Translate

Monday, January 27, 2025

اردو شروحات؛ زوال علم وفن مفتی عبداللہ ممتاز قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند

اردو شروحات؛ زوال علم وفن 

مفتی عبداللہ ممتاز قاسمی
فاضل دارالعلوم دیوبند

 انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ خود پر اور اپنے سے جڑی چیزوں پر تنقید گوارا نہیں کرتا اور مولانا نور عالم خلیل الامینی ؒ کے بقول "آدمی کو اپنے گوٗ (بیت الخلا) کی بدبو محسوس نہیں ہوتی"۔ 
 اردو شروحات نے جس طرح علم اور علماء کا بیڑا غرق کیا ہے، اس سے کون ناواقف ہے؟ لیکن چوں کہ اسے دیوبند میں فروغ ملا ہےاور دیوبند اس حوالے سےخاصہ بدنام ہوچکا ہے، اس لیے اگر ہم نے اردو شروحات کو "شراب طہور" اور" وقت کی سب سے بڑی ضرورت" ثابت نہ کیا اور دیوبند کو اس بدنامی سے نہ بچایا تو بھلا ہم "دیوبندی" کس کام کے؟

 کسی چیز میں جب آپ بدنام ہوجائیں تو بدنامی ختم کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جس کام کے لیے آپ بدنام ہوے ہیں، اسے چھوڑ کر دوسرا کام شروع کردیں اور دوسرا یہ کہ اس کی ڈیفینیشن ہی بدل دیں۔ مثلا: ایک شخص کے گدھے کا کاروبار تھا، اس لیے "گدھے والا" اس کے نام کا لاحقہ بن گیا، بعد میں انھوں نے کاروبار چھوڑ تو دیا؛ لیکن اس لاحقے نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔وہ اس نام سے اب چڑنے لگے تھے، پھر انھوں نے کسی بزرگ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوے، جیب میں الائچی رکھنا شروع کردیا، چلتے پھرتے، ہر ملنے جلنے والے کو ایک الائچی پیش کردیتے۔ تھوڑے عرصے بعد اب ان کی شناخت الائچی بن چکی تھی اور وہ "الائچی والے" سے پہچانے جانے لگے۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کی تاویلیں کرتا ہے، جسٹیفیکیشن دیتا ہے اور اس کے فوائد شمار کراتا ہے۔

کیا شروحات لکھنا غلط ہے؟ شروحات کا سرے سے کوئی مخالف نہیں ہوسکتا۔ قرآن کی شرح رسول اللہ ﷺ نے کی ہے، احادیث کی شروحات ابن حجر، ابن رجب، عینی، ملاعلی قاری، علامہ انور شاہ کشمیری، شیخ زکریا رحمہم اللہ جیسے علماء نے کی ہے۔ پہلے منزل اور پروسیس کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ "قرآن وحدیث اور فقہ " ہماری منزل ہے۔ اسی منزل کے حصول کے لیے درجات ابتدائی سے درجات علیا تک کی محنت کرائی جاتی ہے، یعنی نحومیر، ہدایۃ النحو، پنج گنج، مرقات، شرح تہذیب وغیرہ کتابیں منزل نہیں پروسیس ہیں۔ منزل میں آسانی مطلوب ہے، پروسیس میں نہیں۔ یعنی قرآن وحدیث اور مراجع فقہ کی تسہیل وتفہیم کے لیے شروحات کی ضروت ہے۔ اس کا مقصد اپنے علم وفہم کو آئندہ نسل تک منتقل کرنا بھی ہوتا ہے؛ لیکن پروسیس کی تسہیل مطلوب ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی شرح کی ضرورت ہے۔ 

 اس کو ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں:اگر آپ "درس نظامی"یا دیوبند کے نصاب کا جائزہ لیں تو اس فن کی سب سے مشکل کتاب داخل نصاب ہے۔ مثلا اردو وعربی کی دسیوں تفاسیر موجود ہیں؛ لیکن ان میں مختصر اور مشکل ترین تفسیر جلالین کا انتخاب کیا گیا۔ نحو اور منطق کی آسان ترین کتابیں دستیاب ہیں؛ لیکن کافیہ اور سلم جیسی گنجلک اور پیچیدہ کتابیں داخل درس ہیں۔ یہی حال ہر درجے میں اور تقریبا ہر کتاب کا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں ہے؛ بلکہ جان بوجھ کر پروسیس کو مشکل بنایا گیا ہے، نصاب وضع کرنے والے جانتے تھے کہ پروسیس جتنا مشکل ہوگا، منزل اتنی ہی آسان ہوگی، یعنی جو شخص دماغ سوزی کرکے جلالین کو سمجھ لے گا، اس کے لیے تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفسیر کشاف اور دیگر تمام تفاسیر آسان ہوں گے۔ جو شخص سلم اور کافیہ کے اُدھیڑ بن سے واقف ہوجائے گا نحو اور منطق کی دیگر کسی بھی کتاب سے بآسانی استفادہ کرسکے گا۔یعنی نصاب کے تخلیق کاروں کا مقصد کوئی مخصوص کتاب پڑھانا یا محض اس فن کو سمجھانا نہیں تھا؛ بلکہ طلبہ کے فہم کو ڈیولپ کرنا تھا ورنہ اس فن کو سمجھنے کے لیے اتنی مشکل کتابیں وضع نہیں کی جاتیں۔ اگر محض اس فن کو سمجھنا مقصود ہوتا تو یہ مقصد تو اردو میں زیادہ حاصل ہے، پھر ان مشکل کتابوں کو پڑھانے کے بجائے اس فن کی اردو کتابیں ہی کیوں نہ پڑھا دی جائیں۔

 ان سب کے باوجود ایک آدھ شرح کا ہونا عیب کی بات نہیں؛ بالخصوص جب وہ مروجہ شرح کے انداز میں نہ ہو؛ بلکہ مقصود محض تفہیم عبارت ہو، جیسے حضرت قاری صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شروحات التسہیل السامی اور التسہیل الترتیب، جو بعض مشکل عبارتوں کے حل پر مشتمل ہو اور طلبہ سے زیادہ اساتذہ کے لیے مفید ہو؛ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں شروحات کا ایسا بازار گرم ہوا کہ ایک ایک کتاب کے دو دو درجن شروحات لکھے جا چکے ہیں اور سلسلہ جاری ہے، جس استاذ سے جو کتاب متعلق ہو اور ایک دوسال پڑھالے وہ اس کی شرح لکھنا اپنا حق سمجھتے ہیں کہ شاید اس کے بغیر انھیں اچھا استاذ ہی نہ سمجھا جائے۔" مقاصد" فوت ہوچکے ہیں اور ساری انرجی ذرائع (پروسیس) پر صرف کیے جارہے ہیں۔ مارکیٹ میں مثلا: کافیہ کی ایک درجن شرح ہونے کے باوجود ایسا آپ کیا لکھ دیں گے جو اب تک انھوں نے نہیں لکھا ہے، سوائے اس کے کہ انداز مختلف ہوگا اور یقینا کچھ باتوں کا اضافہ فرمائیں گے۔ ایسی شروحات "منزل" میں تو یقینا مطلوب ہے، یعنی کنز الدقائق کی شرح البحرائق کے بعد بھی النہرالفائق کی گنجائش تھی اور پھر علامہ شامی نے حاشیہ منحۃ الخالق کا بھی اضافہ کیا۔ آپ اس پر دو چار شرح اور لکھ دیجیے؛ لیکن ذرائع اور پروسیس کی شرح در شرح کا مقصد کیا ہے سوائے اس کے کہ کافیہ میں خطبہ نہ لکھنے کی حکمت اس کے علاوہ بیان کریں جو دوسرے شارحین نے بیان کیا ہے۔

 آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر سو لوگ کا فیہ پڑھاتے ہیں اور سب کا جی چاہتا ہے شرح لکھنے کو تو سب لکھیں گے، وقت، انرجی اور سرمایہ ان کا ہے، پھر آپ کو کیا اعتراض؟
 اس کا جواب یہ ہے کہ یقینا اگر بات یہیں تک رہتی تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا؛ لیکن شروحات ایک زبردست قسم کی بزنس بن چکی ہے، اس دوڑ میں شارحین کے علاوہ کتب خانہ والے بھی شامل ہوچکے ہیں۔ اس کا مالی اور علمی خسارہ صرف طلباء کا ہے۔ اساتذہ کو تدریس سے زیادہ بہترین شرح تیار کرنے سے دلچسپی ہے۔ طلبہ سازی سے زیادہ اپنے شروحات کی مارکیٹنگ اور انھیں مقبول عام بنانے کی فکر ہے۔ بعض اساتذہ خود بچوں کو اپنی شروحات خریدنے پر آمادہ کرتے ہیں کہ کھلے عام اسباق میں فرماتے ہیں کہ "......باقی تفصیل میری شرح میں پڑھ لینا"۔ کیا یہ conflict of interest نہیں ہے۔جو کسی بھی پیشے میں معیوب ہے اور تدریس میں انتہائی معیوب۔

 ہمارا تعلق خیرالقرون سے نہیں ہے؛ لیکن بہرحال ہم شروحات کی ریل پیل کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا تھا کہ وہ عبارت فہمی کے لیے اپنے سینیرز کی مدد لیتے تھے، سینیرز اپنے سینرز کی اور اساتذہ کی مدد لیتے تھے۔ ہم نے اپنے اساتذہ کو بھی دیکھا تھا کہ وہ بلا جھجک اور بلا تکلف مدرسے کے ناظم/ صدر صاحب کے پاس کتاب اٹھا کر چلے جاتے تھے کہ یہ عبارت سمجھا دیجیے۔ (اتفاق سے ہمارے مدرسے کے ناظم اور صدر، دونوں صرف عہدے میں ہی نہیں، علم میں بھی سارے اساتذہ پر فائق تھے، ان میں سے ایک اللہ کو پیارے ہوگئے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے) شروحات نے یہ سلسلہ ختم کردیا۔ اب کوئی جونیر ہے اور نہ ہی سینیر، کوئی استاذ ہے اور نہ کوئی شاگرد سب کی غرض بس شروحات سے وابستہ ہے۔ آپ کو پھر سے سوال ہوسکتا ہے کہ اگر شرح سے یہ ضرورت پوری ہو رہی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ کیوں کسی سینیر یا استاذ کا چکر لگائیں؟ اس کا جواب دینے کے بجائے میں بھی ایک سوال کرتا ہوں وہ یہ کہ پھر درس گاہیں کیوں لگائی جائیں، اساتذہ کو موٹی تنخواہیں اور سہولیات کیوں دیے جائیں؛ بلکہ طلبہ کا بھی مدرسے میں داخلہ کیوں لیا جائے؟ اگر مقصد کتاب سمجھنا ہی ہے اور یہ ضرورت شروحات سے پوری ہوجاتی ہے، پھر ڈسٹنس تعلیمی نظام کیوں نہ بنا لیا جائے کہ طلبہ گھر میں رہ کر شروحات پڑھ لیا کریں اور دارالعلوم صرف ششماہی اور سالانہ امتحانات کا انعقاد کرکے پاس ہونے والے طلبہ کو اسناد دے دیا کرے۔ ریسورسز (Resources) کی حفاظت ہوگی اور یقینا طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا کہ کئی لوگ عالم بننے کے خواہاں ہیں؛ لیکن وہ اپنی معاشی ضرورت سے فارغ نہیں ہیں۔ شرح پڑھنے کے لیے دن کے دو چار گھنٹے تو وہ نکال ہی لیا کریں گے۔ شروحات لکھنے والے کو بھی بھرپور وقت ملے گا اور وہ اور زیادہ شروحات لکھ سکیں گے۔

کسی ضرورت سے زیادہ عقیدت مند نے میرے تعلق سے لکھا کہ یہ ضرور دارالعلوم کا فاضل نہیں ہے، ورنہ ایسی بات نہ لکھتا۔ سو عرض ہے کہ میں ضرور دارالعلوم کا فاضل ہوں اور اسی وجہ سے میں نے لکھا ہے؛ چوں کہ شروحات نے کس طرح تعلیم کا بیڑا غرق کیا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔ بعض اساتذہ اپنی ذہانت ثابت کرنے کے لیے فخریہ کہتے تھے کہ میں جو تقریر کرتا ہوں وہ فلاں شرح سے ملا لو، الفاظ میں بھی یکسانیت نہ ہو تو کہنا۔ بعض اساتذہ ایسے بھی تھے کہ طلبہ جمعرات کو فرمائش کرتے (جو کہ طلبہ کی عام عادت ہوتی ہے) کہ آج مت پڑھائیے۔ حضرت فرماتے "ٹھیک ہے، مجھے اتنا (مثلا ایک صفحہ) پڑھانا تھا، اگر نہیں پڑھنا چاہتے تو یہ صفحہ شرح سے مطالعہ کرلینا۔ اگلے دن ہم اس کے آگے پڑھائیں گے" اور ایسا ہی ہوتا۔ بعض اساتذہ کی سال بھر میں پچاس فیصد بھی حاضری نہیں ہوتی تھی۔ (شنید کے مطابق کسی ماہ کی تنخواہ کٹوتیوں کے بعد انھیں دو چار ہزار روپے تک ملتی تھی؛ لیکن حضرت کو فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان کی موٹی کمائی جلسوں اور عوامی تقریروں سے ہوتی تھی) طلبہ شروحات کے بھروسے جیتے تھے۔ ایسے بھی اساتذہ ہیں جو گھنٹہ میں اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل فون لے کر داخل ہوتے، طلبہ سے کہتے تم پڑھو اور حضرت درس گاہ سے بے خبر اپنے لیپ ٹاپ / فون میں مگن ہوجاتے۔ یہ ایشیا کے عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند کا حال ہے، پھر آپ دوسرے چھوٹے موٹے اداروں کا حال سوچ سکتے ہیں۔
یہ انوار وبرکات انھیں شروحات کی ہے، جس نے اساتذہ کی حیثیت دو کوڑی کی نہیں چھوڑی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ درس گاہوں سے غیر حاضری کا تناسب روز بروز بڑھتا جا رہا ہےاور اب تو دورہ حدیث میں بھی حاضری لینی پڑتی ہے۔ اگر اساتذہ کی اہمیت جاننی ہو تو درس گاہوں سے رجسٹر ہٹا لیجیے اور اعلان کردیجیے کہ آئندہ حاضری نہیں ہوگی۔ طلبہ اپنے شوق سے حاضر ہوا کریں۔ پھر تماشہ دیکھیے۔

یہ ایسی ہی دو رنگی ہے، جیسے حکومت ایک طرف تمباکو نوشی کےخلاف کمپین چلاتی ہے اور دوسری طرف تمباکو بنانے اور فروخت کرنے کی پرمٹ بھی دیتی ہے؛ چوں کہ اس سے پیسے آتے ہیں۔ بلاشبہ شروحات نے نصاب تعلیم کے مقصد اور اس کے روح کو ختم کردیا ہے۔ شرح وقایہ اور ہدایہ اردو شروحات کی مدد سے پڑھنے والے طلبہ سے آپ امید کرسکتے ہیں کہ وہ شامی اور فتح القدیر خود سے سمجھ لیا کرے گا؟ اب طلبہ کے نمبرات پہلے سے زیادہ آنے لگے ہیں؛ لیکن عبارت فہمی کا لیول کم سے کم تر ہوتا گیا۔ پہلے ساٹھ ستر فیصد نمبرات حاصل کرنے والے اب کے نوے پچانوے فیصد نمبرات حاصل کرنے والے سے بہتر کیوں ہے؟ وجہ صاف ہے، وہ سال بھر پڑھتے تھے، استاذ کی محنت اور اپنی تگ ودو سے کتاب سمجھتے تھے، اس لیے جو نمبرات حاصل کرتے تھے وہ ان کی سال بھر کی محنت کا ثمرہ ہوتا تھا۔ اب شروحات کے بھروسے، طلبہ سال بھر سوتے ہیں، ڈنڈیاں مارتے ہیں، دیوبند انگلش اور کمپیوٹر انسٹیٹیوٹس کو آباد کرتے ہیں، تعلیم کے علاوہ دوسری کسی بھی مصروفیت میں اپنا وقت گزارتے ہیں اور امتحان سے ایک آدھ ماہ پہلے ایکٹیو ہوجاتے ہیں، شروحات کا رٹا لگاتے ہیں اور اچھے نمبرات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؛ لیکن ظاہر ہے وقتی چیز ایک وقت تک ہی باقی رہتی ہے، اس میں پائیداری کہاں آسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے درس نظامی سے فراغت ہی اس کے مستند عالم ہونے کی دلیل تھی، اب فراغت کے ساتھ عربی ادب/ افتاء وغیرہ اختصاص ایڈ اون کے طور پر جب تک شامل نہ ہو، اسے کوئی اچھا عالم ماننے کو آمادہ ہی نہیں اور وہ حق بجانب بھی ہیں کہ اس شروحاتی دور نے طلبہ کی صلاحیتوں کو ایسا کھوکھلا کیا ہے کہ عربی چہارم، عربی پنجم، ششم کی شروحات میں بھی عبارت پر اعراب لگانا پڑتا ہے اور ترجمے کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ زوال ممکن ہے؟

شروحات کے فروغ کی وجہ صرف پیسہ ہے ۔ اس لیے شروحات لکھنے میں زبردست قسم کا کمپٹیشن ہے۔ آپ کوئی شرح لکھیے، دیوبند کے کتب خانے ہاتھوں ہاتھ اسے لینا چاہیں گے، کوئی اس کی رایلٹی خریدنے کا خواہاں ہوگا اور کوئی فیصد کے عوض؛ لیکن آپ کسی علم وتحقیق پر مبنی کتاب شائع کریں۔ دیوبند کے کتب خانے اسے ہاتھ لگانے کو آمادہ نہیں ہوں گے؛ بشرطیکہ آپ اس کی طباعت کا کلی یا جزئی خرچہ نہ اٹھائیں۔ 

اب تو بات اس سے بھی بہت آگے بڑھ چکی ہے، اب تو نوٹس کی دوڑ لگ چکی ہے۔ شروحات پڑھنے میں بھی ٹھیک ٹھاک وقت صرف ہوتا تھا، اب اس زحمت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اب سو پچاس روپے کے نوٹس خریدیے، سو ڈیڑھ سو سوالات حل کیجیے ۔ پورے سال نہ پڑھ کر بھی پاس نمبرات حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔بس اتنا کافی ہے۔ 

شروحات اور نوٹس کی مثال فاسٹ فوڈ (نوڈلز، میگی، برگر اور کوک وغیرہ ) کی ہے کہ خوبصورت الفاظ اور جاذب نظر اشتہارات کے ذریعہ کسٹمرز کو بیچے جاتے ہیں ۔اس کے مضر صحت ہونے کا سب کو علم ہے؛ لیکن برانڈز کا ان سے پیسہ بنتا ہے اور کسٹمرز کو وقتی لذت محسوس ہوتی ہے اور بھوک پیاس مٹ جاتی ہے، اس کی بناء پر کوئی احمق ہی ہوگا جو اس کے فوائد بیان کرے، "سوائے ان کے جو اس سے پیسے بنا رہے ہیں"۔

Saturday, January 18, 2025

کلمئہ استرجاع تسکین قلب کا بہترین ذریعہ ! مولانا محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

کلمئہ استرجاع تسکین قلب کا بہترین ذریعہ !

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

مصیبت نام ہے اہل وفا کی آزمائش کا 
اسی میں آدمی کے حوصلے معلوم ہوتے ہیں 

   صابرین کی طرف نسبت کرکے قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ مصیبت ،رنج اور تکلیف کے وقت ،،انا للّٰہ وانا الیہ راجعون،، کہا کرتے ہیں، بے شک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں، (خواہ آج خواہ چند روز بعد)،حقیقت میں اس کی تعلیم و تلقین سے مقصود یہ ہے کہ مصیبت والوں کو ایسا کہنا چاہیے ،کیونکہ ایسا کہنے میں اجر و ثواب بھی بڑا ہے ،اور اگر دل سے معنی و مفہوم کو سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے جائیں تو رنج و الم اور غم و تکلیف کے دور کرنے اور قلب کو تسلی دینے کے معاملہ میں بھی یہ دعا اور یہ کلمہ اکسیر کا حکم رکھتے ہیں ۔
  مفسر قرآن مولانا عبد الماجد دریابادی رح اپنی تفسیر ماجدی میں اس آیت کے ضمن میں بہت چشم کشا بات لکھتے ہیں ، فرماتے ہیں ،:
" اس آیت کے اندر تعلیم تین چیزوں کی ملی ہے ۔ایک یہ کہ ہم سب عبد محض ہیں اور تمام تر اسی کی ملک۔ خود ہم بھی ہماری ہر چیز بھی ،اپنی کوئی شئی بھی نہیں ، نہ بیوی نہ بچے ،نہ مال نہ جائداد ،نہ وطن نہ خاندان ،نہ جسم نہ جان، 

جو کچھ ہے سب خدا کا ،وہم و گماں ہمارا۔ 
(اکبر الہ ابادی) ۔۔
انسان کے سارے رنج و غم درد و حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتا ہے ۔لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا اور کوئی سی بھی شئی ہو سرے سے اپنی رہی ہی نہیں تو اب گلہ و شکوہ رنج و ملال کا موقع ہی کیا ؟ 
 دوسری بات یہ کہ بڑے سے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں ،رہ جانے والے کوئی بھی نہیں ۔عنقریب انہیں چھوڑ چھاڑ مالک کی خدمت میں حاضری دینا ہے ۔
تیسرے یہ کہ وہاں پہنچتے ہی سارے قرضے بے باق ہو جائیں گے ۔ہر کھوئی ہوئی چیز وصول ہو کر رہے گی ۔یہ تینوں عقیدے جس کے جتنے مضبوط ہوں گے اسی قدر اس کے دل کو دنیا میں امن و سکون حاصل رہے گا ۔ غم و حزن کے بار کو ہلکا کر نے کا جو عارفانہ اور تیر بہدف نسخہ یہاں بتا دیا گیا ہے ، یہ صحائف کائنات میں بے نظیر ہے ۔بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن مجید میں اگر صرف یہی ایک آیت ہوتی تو یہی اسے حکیم مطلق کا کلام ثابت کرنے کے لئے واللہ کافی تھی ۔
 صبر ایک کیفیت نفسی کا نام ہے اور اصلا اس کا تعلق قلب سے ہے ۔زبان سے کلمئہ صبر دہرانے کا حکم اسی کیفیت کو قوی اور موکد بنانے کے لیے ہے ۔ محققین کہتے ہیں کہ آیت میں جو حکم ہے اس کے تین مرتبے ہیں ۔ (1) درجہ اعلیٰ ۔دل میں آیت کے معنی منقش ہوں اور زبان پر بھی الفاظ جاری ہوں۔
(2)درجہ اوسط ۔ دل میں معنی کا خیال کرلے اور زبان سے ادا نہ کرے ۔
(3) دل میں استحضار نہ ہو مگر زبان سے دہرا دے ۔چوتھی ممکن صورت یہ ہے کہ دل میں اعتقاد کسی درجہ میں بھی نہ ہو، محض زبان سے دہرا دے ۔اس مقام کا نام منافقت ہے۔ اور یہ ایمان والوں کی دنیا سے خارج ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تاریخ کا بیان ہے کہ آپ ادنیٰ ادنیٰ تکالیف یا ناگواری کے موقع پر یہ کلمہ زبان پر لاتے رہتے تھے اور یہی معمول آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رہا ہے ۔
راجعون سے یہ مراد نہیں ہے کہ انسان ابھی کہیں اور ہے اور بھی کسی ایسے مقام یا جہت میں آجائے گا جہاں خدا ہے ۔خدا کے پاس تو وہ اب بھی ہے ۔مراد یہ ہے کہ عالم آخرت میں جس طرح اللہ کی ملکیت و ربوبیت اور سارے ظاہری اسباب کے ٹوٹ جانے سے بالکل واضح و نمایاں ہو جائے گی ۔ اسی طرح یہ خدا ہی کی طرف رجوع بالکل آشکار ہوکر رہ جائے گا ۔درمیانی واسطے سب غالب ہوکر رہیں گے ، مرشد تھانوی رح نے فرمایا کہ یہ کلمئہ استرجاع تمام مصیبتوں کا علاج ہے اور انہیں میں قبض بھی داخل ہے جو سالکوں کو پیش آتا ہے "..(تفسیر ماجدی جلد اول)
     آیت کریمہ کی کیا ہی چشم کشا تفسیر کی ہے، حضرت مفسر دریا بادی رح نے ۔
بس ضرورت ہے کہ ہم اسی کیفت، یقین اور اعتماد کے ساتھ اس کلمئہ استرجاع کو مصیبت و تکلیف اور رنج و غم کے وقت زبان و دل سے ادا کریں ہماری ساری پریشانیاں ،تکلیفیں اور مصیبتیں کافور ہو جائیں گی ۔
    یاد رہے کہ مصبیت اور تکلیف پر صبر سے انسان کے اندر قوت ،روحانیت اور نورانیت پیدا ہوتی ہے ، صبر اور ہر وقت صبر بڑے اونچے مقامات تک پہنچا دیتا ہے ،صبر ہی بلندی کا ذریعہ ہے ، ایک بندہ مصیبت کو اپنی ظاہر بین نگاہ میں ناگوار سمجھتا ہے ۔مگر اس مصیبت اور تکلیف کے پردہ میں خدائی انعام چھپا رہتا ہے اور وہ اس سے بے خبر رہتا ہے ،اگر اس سے باخبر ہو جائے تو اسی طرح حوصلہ و ہمت کے ساتھ گوارا کرلے جس طرح ماں کے مٹھائی کے وعدہ پر بچہ مدرسہ اور اسکول جانے کی زحمت اور مصیبت گوارا کرتا ہے ۔اس وقت  مصیبت اس کے لئے باعث زحمت نہیں بلکہ موجب رحمت ہوگی ۔مصیبت کی لذت کو کسی بھی مسرت کی راحت سے وہ کم محسوس نہیں کرے گا ۔شاعر کہتا ہے ۔۔
 ہر اک مصیبت کہ تہہ میں رہتی ہے راحت بھی 
شب تاریک کے دامن سے ہوتی ہے سحر پیدا 
   اس لئے کبھی بھی کسی تکلیف ،پریشانی اور مصیبت کو پراگندہ ذہنی اور انتشار فکری کا باعث نہیں ہونے دینا چاہیے ، ورنہ پھر اس سے روح کا سکون اور دل کا چین لٹ جاتا ہے ۔
انسان کو حوصلہ و ہمت کے ساتھ صبر کرنا چاہیے ،زبان پر شکوہ کے کلمات نہیں لانے چاہیں ۔ 
رضا بالقضاء اگر انسان اپنا مسلک اور شیوہ بنا لے، تو یہ مصبیت اور تکلیف اللہ کی ملاقات کا ذریعہ بن جاتی ہے اور ایسی صورت میں مصیبت، مصبیت نہیں اور تکلیف ،تکلیف نہیں بلکہ نعمت بن جاتی ہے ۔
ایک حدیث میں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندے کے لیے قرب و ترقی کا ایک خاص مقام متعین فرما دیتے ہیں ،مگر وہ بندہ عبادت و ریاضت کے ذریعہ اس مقام تک نہیں پہنچ پاتا ہے تو چونکہ اللہ تعالیٰ اس مقام رفیع پر اس بندے کو فائز کرنا چاہتے ہیں ،اس لئے کسی مصیبت میں مبتلا فرما دیتے ہیں ،پھر جب بندہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے اجر کے سہارے اس مخصوص اور قابل رشک بلند و بالا مقام تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔ (مستفاد از کتاب، باتیں ان کی یاد رہیں گی)
اس لئے کسی تکلیف ،پریشانی اور مصیبت کو بار آور بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے ،واویلا نہیں کرنا چاہیے بہت ممکن ہے کے صبر کے بعد یہ مصیبت ہمارے اور آپ کے لیے کسی نعمت کے حصول کا ذریعہ بن جائے ۔ صفی اورنگ آبادی فرماتے ہیں ۔۔۔۔

مصیبت نام ہے اہل وفا کی آزمائش کا 
اسی میں آدمی کے حوصلے معلوم ہوتے ہیں

Wednesday, January 15, 2025

حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی رحمۃ اللہ علیہ۔ مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی

*حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی بن سید واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ* 
 *رفتید ولےنہ از دل ما* 
بھلا بتائیے ابھی کوئی جانے کا وقت تھا ابھی تو آفتاب نے اپنی شعاعیں بکھیرنا شروع کی تھیں ،ابھی تو کمالات کا ظہور ہوا تھا، تکمیل تو باقی تھی۔
 انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف و اعتماد بھی تو قائم ہو ہی ہوگیا تھا اور ابھی ان کی ضرورت ندوے کو باقی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے فیصلے نرالے ہیں اور اس کا ڈھب سب سے جدا ہے، جب جو چاہے اپنی مشیت و حکمت سے کر ڈالے ،اس کی شان تو تو "فعال لما يريد" کی ہے۔
حضرت مولانا سید جعفر حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اسی سادات حسنی قطبی خانوادے کے اس وقت ایک فرد فرید تھے جو اللہ کے اذن سے ہندوستان میں صدیوں سے دینی دعوتی اور اصلاحی خدمات انجام دیتا چلا آرہا ہے، اسی خانوادے میں بعہد عالمگیری حضرت شاہ علم اللہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے متبع سنت ولی کامل پیدا ہوئے ،اسی خانوادے میں حضرت سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسا مجاہد اور شہید پیدا ہوا اور آخر زمانے میں اسی خانوادے میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ جیسا مفکر مصلح اور داعی پیدا ہوا جن کے دل درد مند اور فکر ارجمند نے عرب وعجم کو اسلام کے حق میں سوچنے اور اس کے لۓ کچھ کر گزرنے پر آمادہ کیا۔ 
مولانا جعفر حسنی ندوی کی متاعِ حیات کا بشتر حصہ پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے اور دینی وتعمیری اداروں کے انتظام وانصرام میں گزرا، وہ بڑے دینی صفات کے مالک تھے لیکن کچھ ظاہر نہ ہونے دیتے تھے، اپنے عظیم والد حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح عظیم صفات اور علوم و فنون پر دسترس رکھتے ہوئے بھی،تواضع کے پیکر وسیع الظرف اور کم گو، جیسے کہ خاموش دریا ۔
  اخلاق تو ایسا پایا تھا جسے اخلاق عالیہ کہا جائے، اخلاق فاضلہ کہا جائے، حسن خلق کہا جائے، کرم گستری کہا جائے، کریم النفسی قرار دیا جائے، شرافت کہا جائے نجابت کہا جائے سب درست ہے ،جو بھی ملتا ان کی خوۓ دلنوازی سے اور اداۓ دل بری سے سرشار ہو جاتا ،
ا سے اپنائیت کا احساس ہوتا، ان کی دنیا میں کوئی غیر نہ تھا، غیر بھی اپنے تھے۔
 ایک زمانے تک ندوہ کی شاخ مدرسہ عالیہ لکھنؤ میں تدریسی خدمات انجام دیں ،علوم قرآنیہ اور ادب اسلامی ان کا موضوع تھا، ایک نسل کی تعلیم و تربیت کی اور پھر اپنے والد اور عظیم چچا حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہما کے زیر سایہ" الرائد" جیسے عالم عرب میں بھی مقبول ادبی میگزین کی ادارت سنبھالی اور خوب سنبھالی ، بالکل اپنے بڑوں کے قدم بہ قدم ہوگۓ تھے، اسلوب میں ندرت بھی تھی اور جدت بھی، کلاسیکل زبان لکھتے تھے اور اس کے ساتھ اردو بھی ایسی صاف ستھری اور شگفتہ لکھتے تھے کہ بڑے بڑوں نے اعتراف کیا اور اس وقت انہیں ماجدی اسلوب کا حامل قرار دیا جانے لگا تھا ۔ 
 بڑا خوش آئند قدم تھا جب ندوہ کی مجلس شوریٰ اور ذمہ داروں نے انہیں ندوے کا ناظر عام منتخب کیا ،چند سالوں میں انہوں نے اپنی خاموش انتظامی صلاحیت سے ندوہ کے کام اور کاژ کو آگے بڑھایا ، اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا ،اس کے مقاصد کو فروغ دیا اور توقعات سب کی قائم ہو چلی تھیں کہ ابھی ان کے ذریعے سے اور بھی خدمات انجام دی جائیں گی، ندوہ کو مزید عروج حاصل ہوگا، ناظم ندوہ کی مساعدت سے ندوہ میں اور استحکام آۓ گا لیکن کون جانتا تھا کہ وہ اچانک اس طرح ہماری توقعات کو یونہی ادھورا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملیں گے۔
اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت فرمائے،اپنے جد اصیل( اور جن کے پاک نام پر ان کے بڑوں نے ان کا نام رکھا تھا )حضرت جعفر طیار کے ساتھ محشور فرماۓ کہ شہادت دنیوی تو انھیں بھی حاصل ہوئ،ان کے بال بچوں عزیزان گرامی قدر برادران مولوی خلیل حسنی ندوی،مولوی امین حسنی ندوی اور مولوی عبد الحئی حسنی ندوی کو صبر جمیل عطا فرمائے،اور انھیں ان کا اور اپنے اجداد کا حقیقی وارث بناۓ ،ندوہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ،شیخ مکرم ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید بلال عبدالحئ حسنی ندوی دامت برکاتہم کو صبر و قرار اور دل کو ثبات عطا فرمائے اور دین اسلام کو ان جیسے بہت سے خدمت گزار عطا فرمائے کہ اس دور قحط الرجال میں ایسے سچے واچھے اور مخلص وبے لوث خدام کی بہت ضرورت ہے ۔
ان کی شفقتوں سے بہرہ مند،ان کا ایک عقیدت کیش 
محمد زاہد حسین ندوی 
جمشیدپور

Monday, January 13, 2025

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 

 اردو تدریس کی موجودہ صورت حال بہت اچھی نہیں ہے، اس کی وجہ مادری زبان اردو میں بچوں کی تعلیم سے عدم التفات ہے، جب کہ تمام ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے لیے مناسب اور بہترین زبان ہے، لیکن اس کے بر عکس اردو کے عاشقین کی بھی پہلی پسند اپنے بچوں کے لیے انگلش میڈیم اورکنونٹ جیسے تعلیمی ادارے ہیں، ان کے گھروں میں بھی انگریزی زبان بولی جاتی ہے، تاکہ بچہ فرفر انگریزی بولنے لگے، ہمارا سفر ہوتا رہتا ہے اور ہر طبقے میں ہوتا ہے، آج تک کوئی گارجین ایسا نہیں ملا؛ جو مجھے یہ کہہ کر اپنے بچہ سے ملا کہ لڑکا فرفر اردو یا عربی بولتا ہے، انگریزچلے گیے، لیکن انگریزی زبان سے مرعوبیت چھوڑ گیے، ایک بڑی یونیورسٹی میں جو عربی وفارسی کے ہی نام پر قائم ہے، حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے ساتھ جانا ہوا، ہم سب مولوی ہی تھے اور اردو بولنے والے بھی تھے، سامنے والے بڑے عہدہ پر تھے، بات اردو میں شروع ہوئی، تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے انگریزی بولنا شروع کیا؛ تاکہ ہم سب لوگ مرعوب ہوں، ہم لوگ مولوی ہی نہیں داڑھی ٹوپی والے تھے، سوچا ہوگا کہ یہ انگریزی کیا جانتے ہوں گے، مرعوب ہوجائیں گے، حضرت امیر شریعت نے اس بات کو محسوس کیا اور فصیح انگریزی زبان میں جب جواب دینے لگے تو افسر موصوف سٹپٹا گیے، انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ مولوی ہم سے اچھی انگریزی جانتا ہوگا، وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ انہیں صرف Yes, No ہی یاد رہ گیا، یہ واقعہ اس لیے ذکر کیا کہ اردو الے بھی انگریزی سے کس قدر مرعوب ہیں، انگریزی کے ٹیوٹر ہمارے اردو داں خوب رکھتے ہیں، لیکن اردو کے ٹیوٹر خال خال ہی رکھے جاتے ہیں، اگر کسی نے رکھ لیا تو انگریزی اور اردو کے ٹیوشن فیس میں آپ کونمایاں فرق ملے گا۔
ظاہر ہے جب بچے نے ابتدائی مرحلہ میں اردو نہیں سیکھی، اسے بولنا، لکھنا نہیں آیا، گھر میں انگریزی تہذیب اور انگریزی الفاظ کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے ایسے میں بچے کو اردو زبان آتی ہی نہیں،اسکول میں جو اردو کے اساتذہ ہیں، ان کی دلچسپی بھی عموما اردو تدریس سے کم، ادارے تنظیمیں جمعتیں، جماعتیں اور ان تحریکات سے زیادہ ہیں، جن سے اخبارات میں تصویریں چھپیں، ان سے دریافت کیجئے کہ پوری مدت ملازمت میں اردو کے کتنے آدمی تیار کیے، بغلیں جھانکنے لگیں گے، یہ معاملہ تنقید کا نہیں، احتساب کا ہے، احتساب سے اپنی کمیوں کے تجزیہ اور عمل میں سدھار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بر خلاف جو اساتذہ پرانے تھے، انہوں نے پرانے انداز میں اپنے اساتذہ سے اردو لکھنا، بولنا، پڑھنا سیکھا تھا، انہیں اساتذہ نے نقل نویسی اور املا نویسی کی مشق کرائی تھی، واحد جمع کے اصولی قواعد سکھائے تھے، تذکیر وتانیث کی علامتیں اورمحل استعمال بتایا تھا، محاورے اور ضرب الامثال سے واقفیت بہم پہونچائی تھی، اس لیے ان کی محنت طلبہ پر اچھی خاصی ہوتی تھی او روہ اردو سیکھ جاتے تھے، لیکن استاذ کی وہ نسل بھی اب دھیرے دھیرے ختم ہو گئی، بعضے سبکدوش ہو گیے اور بعضوں نے دنیا ہی چھوڑ دیا، اب جو نسل اردو پڑھا رہی ہے، ان میں سے بیش تر کو اردو خود ہی نہیں آتی ہے، اس کا اندازہ ان مضامین اور خبروں کو دیکھ کر ہوتا ہے، جس میں اردو املا کے ساتھ تذکیر وتانیث اور واحد جمع تک کی غلطیاں پائی جاتی ہیں، بعض ان کتابوں کو دیکھ کر بھی اردو کی حالت زار کا انداز ہوتا ہے، جو بغیر کسی اہل نظر کی نظر ثانی کے طباعت کے مراحل سے گذر گئیں، یہی حال اردو اخبارات کا ہے، بعض الفاظ کااملا دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے،مستثنیات سب جگہ ہیں، یہاں بھی بعض اساتذہ اردو کی تدریس میں بہت اچھے ہیں اور ان کے طلبہ بھی کامیاب نکل رہے ہیں، بعض صحافی کی غیر معمولی صلاحیت پر رشک آتا ہے، لیکن یہ معاملہ خاص خاص کا ہے، عمومی احوال وہی ہیں، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ 
 اس بے توجہی کی بڑی وجہ اردو کے طلبہ کے لئے بہترین ملازمت کے مواقع کی کمی ہے، استاذ مترجم اور معاون مترجم میں بحالیاں ہوجاتی ہیں، لیکن کتنے اردو داں اس ملازمت میں سما سکتے ہیں،جو سما گیے ان کی دلچسپی بھی ترجمہ سے زیادہ دوسرے فائل نمٹانے سے ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں بالائی آمدنی کے مواقع زیادہ نظر آتے ہیں،اس دور میں جب پیشہ وارانہ تعلیم ہمارے رگ وریشے میں سما گیا ہے اور تعلیمی اداروں میں شائقین زبان وادب کے بجائے ان طلبہ کا ہجوم ہے جن کو بتایا گیا ہے کہ اس ڈگری کے حصول پر روٹی کے دو ٹکڑے اور شوربے کا ایک پیالہ مل سکتا ہے تو سارے ادھر ہی بھاگے جا رہے ہیں، اور اردو پڑھنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے، جو پڑھ رہے ہیں وہ بھی احساس کمتری کے شکار ہیں، وہ اپنے کو دوسرے مضامین پڑھ رہے طلبہ سے کم تر سمجھتے ہیں اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قدر سماج میں انگریزی اور سائنس پڑھ رہے طلبہ سے کم ہے، یہ احساس کم تری ان کو حوصلہ شکنی کے مقام تک پہونچا دیتی ہے، ہم ہائی اسکول سطح پر اردو اختیاری نہیں، لازمی مادری زبان کی حیثیت سے پڑھانے اور ہر ہائی اسکول میں کم از کم ایک استاذ کی بحالی پر زور دیتے ہیں، دینا بھی چاہیے، لیکن ہمیں اس صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ اردو ایک مضمون کی حیثیت سے رکھنے کے خواہش مند کتنے طلبہ ہیں؟ اور ہم نے کتنے کو اس مضمون کے رکھنے کے لیے تیار کیا ہے؟
اردو درس وتدریس کے حوالہ سے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے ایک بڑا مسئلہ اس کی املا نویسی کا ہے، اردو کے نصاب میں الفاظ کی تحلیل اور املا میں سدھار کی جو غیر فطری تجویزیں آتی رہتی ہیں، اس نے طلبہ واساتذہ کو حیران کر رکھا ہے، کوئی املا کا مدار حرف کی صوت پر رکھنے کی بات کرتا ہے اور کوئی قدیم املا کو باقی رکھنے کی سفارش کرتا ہے، صوت پر املا کی بنیاد رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم سدا (ہمیشہ) صدا (آواز) خار (کانٹا) خوار (ذلیل) خان (ذات) خوان (دسترخوان) کو ایک ہی طرح لکھنے لگیں، طوطا میں آواز ”ط“ کی کون نکالتا ہے، اس لیے تو تا”ت“ سے لکھا جانے لگے، طشتری ”ت“ سے لکھا جائے، علٰحدہ، علاحدہ، مولانا، موسیٰ اور عیسیٰ کو الف سے اور بالکل کو بغیر الف کے لکھا جائے، ان سفارشات کا بڑا نقصان یہ کہ اردو زبان میں جو ہم خاندان السنہ ایک موضوع کے طور پر پڑھاتے ہیں،ا لفاظ کے املا بدلنے سے ان کا خاندان گم ہو جاتا ہے، مثلا بالکل عربی زبان سے آ یا ہے، اس لیے اس کو الف سے لکھنا ہی ہوگا، عیسیٰ موسیٰ کا املا بھی متعین ہے اور اس کا تلفظ چاہے جو ہو، املا وہی ہے جس طرح قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح معدولات یعنی وہ حروف جو تلفظ میں نہیں آتے، ان کو ہٹا دینے سے بھی اس لفظ کا خاندان گم ہوجائے گا، اور یہ کہنا کہ اس سے طلبہ کو لکھنے میں آسانی ہوجائے گی، خواہ مخواہ کی بات ہے، یہی لوگ جب انگریزی بولتے، لکھتے اور پڑھاتے ہیں تو نالج اور نائف کے "K"سائلنٹ کو حذف کرنے کی بات نہیں کرتے اور اردو میں ساری تجویزیں اول جلول کی آتی رہتی ہیں۔
اردو زبان کی تدریس کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اس زبان کو اجنبی زبان کی طرح پڑھاتے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں اردو زبان کو صرف ایک مضمون کی طرح پڑھایا جاتا ہے، زبان کی طرح نہیں، اردو تدریس میں ایک کام متن کی خواندگی کا ہے، متن کی خواندگی صحیح نہیں ہو تو درست مفہوم تک نہیں پہونچا جا سکتا، میرا جب سعودی عرب کے جدہ واقع انڈین اسکول میں جانا ہوا تو اردو کے ایک استاذ نے باتوں باتوں میں میرا وہ مشہور شعر پڑھا کہ 
جانا نہ تھا مجھے جہاں سو بار واں گیا
ضعف قُویٰ سے دست بدیوارواں گیا
اس شعر میں انہوں نے متن کی خواندگی میں فاش غلطی کی، کہ قُویٰ کو قو ِی پڑھ لیا، میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ضعف قوی کا کیا مطلب ہے کہنے لگے بہت کمزوری، حالاں کہ یہ لفظ قُویٰ ہے، اعضاء وجوارح ہاتھ پاؤں وغیرہ کے معنی، جب اردو کے اساتذہ کا یہ حال ہوگا تو طلبہ کیسے نکلیں گے، آپ خود سوچ سکتے ہیں۔اس لیے تدریس میں متن کی صحیح خواندگی پر زور دیا جائے، تدریس میں طلبہ کا بھی رول ہو زیادہ سے زیادہ سوالات کرکے عبارت کا ماحصل طلبہ کے ذہن وماغ میں بیٹھایا جائے، ان کی نفسیات کا خیال رکھا جائے اور ہر ہر طالب علم کو اہمیت دی جائے، تاکہ استاذ کی توجہ ہر طالب علم پر رہے، یقیناً کلاس طلبہ کی جماعت سے تیار ہوتا ہے، لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ان میں کا ہر فرد ہمارا مخاطب ہے، اور یقیناً کلاس کے تمام لڑکوں کی قوت تفہیم اور معلومات کی سطحیں الگ الگ ہوتی ہیں، ہمیں اردو کو خالص ادبی حیثیت سے نہیں بلکہ معنی کی تفہیم وترسیل کے مقصد سے بھی پڑھانے کی ضرورت ہے۔
آج کل ایک خرابی یہ بھی ہے کہ طلبہ تو طلبہ ہی ہیں اساتذہ کا تلفظ بھی صحیح نہیں ہوتا ہے، اس کی وجہ نیچے درجات میں تلفظ کا صحیح نہیں ہونا ہے، اس کے لیے تلفظ کی مشق ضروری ہوتی ہے، ج،ز، ض، س، ش، ص میں فرق کرنے کی مشق ابتدائی تعلیم سے ہی ضروری ہے، ورنہ اگر بنیاد صحیح نہیں ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ تاثریا می روددیوار کج۔دیوار جتنی بھی بلند ہو جائے ٹیڑھی ہی رہے گی۔
اردو ہی نہیں تمام موضوعات کی تدریس کے لیے سبق کی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، جسے تدریس کی زبان میں ”لیسن پلان“ کہتے ہیں، ہمارے یہاں سرکاری سطح پر سبق کی منصوبہ بندی کے لزوم کے باوجود اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا، حالاں کہ اگر آپ ذہنی منصوبہ بندی کرکے اسے کاغذ پر منتقل کر لیتے ہیں تو آموزش،سیکھنے سکھانے کا عمل خوش گوار ہوگا اور درسگاہ میں طلبہ کے اندر شوق وذوق پیدا ہوگا، جس سے سبق پڑھانا آسان ہوگا، اور ہم اپنی صلاحیتوں کو طلبہ تک منتقل کر سکیں گے۔ خواجہ غلام السیدین کا قول ہے کہ اچھے استاذ کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شعور وآگہی میں طلبہ کو شریک کر لے، یعنی جو کچھ وہ جانتا ہے، طلبہ میں منتقل کر دے، اچھے استاذ کے لیے بہت ساری معلومات کا اس کے پاس ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ صحیح معلومات کو طلبہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت اس کے پاس ہونی چاہیے۔مؤثر منصوبہ بندی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ کی ذہنی صلاحیت اور مبلغ علم کو سامنے رکھا جائے، اس کے بعد تدریس کا خاکہ، مقاصد تدریس، ذہنی آمادگی، متن کی خواندگی، تفہیمی سوالات، نئے الفاظ کے معنی تک رسائی وغیرہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذیلی عناوین ہو سکتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے اور اس کے بغیر کامیاب تدریس کے تصور کو خواب وخیال یا احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف سمجھنا چاہیے۔
ایک اور کام جو تدریس کے حوالہ سے ہمیں کرنا چاہیے وہ ہے تدریس کے طریقۂ کار میں تبدیلی، چہک وغیرہ میں طلبہ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا، آموزش کے عمل کو استاذ اور شاگرد ناچ گا کر بھی سیکھتے سکھاتے ہیں، میں اس کو تدریس کی سنجیدگی کے خلاف اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو کمر ہلا کر رقص کی طرف مائل کرنا سمجھتا ہوں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح سے طلبہ میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے، مجھے خود ایک بار سنٹرل انسٹی چیوٹ آف انڈین لنگویج نے سو لن کے ورکشاپ میں بلایا تھا اور موضوع دیا تھا کہ کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں، انیس روزہ ورک شاپ میں شرکاء نے جو”کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں“ کے عنوان سے کھیل بنائے، اس کو این سی پی اول نے اردو زبان کے جادو کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع کر دیا ہے، میں نے اس میں سارے ایسے کھیل بنائے، جس میں ڈانس اور کمر ہلا نے کی ضرورت نہ پڑے، تدریس کی سنجیدگی بر قرار رہے، اردو کے اساتذہ کو بھی روایتی اور سرکاری طریقہ کار سے الگ ہٹ کر اپنے درس کو دلکش بنانا چاہیے، اس کے لیے جدید تدریسی آلات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موبائل او رانٹر نیٹ لڑکوں کا ذوق بن گیا ہے، ہم اسے تدریس کے کاموں میں آن لائن تعلیم سے الگ ہٹ کر کس طرح اور کس قدر استعمال کر سکتے ہیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔
ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اردو دوست حضرات کو آگے آنا پڑے گا، طلبہ میں اردو زبان وادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنی ہوگی، گھر میں بھی اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا ماحول دینا ہوگا، گارجین کو بھی اردو لکھنا، پڑھنا اور صحیح تلفظ کے ساتھ بولنے کی مشق کرنی ہوگی، تبھی بچوں میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، ان کے ذہن میں یہ بات راسخ کرنی ہوگی کہ دوسرے علوم وفنون تم روزی روٹی کے لیے پڑھ رہے ہو، لیکن تمہاری مادری زبان اردوہے، علوم وفنون کا بڑا سرمایہ اور معلومات کا خزانہ اس میں موجود ہے،اس لیے اس میں ماں کی محبت کا عنصر بھی شامل ہونا چاہیے، انہیں بتائیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں، تہذیب بھی ہے،زبانیں اپنی تہذیب کے ساتھ ہی زندہ رہا کرتی ہیں، آپ خوابگاہ کو بیڈ روم، باورچی خانہ کو کچن، استقبالیہ کمرے کو ڈرائنگ روم، طعام گاہ کو ڈائننگ ہال، غسل خانہ کو باتھ روم، چمچے کو اسپون، پانی کو واٹر، کرسی کو چیر، میز کو ٹیبل، کھڑکی کو ونڈو،ناشتہ کو بریک فاسٹ، دن کے کھانے کو لنچ اور رات کے کھانے کو ڈِنر کہہ کر اردو کی حفاظت نہیں کر سکتے، اردو کی حفاظت اس کے الفاظ اور رسم الخط کی حفاظت سے ہو گی، اساتذہ کو اردو تدریس کے تئیں سنجیدہ ہونا ہوگا، یہ صحیح ہے کہ آن لائن حاضری بنانے کے لزوم نے اسکولوں میں اساتذۃ کی حاضری کا تناسب سو فی صد تک پہونچا دیا ہے، لیکن حاضری کے بعد اردو کے اساتذہ اردو نہیں پڑھائیں، کلاس میں موبائل دیکھ کر وقت گذاردیں یا وہ دوسرے موضوعات پڑھانے میں لگ جائیں تو اردو کی تعلیم کہاں سے ہو سکے گی، ہماری دو کانوں اور سرکاری دفاتر پر اردو میں بورڈ نہ لکھا ہو تو کس طرح اس کے پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، دوسری زبانوں کے بولنے والے اس قدر حساس ہیں کہ تامل، تلگو، بنگلہ، کنڑ وغیرہ بولنے والے اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کا قطعاً استعمال نہیں کرتے، دوکانوں اور دفاتر پر بھی بورڈ دوسری زبانوں میں لگانہیں ہوتا، آپ وہاں جا کر ہندوستان کے شہری ہونے کے باوجود اجنبیت محسوس کریں گے، ریلوے اسٹیشنوں کے علاوہ ہندی کا نام ونشان کہیں بھی نظر نہیں آئے گا، میں آپ لوگوں کواس قدر متعصب ہونے کی تلقین نہیں کرتا، لیکن دوسری زبانوں کے ساتھ اپنی زبان کے ساتھ بھی انصاف کیجئے، ہمارے یہاں اردو کے حوالہ سے مدارس اسلامیہ کے علاوہ شاخوں کو پانی پٹانے کا عمل جاری ہے، ضرورت ہے جڑوں میں پانی دینے کی، جڑ میں پانی دینے کا یہ عمل، گھر اور اسکول سے شروع کیجئے، یقینا مسائل ہیں، لیکن مسائل سے نبرد آزما ہوئیے، اپنے اندر کمی ہے تو اس کا بھی محاسبہ کیجئے، کمیوں کو دور کیجئے، خوب اچھی طرح یاد رکھیے،زبانیں سرکاری سر پرستی سے نہیں، بولنے، لکھنے، پڑھنے اور استعمال سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ حبرو زبان کب کی مر گئی ہوتی، در بدری اور خانہ بدوشی کے زمانہ میں بھی یہودیوں نے اسے پڑھ لکھ کر گھروں میں زندہ رکھا، اور کوئی بائیس سو سال زندہ رکھنے کے بعد جب اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی تو پہلی ڈکلیریشن میں ہی اسے سرکاری زبان کا درجہ مل گیا۔آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، اردو یہاں دوسری سرکاری زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت کے بڑے مواقع حاصل ہیں، بس اتنا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کی طرف اٹھی ایک انگلی کے بعد تین انگلیاں ہماری طرف رخ کر کے پوچھ رہی ہیں کہ اردو کے عاشقین اردو کی بقا، ترویج واشاعت اور نئی نسل تک اسے منتقل کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں، حکومت پر دباؤ بنانے کے ساتھ اپنی ترجیحات کا رخ بھی اردو کی طرف کر دیجئے، صورت حال بھی بدلے گی اور مسائل بھی حل ہوں گے۔ ان ارید الاالاصلاح مااستطعت وما توفیقی الا باللہ

Thursday, January 9, 2025

میرے والد کی لائبریریتحریر : مہر افشاں بنت شمس الرحمٰن فاروقی ترجمہ:نایاب حسن

میرے والد کی لائبریری

تحریر : مہر افشاں بنت شمس الرحمٰن فاروقی 

ترجمہ:نایاب حسن

میں کتابوں سے بھرے گھر میں پلی بڑھی،جہاں  ہر کمرے میں کتابیں ہی کتابیں  تھیں، کتابیں ہی ہماری شناخت اور تعارف کا وسیلہ تھیں، میری والدہ ماہر تعلیم تھیں اور والد  سول سروینٹ اور ایک ابھرتے ہوئے ادیب و ناقد تھے۔ وہ اپنی مصروف زندگی سے جتنا وقت نکال پاتے، اسے پڑھنے لکھنے میں صرف کرتے؛البتہ ان کے مطالعے یا ادبی مصروفیات کے لیے کوئی  مخصوص  جگہ نہیں تھی؛ کیونکہ ہمارا  گھر اتنا بڑا نہیں تھا۔
ایک چھوٹی بچی کے طور پر میری سب سے پیاری یادیں والد کے ساتھ کتابوں کی بڑی سی دکان’ یونیورسل بک کمپنی‘ جانے اور وہاں بچوں کے حصے میں گھنٹوں گزارنے کی ہیں، اس دوران والد ادبی تخلیقات سے معمور بک شیلف کھنگالتے رہتے اور بالآخر وہ وہاں سے کتابوں کا ایک بنڈل خریدتے اور ہمیشہ میرے لیے بھی کچھ کتابیں لیتے۔
1964  میں  ’شب  خون‘  کے اجرا کے بعد ہمارے گھر میں اردو جرائد  کثیر تعداد میں آنے لگے۔ان میں کچھ  ادبی مجلات تھے جیسے ’نقوش‘، ’فنون‘، ’سیپ‘، ’شاعر‘، ’تحریک‘،’ کتاب‘ اورکچھ ’ بیسویں صدی ‘اور’ شمع‘ جیسے رسائل تھے۔ ان میں سے بہت سے لاہور اور کراچی سے آتے تھے؛ لیکن زیادہ تعداد ممبئی، پٹنہ، لکھنؤ اور حیدرآباد سے آنے والے رسائل کی تھی۔ میں  اردو جریدے ’کھلونا‘ کی آمد کا بطور خاص  انتظار کیاکرتی، جسے میں  لطف لے کر پڑھتی تھی۔
جب والد کا ٹرانسفر الہ آباد سے لکھنؤ ہوا، تو ان کے سامان میں زیادہ تر کتابیں ہی تھیں (وہ  کالی داس مارگ پر ایک فرنشڈ سرکاری  گیسٹ ہاؤس میں مقیم  تھے)۔ آخر میں وہ ریور بینک کالونی کے ایک مکان میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں ان کی کتابوں میں ڈرامائی  طور پر اضافہ ہونے لگا۔
لکھنؤ میں کتابوں کی دکانیں الہ آباد سے کہیں زیادہ تھیں، پرانے شہر میں اردو کتابوں کی دکانیں تھیں، مجھے یاد ہے کہ اردومکتبوں میں ایک قسم کی سنجیدگی ہوا کرتی تھی، میرے جیسے نوعمروں کے لیے وہاں کا ماحول دلچسپ نہیں تھا۔ اردو کے نوعمر قارئین کے لیے شاید ہی وہاں  کتابیں ہوں گی۔ (والد نے مجھے وہیں سے  پریم چند کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ’ پریم پچیسی‘ خریدکر دیا تھا)۔
لکھنؤ میں مستعمل کتابوں کی بھی  بہت سی دکانیں اور کتابیں مستعار دینے والی لائبریریاں  بھی تھیں۔ حضرت گنج، لکھنؤ کے کی ایلیٹ مارکیٹ میں، ایک پسندیدہ مقام ’ہابی کارنر‘ تھا، وہاں’کوچۂ محبت ‘ نامی دلچسپ گلی کے عین بیچ میں مستعمل کتابوں کی ایک دکان تھی۔ ’کوچۂ محبت‘ ایک تنگ سی گلی تھی، یہ ایک مسقف بازار ، گڑبڑ جھالا کا ایک اعلیٰ ورژن تھا، جو خریداروں سے بھرا ہوتا تھا،وہاں کی فضا بازار میں بکنے والی عطریات سے معطر رہتی تھی۔
کندن جیولری چمکتے ہوئے شیشے کے کیسوں میں نظر آتی، چکن کری کے کرتے  ہینگروں میں لٹکتے رہتے  اور ایک غیر متوقع مقام پر  ملبوسات کے سامانِ آرایش کی  دکان کے علاوہ ایک لکڑی کی سیڑھی بھی ٹکی ہوتی ۔ ایک شخص کمزور سے جنگلے پر  لٹکی اس سیڑھی پر چڑھتا اور کتابوں کے عجائبستان میں پہنچ جاتا۔ وہاں سے آپ اپنی پسند کے مطابق  کتابیں دیکھ سکتے، خرید اور ادھار لے سکتے تھے۔
ہر اتوار کو پرانے شہر کے نخاس میں مستعمل کتابوں کا بازار لگتا تھا، ہم وہاں جاتے،وہاں  کتابیں پرانی چادروں، کبھی جوٹ کے تھیلوں اور ترپالوں پر رکھی ہوتی تھیں۔ اگر کسی کو بہت سی کتابیں خریدنی ہوتیں ،تو انھیں  دیکھنے، منتخب کرنے اور مول بھاؤ کے لیے  وہیں کسی کتاب فروش کے بیٹھنے کی جگہ پر ٹکنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھار کسی کو کوئی قیمتی چیز مل جاتی، جیسے کسی کتاب کا پہلا ایڈیشن یا کوئی پرانی کتاب جو اب نہیں چھپتی ۔
ریور بینک کالونی والے گھر میں کتابیں بڑے بڑے ڈھیرکی شکل میں جمع ہونے لگیں؛ کیونکہ کتابوں کے لیے مناسب تعداد میں الماریاں نہیں تھیں۔ یہ کراے کا مکان، جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے، پوری طرح تیار بھی نہیں تھا۔ اس بار جب والد کا تبادلہ ہوا، تو کتابیں پیک کرنے میں ہفتوں لگ گئے۔
دیو نگر ، دہلی والا گھر کافی بڑا تھا۔ میری والدہ نے پنچکوئیاں روڈ سے دیگر فرنیچر کے ساتھ  کتابوں کی الماریاں بھی خریدیں،مگریہ الماریاں بہت جلد کتابوں کے لیے کم پڑنے لگیں۔ والد کا ذخیرۂ کتب  وسیع و عریض تھا ،ان میں  ادبی تنقید، شعری اور افسانوی مجموعے (اردو اور انگریزی)، ناول، جاسوسی کہانیاں، کلاسیکی ادبی سیریز، انسائیکلوپیڈیا، نادر ونایاب  لغات ہر قسم کی کتابیں تھیں۔
انھیں جاسوسی(اور کچھ عرصے تک دہشت ناک) کہانیاں  پڑھنا پسند تھا ۔ دوسرے سنجیدہ شائقینِ کتب  کی طرح انھوں نے بھی ہر قسم کی کتابیں جمع کیں۔ پھر فاضل کتابیں الہ آباد والے  گھر بھیجی جانے لگیں اور وہاں کی الماریاں بھی ان کتابوں سے بھر گئیں۔
یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ  والد صاحب کے سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ  کا وقت آگیا۔اس کے بعد وہ  سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہتے تھے کہ ان کی ذاتی لائبریری ہو؛چنانچہ الہ آبادوالے گھر کی پہلی منزل پراس کی تعمیر شروع ہوئی،ان کامنصوبہ یہ تھا کہ یہ لائبریری دو کمروں اور ایک ہال پر مشتمل ہوگی۔ پہلا کمرہ دارالمطالعہ ہوگا، دوسرا مہمانوں کے لیے ہوگا اور ہال میں صف بستہ کتابوں کے ریک ہوں گے۔
کتابوں کو اوپر پہنچانا ایک مشقت بھرا کام تھا؛ لیکن یہ بھی ہو گیا۔ دفتر کو منظم انداز میں تیار کیا گیا  اور الہ آباد کی شدید گرمیوں سے نمٹنے  کے لیے اے سی لگایا گیا۔ لائبریری کے باب الداخلہ پر خوب صورت اردو میں لکھا ہوا والدصاحب کا نیم پلیٹ چسپاں کیا گیا۔
گفتگو کے اصل نقطے  پر پہنچنے کے لیے میں یہاں کچھ تفصیلات سے گریز کرتی ہوں۔ والد اگرچہ اس وقت 58 سال کے تھے، مگر دل کی بیماری میں مبتلا تھے، وہ دن میں کئی بار سیڑھیاں چڑھنے سے تھک جاتے، اے سی کے باوجود گرمیوں میں کمرہ کافی گرم ہو جاتا ، ہال ناقابل برداشت حد تک گرم ہوجاتا، گوکہ پنکھا چلتا رہتا۔ گرمیوں میں دھول دھکڑ کے ساتھ  چلنے والی ’لو‘ کھڑکیوں سے زور آزمائی کرتی اور  ہر چیز پر دھول کی تہیں جم جاتیں،غسل خانے میں پانی کا مسئلہ بھی  تھا۔
بالآخر  والدہ جو والد کی صحت کے تئیں فکرمند رہا کرتی تھیں،انھوں نے اصرار کیا کہ وہ نیچےآ جائیں اور ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ ہال بھی تھا) کو اپنی لائبریری بنالیں۔ ایک بار پھر کتابوں کو منتقل کیا گیا ،البتہ  اس اقدام سے والد صاحب کو ایک موقع ملا  کہ وہ کتابوں کے بہت بڑے ذخیرے میں سے کچھ منتخب کرلیں؛چنانچہ   فکشن، جاسوسی ناول اور دیگر کم ادبی اہمیت کی چیزیں اوپر والے ہال میں رہنے دی گئیں۔   کتب خانوں اور اُن افراد کو اچھی خاصی تعداد میں کتابیں عطیہ کی گئیں، جو ان کے خواہش مند  تھے اور انھیں پاکر خوش ہوئے۔
والد کی میز سابقہ ڈرائنگ روم میں لگادی گئی ، مضامین کے مطابق احتیاط سے کتابیں مرتب کی گئیں، ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے معاونین  کا انتظام ہمیشہ والدہ نے   کیا۔ والد بہت جلد کمپیوٹر استعمال کرنے لگے تھے، ان کے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ ایک علیحدہ ڈیسک نصب تھا۔ اب ان کے پاس ایک ایسی جگہ تھی ،جہاں وہ اپنی محبوب کتابوں سے گھرے رہتے اور یہ  ان کے لیے موزوں تھی، ایک بڑی دیواری الماری میں لغات کا ڈھیر لگا ہوا تھا، کم از کم 50 کتابیں تو ہوں گی، کچھ بہت پرانی اور نایاب اردو و فارسی زبانوں کی لغات بھی تھیں۔ ایک اور بڑا حصہ  غالب کے لیے وقف تھا، ایک اقبال کے لیے،ایک بڑا شیلف میر کے لیے اور اسی طرح دیگر بڑے شعرا و ادبا سے مخصوص گوشے تھے۔ادبی تنقید کی کتابیں ایک پوری دیوار پر قابض تھیں۔
  والد نے خالی دیوار  پر اپنے پسندیدہ آرٹس، تصاویر اور خطاطی کے نمونے فنکارانہ انداز میں چسپاں کر رکھے تھے، ان کی میز پر مختلف  اسفار سے لائے ہوئے انتہائی دلچسپ نوادرات رکھے ہوتے، ان کی میز پر ان کے بچپن کی ایک تصویر بھی  ہوتی(اب بھی ہے)، جب وہ بمشکل پانچ سال کے ہوں گے، جس میں وہ اپنے والد کے قریب، دو دگر بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لائبریری کا ماحول علمی؛ لیکن دوستانہ ہوتا۔
یہ لائبریری گھومنے پھرنے کی پسندیدہ جگہ بن گئی، والد صاحب  وہیں مہمانوں کا استقبال کرتے۔  دارجلنگ کی چائے ایک خوبصورت ٹی پاٹ  میں تیار کی جاتی اور مساوی سائز کے کپوں میں دن بھر یہاں آنے والوں کو متعدد بار پیش کی جاتی۔ خاص خاص موضوعات پر گفتگو اور انٹرویوز یہیں ہوا کرتے ۔
چونکہ والد صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد الہ آباد میں دوبارہ مقیم ہوگئے تھے ؛اس لیے گھر اورخصوصاً  لائبریری ادبی گفتگو کا مرکز بن گئی تھی۔ ایک بار پھریہاں کتابوں کا ذخیرہ بڑھنے لگا۔ فرش سے  چھت تک کتابوں کے ریک تیار کروائے گئے ،اس طرح  لائبریری نے بالکل  نئی شکل اختیار کرلی۔ یہیں بیٹھ کر والد نے اپنا مشہور ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ لکھا۔
2007 میں میری والدہ کا انتقال اس لائبریری کی تاریخ کا ایک اہم سانحہ تھا۔میری والدہ ،والد کی تمام ترمساعی کی سب سے بڑی مداح اور معاون تھیں۔ حادثاتی طور پر گرنے  اور اس کے نتیجے میں سرجری کے بعد کی پیچیدگیوں کی وجہ سے غیرمتوقع طورپر ان کا انتقال ہم سب کے لیے دل دوز  سانحہ تھا۔ ایک بیٹی کے لیے اس نقصان کے اثرات کا تصور بھی مشکل ہے ، میرے والدین کالگ بھگ  50 سال کا ساتھ تھا ، دونوں مکمل ہم آہنگی کےساتھ بوڑھے ہو رہے تھے۔
ماں بلا کسی رکاوٹ کے گھر چلاتی تھیں، انھوں نے والد کو اپنی ادبی مصروفیات کے لیے لامحدود اسپیس دیا، ’شب خون‘ کے آغاز کے دوران جدوجہد کے سالوں میں ان کی معاونت  کی ، انھوں نے ایک کامیاب کیریئر کے ساتھ الہ آباد میں اپنے گھر کے نظم و نسق کو سنبھالا، والد کے ساتھ  مل کر وہاں لائبریری بنائی۔
والد کا کتب خانہ ان کے تخلیقی سفر کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ دور دراز کے شہر شارلوٹز وِل (ورجینیا)میں بیٹھ کر  اس کے بارے میں سوچتے اور لکھتے ہوئے میرے ذہن میں اس کمرے کی شروع سے آخر تک کی بہت سی تصویریں ابھر رہی ہیں ۔ سب سے قدیم ڈرائنگ روم(جو ڈائننگ روم بھی تھا)کی ہے، جس میں بریلی کا ’صوفہ سیٹ‘ اور تین سیٹوں والا بنچ تھا، جسے ماں نے اپنی مرضی کے مطابق تیار کروایا تھا۔ ایک معمولی سا کشمیری اخروٹ کی لکڑی کا سینٹر ٹیبل اور ایک سرے پر کشمیری نیسٹنگ ٹیبل، وہاں کوئی قالین نہیں تھا؛ کیونکہ والد نے فرش کو ایک کلاسک بلیک اینڈ وائٹ پیٹرن پر ڈیزائن کیا تھا۔
کمرہ ہمیشہ سردیوں میں ٹھنڈا اور گرمیوں میں بہت گرم محسوس ہوتا تھا۔ کھانے کی میز پرانے طرز کی پتری دار تھی، جس کے گرد  چھ مضبوط کرسیاں رکھی ہوتیں۔ یہ اکثر میرے لیے ایک متبادل مطالعے کی میز کے طور پر کام کرتی۔ ہم  ڈرائنگ روم صرف رسمی مہمانوں کے لیے استعمال کرتے، عموماً  آرام دہ کرسیوں والے دو کشادہ برآمدوں پر ہی  مہمانوں کا خیرمقدم کیا جاتا ۔
لائبریری ملحقہ برآمدے تک پھیل گئی تھی۔ والد کے سب سے حیرت انگیز کتابی ذخیرے’ داستانِ امیر حمزہ‘ کی 45 جلدوں کا مکمل سیٹ ایک سٹیل کی الماری میں رکھا گیا ۔ والد کی ذاتی ادبی تخلیقات و تصانیف اتنی زیادہ  تھیں کہ انھیں  خود اپنی کتابوں کے  لیے ایک مکمل الماری کی ضرورت تھی۔’ شب خون‘ کے شماروں  کا ذخیرہ بھی یہیں رکھا گیا، جریدے کے  چالیس  سالہ شمارے مجلد بندھے ہوئے ہیں اور ہارڈ کاپی میں محفوظ ہیں۔
مختلف شہروں لکھنؤ، دہلی، پٹنہ وغیرہ میں والد کی پوسٹنگ کے دوران یہ کمرہ کبھی کبھی  کھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔عموماً میری چھوٹی بہن اور میں  والدہ کے ساتھ ان کے کمرے میں کھانا کھایا کرتے ۔ جب کھانے کی میز کو لائبریری کے لیے جگہ بنانے کے لیے برآمدے میں منتقل کیا گیا، تب سے اسے کھانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
کمپیوٹر ڈیسک  ان دنوں کوئی خریدی جانے والی چیز نہیں تھی، ایک پرانی میز اس کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی۔ مجھے کمپیوٹر اسکرین کے قریب رکھا کی بورڈ اب بھی یاد ہے،بھاری  بھرکم سی پی یو  فرش پر  رکھا گیا تھا، پرنٹر کے لیے جگہ نہیں تھی؛ اس لیے اس کے لیے  الگ سے انتظام کیا گیا اور اسے ایک چائے کی میز پر رکھا گیا۔ کچھ سالوں بعد ایک سکینر خریدا گیا اور قریبی میز پر رکھا گیا۔ان کی  تاریں اکثر الجھ جاتی تھیں؛ کیونکہ انٹرنیٹ راؤٹر بھی  ڈیسک پر ہی تھا۔
لائبریری کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک صوفہ تھا۔ پہلے تو زائرین صوفے پر بیٹھتے ہوں گے؛ لیکن آہستہ آہستہ یہ بھی کتابوں سے بھر گیا تھا۔ یہ وہ کتابیں تھیں جو تقریباً روزانہ بڑی تعداد میں مختلف مصنفین ، شاعروں ،مضمون نگاروں اور فکشن نویسوں کی جانب سے پہنچتی تھیں،ان میں شعری مجموعوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔
جریدۂ ’شب خون‘ کے کے بند ہونے کے بعد اس کی جگہ ’خبرنامہ‘ نے لے لی۔ ’خبرنامہ‘ اپنے نام کے مطابق  مشمولات کے ساتھ زندہ رہا، یہ نئی کتابوں کی رپورٹس، تبصروں اور خطوط وغیرہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ والد ایک عظیم مکتوب نگار بھی تھے، انھوں نے اپنے زمانے کے ادباکو اپنے ہاتھ سے ہزاروں خطوط لکھے ہوں گے۔ کچھ خطوط شائع بھی ہو چکے ہیں؛ لیکن ان کے مکاتیب کا ایک بڑا ذخیرہ غیر مطبوعہ ہے ،جنھیں  ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
’خبرنامہ‘ بھی اکیلے نہیں نکالا جا سکتا تھا؛اس لیے  ایک سیکرٹری کی ضرورت تھی۔ اب خالی جگہ میں ایک تیسرا ڈیسک رکھا گیا ۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ کتابوں  کی شیلفیں  فرش سے چھت تک دیواروں سے لگی ایستادہ تھیں،  بھاری بھرکم ریک ہٹا دیے گئے۔ گزرتے وقت  کے ساتھ ساتھ  اس  بڑے سے  کمرے میں اور بھی چیزیں  ایڈجسٹ ہوتی رہیں ۔ کمرے کا بوسیدہ سیاہ و سفید فرش لینولیم سے ڈھکا ہوا تھا اور جب وہ کھردری ہو گئی، تو مخصوص قسم کے قالینوں سے  کمرہ روشن ہوگیا۔
اپنے آخری سالوں میں، والد کو اس بڑے مسئلے کا سامنا تھا کہ ان کی پیاری لائبریری کا کیا کرنا ہے؟  کتابیں کسی  آرکائیو لائبریری کو عطیہ کردی جائیں یا انھیں اِسی جگہ  اسکالرز کے مصدر و مرجع کے طور پر محفوظ رکھا جائے؟ ان کا خواب یہ تھا کہ کتابوں کا یہ ذخیرہ کسی ایک جگہ پر رکھا جائے اور ممکنہ طور پر اسے ایک دارالمطالعہ میں تبدیل کردیا جائے، جو محققین کے لیے کھلا رہے۔ ہم( ان کی بیٹیوں) نے انھیں یقین دلایا کہ ہم اس لائبریری کی دیکھ بھال کریں گےاور اسے ایک ریسورس لائبریری بنانے کے ان کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔
میری بہن باراں نے کتابوں کی فہرست سازی کے لیے پچھلے دنوں  ریٹائر ہونے والے ایک پروفیشنل لائبریرین کی خدمات حاصل کرکے اس پروجیکٹ کا  سنجیدگی  سے آغاز کیا ۔ کئی وجوہات(جنھیں یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں) کی بنا پر یہ کام آسان نہیں تھا؛ لیکن بہرحال  یہ منصوبہ اب تکمیل کے قریب ہے۔ اگلا قدم اس لائبریری کو اس طرح زندہ و شاداب  رکھنا ہو گا کہ وہ  شمس الرحمن فاروقی کے ادبی وژن سے منور   گفتگووں اور لیکچرز کی بھی جگہ ہو۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...