Translate

Monday, September 22, 2025

حضرت قمر شمسی:ایک مرد حق کی تابندہ زندگی بقلم: حضرت مولانا شاہ عبدالقیوم شمسی اماموری،پاتے پور،ویشالی

حضرت قمر شمسی:ایک مرد حق کی تابندہ زندگی 
بقلم: حضرت مولانا شاہ عبدالقیوم شمسی 
اماموری،پاتے پور،ویشالی
    حضرت مولانا سید شاہ مظاہرعالم قمر قمرشمسی دامت برکاتہم علم، حلم، تقویٰ، زہد، تواضع اور اخلاص کے پیکر جمیل ہیں۔ ان کا وجود آج کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور کرم کا مظہر ہے۔ ان کے چہرے پر نورِ معرفت جھلکتا ہے، زبان پر حق گوئی، دل میں اخلاص، اور اعمال میں سنتِ رسول ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت سے جو روحانی کشش محسوس ہوتی ہے، وہ ہر سنجیدہ طالب علم اور سلیم الفطرت انسان کو ان کے قریب لے آتی ہے۔
حضرت کا تعلق ایک عظیم علمی و روحانی خانوادے سے ہے۔ سلسلۂ نسب حضرت شیخ مخدوم اولیاء رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے، جو حسینی سید تھے اور جن کے نام پر چک اولیاء بسا۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا سید شاہ محمد شمس الحق بن سید شاہ محمد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ تھے، جو خود ایک جلیل القدر عالم، محدث اور مردِ حق تھے۔ آپ کی والدہ محمودہ خاتون بنت ڈاکٹر عبدالرشید بن شیخ ابو الحسن تھیں، جن کا خاندان بھی علم و قضا میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔
حضرت کی ولادت 8 ستمبر 1943ء بمطابق 1361ھ کو آپ کے ننہیال رسول پور بکھری میں ہوئی۔ دو سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد آپ کی پرورش نانہال میں ہوئی۔ پانچ برس کی عمر میں دادا جان نے رسمِ بسم اللہ پڑھائی۔ ابتدائی تعلیم دادا ہی سے حاصل کی، جنہوں نے قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن اور ابتدائی فارسی کتب گلستاں تک کی تعلیم دی۔ اردو پرائمری اسکول ابابکر پور میں داخلہ ہوا، جہاں مولانا حبیب الحق قاسمی اور مولوی ضمیر الدین جیسے اساتذہ سے تعلیم پائی۔ 1955ء میں مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں داخلہ لیا، جہاں مولوی سے متوسطات تک کی تعلیم حاصل کی۔ اساتذہ میں والد گرامی کے علاوہ مولانا عبدالمجید رحمانی، قاری صغیر احمد، حافظ عبدالحفیظ، ماسٹر ظہیر الدین علیگ جیسے ممتاز اساتذہ شامل تھے۔
1961ء میں دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں داخلہ لیا، اور 1963ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔ یہاں آپ کے اساتذہ میں مولانا عبید الرحمن عاقل رحمانی، مولانا ظہور احمد رحمانی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا آزاد رحمانی، مولانا اکمل اعظمی، اور مولانا حبیب المرسلین جیسے جید علمائے کرام شامل تھے۔ 1964ء میں بہار بورڈ سے میٹرک اور بعد ازاں 1965 و 1966 میں مدرسہ ایگزامینیشن بورڈ سے فاضل فارسی اور فاضل حدیث کی اسناد حاصل کیں۔
4/ نومبر 1964ء کو آپ کی تقرری مادر علمی مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں بطور معاون مدرس ہوئی۔ ابتدا میں متوسطات تک کی کتابیں پڑھانے کا موقع ملا، اور پھر یکم مارچ 1985ء کو آپ صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس عہدے پر تقریباً بیس سال خدمات انجام دیں، اور مدرسہ کو علمی، دینی، اور تعمیری لحاظ سے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ آپ کے دورِ صدارت میں مدرسہ نے بے مثال ترقی کی۔
 31 اگست 2005ء کو تقریباً چالیس سالہ خدمات کے بعد آپ مدرسہ سے سبکدوش ہوئے۔ آپ کی سبکدوشی کے موقع پر جس شاندار انداز میں آپ کو رخصت کیا گیا، وہ آپ کی مقبولیت اور محبت کا واضح ثبوت تھا۔ مولانا رئیس اعظم مرحوم نے جو منظوم الوداعیہ پیش کیا، وہ ایک تاریخی خراجِ عقیدت تھا۔
آپ کے شاگردوں میں ملک و بیرونِ ملک ممتاز شخصیات شامل ہیں، جن میں مولانا ظفر اللہ ابابکرپوی، پروفیسر انوارعالم، پروفیسر لیاقت علی خان، پروفیسر مقبول احمد پٹوری ، پروفیسر حسن رضا، پروفیسر غلام اشرف قادری، مولانا سراج الہدی ندوی ازہری، مولانا شمیم احمد شمسی، مولانا محمد حدیث چک معین الدین، عزیزم مولانا محمد قمرعالم ندوی اور عزیزم مولانا محمد صدر عالم ندوی جیسے معتبر اور خدمت گزار لوگ شامل ہیں۔
حضرت کا عقد نکاح 15 جون 1967ء کو عظیم النساء بنت محمد مکرم سے ہوا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صاحبزادی اور پانچ صاحبزادگان سے نوازا، جو تعلیم یافتہ اور مختلف شعبوں میں مصروف خدمت ہیں، جن میں تعلیم، ٹیکنیکل، دینی، اور بیرونِ ملک کے شعبے شامل ہیں۔
1982ء میں حضرت نے حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، اور ان کے وصال کے بعد اپنے والد گرامی حضرت مولانا سید شاہ محمد شمس الحق کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ حضرت والد نے آپ کو خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا۔ یہ سب کچھ حضرت کی سیرت و کردار، زہد و تقویٰ، روحانی بالیدگی، اتباعِ سنت، اور کشف و بصیرت کی بنیاد پر ہوا۔ حضرت کے کشف اور روحانی حالات کے کئی واقعات زبان زد عام ہیں، لیکن آپ کی طبیعت میں انکساری اور اخفاء کا وصف اس قدر غالب ہے کہ وہ انہیں ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے۔ حضرت کی زبان پر کثرتِ ذکر و درود، آنکھوں میں خشیتِ الٰہی، اور عمل میں پابندیِ سنت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 
حضرت کی زندگی درس و تدریس میں گزری۔ وہ نہ صرف ایک مربی استاد ہیں بلکہ بہترین منتظم، رہنما، داعی، خطیب، اور اصلاحی مزاج کے حامل بزرگ بھی ہیں۔ مدرسہ سے سبکدوشی کے بعد آپ نے کوئی ملازمت اختیار نہیں کی، البتہ کچھ اداروں سے تاحال وابستہ ہیں۔ ان میں رکن مجلس شوریٰ امارت شرعیہ، سکرٹری مدرسہ اسلامیہ شمسیہ چک معین الدین، متولی مسجد حسن پور گنگٹی، متولی مسجد چک اولیاء، سرپرست انجمن اصلاح المسلمین چک اولیاء، اور شمس اسٹڈی سرکل کے سرپرست شامل ہیں۔ والد محترم کی وفات کے بعد آپ عیدگاہ ابابکر پور میں عیدین کی مستقل امامت فرما رہے ہیں۔
حضرت کا مشغلہ تصنیف نہ تھا، مگر پھر بھی آپ نے والد گرامی کی نعتوں کا مجموعہ ’’یادِ حرم‘‘ اور ان کی منتخب 40 احادیث کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ بعد ازاں اپنی نعتوں، غزلوں اور نثری مضامین کو ’’انوار قمر‘‘ کے نام سے 2019ء میں شائع کیا، جو عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئی۔ ’’خطبات مظاہر‘‘ (مرتب مولانا قمر عالم ندوی)، ’’سلام و مصافحہ کی 40 حدیثیں‘‘، اور ’’احادیث قدسیہ‘‘ جیسے چند اہم دینی مواد بھی آپ کی نگرانی میں منظرِ عام پر آئے۔
حضرت کی خدمات کا دائرہ درس و تدریس تک محدود نہیں رہا، بلکہ آپ نے مسجد، مدرسہ، تبلیغ، ملی تنظیموں اور اصلاحی اداروں کے ذریعے بھی دین کی بھرپور خدمت انجام دی۔ آج بھی آپ جامع مسجد ابابکر پور میں خطبہ جمعہ سے پہلے خطاب فرماتے ہیں، اور علاقائی دینی و دعوتی پروگراموں میں مسلسل شرکت کرتے ہیں۔
بلاشبہ حضرت مولانا سید شاہ مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم کا وجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمتِ کبریٰ ہے۔ ان کی صحبت ایک زندہ نصیحت ہے، ان کے کردار سے باطن کی صفائی ہوتی ہے، اور ان کی صحبت میں بیٹھنے سے دل میں دین کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے اللہ والے بزرگوں کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ 
حضرت مولانا سید شاہ مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم نہ صرف عالمِ باعمل، محدث، مربی، اور ممتاز معلم ہیں بلکہ ایک سچے، پکے، کامل اللہ والے بھی ہیں۔ آپ کی زندگی تقویٰ، طہارت، سادگی، تواضع، انکساری، زہد، اور سنتِ رسول ﷺ کی عملی پیروی کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ دنیا کی رنگینیوں اور وقتی لذتوں سے بے نیاز، دل میں خشیتِ الٰہی، زبان پر ذکر و درود، اور ظاہر و باطن میں اخلاص کی چمک آپ کی شخصیت کا طرۂ امتیاز ہے۔
حضرت کا روحانی مقام نہایت بلند ہے۔ ان کے قلبِ منور سے اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات کا ظہور ہوتا ہے۔ ان کی مجالس میں بیٹھنے سے دل نرم ہوتا ہے، روح کو سکون ملتا ہے، اور ایک عجیب سی باطنی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ کئی مواقع پر ایسے واقعات پیش آئے جو حضرت کے کشف و فراست پر واضح دلیل ہیں۔ مگر آپ کی طبعی خاموشی، اخفاء، اور انکساری کا یہ عالم ہے کہ کبھی اپنی بزرگی یا روحانی کمالات کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ بس ہر وقت اللہ سے جڑے رہتے ہیں اور مخلوق کو اللہ سے جوڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔
میں نے خود ان کی زندگی کو نہایت قریب سے دیکھا، ان کے معمولات کو پرکھا، ان کی عبادات، تعلق باللہ، اتباعِ سنت، خدمتِ دین، اور خدمتِ خلق کو دیکھا تو میرا دل گواہی دینے لگا کہ یہ ہستی صرف ایک عالم نہیں، بلکہ ایک کامل مرشد، مردِ حق، اللہ کے محبوب بندے ہیں۔ انہی روحانی، اخلاقی، دینی اور باطنی اوصاف کو دیکھ کر میں نے اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا سید مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ یہ میرے لیے روحانی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور پھر وہ بابرکت لمحہ بھی آیا کہ حضرت نے اپنے فضل و کرم سے، روحانی اعتبار سے مجھ ناتواں کو خلافت اور بیعت کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر میں عمر بھر ادا نہیں کر سکتا۔
میں اپنے پیر و مرشد کا دل سے شکر گزار ہوں، اور ساتھ ہی رب کریم کا بھی شکر گزار ہوں جس نے مجھے ایک ایسے مردِ حق کی صحبت نصیب فرمائی، جن کی دعا، توجہ، اور صحبت آج بھی میرے دل و دماغ کو منور کیے ہوئے ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے ہمیشہ وابستگی قائم رہے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین یا رب العالمین۔

Sunday, September 14, 2025

منہج نبوت پر چلنااورکار نبوت کوعام کرناہی عزت کی ضمانت ہے۔ محمدامام الدین ندوی ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی

منہج نبوت پر چلنااورکار نبوت کوعام کرناہی عزت کی ضمانت ہے۔
   محمدامام الدین ندوی 
   ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اس روئے زمین پر مسلمان ذلیل ترین قوم بن چکاہے۔اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوکر اسے لقمہ تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔دنیا کی جدید ترین اسلحے کے استعمال کے لئے مسلمانوں ہی کےسینےتختہ مشق بنائے جاتے ہیں۔
      دنیا کی تمام تر میڈیا مسلمانوں کی بیخ کنی میں معاون مددگاربنتی جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی وسیع و عریض زمین اس پرتنگ ہوتی نظر آرہی ہے۔نام نہاد مسلم ممالک بھی غلامی کی دبیز چادر اوڑھے ہوئے اپنی اسلام دشمن آقاؤں کی جی حضوری اور کرسی کی بقا کی بھیک ماںگنے میں مصروف نظرآتےہیں۔اس ذلت ونکبت کی اصل وجہ منہاج نبوت سے دست برداری اور کار نبوت سے کنارہ کشی ہے۔ کبھی ہم نےان دونوں خوبیوں سے آراستہ ہوکر جہاں بانی وجہاں گیری کی تھی۔آج ان خوبیوں سے دوری کی وجہ سے ہم محکومانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔
    ہم دنیا میں خلیفہ بن کر آئے۔جب تک ہمارے اندر دونوں صفات تھیں ہم مسند خلافت پر متمکن رہے۔ہمیں امامت بھی ملی اورہم نے قیادت بھی کی۔دنیا کو امن وامان عطاکیا۔دنیا ظلم وجور کی چکی سے نکلی اور عدل وانصاف کے شیریں چشمے سے سیراب اور فیضیاب ہوئی۔
       منہاج نبوت ،اور کارنبوت،ایک مومن کی زندگی کا لازمی جز ہے۔اس ڈگر سے ہٹ کر وہ کبھی کامیاب ہوہی نہیں ہوسکتا ہے۔تمام شعبہائے زندگی اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ایک صالح معاشرے کی تشکیل اس منہج سے ہٹ کر اور کٹ کبھی وجود میں اہی نہیں سکتی ہے۔
      آج کی دنیا مغرب کی ذہنی غلام بنی ہوئی ہے۔اس کے پاس نہ تو منہاج نبوت ہے اور نہ ہی وہ کارنبوت پر عامل ہے۔ سماج ومعاشرہ ہلاکت کے دہانے پر کھڑاہے۔طبیعت شریعت پر غالب ہے۔دین،دنیا کی کامیابی کے لئےچند سکوں میں فروخت ہورہے ہیں۔مسجدیں عالی شان ہیں۔ہر طرح کے رنگ وروغن،قیمتی ماربل اور ٹائلس سے مزین ہیں۔وضو خانے کی حالت بہت اچھی ہے۔موسم کے لحاظ سے گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام بھی ہے۔عمدہ قالین اور جائے نماز بھی بچھے ہیں۔امام اور مؤذن بھی ہیں۔ان کی تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں پر یہ مساجد نمازیوں سے اور ہدایت سے خالی ہیں۔کتاب ہدایت ( قرآن شریف)جزدان میں ملبوس طاق یا اونچی جگہ پر باحفاظت رکھی ہوئی ہیں ۔نہ کوئی اسے چھوتاہے اور نہ ہی کوئی اس کی تلاوت کرتا ہے۔ماضی میں اسی کتاب ہدایت سے ہمارے اکابرین زندگی کی تمام گتھیاں سلجھاتے رہے اور اس میں وہ صد فی صد کام یاب بھی رہے۔ آج ہم کتاب ہدایت سے دور ہوکر اپنی زندگی کے تمام مسائل کو گنجھلک اور لاینحل بنا لئے ہیں۔دین محض نام کا ہی رہ گیاہے اس پر رسومات غالب ہیں۔دین میں روز نئی نئی چیزیں شامل کی جارہی ہیں۔حقوق الله اور حقوق العباد پورے نہیں ہورہے ہیں۔پڑوسی پڑوسی کا دشمن ہے۔بھائی بھائی کا غدار ہے۔رشتے توڑے جاتے ہیں۔دینی علوم عبث اور بیکار سمجھے جارہے ہیں۔عصری علوم کا بول بالا ہے۔جس میں نہ منہج نبوت کا خیال رکھا گیاہے اور نہ ہی کار نبوت کا ۔ایک پیشہ ورانہ سسٹم ہے۔کفروشرک کی تعلیم دی جاتی ہے جومادیت سے پر ہے۔
     دنیا لٹ چکی ہے۔اصل پٹری سے ہٹ چکی ہے ۔اس کی تیز دھار ایک ایسے سمت بہ رہی ہے جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہے۔اسے صحیح سمت دینے اور صحیح منزل پر لے جانے والی قوم ایک ہی ہے جسے منہاج نبوت اور کار نبوت کی عظیم ذمہ داریاں ملیں گرچہ وہ اس ذمہ داری نبھانے سے دست بردار ہوگئی۔اس کے سنگین نتائج سارے عالم کو بھگتنے پڑرہےہیں۔
     محمدعربی صلی الله عليه وسلم،اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔باب نبوت آپ کے بعد بند ہوگیاہے۔آپ صلی الله عليه وسلم نے ٢٣ برس کی مختصرسی مدت میں دنیا کو صحیح سمت عطا کیا۔شجر وحجر کے پجاریوں کو اللہ وحدہ لاشریک کا سچا پرستار بنادیا۔دنیا میں بہتے ظلم وجور کے تمام سوتے بند کردئے۔دشمنوں کو دوست بنادیا۔حیوانیت انسانیت میں تبدیل کردی۔پرائے اپنے نظر آنے لگے۔عفو درگذر کی فضا قائم کردی۔ادائیگی حقوق کا جذبہ دل ودماغ میں مرتسم کردیا۔حق تلفی کا قلع قمع کر دیا ۔عورتوں کو حیا کی چادر عطا کی۔پتمیوں کو سہارا دیا۔بیواؤں کی دست گیری کی۔
   آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط کیا۔ ان کے قلوب کو مجلی ومصفی کیا۔اس پر نبوی رنگ غالب کیا۔ان کے دل ودماغ کو منہاج نبوت اور کار نبوت کے لئے تیار کیا۔ان کی زندگی منہاج نبوت پر صد فی صد کاربند ہوگئی۔اور کار نبوت ان کے رگ وریشہ میں پیوست ہوگئی۔اس کام کو لے کر وہ چلے اور چلتے گئے۔مخلوق کو خالق سے جوڑتے گئے۔
 مخلوق کے دل میں ان کی محبت بیٹھتی چلی گئے۔لوگ ان سے جڑتے گئے۔اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے انہیں امامت،خلافت۔سیادت۔عزتسب عطا کئے۔جہالت اور جاہلیت کازور ٹوٹا۔علم ومعرفت کا چشمہ ابلنے لگا۔کمزوروں کو طاقت ملی۔غم زدوں کو خوشی میسر ہوئی۔گھمنڈوں کی گھمنڈی ختم ہوئی۔تکبر کا خاتمہ ہوا۔ہم دردی،ایثارو قربانی کا جذبہ دل میں موجزن ہوا۔دنیا ظلم وستم  کی بھٹی بنی ہوئی،تھی آن کی آن میں امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئی۔بڑے چھوٹے،اونچ نیچ،امیر غریب،آقا اور غلام کابھید بھاؤ ختم ہوگیا۔اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
     منہاج نبوت اور کار نبوت کی بہ دولت مسلمان ہر شعبہائے زندگی میں بام عروج کو پہونچ گئے۔اس کی نغمگیں فضاؤں نے پورے عالم کو معطر کردیا۔رہزنوں کورہبر بنادیا۔معصوم اور بے قصور بچیوں کے قاتلوں کو ان کا کفیل بنادیا۔بات بات پر لڑنے جھگڑنے والوں کو الفت ومحبت کا جام پلادیا۔
      آج دنیا پھر ایک بار فسادوبگاڑ کے دل دل میں پھنس چکی ہے۔منہج نبوت اور کار نبوت سےدنیاوالے کلیۃ دست بردار ہوگئے ہیں۔دنیاوالوں کو منہج نبوت پر کاربند ہونے اور کار نبوت کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ماہ ربیع الاول کا یہی پیغام ہے۔اسی پیغام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام کیا۔اور لوگ اسی پر چل کے کام یاب ہوئے۔
     مسلم قوم کی ذلت ونکبت اسی وقت دور ہوگی جب وہ اپنی زندگی کو منہج نبوت پر ڈال کر کار نبوت دنیا والوں کو پیش کرے گی۔


Thursday, September 4, 2025

انسانیت کی صبح سعادت اور عالم نو محمد قمرالزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

انسانیت کی صبح سعادت اور عالم نو

 محمد قمرالزماں ندوی
 مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

    آج ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہے ۔مشہور روایت ہے، کہ اسی تاریخ کو آقا مدنی حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیدائش ہوئی، (لیکن صحیح قول کے مطابق ۹/ ربیع الاول بروز پیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش ہے،لیکن اس روایت کو شہرت نہیں ملی،اس لیے اکثر علماء بھی ۱۲ربیع الاول ہی کا تذکرہ کردیتے ہیں)
یہ سب سے مبارک دن ہے،یہ دن مبارک و مسعود کیوں نہ ہو کہ اس دن کی نسبت بہت اونچی ہے،دنیا کا سب سے مبارک اور افضل انسان کی پیدائش کا دن ہے،جس نے اس دنیا کو صحیح ایمان و یقین علم و معرفت اور نئی زندگی عطا کی اور اس دن انسانیت کی صبح نو ہوئی، انسانیت اور آدمیت کی باد بہاری چلنی شروع ہوئی۔ 

بہار 🌱 اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے 
وہ  سب  پود  انہیں کی لگائی ہوئی ہے
 
   آج ہی کے دن اور آج ہی کی تاریخ کو آقائے مدنی *حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم* پیاسی زمین کی سیرابی کے لئے، سسکتی، بلکتی،تڑپتی، دن توڑتی اور مرجھائی انسانیت کو تازہ دم کرنے اور حیات آفریں بخشنے کے لئے، اس دنیا میں تشریف لائے ۔ یہ مہینہ، پوری دنیائے انسانیت کے لئے موسم ربیع اور فصل بہار ہے، کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی بعثت سے پہلے انسانیت پر خزاں، پژمردگی اور بے حسی چھائی ہوئی تھی، ہر طرف ظلم و ستم جور و جفااور زیادتیاں عام تھیں، کون سی برائی تھی، جس کا انسان رسیا اور عادی نہ تھا ۔ 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانیت کا خون خود انسان پی رہا تھا،  *حضرت عیسی علیہ السلام* کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نبوت سے خالی عرصئہ دراز کی وجہ سے شیطان کو موقع ملا مختلف برائیوں اور بے حیائیوں کی راہیں ہموار کیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا برائی میں ڈوب گئی اور خاص طور پر جزیرہ عرب برائیوں اور بے حیائیوں کا اڈہ ، آماج گاہ اور مرکز بن گیا ۔ نفسانیت،حرص و حسد ہوس و نفس پرستی، جھوٹ غیبت دھوکہ دہی ظلم و ستم لوٹ مار قتل و غارت گری شراب نوشی بے حیائی دختر کشی لڑائی جھگڑے جوا قمار اور کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی، جو عرب میں نہ پائی جاتی ہو ، گویا وہ درندوں سے بدتر ہو چکے تھے، اور انسانیت و مانوتا سے دور ہوچکے تھے۔ شرک و بت پرستی کی آخری حد پر یہ لوگ پہنچ گئے تھے، وہ خانئہ کعبہ جس کو حضرت ابراہیم و اسمعیٰل علیھیما الصلوۃ و التسلیم نے ایک خدا کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا، اس کے صحن میں 360/ بت رکھے ہوئے تھے، ہر قبیلہ کا اپنا اک بت اور معبود تھا ۔ جہالت و نادانی کی یہ حالت تھی کہ ہر طاقت ور چیز کو وہ لوگ خدا سمجھ بیٹھے تھے۔  کچھ قبیلے کے لوگ اپنی اولاد کو خرچ کے ڈر سے قتل کردیتے تھے، تو بعض قبیلے نوزائیدہ لڑکیوں کو زندہ در گور کردیتے تھے ۔ *بیت اللہ* جس کا احترام زمانئہ جاہلیت میں بھی سارے لوگ کیا کرتے تھے، اس کی مرکزیت کے باعث دوسرے خطے اور ممالک کے لوگ بیت اللہ اور *حرم محترم* کی زیارت کرنے آتے تھے، یہاں کی بت پرستی اور دوسری تمام برائیوں کا ذھن میں تصور نقش ہوجاتا تھا اور اس کی تقلید کرتے اور اپنے ملکوں اور خطوں میں اس کو رواج دیتے اس طرح وہ برائیاں دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئیں، غرض کم و بیش  بعثت نبوی *صلی اللہ علیہ وسلم* سے پہلے پوری دنیا جہالت اور مختلف برائیوں کی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس طرح ڈوب گئی تھی کہ محسوس ہوتا تھا ، اب روشنی کی قندیل اور شمع یہاں روشن نہیں ہوگی اور نیکی اور صلاح و تقویٰ قصئہ پارنیہ بن جائے گا، تاریخ انسانیت کے کسی دور میں اس طرح کی ناامیدی نہ ہو ۔ بقول حضرت مولانا علی میاں ندوی رح 
چھٹی صدی عیسوی میں انسانیت کی گاڑی ایک ڈھلوان راستے پر پڑ گئی تھی، اندھیرا پھیلتا جارہا تھا، راستے کا نشیب و فراز بڑھتا جارہا تھا، اور رفتار تیز ہوتی جارہی تھی، اس گاڑی پر انسانیت کا پورا قافلہ اور آدم علیہ السلام کا پورا کنبہ سوار تھا، ہزاروں برس کی تہذیبں، اور لاکھوں انسانوں کی محنتیں تھیں، گاڑی کے سوار میٹھی نیند سورہے تھے، یا زیادہ اور اچھی جگہ حاصل کرنے کے لیے آپس میں دست و گریباں تھے، کچھ تنک مزاج تھے، جو جب ساتھیوں سے روٹھتے تو ایک طرف سے دوسری طرف منھ پھیر کر بیٹھ جاتے، کچھ ایسے تھے جو اپنے جیسے لوگوں پر حکم چلاتے، کچھ کھانے پکانے میں مشغول تھے، کچھ گانے بجانے میں مصروف، مگر کوئی یہ نہ دیکھتا کہ گاڑی کس غار کی طرف جارہی ہے اور اب وہ کتنا قریب رہ گیا ہے۔ انسانیت کا جسم تروتازہ تھا، مگر دل نڈھال، دماغ تھکا ہوا تھا، ضمیر بے حس و مردہ، نبضیں ڈوب رہی تھیں اور آنکھیں پتھرانے والی تھیں، ایمان و یقین کی دولت سے عرصہ ہوا انسانیت محروم ہوچکی تھی، توہمات و  خرافات کا پوری دنیا پر قبضہ تھا، انسانیت نے اپنے کو ذلیل کیا تھا، ایک خدا کے سوا سب کے سامنے اس کا جھکنا منظور تھا، حرام اس کے منھ کو لگ گیا تھا۔۔۔

شراب اس کی گھٹی میں گویا پڑی تھی
جوا، اس کی دن رات کی دل لگی   تھی
   بادشاہ دوسروں کے خون پر پلتے تھے، بستیاں خراب، ویران اور اجاڑ کر بستے تھے، زندگی کا معیار اتنا بلند ہوگیا تھا کہ جینا دوبھر ہوگیا تھا، جو اس معیار پر نہ اترے وہ جانور سمجھا جاتا تھا، سب زندگی کی فکروں میں گرفتار اور ظلم و زیادتی سے زار و نزار تھے، پورے ملک میں ایک بندہ ایسا نہیں ملتا، جس کو اپنے پیدا کرنے والے کی رضا مندی کی فکر ہو، یا راستے کی سچی تلاش ہو، غرض یہ نام کی زندگی تھی مگر حقیقت میں ایک وسیع اور طویل خود کشی۔۔ دنیا کی اصلاح انسانوں کے بس سے باہر تھی، پانی سر سے اونچا ہوگیا تھا، معاملہ ایک ملک کی آزادی اور ایک قوم کی ترقی کا نہ تھا، معاملہ پوری انسانیت کی موت اور زندگی کا تھا، سوال کسی ایک خرابی کا نہ تھا ، ، انسانیت کا بدن داغ داغ تھا، دامن تار تار تھا، جو بھی اصلاح کے لیے آگے بڑھتا وہ حالات کی نزاکت کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتا۔۔۔ فلسفی حکیم شاعر ادیب کوئی اس مرد میدان کا نہ نکلا، سب اس وبا کے شکار تھے، مریض مریض کا علاج کیسے کرتے؟ جو خود یقین سے خالی ہو وہ دوسروں کو کس طرح یقین سے بھر دے؟ جو خود پیاسا ہو، دوسرے کی پیاس کس طرح بجھائے،؟؟ انسانیت کی قسمت پر بھاری قفل تھا، اور کنجی گم تھی، زندگی کی ڈور الجھ گئی تھی، اور سرا نہ ملتا تھا۔۔
    نگاہ قدرت ان چیزوں کو دیکھ رہی تھی،اسے اپنے بندوں پر بہت ترس آیا اور کیوں ترس نہ آئے اسے اپنے بندوں سے ہزاروں ماوؤں سے بھی زیادہ پیار اور ممتا ہے،انسان کو اسی طرح راہ حیوانیت پر چھوڑ دینا ان کے شان رحیمی کے خلاف تھا، اس لئے یکایک رحمت الہی میں جنبش ہوئی اور *نبی رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم* کو انسانوں کی ہدایت کے لئے اور انسانوں کو انسان بنانے کے لیے مبعوث فرمایا ۔ مشہور قول ہے کہ آپ کی ولادت ۲۳ اپریل ۵۷۱ عیسوی اور ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی ۔ آپ عام ماحول سے ہٹ کر  پلے بڑھے اور آپ کی تربیت، الہی اور ربانی تربیت تھی ۔ جب *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی عمر عزیز کی چالیس بہارین مکمل ہوگئیں تو اللہ تعالی نے *غار حرا* میں آپ کو *نبوت و رسالت* سے سرفراز کیا ۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے *نبوت و رسالت* کے اس بار گراں کو سنبھالا ۔ انسانوں کو حقیقی انسان بنانے کی ذمہ داری آپ نے قبول کی ۔ امید و بیم کے ساتھ انسانی آبادی کی طرف لوٹے، وفا دار بیوی نے ہر طرح ساتھ دیا ابتدا میں بھی کچھ فدا کار اور جانثار ساتھ ہوئے اور پھر اصلاح و تربیت اور ایمانی انقلاب کا ایسا سفر شروع ہوا کہ راہ حق میں ہزار خوف ناک رکاوٹیں پیدا ہوئیں دعوت و تبلیغ کی مبارک راہوں کو روکنے کے لئے شیطانوں نے وسیع خندق حائل کئے، لیکن پھر اس ایمانی اور نورانی قافلے کو روکنے کی کسی میں ہمت اور طاقت نہ ہو سکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ اور محنت شاقہ اور شب و روز کی جد و جہد کے بعد عرب کے وہ بدو اور ناہنجار  راہ یاب ہوئے، بلکہ رشد و ہدایت  کے آفتاب و ماہتاب بن گئے اور ایسے اصحاب ایمان و یقین بن گئے کہ جن کو دیکھ کر قیامت تک آنے والی نسلیں ضلالت و گمراہی سے نجات پاسکتی ہیں اور ہدایت کے دروازے کو اپنے لئے وا کرسکتی ہیں ۔ 

خود نہ تھے جو راہ پہ اوروں کے ہادی بن گئے 
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

    *ہم* یہ کہہ سکتے ہیں بلکہ پورے یقین و ایمان کے ساتھ کہنا چاہیے کہ اس خدا کی بنائی ہوئی اس کائنات پر جس ذات کے احسانات سب سے زیادہ ہیں وہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی ذات اقدس ہے ۔کیوں کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے بھٹکتی انسانیت کو راہ راست دکھایا، اور آپ ہی کے ذریعہ دنیا کو اللہ کی صحیح معرفت نصیب ہوئی۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی شب روز کی محنت سے انسانوں کی بستی آباد ہوئی انسانیت کو معراج حاصل ہوئی، اور ہر طرح کے فضائل سے اسے آشنائی نصیب ہوئی ۔ آپ کی تعلیمات نے ہر طبقہ کو فائدہ پہنچایا ۔عقیدئہ توحید کی نعمت سے محروم لوگوں کو آپ نے اس نعمت سے سرفراز کیا ۔آپ کی دعوت توحید سے لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کا خوف دور ہوا ،اور نئی قوت، نیا حوصلہ نئی شجاعت، اور نئی  وحدت پیدا ہوئی،اور اسی اللہ کو نافع اور ضار سمجھا جانے لگا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وحدت انسانی کا تصور دیا ورنہ پوری دنیا ٹکریوں میں بٹی ہوئی تھی اور فرسودہ خیالات کی بنا پر چھوٹی چھوٹی ذات و طبقات اور قبیلوں میں وہ بٹے ہوئے تھے ۔ اس کے ساتھ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے انسانوں کواحترام انسانیت کا سبق اور پاٹ پڑھایا ورنہ اس سے پہلے انسانیت کا وجود بالکل بے قیمت،بے حیثیت اور بے وزن ہوکر رہ گیا تھا ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے عرب کے بدوؤں کو تہذیب و تمدن اور اسلامی اور انسانی ثقافت سے آشنا کرایا، اس سے پہلے وہ تہذیب و تمدن اور شائستگی سے نابلد تھے ۔ آپ کی بعثت سے پہلے لوگ اپنے مقصد زندگی سے ناآشنا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے انسانوں کو مقصد زندگی سے واقف کرایا ۔ 
 *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کے وہ احسانات جن سے بنی نوع انسان کو ( لوگوں کو) صحیح اور درست رہنمائی ملی اور جس سے ان کی زندگی میں ایمانی اور نورانی انقلاب برپا ہوا ان کو اختصار سے ہم یوں بیان کرسکتے ہیں :
 صاف اور واضح عقیدئہ توحید 
انسانی وحدت و مساوات کا تصور
انسانیت کے شرف اور انسان کی عزت و سربلندی کا اعلان
عورتوں کی حیثیت عرفی کی بحالی اور اس کے حقوق کی بازیابی
ناامیدی اور بدفالی کی تردید اور نفسیات انسانی میں حوصلہ مندی اور اعتماد و افتخار کی آفرینش
دین و دنیا کا اجتماع اور حریف و برسرجنگ انسانی طبقات کی وحدت
دین و علم کے درمیان مقدس دائمی رشتہ کا قیام و استحکام اور ایک کی قسمت کو دوسرے کی قسمت سے وابستہ کر دینا،علم کی تکریم و تعظیم اور اسے بامقصد مفید اور خدا رسی کا ذریعہ بنانے کی سعی محمود
عقل و شعور سے دینی معاملات میں کام لینے ،فائدہ اٹھانے اور آفاق و انفس میں غور و فکر کی ترغیب
امت اسلامیہ کو دنیا کی نگرانی و رہنمائی، انفرادی  و اجتماعی اخلاق و کردار اور خیالات و نظریات کے احتسابات ،دنیا میں انصاف کے قیام اور شہادت حق کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ کرنا۔ 
  عالمگیر اعتقادی و تہذیبی وحدت کا قیام  (مستفاد نبی رحمت ص ۶۴۴)
  *یہ* خاتم الانبیاء کے امت پر چند احسانات ہیں جن کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ،ورنہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کو شمار کرنے کے لئے  ایک دفتر چاہیے ۔ یہ وہ احسانات ہیں جن کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے ۔
    آج پھر دنیا جاہلیت قدیمہ کی طرف لوٹ رہی ہے، لیکن نئے رنگ و روپ اور نئے آہنگ کے ساتھ ۔ پھر جاہلیت کی روایات کی طرف رواں دواں ہے، جس سے پیارے آقا صادق و مصدوق نے امت کو نکالا تھا ۔آج ضرورت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو زندہ کریں ۔ آپ کے احساسات سے دنیا کو روشناس اور واقف کرائیں ۔ ان پر عمل کریں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ و دعوت کا احیا کریں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے صلوۃ و سلام اور درود کا اہتمام کریں ۔ یہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین قدردانی ہوگی اور ماہ ربیع الاول کے پیغام و پیام کو ماننا سمجھنا اور تسلیم کرنا شمار ہوگا ۔

  اک نام مصطفیٰ ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں 
    ورنہ ہر اک عروج میں پنہاں زوال ہے

 ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم کے شاہکار نعتیہ کلام پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد مصطفیٰ محبوبِ داور سرورِ  عالم
وہ جس کے دم سے مسجودِ ملائک بن گیا آدم

کیا ساجد کو شیدا جس نے مسجودِ  حقیقی پر
جھکایا عبد کو درگاہِ  معبودِ حقیقی پر

دلائے حق پرستوں کو حقوقِ زندگی جس نے
کیا باطل کو غرقِ  موجۂ شرمندگی جس نے 

غلاموں کو سریرِ  سلطنت پر جس نے بٹھلایا
یتیموں کے سروں‌ پر کر دیا اقبال کا سایا

گداؤں کو شہنشاہی کے قابل کر دیا جس نے
غرورِ نسل کا افسون باطل کر دیا جس نے 

وہ جس نے تخت اوندھے کر دئے شاہان جابر کے
بڑھائے مرتبے دنیا میں ہر انسان صابر کے 

دلایا جس نے حق انسان کو عالی تباری کا
شکستہ کر دیا ٹھوکر سے بت سرمایہ داری کا

محمد مصطفیٰؐ مہرِ  سپرِ اَوجِ  عرفانی
ملی جس کے سبب تاریک ذروں‌ کو درخشانی

وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں‌ میں‌
فرشتوں کی دعاؤں‌ میں موذن کی اذانوں میں‌

وہ جس کے معجزے نے نظم ہستی کو سنوارا ہے
جو بے یاروں‌ کا یارا بے سہاروں‌ کا سہارا ہے 

وہ نورِ لَم یزل جو باعث تخلیقِ عالم ہے
خدا کے بعد جس کا اِسمِ اعظم اِسم اعظم ہے

Wednesday, September 3, 2025

کہاں گئے وہ لوگ مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس:جامعة الحسنین صبری پور

کہاں گئے وہ لوگ

مطالعہ نگار:   
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس:جامعة الحسنین صبری پور 

قلم وکتاب کی وسیع ترین دنیا میں مولانا کبیر الدین فاران صاحب مظاہری زید مجدہ کا نام کوئی نیا نہیں ہے،قلم پکڑنے والےقلمکار، کتابوں سے آشنااور مطالعے کے رسیا افراد ان کے قلمی کارناموں سے اچھی طرح واقف ہیں،بات سے بات پیدا کرنے والے منفرد نقش گر مولانا کبیر الدین فاران صاحب تذکرہ نگاری میں بھی اپنے نقوش مزین کرگئے۔
  خاکہ نگاری ایک مشکل موضوع ہے بسا اوقات انسان اپنے ممدوح کی عظمت وفضیلت اجاگر کرنے میں ایسی چیزوں کا ذکر کرجاتا ہے جس سے تحریر کی روح نکل جاتی ہے اسلوب نگارش بھی متاثر ہوجاتا ہے پھر قاری بھی بے کیف ہوجاتا ہے نہ اس کا دل گرماتا ہے نہ آنکھ کو ٹھنڈک پہنچتی ہے،لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ آپ کی تحریر کو پڑھ کر ھل من مزید کی صدا بلند ہوتی ہے،آپ نےجن نادرۀ روزگار و نابغۀ زمن شخصیات پر قلم اٹھایا ہے انہیں اب گردش افلاک پیدا نہیں کر سکتی،آپ کی تحریروں میں چاشنی ، وافر حوصلہ،نوجوانوں کے لئے ایک منزل کی تلاش،صحیح سمت چننے،میدان عمل میں کودنے کی اسپرٹ ہوتی ہے،صاف وششتہ الفاظ، قدیم وبوجھل تعبیرات سے پاک،جدید تعبیرات سے آراستہ، کبھی زبانِ انگلش کو اردو رسم الخط میں لکھ کر کھانے میں نمک تو زیادہ کردیتے ہیں،حسن تعبیر،قوت استدلال اورزوربیان سے اپنی تحریر میں ایک البیلا پن بھی پیدا کردیتے ہیں،مزید یہ کہ ان کی تحریروں میں دل کا سوز بھی ہے اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا کوہ گراں بھی،لیکن امید کا چراغ انہوں نے ہمیشہ روشن رکھا اور اپنے قلم کی سیاہی سے سفید کاغذات کو دامن امید دلائی، اپنے انداز فکر وانداز نگارش میں منفرد ہیں سلیقہ وشگفتگی سے لکھتے ہیں۔
قلمی فضا پر چھا جانے والے مولانا مظاہری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے جب وہ کسی شخصیت پر لکھتےہیں تو تھکتے نہیں، جھجکتے نہیں، ہر پہلو پر اپنے قلم کو جنبش دیتے ہیں،اور تاریکیوں کو کافور کرتے ہیں،ہر شخصیت کی ممتاز اور نمایاں خصوصیات وامتیازات کو شرح صدر کے ساتھ لکھتے ہیں۔
پیش نظر مضامین کے مجموعہ میں مولانا کے قلم نے ان یادگارزمانہ شخصیات کو آئیڈیل بنانے کی کوشش کی ہے جن کے ساتھ آپ کی شب وروز کی داستانیں ہیں،طویل ملاقاتیں اور پیوستہ تعلقات ہیں،جن کو آپ نے پرکھا اور بھانپا،پھر جو دیکھا وہ لکھا،لیکن ایک رنج غم واندوہ کی کیفیت ان کے اوپر سوار ہے کہ کاش یہ ان کی زندگی میں لکھا جاتا تو دنیا زیادہ فائدہ اٹھاتی،ہائے بد قستمی ہماری قوم کسی کے جانے کے بعد اس کی صفات کو سامنے لاتی ہے اس کی حین حیات ہی اس کے قابل التفات کارناموں کو دنیا کے سامنے اجاگر نہیں کیا جاتا۔
ان عباقرۀ زمن شخصیات میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ،مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ،پیرطریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ،محدث عصر حضرت شیخ یونس صاحبؒ،حضرت مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوریؒ، حضرت مفتی عبد القیوم صاحب رائے پوریؒ،مولانا اسماعیل صاحب منوبریؒ،حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ،حضرت مفتی عبد الغنی ازہریؒ کشمیری،حضرت مولانا عبد ﷲ کاپودرویؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ، حضرت مولانا اختر صاحبؒ،حضرت مفتی عبدﷲ رویدریؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمسؒ، حضرت مولانا محمد عباس مظاہریؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب قاسمیؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب مظاہری جھارکھنڈیؒ سے عنایتوں کا اظہار، ان کی جانب سے نچھاور ہونیوالی لازوال شفقتوں، عنایتوں کو محبت کے سمندر میں غرق ہوکر عشق وفدائیت کی مکمل تصویر بن کر اوراق کی زینت بناکر پیش کیا ہے۔
دوسرا باب کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا کے نام سے قائم کیا ہے جس میں ملک کی نامور شخصیات کے کوچ کرجانے پر ان کے پسماندگان واخلاف کے نام تعزیت نامے پیش کئے گئے ہیں جن میں صبر وشکیبائی اور تسلی بھرے الفاظ کے ساتھ ان کی خدمات کو خراج پیش کیا ہے۔
تیسرا باب جنازہ سے متعلق احکامات پر مبنی ہے جس میں تدفین و تکفین کے مشہور مسائل فقہ حنفی کے معروف مراجع سے لئے گئے ہیں اخیر میں مولانا فاران کی دو مشہور کتابوں پر ملک کے مشاہیر قلم کار کے تبصرے بھی ضم کئے ہیں جو مولانا کبیر الدین فاران صاحب نے امید کا چراغ اور پھر مٹی کا چراغ روشن کیا تھا۔ 
کتاب کے شروع میں گجرات کی مردم گر زمین کی مردم ساز شخصیت حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کا مقدمہ اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی دامت برکاتہم کی تقریظ نےچارچاند لگائے ہیں۔
مولانا کے نزدیک زندگی نام ہے جدوجہد کا،کد و کاوش کا،محنت و جانفشانی کا، وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کو سم قاتل گردانتے ہیں۔
بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک پختہ قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین منتظم اور جدید فکر سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مردم سازکی بھی ہےوہ ایک باہمت، حوصلہ مند،راسخ عزم کے مالک،اور ندوی الفکر عالم دین ہیں، انہوں نے اچھی چیز کو لینے میں دست نوازی کو اپنا شیوہ بنایااور وہ مقام ومرتبہ پایا کہ خود دینے والے بن گئے،وہ کسی محفل وبزم میں بیٹھ کر مکمل یگانگت کا احساس کرادیتے ہیں، کام کرنیوالوں کے فدائی وشیدائی بن جاتے ہیں،ان کے قلمی نگارشات سے یہ بات محسوس ہوتی ہے ان کے یہاں جذبۀاحساس کی کارفرمائی موجود ہے اور خاکہ نگاری کا یہ سفر روایت سے جدت کی طرف ہے،اس کتاب کو ان کے جانثار واطاعت گزار بیٹوں نے شائع کیا ہے شائقین اردو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور مطالعہ کریں خوبصورت ودیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ کتاب کی قیمت درج نہیں ہے

تذکرہ قطب افریقہ سلطان العارفین حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

*تذکرہ قطب افریقہ سلطان العارفین حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ* 

مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور 

آج ہمارے مطالعہ کی میز پر ایک ضخیم سوانح "تذکرہ قطب افریقہ حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ "کی حیات پر مشتمل تذکرہ نگاری کا ایک زندہ وجاوید کا رنامہ ہے،جو جیتا جاگتا اور مطالعہ کے لئے مہمیز دینے والا ایک قلمی شاہکار ہے جس کو وہاں کے سابق استاذ تفسیر وادب اور حضرت مولانا متالاؒ کے محب خاص،خطیب دوراں مولانا محمد عابد حسین ندوی ناظم مرکز رحمت ﷲ الکیرانوی کیرانہ نے تالیف کیا ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے اپنی نظر ڈال کر جن نجوم وکواکب کو تیار کیا ان میں ایک حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ زامبیا افریقہ کی شخصیت بھی تھی،جس نے اپنی جگمگاہٹ سے افریقہ کو بقعۀ نور بنایا،آپ کی پوری زندگی اعلاء کلمةﷲ اور کتاب وسنت کی ترویج واشاعت میں گذری اور حضرت شیخ الحدیثؒ کے حکم اور مساعدت پر ایک ایسے علاقہ کو اپنی جدوجہد اور دعوت وعمل کا میدان بنایا،جہاں غیر معمولی محنت وریاضت درکار تھی،لیکن ان کی فکر ولگن،اخلاص وللہیت، مقصد کی تیئں شب وروز ان کی کوشش کو دیکھ کر رب ذوالجلال نے ان کو کامیابی سے ہمکنار کیا،اور وہ ملت اسلامیہ کی عبقری ونابغۀ روزگار شخصیات میں شمار کئے گئے۔
یہ تعلق اور بزرگان دین کی صحبت ورفاقت کا واضح ثبوت ہے کہ تقریبا 9000 کلو میٹر دور بیٹھ کر مولانا قاری محمد عابد حسین صاحب ندوی زید مجدہ اور ان کے برادر عزیز مولانا مفتی محمد ساجد صاحب ندوی مدظلہ نے بڑی عرق ریزی محنت وجانفشانی سے یہ حسین علمی گلدستہ تیار کیا،اور اس مرد مجاہد کی سرفروشانہ زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی،اور ان کی حیات وخدمات پر مشتمل ایک حسین مرقع امت کے سامنے پیش کیا، جس پر وہ حضرت کے علمی خانوادہ اور قلم وکتاب سے تعلق رکھنے افراد کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ 
یہ محبت واحسان اور بزرگوں کی صحبتوں کا بیش بہا بدل بھی ہے کہ ان کی زندگی سے آنیوالی نسلوں کو روشناس کیا جائے، مولانا محمد عابد حسین ندوی اپنے زمانۀ طالب علمی سے ہی زبان وقلم کے رسیا رہے ہیں اور اس وقت ملک کے عظیم خطیبوں میں سے ایک ہیں جیسے خداوند قدوس نے ان کی زبان میں لطافت وچاشنی،روانگی وبرجستگی اور مجمع پر چھاجانے کا ہنر رکھا ہے اسی طرح ان کی تحریریں بھی سلاست وروانی اور معلومات کا خزینہ ہیں یہ ان کے اوپر حق بھی تھا چونکہ آپ حضرت کے 14 سالہ رفیق اور جلوت وخلوت کے بچشم خود شاہد ہیں، اس طویل صحبت ورفاقت کی بدولت ان کا قرب خاص اور اعتماد حاصل کیا۔ کتاب پڑھنے سے تعلق اس لئے بھی رکھتی ہے کہ ایک نوجوان نے اپنے شیخ کی ایماء پر اپنی پوری جوانی، کہولت اور پھر شیوخت تمام عمر تج کردی اور سنگلاخ افریقہ کی وادی میں علم وعمل ایمان وعزیمت کا ایک ایسا قلعہ تعمیر کیا کہ حضرت شیخ الحدیثؒ بھی ان کی محنت وریاضت کی داد دیتے تھے،اور حضرت شیخؒ نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کو خلافت سے سرفراز فرماکر افریقہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے سامنے اپنا محبوب تصور کرایا،وہ حضرت شیخؒ کے بہت خاص معتمد اور رازدار تھے،اور کاتب خاص تھے۔اس بات کی شہادت میرے پاس اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتی۔
 مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ لکھتے ہیں: 
حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ کی شخصیت علم ومعرفت اور صلاح وارشاد کی اعلی صفات پر مشتمل معروف شخصیت تھی، حضرت شیخؒ کی خدمت میں ایک خاصی مدت بہت قربت کے ساتھ گزاری اور حضرت شیخ کی وابستگی ان سے بہت گہری رہی اور ان کو حضرت کا بڑا اعتماد حاصل ہوا۔ملاحظہ ہو 15
بالآخر آپ حبشیوں کے درمیان ایک دیدہ زیب چمن تیار کرکے 9دسمبر 2013 بوقت صبح گردن آسمان کی جانب اٹھائی اور سلام کرتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ 
اب حضرت کی اولاد میں ماشاءاللہ بڑے بیٹے اور آپ کی تربیت کا اعلی نمونہ مولانا عبد الحلیم صاحب متالا دامت برکاتہم ہیں، دوسرے بیٹے جو صورت و سیرت اور گفتار و کردار میں آپ کے بہت زیادہ مشابہ ہیں مولانا عبدالرشید صاحب متالا دامت برکاتہم ہیں،اور تیسرے چہیتے بیٹے مولانا عبدالرؤف صاحب متالا مدظلہ العالی ہیں ایک بیٹی عائشہ پٹیل صاحبہ ہیں جو مولانا زکریا صاحب دامت برکاتہم سے منسوب ہیں۔
کتاب کے شروع میں ملک کے بڑے مدارس وتحریکات کے ذمہ داران، علمی اشخاص۔خاندانی بزرگان کی وقیع،چشم کشاں تحریریں موجود ہیں، ایک تحریر اظہار حقیقت کے عنوان سے مشہور سحر طراز ادیب وقلم کار مولانا سید محمود حسنی ندویؒ کی بھی ہے جو یقینا تاریخ وتصوف سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے راحت کا سامان ہے،ان تحریروں سے کتاب کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے،یہ علمی وسوانحی مرقع چھ باب اور ۲۵۵ صفحات پر مشتمل ہے 
پہلاباب:۷۴ تا ۸۲
تمہید،خاندان،ولادت،
والد ماجداور ابتدائی تعلیم وتربیت۔
دوسراباب: ۸۳تا ۱۱۳
بیعت وسلوک اور تربیت وارشاد۔
تیسرا باب: ۱۱۴ تا ۱۲۷
مختصر تذکرہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ۔
چوتھا باب: ۱۲۸ تا ۱۹۴
تعلیمی۔تربیتی، اصلاحی اور روحانی خدمات۔
پانچواں باب:۱۹۵ تا ۲۱۴ 
نمایاں اوصاف وکمالات اور امتیازی خصوصیات وعادات۔
چھٹا باب:۲۱۵ تا ۲۵۴
وفات،حلیہ،پسماندگان تأثرات مشاہیر ومعاصرین۔
اس حقیقت کو مولانا عابد حسین ندوی مدظلہ کے گھرانہ کے لئے خوش بختی ہی لکھا جائے گا کہ ان کے گھرانہ میں علم وعمل کا چرچہ وشہرہ ہے یہ ان کے والدین یا بزرگان دین کی دعائے نیم شبی کا اثر ہے کہ ماشاءﷲ اکثربھائی عالم اور بہنیں عالمہ ہیں اور ملک کے معروف اداروں میں اعلی خدمات پر فائز ہیں۔
مولانا کے برادر عزیز مولانا مفتی محمد ساجد صاحب ندوی مدظلہ نائب ناظم مرکزالامام رحمتﷲ الکیرانوی نے اپنے لئے سعادت سمجھ کر اس کتاب کوتیار کرنے میں اپنی قلمی معاونت کی اس طور پر وہ بھی لائق تبریک ہیں کہ ان کے ذریعہ یہ تاریخی کام انجام پایا،مواد کی جمع وترتیب ، بزرگوں سے رابطہ اور ان کی تحریریں حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ اور کتاب کی کمپوزنگ و طباعت تک کے جملہ دشوار کن مراحل بحسن و خوبی انجام دئیے،دیدہ زیب ٹائٹل، عمدہ طباعت کے ساتھ دار البحوث والنشر مرکز الامام رحمت ﷲ الکیرانوی کیرانہ شاملی نے اس کو شائع کیا ہے،شائقین علم ومطالعہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور ناسازگار حالات میں کام کرنیکا سلیقہ ان تحریروں کو پڑھ کر حاصل کریں کتاب کی قیمت 170 روپئے رقم ہے

Monday, September 1, 2025

اک مردِ قلندر ہمہ اوصاف یگانہ محمد ذاکر حسین ندوی

پروفیسر صفدر امام قادری کی علمی و ادبی شخصیت پر ایک تازہ مضمون قومی تنظیم، پٹنہ کے شکریہ کے ساتھ پیش خدمت ہے۔
 اک مردِ قلندر ہمہ اوصاف یگانہ
 محمد ذاکر حسین ندوی
عظیم آباد میں چھتیس برس کے قیام کے دوران متعدد علمی و ادبی شخصیتوں سے شناسائی کا شرف حاصل ہوا۔ اِن میںجن شخصیات سے سب سے زیادہ متأثر ہوا، اُن میں صفدر امام قادری کی ذاتِ گرامی سرِ فہرست ہے۔ 1986سے ہی میرے کان اس نام سے آشنا تھے ، لیکن 1993کا کوئی مہینہ، کوئی دن تھا، جب روبرو اُن سے میری پہلی شناسائی ہوئی اور یہ شناسائی کب طویل رفاقت میں تبدیل ہوگئی، پتا ہی نہیں چلا۔ پہلی ہی نظر میں وہ ہمیں ایک ادبی قلندر معلوم ہوئے جن کا علمی و ادبی کشکول جواہر پارے سے بھرا ہوا تھا۔دبستانِ عظیم آباد میں اردو زبان و ادب کے تعلق سے اُس وقت اِن سے زیادہ کوئی بھی شخصیت مجھے موزوں نظر نہیں آئی۔ دبستانِ عظیم آباد جو کبھی بیدل عظیم آبادی کے زورِ بیان اور پاکیزگیِ خیال سے ، کبھی رام نرائن موزوں کی صفائیِ بیان سے ، کبھی راسخ عظیم آبادی کے سوز و گداز اور تصوف سے، کبھی شاد عظیم آبادی کی قادر الکلامی اور نغمہ سنجی سے، کبھی امداد امام اثر کی تحقیقی و تنقیدی کاوشات سے، کبھی فضل حق آزادکی نظم نگاری سے، کبھی قاضی عبد الودود کی مثالی تحقیق سے، کبھی کلیم الدین احمدکی لاجواب تنقید سے، کبھی عطا کاکوی کی غلطیہاے مضامین سے، کبھی جمیل مظہری کے نئے تیور سے ، کبھی رضا نقوی واہی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ، کبھی عبد المغنی اور وہاب اشرفی کی علمی نگارشات سے منوّر تھا اور جن کے وجود سے علمی و ادبی مجلس شاداب رہا کرتی تھی، اب اس میں خلا نظر آنے لگا تھا۔ بات اُن دنوں کی ہے جب قاضی عبد الودود پربہار اردو اکادمی میں سے می نار ہو رہا تھا اور جس میں ہندستان کے جلیل القدر ادبا، محققین اور ناقدین اپنی موجودگی سے چار چاند لگا رہے تھے، اُسی محفل میں ایک ابھرتا ہوا نوجوان جسے قاضی عبد الودود سے والہانہ عقیدت تھی، بطور سامع موجود تھا اور دلچسپ حقیقت یہ کہ قاضی صاحب کے تعلق سے جو مواد دستیاب تھے، اس کا بھرپور مطالعہ کیے ہوا تھا۔ جب مسعود حسین خاں نے قاضی صاحب کے اسلوبِ بیان کے تعلق سے اپنے مقالے میں اعتراضات کیے تو اُس نوجوان کی رگ ِ تنقید پھڑک اٹھی اور برملا اسلوب کے تعلق سے چند ایسے اقتباسات پیش کیے جن کا جواب ماہر لسانیات مسعود حسین خاں سے نہیں بن پڑا۔ وہاب اشرفی صاحب نظامت فرمارہے تھے، انھوں نے جب دوبارہ مسعود حسین خاں صاحب کو جواب کے لیے مدعو کیا تو صدارت فرمارہے عطاکاکوی صاحب نے فرمایا کہ دوسرے مقالہ نگار کو بُلایا جائے، اگر ان کے پاس جواب ہوتا تب نہ اپنی جگہ سے اٹھتے۔ یہ نوجوان کوئی اور نہیں عصرِ حاضر کے ممتاز محقق و ناقد صفدر امام قادری تھے۔ 
اسی تعلق سے ایک سے می نار کا ذکر ناگزیر ہے۔1986ء میں خدا بخش لائبریری میں اردو میں دانشوری کے موضوع پر ایک سے می نار منعقد کیا گیا۔ ہندستان کے ماہرینِ علم و ادب کی شرکت نے اسے ایک وقار بخشا۔ دوران بحث و مباحثہ ظ انصاری پر گفتگو ہونے لگی۔ ان کی تصانیف کے تعلق سے مختلف خیالات پیش کیے گئے، کسی نے ان کی دو درجن کتابوں کا ذکر کیا تو عبد اللطیف اعظمی نے صراحتاً اس کا انکار کیا۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے جو اس وقت خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر تھے، اعظمی صاحب کی تائید کی۔ یہاں پر صفدر امام قادری نے یہ دعوا کر کہ ظ۔انصاری کی پچاس تصانیف ہیں، سب کو چونکا دیا لیکن سارے ماہرین یہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ صفدر صاحب نے عرض کیا کہ یہ سے می نار کل بھی چلے گا، کل مَیں پوری فہرست پیش کروں گا۔ اگلے روز انھوں نے ظ۔انصاری کی چھیالیس کتابوں کی فہرست، جن میں لگ بھگ پچیس کتابیں خدا بخش لائبریری میں موجود تھیں، ماہرین کے سامنے پیش کی۔سب اُن کی دیدہ وری اور علمی لیاقت سے کافی متأثر ہوئے۔ ان دو سے می ناروں سے علمی و ادبی دنیا میں ان کی شہرت عام ہونے لگی۔
صفدر صاحب جو اب تک ایک سامع کی حیثیت سے سے می نار میں شرکت فرمایا کرتے تھے، اردو میں دانشوری اور قاضی عبد الودود سے می نار میں اُن کے علمی تفوق سے متأثر ہوکر 1990کے کلیم الدین احمد سے می نار میں بہار اردو اکادمی نے انھیں بطور مقالہ نگار مدعو کیا۔ اُن کے مقالے کا عنوان تھا: کلیم الدین احمد کی تنقیدات کے سلسلے میں عبد المغنی کی آرا۔ اس سے می نار کے صدارتی پینل میں خود عبد المغنی صاحب کا نام تھا اور پہلے سے ان کو اس سلسلے میں مطلع کردیا گیا تھا، لیکن وہ صفدر صاحب کے مقالے کے بعد سے می نار میں تشریف لائے۔اگر وہ بر وقت تشریف فرما ہوتے تو صفدر صاحب کے پیش کردہ اعتراضات کا جواب دے سکتے تھے، لیکن انھوں نے دانستہ طور پر شرکت سے گریز کیا۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ صفدر کے اعتراضات کے جواب ان کے پاس نہیں تھے۔ اگر ہوتے تو مقالے کی اشاعت کے بعد ضرور اس پر اظہار خیال کرتے، کیونکہ صفدر صاحب نے اپنے مقالے میں عبد المغنی صاحب پر سخت تنقید کی تھی۔ 
اسلاف نے جس خلوص نیتی اور نیک ارادے سے دبستان عظیم آباد کے جڑوں کی آبیاری کی تھی اور جس حسنِ سلیقگی سے اس کی پتّیوں پر چھڑکاو کیا تھا اور جس علمی لیاقت اور ادبی مہارت سے علمی و ادبی مجلسوں کو آباد رکھا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ اُس پر زوال کے اثرات دکھائی دینے لگے تھے۔ قاضی عبد الودود اور کلیم الدین احمد کی ذاتِ گرامی سے دبستان عظیم آباد کا جو وقار بحال ہوا تھا، اُس وراثت کو سنبھالنا، بڑے دل گردے کی بات تھی، ویسے تو بہت سارے دعویدار مل جائیں گے، لیکن حقیقت میں اس وراثت کو سنبھالنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ صفدر امام قادری نے یہ کوشش ضرور کی ہے کہ تحقیق و تنقید میں ان دونوں حضرات کا مکمل تتبع کیا جائے، میری نظر میں اُن کی یہ کوشش کامیاب نظر آتی ہے، جس کے شواہد ہمیں اُن کی تحقیقی و تنقیدی نگارشات میں مل جاتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ صالح ادب کی پذیرائی کی ہے اور جب بھی کوئی تحریر اُن کی نظر سے ایسی گزری جو ادبی معیار پر کھری نہیں اترتی ہے تو اس کا انھوں نے برملا اظہار کیا اور اس معاملے میں چھوٹے بڑے میں کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ صلاح الدین پرویز کے ناول آئیڈنٹٹی کارڈ کو جب ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تو اس ایوارڈ کے جواز کے تعلق سے انھوں نے ایک بصیرت افروز تحریر رقم کی اور ثابت کیا کہ اس ناول سے زیادہ اچھی تخلیق موجود تھی، لیکن اس کو نظر انداز کر اس دوم درجہ کی تخلیق کو ایوارڈ کے لائق سمجھا گیا جو کسی اعتبار سے صالح ادب کی پاسداری نہیں ہے۔اسی طرح وہاب اشرفی کی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ کتاب کے نقائص اور اُن کی جدید ادبی بدعت پر اظہار خیال کرنے سے ذرہ بھر بھی نہیں ہچکچائے۔
پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی ناقدانہ جانب داری پر کچھ اس انداز میں لکھتے ہیں:
 شمس الرحمان فاروقی، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ناوک حمزہ پوری، گوپی چند نارنگ، وارث علوی، سلیم شہزاد اور دیگر ناقدین و محققین کے تعلق سے بھی صفدر صاحب کا وہی انداز نظر آتا ہے جو ان کا خاصّہ ہے یعنی صالح ادب کی پذیرائی اور غیر صالح ادب کی نشاندہی۔ گویا خذ ما صفا و دع ما کدر (اچھی اور صالح چیزوں کو پکڑے رہو اور بُری اور خراب چیزوں کو ترک کرتے رہو) کا کلّیہ اُن کی شخصیت میں مکمل طور سے رچ بس گیا ہے اور یہ چیز اُن کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے، جس کا مظاہرہ اُن کی تحریروں میں ہمیشہ نظر آتا ہے۔
انسانی زندگی تعلیم کے بغیر بھی کٹ سکتی ہے لیکن وہ زندگی سوچنے، سمجھنے اور تحقیق و جستجو کے مزاج سے عاری ہوگی اور علم بغیر تدریس کے وہ منزل نہیں پا سکتا، جس کا حصول ہر ایک کا ہدف ہوتا ہے اور تدریس بغیر تحقیق و جستجو کے وہ مقام حاصل نہیں کر سکتی، جہاں تک رسائی ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔ اس نظریے سے اگر بہار کی یونی ورسٹیوں میں اردو زبان و ادب کی تدریس کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اختر اورینوی نے اپنے زمانے میں اردو درس و تدریس کا عمدہ نظام قائم کیا تھا، جس کے تحت متون پر خاص دھیان دیا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد بڑے لائق و فائق ہوئے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اُن کے بعد اس تدریسی نظام کو برقرار نہیں رکھا جاسکا، پھر رفتہ رفتہ تدریسی نظام میں زوال آنا شروع ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ متون کو پڑھانے کے بجاے نوٹس ؍ گیس پیپر؍ پاسپورٹ پر زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ بہار میں اردو تدریس کی اس صورتِ حال سے صفدر صاحب بخوبی واقف تھے، یہاں بھی انھوں نے پہل کی اور اردو زبان و ادب کے متون کو بنیاد بناکر تدریسی نظام کو درست کرنے کی کوشش کی اور اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے یہ بتانا شروع کیا کہ متون کو پڑھایا کیسے جائے۔ وہ اپنے مضمون ’پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں‘ میں لکھتے ہیں:
’’ہمارے طریقۂ تدریس کا ایک آزمایا ہوا نسخہ یہ ہے کہ کسی موضوع یا شخصیت کے مطالعے کی ابتدا اس کے پس منظر سے کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ادبی، سماجی اور سیاسی اجزا لازماً شامل ہوتے ہیں۔ پریم چند کا پس منظر کیسا ہوگا؟ اسے کئی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اکثر ماہرین سماجی اور سیاسی پس منظر کے تعلق سے بہ تفصیل گفتگو کرتے ہیں۔ جاگیردارانہ سماج، انگریزی سامراجیت، ہندستان کی قومی تحریک، کسانوں کے آندولن، مشترکہ معاشرت، چھوا چھوت، تعلیم کی کمی اور عورتوں کا الگ تھلگ ہونا جیسے اہم سوالات ہیں جنھیں پریم چند کے طالبِ علم کو سب سے پہلے ذہن نشیں کر لینا چاہئے (ذوق مطالعہ، ص۶۰)‘‘۔
اعلا تعلیم کے لیے اُس وقت تک اردو ٹیوشن یا کوچنگ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ خود صفدر صاحب اس کو معیوب سمجھتے تھے، لیکن جب حالات سے نبردآزمائی ہوئی اور اپنے علم کو بچائے رکھنے کا مسئلہ درپیش ہوا تو انھوں نے اس میدان میں قدم رکھا اور اپنی صلاحیت اور دانش مندی سے اس کو ایک ادارہ جاتی شکل عطا کی اور یہی ٹیوشن مشکل گھڑی میں اُن کا تعلیمی مصرف بن گیا۔ جب تک یونیورسٹی کی تقرری میں نِٹ کی لازمیت نہیں تھی، اُس وقت تک یو پی ایس سی اور بی پی ایس سی کے طالب علموں کو اردو کا ٹیوشن دیا کرتے تھے اور جب نِٹ لازم قرار پایا تو پھر اس کا بھی ٹیوشن پڑھانے لگے۔ اس سے اردو کے طالب علموں کو بڑا سہارا ملا اور وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں اردو کو بطورِ مضمون اپنانے لگے اور انھیں کامیابی بھی ملتی رہی۔اردو کے تعلق سے صفدر صاحب کا یہ اقدام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا کہ جس کے ٹیوشن یا کوچنگ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا، اس کو احسن طریقے سے انجام دے کر ایک اچھی مثال قائم کی۔ اس میدان میں اوّلیت کا سہرا انھیں کے سر جاتا ہے۔
علم و ادب صفدر صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہے، جب بھی اُن کے دولت کدے پر جانے کا اتفاق ہوا، ہمیشہ طالب علموں کی ایک جماعت موجود ہوتی اور پڑھنے پڑھانے، لکھنے لکھانے کی ہی باتیں سُننے میں آتیں۔طالب علموں کو وہ بڑی شفقت اور بڑے اخلاص سے درس دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ طلبہ اُن کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔طالب علموں کو صرف درس ہی نہیں دیتے بلکہ کیریر کے تعلق سے مفید مشورے بھی دیتے ہیں اور اُس راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ طالب علموں کو چاق و چوبند،چست درست اور حاضر دماغ رکھنے کی غرض سے علمِ زندگی سے بھی واقف کراتے رہتے ہیں تاکہ عملی زندگی میں اُن کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہ آنے پائے۔ قدیم زمانے کے اساتذۂ کرام کی بے لوثی کے جو قصے کتابوں میں پڑھتے ہیں، کسی نہ کسی حد تک اُس کا نمونہ صفدر صاحب کی ذاتِ گرامی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں اس کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اعتبار سے باصلاحیت طالبِ علم جے این یو، جامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر مرکزی یونیورسٹیوں میں چلے جاتے ہیں۔ بہار کے حصے میں وہ طلبہ آتے ہیں جو تعلیمی پسماندگی کے شکار ہوتے ہیں۔ بہار کے ان طلبہ کو اچھی مرکزی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے مقابل تیار کرنا اور تعلیمی خود اعتمادی پیدا کرنا، اپنے آپ میں بڑا کارنامہ ہے اور ایسے ہی کارنامے صفدر صاحب کی خصوصیات میں شامل ہیں۔
علم و ادب سے تعلق رکھنے والوں سے بھی صفدر صاحب کا تعلق بہت گہرا ہے اور اس معاملے میں اُن کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ علم وادب کی محفلیں اور نشستیں آراستہ کرنا اور دوست احباب کو اُس میں شرکت کرنے کے لیے مدعو کرنا، اُن کا محبوب مشغلہ ہے۔ ایسی بہت ساری محفلوں اور نشستوں کا یہ ناچیز گواہ ہے۔ ان نشستوں میں اُن کی ایک عجیب ہی شان نظر آتی ہے؛ نشست کی نظامت خود کرتے ہیں اور بعد از نشست خود اپنے ہاتھوں سے پُر تکلف کھانا پروستے ہیں حتی کہ کھانا بھی اپنی نگرانی میں پکواتے ہیں۔ الغرض ایسے موقع پر چاروں دِشاؤں میں اُن کا دماغ چلتا رہتا ہے۔ 
علم و ادب اور درس و تدریس کے ساتھ صحافت اور کالم نگاری بھی صفدر صاحب کا محبوب مشغلہ ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں:’’صحافت میرے لیے پہلی محبت رہی ہے۔ عاشقانہ قصوں میں یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ پہلی محبت بُھلائی نہیں جا سکتی۔موت تک رہ رہ کر ایک ہوک سی اٹھتی رہتی ہے۔ اس لیے ادب اور تدریس میں سر سے پا تک مشغول ہو جانے کے باوجود اس پہلی محبت کی ہی یہ طاقت ہوگی کہ میں وقفے وقفے سے صحافت کے صحرا میں چلا آتا ہوں اور اس صحرا نوردی کے نتیجے میں حاصل شدہ آبلہ پائی کے فیضان سے خود آراستہ کرکے تازہ دم ہوتا رہتا ہوں‘‘۔ (عرض داشت، ص۲۳)۔ اس پہلی محبت کا ثمرہ ’’عرص داشت: صفدر امام قادری کے کالموں کا انتخاب‘‘ کی صورت میں منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اس کے گل بوٹے؛ انسانی زندگی: کوئی پرسانِ حال نہیں، عوامی زندگی کا سناٹا، بے سمت حکومتیں، اقوامِ عالم: مسئلے یہاں بھی ہیں، ملازمت: سست گام اقتدار، اردو: تہذیبی پیغامِ رساں، اردو تعلیم: غور و فکر، اردو ادارے: مسائل اور احتساب، سیاست: اقتدار اور ذمہ داریاں، خاکی سیاست کی مورچہ بندی، وراثت بالآخر ہار، غیر فرقہ وارانہ سیاست کا آخری مہم جو، حکمت عملی کا حساب کتاب، بے خبر سیاست: مفاد پرستوں کا قبضہ، کھیل اور کھلاڑی، کھوئے ہوؤں کی یاد، فکری جمود کو توڑنے کی کوشش، اردو سیاست، اہلِ ایمان کا تذبذب جیسے موضوعات کی صورت میں ہمیں اپنے سحر میں لے لیتے ہیں اور سماج و معاشرے کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کی دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ صفدر صاحب کے کالموں میں حالاتِ حاضرہ جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ شعبہ ہاے حیات میں جہاں کہیں بھی انھیں کمی دکھائی دیتی ہے اور انھیں اصلاح اور سدھار کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اُن کے قلم میں تحرک پیدا ہوجاتا ہے اور حقیقتِ حال کی سیاہی کو سیاہ رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں مرکزی حکومت کی طرف سے چند سیاسی لیڈروں کو بھارت رتن دینے کا اعلان ہوا ہے۔ اس کے پس پردہ جو منصوبے وضع کیے گئے ہیں، اس کی پردہ داری کرتے ہوئے اخیر میں اُن کی تمنا ہے کہ : ’’خدا کرے ان اعزازات کی پیش کش میں شفافیت اور پروفیشن لیزم آئے اور کھلے طور پر یہ فیصلہ ہو کہ سرگرم سیاست میں رہنے والے افراد کو اس فہرست سے بہ ہر طور باہر رکھا جائے ورنہ اعزازات صاحبِ اعزاز اور حکومت دونوں کے لیے کلنک کا ٹیکا ثابت ہوں گے‘‘۔ (بھارت رتن اور ووٹوں کا جتن: یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟ ، انقلاب، پٹنہ، ۱۱؍ فروری ۲۰۲۴ء)۔
صفدر صاحب کو علم کی قدردانی اور ادب کی پاسداری بخوبی نبھانی آتی ہے اور اس کی خبر گیری بھی کرتے رہتے ہیں کہ اُن کے متعلقین کی ادبی پیش رفت کیا ہے۔ بار بار تقاضا بھی ہوتا رہتا ہے کہ انجماد کی کیفیت ختم کی جائے کیونکہ اللہ تعالی نے لکھنے پڑھنے کی جس نعمت سے نوازا ہے، اس کی ناقدری پر سوال بھی ہوگا۔ اللہ تعالی نے آپ کو جس نعمت سے سرفراز کیا ہے، اس کا اظہار اور امتنان بھی ضروری ہے کیونکہ من لا یشکر الناس لا یشکر اللہ (جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکریہ ادا نہیں کرے گا) ہم سے یہی مطالبہ کرتا ہے۔اُن کے اسی انداز تحریک سے میں نے بارہا انجماد کی چادر کو اُتار پھینکا ہے۔ جب بھی لکھنے پڑھنے سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ جاتا بہت کچھ ہے اور آتا کچھ نہیں۔ ایسے میں صفدر صاحب کی ضربِ کلیمی ایک تحرک پیدا کردیتی ہے۔ ابھی ایک سال پہلے کی بات ہے جب مارچ ۲۰۲۲ء میں اردو صحافت کی دو صدی تقریبات کے انعقاد کا پروگرام وضع کیا جا رہا تھا تو انھوں نے راقم الحروف کو صحافت کی کتابیات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی اور جب یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا تو انھوں نے بہتوں کی طرح کوئی کنجوسی نہیں کی اور نہ ناک بھوں چڑھائی بلکہ کھل کر اعتراف کیا کہ:
’’یہ کتابیاتِ صحافت اپنے اندر اردو صحافت کی تاریخ سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے معلومات کا ایک ایسا ذخیرہ ہے جہاں سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لَوٹ سکتا۔کلیدی موضوعات اور اُن کی پیش کش یا ترتیب میں مرتِّب نے ہر قدم پرپڑھنے والوں کی سہو لتوں کا خاص خیال رکھا ہے۔ موضوع وار اور مصنف کے نام کی بنیاد پر تلاش کرنے کے لیے جتنی آسانیاں شامل کی جا سکتی تھیں، وہ مصنف نے اِ س میں اپنے آپ داخل کر دی ہیں۔اِس کتابیات کے مطالعے کے بعد پڑھنے والوں کو ہزار نئے موضوعات ملیں گے اور تحقیق کی نئی راہیں کھُلیں گی۔جن موضوعات کے تعلق سے تحقیق کار یہ سمجھتے تھے کہ اب اِن باتوں کے لیے کوئی نئی دریافت ممکن نہیں یا تحقیقی مواد ہی دستیاب نہیں ہے؛ اِ س کتاب کے بعد علم کا یہ اندھیرا چھَٹ جائے گا اور وہ فرحت بخش استعجاب میسّر آئے گا کہ ہمارے کتب خانوں میں علم و فن کی کتنی شاداب فصلیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔ ہند و پاک میں اردو صحافت کے محققین کے لیے یہ کتاب ایک لازمی دستاویز ثابت ہوگی، اس کا مجھے یقین ہے‘‘۔ (صحافت: کتابیات، ص ۲۷۔۲۸)۔
 اسی طرح جب میں نے کلام حیدری اور الیاس احمد گدی کے خطوط کی روشنی میں عبد الصمد کے ناول ’’دو گز زمین‘‘ پر اپنی تحقیق پیش کی تو انھوں نے ادبی مصلحت کو درکنار کرتے ہوئے اس کا بیش قیمتی مقدمہ لکھا۔
مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ صفدر امام قادری ایک مردِ قلندر ہیں، جن کے ہمہ اوصاف یگانہ ہیں، تو مبنی بر حقیقت ہوگا اور اس میں کسی طرح کی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی اور مجموعی طور پراُن کی شخصیت کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ:
یادوں کے حوالے سے وہ ہر دل کا مکیں ہے
فرخ وہ زمانے کے لیے ایک نگیں ہے

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...