Translate

Tuesday, December 3, 2024

سب سے زیادہ محبت کس سے ؟مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی جمشیدپور

سب سے زیادہ محبت کس سے ؟
مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی 
جمشیدپور 


انسان کو طبعی طور پر سب سے زیادہ محبت اپنے آپ سے ہوتی ہے،غور  کیجیئے، دوسرے سے  بھی ہم محبت  کرتے ہیں تو اسی لۓ کہ وہ بھی ہم سے محبت کرے،کوئ ہنر،کوئ خوبی  اللہ نے دے رکھی ہے تو اس کے اظہار میں بھی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ مجھے پہچان لیں، کوئی میری تعریف کرتا ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں حتی کہ میرے بچوں  کی کوئ تعریف کردے تو یہ بھی ہماری خواہش کے عین  مطابق ہوتی ہے حتی کہ جنت کے حصول کی تمنا بھی اسی لۓ ہوتی ہے کہ ہمیں ابدی اور اخروی زندگی میں ہمیشہ کاآرام ہو،حالانکہ جنت کی طلب  اور جہنم سے پناہ مانگنا نہ غلط اور نہ کسی مقام کے خلاف بات ہے ،
اور محبت مجازی کی تو  بات ہی رہنے دیجیے کہ وہ تو ہوتی ہی  ہے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے چاہے اس پر پاکیزہ محبت وغیرہ کے جتنے بھی حسین عنوان لگادیے جائیں 
اور یہ  بات طبعی طور پر ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں  پائی جاتی ہے اور یہ کوئی خلاف طبیعت یا عقل سے مستبعد بات بھی نہیں، لیکن شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی اس طبعی چاہت کو اللہ کی محبت پر قربان کرے،یہاں تک قربان کرنے کی کوشش کرے کہ ذات خداوندی ہی کی رضا میں اس کی رضا ہو ،انھیں کی خوشی میں اس کی خوشی ہو ،جنت سے بھی زیادہ جنت کے مالک کا دیدار ولقا اس کا مطلوب ہو،جیسا کہ حضرت رابعہ بصریہ کے واقعے میں اس طرح کی کیفیت کا ذکر آتا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے سب سے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پہ قربان کرے  اور یہ طبعی محبت عقلی اور اختیاری محبت کے سامنے مغلوب ہو جائے،اسی مضمون  کو" والذين امنوا والذين امنوا اشد حبا لله "(بقرہ:165 اور جو مؤمن ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ قوی محبت ہے)کی آیت میں اور " لا يؤمن احدكم  حتى أكون احب اليه من والده وولده والناس أجمعين"(بخاری:15  تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کے بچے اور دنیا تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)
 والی حدیث میں  بیان کیا گیا ہے
محبت ہی میں پوشیدہ دو عالم کی سعادت ہے
محبت ہی کو ہم اس زیست کا حاصل سمجھتے ہیں 
کیونکہ ہمارا وجود  اللہ کے فضل وکرم کا مظہر ہے، ان کا کرم نہ ہوتا تو سرے سے ہمارا وجود ہی نہ ہوتا ،پھر اس کے بعد وحی الٰہی کو ہم تک پہنچانے والے ،ہماری تکلیفوں  پر بے چینو بے قرار ہو جانے والے،ہماری ہدایت کے بھوکے  اور مومنوں کے لۓ رؤوف ورحیم ، اور سراپا احسان ،و پیکر حسن وجمال خواجۂ کونین  اللہ کے آخری اور دلارے نبی جی ہیں  تو ہمیں آپ سے محبت ہونی چاہیے اور محبت الٰہی اور عشق نبی ہی پھر انسان کی زندگی میں معجزے دکھاتی ہے،جیسا کہ اصحاب نبی، بوبکر وعمر،عثمان وعلی،زبیر وطلحہ،عبدالرحمن وسعید،اور سعد وابو عبیدہ کی زندگیاں زہد و ورع عدل و انصاف،سخاوت و شجاعت فتح وفیروزمندی اور امانت و دیانت کے محیر العقول واقعات وکرامات سے بھری ہوئ ہے اور اب بھی اللہ ورسول کے سچے عاشقوں اور صحابہ کی راہ چلنے والے غازیوں اور فلسطین کے جیالوں کی زندگیاں ایمانی فتوحات سے لبریز ہیں،سچ ہے 

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں 
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار
 ✍️ ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
 استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

 قرآن مجید "أبوّۃ" یعنی اولاد کے ساتھ باپ کے رشتہ کو انسانی رشتوں میں سب سے مضبوط اور اہم تعلق کے طورپر پیش کرتا ہے، باپ پر ہی پر مادی اور معنوی حقوق و فرائض کا دارومدار ہوتا ہے، گو کہ اس تعلق سے انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لیکن باپ ہونا حقیقت میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت اورخصوصی عطیہ ہے، جیسا کہ رحمن کے خاص بندوں کی دعاؤں میں ایک دعا اپنے تئیں نیک وصالح اولاد کے باپ ہونے کی بھی ہے: "رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ" (الفرقان: ۷۴) (اے ہمارے رب!ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرمادیجئے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں)، قرآنی نمونوں میں سب سے مقدس نمونہ کبر سنی میں حضرت براہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کا خدا کے حضور اولاد کی عاجزانہ طلب ہے، اور بارگاہ خداوندی سے اس کی بشارتوں کا فیضان ہے۔ 

 باپ ایک ایسا لفظ جو صرف تین حروف پر مشتمل ہے؛ لیکن اس کے معنی کی گہرائی سمندر کی وسعتوں کو شرمندہ کر تی ہے، باپ محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک سایہ دار شجر، ایک مضبوط دیوار، اور ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، یہ اس شخصیت کا نام ہے جو اپنی ذات کی چمک کو ماند کر کے اولاد کے لیے روشن راہوں کی ضمانت دیتی ہے، اگر ماں کی محبت نرم شفق جیسی ہے، تو باپ کی محبت چھاؤں کی مانند ہے، وہ اپنی مشکل چھپائے اولاد کے دکھ سمیٹتا ہے، باپ کا کردار ہمیشہ سے ایک ان کہی داستان رہا ہے، وہ داستان جو روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گم ہو جاتی ہے؛ لیکن اس کے بغیر زندگی کے کسی باب کا آغاز ممکن نہیں، باپ وہ معمار ہے، جو اپنے خون پسینے سے نسلوں کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرتا ہے، اس کی خاموش دعائیں اولاد کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں، اور اس کے دل میں پنہاں امیدیں دنیا کے بڑے بڑےخزانوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، باپ کی محبت کو سمجھنا آسان نہیں، یہ محبت ماں کی طرح اظہار کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان خاموش قربانیوں میں چھپی ہوتی ہے جو وہ ہر دن پیش کرتا ہے۔

 باپ اپنی خواہشات کو مٹا کر اولاد کی خواہشات کو پروان چڑھاتا ہے، اپنے پیروں کے جوتے گھس کر وہ اپنے بچوں کے لیے نئے جوتے خریدتا ہے، اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی اور جسم پر مشقت کی نشانیاں اس کی محبت کی گواہی دیتی ہیں، لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتا، باپ ایک رہنما، ایک مشیر، اور ایک محافظ ہے، وہ زندگی کے نشیب و فراز میں اولاد کو رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اپنی حکمت وبصیرت کے ذریعہ ان کے مسائل کا حل نکالتا ہے، اگرچہ وہ سخت گیر نظر آ سکتا ہے، لیکن اس کی سختی دراصل اس کی محبت کا دوسرا رخ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو، اور اسی لیے وہ انہیں مضبوط بننے کی تربیت دیتا ہے، باپ کی کہانی صرف موجودہ وقت کی نہیں، بلکہ یہ ماضی، حال، اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہے، وہ اپنے آبا و اجداد کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اپنی اولاد کو ان کی جڑوں سے جوڑتا ہے، وہ وقت کے بدلتے دھارے میں اپنی نسل کو ایسا بیج دیتا ہے جو زمین کی سختی اور ہوا کی شدت کے باوجود اپنی جگہ قائم رہ سکے، باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی فراہمی تک محدود نہیں، وہ اولاد کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا ہے، اس کی خوشی ان خاص لمحات میں چھپی ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو کامیاب اور مطمئن دیکھتا ہے، باپ کا کردار نسلوں کی تعمیر کا ضامن ہے، وہ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے ایک ستون ہے بلکہ معاشرہ کے لیے بھی ایک مثال ہے، باپ یعنی ایسی روشنی جو اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، ایک ایسا سائبان جو زندگی کےسرد وگرم کو برداشت کر کے اپنے بچوں کو سکون فراہم کرتا ہے، اورایک ایسا کوہ استقامت جو طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کی نسل محفوظ رہے، باپ کے بغیر زندگی کی تصویر نامکمل ہے، وہ حالات کی سنگلاخ زمینوں میں دفن ایک ایسی بنیاد ہے جو ہر کامیابی، ہر خوشی، اور ہر سکون کا ذریعہ ہے، باپ کا وجود نعمت ہے، اس کا سایہ سکون ہے، اور اس کی محبت دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے، اس ہستی کا شکر ادا کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے سمجھنا اور اس کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہر فرد کا فرض ہے، لفظ"أب" کا اصل مطلب ہی تیاری اور ارادہ کرنا ہے، عربی زبان میں کہا جاتا ہے: "أبّ الرجل"، یعنی وہ شخص جو کسی عمل یا مقام کی طرف تیاری کرے یا قصد کرے، اسی طرح اس لفظ کا مطلب وطن کی جانب رجوع کرنا بھی ہے، لسان العرب کے مطابق، "أبوة" اصل ثلاثی (أبى) سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "امتناع" یعنی کسی چیز سے رک جانا یا پرہیز کرنا یا تحفظ اور حمایت فراہم کرنا، اس طرح "أبوة" کا مطلب معاشرتی اور تربیتی حوالہ سے تیاری اور ارادہ بھی ہو سکتا ہے، اور وہ تحفظ اور حمایت بھی جو باپ اپنی اولاد کو فراہم کرتا ہے۔

 اصطلاحی طور پر باپ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ "وہ انسان جس کے ذریعہ سے دوسرا انسان پیدا ہوا" جیسا کہ کفوی نے لکھا ہے، جب کہ مناوی کے مطابق" باپ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے وجود، اصلاح یا ظہور کا ذریعہ ہو"، لغت کے ماہرین نے "أب" اور "والد" کے درمیان فرق کیا ہے، "أب" کا مفہوم "والد" سے زیادہ وسیع ہے؛ کیوںکہ "أب" کا اطلاق بچے کے والد، دادا اور چچا پر بھی ہوتا ہے، جب کہ "والد" صرف بچے کے حقیقی والد کو کہا جاتا ہے، "أبوة" ایک وسیع تر معنوی رشتہ ہے، جو والدین کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اور عقیدے سے جڑا ہوا تعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "أبوالانبیاء" کہا گیا،قرآن کریم میں "أبوة" کا ذکر تقریباً ۱۱۷ مرتبہ مختلف صیغوں میں ہوا ہے، مثلاً مفرد، تثنیہ اور جمع کی شکل میں، اس کی مثالیں قرآن میں یوں ملتی ہیں: "قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ" (یوسف: 78) اور:"فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى، قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ، سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ‘‘(الصافات: 102)، یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قرآن کریم میں "أب" کے ذکر سے باپ کے معنوی اور حقیقی دونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
 قرآن مجید میں "أب" کا استعمال متعدد سیاق و سباق میں ہوا ہے، قرآن میں والد، دادا اور چچا تینوں معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثال کے طور پر، والد کے طور پر ارشاد ہوا: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَبِيهِ" (عبس: 34)، دادایا جد امجد یا انہیں کی مانند انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر ذکر آیا: "مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ" (الحج: 78)، چچا کے طور پر مثلاً حضرت اسماعیلؑ کو حضرت یعقوب ؑکا "أب" کہا گیا: "نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ" (البقرہ: 133)،قرآن میں "أب" کا ذکر اکثر احترام اور اولاد پر ان کی اطاعت کو واجب قرار دئیے جانے کے پس منظر میں آتا ہے، جیسا کہ حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں نے حضرت موسیٰؑ سے بات کرتے ہوئے کہا: "وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ" (القصص: 23)، اسی طرح حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے حاکم مصر حضرت یوسفؑ سے کہا: "إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا" (یوسف: 78)۔  

 ڈاکٹر فاضل السامرائی کے مطابق، قرآن مجید باپ اور ماں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دو مختلف الفاظ استعمال کرتا ہے:"الأبوين" اور"الوالدين"، "الأبوين" کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہو، جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے: "وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ" (یوسف: 100)،یہاں ماں کے مقابلہ میں باپ کا ذکر پہلے آیا؛ کیوں کہ ان مواقع پر باپ کی حیثیت کو مقدم سمجھا گیا، "الوالدين" کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں ماں کی قربانیوں اور خدمات کو نمایاں کیا گیا ہو، جیسے کہ اس آیت میں: "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (البقرہ: 83)، یہاں حمل اور تربیت میں ہونے والی ماں کی مشقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت دی گئی، ڈاکٹر السامرائی مزید کہتے ہیں کہ قرآن مجید رشتوں کی ترتیب کو ان کی قوت کے لحاظ سے طے کرتا ہے، اور اس حوالہ سے باپ کو ماں پر فوقیت دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اولاد کو مدد اور تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ ماں عمومی طور پر کمزور ہوتی ہے اور اسے خود مدد کی ضرورت ہوتی ہے؛ اسی لیے قیامت کے دن انسان کے بھاگنے کی ترتیب میں پہلے بھائی، پھر ماں اور اس کے بعد باپ کا ذکر آیا ہے: "يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ" (عبس: 34)، یہ آیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو قیامت کے دن اپنے باپ کی ضرورت زیادہ محسوس ہوگی؛ اسی لیے ماں سے فرار کا ذکر باپ سے پہلے آیا۔

 یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ باپ کے ساتھ احترام کا تعلق تمام اولاد پر ہر حال میں واجب ہے، قرآن مجید نے باپ کی کئی خصوصیات کو بیان کیا ہے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صالحیت باپ کے رشتہ کی ایک بنیادی صفت ہے، قرآن میں صالح باپ کے کئی نمونے پیش کیے گئے ہیں، جیسے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ اور لقمان، اس کے برخلاف، آزر کا کردار غیر صالح والد کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باپ کا اصل کردار تربیت، رہنمائی اور محبت پر مبنی ہوتا ہے، قرآن مجید میں باپ کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ایمان وعمل کی نصیحت کی، جب کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو عقیدے اور اخلاق کی تعلیم دی، یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ باپ کا کردار صرف مادی ضروریات کی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہے، قرآن میں باپ کے کردار کو محبت اور قربانی کے حوالہ سے بھی پیش کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کے لیے قربانی دینے کا فیصلہ کیا، جو ان کی محبت اور اللہ کے حکم کی اطاعت کا مظہر تھا، اسی طرح حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے آخری لمحے تک کوشش کی، قرآن میں باپ کے کردار کو حکمت اور مکالموں کے ذریعے بھی نمایاں کیا گیا ہے، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ نے اپنی اولاد سے بات چیت میں حکمت اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ باپ کو اولاد کے ساتھ گفتگو میں حکمت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
 قرآن مجید نے حضرت یعقوبؑ کو ایک مثالی باپ کے طور پر پیش کیا ہے، ان کی خصوصیات میں صالح خاندان سے تعلق، اولاد کی محبت، دور اندیشی، اور مشکلات کے باوجود صبرو حکمت سے کام لینا شامل ہیں، حضرت یعقوب ؑنے اپنی اولاد کے ساتھ محبت اور احترام کا رویہ اپنایا، جیسا کہ ان کے بیٹوں کے لیے دعا اور نصیحت کے واقعات سے واضح ہوتا ہے، انہوں نے تحمل اور دعاؤں کے ذریعہ اپنے بچوں کی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی، جو ایک مثالی باپ کی خصوصیات میں ہیں، قرآن مجید میں باپ کے کردار کو ایک مقدس اور ذمہ دارانہ حیثیت دی گئی ہے، صالح والدین کے قرآنی نمونے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ باپ کا کردار اولاد کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت میں کس قدر اہم ہے، یہ نمونے نہ صرف ایک فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں، گویاوالد کا وجود قرآن کی زبان میں محبت، حکمت اور قربانی کی ایک خاموش داستان ہے، وہ ایک شجر سایہ دار ہے، جس کی جڑیں دعاؤں میں پیوست اور شاخیں قربانیوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، والد کا مقام الفاظ کی گرفت سے باہر ہے، جہاں ہر لمحہ قربانی اور ہر سانس رہنمائی کا استعارہ ہے، یہی وہ مقام ہے جو قرآن نے والد کو عطا کیا، اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی نسل در نسل بکھرتی رہتی ہے، طاہر شہیر کا یہ شعر خوب ہے:
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے✨✨

Monday, December 2, 2024

آپ کا اختلاف تعمیری ہو تخریبی نہیں ! مولانا محمد قمر الزماں ندوی

آپ کا اختلاف تعمیری ہو تخریبی نہیں ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فکر و نظر کا اختلاف ایک فطری امر ہے،اختلاف ہونا اور پایا جانا ضروری ہے ،ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ لوگوں میں فکر و نظر اور عقل و شعور کا اختلاف نہ ہو ، کیوں کہ تمام انسانوں کو ایک ہی شکل اور رنگ و روپ پر پیدا نہیں کیا گیا ہے، بلکہ تمام انسانوں کی شکل و صورت رنگ و روپ اور جسمانی طاقت و قوت میں پیدائشی اختلاف اور فرق و تفاوت پایا جاتا ہے ۔اسی طرح سے مختلف انسانوں کے درمیان عقل و شعور فکر و نظر اور غور و خوض کی صلاحیتوں اور مدارج میں فرق پایا جانا بالکل فطری امر ہے ۔ یاد رہے جس طرح سے ہماری زبان ہمارے رنگ اور ہماری جسمانی ساخت کا مختلف ہونا خدا کے وجود کی دلیل اور علامت ہے ۔اسی طرح سے ہماری عقلی صلاحیتوں اور ذہنی ساختوں اور ان کے نتائج میں اختلاف پایا جانا، خدا کے وجود کی عظیم تر نشانی اور دلیل ہے ۔یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر انسان کی تخلیق  کسی خالق حکیم کے بغیر خود بخود وجود میں آجاتی تو تمام انسانوں کے رنگ اور شکل کی یکسانیت کے ساتھ ان کی ذہنی و فکری ساخت بھی یکساں ہوتی اور پھر انسانی زندگی ارتقاء و ارتفاع کے بجائے جمود و تعطل کا شکار ہوکر رہ جاتی ۔اس لیے ذہن و دماغ اور عقل و شعور کے مدارج کا مختلف ہونا ایک طرف خدا کی قدرت کاملہ کی ایک واضح دلیل اور بین ثبوت ہے، تو دوسری طرف یہ اختلاف کائنات کی تعمیر و ترقی،وجود انسانی کے ارتقاء اور زندگی کی بقا و تعمیر کے لیے لازمی و ضروری ہے ۔
  ان تفصیلات کا حاصل اور خلاصہ یہ نکلا کہ اختلاف فکر و نظر ایک ضروری اور فطری امر ہے ،اور یہ محمود ہے ،مبغوض اور ناپسندیدہ نہیں ۔
البتہ اس بات پر غور کرنا اور نظر رکھنا ضروری ہے کہ اس فطری اختلاف کے حدود اور درجات کیا ہوں اور اسکا دائرئہ کار کیا ہو ؟ 
  اگر اختلاف رائے ذاتی مفاد ،شخصی اغراض مادی منفعت یا حظ نفس کے لیے ہو، تو وہ ناجائز اور غیر محمود ہے ،اس طرح کے اختلاف کو کتاب و سنت اور شریعت کی تعبیر و اصطلاح میں ھویٰ کہا گیا ہے اور ھویٰ گمراہی و ضلالت کا سر چشمہ اور فساد و کرپشن کا منبع ہے ۔ تاریخ انسانی شاہد اور گواہ ہے کہ جب کوئی قوم، سماج اور معاشرہ ھویٰ اور نفسانیت کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کو زوال و انحطاط پستی و تنزلی ادبار و تخلف سے نہیں بچایا جاسکتا ، جب اختلاف نفسانیت اور انانینت کی بنیاد پر ہوتا ہے، تو انسان کے اندر کبر، غرور، اناننیت، ضد اور ہٹ دھرمی کے جذبات کار فرما ہوتے ہیں یا اپنی علمی قابلیت اور بلندئی فکر و نظر کا رعب جمانا مقصود ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی بات اور اپنی فکر و سوچ کو منوانے کے لیے تمام ذرائع بلکہ ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ، زبان کو قینچی کی طرح بے دریغ استعمال کرتا ہے ،رطب و یابس باتوں پر بھی اتر آتا ہے، اپنی سطح سے کافی نیچے چلا جاتا ہے،،حد اعتدال سے بڑھ جاتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے ملت کی شیرازہ بندی کو بھی پارہ پارہ کر دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا ۔ آج یہی صورت حال ہے، جس سے پوری دنیا میں مسلمان دو چار ہے ۔
   ہم سب کو اپنا جائزہ لینا ہے اور محاسبہ کرنا ہے کہ آیا ہمارا کسی سے اختلاف ھویٰ اور نفسانیت کی بنیاد پر ہے یا امت مسلمہ کی تعمیر و ترقی اور خیر خواہی کے لیے ہے ۔ ہمارا دل اس سوال کے جواب کے لیے کافی ہے ،، بس سوال کرنے کی دیر ہے ۔۔ 
   دوستو !
  آپ سب ذرا کان قریب کیجیے نا ! ایک بات کہنی ہے جو ضروری ہے کہ ذرا اپنے دل سے پوچھئیے نا کہ آپ کا یہ اختلاف کس وجہ سے ہے اور اس کی اصل وجہ اور بنیاد کیا ہے ؟؟؟؟؟یقینا آپ کے سوال کا آپ کو جواب مل جائے گا اور ممکن ہے آپ اپنے رویئے اور طرز عمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہو جائیں ۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...