Translate

Sunday, February 23, 2025

ایک جامع قرآنی وعظ تین بھلائیاں، تین برائیاں مولانا محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

ایک جامع قرآنی وعظ 
تین بھلائیاں، تین برائیاں

محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  ’’اکثم بن صیفی‘‘ اپنی قوم بنوتمیم کے سردار اور میرکارواں تھے، بڑے تجربہ کار، اور صاحب فہم وفراست شخص تھے، ان کو جب پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کااعلان فرمایا ہے، تو انھوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کاارادہ کیا، یہ سن کر ان کی قوم کے لوگوں نے رائے دی کہ آپ قوم کے بڑے آدمی ہیں، ابھی آپ کاخود جانامناسب نہیں ہے، بالآخر مشورہ سے رائے بنی کہ کچھ لوگ ان کے نمائندہ بن کر صورت حال کا جائزہ لینے کے لیئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں چنانچہ اس مشن کے لیے دو آدمی تیار ہوئے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر سوال کیا کہ ’’من انت؟ وماانت ‘‘یعنی آپ کون ہیں ؟ اور آپ کی حیثیت کیاہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’پہلے سوال کاجواب یہ ہے کہ میں محمد بن عبد اللہ ہوں ‘‘اور دوسرے سوال کاجواب یہ ہے کہ ’’میں اللہ کابندہ اور اس کا رسول ہوں ‘‘ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت انہیں پڑھ کرسنادی :’’ان اللہ یأ مر بالعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربی ٰ وینھیٰ عن الفحشاء و المنکر و البغی، یعظکم لعکم تذکرون ‘‘(النحل : 90)(ترجمہ)بیشک اللہ تعالیٰ عدل و انصاف، بھلائی اور رشتہ داروں کودینے دلانے کاحکم کرتاہے اور بے حیائی نامعقول کام اور ظلم و سرکشی سے منع کرتا ہے اور تم کو سمجھاتا ہے اور تم تاکہ تم یاد رکھو۔

        یہ آیت سن کر وہ نمائندے بہت متأثر ہوئے اور انھوں نے اسے دہرانے کی درخواست کی، آپ ﷺ نے آیت مبارکہ دہرایا تاآں کہ انہیں وہ یاد ہوگئی، پھران دونوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب اور خاندان کی تحقیق کی تو آپ کوپاکیزہ نسب پایا اور آپ نے اپنی تعلیمات کے بارے میں درج بالا آیت پیش کی، اس آیت کوسن کر ’’اکثم بن صیفی‘‘ نے اپنی قوم کے سامنے یہ تبصرہ کیا کہ :’’میں سمجھتاہوں کہ یہ پیغمبر اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں، اس لیے تم لوگ (ایمان لاکر اس معاملہ میں قائد بن جاؤ اور پچھ لگومت رہو)(تفسیر ابن کثیر : 751 روح المعانی : 14 /323)

        بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد ’’اکثم بن صیفی ‘‘ ایک جماعت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے روانہ ہوئے لیکن راستہ میں وفات پاگئے تاہم ساتھیوں کوایمان لانے کی وصیت کرگئے۔ (الاصابہ 1/350بحوالہ ندائے شاہی دسمبر :2008ء)

        اس واقعہ میں جس آیت شریفہ کاذکر ہے وہ خیر وشر، اخلاقی حسنہ وسیئہ اور اسلامی معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے مثبت و منفی بنیادی اصولوں کے لحاظ سے قرآن کریم کی جامع ترین آیا ت میں سے ہے، اس آیت کی جامعیت ہی کی وجہ سے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اس کو خطبہ ٔ جمعہ میں داخل فرمایا اور یہ بات انکے اثر حسنہ میں داخل ہوگئی، متعدد علماء کا قول ہے کہ قرآن میں اس آیت کریمہ کے سوا او رکوئی آیت نہ ہوتی تو بھی قرآن کے تبیانا لکل شئی ہونے کے لیے کافی ہوتی۔ (روح المعانی )

        اس آیت کے بارے میں ابن جریر نے قتادہ کا یہ قول نقل کیاہے :’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے خلق حسن کا حکم دیا ہے جس کو اہل جاہلیت بنظر استحسان دیکھتے تھے اور ان کے یہاں اس پر عمل ہوتاتھا اور کوئی بر ااخلاق ایسا نہیں ہے جس کو وہ عیب سمجھتے ہوں او ر اس سے اللہ تعالیٰ نے منع نہ کیاہو ‘‘ اسلام کے کٹر دشمن اور مخالف ابو جہل نے یہ آیت سنی تو کہاتھا :’’محمد کا خدا مکارم اخلاق کاحکم دیتاہے ‘‘

        قاضی نے اپنی تفسیر میں ابن ماجہ سے حضرت علی کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کوحکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قبائل عرب کے سامنے پیش کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقصد سے نکلے، میں اور ابو بکر صدیق ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم قوم عرب کی ایک مجلس میں بیٹھے، اہل مجلس پر سکون ووقار چھایا ہواتھا، ابوبکر ؓ نے پوچھا آپ لوگوں کاتعلق کس قبیلے سے ہے ؟ انھوں نے جواب دیا شیبان بن ثعلب سے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان سے کہاکہ وہ قریش کے مقابلے میں آپ ﷺ کی مدد کریں کیونکہ آپ ﷺ کی قریش نے تکذیب کی ہے، مقرون بن عمرو نے کہا آپ ﷺ ہمیں کس امرکی طرف بلاتے ہیں اور کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کریمہ (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الخ) کی تلاوت فرمائی، یہ سن کر مقرون بن عمرو نے کہا ’’خدا کی قسم ! آپ ﷺ کی دعوت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی دعوت ہے، وہ قوم خود جھوٹی ہے جو آپ کی تکذیب کرتی ہے، ‘‘(تفسیر کبیر بحوالہ ترجمان القرآن جون : 1998ء)

        حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ :’’یہ آیت ہرخیر (جس پر عمل کیاجائے )اور ہرشر (جس سے اجتناب کیا جائے )کوجامع ہے ‘‘(احکام القرآن للقرطبی )

        الغرض اس آیت میں جوجامع اصول بیان کئے گئے ہیں وہ عالمگیر ہیں اور کوئی معاشرہ ان اصولوں کے بغیر انسانی معاشرہ کبھی نہیں بن سکتا چہ جائیکہ وہ اسلامی معاشرہ بن سکے، یہ آیت دراصل وہ جامع وعظ ہے جو لمبی لمبی تقریروں اور بڑی بڑی اصلاحی کتابوں پربھاری ہے مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس آیت کی وسعت اورجامعیت کاجونقشہ مفسرین نے کھینچا ہے او رآیت میں بیان کردہ موضوعات پرجو روشنی ڈالی ہے اس کا تذکرہ کردیاجائے۔

عدل وانصاف :

        آیت میں جن تین باتوں کاحکم دیا گیاہے ان میں پہلی بات عدل ہے، عدل وانصاف معاشرے ہی کا بنیادی اصول نہیں بلکہ اسی اصول پر پوری کائنات قائم ہے، و بالعدل قامت السمٰوات و الارض عدل ہی پر آسمانوں اور زمین کا نظم قائم ہے اس لفظ کے لغوی معانی اور استعمالات کو سامنے رکھ کر اس کی جو جامع تعریف اخذ ہوتی ہے وہ ہے ہرشئی کووہ مقام دینا اور اسکے ساتھ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے وہ معاملہ کرنا جس کی وہ مستحق ہو۔ اس تعریف میں عدل کی تمام اقسام داخل ہوگئی ہیں، انسان کے اپنے نفس سے لے کر کائنات کی تمام حقیقتیں اور تمام اشیاء اس تعریف کے دائرے میں ہیں

        محمد بن کعب القرظی کہتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین عمر بن عبد العزیز ؒ نے مجھے بلاکر پوچھا کہ عدل کی حقیقت مجھ سے بیان کر و، تومیں نے کہا بہت خوب ! آپ نے بڑا اہم سوال کیاہے تو سنیئے ! عدل کاتقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنے چھوٹوں کے لیے باپ کی طرح بن جائیں اور اپنے سے بڑوں کے لیے بیٹے کی طرح (سعادت مند) بن جائیں اور اپنے ہمعصروں کے ساتھ بے تکلف بھائی جیسا برتا ؤ کریں اور اپنی عورتوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کریں، اور مجرموں کوان کے جرائم اوربدنی طاقت کے مطابق ہی سزادیں اور صرف اپنے غصے کے تقاضے پرایک کوڑابھی نہ لگائیں ورنہ آپ حد سے تجاوز کرنے والے ہوجائیں گے۔ (روح المعانی 14/320)

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ عدل کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’عدل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات، جذبات، اعتدال و انصاف کی تراز و میں تلے ہوں، افراط و تفریط سے کوئی پلہ جھکنے یااٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کادامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو جوبات اپنے لیے پسند نہ کرتاہو اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے ‘‘

عدل کی تشریح کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

        ’’اس مختصر فقرے میں تین ایسی چیزوں کاحکم دیاگیا ہے جن پرپورے معاشرے کی درستی کا انحصار ہے، پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دومستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن و تناسب قائم ہو، دوسرے یہ کہ ہرایک کواس کاحق بے لاگ طریقہ سے دیاجائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کولفظ ’’انصاف ‘‘ سے ادا کیاجاتاہے مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والاہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دوآدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پرہو، اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیئے گئے ہیں، جوسرا سر فطرت کے خلاف ہے، دراصل عدل جس چیز کا تقاضاکرتاہے، وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے توعدل بے شک افراد معاشرہ میں مساوات چاہتاہے۔ مثلا حقوق شہریت میں مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلاف عدل ہے، مثلا والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات او ر اعلی درجے کی خدمات انجام دینے والوں اورکم تر درجے کی خدمت اداکرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات۔ پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کاحکم دیا ہے، وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن و تناسب ہے اور ا س حکم کاتقاضہ یہ ہے کہ ہرشخص کواس کے اخلاقی، معاشرتی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ اد اکیئے جائیں۔ ‘‘(تفہیم القرآن جلد دوم۔ ص:565)

        عدل کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا مفتی شفیع صاحب ؒ لکھتے ہیں :

        ’’عدل، اس لفظ کے اصلی اور لغوی معنی برابر کرنے کے ہیں، اسی کی مناسبت سے حکام کا لوگوں کے نزاعی مقدمات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ عدل کہلاتاہے، قرآن کریم میں ان تحکموابالعدل اسی معنی کے لیے آیا ہے، اور اسی لحاظ سے لفظ عدل افراط وتفریط کے درمیان اعتدال کوبھی کہا جاتاہے، اور اسی کی مناسبت سے بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ لفظ عدل کی تفسیر ظاہر وباطن کی برابری سے کی ہے ‘‘

        اور ابن عربی ؒ نے فرمایا کہ لفظ عدل کے اصلی معنی برابری کر نے کے ہیں، پھر مختلف نسبتوں سے اس کا مفہوم مختلف ہوجاتاہے، مثلا ایک مفہوم عدل کا یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے رب کے درمیان عدل کر ے، تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حظ نفس پر اس کی رضا جوئی کواپنی خواہشات پرمقدم جانے، اور اس کے احکام کی تعمیل اور اس کی ممنوعات و محرمات سے مکمل اجتناب کرے۔

        دوسرا عدل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے نفس کیساتھ عد ل کرے، وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کوایسی تمام چیزوں سے بچائے جس میں اس کی جسمانی یاروحانی ہلاکت ہو، اس کی ایسی خواہشات کوپورا نہ کرے جو اس کے لیے مضر ہوں اور قناعت وصبرسے کام لے، نفس پربلاوجہ زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔

        تیسرا عدل اپنے نفس اور تمام مخلوقات کے درمیان ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کامعاملہ کرے، اور کسی ادنی واعلی معاملہ میں کسی سے خیانت نہ کرے، سب لوگوں کے لیے اپنے نفس سے انصاف کامطالبہ کرے، کسی انسان کواس کے کسی قول و فعل سے ظاہر ا ً یا باطنا کوئی ایذا اور تکلیف نہ پہونچے۔

        اسی طرح ایک عدل یہ ہے کہ جب دوفریق اپنے کسی معاملہ کامحاکمہ اس کے پاس لائیں تو فیصلہ میں کسی کی طرف میلان کے بغیر حق کے مطابق فیصلہ کرے، اور ایک عدل یہ بھی ہے کہ ہرمعاملہ میں افراط و تفریط کی راہوں کوچھوڑ کرمیانہ روی اختیار کرے، ابو عبد اللہ رازی ؒ نے یہی معنی اختیار کرکے فرمایا ہے کہ لفظ عد ل میں عقیدہ کااعتدال، عمل کا اعتدال، اخلاق کا اعتدال سب شامل ہیں۔ (معارف القرآن جلد پنجم۔ صفحہ 389/390/تفسیر سورہ ٔ نحل )

        اوپر عدل کی جوتشریح مفسرین کے حوالے سے پیش کی گئی اس کو سامنے رکھ کر تصور کیجئے کہ جس معاشرے کے افراد اس صفت سے متصف ہونگے وہ معاشرہ کتنا صاف ستھرا اور امن وسکون کامعاشرہ ہوگا، دراصل امن وسکون میں خلل تو اس لیئے واقع ہوتا ہے کہ لو گ دوسروں کے حقوق کم سے کم بھی ادا نہیں کرتے اور اپنے حقوق زیادہ سے زیادہ وصول کرنے پر اصرار کرتے اور اس کے لیے آمادہ ٔ پیکار رہتے ہیں۔ اوپر کی تشریح میں عقائد کاذکر اس لیئے آیاہے کہ کائنات میں سب سے بڑا عدل تو حید اور سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔

        احسان :

        صفت احسان کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے عدل کی تشریح سامنے رہنی چاہیے اس لیے کہ ’’احسان ‘‘ عدل پر ایک اضافہ ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے حاشیہ قرآن میں لکھا ہے :’’احسان کے معنی یہ ہیں کہ انسان بذات خود نیکی کاپیکر بن کر دوسروں کابھلا چاہیے۔ مقام عد ل و انصاف سے ذرا بلند ہوکر فضل وعفو اور تلطف وترحم (شفقت ومہربانی)کو اختیار کرے، فرض ادا کرنے کے بعد تطوع وتبرع(انفاق و نوافل) کی طرف قدم بڑھائے، انصاف کے ساتھ مروت کوجمع کرے اور یقین رکھے کہ جوکچھ بھلائی کرے گا، خدا اسے دیکھ رہاہے ادھر سے بھلائی کاجواب ضروربھلائی کی صورت میں ملے گا ‘‘

      احسان کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں :’’احسان عدل سے ایک زائد شئی (چیز) ہے یہ صرف حق کی ادائیگی ہی کا تقاضہ نہیں کرتا بلکہ مزید برآں یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ دوسرے کیساتھ ہمارا معاملہ کریمانہ اور فیاضانہ ہو‘‘(تدبر قرآن )

        مولانا مودودی ؒ نے احسان کی تشریح اور تفسیر یہ کی ہے :’’دوسری چیز احسان ‘‘ ہے جس سے مراد نیک برتاؤ فیاضانہ سلوک، ہمدردانہ رویہ رواداری، خوش خلقی، درگزر، باہمی مراعات ایک دوسرے کاپاس ولحاظ، دوسرے کواس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا، یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے، اگر معاشرے کی اساس عدل ہے تو احسان اس کاجمال اور اس کا کمال ہے، عدل اگر معاشرے کوناگوار یوں اورتلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریا ں اور شیر ینیاں پیداکرتاہے، کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پرکھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہروقت ناپ تولکردیکھتا رہے کہ اس کاکیا حق ہے اور اسے وصول کرکے چھوڑے اور دوسرے کاکتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرے میں کش مکش تو نہ ہوگی مگر محبت اور شکر گزاری اور عالی ظرفی اور اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف وحلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کونشوونما دینے والی قدریں ہیں۔ ‘‘(تفہیم القرآن جلددوم۔ صفہ 565)

        مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ احسان کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’احسان کے اصل لغوی معنی اچھاکرنے کے ہیں اور ا سکی دوقسمیں ہیں، ایک یہ کہ فعل و عمل یاخلق و عادت کواپنی ذات میں اچھااور مکمل کرے، دوسرے یہ کہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ اچھاسلوک کرے اور عمدہ معاملہ کرے، امام قرطبی نے فرمایا کہ آیت میں یہ لفظ اپنے عام مفہوم کے لیے مستعمل ہواہے، اس لیے احسان کی دونوں قسموں کو شامل ہے، پھر پہلی قسم کااحسان یعنی کسی کام کواپنی ذات میں اچھا کرنا یہ بھی عام ہے عبادات کواچھا کرنا، اعمال و اخلاق کواچھا کرنا، معاملات کو اچھا کرنا ‘‘

        حضرت جبرئیل کی مشہور حدیث میں خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے جومعنی بتائے ہیں و ہ احسان عبادت کے لیے ہے، اس ارشاد کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گو یا تم خداتعالیٰ کودیکھ رہے ہو، اور اگر استحضار کایہ درجہ نصیب نہ ہوتو اتنی بات کایقین تو ہرشخص کوہونا ہی چاہیے کہ حق تعالیٰ اس کے عمل کودیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ تو اسلامی عقیدہ کااہم جزء ہے کہ حق تعالیٰ کے علم سے کائنات کاکوئی ذرہ خارج نہیں رہ سکتا ‘‘ (معارف القرآن جلد پنجم۔ ص: 390)

ایتاء ذی القربیٰ (صلہ رحمی ):

        تیسرا حکم جواس آیت میں دیاگیا ہے وہ ایتایٔ ذی القربیٰ ہے (قرابت داروں کودیتے رہنا )عدل و احسان میں ایتایٔ ذی القربیٰ اور صلہ رحمی بھی داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظراس کا مستقل علٰحدہ سے حکم دیاگیا اور اسلامی معاشرے میں جوخاندان کے مجموعے کانام ہے، ہرانسان خواہ وہ پڑھا لکھاہو یانا خواندہ ہواس کی اہمیت سے عملا واقف ہے۔

        ایتاء کے معنی اعطاء یعنی کوئی چیز دینے کے ہیں، اور لفظ قربیٰ کے معنی قرابت اور رشتہ داری کے ہیں، ذی القربیٰ کے معنی رشتہ دار، ذی رحم، ایتاء ذی القربی ٰ کے معنی ہوئے رشتہ دار کوکچھ دینا، یہاں اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ کیاچیز دینا، لیکن ایک دوسری آیت میں اس کا مفعول مذکور ہے فاٰت ذا القربی ٰ حقہ یعنی رشتہ دار کو اس کاحق دو، ظاہر یہی ہے کہ یہاں بھی یہی مفعول مراد ہے، کہ رشتہ دار کو اس کاحق دیا جائے، اس حق میں رشتہ دار کو مال دے کرمالی خدمت کرنا بھی داخل ہے، اور جسمانی خدمت بھی، بیمار پرسی اورخبر گیری بھی، زبانی تسلی وہمدردی کا اظہار بھی۔ (مستفاد معارف القرآن تفسیر سور ہ نحل۔ )

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے حاشیہ قرآن میں لکھا ہے :’’صلہ رحمی ایک مستقل نیکی ہے جواقارب وذوی الارحام کے لیے درجہ بدرجہ استعمال ہونی چاہیے گو یا ’’احسان ‘‘کے بعد ذوی القربی کابالتخصیص ذکر کر کے متنبہ فرمادیا کہ عدل و انصاف تو سب کے لیے یکساں ہے لیکن مروت و احسان کے وقت بعض مواقع، بعض سے زیادہ رعایت اور اہتمام کے قابل ہیں، فرق مراتب کوفراموش کرنا، ایک طرح قدرت کے قائم کیئے ہوئے قوانین کوبھلانا ہے ‘‘

        صلہ رحمی کے بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں :’’ایتایٔ ذی القربی ٰ احسان کی ایک نہایت اہم فرع ہے، قرابت مند عدل و انصاف اور احسان کے حق دارتوہیں ہی، مزید برآں وہ بر بنائے قرابت مزید انفاق کے مستحق ہیں۔ صاحب مال کو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں پرفیاضی سے خرچ کرنا چاہیے ‘‘(بحوالہ تدبر قرآن )

        ایتایٗ ذی القربی کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :’’صلہ رحمی رشتے داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے، اس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتا ؤ کرے اور خوشی وغمی میں ان کاشریک حال ہو اور جائزحدود کے اندر ان کاحامی و مددگار بنے بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہرصاحب استطاعت شخص اپنے مال پرصرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے، شریعت الٰہی ہرخاندان کے خوش حال افراد کواس امرکا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کوبھوکا ننگا نہ چھوڑیں، اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کررہا ہواور اسی خاندان میں، اس کے بھائی بند روٹی کپڑے تک کومحتاج ہوں، شریعت خاندان کومعاشرے کاایک اہم عنصر ترکیبی قرار دیتی ہے اور یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہرخاندان کے غریب افراد کاپہلا حق اپنے خاندان کے خوش حال افراد پرہے پھر دوسروں پرانکے حقوق عائد ہوتے ہیں ‘‘(تفسیر القرآن جلد دوم صفحہ 565 تا 566)

        الغرض صلہ رحمی کے حکم اور ایتایٔ ذی القربیٰ کے حکم اور اس کی ترغیب و تلقین سے قرآن واحادیث بھرا ہواہے احسان اور صلہ رحمی کے سب سے اول اورسب سے زیادہ مستحق والدین ہیں اور ان دونوں میں بھی ماں باپ سے زیادہ احسان اور صلہ رحمی کی مستحق ہے جس کی تائید متعدد آیات اور احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔

        اسلامی معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے یہ تین مثبت بنیادی اصول ہیں جس کو دوسرے لفظ میں حکم ایجابی بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کے مقابلے میں تین منفی چیزہیں جس سے اسلامی معاشرے کوپاک صاف ہونا چاہیے ’’وینھی ٔ عن الفحشاء و المنکر و البغی ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ منع کرتاہے فحشاء اور منکر اور بغی سے۔

        فحشاء :

        فحشاء کھلی ہوئی بے حیائی کے کام کوکہتے ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں زنا اور لواطت (عمل قوم لوط ) ہے پھر برہنگی و عریانی گالی گلوچ، بدکاریوں پرابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم، عریاں تصاویر، عورتوں کابن سنور کر منظر عام پرآنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا، ناچنا گانا تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا یہ تمام چیزیں فحشاء میں داخل ہیں، الغرض فحشاء ہرایسے برے فعل یاقول کوکہاجاتاہے جس کی برائی کھلی ہوئی ہواور واضح ہوہرشخص اس کو بر ا سمجھے۔

        منکر :

        منکر وہ قول وفعل ہے جس کے حرام وناجائز ہونے پر اہل شرع کااتفاق ہو، لفظ منکر میں تمام گناہ ظاہری اور باطنی عملی اور اخلاقی سب داخل ہیں، مولانا عروج احمد لکھتے ہیں ’’منکرسے مراد ہروہ برائی ہے جس کو انسان بالعموم بر اجانتے ہیں، انسانی فطرت ان سے ابا (انکار ) کرتی ہے اور آسمانی شریعتوں نے جن کو برائی قرار دیاہے، جیسے جھوٹ، اتہام، چوری، رہزنی وغیرہ ‘‘

        بغی :

         بغی کے لفظی معنی زیادتی، سرکشی اور دوسروں کے حقوق پردست درازی کے ہیں، بغی سے مراد ظلم و عدوان ہے اگرچہ لفظ منکر کے مفہوم میں فحشاء بھی داخل ہے اور بغی بھی، لیکن فحشاء کواس کی انتہائی برائی اور شناعت کی وجہ سے علٰحدہ کرکے بیان فرمایا اور مقدم رکھااور بغی کو الگ اور علٰحدہ اس لیئے بیان کیا کہ اسکا اثر دوسروں تک متعدی ہوتاہے، اور بسااوقات یااکثراوقات یہ تعدی باہمی جنگ وجدل تک یااس سے بھی آگے عالمی فساد تک پہونچ جاتی ہے۔

        مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نواہی (منکرات و محرمات ) کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’منع بھی تین چیزوں سے کیا فحشاء، منکر بغی، کیونکہ انسان میں تین قوتیں ہیں جن کے بے موقع اور غلط استعمال سے ساری خرابیاں اور برائیاں پیداہوتی ہیں قوت بہیمیہ شہوانیہ ‘‘ قوت وہمیہ شیطانیہ، قوت غضبیہ سبعیہ، غالبا فحشاء سے وہ بے حیائی کی باتیں مراد ہیں جن کا منشاء شہوت و بہیمیت کی افراط ہو، ’’منکر‘‘ معروف کی ضد ہے یعنی نامعقول کام جن پر فطرت سلیمہ اور عقل صحیح انکار کرے گویا قوت وہمیہ شیطانیہ کے غلبے سے قوت عقلیہ ملکیہ دب جائے۔ تیسری چیز’’بغی‘‘ ہے یعنی سرکشی کر کے حدسے نکل جانا، ظلم و تعدی پرکمر بستہ ہو کر درندوں کی طرح کھانے پھاڑنے کودوڑ نااور دوسروں کے جان ومال  یاآبرو وغیرہ لینے کے واسطے ناحق دست درازی کرنے اس قسم کی تمام حرکات قوت سبعیہ غضبیہ کے بے جااستعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔

        الحاصل آیت میں تنبیہ فرمادی کہ انسان جب تک ان تینوں قوتوں کوقابومیں نہ رکھے اور قوت عقلیہ ملکیہ کوان سب پر حاکم نہ بنائے مہذب اور پاک نہیں ہوسکتا۔

        مولانا عبد الماجد دریا آبادی ؒ اس ضمن میں حاشیہ قرآن میں تحریر فرماتے ہیں :’’ان میں مامورات کے مقابل منہیات بھی تین ہی ہیں فحشاایسی برائی ہے جوکھلی ہوئی اور صریح ہے، یعنی علانیہ پبلک میں کی جاتی ہے اس کے تحت وہ سب برائیاں آگئیں جوقوت شہویہ کی افراط سے پیدا ہوتی ہیں، منکر عام ہے ایسے امر کوجو شعائر اسلامی سے باہرہو، اس کے تحت وہ سب معاصی آگئے جوقوت غضبیہ کے افراط سے پیدا ہوتے ہیں بغی وہ ظلم و سرکشی ہے جس کا ضرر دوسروں تک پہونچے، اس کے ماتحت وہ سب حرکتیں آگئیں جوقوت بہیمیہ کے غلبہ و افراط سے ظاہر ہوتی ہیں ‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول :’’فحشاء : کھلی ہوئی بے حیائی اور بد کاری کوکہتے ہیں، مثلا زنا لوطت اور اس قبیل کی دوسری برائیاں منکر معروف کاضد ہے معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کا ہراچھی سوسائٹی میں چلن ہو، مثلا مہمان داری، مسافر نوازی اور اس قبیل کی دوسری نیکیاں، منکر اس کا ضد ہے تو اس سے مراد وہ باتیں ہوگی جومعروف اور عقل و عرف کے پسندیدہ طریقہ اورآداب کے خلاف ہوں۔ ‘‘

        بغی: کے معنی سرکشی اور تعدی کے ہیں یعنی آدمی اپنی قوت وطاقت اور اپنے زور واثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اس سے دوسروں کودبانے کی کوشش کرے ‘‘ (تدبر قرآن تفسیر سور ۂ نحل )
        مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ کے الفاظ میں ان نواہی کی تفصیل و تشریح حسب ذیل ہے۔ ’’اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جوانفرادی حیثیت سے افراد کواور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کوخراب کرنے والی ہیں۔ پہلی چیز فحشاہے جس کا اطلاق تمام بیہودہ اورشرمناک افعال پرہوتاہے۔ ہر وہ برائی جواپنی ذات میں نہایت قبیح ہوفحش ہے، مثلا بخل، زنا  برہنگی و عریانی، محرمات سے نکاح، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بدکاری کرنا وغیرہ اس طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے، مثلا جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاری پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم عریاں تصاویر، عورتوں کابن سنور کرمنظر عام پرآنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پرعورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور نازو ادا کی نمائش کرنا وغیرہ دوسری چیز منکر ہے جس سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم بر ا جانتے ہیں، ہمیشہ سے بر ا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیاہے۔ تیسری چیز بغی ہے جس کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یامخلوق کے۔ ‘‘(تفہیم القرآن تفسیر سور ہ ٔ  نحل )
        اس آیت میں جوچھ حکم ایجابی اور تحریمی دیئے گئے ہیں اگر غور کیا جائے تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل فلاح کانسخہ ٔ اکسیر ہیں کیونکہ جس معاشرے میں عدل و احسان اور صلہ رحمی کی نسیم جانفزا وجاں نواز چل رہی ہو اور وہ فحشاء منکر اور زیاتی و تعدی کی باد سموم سے محفوظ ہو، وہی اسلامی معاشرہ ہے اور یہی معاشرہ ہے جسے وجود میں لانے کے لیے ہم سب کو وہ سب کچھ کرنا چاہئیے جوہم دامے درمے قدمے سخنے کرسکتے ہیں۔ (واللہ ولی التوفیق )

Tuesday, February 18, 2025

مدارسِ اسلامیہ کے اساتذہ اور ان کے معاشی مسائل ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

مدارسِ اسلامیہ کے اساتذہ اور ان کے معاشی مسائل ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

   کچھ عالمی اور ملکی طاقتیں اپنے مفاد کی تکمیل کے لئے اور مسلمانوں کو اسلامی تشخص و امتیاز سے دور کرنے کے لئے اور  مسلمانوں کو ان کے دینی اور روحانی مراکز اور سرچشموں یعنی مدارس و مکاتب سے دور کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں، وہ لوگ چاہتے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے، کہ مدارس اسلامیہ کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا جائے، اور وہاں کے نظام و نصاب کو بالکل بدل دیا جائے،اس کے لیے مدراس عربیہ کی جدید کاری کا پرفریب عنوان دیا جاتا ہے اور مرکزی مدرسہ بورڈ کے قیام کی تجویز پیش کی جاتی ہے،۔ ماضی میں بارہا اس طرح کی کوششیں ہوئیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ 
   لیکن ہمارے بالغ نظر علماء اور قائدین ملت ہمیشہ ان طاقتوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے اور اس طرح کے پر فریب نعروں سے خود بھی متاثر نہیں ہوتے اور نہ ملت کو متاثر ہونے دیتے ہیں ۔ 
 اسلام کی تعلیمات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ علم دین کو حصول دنیا کا ذریعہ نہ بنایا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من تعلم علما مما یبتغی به وجه الله لا یتعلمه الا لیصیب به عنھا من الدنیا لم یجد عرف الجنة یوم القیامة یعنی ریحھا ۔ مشکوة. 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس علم کو جو خالص اللہ کی رضا کے لیے حاصل کیا جاتا ہے ،اس کو محض اس لئے حاصل کرتا ہے کہ اس سے دنیا حاصل کرے اور دنیا کا طلب گار بنے ،تو ایسا شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پاسکے گا ۔
اور دوسری اہم تعلیم یہ ہے کہ امراء اور ارباب اقتدار سے مدد حاصل کرنا دین کے لئے نہایت نقصان کا سبب ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان انسانا من امتی سیتفقھون فی الدین و یقرءون القرآن و یقولون ناتی الامراء فتصیب من دنیاھم و تعتزلھم بدیننا، ولا یکون ذلک کما لا یجتنی من القتاد الا الشوک ،کذلک لا یجتنی من قربھم الا الخطایا ۔ ابن ماجہ ۔
 آپ نے فرمایا کہ میری امت میں کچھ لوگ دین میں تفقہ حاصل کریں گے اور قرآن مجید پڑھیں گے اور ان کا نظریہ یہ ہوگا کہ امراء اور ارباب اقتدار سے ملنے اور ان سے دنیوی نفع حاصل کرنے میں مضائقہ نہیں، بہ شرطے کہ ہم اپنے دین کو ان سے محفوظ رکھ سکیں ، لیکن آپ نے فرمایا: کہ امراء سے تعلق کے ساتھ دین محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہے ،جیسے درخت قتاد کانٹوں والا درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح امراء کے قرب سے گناہوں اور غلطیوں کے علاؤہ کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔
 آج پوری باطل طاقتیں اس پر زور لگا رہی ہیں اور خود بہت سے مسلمان بھی اس میں لگے ہوئے ہیں کہ علوم دینیہ کو حصول دنیا کا ذریعہ بنایا جائے اور انگریزی اسکولوں اور کالجوں اور مدارس اسلامیہ کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کردیا جائے ۔
ہمارے بعض دانشور حضرات ہمارے ان دینی مدارس کو ملت کے لئے غیر ضروری سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک دینی تعلیم کی ایسی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس کے لیے علاحدہ سے توجہ دی جائے ،کیوں کہ دین ان کے نزدیک صرف چند معمولی باتوں تک محدود ہے ،یہ باتیں بلا خاص نظم و انتظام کے خود بخود معلوم ہوسکتی ہیں ، یا جماعت اور دین کے راستے میں کچھ روز وقت لگا کر لوگ سیکھ سکتے ہیں ۔ یہ خیال نہایت سطحی خیال ہے ،مسلمانوں کی زندگی میں دین اپنی پوری اہمیت رکھتا ہے اور زندگی میں پوری وسعت رکھتا ہے ۔ یہ مدارس صرف تعلیم و تعلم کے ادارے نہیں ہیں، بلکہ یہ خدائی مشن کا حصہ ہیں،یہ حق کی حفاظت گاہیں ہیں، اور جانثاران اسلام کی کمین گاہیں ہیں، یہ ملت اسلامیہ کی شہ رگ ہیں ،جس سے ہر شعبئہ زندگی کو آب حیات حاصل ہوتا ہے ۔ 
  مدارس اسلامیہ کا اپنا ایک منفرد نطام و انتظام ہے ، یہ لوگوں کی عطیات اور تبرعات سے چلتے ہیں، سرکاری عطیات جس سے پرواز میں کوتاہی آجائے، اس سے یہ مدارس دور رہتے ہیں ۔ یہاں کے اساتذہ کا معاملہ بھی قابل رشک ہے ، کہ ایک عالم چالیس چالیس سال سے درس دے رہا ہے ،اس کی زبان پر علم بولتا ہے ،اسی خدمت میں اس کے بال سفید ہوگئے اور اس کی ہڈیوں کے گودے پگھل گئے ،لیکن اس کی تنخواہیں سرکاری محکموں کے چپراسی سے بھی کم ہے ،اس کے باوجود نہ زبان پر شکوہ ہے اور نہ حرف شکایت ۔ نہ دل میں حرص و طمع ، نہ دوسروں کی دولت دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکتی ہیں ،اس کے سینے طلبہ پر شفقت و محبت کے جذبات سے معمور ہیں اور دین کی خدمت پر اللہ کے شکر و سپاس سے ہر بن مو لبریز ہے ۔
 کیا اس کی مثالیں عصری اداروں میں اور وہاں کے اساتذہ میں مل سکتی ہیں ۔
   یہاں اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آج ایمان و  مادیت کی کشمکش کا دور ہے ، مادیت ہر جگہ چھائی ہوئی ہے اور منھ کھولے ہوئی ہے اور آج سب سے بڑا فتنہ مال و دولت کا ہے ۔ ارباب مدارس بھی کچھ نہ کچھ اس سے متاثر ہوئے ہیں اور بہت سے فارغین اپنا میدان چھوڑ کر دوسرے میدان میں چلے گئے ہیں اور ادھر رخ کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مدارس کے اساتذہ کے معیار کو بھی بلند کیا جائے ،ان کی ضروریات کی کفالت کی جائے، ان کے بچوں کی ضروریات پر بھی نظر رکھی جائے ، میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں مالدار بناؤ ، لیکن ان کی جائز ضرورتیں تو پوری ہونی ہی چاہیے، تاکہ وہ معاش کی وجہ سے اپنا میدان نہ بدلیں ۔ 
    مدارس کے اساتذہ کی کفالت کی کیا شکلیں ہوسکتی ہیں ،ان کے معیار زندگی کو کیسے بلند کیا جاسکتا ہے، ان کی جائز ضرورتیں کیسے پوری کی جاسکتی ہیں،اس سلسلہ میں بعض ماہرین کے آراء کو ہم پیش کرتے ہیں، امید کہ ارباب مدارس اس پر توجہ فرمائیں گے اور اصحاب خیر اپنی دست سخا کو وسیع فرمائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہوں کا معیار طے کرنے کے لیے مدارس کو ایک متوازن اور منصفانہ پالیسی اپنانی چاہیے، جو اساتذہ کی ضروریات، صلاحیتوں، خدمات، اور ادارے کی مالی حیثیت کو مدنظر رکھے۔ مختلف مدارس میں جو طریقے رائج ہیں، ان کا ایک جامع جائزہ لینے کے بعد چند نکات پر مبنی ایک متوازن حکمتِ عملی پیش کی جا سکتی ہے:

1. قابلیت اور مہارت:

اساتذہ کی علمی استعداد، تدریسی مہارت، اور تخصص (مثلاً فقہ، تفسیر، حدیث وغیرہ میں مہارت) کو معیار بنایا جائے۔ جو مدرس زیادہ علمی تجربہ رکھتا ہے اور جس کی تدریس کا انداز مؤثر ہے، اسے بہتر معاوضہ ملنا چاہیے۔
2. تدریسی تجربہ اور مدتِ ملازمت:
یہ ایک اہم پہلو ہے کہ کسی مدرس نے ادارے میں کتنی مدت تک خدمت انجام دی ہے۔ جو اساتذہ زیادہ عرصہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور طلبہ میں مقبول ہیں، انہیں تجربے کی بنیاد پر اضافی مراعات دی جانی چاہئیں۔
3. تعلیمی درجے اور تدریسی ذمہ داریاں:
جو اساتذہ ابتدائی درجات پڑھاتے ہیں، ان کی ذمہ داریاں الگ ہوتی ہیں، جبکہ جو تخصص یا اعلیٰ درجات کے اسباق پڑھاتے ہیں، ان پر علمی دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر ان کی تنخواہ میں بھی فرق کیا جا سکتا ہے۔
4. اضافی خدمات:
کچھ اساتذہ محض تدریس نہیں کرتے بلکہ انتظامی امور، دارالافتاء، فتویٰ نویسی، تحقیق و تصنیف، یا دیگر دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ جو اساتذہ اضافی خدمات انجام دیتے ہیں، ان کے لیے الگ سے مراعات دی جانی چاہئیں۔
5. ادارے کی مالی حیثیت:
یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ ہر مدرسہ مالی طور پر ایک جیسے حالات میں نہیں ہوتا۔ اگر کسی مدرسے کی آمدنی محدود ہے تو وہ تنخواہیں کم رکھ سکتا ہے، لیکن جہاں ممکن ہو، وہاں اساتذہ کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
6. انصاف اور شفافیت:
اساتذہ میں بےچینی اور ناراضی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تنخواہوں کے تعین میں غیر شفافیت یا اقربا پروری نظر آتی ہے۔ اس لیے مدارس کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کا ایک واضح اور متوازن نظام بنائیں، تاکہ تمام اساتذہ خود کو اس کا مستحق سمجھیں۔
تجویز کردہ ماڈل:
مدارس میں تنخواہوں کا ایک منصفانہ نظام درج ذیل اصولوں پر مبنی ہوسکتا ہے:
1. بنیادی تنخواہ: تمام اساتذہ کے لیے ایک بنیادی تنخواہ مقرر ہو، جو ضروریات زندگی کو مدنظر رکھ کر دی جائے۔
2. قابلیت اور مہارت کے مطابق اضافہ: جو اساتذہ زیادہ تعلیم یافتہ ہوں یا کوئی خاص مہارت رکھتے ہوں، انہیں زیادہ معاوضہ ملے۔
3. مدتِ ملازمت کے مطابق سالانہ اضافہ: ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ ہونا چاہیے تاکہ پرانے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔
4. اضافی ذمہ داریوں کے لیے خصوصی الاؤنس: جو اساتذہ امتحانی کمیٹی، دارالافتاء، یا دیگر اہم کاموں میں مصروف ہوں، ان کے لیے الگ سے معاوضہ مقرر کیا جائے۔
5. ضرورت مند اساتذہ کے لیے سہولتیں: اگر کوئی مدرس زیادہ ضرورت مند ہو، تو اس کے لیے خصوصی رعایت یا وظیفہ دیا جائے۔
خلاصئہ کلام ۔۔۔۔۔
مدارس کو ایسا نظام اپنانا چاہیے جو علمی قابلیت، تجربہ، خدمات، اور ادارے کی مالی حالت کے درمیان توازن قائم رکھے۔ اساتذہ کی عزت نفس اور ان کی معقول معاشی ضروریات کا خیال رکھنا دینی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم و تدریس میں مشغول رہ سکیں۔

Friday, February 14, 2025

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی 

بعض لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی لے کر آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ خلوص سے بھری ہوتی ہے، ان کے الفاظ دلوں میں اترتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جیسے کسی خزاں رسیدہ چمن میں بہار یا خشک سالی میں آبشار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے دوسروں کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں، جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں، جو دوسروں کے لیے باعثِ راحت ہوتے ہیں، جن کے قریب بیٹھنے سے انسان کو اپنے دکھ ہلکے محسوس ہوتے ہیں، اور جن کی صحبت میں رہ کر زندگی کی خوبصورتی اور اس کے بانکپن کا احساس ہوتا ہے، ایک پُر بہار شخصیت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی خوشبو بکھیرتی ہے، لوگوں کے لیے باعثِ محبت بنتی ہے، اور دنیا میں خیر کا استعارہ بن جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ" (سنن ابن ماجہ: 238).
(یہ خیر خزانے کی مانند ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو)۔

متاثر کن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں نرمی اور سختی، ہنسی اور سنجیدگی، مروت اور خود داری، وقار اور انکسار سب اعتدال کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا شخص نہ تو ایسا پھول ہوتا ہے جو چھونے سے بکھر جائے اور نہ ایسا کانٹا جو ہر ایک کو زخمی کر دے، "شدة من غير عنف ولين من غير ضعف" (سختی ہو تشدد نہ ہو، نرمی ہو کمزوری نہ ہو)، اس میں وہ ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو وقار عطا کرتا ہے، وہ گہرائی ہوتی ہے جو سمندر کی وسعت کو معنی عطا کرتی ہے، اور وہ خوشبو ہوتی ہے جو دور تک اپنا اثر چھوڑتی ہے، اور کہنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں:
آپ کا ساتھ ساتھ پھولوں کا
آپ کی بات بات پھولوں کی

ایسی شخصیت میں سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کا اسیر نہیں بنتی بلکہ ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے، وہ مایوسی میں امید کی کرن بن جاتی ہے، اور پژمردگی میں زندگی کی رمق جگا جاتی ہے، یہ شخصیت اپنی مجلس میں موجود ہر فرد کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ قیمتی ہے، اس کی موجودگی کا کوئی مقصد ہے، اس کے احساسات بے معنی نہیں، اور اس کے جذبات کی کوئی قدر ہے، وہ لوگوں کی طرف دیکھتی ہے تو ان کے اندر کے درد کو پڑھ لیتی ہے، وہ کسی کو سنتی ہے تو محض جواب دینے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے سنتی ہے۔

ایسا شخص اگر کوئی بات کرتا ہے تو وہ براہ راست دل پر اثر انداز ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس کے الفاظ محض زبان سے نہیں نکلتے، وہ اس کے خلوص کا عکس ہوتے ہیں، اس کی شخصیت کی سچائی کا ثبوت ہوتے ہیں، وہ کبھی کسی سے بناوٹ میں نہیں ملتا، اور نہ ہی اس کی ہنسی محض دکھاوا ہوتی ہے، اس کا مزاج ایسا ہوتا ہے کہ وہ نہ تو ہر وقت قہقہے لگا کر خود کو مذاق بناتا ہے اور نہ ہر وقت فکر وغم میں ڈوب کر ماحول کو بے کیف کردیتا ہے، وہ جانتا ہے کہ زندگی سنجیدگی اور لطافت دونوں کے امتزاج کا نام ہے، اور ہر کیفیت کو اس کے وقت پر اپنانا ہی دانش مندی ہے۔

اس کی طبیعت میں توازن ہوتا ہے، نہ تو وہ اتنا خشک ہوتا ہے کہ لوگ اس کے قریب آتے ہوئے گھبرائیں اور نہ اتنا نرم کہ لوگ اس کا احترام کرنا چھوڑ دیں، وہ ایسا درخت ہوتا ہے جو سایہ بھی دیتا ہے اور اپنی جڑوں میں مضبوط بھی ہوتا ہے، وہ لوگوں کی باتوں میں الجھ کر اپنا راستہ نہیں بدلتا، وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کا بھی شعور رکھتا ہے، نہ وہ اپنی تعریفوں میں گم ہو جاتا ہے اور نہ تنقیدوں سے بکھر جاتا ہے، وہ زندگی کو سمجھ کر جیتا ہے، اس کا رویہ ہمیشہ مثبت اور امید سے بھرا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ انسان اس کی محفل سے یہ کہتا ہوئے اٹھے:
بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی باتوں میں چھپی تکلیف کو محسوس کر لیتے ہیں، جو مسکرانے والوں کی آنکھوں میں جھانک کر ان کے اندر کے چھپے غم کو جان لیتے ہیں، جو لفظوں کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچان لیتے ہیں، ان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی پر بوجھ نہیں بنتے، وہ دوسروں سے کم توقع رکھتے ہیں اور خود دوسروں کو زیادہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ صبر اور شکر کے درمیان جیتے ہیں، اپنی محرومیوں کو دوسروں کے لیے غصے کا بہانہ نہیں بناتے، اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے لیے طنز کا ذریعہ اور اپنی تکلیفوں کو دوسروں کے لیے اذیت کا سبب نہیں بناتے۔

ایسے لوگ کسی کے ساتھ وقتی تعلق نہیں بناتے، وہ رشتوں میں گہرائی کو پسند کرتے ہیں، وہ دوستی کرتے ہیں تو نبھانے کے لیے، وہ کسی کو قریب کرتے ہیں تو عزت دینے کے لیے، وہ کسی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو صلہ لینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے دل کی خوشی اور اجر وثواب کے لیے، ان کے تعلقات وقتی نہیں ہوتے، ان کی محبتوں میں خلوص ہوتا ہے، اور ان کی دعائیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، وہ دل سے نکلی ہوئی تمنائیں ہوتی ہیں۔

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اخلاق سے دوسروں کے دل جیتتے ہیں، جنہیں طاقت کے زور پر نہیں بلکہ محبت کے سحر سے عزت ملتی ہے، جن کی خوشبو ان کی موجودگی میں بھی محسوس کی جاتی ہے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی، وہ جہاں ہوتے ہیں، وہاں روشنی ہوتی ہے، جہاں جاتے ہیں، وہاں چراغ جلتے ہیں، جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں محبت کی ایک دنیا آباد ہو جاتی ہے، وہ اپنے نام کو محفلوں کی زینت بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتے، لیکن لوگ انہیں خود بھول نہیں پاتے۔

ایسی شخصیت بننا ہو تو کسی مصنوعی طریقہ کی ضرورت نہیں، یہ کوئی اداکاری نہیں، بلکہ ایک فطری رویہ ہے جو اس وقت پروان چڑھتا ہے جب انسان اپنے اندر وسعت، صبر، حلم اور محبت پیدا کر لیتا ہے، جب وہ دوسروں کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کے غم کو بانٹنا اپنا فرض سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کی مسکراہٹ کو اپنی خوشی سمجھتا ہے، اور جب وہ دوسروں کی راحت میں اپنی کامیابی دیکھتا ہے۔

ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں، مگر جو ہوتے ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، وہ خزاں میں بہار بن جاتے ہیں، وہ اندھیروں میں چراغ بن جاتے ہیں، اور وہ زندگی کے سمندر میں وہ جزیرے بن جاتے ہیں جہاں سکون اور راحت میسر آتی ہے، وہ خود کے لیے نہیں جیتے، وہ سب کے لیے جیتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

 ان کی شخصیت ایک کتاب کی طرح ہوتی ہے، جسے جتنا پڑھو، اسی قدر اس سے نئے اسباق ملتے ہیں، جو جتنا قریب جائے، اتنا سیکھتا ہے، جو جتنا ساتھ چلے، اتنا فائدہ پاتا ہے، اور ان کے گرد لوگوں کا ہجوم شمع اور پروانوں کی کہانی پیش کرتا ہے:
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایسی شخصیت کے مالک بنیں، تو ہمیں اپنے رویہ میں نرمی، اپنی سوچ میں وسعت، اپنے دل میں محبت، اور اپنی طبیعت میں اعتدال پیدا کرنا ہوگا، ہمیں وقت کی طرح قیمتی بننا ہوگا، درخت کی طرح سایہ دار بننا ہوگا، خوشبو کی طرح مستقل ہونا ہوگا، اور چراغ کی طرح فروزاں بننا ہوگا، یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنائے گا بلکہ ہمارے اپنے دل کو بھی ایک دائمی سکون عطا کرے گا۔

انسانی شخصیت کبھی جامد نہیں ہوتی، بلکہ وہ حالات، تجربات، اور سیکھنے کے عمل کے ذریعہ مسلسل ارتقا پذیر رہتی ہے، کچھ لوگ اپنی زندگی ایک منظم اور مرتب انداز میں جینے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ کچھ افراد اسے فطری بہاؤ کے ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں، شخصیت کی دو بڑی اقسام ہیں: اصول پسند شخصیت (Judging Personality) اور لچک دار شخصیت (Perceiving Personality)، اول الذکر وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں نظم وضبط کو اولین ترجیح دیتے ہیں، ان کے نزدیک ہر چیز کا ایک مقررہ وقت اور اس کی ایک ترتیب ہونی چاہیے، اور وہ اپنی زندگی کی کامیابی کو ایک خاص فریم میں دیکھتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ وہ فیصلہ کن (Decisive) ہوتے ہیں اور تذبذب میں نہیں رہتے، ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، منصوبہ بندی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اور غیر متوقع تبدیلیاں انہیں پریشان کر دیتی ہیں، وقت کے سختی سے پابند ہوتے ہیں اور آخری وقت کے پابند deadline-oriented ہوتے ہیں، زندگی کو ایک واضح چیک لسٹ checklist کے مطابق جیتے ہیں، جہاں ہر چیز ترتیب سے مکمل ہوتی ہے۔
دوسری طرف، کچھ لوگ زندگی کو ایک متحرک سفر dynamic journey سمجھتے ہیں، جہاں ہر چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے، اور اسے جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ان کے نزدیک سخت اصول وضوابط بوجھ کی مانند ہیں، جو زندگی کے حسن کو متاثر کر دیتے ہیں، ان کی نمایاں خصوصیات یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ لچک دار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے flexible and adaptable ہوتے ہیں، اور کسی بھی صورت حال میں خود کو آسانی سے ڈھال سکتے ہیں، وہ منصوبہ بندی سے زیادہ spontaneity یعنی برجستگی کو پسند کرتے ہیں، اور لمحات کی قدر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسلام ہمیں کسی ایک انتہا کی طرف جھکنے کے بجائے اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے، نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھیں تو ہمیں اس میں ایک واضح اور منظم انداز structured approach نظر آتا ہے، ہر عمل ایک حکمت کے تحت کیا جاتا تھا، تاہم، اسلامی تعلیمات ہمیں سختی اور جمود کی قید میں بھی نہیں رکھتیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ" (صحیح بخاری: 6256) (اللہ ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے"۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں نظم وضبط ضروری ہے، وہیں موقع کی مناسبت سے نرمی برتنا اور حالات کے مطابق ڈھل جانا بھی ایک خوبصورت صفت ہے جب کہ اس میں شرعی قباحت نہ ہو۔

مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ محبت بانٹتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اس کے وجود سے راحت، اس کے اخلاق سے نرمی، اور اس کے عمل سے خیر جھلکتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ"(مسند أحمد: 9198)
 (مومن الفت رکھنے والا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ خود محبت کرے اور نہ لوگ اس سے محبت کریں۔
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رشتوں میں گرہ نہیں ڈالتے بلکہ انہیں مضبوط کرتے ہیں، جو دوسروں کو خود سے قریب رکھتے ہیں، جن کی مجلسوں میں سکون ملتا ہے، اور جن کے اخلاق میں نرمی و شفقت کی روشنی ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ، أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ ". (جامع ترمذی: 2488)
(کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو قریب، نرم خو اور آسانی پیدا کرنے والا ہو۔)

یہی وہ صفات ہیں جو ایک شخصیت کو باغ وبہار بناتی ہیں، جو انسان کو محبوب اور اس کی زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہیں، ورنہ حال یہ ہے کہ:
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

Tuesday, February 11, 2025

انسانی نفسیات و خیالات کی حقیقت ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

انسانی نفسیات و خیالات کی حقیقت ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 علم نفسیات(علم سیکولوجی) کی تعریف اس فن کے ماہرین یوں کرتے ہیں :  
علم النفس هو العلم الذي يدرس العقل والسلوك البشري، بما في ذلك العمليات العقلية، والمشاعر، والتصرفات، وتأثير العوامل البيئية والوراثية عليها. يهدف علم النفس إلى فهم كيفية تفكير الأفراد وشعورهم وتصرفاتهم، بالإضافة إلى دراسة الاضطرابات النفسية وطرق علاجها.
علمِ نفسیات (Psychology) ایک ایسا علم ہے،جو انسانی ذہن، رویے، احساسات اور سوچنے کے طریقوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ علم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ لوگ کیسے سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ذہنی اور جذباتی مسائل، شخصیت کی نشو و نما، اور سماجی اثرات پر بھی تحقیق کرتا ہے۔
علوم وفنون کی اقسام میں ایک اہم قسم، علم نفسیات بھی ہے ،جس کو انگریزی زبان میں علم سیکلوجی کہا جاتا ہے ، بڑے مدارس و جامعات اور کالج و یونیورسٹی میں اس فن کو بھی پڑھایا جاتا ہے اور اس فن میں ہزاروں کتابیں لکھی جاچکی ہیں ، اہل علم و تحقیق اس موضوع پر ہمشیہ ریسرچ کرتے ہیں اور مقالات لکھتے ہیں اور اس فن میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ،اس فن میں انسانی نفسیات و خیالات پر بحث کی جاتی ہے اور اس کے مزاج و مذاق کو جانا سمجھا اور پرکھا جاتا ہے ، چونکہ انسانی نفسیات کا معاملہ بہت نازک اور دلچسپ ہے ،انسان کے خیالات بھی مختلف اور عجیب و غریب ہوتے ہیں ، انسانی نفسیات کا بہت ہی مثبت اور منفی اثرات ہوتے ہیں ، اس لئے اس علم کا جاننا اور اس میں مہارت پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں انسانی نفسیات اور انسان کے مزاج و مذاق کا بطور خاص تذکرہ ہے ، کہیں انسان کو ضعیف ،کہیں عجول، کہیں جہول، ،کہیں کفور کہیں قتور تو کہیں ھلوع کہا گیا ہے ۔احادیٹ میں بھی اس علم کی جانب اشارہ ہے، یعنی نفسیات و خیالات کی حقیقت و واقعیت اور اس کی رعایت موجود ہے ۔ چونکہ موجودہ حالات میں یاد خدا سے دور ہوکر انسان غیر مطمئن اور بے کیف و سرور زندگی گزار رہا ہے ، بلکہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ بعض لوگ دولت کی فراوانی اور ریل پیل کے باوجود زندگی سے مایوس اور مستقبل سے ناامید نظر آتے ہیں اور بعض تو زندگی سے ہاتھ دھو لینے یعنی خود کشی کا فیصلہ تک کرلے رہے ہیں ، ایسے لوگوں کی قرآن و سنت اور اس علم کی روشنی میں رہنمائی کی ضرورت ہے اور انہیں منفی نفسیات ،اثرات و مضمرات اور افکار و خیالات سے نکال کر صحیح زندگی کا مزہ اور لطف سے آشنا کرنا ہے ، اس لئے آج کے پیغام میں انسانی نفسیات و خیالات کی حقیقت پر گفتگو ہوگی ،اس کے لئے مشہور عالم دین مولانا مبین الرحمٰن صاحب کی ایک تحریر جو اس موضوع ہر طرح سے لائق استفادہ ہے ،پیش خدمت ہے ،امید کہ قارئین اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی روشنی میں مایوسی اور ناامیدی والی زندگی گزارنے والے افراد کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے اور خود اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں گے۔ 
م۔ ق۔ ن ۔
انسانی نفسیات کا معاملہ بہت دلچسپ ہے، انسان کے خیالات بڑے عجیب ہیں، انھیں جو چاہو رنگ دے دو، جدھر چاہو موڑ دو، جتنا چاہو دراز کردو اور جب چاہو جھٹک دو! سوچ کو مثبت رکھو تو مثبت رہے گی، منفی رکھو تو منفی رہے گی، گویا کہ جو چاہو اسے رنگ دے دو! سوچ کو امید کے دیے سے روشن کردو تو یہ انسان کو چمکا دیتی ہے، اور اسے نا امیدی کے اندھیرے میں چھوڑ دو تو انسان کو بھٹکا دیتی ہے! انسانی سوچ کا دھارا جس سمت بہتا ہے انسان بھی اسی کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے! انسان اچھا سوچے تو اپنے بچے کے رونے کی آواز میں بھی خوشی اور اطمینان تلاش کرلیتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو وہ اسے غصہ اور جھنجھلاہٹ کا ذریعہ بنا دیتا ہے! اسی سوچ کا اثر ہے کہ بہت سے لوگ بڑے سے بڑے نقصان میں بھی مطمئن رہتے ہیں لیکن بہت سے لوگ بہت کچھ پانے کے باوجود پریشان رہتے ہیں! کوئی یہ سوچ کر غمگین ہے کہ آنے والا وقت نجانے کیسا ہوگا؟ اور کوئی یہ سوچ کر مطمئن ہے کہ اب کونسا اپنے ذاتی کمال سے جی رہے ہیں؟ جو اللّٰہ اب مددگار ہے وہی مستقبل میں بھی مددگار ہوگا! کوئی انتقام لینے میں اپنے غصے کی ٹھنڈک تلاش کرلیتا ہے تو کوئی معاف کردینے میں سکون محسوس کرتا ہے! لختِ جگر فوت ہوجائے تو انسان سوچتا ہے کہ میرا سب کچھ لٹ گیا، اب جیوں تو کیسے جیوں؟ لیکن کچھ ہی وقت بعد وہ ایک نئی امید کے ساتھ زندگی جیتا نظر آتا ہے! انسان چاہے تو بہت کچھ کو کم محسوس کرکے اپنی زندگی اجیرن کردے یا چاہے تو کم پر قناعت کرکے مطمئن ہوجائے! عشق ومحبت کا اظہار کرنے والے، ساتھ جینے مرنے کے عہد وپیمان کرنے والے اور ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے کی باتیں کرنے والے جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو چند ہی سالوں بعد یہ سب کچھ بھلا دیتے ہیں اور ان کے مابین نفرت کی خلیج وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے، پھر یہ ایک دوسرے پر اپنی جان قربان کرنے والے ایک دوسرے کی بات تک برداشت نہیں کرتے اور یوں جدائی اختیار کرلیتے ہیں! اولاد کو نصیحت کرنے والے والدین بُرے اور بد خواہ لگتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اولاد سمجھ جاتی ہے کہ واقعی والدین کی نصیحتیں درست تھیں! والدین کو جائز حق کا مطالبہ کرنے والی اولاد غلط لگتی ہے لیکن پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب والدین اپنے کو غلط قرار دے دیتے ہیں! نجانے کتنے ہی جھگڑے، تنازعات اور اختلافات ایسے ہوتے ہیں جن میں ہم مرنے، مارنے، قطعِ تعلقی اور شدید نفرتوں کے فیصلے کرلیتے ہیں، پھر جب وقت گزر جاتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ باتیں معمولی اور غیر ضروری تھیں، وہ فیصلے احمقانہ تھے، بیکار میں ان میں وقت اور صلاحتیں ضائع کیں! آج کا اچھا کل غلط دکھائی دیتا ہے اور آج کا غلط کل اچھا دکھائی دیتا ہے! محبتیں نفرتوں میں بدل جاتی ہیں اور نفرتیں محبتوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں! وقت گزر جانے کے بعد بد گمانیوں کی بھی حقیقت کھل جاتی ہیں کہ یہ سب بے بنیاد باتیں تھیں! یہ ہے سوچوں اور خیالات کے سو رنگ اور رنگ بھی ایسے جو آپ خود بھرتے ہیں!
یہ سب کیا ہے؟؟ یہ کیسی نفسیات ہیں، یہ کیسے خیالات ہیں، یہ کیسی سوچیں ہیں جو یکساں نہیں رہتیں، جو بدل جاتی ہیں، جن کو قرار نہیں، جن میں جزم نہیں، جو حرفِ آخر نہیں! تو پھر کیسی مایوسی؟ کیسے جھگڑے؟ کیسی خود کشی؟ کیسی بیزاری؟ کیسی نفرت؟ کیسا قطع تعلق؟ کیسی انا؟
اس سے معلوم ہوا کہ:
 ▪️مایوسی، ناامیدی اور بیزاری محض سوچ کا ایک رخ ہوتی ہے جو کہ یقینی نہیں، بلکہ اس کی دوسری طرف امید کا دیا بھی روشن رہتا ہے!
▪️ مایوسی، نا امیدی اور بیزاری ایک اٹل حقیقت نہیں جس کی بنیاد پر کوئی غلط قدم اٹھایا جائے، بلکہ یہ ایک وقتی کیفیت ہے، جسے طول دینے اور برقرار رکھنے کی بجائے اس سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے!
▪️ محض اپنی ضد اور انا کی وجہ سے یا اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے دوسروں کی نصیحتوں کو نظر انداز کرنا درست رویہ نہیں، بلکہ اپنے ہر معاملے میں بہر صورت یہ امکان رہنے دیجیے کہ آپ کی ذاتی رائے غلط ہوسکتی ہے، سو توجہ سے ہمدردی اور خیر خواہی رکھنے والوں کی نصیحت توجہ سے سنیے اور اس پر غور کیجیے!
▪️ وقتی جذبات سے مغلوب ہوکر بلا سوچے سمجھے کوئی فیصلہ کرنے سے اجتناب کیجیے کہ یہ کسی طور دانشمندی کا تقاضا نہیں!
▪️ جو باتیں غیر ضروری، غیر اہم اور فضول ہیں انھیں سینے سے لگانے، دل میں پالنے اور ان کی بنیاد پر کوئی غلط رائے قائم کرنے یا غلط فیصلہ کرنے سے بالکلیہ بچنا چاہیے۔
▪️ مایوسی، بیزاری، غصہ اور وقتی جذبات کی مثال تو اُس ندی کی سی ہے جو چڑھ جاتی ہے اور پھر اتر جاتی ہے! یہ تو عارضی اُبال ہے جس میں پائیداری اور دوام نہیں ہوتا! اس لیے اس وقت صبر وتحمل سے کام لینے اور دانشمندی کے فیصلے کرنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے!

Saturday, February 8, 2025

علمی مشغولیت اور زندگی کے مسائل و مشکلات 1/ محمد قمر الزماں ندوی (مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ) 9506600725

علمی مشغولیت اور زندگی کے مسائل و مشکلات 
                        1/                  

 محمد قمر الزماں ندوی 
 (مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ) 9506600725
                                   
   راقم الحروف خدائے وحدہ لاشریک کا بے حد شکر گزار ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنی توفیق سے نوازا ـ ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے دار العلوم ندوۃ العلماء کا انتخاب ہوا ـ توفیق الہی کے بقدر ، وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنے اندر عقل و فہم شعور و ادراک پیدا کیا، اور کچھ نہ کچھ علمی صلاحیت کا حصول ہمارے لیے آسان ہوا ـ تجربہ اور عمر کی کمی اور باقاعدہ کسی مربی اور اتالیق کے نہ ہونے کی وجہ سے علمی میکدہ ندوہ سے کما حقہ استفادہ ، طالب علمی کے زمانے میں ممکن نہیں ہو سکا، لیکن فکر ندوہ، اس کی جامعیت اور اس کے مسلک اعتدال و سطیت کو سمجھنے کی کچھ نہ کچھ حد تک کوشش کی ـ زبان ہوشمند جو ندوہ کا امتیاز ہے، اس کو سمجھنے اور برتنے کی مشق کی ـ سات سالہ یہ مہم الحمدللہ سر ہوگئی ـ بڑوں کے مشورہ سے کچھ مزید استفادہ کے لیے حیدرآباد گیا اور وہاں مولانا محمد رضوان القاسمی رح اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے استفادہ کا پورا موقع ملا ـ ندوہ کی تعلیم و تربیت کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی ایک سالہ تربیت نے مزید نکھار پیدا کیا ـ والد صاحب اسکول میں سرکاری ٹیچر تھے ـ زمین و جائداد بھی تھی ـ متوسط گھرانہ تھا ـ والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں علی گڑھ جاکر کوئی کورس کروں ـ بی یو ایم ایس کر لوں یا ایم اے اور پی ایچ ڈی کرلوں ـ بڑے بھائی صادق احمد ایڈووکیٹ بھی اس وقت علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے ،ایل ایل بی کر رہے تھے، لیکن میرا فطری میلان اور طبعی رجحان تھا کہ میں دینی خدمت سے جڑ جاوں اور کسی مناسب اور معیاری مدرسہ میں تدریسی خدمت انجام دوں ـ اس وقت پانچوں بھائی پڑھ رہے تھے ـ والد صاحب کی پوری تنخواہ گھریلو ضرویات کے بعد تعلیم پر صرف ہوجاتی تھی، بلکہ اس کا اکثر حصہ تعلیم پر صرف ہوتا تھاـ میں والد صاحب کی پریشانی کو بھی محسوس کررہا تھا، اس لئے آگے کی مزید تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہا ـ میرے والد کا کمال یہ تھا کہ وہ دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے اپنے بچوں کے درمیان توازن و اعتدال باقی رکھتے تھے؛ بلکہ ترجیح دینی تعلیم کو ہی دیتے تھے۔ اس کے بعد کا مرحلہ اس صلاحیت کو عملی و تخلیقی میدان میں لگانے کا تھا ـ اللہ تعالی نے اس مرحلہ کو بھی آسان کردیا اور کڑہ مانک پور جو کسی زمانہ میں اسلامی سلطنت کا حصہ تھا، بلکہ اس کا دار السلطنت تھا ، کے ایک قصبہ کنڈہ (ضلع پرتاپگڑھ یوپی) میں حضرت مولانا عبد اللہ حسنی ندوی رح کے مشورہ سے درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا، اور یک در گیر محکم بگیر پر عمل کرتے ہوئے ،زندگی کی رفتار کو آگے بڑھاتا رہا اور اپنے شوق و جذبہ کو مہمیز لگاتا رہاـ یاد رہے کہ دینی مدرسہ میں رہ کر خدمت یہ میری مجبوری نہیں تھی ،بلکہ یہ میری پسند اور چوائس تھی ،آج بھی میں اپنے فیصلے پر خوش بلکہ شاداں و فرحاں ہوں ۔ کبھی یہ احساس اور صدمہ نہیں ہوا کہ میں اس لائن میں کیوں آگیا اور نہ کسی کے دنیاوی عہدہ و منصب اور مال و زر سے متاثر ہوتا ہوں ۔
غیب کا علم اللہ کو ہے ـ ان ایام میں جان بوجھ کر کبھی ایسا عمل نہیں کیا کہ ادارہ کی ترجیحات پر اپنی ترجیحات کو مقدم رکھا ہو۔ اپنے ارادے سے کسی کوتاہی کو راہ نہیں دی۔ لیکن عملی زندگی میں جہاں ذریعہ اور واسطہ کی ضرورت پڑی، چالاکی اور ہوشیاری اور بوقت ضرورت عیاری سے کام نکالنے کی ضرورت پڑی؛ لیکن اللہ کی حکمت و مصلحت کہ ہم قطعا ناکام ثابت ہوئے۔ کبھی کبھی حالات ایسے بھی آئے کہ ارادے مضمحل ہونے لگے ـ ہمت نے جواب دینا شروع کردیا ـ شیطان فقر و فاقہ کا اندیشہ لے کر سامنے آیا اور لائن بدل دینے کا مشورہ دینے لگا۔ کبھی کبھی نفسیاتی صدمہ سے بھی دو چار ہونا پڑا ، آج بھی بعض لوگ خیر خواہی میں مشورہ دیتے ہیں کہ سرکاری ملازمت کر لیجیے آپ کے پاس تو آپشن ہے ، بورڈ مدرسہ میں ـ خدا ہر شخص کو اس سے بچائے جس کا یہ ایمان ہو کہ خیر و شر، اچھا برا ہر چیز خدا کی طرف سے مقدر ہوتی ہے ـ دوران طالب علمی اور عملی میدان میں آنے کے بعد بھی یہ سمجھتے رہے کہ اپنی محنت، لگن اور جد وجہد و علمی لیاقت سے زندگی کے دیگر مسائل بھی حل ہوجائیں گے ـ ہماری محنت اور صلاحیت شاہ کلید 🔑 (Master Key) ثابت ہوگی ـ زندگی کے سارے تالے اسی سے کھل جائیں گے ـ ہماری بقدر ضرورت روزی روٹی کے لیے کوئی دروازہ بند نہیں ہوگا ـ اس فکر اور سوچ کی وجہ سے مادے اور معدہ کی دنیا میں کام آنے والے کسی ذریعہ اور واسطہ کی کوئی پرواہ نہ کی ـ معاش کے مسئلہ کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھا ـ مشترکہ خاندان تھا، گمان بلکہ یقین اور غالب گمان تھا کہ مستقبل کے بہت سے مسائل مشترکہ خاندان کی طاقت اور بھائیوں کے اشتراک سے حل ہو جائے گا؛ لیکن حیف کہ!
  *خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا* 
یہ الگ بات ہے کہ دل کا روگ ہو جانے یا پال لینے کے وقت، جب مشکل حالات ائے، اور جب احقر موت و زیست کی حالت میں تھا ، اس وقت ہمارے سارے بھائی بہن، رشتہ دار اور ہمارے مدرسہ کے ذمہ دار اور بعض دوسرت و احباب بھی سب سے زیادہ کام آئے ، سب کی دعائیں لگیں اور اللہ تعالیٰ نے صحت و عافیت سے نوازا اور پھر ایک بار زندگی کی مصروفیات میں پہلے کی طرح لگ گیا ۔، 
    ادھر یہ تجربہ اور اندازہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ جوڑ توڑ ادھر ادھر کی اپنی صلاحیت، عیاری، طالع آزمائی، دنیا کو جیت لینے کی اپنی عجیب سی طاقت و قوت کی وجہ سے بہت سے علمی لیاقت، دعوتی صلاحیت، اخلاص کی قوت، عمل کے لیے وقف ہوجانے کی توفیق والوں پر ہر طرح سے غالب آجاتے ہیں ـ اور وہ اپنے تمام دنیاوی کاموں کو آسانی سے انجام دے لیتے ہیں ـ ان کا کام اتنا آسانی سے ہوجاتا ہے کہ فریق ثانی اس کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ پاتے۔ فریق ثانی کو اپنی اس ناکامی پر ملول اور صدمہ ہوتا ہے، اس وقت وہ اپنے کو ہارا ہوا سمجھ لیتا ہے، اور زندگی کے دوڑ میں پیچھے رہنے کا احساس اس کو ستائے رہتا ہے، لیکن پھر وہ جلد ہی سنبھل جاتا ہے، توفیق الہی دست گیری کرتی ہے اور وہ صحیح فکر کی طرف لوٹ آتا ہے اور جلد ہی اس کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ *دنیوی مفاد اور جیت ہی ساری جیت نہیں ہے، بلکہ اصل جیت اور کامیابی آخرت کی جیت ہے۔* کسی صحیح آدمی کی جیت اور ہار کو دنیوی پیمانے سے ہی ناپا اور تولا جائے گا، تو دنیا کے سارے نیک، صالح بلکہ انبیاء و اولیاء اکثر ناکام اور ہارے ہوئے ثابت ہوں گے۔۔۔ بقول مولانا امینی صاحب: *باصلاحیت لوگوں کا خدا سے صحیح رشتے کے باوجود دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا پچھتانے کا مقام نہیں، بلکہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان دنیا کے ساتھ دین بھی ہار جائے کہ یہاں بھی ناکام رہے اور خدا سے بھی اس کا رشتہ صحیح نہ رہے۔* اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ـ 
     انتیس سالہ تدریسی زندگی اور طویل تجربہ نے بتا دیا۔۔۔۔( یاد رہے کہ خاکسار اس وقت عمر کی پچاسویں بہار دیکھ رہا ہے) اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ صرف علمی صلاحیت، علم میں یکسوئی، شبانہ روز کی مصروفیت، جی جان سے مطالعہ کرنا، کتابوں کا کیڑا بن جانا، اپنی زندگی کو درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دعوت و تبلیغ میں کھپا دینا اور صرف اسی طرح کے کاموں کے لیے وقف ہو جانا زندگی کے پیچیدہ اور پریشان کن مسائل سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے؛ بلکہ ان سعادت مندانہ سرگرمیوں کے ساتھ زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی صلاحیت، جد و جہد ،ذہانت نیز دنیا داروں اور مالداروں اور دنیاوی زندگی کے ماہرین اور مسائل حیات سے نمٹنے کا خصوصی تجربہ رکھنے والوں سے ضروری حد تک ربط و تعلق اور میل جول بنائے رکھنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص جتنا علمی، دینی، دعوتی سرگرمیوں کے ساتھ اس دوسری سرگرمیوں میں بھی طاق رہے گا، وہ اسی درجہ اطمنان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے گا۔ اور جو شخص صرف علمی کاموں میں مشغول رہے گا، اپنے علمی غموں سے فرصت نہیں پائے گا، وہ اتنا ہی پریشان اور بے چین رہے گا۔ *کامل اخلاص کے ساتھ بھی محض علمی لیاقتوں کے تقاضوں کی تسکین میں میں لگے رہنے سے آپ پرسکون زندگی نہیں گزار سکتے،* اس لیے کہ زندگی کے بھی تقاضے ہوتے ہیں، زندگی کو مطمئن کرنے کے لیے بھی آپ کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ورنہ آپ زیادہ دن تک اپنے علمی کاموں اور علم و مطالعہ میں یکسوئی کے ساتھ نہیں رہ پائیں گے اور بعید نہیں کہ اس میدان کو چھوڑ کر کسی اور کام میں سرگرم ہوجائیں ـ کیونکہ زندگی کے اپنے تقاضے ہیں، بیوی بچوں کی خواہشات اور ضروریات ہیں، ان مسائل و معاملات ہیں ۔ آپ اپنی ضرورت دبا سکتے ہیں لیکن ان کی خواہشات کو کیسے دبا دیں گے۔ 
    میں نے بہت سے انتہائی لائق و فائق اور جینیس لوگوں کو پریشان ہوتے دیکھا ہے اور دیکھ رہا ہوں، اس لیے کہ انہوں نے زندگی کے تقاضوں اور بیوی بچوں کی خواہشات و ضروریات سے بے نیازی دکھائی تو زندگی نے بھی اس کو کوئی اہمیت نہ دی، نہ کوئی لفٹ دیا بلکہ انہیں ڈستی رہی، انھیں کہیں کا نہ چھوڑا اور جیتے جی لمحہ لمحہ مرنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن یہ مسئلہ ہم جیسے عام انسانوں سے ہے جو تقوی و طہارت اور قناعت کے معیار مطلوب پر کھرے نہیں اترتے جو تزکیہ و احسان اور سلوک و معرفت سے کوسوں دور ہوتے ہیں، ورنہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا سے اس قدر بے نیاز ہوکر مخلوق کی خدمت کرتے ہیں اور اس قدر دنیا سے بے تعلق رہتے ہیں کہ دنیا ان کے قدموں پر گرتی ہے وہ پوری بے نیازی اور استغنا کے ساتھ دنیا کو جھٹک دیتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ دنیا میں خال خال پائے جاتے ہیں۔ 
    تجربہ کاروں اور میدان کے ماہرین کا ہم جیسے عام لوگوں کے لیے جو نفع و نقصان کے اسیر ہیں اور اسباب دنیا کا دامن تھامنے سے بے نیاز نہیں ہیں اور جو *ولا تنس نصیبک من الدنیا*( اور اپنا دنیا کا حصہ فراموش نہ کر) پر پختگی سے ایمان رکھتے ہیں ، مشورہ یہی ہے کہ ساری صلاحیتوں، لیاقتوں اور علمی سرگرمیوں کے بعد بھی ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ وقت نکال کر زندگی کے مسائل سے بھی نمٹو ـ اسے بالکل نظر انداز مت کرو ـ اور راہ حیات پر اس طرح چلو کہ ان کے دل و جگر کو خراش نہ لگے اور عزت و آبرو کا دامن کسی کانٹے میں نہ الجھے کہ راہ حیات صرف کانٹوں اور خاروں سے پٹی ہوئی ہے، جن سے ہر مسافر کا دامن ضرور الجھتا ہے سوائے اس خوش قسمت اور سعادت مند کے جس کا خصوصی محافظ و نگراں خدا ہو۔
آج دینی اداروں،انجمنوں،دینی و دعوتی مرکزوں اور رفاہی تنظمیوں کی کمی نہیں ہے، روز روز نئے نئے ادارے، تنظیمیں اور جمعیتیں وجود میں آرہی ہیں، ان میں سب تو نہیں لیکن ایک بڑی تعداد ماشاء اللہ اچھے تعمیری ، ٹھوس، دیرپا اور دور رس کام کررہی ہیں۔ لیکن کاش کچھ ایسے ادارے ہوتے جن کا مقصد اور کام یہ ہوتا کہ وہ کچھ لائق اور تجربہ کار اور دیانت دار افراد کو اس کام پر لگا دیتے کہ وہ معلوم اور تحقیق کریں کہ ملت کے مختلف زمرہ حیات میں کتنے مخلص محنتی اور لگن کے لوگ ہیں جو علمی دینی کاموں میں مشغول ہیں۔ لیکن ان کے منصوبے۔ عزائم اور تخلیقات و تصنیفات مادی وسائل کی کمی کی وجہ سے ادھورے رہ جاتے ہیں، تکمیل کو نہیں پہنچ پاتے۔ اور ایسے افراد کی صلاحیت، کام کا جذبہ و حوصلہ ہمت شکن صورت حال سے دو چار ہے۔ ان کی سفارشوں اور مشاہدات کی بنیاد پر ان کی مدد کی جاتی، ان کے لیے وہ سارے وسائل فراہم کیے جاتے جن کی انہیں ضرورت ہے۔تاکہ یہ باکمال اور باصلاحیت افراد اپنے اپنے میدان میں رہ کر پوری یکسوئی کے ساتھ علمی کاموں میں منہمک رہتے، امت کو فائدہ پہنچاتے اور باطل طاقتوں کا بھر جواب دیتے اور ان کے علمی اعتراض پر ان کو اپنی تحریروں سے دنداں شکن جواب دیتے، اور وہ کسی الجھن، فکر و تشویش اور اپنے مزاج کے خلاف کاموں میں پڑ کر اپنے کام سے لاچار نہ ہوتے، جیسا کہ اس وقت ہورہا ہے، جس کی وجہ سے لائق اور قابل افراد جو امت کے لیے اصل سرمایہ کی حیثیت رکھتے تھے وہ کسی اور میدان میں جاکر ضائع اور برباد ہو رہے ہیں۔ 
       آج ضرورت ہے اس بات کی کہ کچھ ادارے اور تنظیمیں صرف اس لیے قائم ہوں کہ وہ لائق لوگوں کی، ان کے کام کی جگہوں میں ٹوہ لگاییں اور ان مخلص علماء دین دار داعیوں اور علمی کاموں میں مشغول لوگوں کی جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں ان کی معاونت کریں۔
 (جاری)

Friday, February 7, 2025

پر مسرت ازدواجی زندگی خدائی انعام ہے !محمد قمر الزماں ندوی

پر مسرت ازدواجی زندگی خدائی انعام ہے !

محمد قمر الزماں ندوی 
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں 
کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  اگر انسان کو پر مسرت، پرلطف، پر بہار اور پرسکون ازدواجی زندگی نصیب ہوجائے اور اس میں آپس میں تخلیاں نہ آئیں اور آپس میں کشیدگی اور کشاکش پیدا نہ ہو اور ہمیشہ الفت و محبت کی یہ باد بہاری چلتی رہے، تو یہ سمجھئے کہ یہ بہت بڑا خدائی انعام ہے اور بہت بڑی سعادت مندی اور کامیابی ہے ۔ اسی لئے حدیث میں نیک بیوی ،نیک پڑوسی اچھی سواری کشادہ و پرسکون مکان اور وطن اور قرب میں حلال روزی کا نظم ہو جانا سعادت مندی اور کامیابی و سرفرازی کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔۔ 
    یہ حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ کی جہاں بے شمار نشانیاں ہیں ،اس کی ایک بڑی نشانی ہے کہ اس نے نوع انسانی کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اسی میں اس کا جوڑا بھی بنا دیا ۔مرد کو عورت کی خواہش اور عورت کو مرد کی جانب میلان ایک فطری بات ہے ۔حق تعالیٰ نے اس فطری خواہش اور ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نکاح کو ذریعہ بنایا تاکہ انسان حیوانات کی طرح اس فطری خواہش کو آزادانہ پورا نہ کرے ۔بلکہ نکاح کے بعد صحیح طریقہ پر یہ فطری خواہش تکمیل کو پہنچے ۔ دو اجنبی مرد و عورت کے درمیان نکاح کے ذریعہ بڑا نازک محبت کا رشتہ پیدا ہوتا ہے ۔۔یہ ایک ایسا معاہدہ اور پیکٹ ہے جسے توڑنا خدا کو ناراض کرتا ہے ۔۔
  ایک اجنبی مرد و عورت کا یہ مضبوط معاہدہ صرف انسانی خواہشات ہی پورا کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد زندگی کا سکون اور دل کی راحت حاصل کرنا ہے ۔ سورہ روم میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ اور یہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم سے ہی تمہارا جوڑا بنادیا تاکہ تم اس سے سکون حاصل کر سکو ۔۔سورہ روم ۔ 21.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوسری جگہ ہے ،،اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان الفت و محبت پیدا کردی ۔۔ سورہ روم آیت 21/....
  اس محبت کے رشتہ کا نتیجہ یہ ہے کہ بیوی شوہر کے لئے پردہ پوش اور شوہر بیوی کے لئے ،اور دونوں ایک دوسرے سے اس قدر قریب جیسے لباس انسان کے بدن سے ملا ہوا ہے اور پردہ پوشی کرتا ہے ۔۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اچھی بیوی کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور سب سے اونچی پونجی قرار دیا ۔غرض نکاح کا مقصد صرف میاں بیوی کی خواہشات کی باہم تکمیل ہی نہیں ہے، بلکہ یہ تعلق محبت و مودت الفت و شفقت کی ایک مضبوط بنیاد اور ستون بھی ہے ۔۔
     ازدواجی زندگی میں تلخیاں بھی آتی ہیں، مشکلات بھی آتے ہیں،کبھی کبھی ہم آہنگی اور مزاج نہ ملنے کی وجہ سے بھی دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں ،یا مناسبت میں کمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کے باوجود میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کرتے ہیں ۔۔ دنیا میں بہت سی عظیم ہستیوں کے ساتھ بھی اس طرح حالات و واقعات پیش آئے اور ان کو اس کا سابقہ پڑا ، لیکن اس تلخی اور ناخوشگواری کی وجہ سے ان کے علمی اور عملی کاموں میں کوئی رکاوٹ اور دشواری پیدا نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ علمی ،ملی ،قومی اور سماجی کاموں میں پیش پیش رہے ۔ چونکہ سیرت و سوانح کا مطالعہ راقم الحروف کا پسندیدہ اور محبوب مشغلہ ہے ،اس لئے ایسی بہت سی شخصیات کی ازدواجی زندگی کی کہانی میری ڈائری میں محفوظ ہے ۔۔۔ 
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے پیغام میں، ہم علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی کے حوالے ایک تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، یہ آپ کی پہلی شریک حیات تھیں ۔ 
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔       
1893ء میں اقبال کی کریم بی کے ساتھ شادی رواج کے مطابق ان کے بزرگوں نے طے کی تھی اور ان کی اپنی بعد کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شادی پر رضامند نہ تھے، مگر چونکہ سولہ برس کی عمر کے لڑکے تھے اس لیے احترام کے پیشِ نظر انہیں اپنے بزرگوں کے سامنے دم مارنے کی ہمت نہ ہوئی۔ 
شادی کے پہلے دو سال سیالکوٹ میں گزارے۔ اس دوران میں انہوں نے ایف۔اے کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کی تحصیل کی خاطر 1895ء میں لاہور آگئے۔لاہور میں چار سال کواڈرینگل ہوسٹل میں گزارے۔ کریم بی ہوسٹل میں ان کے ساتھ تو نہ رہ سکتی تھیں، اس لیے وہ بیشتر وقت اپنے والدین کے ساتھ یا اپنے میکے گجرات میں بسر کرتی تھیں اور بعض اوقات چند ماہ کے لیے سیالکوٹ آجاتیں۔
اقبال گرمیوں کی چھٹیاں عموماً سیالکوٹ میں اپنے والدین کے ساتھ گزارتے اور کبھی کبھار چند ہفتوں کے لیے اپنے سسرال گجرات چلے جاتے۔ اس دوران وہ دو بچوں کے باپ بن چکے تھے۔ معراج بیگم 1896ء میں پیدا ہوئیں اور آفتاب اقبال 1898ء میں۔
1900ء سے لے کر 1905ء تک کی پانچ سالہ ملازمت کے دوران جب اقبال بھاٹی دروازے والے مکان میں رہائش پذیر تھے، کریم بی نے ان کے ساتھ مکان میں قیام نہ کیا۔ نذیر نیازی کی رائے میں کریم بی سے کشیدگی کی ابتدا انہی ایام میں ہوگئی تھی۔ 1905ء سے لے کر 1908ء تک کے تین سال اقبال نے یورپ میں گزارے۔ ان کی واپسی پر معراج بیگم بارہ برس کی اور آفتاب اقبال دس برس کے تھے۔ 
نذیر نیازی تحریر کرتے ہیں :
یورپ سے واپسی کے بعد اگرچہ وہ (کریم بی) احیاً نا لاہور آتیں، محمد اقبال ان کا بڑا خیال رکھتے، مگر ایک دوسرے سے کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ تا آنکہ باپ اور بھائی کی کوششوں کے باوجود علیحدگی کی نوبت آگئی۔ 
یہ زمانہ محمد اقبال کے لیے بڑے اضطراب کا تھا۔ بغیر طلاق کے چارہ نہ رہا۔ لیکن والدہ آفتاب کی عزتِ نفس نے گوارا نہ کیا محمد اقبال کفالت کے ذمے دار ٹھہرے ۔ فرمایا شرعاً میرے سامنے دو ہی راستے تھے، طلاق یا کفاف کی ذمہ داری۔ والدہ آفتاب طلاق پر راضی نہ ہوئیں۔میں نے بخوشی کفاف کی ذمہ داری قبول کی۔
چنانچہ ایک مقررہ رقم ہر مہینے بھیج دیتے۔ حتیٰ کہ آخری علالت کے دوران میں بھی یہ رقم باقاعدہ روانہ کی جاتی۔ پھر جب علالت نے طول کھینچا اور مالی دشواریاں بڑھیں تو اس میں تخفیف کرنا پڑی، لیکن رقم کی ترسیل میں کوئی فرق نہ آیا۔ آخری منی آرڈر میرے ہاتھوں سے ہوا، میں نے تعمیل ارشاد کردی۔ 
اس سلسلے میں اقبال کی جو ذہنی کیفیت تھی وہ عطیہ فیضی کے نام ان کے خط محررہ 9 اپریل 1909ء سے ظاہر ہے۔ لکھتے ہیں : 
میں کوئی ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ میری خواہش یہ ہے کہ جلد سے جلد اس ملک سے بھاگ جاؤں۔ اس کی وجہ آپ کو معلوم ہے، میں اپنے بھائی کا ایک قسم کا اخلاقی قرضدار ہوں اور صرف اسی چیز نے مجھے روک رکھا ہے۔ میری زندگی نہایت مصیبت ناک ہے۔ یہ لوگ میری بیوی کو زبردستی مجھ پر منڈھ دینا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے والد کو لکھ دیا ہے کہ انہیں میری شادی کردینے کا کوئی حق نہ تھا، بالخصوص جب کہ میں نے اس قسم کے تعلق میں پڑنے سے انکار کردیا تھا۔ میں اس کی کفالت کرنے پر آمادہ ہوں، لیکن اسے اپنے پاس رکھ کر اپنی زندگی کو عذاب بنانے کو ہرگز تیار نہیں۔ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے مجھے مسرت کے حصول کا حق ہے۔ اگر معاشرہ یا فطرت وہ حق مجھے دینے سے انکاری ہیں تو میں دونوں کے خلاف بغاوت کروں گا۔ میرے لیے صرف ایک ہی چارہ ہے کہ میں اس بدبخت ملک کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں یا مے خواری میں پناہ ڈھونڈوں، جس سے خودکشی آسان ہوجاتی ہے۔کتابوں کی یہ بے جان اور بنجر اوراق مسرت نہیں دے سکتے اور میری روح کے اندر اس قدر آگ بھری ہوئی ہے کہ میں ان کتابوں کو اور ان کے ساتھ ہی معاشرتی رسوم و روایات کو بھی جلا کر خاکستر بناسکتا ہوں۔ آپ کہیں گی کہ ایک اچھے خدا نے یہ سب کچھ تخلیق کیا ہے، ممکن ہے ایسا ہی ہو، مگر اس زندگی کے تلخ حقائق کسی اور ہی نتیجے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ذہنی طور پر ایک اچھے خدا کی بجائے کسی قادر مطلق شیطان پر یقین لے آنا زیادہ آسان ہے۔ مہربانی کرکے ایسے خیالات کے اظہار کے لیے مجھے معاف کیجیے گا۔ میں ہمدردی کا خواستگار نہیں ہوں۔ میں تو صرف اپنی روح کا بوجھ اتارنا چاہتا تھا۔ 
اقبال کی اس شادی کی ناکامی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان کے دونوں بچے شفقت پدری سے محروم رہ گئے۔ ایسی صورت میں بچوں کی ہمدردیاں عموماً ماں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ معراج بیگم اور آفتاب اقبال کے بچپن اور جوانی کا بیشتر زمانہ ماں کے ساتھ ننھیال میں گزرا۔ جب دونوں کچھ بڑے ہوگئے تو دادا اور دادی کے پاس سیالکوٹ میں رہنے لگے۔ باپ کے ساتھ تو ان کی ملاقات شاذ و نادر ہی ہوتی تھی۔ اس کے باوجود اقبال معراج بیگم(بیٹی) سے بڑی محبت کرتے تھے۔ معراج بیگم(بیٹی) ماں باپ کے تعلقات میں کشیدگی پر اندر ہی اندر کڑھتی رہتیں، لیکن کیا کرسکتی تھیں، بے بس تھیں۔ انہیں جوانی ہی میں خنازیر کا مرض لاحق ہوا، اور انیس برس کی عمر میں 17 اکتوبر 1915ء کو وفات پاگئیں۔ 
آفتاب اقبال اپنے دادا کے منظور نظر تھے۔ ان کا نام بھی شیخ نور محمد ہی نے رکھا تھا۔لیکن شفقت پدری کی عدم موجودگی میں اپنے تایا کی سخت طبیعت کو انہوں نے کبھی قبول نہ کیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، آفتاب اقبال کے دل میں یہ بات ہمیشہ کے لیے بیٹھ گئی کہ ان کی ماں کے ساتھ باپ نے نا انصافی کی ہے۔ نتیجتاً باپ بیٹے کے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ اقبال کے بعض احباب کی کوششوں کے باوجود ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور نہ ہوسکیں، تا آنکہ اقبال کی زندگی ہی میں باپ بیٹے میں قطع تعلقی ہوگئی۔ 
حوالہ کتاب : "زندہ رُود"
از : "ڈاکٹر جاوید اقبال"
ص : 199..200..201
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...