Translate

Thursday, April 30, 2026

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ

 ڈاکٹر احتشام فریدی
مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان کے موت کی خبر ملنا مانو ایک وقت میں پوری دنیا ٹہر سی گئی ہو 
مرحوم کی ولادت ١ جنوری ١٩٩٠ وفات ١٩ اپریل ٢٠٢٦ مرحوم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی جامعہ ایوبیہ سے ہوئی بعد از اعلیٰ تعلیم کے لیۓ مدرسہ محبوبیہ چین پور بنگرہ گۓ وہاں سے ناظرہ مکمل کرنے کے بعد اپنے والد محترم کے ساتھ مہاراشٹر اکل کنواں کے شاخ مدرسہ اشاعت العلوم سونوری چلے گۓ اور وہاں سے حفظ مکمل کیا مرحوم کند ذہن ہونے کے بعد بھی اپنی محنت و لگن کی بدولت سن ٢٠٠٠ سے ٢٠٠٤ تک وہاں رہے اور حفظ مکمل کیا پھر اپنے گھر آگۓ ٢٠٠٣ میں دینیات عربی کے لیۓ پٹنہ کا رخ اختیار کیا اور پھر ٢٠٠٦ تک جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ میں رہے پھر اپنے استاذ محترم فضیلت الشیخ حضرت مولانا ناظم صاحب کے حکم پر دیوبند کا رخ کیا پھر ٢٠١١ سے مرحوم اپنے رزق کی تلاش میں سب سے پہلے رحیم پور رکسا مدرسہ حسینیہ صدیقیہ کا رخ کیا کچھ سال گزرنے کے بعد مظفر پور کے سکری سریا چلے گۓ اور وہاں تقریباً ١٢ سال کا ایک طویل عرصہ گزار رہے تھے 
مرحوم نے اپنی حیات زندگی میں کچھ ایسے کارنامے بھی کر گۓ ہیں جو قیامت کی صبح تک فراموش نہی کی جا سکتی ہے جب وہ پہلی مرتبہ سکری سریا گۓ تب وہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی مرحوم اپنی محنت وکوشش کی بدولت چھوٹی مسجد شہید کر کے جامع مسجد کا قیام کیا اور پھر مسجد کے احاطہ میں ہی مکتب کا بھی قیام شروع کیا گیا اور اسی مکتب کی برکت سے اس گاؤں میں کئی بچوں کے ساتھ ایک بچی بھی حافظہ ہوئی ۔ مرحوم عمدہ اخلاق کے حامل تھے اللہ نے انہیں علم کی صلاحیت اس قدر دی تھی کہ غیروں نے بھی اپنے ہتھیلی پہ سجایا تھا اور ان کے ہاتھوں پر ہی ایمان لے آۓ ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مرحوم اپنی جان بچانے کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے لیکن سکری سریا کے عوام نے ان کا ساتھ اس نازک دور میں بھی نہیں چھوڑا اور ڈھال بن کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے پھر ایک وقت کے بعد وہ سیاہ وقت بھی گزر گیا 
مرحوم اپنا نکاح ٢٠٢٠ میں ضلع سیتا مڑھی میں ایک عالمہ سے کیا اور سن ٢٠٢٤ کے ستمبر ماہ میں اللہ نے ایک اولاد جیسی نعمت سے نوازا جو ابھی ڈیڑھ سال کا ذیان فریدی توتلی زبان سے ہر وقت ابو ابو کی صدائیں بلند کرتا رہتا ہے لیکن رب حقیقی کی مرضی کے سامنے اس ننھا فرشتہ کا بھی کچھ چل نا سکا اور باپ جیسی نعمت سے مرحوم ہوگیا 
آج بھی دل اس بات کو ماننے سے اورلکھتے ہوۓ قاصر ہے کہ میرا بھائی اب دور فانی سے کوچ کر گۓ لیکن اللہ نے اپنے مقدس کتاب میں کہا ہے 
(کل نفس ذائقت الموت) ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر کیا اس آیت کو یاد کرتے ہوۓ صبر کا دامن تھامنا ہوتا ہے 
مرحوم کی خوبیوں کی بات کریں تو نیک دل کے ساتھ ملنسار خوش مزاجی اپنوں کے ساتھ دوسروں سے بھی نیک دلی اور اچھا سلوک خوش اسلوبی سے رابطہ رکھنا اپنے خاندان کو جاننا ان پر لکھنا یہ ان کی فطرت میں شامل تھا ۔اور یہی وجہ ہیکہ ان کے موت کی خبر سنتے ہی لوگ ایک وقت گزارے بغیر دوحہ قطر کا سفر طے کرتے ہوۓ نماز جنازہ میں شریک ہوۓ 
مرحوم دنیا سے الوداع کہتے ہوۓ اپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ چار بھائی ایک بہن اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک ڈیڑھ سالہ شیر خوار بچہ کو روتے بلکھتے چھوڑ گۓ 
مرحوم ایک سڑک حادثہ کا شکار ہوۓ اور یہ حادثہ تب در پیش آیا جب وہ اپنے ننھے شیر خوار بچہ ذیان فریدی سے ملنے گھر آرہے تھے تبھی مظفرپور سمستی پور قومی شاہراہ ٢٨ پر ایک بے لگام ١٨ چکہ ٹرک نے انہیں کچل دیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہو گۓ اور موقع پر ہی آخری سانس لیا اور اپنے رب حقیقی سے جا ملے یہ حادثہ ١٩ اپریل ٢٠٢٦ کو ہوا اور ان کے جنازے کی نماز ٢٠ اپریل ٢٠٢٦ کو ان کے آبائی گاؤں چک نصیر سکی پاتےپور ویشالی میں ادا کی گئی ۔ان کے جنازے کی نماز مدرسہ قاسم العلوم تریپولیہ عالم گنج کے بانی و ناظم اور مرحوم کے استاذ محترم جناب مولانا ناظم صاحب نے پڑھائی جنازے کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوۓ عوام کا کہنا تھا کہ اب تک کے تاریخ میں اتنی بڑی جماعت کسی نے نہیں دیکھا تھا اور یہ ان کے عمدہ اخلاق و کردار کا نتیجہ ہے ۔لفظ آخر موجود لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا اور دعاۓ مغفرت کی ?
تم اپنے بخت پہ نازاں نہیں ہو حیرت ہے 
ہم ایسے لوگ دعاؤں میں مانگے جاتے ہیں
دعائیں مانگ تیری عمر مجھ سے زیادہ ہو
تجھے میں جاکے دکھاؤنگا ایسے جاتے ہیں

Monday, April 27, 2026

ہر سطح پر تعلیم و تربیت کی ضرورت مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

ہر سطح پر تعلیم و تربیت کی ضرورت 

 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
تعلیم کے حوالے سے انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں، ایک تو مذہبی ضرورت ہے، جس کا ایک سرا اس دنیا سے اور دوسرا آخرت سے جڑا ہوا ہے، یہ تعلیم دنیوی سعادت اور اخروی نجات کے لیے ضروری ہے، اسی لیے اس تعلیم کو فرض قرار دیا گیا ، جسے اصطلاح میں بنیادی دینی تعلیم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سرکار کے رائٹ ٹو ایجو کیشن ( تعلیم کے حق ) سے الگ ایک چیز ہے، جب ہم حق کی بات کرتے تو اس سے لزوم کا پتہ نہیں چلتا، کیونکہ اپنے حق سے دست برداری کو سماج میں بُرا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اگر اس کا تعلق مالی حقوق سے ہو اور کوئی اس سے دست بردار ہو جائے تو اسے ایثار قرار دیا جاتا ہے، لیکن فرض وہ چیز ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، اور اگر کوئی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو وہ باز پرس ، دارو گیر اور سزا کا مستحق ہوتا ہے، اس لیے تعلیم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا ، یعنی اس میں کوتاہی پر سزا بھی دی جاسکتی ہے، جبکہ حقوق کے حصول میں کوتا ہی سزا کا موجب نہیں ہوا کرتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بچے کے بجائے تنبیہ اور دار و گیر گارجین کی ، کی جائیگی، کیونکہ بچوں کی طرف احکام متوجہ نہیں ہوتے۔ تعلیم کے اس مرحلے کے لیے ضروری ہے کہ سماج کے ہر طبقہ کے بچہ کو کم عمری میں ہی تعلیمی اداروں سے جوڑ دیا جائے ، انہیں زری کے کارخانوں اور ہوٹلوں سے اٹھا کر مکتب، مدرسہ اور اسکول کی میز و چٹائی پر بیٹھالا جائے؛ تاکہ ان کی بنیادی دینی تعلیم سلیقے سے ہو سکے اور ان کا بچپنہ ضائع ہونے سے بچ جائے ۔ پورے ہندوستان میں پھیلے مکاتب و مدارس الحمد للہ اس کام کو بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں اور عمدگی اور خوش اسلوبی سے انجام دےرہے ہیں، لیکن خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
دوسرے علوم وہ ہیں جن کی ضرورت ہمیں اپنی زندگی بسر کرنے میں پڑتی ہے، اور چونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس لیے ان علوم کو اس درجہ میں تو نہیں رکھا جا سکتا کہ سب کے اوپر اس کا حصول فرض قرار دیا جائے، لیکن سماجی اور تمدنی ضرورت کے اعتبار سے مہذب سماج کی تشکیل، عمرانی ضروریات اور زندگی برتنے کے فن کی واقفیت کے لیے الگ الگ علوم و فنون میں مہارت بھی ضروری ہے، ہمیں رہنے کے لیے گھر چاہیے؛ اس گھر کا نقشہ بنانے کے لیے اچھے انجینئر کی ضرورت ہے، بغیر انجینئرنگ میں مہارت کے ہم اس کام کو سلیقے سے نہیں کر سکتے، یہ سلیقگی مکتبی تعلیم سے اوپر اٹھ کر جدید عصری اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے لیے مسلمانوں کو انجینئرنگ کالج کھولنے بھی چاہیے اور اپنے بچوں کو اس شعبے میں تیار بھی کرنا چاہیے، کیونکہ آج یہ معاشی استحکام کا بڑا ذریعہ ہے، اور پوری دنیا میں سول اور مکینیکل انجینئرنگ کی مانگ بہت زیادہ ہے، اس میدان میں آگے بڑھنے کا سیدھا مطلب اعلیٰ تعلیم میں مہارت کے ساتھ مسلمانوں کے افلاس اور پس ماندگی کو دور کرنا ہے۔
اسی طرح ہماری صحت کا مسئلہ ہے، یہ ایک جسمانی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمارے پاس اچھے ڈاکٹر ہونے چاہیے، جو ہماری بیماریوں کا علاج کر سکیں، میڈیکل کی تعلیم کے لیے ہمارے پاس میڈیکل کالج بھی ہونے چاہیے اور اچھے ہسپتال بھی، دو چار مسلمانوں کے میڈیکل کالج اور دس بیس ہسپتال، آبادی کی ضرورت کو پوری نہیں کر پاتے، یقیناً ہسپتال کا کام انسانی بنیادوں پر ہوتا ہے اور مریض اور ہسپتال کے منتظمین کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کس علاقے اور کس مذہب کا ہے، لیکن ہسپتال بڑی تعداد میں ہوں گے تو مریضوں کو سہولت ہوگی اور کم خرچ میں علاج کے حصول کے لیے بھی سوچنا ممکن ہوگا، بہر حال دیگر سائنسی علوم میں مہارت کا ہے، ہمارے بچے ابتدائی تعلیم سے ثانوی تک جاتے جاتے گھر بیٹھنے اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے فکر مند ہو جاتے ہیں، اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ کم ہے، اس لیے ہماری حصہ داری اوپر میں کم ہوتی جا رہی ہے، آئی، ایس، آئی پی ایس، میں نمائندگی گھٹتی جا رہی ہے، سیاسی گلیاروں اور حکومت کے ایوانوں میں بھی آزادی کے بعد ہم مسلسل کم ہو رہے ہیں، ہمارے یہاں لیاقتوں کی کمی نہیں ہے، کئی فکر مندی، منصوبہ بندی اور اس حوصلے کی ہے جو انسان کو آگے بڑھنے کے لیے مہمیز کیا کرتا ہے، یہ مہمیز کرنے والی قوت الگ ہونی چاہیے، اس کے لیے ادارے، تنظیمیں، جماعتیں، شخصیتیں اور سماج کے مختلف طبقات کو آگے آنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی صلاحیتوں کو جدید اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے، یونیورسٹی، کالج، انٹر کالج اور عصری علوم کے اداروں کے کھولنے میں لگانی چاہیے، شرعی حدود و قیود کے ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی تعلیمی ادارے کھولنے چاہیے اور ان کو آگے بڑھانا چاہیے اس لیے کہ ایک مرد پڑھتا ہے تو فرد پڑھتا ہے، لیکن ایک لڑکی پڑھتی ہے تو گھر پڑھتا ہے، خاندان کی تعلیم کی بنیاد پڑتی ہے، اور آنے والی نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، ہمیں ذریعہ تعلیم کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے، انگلش میں بچے کی مہارت اور چیز ہے اور ذریعہ تعلیم اسے بنانا بالکل دوسری چیز، ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے حصول میں زیادہ معاون اور مؤثر ہے لیکن ہمارا رجحان انگلش میڈیم اسکولوں اور کونونٹوں کی طرف بڑھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے بچے بھی اردو زبان سے نابلد ہیں اور اردو کا بڑا سرمایہ ان کی پہونچ سے باہر ہے، ہمیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، یہ ایک تہذیب ہے، یہ ایک ثقافت اور کلچر ہے، اردو زبان سے نابلد رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک تہذیب اور ثقافت و کلچر سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں، ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہم اپنی مادری زبان کو فراموش نہ کریں، تاکہ ہماری تہذیب، مذہب اور ثقافت سے ہمارا رشتہ منقطع نہ ہو، ان تمام باتوں کے ساتھ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محض تعلیم کا حاصل کر لینا کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیں ہر سطح پر اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جس کے بغیر انسانی ہمدردی، خیر خواہی اور بھلائی کا تصور ناپید ہوتا ہے، غرض تعلیم کے ساتھ تربیت بھی انتہائی ضروری ہے، ان اداروں میں تربیتی نظام کو اعلیٰ پیمانے پر رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان اداروں سے فارغ ہونے والے صرف ڈاکٹر انجینئر سیاست داں، دانشور نہ ہوں؛ بلکہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے فرد سے لے کر سماج کے مختلف طبقات کو فائدہ پہونچا سکیں۔
ایک بڑا مسئلہ حصولِ تعلیم میں گراں قدر اخراجات کا ہے، مسلمانوں کی معاشی حالت عمومی طور پر ایسی نہیں ہے کہ وہ تعلیم کی انڈسٹری سے مطلوبہ علوم حاصل کر سکیں، اس کے لیے ان تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکیموں سے ہمیں طلبہ کو واقف کرانا چاہیے، جس سے فائدہ اٹھا کر ہمارے بچے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں، اور تعلیم چھوڑنے کے تناسب میں کمی آسکے، میرا خیال ہے کہ تھوڑی سی چوکسی اور مختلف تنظیموں کی طرف سے تھوڑی معلومات کی فراہمی سے ہم اس پریشانی سے چھٹکارا پا سکتے ہیں، ضرورت ہے عزم و ارادہ کی، عزم کمزور ہو اور ارادہ متزلزل تو مالی مشکلات راستے میں حائل ہو جائیں گی اور ان کو عبور کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے ہمیں اپنے جوانوں میں، طالب علموں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے کہ تم ساری رکاوٹوں دشواریوں اور مشکلات کے باوجود بہت کچھ کر سکتے ہو بقول شاعر:

چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزمِ سفر پیدا

ایک بڑا کام یہ بھی کرنے کا ہے کہ جو طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے معیاری تعلیم کا نظم کیا جائے، ادارہ جس سطح کا ہو اور جس طرح کا بھی، وہاں سے ہمارے فارغین اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے مکمل ہوں، ہم جانتے ہیں کہ یہ دور مقابلوں کا ہے، معیار کا ہے، کوالٹی نہیں رہے گی تو ہم کمپٹیشن کے اس دور میں بچھڑتے چلے جائیں گے، ہم جس معیار کی بات کرتے ہیں، وہ ہمارے مقابل سے کئی گنا آگے ہونا چاہیے، اس لیے کہ بحالی والا قلم جن کے ہاتھ میں ہے، وہ عام حالات میں ہم تک پہونچتے پہونچتے شل ہو جاتا ہے اور ہمارے طلبہ کو مختلف قسم کے تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہمیں ہیوی ایکسٹرا صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، میں بات صلاحیت کی کر رہا ہوں، صرف نمبرات کی نہیں، نمبرات کے باوجود کاغذات کے اس ٹکڑے کے پیچھے علمی صلاحیت کا فقدان ہو تو ہمیں کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہے، علم کے میدان میں، تحقیق کے میدان میں، تجربات کے میدان میں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و ملت کا مفید حصہ بننا ہے، یہ ایک تحریک ہے، یہ مہم ہے اس تحریک اور مہم کو کامیاب کرنے کے لیے سب کو آگے آنا چاہیے۔

زندگی کے ہر موڑ پر اسپیڈ بریکر کی ضرورت ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

زندگی کے ہر موڑ پر اسپیڈ بریکر کی ضرورت !  

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ 

دوستو ! 
اس دنیا میں مومن کی زندگی حدود و قیود، شرائط و آداب اور قواعد و ضوابط سے مربوط ہے اور وہ ان چیزوں کا پابند ہے ، نظم و نسق اور قانون و ڈسیلین اس کی زندگی کا حصہ اور لازمہ ہے، وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں شتر بے مہار نہیں ہوسکتا، شریعت کے گائڈ لائن ہیں، اختیارت اور حدود و آداب ہیں، یہ حلال ہے ، وہ حرام ، یہ جائز وہ ناجائز ہے ، یہ بہتر ہے ، وہ بہتر نہیں ہے ، یہ مکروہ ہے وہ مباح ہے ، ایسا کرو ، ویسا نہیں کرو ، اتنا کھاؤ اس سے زیادہ نہ کھاؤ، اتنا خرچ کرو اس زیادہ خرچ نہ کرو ، اتنا بولو ،اس زیادہ مت بولو، وہاں جاؤ، یہاں مت جاؤ ، ایسا پہنو ویسا مت پہنو ،اس سے جائز حد تک تفریح و مزاح کرو، اور اس سے ہنسی مذاق مت کرو، بلکہ اس کو اپنے لئے موت سمجھو، اس سے محبت کرو اور اس سے اللہ ہی کے لئے بعض رکھو، اس کو دو ،اس کو نہیں دو ۔ 
غرض جگہ جگہ یہ بورڈ اور تختی لگی ہے ۔،،تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا،، یہ اللہ کے بنائے ہوئے حدود ہیں اسے مت پھلانگو ۔
 حدیث شریف میں تو یہ الفاظ ہیں کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں حکم و قانون کی پابندی کی قید والی زندگی گزاریں اور دنیا سے زیادہ جی نہ لگائیں، جو حدود و احکام ہیں اس کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ اس دنیا کو اپنی جنت سمجھنا اور اس سے اپنا دل لگانا اور اس کے عیش کو اپنا مقصود بنانا کافرانہ طریقہ ہے ، یہ حدیث ایک آئینہ ہے ،جس میں ہر مومن اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے ۔قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اسی طرح مومن اس دنیا میں آزاد نہیں وہ پابند عہد ،وہ پابند شریعت ہے، وہ پابند دین ہے ، یہاں ان کی ہر جائز خوائش پوری نہیں ہوسکتی ، اس کے لئے جنت بنائی گئی ہے ، جہاں مومن کی ہر خواہش پوری ہوگی، وہ رب چاہی زندگی گزارنے کا پابند اور مکلف ہے اور انہیں من چاہی زندگی گزارنے سے روکا گیا ہے۔ 
بہر حال اوپر کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ مومن اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے، بلکہ اس کے لیے جگہ جگہ اسپیڈ بریکر ہے، جیسے ہی اس جگہ اور اس حد پر پہنچے اپنی زندگی کی رفتار کچھ دیر کے لئے کم کردے اور پھر آگے کی طرف پرواز کرے ۔
اسی حقیقت کے ایک مرد دانا نے اپنی تحریر میں بڑی حکمت کے ساتھ اپنے واقعہ سے جوڑ کچھ یوں لکھا ہے کہ: 
 "گاڑی تیزی سے سٹرک پر چلی جارہی تھی ۔
 اچانک ڈرائیور نے رفتار بہت کم کر دی ۔ اس کے بعد ایک ہلکا سا جھٹکا ہوا اور پھر گاڑی اپنی رفتار سے چلنے لگی ۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو سٹرک کے کنارے ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا رفتار روک (Speed Breaker) سڑک کے حادثے زیادہ تر گاڑی تیز دوڑانے سے ہوتے ہیں، چنانچہ سٹرکوں پر جگہ جگہ اونچا سا مینڈ کی مانند بنا دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو رفتار گھٹانے پر مجبور کیا جاسکے۔ اسی بنا پر اس کو اسپیڈ بریکر (رفتارہ توڑنے والا ) کہا جاتا ہے۔
یہ سڑک کے سفر کو محفوظ بنانے کا طریقہ ہے۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ زندگی کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے بھی اسپیڈ بریکر ہوں ۔ آدمی اپنے کو آزاد سمجھ کر بے لگام ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کو صاحب اختیار پاکر سرکشی کرنے لگتا ہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں رہوں، جو چاہوں بولوں اور جتنا چاہوں بولوں ، دوسروں کا وقت بھی میں ہی لے لوں، دوسروں کو بولنے کا موقع نہ دوں ۔ ایسی حالت میں اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو آدمی بالکل بے قید ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ آدمی کی زندگی میں اسپیڈ بریکر رکھے جائیں ۔ زندگی کے سفر میں اس پر جگہ جگہ روک لگائی جائے۔
اسلام کے احکام ایک اعتبار سے گویا زندگی کے لئے اسپیڈ بریکر ہیں۔ وہ آدمی کو بار بار روکتے ہیں تاکہ وہ اپنے معاملات میں حد سے باہر نہ جانے پائے، آدمی دنیا کے کام میں مشغول ہے کہ اچانک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر نماز کے لئے چلو۔ آدمی اپنے مال کو صرف اپنا سمجھ رہا ہوتا ہے کہ حکم آجاتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ دوسروں کے لئے نکالو۔ آدمی کھا رہا ہے اور پی رہا ہے کہ رمضان آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کھانا پینا چھوڑ دو ۔ آدمی اپنے عزیز و اقارب کے درمیان ہوتا ہے کہ حکم آتا ہے کہ سب کو چھوڑ کر حج کے لئے چلے جاؤ ۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب گویا زندگی کے لئے ایک قسم کے اسپیڈ بریکر ہیں۔ یہ انسان کی رفتار کو بار بار کم کرتے ہیں تاکہ وہ حد کے اندر رہے، تاکہ وہ انصاف اور احتیاط کے ساتھ زندگی گزارے ۔ تاکہ وہ ہر مرحلہ میں اعتدال کی زندگی پر قائم رہے" ۔
(بحوالہ کتاب، الربانیہ؛ صفحہ: ۲۶)
  لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ بعض لوگ زندگی میں اپنے لیے اسپیڈ بریکر کی ضرورت سمجھتے ہی نہیں، وہ اپنی رفتار میں مست رہتے ہیں اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بے پرواہ رہتے ہیں ۔
ایسے لوگ اپنے کو دانا سمجھتے ہیں کہ میری رفتار تیز ہے، میری پرواز بلند ہے، اس میں کبھی کمی نہیں آسکتی ہے ۔ 
حالانکہ وہ غفلت میں ہیں ، زندگی کی تیز رفتاری کے ساتھ بھی اسپیڈ بریکر کی سخت ضرورت ہوتی ہے ، جو اس ضرورت کو سمجھے گا اور اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب رہے گا اور اس کو جو ضروری نہیں سمجھے گا وہ کبھی بھی حادثہ کا شکار ہوسکتا ہے اور پٹری سے گر سکتا ہے ۔

Wednesday, April 8, 2026

انسان کی رعایت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسان کی رعایت 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو محبت و شفقت اور حکمت و دانائی کے ساتھ سمجھاؤ ،جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت ۔ 
اسلام ہمیشہ بشارت و خیر خواہی، یسر و سہولت اور نرمی و آسانی پر زور دیتا ہےاور سختی اور شدت سے منع کرتا ہے ۔ 
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
یسروا ولا تعسروا و بشروا 
ولا تنفروا (بخاری شریف حدیث نمبر 79)
یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو ۔ تم لوگوں کو خوشخبری دو ،تم لوگوں کو متنفر نہ کرو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رعایت کے پہلو کو ترجیح دی اور پوری زندگی اس کی تلقین کرتے رہے اور اس انداز سے صحابہ کرام کی تربیت فرماتے رہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں فجر کی جماعت میں اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غضب ناک ہوگئے ۔ حتیٰ کہ اس سے زیادہ غضب ناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا یا ایھا الناس ان منکم منفریں ، فمن ام الناس فلیتجوز، فان خلفہ الضعیف و الکبیر و ذا الحاجة،، (صحیح بخاری شریف حدیث نمبر 704)
یعنی اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں ۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے ،اس کو چاہیے کہ مختصر نماز پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے ،کوئی بوڑھا ، کوئی ضرورت مند ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی ، ایک آدمی لمبی قرآت سے گھبرا کر نماز سے الگ ہوگیا ۔اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا ۔ البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا:
فتان ،فتان ،فتان ،،( بخاری شریف حدیث نمبر 701)
یعنی فتنہ انگیز فتنہ انگیز فتنہ انگیز 
ان سب سے بڑھ کر ذرا اس واقعے کو سنئیے ۔ ایک دیہاتی شخص مسجد نبوی آیا اور مسجد نبوی کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا ۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا فانما بعثتم مبشرین ولم تبعثوا معسرین ۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6128)
یعنی تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو ۔
روایت میں ہے کہ قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی کی وجہ سے گر گئی تھی، قریش نے دو بارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا ، بلکہ چھوٹا کرکے بنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس کو دو بارہ بنائے ابراہیمی کے مطابق بنوا دیں ، مگر اس اندیشہ سے کہ کہیں کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس ہے ، اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کرسکیں ۔ آپ اس سے باز رہے یعنی اس کام سے رکے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:
لولا حداثة عھد قومک بالکفر لنقضت الکعبة ، و لجعلتھا علی اساس ابراھیم ،، (صحیح البخاری حدیث نمبر 1585/ صحیح مسلم حدیث نمبر 1333)
یعنی اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ 
ان احادیث اور واقعات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انسان کی رعایت کس درجہ رکھا گیا ہے اور عفو و درگزر کی کتنی تعلیم دی گئی ہے، نیز فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے کہ کہیں ماحول خراب اور پراگندہ نہ ہو ،کیسی حکمت اور رعایت اپنائی گئی ہے کہ ایک جائز کام کو بھی انجام دینے سے سدا للذرائع روک دیا گیا ۔
 دوستو ! 
انسانی معاشرہ محبت، رواداری، خیر خواہی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ جہاں سختی، نفرت اور انتقام کا غلبہ ہو وہاں دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ نرمی، درگزر اور رعایت سے دل جڑتے ہیں اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانی رعایت کو نہ صرف ایک اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی تعلیمات کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔ اسلام کی روح میں یسر، سہولت، محبت اور خیر خواہی رچی بسی ہے، اور یہی اوصاف ایک متوازن اور پرامن انسانی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت ہی جنم لیتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ انسانی فطرت کا یہی اصول اسلام کے اسلوبِ دعوت میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اسے حکمت، دانائی، شفقت اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ، نہ کہ سختی اور تحقیر کے ساتھ۔ یہ انداز بالکل اس شفقت بھرے رویے کی مانند ہے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اختیار کرتا ہے—جس میں اصلاح بھی ہو اور محبت بھی۔
اسلام کی بنیاد ہی آسانی اور سہولت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی تعلیم ہے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، ان پر سختی نہ کرو، اور انہیں خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔ یہی اصول انسانی رعایت کی اساس فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہرگز ایسا دین نہیں جو انسان کو ناقابلِ برداشت پابندیوں میں جکڑ دے، بلکہ یہ انسان کی فطرت، اس کی کمزوریوں اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معتدل اور قابلِ عمل نظام پیش کرتا ہے۔
اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ خود ظلم کا شکار بنو۔ اسی طرح نقصان پہنچانے اور بدلہ لینے کے بجائے درگزر اور اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام محض ظاہری قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتا ہے اور اسے ایک بااخلاق اور باوقار فرد بناتا ہے۔
اسلام کا لفظ خود “سلم” سے نکلا ہے، جس کے معنی امن، سلامتی، سکون اور بھائی چارے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اسلام کا ہر حکم اور ہر تعلیم انسانیت کے امن اور فلاح کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اسلام یہاں تک تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی سچ کے اظہار سے فتنہ و فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے روک لیا جائے، اور اگر کسی موقع پر ایسی نرمی یا مصلحت اختیار کرنے سے معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہو تو اس کی گنجائش بھی دی گئی ہے۔ یہ پہلو اسلام کی عملی حکمت اور انسان دوستی کو واضح کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ظلم کرنے والوں کو معاف کیا گیا، مجرموں کے ساتھ رعایت برتی گئی، اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو اصلاح کا موقع دیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اسلام انتقام کے بجائے اصلاح کو ترجیح دیتا ہے اور سختی کے بجائے نرمی کو اختیار کرتا ہے۔ تاہم، یہ رعایت ہرگز اس معنی میں نہیں کہ انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو معاشرہ انتشار اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔
درحقیقت، رعایت کا مفہوم یہ ہے کہ اصلاح کے عمل میں توازن برقرار رکھا جائے۔ اعمال کے ظاہری پہلوؤں میں نرمی اختیار کی جائے، جبکہ اصل توجہ انسان کے باطنی پہلو—یعنی نیت، اخلاص اور اخلاق—پر دی جائے۔ کیونکہ محض ظاہری اصلاح سے دلوں کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی، بلکہ جب اندر سے تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر خود بخود ظاہر پر بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔
انسانی رعایت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ دین کو قابلِ عمل اور دلکش بنا دیتی ہے۔ جب انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالا جا رہا، بلکہ اس کی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق رہنمائی کی جا رہی ہے، تو وہ خوش دلی کے ساتھ دینی تعلیمات کو قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر دین کو سختی اور جبر کے ساتھ پیش کیا جائے تو انسان اس سے متنفر ہو سکتا ہے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو انسانی رعایت صرف اسلام ہی کا خاصہ نہیں بلکہ تمام مذاہب اور اخلاقی نظاموں میں اس کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ لیکن اسلام اس معاملے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ اس نے رعایت کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عملی اصول کے طور پر متعارف کرایا ہے، اور اس کی مکمل رہنمائی فراہم کی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی رعایت دراصل انسانیت کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور معاشرے کو امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بناتی ہے۔ اسلام نے جس وسعت، حکمت اور توازن کے ساتھ اس تصور کو پیش کیا ہے، وہ اسے ایک عالمگیر اور ابدی پیغام بنا دیتا ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا شدت، تعصب اور نفرت کا شکار ہے، انسانی رعایت کا یہی پیغام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

Saturday, April 4, 2026

ایثارِ نفس: انسانی عظمت کا درخشاں عنوان محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایثارِ نفس: انسانی عظمت کا درخشاں عنوان

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، یہ انسانی عظمت کا ایک درخشاں عنوان ہے، ایثار نفس کا مطلب ہے اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا،اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کا حق پورا کر دینا، یہ صفت ایک فرد کے لئے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے ،جو کسی گروہ اور طبقہ کو تاریخ ساز گروہ اور مثالی طبقہ بناتی ہے ۔
قرآن مجید کی سورہ حشر میں اعلیٰ انسانوں کی جو صفات بتائی گئی ہیں ۔ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثار نفس بھی ہے ۔اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیت ہے ،، ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصة ،، یعنی اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں ۔ 
اگر چہ یہ آیت انصار مدینہ کے حوالے سے نازل ہوئی تھی ،مگر اس کا حکم عام ہے ۔
آج کی مجلس میں ہم ،،ایثار نفس،، کے تعلق سے کچھ وضاحت کریں گے اور سماج میں اس کی ضرورت کے تعلق سے خامہ فرسائی کریں گے ۔ 
دوستو ! 
 انسانی اوصاف میں بعض صفات ایسی ہیں، جو فرد کو محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک مثالی انسان بناتی ہیں۔ انہیں اعلیٰ اور پاکیزہ صفات میں ایک نمایاں صفت ایثارِ نفس ہے۔ ایثار کا مفہوم محض کسی کو کچھ دے دینا نہیں بلکہ اپنی ضرورت کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو انسان کو خود غرضی اور مفاد پرستی کی تنگ حدود سے نکال کر وسیع انسانی ہمدردی کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔
قرآن مجید میں اس صفت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
"ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ"
یعنی وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، اگر چہ وہ خود تنگ دستی کا شکار ہوں۔
یہ آیت ایثار کے اس بلند معیار کو واضح کرتی ہے، جہاں انسان اپنی ذاتی ضرورت کے باوجود دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتا ہے۔ درحقیقت یہی وہ روح ہے، جو انسانی معاشرے کو باہم جوڑتی اور اسے استحکام بخشتی ہے۔
ایثارِ نفس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کے حق کو پورا کرے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی رویہ ہے جو نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتا ہے ،بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک ایسا فرد جو ایثار کو اپناتا ہے، وہ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتا ہے، ان کی ضرورتوں کا احساس کرتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو اعلیٰ انسانیت کے درجے پر فائز کرتا ہے۔
سماجی نقطۂ نظر سے ایثارِ نفس ایک نہایت اہم صفت ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، خوشحال اور متوازن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد میں ایثار کا جذبہ پایا جائے، وہاں خود غرضی، حسد، کینہ اور بخل جیسی برائیاں پنپ نہیں سکتیں۔ ایسے لوگ نہ صرف دوسروں کی مدد کرتے ہیں، بلکہ ان کی کامیابی پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ دوسروں کو دیتے ہیں، اپنی سہولت قربان کرکے دوسروں کو راحت پہنچاتے ہیں اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہ کر انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ایسے معاشرے میں اجتماعی ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ جب افراد ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ،تو وہ معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط خاندان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بھائی بہن کی طرح محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی اور ہمدردی ہوتی ہے، جو کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
ایثارِ نفس بظاہر ایک قربانی معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اسی میں انسان کے ذاتی فائدے کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو شخص ایثار کرتا ہے، وہ لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔ اور جب دل جیت لئے جائیں، تو دنیا کی کوئی بھی کامیابی اس کے مقابلے میں اہم نہیں رہتی۔ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہ کامیابی ایثار کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ وہی اقوام ترقی کی بلندیوں کو چھوتی ہیں جن کے افراد میں ایثار اور قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ایسی اقوام مشکلات کا مقابلہ متحد ہو کر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ، جہاں ہر فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو، وہاں انتشار، بے چینی اور زوال جنم لیتا ہے۔
آج کے دور میں جب مادہ پرستی اور خود غرضی نے انسانی اقدار کو متاثر کیا ہے، ایثارِ نفس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صفت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں ایثار کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کا آئینہ دار ہو۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایثارِ نفس محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہ انسان کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، معاشرہ کو ترقی دیتا ہے اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں کامیاب اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایثار کے اس سنہری اصول کو اپنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو جوڑتا اور انسانیت کو زندہ رکھتا ہے۔
انسانیت کی مجموعی ترقی کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے ، جس سماج میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں ،وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کرکے اس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے ۔

Friday, April 3, 2026

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری ڈاکٹر ریحان غنی

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری

ڈاکٹر ریحان غنی

          میں جمعرات کو  ارریہ ضلع کے گیاری میں   اپنے دیرینہ اور قریب ترین  دوست اقبال اختر کے بیٹے عزیزم کاشف سلمہ کے ولیمہ میں شریک ہوا ۔ میں ابھی اسی گاؤں میں ہوں۔ جمعہ کی صبح میں پٹنہ واپسی ہو گی ۔ ان شاءاللہ ۔ اقبال اختر اسی ( 80 )  کی دہائی میں  پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبہ  اردو میں میرے کلاس فیلو تھے ۔ وہ 2015 سے 2018 تک بہار اردو اکادمی کے معزز رکن بھی رہ چکے ہیں ۔ میں 1982 میں ارریہ میں ان کی  برات میں بھی شریک ہوا تھا اور پھر ان کے بیٹوں کے ولیمے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔   مجھے ولیمہ کے موقع پر یہاں کی مسجد انصار ، پورب  ٹولہ   میں کئی وقت کی نماز میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ مجھے مسجد میں نماز پڑھتے وقت شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ائمہ اور  علماء آج بھی  مسجد سے غفلت برت رہے ہیں ۔ انہوں نے نہ تو نمازیوں کی تربیت پر توجہ دی اور نہ  مسجد آنے والوں سے کوئی سماجی سروکار یا رشتہ  رکھا۔ بس امامت کی ، خطبہ دیا ، نماز پڑھا اور پڑھایا اور چلے گئے ۔ اگر ان محترم شخصیات نے تھوڑی توجہ دی ہوتی تو لوگ شائستہ کپڑے پہن کر مسجد  آتے ، جیسے تیسے کپڑے پہن کر آنے سے گریز کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ عام طور پر اور نوجوان خصوصی طور پر ایسے کپڑے پہن کر مسجد آنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے جس سے ستر پوشی بھی نہیں ہوتی ۔ اس کا احساس یقینآ سب کو ہوگا۔ ائمہ کرام اور علماء نے بھی محسوس کیا ہو گا کہ ہماری مسجدوں سے تہذیب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے یہ بات لکھنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ہماری مسجدوں میں وقت پر نماز شروع ہونے کے علاوہ کچھ بھی اچھی بات نہیں رہ گئی ہے ۔ کسی بھی مسجد میں وقت مقررہ پر آپ کو جماعت  کھڑی ملے گی۔ ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں ہو گی۔  ورنہ امام کی سرزنش ہونے لگے گی۔ اس کے علاوہ ہر  مسجد کی حالت ایک جیسی ہے۔ وضو کرتے وقت لوگ دھڑلے سے پانی بہاتے ملیں گے، ایک مرتبہ جو نل کھولا تو پھر پیر دھو کر ہی نل بند کیا  ۔ اس دوران اتنا پانی بہہ  گیا ہوگا کہ اس سے ایک آدمی نہا سکتا تھا۔ ہمیں مسجدوں میں  بیٹھنے کا سلیقہ بھی  نہیں سکھایا گیا۔ جو جہاں چاہتا ہے بیٹھ جاتا ہے اور جیسے چاہتا ہے بیٹھتا ہے ۔ پہلی دوسری صف خالی ملے گی ۔ لوگ مختلف صفوں میں بیٹھے ملیں گے ۔ لوگ کندھے پھلانگ پھلانگ کر اگلی صفوں  میں جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہماری مسجدوں میں اب یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ بہار کے سابق امیر اور نامور خطیب ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ علیہ رحمہ  کا ایک کتابچہ میں نے بہت پہلے پڑھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا " نماز قرب الہٰی کا ذریعہ" اس کتابچے پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ نماز قرب الہٰی کا ذریعہ تو ہے ہی ، یہ سماجی رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز ، پھر ہفتے میں ایک دن جمعہ کو  جامع مسجدوں میں ، اس کے بعد سال میں دو دن عید گاہوں اور پھر سال میں ایک مرتبہ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم دے کر اس امت کو محلے سے لے کر عالمی سطح تک  جس مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ جوڑا ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ۔ لیکن نماز کی سماجی اہمیت کو بھی ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کا احساس مجھے پہلے بھی اکثر ہوتا رہا ہے اور جمعرات کو  ارریہ ضلع کی گیاری جامع مسجد میں شدت سے ہوا۔ گیاری ایک گاؤں ہے جو ارریہ زیرو مائل کے قریب ہے ۔ گیاری کی  اس مسجد میں ظاہر ہے کہ گاؤں اور اس کے آس پاس کے مسلمان نماز پڑھتے ہوں  گے ۔ اس لئے اس مسجد میں باہری نمازیوں کی شناخت مشکل نہیں ۔ لیکن وہاں میرا کسی سے تعارف  نہیں ہوا ۔ حالانکہ لوگوں نے محسوس کیا کہ میں اس گاؤں کا رہنے والا نہیں ہوں ۔ میرے خیال میں جب مسجد میں کوئی نیا نمازی نظر آئے تو اس مسجد کے امام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سے  ملے ، اس کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے  کہ وہ اس علاقے میں کس لئے آیا ہے۔ یہ کام شہروں کی مساجد اور کثیر آبادی والی مساجد میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن چھوٹی چھوٹی مساجد میں یہ کام  ائمہ اور علماء کو کرنا چاہئیے ۔ اس سے لوگوں کو مسجدوں کی سماجی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے گا اور آپسی میل جول سے آپس کے  مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔

Tuesday, March 31, 2026

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایک مشہور عالم دین اور اسلامی اسکالر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں : 
مسجد میں ایک اہل حدیث بزرگ تھے۔ نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ صف میں میرے پاس تھے۔ حسب معمول میرے دونوں پاؤں قریب قریب تھے۔ انھوں نے اپنا پاؤں پھیلانا شروع کیا ، یہاں تک کہ میرے پاؤں سے ملا دیا۔ ہر بار وہ قیام میں ایسا ہی کرتے رہے۔ 
    نماز کے بعد انھوں نے کسی قدر تلخ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کی نماز درست نہیں ہوتی۔ حدیث میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور آپ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ قدم سے قدم ملانا ایک علامتی حکم ہے۔ اصل مقصد تو دل سے دل ملانا ہے۔ آپ نے قدم سے قدم ملانے کا مسئلہ تو جانا مگر دل سے دل ملانے کا مسئلہ آپ نہ جان سکے۔
(ڈائری مولاناوحیدالدین خان 9 اپریل 1992ء)
دوستو ! 
انسانی زندگی کی کامیابی، کامرانی، بلکہ ساری خوبصورتی اور معنویت دل کی کیفیت سے جڑی ہوئی ہے۔ بظاہر انسان کا ظاہر کتنا ہی اچھا اور سجا ہوا کیوں نہ ہو، اگر اس کا دل صاف نہیں، تو اس کی شخصیت ناقص اور ادھوری رہ جاتی ہے۔ دل ہی وہ مرکز اور محور ہے، جہاں سے خیالات، جذبات اور اعمال جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں دل کی صفائی اور اصلاح کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو دنیا میں سکون و اطمینان اور راحت عطا کرتا ہے، بلکہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بظاہر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، دوستی کا اظہار کرتے ہیں، دستر خوان پر خورد و نوش بھی کرتے ہیں ،لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ زبان پر محبت کے دعوے ہیں، مگر دلوں میں حسد، بغض اور نفرت کے بیج پنپ رہے ہیں۔ یہی وہ اندرونی بیماریاں ہیں، جو انسان کو بے سکون اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیتی ہیں۔
دل کا صاف ہونا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک روحانی اور ایمانی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، کامیاب وہی ہوگا جو "قلبِ سلیم" لے کر حاضر ہوگا۔ یہ قلبِ سلیم دراصل ایسا دل ہے جو تعصب، کینہ، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک ہو۔ ایسا دل جو دوسروں کے لیے خیر خواہی رکھتا ہو اور اللہ کی رضا کو مقدم جانتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے بھی دل کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی اصل اصلاح ظاہری اعمال سے زیادہ باطنی کیفیت کی اصلاح میں مضمر ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کے دل کو کیا ہو گیا ہے؟ کیوں دلوں میں اتنی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی، مفاد پرستی اور خود غرضی ہے۔ انسان نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ دولت، شہرت اور ذاتی مفاد کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے میں دوسروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریبی رشتوں میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں، دوستیاں وقتی مفادات تک محدود ہو گئی ہیں، اور اخلاص ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسرے سے دور ہیں۔ تعلقات کی بنیاد سچائی اور خلوص کے بجائے دکھاوے اور مفاد پر قائم ہو گئی ہے۔ بظاہر محبت کا اظہار ہوتا ہے، لیکن دل میں بدگمانی اور رقابت چھپی ہوتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
دل کی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری حسد ہے۔ یہ انسان کو اندر ہی اندر جلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح بغض اور کینہ انسان کو سکون سے محروم کر دیتے ہیں۔ تکبر انسان کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے اور خود پسندی اسے حقیقت سے بے خبر رکھتی ہے۔ یہ سب بیماریاں مل کر انسان کے دل کو سیاہ کر دیتی ہیں، اور پھر وہ نہ خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔
اس صورتحال کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ خود سے سوال کریں کہ کیا ہمارے دل میں کسی کے لئے نفرت تو نہیں؟ کیا ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں یا دل میں تکلیف اور چبھن محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اپنے تعلقات میں مخلص ہیں یا صرف ظاہری طور پر تعلق نبھا رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں اپنی اصلاح کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
دل کی صفائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم در گزر کرنا ،معاف کرنا سیکھیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کریں اور اپنے اندر درگزر کا جذبہ پیدا کریں۔ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں، کیونکہ جب دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے، تو اس میں نفرت کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ اسی طرح سچائی، دیانت داری اور خلوص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی دل کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دلوں کا ملنا ہاتھوں اور قدموں کے ملنے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو فاصلے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے بلکہ اسے لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت دلوں کی اصلاح کی ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے اندر زندہ کرنا ہے کہ اصل کامیابی ظاہری چمک دمک میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی میں ہے۔
اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو یقیناً ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...