دیکھو انہیں جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو
اصل سرمایہ ایمان و عقیدہ کی حفاظت ہے !
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
انسان کی نجات، ایمان کی پختگی اور روحانی ارتقا کا حقیقی دارومدار محض ظاہری علم، خاندانی وجاہت یا ذہنی فہم کی فراوانی پر نہیں ہے۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم کبھی کبھی ہدایت کا وسیلہ بنتا ہے اور کبھی اپنے حامل کے لئے حجابِ اکبر بھی۔
اگر طلبِ صادق اور توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہوں تو علم، انسان کو ہدایت کے بجائے غرور اور غفلت کی پستیوں میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے نجات کو ایمان، اخلاص اور طلبِ حق سے جوڑا ہے، نہ کہ محض معلومات اور ذہانت کے اثبات سے۔
ابلیس، جو فرشتوں میں عبادت و معرفت کے اعتبار سے ممتاز سمجھا جاتا تھا، وسیع علم رکھنے کے باوجود رب کے حکم سے انکار، اپنے تکبر اور باطنی عناد کے سبب مردود ہوا۔
اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ علم اگر طلبِ حق، تسلیمِ حقیقت، اور انکساری سے خالی ہو تو وہ نجات کا ضامن نہیں بنتا۔ اسی طرح انسانی معاشرے میں ایسے بہت سے افراد ملتے ہیں ،جو وسیع علمی ذخیرہ رکھتے ہیں، ادب و ثقافت اور فلسفے اور سائنس کے دقائق سے واقف ہیں، مگر چونکہ ان کے دل میں طلبِ صادق نہیں ہوتی، اس لیے وہ الحاد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات تو ہوتی ہیں، مگر وہ نورِ ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہوتے، کیونکہ ہدایت علم سے زیادہ قلب کی کیفیت اور اخلاصِ نیت کا تقاضا کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا دروازہ اُنہی پر کھلتا ہے، جن کے دل میں سچی تلاش، عاجزی، اور حقیقت کے سامنے جھکنے کا جذبہ موجود ہو۔ ورنہ محض ذہانت، علمی تحقیق، یا خانوادے کی مذہبی حیثیت انسان کو نہ ایمان عطا کر سکتی ہے اور نہ نجات کی ضمانت بن سکتی ہے۔ ایمان و ہدایت کی بنیاد ہمیشہ سے طلبِ صادق، تواضع، اور توفیقِ الٰہی پر قائم رہی ہے؛ جو دل ان اوصاف سے خالی ہو، وہ علم کے باوجود محروم بھی رہ سکتا ہے اور گمراہ بھی۔
ذیل کی یہ تحریر اسی حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرے گا کہ ہدایت کا اصل سرچشمہ علم نہیں بلکہ اخلاص، طلب اور توفیق ہے؛ اور انسان کی سرکش نفسیات، ابلیس کی مثال اور جدید ملحدوں کے علمی پس منظر سے یہ حقیقت کیسے منکشف ہوتی ہے۔
دوستو !
دنیا میں دولت، شہرت ،عزت عہدہ و منصب کا ملنا اور ناموری حاصل کرنا یہ اصل کمال نہیں ہے ، اصل یہ ہے کہ دنیا میں اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے ساتھ ضرورت کے بقدر معاش اور نیک نامی مل جائے اور اصل دولت اور پونجی جو ہمارا اور ہماری نسلوں کا ایمان و عقیدہ ہے وہ صحیح سالم اور محفوظ رہے اور ہمارا مرنا جینا سب اللہ کی رضا کے مطابق ہو جائے ۔
اندازہ کیجئے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جو خود نبی تھے اور ان کے والد اور دادا بھی نبی تھے ، جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے تمام اہل خانہ بیٹوں بیٹیوں اور پوتوں پوتیوں نواسوں اور نواسیوں سے یہ اطمینان حاصل کرنا چاہا کہ بتاؤ میرے مرنے کے بعد کسی کی عبادت کرو گے ؟ ،،ما تعبدون من بعدی ؟،،
جب نبی وقت کو اپنی اولاد اور اپنے خاص متعلقین کے آئندہ ایمان و یقین کے بارے میں اس قدر خطرہ ہے کہ کہیں وہ اسلامی اور دینی ماحول کے باوجود کہیں ایمان کی دولت سے دور تو نہیں ہو جائیں گے؟ ۔
ہمیں اور آپ سب کو اپنے ماتحتوں اور اپنی اولاد کے ایمان و عقیدہ کے لیے کس قدر متفکر ہونا چاہیے ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنی اولاد سے آخری وقت کی یہ گفتگو اور مکالمہ ہمیں بہت کچھ سبق دے رہا ہے اور بہت سے حقائق کو کھول رہا ہے ۔ اس مکالمہ اور گفتگو سے ملنے والے پیغام کو ہم سب کو سمجھنا چاہیے اور اس کا استحضار رہنا چاہیے ۔
حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ آنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر زور دیتے تھے اور اس پر مہمیز لگاتے تھے ۔
ایک موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا :
,,آخری بات یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسل کی حفاظت کیجیے مکتب قائم کیجیے، دینی تعلیم کو رواج دیجیے، قریب مدرسہ ہے، وہاں اپنے بچوں کو بھیجئے کہ محلہ ہے محلہ کے بچے، برادری ہے برادری کے بچے اور وہ اس قابل ہو جائیں کہ قرآن کو پڑھنے لگیں گے، دینی کتابوں کو سمجھنے لگیں گے، عقائد وفرائض اور احکام سے واقف ہو جائیں گے تب ہی مسلمان رہ سکیں گے۔
اس وقت بہت خطرناک منصوبہ چل رہا ہے، مسلمانوں کے ذہنوں سے، جن کو اللہ نے اولاد دی ہے یا جن کے زیر اثر ایک نئی نسل ہے، انہیں بالکل اس کی فکر نہ رہے، ان کا عقیدہ کیا ہوگا، کس شریعت کو مانیں گے، پیغمبر کو مانیں گے، اس کے حکموں کو مانیں گے، اس کی پیروی کریں گے، دیندار بنیں گے، اللہ کو راضی کرنے اور ناراض کرنے کا فرق پہچانیں گے یا نہیں، تو آپ کے لیے فرض ہے اور ساری چیزوں سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ مکتب قائم کریں، مدرسہ قائم کریں، اور گھر میں بھی ایسا ماحول بنائیں، بیبیوں سے کہہ دیجیے، خواتین، مستورات سے کہہ دیجیے کہ گھر میں دینی باتیں کیا کریں، بچوں کو انبیاء کے قصے، صحابہ کے واقعات، صلحاء کی حکایات بیان کیا کریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنائیں کہ انہوں نے توحید کا کیا نمونہ پیش کیا، اور کس طرح سے بتادیا کہ جن کو آپ لوگ پوجتے ہیں، ان کے قبضہ میں کچھ نہیں ہے، جن کی آپ پرستش کرتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے، میں نے ان کے ساتھ کیا کیا، وہ اپنے کو بھی نہیں بچا سکے تو آپ کو وہ کیا بچائیں گے؟ انبیاء علیہم السلام کے قصے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسی علیہ السلام اور پھر سرور کائنات حضور صلى الله عليه وسلم کے قصے سنانا اور ان سے واقف کرانا اور محبت پیدا کرنا۔
(حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
(سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
دوستو !!!!!
ہندوستان میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ آنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر توجہ نہیں دی گئی ،ان کی دینی تعلیم و تربیت کا نظم نہیں کیا گیا ، آئندہ وہ مسلمان رہیں اس کی فکر نہیں کی گئی ، تو ایسا وقت بھی آیا ،تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ علماء اور اہل دین و دانش کے خاندان میں نسلیں ملحد ہوگئیں اور بے راہ روی کی شکار ہوگیئں۔۔
خلیل الرحمٰن چشتی صاحب حال امریکہ نے 18/ مئی 2025ء کو ایک مضمون تحریر کیا تھا اور یہ ثابت کیا تھا کہ اگر ایمان و عقیدہ کی حفاظت پر زور نہیں دیا جاتا ہے اور اس کے لئے فکر مندی نہیں پائی جاتی ہے، تو علماء اور اہل علم و فضل کی نسلیں بھی بے راہ روی اور الحاد کی راہ اپنا لیتی ہیں۔
انہوں نے اپنے مضمون میں جو کچھ لکھا ہے، وہ دیدئہ عبرت نگاہ کے لئے حاضر خدمت کرتے ہیں ،تاکہ ہم لوگ بھی سبق لیں اور اپنی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے تئیں حساس اور فکر مند ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لکھتے ہیں:
مولانا فضل حق خیر آبادی بہت بڑے عالم تھے۔ مجاھد آزادی بھی ۔
1857ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ 1861 ء میں وفات پائی۔
ان کے بیٹے احمد حسن رُسوا شاعر تھے۔
رُسوا کے بیٹے مُضطر خیر آبادی بھی مشہور شاعر ہوئے۔گوالیار میں قیام کیا۔
1927 ء میں وفات پائی۔ امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ بہت نام کمایا۔
مُضطر خیر آبادی کے بیٹے جان نثار اختر مشہور ترقی پسند شاعر تھے۔ 1976ء میں وفات پائی۔ یہ بھی ملحد تھے۔
جان نثار اختر کا بیٹا ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا۔یہ ملحد شاعر جاوید اختر ہے۔
1945 ء میں ولادت ہوئی۔ اب عمر 80 سال ہے۔ جاوید اختر کے ماموں مشہور شاعر مجاز لکھنوی تھے ، جن کی جوانی میں کثرت مئے نوشی سے وفات ہوئی۔
جاوید اختر نے فلموں میں کہانیاں وغیرہ لکھ کر خوب دولت کمائی۔پہلے ارونا ایرانی سے شادی کی۔ بچے ہوئے۔ طلاق کے بعد ملحد ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی بیٹی اداکارہ و سیاست دان شبانہ اعظمی سے شادی کی۔
موصوف خدا اور دین اسلام کے خلاف اعلانیہ ہر روز زہر اگلتے رہتے ہیں۔
تازہ ترین بیان میں فرماتے ہیں۔
" اگر مجھے پاکستان اور جہنم کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو جہنم کا انتخاب کروں گا۔ "
علمائےخیر آباد کی اولاد کا اب یہ عالم ہے۔
یہی عالم ہم میں سے اکثر کا ہے۔
ہمارے آبآء و اجداد کیا تھے ؟ ہم کیا ہیں ؟
*فَاعْتَبِرُوا يَا اولی الابصار*
ایک صاحب نظر جاوید اختر کے خاندانی وجاہت کے باوجود اس ملحدانہ روئے پر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ان کے پردادا، *فضل حق خیر آبادی* 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہد، شیخ الاسلام، قرآن کے عالم، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا.
ان کے دادا، *مضطر خیر آبادی* بڑے شاعر اور عالم، دینی روایت کے وارث.
ان کے والد، *جانثار اختر* عظیم شاعر، مگر ... سوشلسٹ فکر میں ڈوب گئے، یعنی مذہب میں کمزور ہوتے گیے.
اور پھر *جاوید اختر* ایک مشہور شاعر، مگر مُلحِد ، جو خدا کے وجود ہی کا انکار کرتا ہے.
دیکھا؟؟؟
*چَند نَسلوں کے اندر ایک خاندان کہاں سے کہاں جا پہنچا.*
دین سے وَفاداری کرنے والے عُلماء کا خاندان، ایک اِلحاد پر فَخر کرنے والے شَخص پر خَتم ہوا.
سوچئے ... اگر ہم اپنی نَسل کو دین سے جوڑنے کے بجائے سکْرِین، مَغربی فَلسفہ اور نَفْس کی غُلامی کے حوالے کردیں گے... تو ہماری آئندہ نسلوں کا اَنجام کیا ہوگا؟؟؟
آج اگر ہمارے گھر میں اِیمان کی شَمَع ہے بھی؛ تو کَل ہَمارے بیٹے (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) جاوید اختر سے بھی آگے بڑھ کر شایَدْ کُھلَّم کُھلّا دین کا مَذاق اُڑائیں گے...
اور پھر... ہماری اَولاد کی اَولاد (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) خُدا کو ماننے کا نام بھی جُرم سَمجھے گیں...!
*تَفَکَّروا وَ تَدَبَّرُوا*