Translate

Saturday, February 28, 2026

پیام رمضان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزہ دار فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے ! محمد قمرالزماں ندوی۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام،موئی کلاں، کنڈہ پرتاپگڑھ ۔

پیام رمضان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزہ دار فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے ! 

 محمد قمرالزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام،موئی کلاں، کنڈہ پرتاپگڑھ ۔ 9506600725

علماء کرام لکھتے ہیں کہ انسان حیوانات اور فرشتوں کی بیچ درمیانی مخلوق ہے،اس میں ان دونوں متضاد جنسوں کے طبائع بہت لطیف اور نازک طریقہ پر ودیعت کئے گئے ہیں، وہ ملکوتی صفات اور حیوانی خصوصیات کا عجیب و غریب مجموعہ ہے، جس منصب کے لیے وو نامزد کیا گیا ہے اور جن مقاصد کی تکمیل خدا کی طرف سے اس کے سپرد کی گئی ہے اور اس میں اس کی استعداد اور صلاحیت بھی پیدا کی گئی ہے، اس کے لئے نہ فرشتے موزوں ہیں نہ جانور، یہ خلافت امانت اور عبادت کا منصب جلیل ہے۔ اس حقیقت کا اظہار قرآن و سنت میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔( مستفاد ارکان اربعہ) 
   اسلامی عبادات میں سے ایک اہم عبادت روزہ بھی ہے، اس کا مکلف بھی انسان ہی کو بنایا گیا ہے اور اسی پر روزہ فرض ہے ، ہاں اس کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے کافر پر روزہ فرض نہیں ہے۔ 
   روزہ دار روزہ کی حالت میں فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے ۔ روزہ کی ساخت اور طرز ایسی رکھی گئی ہے کہ اس میں فرشتوں جیسی زندگی ابھرتی ہے کہ فرشتے وہ مخلوق ہیں، جو نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ ان کو زمینی مخلوق کی طرح ضروریات پیش آتی ہیں، وہ ہر وقت اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اس سے لو لگاتے ہیں ۔ وہ نہ تھکتے ہیں اور نہ نافرمانی کرتے ہیں ۔ گویا زمینی مخلوق آسمانی عمل کا نمونہ اور مثال ہوتے ہیں روزے دار ۔
 بقول حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رح:
  *زمینی مخلوق کا فرد ہونے کی وجہ سے اس کو لازمی تقاضائے بشری تو پوری کرنے ہوتے ہیں ،لیکن دیگر ممکن اور اختیاری معاملات میں روزہ دار فرشتوں کی طرح عبادات و اطاعت میں لگا رہتا ہے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ کوئی نافرمانی کرتا ہے، روزہ دار اس طرح کی زندگی اختیار کرنے میں کامیاب اور مقبول روزہ دار ثابت ہوتا ہے اور اس میں کوتاہی کرنے میں کوتاہی کے بقدر روزہ کے فائدے سے محروم ہوجاتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ایسے زمانہ میں جو روحانی اور ملائکہ کے طرز زندگی کا اظہار کرنے کے لئے ان کو دیا گیا ہے،اس سے وہ کہاں تک عہدہ برآ ہو رہے ہیں اور اگر ان سے سے کچھ کوتاہی ہوتی ہے تو وہ اس کو دور کرنے کی کیا کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی پوری زندگی میں فرشتے نہیں بن سکتے تو کیا ان کو جو تھوڑا سا موقع اس بات کا مظاہرہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے، اس سے وہ بقدر استطاعت فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتے، اور اپنے پروردگار کی رحمتوں اور رضامندی سے مالا مال نہیں ہوسکتے ؟* ۔  
( تحفئہ رمضان از حضرت مرشد الامہ سید محمد رابع حسنی ندوی رح )
  الغرض رمضان المبارک کا مہینہ اور روزہ کا عمل یہ منجانب اللہ خصوصی انعام اور عطیہ ہے ایمان والوں کے لئے ۔ رمضان المبارک کا یہ مہینہ ایک بیش بہا دولت اور ایک عجیب اور انوکھی نعمت والا مہینہ ہے زمینی مخلوق یعنی انسان کو کچھ وقت کے لئے آسمانی مخلوق یعنی فرشتہ بنا دینے والا مہینہ ہے ،ایسی بیش بہا اور نادر نعمت ملنے پر اس کی قدر و منزلت نہ ہو، اس کا احترام نہ ہو تو ہم سب کے لئے بڑی محرومی کی بات ہوگی ۔ 
   حدیث شریف میں ایسے شخص کے لئے وعید آئی ہے ۔ ایک بار *حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* نے ممبر پر چڑھتے ہوئے تین شخصوں کے لئے محرومی و بربادی کی بددعا پر آمین کہیں ان میں سے ایک شخص وہ تھا، جس کو رمضان کا موقع ملے اور وہ اس کا حق ادا کرکے اپنی بخشش نہ کرا سکے، اور رمضان کی قدر کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدمی کے ہر عمل کی جزا تو ویسی ہوگی جیسی یہاں کی گئی ہوگی، سوائے روزہ کے کہ وہ میرے ساتھ مخصوص ہے میں خود اس کی جزا خود اپنے سے دوں گا ۔
    *اللہ تعالٰی* نے اس ماہ مقدس کے پہلے عشرہ کو رحمت دوسرے کو مغفرت اور آخری یعنی تیسرے عشرہ کو جہنم سے خلاصی کا عشرہ قرار دیا ہے، تاکہ مومن بندہ ہر اعتبار سے اپنے آپ کو مزکیٰ کرلے اور اپنی آخرت کو بنا لے ۔ 
  *حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ ڈالا جائے ۔ 
    *حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں ۔ 
    اگر اس مہینہ میں کسی آدمی کو اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو پورے سال یہ توفیق اس کے شامل حال رہتی ہے اور اگر یہ مہینہ بے دلی، بے توجھی، فکر و تردد اور انتشار کے ساتھ گزرے تو پورا سال اسی حال میں گزرنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔
  *غرض* رمضان المبارک میں روزہ دار کو ہر اعتبار سے تربیت اور اپنی شخصیت کو بنانے اور نکھارنے کا موقع دیا جاتا ہے اور اس کی توفیق دی جاتی ہے کہ یہ زمینی مخلوق آسمانی عمل کو اپنا کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لے، اور اس اہم رکن کو ادا کرکے خود مالک ارض و سما سے اپنا بدلہ اور انعام حاصل کرے ۔
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ مقدس کی قدر دانی کی بھرپور توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین 
.....................................
 نوٹ/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی کے تعاون لئے مندرجہ ذیل اکاؤنٹ میں رقم بھیجیں ۔ یہ اکاؤنٹ مدرسہ کا ہے ۔ اگر اس میں کوئی دقت ہو تو میرے فون پے پر رقم بھیج سکتے ہیں اور اسکرین بھیج کر مجھ سے رسید حاصل کریں ۔ 
اکاؤنٹ نمبر مدرسہ
Account Name and Number
MADRASA NOORUL ISLAM
A/c No.: *6743002100000304*
IFSC.: *PUNB0674300*
*Punjab National Bank.*
Branch- Kunda
Pratapgarh, U.P. (India)

اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کیجئے!سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد

اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کیجئے!

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد

*رابطہ: 8099695186*


           رمضان المبارک کی مقدس اور بابرکت ساعتیں جاری ہیں،اس مقدس ماہ میں بہت سے لوگوں کے ٹائم ٹیبل اور روٹنگ تبدیل ہوجاتی ہے اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ اس مہینے میں مسلمانوں سے اسلام بہت ساری چیزوں کا مطالبہ کرتاہے،یہ مہینہ دوسرے عام مہینوں کی طرح ہرگز نہیں ہے،اس ماہ کے شب و روز خصوصی اہمیت کے حامل ہیں،اس کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے،لہذا یہی وجہ ہے کہ خوب ناپ تول کر اس کے اوقات کو خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،بے مصرف اور ناقدری کے ساتھ ہرگز اس مہینے کو ضائع نہ کیاجائے،ماہ رمضان کی ایک خصوصیت اس ماہ کا روزہ بھی ہے،روزے کا مقصد اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں: "عبادت کا ایک طریقہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے لیے شدید و ثقیل مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان جب کسی سے سخت دل بستگی اور قلبی محبت کرتا ہے تو پھر اس بات کی پرواہ بالکل نہیں کرتا کہ اس کی اپنی زندگی اور مرافقِ حیات درست ہیں یا نہیں اور وہ عیش و آرام میں ہے یا تکلیف و رنج میں"۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تقریر فرمائی،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی تعریف فرمائی کہ یہ لوگ دوسروں کو دین کی باتیں بتاتے ہیں پھر فرمایا کہ ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں میں دینی سوجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے،ان کو تعلیم نہیں دیتے،ان کو نصیحت نہیں کرتے،بری باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ اور ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دین کی باتیں نہیں سیکھتے؟ کیوں اپنے اندر دینی سمجھ پیدا نہیں کرتے؟ اپنی اولاد کے اندر دینی جذبہ پیدا نہیں کرتے؟ خدا کی قسم لوگوں کو آس پاس کی آبادی اور اپنے حلقے کو دین سکھانا ہوگا،ان کے اندر دینی شعور پیدا کرنا ہوگا،وعظ و تلقین کا کام کرنا ہوگا اور لوگوں کو لازما اپنے قریب کے لوگوں سے دین سیکھنا اور سکھانا ہوگا،اپنے اندر دینی سوجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی اور وعظ و نصیحت قبول کرنا ہوگا،ورنہ میں انہیں اس دنیا میں جلد سزا دوں گا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر سے اتر آئے،لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے سخن کن لوگوں کی طرف تھا، کچھ لوگوں نے کہا آپ کا اشارہ قبیلہ اشعر کی طرف تھا،یہ لوگ دین کا علم رکھتے ہیں،ان کے قریب دین سے ناواقف و بے پرواہ دیہاتی بستے ہیں اور اشعری لوگ دعوت و تبلیغ سے غافل ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر کی خبر اشعری لوگوں کو ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یارسول اللہ! ہم سے کیا قصور سرزد ہوا کہ آپ ہم پر غضب ناک ہوئے؟ کیا تعلیم و تبلیغ بھی ہماری ذمہ داری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ہاں یہ بھی تمہاری ذمہ داری ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی،لعن الذین کفرو امن بنی اسرائیل(طبرانی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جو آیت تلاوت فرمائی،اس سے ہم لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ بنی اسرائیل نے نافرمانی کرنے والوں کو نہیں روکا جس کے نتیجے میں خدا کا غصہ ان پر بھڑکا،تم نے اگر ان کی طرح نافرمانوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور غلط قسم کی رواداری برتی تو تم بھی اس کے غضب کے شکار ہو گے،اس کی روشنی میں ہم میں سے ہر ایک کو دین سمجھنے اور سمجھانے کی فکر کرنی ہوگی اور تعلیم و تبلیغ کے فریضے کو ہرحال میں انجام دینا ہوگا،یہی راستہ خدا کے غضب سے بچنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کاہے،اس لئے اپنی خاص جدوجہد سے ہم میں سے ہرایک کو اس چراغ کو جلائے رکھناہوگا،یہ چراغ جلتا رہے،ہم سبکو اسکی جدو جہد اور کوشش کرنی ہوگی۔ 
بچوں کا ذہن،بچے کے اخلاق و عادات،اطوار،رہن،سہن اور اس کا دین ماں باپ کی تربیت اور تعلیم سے متاثر ہوتاہے،جیسا والدین کی تعلیم و تربیت کا طریقہ ہوگا،اسی طریقے پر بچے کی نشونما ہوپائے گی،قیامت کے دن باپ سے اولاد کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم نے اس بچے کو کیا کیا تعلیم دی تھی؟ کیسی تہذیب اور کیسا ادب سکھایا تھا؟ لہذا اولاد کی جسمانی پرورش کے بعد ہروالدین کا سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں معزز ہوں،وہ جہنم سے خود بھی محفوظ رہیں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کا ذریعہ بھی بنیں۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے بچوں کو بلا کر زیتون کا تیل دیا اور فرمایا کہ سر پر اس کی مالش کرو،بچوں نے سر پر تیل لگانے سے انکار کر دیا،راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے لکڑی لی اور بچوں کو مارنا شروع کیا،صحابی رسول،بچوں کو مارتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے کیا تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیل لگانے کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ یہ ہے تربیت کا نبوی طریقہ اور سنت کی عظمت،جو ہر ماں باپ پر لازم ہے،تربیت کی ذمہ داری ماں پر زیادہ ہے کیونکہ باپ،بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی فکر میں کمانے کے لئے گھر سے باہر چلا جاتا ہے، ماں گھر میں رہتی ہے،اس لیے ماں کو چاہیے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھے،وہ خود بھی دیندار بنے اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی خطوط پر کرے،اگر ماں نیک ہے جھوٹ نہیں بولتی، گالیاں نہیں دیتی،صبح سویرے نیند سے اٹھ جاتی ہے،نماز روزے کی پابند ہے،قرآن حکیم کی تلاوت کرتی ہے،تو انکے بچوں اور بچیوں کے اندر بھی اس قسم کے اوصاف حمیدہ پیدا ہوجاتے ہیں،جواسلام کا تقاضہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے،اور اگر ماں جھوٹ بولتی ہے،بدزبان ہے،بدخلاق ہے اور دین کے احکام پر کاربند نہیں ہے تو بچوں کے اندر بھی یہی بری خصلتیں پیدا ہوں گی اور بچپن کی یہ برائیاں اخیر عمر تک رہیں گی جن کے برے نتائج دنیا و آخرت دونوں جگہ میں انہیں بھگتنے ہوں گے۔یہ سب گھر کے ماحول کا ثمرہ ہے،اس لیے نہایت ضروری ہے کہ ماں باپ خود بھی برائیوں سے بچتے رہیں،اپنی اولاد کو بھی بچاتے رہیں اور انہیں اچھی و معیاری تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا خاص اہتمام کریں،آج ہم جن نازک حالات کا سامنا کررہے ہیں،اسلام اور مسلمان جن تشویشناک حالات سے گذررہے ہیں،ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس وقت ہم اپنے گھروں میں اسلام اور انسانیت کے خدام پیدا کریں،دین اسلام پر مرمٹنے والے خادمین تیارکریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے،جب والدین اپنی اولاد کی صحیح اور درست تربیت کریں،اسلام کے نقوش پر اپنی اولاد کو پروان چڑھائیں۔
نئی جنریشن،نئی نسل اور نئے پیدا ہونے والے بچوں کی شروع ہی سے ایسی تربیت کی جائے کہ ان کے قلب و دماغ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت سے رنگے ہوئے ہوں، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی حکیم الحکماء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اصول وضع فرمائے ہیں وہ ایسے فطری اور مؤثر ہیں کہ بغیر کسی مشقت کے بچے کے نشونما کے ساتھ ساتھ اس کا ذہنی اور اخلاقی ارتقا خود بخود ہوتا چلا جائے۔سب سے پہلا کام جو بچے کی پیدائش کے متصل ماں باپ پر لازم کیا گیا وہ یہ کہ اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے،نری فلسفہ تبلیغ کے پرستار تو کہیں گے کہ یہ تو فضول حرکت ہے،جو بچہ ابھی اپنی ماں کی زبان بھی نہیں سمجھتا اس کے کان میں حی علی الفلاح کے عربی جملے ڈالنے سے کیا فائدہ؟ مگر حقیقت شناس لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ الفاظ درحقیقت ایمان کا بیج ہیں،جو کان کے راستے سے بچے کے دل میں ڈالا گیا ہے اور یہی بیج پرورش پا کر کسی وقت تناور درخت بنے گا،دوسرا کام یہ کہ جب بچہ زبان کھولنے لگے تو اس کو سب سے پہلے اللہ کا نام سکھاؤ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں کی زبان کلمہ لا الہ الا اللہ سے کھلواؤ اور یہی کلمہ موت کے وقت ان کو یاد دلاؤ،گویا دنیا میں دخول و خروج اسی کلمہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ ہونا چاہیے،پھر جب کچھ سمجھنے،بوجھنے کے قابل ہوجائے تو اللہ تعالی کی عظمت و محبت اس کے دل نشیں کرے اور سنت کے مطابق ادب و تہذیب سکھائے،بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے اور غیبت وغیرہ کرنے سے بھی پرہیز کرے کہ بچہ ان بری خصلتوں کا عادی نہ بن جائے،بچے کے ہاتھ سے اچھے کاموں میں خرچ کرائے کہ بخل اس کی طبیعت میں جگہ نہ پائے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی اچھی دولت نہیں بخشی اور فرمایا کوئی شخص اپنے بچے کو ادب و تہذیب سکھائے یہ اس سے بہتر ہے کہ ہر روز بقدر ایک فطرہ کے مساکین پر صدقہ کیا کرے۔
پندرہ سولہ سال قبل پڑوس کے معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب ہندوستان کے دورے پر تشریف لائے تھے اور انہوں نے دارالعلوم دیوبند کا دورہ بھی کیا تھا،اس موقع پر دارالعلوم کے بعض اساتذہ نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے پوری دنیا کا دورہ کیا ہے،دنیا کو قریب سے دیکھا ہے،درجنوں ممالک میں آپ کا سفر ہوتا ہے،شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوجہاں آپ کا سفر نہ ہوا ہو اور آپ وہاں نہ گئے ہوں،خلاصہ یہ کہ امریکہ،یورپ اور دیگر ملکوں کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے،کئی ملکوں میں آپ بار بار گئے ہیں،یہ بتائیے کہ آپ نے وہاں اسلام کو کیسا پایا؟ اور دنیا بھر میں اسلام کا مستقبل کیسا ہے؟ دارالعلوم آپ سے جاننا چاہتا ہے تو حضرت مفتی صاحب نے اسکے جواب میں فرمایا کہ الحمدللہ دنیا بھر میں اسلام کا مستقبل تابناک ہے،اس پر کوئی خطرہ نہیں،اسکا مستقبل انتہائی روشن ہے،اوراسکے بعد مثال کے طور پر مختلف ملکوں کے کئی واقعات آپ نے سنائے۔
یہ ساری باتیں عرض کرنے کا مقصد اور منشا یہ ہے کہ ہم جیسے لوگ جن کا شمار دین داروں میں ہوتا ہے اور نہ ہی دنیا داروں میں،ہمارے گھروں میں 5 سے 10 سال کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا دینی جذبہ دیکھ کر رشک آتاہے اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں،انکی کم سنی اور کم عمری کے باجود ماہ رمضان میں بالخصوص نماز،روزہ اورتلاوت کےلئے انکی لگن اور شوق ہماری ممانعت کے آگے ہیچ نظر آتاہے،لیکن اسکے ساتھ ہی یہ امید بھی یقین میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ اسلام اور انسانیت کے خدام دراصل اسی ماحول سے پیدا ہونگے،ہم تو خیرخواہی کے جذبے سے انھیں منع کرتے ہیں کہ بیٹے ابھی آپ سن بلوغت کو نہیں پہونچے،اسلئے آپ کے اوپر نماز،روزہ سمیت اسلامی احکام نافذ نہیں ہونگے،آپ اسکے مکلف نہیں ہیں،ابھی آپ کی عمر روزہ رکھنے کی نہیں ہے،لیکن انکے شوق و ولولے کے آگے ہمیں سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے اور خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے،وہ روزہ،تراویح، نماز اور تلاوت وغیرہ کے لئے ہر مشقت خوشی خوشی جھیلنے تیار اور آمادہ ہیں،ہماری کسی زور زبردستی کے بغیر خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی کے ساتھ مسلسل نماز روزے،تلاوت و تراویح کی پابندی کرتے ہیں،بعض اوقات کسی تکلیف اور پریشانی کے باوجود بھی قدم پیچھے ہٹانے ہرگز تیار نہیں،سوال یہ ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں میں اسلامی احکام پر عمل آوری کا شوق اور جذبہ آخرکس نے پیدا کیا؟ کیا یہ مستقبل کے لئے ایک اچھی اور فرحت بخش خبر نہیں ہوسکتی؟ کیا ہم بھی اپنے گھروں میں ایسا دینی ماحول پیدا کرنے کےلئے سنجیدہ ہیں؟بہت سارے بدنصیب مسلمان ایسے بھی ہیں کہ رمضان اور غیر رمضان میں انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا،جوسرگرمی انکے گھروں میں رمضان کے علاوہ دنوں میں چلتی رہتی ہے رمضان میں بھی یہ جاری رہتاہے،روزہ نماز اوردیگر عبادتوں کا انکے یہاں کوئی اہتمام نہیں ہوتا،آج جب کہ بے دینی،بے حیائی،عریانیت اور فحاشی وغیرہ کو ہم لوگ اپنے گھروں میں عام کررہے ہیں؟کیا اسی طرح دینی و روحانی ماحول ہمارے گھروں میں قائم ہورہاہے؟ رمضان المبارک میں بھی اگر اس پر پابندی سے عمل کرلیا گیا،بچوں کو دینی و روحانی ماحول فراہم کردیاگیا اور اسلامی خطوط پر انکی تربیت کردی گئی تو پھر میرا خیال ہے کہ کسی مایوسی کی ہرگز ضرورت نہیں ہے،آنے والے وقت میں اسلام کے نام لیوا،اسکے سپاہی اور اسکے خدام خود ہمارے گھروں سے پیدا ہونگے،شرط یہ ہے کہ پہلے ہم اپنے گھروں میں،اپنے حلقوں میں،اپنے خاندان میں ایسا ماحول قائم تو کریں،جہاں بچے کم عمری اور کم سنی میں اسلامی احکام اور اسکی تعلیمات کو سینے سے لگانے لگیں،انھیں اچھے،برے کی تمیز سکھلائی جائے،اس پر عمل آوری کے لئے انھیں کوئی طاقت نہ روک سکے،انکے عزم کے سامنے کوئی حربہ کامیاب نہ ہو،وہ دیوانہ وار اسلام کے سپاہی بننے کےلئے تیارہوں،اسی لئے اپنے بچوں کو کم عمری میں تعزیت کرنا،تیمار داری کرنا،احساس اور برداشت کرنا،تواضع و انکساری،احترام،تحمل اور بردباری سکھائیں،انسانیت سے ہمدردی اور خیرخواہی کی تعلیم دی جائے،کھانا تو دیگر حیوان بھی اپنی اولاد کو کھلاتے ہیں لیکن بچوں کی اچھی تربیت اور انھیں اچھے اخلاق سکھلانا ہم میں سے ہر ایک کا اصل فریضہ ہے۔شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی یہ بات کتنی سچی ہے کہ حفاظت اسلام کے نعرے تو بہت بلند کئے جاتے ہیں،مگر عملی پہلوؤں سے ہم خود گریزاں رہتے ہیں،اسلام کوئی مجسمہ نہیں کہ جسکی حفاظت کے لئے کسی لاؤ لشکر کی ضرورت ہو،آپ اپنے اندر اسلام کو سمو لیجئے،آپ بھی محفوظ ہوجائیں گے اور اسلام بھی محفوظ ہوجائے گا۔
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور اسلامی اسکالر ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

ایمان اور احتساب روزے کا لازمی حصہ محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔

ایمان اور احتساب روزے کا لازمی حصہ 

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
 مدرسہ، نور الاسلام، موئی کلاں ،کنڈہ پرتاب گڑھ  9506600725
 
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : 
*من قام لیلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، و من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه الخ* 
(صحیح بخاری کتاب الصوم)
  جس شخص نے شب قدر میں  ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کیا ،اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے اور جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے ،اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے ۔ 
   اس حدیث میں رمضان المبارک کی تین اہم اور خصوصی عبادتوں کا ذکر ہے( روزہ تراویح اور شب قدر کی ریاضت و عبادت ) اور تینوں کے ساتھ ایمان و احتساب کا ذکر ہے ۔ شارحین حدیث نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ رمضان کے روزے اور تراویح و شب قدر کی عبادت اہم عبادات میں سے ہیں ،ان عبادات میں حسن و جمال اور شان و کمال 
اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے، جب کہ روزے تراویح اور شب قدر کا قیام اور اس کی عبادت ایمان و احتساب کی کیفیت کے ساتھ ہو۔ 
۰۰ ایمان۰۰ کی کیفیت ایک باطنی کیفیت ہے ،اللہ تعالٰی کی صفات کے استحضار سے پیدا ہوتی ہے ،مثلا یہ کہ وہ حاضر و ناظر ہے ،بندوں کے حالات اور نیتوں کو وہ اچھی طرح جانتا ہے،ان کی عبادتوں کی خوبیوں اور نقائص کا اسے بخوبی علم ہے،وہ بندوں کی ہر بات سنتا ہے اور ان کو ہر وقت دیکھ رہا ہے ،ان کا کوئی عمل اور ان کی کوئی حرکت اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ 
*۰۰احتساب ۰۰* کی کیفیت کا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت پر وہ اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کا امیدوار ہو ۔ اللہ تعالٰی سے اجر کی امید اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرتی ہے اور اس سے تعلق مضبوط ہوتا ہے،نیز آخرت کا یقین اور شوق پیدا ہوتا ہے ۔
  اس حدیث شریف سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ *رمضان المبارک* کے روزے تراویح اور شب قدر یعنی آخری طاق راتوں کی خصوصی عبادت محض رسمی نہیں ہونی چاہئیں، یعنی رمضان کے روزے اور دیگر مخصوص عبادات محض اس لئے نہ ادا کئے جائیں کہ اس مہینہ میں عام طور پر مسلمان روزے رکھتے ہیں اور تراویح پڑھتے ہیں، اس لئے ہم بھی پڑھ رہے ہیں، بلکہ یہ ساری عبادات اللہ تعالی کی مرضی اور خوشنودی کے لئے ہوں اور اسی ذات سے اجر و ثواب طلب کیا جائے ۔ 
۰۰ایمان و احتساب ۰۰ کی وضاحت کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور صاحب قلم مولانا محمد منظور نعمانی رح لکھتے ہیں :
*اس حدیث میں رمضان کے روزوں، اس کی راتوں کے نوافل اور خصوصیت سے شب قدر کے نوافل کو پچھلے گناہوں کی مغفرت اور معافی کا یقینی وسیلہ بتایا گیا ہے بشرطیکہ یہ روزے اور نوافل ایمان و احتساب کے ساتھ ہوں*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
*یہ ایمان و احتساب خاص دینی اصطلاحیں ہیں، اور ان کا مطلب  یہ ہوتا ہے کہ جو نیک عمل کیا جائے اس کی بنیاد اور اس کا محرک بس اللہ اور رسول کو ماننا اور اس کے وعدہ وعید پر یقین لانا اور ان کے بتائے ہوئے اجر و ثواب کی طمع اور امید ہی ہو،کوئ دوسرا جذبہ اور مقصد اس کا محرک نہ ہو۔ اسی ایمان و احتساب سے ہمارے اعمال کا تعلق اللہ سے جڑتا ہے، بلکہ یہی ایمان و احتساب ہمارے اعمال کے قلب و روح ہیں، اگر یہ نہ ہو تو پھر ظاہر کے لحاظ سے بڑے سے بڑے اعمال بھی بے جان اور کھوکھلے ہیں جو خدا نخواستہ قیامت کے دن کھوٹے سکے ثابت ہوں گے، اور ایمان و احتساب کے ساتھ بندوں کا ایک عمل بھی اللہ کے ہاں اتنا عزیز اور قیمتی ہے کہ اس کے صدقہ اور طفیل میں اس کے برسہا برس کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی ایمان و احتساب کی یہ صفت اپنے فضل سے نصیب فرمائے* (آمین) 
 (معارف الحدیث، جلد چہارم، صفحہ ۳۵۲)  حضرت مولانا علی میاں ندوی رح نے روزہ کے لئے ایمان و احتساب لازم کیوں ہے؟ اس پر انہوں نے جو کچھ لکھا ہے ،وہ بہت ہی چشم کشا ہے اس کی تلخیص بھی ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔۔ مولانا رح لکھتے ہیں؛ 
  رمضان کی اجتماعی نوعیت اور معاشرہ میں اس کے رواج و عمومیت کی وجہ سے اس کا پورا اندیشہ تھا کہ عادت اور رسم و رواج کا عنصر اس پر رفتہ رفتہ غالب آجائے گا اور بہت سے لوگ محض سوسائٹی اور ماحول کے ڈر سے اور طنز و ملامت سے بچنے کے لیے اور اس ڈر سے کہ کہیں ان پر انگلیاں نہ اٹہائی جائیں روزہ رکھنے پر مجبور ہوں گے۔ ایمان اور نیت روزہ کی اہمیت سے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی قیمت کے یقین اور استحضار سے ان کے دل خالی ہوں گے، بہت سے لوگ دنیاوی فائدے یا طبی اور ظاہری فوائد کے حصول کے لیے روزہ رکھنے لگیں گے اور اس طرح اس کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔  نبوت کی دور رس نگاہ نے اس کمزوری کا علاج اور اس فتنہ کا سدباب سب سے پہلے کیا، اور یہ شرط لگادی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبہ کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث کے الفاظ ہیں۔من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ماتقدم من ذنبہ۔۔ 
 جو شخص انسانی کمزوریوں اور خامیوں اور انسانوں کی مختلف اقسام سے واقف نہیں وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس قید و شرط کی کیا ضرورت تھی، رمضان کے روزے صرف مسلمان ہی رکھتے ہیں، اور خدا کی خوشنودی اور اجر و ثواب ہی کے لیے رکھتے ہیں، اس لیے ایمان کا احتساب کی شرط لگانا ایک بالکل زائد چیز ہے، لیکن جو شخص انسانی احساسات و نفسیات اور اخلاقی و اجتماعی محرکات سے گہری واقفیت رکھتا ہے، اور اس کا زندگی کا مطالعہ زیادہ وسیع ہے، وہ اس دوررس انتظام اور اس دقیق و عمیق علم کے سامنے سر تسلیم عجز کے ساتھ خم کر دے گا جو خواہش نفس پر نہیں وحی الہی پر مبنی ہے۔۔ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔۔ 
ایمان و احتساب کی تشریح ایک  دوسری حدیث میں آئی ہے کہ انسان تمام اعمال ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت و خوشنودی کے وعدہ پر یقین رکھتے ہوئے انجام دے۔۔ 
  شریعت اسلامی نے روزہ کی صرف ظاہری شکل پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کی حقیقت اور روح پر بھی پوری توجہ دی۔ اس نے روزہ جیسی عبادت کو ادب و تقویٰ دل اور زبان کی عفت و طہارت کے حصار میں گھیر دیا۔۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو نہ بدکلامی کرے اور نہ فضول گوئی کرے نہ شور و شر کرے، اگر کوئی اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے کہ  میں روزہ سے ہوں۔۔ (بخاری شریف) 
  یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔۔ 
   وہ روزہ جو تقویٰ اور ایمان و احتساب کی روح سے خالی ہو وہ ایک ایسی صورت ہے جس کی حقیقت نہیں، ایسا جسم ہے جس کی روح نہیں۔ حدیث میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کتنے روزہ دار ہیں، جن کو ان کے روزہ سے سوائے بھوک و پیاس کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا اور کتنے ایسے عبادت گزار ہیں جن کو اپنے قیام شب میں بیداری کے سوا  کچھ نہیں ملتا۔۔۔ (بخاری،ترمذی، ابو داود ) 
     (مستفاد از ارکان اربعہ از مولانا علی میاں ندوی رح)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نوٹ رمضان المبارک کے مبارک و مسعود ایام میں بافیض علمی ادارہ (مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی)کا بھی دامے درمے  تعاون فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔  
۔ ترسیل زر کا پتہ/ 
Bank Name - PANJA NATIONAL BANK KUNDA PRATAPGARH (UP) 
Account no - 6743002100000304
IFSC Code - PUNB0674300
Name - MADARSA NURUL ISLAM KUNDA
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Qamruzzama nadvi
A/c no, 
11811294792
IFSC code no,
0008399
S B i
فون پے نمبر ہے۔
 9506600725

Thursday, February 26, 2026

پیام رمضان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزہ کے اثرات و ثمرات شریعت کی نظر میں ! محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔.۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

پیام رمضان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزہ کے اثرات و ثمرات شریعت کی نظر میں !  

محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔.۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم اور احسان عظیم ہوا کہ ہم ایمان والوں کو پھر سے رمضان المبارک کا مہینہ نصیب فرمایا،جس کا پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ ہے، وہ گزرنے کے قریب ہے ،اور جلد ہی رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ جو مغفرت کا عشرہ ہے شروع ہونے والا ہے۔
   دوستو !
 رمضان المبارک کا یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل اور مبارک مہینہ ہے، اس مہینہ کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے ۔ 
   یہ مہینہ رحمت خداوندی کا وہ موسم بہار ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص انعامات اور عنایتیں بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں ۔ جس میں بے شمار انسانوں کی مغفرت کی جاتی ہے اور جس کی ہر ساعت اور ہر لمحہ و گھڑی عذاب دوزخ اور نار جہنم سے آزادی کا پیام لے کر آتی ہے ۔     
اس مہینہ میں بندے کے لئے نیک اعمال کرنا ،گناہوں کو بخشوانا اور آخرت کو سنوارنا اللہ تعالیٰ آسان کر دیتا ہے اور مومن بندے کے لئے ایسا ماحول فراہم کر دیتا ہے اور اس راہ کی رکاوٹوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے کہ اس کے لئے نیک اعمال کرنے، گناہوں کو بخشوانے میں کوئی دقت اور پریشانی نہ ہو ۔ چناچہ اللہ تعالی اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کو کھول دیتے ہیں، جہنم کے دروازے کو بند کر دیتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیتے ہیں ۔ 
    روزہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جب انسان *روزہ* کی حالت میں ہوتا ہے اور دل برائی اور گناہ کی طرف امادہ ہوتا ہے، تو یہی روزہ، روزہ دار کے لئے گناہ کے مقابلے میں ڈھال بن جاتا ہے اور اس کو گناہ سے باز رکھتا ہے ۔ 
چنانچہ حدیث کی کتابوں میں یہ روایت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : 
*الصیام جنة مالم یخرقھا*
   روزہ انسان کے لئے ڈھال ہے جب تک کہ روزہ دار خود اس کو پھاڑ نہ دے ۔
       یہ مہینہ عبادت کا ہے، اس میں کم ہمت سے کم ہمت اور بے حوصلہ مسلمان کو بھی عبادت و بندگی کا شوق نصیب ہوجاتا ہے ،اور وہ بھی عبادت و ریاضت اور تراویح و تلاوت کے لئے اپنے کو فارغ کر لیتا ہے ۔ 
  *رمضان المبارک* دعا و مناجات کا موسم ہے، اس ماہ مقدس میں دعاؤں کی قبولیت کا دروازہ ہر آن کھلا رہتا ہے، بلکہ بندوں سے ہر رات فرمائش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جائز مرادیں پیش کریں ،جو مانگیں گے دیا جائے گا ۔ 
چنانچہ ایک خطبہ میں *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا :
 *اس ماہ مبارک میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کے چاہنے والے! آگے بڑھ اور اے برائی کے چاہنے والے باز آجا !* 
  رمضان المبارک کا یہ مہینہ در اصل ہم جیسے گنہگاروں کے لئے توبہ و استغفار کا زمانہ اور انابت و رجوع کا مہینہ ہے اور اس میں بندوں کو بخشنے اور نوازنے کے لئے معمولی معمولی بہانے تلاش کئے جاتے ہیں ۔ اسی لئے *آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے اس شخص کے حق میں محرومی اور نامرادی کی دعا فرمائی ہے، جس پر رمضان المبارک کا پورا مہینہ گزر جائے، لیکن وہ اپنی مغفرت نہ کرا سکے ۔
 *رمضان المبارک* رحمت خداوندی کا گویا سالانہ جشن ہے ،جس میں ہر لمحہ اور ہر آن رحمتوں اور برکتوں کے خزانے لٹتے ہیں اس ماہ مبارک کا حقیقی پیغام اور بنیادی تقاضا صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت ، *آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم* کا وعدہ ہے ،جس کا رمضان سلامتی سے گزر گیا اس کا پورا سال سلامتی سے گزرے گا ۔ 
  روزہ کے جسمانی اور روحانی فوائد ہیں، اس کے ثمرات و برکات ظاہر ہیں، روزہ دار خود اس کو محسوس کرتا ہے، علماء کرام اور اہل علم نے بھی اس کے فوائد بیان کئے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں : "روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے، فاسد مادے کے جمع ہوجانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، جو چیز مانع صحت ہیں، ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہوا وہوس کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہیں، وہ اس سے دفع ہوتی ہیں، وہ صحت کیلئے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں ممد و معاون ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون __ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں ،عجب نہیں کہ تم. متقی بن جاؤ__ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :الصوم جنۃ__ روزہ ڈھال ہے، چنانچہ ایسے شخص کو جو نکاح کا خواہشمند ہو اور نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو روزہ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور اس کو اس کا تریاق قرار دیا گیا، مقصود یہ ہے کہ روزہ کے مصالح و فوائد چونکہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کی رو سے مسلم تھے، اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کی خاطر محض اپنی رحمت اور احسان سے فرض کیا ہے"(زاد المعاد:١/٥٢).
 اس ماہ کا تعلق قرآن کریم سے بہت اہم. ہے، اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، شهر رمضان الذي أنزل القرآن _(بقرۃ:١٨٥)، چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:" اس مہینہ کو قرآن مجید کے ساتھ بہت خاص مناسبت ہے، قرآن مجید اسی مہینہ میں نازل کیا گیا، یہ مہینہ ہر قسم کی خیر و برکت کا جامع ہے، آدمی کو سال بھر میں مجموعی طور پر جتنی برکتیں حاصل ہوتی ہیں، وہ اس مہینہ کے سامنے اس طرح ہیں، جس طرح کے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ، اس مہینہ میں جمعیت باطنی کا حصول. پورے سال جمعیت باطنی کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس میں انتشار اور پریشان خاطری بقیہ تمام دنوں بلکہ پورے سال. کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے، قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جن سے یہ مہینہ راضی ہو کر گیا اور ناکام اور بدنصیب ہیں، وہ جو اس کو ناراض کر کے ہر قسم کے خیر و برکت سے محروم ہوگئے"__
 ایک دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں :" اگر اس مہینے میں کسی آدمی کو اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو پورے سال اس کے شامل حال رہے گی، اور اگر یہ مہینہ بےادبی، فکر و تردد اور انتشار کے ساتھ گزرے تو پورا سال اسی حال میں گزرنے کا اندیشہ ہے "( مکتوبات امام ربانی: ١/٨_٤٨).
   *حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی علیہ الرحمہ اپنے خاص اسلوب میں روزہ کے مختلف ثمرات و فوائد پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:"یہ پر بہار موسم جب کسی کے شوق و ارمان میں گزرے گا، یہ متبرک گھڑیاں جب کسی کی یاد میں بسر ہوں گی ، یہ مبارک دن جب کسی کے اشتیاق میں بغیر بھوک پیاس کے صرف ہوں گے، یہ برکت والی راتیں جب کسی کے انتظار میں آنکھوں ہی میں کٹیں گی تو نا ممکن ہے کہ روح میں لطافت ، قلب میں صفائی اور نفس میں پاکیزگی پیدا نہ ہو جائے۔ حیوانیت دور ہوگی۔ ملکوتیت نزدیک آئے گی اور انسان خود اپنی ایک جدید زندگی محسوس کرے گا، ایسی حالت میں بالکل قدرتی ہے کہ سوز دل اور تیز ہوجائے، قرب و وصل کی تڑپ اور بڑھ جائے، تزکیہ و مجاہدہ کے اثر سے زنگ دور ہوکر کسی کا عکس قبول کرنے کے لئے آئینہ قلب بے قرار اور مضطر ہونے لگے۔ نماز میں جس طرح عبدیت کی تکمیل ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح روزہ دار کو اخلاق الٰہی کے ساتھ کسی درجہ مناسبت و شباہت پیدا ہوجاتی ہے۔ بھوک اور پیاس سے بے نیازی، صبر و ضبط ، قوت و اختیار، حلم و تحمل ، عفو و درگزر یہ سب شانیں بندہ کی ہیں یا مولیٰ کی؟ عبد کی یا معبود کی؟ پھر یہ کیوں کر ہے کہ جو شئی کچھ ہی دیر کے لئے سہی آپ میں اس کیفیت سے مناسبت پیدا کررہی ہو، جوشئی ذرہ میں آفتاب کا پرتوڈال رہی ہو، جو شئی آئینہ میں جلا پیدا کرکے اسے نورانیت کاملہ کا عکس قبول کرنے کے قابل بنارہی ہو آپ اس نعمت عظیم کی جانب لپکنے میں تامل کرر ہے ہیں۔( تفسیر ماجدی ۱؍۵۲۷ ۔ ۵۲۸).*۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔

نوٹ/ 
ہم اپنے تمام باحیثیت اور صاحب نصاب قارئین باتمکین سے پرخلوص درخواست کرتے ہیں کہ ماہ رمضان المبارک میں مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی کا مالی تعاون ضرور فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں، اس ادارہ سے تیس سال سے میری تدریسی وابستگی ہے، اور یہ مدرسہ ندوہ کی ایک اہم شاخ اور بافیض ادارہ ہے۔
ترسیل زر کی تفصیلات حسب ذیل ہے ۔۔۔۔
 Bank Name - PANJAB NATIONAL BANK KUNDA PRATAPGARH (UP) 
Account no - 6743002100000304
IFSC Code - PUNB0674300

Name - MADARSA NURUL ISLAM KUNDA Partapgarh up

میرا رابطہ نمبر اور فون پے نمبر ہے۔ 
  9506600725
  اگر مدرسہ کے اکاؤنٹ میں بھیجنے میں کوئی دقت ہو تو میرے فون پے پر یا پرسنل اکاؤنٹ پر رقم بھیج کر رسید حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔
رقم بھیجنے کے بعد اسکرین شاٹ ضرور بھجیں تاکہ آپ تک ہم رسید بھیج سکیں ۔
Md Qamruzzman 
Account details 
Bank name : State Bank of India 
Account Number: 11811294792
IFSC Code: SBIN0008399

Monday, February 23, 2026

نگاہ کا روزہ محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

نگاہ کا روزہ
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

 عام طور پر روزہ صرف شکم کی بھوک اور پیاس کی پکار کو خاموش کرنے کا نام سمجھا جاتا ہے؛ مگرروزہ کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ لطیف اور گہری ہے، رمضان المبارک ہمیں پورے وجود کی تربیت کا درس دیتا ہے اور اس ضبطِ نفس کا ایک نہایت اہم باب ’’نگاہ کا روزہ‘‘ہے،آنکھ محض دیکھنے کا آلہ نہیں؛ بل کہ یہ دل کا وہ دروازہ ہے، جس سے خیالات کی آمد و رفت ہوتی ہے،جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے، وہی تصور بن کر دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔
 جدید علمِ اعصاب بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ انسانی آنکھ محض ایک کیمرہ نہیں؛بل کہ دماغ اور جذبات سے براہِ راست مربوط ایک فعال نظام ہے، جب نگاہ کسی ہیجان انگیز منظر پر ٹھہرتی ہے تو دماغ میں لذت سے متعلق کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں، جو وقتی سرور تو دیتے ہیں؛مگر بتدریج انسان کو ان کے اعادے کا عادی بنا دیتے ہیں اور روحانی یکسوئی متاثر ہونے لگتی ہے۔
 گناہ کی داستان اکثر ایک بے احتیاط نظر سے شروع ہوتی ہے،پہلے سرسری نگاہ، پھر دل میں خیال، پھر رغبت اور بالآخر قدموں کا انحراف، اسی لیے قرآنِ حکیم نے تزکیۂ نگاہ کو عفت و عصمت کی بنیاد قرار دیا:قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ(سورۃ النور:30)’’آپ مومن مردوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں‘‘، یہ محض ایک اخلاقی ہدایت نہیں؛بل کہ ایمان کی سلامتی کا محافظ حکم ہے، شریعت نے نگاہ کی حفاظت کو دل کی طہارت اور ایمان کی حلاوت سے جوڑ دیا ہے،رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے اور جو شخص اللہ کے خوف سے اسے ترک کر دے، اللہ تعالیٰ اسے ایسا ایمان عطا فرماتے ہیں، جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔(طبرانی)،یہ محض وعید نہیں؛بل کہ بشارت بھی ہے۔
 نظر کا روزہ آنکھیں بند کر لینے کا نام نہیں؛بل کہ بصارت کو بصیرت کے تابع کر دینے کا نام ہے،اس کی چند جہات ہیں:
● حرام سے اجتناب: ان مناظر سے بچنا ،جنھیں شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے۔
● زاویۂ نظر کی تطہیر : کسی کو تحقیر، حسد یا نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھنا۔
● فضول نظری سے احتراز: آنکھوں کو لایعنی اور لغو مناظر کی آوارگی سے محفوظ رکھنا؛کیوں کہ نگاہ کا ہر تیر پہلے دل پر لگتا ہے، پھر کردار کو زخمی کرتا ہے۔
 آج کا سب سے بڑا فتنہ بازاروں میں نہیں؛بل کہ ہماری جیبوں میں موجود ’’موبائل اسکرین‘‘ ہے،یہ وہ دروازہ ہے، جو تنہائی میں تقویٰ کو للکارتا ہے، چند لمحوں کی بے احتیاطی اور ایک غلط ’’کلک‘‘ دل پر ایسے نقوش چھوڑ سکتی ہے، جو عبادت کی لذت کو متاثر کر دیتے ہیں، ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈیجیٹل مناظر کا مسلسل اور بے قابو استعمال انسانی اعصاب کو تھکا دیتا ہے، فیصلہ سازی کی قوت کو کمزور کرتا ہے اور ذہنی یکسوئی کو منتشر کر دیتا ہے،بار بار بدلتے مناظر ذہن میں ایسے راستے بنا لیتے ہیں کہ سوچ سطحی اور حافظہ کمزور ہونے لگتا ہے، اس اعتبار سے رمضان کا روزہ ایک طرح کا روحانی اور ذہنی تطہیر کا موقع ہے،ایک ایسا وقفہ، جو بکھرے ہوئے خیالات کو سمیٹنے اور ارادے کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔
 رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم حلال پانی کے ایک گھونٹ سے رک سکتے ہیں تو حرام منظر سے رک جانا کیوں دشوار ہو؟ جو شخص پیاس کی شدت میں بھی ضبط اختیار کر لیتا ہے، وہ نگاہ کی بے راہ روی کو کیوں نہ روک سکے؟ ارادے کی یہی قوت انسان کے شعور کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اپنے جذبات پر قابو پانا سکھاتی ہے، اصل روزہ یہ ہے کہ انسان خلوت میں بھی ویسا ہی رہے، جیسا جلوت میں نظر آتا ہے
 نگاہ کو صرف برائی سے روک لینا کافی نہیں، اسے خیر کے راستے پر لگانا بھی ضروری ہے، آنکھ جب نیکی میں مصروف ہو جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے،نگاہ کو عبادت بنانے کے چند طریقے یہ ہیں:
● تلاوتِ قرآن: مصحف کو دیکھ کر پڑھنا آنکھوں کے لیے نور اور دل کے لیے سرور ہے۔
● محبتِ والدین: شفقت و احترام کی نگاہ سے والدین کو دیکھنا باعثِ اجر ہے۔
● ہمدردی کی نظر: کسی محتاج کو ترحم کی نگاہ سے دیکھنا دل کو نرم اور روح کو بیدار کرتا ہے۔
● مطالعۂ کائنات: آفاق کے مناظر میں خالق کی قدرت کو تلاش کرنا ایمان کو تازگی بخشتا ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ(آل عمران:190)’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں‘‘، جب نگاہ کائنات میں نشاناتِ الٰہی کو تلاش کرتی ہے تو بصارت، بصیرت میں ڈھل جاتی ہے۔
 آج اس بات کا مصمم ارادہ کریں کہ جب بھی یہ آنکھ کسی لغزش کی طرف مائل ہو تو فوراً دل میں یہ صدا گونجے: یا اللہ! میں تجھ سے شرماتا ہوں، یاد رکھیں! جو آنکھیں آج اللہ کے خوف سے جھک جاتی ہیں اور دنیا کی رنگینیوں میں گناہ سے بچتی ہیں، وہی آنکھیں قیامت کے ہولناک دن عرشِ الٰہی کا سایہ پائیں گی اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہوں گی۔

روزہ کے چند جدید احکام و مسائل (1) محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

روزہ کے چند جدید احکام و مسائل  
                           (1)     
                           
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

    روزہ کی حالت میں بھپارہ لینا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  بعض یونانی اور آیورویدک دواؤں کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو جوش دئے ہوئے پانی میں ڈال کر منھ اور ناک کے ذریعہ اس کے بخارات (Fumes) کو اندر پہنچایا جاتا ہے، جس کا اثر بلا تاخیر حلق بلکہ سینہ میں پہنچتاہے، اس کو بھپارہ لینا کہتے ہیں، اس طرح بھپارہ لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے (اس کو انہیلر بھی کہتے ہیں)۔( جدید فقہی مسائل ج۱, ص، ۱۸۷) 

روزہ کی حالت میں آکسیجن لینے کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
     دمہ کے مریض کو دورہ پڑنے کے وقت آکسیجن Oxygen پہنچائی جاتی ہے، روزہ کی حالت میں اس طرح آکسیجن لینے کا کیا حکم ہے؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، فقہی جزئیات کو سامنے رکھا جائے تو خیال ہوتا ہے کہ اگر آکسیجن کے ساتھ کوئی دوا نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سانس لینا ہے اور سانس کے ذریعہ ہوا لینا نہ مفسد صوم ہے اور نہ ہی اس پراکل و شرب یعنی کھانے پینے کا اطلاق ہوتا ہے، اگر اس کے ساتھ دوا کے اجزاء بھی ہوں تو پھر اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔( جدید فقہی مسائل، ج۔ ۱,ص ۱۸۸) 

   روزہ کی حالت میں انڈوس کاپی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
   امراض اور بیماریوں کی شناخت کا ایک طریقہ انڈوس کاپی Endoscopy بھی ہے، جو پیچھے کے راستہ سے کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پیٹ کے اندر پاخانہ کے راستہ کا معاینہ کیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں محض ایک پتلا پائپ ہوتا ہے، اس پائپ میں چھوٹا سا بلب 💡لگاتے ہیں، اس کےذریعہ پیٹ کا پورا معاینہ کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوا وغیرہ اندر داخل نہیں کی جاتی، پھر پائپ نکال لیتے ہیں، اس کی نظیر اور مثال کتب فقہ میں اس لکڑی اور اس جیسی دوسری چیز سے ملتی ہے جو پیچھے کے راستہ میں داخل کی گئی ہو اور اس کا دوسرا کنارہ باہر ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر پوری طرح اندر چھپ گئی تو روزہ فاسد ہوگیا، بعض آلات اجابت EaseBoweis کے لیے نلکی کا استعمال کیا جاتا ہے، اس میں سیال دوا ہوتی ہے، جو پیچھے کے راستہ سے اندر کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے اجابت ہوتی ہے، اس میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ فقہاء کرام اس کو حقنہ Enema کہتے ہیں جس سے مریض کے پیچھے کے راستہ  سے پیٹ صاف کرنے کے لیے دوا چڑھائی جاتی ہے۔ (رمضان کے شرعی احکام ص، ۱۹۸)
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
روزہ کی حالت میں معدہ میں نلکی ڈالنا 

   آج کل معدہ کے بعض امراض کی شناخت کے لیے منھ کے ذریعہ نلکی پہنچائی جاتی ہے جو بعض دفعہ گوشت کا ٹکڑا کتر کر اپنے ساتھ لاتی ہے اور اس پر تحقیق اور ریسرچ ہوتی ہے، ایسی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، اصل میں روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ معدہ میں داخل ہونے والی چیز اندر ٹھہر گئی ہو، اگر وہ چیز وہیں پر رہ گئ ہو تو روزہ ٹوٹے گا ورنہ نہیں۔ 

بوڑھا شخص یا شوگر کے مریض کے لیے روزہ میں سہولت 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
 کوئی شخص بہت زیادہ بوڑھا ضعیف ہو یا شوگر کے مرض میں دائمی طور پر مبتلا ہو اور روزہ رکھنا اس کے لیے بہت دشوار ہو تو اس کے لیے گنجائش ہے کہ روزہ نہ رکھ کر فدیہ ادا کرے، لیکن اگر بعد میں صحت یاب ہوگیا اور روزہ رکھنے کی قدرت ہوگئی تو فدیہ دئے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوگی۔ 

غیر مسلم کی دی ہوئی چیز سے افطار کا حکم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
      جو چیز بھی ناپاک یا حرام نہ ہو اس کا کھانا حلال ہے، لہذا غیر مسلم بھائیوں کی طرف سے بطور ہدیہ دی ہوئی اشیاء سے افطار کرنا درست ہوگا۔ بشرطیکہ وہ پاک اور حلال ہوں اور ان کے تہواروں میں استعمال یا دیوی دیوتاؤں پر نہ چڑھائی گئی ہوں، کیونکہ اس طرح کی اشیاء قبول کرنے یا ان کے کھانے سے کفر کا تعاون یا اس پر رضا مندی کا اظہار ہوگا اور یہ جائز نہیں۔۔ 

روزہ کی حالت میں عورتوں کا ہونٹوں پر سرخی لگانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  اگر کوئی عورت روزہ کی حالت میں ہونٹوں پر سرخی لگا لیتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر منھ میں جانے کا احتمال ہو تو مکروہ ہوگا۔ 

  موجودہ افطار پارٹی کا حکم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
سیاسی جماعتوں، وزیروں اور گورنروں کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹیوں کی جو صورت بنتی جارہی ہے ان سے احتراز کیا جائے، کیونکہ رمضان کا وہ مبارک وقت جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، لغو مشاغل میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر چہ شرکت جائز ہے۔ 

توتھ پیسٹ یا ذائقہ دار منجن کا استعمال روزہ میں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
    بغیر عذر شرعی کے توتھ پیسٹ یا ذائقہ دار منجن استعمال کرنے سے ( اگر حلق کے اندر نہ جانے پائے) روزہ مکروہ ہوگا، اسی طرح گل منجن کے استعمال سے بھی روزہ مکروہ تحریمی ہوگا اور اگر گل وغیرہ حلق کے اندر چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ گل سے چونکہ تمباکو اور سگریٹ کی طرح ایک تسکین حاصل ہوتی ہے اور ضرورت پوری ہوتی ہے، لہذا اگر حلق میں نہ بھی پہنچے تو مفسد صوم ہوگا، یعنی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ 

روزہ کی حالت میں ٹیسٹ کے لیے یا کسی اور کام کے لیے خون دینا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  روزہ کی حالت میں خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، خود آنحضرتﷺ سے روزہ کی حالت میں فصد لگوانا ثابت ہے، فصد ایک طبی عمل تھا، جس کے ذریعہ جسم کا فاسد خون باہر نکالا جاتا تھا۔ اسی طرح خون دینے میں کچھ حرج نہیں ہے، خواہ ٹیسٹ کے لیے یا کسی مریض کے لیے، البتہ اگر اندیشہ ہو کہ خون دینے سے روزہ کو قائم نہیں رکھ سکے گا اور اضطرار و مجبوری کی حالت نہ ہو تو خون دینا مکروہ ہے، اسی احتیاط کے پیش نظر رسول ﷺ نے روزہ کی حالت میں فصد لگوانے کو پسند نہیں فرمایا اس لیے کہ تمام لوگوں میں اس کی قوت برداشت نہیں ہوتی، اور خطرہ ہوتا ہے خون دینے والا اپنے روزہ کو قائم نہیں رکھ سکے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ 
جو حضرات مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا مالی تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ اس اکاؤنٹ نمبر پر رقم بھیجیں اور اسکرین بھیج کر رسید حاصل کریں ۔
اکاؤنٹ نمبر مدرسہ نور الاسلام 
Account Name and Number
MADRASA NOORUL ISLAM
A/c No.: *6743002100000304*
IFSC.: *PUNB0674300*
*Punjab National Bank.*
Branch- Kunda
Pratapgarh, U.P. (India)

SBI,
Name : Qamruzzaman Nadvi 
Branch name Dighi - 8399
A/C: No.: 11811294792
SBIN0008399
فون پے نمبر ہے ۔
9506600725

Sunday, February 22, 2026

روزہ اور عید کا تعلق محمد قمر الزماں ندوی

روزہ اور عید کا تعلق 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

روزہ کیا ہے ؟ روزہ در اصل ہماری دنیا کی زندگی کی پہچان اور علامت ہے اور عید ہماری آخرت کی زندگی کی نشانی اور علامت ۔ 
روزہ گویا امتحان ہے اور عید اس کا انجام اور نتیجہ و ریزلٹ ۔ روزہ مشقت زحمت اور تکلیف و محنت کا دور ہے اور عید آرام اور راحت و خوشی کا دور ۔
روزہ دنیا کی محدودیت کی یاد دہانی کراتا ہے اور عید لا محدود زندگی یعنی جنت کی نشانی ۔
روزہ میں صبح سے شام تک ساری زندگی طرح طرح کی پابندیوں میں گزرتی ہے کہ یہ کرو یہ نہ کرو ،اس وقت تک کھاؤ اور اس وقت تک نہ کھاؤ ،اتنی دیر آرام کرو اور پھر تراویح اور قیام لیل میں مشغول ہو جاؤ ،غرض پورا مہینہ ایک تربیتی اور روحانی ماحول اور ٹریننگ میں گزر جاتا ہے ، محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کی پوری زندگی دوسرے کے قبضے میں ہے ، آدمی اپنی مرضی پر نہیں بلکہ دوسرے کی مرضی پر چلتا ہے ، اس طرح روزہ آدمی کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی نگرانی میں دئے ہوئے ہو اور تمام معاملہ میں خدا کے حکموں کی پابندی کر رہا ہو ۔
اس طرح کے ایک پر مشقت مہینہ کے بعد عید آتا ہے ۔عید کے دن اچانک تمام احکام بدل جاتے ہیں ، رمضان میں روزہ رکھنا فرض تھا ،عید کے دن روزہ رکھنا حرام ، پہلے لازمی ضرورتوں تک پر پابندی لگی ہوئی تھی اور عید کے دن یہ آڈر اور حکم کہ خوشیاں مناؤ گھومو اور رشتہ داروں دوست و احباب سے ملو، یہاں تک کہ غریبوں کے لئے صاحب حیثیت پر صدقئہ فطر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی آج کے دن خوشیوں سے محروم نہ رہیں ۔ یہ گویا آخرت کی تصویر ہے ۔یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جنت میں خدا کے جنتی بندوں سے ہر قسم کی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی ۔ وہ ابدی خوشی کی جنتوں میں داخل کر دئیے جائیں گے ۔ 
دوستو ! 
غرض یہ کہ روزہ اور عید کا تعلق محض تقویم کے دو متعین ایّام کا تعلق نہیں، بلکہ یہ انسانی حیات کے دو مرحلوں کی علامت ہے،
ایک امتحان کا اور دوسرا انعام کا؛ ایک محنت کا اور دوسرا راحت کا؛ ایک محدود دنیا کا اور دوسرا لا محدود آخرت کا۔ اسلامی سال کے مقدس مہینے رمضان میں رکھا جانے والا روزہ دراصل انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آشنا کرتا ہے، جبکہ عید الفطر اس جدوجہد کا بابرکت انجام اور ربّ کریم کی طرف سے عطا کردہ خوشی کا اعلان ہے۔
روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ خواہشات کو لگام دینے، نفس کو قابو میں رکھنے اور دل و نگاہ کو پاکیزگی کی طرف موڑنے کا ایک ہمہ گیر تربیتی عمل ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اس میں آسائشیں محدود ہیں اور راحتیں مشروط۔ جس طرح روزہ دار طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنی جائز خواہشات کو بھی مؤخر کر دیتا ہے، اسی طرح مؤمن اپنی پوری زندگی میں بہت سی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرتا ہے۔ یوں روزہ دراصل دنیاوی زندگی کی ایک تمثیل بن جاتا ہے،ایک ایسی زندگی جس میں صبر، ضبط اور استقامت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
اس کے برعکس عید اس صبر و ضبط کی تکمیل کا اعلان ہے۔ عید کی صبح گویا یہ پیغام دیتی ہے کہ جو بندہ آزمائش میں ثابت قدم رہا، اس کے لیے راحت کا سامان ہے؛ جو مشقت میں صابر رہا، اس کے لیے مسرت کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہ دن ہمیں اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آخرت کی زندگی بھی اسی ترتیب پر قائم ہے: دنیا امتحان گاہ ہے اور آخرت جزا و سزا کا میدان۔ اگر رمضان کی راتیں عبادت کی خاموش گواہ ہیں تو عید کی صبح قبولیت اور بخشش کی بشارت ہے۔
روزہ انسان کو اس کی کمزوری کا احساس دلاتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا تجربہ اسے بتاتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کا محتاج ہے، اس کی طاقت محدود اور اس کی ضروریات بے شمار ہیں۔ یہی احساس بندگی کی روح ہے۔ جب یہ بندگی اپنی معراج کو پہنچتی ہے تو عید کی صورت میں شکر اور سرور کا اظہار بن جاتی ہے۔ گویا روزہ انسان کو جھکنا سکھاتا ہے اور عید اسے اٹھا کر عزت و وقار عطا کرتی ہے۔
دنیا کی زندگی بھی کچھ اسی سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ یہاں مشقت ہے، ذمہ داریاں ہیں، نفس اور حالات سے کشمکش ہے۔ لیکن یہی کشمکش انسان کی روح کو جِلا بخشتی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی محنت نہ ہو، کوئی ضبط نہ ہو، کوئی قربانی نہ ہو تو آخرت کی راحت کا مفہوم ہی ماند پڑ جائے۔ روزہ ہمیں اسی فلسفۂ حیات کی عملی تربیت دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ وقتی محرومی دائمی محرومی نہیں، اور وقتی مشقت ابدی راحت کی تمہید ہو سکتی ہے۔
عید دراصل اسی امید کا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک مہینے کی ریاضت کے بعد عید کی خوشی نصیب ہوتی ہے، اسی طرح پوری زندگی کی ریاضت کے بعد جنت کی نعمتیں مؤمن کا انتظار کرتی ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو روزہ دنیا کی محدود ساعتوں کی یاد دہانی ہے اور عید لا محدود حیات کی نوید۔ روزہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ دنیا چند دن کی ہے؛ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل خوشی ان چند دنوں کے بعد آنے والی دائمی زندگی میں ہے۔
آج کی تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ہم روزہ اور عید کو محض عبادت اور تہوار کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ انہیں ایک مکمل فکری و روحانی نظام کے دو مربوط اجزا کے طور پر سمجھیں۔ روزہ بغیر عید کے ادھورا ہے، اور عید بغیر روزہ کے بے معنی۔ ایک میں ضبط ہے تو دوسرے میں شکر؛ ایک میں آنسو ہیں تو دوسرے میں مسکراہٹ؛ ایک میں امتحان ہے تو دوسرے میں انجام۔ یہی ربط و مناسبت دراصل اسلام کے اس جامع تصورِ حیات کی عکاسی کرتی ہے جس میں دنیا اور آخرت ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔
چنانچہ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمیں عید کی خوشی ہی نہیں، آخرت کی کامیابی بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے؛ اور جب ہم عید مناتے ہیں تو ہمیں رمضان کی تربیت اور اس کے تقاضوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہی شعور روزہ اور عید کے باہمی تعلق کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی فہم ہماری دنیا کو بھی سنوارتا ہے اور آخرت کو بھی روشن بناتا ہے۔
  حقیقت یہ ہے کہ روزہ اور عید ہماری زندگی کے دو مرحلوں اور دو حیثیتوں کو یاد دلانے کے لیے ہیں، روزہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مرحلہ میں ہمیں کس طرح زندگی گزارنی ہے اور عید ہم کو یہ بتاتی ہے کہ آخرت کے آنے والے مرحلہ میں ہماری زندگی کیسی زندگی ہوگی ۔

Saturday, February 21, 2026

روزہ،رمضان اور قرآن مجید کا باہمی ربط و تعلق !محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔27/ فروری 

روزہ،رمضان اور قرآن مجید کا باہمی ربط و تعلق !

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
  
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد! 
دوستو بزرگو اور بھائیو! ماہ رمضان کی اہمیت و فضیلت کے بے شمار اور انگنت پہلو ہیں، لیکن اس ماہ مقدس کی سب سے اہم خصوصیت قرآن مجید سے اس کی نسبت خاص ہے ،جس کی بناء پر اس مہینہ کو قرآنی مہینہ کہا جاتا ہے ۔
   تاریخ و واقعات کے مطالعہ سے یہ بات سامنے اتی ہے اور یہ حقیقت واضح اور واشگاف ہوتی ہے کہ الہامی ہدایت اور آسمانی صحیفوں (کتابوں) اور روزہ کا باہم بڑا گہرا ربط اور قریبی تعلق ہے ،اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان (انسانیت) کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جو ہدایت (نامہ) وقتاً فوقتاً نازل فرمائی ہے ،اسے کسی نہ کسی پہلو سے روزے سے خصوصی نسبت حاصل رہی ہے ۔
  حضرت موسٰی علیہ السلام نے *کوہ طور* پر جو ایام گزارے اور جن میں ان کو تورات سے نوازا گیا،ان دنوں آپ علیہ السلام روزے سے تھے ،اس کی پیروی میں یہودچالیس دن روزہ رکھنا اچھا خیال کرتے ہیں اور چالیسویں کا روزہ ان پر فرض ہے ۔( مستفاداز ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۹۸ء)
  حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بھی نزول انجیل کے زمانے میں جب کہ وہ چالیس دن جنگل میں تھے ،روزہ رکھا ۔ ( حوالہ سابق)
  اسی طرح ابتدائے نزول قرآن اور سیرت محمدی کا بھی روزہ سے گہرا تعلق ہے ،آئیے اس حوالے سے بھی ہم روزہ اور رمضان کی اہمیت و فضیلت کو سمجھتے ہیں ۔ 
دوستو بزرگو اور بھائیو!
    اس تاریخ کا سب سے واضح باب ہمیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتا ہے ۔ آغاز نزول قرآن سے قبل کے ایام آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ غار حرا کے اندر تنہائیوں میں عبادت الہی، مراقبہ اور ذکر و فکر میں گزارتے ۔
 آپ اعتکاف فرماتے، جس کا ایک جزء روزہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم روزہ اور ذکر و فکر کے اسی عالم میں تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آئے اور انسانی تاریخ میں قرآن کے دور کا آغاز ہوا ۔ 
ان تینوں جلیل القدر انبیاء کی سیرت کے اس پہلو پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ہدایت ربانی اور روزے اور اعتکاف میں بڑا گہرا ربط اور تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  
دوستو بزرگو اور بھائیو!
روزہ اور اعتکاف حامل قرآن بننے کا ذریعہ ہے، ذرا اس حقیقت پر نظر رکھئے کہ *نبی* اللہ تعالی کی خاطر دنیا سے کٹتا ہے اور صرف اپنے مالک اور آقا سے لو لگاتا ہے ،دنیا سے کٹنا اور آقا و مولیٰ سے لو لگانا ہی اعتکاف ہے ،اور جسم وروح کی تربیت و طہارت کے لئے کچھ خاص حدود کے اندر غذا اور نفس کی دوسری لذتوں سے کنارہ کش ہوتا ہے اور یہی روزہ ہے ۔ اس طرح وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے، کہ اسے امانت الہی کے اٹھانے کے لائق سمجھا جاتا ہے، اور الہامی ہدایت اس پر نازل کی جاتی ہے، پھر وہ اس ہدایت کو لیکر انسانیت کی طرف لوٹتا ہے اور انسانیت کی نئ تشکیل کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ اگر دل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو رمضان المبارک ہر سال امت کو انسانی تاریخ کے اسی انقلاب آفرین لمحے کی یاد تازہ کراتا ہے، اور ہر سال اس رشتہ کو استوار کرنے کا وظیفہ انجام دیتا ہے ۔ 
    تیس دن کے روزے انسان کے اندر وہ روحانی بالیدگی، اسپرٹ اور تقوی و طہارت پیدا کرتے ہیں جن کے بغیر انسان حامل قرآن نہیں بن سکتا، آخری عشرے کا اعتکاف ،آغاز نزول قرآن کے وقت اعتکاف نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یاد تازہ کراتا ہے ،جبکہ پورے رمضان، تراویح میں قرآن مجید کی تلاوت اور دوسرے لمحات میں بھی قرآن کریم سے شغف و تعلق، امت کے اصل مشن اور اس کی حقیقی داری کے احساس کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ 
(مستفاد ، ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۹۸)
    ماہ رمضان در اصل قرآن کا مہینہ ہے اور اس کی یہی صفت ہے جسے خود زمین و آسمان کے مالک اور اس کتاب کے نازل کرنے والے نے نمایاں فرمایا ہے۔ 
چنانچہ قرآن مجید کی سورہ نمبر ۲ میں بتایا گیا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو رمضان کے مہینے میں اتارا ۔ *شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن* الخ
رمضان کا مہینہ وہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔ 
  اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ قرآن میں اور رمضان کے مہینے میں خصوصی مناسبت اور تعلق ہے ،اس مہینے میں پورے مہینے روزہ رکھا جاتا ہے ،ذکر و عبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ،ایسے پاکیزہ ماحول میں قرآن کی تلاوت، تراویح میں قرآن کو سننا ۔ یہ چیزیں لوگوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں اور قرآن کے پیغام کو سمجھیں ۔ 
  رمضان کا یہ مقدس مہینہ تاریخی اعتبار سے قرآن کے نزول کا مہینہ ہے اور تربیت کے اعتبار سے قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ ہے ۔ 
   یہاں ایک اور پہلو سے گفتگو مناسب معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ *قرآن مجید* سے استفادہ کی بنیادی شرط کیا ہے ؟جب ہم اس پہلو سے غور و فکر کرتے ہیں تو قرآن اور روزے کے تعلق اور ربط پر مزید روشنی پڑتی ہے ۔قرآن نے اپنے سے استفادہ کی شرط اور پہلی شرط تقوی کو قرار دیا ہے ۔ *ھدیٰ للمتقین* میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قرآن کے فہم اور اس کی برکات و فیوض کا دروازہ جس قفل سے کھلتا ہے وہ صفت تقویٰ ہے اور جن چیزوں کو حصول تقوی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ،ان میں سر فہرست ۰۰ روزہ۰۰ ہے ،روزے کی اولین حکمت یہی بیان کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ اہل ایمان متقی اور پرہیز گار بن سکیں ۔
اس بات کو ذرا دوسرے طریقے پر ادا کیا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن تک رسائی کے بھی چند آداب ہیں، اور ان میں دو چیزیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔ ایک جسمانی اور دوسری اخلاقی اور روحانی۔ ہم قرآن اس وقت تک چھو بھی نہیں سکتے جب تک جسمانی طور پر پاک نہ ہوں ،لا یمسه الا المطھرون ، (الواقعہ) جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا ، اور اس پاکی کے معنی یہ ہیں کہ نجاست کی حالت نہ ہو اور وضو یا غسل کے ذریعہ طہارت جسمانی حاصل ہو ۔ اگر جسمانی طہارت کے بغیر قرآن کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا تو قرآن کی روح،اس کے پیغام،اس کے احکام کے فہم اور اس کے فیوض و برکات سے اس وقت تک استفادہ ممکن نہیں جب تک روح،تقویٰ کی کیفیت سے آشنا نہ ہو ۔ جس طرح وضو اور غسل جسمانی طہارت کا سامان فراہم کرتے ہیں اسی طرح روزہ روح اور اخلاق کی نعمت سے مالا مال کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ باب القرآن ہے اور رمضان شھر القران ہے ۔                    
   روزہ ،رمضان اور قرآن کا باہم گہرا ربط، خصوصی مناسبت اور مضبوط تعلق ہے ۔ 
علماء نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک کی فضیلت کے دو بڑے اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ یہ ماہ صیام ہے، اس ماہ میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو روزہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ روزہ ان پر فرض ہے، جو کوئی سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے وہ دوسرے دنوں میں رکھے اور جو جان بوجھ کر روزہ توڑ دے، وہ کفارے کے طور پر ساٹھ روزے اور اگر اس کی سکت نہ ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔ 
  رمضان المبارک کی فضیلت کی دوسری وجہ اور سبب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اسی مبارک مہینہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ یعنی انسانی زندگی کے لیے کامل الہی دستور اور انسانی عمل کے لیے ربانی منشور اسی مہینہ میں عطا کیا گیا، صرف قرآن ہی نہیں بلکہ تمام تر صحیفے اسی ماہ مقدس میں نازل ہوئے۔۔ 
حدیث میں آتا ہے روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن مومن بندہ کی سفارش کریں گے۔ روزہ اللہ کی بندگی ہے اور قرآن کی تلاوت اللہ سے شرف ہم کلامی ہے، جو مومن اللہ کی بندگی اور اس سے ہم کلامی کا شرف حاصل کررہا ہو اللہ تعالیٰ کے یہاں ضرور اس کی سفارش ہونی چاہیے۔ 
رمضان شریف صرف نزول قرآن کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظت و اشاعت کا بھی مہینہ ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خصوصی قرآن کے دور کے لیے تشریف لاتے تھے آخری سال تو دو دور کیا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اور حفاظت کرام کو حفاظت کا ذریعہ اور آلہ بنایا ہے، قرآن پاک کی حفاظت کا ایک بڑا ذریعہ رمضان المبارک اور تراویح اور قیام لیل یعنی تہجد میں اس کی تلاوت ہے جہاں اس مہینہ ہر طرف تلاوت کا ماحول ہوتا ہے۔۔ (مستفاد از خطبات جمعہ از سعود عالم قاسمی) 
 *مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح* اپنی معروف و مقبول کتاب ۰۰ارکان اربعہ۰۰ میں روزہ، رمضان اور قرآن کے اس خصوصی ربط و تعلق اور مناسبت خاص کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں :
  *اللہ تعالی نے روزے رمضان میں فرض کئے ہیں، اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں برکتوں اور سعادتوں کا اجتماع بڑی حکمت اور اہمیت کا حامل ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا،اور گم کردہ راہ انسانیت کو ۰۰ صبح صادق۰۰ نصیب ہوئی ،اس لئے یہ عین مناسب تھا کہ جس طرح طلوع صبح صادق روزہ کے آغاز کے ساتھ مربوط کر دی گئی ہے، اسی طرح اس مہینہ کو بھی جس میں طویل اور تاریک رات کے بعد پوری انسانیت کی صبح ہوئی ،پورے مہینہ کے روزے کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے ،خاص طور پر اس وقت جب کہ اپنی رحمت و برکت، روحانیت اور نسبت باطنی کے لحاظ سے بھی یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل تھا،اور بجا طور پر اس کا مستحق تھا کہ اس کے دنوں کو روزوں سے اور رات کو عبادت سے آراستہ کیا جائے، روزہ اور قرآن کے درمیان بہت گہرا تعلق اور مناسبت ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تلاوت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام فرماتے تھے ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے، لیکن رمضان میں جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملنے آتے اس زمانہ میں سخاوت کا معمول اور بڑھ جاتا ،رمضان کی ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرئیل آتے اور قرآن مجید کا دور کرتے* ( متفق علیہ)
دوستو بزرگو اور بھائیو!
  ان تفصیلات کا حاصل اور خلاصہ و لب لباب یہ نکلا کہ ہم رمضان کے روزوں کو صرف عبادت اور تقویٰ کی تربیت ہی قرار نہ دیں بلکہ اس عظیم الشان نعمت ہدایت پر بھی خدائے واحد کا شکر ادا کریں جو قران کی شکل میں اس ہستی نے عطا فرمائ ہے، واقعہ یہ ہے کہ ایک عقلمند انسان کے لئے کسی نعمت کی شکر گزاری اور کسی احسان کے اعتراف کی بہترین صورت اگر ہوسکتی ہے تو صرف یہی کہ وہ اپنے آپ کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے زیادہ تیار کرے،جس کے لئے عطا کرنے والے نے وہ نعمت عطا کی ہو۔ ہم کو قرآن اس لئے دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالی کی رضا اور مرضی کا راستہ جان کر خود اس پر چلیں اور دنیا کو اس پر چلائیں ۔ اس مقصد کے لئے ہم کو تیار کرنے کا بہترین ذریعہ روزہ ہے ،لہذا نزول قرآن کے اس مہینہ میں ہماری ذمہ داری صرف عبادت اور صرف اخلاقی تربیت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ خود اس نعمت قرآن کی بھی صحیح اور موزوں شکر گزاری ہے ۔ 
     اسی تاریخی حقیقت کو *و لتکبروا اللہ علی ما ھداکم* میں واضح کیا گیا ہے اور روزے کا ابدی مقصد قرار دیا گیا ہے ۔ 
   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ضروت ہے کہ ہم قرآن مجید کو ریشم کے غلافوں سے نکالیں اس کی تلاوت کریں ،اس میں غور و فکر اور تدبر کریں ،اس کے حیات آفریں پیغام کو سمجھیں اور عام کریں ،اس کی روشنی میں سفر حیات طے کریں ،اس کے لائے ہوئے اصول اخلاق ،اس کی دی ہوئ معاشرتی اقدار ،اس کے وضع کردہ سیاسی قوانین، اس کے عطا کردہ اقتصادی و معاشی تصورات اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں اور زندگی کا پورا نظام اس کی ہدایت کے مطابق منظم و مرتب کریں ۔ 
قرن اول اور خیر القرون کے مسلمانوں اور ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیوں اور شب و روز کے معمولات میں قران مجید کو حکمرانی کا یہی مقام دیا تھا اور اسی کے نتیجہ وہ دنیا کے حکمراں بنے تھے ۔ 
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر 
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر 
    آج بھی رمضان اور اس کے روزے اور اس کی عبادتیں اور تلاوت و تسبیحات جس امر کی یاد دہانی کراتی ہیں وہ یہی ہے کہ کیا ہم قرآن مجید کو اس کا اصل اور صحیح مقام دینے کو تیار ہیں؟ ہر ہر فرد بھی ،ملت اسلامیہ اور پوری انسانیت بھی کیا اس کے لئے تیار ہے ؟
ماہ نزول قرآن اور رمضان المبارک کے پاکیزہ اور متبرک مہینے گزارتے وقت یہی وہ کانٹے کی بات ہے جسے ہر مسلمان کو اپنے دل سے اور امت مسلمہ کو اپنے اجتماعی ضمیر سے پوچھنا چاہیے، اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے مستقبل کا دار و مدار اور انحصار اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اسی سوال کے صحیح جواب پر ہے ۔ 
   مشہور محدث امام دار الھجرہ حضرت امام مالک رح نے کیا پتے کی بات کہی ہے کہ اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی سے ہوسکتی ہے، جس سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی ۔ یعنی قرآن!  
و ھذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون، 
اور یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ،ایک برکت والی کتاب ۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ 
ایک آخری اور ضروری بات جس کی طرف اشارہ اور جس کی وضاحت ضروری ہے کہ قرآن کریم سے ہدایت اسی وقت مل سکتی ہے جب کے تلاوت کیساتھ اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے، اس میں غور و فکر کیا جائے اور پھر اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جسے سمجھ کر نہ پڑھا جاتا ہو یہ صرف کتاب اللہ کا معاملہ ہے کہ اکثر لوگ اسے سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ اگر ہم کوئی خط اور تحریر نہیں سمجھتے تو دوسروں کے پاس اس کو سمجھنے کے لیے جاتے ہیں اہل علم سے رجوع کرتے ہیں۔ مگر اللہ کا ہدایت نامہ اور گرامی نامہ اسے نہ تو ہم خود سمجھتے ہیں اور نہ علماء سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو اس کی زبان جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں کفار کے لیے کہا گیا ہے افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوبھم اقفالھا۔ کیا وہ لوگ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے، کیا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ ؟ 
   جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک کا سمجھنا اور اس میں تدبر کرنا صرف علماء کا کام ہے عوام اس کے مکلف نہیں ہیں یہ بہت بڑا دھوکا ہے، قرآن مجید کا سینکڑوں زبان میں ترجمہ عوام اور غیر عربی داں لوگوں کے لیے ہی تو کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کے معنی اور پیغام کو سمجھیں ہاں یہ ضروری ہے کہ علماء اور اہل علم کی نگرانی میںمجھیں اور پڑھیں اپنی طرف سے رائے اور قیاس نہ قائم کرنے لگیں۔۔۔ ( مختلف مراجع و مصادر سے ماخوذ و مستفاد)

Friday, February 20, 2026

روزہ اور حسن نیت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

روزہ اور حسن نیت 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  عبادات کی روح اور ان کی جان خلوص اور حسنِ نیت ہے۔ اگر نیت پاکیزہ نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن اور بے حیثیت ہو جاتا ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا سا عمل بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول و محبوب ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے ہر عبادت کی بنیاد اخلاص اور للہیت پر رکھی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ بندے کے ظاہری اعمال سے زیادہ اس کے دل کی کیفیت کو دیکھا جاتا ہے، اور احادیثِ نبویہ میں بھی نیت کو اعمال کا معیار قرار دیا گیا ہے۔
اسلام میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی اور صدقہ جیسی عظیم عبادات اسی وقت مقبول ہوتی ہیں، جب ان کا مقصد رضائے الٰہی ہو، نہ کہ دکھاوا، رسم یا معاشرتی و سماجی روایت۔ انہی عبادات میں ایک عظیم الشان اور منفرد عبادت روزہ بھی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف خاص نسبت عطا فرمائی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ…” یعنی اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے۔ یہ فرضیت محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، پرہیز گاری اور باطنی پاکیزگی کے حصول کا ذریعہ ہے۔
روزہ دراصل ظاہری ضبطِ نفس کے ساتھ باطنی اصلاح کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص سارا دن بھوکا پیاسا رہے، مگر اس کی نیت ریاکاری، شہرت یا محض عادت کی تکمیل ہو تو ایسا روزہ اپنی اصل روح سے خالی ہوگا، فرضیت تو ادا ہو جائے گی لیکن اجر و ثواب سے خالی ہوگا۔ لیکن جب بندہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو ترک کرتا ہے تو یہی عمل اس کے درجات کی بلندی اور قربِ الٰہی کا سبب بنتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں آتا ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا عطا کروں گا—
یہ خصوصیت اس عبادت کے خلوص سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پس روزہ محض ایک معاشرتی رسم یا موسمی عبادت نہیں بلکہ ایک شعوری اور قلبی عمل ہے۔ اس کی اصل قدر و قیمت نیت کی پاکیزگی میں مضمر ہے۔ جب روزہ حسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ رکھا جائے گا، تو وہ انسان کے باطن کو نور سے بھر دیتا ہے، اس کی خواہشات کو اعتدال اور توازن بخشتا ہے اور اسے تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے۔
لہٰذا اس تحریر کا مقصود یہی ہے کہ روزہ کو اس کی حقیقی روح یعنی اخلاص و للہیت کے ساتھ سمجھا جائے—کہ یہ عبادت اسی وقت بارگاہِ ایزدی میں مقبول ہے جب وہ خالصتاً للہیت کے جذبے سے ادا کی جائے، نہ کہ عادت، روایت یا دکھاوے کے طور پر۔ کیونکہ روزہ کا اصل مقام اسی اخلاص میں پوشیدہ ہے، اور اخلاص ہی قبولیت کی اور شرط اور ضمانت ہے۔
ہمارے فاضل دوست اور ہمارے علمی کاموں میں مشیر و معاون جناب مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی صاحب نے ،، عمل میں نیت کا وزن،، کے عنوان بہت اچھا لکھا ہے ،اسے بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
 "رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں جب اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہوتی ہیں تو فضا عبادت کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے، کہیں تلاوتِ قرآن کی روح پرور صدائیں ہیں، کہیں رکوع و سجود کی بہار، کہیں صدقہ و خیرات کی سخاوت جلوہ گر ہے اور کہیں آنسوؤں میں ڈوبی دعاؤں کی سرگوشیاں، بظاہر یہ سب اعمالِ صالحہ ہیں؛ مگر سوال یہ ہے کہ الٰہی میزان میں ان کا وزن کس ترازو میں تولا جاتا ہے؟وہ ترازو ہے’’نیت‘‘۔
 نیت محض زبان سے ادا کیے گئے چند الفاظ کا نام نہیں، یہ دل کے اس خاموش ارادے کا عنوان ہے، جو بندہ اور رب کے درمیان ایک باطنی رشتہ استوار کرتا ہے، عمل جسم ہے تو نیت اس کی روح، روح نہ ہو تو جسم بے جان ہے اور نیت نہ ہو تو عمل محض ایک ظاہری حرکت،قرآنِ کریم اس حقیقت کو یوں واضح کرتا ہے:
لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (الحج: 37)
اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
 یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظاہری صورت و مقدار نہیں؛بل کہ دل کا اخلاص اور تقویٰ معتبر ہے، عمل کی قدر اس کے خلوص سے ہے، نہ کہ اس کی نمود سے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو افراد ایک ہی صف میں، ایک ہی امام کے پیچھے، ایک ہی انداز سے رکوع و سجود کرتے ہیں؛ مگر ان کے اجر میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، ایک کا عمل عرش تک رسائی پاتا ہے اور دوسرے کا عمل محض جسمانی مشقت بن کر رہ جاتا ہے، یہ فرق کس چیز کا ہے؟صرف اور صرف ’’نیت‘‘ کا، رسولِ اکرم ﷺ کا یہ جامع فرمان رہتی دنیا تک اس اصول کو واضح کرتا رہے گا:
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ(بخاری)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
 گویا عمل کی حقیقت اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے،نیت بلند ہو تو معمولی عمل بھی بلند ہو جاتا ہے اور نیت کھوکھلی ہو تو عظیم الشان عمل بھی بے وزن، اسی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ اکسیر ہے، جو ذرّے کو پہاڑ بنا دیتی ہے، ایک مومن اگر خلوصِ دل سے ایک کھجور بھی اللہ کی راہ میں دے تو وہ اس کے ہاں اس قدر بڑھا دی جاتی ہے کہ احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو جاتی ہے؛ مگر دوسری طرف اگر عمل پہاڑ جیسا ہو اور اس میں ریا کی آمیزش شامل ہو جائے تو وہ رائی کے دانے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتا، قرآن تنبیہ کرتا ہے:
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (الکہف: 110)
پس جو اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
 یہ ’’شریک نہ ٹھہرانا‘‘ صرف بت پرستی سے بچنے کا نام نہیں؛ بل کہ دل میں چھپی ہوئی ریا اور شہرت کی خواہش سے بھی اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔
 رمضان دراصل نیت کی تربیت کا مہینہ ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عام عادتوں کو کس طرح عبادت میں بدلا جائے، سحری کے لیے بیدار ہونا بظاہر ایک طبعی ضرورت بھی ہو سکتی ہے؛ مگر جب دل میں یہ شعور جاگ اٹھے کہ ’’میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کر رہا ہوں‘‘ تو یہی عمل عبادت بن جاتا ہے، اسی طرح روزمرہ کے کام، جیسے:اہلِ خانہ کے لیے محبت سے دسترخوان سجانا، کسی پریشان دل کو دیکھ کر خلوص سے مسکرا کر اس کی پریشانی کو ہلکا کرنا، راستے میں کسی کی مدد کر دینا وغیرہ ، اگر ان سب کے پیچھے نیت ’’رضائے الٰہی‘‘ ہو، تو یہی معمولی اعمال بندگی کے دفتر میں عظیم اعمال بن کر درج ہو جاتے ہیں۔
  رمضان ہمیں خود احتسابی کا سلیقہ سکھاتا ہے،ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ رک کر اپنے دل سے سوال کیجیے:میں یہ کس کے لیے کر رہا ہوں؟لوگوں کی تحسین کے لیے یا اپنے رب کی رضا کے لیے؟یاد رکھیے! قیامت کے دن ظاہری صورتیں نہیں، دلوں کے راز کھولے جائیں گے:
اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ. وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ. (العادیات: 9-10)
کیا وہ نہیں جانتا ،جب قبروں کی چیزیں نکال لی جائیں گی اور سینوں کی باتیں ظاہر کر دی جائیں گی؟
 وہ دن نیتوں کا دن ہوگا،جس دن عمل کی نہیں، اخلاص کی قدر ہوگی"۔
بار الہا ! ہمیں تمام عبادات اور اعمال و افعال میں اخلاص و للہیت نصیب فرما ، دکھاوا ،نام و نمود، ریا سے بچا اور ہماری تمام عبادات کو قبول فرما اور خاص طور پر ماہ رمضان کے روزے، تلاوتِ، تراویح اور قیام لیل کو قبول فرما، نیز اس ماہ کی قدر دانی کی بھرپور توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین 

نوٹ/ اپنے تمام قارئین باتمکین سے پرخلوص درخواست ہے کہ آپ میں جو لوگ صاحب نصاب اور صاحب حیثیت ہیں، وہ اس ماہ رمضان المبارک میں مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی کا مالی تعاون ضرور فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں، اس ادارہ سے تیس سال سے میری تدریسی وابستگی ہے، اور یہ مدرسہ ندوہ کی ایک اہم شاخ اور بافیض ادارہ ہے۔
ترسیل زر کی تفصیلات حسب ذیل ہے ۔۔۔۔

 Bank Name - PANJAB NATIONAL BANK KUNDA PRATAPGARH (UP) 
Account no - 6743002100000304
IFSC Code - PUNB0674300

Name - MADARSA NURUL ISLAM KUNDA Partapgarh up

میرا رابطہ نمبر اور فون پے نمبر ہے۔ 
  9506600725
  اگر مدرسہ کے اکاؤنٹ میں بھیجنے میں کوئی دقت ہو تو میرے فون پے پر بھی رقم بھیج کر رسید حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔
رقم بھیجنے کے بعد اسکرین شاٹ ضرور بھجیں تاکہ آپ تک ہم رسید بھیج سکیں ۔

Saturday, February 14, 2026

قرآن کریم کے مایہ ناز انگریزی مترجم عبداللہ یوسف علی کا اجمالی تعارف فیاض احمد ندوی گرولوی

قرآن کریم کے مایہ ناز انگریزی مترجم عبداللہ یوسف علی کا اجمالی تعارف
فیاض احمد ندوی گرولوی
عبد اللہ یوسف علی کی پیدائش 14 اپریل 1872 میں ممبئی میں ہوئی اور وہ ایک ہندوستانی برطانوی بیرسٹر اور زبردست مسلمان اسکالر تھے جنہوں نے اسلام کے بارے میں متعدد کتابیں لکھیں اور قرآن مجید کا ترجمہ بھی لکھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی جنگ کی کوششوں کے حامی، علی نے 1917 میں اس مقصد کے لئے اپنی خدمات کے لئے سی بی ای حاصل کیا۔
ابتدائی زندگی
عبداللہ ہوسف علی، یوسف علی اللہ بخش کے بیٹے تھے۔ خان بہادر یوسف علی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ بچپن میں عبد اللہ یوسف علی نے انجمن حمایت الاسلام اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں بمبئی کے مشنری اسکول اور ولسن کالج میں تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے عصری علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی گھر پر حاصل کی اور وہ پورے قرآن کے حافظ تھے۔ اور وہ روانی سے عربی اور انگریزی بولتے تھے۔ انہوں نے اپنی کوششیں قرآن کی افہام وتفہیم پر مرکوز کیں اور اسلامی تاریخ کے ابتدائی دنوں میں لکھے گئے قرآنی تفسیروں کا مطالعہ کیا۔۔
انہوں نے جنوری 1891 میں انیس سال کی عمر میں بمبئی یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں فرسٹ کلاس بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی تھی اور انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے انہیں بمبئی اسکالرشپ کا ایوان صدر دیا گیا تھا۔
عبداللہ یوسف علی پہلی بار 1891 میں سینٹ جان کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے برطانیہ گئے، کیمبرج اور 1895 میں بی اے اور ایل ایل بی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ اسی سال ہندوستانی سول سروس (آئی سی ایس) میں ایک عہدے کے ساتھ ہندوستان واپس آئے۔ بعد میں 1896 میں غیر حاضری میں لنکن ان میں بار بلایا گیا۔ انہوں نے 1901 میں ایم اے اور ایل ایل ایم حاصل کیا۔
انہوں نے 1900 میں بورنیموت کے سینٹ پیٹرس چرچ میں ٹریسا مریم شیلڈرز (1873–1956) سے شادی کی، اور اس کے ساتھ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی: ان کی اہلیہ اور بچے ٹنبرج ویلز، سینٹ البانس اور نورویچ میں مختلف طور پر آباد ہوئے جبکہ علی ہندوستان میں اپنے عہدے پر واپس آ گئے۔
وہ 1905 میں آئی سی ایس سے دو سال کی رخصت پر برطانیہ واپس آئے اور اس عرصے کے دوران وہ رائل سوسائٹی آف آرٹس اور رائل سوسائٹی آف لٹریچر کے فیلو منتخب ہوئے۔ علی 1906 میں لندن میں رائل سوسائٹی آف آرٹس میں اپنے سرپرست سر جارج برڈ ووڈ کے زیر اہتمام لیکچر دینے کے بعد برطانیہ میں سب سے پہلے عوام کی توجہ کا مرکز بنے. ایک اور سرپرست لارڈ جیمز میسٹن تھے، سابقہ لیفٹیننٹ گورنر متحدہ صوبوں کے جو جب انہیں حکومت ہند کا فنانس ممبر بنایا گیا تو علی کو ہندوستان کے مختلف اضلاع میں عہدوں پر مقرر کیا گیا جس میں قائم مقام انڈر سکریٹری 1907 کی حیثیت سے دو مختصر مدت بھی شامل تھی، اور پھر ڈپٹی سیکرٹری۔ (1911، 1912) حکومت ہند کے محکمہ خزانہ میں۔
یوسف علی کا خاندان
یوسف علی کا تعلق پیشہ ور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی مسلمانوں کے گروپ سے تھا جو عہدے اور حیثیت سے وابستہ تھے۔ اثر و رسوخ کے لئے ان کی خواہش کے تعاقب میں، اگر سراسر زیادتی نہ ہو تو، انگریزوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی مرکزی خصوصیت بن گئی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے کے دوران، وہ بنیادی طور پر اعلی طبقے کے حلقوں میں گھل مل گئے، انگریزی الیٹ کے ممبروں کے ساتھ یقین دہانی کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔
وہ خاص طور پر جن لوگوں کے ساتھ منسلک ہونے والے جننیت کے طرز عمل اور ہم آہنگی سے خاص طور پر متاثر ہوئے، اور اس کے نتیجے میں، ایک ناقابل فراموش انگلوفائل بن گئے۔ چرچ آف انگلینڈ کی رسومات کے مطابق ٹریسا شیلڈرز سے ان کی شادی، عظیم تقریبات میں ان کے استقبال کی میزبان، ہیلینک نوادرات اور ثقافت اور اس کے ہیروز کے لئے ان کی دلکشی، ان کا ذائقہ، نسلی اور معاشرتی تفریق کو ختم کرنے کے ایک طریقہ کے طور پر ہندوستان میں فری میسنری کے لئے ان کی تعریف، اور سیکولر تعلیم کے ذریعہ عقلیت پسند اور جدیدیت پسندانہ افکار کے پھیلاؤ کی ان کی وکالت برطانوی معاشرے میں شامل ہونے کی تمام حقیقی کوششیں تھیں۔
ذاتی زندگی کا ان پر اثر
ہندوستان اور برطانیہ کے مابین ان کے مستقل سفر نے ان کی شادی کو متاثر کیا اور ان کی اہلیہ ٹریسا مریم شیلڈرز ان کے ساتھ بے وفائی کی اور 1910 میں ایک ناجائز بچے کو جنم دیا جو کہ 1912 میں اسے طلاق دینے کا سبب بنا۔ اور اپنے چار بچوں کی تحویل حاصل کرنا، جنہیں وہ انگلینڈ میں گورننس کے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔
تاہم، ان کے بچوں نے انہیں مسترد کردیا اور 1920 اور 1930 کی دہائی کے دوران لندن کے مستقبل کے دوروں پر وہ نیشنل لبرل کلب میں رہے۔ 1914 میں علی نے آئی سی ایس سے استعفیٰ دے دیا اور برطانیہ میں سکونت اختیار کی جہاں وہ ووکنگ میں شاہ جہاں مسجد کے ٹرسٹی بن گئے اور 1921 میں مشرقی لندن مسجد کی تعمیر کے لئے فنڈ کا ٹرسٹی بن گئے۔
پہلی جنگ عظیم شروع ہونے کے ساتھ، برطانیہ کے بہت سارے مسلمانوں کے برعکس جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے ساتھی مسلمانوں کے خلاف برطانوی جنگ کی کوششوں کی حمایت کرنے میں بے چینی محسوس کی، علی جنگ کی کوششوں میں ہندوستانی شراکت کا پرجوش حامی رہے۔ اس مقصد کے لئے مضامین لکھنا، عوامی تقریریں کرنا اور اسکینڈینیویا کا لیکچر ٹوور کرنا۔ اور اس مقصد کے لئے ان کی خدمات کے لئے 1917 میں انہیں سی بی ای سے نوازا گیا تھا۔ اسی سال انہوں نے ہندوستانی میں لیکچرر کی حیثیت سے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز کے عملے میں شمولیت اختیار کی۔
اس نے 1920 میں گیرٹروڈ این ماؤبی سے شادی کی تھی، اور اس نے مسلمان نام معصومہ لے کر علی کے ساتھ ہندوستان واپس آنا مناسب سمجھا کیونکہ علی کے بچوں نے ان کو اور ان کی دوسری اہلیہ کو قبول نہیں کیا تھا۔
ماؤبی کے ساتھ ان کا ایک بیٹا تھا، راشد جس کی (پیدائش 1922 میں ہوئی، لیکن یہ شادی بھی ناکامی پر ختم ہوگئی۔
وہ ہندوستان میں ایک قابل احترام دانشور تھا اور سر محمد اقبال نے انہیں لاہور میں اسلامیہ کالج کا پرنسپل بننے کے لئے بھرتی کیا، 1925 سے 1927 تک اور پھر 1935 سے 1937 تک بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی (1925–8 اور 1935–9) کے فیلو اور سنڈک اور پنجاب یونیورسٹی انکوائری کمیٹی (1932–33) کے ممبر بھی رہے۔
یوسف علی کی اشاعت اور علمی کام
ان کی اشاعتوں میں مسلم تعلیمی نظریات (1923)، بنیادی اصول اسلام (1929)، اخلاقی تعلیم: مقصد اور طریقے (1930)، اسلام میں انسان کی شخصیت (1931)، اور اسلام کا پیغام (1940) شامل تھے۔
تاہم، ان کا سب سے مشہور علمی کام ان کا قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ ہے متن، ترجمہ اور تفسیر (1934–8؛ نظر ثانی شدہ ایڈیشن 1939–40) ہے، جو سب سے زیادہ استعمال ہونے والے انگریزی ورژن میں سے ایک ہے۔
قرآن مجید کا پہلا مسلمان مترجم
قرآن کے ترجمے کی اس کاپی کے نوٹ میں، عبد اللہ یوسف علی لکھتے ہیں، انگریزی ترجمہ کرنے والے پہلے مسلمان ڈاکٹر تھے۔ محمد عبدالحکیم کھان، پٹیالہ۔ دہلی کے مرزی ہیئرات نے بھی ایک ترجمہ شائع کیا: وہ تبصرہ جس کا انہوں نے تعارف کے ایک الگ جلد میں شائع کرنے کا ارادہ کیا تھا، جہاں تک مجھے معلوم ہے، کبھی شائع نہیں ہوا۔ میرے پیارے دوست، دکن کے حیدرآباد کے مرحوم نوابمد الملک سید حسین بلگرامī نے ایک حصہ کا ترجمہ کیا، لیکن وہ اپنا کام مکمل کرنے کے لئے زندہ نہیں رہا۔
احمدیہ فرقہ بھی اس میدان میں سرگرم عمل رہا ہے۔ اس کے قدیع انجمن نے 1915 میں پہلے سپرا کا ایک ورژن شائع کیا تھا۔ بظاہر مزید شائع نہیں ہوا تھا۔ اس کے لاہور انجمن نے مولوی محمد کا ترجمہ (1917 میں پہلا ایڈیشن) شائع کیا، جو ایک سے زیادہ ایڈیشن میں گزرا ہے۔ یہ ایک علمی کام ہے، اور نوٹوں اور پیش کش میں مناسب وضاحتی معاملہ، اور کافی حد تک مکمل اشاریہ سے لیس ہے۔ لیکن انگریزی کا متن فیصلہ کن کمزور ہے، اور ان لوگوں سے اپیل کرنے کا امکان نہیں ہے جو عربی نہیں جانتے ہیں۔ عظیم میرٹ کے دو دیگر مسلم ترجمے ہیں لیکن وہ عربی متن کے بغیر شائع ہوئے ہیں۔ حافظ غلام سرور کا ترجمہ (1930 یا 1929 میں شائع ہوا) جو کہ اس سے کہیں زیادہ مشہور ہونے کا مستحق ہے۔ اس نے سیکشن کے لحاظ سے سیکشن کے مطابق سیرس کی مکمل سمری فراہم کی ہے، لیکن اس کے پاس عملی طور پر اس کے متن پر کوئی نوٹ نہیں ہے۔ میرے خیال میں متن کی مکمل تفہیم کے لئے ایسے نوٹ ضروری ہیں۔ بہت سے معاملات میں عربی الفاظ اور فقرے اس معنی سے حاملہ ہیں کہ مترجم مایوسی کا شکار ہوگا جب تک کہ اسے ان سب باتوں کی وضاحت کرنے کی اجازت نہ دی جائے جو وہ ان کے ذریعہ سمجھتا ہے۔
مسٹر مارماڈوکی پکتھل کا ترجمہ 1930 میں شائع ہوا تھا۔ وہ ایک انگریزی مسلمان، کھڑا ہونے والا ادبی آدمی، اور عربی اسکالر ہے۔ لیکن اس نے متن کو واضح کرنے کے لئے بہت کم نوٹ شامل کیے ہیں۔ اس کی پیش کش تقریباً لفظی ہے: شاید ہی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس سے کسی ایسی کتاب کا مناسب اندازہ ہوسکتا ہے جس کو (اپنے الفاظ میں) بیان کیا جاسکتا ہے کہ وہ ناقابل تسخیر سمفنی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو آنسو اور خوشی کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔ شاید اس سمفنی کو کسی دوسری زبان میں پکڑنے کی کوشش ناممکن ہے بڑی ہمت، میں نے یہ کوشش کی ہے۔ ہم کسی ایسے فنکار کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے جو اپنی تصویر میں موسم بہار کی زمین کی تزئین کی شاندار روشنی کی کچھ چیز پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
زندگی کے آخری سال
دسمبر 1938 میں اپنے ترجمے کو فروغ دینے کے دورے پر، علی نے البرٹا، کینیڈا کے ایڈمنٹن میں ، شمالی امریکہ کی تیسری مسجد الرشید کو کھولنے میں مدد کی۔ 1947 میں علی بہت سے ہندوستانیوں میں شامل تھا جو سیاسی عہدوں پر فائز ہونے کے لئے آزادی کے بعد ہندوستان واپس آئے تھے۔ تاہم، ان کے لئے یہ اقدام کامیاب نہیں ہوا اور وہ لندن واپس آگیا جہاں وہ اپنے گھر والوں اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ دونوں کی طرف سے نظرانداز کیے گئے۔
تنہائی میں رہتے ہوئے، ذہن اور جسم، تیزی سے کمزور ہو گئے، جس کا اب ان کے لئے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کسی مقررہ رہائش گاہ میں سے، علی نے اپنی زندگی کی آخری دہائی کا بیشتر حصہ یا تو نیشنل لبرل کلب میں، رائل دولت مشترکہ سوسائٹی میں گزارا یا لندن کی سڑکوں پر گھوم کر اور اتنے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود غربت میں گزارا۔
تاریخ 9 دسمبر 1953 کو علی کو پولیس نے ویسٹ منسٹر کے ایک دروازے میں بے سہارا اور پریشان کن حالت میں پایا جو اسے ویسٹ منسٹر اسپتال لے گیا۔ اگلے دن انھیں فارغ کردیا گیا اور چیلسی کے ڈو ہاؤس اسٹریٹ میں بزرگوں کے لئے لندن کاؤنٹی کونسل کے گھر لے گیا۔ یہاں انہیں 10 دسمبر 1953 کو دل کا دورہ پڑا اور اسے فولہم کے سینٹ اسٹیفن اسپتال پہنچایا گیا جہاں اسی دن وہ تنہا انتقال کر گئے۔
کسی بھی رشتہ دار نے میت کا دعوی نہیں کیا لیکن علی پاکستان ہائی کمیشن میں لجانا جاتا تھا۔ انہوں نے ووکنگ کے قریب بروک ووڈ قبرستان میں مسلم سیکشن میں ان کی آخری رسومات اور تدفین کا اہتمام کیا۔( ارسال کردہ فیاض احمد ندوی گرولوی

Friday, February 13, 2026

ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال مفتی توقیر بدر القاسمی الازہری

ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال

مفتی توقیر بدر القاسمی الازہری

ویلنٹائن ڈے کی آمد آمد ہے ۔اس موقع سے جس جسن کا اہتمام ہوتا ہے وہ دراصل ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال ہوتا ہے ۔
اس مصنوعی جشن میں ایک عجیب سی خاموش تباہی پنہاں ہوتی ہے جو انسانی روح کی گہرائیوں تک رسائی رکھتی ہے۔ 
یہ دن، جو مغربی تہذیب کی پیداوار ہے، محبت کے نام پر جذبات کی تجارت کرتا ہے؛ سرخ گلابوں کی خوشبو میں لپٹی ہوئی ہوس کی لہریں، کارڈز پر لکھی جھوٹی قسمیں، اور عارضی جوش کے پیچھے چھپی ہوئی تنہائی کا احساس !یہاں محبت نہیں، بلکہ نفس کی بے لگام ہوس ہے، جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ 
خاندانی رشتوں کی حرمت پامال ہوتی ہے، حیا کی دیواریں گرتی ہیں، اور نوجوان نسل ایک ایسی بے راہ روی کی دلدل میں پھنس جاتی ہے جہاں عفت و پاکدامنی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔یہ زوال صرف اخلاقی نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے؛ جہاں رشتوں کی گہرائی کی جگہ سطحی لذتوں نے لے لی، وہاں معاشرہ کمزور پڑتا ہے، خودکشیوں، طلاقوں اور نفسیاتی امراض کی شرح بلند ہوتی ہے، اور معاشی طور پر بھی یہ فضول خرچیوں کا طوفان پیدا کرتا ہے جو اصل ضروریات سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔
 یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کو آزاد ہونے کا وہم دے کر اسے غلام بنا دیتی ہے۔اس کے برعکس اسلامی تہذیب محبت کو ایک ایسی پاکیزہ ندی کی مانند پیش کرتی ہے جو حدودِ شرع کے اندر بہتی ہے اور ہر طرف سرسبزی بکھیرتی ہے۔ اسلام میں محبت کوئی مخصوص دن کا قیدی نہیں، بلکہ زندگی کا مستقل رنگ ہے؛ والدین کی شفقت، اولاد کی پرورش، شوہر بیوی کا ایثار، اور اللہ کی رضا کی تلاش میں ڈوبا ہوا جذبہ۔ یہ محبت ظاہری تحائف پر نہیں، بلکہ قربانی، صبر اور وفا پر قائم ہے۔ جب معاشرہ اسی اسلامی اخلاقیات پر استوار ہوتا ہے تو اس میں زوال کی کوئی گنجائش نہیں رہتی؛ خاندان مضبوط ہوتے ہیں، معاشرتی ہم آہنگی بڑھتی ہے، اور معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے کیونکہ فضول رسوم کی بجائے اصل اقدار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسلام کی یہ تہذیبی برتری اسی میں ہے کہ وہ انسان کو نفس کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے جاتی ہے، جہاں حقیقی سکون اور ابدی محبت کا حصول ممکن ہے۔ یہ ایک ایسی عمارت ہے جو صدیوں سے کھڑی ہے اور طوفانوں میں بھی نہیں ڈگمگاتی۔

آج جب ویلنٹائن ڈے کی چکاچوند میں بہت سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں، تو ہمیں بحیثیت مسلمان یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی عظمت ان اقدار میں ہے جو وقت اور جغرافیہ سے ماورا ہیں۔

 اسلامی اخلاقیات کی یہ روشنی نہ صرف فرد کو سنوارتی ہے، بلکہ پورے معاشرے کو ایک پاکیزہ اور مستحکم روپ دیتی ہے۔ اگر ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مضبوط کریں، تو نہ صرف اپنے زوال سے بچ سکتے ہیں بلکہ دنیا کو بھی وہ راہ دکھا سکتے ہیں جو حقیقی محبت، امن اور ترقی کی طرف جاتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی مصنوعی روشنی کے مقابلے میں اسلام کی ابدی روشنی ہی وہ شمع ہے جو اندھیروں کو چیر کر انسانیت کو منزل تک پہنچا سکتی ہے۔
_______
ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار انڈیا 
11/02/2026
+918789554995

شمالی بہار کا علمی معمار: تذکرۂ حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی . شہباز دانش

شمالی بہار کا علمی معمار: تذکرۂ حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتیؒ
شہباز دانش
برصغیر کی علمی و روحانی تاریخ بعض ایسے مخلص خادموں کے تذکرے سے منور ہے جنہوں نے شہرت و ناموری کی تمنا سے بے نیاز ہو کر خود کو خاموشی کے ساتھ علم کی ترویج اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ انہی گوشہ نشین اور درویش صفت عباقرہ میں حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتیؒ کا نامِ نامی ایک جلی عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ ایک ایسے عالم ربانی، یگانۂ روزگار مدرس اور مصلح امت تھے جن کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ درس و تدریس، اصلاحِ عقائد اور دینی اداروں کی آبیاری میں گزرا۔ شمالی بہار کی بنجر زمین کو اپنے علم و عمل کے زمزم سے سیراب کر کے وہاں ایک نئے علمی انقلاب کی بنیاد رکھنا آپ ہی کا طرۂ امتیاز تھا۔

طلوعِ سحر اور عہدِ طفولیت:
اس آفتابِ علم و عمل کا طلوع 1887ء میں ضلع مظفرپور (بہار) کے تھانہ "کٹرا" کی ایک غیر معروف بستی ’بسنت‘ میں ہوا۔ ابھی ہوش کی آنکھیں پوری طرح کھلی بھی نہ تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہو گئے ۔ قدرت نے آپ کی تربیت کا بیڑہ اٹھایا اور دادا شیخ امام علی، اور پھر چچا شیخ بابو جان کے آغوشِ شفقت نے آپ کی پرورش کی۔ اگرچہ خاندان علم کی خوشبو سے ناآشنا نہ تھا، مگر یتیمی کی وجہ سے ابتدائی ایام میں تعلیمی سفر کی رفتار سست رہی۔

سفرِ علم کی ابتدا:
علم کی پیاس آپ کو ننھیال (آواپور) لے گئی، جہاں کی علمی فضا نے آپ کے جوہرِ قابل کو جلا بخشی۔ مدرسہ آواپور میں آپ نے مولانا عبدالصمد آواپوری اور صاحبِ ’آثار السنن‘ مولانا ظہیر حسن شوق نیمویؒ جیسے جلیل القدر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مولانگر اسکول میں زیرِ تعلیم رہے، اس عرصے میں مولانا عبد الصمد آواپوری سے عربی کی متعدد کتابیں پڑھیں، مگر دینی علوم کی تڑپ آپ کو مدرسہ امدادیہ (دربھنگہ) کھینچ لائی، جہاں آپ نے صرف و نحو میں درک حاصل کیا، یہاں آپکے ہم جماعتوں میں صوفی رمضان علی آواپوری، مولانا اسماعیل آواپوری اور مولانا جمال اختر مکیاوی کا نام قابل ذکر ہے ۔

دیارِ بعید میں تحصیلِ علم :
علم کے اس مسافر نے اپنی منزل کی جستجو میں الٰہ آباد کے 'مدرسہ سبحانیہ' کا رخ کیا، جہاں مشکوٰة، جلالین، شرح ہدایت الحکمت اور ہدایہ جیسی معرکۃ الآرا کتابوں سے سیرابی حاصل کی۔ بالآخر، علمی پیاس بجھانے کے لیے اس عہد کے سب سے بڑے سرچشمۂ علم، دارالعلوم دیوبند جا پہنچے۔ وہاں پانچ چھ برس تک اکابرینِ دیوبند کی بارگاہ میں رہ کر علمِ نبوت کے وہ جام پیے جنہوں نے آپ کو کندن بنا دیا۔

 مشاہیرِ وقت کی شاگردی :
آپ کی خوش بختی دیکھیے کہ آپ نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ سے بخاری شریف کا آغاز کیا اور امامِ عصر حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کے زیرِ سایہ اس کی تکمیل فرمائی۔ اس کے علاوہ آپ نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ جیسے کوہِ وقار و علم اساتذہ سے فیض پایا، جن کی صحبت نے آپ کو علم و تقویٰ کا پیکرِ جمیل بنا دیا۔
سن 1336ھ میں جب آپ کتبِ درس نظامی کی تکمیل کے بعد زیورِ علم سے آراستہ ہو کر اپنے وطن واپس لوٹے، تو اپنے گاؤں 'بسنت' کی خاک کو مشک بو بنا دیا۔ اور پانچ روپے ماہانہ مشاہرے پر نو نہالانِ ملت کی آبیاری شروع کر دی تاکہ چراغ سے چراغ جلتا رہے۔ اگلے ہی برس، 1337ھ میں آپ کی علمی جلالت نے مدرسہ محمود العلوم (دملہ، مدھوبنی) کے مسندِ تدریس کو زینت بخشی۔

کچھ عرصے بعد تقدیر آپ کو 'پوپری بازار' لے آئی، جو اس وقت گمنامی کے اندھیروں میں دبی ایک دیہی بستی تھی۔ یہاں آپ نے رزق حلال کے لیے کپڑے کی تجارت شروع کی، مگر دل تو دین کی شمع روشن کرنے کو بے قرار تھا؛ چنانچہ اسی دکان کے گوشے میں 'مکتبِ پوپری' کی بنیاد رکھی، جہاں قاعدہ بغدادی سے لے کر 'شرح جامی' اور 'شرح وقایہ' کی گتھیاں سلجھائی جانے لگیں۔ آپ کی اخلاص بھری محنت اور اصلاحِ عقائد کی تڑپ نے ایسا رنگ جمایا کہ منتسبین و مستفیدین کا ایک سلسلہ چل پڑا اور حلقہ وسیع تر ہوتا گیا، جسکے نتیجے میں باطل رسومات کے بادل چھٹنے لگے اور توحید کی صبح نمودار ہونی شروع ہو گئی ۔

حضرت ہی کے ایما پر صوفی رمضان علی آواپوریؒ نے 1338ھ میں 'مدرسہ اشرف العلوم' (کنہواں) کی بنیادرکھی، اور اس نوخیز پودے کی آبیاری میں مصروف ہو گئے۔ صوفی صاحب کے وصال کے بعد، 14 ربیع الثانی 1341ھ کو آپ نے اپنی جمی جمائی دکان کو خیرباد کہا اور اپنے شاگردوں کے ہمراہ کنہواں ہجرت فرما لی۔ 13 ربیع الثانی 1344ھ (1 نومبر 1935ء) کو جب اس مدرسہ کی نظامت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر آئی، تو آپ نے مدرسے کو تعلیمی و اصلاحی جدوجہد کا وہ مرکز بنا دیا جسکے اثر سے علاقے میں پھیلے شرک و بدعات کے بادل چھٹنے لگے اور توحید کا سپیدۂ سحر نمودار ہو نے لگا ۔ بقول شاعر:

کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

1346ھ میں آپ دوبارہ پوپری تشریف لائے، لیکن اشرف العلوم سے تعلقِ خاطر تا حیات برقرار رہا۔ پوپری میں آپ نے 'کتب خانہ و عطار خانہ عزیزیہ' کی بنیاد رکھی، جسے اللہ نے وہ برکت دی کہ وہ محض دکان نہ رہی بلکہ 'تزکیۂ نفس' اور آپ کےوضع کردہ'اصولِ عشرہ' پر مبنی 'مکتبِ اشرفیہ' نشر دین کا گہوارہ بن گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوپری علم و عرفان کا مرکز بن گیا جہاں سے رشد و ہدایت کی وہ نہریں جاری ہوئیں جنکے سوتے آج تک خشک نہیں ہوے ۔

آپ کے وصال کے بعد اس علمی ورثے کو آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محفوظ الرحمن مظاہریؒ (متوفی 3 دسمبر 2010ء) نے سینچا اور 1973ء میں اس مکتب کو'مدرسہ عزیزیہ خزینتہ العلوم' سے موسوم کیا ۔ آج یہ گلستاں مولانا محمد یامین اختر قاسمی صاحب کی زیرِ نظامت تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہا ہے۔

علمی و تصنیفی خدمات :
تزکیہ و اصلاح اور درس و تدریس کے علاوہ آپکی علمی جولان گاہ تحقیق اور تصنیف کا سنگم رہی۔ 1343ھ میں آپ نے ’آمد نامہ صفوۃ المصادر‘ کے قدیم نسخے کی کمالِ مہارت سے تصحیح فرمائی اور علمی بصیرت سے لبریز حواشی کے اضافے کے ساتھ اسے ’’لذۃ الخواطر در تحقیق مصدر صفوۃ المصادر‘‘ کے عنوان سے منصۂ شہود پر لایا۔ 
 1344ھ میں آپ کے قلم سے ’’رسمِ شادی‘‘ جیسا شاہکار رسالہ تخلیق ہوا، جس میں شادی بیاہ کی فضول خرچیوں اور غیر شرعی رسومات کا نہایت دل نشیں رد پیش کیا گیا۔ جب یہ کاوش حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی بارگاہ میں پہنچی، تو انہوں نے اسے تحسین سے نوازتے ہوئے ’’خطابِ عبدالعزیز بجانبِ اہل تمیز‘‘ کا پرکشش تاریخی نام عطا فرمایا۔ 1345ھ میں یہ رسالہ شائع ہوا اور خواص و عوام میں اسے خوب پذیرائی ملی۔

مبتدی طلبہ کے لیے آپ نے ’’عزیز القواعد‘‘ تصنیف کی، جو آج بھی شمالی بہار کے مدارس میں داخل نصاب ہے اور علمِ صرف و نحو کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے دیگر علمی شہ پاروں میں ’’آرسی شرح فارسی‘‘ (1348ھ)، ’’باغستان‘‘ (گلستانِ سعدی کا اردو ترجمہ، 1349ھ)، ’’جدید اردو کا قاعدہ‘‘ (1365ھ) اور ’’رقعاتِ عالمگیری‘‘ کی گراں قدر شرح شامل ہیں، جو آپ کے تبحر علمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ملی شعور اور سیاسی وابستگی :
آپ کی شخصیت میں ملی حمیت اور سیاسی تدبر کا حسین امتزاج تھا۔ آپ جمعیت علماء کے ایک مخلص اور فکری سپاہی تھے، مگر شہرت سے گریزاں رہ کر ہمیشہ پسِ پردہ کام کرنے کو ترجیح دی۔ 4 مئی 1978ء کو سیتامڑھی کی جمعیت کانفرنس میں آپ کو ’’جمعیت علماء کا خاموش مبلغ‘‘ قرار دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ 1946ء کے انتخابات میں جب آپ کے تلمیذِ رشید مولانا عبدالرشید حسرت نے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا، تو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی پوپری تشریف آوری آپ ہی کی علمی و فکری نسبتوں کا ثمر تھی۔ اس کے علاوہ آپ امارتِ شرعیہ، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اور دارالمصنفین اعظم گڑھ جیسے مقتدر اداروں کے رکنِ رکین اور مدرسہ اشرف العلوم کنہواں کے تاحیات سرپرست رہے۔

سلوک و احسان اور نسبتِ تھانوی:
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ کا تعلقِ خاطر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے استوار ہوا، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک قلبی و روحانی وابستگی میں بدل گیا۔ آپ اپنی زندگی کی ہر لہر، خوشی و غمی اور معاملاتِ روزگار و احوال نفس حکیم الامت کے سامنے پیش کرتے اور حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ ان خطوط کا شفقت و حکمت بھرا جواب عنایت فرماتے ۔ صفر 1339ھ میں آپ کی بیعت کی درخواست پر حضرت تھانویؒ نے نہایت مشفقانہ مکتوب ارسال فرمایا، جس کے الفاظ تھے:
’’اس صدق و خلوص کی تحریر نے قلب پر ایسا اثر کیا کہ بجز اس کے دوسرا جواب دینے کو جی نہیں چاہتا کہ میں نے توکلاً علی اللہ تعالیٰ آپ کو بیعت کر لیا، حق تعالیٰ برکت دے۔‘‘
یہ نسبتِ تھانوی آپ کی زندگی کا کل سرمایہ رہی۔ 1367ھ (1947ء) میں آپ کو سعادتِ حج نصیب ہوئی، جو آپ کی روحانی زندگی کا ایک درخشندہ باب ہے۔

خانگی اور ازدواجی زندگی :
حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی رحمۃ اللہ علیہ کی خانگی زندگی رشتوں کے احترام اور تربیتِ اولاد کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کا پہلا نکاح 1346ھ میں زہرہ خاتون سے ہوا، جن کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادگان (محمد قاسم، محمد ہاشم) اور تین صاحبزادیاں (صالحہ، صادقہ، عارفہ) عطا فرمائیں۔ 13 شوال 1366ھ (بمطابق 29 اگست 1947ء) کو آپ رشتۂ ازدواج ثانی میں منسلک ہوئے۔ اس رفاقت سے ایک صاحبزادے، مولانا محفوظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک صاحبزادی، بریدہ خاتون، تولد ہوئیں۔ زوجۂ ثانیہ نے حضرت کے وصال کے بعد تقریباً 32 برس صبر و استقامت کے ساتھ گزارے اور بالآخر 25 محرم 1405ھ (بمطابق 20 اکتوبر 1984ء) کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔

حضرت کی زندگی کے آخری ایام تسلیم و رضا اور توکل علی اللہ کا مظہر تھے۔ کنہواں سے دس میل کی مسافت پر واقع بستی 'بھرت پور' میں آپ کی کچھ زرعی زمینیں تھیں، جن کی دیکھ بھال کے لیے آپ سالانہ دورہ فرمایا کرتے تھے۔ 1952ء میں بھی اسی غرض سے سفر درپیش ہوا۔ اس سفر میں آپ کے ہمراہ عزیزِ قریب مولوی حبیب اللہ بسنتی اور مدرسہ اشرف العلوم کا ایک طالب علم تھا۔ قیامِ بھرت پور کے دوران آپ علیل ہو گئے اور بخار نے آہستہ آہستہ آپ کو نڈھال کر دیا۔ طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو آپ واپس کنہواں تشریف لے آئے، جہاں حکیم جمال اللہ صاحب کے زیرِ علاج رہے۔

تقدیرِ الٰہی کے فیصلے اٹل تھے۔ 'مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی' کے مصداق، بیماری کی شدت یہاں تک پہنچی کہ سماعت اور بصارت بھی متاثر ہونے لگی۔ نقاہت اور غشی کے عالم میں بھی زبانِ مبارک پر حرفِ شکایت کے بجائے صرف خاموشی اور شکر کے کلمات جاری رہتے۔ اسی دوران جب مولانا حکیم منظر الحسن صاحب گاڑھا عیادت کو آئے، تو انہوں نے بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر 'پوپری' منتقلی کا مشورہ دیا۔ حضرت کی اجازت کے بعد جب سواری تیار ہوئی اور آپ مدرسہ سے رخصت ہونے لگے، تو "اللہ حافظ" کہتے ہوئے فضا پر ایک عجیب رقت طاری ہو گئی۔

سفرِ آخرت کی گھڑیاں قریب تھیں۔ جب یہ قافلہ 'چند پورہ' پہنچا تو سانس کی ترتیب بگڑنے لگی۔ آپ نے فوراً سواری رکوا کر نہایت سکون سے دریافت فرمایا: "وقت کیا ہے؟" عرض کیا گیا: "عصر کا وقت ہے"۔ یہ آپ کی زبان سے ادا ہونے والا آخری لفظ تھا۔ اس کے بعد آپ نے قبلہ رو ہو کر "اللہ اکبر" کہا اور 17 محرم الحرام 1372ھ (بمطابق 8 اکتوبر 1952ء، بروز بدھ) اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔

چھپ گئے سازِ ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے

وصال کی خبر پورے علاقے میں آن کی آن میں پھیل گئی ۔ اسی روز رات آٹھ بجے جسدِ مبارک پوپری لایا گیا اور اگلے روز، 18 محرم الحرام بروز جمعرات، بعد نمازِ عصر 'گاڑھا' کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ حضرت مولانا محمد سلیمان آواپوری رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی، جس میں ڈھائی ہزار سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ یہ ہجوم اس خاموش خدمتِ دین کا اعتراف تھا جو حضرت نے برسوں انجام دی تھی۔

حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ علم و عمل اور اخلاص و اصلاح نفس کا وہ روشن منارہ ہے، جس نے لوگوں کے قلوب کو روشن کیا اورجس نے تجارت کو معاش اور علم کو مقصد بنا کر زندگی گزارا۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمیــــن 

 

ویلینٹائن ڈے-عیاشی و فحاشی کی بُری رسم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

ویلینٹائن ڈے-عیاشی و فحاشی کی بُری رسم

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 

جب سے مغربی تہذیب اور نیٹ کلچر کے اثرات سے ہمارے جوان متأثر ہونے لگے اور بے حجابی، عریانیت، فحاشی مخلوط تعلیم، مردو عورت کے آزادانہ اختلاطات اور قسم قسم کی چاٹنگ کے واقعات بڑھنے لگے، ہندوستانی شرم و حیا کی روایتی تہذیب مفقود ہونے لگی ہے،تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ برابر ہو رہے ہیں، نا کام عشق، پیار میں قتل، عاشق کے ذریعہ معشوقہ کی اجتماعی عصمت دری کی کوشش ناکام ہونے پر قتل کرنا، چہرے پر تیزاب پھینک دینا جیسے واقعات کثرت سے سامنے آنے لگے ہیں، اس قسم کے معاملات میں پہلے سماج بڑا حساس ہوتا تھا؛ لیکن اس قسم کے واقعات اب اتنی کثرت سے پیش آنے لگے ہیں کہ سماج بھی اس قسم کے واقعات کو معمول کا کام سمجھ بیٹھا ہے، دیہاتی حلقوں میں اب بھی اس قسم کے واقعات متعلقہ لوگوں کے لیے پریشان کن ہوتے ہیں اور سماجی عزت و وقار میں اس سے بٹہ لگ جاتا ہے؛لیکن شہری حلقوں میں اب ایسے امور پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور پولیس محکمہ بھی لڑکیوں کے اغوا کے معاملہ کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، اور اپنی ذمہ داریوں سے محبت اور عشق کا معاملہ کہ کر سبکدوش ہو جاتا ہے۔ ان معاملات کا باریکی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ محبت کی ساری کہانی کے پیچھے ہوس کی آگ ہوتی ہے یا ناک اونچی رکھنے کی ضد، یہ آگ نہیں بجھتی ہے تو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوتا ہے، خاندان کے خاندان تباہ ہوتے ہیں، اور سماج سے عفت و عصمت، ناموس و عزت کا جنازہ اٹھ جاتا ہے،جو لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ محبت انسانی فطرت میں داخل ہے، مختلف تہذیبوں میں محبت کے اظہار کی مختلف شکلیں رہی ہیں،یہ جذباتی وابستگی کے اظہار کی ایک رسم ہے، اس دلیل میں کوئی جان اس لیے نہیں ہے کہ ویلنٹائن ڈے میں محبت اور جذباتی وابستگی کا اظہار ماں بہن سے نہیں معشوقہ اور گرل فرینڈ سے کیا جاتا ہے۔ 
عیاشی اور فحاشی کی اس روایت کو پروان چڑھانے میں ویلنٹائن ڈے (یوم عشاق) کا بڑا عمل دخل ہے،14/ فروری کو یہ دن نو جوان بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں اور ایمان سوز، اخلاق سوز اور بے حیائی کے ان سارے مراحل سے گذر جاتے ہیں، جس کا خیال ایمان و اسلام کے نام لیواؤں کے ساتھ مشرقی تہذیب کے علمبرداروں اور عفت و عصمت کی حفاظت کا دم بھرنے والوں کے لیے سوہان روح ہے، حیوانی جذبات کی تسکین کے لیے منایا جانے والا یہ دن بت پرست رومیوں کی اصلا یادگار ہے، جسے موجودہ دور کے عیسائیوں نے تسلسل عطا کر دیا ہے، اس کے پیچھے جو دیو مالائی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس رسم کی ابتداء قدیم رومی تہوار لوپر کیلیا (LUPER CALIA)سے ہوئی جو فروری کے وسط میں موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا تھا،ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیکڑوں سال پہلے روپے یلوس کو ایک شیرنی نے دودھ پلایا تھا، چنانچہ اس دن کو عید کے طور پر منایا جانے لگا، اس دن روم کے لوگ ایک بکری اور کتے کو ذبح کرتے، کسی نوجوان کے جسم پر اس کا خون ملتے، اس کے ہاتھ میں دو چڑے ہوتے تھے جن سے وہ سامنے آنے والے ہر مرد وعورت کو مارتا اور لوگ یہ مار خوشی خوشی اس یقین کے ساتھ کھاتے کہ اس کی وجہ سے قوت و طاقت، صحت و شفایابی نصیب ہوگی، پھر جب روم پر تیسری صدی عیسوی میں کلاڈینس کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے فوج میں بھرتی کرنے کے لیے جوانوں کو شادی سے قانونی طور پر روک دیا تو ویلنٹائن نامی پادری نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، خود بھی خفیہ طور پر شادی رچائی اور دوسرے جوانوں کی شادیاں بھی کراتا رہا، بالآخر اس کو بادشاہ کی حکم عدولی کے نتیجے میں چودہ فروری کو سزائے موت دے دی گئی؛ چانچہ انہیں محبت کی علامت کے طور پر یاد کیا جانے لگا،روایت یہ بھی ہے کہ بت پرست کلاڈیس نے ویلنٹائن پادری کو عیسائی ہونے کی وجہ سے سزائے موت دی تھی، جب رومی عیسائی ہو گئے تو انہوں نے اس پادری کی یاد میں اس دن کو منا نا شروع کیا، چودھویں صدی میں یورپ میں ویلنٹائن ڈے رومانیت، عشق کے اظہار اور جنسی تسکین کے لیے یہ دن خاص ہو گیا، 18 ویں صدی میں محبت بھرے خطوط(VALEN TINE CARD) کا اضافہ ہوا،اب اتنے کارڈ کون لکھتا رہے اس کی وجہ سے یہ کارڈ تجارت بن گیا، ملنے کے وقت تحائف دینے کا رواج بڑھا،اس طرح یہ تجارتی اور صنعتی طور پر بھی مضبوط ہو گیا، اس دن پھول، چاکلیٹ،کارڈ،زیورات اور دیگر تحائف کی فروخت سے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے، پوری دنیا اب ایک دسترخوان کی طرح ہے اور یہ گلوبلائزیشن ایج ہے، اس لیے اس رسم بد نے ایشیا،افریقہ،مشرق وسطی کے ساتھ پوری دنیا کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے، سوشل میڈیا نے اس رسم بد کو گھر گھر پہنچانے میں نمایاں رول ادا کیا ہے، وجہ جو بھی ہو، اتنی بات پکی ہے کہ مختلف ادوار میں اس کا تعلق مذہبی رسوم اور عقیدے سے رہا ہے، اور آج بھی یہ مغربی ممالک میں بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کا سب سے بڑا مظہر ہے، ہمارے مسلم نوجوان بھی چند سالوں سے اس دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، پارکوں، کلبوں اور ہوٹلوں میں حیا سوز مناظر کے وہ بھی شریک و سہیم ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وہ لوگ جو ایمان والوں میں فحاشی کو پھیلا نا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ اس کو جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جب شرم جاتی رہے تو جو چاہو کرو۔“انہیں بنیادوں پر کچھ مسلم ممالک میں اس کے منانے پر پابندی ہے، مسلمان اسے مشرقی تہذیب پر مغربی ثقافتی یلغار کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، دوسروں کی بات نہیں کرتا ان کی توجیہات اور آراء اس ڈے کے حوالہ سے الگ الگ ہو سکتی ہیں؛ لیکن اسلام کے نزدیک یہ عیاشی اور فحاشی کی بدترین اور قبیح رسم ہے، جس میں عفت و عصمت کا جنازہ نکل جاتا ہے، آبرو ریزی کے واقعات کثرت سے ہوتے ہیں، اسلام میں محبت کا ایک بڑا مقام ہے؛ لیکن اس میں پاکیزگی ذمہ داری اور اخلاقی حدود و قیود کی پاسداری اور پابندی ضروری ہے، اسلام میں بے محابہ عورت و مرد کا تنہائی میں ملنا ممنوع ہے،اس لیے اس پورے حیا بافتہ رسم کو اس میزان پر تولنا چاہیے اور تعلقات کو حلال اور نکاح کے زمرے میں رکھنا چاہیے،سماج میں صالح اقدار کے فروغ اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب اور پاکیزہ ماحول بنائے رکھنے میں اسلامی تعلیمات کیمیا اثر ہیں اس پر عمل کر کے ہم اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکتے ہیں،اس لیے اگر مستقبل میں اس جیسے واقعات کو رونما نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان سارے اسباب و عوامل کا جائزہ لے کر فحاشی، عیاشی اور ہوسناکی کے سارے دروازوں کو بند کرنا ہوگا کم از کم ہمارے نو جوانوں کو اپنی عفت و عصمت اور پاکیزگی کے تقاضوں کا خیال رکھنا چاہئے اور انہیں جاننا چاہئے کہ اسلام کسی بھی بے حیائی کے کام کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے کہ حیا اس کے یہاں ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی ایمان کے اس حصہ کو غارت کر دیتی ہے۔

بے حیائی و بے شرمی کا دن-ویلنٹائن ڈے محمد قمرالزماں ندویمدرسہ نور الاسلام کنڈہ

بے حیائی و بے شرمی کا دن-ویلنٹائن ڈے

 محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ  گڑھ 9506600725

   *مغربی* ممالک نے بے حیائی، بے شرمی اور بے غیرتی کے جن کاموں کو تہذیب جدید اور ماڈرن ثقافت و کلچر کے نام پر فروغ دیا، اور جن کی نقالی اب مشرقی ملکوں میں بھی ہونے لگی ہے، ان میں ویلنٹائن ڈے بھی ہے، جس کو ہر سال چودہ فروری کو منایا جاتا ہے، اردو میں اس کو یوم عاشقان کہا جاتا ہے ۔ جس میں لڑکے اور لڑکیاں اپنی محبت و چاہت کا اظہار کرنے کے لئے تحفے اور کارڈز اور گلاب پیش کرتے ہیں،یہ لعنت، برائی اور بے حیائی پہلے صرف یورپ میں پائی جاتی تھی ۔ لیکن اب تو حد ہوگئی، کہ غیروں کے ساتھ ساتھ کچھ روشن خیال مغرب زدہ مسلمان بھی اس بے حیائی کی سالگرہ میں شرکت کرنے لگے ہیں اور یورپ کی غلامی پر فخر کرنے لگے ہیں، دھیرے دھیرے مشرقی ممالک میں بھی یہ بیماری عام ہوگئی ہے ۔ علامہ اقبال مرحوم نے ایسے ہی مسلمانوں سے شکوہ کیا تھا اور کہا تھا کہ :
   یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
   *یہ* مغربی تہذیب ہی کی دین ہے کہ 14 فروری کی تاریخ بے حیائی اور بے غیرتی کا نشان بنی ہوئی ہے ، اور بے حیائی کی گرم بازاری نے مغرب کے ساتھ مشرق کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، St .valentine's day کے نام سے فروری کی 14تاریخ لڑکوں اور لڑکیوں میں عشق و محبت کی آگ لگا جاتی ہے ۔
ایک عرصہ سے مغربی دنیا میں "ویلنٹائن ڈے؛؛ خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے، تاریخ میں ویلنٹائن نامی متعدد انسانوں کا تذکرہ ملتا ھے"والنٹائن ڈے؛؛ سے متعلق پس منظر اور اس کے آغاز کی کہانی مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، محض تاریخی واقفیت کے لئے اس کی بعض تفصیلات مشہور تر روایت کے مطابق ذیل میں درج کی جا رہی ہے ۔بیان کیا جاتا ھے کہ روم کی دیوی juno جو عورتوں کی عصمت و عفت اور ان کی عزت و آبرو کی محافظ سمجھی جاتی تھی، اس کے نام پر روم میں ماہ فروری میں یہ تہوار منایا جاتا تھا،اس موقع پر رومی تہوار کی عام روایت کے مطابق شراب و شباب کی محفلیں آراستہ کی جاتی،رقص و سرور کا بازار گرم ہوتا ،بعد میں جب یورپ میں عیسائیت کا غلبہ ہوا ،اور ہر طرف عیسائی مذہب اور تہذیب کے اثرات پھیلنے لگے تو عیسائیت کی مذہبی قیادت نے اس کافرانہ عہد روم کے مشرکانہ تہوار کو نصرانیت کا جامہ پہنا دیا،تفصیل یوں ہے کہ رومی فرماں روا 11 claudius (وفات ۲۱۴ ء) جس کا عہد حکومت دو سال (۲۶۸ء۔۲۷۰ء)پر محیط تھا، نے نوجوانوں پر شادی اور ازدواجی زندگی اختیار کرنے پر پابندی لگا دی،تاکہ وہ محاذ جنگ سے راہ فرار اختیار نہ کر سکیں، قیصر وقت کے اس فرمان کے خلاف اس وقت کی پادری والنٹائین نے تحریک شروع کی ، اور حکومت کی نگاہ سے چھپا کر لوگوں کی شادی کروانے لگا، قیصر وقت کو جب اس کی اطلاع ملی اور جرم ثابت ھو گیا تو اس پادری والنٹائن کو سزائے موت دی گئی، واضح رہے کہ پادری والنٹائن خود رومن کیتھولک چرچ کے اصولوں کے مطابق غیر شادی شدہ تھے، اس کی وفات کے تقریبا سوا دو سال بعد ۴۹۶ء میں یورپ نے اسے سینٹ کے خطاب سے نوازا، اور نصرانی اولیاء کی فہرست میں اسے شامل کر دیا، چونکہ یورپ مذہبی طور پر عیسائیت کو قبول کر چکا تھا ،اس لئے قدیم کافرانہ عہد روم کے اس تہوار کو والنٹائن کی موت (شہادت ) کی یاد میں عیسائی تہوار کی حیثیت دے دی گئی،" والنٹائن ڈے ؛؛ جب عیسائی مذہبی تہوار کی صورت میں نمودار ہوا تو شہوانیت، لہو و لعب اور فحش کاریوں کا زور کم ہو گیا،اور عشق و محبت اور عہد و وفا کی طرف زیادہ رجحان ہو گیا، گویا کافرانہ عہد میں یہ دن نفس پرستی و شہوت انگیزی (Eroticism )سے عبارت تھا، اور عیسائی مذہبی حیثیت میں اس مخصوص دن کا رجحان Romance کی طرف بڑھ گیا، (دیکھئیے The floker of world hidays صفحہ 133۔134) 
 (تعمیر حیات ۱۰/ فروری ۲۰۰۵ء)
    بعض لوگوں نے اس بے حیائی کی ابتدا کے بارے میں لکھا ہے کہ تیسری صدی ہجری میں ویلنٹائن ڈے نام کا ایک پادری تھا ،جو ایک راہبہ کی محبت میں شکار ہوگیا اور دونوں جوش عشق میں سب کچھ کر گزرے جس سے کلیسا کو شرمندگی اٹھانی پڑی اور کلیسا کی بے ادبی کرنے پر اسے قتل کر دیا گیا،بعد میں کچھ نوجوان عیاشوں اور منچلوں نے ویلنٹائن کو شہید محبت قرار دیتے ہوئے ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا ۔ تاریخ میں اس دن سے اور بھی کئی داستانیں منسوب ہیں ۔  
      افسوس کہ عشق و محبت جیسے پاکیزہ الفاظ بھی مغرب کی بے حیا تہذیب کے نتیجے میں بے غیرتی کا عنوان بن گئے ہیں ۔ اسی بے غیرتی اور بے حیائی کا انجام ہے کہ اس تہذیب کے علمبردار آج خاندانی نظام کے بکھراو کا شکار ہیں ۔ ان کی زندگی سے سکون رخصت ہوچکا ہے ،ماں باپ اور اولاد کے درمیان ربط و تعلق مفقود ہے ،ماں کی ممتا اور باپ کے پیار سے بچے محروم ہیں ۔ والدین اس وقت گھر پہنچتے ہیں جب بچے سو چکے ہوتے ہیں، اور بچے جب صبح اسکول کے لئے نکلتے ہیں تو والدین سوئے ہوئے ہوتے ہیں، اتوار کو ہفتے میں ایک دن ملاقات ہوتی ہے ۔ 
             خیر جس نے بھی اس بے حیائی کا آغاز کیا ہو اس کا پس منظر کچھ بھی ہو جس مذہب نے اس لعنت کو فروغ دیا ہو، یہ بہت بے حیائی ،بے شرمی اور بے غیرتی کی بات ہے اور غیر شرعی و غیر انسانی عمل ہے ۔ 
    کس قدر افسوس اور بے شرمی کی بات ہے کہ فحاشی اور بے حیائی کے لئے ایک دن خاص طور پر مختص کر لیا جائے کہ لوگ اس دن بے حیائی کی سالگرہ منائیں ۔ 
          اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان جب گناہ کا عادی بن جاتا ہے،بے شرمی و بے غیرتی زندگی کا جز بن جاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیئے کہ انسان اور انسانی سماج و معاشرہ ادب و اخلاق اور تہذیب و معاشرت کے بندھن سے آزاد ہوجاتا ہے ،تو یہی بداخلاقی اور بد تہذیبی اس سماج میں تہذیب و ثقافت کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ اور لوگ اس پر فخر کرنے لگتے ہیں ۔ 

  خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد 
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

  *آج* ضرورت ہے کہ اہل مغرب کو جس کی اباحیت پسندی اور فحش و آوارگی، جس نے تمام اخلاقی حدود کو پار کرلیا ہے اور اہل مشرق بھی ان کی نقالی میں پوری طرح اس بیماری میں شامل ہیں، ان کو اسلام کے نظام عفت و عصمت اور نظام حیاء سے واقف کرایا جائے ۔ اسی میں اس کے درد کا درماں اور مرض کا مداوا ہے ۔ اور اسلام ہی اور پیارے نبی کا طریقہ اور راستہ ہی اس بیمار معاشرہ کو صحت و تندرستی کی راہ دکھا سکتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ بیمار مغرب کے لئے ہم مسیحا ثابت ہوں ۔ 
   آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو جس نظام اخلاق سے آراستہ کیا، اس میں ایک اہم وصف حیا بھی ہے ۔ یہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے ۔ ایمان کا شعبہ ہے ۔ سلامتی فطرت کی علامت ہے ،اور شرافت و مروت کی پہچان ہے ۔ یہ انسان کا وہ فطری وصف اور خوبی ہے جس سے انسان خوبی و کمال کی راہ پاتا ہے اور اس سے شجر اخلاق و انسانیت کو غذا ملتی ہے ،اور اس کی شاخوں کو تازگی و شادابی فراہم ہوتی ہے ۔ 
        الغرض شرم و حیا ایک ایسا فطری اور بنیادی وصف ہے جس کو انسان کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے ،یہی وہ وصف اور خلق ہے جو آدمی کو بہت سے برے کاموں اور بری باتوں سے روکتا اور فواحش و منکرات سے اس کو بچاتا ہے اور اچھے اور شریفانہ کاموں کے لئے آمادہ کرتا ہے ۔ حیاء کی اسی اہمیت کے پیش نظر قرآن و حدیث میں اس کے تفصیلی احکام بیان کئے گئے ہیں اور اس کی رعایت کا حکم دیا گیا ہے ۔ اسلام کے بیشتر احکام وہ ہیں جن کے توسط سے انسانی اخلاق کے اس جوہر کی حفاظت کا سامان فراہم کیا گیا ہے ۔ عورتوں کے لیے پردہ کا حکم، زیب و زینت کے ساتھ بے پردگی اور مواقع زینت کے اظہار (غیر محرم کے لئے ) پر پابندی ۔ نگاہوں کی حفاظت ۔ یہ سب احکام اسی پس منظر میں ہیں ۔ نکاح میں کنواری لڑکی کے لئے خاموشی کو رضا مندی سمجھا گیا کہ زبان سے اظہار اس کے لئے ضروری نہیں، مرد و عورت کی اندرون خانہ باتوں کو باہر ذکر کرنے سے روکا گیا ۔ اور نہ جانے کیا کیا باریکیاں اور حکمتیں اسلام کے نظام عفت و حیاء میں پوشیدہ ہیں کاش ہم پوری دنیا کو اور خاص طور پر اہل مغرب کو ان سے روشناس کراتے اور ان کو بے حیائی کی اس سال گرہ منانے سے بچا پاتے ۔ *(مستفاد از معارف الحدیث / پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنئو ۱۰/ فروری ۲۰۰۵ء )*

 ناشر مولانا علاء الدین ایجوکیشنل سوسائٹی، دگھی، گڈا، جھارکھنڈ

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...