدی مشورہ دیا تھا ۔اس کے تیسرے سرپرست صاحب نسبت شیخ فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا نور الحسن سنگا چوڑی متوفی 1953 رہے چوتھے سرپرست صاحب دل بزرگ دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ مولانا جمال الدین خستہ مکیاوی متوفی 1972 رہے جب کہ پانچویں سرپرست کنہواں ہی کے مولانا سید میاں دیوبندی ثم الدہلوی کے تلمیذ صاحب قال و حال بزرگ و عالم دین مولانا محمد طیب کنہواں متوفی 1991 رہے جو بعد میں عرصہ دراز تک مدرسے کے ناظم بھی رہے ان سے بھی مدرسہ کو بڑا فیض پہونچا اور اس کو بڑے پیمانہ پر ظاہری و باطنی ترقی ملی کیونکہ ان کا دورانیہ عمل بھی دیگر نظماء کی بہ نسبت زیادہ طویل رہا ۔پھر مدرسہ کو یہ سعادت حاصل رہی کہ اس کی سرپرستی کی ذمہ داری محبوب العوام و الخواص مشہور شیخ طریقت عارف بااللہ مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی متوفی 1997 نے قبول فرمائی ،جو 1995 سے تا وفات مدرسہ کے سر براہ اعلی رہے جس سے مدرسہ کی روحانیت اور تعلیم و تربیت میں اس کی انفرادیت کو چار چاند لگے( صفحہ 24 تاریخ اشرف العلوم) کہنواں کے بغل میں شمسی ایک گاؤں ہے جو نیپال کے بارڈر پر ہے ہم لوگوں کا قافلہ عصر کی نماز اور چاۓ نوشی کے بعد شمسی کے لیے روانہ ہوا لیکن ہندوؤں کا ایک بڑا تہوار دیپاولی تھا جس کی وجہ سے بہت بھیڑ بھاڑ تھی بالآخر ہم لوگ وہیں سے واپس ہو گۓ اور پریہار ساڑھے پانچ بجے شام پہونچے مغرب کی نماز ادا کی کچھ ناشتہ کیا اس کے بعد منزل کی طرف روانہ ہوگئے راستے میں معلوم یہ ہوا کہ پریہار میں ایک اور مدرسہ ہے جس کا نا م طیب المدارس ہے مولانا محمد انواراللہ فلک صاحب کی خواہش تھی کہ جب آپ لوگ یہاں تک آ گئے ہیں تو بہت مناسب ہوگا کہ اس مدرسے کو بھی دیکھ لیں چنانچہ ہم ساڑھے سات بجے وہاں پہنچے بچے اساتذہ کی نگرانی میں پڑھ رہے تھے ذمہ دار مدرسہ مالی فراہمی کے لیے بہار سے باہر کے سفر پر تھے بس کھڑے کھڑے احوال معلوم کیا حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ بانی مدرسہ کی قبر پر فاتحہ پڑھا مولانا محمد انوار اللہ صاحب فلک قاسمی دیر تک مصروف دعا رہے دعا چونکہ سری تھی اور سب لوگ اپنے طور مصروف تھے دعا کے بعد مولانا فلک صاحب کی مخلصانہ اور مشفقانہ محبتوں کے تقاضوں پر آواپور روانہ ہوا مولانا کے دوسرے داماد مولانا بختیار حیدر ندوی اور صاحب زادے عزیزی ابرار احمد غازی سلمہ اتفاق سے گھر ہی پر تھے جلدی جلدی ہم لوگوں کے لیے دسترخوان بچھایا اسی درمیان کچھ باتیں بھی ہوئیں معلوم یہ ہوا کہ آواپور کی آبادی میں اس وقت چالیس سے زائد علماء و حفاظ ہیں مولانا کا پورا خاندان تعلیم یافتہ ہے ٹرین کی پٹری سے قریب کشادہ جگہ پر ادارہ سبیل الشریعہ رحمت نگر آوا پور شاہ پور کے نام سے قایم ہے اور کثیر المقاصد مسجد بھی ہے جو مسجد ایمان کے نام سے موسوم ہے یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیم بالغان و بزرگان کا نظم ہے جہاں اسلامی کلمات اور دین کی بہت بنیادی باتیں سکھائی جاتی ہیں یقینا یہ اچھا اور یونیک کام ہے بچوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی تعلیم کا نظم کیا گیا ہے اس ادارہ کو حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب شیخ الحدیث جامع العلوم مظفر پور کی سرپرستی اور حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الھدیٰ صاحب قاسمی کی صدارت کا اعزاز حاصل بے سرو سامانی وسائل کی قلت اور مسائل کے ہجوم میں جو کچھ کام ہو رہا وہ اللہ پاک کی خاص مہربانی اور ادارہ کے ذمہ دار ، حضرات اساتذہ کی محنت و جفا کشی اور قربانیوں کا ثمرہ ہے ۔ حکومت کے طرف سے بھی اکچھر آنچل کا نظم کیا گیا تھا جس سے ہمارے بہت سارے مردو خواتین مستفیض ہوۓ تھے ۔ دس بجے رات کے آس پاس ہمارا قافلہ مہوا کے لیے روانہ ہوا اور رات کے ایک بجے ہم لوگ مہوا پہونچے اور اس کامیاب و پُرسکون سفر پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔

محمد صدر عالم ندوی ویشالی 
تاریخ 28 اکتوبر 2025 بروز منگل
9661819412

Wednesday, November 12, 2025

کائناتِ دل ان پہ تصدق(ہمیں رسول اللہ ﷺ سے محبت کیوں نہ ہوتی؟)محمد سمعان خلیفہ ندوی، استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل

کائناتِ دل ان پہ تصدق
(ہمیں رسول اللہ ﷺ سے محبت کیوں نہ ہوتی؟)

محمد سمعان خلیفہ ندوی، استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل

امتِ مسلمہ اپنے وجود کے آغاز ہی سے اپنے محبوب نبی ﷺ کے دفاع اور ان پر مرمٹنے کے لیے جس طرح کمربستہ ہے اور ان کے ناموس پر اپنی متاعِ جاں قرباں اور اپنی کُل کائنات نچھاور کرتی رہی ہے یہ اس کی نبی اکرم ﷺ سے گہری محبت کی روشن دلیل ہے۔ آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں، جب بھی کہیں شان رسالت میں ادنی گستاخی یا محبت رسول کے حوالے سے ارباب تخت وتاج کی طرف سے کہیں کوئی دست درازی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو امت کے قافلۂ نیم جاں میں روح پڑتے اور اس کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا ہوتے دیر نہیں لگتی،
اگرچہ کہ ہم حقوق نبوت کی ادائیگی میں کوتاہ کار ہیں، لیکن پھر بھی دل محبت نبوی سے سرشار ہیں۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
جب کہ خود اللہ رب العزت نے ان کی مدح فرمائی ہے:
﴿قسم ہے ستارے کی جب وہ گرا، تمہارا ساتھی نہ بہکا نہ بھٹکا، اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا، یہ تو محض وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے﴾ [النجم: 1-4]۔
تو پھر آپ ﷺکی سیرتِ طیبہ سے روشناس بھی ہمیں ہونا پڑے گا۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری رسالت کے لیے آپ کو منتخب فرمایا اور ارشاد فرمایا:
﴿محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں﴾ [الأحزاب: 40]۔
تو پھر آپ ﷺ کے مقام ومرتبے سے ہمیں واقف بھی ہونا پڑے گا۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
جب کہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا:
﴿اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے﴾ [الأنبیاء: 107]۔
آپ ﷺ انسانوں کے لیے بھی رحمت ہیں، جنوں کے لیے بھی، حیوانات اور چرند پرند کے لیے بھی۔ تمام جہانوں کے لیے بھی۔ 
“إنما أنا رحمۃ مھداۃ” (دارمی) میں تو رحمت کا وہ تحفہ ہوں جسے دنیا کے نام بھیجا گیا ہے)۔
تو پھر آپ ﷺ کے اخلاق بھی ہمیں اپنانے ہوں گے۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
آپ ﷺ تو انسانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کا ذریعہ بنائے گئے۔ اس وقت جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، عرب و عجم سب اللہ کی نگاہ میں معتوب تھے، سوائے چند اہلِ کتاب کی باقیات کے، پوری دنیا نیکی کے نام سے واقف تھی، نہ برائی سے گریزاں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿اللہ نے تمھاری طرف ذکر (قرآن) اتارا، ایک رسول جو تم پر اللہ کی روشن آیات تلاوت کرتا ہے تاکہ ایمان والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے﴾ [الطلاق: 10-11]۔
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی زبانی: “ہم بتوں کے پرستار تھے، مردار کھاتے، شراب پیتے، رشتے توڑتے اور بے حیائی میں ملوث رہتے؛ یہاں تک کہ اللہ نے ہمارے پاس اپنے نبی محمد ﷺ کو بھیجا، تو انھوں نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف پہنچایا۔”
تو پھر آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو ہمیں اختیار کرکے اس کے نور سے اپنی زندگی کی تاریک راہوں کو منور کرنا ہوگا۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
آپ ﷺ نے ہم سے محبت کی اور ہمارے لیے سراپا دعا رہے۔
اماں عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ایک دن میں نے نبی ﷺ کو خوش دیکھا تو عرض کیا: “یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیے۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “اے اللہ! عائشہ کے اگلے پچھلے، چھپے اور ظاہر سب گناہ معاف فرما دے۔” یہ سن کر حضرت عائشہؓ خوشی سے ہنس پڑیں یہاں تک کہ ان کا سر ان کی گود میں جا گرا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا میری دعا نے تجھے خوش کردیا؟” انھوں نے کہا: آخر کیوں نہ خوش کرتی! آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! یہ دعا میں اپنی امت کے لیے ہر نماز میں کرتا ہوں۔” (ابن حبان)
سوچیے! نبیِ کریم ﷺ ہر نماز میں امت کے لیے دعا فرماتے ہیں، ہمارے اور آپ کے لیے دعا فرماتے ہیں، سوچ کر ہی کس قدر فرحت ہوتی ہے! روح وجد میں آتی ہے! اور ہم ہیں کہ آپ کی محبت و اطاعت میں کوتاہی کرتے ہیں!
چلیں، آج سے آپ ﷺ کی ہر ادا کو اپناتے ہیں اور سنت کے نور سے اپنی زندگیوں کو سجاتے ہیں۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
آپ ﷺ تاریک راتوں میں ہمارے لیے تڑپا کیے، ہماری خاطر آپ ﷺ آنسو بہاتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تلاوت کی: ﴿پروردگار! انھوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا، پس جو میرا پیرو ہو وہ میرا ہے﴾ [ابراهيم: 36]، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا بھی: ﴿اگر تو انھیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں، اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے﴾ [المائدة: 118]۔ پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: “یا اللہ! میری امت، میری امت!” اور آپ رو پڑے۔

لگائے جائیں گے اُس دن صدائے نفسی سب
مرے نبی ہی کی ہے شان “امتی” کہنا
بروز حشر کہ جب جان پر بنی ہوگی
محبتوں کا ہے اعلان “امتی” کہنا 

اللہ تعالیٰ نے جبرائیلؑ کو حکم دیا: “جاؤ محمد ﷺ سے پوچھو وہ کیوں رو رہے ہیں؟” … پھر اللہ نے فرمایا: “ہم تمھیں تمھاری امت کے بارے میں راضی کر دیں گے، ہرگز رنجیدہ نہ کریں گے۔” (مسلم)

یاد رکھیں! جنت کا داخلہ اور اس کی نعیمِ جاودانی اور جہنم سے نجات اور دنیا وآخرت کی کامیابی درحقیقت نبی کریم ﷺ کی انہی دعاؤں کا ثمر ہے۔ تو اب ہمارا بھی فرض ہے کہ آپ ﷺ کے اس سر رشتے کو مضبوطی سے تھام لیں اور آپ کی ہدایت سے فیض یاب ہوتے رہیں۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
آپ ﷺنے اپنی مخصوص مقبولیت والی دعا قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “ہر نبی کے پاس ایک مقبول دعا ہوتی ہے، اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے اٹھا رکھی ہے۔” (بخاری و مسلم)

آپ ﷺ چاہتے تو یہ دعا اپنی ذات کے لیے، اپنے اہلِ خانہ کے لیے یا اپنے اعزہ کے لیے کرتے، مگر قربان جائیں! آپ ﷺ نے اسے امت کے لیے مخصوص کردیا۔ تو آئیے، آپ ﷺ کی دعوت کو اپنے قول و عمل سے عام کریں۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
قیامت کے دن آپ ﷺ امت ہی کی فکر میں رہیں گے۔
سرِ محشر ترے لب پر
مری امت مری امت
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے شفاعت کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “میں کروں گا۔ قیامت کے دن مجھے پہلے پل صراط پر تلاش کرنا۔” میں نے عرض کیا: اگر وہاں نہ ملیں تو؟ فرمایا: “پھر میزان کے پاس تلاش کرنا۔” میں نے کہا: اگر وہاں بھی نہ ملاقات نہ ہوئی تو؟ فرمایا: “پھر حوض پر دیکھنا، میں ان تینوں مقامات پر ضرور موجود رہوں گا۔” (ترمذی)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿تمھارے پاس وہ رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے، تمھاری تکلیف اس پر بھاری ہے، وہ تمھارے بھلے کا خواہاں ہے اور مومنوں پر نہایت شفیق و مہربان ہے﴾ [التوبة: 128]۔

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
کیوں کہ انسان کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ایک شخص نے پوچھا: “قیامت کب آئے گی؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟” اس نے کہا: زیادہ نماز روزہ تو نہیں ہے، مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ضرور محبت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔” حضرت انسؓ کہتے ہیں: مسلمانوں کو اسلام کے بعد کبھی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات پر خوش ہوئی۔ (ترمذی)
یہی کیفیت حضرت ثوبانؓ کی تھی۔ وہ ایک دن غمگین نظر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا بات ہے؟” انھوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! کوئی مرض یا تکلیف نہیں، مگر جب آپ کو نہیں دیکھ پاتا ہوں تو سخت وحشت ہوتی ہے۔ پھر آخرت کو یاد کرتا ہوں تو ڈر لگتا ہے کہ وہاں آپ کو نہ پا سکوں گا؛ اگر جنت میں گیا بھی تو آپ کے مرتبے سے نیچے رہوں گا، اور اگر جنت میں داخل نہ ہو سکا تو پھر تو کبھی دیدار نہ ہو پائے گا۔” اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
﴿اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا: انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین، اور یہ کتنے اچھے رفیق ہیں﴾ [النساء: 69]۔
سبحان اللہ! کس قدر احسانِ عظیم ہے اللہ کا! اک لفظِ محبت کا ادنی سا کرشمہ دیکھیے کہ آدمی کو اس کی بدولت اپنے محبوب کا ساتھ نصیب ہوجائے۔ صحابہ سے بڑھ کر آپ ﷺ کا عاشق اور جاں نثار کون ہوتا! یقینا ان کی خوشی اور ایک لمحے دیدار کے بغیر ان کی بے قراری بھی بجا تھی کہ محبوب کا چہرا ہی دلِ مضطر کا سہارا ہے۔
ہم اپنے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کا جائزہ لیں لیکن صرف زبانی جمع خرچی کی حد تک نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور آپ ﷺ کے پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچائیں۔

چشم وابرو کے اشارے پر رہے قربان دل
زندگانی آپ کی خاطر کھپانا نعت ہے

عشق کے مضراب سے پھوٹے ہے نغمہ نعت کا
سازِ دل پر نغمۂ جاں گنگنانا نعت ہے

آخر آپ ﷺ کو ہم دل وجان سے کیوں نہ چاہیں؟
کیوں کہ یہی تو ایک نام ہے کہ جس کے زبان پر آنے سے پہلے ہی نطق زبان کے بوسے لینے لگے، پوری کائناتِ حسن سمٹ کر اس میں آجائے اور یہی تو وہ شخصیت ہے جس کی ذات مسکِ ختام، بات مرجعِ عام، فیض فیضِ دوام ہے، جس کی سیرت میں زندگی کا جمال جو سرتاپا کمال ہے، جس کی سیرت خُلدِ بریں تک افرادِ نوعِ انساں کی رہ نما اور معرفتِ الٰہی کے لیے قبلہ نما ٹھہری اور جس کی صورت آئینۂ کمالاتِ بشر، جس کے حسن کی حسنِ دو عالم زکات قرار پائی اور جس کی جہدِ مسلسل تعمیر وتنویرِ حیات، وہی جو سکینت کا ساماں، بہاروں کا عنواں ہے، وہی جو قبلۂ دل اور کعبۂ جاں، روحِ احساں اور جانِ ایماں ہے۔

وہ جس سے نور کے پیکر طہارت کی قَبائیں لیں
حسینانِ دو عالم جس کے چہرے کی بلائیں لیں

وہ قندیلِ حرم جس سے گُہر پارے ضیائیں لیں
وہ جس سے نور کی شمعیں چمکنے کی ادائیں لیں

وہ دل آرا، وہ جاں آرا، جبیں آرا، حسیں تارا
زمیں آرا، فلک آرا، جہاں آرا، وہ مہ پارا

ایسے محسنِ انساں، انیسِ دل وجاں، خیر خواہِ امم اور مسیحائے شامِ غم سے ہمیں آخر کیوں نہ محبت ہو اور اس پر ہم کیوں نہ جان ودل واریں؟!

صلاۃ اللہ وسلامہ دوما دوما علی الحبیب۔

Friday, November 7, 2025

حیــــات از ہـــری مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

حیــــات از ہـــری

مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین 
صبری پور

آج وہ دیدہ زیب کتاب سامنے آئی جس کو پی ڈی ایف فائل کی شکل میں کئی روز قبل پڑھ کر ہی چین لیا تھا چونکہ یہ کتاب اس قلم کی پیداوارہے،جو بزرگان دین واولیاءاللہ کی محبت سے سرشار اور ان کے زندہ وجاوید کارناموں کو اجاگر کرنے میں شب وروز منہمک ہے،اور اس قلم کی کاشت ہے جس نے صدہا عبقری شخصیات،پاکیزہ نفوس پر خاکہ نگاری کی ہے - اور صاحب قلم سے میرا رشتہ ایک استاد وشاگرد،خادم و مخدوم، ناصح ومنصوح کا ہے-اکثر آپ کی کتابوں کو منصۀ شہود پر جلوہ گر ہونے سے قبل ہی پڑھنے کا معمول قدیم ہے، چونکہ آپ سے جو رشتہ ہے وہ اسی بات کا متقاضی ہے،کہ آپ کی تحریروں کو نہاخانۀ قلب وجگرمیں جگہ دی جائے۔
مایہ ناز قلم کار بزرگوں کے صحبت یافتہ ومجازمفتی محمد مسعود عزیز ی ندوی دامت برکاتھم کی قلمی شہرت سے زمانہ واقف ہے،سوانح وتواریخ سے دلچسپی رکھنے والے آپ کے قلمی کارناموں کو اچھی طرح جانتے ہیں،آپ کے علمی کاموں کا اقرار کرتے ہیں،اور آپ کی اثر انگیز تحریروں سے استفادہ کرتے ہیں،بلکہ جب کبھی سوانح نگاروں کا انڈکس تیار کیا جائے گا،تو حیات شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ، تذکرہ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ، حیات عبد الرشیدؒ، بزرگان رائے پور،میرے شیخ و مرشد مفکر اسلامؒ، سیرت مولانا محمد یحیٰی کاندھلویؒ، حیات شیخ الحدیثؒ، تذکرہ حکیم الامتؒ، تذکرہ حضرت مولانا مفتی عبد القیومؒ،تذکرہ علامہ سید سلیمان ندویؒ،تذکرہ حضرت مولاناحسین احمد مدنیؒ،نقوش حیات حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ،چند مایہ ناز اسلاف،تذکرہ حضرت شیخ الھندؒ کے دیدہ ور مصنف کو جلی حروف میں لکھا جائے گا جن کی سوانح کے شالیمار میں بزرگان دین کی زندگیوں کی نہر بہشت بہہ رہی ہے،آپ کی کامیاب علمی، عملی، تصنیفی زندگی کا راز اوقات کی تنظیم اور قرطاس و قلم کے ساتھ مخلصانہ مداومت میں پنہاں ہے،شائد ان کا کوئی دن،کوئی گھڑی،کوئی گھنٹہ بیکار گزرتا ہو، بلکہ ہر لمحہ عمل اور کثرت کار کا نمونہ ہے، وہ اپنی قیام گاہ سے اپنے قائم کردہ ادارہ مرکز احیاء الفکر الاسلامی تشریف لاتے ہیں کسی کتاب کا مسودہ بغل گیرہوتا ہے اور وہی صوفیانہ انداز (جس پر اپنے بچپن سے قائم ہیں ) میں ایک چارپائی پر بیٹھ کر لکھنے میں مشغول ہوجاتے ہیں،جبکہ اس کے علاوہ ان کے پاس دیگر مصروفیات زیادہ ہیں، دواداروں کے منتظم، میڈیکل کالج،ایک انٹر کالج، ماہانہ صحافتی مجلہ"نقوش اسلام" دیگر تعمیری وتنظیمی، اصلاحی وسماجی ذمہ داریاں،نہ کوئی ان کاPA، نہ کوئی ان کا خادم، بس ان کو بزرگان کی توجہات قلبیہ کی بدولت کچھ کرنے اورکرجانے کی فکر ہے،جو ستائے ہوئے ہے ۔
مفتی محمد مسعود عزیزی ندوی کا سب سے منفرد اور ان کے میزان عدل میں اعمال صالحہ کے پلڑے کو جھکا دینے والاجیتا جاگتا عمل ان کی بزرگوں کی خدمت اور پس آئندگان کو ان کی حیات پر بہار سے روشناس کرانا ہے،اس فن میں اب ان کو مہارت وبصیرت حاصل ہے،ان کو بزرگوں کی سوانح لکھنے کا شوق ہی نہیں بلکہ عشق ہے،ایسے گاؤں وبستی میں ہوتے ہوئے بھی (جہاں نہ لائبریری نہ کوئی اکیڈمی )وہ علم کے تیز رفتار رواں دواں قافلے سے بچھڑ نہیں پائے،اب وہ خودایک تحریک واکیڈمی کی شکل اختیار کرگئے، وقت کے مشائخ عظام کے آغوش میں پلے بڑھے، گرم جوشی کے ساتھ اکابرین سے ملاقاتیں اور ان کی خدمت کی اور پھر کشاں کشاں دربار علی میاںؒ پہونچے،آپ کے وصال کے بعد تخت علی میاںؒ کے (علم ومعرفت،تزکیہ وتفکیر میں) وارث مرشد الملت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم کے خمخانۀ علمی سے سیرابی شروع کی۔

ان کی عمر قلیل،کتابیں کثیر ہیں(سال کے اعتبار سے ) تقریباپندرہ سال سے مولانا کا قلم مختلف موضوعات پر موتی رول رہااور گل کاریاں کررہا ہے،ان کے قلم میں شگفتگی و شیفتگی،سلاست و روانی،اور خلوص و محبت کی آمیزش ہے،رواں دواں، ہردم جواں ان کے قلم کا ساز ہے، سنجیدگی ومتانت کی چادر میں ملبوس اس قلم بردار کا یہ حال ہے کہ خصوصاً علماءمیں گھر کرجانے والی بری،مذموم ومنحوس عادتوں(ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا،تبصرہ بازی کرنا،چغلی کرنا)سے وہ واقف ہی نہیں وہ اگر جانتے ہیں تو قلم چلانا جانتے ہیں اور شخصی کمالات کو قرطاس پر نکھارنے کا فن ان کو آتا ہے،وہ ان اوقات کو استعمال میں لاکر آنے والی نسلوں کو بھی اپنے بزرگان دین سے جوڑنا اور مربوط رکھناچاہتے ہیں،وہ جس میدان کے سپاہی ہیں اس میدان میں وہ کسی پس وپیش سے کام نہیں لیتے،نہ ان کے یہاں کوئی مسئلہ آڑے آتا،بلکہ جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو دیگر کاموں کو ذرا روک کر اس کام کو انجام دیدیتے ہیں،یہ ان کے کچھ کرگزرنے کےجذبہ نےان کو تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف میں جگہ دی ہے،کچھ اسی طرح الندوہ اسلامک سینٹر کے بانی،ابنائے ندوہ میں ممتاز،اسلامی اسکالر مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی دامت برکاتھم صاحبزادہ محترم حضرت مولانا محبوب الرحمٰن ازہریؒ کی فرمائش اور دلی خواہش کو انہوں نے احسن طور پر پورا کیا اور آپؒ کے ہزاروں شاگردوں(دنیا کے مختلف حصوں میں) کی جانب سے یہ قرض اتار ڈالا اور ایک نئی کتاب "حیات ازہری " حضرت مولانا محبوب الرحمٰن ازہریؒ کی سوانح پر تصنیف کردی۔

سر زمین کیرانہ (تاریخی ومردم خیز)علم و فضل اور معرفت الہی کی زمین ہے یہاں ایسے ایسے نفوس قدسیہ نے جنم لیا جن ہوں نے دین و ایمان کی شمع روشن کی اور نسیم ہدایت کے جھونکے چلائے اور اپنی پوری زندگانی اسی محبوب مشغلہ میں صرف کی، جن کی دینی واسلامی جد وجہد کے انمٹ نقوش ہمیشہ زندہ وتابندہ رہیں گے،یہاں جن شخصیات نے علم ودین کی خدمت،دعوت و تبلیغ کی جد و جہد،تعلیم و تدریس اور تصنیف وتالیف کے میدان میں زریں نقوش ثبت کئے،ان میں ایک نمایاں نام مولانا محبوب الرحمٰن ازہریؒ کا بھی ہے،جو خاندان کے خلف اور سلف کے آئینہ دار تھے،آپ نے ایک ایسے خاندان میں آنکھیں کھولیں جہاں علم وعمل کی محفلیں آباد اور علماء ومصلحین کی بزمیں سجی تھیں اور اس خاندان پر باد نسیم کے جھونکے چل رہے تھےآپ کے والد ماجد بھی ایک جلیل القدر عالم دین اور ندوة العلماءکے دوسرے بیچ کے فارغین میں چھ اولین طلباء میں شامل تھے۔
مولانا محبوب الرحمٰن ازہریؒ ایک عالم باعمل،اخلاق وکردار سے متصف،نہایت شریف و ملنسار،متقی وپرہیزگار اورایک مایہ ناز مربی تھے،وہ دارالعلوم ندوة العلماء کے قابل فخر استاد تھے،عشق نبوی سے سرشار، توحیدخالص کے پرستار تھے،

معروف ادب نوازڈاکٹر محمد نعیم صدیقی ندوی صاحب آپؒ کی جاذبی شخصیت اور محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئےکتاب کی تقریظ میں رقم طراز ہیں:
اگر ماموں جانؒ کی شخصیت کا فنی تجزیہ کیا جائے،تو جرأت مندی،حق گوئی،با ضمیری،ایثار پیشی،اتباع سنت، اور دینی شعائر کا احترام، طبیعت کی خودداری،بے لوثی وبے غرضی،گہری شرافت، انسانی بلندی،آسودۀ تمنااور محدود طلب،عزت نفس اس کے چند روشن عنوانات ہونگے۔
ملاحظہ کریں۔۔۔۔۔۔۔ 21

معروف اسلامی اسکالر اور منفرد نقش گر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب پیش لفظ رقم کرتے ہوئے حضرت مولاناؒ کی علم حدیث کی یگانہ وبرتر سند پر یوں گویا ہیں:

محدث الحرمین کے مستجیزین میں سب سے بڑی شخصیت علامہ سید سلیمان ندویؒ کی تھی،ان کے بعد مولانا ازہریؒ بر صغیر کے دوسرے عالم ہیں جنہیں شیخ عمر حمدان سے اجازت حاصل ہوئی،ان دونوں کے علاوہ ہندوستان کا کوئی دوسرا عالم بمشکل ہوگا جسے شیخ عمر حمدان سے اجازت ہو۔ ملاحظہ ہو۔۔۔۔۔ 18

مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ سے حصول علم کے بعد جامعہ ازہر مصر سے B.Aکیا وہاں سے فراغت کے بعد جب عمر میں بھی شباب تھا اور علم بھی شباب پر تھا اس وقت دارالعلوم ندوة العلماء کو آپ کی تدریسی خدمات حاصل رہیں،1947ء میں ملک کی ہی تقسیم نہیں بلکہ قلوب و جگر اور خاندانوں کی تقسیم میں یونیورسٹیوں کے تعلیمی سسٹم بھی خاک میں ملے، چنانچہ مجاہد آزادی مولانا ابو الکلام آزادؒ نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کی ساکھ کو بچانے کی ٹھانی،اور ملک کے چنیدہ اشخاص،تجربہ کار فضلاء کو یہاں اپنے ہنر سےجلا بخشنے کے لئے مدعو کیا ان میں ایک تابندہ ودرخشاں مولاناؒ کی ذات گرامی تھی،آپ وہاں عربی زبان وادب کے لکچرار مقرر ہوئے،اور یہاں کا قیام آپ کا ایک عہد زریں ثابت ہوا،یہاں تیس سالہ دور میں آپ نے ہزاروں ذروں کو آفتاب و ماہتاب بنایا،اور ان کے حوصلوں کو مہمیز اور مقاصد میں فائز المرام کیا، عالیہ سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے پھر دارالعلوم ندوة العلماء کو خدمت کے لئے پسند کیا اور یہاں تفسیر و حدیث، عربی زبان و ادب،منطق و فلسفہ،مذاہب وادیان کی تعلیم دی،آپ جس موضوع اور جس فن پر کلام کرتے،یوں محسوس ہوتا۔
 عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں 


دس مرکزی عناوین وباب پر مشتمل یہ کتاب سوانح کی دنیا میں محنت شاقہ اورتلاش بسیار کا ثمرہ ہے جس کے ذیلی عناوین میں حضرت ازہریؒ کی حیات جاوداں پر شرح و بسط اور قلم کار افراد کی محنتوں کا سہارا لے کر ایک حسین گلدستہ تیار کیا گیا ہے،یہ کتاب ایک محبوب زمانہ سازکی کہانی،علم وعمل کی دنیا میں لاثانی کی حیات پر محیط ہے،جس کو دار البحوث والنشر مظفرآباد نے شائع کیا ہے،بزرگان دین اور اپنی عبقری شخصیات کو پڑھنے والے اس کتاب کا مطالعہ کرکے اپنے اندر کچھ کرنے، بننے،سنورنے،کے جذبۀصادق سے اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیں، اور فائدہ اٹھائیں،کیو نکہ یہ ایک ایسے مرد آہن کی داستان حیات ہے،جن کی زندگی قابل قدر کارناموں اور بلند صفات کی وجہ سے نہ صرف یاد رہے گی بلکہ قابل تقلید رہے گی۔

Saturday, November 1, 2025

جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار:سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

جنہیں میں نے دیکھا ہے 


مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور 


سوشل میڈیا پر کئی روز سے ایک کتاب
 "جنہیں میں نے دیکھا ہے" سے ماخوذ تحریریں بعض قلم کاران کی جانب سے سامنے آرہی تھیں معلومات کرنے پر انکشاف ہوا یہ خاکے دارالعلوم ندوة العلماء کے مایۀ ناز فرزند ،علی گڈھ کے فیض یافتہ، صاحب طرز ادیب، میرے محسن وکرم فرما مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی دامت برکاتہم کے قلم سے نکلے ہوئے دنیائے علم وادب کے لئے گنجہائے گراں مایہ ہیں،جو نسل در نسل منتقل ہوتے آرہے ہیں اور علم وتہذیب، مطالعہ وتحقیق کی عمارت میں چار چاند لگارہے ہیں مولانا سے بات کی آپ نے پی ڈی ایف کی شکل میں اپنی کتاب بھیج دی،اس کتاب نے خاکوں پر پڑھی جانے والی وہ امتیازی کتب جن کو حرفا حرفا، ذائقہ،حلاوت وچاشنی کے ساتھ پڑھا گیا اس میں شمولیت اختیار کی۔

ان خاکوں میں کچھ ایسے پھول چنے گئے ہیں جن سے فکر وفن کے چراغ روشن ہیں، خوشبو ورعنائی ہے، روشنی کے وہ مینار اس بزم میں سجائے گئے ہیں جن کی ضو فشانی سے عالم منور ہے،میکدۀ علم وعمل کے ان شہ سواران کو سامنے لایا گیا ہے جو علوم و معارف کے بحر بیکراں فکر وسخن کے رازداں تھے،جن کے علوم ومعارف کی عطر بیز کرنوں سے یہ امت گرانبار ہے،اس وارد میں ان عظیم شخصیات کے کارناموں، امتیازات وخصوصیات کو زندگی بخشی گئی ہے، یہ وہ شخصیات تھیں زندہ رہیں تو ممتاز بن کر، رخصت ہوئیں تو نرالی شان کے ساتھ 
اور سب اس حقیقت کے ترجمان 

ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں 
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 

کسی بھی شخصیت پر لکھنے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کا سراپا پردۀ ذہن پر مرتسم ہوجائے،اور اس کی خصوصیات امتیازات تحریر کے آئینے میں جلوہ گر ہو جائیں ڈاکٹرفیضی صاحب دام ظلہ کے انداز نگارش سے یہ چیز ظاہر ہے انہوں نے زندہ اور پختہ اسلوب میں لکھا ہے زبان کی لطافت وروانی کے ساتھ ادب کی چاشنی اور فکر کی سلامتی نے ان کی تحریر میں چار چاند لگا ئے ہیں،ان کی تحریریں تازہ کاری وشگفتگی کا مظہر ہیں اپنی داخلی کیفیات کو ظاہر کرنے کے لئے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارانہیں لیا گیا ہے نہ ہی مشکل ومبہم تشبیہات واستعارات کا استعمال کیا گیا،بلکہ عام فہم اور سہل اسلوب کے ساتھ اپنی بات قاری کی بصارتوں کے نذر کردی،لفظی پہلوانی سے قارئین کو پچھاڑنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ زبان کی سلاست کے ساتھ نئے مضامین اور فکر وعمل کے نئے گوشے وا کئے ہیں۔
یہ خاکے باصرہ نواز ہوئے،ان کے مطالعہ سے یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ ایسی خوبصورت بامعنی معیاری اور ادبی چاشنی سے مزین تحریریں آپ کا حصہ ہیں،اور آپ کی گہری ادبی بصیرت کا مظہر ہیں،جن میں علم وآگہی ہے،فکرودانش کا سرمایہ ہے، آپ کی علمی وعملی، سماجی واصلاحی، دعوتی وفکری شہرتوں کا سفر عروج پر ہے،ان کی شخصیت میں ہیرے کی سی چمک ہے، وہ اپنوں کے لئے آغوش مادر،ہم عصروں کے لئے بازوئے برادر اور راحت عزیزاں ہیں۔

ان کی مقبولیت ومقناطیسیت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹوں پر بے پناہ شفیق ہیں،دلجوئی وجانثاری کے رفیق ہیں، نہ جانے کتنے چھوٹوں کو آپ نے بڑا بنایا،کتنے گرتوں کو سہارا دیا،اور ان کے چہرہ کی مسکراہٹ کا سبب بنے یہ نبوی ادائیں اب خال خال ہی نظر آتی ہیں، وہ اپنا فیض پہنچانے میں سورج کی یکساں ہیں۔
آپ کا خاندانی تعلق ہندوستان کی اس سر زمین (کیرانہ) سے ہے جو تاریخی بھی ہے اور مردم خیز بھی،علم و فضل اور معرفت الہی اس کے بام ودر سے جھلکتی ہے،یہاں ایسے ایسے نفوس قدسیہ نے جنم لیا جن ہوں نے دین و ایمان کی شمع روشن کی اور نسیم ہدایت کے جھونکے چلائے،اور اپنی پوری زندگانی اسی محبوب مشغلہ میں صرف کی جن کی دینی و اسلامی جد وجہد کے انمٹ نقوش ہمیشہ زنده و تابندہ رہیں گے، یہاں جن شخصیات نے علم دین کی خدمت، دعوت و تبلیغ کی 
جد و جہد ، تعلیم و تدریس اور تصنيف وتالیف کے میدان میں زریں نقوش ثبت کئے ، ان میں ایک نمایاں نام آپ کے دادا محترم ملک کے ایک جلیل القدر عالم دين اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے دوسرے بیچ کے فارغین میں چھ اولین طلباء میں شامل تھے، ندوہ اور اس کی فکر کے فدائی تھے،علامہ سید سلیمان ندویؒ کے رفیق تھے،آپ نے ایک ایسے خاندان میں آنکھیں کھولیں جہاں علم وعمل کی محفلیں آباد اور علماء ومصلحین کی بزمیں سجی تھیں،اور اس خاندان پر باد نسیم کے جھونکے چل رہے تھے،آپ کے والد ماجد جن کی گود اور نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی، حضرت مولانا محبوب الرحمن از ہریؒ تھے، جو خاندان کے خلف اور سلف کے آئینہ دار تھے۔
حضرت مولانا محبوب الرحمن از ہریؒ ایک عالم با عمل، اخلاق و کردار سے متصف نہایت شریف و ملنسار، متقی و پرہیزگار اور ایک مایہ ناز مربی تھے، وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قابل فخر استاد تھے، عشق نبوی سے سرشار توحید خالص کے پرستار تھے۔
 ملک کے معروف ادیب دوراں ڈاکٹر محمد نعیم صدیقی ندوی صاحب آپؒ کے محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئےرقم طراز ہیں:
اگر ماموں جان کی شخصیت کا فنی تجزیہ کیا جائے، تو جرأت مندی، حق گوئی،با ضمیری، ایثار پیشی،اتباع سنت اور دینی شعائر کا احترام، طبیعت کی خودداری، بے لوثی وبے غرضی، گہری شرافت،انسانی بلندی، آسوده تمنا اور محدود طلب، عزت نفس اس کے چند روشن عنوانات ہونگے۔

ایسے خاندان اور ایسی شخصیات کے درمیان آپ کی پرورش وپرداخت ہوئی اور پھر اعلی تعلیم،تزکیہ وتطہیر میں آپ کو اہم مینار کی جھرمٹ میں سکون ملا، جن کے سائے تلے آپ ترقیات کی دہلیز پر قدم رکھتے گئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ آپ کے وصال کے بعد تخت علی میاںؒ کے وارث مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ ادیب زماں حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندویؒ جیسے جبال علم وعمل کے مشوروں اور توجہات کے ساتھ اپنا علمی سفر جاری رکھا اور ان بابرکت نفوس، ادب کے جیالوں کی صحبتوں سے فیض اٹھایا اور ان کی توجہات قلبیہ سے آپ علمی وعملی میدان کو سر کرتے چلے گئے،آپ کی شخصیت دوآتشہ ہے،ندوہ وعلی گڑھ کے فیض یافتہ اور دیار غرب وشرق کے دیدہ ہیں، آپ بڑے خلیق وملنسار، کردار کے غازی اور خورد نوازی میں بہترین مثال ہیں، پہلےآپ نے ایک عرصہ ریاض میں گزارا وہاں ریاضت ومجاہدہ کے بعد اب یورپ کے کلیساؤں میں تکبیر مسلسل کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور دعوت دین،فکر اسلامی کی نشر و اشاعت اور تشییع میں شب و روز مصروف ہیں،وہ اپنی عمر کی چھ دہائی دیکھنے کے بعد بھی سفر سے نہیں گھبراتے بلکہ دعوت دین اور اعلاء کلمةﷲ کی خاطر دور دراز طویل مسافتی اسفار کرتے ہیں ان کے دل میں یہ جذبہ اخلاص کے ساتھ سرایت کر گیا ہے کہ گم گشتہ راہوں کو آئینہ دکھایا جائے اور وہ صراط مستقیم پر آکر اپنی دنیوی و اخروی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔
 لیکن آپ کی تدریسی وانتظامی مشغولیات، دعوتی اسفار کی کثرت کے باوصف قلم و کتاب سے آپ کا رشتہ پیوست ہے ،مطالعہ میں گہرائی ہے،فکر میں وسعت ہے،قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ پر نظر ہے، صاحب علم بھی ہیں اور ادبی ذوق بھی نمایاں ہے،آپ کی تحریر میں قوت استدلال اور فنکارانہ ذوق ہے،کتاب میں موجود بعض مضامین اس کے شاہد ہیں،جبکہ آپ کا میدان خاص طب یونانی ہے لیکن آپ ایک طبیب سے بڑھ کر جید عالم جلیل نادرۀروزگار ادیب قرآنی علوم کے عاشق اور فکر اسلامی کے محب ہیں۔
اپنے دیار سے ہزارہا میل دور دعوت دین کی تڑپ لے کر الندوہ ایجوکیشنل اسلامک سینٹر کا قیام آپ کی زندگی کا عظیم کارنامہ ہے کناڈا کی دعوتی و اصلاحی تاریخ میں یہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،نوجوانوں کے کردار کی تشکیل میں آپ کی محنت بے پایاں ہے،ان کے اندر اسلامی تعلیمات کے فروغ میں آپ کا کردار نمایاں ہے،فکر کےاعتدال اور اصلاحی تحریکوں کے اتحاد و یگانگت کے ذریعے مضبوط اور مؤثر کوششیں آپ ہی کا حصہ ہیں،ان سب خدمات وامتیازات کے باوجود قلم سے ان کا تعلق ان سے محبت کا باعث ہے،خداوند تعالی ان کی عمر میں صحت وعافیت کےساتھ برکت عطا کرے (جاری)

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...