Translate

Saturday, October 7, 2023

مظاہر علوم سہارن پور کے ایک زریں عہد کا خاتمہ (میری یادوں کے اجالوں کو سنبھالے رکھنا)سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس! جامعة الحسنین صبری پور

مظاہر علوم سہارن پور کے ایک زریں عہد کا خاتمہ 

(میری یادوں کے اجالوں کو سنبھالے رکھنا)

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس! جامعة الحسنین صبری پور 

آج یہ خبر اشکبار کرگئی کہ ہندوستان کی مردم خیز علمی وتربیتی اور تاریخی درسگاہ جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کے ایک باکمال سپوت، اکابرین کی یادگار، حضرت شیخ الحدیثؒ کے نظریۀ فکروفن کے اخاذ،قلم کے بادشاہ حضرت مولانا سید محمد شاہدحسنی صاحب مظاہریؒ اچانک دربار خداوندی کوچ کرگئے ،ادھر جمعہ کا مبارک دن ختم ہوا چاہتا تھا کہ ادھر علم وقلم تاریخ وسوانح کا ایک قابل رشک اور بے مثال باب بند ہوگیا وہ تو ہمیشہ کے لئے چلے گئے لیکن ایسے گئے کسی کو کوئی خبر تک نہ ہوئی،اور ایسے وقت میں گئے کہ صبح سورج طلوع ہونےکے ساتھ ساتھ لوگ منوں مٹی کے نیچے چھوڑ کر چلے آئے،ان کے جانے سے بہت سی روایتیں ختم ہوگئیں،بہت سی اقدار نے پردہ کر لیا،مظاہر علوم کے ایک زریں عہد کا خاتمہ ہوگیا،اور ایک عہد ساز ورجال ساز انسان ہم سے رخصت ہوچلا ۔

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم 

حقیقت میں وہ نایاب تھے اور اپنے وقت کو تنظیم وتحکیم تصنیف وتالیف اور علمی ونیک کاموں میں صرف کرتے تھے ان کا محبوب مشغلہ قلم سے نقش ونگاری کرنا تھا ،مزاج تحقیقی تھا ،کوئی بات بلا تحقیق ان کی تحریروں میں نظر نہیں آتی،حضرت شیخ الحدیثؒ کی بابرکت صحبت سے فیضیاب ہوکر حضرت شیخؒ کی زندگانی کو عام کرنے کا نصب العین بنایا،اور اس میں کامیاب ہوئے اورحضرت شیخؒ کے نظریہ کو نہ صرف یہ کہ پی لیا تھا بلکہ بہت سی باتوں میں ان کے مماثل ہوگئے،جامعہ مظاہر علوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی اور اس کی تعمیر وترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا، آپ نے کام کرنے کے مواقع بھی تلاش کئے اور پھر کام بھی کیا،علمی وتصنیفی ،تنظیمی وتحریکی کار کو بیک وقت انجام دینا آسان نہیں لیکن مولانا ان مہیب ودشوار گذار راستوں کے شہہ سوار تھے،قلم وکتاب کا ان کو ذوق عطا ہوگیا تھا۔ان کی شخصیت میں جاذبیت وکشش تھی ہر کسی کواپنا بنانے کا فن ان کو آتا تھا ،جو ان سے ملاقات کرتا وہ ان کے بہت قریب پہنچ جاتا ، ایسی مقناطیسیت ان کے اندر جذب تھی ،انتہائی نرم مزاج،محبت واکرام سے پیش آتے،چند مواقع پر آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ہمیشہ خندہ پیشانی سے گلے لگالیتے،گرچہ میں کاندھے تک ہی پہنچ پاتا، بڑی محبتوں سے شاد فرماتے،سہ ماہی مجلہ متاع کارواں بھگوان پور کے رسم اجراء کے موقع پر نظامت میرے سپرد تھی،میں نے جامعہ مظاہر علوم کے امین عام اورایک علمی ادبی شخصیت کے طور پر آپ کا تعارف کرایا پروگرام کے بعد مجھے بلایا،شفقت کی نگاہ ڈالی،اور کچھ اس انداز میں گویا ہوئے"میں تو کچھ بھی نہیں آپ نے نہ جانے کیا کیا بنادیا " 
وہ لمحہ مجھے آج تک یاد ہے میں اس پس وپیش میں رہا شائد مجھ سے بولنے میں کچھ غلطی ہوگئی،قلم سے تعلق رکھنے والوں کو بہت سراہتے تھے ،مفید مشوروں سے شاد فرماتے۔
 
خداوند قدوس نے آپ کو اہم  خصوصیات سے نوازا تھا، وہی خاندانی شرافت نسبی ،وہی علمی مہم جوئی،وہی عرق ریزی ودیدہ وری،وہی انہماک فی العلم ،قرطاس وقلم میں صبح وشام صرف ہوتا تھا،  انہیں اپنے کام سے کام تھا،دل شیشہ کی طرح صاف ،طبیعت باغ وبہار، اوروجیہ شخصیت کے مالک تھے،انسانیت نوازی کی بہترین مثال تھے،آپ کا اصل میدان تصنیف وتالیف کے ساتھ تنظیم وتحریک بھی رہا،اور مختلف محاذ پر آپ نے علمی وملی اور رفاہی خدمات انجام دیں،ملک کے مقتدر علماء میں ایک نمایاں مقام ان کو حاصل تھا ان کے تعلقات اہل ﷲ ومشائخ سے بھی استوار تھے اور اہل ثروت بھی ان کے یہاں حاضری دیتے،چھوٹوں کی پذیرائی بڑوں کا احترام ان کی طبیعت ثانیہ تھی، تواضع کا پیکر اور مہمان نوازی کا اعلٰی نمونہ تھے۔
وہ جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کی علمی ترقی کے ساتھ ساتھ تعمیری توسیع کا بھی سبب بنے،آپ کی شکل میں مظاہر علوم کو ایک ایسا فرد فرید ملا جس نے اپنی زندگی کے شب وروز یہاں کے لئے وقف کئے ،مظاہر علوم سے عربی مجلہ المظاہر کا منظر پر آنا آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا،نیز نئے شعبوں کے قیام میں آپ کی بلندئی فکر کا اہم رول ہے، یہاں انتظامی امور کے ساتھ ساتھ آپ ملک کے بعض اہم اداروں میں بھی شوری میں شامل تھے،ندوة العلماء اور وہاں کے اکابرین سے آپ کا گہرا اور قلبی تعلق تھا،مجلس انتظامی کے وقت ضرور تشریف لے جاتے،علم سے شغف کا یہ حال تھا وہاں علامہ شبلی نعمانی لائبریری سے استفادہ کرتے،جب تحریک جنگ آزادی ۔۔۔۔۔۔ زیر تصنیف تھی اس وقت ندوہ میں علم وتحقیق کے شناور جناب مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم سے بھی علمی ملاقاتیں رہیں جن میں تاریخی شخصیات پر تبادلہ خیال ہوتا اور مراجع کی نشاندہی ہوتی،آپ پرسنل لاء بورڈ کے بھی رکن اساسی تھے اور دیگر تحریکوں وتنظیموں میں بھی آپ اہم مقام پر فائز تھے،اب ان ساری خصوصیات کی حامل شخصیت اور حضرت شیخؒ کی زندگی کوعام کرنے والا انسان سوئےدربار حقیقی چل بسا،اور جلد ہی اپنے نانا جان سے ملاقات وقربت کو قرار آہی گیا ، ﷲ تعالی ان کی مغفرت کاملہ فرمائے، اپنے قرب خاص میں جگہ دے،اور مظاہر علوم کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...