Translate

Monday, July 4, 2022

تربیت اولادمیں والدین کا کردار

محمدامام الدین ندوی
 مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
 
       اولاد اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت،ورحمت ہے۔ اس کا صحیح اندازہ اسے ہےجس کا گود اس نعمت ورحمت سے خالی ہے۔جن کے گود ان نعمتوں سےخالی ہیں انہیں دعاء کرنی چاہئے۔"رب لا تذرنی فرداوانت خیرالوارثین" "رب ھب لی من الصالحین" "ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ آعین وجعلنا للمتقین اماما"
مذکورہ دعائیں انبیاءعلیھم السلام نے کی ہیں۔ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہئے۔
     بچہ فطرۃ اسلام پے پیدا ہوتا ہے۔والدین اس کو جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھال دیں۔اسے موحدبنائیں،مشرک بنائیں،آتش پرست بنائیں،یہودی بنائیں،نصاری بنائیں۔دیندار یا بے دین بنائیں۔
   والدین بچوں کو جس قالب میں ڈھالنا چاہیں گے بچے ان میں ڈھل جائیں گے۔بچےکی ضرورت سب کو ہے۔شادی کے بعد انسان کی پہلی ترجیح اولاد ہوتی ہے۔اس کی ساری خوشیاں حصول اولاد پر مرکوز ہوتی ہیں۔اولاد کی خوش خبری ملتے ہی پورے کنبہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔یقینا اولاد کی نعمت بہت بیش بہا ہے۔۔جو لوگ اس نعمت سےمحروم ہیں وہ اسے پانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کےیہاں چکر لگاتے ہیں۔مختلف قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔دعاءوتعویذ کاطویل سلسلہ چلتا ہے۔نذرونیازاور منتیں مانی جاتی ہیں۔مزارات کے چکر کاٹے جاتے ہیں۔زندےپیرسےلیکر مردہ پیر کے آستانے کی حاضری دی جاتی ہے۔لوگ غیراللہ تک کا سہارا لیتے ہیں۔یہ بہت بڑا ظلم ہے۔اللہ جب ،جسے،جیسے،چاہے اولاد سے نوازدے۔یہ صرف اس کی طاقت وقدرت ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے صرف بیٹا دیتا ہے۔جسے چاہتاہے صرف بیٹیاں عطاکرتاہے۔جسے چاہتاہے بیٹےاور بیٹیاں دونوں عطا کرتاہے۔اور جسے چاہتاہے بانجھ بنادیتا ہے۔یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہےاللہ کا فرمان ہے "للہ ملک السموات والارض یخلق مایشاء یھب لمن یشاءاناثا ویھب لمن یشاء الذکور او یزوجھم ذکراناواناثا ویجعل من یشاء عقیما"۔جب انسان کواولاد ملتی ہے تو اس کی حقیقی قدر نہیں ہوتی ہے۔اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔اس کی قدر یہ ہے کہ اس کی بہتر تعلیم تو ہوہی کمال درجہ کی تربیت بھی ہو۔یہی تربیت اولاد کو والدین کے لئے آنھوں کی ٹھنڈک،اور تسکین قلب ودماغ بناتی ہے۔بڑھاپے کا حقیقی سہارا بناتی ہے۔لوگوں میں عزت واحترام اور وقار عطا کرتی ہے۔ذخیرۂ آخرت بناتی ہے۔
    والدین کا بہترین تحفہ اولاد کی اچھی تربیت ہے۔والدین اولاد کو مہذب،باادب،بنادے یہی اولاد کے لئے سب سے بڑا تحفہ ہے۔نبی صلعم نے فرمایا"مانحل والد ولدا من نحل افضل من ادب حسن" والدکابہترین تحفہ اولاد کی اچھی تربیت ہے۔(مشکوۃشریف)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی تربیت پر بہت زور دیاہے۔بڑی تاکید کی ہے۔آپ صلعم نے فرمایا کہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا کوئی چیز ایک صاع صدقہ کرنے بہتر ہے۔"یؤدب الرجل ولدہ خیر من ان یتصدق بصاع"۔(ترمذی)
     صدقہ کی فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے ۔پر اولاد کی اچھی تربیت کو آپ نےصدقہ کرنے پر فوقیت دی ہے۔ اس سے اولاد کی اچھی تربیت کہ اہمیت کا بہ خوبی پتہ چلتا ہے۔
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے اکرام پر بھی زور دیا ہے۔اور اچھا ادب سکھانے کی تاکید کی ہے۔فرمایا "اکرموا اولادکم واحسنوا ادبھم" اولاد کی عزت کرو اور اچھا ادب سکھاؤ۔اسے باادب بناؤ(ابن ماجہ)
اولاد کی نششت وبرخاست پر والدین کو خاص دھیان دینے کی ضرورت۔ان کے دوست واحباب کا حلقہ کیسا ہے؟ اس سے بھی باخبر ہونے کی ضرورت ہے۔صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔اچھی صحبت ،اچھا بناتی ہے اور بری صحبت برا بناتی ہے۔اولاد نافرمان بنتی ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں بروں کی صحبت کارفرما ہوتی ہے یا تربیت میں بڑی چوک ہوتی ہے۔وہ والدین کامیاب ہیں جو اپنی اولاد کو اچھی صحبت میں رکھتے ہیں۔
 انسان دوستوں کے اثر کو قبول کرتا ہے۔ان کی عادت وخصلت کو اختیار کرتا ہے۔
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل"
     انسان اپنے دوستوں کے طور طریق کو اختیار کرتا ہے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہئے کہ اس کی دوستی کیسے لوگوں سے ہے۔(ابوداؤد)
      والدین کا اپنی اولاد کی تربیت میں اہم رول،و کردار ہوتا ہے۔جو والدین اس طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ان کی اولاد کامیاب ہوتی ہے۔ 
    اولاد کو بچپن ہی سے دینی غذا دینا چاہئے۔اسلامی تہذیب سے روسناش کرانا چاہئے۔ کھانے،پینے کے آداب،کپڑے،جوتےچپل، پہننے اور اتارنے کے آداب،بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کے آداب،مسجد میں آنے جانے کے طریقے ذہن نشیں کرانا چاہئے۔بڑوں کا ادب،کیسے کرنا ہے،اپنے سے چھوٹوں سے کس طرح پیش آناہے یہ گھریلو ماحول سے ملے گا اس لئے گھر کی فضا صاف ستھری ہونی چاہئے۔چھوٹی چھوٹی دعائیں سکھائی جائیں اور روز مرہ زندگی میں انہیں استعمال کرائے جائیں۔سلام کے طریقے سکھائے جائیں۔آداب گفتگو بھی بتلایا جائے۔یہ اس وقت ممکن ہوگا جب والدین،یا گھر کے دوسرے افراد ان آداب سے واقف ہوں گے۔
     موجودہ مسلم سماج خود ان آداب سے ناواقف ہے اور واقفیت حاصل کرنا بھی نہیں چاہتا ہے۔بچہ صحیح سے چل بھی نہیں پاتا کہ اسے"پلے اسکول"(Play School)کے حوالے کردیا جاتا ہے۔جب پڑھنا شروع کرتا ہے تو موٹی رقم دے کر عیسائی مشنری کے سپرد کیا جاتا ہے۔وہاں اسلام کے خلاف ان کے ذہن کو مسموم کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔بچہ کودونوں ماحول(گھر اوراسکول)میں اسلامی تربیت میسر نہیں ہوتی ہے۔اس لئے اگروالدین زمانہ کے شانہ بشانہ چلنا چاہتے ہیں تو چلیں پر اپنے بچوں کے لئے دینی خوراک کا بھی معقول انتظام کرے۔جب بچہ بڑا ہوتاہے تو اسلامی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ سماج کے لئے بوجھ بن جاتا ہے۔تعلیم میں وہ بہت آگے ضرور چلاجاتا ہے۔پیسے بھی ٹھیک ٹھاک کماتاہے پر تربیت سے کورا اور عاری ہوتا ہے۔اس لئے صالح معاشرے کی تشکیل نہیں ہوپاتی ہے۔انسانیت مفقود ہوجاتی ہے۔حیوانیت سر چڑھ کے بولتی ہے۔آئے دن ہوش ربا خبریں آتی ہیں۔پروفیسر صاحب نے چار منزلہ عمارت سے ماں کو نیچے پھینک دیا جس سے اس کی موت ہوگئ۔اسکول کے استاد نے اپنی بیٹی کو ہوس کا شکار بنایا۔فلاں ٹیچر چند بچوں کی ماں کو لیکر چلا گیا وغیرہ۔یہ وہ خریں ہیں جو سوشل میڈیا پر آجاتی ہیں۔ورنہ دلدوز واقعات ہر روز رونما ہوتی ہیں جن کا اتا پتہ نہیں ہوتا۔اور ایسی نازیباحرکت کوئی جاہل نہیں بلکہ تعلیم یافتہ لوگ کرتے ہیں۔یہ صحیح تربیت نہ ہونے کا ثمرہ ہے۔ان دنوں جگہ جگہ عصری دانش گاہیں موجود ہیں۔اور مختلف سبجیکٹ کے لئے الگ الگ اساتذہ ہیں کاش ان دانش گاہوں میں ایک سبجیکٹ ادب سکھانے کابھی ہوتا تو سماج جہنم نما نہیں بنتا۔تعلیم وتربیت لازم وملزوم شئے ہے۔ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر شعبے میں صحابہ کی تربیت کی ہے۔
 ایک بچہ آپ کے ساتھ دستر خوان پر کھا رہاتھا۔اس کا ہاتھ پوری پلیٹ میں گھوم رہا تھا۔آپ نے اس بچہ سے کہا اے لڑکے بسم اللہ پڑھو اور سامنے سے کھاؤ۔ایک آدمی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنا شروع کردیا۔لوگ اس کی طرف روکنے کے لئے لپکے آپ صلعم نے لوگوں کو روکا جب وہ پیشاب کرکے فارغ ہوا تو آپ صلعم نے اسے سمجھایا کہ مسجد میں پیشاب نہیں کرنا چاہئیے۔ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ کے سامنے زنا کی خواہش کی آپ صلعم نے فرمایا اگر کوئی تمہاری ماں کے ساتھ وہی کام کرے تو تمہیں کیسا لگےگا۔ایک دفعہ ایک بچہ دوسرےکےکھجور کے باغ میں جاکر کھجور توڑ رہاتھا آپ تک شکایت پہونچی آپ نے اس بچہ کو بلایا اور پیار سے سمجھایا کہ دوسروں کی چیزیں بغیر اجازت کے نہیں توڑتے۔اس بچے نے کہا اےاللہ کے رسول آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔
     والدین اور گھر کے بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو معمولی غلطیوں،لغزشوں، پر حکیمانہ، مشفقانہ،تادیب کرے۔اچھے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ اللہ کی وحدانیت،اور رسول صلعم کی رسالت،ان کےرگ وریشے میں داخل کردیں۔شرک،بدعات وخرافات،رسم ورواج،سے اسے نفرت پیدا کرائیں۔عظمت صحابہ، تکریم اولیا کاملین،ہر بڑوں کے احترام کا جذبہ ان کی زندگی کا مقصد بن جائے۔ورنہ آنے والی آندھی کے لپیٹ وچپیٹ،سےبچنا اور اپنے ایمان کو بچانا بہت مشکل ثابت ہوگا۔پھر وہ اولاد ہم سب کے لئے،سماج ومعاشرے کے لئے بڑی مصیبت بن جائے گی۔
      حضرت یعقوب علیہ السلام پر جب موت کےآثارظاہرہوئے تو انہوں نے اپنے تمام لڑکوں کو بلایا اور کہا کہ میرے مرنے کے بعد تم لوگ کس کی عبادت کروگے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں گے اسی کے حکم پر سرتسلیم خم کریں گے ۔قرآن نے اس کا نقشہ اس انداز میں کھینچا ہے۔"ام کنتم شھداء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالوا نعبد الھک والہ آبائک ابراہیم واسماعیل واسحاق آلہ واحدا ونحن لہ مسلمون"(سورۂ بقر)
       حضرت یعقوب علیہ السلام نبی ہیں اولادیں بھی نبی ہیں اس کے باوجود ان کے ایمان کی فکر کا یہ عالم ہے ۔ہمیں بھی اپنی اولاد کے ایمان کی فکر ہونی چاہئے۔
     حضرت لقمان علیہ السلام کو بھی اپنے بیٹے کے ایمان کی فکر دامن گیر ہوئی تو بیٹے کو اس طرح نصیحت کی "اذقال لقمان لابنہ وھو یعظہ یبنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم "(سورۂ لقمان)
      ترجمہ "یاد کیجئے اس وقت کو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو ناصحانہ انداز میں کہا اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو پاٹنر اور ساجھےدار مت بنانا شرک بہت بڑا ظلم ہے"
     "ویبنی ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ اوفی السموات اوفی الارض یات بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر"(لقمان)
      ترجمہ اور اے میرے بیٹے اگر رائی کا ایک دانہ کسی پتھر یا آسمان،یازمین،کے اندر ہو اللہ اپنی قدرت سے اسے لے آئے گا بیشک اللہ باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔
       "ویابنی اقم الصلوۃ وأمر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذالک من عزم الامور" (لقمان)
   ترجمہ اے میرے بیٹے نماز قائم کرنا،بھلائی کی تلقین کرتے رہنا،برائی سے بچنا،آنے والے مصائب پر صبر کرنا،بیشک یہ (صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
    "ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ان اللہ لایحب کل مختال فخور"(سورہ لقمان)
         ترجمہ لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین اکڑ کر مت چل بیشک اللہ تکبر کرنے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتاہے۔
      "واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوۃ الحمیر"(لقمان)
      اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو،اوراپنی آواز پست رکھو بیشک ناپسندیدہ آواز کدھے کی آواز ہے۔
     اولاد کی تربیت کا یہ ناصحانہ انداز بہت نرالا ہے۔قرآن کا یہ حکیمانہ انداز بہت پیارہ ہے۔ہر فرد اس نصیحت کو سامنے رکھ کر اپنی اولاد کی تربیت کرے۔یہ صالح معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار نبھائے گی۔
   ہمارے گھر وسماج اسلامی تربیت سےمکمل بے بہرہ ہیں۔اسلامی تربیت کی آراستگی فضول اور لہو سمجھتے ہیں۔جس کا نتیجہ ہے کہ ہماری زندگی میں اسلام دوردرتک نظر نہیں آتاہے۔ ہمارے بچے،بچیاں،انارکی،فسادوبگاڑ،بےراہ روی،فکری ارتداد،اسلامی تعلیمات سےدوری،جیسے مہلک وباؤں میں گرفتار ہیں۔فنا ہونے والی دنیا کو آخرت کی بقا پر ترجیح دیتی ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب کوتعلیم کے ساتھ اولاد کی اچھی سے اچھی تربیت کی توفیق دے آمین۔

قربانی اللہ کی اطاعت کا عظیم مظہر

 
محمدامام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی 
9801805853
       عید الاضحٰی ہرسال ماہ ذی الحجہ کے دسویں تاریخ کو ادا کیا جاتا ہے۔عیدالاضحٰی سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال،عظیم ترین،سنت ہے ۔یہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔اس طرح کی قربانی نہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی نے دی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد ۔یہ مطالبہ اللہ کا تھا اور اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پورا کرنا تھا۔یہ محیرالعقول فرمائش خالق کائنات کی طرف سے تھا۔جو خود مختار ہے۔پاور فل ہے۔کسی کا محتاج نہیں ہے۔فرمائش بھی ابو الانبیاء سے تھی۔جنہیں شروع سے ہی مختلف امتحانات سے گزرنا پڑا۔یہ فرمائش عجب نوعیت کی تھی۔زروجواہرات،زمین جائیداد،مال ودولت،اپنی جان،کو قربان کرنا نہیں تھا بلکہ بڑھاپے کا سہارا،دل کا ٹکڑا،آنکھ کی ٹھنڈک،مستقبل کاخواب،گھر کی رونق،باپ کا پیار،ماں کی ممتا،صفاومروہ کی،سعی،اور زم زم کے موجد،سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تھا۔عقل انسانی حیران تھی کہ پوری تاریخ انسانی میں اس طرح کا روح فرساں واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ایک باپ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں حقیقت میں ذبح کرے گا؟۔انسانی تاریخ شروع سے آج تک جانوروں کو ذبح کرتے آئی ہے۔بھلا انسان بھی ذبح ہوگا ؟۔اللہ کا ایسا حکم اس سے پہلے کسی کو نہیں ملا۔
       یہ نوٹیفیکیشن اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام جاری ہوا جس کا موضوع حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھا۔
  یہ نوٹیفیکیشن غیر معمولی اور اہم ترین تھا۔جس کے نام جاری ہوا وہ بھی غیر معمولی شخصیت تھی۔اور مضمون بھی غیر معروف تھا۔ 
     حضرت نے اس نوٹیفیکیشن کے مضمون کو اپنے لاڈلے کے سامنے پڑھ سنایا قرآن اس کی شہادت یوں دیتا ہے"یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذاتری "
   بیٹے میں بےخواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں (اللہ کا یہ حکم ہے)تمہاری کیا رائے ہے۔
    بیٹے نے جواب دیا "یا ابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شاءاللہ من الصبرین "
      ابا آپ اس حکم کی تعمیل کیجئے ان شاءاللہ آپ مجھے وفادار پائیں گے۔
    آپسی گفتگو اور رضامندی، کے بعد امتثال حکم خداوندی کی تکمیل کچھ اس طرح کی گئی۔
    باپ بیٹے دونوں سوء منی روانہ ہوئے۔دونوں مکمل تیاری میں گھر سے نکلیں۔اپنے اپنے دائرے میں دونوں برگزیدہ بندے ثابت قدم۔نہ زندگی کے ختم ہونے کا کوئی ملال اور نہ کوئی خوف دہشت۔نہ بیٹے کی جدائی کا غم اور دردوالم اور نہ ہی انقطاع نسل کی کوئی فکر۔بس ایک ہی دھن " اللہ کے حکم کی تعمیل"۔اس پر ثابت قدمی کی فکر۔
   دونوں منی پہوچیں۔حسب وعدہ باپ نے اپنے ہاتھ میں چھری سنبھالا۔بیٹا چت لیٹ گیا۔بیٹے نے باپ سے کہا کہ آپ آنکھ پر پٹی باندھ لیں کہیں ہماری محبت غالب نہ آجائے اور آپ سے چھری نہ چل سکے۔والد بزرگوار نے ایساہی کیا۔اور حلقوم اسماعیل پر چھری چلادی۔اللہ تعالٰی نے چھری کے کاٹنے کی صلاحیت صلب کرلی۔چھری کند اور بھوتھی ہوگئی۔ادھر والد بزرگوار پریشان ہیں کہ چھری کیوں نہیں چل رہی ہے۔چھری کو پٹخ رہے ہیں جھنجھلا رہے ہیں۔اس ماجرا کو دیکھ کر پوری مخلوق حیران وششدر ہے۔پورا عالم ساکت ہے گویا سارا نظام عالم تھم سا گیا ہے۔سب ساکت ہیں۔
     جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا جبرئیل جلدی جا میرے خلیل کے محبوب کو چھری کے نیچے سے ہٹا۔جبرئیل جلدی کر ۔جا جلدی جا۔بچالے۔میرے خلیل کے لخت جگر کو بچالے۔جنت سے دنبہ لیتے جا۔ذرا جلدی کر ۔ذبیح اللہ کو کنارہ لگا۔مینڈھے کو اس کی جگہ پر رکھ۔جا جبرئیل جلدی جا۔میرا خلیل میری محبت میں سر تا پا غرق ہے۔میری محبت کے آگےاسے کچھ دکھتا ہی نہیں۔میرے تعمیل حکم میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔بیوی بچوں کو بے آب وگیاہ اور لق ودق میدان میں میری خاطر چھوڑنے کی نوبت آئی تو خوشی خوشی انہیں چھوڑ آیا۔نار نمرود میں بھی میری یاد میں تڑپا۔اب بیٹے کو میری خاطر قربان کرنا ہے تو اس پر بھی آمادہ ہے۔جا جلدی جا۔
    حضرت جبرئیل جنت سے مینڈھے کو لیکر منی پہونچے۔اسماعیل علیہ السلام کو ہٹایا۔اس کی جگہ مینڈھے کو پٹخا۔مینڈھا ذبح ہوا۔والد کو تسلی ہوئی چلو اللہ کا حکم پورا ہوا ۔اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی۔پٹی کھولی تو دیکھا بیٹا دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔مینڈھا زمین پر مذبوح پڑا ہے۔اتنے میں من جانب اللہ ندا آئی "یاابراھیم قد صدقت الرؤیا اناکذلک نجزی المحسنین"
   ابراھیم تونے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہم وفا شعاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    ہمیں آپ کے گوشۂ جگر کو قربان کرانا قطعی مقصود نہیں تھا۔آپ کے عصائے پیری سے محروم کرنا ہرگز مطلوب نہ تھا۔بس یہ دیکھنا تھا کہ آپ کو آپ کا رب زیادہ محبوب وپیارا ہے یا آپ کا لاڈلا۔آپ کہیں بیٹے کی محبت میں مغلوب تو نہیں ہیں۔ہمیں آپ سے آپ کے بیٹے کو چھیننا مقصود نیہں تھا ۔بس یہ دیکھنا تھا کہ بیٹے کی محبت میں آپ کہیں ڈگمگاتو نہ جائیں۔پر آپ دونوں نے وہ کر دکھایا جو میں چاہتا تھا۔میری محبت دنیا کی محبوب ترین شئے پر غالب رہی۔
     پدروپسر(باپ بیٹے) کی یہ قربانی رضاء الھی کا عظیم نمونہ تھا جسے دونوں بزرگوار نے پیش کیا۔حکم خدا کے سامنے بلا چوں چرا اپنے کو پیش کردیا۔محبوب کی آرزو،تمنا،اور خواہش کی تکمیل کو ہر خواہشات پر دونوں نے ترجیح دیا۔دنیا والوں کی لعنت وملامت،طعن وتشنیع،تضحیک وتذلیل،استہزا،کی پرواہ کئے بغیر رب کے مطالبات کی تکمیل کو فوقیت دی۔اللہ تعالٰی کا حکم آیا اور بلا ہچکچاہٹ اسے پورا کردیا۔بلا تاخیر اسے پایۂ تکمیل کو پہوچادیا۔نفس کی غلامی کو کچل دیا اور اللہ کی غلامی قبول کرلی۔اللہ تعالٰی کو یہی مطلوب تھا۔
        اصل قربانی یہی ہے۔اللہ کو یہی مطلوب ہے۔اللہ کے ہر حکم کو مقدم رکھنا ہی مومن کی شان ہے۔
   قربانی ہر سال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کی تکمیل کے لئے ہر لمحہ اپنے کو ذہنی وجسمانی طور پر تیار رہے۔ہر آنے اور جانے والی سانس مرضی مولی کی منتظر رہے۔آل واولاد،اپنے پرائے،رشتےناطے،جان ومال، عزت وآبرو، بیوی بچے، گھربار،زمین جائیداد، کھیت کھلیان،دوکان ومکان،تجارت،سب پر اللہ کی محبت اور امتثال احکام خداوندی مقدم رہے۔در حقیقت یہی عظیم قربانی ہے جو اللہ کو محبوب ہے۔ 
     ایک مومن کی زندگی کا ہر لمحہ وہرپل قربانی سے عبارت ہے۔گھریلو زندگی ہو۔عائلی زندگی ہو،معاشرتی زندگی ہو،اجتماعی زندگی ہو ،انفرادی زندگی ہو،سماجی زندگی ہو،ان کی کامیابی کا راز قربانی میں ہی پنہاں ہے۔بدنی عبادت ہو چاہے مالی،یا پھر دونوں۔چھوٹی عبادت ہو یا بڑی،یہ سب قربانی چاہتی ہے۔
   سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں امتثال احکام الھی کو من وعن،بلا ترددوتأمل،اور بلا تاخیر ہر شعبہائے زندگی میں پورا کرنے کی تاکید کرتی ہے۔یہی تقرب الھی کا بہترین اور مضبوط ذریعہ ہے۔
            حضرت اسماعیل کی بجائے مینڈھے کی قربانی قیامت تک جاری ہوگئی۔شریعت محمدی میں بھی اسے باقی رکھا گیا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول صلعم سے پوچھا قربانی کیا ہے؟۔آپ نے کہا "سنۃ ابیکم ابراھیم"۔تمہارے باپ ابراھیم کا طریقہ ہے۔"قالوا فمالنافیھایارسول اللہ" ہمیں اس میں کیا ملےگا" قال بکل شعرۃ حسنۃ"۔ہربال کے بدلے ایک نیکی۔قربانی کے دن اللہ کی نگاہ میں خون بہانے سے زیادہ محبوب عمل اور کوئی نہیں۔قربانی کا جانور اپنے اعضاء کے ساتھ آئے گا۔قربانی کے مستحق افراد کو قربانی نہ کرنے پر بڑی وعید آئی ہے۔آپ صلعم نے فرمایا "لا یقربن مصلانا" وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
      قربانی کا مقصد گوشت خوری نہیں ہے۔شہرت وناموری نہیں ہے۔گوشت کا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔فخرومباحات قطعی نہیں ہے۔ایک دوسرے پر فوقیت وبرتری نہیں ہے۔قربانی کا اصل مقصد حصول تقوی ہے۔امتثال حکم الہی ہے۔
     ہماری قربانی کس کے لئے ہے۔اللہ کی خوشنودی کے لئے ہے یا نام ونمود کے لئے۔اگر اللہ کی رضاجوئی کے لئے ہے تو بہتر ہے۔اگر نام ونمود کے لئے ہے تو وبال جان ہے۔
"ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین"
   بیشک میری نماز میری قربانی میرا جینا میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پالنہارہے 
        اللہ ہم سب کو حقیقی قربانی کی لذت نصیب فرمائے۔آمین

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...