مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس:جامعة الحسنین صبری پور
قلم وکتاب کی وسیع ترین دنیا میں مولانا کبیر الدین فاران صاحب مظاہری زید مجدہ کا نام کوئی نیا نہیں ہے،قلم پکڑنے والےقلمکار، کتابوں سے آشنااور مطالعے کے رسیا افراد ان کے قلمی کارناموں سے اچھی طرح واقف ہیں،بات سے بات پیدا کرنے والے منفرد نقش گر مولانا کبیر الدین فاران صاحب تذکرہ نگاری میں بھی اپنے نقوش مزین کرگئے۔
خاکہ نگاری ایک مشکل موضوع ہے بسا اوقات انسان اپنے ممدوح کی عظمت وفضیلت اجاگر کرنے میں ایسی چیزوں کا ذکر کرجاتا ہے جس سے تحریر کی روح نکل جاتی ہے اسلوب نگارش بھی متاثر ہوجاتا ہے پھر قاری بھی بے کیف ہوجاتا ہے نہ اس کا دل گرماتا ہے نہ آنکھ کو ٹھنڈک پہنچتی ہے،لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ آپ کی تحریر کو پڑھ کر ھل من مزید کی صدا بلند ہوتی ہے،آپ نےجن نادرۀ روزگار و نابغۀ زمن شخصیات پر قلم اٹھایا ہے انہیں اب گردش افلاک پیدا نہیں کر سکتی،آپ کی تحریروں میں چاشنی ، وافر حوصلہ،نوجوانوں کے لئے ایک منزل کی تلاش،صحیح سمت چننے،میدان عمل میں کودنے کی اسپرٹ ہوتی ہے،صاف وششتہ الفاظ، قدیم وبوجھل تعبیرات سے پاک،جدید تعبیرات سے آراستہ، کبھی زبانِ انگلش کو اردو رسم الخط میں لکھ کر کھانے میں نمک تو زیادہ کردیتے ہیں،حسن تعبیر،قوت استدلال اورزوربیان سے اپنی تحریر میں ایک البیلا پن بھی پیدا کردیتے ہیں،مزید یہ کہ ان کی تحریروں میں دل کا سوز بھی ہے اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا کوہ گراں بھی،لیکن امید کا چراغ انہوں نے ہمیشہ روشن رکھا اور اپنے قلم کی سیاہی سے سفید کاغذات کو دامن امید دلائی، اپنے انداز فکر وانداز نگارش میں منفرد ہیں سلیقہ وشگفتگی سے لکھتے ہیں۔
قلمی فضا پر چھا جانے والے مولانا مظاہری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے جب وہ کسی شخصیت پر لکھتےہیں تو تھکتے نہیں، جھجکتے نہیں، ہر پہلو پر اپنے قلم کو جنبش دیتے ہیں،اور تاریکیوں کو کافور کرتے ہیں،ہر شخصیت کی ممتاز اور نمایاں خصوصیات وامتیازات کو شرح صدر کے ساتھ لکھتے ہیں۔
پیش نظر مضامین کے مجموعہ میں مولانا کے قلم نے ان یادگارزمانہ شخصیات کو آئیڈیل بنانے کی کوشش کی ہے جن کے ساتھ آپ کی شب وروز کی داستانیں ہیں،طویل ملاقاتیں اور پیوستہ تعلقات ہیں،جن کو آپ نے پرکھا اور بھانپا،پھر جو دیکھا وہ لکھا،لیکن ایک رنج غم واندوہ کی کیفیت ان کے اوپر سوار ہے کہ کاش یہ ان کی زندگی میں لکھا جاتا تو دنیا زیادہ فائدہ اٹھاتی،ہائے بد قستمی ہماری قوم کسی کے جانے کے بعد اس کی صفات کو سامنے لاتی ہے اس کی حین حیات ہی اس کے قابل التفات کارناموں کو دنیا کے سامنے اجاگر نہیں کیا جاتا۔
ان عباقرۀ زمن شخصیات میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ،مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ،پیرطریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ،محدث عصر حضرت شیخ یونس صاحبؒ،حضرت مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوریؒ، حضرت مفتی عبد القیوم صاحب رائے پوریؒ،مولانا اسماعیل صاحب منوبریؒ،حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ،حضرت مفتی عبد الغنی ازہریؒ کشمیری،حضرت مولانا عبد ﷲ کاپودرویؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ، حضرت مولانا اختر صاحبؒ،حضرت مفتی عبدﷲ رویدریؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمسؒ، حضرت مولانا محمد عباس مظاہریؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب قاسمیؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب مظاہری جھارکھنڈیؒ سے عنایتوں کا اظہار، ان کی جانب سے نچھاور ہونیوالی لازوال شفقتوں، عنایتوں کو محبت کے سمندر میں غرق ہوکر عشق وفدائیت کی مکمل تصویر بن کر اوراق کی زینت بناکر پیش کیا ہے۔
دوسرا باب کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا کے نام سے قائم کیا ہے جس میں ملک کی نامور شخصیات کے کوچ کرجانے پر ان کے پسماندگان واخلاف کے نام تعزیت نامے پیش کئے گئے ہیں جن میں صبر وشکیبائی اور تسلی بھرے الفاظ کے ساتھ ان کی خدمات کو خراج پیش کیا ہے۔
تیسرا باب جنازہ سے متعلق احکامات پر مبنی ہے جس میں تدفین و تکفین کے مشہور مسائل فقہ حنفی کے معروف مراجع سے لئے گئے ہیں اخیر میں مولانا فاران کی دو مشہور کتابوں پر ملک کے مشاہیر قلم کار کے تبصرے بھی ضم کئے ہیں جو مولانا کبیر الدین فاران صاحب نے امید کا چراغ اور پھر مٹی کا چراغ روشن کیا تھا۔
کتاب کے شروع میں گجرات کی مردم گر زمین کی مردم ساز شخصیت حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کا مقدمہ اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی دامت برکاتہم کی تقریظ نےچارچاند لگائے ہیں۔
مولانا کے نزدیک زندگی نام ہے جدوجہد کا،کد و کاوش کا،محنت و جانفشانی کا، وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کو سم قاتل گردانتے ہیں۔
بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک پختہ قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین منتظم اور جدید فکر سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مردم سازکی بھی ہےوہ ایک باہمت، حوصلہ مند،راسخ عزم کے مالک،اور ندوی الفکر عالم دین ہیں، انہوں نے اچھی چیز کو لینے میں دست نوازی کو اپنا شیوہ بنایااور وہ مقام ومرتبہ پایا کہ خود دینے والے بن گئے،وہ کسی محفل وبزم میں بیٹھ کر مکمل یگانگت کا احساس کرادیتے ہیں، کام کرنیوالوں کے فدائی وشیدائی بن جاتے ہیں،ان کے قلمی نگارشات سے یہ بات محسوس ہوتی ہے ان کے یہاں جذبۀاحساس کی کارفرمائی موجود ہے اور خاکہ نگاری کا یہ سفر روایت سے جدت کی طرف ہے،اس کتاب کو ان کے جانثار واطاعت گزار بیٹوں نے شائع کیا ہے شائقین اردو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور مطالعہ کریں خوبصورت ودیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ کتاب کی قیمت درج نہیں ہے
No comments:
Post a Comment