Translate

Sunday, March 23, 2025

عمرہ اور مسجدِ حرام میں اعتکاف محمد طارق بدایونی

عمرہ اور مسجدِ حرام میں اعتکاف
محمد طارق بدایونی

 میقات یا حِل سے احرام باندھ کر طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کو عمرہ کہا جاتا ہے۔ یہ حج کے مخصوص ایام یعنی مقررہ دنوں (نویں ذی الحجۃ سے تیرہویں ذی الحجۃ تک) کے علاوہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ اس میں وقت یا سال کی کوئی تحدید نہیں ہے اور زندگی میں ایک بار کرنا سنّتِ مؤکدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ۔ (البقرۃ: ۱۹۶)
حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟، قَالَ:" نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ۔ [سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الحج جھاد النساء، رقم الحدیث: ۲۹۰۱]
(یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے“۔)
 عمرہ کی فضیلت کے متعلق کثرت سے احادیث وارد ہیں۔ ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔ [سنن نسائی، کتاب مناسک الحج، باب فضل العمرۃ، رقم الحدیث: ۲۶۳۰]
(ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے (صغیرہ)گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔)

 جہاں تک رمضان کا تعلق ہے تو اس ماہ میں عمرہ خاص فضیلت کا حامل ہے اور مستحب ہے۔ رسولِ خداﷺنے ارشاد فرمایا:
فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ۔[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل العمرۃ فی رمضان، رقم الحدیث: ۳۰۳۸]
(رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔)
 یا یوں فرمایا: 
فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ۔[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل العمرۃ فی رمضان، رقم الحدیث: ۳۰۳۹]
(رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔)
 یعنی رسول اللہ کی معیت میں عمرہ کرنا انفرادی طور پر عمرہ کرنے سے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اب ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ مالکِ حقیقی سے جا ملے ہیں؛ لیکن ایک فضیلت جو دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا اور مسجدِ حرام میں جا کر اعتکاف کرنا فضلِ کبیر اور فوزِ عظیم ہے۔ اس لیے جو شخص اتنی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ مکۃ المکرمۃ کا سفر کر سکے تو اسے چاہیے کہ وہ تمام اسباب مہیا کرے، راستے کی حفاظت کا بند و بست کرے اور امکان بھر کوشش کرے کہ وہ رمضان المبارک میں وہاں پہنچ کر عمرہ کرے اور مسجدِ حرام میں اعتکاف کرے۔ (نوٹ: جب انسان مستطیع ہو جائے تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے، اس لیے پہلے حج فرض ہے۔)
 ہر مسلمان کو یہ چیز خوشی دیتی ہے، اس کے دل کو ٹھنڈا کر دیتی ہے اور اس کے شوق کو گرما دیتی ہے کہ جب وہ ہر سال رمضان المبارک کے موقع پر عمرہ کرنے والے ہجوم کو مکۃ المکرمہ سے نشر ہونے والے مناظر کو دیکھتا ہے، کیسے لوگ صفا و مروہ کی سعی کر رہے ہیں! کیسے لوگ تکبیر و تحمید کا نعرہ لگا رہے ہیں! کیسے لوگ ایک ساتھ جمع ہو کر فرائض و واجبات ادا کر رہے ہیں، کیسے قیام اللیل میں اللہ سے رو رو کر اپنے حاجات بیان کر رہے ہیں، کیسے خوب صورت آواز میں حسنِ ادائی کے ساتھ امام کعبہ لوگوں کو تراویح پڑھا رہے اور کیسے لوگوں کے ہجوم کے ہجوم اعتکاف میں اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کیے ہوئے ہیں!!!
 ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین رمضان المبارک میں مسجدِ حرام کا قصد کرتے ہیں، وہاں عمرہ کرتے ہیں اور اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں، نمازوں کی ادائی کے لیے جمع ہوتے ہیں، دعا و مناجات کرتے ہیں، استغفار کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہ سب اس طلب کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ اس ماہ میں اجر میں اضافہ فرما دے گا، اور دنوں کے مقابلے میں ثواب کو بڑھا دے گا۔ خاص طور پر آخری عشرے کے مناظر تو زیارت کو بھوک کو بے حد و حساب بڑھا دیتے ہیں۔

مسجدِ حرام میں اعتکاف کرنے والوں کے لیے چند اہم احکام
‘‘مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی میں اعتکاف کرنے والے افراد کے لیے بغیر ضرورت کے مسجد کی چار دیواری سے باہر جانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، البتہ قضائے حاجت کے لیے حرم سے باہر جانے کی اجازت ہے ، بیت الخلامیں رش کی صورت میں وہیں انتظار کرنے کی بھی اجازت ہے ، نیز اگر کوئی کھانا پہنچانے والا نہیں ہے اور حدودِ مسجد کے اندر سحر وافطار کا انتظام بھی نہ ہو تو حرم سے باہر جاکر کھانا لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر حرم میں کھانا لاکر کھانے کی اجازت نہ ہو تو حرم سے باہر بیٹھ کر کھانے کی بھی اجازت ہے، تاہم مذکورہ ضروریات کے علاوہ حدودِ مسجد سے باہر معمولی وقت کےلیے رکنے کی بھی اجازت نہیں ہے، مثلاً: باہر رک کر باتیں کرنا یا گپ شپ کرتے ہوئے کھانا کھانا۔
آج کل عموماً مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کے اندر سحر اور افطار کے لیے کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے مل جاتاہے، اس لیے اگر اندر ہی انتظام ہو اور اس سے ضرورت پوری ہوجائے تو کھانے کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور اگرمسجد کے اندر ملنے والی سادہ غذا سے حاجت پوری نہ ہو یا وہ طبیعت کے موافق نہ ہو اور کوئی کھانا لاکر دینے والا بھی نہ ہو تو معتکف کے لیے خود باہر جاکر کھانا لانے کی اجازت ہوگی۔ اور کھانا اندر لانے کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں باہر ہی کھانے کی بھی اجازت ہوگی۔
ملحوظ رہے کہ مسجد حرام میں اعتکاف کرنے والے افراد طواف کرسکتے ہیں، اسی طرح سے مسجد نبوی میں اعتکاف کرنے والے افراد کے لیے حدودِ مسجد کے اندر سے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔ البتہ مواجہہ شریف پر سلام پیش کرکے مسجد کی حدود ہی میں واپس پلٹ جائیں، باہر کی طرف سے نہ نکلیں۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کی شرعی حدود کے نشانات وہاں موجود ہیں، حرمین شریفین کی عمارت کے اختتام پر صحن سے پہلے پہلے تک حدودِ مسجد ہے، مسجدِ نبوی میں عمارت کے ساتھ جہاں تک سفید ماربل لگا ہوا ہے اسے بھی مسجد کا حصہ سمجھاجاتاہے، دونوں مسجدوں کے صحن میں مذکورہ ضروریات کے علاوہ نہ جائیں، اسی طرح حرم مکی میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کی جگہ شرعی مسجد میں شامل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم’’ [دیکھیے: دار الافتاء، جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی، پاکستان، فتویٰ: 143909200525]

مسجد حرام میں عورت کا اعتکاف
 رمضان المبارک میں اگر خواتین عمرہ کرنے جائیں تو ان کے لیے بھی یہ اجر و ثواب میں اضافے کا سبب ہے؛ تاہم عورتوں کے لیے یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ حؤمسجدِ حرام یا مسجدِ نبویﷺ میں جا کر بیٹھیں؛ کیوں کہ نبی اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ گھر کے اس حصّے میں اعتکاف کریں جسے انھوں نے مسجد بنا لیا ہے، نماز کے لیے خاص کر لیا ہے۔
مبسوط السرخسی میں ہے:
(قال): ‌ولا ‌تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة الرجال والنساء فيه سواء قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد بدليل جواز بيعه والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة فيختص ببقعة معظمه شرعا، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.
(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل كما في حق الرجال وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة» وفي الحديث أن «النبي - صلى الله عليه وسلم - لما أراد الاعتكاف أمر بقبة فضربت في المسجد فلما دخل المسجد رأى قبابا مضروبة فقال: لمن هذه فقيل لعائشة وحفصة فغضب وقال: آلبر يردن بهن وفي رواية يردن بهذا، وأمر بقبته فنقضت فلم يعتكف في ذلك العشر» فإذا كره لهن الاعتكاف في المسجد مع أنهن كن يخرجن إلى الجماعة في ذلك الوقت؛ فلأن يمنعن في زماننا أولى. [باب الإعتكاف :٣/١١٩:ط دار المعرفة ]

Saturday, March 22, 2025

علم اور رمضان محمد طارق بدایونی

علم اور رمضان
محمد طارق بدایونی

 اسلام میں ‘‘علم’’ کی بڑی اہمیت ہے اور رمضان المبارک میں اس کا خاص مقام ہے۔ جس طرح رمضان ماہِ صیام و قیام ہے اسی طرح یہ ماہِ علم و قلم، ماہِ قرأت و کتابت بھی ہے۔ یہ رشتہ بڑا گہرا ہے۔ یہ مہینے علم سے ہی شروع ہوا، انسان سے ناخواندگی کے خاتمہ کے ساتھ آغاز ہوا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، آپﷺ غارِ حرا میں تھے، حضرت جبرئیل علیہ السلام وحیِ خداوندی کے ساتھ حاضر ہوئے، رسول اللہ سے پڑھنے کا مطالبہ ہوا اور اس طرح رسالتِ محمدیہ شروع ہوئی۔ رسول اللہﷺ نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ آپﷺ ان پڑھوں اور پڑھے لکھوں سب کے استاد بن گئے۔ لوگوں کو راہِ ہدایت کی تعلیم دی، خدائی آیات سنائیں اور لوگوں کی زندگیاں سنواریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ (الجمعۃ: ۲-۳)
(وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انھی میں سے اٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے؛ حالاں کہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور (اس رسول کی بعثت) ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی ان میں سے نہیں ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔)

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے نزول، رسول اللہ سے قرأت کا مطالبہ اور آپﷺ پر پہلی وحی کا نزول کا پورا قصّہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
 كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ [صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بدء الوحی إلی رسول اللہﷺ، رقم الحدیث: ۴۰۳]
(رسول اللہﷺکی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا۔ رسول اللہﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر (دوبارہ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے (مقررہ) تعداد میں راتیں تحنث میں مصروف رہتے، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں، (اس کے بعد) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد (سامان خور و نوش) لے جاتے، (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق (کا پیغام) آ گیا، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ نے جواب دیا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: تو اس (فرشتے) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ (اس کا دباؤ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ‘‘اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا’’۔)

 یوں رمضان المبارک میں پڑھنے کے حکم کے نازل وحی کا آغاز ہوا، اس کے بعد قلم کا ذکر آیا جو پر کتابت کا آلہ ہے۔ اس کا ذکر سورۃ القلم میں ہے جو کہ قرآن مجید کے نزول کے ابتدائی سورتوں میں سے ایک ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
ن۔ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔ (القلم: ۱-۴)
(ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔ تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔)

 یہ نکتہ پیغامِ محمدی کی عظمت بیان کرتا ہے۔ یہ نہج علم و ایمان کا پیغام دیتا ہے۔ یہ طریقہ پیغامِ قلم و بیان ہے اور یہ منہاج قرأت و کتابت اور تکریمِ انسان کی عظمت کی دلیل ہے۔

 ماہِ رمضان المبارک میں علم کا ایک مظہر یہ ہے کہ یہ مہینہ رسول خداﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کے مابین قرآن کی دور کا مہینہ تھا۔ ہر سال حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لاتے قرآن مجید سننے سنانے کا دور چلتا، غور و فکر ہوتا اور اس چیز کی تصدیق ہوتی جس کے اثبات کا رب العالمین نے حکم دیا ہے اور وہ چیزیں منسوخ ہو جاتیں جن کے منسوخ کرنے کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہوتا۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهٗ أُمُّ الْكِتَابِ۔ (الرعد: ۳۹)
(اللہ جو کچھ چاہتا ہے، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔)
 لیکن جس سال رسول اللہ کا وصال ہوا، اس سال قرآن مجید کا یہ دور دو مرتبہ ہوا۔

 حضرت ابن عباس سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
 کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ [صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبیﷺ، رقم الحدیث: ۳۵۵۴]
( رسول اللہﷺسب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپﷺ سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہﷺ خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔)

 ماہِ رمضان میں علم کے مظاہر میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نبی اللہﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے معاملے میں یہ موقف اختیار فرمایا کہ ان میں سے ہر شخص مدینہ منورہ کے دس لڑکوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے وہی اس کی آزادی کا فدیہ ہے اور تمام صحابہ کرام اس پر متفق ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اسلامی ریاست کی تشکیل ہوئی اور اس کا قیام عمل میں آیا تو مال و اسلحہ کی اشد ضرورت تو تھی ہی؛ لیکن ضرورتِ علم و تعلیم و تعلم کے ہتھیار کو بھی فراموش نہیں کیا گیا؛ بلکہ اسے دیگر تمام ضرورتوں پر فوقیت دی گئی۔ رسول اللہﷺ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ علم کا حصول ہر ایک کے لیے رکنِ رکین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں بنیادی میخ ہے، ان کی طاقت و قوت اور شانِ بلند کے لیے سب سے ضروری شے ہے۔

 بے شک علم کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے اور ہے، بلا علم کوئی بھی قوم کبھی ترقی کے خواب اپنے لیے نہیں بُن سکتی۔ علم ہی وہ دولت ہے جو خرچ کی جائے تو اس میںاضافہ ہوتا ہے۔ علم کا حصول ہر مسلمان پر لازم ہے۔ رسول اللہﷺ پر پہلی وحی بھی علم پر موقوف تھی۔
 جب ہم سیرتِ نبویہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ رسول اللہﷺ رمضان المبارک ہی کے مہینے میں پڑھنے کا حکم ملا تھا اور اسی مہینے میں پہلی وحی کا نزول ہوا تھا؛ جب کہ رسول اللہﷺ پڑھنا نہیں جانتے تھے کہ پھر آپﷺ لوگوں کے معلم بن گئے اور آپﷺ نے خود اعلان فرمایا: وإنما بعثت معلما۔ [مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم، رقم الحدیث: ۲۵۷]

 اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم علم سے بالکل بھی بے اعتنائیت نہ برتیں۔ ہر شخص علم کا ضرورت مند ہے، ہر ایک کو کچھ نہ کچھ سیکھنا ہے، خواہ وہ فن قرأت و کتابت ہو یا دنیاوی ضروریات کے تکمیل کے لیے کوئی اور فن۔ ہمیں چاہیے کہ جب رمضان المبارک آ جائے تو ہماری علمی دل چسپی بڑھ جائے، پڑھنا لکھنا سیکھیں، قرآن پر تدبر کریں، علمی حلقوں میں بیٹھیں اور کوشش ہونی چاہیے کہ ہر رمضان میں کوئی نہ کوئی نیا دینی علم حاصل ہو جائے جس سے ہماری آخرت سنور جائے۔

 ذرا غور کیجیے کہ نبی اللہﷺ کو مال و اسباب اور اسلحہ جات کی ضرورت تھی؛ لیکن بدر کے قیدیوں کی آزادی کا بدلہ مدینہ کے لڑکوں کو علم سکھانا ضروری جانا؛ کیوں کہ مادّی طاقت یا عددی طاقت وہ حیثیت نہیں رکھتی جو علمی طاقت رکھتی ہے۔ صحابہ کرام میں ہر فن کے ماہرین، ہر زبان کے ماہرین موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ جہاں کہیں بھی کوئی پیغام بھیجتے تو وہاں کی زبان پر قدرت رکھتے والے کو ہی ارسال فرماتے۔ نیز یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ علم ہی کی بنیاد پر طاقت میسر آتی ہے۔ کیا اب دنیا کوئی ایسی قوم ہے جو بلا علم طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔ مال و دولت ہو یا جنگی ساز و سامان سب کی پیدائش علم ہی کے راستے سے ہو کر گذرتی ہے۔

Friday, March 21, 2025

اعتکاف محمد طارق بدایونی

اعتکاف
محمد طارق بدایونی

 اعتکاف حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ شرعی طور پر مقرر کی گئی ہے اور نبی اللہﷺ اپنے وصال تک اس کی پابندی فرماتے رہے۔ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپﷺ مسجد کو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے لازم پکڑ لیتے، طاعتِ الٰہی میں اپنا وقت گزارتے، اس میں رب کی بہت سے حکمتیں اور خدائی معرفت کے راز پوشیدہ ہیں، جنھیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔

 بے شک تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا تعلق دل سے ہے۔ جب دل درست ہوگا تو اعمال بھی درست ہوں گے اور جب دل میں فساد ہوگا تو اعمال میں بھی فساد آئے گا۔ جیسا کہ رسولِ خدا ﷺ کا ارشاد ہے:
وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً، إذا صَلَحَتْ، صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذا فَسَدَتْ، فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألا وهي القَلْبُ۔[صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینیہ، رقم الحدیث: ۵۲]
(سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔)

 رمضان المبارک کے ان خصوصی فضیلت والے ایّام میں مسلمانوں کو اپنے قلوب کی اصلاح کرنے، اسے عبادت کے لیے تیار کرنے، لغویات سے دور رکھنے، دنیاوی مشاغل اور فکروں سے روک لینے، فضول شہوت رانیوں اور حد سے زیادہ خواہشات پالنےسے بچنے کی غرض سےاسلام میں اعتکاف کو مشروع کیا گیا ہے؛ تاکہ انسان بالکل یکسوئی کے ساتھ رب العالمین کی جانب متوجہ ہو جائے اور ہر طرح کی فکروں سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔

جب انسان بالکل تنہا ہو کر اپنے رب کی عبادتوں میں لگ جاتا ہے، دنیاوی مشغولیات اور اس میں پیدا ہونے والے انتشار و خلفشار سے دور رہ کر اپنا دل پاک کر لیتا ہے تو دیگر تمام نجاستوں، فضول باتوں اور زندگی کی دشواریوں، پریشانیوں سے بچے رہنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ 
انسان جب ان سب چیزوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے اور اس کا دل خدا کی عبادت اور ذکر میں لگ جاتا ہے اور اپنے آپ کورب العالمین کی من مرضی کے مطابق اس کی عبادت میں ڈھال لیتا ہے تو اس کے اثرات ما بعد رمضان زندگی پر مرتب ہوتے ہیں، اس کی عبادتوں کا ثواب گذشتہ نیکیوں کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے؛ کیوں کہ اب اس کے خشوع و خضوع کی کیفیت میں بھی اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔

 پورے ماہِ مبارک کا اعتکاف بھی رسول اللہﷺ سے ثابت ہے۔ پہلے اور دوسرے عشرے کا اعتکاف مستحب ہے جب کہ آخری عشرے کا اعتکاف سنّت ہے۔ البتہ رسول اللہﷺ نے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا پھر درمیان (دوسرے) عشرے کا اعتکاف کیا؛ لیکن وہ شبِ قدر کی تلاش میں تھا پھر آپ کو مطلع کیا گیا کہ یہ رات آخری عشرے میں ہے تو آپﷺ نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر آپﷺ کا تا حیات آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا معمول بن گیا۔ حدیث پاک میں وارد ہے:
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ:" اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ الْأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَاعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ شَيْئًا، فَجَاءَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ".[صحیح البخاری، ابواب صفۃ الصلاۃ، باب السجود علی الأنف و السجود علی الطین، رقم الحدیث: ۸۱۳]
 (حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے۔ چناں چہ آپ تشریف لے چلے۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں (شب قدر) وہ آگے ہے۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ (رات) آگے ہے۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا۔ آپ کا خواب سچا ہو گیا۔)

تاہم علمائے کرام فرماتے ہیں کہ پورے مہینے کا اعتکاف آپﷺ کے عمل کی اتباع میں کرنا اور بھی زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے؛ لیکن یہ آپﷺ کا معمول نہ تھا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ پورے مہینے کا اعتکاف کو سنتِ نبوی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اور نہ یہ کہ یہ رسول اللہ کی مٹی ہوئی سنت ہے۔

 جب آپﷺ اعتکاف فرماتے تو آپ رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو سورج چھپنے سے پہلے مسجد میں داخل ہو جاتے، مسجد میں ایک جانب اپنا خیمہ لگواتے، جس میں آپﷺ اللہ عزّ و جل کے لیے تنہا ہوتے، اپنی کمر کس لیتے، اپنے گھر والوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتے اور خوب عبادت فرماتے۔ آپﷺ جب معکتف ہوتے تو گھر نہ جاتے سوائے ضرورت حاجت کے لیے یعنی قضائے انسانی کی وجہ سے۔ ہاں البتہ آپﷺ مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر ضرور مسجد سے باہر حضرت عائشہ کے حجرے میں نکال لیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ آپﷺ کے بال سنوار دیتیں اور کنگھی کر دیتی تھیں۔
 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
كان رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم يدني إلي راسه وهو مجاور، فاغسله، وارجله، وانا في حجرتي، وانا حائض، وهو في المسجد۔ [سنن ابن ماجہ، کتا ب الصیام، باب ماجاء فی المعکتف یغسل رأسہ و یرجلہ، رقم الحدیث: ۱۷۷۸]
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے۔)

 اعتکاف کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ رسولِ خداﷺ وہ رسول اللہ کے معمول میں شامل تھا، اور اس کی خوب ترغیبات احادیث میں وارد ہیں، اس کے باوجود لوگ اعتکاف سے گریز کرتے ہیں، وہ معتکف ہونا نہیں چاہتے؛ جب کہ اعتکاف نفس کا تزکیہ کرنے والا ہے، عبادتوں میں اصلاح کا ضامن ہے، اللہ سے قرب کا ذریعہ ہے، درجات بلند کرنے کی راہ ہے۔

 زہریؓ کہتے ہیں: مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اعتکاف کو ترک دیتے ہیں اس کے باوجود کہ نبی اللہﷺ نے کبھی اس کو ترک نہیں کیا حتی کہ آپﷺ اللہ کو پیارے ہو گئے۔

 ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سنّتِ نبوی کو زندہ کرے جو بعض جگہوں (خصوصاً بعض گاؤں وغیرہ میں)پر تو بالکل معدوم سی ہو گئی ہے۔ ان فضیلت والے ایام میں رسول اللہ کی اقتدا میں مسجدوں میں خود کو محصور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس لیے خود کو تیار کرنا چاہیے، اپنے دل کو سمجھانا چاہیے۔ جو شخص اپنے دل کی اصلاح کرنا چاہتا ہے، اپنی زائد خواہشات کو توڑنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کے گھر کا انتخاب ضرور کرے، جہاں وہ اور اس کا رب اکیلا ہو، رب سے سرگوشی کرے۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ اعتکاف کے لیے کسی کو قبول فرما لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کر لے، زیادہ سے زیادہ نمازوں، دعا و استغفار میں وقت گزارے، قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہے، شبِ قدر کا انتظار کرتا رہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے؛ تاکہ وہ اس وقت حاصل کر سکے جب کہ وہ دل کی پاکیزگی کے ساتھ اللہ کی اطاعت و عبادت میں مشغول ہو۔ آنے جانےوالے لوگوں سے بلا ضرورت بات کرنے سے گریز کرے؛ کیوں کہ بلا ضرورت راتیں گذارنا، دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں لگے رہنا، ضرورت سے زیادہ قیل و قال کرنا اعتکاف کے معنیٰ کھو دیتا ہے۔ بے شک حقیقی اعتکاف وہی ہے جس میں انسان اپنا پورا وقت اللہ رب العزت کے لیے فارغ کر لے۔ 

اللھم تقبل صیامنا و قیامنا و رکوعنا و سجودنا و تلاوتنا... اللھم نسألک عملاً صالحاً یقربنا إلیک برحمتک یا ارحم الراحمین

قیام لیل کیسے کریں؟تحریر: ڈاکٹر محی الدین غازی

قیام لیل کیسے کریں؟

تحریر: ڈاکٹر محی الدین غازی

کیا آپ جانتے ہیں؟

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو تہجد پڑھتے تھے جبکہ ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہوچکے تھے۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بیماری میں بھی تہجد کی نماز نہیں چھوڑ تے تھے۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی حالت میں بھی تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ 

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں بھی قیام لیل نہیں چھوڑ تے تھے۔

قیام لیل کی فضلیت

دن کا مجاہد رات کا عابد سچے مومن کی پہچان ہے۔ جس کی رات گھاٹے میں گئی اس کا دن نفع بخش ہو ہی نہیں سکتا۔ دن کی محنت تو رات کی عبادت ہی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

سورہ سجدہ میں رات کے عبادت گزاروں کی تصویر بڑے خوب صورت اور دلآویز انداز سے پیش کی گئی ہے۔

تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا ومما رزقناھم ینفقون۔ فلا تعلم نفس ما أخفی لھم من قرۃ أعین جزاء بما کانوا یعملون۔

ترجمہ: (ان کے پہلو خواب گاہوں سے دور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو خوف اور طلب کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ تو کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپاکر رکھی گئی ہے ان کے کاموں کے بدلے میں۔)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام لیل کی چار نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
 
’’ قیام لیل کے پابند ہوجاؤ کیوں کہ 

(1) یہ تم سے پہلے کے صالحین کا شیوہ رہا ہے، 
(2) یہ رب سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے،
(3) یہ گناہوں کی معافی کا سبب ہے
(4) اور یہ گناہوں سے باز رہنے کی تدبیر ہے۔‘‘

امام حسن بصریؒ نے کہا: 

’’رات کی نماز سے زیادہ سخت عبادت میں نے نہیں دیکھی‘‘۔

ان سے جب پوچھا گیا: تہجد گذاروں کے چہرے اتنے اچھے کیوں ہوتے ہیں؟

انہوں نے جواب دیا: ’’تنہائی میں رحمان سے محو مناجات ہوئے تو رحمان نے انہیں اپنے نور کی خلعت سے نوازا‘‘۔

عام راتوں کی عبادت کی فضیلت میں یوں توبہت ساری آیتیں، حدیثیں اور اقوال ملتے ہیں۔ لیکن رمضان کی راتوں کی فضیلت جداگانہ ہے، ارشاد نبوی کے مطابق: 

’’جس نے رمضان کی راتوں کو ایمان واخلاص کے ساتھ عبادت میں گزارا، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔‘‘ 

پھر بالخصوص رمضان کے آخری دس روز کے سلسلے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی اہتمام منقول ہے کہ جب آخری عشر ے کا آغاز ہوتا تھا تو کمر کس لیتے تھے، اہل خانہ کو جگاتے تھے اور رات کو زندہ کر دیتے تھے۔ یہ بیان حضرت عائشہ کا ہے اور رات کو زندہ کر دینے کا مفہوم وہی سمجھ سکتا ہے جو شب بیداری اور دعائے نیم شبی کے تجربات سے گزر چکا ہو۔

محرکات

ایک مرتبہ رسول پاک نے حضرت عبداللہ بن عمر کے سلسلے میں کہا: 

’’عبد اللہ بہت اچھا آدمی ہے اگر وہ رات میں عبادت بھی کرنے لگے‘‘۔ سالم کا بیان ہے کہ پھر عبداللہ نے اپنی نیند بہت گھٹا دی اور تاحیات قیام لیل کے معمول پر قائم رہے۔

دراصل رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عبداللہ بن عمرؓ کے سلسلے میں شہادت اور پھر یہ لطیف اشارہ ایک بہت بڑا محرک تھا۔ جس کی تحریک نے انہیں تا حیات شب بیداری پر قائم رکھا۔

ہمارے لیے بھی سارے محرکات اور معاون ذرائع موجود ہیں جن کا اہتمام کیا جائے تو اس عظیم عبادت کا پابند ہونا مشکل نہیں ہے۔ علماء کرام نے اس سلسلے میں بہت کچھ ذکر کیا ہے:

جہنم کا خوف اور جنت کی طلب

ایک بزرگ کا کہنا تھا: جہنم کے تصور نے عبادت گذاروں کی نیند اڑا دی۔ دوسرے بزرگ کے بقول: جب میں جہنم کو یاد کرتا ہوں تومیں بے حد خوف زدہ ہو جاتا ہوں اور جنت کو یاد کرتا ہوں تو اس کی طلب بے پناہ ہو جاتی ہے۔ دراصل یہی خوف اور یہی طلب قیام لیل کا محرک بنتی ہے۔

گناہ اور نا فر مانی سے اجتناب

فضیل بن عیاض کہا کرتے تھے: جب تم یہ دیکھو کہ رات کو اٹھ نہیں پاتے ہو اور دن میں روزہ نہیں رکھ پاتے ہوتو سمجھ لو کہ تم بد نصیب ہو اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہو۔ یہ بیڑیاں تمہارے گناہ ہیں جنہوں نے تمہیں جکڑ رکھا ہے۔ 

حسن بصری سے ایک آدمی نے پوچھا کہ میں اچھا خاصا سوتا ہوں، رات میں اٹھنا بھی چاہتا ہوں وضو کا پانی بھی رکھ دیتا ہوں پھر آخر کیوں نہیں اٹھ پاتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: تمہارے گناہوں نے تمہیں باندھ رکھا ہے۔

امام ثوری کا تجربہ ہے کہ محض ایک گناہ کی وجہ سے پانچ مہینے تک قیام لیل سے محروم رہے۔

منا جات رب کی لذت کا تصور

ابوسلیمان کہتے ہیں رات کو اٹھنے والوں کو عبادت کرنے میں اتنا مزہ آتا ہے جتنا عیاشی کرنے والوں کو آہی نہیں سکتا، اور اگر رات نہ ہوتی تو میں دنیا میں رہنا ہی پسند نہیں کرتا۔

ایک بزرگ نے اپنے مریدوں کو خطاب کرکے کہا: زیادہ مت کھاؤ ورنہ زیادہ پانی بھی پیوگے، زیادہ سونا بھی پڑے گا اور انجام کار زیادہ گھاٹے میں رہوگے۔

زیادہ عیش کوشی سے اجتناب

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ’’اے بیٹے جب معدہ زیادہ بھر جاتا ہے تو سوچنے کی طاقت سوجاتی ہے، حکمت ودانائی گونگی ہوجاتی ہے اور جسم کے اعضاء عبادت سے جی چرانے لگتے ہیں۔
 
بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ وہ چھت پر یا صحن خانہ میں سویا کرتے تھے اور نرم بستر سے پرہیز کرتے تھے تاکہ گہری نیند نہیں آجائے۔

قیام لیل کی نیت کرتے ہوئے جلد سونے کی عادت

حضرت عمر بن خطابؓ کا معمول یہ تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد لوگوں کو کوڑے سے مارتے تھے اور کہتے تھے رات کے پہلے حصے میں گپ بازی کرتے ہو اور آخری حصے میں پڑے سوتے رہتے ہو۔ 

بزرگوں کا تجربہ ہے کہ آدمی سچے دل سے جس وقت اٹھنے کی نیت کرتا ہے اس کی آنکھ اس وقت کھل جاتی ہے۔ بصورت دیگر جو بھی تدبیریں ہوسکتی ہوں بیدار ہونے کی انہیں آزمانا چاہیے خواہ وہ الارم گھڑی ہو یا ٹیلیفون الارم۔ 

بعض لوگ تہجد گروپ تشکیل دیتے ہیں اور ان میں سے جس کی آنکھ پہلے کھل جاتی ہے وہ تمام لوگوں کو فون کی گھنٹی سے ہوشیار کردیتا ہے۔

دن کی مختصر نیند

جسے عربی میں قیلولہ کہا جاتا ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھا کر دن کا روزہ رکھنے کی قوت پاؤ اور قیلولہ سے قیام لیل میں مدد حاصل کرو۔ 

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس قدر تاکید کی کہ ’’قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتے ہیں‘‘۔ ظاہر ہے شیطان کو تہجد تو پڑھنا نہیں ہوتی ہے پھر وہ قیلولہ کس لیے کرے گا۔

نہیں اٹھنے پر سزا کا تعین

صحابی رسول تمیم دارمیؓ کے سلسلے میں بیان ہوا ہے کہ ایک بار پوری رات سوتے رہ گئے، اس کی سزا انہوں نے اپنے آپ کو یوں دی کہ ایک سال تک نہیں سوئے۔ 

ممکن ہے اس میں راوی سے کچھ مبا لغہ ہوگیا ہو، لیکن یہ تصور تو اس واقعہ سے یقیناً ملتا ہے کہ آدمی اپنی کوتا ہی پر خود اپنے طور سے سزا تجویز کرکے نفس کو اطا عت وعباد ت کا خوگر بنا سکتا ہے۔

اعا نت اور توفیق کی دعا

سوجانے کے بعد دوبارہ آدمی صرف اللہ کے حکم اور فیصلے سے بیدار ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ سے اعانت اور توفیق کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

اسلاف کی زندگی کا مطالعہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شب بیداری کے احوال صحابہ کرامؓ، تابعین اور دیگر بزرگان دین کی راتوں کی عبادتوں کے احوال وواقعات پڑھ کر بھی حوصلہ ملتا ہے، تحریک پیدا ہوتی ہے۔

عادت

عادت بذات خود ایک محرک ہے، اللہ پاک نے جس کام کا بھی حکم دیا ہے وہ بالیقین آسان (یسر ) ہوتا ہے۔ نفس کا عادی نہ ہونا اسے مشکل بنا تا ہے۔ اگر آدمی خود کو اس کا عادی بنالے تو پھر اسے اس کام میں اتنا مزا آئے گا کہ وہ پھر اس کے بغیر زندگی بے کیف ہی محسوس کرے گا۔

کچھ رہ نما باتیں

* رات کی عبادت اندھیرے میں ہونا چاہیے، روشنی اور بالخصوص تیز روشنی خشوع کی راہ میں حجاب بن جاتی ہے۔ برقی قمقموں کا روحانی تجلیات کے ساتھ اجتماع بہت مشکل ہوتا ہے۔

* نماز انفرادی ہو، تنہائی میں ہو اور آواز ہلکی بلند ہو۔ نہ بالکل ایسی کہ خود کو سنائی نہ دے، نہ بالکل بلند، ہلکی گنگنا ہٹ سی ہو، رات کی نماز کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت ابو بکرؓ کو ہدایت دی کہ آواز کچھ بلند رکھیں اور حضرت عمرؓ کو ہدایت دی کہ آواز کچھ پست رکھیں۔

* قیام ، رکوع اور سجدے خوب لمبے ہوں۔ حالت قیام میں لمبی سورتوں کی تلاوت کرے، نہیں یاد ہوں تو ایک ہی رکعت میں متعدد چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرے، اور وہ بھی یاد نہ ہوں تو ایک دو سورتوں کو ہی بار بار پڑھے۔

* رکوع اور سجدے کی حالت میں تسبیح بار بار پڑھنی چاہیے تین یا سات کی قید ضروری نہیں ہے۔ سجدے کی حالت میں تسبیح کے علاوہ دعائیں بھی مانگی جائیں۔ ایک ایک دعا کو بار بار دہرا یا جائے ۔ کبھی کبھی عام افراد کو الجھن سی ہوتی ہے کہ لمبی نمازیں کس طرح پڑھیں۔ مذکورہ مشورے اس بارے میں مفید ہوں گے۔

* قیام لیل کے اعمال میں نماز، تلاوت کلام پاک، ذکر ودعا اور غور وتدبرسب شامل ہیں۔ تاہم نماز افضل ترین اور جامع ترین عمل ہے۔ اس کے بغیر قیام لیل کا تصور ہی نہیں ہے۔

* رات کی نماز اور بالخصوص رمضان کی راتوں کی خاص دعا ہے۔ اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی (اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے۔ معاف کرنا تجھے پسند ہے۔ ہمیں معاف کر دے۔) یہ چھوٹی سی دعا ہمارے قیام لیل کو بہت بابرکت اور نفع بخش بنا سکتی ہے۔

Thursday, March 20, 2025

آخری عشرہ محمد طارق بدایونی

آخری عشرہ
محمد طارق بدایونی

 جس طرح ماہِ رمضان المبارک دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے اسی طرح اس مہینے کا آخری عشرہ کی گذشتہ عشروں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ اس عشرے میں خصوصی اعمال میں اضافہ فرما دیتے اور اپنے آپ کو تمام دنیوی کاموں سے الگ کر کے بالکل فارغ فرما لیتے، خود کو قیام اللیل، تہجد و دیگر نوافل، ذکرِ الٰہی اور دعا و مناجات میں لگ جاتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: 
كان النّبيﷺ إذا دخلت العشر أحيا الليل، وشد المئزر، وأيقظ أهله۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی فضل العشر الأواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۱۷۶۸)".
(جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرمﷺ رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے۔)
وضاحت: عبادت کے لیے کمر کس لینے یا عورتوں سے بچنے اور دور رہنے سے کنایہ ہے۔

اور ایک روایت میں ہے:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ۔ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۲۷۸۷)
(جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، گھر والوں کو جگاتے اور خوب کوشش کرتے اور کمر ہمت کس لیتے۔)

حضرت عائشہؓ سے ایک اور روایت مروی ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ۔ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۲۷۸۸)
(رسول اللہﷺ رمضان کے آخری دس (10) دنوں میں اس قدر جدوجہد اور سعی و کوشش کرتے کہ باقی دنوں میں اس قدر محنت اور کوشش نہ کرتے۔)

 رمضان المبارک کی کے آخری عشرے کی بہت سے خصوصیات ہیں جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں۔ یہ جہنم سے خلاصی کا عشرہ ہے ۔ رسول اللہ ایسے مخصوص اعمال اس دنوں میں انجام دیتے جو دوسرے مہینوں میں آپ نہیں کیا کرتے تھے۔

اعتکاف:
انھی اعمال میں سے ایک اعتکاف ہے۔ آپﷺ آخری دس یوم مسجد (اعتکاف) میں گزارتے، آپ کا کھانا پینا سب مسجد ہی کے اندر ہوتا۔ مسجد کو ایسے لازم پکڑ لیتے کہ خارجی تعلقات ختم کر دیتے اور اپنے دنوں کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے خالص فرما لیتے۔ یہ عمل رسول اللہﷺ اپنے وصال تک ہر سال کرتے تھے کہ آپ اپنے رب کے ساتھ تنہا ہوتے، خود کو طاعتِ رب اور اس کے ذکر اور اس سے دعا و مناجات میں مقید کر لیتے۔

شب بیداری:
رمضان کی راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار فرماتے۔ حضرت علی سے مروی ایک روایت میں ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَكُلَّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ يُطِيقُ الصَّلَاةَ۔ (المعجم الاوسط، جلد: ۷، ص: ۲۵۳، رقم الحدیث: ۷۴۲۵)
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ مجھے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی آمد سب سے زیادہ پسند ہے۔ میں راتوں کو تہجد و نوافل ادا کرتا ہوں، اہل و عیال کو نماز کے لیے جگاتا ہوں ، اگر وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔
بلاشبہ رمضان المبارک میں مومنین کے لیے دو معرکے سر کرنا ہوتے ہیں: ایک کہ وہ دن میں روزہ رکھ کر اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ راتوں کو قیام و دعا کے لیے مجاہدہ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے لیے دو طرح کی جد و جہد، مورچوں کا سامنا ہوتا ہے اور یہ کیا ہی خوب کوشش ہے!! اگر وہ ان دونوں کے حقوق ادا کرنے میں کامیاب ہو گئے، صبر و ثبات سے کام لیا تو اس کا اجر و ثواب بے حد و حساب ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان مبارک راتوں کو غنیمت جانے، ان میں قیام کرے، نوافل ادا کرے، دعا و مناجات کرے، مصحف کی تلاوت کرے؛ کیوں کہ خاص کر رمضان المبارک میں اور خاص کر اس کے آخری عشرے میں یہی رسول اللہ کا معمول تھا، یہی صحابہ کا معمول تھا اور یہی سلف صالحین کی عادت رہی ہے۔ 

لیلۃ القدر:
انھیں ایّام میں شبِ قدر بھی ہے، جس کا تلاش کرنا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں مستحب ہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (صحیح البخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم الحدیث: ۲۰۱۷)
(رسول اللہﷺنے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔)

ایک دوسری روایت میں ہے:
الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى۔ (صحیح البخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم الحدیث: ۲۰۲۱) 
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو۔)

 اور آخری سات راتیں بڑی اہم ہیں اور ان میں سے بھی ستائیسویں (۲۷) شب کو زیادہ امید کی جاتی ہے کہ شبِ قدر ہو۔ ان راتوں میں مستحب یہ ہے کہ کثرت سے دعائیں کی جائیں اور خاص کر اس دعا کو جو نبی اللہﷺ نے حضرت عائشہ کو سکھائی تھی؛ جب کہ انھوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ اللہ کے رسولﷺ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟، اس کا ورد کیا جائے:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ (دیکھیے: سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب الدعا بالعفو و العافیۃ، رقم الحدیث: ۳۸۵۰)
(اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے۔)

صدقۃ الفطر:
ان دنوں میں صدقۃ الفطر بھی ہے۔ یہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جو صاحبِ استطاعت نہ ہو، یہ واجب ہے اور ضروری ہے کہ نمازِ عید سے قبل ادا کر دیا جائے، انھیں دنوں میں بہت سے مسلمان زکوٰۃ اپنے مال پر زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ صاحبِ حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کا خیال رکھے، ان پر نفقات کر بڑھا دینا چاہیے، فقراء و مساکین کو صدقے دینا چاہیے، بیواؤں اور یتیموں کی امداد کرنی چاہیے؛ تاکہ وہ بھی خوش ہو کر عید کی خوشیاں منا سکیں، اپنی ضرورت کا احساس کھو کر فرحت کے دو پل پا سکیں، اپنی آنسو بھری آنکھوں میں چمک لا سکیں۔

بہرحال رمضان کا آخری عشرہ نیکیوں میں مزید اضافے کا موسم ہے؛ لہذا جو سال کے دوسرے دنوں میں غلطیاں کوتاہی کر چکا ہو تو اسے چاہیے کہ ان دونوں میں اللہ کے سامنے رو دھو کر، گڑگڑا کر تضرع کے ساتھ اپنے مغفرت کرا کر نارِ جہنم سے خلاصی پا لے۔ 
وفق اللہ الجمیع لما یحبہ و یرضاہ اللہ علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ وسلم۔

Wednesday, March 19, 2025

فتحِ مکہ محمد طارق بدایونی

فتحِ مکہ
محمد طارق بدایونی

 جیسا کہ ماہِ مبارک مکۃ المکرمہ وحی کی ابتدا، قرآن مجید کے نزول کے آغاز کا گواہ ہے، اسی طرح یہ شرک کے خاتمے اور عقیدۂ توحید کی حقانیت کا گواہ ہے؛ چوں کہ یہ عربوں کا مرکز تھا اور رسول اللہ کا شہر بھی، حج و عمرہ کا مقام ہے اور مسلمانوں کے لیے بارئ تعالی کے لیے خود کو مکمل طور پر سپرد کر دینے کا سب سے اہم مقام بھی۔ بے مکۃ المکرمہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور امن و سکون کی سب سے بہترین جگہ بھی۔ 
 
 در حقیقت یہ ایک ایسی جگہ ہے جس کی طرف ہر مسلمان کا دل کھنچا چلا جاتا ہے، جاتا ہے۔ اس لیے اس جگہ کا اسلام کے نور سے روشن ہو جانا، اس میں اسلام کا جھنڈا بلند ہونا تاریخِ اسلام میں رونما ہونے والے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے اس مقام پر اسلامی کی روشنی پھیل جانے کو ‘‘فتحِ مکہ’’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ۲۰؍رمضان المبارک کو پیش آیا تھا۔ اس شہر کے لوگوں کو ایک عقیدہ پر متحد کیا گیا اور توحید کے علم کے زیرِ سایہ لوگوں نے پناہ لی اور عربوں کی جاہلیت اور مخالفتِ اسلام کا خاتمہ ہوا۔
 
واقعہ یہ پیش آیا کہ جب ۷ھ میں قریش نے رسولِ خداﷺ مکہ میں داخل ہونے سے روک لیا تو حدیبیہ کے مقام پر ایک معاہدہ ہوا، پھر قریش نے اس کی عہد شکنی کی تو رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے لیے تیاری کی اور لوگوں کو تیاری کا حکم دیا۔ دراں حالیکہ قریش کو اس بات کی اطلاع نہیں ہونے دی اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی:
 اللّھم خُذ العیونَ و الأخبارَ عن قریشٍ حتی نبغتھا فی بلادھا۔ [تفصیل کے لیے دیکھیے: السیرۃ النبوۃ لابن ھشام، ۲؍۳۹۸]
 (اے اللہ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اور پکڑ لے؛ تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر یک دم جا پہنچیں۔)

 چناں چہ دعا قبول ہوئی اور مسلمانوں کی تیاریوں اور ان کے نکلنے کی کوئی خبر قریش تک نہ پہنچ سکی حتی کہ حاطب ابن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کر قریش کو مسلمانوں کے نکلنے اور دفعۃً جا پہنچنے کی خبر دے بھیجی۔ اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی رسول اللہ کو اس کی خبر کی اور پھر قریش تک پہنچنے سے پہلے اس کو پکڑ لیا گیا، حاطب اپنے ارادے میں ناکام ہوا۔ الغرض دس(۱۰) رمضان المبارک کو رسولِ خداﷺ دس ہزار کے لشکرِ اسلامی کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف نکلے۔ قریش مزاحمت سے قاصر تھے۔ کیا شان تھی کہ رات کے اندھیرے میں جنھیں نکالا گیا تھا وہ دن کے اجالے میں فاتحانہ داخل ہو رہے تھے۔

 رسول اللہ صحابہ کرام کے ساتھ مکہ تواضع کے ساتھ داخل ہوئے کہ پیٹ گھوڑوں کی پیٹھ سے چپکا جاتا تھا، مسجدِ حرام میں حاضری دی، حجرِ اسود کو چوما، بیت اللہ کا طواف کیا، حاکمِ اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، دشمنوں کو بخشش کا پروانہ دیا اور جیسے جیسے بیت اللہ ارد گرد موجود بتوں کو اپنی کمان سے ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔ (الاسراء: ۸۱)
(حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔)
 آپﷺ کی ٹھوکر سے بت منہ کے بل اوندھے گرے جاتے تھے؛ ارے ٹھوکر تو دیر کی بات آپﷺ تو بس اشارہ فرماتے تھے، آپ کے بغیر چھوئے بت گرتے چلے جاتے۔

پھر آپﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، دروازہ بند کیا، نماز پڑھی اور تمام گوشوں میں تکبیر و تحمید کہی پھر دروازہ کھولا، سامنے قریش تھے انھیں آپﷺنے یوں مخاطب فرمایا:
 يا معشر قريش ، إن الله قد أذهب عنكم نخوة الجاهلية ، وتعظمها بالآباء ، الناس من آدم ، وآدم من تراب ۔ (مکمل واقعہ ملاحظہ کیجیے: السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ۲؍۴۱۲)
(اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کر دیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔)

اس پر مزید آپﷺ نے انھیں خطاب کرتے ہوئے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فر مائی:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔ (الحجرات: ۱۳)
 (لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں؛ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔)

اس کے بعدبخشش کا پروانہ دیتے ہوئے فرمایا:
 اے قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا؟ انھوں نے بہ یک زبان ہو کر کہا: آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے صاحب زادے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ‘‘جاؤ آج تم سب آزاد ہو!’’ (إِذْھَبُوْا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء)

 جب مکۃ المکرمہ اور بیت اللہ بتوں اور مجسموں کی غلاظت سے پاک ہو گیا اور ایمانی نور سے روشن ہو گیا، تو اس کے بعد آپﷺ نے ان بتوں کو نیست و بابود کرنے کی مہم چھیڑی جو ابھی تک مکۃ المکرمہ کے مضافات میں موجود تھے۔ چناں چہ حضرت خالد بن الولید کو رمضان المبارک کی ۲۵؍تاریخ کو طائف میں عزّیٰ کوو ڈھانے کے لیے بھیجا، جہاں انھوں نے ایک سیاہ فام عورت کا قصہ پاک کیا۔ جب وہ لوٹے اور سارا واقعہ رسولِ خداﷺ کو بتایا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ عزّیٰ تھی اور اب اس کی کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔

 اسی طرح عمرو بن العاصؓ کو سواع (ہذیل کا بت)کو ڈھانے کے لیے بھیجا ، جو مکہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع تھا، انھوں نے اسے توڑ ڈالا اور اس کا نام و نشان مٹا دیا۔

 سعد الاشہلیؓ کو مناۃ (اسلام لانے سے قبل اوس و خزرج کا بت جو قدید میں واقع تھا) نامی بت گرانے کے لیے بھیجا، انھون نے اسے ڈھا کر اس کا قصہ پاک کر دیا۔

 اس طرح رسول اللہﷺ نے پورے ملک کو ایک جھنڈے تلے جمع فرما دیا، بت پرستی کا خاتمہ فرمایا، شرک سے پاک کیا اور سب کو عقیدہ توحید پر ماہِ مبارک ہی میں اکٹھا فرما دیا۔

افسوس صد افسوس! جس مہینے میں اتنے مجاہدہ، محنت و مشقت کی گئیں، آج کے مسلمان اسے راحت و آرام اور سستی و نیند کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ اللہ ہمیں توفیقِ عمل بخشے۔ آمین

Tuesday, March 18, 2025

ماہِ رمضان اور قرآن مجیدمحمد طارق بدایونی

ماہِ رمضان اور قرآن مجید
محمد طارق بدایونی

ماہِ رمضان”ماہِ قرآن“ ہے اور اسی ماہ میں لیلۃ القدر ہے۔ اسی میں قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن مجید کا نزول ہوا اور اسی میں رسول اللہﷺ کے قلبِ اطہر پر بھی غارِ حرا میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا۔ اسی مہینے میں رسولِ خداﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔
 ان تمام وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کی قرآن مجید کے حوالے سے عنایات، دل چسپی، تلاوتِ قرآن کی کثرت بڑھ جانی چاہیے، جیسا کہ اس مہینے کے آتے ہی نبی اللہ کے معمولات میں غیر معمولی اضافہ ہو جایا کرتا تھا، صحابہ کرام اور سلف صالحین کی سرگرمیاں شباب پر پہنچ جایا کرتی تھیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ۔(فاطر: ۲۹)
 (جولوگ کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے رات دن خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کی امید لگائے ہوئے ہیں جس کو کبھی خسارہ نہیں ہوگا۔)

نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ.( رواه مسلم)
(قرآن مجید پڑھو؛ کیوں کہ قیامت روزہ وہ سفارشی بن کر آئے گا۔) 
 
قرآن مجید کی تلاوت اور کثرت کے ساتھ تلاوت کرناافضل عبادات میں سے ہے، سب سے بہترین قربِ الٰہی ہے، سب سے اہم طاعتِ رب ہے۔ اس میں بے شمار اجر ہے، اللہ رب العالمین کے ساتھ نفع بخش تجارت ہے۔  البتہ ماہِ مبارک میں اس کی الگ ہی شان ہے؛ کیوں کہ رسول اللہﷺ کی ماہِ مبارک میں قرآن مجید کے ساتھ خاص عنایت تھی۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ فَيُشَفَّعَانِ۔[مسند احمد بن حنبل، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند عبد اللہ بن عمر بن العاصؓ، رقم الحدیث: ۶۶۲۶]
(روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کر یں گے، روزہ کہے گا کہ پروردگار میں نے دن کے وقت اسے کھانے اور خواہشات کی تکمیل سے روکے رکھا اس لئے اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے رات کو اسے سونے سے روکے رکھا اس لئے اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔)

 ہر سال رمضان المبارک کی راتوں میں پیارے حبیب محمدﷺ اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرآن مجید کا دور ہوتا، گویا وہ مطالعہ قرآن و درس و تدریسِ قرآن کا موسم ہوا کرتا تھا اور پھر جس سال آپﷺ کا وصال ہوا، آپﷺ نے دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا۔ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کا اثبات مکمل ہوا اور جس چیز کو نسخ کر دیا وہ منسوخ ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ  وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ۔(الرعد: ۳۹)
(اللہ جو بات چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے نقش کردیتا ہے اور کتاب کی اصل و بنیاد اسی کے پاس ہے۔)
 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: 
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ [صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبیﷺ، رقم الحدیث: ۳۵۵۴]
( رسول اللہﷺسب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپﷺ سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہﷺ خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔)

رسول اللہﷺ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کیا کرتے تھے اور تلاوت کو طول دیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے آپ خوب ٹھہر ٹھہر کر حسنِ ادائی کے ساتھ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺ قیام میں  عام راتوں کے مقابلے میں قرأت کو لمبا فرماتے۔ 
مختلف احادیث میں الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ واقعہ ملتا ہے کہ رمضان المبارک کی ایک رات نماز میں آپﷺ نے سورۃ البقرۃ پڑھی اور اس کے بعد آلِ عمران شروع کر دی، جب وہ ختم کی تو آپﷺ نے سورۃ النساء مکمل پڑھی۔ جب آپ آیتِ تخویف سے گزرتے تو اس پر ٹھہر تےتو اس پر اللہ کی پناہ کا سوال کرتے تھے؛ حتی کہ حضرت بلالؓ نے فجر کی اذان کہی۔ [دیکھیے: مسند احمد بن حنبل، مسند الانصارؓ، حدیث حذیفہ بن الیمان عن النبیﷺ، رقم الحدیث: ۲۳۳۹۹]

صحابہ کرام اور سلف صالحین رمضان المبارک میں اپنے وقت کا ایک بڑا حصّہ قرآن مجید کی تلاوت، تدبرِ آیات، درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کے لیے خاص کر لیتے تھے۔ وہ جب روزہ رکھتے تو مساجد میں بیٹھ جاتے اور قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہم اپنے روزے کی حفاظت کر رہے ہیں اور کسی کی عیب جوئی یا غیبت وغیرہ میں نہیں لگتے۔ رضی اللہ عنھم و رحمۃ اللہ علیھم اجمعین۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شوقِ تلاوتِ کلام اللہ کا یہ عالم تھا کہ رمضان المبارک میں وہ اکثر تین روز میں قرآن شریف مکمل کر لیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ سات دنوں میں اور بعض چالیس دونوں میں پورے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [دیکھیے: ابن ماجہ،  ۱۱۰۵]

حضرت امام مالکؒ کا معمول تھا کہ جب رمضان کا بابرکت مہینہ آتا تو وہ احادیثِ نبویہ کے کاموں میں مشغول نہیں رہتے؛ بلکہ قرآن مجید کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لیا کرتے تھے۔ آپ مجلسِ حدیث اور اہلِ علم کی مجلس سے دوری ہی اختیار نہیں فرماتے؛ بلکہ باقاعدہ مصحف کھول کر، اسے دیکھ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [لطائف المعارف، ابن رجب، ص: ۲۴۵] امام مالک کے بارے میں علامہ عائض القرنی نے تو یہ جملہ لکھا ہے: ھذا شھر القرآن، لا کلام فیہ إلا مع القرآن۔ یہ قرآن حکیم کا مہینہ ہے، اس میں قرآن کے علاوہ کوئی اور بات چیت نہیں ہوگی۔ سبحان اللہ!

امام زہری فرمایا کرتے تھے کہ جب رمضان المبارک آ جائے تو قرأتِ قرآن میں مشغول ہو جانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ قرآن مجید کی تلاوت، مسکینوں کو کھلانے اور ایثار و قربانی کا مہینہ ہے۔  روزے دار کو چاہیے کہ رمضان المبارک میں نبی اللہﷺ، صحابہ کرام اور سلف صالحین کی اقتدا و پیروی کرتے ہوئے اپنے وقت کو غنیمت جان کر تلاوتِ کلام اللہ، اس پر غور و فکر، معانی و مطالب کے افہام و تفہیم، خشوع و خضوعِ الٰہی اور درجات کی بلندی کی امید میں گزارے۔

امام شہاب زہریؒ رمضان کی آمد پر کہا کرتے تھے کہ یہ قرآن کریم کی تلاوت اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔[لطائف المعارف، ابن رجب، ص: ۲۴۵]

امام احمد بن حنبل رمضان آتے ہی فقہ و فتاویٰ کا کام بند کر دیتے تھے اور بالکل یکسوئی کے ساتھ ذکرِ الٰہی اور تلاوت کلام اللہ میں لگ جاتے تھے۔
اللہ ہمیں بھی اس طرح کے اہتمام کی توفیق دے۔ آمین

اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم اور مبارک عمل محمد قمر الزماں ندوی

اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم اور مبارک عمل

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ ۔9506600725

   رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ میں ایک اہم عمل اور خاص عبادت اعتکاف ہے ۔ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر طرف سے کنارہ کش اور یکسو ہوکر اور تمام علائق دنیا سے منقطع اور الگ تھلگ ہوکر ،بس اللہ تعالی سے لو لگائے ،اس کے در پر پڑ جائے اور سب سے الگ تنہائی و خلوت میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر اور اذکار و تسبیحات میں مشغول ہوجائے اور اپنے حقیقی آقا کے دربار میں زبان و حال سے یہ کہتے ہوئے فروکش ہوجائے ۔۔۔۔

پھر جی میں ہے کہ در پہ اس کے پڑا رہوں 
   سر زیر بار منت درماں کئے ہوئے   

    در اصل اعتکاف وہ عبادت ہے، جس میں انسان سب سے کٹ کر اور سب سے ہٹ کر اپنے خالق حقیقی آقا و مولی کے آستانہ پر اور گویا اس کے قدموں پر پڑ جاتا ہے ،اس کو یاد کرتا ہے ،اس کی تحمید و تقدیس بیان کرتا ہے ،اس کے حضور توبہ و استغفار کرتا ہے ،اپنے گناہوں پر نادم و تائب اور شرمندہ ہوتا ہے ،اپنی لغزشوں ،غلطیوں اور خطاوں کا اعتراف کرتا ہے،اپنے قصوروں اور کوتاہیوں پر روتا ہے اور رحیم و کریم آقا سے مغفرت کی بھیک مانگتا ہے اور اس کی رضا اور قرب و تقرب چاہتا ہے۔ ظاہر ہے اس سے بڑھ کر کسی انسان کی سعادت و نیک بختی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ 
(مستفاد از معارف الحدیث ۴/ ۱۱۹)
   گویا اعتکاف کی حالت میں معتکف( اعتکاف کرنے والا) اللہ تعالیٰ کے گھر پر ایک طرح سے دھرنا دیتا ہے کہ بغیر مطالبہ پورا ہوئے واپس نہیں جائے گا ۔
  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
  اسلام چونکہ ایک مکمل دین کامل دستور العمل اور دین فطرت ہے، اس لیے وہ رہبانیت اور دنیا سے مطلقا بے تعلقی کے بھی خلاف ہے اور نری مادہ پرستی کے بھی خلاف ہے، اسلام دین و دنیا دونوں کے حصول کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ایک معتدل اور متوازن مذھب ہے، اعتدال اور وسطیت اس کی شان ہے۔ یہ دین و دنیا دونوں کو اس کے حدود کے ساتھ برتنے کی تلقین کرتا ہے، شدت پسندی غلو اور افراط و تفریط سے روکتا ھے۔ اسلام کی تعلیم اور حکم یہ ہے کہ اس دنیا کے مال و متاع سے بھی محظوظ و لطف اندوز ہو، اس سے اپنی جائز خواہشات کو پوری کرو۔ لیکن چونکہ انسان ماحول اور گرد و پیش سے متاثر ہوجاتا ہے اور مادیت سے متاثر ہوجاتا ہے اور مال و دولت کے منفی اثرات کو قبول کرنے لگتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے روحانیت کا ایک سسٹم اور نظام بنایا کہ سال میں ایک ماہ متعین کردیا، جس میں خاص طور پر دن کا روزہ اور قیام اللیل کے علاوہ اخیر عشرہ میں اعتکاف کے ذریعہ بندہ حیوانیت کو مغلوب اور ملکوتیت کو غالب کرنے کی کوشش کرے، نیز زیادہ سے زیادہ فرشتوں کی ان دنون میں مشابہت اختیار کرے۔(علماء کی تحریروں سے مستفاد) 
  اعتکاف کے لفظی معنی ٹہرنے کے ہیں، لیکن جب یہ لفظ شریعت کی اصطلاح میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد مرد کے لئے ایسی مسجد میں ،اعتکاف کی نیت سے ٹہرنا ہوتا ہے،جس میں پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے ، جبکہ عورت کے لئے اپنے گھر کے کسی کونہ میں بہ نیت اعتکاف قیام کرنے پر شرعی اعتکاف کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔
    اعتکاف کی اہمیت و فضیلت اور اس کے دینی منافع روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے اہتمام کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمانا ثابت ہے ۔ 
اعتکاف سے جہاں آدمی گناہوں اور واہیات و فضولیات سے محفوظ رہتا ہے ، وہیں اس کی روح پوری طرح یکسو ہوکر ،عبادت خداوندی میں مشغول رہتی ہے ۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : *معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور جن نیکیوں کو وہ بسبب اعتکاف انجام نہیں دے پاتا ،ان کا ثواب بھی اسے دے دیا جاتا ہے* ۔
 ( ابن ماجہ : باب فی ثواب الاعتکاف ۱۲۷)
     معتکف کی ہر گھڑی اور ہر لمحہ عبادت میں شمار ہوتا ہے ،اعتکاف کا سب سے بڑا مقصد اور فائدہ یہ ہے کہ *اعتکاف* *شب قدر* کو تلاش کرنے اور اس میں عبادت کرنے کا سب سے بہتر اور آسان ذریعہ ہے ۔ 
   حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله فرماتے ہیں
،، اعتکاف کی غرض ایک تو شب قدر کی تلاش ہے، دوسری غرض جماعت کا انتظار کرنا ہے، تیسری روح اعتکاف کی یہ ہے کہ معتکف گویا اپنے آپ کو مسکین و خوار بناکر بادشاہ کے دروازہ پر حاضر کردیا ہے، اپنی محتاجگى ظاہر کر رہا ہے کہ اب تو آپ کے دروازہ پر پڑا رہوں چاہیے نکالیے، چاہے بخش دیجئے۔ یہ شان ہے فنا کی۔ اور اعتکاف کو اس کی روح اس لیے کہا کہ اعتکاف اور کسی عبادت پر موقوف نہیں، اگر دربار میں حاضری دے کر ہر وقت سوتا رہے، تب بھی اس کو اعتکاف کا پورا ثواب ملے گا، یہ دروازہ پر پڑا رہنا ہی بڑی چیز ہے، یہی وہ چیز ہے کہ مردود کو مقبول بنا دیتی ہے۔( احکام اعتکاف) 
  اعتکاف ماہ رمضان میں روحانیت کا نقطئہ عروج ہے حدیث شریف کے مطابق *جو شخص رمضان کے دس دنوں کا اعتکاف کرتا ہے ،تو اس کا یہ عمل دو حج اور دو عمرہ کی طرح ہے ۔ یعنی اسے دو حج اور دو عمرہ کا ثواب ملے گا ۔ ( بیھقی)*
ایک دوسری روایت میں ہے کہ *جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید کرتے ہوئے اعتکاف کرتا ہے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں* ۔
   علماء کرام لکھتے ہیں کہ۔ 
اعتکاف رمضان کے فوائد و مقاصد کی تکمیل کے لیے ہے، اگر روزہ دار کو رمضان کے پہلے حصہ میں وہ سکون قلب، جمعیت خاطر و جمعیت باطنی، فکر و خیال کی مرکزیت، انقطاع الی اللہ کی دولت، رجوع الی اللہ کی حقیقت اور اس کے در پر پڑے رہنے کی سعادت حاصل نہیں ہوسکی، تو اس اعتکاف کے ذریعہ وہ اس کا تدارک کر سکتا ہے۔۔ (ارکان اربعہ ۲۷۵) 
  صاحب مراقی الفلاح لکھتے ہیں کہ اعتکاف اگر اخلاص کے ساتھ ہو، تو افضل ترین اعمال میں سے ہے، اس کی خصوصیتیں حد احصاء اور حد شمار سے خارج ہیں کہ اس میں قلب کو دنیا وما فیھا سے یکسو کرلینا ہے اور نفس کو مولیٰ کے سپرد کردینا اور آقا کی چوکھٹ پر پڑ جانا ہے۔ نیز اس میں ہر وقت عبادت میں مشغولی ہے کہ آدمی سوتے جاگتے ہر وقت عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اللہ کے ساتھ تقرب ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو میری طرف آہستہ بھی چلتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ 
    علامہ ابن قیم جوزی رح لکھتے ہیں:
  اعتکاف کی روح اور اس سے مقصود یہ ہے کہ قلب اللہ کے ساتھ وابستہ ہو جائے، اس کے ساتھ جمعیت باطنی حاصل ہو، اشتغال بالخلق سے رہائی نصیب ہو اور اشتغال بالحق کی نعمت میسر آئے، اور حال یہ ہو جائے کہ تمام افکار و ترددات اور ہموم و وساوس کی جگہ اللہ کا ذکر اور اس کی فکر و محبت لے لے۔ ہر فکر اس کی فکر میں ڈھل جائے اور ہر احساس و خیال اس کے ذکر و فکر، اس کی رضا و قرب کے حصول کی کوشش کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے، مخلوق سے انس کے بجائے اللہ سے انس پیدا ہو اور قبر کی وحشت میں جب کوئی اس کا غم خوار نہ ہوگا، یہ انس اس کا زاد سفر بنے، یہ ہے اعتکاف کا مقصد جو رمضان کے افضل ترین دنوں یعنی آخری عشرہ کے ساتھ مخصوص ہے۔۔۔۔۔زاد المعاد۔۔۔ 
     حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اعتکاف کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ چونکہ مسجد میں اعتکاف جمعیت خاطر، صفائی قلب، ملائکہ سے تشبہ اور شب قدر کے حصول کا ذریعہ، نیز طاعت و عبادت کا بہترین و پرسکون موقع ہے، اس لیے رسول ﷺ نے اس کو عشرہ اواخر میں رکھا ہے اور اپنی امت کے محسنین و صالحین کے لیے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ (ارکان اربعہ، ص، ۲۷۶) 
   اعتکاف کا مقصد بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی صاحب رح لکھتے ہیں:
  جب انسان کے افکار و خیالات اور اذہان مختلف باتوں سے پراگندہ ہوجاتے ہیں اور لوگوں کے میل جول سے آدمی سخت پریشان ہوجاتا ہے، تو اس پراگندگی اور پریشانی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کو مشروع فرمایا، اعتکاف میں بیٹھنے والا آدمی عام لوگوں سے علیحدگی اختیار کرکے، مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت میں مصروف ہوجاتا ہے، جس کی بدولت اس کی ذہنی پریشانی اور قلبی اضطراب دور ہوجاتا ہے-( حجتہ اللہ البالغہ) 
        اعتکاف کے عظیم فوائد اور ثمرات احادیث اور علماء کی تحریروں میں بیان کئے گئے ہیں، ۔ 
  معتکف کو دنیا کی سب سے محبوب اور پسندیدہ جگہ پر دس دن گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے،، شہروں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ جگہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی مساجد ہیں۔( مسلم شریف)
   مسجد میں آنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے، لہذا معتکف کے لیے یہ کتنی خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے کہ وہ دس دن رات تک اللہ کی میزبانی میں ہوتا ہے۔۔ 
اعتکاف کا ایک عظیم فائدہ یہ بھی ہے کہ معتکف دس دن تک اللہ تعالیٰ کے ضمان میں رہتا ہے اور حدیث کے مطابق مساجد میں رہنے والے اللہ تعالیٰ کے ضمان میں ہوتے ہیں۔
 اعتکاف میں بیٹھنے والوں کو دس دن دس رات فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہوتی ہے، اس لیے کہ مساجد میں جم کر رہنے والوں کے ہمراہ فرشتے ہوتے ہیں۔ 
  مساجد شیطان سے بچنے اور ان سے محفوظ رہنے کے لئے بہت مضبوط قلعے اور پناہ گاہیں ہیں۔ معتکف کو اعتکاف کی برکت سے یہ محفوظ قلعے اور پناہ گاہیں حاصل رہتی ہیں۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے بیشک شیطان انسان کا بھیڑیا یعنی دشمن ہے جیسے بکریوں کا دشمن بھیڑیا ہوتا ہے وہ موقع پاتے ہی الگ ہونے والی اور کنارے ہونے والی بکریوں کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں میں الگ ہوجانے سے بچو۔ اور اپنے اوپر جماعت کے ساتھ وابستگی کو اکثریت کواور مسجد کو لازم کرلو۔( مسند احمد ) 
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہمیشہ اس پر مداومت فرمائی۔ اور آپ کے بعد بھی تمام جگہ کے مسلمانوں نے اس سنت اور شعار کو قائم رکھا اور اس کو تواتر کی حیثیت حاصل رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے اخیر عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا، یہاں تک کہ آپ کی رحلت ہوگئی، پھر آپ کے انتقال کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے گھروں میں اعتکاف کا معمول قائم رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا تھا۔۔۔

Monday, March 17, 2025

رمضان میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کوششیں محمد طارق بدایونی

رمضان میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کوششیں
محمد طارق بدایونی

 رمضان المبارک صرف روزے کا ہی مہینہ نہیں ہے، نہ آرام و راحت کا مہینہ ہے اور نہ سستی و کاہلی اور نیندیں پوری کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ آج کل لوگ ماہِ رمضان کے آتے ہی اپنے کاموں میں تساہلی برتنے لگتے ہیں، ذمّہ داری کے وقتوں میں کمی کر تے ہوئے روزہ کا حربہ اپناتے ہیں۔ بلکہ یہ مہینہ تو کام میں دل چسپی، کمائی، ایثار، سنجیدگی اور جاں فشانی کا مہینہ ہے، صبر و استقامت کا مہینہ ہے، جد و جہد اور جہاد فی سبیل اللہ کا مہینہ ہے، عالی ہمتی، عملِ پیہم اورعزمِ مصمم کے ساتھ عالی مقاصد کی تکمیل کا مہینہ ہے۔ نیز یہ کہ عبادت کی نیت کے ساتھ خالص اللہ کے لیے اپنے کاموں میں اضافہ کر لینے کا مہینہ ہے۔
 بے شک راہِ خدا میں جہاد اسلام کی معراج ہے، اگر اس مہینے میں ایسی ضرورت پیش آجائے تو یاد رکھیے! اس کی فضیلت سال بھر کے دنوں کے مقابلے میں ماہِ مبارک کی ساعتوں کی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
 إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ۔[صحیح البخاری، کتاب الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، رقم الحدیث: ۲۷۹۰] 
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔ 
 ماہِ مبارک میں راہِ خدا میں جد و جہد، اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر مقابلے، لوگوں کی نفع رسانی کے لیے معرکے سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ باعث ِ اجر و ثواب ہیں؛ کیوں کہ رمضان المبارک میں جہاد فی سبیل اللہ باقی تمام مہینوں کے مقابلے سب سے زیادہ افضل ہے۔
 جہاد فی سبیل اللہ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو شانِ اسلام اور مسلمانوں کی فتح و نصرت کا باعث بنے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ سب سے افضل جہاد بہ وقتِ ضرورت میدانِ جنگ میں کی گئی کوشش ہے۔ تاہم مالی امداد بھی جہاد ہی کی ایک قسم ہے۔ ضرورت کے اعتبار سے زبان و قلم اور دیگر چیزیں بھی جہاد ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔ (الصف: ۱۰-۱۱)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہےاگر تم جانو!)
 ہجرت کے دوسرے سال میں روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا اور آپﷺ کا وصال گیارہ (۱۱) ہجری میں ہوا۔ اس حساب سے پیارے نبی محمد مصطفیٰﷺ نے رمضان المبارک کے نو (۹) مرتبہ روزے رکھے۔ عہدِ نبویﷺ میں یہ ماہِ مبارک کبھی بھی سیر و تفریح کا مہینہ نہیں رہا، کبھی میں کھانے پینے کا مہینہ نہیں تھا، کبھی بھی راحت و آرام یا نیند پوری کرنے کا مہینہ نہیں تھا؛ بلکہ اس ماہ میں مختلف کاموں کی تکمیل کی جاتی اور عظیم سرگرمیاں انجام دی جاتیں، دور دراز علاقوں سے وفود آتےان کا استقبال کیا جاتا۔ اسی ماہ میں کئی جہاد ہوئے، بڑی بڑی فتوحات ہوئیں۔ اسی مہینے غزرہ بدر الکبریٰ پیش آیا جس نے حق اور باطل کے درمیان واضح طور پر فرق کر دیا اور اس دن کو ‘‘یوم الفرقان’’ کا نام دیا گیا۔ اسی ماہ میں فتحِ مکہ کا واقعہ بھی پیش آیا، اصنامِ عرب کو تہس نہس کیا گیا اس طور پر کہ پورے خطۂجزیرۃ العرب سے بت پرستی کا قلع قمع کر دیا گیا اور پورا عرب اسلام کی روشنی سے جگمگا اٹھا۔
 اسی مہینے میں رسول اللہﷺ نے مختلف سریے روانہ فرمائے۔ جیسے: سریۂعمرو بن عدی الخطمی، عصماء بنت مروان الیہودی کے قتل کے لیے؛ کیوں کہ وہ مسلمانوں کو بڑی ایذائیں پہنچانے والی تھی۔سریۂ زید بن حارثہ، فاطمہ بنت ربیعہ کے قتل کے لیے؛ جو وادئ قریٰ میں تھی۔سریۂ عبداللہ بن عتیک، خیبر میں سلام بن ابو الحقیق کا قصہ پاک کرنے کے لیے ؛ کیوں کہ اس نے غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہﷺ کے خلاف مہم سازی کی تھی۔
 الغرض پوری اسلامی تاریخ اس طرح کے فیصلہ کن معرکوں سے بھری ہوئی ہے، جو ماہِ مبارک میں پیش آئے اور ان سب میں سب سے اہم معرکۂ جالوت ہے، جو اہلِ ایمان اور صلیبیوں کے درمیان پیش آیا۔ یہ معرکہ صلیبیوں کی طاقت توڑنے، سرزمینِ مسلم سے ان کی پسپائی اور ان کی کمک کو روکنے میں فیصلہ کن تھا۔
 ۱۳۹۳ھ میں فلسطینی مسلمانوں اور ناپاک یہودیوں کے درمیان دسویں رمضان کو ہونے والی جنگ فیصلہ کن تھی۔ اسی طرح ابھی گذشتہ برس پورے رمضان غاصبوں کے مقابلے میں فلسطینی شہزادے مورچے پر ڈٹے رہےکہ وہ نمایاں طور پر فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوئے، جس کے اثرات سے پورے دنیا نے حمایت کی، ان جیالوں کی بدولت دنیا کی ہر قوم نے جہاد کا حقیقی مفہوم جانا، خود بھوکے رہے قیدیوں کو کھلایا، اپنی جان کی کوئی پروا نہ کی ان کی جانوں کو سب سے قیمتی ہیرا جانا۔ 
 اس لیے جان لینا چاہیے کہ ماہِ مبارک مسلمانوں کے لیے ہر جگہ، ہر زمانے میں جہاد و عمل کا مہینہ رہا ہے۔ فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، خیر و نیکی کی تعلیم، دعوتِ اسلامی کو پھیلانے کے کام، اٹل موقف اور شان دار بہادری کا مہینہ رہا ہے۔
   اللہ سے دعا کہ یا الہ العالمین تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا، تعلیمِ خیر اور نشر و اشاعتِ دعوت کے ساتھ قائم رکھ اور لوگوں کے لیے نافع بنا۔ آمین

Sunday, March 16, 2025

روزہ پرہیز گارانہ زندگی کا تربیتی کورس ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

روزہ پرہیز گارانہ زندگی کا تربیتی کورس ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
  
 یقینا ماہ رمضان ایمان والوں کے لئے ایک روحانی سفر کے مانند ہے،اور اس ماہ میں روزہ پرہیز گارانہ زندگی کا تربیتی کورس ہے ، چونکہ اسلام پرہیز گاری کا نام ہے،اس لئے اسلام کی تمام عبادات و اذکار میں بنیادی طور پر تقویٰ و پرہیز گاری ضرور پوشیدہ اور پنہاں ہے ، اور خاص طور پر روزہ کا تو بنیادی مقصد ہی تقویٰ و پرہیز گاری کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنا ہے تاکہ بندہ لعلکم تتقون کا مصداق بن جائے ۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ اسلام نے جتنی عبادتیں فرض کی ہیں ،ان میں انسان کی تربیت اور اصلاح کا پہلو بھی ملحوظ ہے ،روزہ بھی ان ہی عبادتوں میں سے ایک ہے ،جس میں نفس کی تربیت اور تزکیہ کی غیر معمولی صلاحیت ہے ،قران مجید نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تم پر روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں ،تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ، کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون(بقرہ 183/) 
تقویٰ کا لفظ عربی زبان کا لفظ ہے، جو وقایہ سے ماخوذ ہے ،وقایہ کے معنی انتہائی درجہ حفاظت کے ہیں ،، الوقایة فرط الصیانة ،، 
تقویٰ کے معنی جہاں بچنے کے ہیں، وہیں احتیاط ،ڈر، خوف و خشیت اور لحاظ کے بھی ہیں اور قرآن مجید میں متعدد مواقع پر یہ لفظ اس معنی اور مفہوم کے لیے استعمال ہوا ہے ،گویا محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے آدمی اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھے ،اسی کا نام تقویٰ ہے۔ اسی کو علماء اور اہل علم و فضل نے مختلف الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ،حدیث شریف میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ جب تک بندہ گناہ کی باتوں سے بچنے کے لیے از راہ احتیاط بعض جائز باتوں سے بھی اجتناب نہ کرے متقیوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ۔ (مستفاد تفسیر کبیر 1/ 381/) 
  روایت میں ہےکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے تقویٰ کے بارے میں دریافت کیا ،تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ایک بہترین مثال کے ذریعہ تقویٰ کی حقیقت اور اس کے مفہوم و مراد کو سمجھایا ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا آپ کبھی کسی خار دار راستہ سے گزرے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ،حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اس موقع سے آپ نے کیا کیا؟ فرمایا ، میں نے پائنیچے اٹھا لئے اور احتیاط سے کام لیا ،،تشمرت و حذرت ،،۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسی کا نام تقویٰ ہے ۔( تفسیر قرطبی 1/ 168)
گویا دنیا ایک راہ گزر ہے، جو کھار دار جھاڑیوں اور جنکھڑوں سے گھری ہوئی ہے ،یہ جھاڑیاں خواہشات اور گناہوں کی ہیں، جو انسان کے دامن عمل سے لپٹ جانا چاہتی ہیں ،متقی شخص وہ ہے جو اپنے ایمان و یقین اور عمل و کردار کے دامن کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور عصیان شعاریوں سے بچا کر دنیا کا یہ پر خطر سفر طے کر لے ۔
اس طرح تقویٰ ایک جامع لفظ اور وسیع اصطلاح ہے ،جو خیر کی جملہ باتوں کو شامل ہے ۔ اسی لئے ارباب قلوب کہتے ہیں کہ متقی وہ ہے کہ جو کچھ کہے ،اللہ کے لئے کہے اور جو کچھ کرے اللہ تعالیٰ کے لئے کرے ۔ من اذا قال قال للہ ومن اذا عمل عمل لللہ ۔(مستفاد از شمع فروزاں کالم 3/ مئی 2003/ بحوالہ رمضان ایک روحانی سفر صفحہ 89- 91)
     روزہ کی فرضیت کا مقصد بھی یہی تقویٰ اور پرہیز گاری بندے کے اندر پیدا کرنا ہے کہ بندہ اس ماہ میں خاص طور پر اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے اور جذبات تلاطم سے اپنے کو بچائے اور دیگر گیارہ مہینے اس کے اثرات کو اپنے اندر منتقل کرے اور انہیں باقی رکھے ۔ 
غرض اس سے یہ ظاہر ہوا کہ روزہ ہمارے لئے ایک قسم سے روحانی علاج کے طور پر فرض ہوا ہے اور اس کا مقصد نفسانی خواہشات کو کم کرنا اور اس کو کچلنا ہے، تاکہ نفس کو تقویٰ پر قوت ملے اور سچائی یہی ہے کہ روزہ کی روح اور مشروعیت کا راز اس قوت کو کمزور کرتا ہے جو شر و فساد پر ابھارنے کے لیے شیطان کے وسائل و ذرائع ہیں ۔ 
  خلاصہ یہ کہ روزہ کا مقصد اصلی روح و نفس کا تزکیہ اور خدائے وحدہ لا شریک کی رضا مندی کے لئے صبر و شکیب کی کیفیت اور ہمت و طاقت کا فائدہ حاصل کرنا ہے اور اپنی محدود اور فانی زندگی کو تقویٰ و طہارت کی خوشبو سے معطر اور پاکیزہ کرنا ہے اور اسی مقصد کے لیے اللہ تعالٰی نے اس عبادت کا اپنے بندے کو مکلف بنایا ہے اور اس عبادت کی عملی صورت گری فرمائی ہے ۔
نوٹ / رمضان المبارک کے ان مبارک ایام میں اگر ممکن ہو تو ہمارے مدرسہ کے لئے جو بھی مخلصانہ تعاون کرسکتے ہیں ضرور کریں اور مجھے اس کا اسکرین بھیج دیں ۔

*9506600725* *Phone pey no*

اکاؤنٹ نمبر مدرسہ
Account Name and Number
MADRASA NOORUL ISLAM
A/c No.: *6743002100000304*
IFSC.: *PUNB0674300*
*Punjab National Bank.*
Branch- Kunda
Pratapgarh, U.P. (India)

نمازِ تراویح محمد طارق بدایونی

نمازِ تراویح
محمد طارق بدایونی

 نمازِ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے۔ یہ عبادت ماہِ رمضان المبارک کا سب سے بڑا مظہر اور سب سے نمایاں علامت ہے۔ اس نماز کو رسول اللہﷺ اور صحابۂکرام رضوان اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا ہے۔ رسولِ خداﷺ نے اس کی فرضیت کے خدشے سے ترک بھی کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جاتی ہے کہ ایک رات رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور نمازِ تراویح ادا کی، صحابۂکرامؓ نے بھی رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی، صبح کو لوگوں میں یہ بات پھیل گئی۔ چناں چہ دوسری رات پہلے سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے اور انھوں نے آپﷺ کے ساتھ نمازِ تراویح پڑھی پھر صبح کو مزید لوگوں میں اس کا تذکرہ ہوا۔ تیسری رات کو مسجد میں آنے والوں کی تعداد مزید بڑھ گئی، چناں چہ انھوں نے رسولِ خداﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اور پھر چوتھی رات کو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی کہ رسول اللہﷺ اس رات تشریف نہیں لے گئے حتی کہ آپﷺ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے اور جب نمازِ صبح کی تکمیل کی تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے ، شہادتین پڑھ کر ارشاد فرمایا: ‘‘أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا’’واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہیں تھا؛ لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائے کہ تم اسے ادا کرنے سے عاجز رہو۔ [صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح، رقم الحدیث: ۱۷۸۴]
 رسول اللہﷺ کی زندگی میں یہ سلسلہ یوں ہی قائم رہا پھر جب آپﷺ اپنے رب کو پیارے ہو گئے اور احکامِ تشریعی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔اب نمازِ تراویح کی فرضیت کا کوئی خدشہ باقی نہ رہا تو حضرت عمر فاروقؓ نے نمازِ تراویح کے سلسلے میں انتشار سے بچنے کی غرض سے ایک امام کے پیچھے لوگوں کو جمع کر دیا۔
 حضرت عبد الرحمن قاری کا بیان ہے کہ میں رمضان المبارک کی ایک رات حضرت عمر فاروقؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروپوں میں علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا ہے اور کسی کے ساتھ کچھ لوگ بھی شریک ہیں۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: واللہ! میرا خیال ہے کہ اگر ان سب کو ایک امام کی اقتدا میں جمع کردیا جائے تو بہت اچھا ہو؛ چناں چہ حضرت عمرؓ نے سب کو حضرت ابی بن کعبؓ کی اقتدا میں جمع کردیا ۔ 
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم دوسری شب نکلے تودیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کی اقتدا میں نمازِ تراویح ادا کررہے ہیں، اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: یہ بڑا اچھا طریقہ ہے اور مزید فرمایا کہ ابھی تم رات کے جس آخری حصّہ (تہجد) میں سوجاتے ہو، وہ اس (تراویح) سے بھی بہتر ہے، جس کو تم نماز میں کھڑے ہوکر گزارتے ہو۔ [موٴطا امام مالک، باب ماجاء فی قیام رمضان]
جہاں تک نمازِ تراویح کی رکعات کا معاملہ ہے تو یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نمازِ تراویح گیارہ (۱۱) رکعت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نمازِ تراویح کی تیرہ (۱۳) رکعت ہیں۔ اور ایک بڑا طبقہ اس پر متفق ہے کہ نمازِ تراویح تیئیس (۲۳) رکعات (مع وتر)پر مشتمل ہے۔ اور بعض نے اس سے زیادہ بھی بیان کی ہیں۔  
بہرحال یہ ایک فقہی مسئلہ ہے، فقہا نے اپنے اپنے اجتہادات اور دلائل کی روشنی میں مسالک اختیار کیے؛ البتہ جمور فقہا و محدثین کی رائے یہ ہے کہ نمازِ تراویح بیس(۲۰) رکعت پڑھنی چاہیے۔ 
ظاہر سی بات ہے کہ کوئی شخص گیارہ (۱۱) رکعتیں پڑھے یا تیرہ (۱۳)، کوئی تیئیس (۲۳) پڑھے یا اس سے بھی زیادہ مقصود یہ ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر خوب صورتیں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ رسول اللہﷺ پڑھا کرتے تھے۔ 
اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ رمضان المبارک کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے اور نمازِ تراویح بھی عبادت ہے، اب چاہے تو رکعتوں میں اختلاف کیا جائے، قیام اللیل و صلاۃ التراویح میں اختلاف کیا جائے، حضرت عائشہؓ کے گیارہ رکعتوں والے قول کو نمازِ تراویح سمجھا جائے یا پھر نمازِ تہجد بہرحال سب ہی عبادت ہیں اور اللہ کے لیے ہیں۔ اس لیے کوئی آٹھ پڑھے یا بیس کارِ ثواب ہی ہے۔ گویا جس نے آٹھ پڑھیں تو اس نے اللہ کی عبادت کی اور جس نے بیس رکعتیں پڑھیں تو اس نے بھی اللہ ہی کی عبادت کی۔ بالکل واضح بات ہے کہ جو شخص آٹھ کی جگہ بیس پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے۔ تاہم ان باتوں کو لے کر اختلافات طعن و تشنیع، ایک دوسرے کو برا سمجھنے تک پہنچ جائیں تو یقیناً یہ امت کے زوال و انتشار کی دلیل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

نمازِ تراویح کی ادائی کا وقت
 وقت کے سلسلے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے حال و احوال، ان کی ضروریات و مشاغل اور ان کی پریشانیوں کو مدّ نظر رکھا جائے، سب کے اتفاق سے نمازِ عشا کا وقت متعین کیا جائے اور ترایح کا وقت بھی طے کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ رکعتوں کی طوالت و اختصار کا بھی خیال رکھا جائے گویا فراخ دلی سے کام لیا جائے، مقتدیوں کے لیے یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ صحیح طور پر ارکانِ نماز، واجباتِ نماز اور سنتوں کو بہ آسانی ادا کر سکیں۔ نہ رکعتوں کو اتنا لمبا کیا جائے کہ کھڑے کھڑے اکتاہٹ محسوس ہونے لگے نہ اتنا مختصر کیا جائے کہ نماز کے ارکان و واجبات و سنتیں چھوٹ جائیں اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو بہترین لب و لہجے میں اس طور پر کہ الفاظ و معانی و ادائی کی پورے طور پر رعایت ہو جائے۔ 
1. ایسی جگہوں پر جہاں لوگ راتوں کو کام کرتے ہیں، اپنی ضروریاتِ زندگی کی خاطر رات کا وقت مسجدوں میں جا کر عبادت کرنے کے لیے خالی نہیں کر سکتے ۔ جیسے ہسپتال یا کمپنی میں کام کرنے والے لوگ وغیرہ تو ایسی مساجد جو ان سے متصل ہوں جہاں وہ لوگ نمازی ہوں تو اوّل وقت کو ترجیح دینا چاہیے۔
2. جن مساجد میں ضعیف لوگوں، بیماروں یا دوسرے عذرِ شرعی رکھنے والوں کی اکثریت ہو، جو دیر تک قیام اور رکوع و سجود سے عاجز ہوں تو امام کو چاہیے کہ وہ ان کی حالت کا خیال رکھتے ہوئے رکعتوں کو مختصر رکھے۔
3. بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خوب احسان اور فضل و کرم ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو رمضان المبارک کو عبادت کے لیے وقف کر لیتے ہیں؛ کیوں کہ اللہ نے انھیں اس کی توفیق دی ہوتی ہے۔ اللہ نے انھیں طاقت و استقامت سے نوازا ہوتا ہے، وہ دیر تک کھڑے رہ کر قرآن مجید سن سکتے ہیں، دیر تک رکوع میں ٹھہر سکتے ہیں اور اپنے سجدوں کو لمبا کر سکتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ تراویح کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کریں جہاں دیر رات تک تراویح ہوتی ہیں۔ 
الغرض لوگوں میں نمازِ تراویح پڑھنے کی صلاحیت و استطاعت مختلف ہوتی ہے؛ بالکل طالبِ علموں کی طرح، جن کی صلاحیتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جس طرح ایک طالبِ علم ابتدائی درجے سے ثانویہ اور ثانویہ سے عالیہ تک مختلف مراحل میں پہنچتا ہے اسی طرح نمازی بھی جسمانی و ایمانی اور ضرورت کے لحاظ سے ایسے ہی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرنی چاہیے؛ تاکہ درجہ بہ درجہ ایمان بڑھتا اور تقویت پاتا رہے اور ان کا عزم و حوصلۂعبادت کسی طرح سے ٹوٹنے نہ پائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی توفیق بخشے، اس ماہ کے مابعد ہمیں ان عبادتوں پر تسلسل کی بھی توفیق بخشے۔ آمین

Saturday, March 15, 2025

قیام اللیل اور رمضان المبارک محمد طارق بدایونی

قیام اللیل اور رمضان المبارک
محمد طارق بدایونی

 نفلی نمازیں، دعا و تسبیحات اور تہجد و دیگر عبادات سب قیام اللیل ہمیں شامل ہیں۔ قیام اللیل سنّت ہے اور اس کی بڑی فضیلتیں وارد ہیں۔ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہمیشہ اس کی پابندی کی ہے خصوصاً ماہِ رمضان المبارک میں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے حق میں واجب تھی جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت سے علم ہوتا ہے: 
يٰٓأَيُّهَا ٱلْمُزَّمِّلُ قُمِ ٱلَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهٗ أَوِ ٱنْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًا۔ (المزمل: ۱-۴)
(اے ادڑھ لپیٹ کر سونے والے، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو؛ مگر کم، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔)
قیام اللیل کا وقت نمازِ فجر اور عشا کے مابین ہے۔ یہ نیند سے بیدار ہو کر ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اس کا بعد نمازِ عشا سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ شب کے درمیانی حصّے میں اس کو ادا کرنا بہتر ہے اور سب سے افضل یہ ہے کہ رات کے آخری حصّے میں یعنی اوقاتِ سحر میں ادا کی جائے۔
قیام اللیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد وارد ہے:
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ۔ (المزمل: ۲۰)
(اے نبیﷺ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو اور تمہارے ساتھ تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔)
 مزید ارشاد ہے:
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔ (الاسراء: ۷۹)
(اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمھیں مقامِ محمود پر فائز کر دے۔)
ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا گیا:
 كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔ (الذاریات: ۱۷-۱۸)
(وہ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے۔)
اور ایک موقع پر رسولِ خداﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ".[سنن نسائی، کتاب قیام اللیل و تطوع النھار، باب فضل صلاۃ اللیل، رقم الحدیث: ۱۶۱۴]
(اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ہے۔)
 رمضان المبارک کو فضیلت اور اجر و ثواب کے لحاظ سے خاص مقام حاصل ہے۔ اس کے نمایاں پہلو ہیں، اجر و ثواب میں اضافہ ہے اور اس کی راتیں دیگر راتوں کے مقابلے میں ممتاز ہیں۔ ماہِ مبارک کے سلسلے میں فرمانِ نبویﷺ ہے:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔[صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من صام رمضان ایماناً و احتساباً و نیۃً، رقم الحدیث:۱۹۰۱]
(جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔)
رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کی سرگرمیاں مزید بڑھ جایا کرتیں خاص کر رمضان کے آخری عشرے میں، آپﷺ راتوں کو جاگتے، اہلِ خانہ کو نیند سے بیدار فرماتے اور مستعدی کے ساتھ عبادات میں لگ جاتے اس طور پر کہ آپ کا پورا وقت عبادت کے لیے فارغ ہوتا۔
 رمضان المبارک میں قیام اللیل کے لیے کوئی خاص عمل کی شرط نہیں کہ جس کے بغیر عبادت درست نہ ہو۔ لیکن انسان عبادت کے لیے یکسو ہے، چست ہے، توانا ہے تو ماہِ مبارک کی راتوں میں عبادت کو طول دینا افضل ہے۔ لیکن اگر توانا نہ ہو تو عبادات کو مختصر کرنا زیادہ بہتر ہے۔
 گرچہ رمضان المبارک کی راتوں میں کوئی خاص عمل کی شرط ہے نہ نمازوں کی کوئی متعین تعداد کہ ان میں اضافہ یا کمی کی جائے تو غلط سمجھا جائے۔ اگر کوئی ایسا گمان رکھتا ہے تو وہ خطا پر ہے۔ ایک موقع پر جب رسولِ خداﷺ سے ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) نے صلاۃ اللیل کے سلسلے میں دریافت کیا تو آپﷺ نے کہ دو دو کر کے پڑھ لو؛ لیکن کوئی خاص تعداد متعین نہیں فرمائی۔
 اور صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے: آپﷺ رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا نہیں! [صحیح البخاری، کتاب التھجد، باب قیام النبیﷺ باللیل فی رمضان و غیرہ، رقم الحدیث: ۱۱۴۷] لیکن نمازوں کو طول دیتے تھے، لمبی لمبی رکعتیں پڑھتے تھے، ترتیل میں حسنِ ادائی و خوبی اور خشوع و خضوعِ للہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ارکان کی ادائی میں بھی طول فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپﷺ قیام اللیل نصف اللیل سے شروع فرماتے اور مسلسل طلوعِ فجر پر اختتام فرماتے، اس طرح آپ پانچ گھنٹوں میں کل تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ اس بیان سے یہ مقصود ہے کہ قیام اللیل میں قرأت و ارکان میں طوالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
 صحابۂکرامؓ ، تابعین اور سلف صالحین رمضان المبارک کی راتوں میں نماز، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن مجید اور دعا و تسبیحات سے مسجدوں کو آباد رکھتے تھے، ان کے ان اعمال سے شہد کی مکھیوں کی گونج کی طرح مسجد گونج اٹھتی تھی۔ وہ قیام اللیل میں اللہ سے استعانت و مناجات کیا کرتے تھے، انھیں رب سے مانگنے میں ایسی خوشی میسر آتی جو یقیناً خوب صورت خوابوں میں کہاں؟!!

یہ جان لینا بھی افادہ سے خالی نہیں کہ”قیام اللیل تنہا ادا کرنی چاہیے اور اگر جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں تو اس میں اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ باقاعدہ جماعت کا اہتمام نہ ہو یعنی دو یا تین سے زائد مقتدی نہ ہوں؛ کیوں کہ اگر مقتدی تین سے زائد ہوئے تو یہ تداعی کے ساتھ نوافل کی جماعت ہوگی جو کہ مکروہِ تحریمی ہے، لہذا اگر تنہا قیام اللیل ادا کریں یا بغیر تداعی کے دو ، تین افراد مل کر جماعت کریں تو اس میں نفل نماز کی نیت کرلیں۔ 
اور اگر رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام اللیل کرنا ہو تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھتے ہوئے تراویح کی کچھ رکعت چھوڑدی جائیں، اور پھر ان رکعات کو رات میں باجماعت پڑھ لیا جائے، اس میں کسی قسم کی قباحت بھی نہیں ہوگی اور قیام اللیل کا ثواب بھی مل جائے گا، اور اس میں نیت بھی تراویح کی کی جائے گی۔
دیگر ائمہ کے نزدیک چوں کہ نفل باجماعت بھی مشروع ہے؛ اس لیے حرمین میں حنبلی مسلک کی رو سے قیام اللیل کی جماعت ہوتی ہے۔فقط واللہ اعلم“ [دیکھیے: دار الافتاء الجامعۃ الاسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، کراچی پاکستان، فتویٰ نمبر: 144008200825] 

(نوٹ: کل”صلاۃ التراویح“ سے متعلق ملاحظہ فرمائیے!)

Friday, March 14, 2025

ہمارا روزہ صرف جسمانی نہ ہو ! محمد قمرالزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

ہمارا روزہ صرف جسمانی نہ ہو ! 

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
           
     پورےہجری سال میں رمضان المبارک کا مہینہ اپنی نوعیت کا خاص اور ربانی صفت کا حامل مہینہ ہے ۔ یہ مہینہ اللہ تعالی کے انعامات میں سے ایک خاص انعام ہے، جس میں ایک ایک نیکی کا ستر سے سات گنا تک اللہ تعالی اپنے بندوں کو ثواب سے نوازتا ہے ۔ اس سے نیکی کی ایسی فضا اور ماحول بن جاتا ہے کہ بندہ کے قلب کا میلان شر کی طرف سے کم سے کم ہو، بلکہ خیر کی طرف زیادہ سے زیادہ ہو ۔ یہ مہینہ خیر و برکت کا مہینہ ہے, ایمان و احتساب اور عبادت کا مہینہ ہے ،مسلمان کو مسلمان بن کر اپنے اعمال کو خدا کی خوشنودی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا مہینہ ہے۔
      لیکن یہ مہینہ اس شخص کے لئے خیر و برکت اور رحمتوں کا مہینہ ثابت ہوتا ہے، جو اس مہینہ کی صحیح معنی میں قدر کرتا ہے اور روزہ کو صرف جسم کی حد تک نہیں، بلکہ روح کے ساتھ اس رکن کو ادا کرتا ہے اور اس کے تقاضے اور معیار پر کھرا اترتا ہے ۔ 
اگر روزہ کو اس کی روح اور شرائط کے ساتھ نہ رکھا جائے تو پھر روزہ دار کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ۔    
  چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
کم من صائم لیس له من صیامه الا الظماء ،و کم من قائم لیس لہ من قیامه الا السھر ( سنن دارمی، کتاب الصوم )
بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملتا، اور بہت سے قیام لیل کرنے والے وہ ہیں جن کو اپنے قیام لیل سے ،جاگنے کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔
       روزے کی در اصل دو حقیقتیں ہیں یا یہ کہئیے کہ روزے کی دو صورتیں اور شکلیں ہیں :
ایک اس کی ظاہری صورت اور دوسری اس کی داخلی صورت اور حقیقت ۔ روزے میں کھانا پینا اور نفسانی خواہشات ترک کر دینا ،یہ روزے کی ظاہری صورت ہے ،اسی طرح رمضان المبارک میں تراویح اور راتوں میں تہجد و نفل اس کی ایک ظاہری صورت ہے ،مگر ظاہری صورت کے ساتھ ایک حقیقت شامل رہتی ہے ،جس چیز کا حال یہ ہو کہ اس میں اس کی ظاہری صورت موجود ہو ،لیکن اس کی داخلی حقیقت اور صفت اس میں نہ پائی جاتی ہو تو ایسی چیز کی کوئی قیمت اور حیثیت نہیں ۔ اس کی مثال ایسے پھل کی ہے جس کا ظاہری چھلکا تو موجود ہو ،لیکن اس کے اندر کا مغز اس میں نہ پایا جاتا ہو ۔ یہی فرق ہے حقیقی روزے اور رسمی روزے میں ۔
      شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رح اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
علماء کے نزدیک اس حدیث میں چند اقوال ہیں : اول یہ کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو دن بھر روزہ رکھ کر مال حرام سے افطار کرتا ہے کہ جتنا ثواب روزہ کا ہوا تھا اس سے زیادہ گناہ حرام مال کھانے کا ہو گیا اور دن بھر بھوکا رہنے کے سوا اور کچھ نہ ملا ۔ دوسرے یہ کہ وہ شخص مراد ہے جو روزہ رکھتا ہے لیکن غیبت میں بھی مبتلا رہتا ہے ،تیسرا قول یہ ہے کہ روزہ کے اندر گناہ وغیرہ سے احتراز نہیں کرتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع ارشادات ایسے ہوتے ہیں کہ یہ سب صورتیں اس میں داخل و شامل ہیں۔ ( فضائل رمضان )
          اس لئے روزے کی حالت میں جھوٹ چغلی غیبت اور تمام برائیوں و لا یعنی چیزوں سے انسان کو بچنا اور پرہیز کرنا چاہئے ۔
*آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا : *من لم یدع قول الزور و العمل به فلیس للہ حاجة فی ان یدع طعامه و شرابه* ( رواہ البخاری )
جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہ روزے کی حالت میں جھوٹ، غلط بیانی،جہالت و نادانی کے کام ،انسان کو خاص طور پر چھوڑ دینا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کے ارتکاب سے روزے کی روح متاثر ہو جاتی ہے ۔
        روزہ بظاہر مخصوص اوقات میں کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام ہے ،مگر کھانے پینے کا یہ ترک ایک علامتی ترک ہے ۔ روزہ کے مہینہ میں چند چیزوں کو چھوڑ کر روزے دار اپنے کو اس مقصد کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے ۔ گویا کہ کھانا پینا چھوڑ دینا اگر جسمانی روزہ ہے ،تو برائیوں سے اجتناب روحانی روزہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالی کے یہاں روزے کے مقبول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات و منکرات سے بھی زبان و دہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے ۔
اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ والے کام کرتا رہے تو اللہ کو اس کے روزے کی کوئی پرواہ نہیں ۔
       علماء نے لکھا ہے کہ روزہ کے مہینہ میں نہ صرف یہ کہ گرمئی افطار روزہ کے مقاصد کے لیے قاتل ہے، بلکہ یہ چیز بھی اس کے حقیقی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں رکھتی کہ آدمی بس بھوکا پڑا رہے ، لوگوں سے قطع تعلق کرلے اور انسانی خدمت اور احسان و سماجی کاموں سے دوری اختیار کرلے اور روزانہ ختم قرآن کا ریکارڈ قائم کرے۔ اس قسم کا کوئی عمل ایک خالص اسلامی عبادت کو عیسائیوں کی رہبانیت کے مقام پر پہنچا دینے والا ہے۔
   روزہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی روزہ کی حالت میں ضروری قسم کی ذمہ داریوں کے علاوہ ہر چیز سے اپنے آپ کو فارغ کرلے اور اپنے رب کو راضی کرنے میں لگ جائے، اپنا محاسبہ کرے اور اپنا پورا وقت عبادت اور یاد الہی اور قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنے میں گزارے، نیز زیادہ سے زیادہ خاموشی سے صدقہ و خیرات کرے اور انسانی ضرورت کے کام آئے۔ روزہ اپنی مخصوص اور متعین شکل میں اگرچہ سال میں ایک ہی بار مطلوب ہے، مگر وہ اصل روح جو روزہ کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے، وہ مومن کا دائمی مطلوب ہے۔ اور وہ ہے رجوع الی اللہ، انقطاع الی اللہ، جسمانی اعتبار سے نہیں بلکہ اصلا حسی اعتبار سے۔ اعلیٰ ایمانی حالت یہ ہے کہ بندہ، خواہ بظاہر کسی کام میں مشغول ہو، قلب و روح کے اعتبار سے وہ مسلسل اپنے رب کی طرف متوجہ رہے۔ وہ ہمیشہ اپنے کو ایک قسم کی روحانی اعتکاف میں رکھے۔ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے کھوہوں اور جنگلوں میں بسیرا لینے کو کمال ایمان سمجھ لیا۔ حالانکہ کمال ایمان یہ ہے کہ آدمی دنیا کے ہنگاموں میں اپنے فرائض ادا کر رہا ہو مگر اس کا ذھن یاد الہی میں مشغول رہے اور دل خوف خدا سے خالی نہ رہے۔
            ایک موقع پر حضرت عبد بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا، تم اصحاب رسول سے زیادہ روزہ رکھتے ہو، ان سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہو، ان سے زیادہ مجاہدہ کرتے ہو، مگر وہ تم سے بہتر تھے۔ پوچھا گیا کیوں اے ابو عبد الرحمن، جواب۔ وہ دنیا سے انتاہی بے رغبت تھے اور آخرت کے بہت زیادہ حریص تھے۔ (حلیة الاولیاء جو، ١ص ١٣٦/ بحوالہ الاسلام ص،٢٧)

صبر اور رمضان: ضبطِ نفس کی معراج مفتی محمد اعظم ندوی

صبر اور رمضان: ضبطِ نفس کی معراج

مفتی محمد اعظم ندوی 

صبر محض ایک معمولی عادت یا مجبوری کا نام نہیں، بلکہ وہ جوہر ہے جس پر کامیابی کی عمارت قائم ہوتی ہے، وقت کی سنگلاخ راہوں میں وہی چراغ روشن رہتے ہیں جو صبر کے تیل سے جلائے گئے ہوں، وہی افراد اور قومیں بامِ عروج پر پہنچتی ہیں، جو صبر کے زینے طے کرتی ہیں، اسی راستہ کو عبور کرکے وہ عظمت کی چوٹیوں تک پہنچتی ہیں۔

اور اگر کوئی ایک زمانہ ایسا ہو، جو انسان کو صبر کی معراج پر پہنچا دے، جو اس کے ضبط وبرداشت کو آزما کر کندن بنا دے، جو اسے آزمائشوں کے طوفان میں ثابت قدمی کی قوت عطا کرے—تو وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے!

رمضان محض روزے رکھنے اور راتوں کو جاگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہے، جہاں بھوک اور پیاس کی شدت پر قابو، نیند کی قربانی پر لذت، اور خواہشات کی لگام کو کھینچنا سکھایا جاتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے، جہاں انسان کی حقیقی کامیابی کا راز مضمر ہے، جہاں صبر کی ہر آزمائش کا سامنا کر کے بندہ اللہ کے خاص قرب میں داخل ہوتا ہے، اور جس کے بعد اس کے روحانی سفر کی منزل مزید واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔

صبر ضبطِ نفس کا نام ہے، اور روزہ اس کی عملی تصویر، روزہ دار دن بھر کھانے پینے سے رک کر اپنے جسم کو آزماتا ہے، غصہ کو قابو میں رکھ کر اپنے جذبات کو سنوارتا ہے، اور ہر اس عمل سے اجتناب کرتا ہے جو اس کو روحانیت کے بلند مقام سے نیچے گرا دے، یہی وہ حوصلہ ہے جو اسے متقی بناتا ہے، اور یہی وہ صبر ہے جس کا انعام بے حساب اجر کی صورت میں ربِ کائنات نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے۔

 روزہ ایک جامع تربیتی نظام ہے، جو انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، اس کے عزم کو صیقل کرتا ہے، اور اسے اس بلندی پر پہنچاتا ہے، جہاں سے دنیا کے ہنگامے محض سراب نظر آتے ہیں اور حق کی راہیں اس کے لیے کھلتی جاتی ہیں۔

یہ صبر ہی ہے جو روزہ دار کو سحر کے وقت بستر کی گرمی چھوڑ کر عبادت کی طرف مائل کرتا ہے، جب رات کا سکون انسان کو تھپکی دیتا ہے اور نیند کی شیرینی آنکھوں کو بوجھل کر دیتی ہے، تب وہی کھڑا ہو سکتا ہے جس کا دل صبر سے معمور ہو۔

یہی صبر ظہر کی دھوپ میں جب حلق خشک ہوتا ہے، بدن نڈھال ہوتا ہے، اور خوردو ونوش کی دبی خواہش بیدار ہونے لگتی ہے، تب روزہ دار کو قوت عطا کرتا ہے، وہ چاہے تو ایک لمحہ میں پیاس بجھا سکتا ہے، لیکن نہیں—اسے معلوم ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کو لگام دے کر رکھتے ہیں، ان کے لیے رب کی معیت لکھی جا چکی ہے!

یہی صبر شام کے وقت آزمائش کی آخری گھڑیوں میں آکر انسان کو آزماتا ہے، جب دسترخوان سجا ہوتا ہے، خوشبوئیں اشتہا کو بھڑکاتی ہیں، لیکن وہ انتظار کرتا ہے، اس لمحہ کا، جب رحمت کی گھڑی آ پہنچے گی، اور وہ حکمِ خداوندی کے مطابق افطار کرے گا۔

اور یہی صبر اسے تراویح کی لمبی رکعتوں میں تھامے رکھتا ہے، تھکن بدن کو مضمحل کر دیتی ہے، لیکن وہ قیام کو ترک نہیں کرتا، وہ رکوع و سجود میں اپنے رب کے حضور حاضر رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گیا، تو یہی راتیں اس کے لیے مغفرت کا پروانہ بن جائیں گی۔

رمضان میں ایک رات ایسی آتی ہے، جس کی عظمت و شان کا ادراک کرنا بھی انسانی عقل کے بس کی بات نہیں، یہ وہ رات ہے جس میں تقدیریں لکھی جاتی ہیں، قسمتوں کے دروازے کھلتے ہیں، اور مغفرت کی بارش ہوتی ہے۔

لیکن یہ رات بھی صرف صبر کرنے والوں کے حصہ میں آتی ہے، جو لوگ جلدی سو جاتے ہیں، جو عبادت میں اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں، جو نیند کو عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اپنی دلچسپیوں اور خوش گپیوں میں وقت گنواتے ہیں وہ اس رات کی سعادت سے محروم رہتے ہیں، لیکن جو صبر کے ساتھ راتوں کو جاگتے ہیں، جو دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، جو گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں، وہی ہیں جو ہزار مہینوں سے بہتر اس رات کی برکتوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔

آخرکار، اس صبر کی سب سے بڑی جزا وہ جنت ہے، جس کا وعدہ اللہ نے صابرین سے کیا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں صبر کی آزمائشوں کا اختتام ہوتا ہے، جہاں بھوک اور پیاس کی تکلیفیں دائمی نعمتوں میں بدل جاتی ہیں، اور جہاں یہ اعلان ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے دنیا میں صبر کیا، اور آج وہی کامیاب ہیں!

روزہ داروں کے لیے جنت میں خاص دروازہ ہے—"باب الریّان"— جس سے صرف وہی لوگ داخل ہوں گے، جنہوں نے اس دنیا میں صبر کے ساتھ روزے رکھے، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ جو لوگ صبر کے معرکہ میں کامیاب ہوئے، ان کے لیے انعام بھی ویسا ہی بے نظیر رکھا گیا ہے۔

رمضان تو آتا ہے اور چلا جاتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کے لیے صبر کی روش اپنا لے، جو بندہ رمضان میں اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر صبر کے زیور سے آراستہ ہو جائے، جو اپنی زبان، اپنے اعمال اور اپنے جذبات پر ضبط سیکھ لے، وہ رمضان کے بعد بھی اسی روش پر گامزن رہے گا، اور اپنی انفرادی، خانگی اور اجتماعی زندگی میں اس کو برت کر دکھائے گا۔

اصل کامیابی یہی ہے کہ رمضان کی اس تربیت کو مستقل طور پر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے کہ رمضان گزر جائے، لیکن صبر باقی رہے؛ روزے ختم ہو جائیں، لیکن ضبطِ نفس کی کیفیت دائمی ہو جائے؛ تراویح کی رکعتیں مکمل ہو جائیں، لیکن قیام اللیل کی عادت برقرار رہے؛ افطار کے دسترخوان سمٹ جائیں، لیکن سخاوت اور غم خواری کا سلسلہ جاری رہے۔

کاش ہم میں سے ہر مسلمان خود کو مخاطب کرکے کہہ سکے کہ اے مومن انسان! اگر تُو کامیابی چاہتا ہے، اگر تُو عزت، بلندی اور فلاح کا طالب ہے، اگر تُو چاہتا ہے کہ اللہ کی معیت نصیب ہو، کہ اس کی محبت تیرے حصہ میں آئے، اور جنت کے دروازے تیرے لیے کھل جائیں—تو پھر رمضان کو اپنی زندگی میں صبر کی دائمی تربیت کا ذریعہ بنا لے، یہ مہینہ آتا ہے تاکہ تجھے سکھائے کہ بھوک و پیاس محض آزمائشیں نہیں، بلکہ وہ زینہ ہیں جو تجھے کامیابی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا سکتے ہیں، یہ مہینہ آیا ہے تاکہ تجھے بتائے کہ ضبط، حوصلہ اور ثابت قدمی کے بغیر کوئی سعادت ممکن نہیں، یہ مہینہ آیا ہے تاکہ تیرے وجود میں وہ روحانی طاقت پیدا کر دے، جو تجھے ہمیشہ کے لیے دنیا کی خواہشات کا اسیر بننے سے روک دے۔، پس اگر تُو حقیقت میں رمضان کا فیض حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صبر کی دولت کو اپنا سرمایہ بنا لے—کہ اسی میں تیری دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے!
Eremaad daily 14 March 2025

وہ کام جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا محمد طارق بدایونی

وہ کام جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
محمد طارق بدایونی

 گرچہ روزہ امساک کا نام ہے یعنی مفطرات و طیبات سے پرہیز کرنا، رک جانا؛ تاہم بعض کام عادات میں شامل ہوتے ہیں، جن کی انجام دہی بھی ضروری ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں مختصر سی آسانیاں، سہولتیں رکھی ہیں کہ جن سے روزے پر کوئی اثر نہ پڑے۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ کا روزے داروں پر احسان ہے کہ وہ ان کے لیے آسانیاں چاہتا ہے، حرج کو ختم کر دیتا ہے اور مشقت دو ر کر دیتا ہے۔ ذیل میں ایسی ہی چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے:
1. کھانے پینے سے متعلق:
روزے دار کو اپنا لعاب نگلنے کی اجازت ہے؛ لیکن تھوک قصداً جمع کر کے نگلنا مکروہ ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَيُكْرَهُ لِلصَّائِمِ أَنْ يَجْمَعَ رِيقَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ يَبْتَلِعَهُ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ۔ [الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۱۹۹]
مصلحتاً کسی چھوٹے بچے کو چبا کر کھلانا جائز ہے اور اسی طرح ضرورت کے وقت کھانا پکاتے ہوئے چکھنے کا بھی جواز ہے ؛ بشرطیکہ کچھ بھی پیٹ میں نہ پہنچے۔ [ابن عابدین نے رد المحتار میں بیان کیا ہے کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو اگر کھانا چکھا جائے تو روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ دیکھیے: در المحتار علی الدر المختار ۲؍۴۱۶]
روزے دار کے لیے پانی کے استعمال کی اجازت ہے؛ البتہ پینے کی قطعاً نہیں۔ بلا مبالغہ کلی کرنا یا ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ جائز ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا۔[سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ و سننہا، باب المبالغۃ فی الاستنشاق و الاستنشار، رقم الحدیث: ۴۰۷]
(تم مکمل طور پر وضو کرو اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، اِلا یہ کہ تم روزے سے ہو۔)
حدیث پاک میں صرف مبالغہ کا استثنا ہے۔
اگر کلی کرتے یا ناک صاف کرتے ہوئے پانی حلق میں اتر جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی؛ لیکن کفارہ نہیں ہے اور اگر کلی کرنے کے دوران میں روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ [دیکھیے: الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۲۰۲]
  روزے دار کو نہانے کی بھی اجازت ہے، تیراکی، تبرید کے لیے دیر تک پانی میں رہنے نیز گرمی سے بچنے کے لیے سر پر پانی یا پانی سے تر کپڑا بھی رکھنے کاجواز ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی پاکﷺ کو ایک دن دیکھا گیا کہ آپﷺ اپنے سر پر پانی ڈال رہے تھے؛ تاکہ گرمی سے راحت پا سکیں اور آپ روزے سے تھے۔ [اخرجہ احمد بن حنبل: ۲۳۶۹۹، ]
 روزہ کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے؛ بلکہ یہ تو سنّت ہے۔ خواہ مسواک تر ہو یا خشک، خواہ زوال سے پہلے کی جائے یا زوال کے بعد۔ حضرت عامر بن ربیعہ کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی اللہﷺ کو روزے کی حالت میں بے شمار بار مسواک کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ترمذی، کتاب الصیام، رقم الحدیث: ۷۲۵، نیز دیکھیے: سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: ۲۳۶۴] ایک موقع پر مسواک کرنے کے بارے میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ۔[صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، رقم الحدیث: ۸۸۷]
(اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔)
نوٹ: علما نے لکھا ہے کہ یہ حکم عام ہے اور صائم و غیر صائم دونوں کو شامل ہے۔
 مسواک کرنے کے سلسلے میں یہ جان لینا بھی افادے سے خالی نہ ہوگا، فقہا نے لکھا ہے کہ اگر مسواک کرتے وقت دانتوں یا مسوڑھوں سے خون نکل آئے تو اسے تھوک دیا جائے تو بھی روزہ میں فساد پیدا نہیں ہوگا؛ گرچہ خون کا رنگ لعاب پر غالب ہی کیوں نہ آ جائے۔ اگر تھوک غالب ہو اور روزے دار اپنے اختیار سے اسے نگل جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ قضا لازم ہوگی؛ البتہ کفارہ نہیں ہوگا۔ [دیکھیے: الفتاوی الہندیہ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم و ما لا یکرہ، ج:۱، ص: ۱۹۹]
 جہاں تک ٹوتھ پیسٹ یا ٹوتھ پاؤڈر کا تعلق ہے؛ گرچہ بعض علما نے اس کی اجازت اس وجہ سے دی ہے کہ یہ مسواک کے مثل ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اسے حلق میں اس کے اثرات جانے کے شک کی وجہ سے مکروہ ہی کہتے ہیں۔ اس لیے روزہ کی حالت میں اس کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ذائقہ معدے تک پہنچ ہی جاتا ہے۔ نیز بعض علمائے عرب تو اس کو مبالغہ مضمضہ (غرارہ کی قبیل سے) کی ایک شکل بیان کرتے ہیں، اس لیے اس کے ذرّات سے بچنا ناممکن ہے۔
بخور کا استعمال، اپنے جسم کو خوشبو سے معطر کرنا، بالوں کو درست کرنا (کاڑھنا)، کنگھی کرنا نیز جدید کاسمیٹکس کے سامان استعمال کرنا، عورتوں کا میک اپ(زیب و زینت) کرنا وغیرہ سب جائز ہے۔ حضرت عائشہؓ آپﷺ کا سر مبارک دھو دیتیں اور کنگھی کر دیا کرتی تھیں؛ جب کہ رسولﷺ معتکف ہوتے۔ [سنن ابن ماجہ، کتا ب الصیام، باب ماجاء فی المعکتف یغسل رأسہ و یرجلہ، رقم الحدیث: ۱۷۷۸]
روزہ کی حالت میں علاج کی بھی اجازت ہے؛ لیکن صرف ایسا علاج جس میں کھانا پینا نہ ہو اور دوا معدے تک نہ پہنچے۔ جیسے رگ یا گوشت میں انجکشن لگوانا۔ چیک اپ یا بطور عطیہ تھوڑی مقدار میں خون نکلوانا وغیرہ۔
ویکس انہیلر کا استعمال بھی درست ہے؛ چوں کہ اس کو محض سونگھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور خوشبو سونگھنے سے روزہ میں فساد نہیں آتا ہے۔ البتہ دمہ کا مریض، جسے سانس میں تکلیف ہوتی ہے۔ ایسے مریض کے لیے انہیلر کا استعمال جائز نہیں ہے، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛ کیوں کہ اس انہیلر کے ذریعہ دوا سانس کی نالی سے پھیپھڑوں میں پہنچائی جاتی اور حلق میں چوں کہ سانس اور خوراک کی نالیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں تو دوا کا کچھ حصّہ خوراک کی نالی میں پہنچ جاتا ہے۔ 

2. جماع سے متعلق:
جہاں تک رمضان المبارک کی راتوں کا تعلق ہے تو عام راتوں کی طرح ان میں بھی کھانا پینا، عورتوں سے مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ.......۔ (البقرۃ: ۱۸۷)
(تمہارے لیے یہ بات جائز کردی گئی ہے کہ روزہ کے دنوں میں رات کے وقت اپنی بیویوں سے خلوت کرو۔ تم میں اور ان میں چولی دامن کا ساتھ ہے (یعنی ان کی زندگی تم سے وابستہ ہے۔ تمہاری ان سے) اللہ کے علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہے کہ تم اپنے اندر ایک بات کا خیال رکھ کر پھر اس کی بجا آوری میں خیانت کررہے ہو (یعنی اپنے ضمیر کی خیانت کر رہے ہو۔ کیوں کہ اگرچہ اس بات میں برائی نہ تھی مگر تم نے خیال کرلیا تھا کہ برائی ہے) پس اس نے (اپنے فضل و کرم سے تمہیں اس غلطی کے لیے جو اب دہ نہیں ٹھہرایا) تمہاری ندامت قبول کرلی اور تمہاری خطا بخش دی اور اب ( کہ یہ معاملہ صاف کردیا گیا ہے) تم (بغیر کسی اندیشہ کے) اپنی بیویوں سے خلوت کرو اور جو کچھ تمہارے لیے (ازدواجی زندگی میں) اللہ نے ٹھہرا دیا ہے، اس کے خواہش مند ہو۔ اور (اسی طرح رات کے وقت کھانے پینے کی بھی کوئی روک نہیں) شوق سے کھاؤ پیو۔ یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) کالی دھاری سے الگ نمایاں ہوجائے (یعنی صبح کی سب سے پہلی نمود شروع ہوجائے) پھر اس وقت سے لے کر رات (شروع ہونے) تک روزے کا وقت پورا کرنا چاہیے۔)
اور جہاں تک رمضان المبارک کے دنوں کے وقت کا تعلق ہے تو روزے دار کے لیے وطی کے مقدمات (ابتدائی ترغیبی عمل)کی اجازت رکھی گئی ہے۔ جیسے بوسہ لینا، گلے لگانا، کسی عضو کو چھونا، ہاتھ پھیرنا وغیرہ۔ اس سے روزے میں کوئی فساد واقع نہیں ہوتاحضرت عائشہؓ کا فرماتی ہیں کہ: 
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ۔[صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب بیان أنّ القبلۃ فی الصوم.......، رقم الحدیث: ۲۵۷۶]
(رسول اللہﷺبوسہ لیتے تھے اور وہ روزے سے تھے اور اپنی حاجت کو خوب قابو میں رکھنے والے تھے۔)

واضح ہو یہ کام بھی ضبط کی حد تک رہیں، اگر خود پر اعتماد نہ ہو تو یہ عمل جائز ہونے کے باوجود مکروہ ہوگا اور اس کا روزہ کی سلامتی پر اثر پڑے گا۔ اعتماد نہ ہونے کا مطلب ہے کہ انزال کا اندیشہ ہو یا ان ابتدائی ترغیبی اعمال سے حدود پار ہو جانے کا ڈر ہو ؛ اگر خدا نخواستہ کسی نے ایسا کیا تو بلاشبہ اس نے حرام کام کیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے:
أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ، فَنَهَاهُ. فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب کراھیتہ للشابّ، رقم الحدیث: ۲۳۸۷]
(ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی اور ایک دوسرا شخص آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپﷺ نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا۔ جسے منع فرمایا تھا، وہ جوان تھا۔)
نوٹ: بوڑھے کو اس لیے اجازت دے دی کہ وہ قابلِ ضبط ہوتے ہیں اور جوان کو اس لیے اجازت نہیں دی کہ ان کے لیے ضبط مشکل ہوتا ہے۔
نیز یہ چیز بھی روزے پر اثر انداز نہیں ہوتی کہ انسان ناپاکی کی حالت میں صبح کرے اور روزے کی نیت کر لے۔ مثلاً: اگر کسی شخص پر غسل واجب تھا، صبح صادق سے قبل غسل نہ کر سکا پھر سحری کھا کر یا بنا کھائے روزہ کی نیت کر لی تو اس کا روزہ درست ہوگا؛ البتہ جلد از جلد غسل کر لینا چاہیے۔ حضرت عائشہ و امّ سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ: 
 كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصوم، باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر و ھو جنب، رقم الحدیث: ۲۵۸۹]
(نبی ﷺ احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپﷺ روزہ رکھتے۔)

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...