Translate

Saturday, October 7, 2023

مظاہر علوم سہارن پور کے ایک زریں عہد کا خاتمہ (میری یادوں کے اجالوں کو سنبھالے رکھنا)سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس! جامعة الحسنین صبری پور

مظاہر علوم سہارن پور کے ایک زریں عہد کا خاتمہ 

(میری یادوں کے اجالوں کو سنبھالے رکھنا)

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس! جامعة الحسنین صبری پور 

آج یہ خبر اشکبار کرگئی کہ ہندوستان کی مردم خیز علمی وتربیتی اور تاریخی درسگاہ جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کے ایک باکمال سپوت، اکابرین کی یادگار، حضرت شیخ الحدیثؒ کے نظریۀ فکروفن کے اخاذ،قلم کے بادشاہ حضرت مولانا سید محمد شاہدحسنی صاحب مظاہریؒ اچانک دربار خداوندی کوچ کرگئے ،ادھر جمعہ کا مبارک دن ختم ہوا چاہتا تھا کہ ادھر علم وقلم تاریخ وسوانح کا ایک قابل رشک اور بے مثال باب بند ہوگیا وہ تو ہمیشہ کے لئے چلے گئے لیکن ایسے گئے کسی کو کوئی خبر تک نہ ہوئی،اور ایسے وقت میں گئے کہ صبح سورج طلوع ہونےکے ساتھ ساتھ لوگ منوں مٹی کے نیچے چھوڑ کر چلے آئے،ان کے جانے سے بہت سی روایتیں ختم ہوگئیں،بہت سی اقدار نے پردہ کر لیا،مظاہر علوم کے ایک زریں عہد کا خاتمہ ہوگیا،اور ایک عہد ساز ورجال ساز انسان ہم سے رخصت ہوچلا ۔

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم 

حقیقت میں وہ نایاب تھے اور اپنے وقت کو تنظیم وتحکیم تصنیف وتالیف اور علمی ونیک کاموں میں صرف کرتے تھے ان کا محبوب مشغلہ قلم سے نقش ونگاری کرنا تھا ،مزاج تحقیقی تھا ،کوئی بات بلا تحقیق ان کی تحریروں میں نظر نہیں آتی،حضرت شیخ الحدیثؒ کی بابرکت صحبت سے فیضیاب ہوکر حضرت شیخؒ کی زندگانی کو عام کرنے کا نصب العین بنایا،اور اس میں کامیاب ہوئے اورحضرت شیخؒ کے نظریہ کو نہ صرف یہ کہ پی لیا تھا بلکہ بہت سی باتوں میں ان کے مماثل ہوگئے،جامعہ مظاہر علوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی اور اس کی تعمیر وترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا، آپ نے کام کرنے کے مواقع بھی تلاش کئے اور پھر کام بھی کیا،علمی وتصنیفی ،تنظیمی وتحریکی کار کو بیک وقت انجام دینا آسان نہیں لیکن مولانا ان مہیب ودشوار گذار راستوں کے شہہ سوار تھے،قلم وکتاب کا ان کو ذوق عطا ہوگیا تھا۔ان کی شخصیت میں جاذبیت وکشش تھی ہر کسی کواپنا بنانے کا فن ان کو آتا تھا ،جو ان سے ملاقات کرتا وہ ان کے بہت قریب پہنچ جاتا ، ایسی مقناطیسیت ان کے اندر جذب تھی ،انتہائی نرم مزاج،محبت واکرام سے پیش آتے،چند مواقع پر آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ہمیشہ خندہ پیشانی سے گلے لگالیتے،گرچہ میں کاندھے تک ہی پہنچ پاتا، بڑی محبتوں سے شاد فرماتے،سہ ماہی مجلہ متاع کارواں بھگوان پور کے رسم اجراء کے موقع پر نظامت میرے سپرد تھی،میں نے جامعہ مظاہر علوم کے امین عام اورایک علمی ادبی شخصیت کے طور پر آپ کا تعارف کرایا پروگرام کے بعد مجھے بلایا،شفقت کی نگاہ ڈالی،اور کچھ اس انداز میں گویا ہوئے"میں تو کچھ بھی نہیں آپ نے نہ جانے کیا کیا بنادیا " 
وہ لمحہ مجھے آج تک یاد ہے میں اس پس وپیش میں رہا شائد مجھ سے بولنے میں کچھ غلطی ہوگئی،قلم سے تعلق رکھنے والوں کو بہت سراہتے تھے ،مفید مشوروں سے شاد فرماتے۔
 
خداوند قدوس نے آپ کو اہم  خصوصیات سے نوازا تھا، وہی خاندانی شرافت نسبی ،وہی علمی مہم جوئی،وہی عرق ریزی ودیدہ وری،وہی انہماک فی العلم ،قرطاس وقلم میں صبح وشام صرف ہوتا تھا،  انہیں اپنے کام سے کام تھا،دل شیشہ کی طرح صاف ،طبیعت باغ وبہار، اوروجیہ شخصیت کے مالک تھے،انسانیت نوازی کی بہترین مثال تھے،آپ کا اصل میدان تصنیف وتالیف کے ساتھ تنظیم وتحریک بھی رہا،اور مختلف محاذ پر آپ نے علمی وملی اور رفاہی خدمات انجام دیں،ملک کے مقتدر علماء میں ایک نمایاں مقام ان کو حاصل تھا ان کے تعلقات اہل ﷲ ومشائخ سے بھی استوار تھے اور اہل ثروت بھی ان کے یہاں حاضری دیتے،چھوٹوں کی پذیرائی بڑوں کا احترام ان کی طبیعت ثانیہ تھی، تواضع کا پیکر اور مہمان نوازی کا اعلٰی نمونہ تھے۔
وہ جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کی علمی ترقی کے ساتھ ساتھ تعمیری توسیع کا بھی سبب بنے،آپ کی شکل میں مظاہر علوم کو ایک ایسا فرد فرید ملا جس نے اپنی زندگی کے شب وروز یہاں کے لئے وقف کئے ،مظاہر علوم سے عربی مجلہ المظاہر کا منظر پر آنا آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا،نیز نئے شعبوں کے قیام میں آپ کی بلندئی فکر کا اہم رول ہے، یہاں انتظامی امور کے ساتھ ساتھ آپ ملک کے بعض اہم اداروں میں بھی شوری میں شامل تھے،ندوة العلماء اور وہاں کے اکابرین سے آپ کا گہرا اور قلبی تعلق تھا،مجلس انتظامی کے وقت ضرور تشریف لے جاتے،علم سے شغف کا یہ حال تھا وہاں علامہ شبلی نعمانی لائبریری سے استفادہ کرتے،جب تحریک جنگ آزادی ۔۔۔۔۔۔ زیر تصنیف تھی اس وقت ندوہ میں علم وتحقیق کے شناور جناب مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم سے بھی علمی ملاقاتیں رہیں جن میں تاریخی شخصیات پر تبادلہ خیال ہوتا اور مراجع کی نشاندہی ہوتی،آپ پرسنل لاء بورڈ کے بھی رکن اساسی تھے اور دیگر تحریکوں وتنظیموں میں بھی آپ اہم مقام پر فائز تھے،اب ان ساری خصوصیات کی حامل شخصیت اور حضرت شیخؒ کی زندگی کوعام کرنے والا انسان سوئےدربار حقیقی چل بسا،اور جلد ہی اپنے نانا جان سے ملاقات وقربت کو قرار آہی گیا ، ﷲ تعالی ان کی مغفرت کاملہ فرمائے، اپنے قرب خاص میں جگہ دے،اور مظاہر علوم کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

Sunday, September 24, 2023

اردو کی بقاء کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت محمد نظر الہدیٰ قاسمی جنر ل سکریٹری نوراردو لائبریری حسن پور گنگھٹی،بکسامامہوا ویشالی رابطہ:

اردو کی بقاء کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت

محمد نظر الہدیٰ قاسمی
جنر ل سکریٹری 
نوراردو لائبریری حسن پور گنگھٹی،بکسامامہوا ویشالی
رابطہ: 8229870156

ہم سب کو اردو کے تعلق سے فکر مند ہوناچاہیے لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہر آدمی ایک دوسرے پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے،جس سے بھی تزکرہ کیجئے وہ برجستہ کہتا ہے کہ فلاں تنظیم کو اس معاملہ میں حساس ہونا چاہیے. اس طرح اردو کی لڑائی کمزور ہورہی ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر بھی اردوکو ختم کرنے کی مہم تیز تر ہوگئی ہے جیسا کہ کبھی ماضی میں فارسی زبان کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا،زبان و ادب سے واقفیت رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں فارسی زبان کا کیسا جلوہ تھا،کورٹ،کچہری،زمین و جائیداد کے تمام دستاویزات فارسی میں ہی ہوا کرتے تھے،ہر عام و خاص فارسی زبان کی شیرینی سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا،لیکن اس زبان کو اس طرح ہندوستان سے ملک بدر کردیا گیا کہ اس کا تذکرہ اورتصور  بھی محال ہورہا ہے،اب فارسی زبان کی طرح اردو کو مٹانے کی مہم ان دنوں تیز تر ہے پہلے طلبہ مادری زبان کے طور پر اردو کا انتخاب کیا کرتے تھے لیکن نئے سرکولر کے مطابق دوسری زبان کے لئے صرف ایک استاذ بحال کئے جائیں گے ایسے میں اردو کی حیثیت طلبہ کے لیے اختیاری زبان کی رہ جائے گی، ظاہر ہے ایک استاذ اردو،بنگلہ اور سنسکرت نہیں پڑھا سکتا اس لئے طلبہ کو لازماً کسی ایک زبان کو انتخاب کرنا ہوگا موجودہ صورت حال بھی بہت اچھی نہیں ہے،ہمارے بیشتر اساتذہ یا تو اردو جانتے نہیں یا اگر جانتے ہیں تو پڑھاتے نہیں اور پڑھانے میں عار محسوس کرتے ہیں،اردو درس و تدریس کو خدمت کے جذبہ سے نہیں پڑھاتے بلکہ صرف وقت گزاری کرتے ہیں،ان حالات کی وجہ سے  اردو زبان پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں،اور اردو داں طبقہ کی طرف سے کوئی تحریک نہیں چلائی جارہی ہے ،جو لوگ اردو کی روٹی کھاتے ہیں ان لوگوں کو صرف اپنی زندگی اور نوکری ہی پیاری ہے،وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہماری بحالی جس سبجیکٹ پر  ہے اسے فوری طور پر سرکار ختم نہیں کررہی ہے،مستقبل میں پھر کیا ہوگا اس سے ہمیں کیا لینا دینا،اردو کی جو تنظیمیں سرکاری ہیں وہ سرکار کے ماتحت میں کام کرنے کی وجہ سے اپنے اختیارات کو وسعت دینے سے معذور ہیں،جو غیر سرکاری وہ تنظیمیں ہیں ان کا معاملہ بھی اخباری بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہا ہے،جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی اردو کی بقاء کے لئے مضبوط جدو جہد کا کوئی سامان نظر نہیں آرہا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان کی تنزلی میں ہم سرکارسے زیادہ مجرم ہیں،سرکار کیا کررہی ہے اس کو صرف نظر کرتے ہوئے،تھوڑی دیر کے لئے ہم اپنے گریبان میں جھانکیں اور غور و خوض کریں، ہم کو کس نے منع کیا کہ ہم اپنے بچوں کو اردو زبان نہ سکھائیں ،کس نے منع کیا ہے کہ ہم دیگر اخباروں کے ساتھ اردو اخبار نہ خریدیں،ہمیں کس نے منع کیا ہے کہ وھاٹسپ،فیس بک،ٹیوٹئروغیرہ ہم اردو زبان میں استعمال نہ کریں ،ایک وقت تھا کہ اردو کا جلوہ ہر خاص و عام پر تھا، کیا ہندوکیا مسلم بلا تفریق مذہب و ملت اردو کی چاشنی سے لوگ لطف اندوز ہوا کرتے تھے،اور خطوں پر پتہ بھی اردو زبان میں لکھا جاتا تھا،اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکیہ وغیرہ بھی اس زمانہ میں اردو داں ہوا کرتے تھے،جس کا ایک نمونہ اوپرپیش کیا گیا ہے،یہ وہ خط ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ نے حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم مدرسہ اشرف العلوم کنھواں کو ۱۳۴۶ھ مطابق ۱۹۲۸ءمیں ارسال کیا تھا،اس طرح کے اور نمونے حسن پور گنگھٹی بکساما کی نور اردو لائبریری میں موجود ہیں،آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اردو کا کیا جلوہ رہا ہوگااب تو حالت یہ ہے کہ مشاعرہ میں شاعر اور لکچرر کی ایک بڑی ٹیم اپنی شاعری اور لکچر کو ہندی میں لکھ کر لے جاتی ہے اور سامعین کے سامنے سنا دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی طرح ہی اردو کی بقاء کے لئے فکر مند ہوں،اور اس کی حفاظت کے لئے کوشاں رہیں،ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم اس محاورہ کے مصداق ہوجائیں گے "اب بچھتاوت ہوت کیا جب چڑیا چگ گئی کھیت"اس کے بعد کف افسوس ملنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

Thursday, August 17, 2023

ہمارا عروج زوال میں کیسے بدل گیا محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ

ہمارا عروج زوال میں کیسے بدل گیا؟؟؟      محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ     ۲۵/دسمبر 1947ءمیں اس وقت کے تحریک جماعت اسلامی ہند کے قائد اور روح رواں مولانا سید ابو الاعلی مودودی رح نے (انجمن)اتحاد المسلمین حیدر آباد دکن کے قائدین کے نام ایک  مکتوب (خط) تحریر فرمایا تھا، یہ مکتوب مولانا مرحوم کی علمی و فکری بلندی،سیاسی بصیرت اور بر عظیم کے حالات پر ان کی  گرفت کا آئینہ دار ہے ۔ ان کے تجزئیے کا ایک حصہ، جو انتہائی حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے اور جو بہت ہی موثر اور سبق آموز ہے، ہم موجودہ ہندوستانی حالات کے پس منظر اور ملکی تناظر میں اپنے قارئین کی خدمت میں ،،آج کا پیغام،، یومیہ کالم میں  پیش کرتے ہیں ۔    مولانا مرحوم نے جو مفید اور انتہائی اہم اور قیمتی مشورے اس وقت کی حیدر آباد کی مسلم حکومت و قیادت کو دئیے تھے ،ان کو اس قیادت نے در خور اعتنا نہ سمجھا (توجہ کے لائق نہیں سمجھا ) اور چند ماہ بعد ہی سلطنت آصفیہ (آصف جاہی) کی پوری عمارت دھڑام سے زمین پر آرہی ،اور ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے جو کچھ سسلی کی مسلم حکومت اور حکمراں کے بارے میں کہا تھا اس کی مصداق ہوگئی۔ وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار       مولانا مرحوم نے جو کچھ اس خط میں تحریر فرمایا تھا : اس کا ایک حصہ ملاحظہ کیجئیے اور آج کے حالات کی روشنی میں اس خط کے مشمولات کو مربوط کرنے کی کوشش کیجئے کہ ہماری دعوتی، تبلیغی اور علمی اور تعلیمی غفلت نے آج ہم سب کو کس اجنبی مقام اور جگہ پر کھڑا کردیا ہے، ہماری اپنی ذمہ داریوں سے غفلت اور دوری کا انجام کس قدر بھیانک ،مشکل،دشوار،ہولناک اور پیچیدہ شکل میں، آج ہمارے سامنے ہے ۔ آج کے حالات میں ضرورت ہے، کہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے،اس کے بتائے ہوئے علاج اور طریقہ کو تلاش کیا جائے، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جائے ،انتشار و خلفشار و باہمی نزاع سے بچا جائے ، ذکر اللہ اطاعت خدا و اطاعت رسول کو اپنا شیوہ بنایا جائے ،صبر کے تقاضوں پر عمل کیا جائے۔۔۔۔۔۔نیز اسلاف کی تحریروں کا ان کے بتائے ہوئے رہنما اصول کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور اس سے صحیح نتائج تک پہنچا جائے ۔ لیکن تکلیف دہ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کی بعض قائدین کی تحریروں کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے، تو فورا ایک طبقہ نیتوں پرحملہ شروع کر دیتا ہے اور کسی مخصوص جماعت کی طرف اس کی نسبت اور انتساب کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ جو انتہائی کم علمی کی بات اور بے بصیرتی کی دلیل ہے ۔ ایک مومن مخلص کی شان تو یہ ہے کہ حکمت کی بات جہاں ملے، مرض اور بیماری کا نسخہ جس طبیب کے پاس ملے ،  وہ اس کو آزمالے۔ حدیث شریف میں بھی اسی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ ،، الحکمة ضالة المومن حیث وجدھا فھو احق بھا،،      علم و حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے جہاں کہیں ملے وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ مستحق اور حقدار ہے ۔ خیر اس تمہد طولانی کے بعد مولانا مرحوم کے خط کے مشمولات کو ملاحظہ کیجئے ۔مولانا مرحوم لکھتے ہیں :" ہندوستان کے مسلمانوں نے ابھی ابھی اپنا جو انجام دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں، وہ در اصل خمیازہ ہے ،ان کوتاہیوں کا جو پچھلی صدیوں میں ہمارے حکمران ،ہمارے امراء ،ہمارے مذہبی پیشواؤں کا ایک بڑا گروہ اور باستثنا چند ،ہمارے عام اہل ملت اپنے اس فرض کی ادائی میں برتتے رہے ہیں،جو مسلمانوں کی حیثیت سے ان پر عائد تھا ۔ اگر وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کرتے،اگر وہ اپنے اخلاق اور معاملات اور اپنی سیرتوں میں اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرتے، اور اگر اپنی سیاست اور حکمرانی میں عدل و انصاف پر قائم رہتے ،اور اپنی طاقتوں کو اسلام کی سچائی پھیلانے میں صرف کرتے تو آج دہلی اور مغربی یوپی اور مشرقی پنجاب سے مسلمان اس طرح بیک بیتی و دو گوش نہ نکال دئے جاتے، جیسے اس وقت نکالے گئے ہیں، اور یوپی ،بہار اور وسط ہند میں ان کے سر پر اس طرح تباہی منڈلا رہی نہ ہوتی ، جیسی آج منڈلا رہی ہے ۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سات آٹھ سو سال تک مسلمانوں کا اقتدار رہا ہے،جہاں مسلمانوں کی بڑی بڑی عظیم الشان جاگیریں ،حیدر آباد کی پائے گاہوں سے کئی کئی زیادہ بڑی جاگیریں قائم رہی ہیں  اور جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ان کے علوم و فنون کے عظیم الشان مرکز موجود رہے ہیں ۔ لیکن عیش دنیا میں انہماک، فوجی طاقت اور سیاسی اقتدار پر انحصار ،اسلام کی دعوت پھیلانے سے تغافل اور انفرادی سیرتوں اور اجتماعی طرز عمل میں اسلام کے اخلاقی اصولوں سے انحراف کا یہ نتیجہ ہوا ،کہ ان علاقوں کی عام آبادی غیر مسلم رہی ،مسلمان ان کے درمیان آٹے میں نمک کے برابر رہے اور دلوں کو مسخر کرنے کی بجائے معاشی اور سیاسی دباؤ سے گردنیں اپنے سامنے جھکوانے پر اکتفا کرتے رہے ۔ پھر جب سیاسی اقتدار  ان سے چھنا اور ایک غیر ملکی قوم ان پر مسلط ہوئی ،تب بھی انھوں نے اور ان کے رہنماؤں نے ان اسباب کو سمجھنے کی کوشش نہ کی،جن کی بنا پر وہ حاکم سے محکوم بن کر رہ گئے تھے،بلکہ انہوں نے غیر ملکی حکمرانوں کے بل پر جینے کی کوشش کی اور اپنے سیاسی مطالبے اور دعوے کو ہمسایہ اکثریت کے مقابلے میں اس تیسری طاقت سے،جس کے اقتدار کو بہر حال عارضی ہی ہونا تھا ،منواتے رہے ۔ اس تمام مدت میں زندگی کی جو مہلت مسلمانوں کو ملی تھی ،اس میں اپنی اخلاقی اصلاح کرنے اور اپنے بزرگوں کی غلطیوں کی تلافی کرنے کے بجائے ، مسلمان محض معاشی اور سیاسی فائدوں کے لئے غیر مسلم اکثریت کے ساتھ کشمکش کرکے بظاہر یہ سمجھتے رہے ، کہ وہ اپنے جینے کا سامان کر رہے ہیں، لیکن در اصل اپنی قبر کھود رہے تھے ۔ آخر کار آج ہماری بد قسمت آنکھوں نے دیکھ لیا کہ بہت سے اس قبر میں دفن ہوگئے اور بہت سے زندہ درگور ہیں " ( ترجمان القرآن جون ۱۹۹۶ ء)      اس تحریر سے ہم اور آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جس ملک میں ہم اور آپ رہ رہے ہیں یہاں کار انسانیت، دعوت و تبلیغ، پیام انسانیت، سماجی خدمات اور  ملی و سماجی کاموں کے کرنے کی کتنی سخت ضرورت ہے اور یہ کہ بحیثیت مسلم امہ ہماری کیا کیا ذمہ داریاں  بنتی ہیں، اور کن کاموں اور ذمہ داریوں کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اور  یہ کہ موجودہ ملکی صورتحال میں سماجی ملی اور دعوتی کاموں کی انجام دہی کس قدر ضروری اور لازمی ہے ۔     لہذا ضرورت ہے کہ ہم وقت اور حالات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے وسیع تر ملی و قومی اور انسانی مفاد کے لیے اجتماعی جدو جہد کریں اور ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے دعوتی فضا اور ماحول کو قائم کریں اور ہر آدمی اپنی بساط بھر اس کے لیے ضرور کوشش کرے، دعوت دین کے جتنے ذرائع ہیں مثلاً تقریر و خطاب، دعوتی خطوط و مضامین، دعوتی اسفار، دعوتی و علمی مجلسیں اور مذاکرات ان سب کے ذریعے ہم اسلام کی زریں تعلیمات کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں، انسانی نفسیات اور مخاطب کی ذہنی و فکری سطح کی رعایت کرتے ہوئے، منطقی طرز استدلال اور دعوت دین میں تدریج کا خیال کرتے ہوئے, کیونکہ کار دعوت کے ساتھ حکمت اور موعظت حسنہ نیز جدال احسن لازم و ملزوم ہے، ایک آخری بات جس کا ذکر بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے مضامین دعوت بھی ہو، آنحضرتﷺ نے ابتدا میں صرف ان باتوں کی تعلیم دی، جن کی بنیاد اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مضامین یہ تھے۔ وحدانیت، رسالت محمدی، قرآن کی دعوت، تصور آخرت کی دعوت، مقام انسانیت و مقصد تخلیق انسانیت۔۔    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی طریقئہ کار کی اہمیت کو جاننا بھی ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کی بنیاد انسانیت کے وسیع ترین تصور پر رکھی، قوموں، نسلوں، زبانوں، رنگوں اور جغرافیائی تفرقوں کو نظر انداز کیا، صحیح عقیدہ و فکر سے لوگوں کو واقف کرایا، قومی عصبیت، علاقائی امتیاز اور اونچ نییچ کی جڑ کاٹ دی، اور ایک عالمگیر اخوت کی بنیاد ڈالی، اور ایک عظیم معاشرتی انقلاب برپا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کاآغاز خالص خدا پرستی کی بنیاد پر کیا تھا، آپ پوری انسانیت کی فلاح کے لیے اٹھے تھے، آپ کی دعوت ہر ملک ہر قوم اور زمانے کے لیے تھی، آپ کی دعوت نے انسانوں کو انسانیت کی عظمت سے آشنا کیا اور ایسا انقلاب برپا کیا کہ جو لوگ اس میں شامل ہوئے وہ اخلاص، بے نفسی خدا کی رضا جوئی ، ایثار و قربانی اور بے غرضی کا پیکر بن گئے اور اس طرح ایک مختصر اور قلیل مدت میں دنیا ایک صالح نظام حیات، شاندار تہذیب وتمدن سے آشنا ہوئی اور پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا اور رسالت محمدی کی حقانیت ایک صداقت بن گئی۔۔ (مستفاد امثال الحدیث / ۱۹۰/۱۹۱)       آج ضرورت ہے کہ داعیان حق اور کار دعوت میں لگے لوگ موجودہ زمانے کے فساد و بگاڑ کو دور کرنے کے لیے اس وسیع تصور کے ساتھ دعوت کا فریضہ انجام دیں اور پیغمبرانہ طریقئہ تبلیغ کی پیروی کریں۔    ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی، گڈا، جھارکھنڈ 6393915491

Monday, August 14, 2023

جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی

-

         *جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی*
         
    ✍️محمد نصر الله ندوی
    
     
            ہم جس ملک ہندوستان میں رہتے ہیں،یہ مختلف تہذیبوں کا گلدستہ ہے،یہاں ہر مذہب کے ماننے والے لوگ بستے ہیں،جن کو دستور نے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے،یہ ایک نہایت عظیم ملک ہے،جس کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا :سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
  
                  اس ملک کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے،اس کے چپہ چپہ پر سرفروشی کی داستان رقم ہے،اس ملک کی آزادی میں صرف خون کے قطرے ہی نہیں،بلکہ خون کی ندیاں بہائی گئی ہیں،آزادی کی داستان اتنی دل فگار اور دلدوز ہے کہ اس کو سننے کے بعد انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں!
  
                 جب اس ملک پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہوگیا اور سات سمندر پار سے آنے والے سفید انگریز، یہاں کے سیاہ وسپید کے مالک بن بیٹھے،تو سب سے پہلے جس نے انگریزی سامراج کے خلاف منظم لڑائی کا آغاز کیا، وہ نواب سراج الدولہ کےنانا علی وردی خان تھے،انہوں نے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج پر انگریزوں کے خلاف دھاوا بول دیا، جہاں انگریزوں نے پناہ لے رکھی تھی، اور ان کو بھاگنے کیلئے مجبور کردیا۔ ،اس کے بعد ان کے نواسے سرج الدولہ نے انگریزوں سے میدان جنگ میں مقابلہ کیا،تاریخ میں یہ واقعہ پلاسی کی جنگ سے جانا جاتا ہے ، پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ نے انگریزوں کے چھکے چھڑا دیئے اور اتنی ہمت اور جواں مردی کا ثبوت دیا کہ ان کے دانت کھٹے کر دیئے،اس جنگ میں اگر چہ سراج الدولہ کو شکست ہوئی،لیکن انہوں نے بغاوت کی جو چنگاری بھڑکائی تھی،وہ ایک شعلہ میں تبدیل ہو گئی،1783 میں شیر ہندوستان ٹیپو سلطان نے میسور کا اقتدار سنبھالا اور انگریزوں کا جینا حرام کر دیا،وہ انگریزوں سے مقابلہ کرتے رہے اور پوری طاقت کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹے رہے،ان کا ایک تاریخی جملہ ہے،جو آج بھی آزادی کے سپاہیوں کو ایک نیا حوصلہ عطا کرتا ہے،انہوں نے کہا تھا کہ شیر کے ایک دن کی زندگی ،گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے،ٹیپو سلطان آخری سانس تک پوری ہمت کے ساتھ آزادی کیلئے جنگ کرتے رہے،لیکن آخر کار شہید ہو گئے،ان کی لاش پر کھڑے ہو کر انگریز وائے سرائے نے کہا تھا:
 آج سے ہندوستان ہمارا ہے!
  
                  ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد آزادی کی لڑائی کو شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور ان کے رفقاء نے نئی توانائی عطا کی،1803 میں شاہ عبد العزیز نے فتوی دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہے،اور انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے،اس فتوی کا ملک گیر اثرا ہوا اور ہر طرف سے انگریزوں کی زمین تنگ ہو نے لگی،اس فتوی کا اثر تھا کہ سید احمد شہید اپنے رفقاء کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے اور بالا کوٹ کی سرزمین پر جام شہادت نوش کیا،ان کی شہادت نے اپنا رنگ دکھایا اور علماء کرام میدان جنگ میں آگئے اور انگریزوں کے خلاف محاذ کھول دیا،1857 کی خونیں جنگ جس کو انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا،آزادی کا ٹرننگ پوانٹ تھا،اس جنگ میں مولانا رحمت الله  کیرانوی،مولانا فضل حق خیر آبادی ،حاجی امداد الله  مہاجر مکی ،مولانا قاسم نانوتوی ،مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا احمد الله مدراسی ،مولانا یحیی علی اور مولانا جعفر تھانیسری نے نمایاں کردار کیا،یہ جنگ اتنی قیامت خیز تھی کہ لفظوں میں بیاں نہیں کیا جا سکتا،کشتوں کے پشتے لگ گئے،خون کی ندیاں بہ پڑیں،علماء کرام کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا،دلی سے لاہور تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا،جس پر علماء کو پھانسی نہ دی گئی ہو،انگریزوں کو اس سے بھی تسلی نہیں ہوئی ،انہوں نے کھولتے ہوئے تیل میں علماء کو ڈالا،توپوں کے دہانے ان کے جسم پر کھول دیئے اور ان کے پرخچے اڑا دیئے ،خود انگریز مؤرخ نے لکھا ہے کہ علماء کے ہاتھ پیر باندھ دیئے جاتے اور ان کو توپوں کے سامنے رکھ دیا جاتا،ان کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا جاتا ،اور چند لمحوں جل کر وہ کباب بن جاتے !
 
                آزادی کی جنگ طویل عرصہ تک جاری رہی، اس کی تاریخ مسلمانوں کے خون سے عبارت ہے ،یہ جنگ1857 کے بعد بھی جاری رہی اور انیسویں صدی کے آغاز میں برادران وطن کی شمولیت ہوئی ،گاندھی جی کی قیادت میں بھارت چھوڑو  تحریک شروع ہوئی، جس میں مولانا محمد علی جوہر ،مولانا محمد علی شوکت،مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور مولانا ابو الکلام آزاد نے زبردست رول ادا کیا اور آخر کار انگریزوں کو یہاں سے بھاگنا پڑا، 1947 میں یہ ملک آزاد ہو گیا،لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد حکومتوں کی طرف سے
 مسلسل مسلمانوں کو نظر انداز کیا گیا،ان کے حقوق کو پامال کیا گیا،ان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کو روا رکھا گیا،جنگ آزادی میں ان کی قربانیوں کو فراموش کردیا گیا،ان کی روشن تاریخ کو اوراق سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے،ان کی جان،مال اور آبرو پر دست درازی کی جارہی ہے،حتی کہ ان کے دین وشریعت پر حملہ کیا جارہا ہے،میوات  سے گروگرام تک ،اترا کھنڈ سے مدھیہ پردیش تک،یوپی سے آسام تک ہر جگہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے،ان کے گھروں کو بلڈوز کیا جارہا ہے،نوجوانوں کو اندھا دھند گرفتار کیا جارہا ہے،ان کو بڑی تعداد میں پس زندان پہنچایا جارہا ہے،چلتی ٹرین میں مسلمانوں پر گولیاں برسائی جارہی ہیں،ان کا معاشی بائیکاٹ کیا جارہا ہے،ان کے آثار ونقوش کو کھرچ کھرچ کر مٹایا جارہا ہے،ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر اس ملک میں رہنا ہے تو ہمارے کلچر کو اختیار کرنا پڑے گا!

               یہ صورتحال ہے نہایت تکلیف دہ اور خطرناک ہے،ہمارے اجداد نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری قربانیوں کا صلہ ہماری نسلوں کو اس طرح ملے گا،جس چمن کو مسلمانوں نے اپنے لہو سے سینچا تھا اور جس کی آبیاری میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا،آج اسی چمن میں ان کے آشیانہ کو اجاڑ کر ان کے جگر کو چھلنی کیا جارہا ہے!
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی 
تو سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی 
جب بہار آئی تو کہتے ہیں اہل چمن 
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

Friday, July 21, 2023

مرد خود آگاہ مولانا محمد اسلام قاسمی رحمہ اللہ ✒️:عین الحق امینی قاسمیمعہد عائشہ الصدیقہ ،بیگوسرا

مرد خود آگاہ مولانا محمد اسلام قاسمی رحمہ اللہ

 
 ✒️:عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ ،بیگوسرائے

ازلی دنیا سے لوگوں کا ناپائدار عارضی رشتہ ،ایک مسلم حقیقت ہے ،مگر کچھ گوہر نایاب و تاب کار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی جدائی سوہان روح ثابت ہوتی ہے ،بلا شبہ عہد رواں کے ادیب ،خلیق وفہیم ،متین وزعیم مولانا محمد اسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ سابق استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند  کی جدائی بھی امت کے لئے عظیم خسارہ ہے،مولانا محمداسلام قاسمی میرے استاذ تو نہیں تھے ،مگر غائبانہ میں ان کا عقیدت مند رہا  ،ان کی تحریریں ضرورت سمجھ کر پڑھتا تھا،شوسل میڈیا میں وہ میرے دوست تھے ،ان کے تبصرے سےاکثر اتفاق رہتا ،مگر بعض تبصرے قابل تبصرے ہوتے تھے ،لیکن وہ خندہ پیشانی سے تبصروں کو برداشت کرلیا کرتے تھے،ان کی بیماری کا علم تھا ، مگرقلمی لہجوں میں وہ قطعا بیمار نہیں لگتے تھے ۔افسوس کہ میری ان سے کوئی بالقصد وبامراد،باضابطہ ملاقاتیں نہ ہوسکیں ،ہاں دیوبند قیام کے دوران ان سے راہ چلتے بعد عصر  ایک سے زائد ملاقاتیں ضروررہی ہیں ،جن میں علیک سلیک سے زیادہ اور کچھ مزید نہیں۔ باوقارعلمی شخصیت ہونے کی وجہ سے ان وقتی ملاقاتوں کا اثرمیری زمانہ طالب علمی پر بھی چھایہ رہا اوربعد کے دنوں میں بھی ۔تاآں کہ مولانا کی وفات ہوگئی اور وہ رب قدیر اور محبوب حقیقی سے جاملے ۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے انتقال کی خبر پر سب سے زیادہ غم اس ا مر کا رہا کہ اب ایسی وضع کے لوگ کہاں رہ گئے جو سراپا علم وادب اور "مرد خود آگاہ "ہیں عہد رواں میں دبستان دیوبند کے گویاشان وپہچان تھے مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی !
زندگی میں شان وپہچان کی بڑی اہمیت بھی ہے اور بڑی ضرورت بھی ،بلاشبہ مولانا مرحوم ہم سبھوں کی ضرورت اور شان وانعام تھے ، ان کی ایک شخصیت میں کئی روشن جہتیں تھیں ، وہ ہر زاوئیے میں الگ الگ رنگ وآہنگ میں نظر آتے تھے :گفتگو میں ان کا اپنا جمال تھا ،تدریس کا لب ولہجہ بھی خود ساختہ تھا ،قلم سے بکھرے موتیوں کا رنگ بھی پکا تھا ،فہم وفراست ،استغنی خلق خدا سے ربط و تعلق کی الگ ہی شان تھی ،اسٹیج پر میرکارواں ،خلوت میں مرد قلندر ،اور طلباء دارالعلوم کے بیچ جلوت نشینی میں نکتہ سنج شیخ الحدیث ۔سراپا کو دیکھنا ہو تو وہ آپ کو  دور سے دکھ جاتے ،ان میں عام احباب کے لئے تکلف تھا، وہ پر تکلف ضرور جیتے تھے، ظاہر داری تھی، مگر تصنع اور نمائش سے پاک تھے،وہ تکلف بھی در اصل اجلے ذہن اور مزاج میں خوب روئی کی علامت تھا جو ان کے مربئ جلیل حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہ اللہ کی لانبی صحبت اور ہمہ رنگ مجلسوں سے نصیبے میں آیاتھا اور جو دم آخر تک مولانا مر حوم کی ذات اقدس پر فروزاں تھا۔مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب کے شعور کی بالیدگی اور فکر وفہم کی بلندیوں نے انہیں غیر معمولی طور پر معاصرین میں ممتاز بنادیا تھا ،وہ زمانہ طالب علمی سے ہی  معاصرین میں الگ نام وصفات کے ساتھ امتیازی شناخت کے مالک تھے۔
 
میانہ قد، وجیہ چہرہ اور اکہرے بدن پر شیروانی کے ساتھ علم وادب کا گراں مایہ رعب ووقار خوب جچتا  تھا اور سچی بات یہ ہے کہ اساتذہ سے ان کی وارفتگی ،ماننے اورمان کر جینے کا گن ،کتاب ودرس سے بے پناہ لگاؤجیسی خوبیوں نے ان کی شخصیت و صلاحیت کو عمر کے آخری پڑاو میں "ولایت" کا مقام بخش دیا تھا ،مولانادیگر بانصییبوں کی طرح آباواجداد کی طرف سے بھاری بھرکم نسبتوں کے مالک نہ تھے ،جس سے ان کو دبستان دیوبند کے بیچ وقار اعتماد حاصل ہوسکا ،بلکہ اس حوالے سے جو کچھ بھی ان کے پاس تھا،وہ ان کا اپنا سرمایہ تھا ،ذاتی محنت وکوشش سے انہوں نے مرکز علم وفن کے بیچ جگہ بنائی تھی اور مرکزیت حاصل کی تھی ،ان کی زندگی کا یہ حصہ اتنا سبق آموز ہے کہ ہر طالب علم کو پڑھنا اور سمجھنا چاہئے ،ان کے اندر حصول علم کی راہ میں جو تڑپ وبے چینی تھی اور  کاروان علم وفن کے گرد،خود کو پامال کر دینے کا جوعزم وعمل تھا ،ان جیسی بے مثال خوبیوں نے ان کے نہ صرف قد کو بڑا بنایا ،بلکہ قد سے کیا ہوتا ہے، ان کی ذات  کو انجمن بنادیاتھا ۔

ذاتی احساس یہ ہے کہ مولانا اپنے دھن اور مشن کے بڑے پابند رہے ،آتے جاتے گذرگاہوں کی ملاقات وزیارت سے راقم کوجو محسوس ہوا اور جس چیز نے ان سے متآثر کیا وہ ان کی "خود آگاہی" کی صفت تھی ،وہ راہ چلتے ہوئے بھی مانو کوئی نہ کوئی خاکہ سازی کررہے ہوتے تھے ،جس میں رنگ بھری کے لئے  وقت کو برباد کرنا یا بے مقصد کی ملاقاتوں میں خود کو الجھانا پسند نہیں کرتے تھے۔ایک جگہ مولانا احمد سجاد قاسمی ابن سابق مفتی دارلعلوم دیوبند مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی اپنے مضمون "ساتھیوں کا پیر مغان" میں  لکھتے ہیں کہ اسلام بھائی دانشوری اور دیدہ وری میں بے مثال ،کتب بینی اور وسعت مطالعہ میں باکمال، اردو زبان و ادب میں ممتاز، عربی ادب کے گوہر مایہ ناز، مضمون نگاری اور انشاءپردازی میں اپنی مثال آپ، خوش قلم، اعجاز رقم، خط نسخ، خط نستعلیق، خط رقاع، خط کوفی اور بھی مختلف خطوط کے اپنے دور کے نادر و یکتا خطاط، گفتگو میں شستگی، تحریر میں برجستگی، رہن سہن میں سادگی کے ساتھ شائستگی، دوستوں سے بےتکلفی، آزاد مزاج، آزاد منش، سراپا اخلاص ۔۔۔ الغرض خواجہ حافظ شیرازی کے اس شعر کی ترجمان شخصیت۔۔۔۔

 بس نکتہ غیر حسن   بباید  کہ  تا  کسے 
مقبول  طبع  مردم  صاحب نظر   شود 
    
 بہت سارے اوصاف ایسے ان میں جمع تھے جس کی وجہ سے وہ محبوب دوستاں رہے، مجالس احباب میں وہ ہمیشہ میر مجلس رہے، دوستوں کی قدر دانی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش، فراخ دل اور کشادہ چشم رہے، اور صحیح معنی میں انکی صحبت میں بہت جی لگتا تھا، احباب محسوس کرتے۔۔۔۔ 
  
   آں روز بر دلم در معنی کشادہ شد 
     کز ساکنان  درگہ  پیر مغاں  شدم

مولانا محمد اسلام صاحب کے بارے میں بعض ساتھیوں نے یہ بات بھی بتائی تھی کہ وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں غیر معمولی محنتی رہے اور بعد کے دنوں میں مطالعہ گویا ان کی خوراک بنارہا ،وہ یومیہ مطالعہ غذا کی حیثیت سے کرتے رہے ،طالب علمی سے زمانہ تدریس کے پورے دورانیئے میں انہوں نے اعتماد ووقار کا جو حصہ بھی پایا وہ بلاشبہ اپنی جفاکشی ،جہد اور روز و شب کے منصفانہ استعمال  کی وجہ سے۔ اللہ پاک نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اوقات میں بھی بڑی برکت دی تھی ،انہوں نے خوب پڑھا اور ملت اسلامیہ کے لئے حسب توفیق خوب لکھا ،صلاحیت وصالحیت کی جامع شخصیت ،وہ سلجھے ذوق بھی رکھتے تھے ،اور ستھری تحریر کے مالک بھی تھے ،اب وہ نہیں ہیں مگر ان کے قلمی آبشارے،دنیا بھر میں  پھیلے شاگرد، ان کی مغفرت کا سامان ،بلندئ درجات کا واسطہ اور ہم مستفیدین کے درد کا درماں ثابت  ہوں گے ان شاء اللہ۔

Thursday, July 13, 2023

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے تحریر:Leo Babautaترجمہ: نایاب حسن

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے 
تحریر:Leo Babauta
ترجمہ: نایاب حسن
”مطالعے کی عادت بنانااپنے لیے زندگی کی تمام مشکلات اور غم وفکر سے دورایک محفوظ پناہ گاہ تعمیر کرناہے“۔(سمرسٹ ماہم)
معمول کی زندگی میں بہت سے لوگ آئے دن اپنے لیے کوئی نہ کوئی ہدف مقررکرتے رہتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ وہ اس ہدف کے تئیں کتنے سنجیدہ ہوتے اور اگر سنجیدہ ہوتے ہیں،تو وہاں تک پہنچ پاتے ہیں یانہیں۔دیگر اہداف کی طرح بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا بھی ہدف بناتے ہیں اور یہ ایک سچائی ہے کہ ایک بہترین کتاب بڑی حد تک اطمینان بخش ہوسکتی ہے،وہ آپ کو آپ کی روزمرہ پہنچ سے بہت دور کی باتیں اور چیزیں سکھاسکتی ہے،آپ کے سامنے ماضی قریب یا بعید کی ایسی شخصیات کو لاکھڑا کرسکتی ہے،جنھیں آپ اپنے پاس، اپنے قریب محسوس کریں گے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھناچاہیے کہ اگرآپ کے پاس کوئی اچھی کتاب (جوآپ کو بھی اچھی لگتی ہو)دستیاب ہے، تواسے پڑھنے کا عمل نہایت ہی لطف انگیزاور مزے دار ہوتاہے؛لیکن اگر آپ کوئی بیکارسی،بورنگ یا بہت مشکل کتاب لے کر بیٹھے ہیں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بس ایک معمول پورا کررہے ہیں۔اگر لگاتار کئی دن تک آپ کو اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے،توبہتر یہ ہے کہ آپ کتاب بینی کا چکر چھوڑیں اور کسی ایسے کام میں لگیں،جو آپ واقعی کرنا چاہتے ہیں اورآپ کو اس کام سے محبت ہے۔اگر معاملہ اس کے برعکس ہے،تو پھر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت کوراسخ اور پختہ کرنے کے لیے درجِ ذیل طریقوں پر عمل کریں:
1-وقت متعین کریں:
آپ کے پاس روزانہ مختلف اوقات میں کم سے کم ایسے پانچ یا دس منٹ ہونے چاہئیں،جن میں آپ مطالعہ کرسکیں۔ آپ کو اس متعینہ وقت میں روزانہ ہر حال میں مطالعہ کرنا ہے۔مثال کے طورپر آپ اگر اکیلے کھانا کھارہے ہوں،توناشتے، دن کے کھانے یا رات کے کھانے کے دوران مطالعے کا معمول بنالیں،اسی طرح اگر آپ سفر کے دوران یا سونے سے پہلے بھی  پڑھنے کا معمول بنالیں،تو اس طرح آپ کے پاس مطالعے کے لیے دن بھر میں چالیس یا پچاس منٹ ہوں گے۔اس طرح ایک بہترین شروعات ہوسکتی ہے،پھر روز بروز خود ہی اس میں تیزی بھی آتی جائے گی،مگر آپ اس سے بھی زیادہ کرسکتے ہیں۔
2-ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں:
آپ جہاں بھی جائیں،اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھیں۔میں جب بھی گھر سے نکلتاہوں،تو یہ اچھی طرح چیک کرتاہوں کہ میرے پاس میرا ڈرائیونگ لائسنس، چابی اور کم سے کم ایک کتاب ہے یانہیں۔کارمیں بھی کتاب میرے ساتھ رہتی ہے،آفس میں بھی،کسی سے ملنے جاؤں توبھی؛بلکہ جہاں بھی جاتاہوں تو کتاب ضرور ساتھ لے جاتا ہوں،الایہ کہ ایسی جگہ جاؤں،جہاں کتاب پڑھنا قطعی مشکل ہوتا ہے۔اگر آپ کہیں گئے اور وہاں کسی کا انتظار کرنا پڑرہاہے،تو آپ کے پاس وقت ہے،اتنے وقت میں آپ کتاب نکالیں اور پڑھنا شروع کردیں،یہ انتظار کے لمحات گزارنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ 
3-کتابوں کی ایک فہرست بنالیں:
آپ جن کتابوں کو پڑھنا چاہتے ہیں،ان کی ایک فہرست بنالیں۔اس فہرست کو آپ کسی میگزین،ڈائری، موبائل، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ہوم پیج پر رکھ سکتے ہیں۔پھر جب بھی آپ کو کسی اچھی کتاب کے بارے میں پتا لگے،تو اس کانام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیجیے،فہرست رکنی نہیں چاہیے،جب اس میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے نشان زد کردیں۔
4-ٹکنالوجی کا استعمال:
اپنی کتابوں کی فہرست کے لیے جی میل کا استعمال کریں اور جب بھی کسی اچھی کتاب کے بارے میں سنیں،تو اس کا ایڈریس میل کردیں۔اب آپ کا ای میل ہی آپ کی ریڈنگ لسٹ ہوگا۔جب آپ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے Done کردیں، اگر آپ چاہیں تو متعلقہ کتاب کے تعلق سے اپنا تبصرہ بھی اسی میسج کو رپلائے کرسکتے ہیں، اس طرح آپ کا  Gmail accountآپ کا مطالعہ رجسٹر بھی ہوجائے گا۔
5-پرسکون جگہ تلاش کریں:
گھر میں کوئی ایسی جگہ تلاش کریں،جہاں آپ اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کربغیر کسی کی دخل اندازی کے کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔عام حالات میں لیٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے،الایہ کہ آپ سونے جارہے ہوں۔آپ کے آس پاس ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہو کہ آپ کی توجہ بٹ جائے، گانے کی آواز، گھر کے لوگوں یارفقاے کمرہ کا شوروشغب بھی نہ ہو۔اگر آپ کو ایسی جگہ میسر نہ ہو،تو پڑھنے کے لیے ایسی جگہ بنانے کی تدبیر کیجیے۔
6-ٹی وی/انٹرنیٹ کا استعمال کم کریں:
اگر آپ واقعی زیادہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں،تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال کم کردیجیے،یہ بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوسکتا ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ منٹ جو آپ ٹی وی یا انٹر نیٹ سے بچائیں گے،وہ پڑھنے میں استعمال ہوسکتا اور اس طرح آپ کے مطالعے کا مجموعی دورانیہ کئی گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
7-بچے کے سامنے پڑھیں:
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں،تو آپ کو ضروربالضرور ان کے سامنے پڑھنا چاہیے۔اگر آپ بچوں میں ابھی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں گے،تویقینی طورپر وہ بڑے ہوکر پڑھنے والے بنیں گے اور یہ عادت ان کی کامیاب زندگی کا سبب بنے گی۔بچوں سے متعلق کچھ اچھی کتابیں منتخب کریں اور انھیں پڑھ کر سنائیں۔اس طرح آپ خود اپنی مطالعے کی عادت کو بھی بہتر بنائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بہتر وقت بھی گزار سکیں گے۔
8-ایک رجسٹر رکھیں: 
کتابوں کی فہرست کی طرح آپ کے پاس ایک رجسٹر بھی ہونا چاہیے، جس میں صرف کتاب اورمصنف کانام نہ ہو؛بلکہ آپ نے کب مطالعہ شروع کیا اور کب ختم کیا،وہ تاریخ بھی اس رجسٹر میں درج کرنے کی کوشش کریں۔بہتر یہ بھی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق آپ کی کیارائے ہے،وہ بھی اس رجسٹر میں لکھیں۔اگر ایسا کرتے ہیں،تو چند ماہ بعد جب آپ اس رجسٹر کو دیکھیں گے اوراس میں مذکور مطالعہ کردہ کتابوں،مصنفوں کے نام اور ان کتابوں سے متعلق اپنے تاثرات دیکھیں گے،تو ذہنی و قلبی طورپرآپ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی و مسرت حاصل ہوگی۔
9-مستعمل کتابوں کی دکان پر جائیں:
میری سب سے پسندیدہ وہ جگہ ہے،جہاں رعایت کے ساتھ کتابیں ملتی ہیں،میں اپنی پرانی کتابیں وہاں چھوڑ دیتاہوں اور وہاں سے بہت ہی کم قیمت پر بہت سی کتابیں حاصل کرلیتا ہوں۔میں ایک درجن یا اس سے زیادہ کتابوں پرعموماً صرف ایک ڈالر خرچ کرتا ہوں،اس طرح کم خرچ میں زیادہ کتابیں پڑھ لیتاہوں۔وہاں بعض دفعہ خیرات کی ہوئی نئی کتابیں بھی مل جاتی ہیں،پھر مزا آجاتاہے؛لہذا آپ کو مستعمل کتابوں کے سٹور کا چکر پابندی سے لگانا چاہیے۔
10-ہفتے میں کم سے کم ایک دن لائبریری جائیں:
مستعمل کتابوں کی دکان پرجانے سے بھی سستاسودایہ ہے کہ آپ ہفتے میں ایک دن لائبریری کا چکر لگالیں۔
11-مطالعے کو پرلطف بنائیں:
پڑھنے کے لیے آپ دن بھر کا اپنا سب سے پسندیدہ وقت مختص کریں، مطالعے کے دوران چائے یا کافی یا کوئی اور ہلکی پھلکی کھانے پینے کی چیز ساتھ رکھیں۔اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت یاBeach پربیٹھ کرپڑھنے کا الگ ہی مزاہے۔
12-بلاگ لکھیں:
آج کل کسی بھی کام کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے بلاگ پر درج کریں۔اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے،تو بنائیں،مفت میں بن جاتا ہے۔آپ کے جاننے والے یا فیملی میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اسے دیکھیں گے اور آپ کو کتابوں کے سلسلے میں اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔اس طرح آپ کے اندر اپنے مقصد کے تئیں احساسِ ذمے داری پیدا ہوجائے گا۔
13-ایک اعلیٰ  ہدف بنائیں:
اپنے دل میں سوچ لیں کہ سال بھر میں اتنی(مثلاً پچاس یا سو)کتابیں پڑھنی ہیں،پھر اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کی تدبیر کریں۔البتہ یہ ضروری ہے کہ پڑھنے میں آپ کو ذہنی سکون مل رہاہو اور مزا آرہاہو، بوجھ یا روٹین سمجھ کر مطالعہ کرنا لاحاصل ہے۔
14-ایک دن یاایک گھنٹہ برائے مطالعہ مختص کریں:
اگر آپ شام کے وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ کو آف کردیں،تو آپ کے پاس کم سے کم ایک گھنٹہ ایسا ضرور ہوگا،جس میں آپ؛بلکہ آپ کے تمام گھر والے ہر رات مطالعہ کرسکتے ہیں۔آپ ہفتے میں کسی ایک دن کوبھی عملی طورپر صرف پڑھنے کے لیے خاص کرسکتے ہیں،یہ نہایت ہی مزے دار عمل ہوگا۔
(مضمون نگارانگریزی کے معروف بلاگراورZen Habitsکے بانی ہیں)

Wednesday, March 8, 2023

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں محمد امام الدین ندوی مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں 

محمد امام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
انسان کی تخلیق نفع رسانی کے لیے کی گئی ہے۔ اس کی آمد کا ایک عظیم مقصد انسانوں کی خدمت ہے۔مخلوق سے ہمدردی ہے۔جو چیز نفع بخش ہوتی ہے کار آمد ہوتی ہے اس کی ضرورت  اور اس کا مطالبہ بڑھ جاتا ہے۔آدمی کا نفع بخش بننا اور اپنی نافعیت کو باقی رکھنا حقیقی وصف ہے اور یہی وصف اسے دیگر مخلوق سے ممتاز کرتا ہے۔
      اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے" اما الزبد فیذھب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض" 
     جو چیزیں نفع بخش نہیں ہوتی ہیں وہ پانی کے دھار میں بہ جاتی ہیں اور جو اشیاء کار آمد ہوتی ہیں وہ زمین میں ٹھہرجاتی ہیں۔
      انسانوں سے بھری اس دنیا میں مومنوں کو پورےعالم کے لئےنافع بنایا گیا ہے۔اسی صفت نافعیت کی بنیاد پر اسے بہتری کی سند دی گئی ہے۔ 
"كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتهون عن المنكر وتومنون بالله"
    تم بہترین امت ہو لوگوں کے نفع رسانی کے لئے برپا کی گئ ہو ۔تم لوگوں کو بھلائ کاحکم کرتی ہو انہیں برائی سے روکتی ہو اور اللہ واحد پر ایمان رکھتی ہو۔
     آج مسلمانوں کی حالت عجب سی ہوگئی ہے۔اس میں "خیر "کی بجائے "شر" کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔مفید کی بجائے وہ غیر مفید بن گیا ہے۔اور جوچیز غیر مفید ہوتی ہے اسے لوگ کچڑے کے ڈھیر میں ڈال دیتے ہیں اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے ہیں۔اسے گھناؤنی 
نظر وں سے دیکھتے ہیں۔اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے ہیں۔ماضی میں ہم دیگر قوموں کی ضرورت تھے۔ہیرے جواہرات سے کہیں زیادہ ہماری قدرو قیمت تھی۔لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور کہتے تھے کہ یہ مسلمان ہے۔اسی سے نفع کی امید ہے۔یہ لوگ غیر ضرر  ہیں۔اس لئےلوگ اپنے مسائل حل کراتے تھے لوگ بہ خوبی جانتے تھے کہ یہی انصاف پسند ہیں۔معمولی اور غیر معمولی مسئلے میں انہیں سےرہنمائی حاصل کرتے تھے کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ سچا رہبر یہی ہے۔اپنی ہر طرح کی امانتوں کا امین انہیں تسلیم کئے ہوتھے کیونکہ دغابازی اور دھوکہ دھڑی،غبن،کی صفت ان میں نہیں تھی۔
     دنیا ان سے مامون اور دنیا والے اپنے کو محفوظ سمجھتے تھے کہ نبی کا پیغام ہی ہے "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده" 
    مسلمان وہ ہے جس کےہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔
     جب تک مسلمان اپنے اعلی اخلاق،پاکیزہ کردار،نرم گفتار،بے لوث جذبہ ہمدردی ،خدمت خلق کا جذبہ،بلا تفریق غریبوں،محتاجوں،درد کے ماروں،یتیموں،بیواؤں،کی دادرسی جیسے عظیم صفت سے متصف رہے،وہ لوگوں کی ضرورت سمجھے گئے اور لوگوں نے پلکوں پر بٹھایا۔جب سے ان میں بد اخلاقی،بد سلوکی،بد عہدی،منافقانہ صفات،چال بازی،دھوکہ دھڑی،ذاتی مفاد،خودغرضی،رشوت خوری،بدکلامی،جیسے صفات خبیثہ جنم لئے لوگ انہیں غلاظت سمجھ کر اسے اپنے سے الگ کردیا۔اب وہ بےقیمت بن گئے ان کا خریدار کوئی نہیں رہا۔
     ہم آدم کی اولاد "  آدمی" ہیں ۔آدمی میں صفت آدمیت ہی اہم اور اعلی وصف ہے۔اور یہی صفت آدمی کو قیمتی بناتاہے۔یہ صفت مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہئے تاکہ دنیا میں پھیلے بے شمار آدم زادوں کے لئے  یہ مفید بن سکیں۔
    مسلمان قانون سماوی کے پاسباں ہیں۔یہ قانون سب کے ساتھ ایثارو ہمدردی کا حکم دیتا ہے۔ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔خود نہ کھا کر غیروں کے کھلانے کو کار ثواب بتاتا ہے۔پڑوسی چاہے جیساہواس کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ کرتا ہے۔مسلمانوں کو قانون ربانی سے آراستہ ہوکر ابن آدم کی خدمت کوترجیح دینےکی تعلیم دیتا ہے۔
مسلمان اپنی نافعیت کو ثابت کردے تو آج بھی لوگ اسے پلکوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ہم نافع بنیں ضار نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خیر الناس من ینفع الناس" لوگوں میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے نافع ہو

    خود غرضی کی اس دنیا میں آج مسلمان بھی مطلب پرست اور خودغرض بنا گھوم رہا ہے۔اس خود غرضانہ صفت نے دنیا میں بڑی تباہی برپا کی ہے۔فسادو بگاڑ اپنا پنجہ ہر سو جمائے ہوا ہے۔اخلاقی بگاڑتیزی سے جنم لے رہا ہے۔سماجی راہ ورسم اور بندھن ٹوٹ گیا ہے۔خاندانی شیرازہ درہم برہم ہونے لگا ہے۔دوستوں کی دوستی مکڑی کے جالے سی ہے۔دلوں میں نفرتوں کی آگ جل رہی ہے۔دماغ میں خبث بھر چکا ہے۔رشتے،ناطے کے خون سفید ہو رہے ہیں ۔لوگ کب ،کہاں، کیسے،کسی کو استعمال کرلے اس کا پتہ نہیں ہے۔دشمنی دوستی کے خوب صورت دروازے سے داخل ہورہی ہے۔اپنے پرائے بن گئےہیں ۔خود غرضی نے مسلمانوں کے تانے بانے کو ادھیڑ دیا ہے۔اور مسلمان بے قیمت ہو گئے ہیں۔ان کی نافعیت ختم ہوگئی ہے۔
         مسلمانوں کی نافعیت ختم ہونے سے صرف ان کا ذاتی نقصان نہیں ہواہے بلکہ عالمی پیمانے پر سب کانقصان ہوا ہے۔ان کا کام ہی تھا اچھائی کو فروغ دینا اور بدی کے دروازے کومکمل بند کرنا۔امن قائم کرنا اور بدامنی کا قلع قمع کرنا۔خیر کی شمع روشن کرنا اوربدی کی تیزو تند ہواؤں کو روکنا۔علم کا شمع ہر فردبشر کے دلوں میں جلانااور جہل کی گھٹا کو دور کرنا۔لیکن معاملہ برعکس ہونے کے نتیجے میں اور قانون سماوی سے پہلوتہی کرنے کی وجہ سے مسلمان بے قیمت ہوگئے۔اس کا خسارہ پورے عالم کو ہوا۔اور سارا عالم ایک کشتی کا میدان بن گیا ہے۔بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل رہی ہے۔طاقتور کمزور کو اپنا لقمہ تر سمجھ رہا ہے۔ظالم کھلی فضاؤں میں گھوم رہاہے۔عدالت ان کا پشت پناہ ہے۔مظلوم زنداں کی سلاخوں کے پیچھے محبوس ہے۔غلام آقا کا رہین ہے۔آن کی آن میں بلاوجہ میزائل برسائے جارہے ہیں ۔انسانوں کی آبادی شہر خموشا بن جاتی ہے۔انسانیت شرمشارہے ۔حیوانیت کا کھلا راج ہے۔درندے بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہماری صفت آدم زادوں میں کیسے منتقل ہوگئی ہے۔کتے صوفے پر سورہے ہیں ۔عمدہ اور اعلی محلوں میں جی رہے ہیں عمدہ سواریوں میں سیر کررہے ہیں۔ان کے کھلانے پلانے،بول وبراز،نہلانے دھلانے پر خدام متعین ہیں۔انسان فٹ پاتھ پر فاقے کے عالم میں جی رہا ہے۔کتے کے حصے میں تازہ اور نفیس کھانا ہے وہیں گھر کے خادموں کے لئے باسی،اور سڑے گلے،موٹے جھوٹے،کھانے کا نہ سہی انتظام ہے نہ ہی مناسب وقت ہے۔
آج مسلمانوں کودنیا کے سامنےاپنی نافعیت ثابت کرنے ضرورت ہے۔جن قوموں نے اپنی نافعیت کو اخلاقی،تہذیبی تمدنی،لسانی،معاملاتی،فکری،علمی ادبی،سیاسی،سماجی،سائنسی،ٹکنالوجی،ہراعتبار سے اپنی قیمت ثابت کیا ہے آج نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کو ان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔اور ان کا استقبال کیا جارہا ہے۔اس لئے بہ حیثیت خیر امت مسلمان اپنی نافعیت کو سمجھیں۔اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...