Translate

Tuesday, July 29, 2025

بہار میں این آر سی کی طرف بڑھتے قدم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

بہار میں این آر سی کی طرف بڑھتے قدم

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 


26/جون 2025ء کو الیکشن کمیشن نے بہار میں رائے دہندگان کی فہرست (ووٹر لسٹ) پر نظر ثانی کے لئے جو شرائط و قیود رکھے ہیں،وہ عجیب وغریب ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ الیکشن کمیشن خودمختار نہیں بلکہ حکومت ہندکی ایجنسی کے طور پر کام کررہی ہے،اس نے اسمبلی انتخاب سے قبل ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کااعلان کردیاہے،اس کے تحت رائے دہندگان کو اپنی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کی تصدیق کے لئے گیارہ منظور شدہ دستاویزات میں سے ایک جمع کرانا ہوگا ان گیارہ میں آدھار کارڈ،پین کارڈ اور راشن کارڈ نہیں ہیں،رائے دہندگان کو الیکشن کمیشن نے تین حصوں میں تقسیم کیاہے،یکم جولائی 1987ء سے پہلے پیداہونے والے کو صرف اپنے کاغذات جمع کرنے ہوں گے بشرطیکہ2003ء میں ان کا نام رائے دہندگان کی فہرست میں درج ہو،اس کے لئے 2003ءکی کاپی فارم کے ساتھ داخل کرناضروری ہوگا،جن سالوں کو معیار بنایا گیاہے اس کی کوئی وجہ نہ تو الیکشن کمیشن نے سمجھایا ہے اورنہ ہی یہ لوگوں کی سمجھ میں آرہاہے،ان سالوں میں کوئی خاص بات رائے دہندگان کے حوالہ سے نہیں ہوئی ہے،1947ء یا1972ء کو معیار بنایا جاتاتوکچھ بات بات عقل میں آتی۔
یکم جولائی 1987ء سے 2/دسمبر 2004ء کے درمیان پیداہونے والوں کو اپنے والدین میں سے کسی ایک کے کاغذات جمع کرنے ہوں گے اور 2/دسمبر 2004ء کے بعد پیداہونے والے کو ماں،باپ دونوں کے کاغذات جمع کرانے ہوں گے۔اس سلسلے میں متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ اس حکم کو الیکشن کمیشن نے واپس نہیں لیاہے اور معاملہ سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ 32 کے تحت مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر داخل کیاگیاہے حزب مخالف کی تمام پارٹیوں نے اس کے خلا ف اپنا احتجاج درج کرایا ہے اور 9/جولائی کواس حکم کے خلاف عظیم اتحاد کی طرف سے بہار بند رہا۔
یہ ہنگامہ یوں ہی نہیں ہے الیکشن کمیشن کایہ حکم دفعہ (A)(1)14،19,دفعہ 325 اور دفعہ 328 کی عملی خلاف ورزی ہے،اس سے بڑی تعداد میں لوگ حق رائے دہی سے محروم ہوجائیں گے،ایسا ملک میں پہلی بار ہورہاہے کہ جنہوں نے پہلے کئی بار اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیاہے،2024ء کے پارلیمانی انتخاب میں ووٹ دیاہے،اسے بھی اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے کہا جارہاہے؛ حالانکہ ووٹر لسٹ میں نام جوڑنے کاعمل صرف RER ،960 کے ضابطہ (A) 21 اور ضابطہ 3 کے تحت فارم 7 بھرنے کے ذریعہ ہی کیاجاسکتاہے،الیکشن کمیشن نے جو حکم نامہ جاری کیاہے اس کاذکر R326 ایکٹ کی کسی شق میں موجود نہیں ہے،ہندوستان 1947ء میں آزاد ہواتھا تو پھر 1987ء اور 2004ء میں پیدا ہونے والوں کو کیوں نشانہ بنایا جارہاہے۔
بہار کے بعد بنگال میں 2026ء میں انتخابات ہونے ہیں اس لئے الیکشن کمیشن نے وہاں اگست 2025ء سے ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے لئے اسی قسم کی ہدایات جاری کی ہیں؛ چوں کہ مرکزی حکومت پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنا چاہتی ہے باری باری ساری ریاستوں کی باری آنی ہے اور ہندو مسلمان سبھی اس کے زد میں آئیں گے یہ معاملہ صرف مسلمان کانہیں سارے ہندوستانی شہریوں کاہے،الیکشن کمیشن کے ان اقدامات سے بہت سارے رائے دہندگان حق رائے دہی سے محروم ہوجائیں گے،خصوصاً قبائلی دلت اور خانہ بدوش لوگ اس کی زد میں آئیں گے،ان علاقوں کے لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے جو ہرسال سیلاب کی زد میں آتے رہتے ہیں اور جن کاسب کچھ پانی کی روانی میں بہہ جاتاہے۔
امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ،جھارکھنڈ اور مغربی بنگال نے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت و رہنمائی میں اس موضوع پر کام شروع کردیاہے اور فوری طور پر بہار میں ووٹر تصدیقی مہم کو روکنے کامطالبہ کیاہے؛تاکہ ملک میں دوسری جگہوں پر ملازمت کرنے والے اوردوسرے ملکوں میں بود وباش والے لوگ رائے دہندگی سے محروم نہ ہوجائیں اس سلسلے میں امارت شرعیہ نے تفصیلی ہدایت نامہ بھی جاری کردیاہے جس میں فارم کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات جمع کرنے کی بھی بات کی گئی ہے،عدالت عظمیٰ نے 10/جولائی کو اس پر سماعت کرتے ہوئے عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے؛تاہم الیکشن کمیشن کو یہ صلاح بھی دیا ہے کہ وہ راشن کارڈ،ووٹر آئی ڈی اور آدھار کارڈ کو بھی شہریت کے لئے تسلم کرنے پر غور کرے،اس کی اگلی سماعت 28/ جولائی کو ہوگی۔
جن دستاویزات کو الیکشن کمیشن نے درست رائے دہندہ ہونے کے لئے تسلیم کیاہے وہ گیارہ ہیں، ان میں پیدائش سرٹیفکٹ،میٹرک یاکسی تعلیمی ادارے کی سند، ایل آئی سی یا حکومتی اداروں سے جاری کردہ شناختی کارڈ،پاسپورٹ،مستقل رہائش کا سرٹیفکٹ،ذات پر مبنی سرٹیفکٹ، زمین مالکان کو الارٹمنٹ کا سرکاری حکم نامہ،نیشنل رجسٹر آف سٹیزن وغیرہ شامل ہیں، جن حضرات کے پاس یہ دستاویزات ہیں ان کے لئے مزید کسی کاغذ کی ضرورت نہیں ہوگی اور جن کے پاس نہیں ہیں ان میں سے کسی ایک کو ضرور بنوا لینا چاہئے؛ تاکہ وقت پر کام آئے البتہ خوف وہراس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے امارت شرعیہ اپنے ترجمان ہفت روزہ نقیب اور دیگر اخبارات کے ذریعہ رہنمائی کرتی رہے گی۔

Monday, July 14, 2025

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ چودہ معاون طریقے تحریر:Leo Babautaترجمہ:نایاب حسن قاسمی

مطالعے کی عادت کیسے ڈالیں؟ 
چودہ معاون طریقے 

تحریر:Leo Babauta

ترجمہ:نایاب حسن قاسمی

”مطالعے کی عادت آپ کے لیے زندگی کی تمام مشکلات اور غم وفکر سے دورایک محفوظ پناہ گاہ تعمیر کردیتی ہے“۔(سمرسٹ ماہم)
معمول کی زندگی میں بہت سے لوگ آئے دن اپنے لیے کوئی نہ کوئی ہدف مقررکرتے رہتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ وہ اس ہدف کے تئیں کتنے سنجیدہ ہوتے اور اگر سنجیدہ ہوتے ہیں،تو وہاں تک پہنچ پاتے ہیں یانہیں۔دیگر اہداف کی طرح بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا بھی ہدف بناتے ہیں اور یہ ایک سچائی ہے کہ ایک بہترین کتاب بڑی حد تک اطمینان بخش ہوسکتی ہے،وہ آپ کو آپ کی روزمرہ پہنچ سے بہت دور کی باتیں اور چیزیں سکھاسکتی ہے،آپ کے سامنے ماضی قریب یا بعید کی ایسی شخصیات کو لاکھڑا کرسکتی ہے،جنھیں آپ اپنے پاس، اپنے قریب محسوس کریں گے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھناچاہیے کہ اگرآپ کے پاس کوئی اچھی کتاب (جوآپ کو بھی اچھی لگتی ہو)دستیاب ہے، تواسے پڑھنے کا عمل نہایت ہی لطف انگیزاور مزے دار ہوتاہے؛لیکن اگر آپ کوئی بیکارسی،بورنگ یا بہت مشکل کتاب لے کر بیٹھے ہیں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بس ایک معمول پورا کررہے ہیں۔اگر لگاتار کئی دن تک آپ کو اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے،توبہتر یہ ہے کہ آپ کتاب بینی کا چکر چھوڑیں اور کسی ایسے کام میں لگیں،جو آپ واقعی کرنا چاہتے ہیں اورآپ کو اس کام سے محبت ہے۔اگر معاملہ اس کے برعکس ہے،تو پھر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت کوراسخ اور پختہ کرنے کے لیے درجِ ذیل طریقوں پر عمل کریں:
1-وقت متعین کریں:
آپ کے پاس روزانہ مختلف اوقات میں کم سے کم ایسے پانچ یا دس منٹ ہونے چاہئیں،جن میں آپ مطالعہ کرسکیں۔ آپ کو اس متعینہ وقت میں روزانہ ہر حال میں مطالعہ کرنا ہے۔مثال کے طورپر آپ اگر اکیلے کھانا کھارہے ہوں،توناشتے، دن کے کھانے یا رات کے کھانے کے دوران مطالعے کا معمول بنالیں،اسی طرح اگر آپ سفر کے دوران یا سونے سے پہلے بھی پڑھنے کا معمول بنالیں،تو اس طرح آپ کے پاس مطالعے کے لیے دن بھر میں چالیس یا پچاس منٹ ہوں گے۔اس طرح ایک بہترین شروعات ہوسکتی ہے،پھر روز بروز خود ہی اس میں تیزی بھی آتی جائے گی،مگر آپ اس سے بھی زیادہ کرسکتے ہیں۔
2-ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں:
آپ جہاں بھی جائیں،اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھیں۔میں جب بھی گھر سے نکلتاہوں،تو یہ اچھی طرح چیک کرتاہوں کہ میرے پاس میرا ڈرائیونگ لائسنس، چابی اور کم سے کم ایک کتاب ہے یانہیں۔کارمیں بھی کتاب میرے ساتھ رہتی ہے،آفس میں بھی،کسی سے ملنے جاؤں توبھی؛بلکہ جہاں بھی جاتاہوں تو کتاب ضرور ساتھ لے جاتا ہوں،الایہ کہ ایسی جگہ جاؤں،جہاں کتاب پڑھنا قطعی مشکل ہوتا ہے۔اگر آپ کہیں گئے اور وہاں کسی کا انتظار کرنا پڑرہاہے،تو آپ کے پاس وقت ہے،اتنے وقت میں آپ کتاب نکالیں اور پڑھنا شروع کردیں،یہ انتظار کے لمحات گزارنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ 
3-کتابوں کی ایک فہرست بنالیں:
آپ جن کتابوں کو پڑھنا چاہتے ہیں،ان کی ایک فہرست بنالیں۔اس فہرست کو آپ کسی میگزین،ڈائری، موبائل، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ وغیرہ کے ہوم پیج پر رکھ سکتے ہیں۔پھر جب بھی آپ کو کسی اچھی کتاب کے بارے میں پتا لگے،تو اس کانام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیجیے،فہرست رکنی نہیں چاہیے،جب اس میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے نشان زد کردیں۔
4-ٹکنالوجی کا استعمال:
اپنی کتابوں کی فہرست کے لیے جی میل کا استعمال کریں اور جب بھی کسی اچھی کتاب کے بارے میں سنیں،تو اس کا ایڈریس میل کردیں۔اب آپ کا ای میل ہی آپ کی ریڈنگ لسٹ ہوگا۔جب آپ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ لیں،تو اسے Done کردیں، اگر آپ چاہیں تو متعلقہ کتاب کے تعلق سے اپنا تبصرہ بھی اسی میسج کو رپلائے کرسکتے ہیں، اس طرح آپ کا Gmail accountآپ کا مطالعہ رجسٹر بھی ہوجائے گا۔
5-پرسکون جگہ تلاش کریں:
گھر میں کوئی ایسی جگہ تلاش کریں،جہاں آپ اطمینان کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کربغیر کسی کی دخل اندازی کے کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔عام حالات میں لیٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے،الایہ کہ آپ سونے جارہے ہوں۔آپ کے آس پاس ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہو کہ آپ کی توجہ بٹ جائے، گانے کی آواز، گھر کے لوگوں یارفقاے کمرہ کا شوروشغب بھی نہ ہو۔اگر آپ کو ایسی جگہ میسر نہ ہو،تو پڑھنے کے لیے ایسی جگہ بنانے کی تدبیر کیجیے۔
6-ٹی وی/انٹرنیٹ کا استعمال کم کریں:
اگر آپ واقعی زیادہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں،تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال کم کردیجیے،یہ بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہوسکتا ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ منٹ جو آپ ٹی وی یا انٹر نیٹ سے بچائیں گے،وہ پڑھنے میں استعمال ہوسکتا اور اس طرح آپ کے مطالعے کا مجموعی دورانیہ کئی گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
7-بچے کے سامنے پڑھیں:
اگر آپ صاحبِ اولاد ہیں،تو آپ کو ضروربالضرور ان کے سامنے پڑھنا چاہیے۔اگر آپ بچوں میں ابھی سے پڑھنے کی عادت ڈالیں گے،تویقینی طورپر وہ بڑے ہوکر پڑھنے والے بنیں گے اور یہ عادت ان کی کامیاب زندگی کا سبب بنے گی۔بچوں سے متعلق کچھ اچھی کتابیں منتخب کریں اور انھیں پڑھ کر سنائیں۔اس طرح آپ خود اپنی مطالعے کی عادت کو بھی بہتر بنائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بہتر وقت بھی گزار سکیں گے۔
8-ایک رجسٹر رکھیں: 
کتابوں کی فہرست کی طرح آپ کے پاس ایک رجسٹر بھی ہونا چاہیے، جس میں صرف کتاب اورمصنف کانام نہ ہو؛بلکہ آپ نے کب مطالعہ شروع کیا اور کب ختم کیا،وہ تاریخ بھی اس رجسٹر میں درج کرنے کی کوشش کریں۔بہتر یہ بھی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے متعلق آپ کی کیارائے ہے،وہ بھی اس رجسٹر میں لکھیں۔اگر ایسا کرتے ہیں،تو چند ماہ بعد جب آپ اس رجسٹر کو دیکھیں گے اوراس میں مذکور مطالعہ کردہ کتابوں،مصنفوں کے نام اور ان کتابوں سے متعلق اپنے تاثرات دیکھیں گے،تو ذہنی و قلبی طورپرآپ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی و مسرت حاصل ہوگی۔
9-مستعمل کتابوں کی دکان پر جائیں:
میری سب سے پسندیدہ وہ جگہ ہے،جہاں رعایت کے ساتھ کتابیں ملتی ہیں،میں اپنی پرانی کتابیں وہاں چھوڑ دیتاہوں اور وہاں سے بہت ہی کم قیمت پر بہت سی کتابیں حاصل کرلیتا ہوں۔میں ایک درجن یا اس سے زیادہ کتابوں پرعموماً صرف ایک ڈالر خرچ کرتا ہوں،اس طرح کم خرچ میں زیادہ کتابیں پڑھ لیتاہوں۔وہاں بعض دفعہ خیرات کی ہوئی نئی کتابیں بھی مل جاتی ہیں،پھر مزا آجاتاہے؛لہذا آپ کو مستعمل کتابوں کے سٹور کا چکر پابندی سے لگانا چاہیے۔
10-ہفتے میں کم سے کم ایک دن لائبریری جائیں:
مستعمل کتابوں کی دکان پرجانے سے بھی سستاسودایہ ہے کہ آپ ہفتے میں ایک دن لائبریری کا چکر لگالیں۔
11-مطالعے کو پرلطف بنائیں:
پڑھنے کے لیے آپ دن بھر کا اپنا سب سے پسندیدہ وقت مختص کریں، مطالعے کے دوران چائے یا کافی یا کوئی اور ہلکی پھلکی کھانے پینے کی چیز ساتھ رکھیں۔اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں۔طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت یاBeach پربیٹھ کرپڑھنے کا الگ ہی مزاہے۔
12-بلاگ لکھیں:
آج کل کسی بھی کام کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے بلاگ پر درج کریں۔اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے،تو بنائیں،مفت میں بن جاتا ہے۔آپ کے جاننے والے یا فیملی میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اسے دیکھیں گے اور آپ کو کتابوں کے سلسلے میں اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔اس طرح آپ کے اندر اپنے مقصد کے تئیں احساسِ ذمے داری پیدا ہوجائے گا۔
13-ایک اعلیٰ ہدف بنائیں:
اپنے دل میں سوچ لیں کہ سال بھر میں اتنی(مثلاً پچاس یا سو)کتابیں پڑھنی ہیں،پھر اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کی تدبیر کریں۔البتہ یہ ضروری ہے کہ پڑھنے میں آپ کو ذہنی سکون مل رہاہو اور مزا آرہاہو، بوجھ یا روٹین سمجھ کر مطالعہ کرنا لاحاصل ہے۔
14-ایک دن یاایک گھنٹہ برائے مطالعہ مختص کریں:
اگر آپ شام کے وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ کو آف کردیں،تو آپ کے پاس کم سے کم ایک گھنٹہ ایسا ضرور ہوگا،جس میں آپ؛بلکہ آپ کے تمام گھر والے ہر رات مطالعہ کرسکتے ہیں۔آپ ہفتے میں کسی ایک دن کوبھی عملی طورپر صرف پڑھنے کے لیے خاص کرسکتے ہیں،یہ نہایت ہی مزے دار عمل ہوگا۔

(مضمون نگارانگریزی کے معروف بلاگراورZen Habitsکے بانی ہیں)
محترم جناب نایاب حسن صاحب کی وال سے.

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...