Translate

Monday, March 8, 2021

طاقت کا نشہ

 مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

رفیق دار عرفات، تکیہ کلاں، رائے بریلی


نشہ آور اشیاء ہر سماج میں ناپسندیدہ ہیں، نشہ کا انجام نہایت مہیب ہے اور نشہ کا چسکا انتہائی مضر! اشیائے خوردنی کا نشہ ہڈیاں گلاتا ہے، مہلک بیماریاں بناتا ہے،دماغ کو مفلوج کرتا ہے، معدہ کو تباہ کرتا ہے، اعصاب کو متاثر کرتا ہے، جسم میں زہریلے مادے پھیلاتا ہے اوربالآخر گھربار تباہ کردیتا ہے۔ نشہ زندگی کی ضد ہے، زندگی پرواز چاہتی ہے اور نشہ تنزلی، زندگی ہمسایے چاہتی ہے اور نشہ بے گانے، زندگی آبادی چاہتی ہے اور نشہ بربادی، زندگی عزت چاہتی ہے اور نشہ بے عزتی، زندگی اعلیٰ معیار چاہتی ہے اور نشہ ادنی معیار، زندگی بلند عزائم چاہتی ہے اور نشہ فقط ایک کش!

دنیا میں نشہ کی مختلف اقسام اور متعدد شکلیں ہیں، جن میں نشہ کی ایک قسم ’’طاقت کا نشہ‘‘ بھی ہے، طاقت کا نشہ دنیا کے سبھی نشوں سے زیادہ خطرناک، مہلک اور تباہ کن ہے، اس کا فلسفہ سب سے الگ اور مضرات نہایت سنگین اور بہت ہی گہرے ہیں۔

طاقت فی نفسہٖ شیٔ محمود ہے، تاہم نشہ ہراس چیز کا حرام ہے جو انسان کے اندر سے انسانیت کا عنصر ہی چھین لے، طاقت کا وجود ظلم مٹاتا ہے مگر طاقت کا نشہ ظلم کو فروغ دیتا ہے، طاقت کا وجود بدعنوانی ختم کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بدعنوانی کوبڑھاوادیتا ہے، طاقت کا وجود امن کا نفاذ کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بدامنی پھیلاتا ہے، طاقت کا وجود تحفظات فراہم کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ تحفظات ختم کرتا ہے، طاقت کا وجود ترقی کے آنے بانے بنتا ہے مگر طاقت کا نشہ ترقی کے سانچے ہی توڑ پھوڑ دیتاہے، طاقت کا وجود ماہرین فن کی دریافت کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ چور و ڈاکو پیدا کرتا ہے، طاقت کا وجود ملکوں کو مضبوط کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ ملکوں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے، طاقت کا وجود بھید بھاؤ کی سڑاہن کو صاف کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بھید بھاؤ کے جراثیم کو پروان کو چڑھاتا ہے، طاقت کا وجود حقوق دلاتا ہے مگر طاقت کا نشہ حقوق چھین لیتا ہے۔

طاقت کا نشہ ایک لا علاج بیماری ہے، جس میں افکار واقدار اور معیار بدل جاتے ہیں، ذہن کی سوچ اور سوچنے کا ڈھنگ تبدیل ہوجاتا ہے، بصارت پر دبیز پردے حائل اور بصیرت سے محرومی ہوجاتی ہے، انسانی ضمیر مردہ اور حس ِ لطافت بے جان ہوجاتی ہے۔

طاقت کا نشہ جب سر چڑھ کر بولتا ہے تو ظلم کو انصاف، ستم کو کرم، گالی کو مرہم اور مفلسی کو امیری سمجھا جاتا ہے، پھر نوجوانوں کا مستقبل سیاہ ہوتا ہے، ان کی زندگی کا استحصال اور ان کی طاقت کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔بلاشبہ طاقت کا نشہ ملکوں کو تباہ کردیتا ہے، نسلوں کو برباد کردیتا ہے، تہذیبوں کو مسخ اور حریت رائے کا حق سلب کرلیتا ہے۔

طاقت کا نشہ حسن و قبح کا فرق ختم کردیتا ہے، اچھے بھلے کی تمیز مٹا دیتا ہے، اسی لیے وہ نا اہلوں کو خوب نوازتا ہے، ان کی جرأتیں بڑھاتا ہے، انہیں معصومیت کے تمغے دیتا ہے، اعلیٰ مناصب پر بٹھاتا ہے، جن کے ذریعہ اپنے ناپاک منصوبے کامیاب بناتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نشہ فرعونی سامراج کو فروغ دیتا ہے، بدعنوانی کو ہوا دیتا ہے، معیشت کو ابتر کرتا ہے اور قوموں کو تاراج کردیتا ہے۔

طاقت کا نشہ بہت گہرا ہے اور اس کی پالیسی بھی حد درجہ زہر آگیں، جب سر عام اس نشہ کا طوطی بولتا ہے تو زندگی کا ہر شعبہ اس کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتا ہے، ذرائع ابلاغ اس کا مطیع، محکمہ امن اس کا ناز بردار، محکمہ تفتیش اس کے اشارۂ ابرو کا پابند، محکمہ انتخابات اس کے کنایوں کا راز داں اور محکمہ انصاف اس کا رہین منت ہوجاتا ہے۔

طاقت کا نشہ سماج کے ہر طبقہ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے اثرات لوگوں کے کردار و گفتار میں جھلکتے ہیں، معلمین کا طریق تفہیم جدا ہوجاتا ہے، اہل سیاست کا لب ولہجہ کرختگی اختیار کرلیتاہے، تحریکوں کا ایجنڈا بدل جاتا ہے اور اس نشہ سے متاثر عام آدمی کا طرز سخن بھی زہر آلود ہو جاتا ہے۔

  طاقت کا نشہ ایک غیر محدود سماجی وبا ہے، اگر اہل دانش وبینش اس کا شکار ہوجائیں تو یہ تاریخ میں تحریف، نصاب تعلیم میں زہر افشانی اور دفاتر میں رشوت ستانی کو روا کردیتا ہے ۔اور اگر ارباب حل و عقد اس کے عادی ہوجائیں تو یہ مظلوموں پر ظلم، معصوموں پر بربریت، نہتوں پر ڈاکہ، شریفوں سے چھیڑچھاڑ، صنف نازک کی بے عزتی اور جویان حق کو قتل کی راہ دکھاتا ہے۔

طاقت کا نشہ متعدی اور اس کا نتیجہ تخریب کاری ہے، یہ نشہ اخلاق کا دیوالیہ کردیتا ہے، قوموں کی تقدیر میں خط غلامی کھینچ دیتا ہے، ملکوں کی قسمت میں معاشی بحران چسپاں کردیتا ہے، انسانی سماج میں نفرت کی خندقیں کھود دیتا ہے اور پسماندہ طبقات کی زندگی سے روشن مستقبل کی اصطلاح غائب کردیتا ہے۔

طاقت کا نشہ جذبہ تعمیر کے منافی ہے، جذبہ تعمیر صالح افراد چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ فاسد افراد، جذبہ تعمیر عروج چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ زوال، جذبہ تعمیر امن چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ خوف و ہراس، جذبہ تعمیر تعلیم یافتہ سماج چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ جہالت!



’مضبوط خاندان اور مضبوط سماج‘ کی تشکیل کیسے؟

 کامران غنی صبا

اسسٹنٹ پروفیسر نتیشور کالج، مظفرپور


جماعت اسلامی ہند کی طرف سے’’مضبوط خاندان، مضبوط سماج‘‘ کے عنوان سے ملک گیر سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے۔یہ مہم وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیںوہاں خاندان اور سماج کا بکھرائو ہمارے سامن ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے سماج کی یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ بیشتر خاندان انتشار و افتراق کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ بعض انتہائی مذہبی خانوادے بھی آپسی انتشار اور رنجشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ قابلِ مبارکباد ہیں وہ خانوادے جہاں اتحاد و اتفاق اور محبت کی فضا قائم ہے۔قرآن و حدیث اور سیرتِ النبیﷺ وسیرت الصحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عبادات (نماز، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ) کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں اور قرابت داروں سے معاملات پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آج ہمارے معاشرہ کی صورت حال یہ ہے کہ عبادات کے معاملہ میں ہم قدرے بہتر ہیں۔ مساجد بہت حد تک آباد ہیں۔نماز کے پابند افراد الحمد للہ ہر جگہ موجود ہیں۔ مسلمانوں میں عبادت سے رغبت پیدا کرنے کے لیے باضابطہ محنتیں بھی کی جاتی ہیں۔ لوگوں کو مساجد تک لانے کے لیے جماعتیں نکلتی ہیں۔ دروس ِ قرآن و حدیث کی محفلیں ہر جگہ آراستہ کی جاتی ہیں۔تزکیہ اور تصفیہ کی مجالس بھی قائم کی جاتی ہیں۔ یقینا ان کاوشوں کے مثبت اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہمارے سماج میں ایسے افراد ڈھونڈنے سے ملتے ہیں، جن کے معاملات قرابت داروں سے اچھے ہوں۔ کسی کو بھائی سے شکوہ ہے تو کسی کی دوسرے رشتہ داروں سے رنجش ۔افرادِ خانہ کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ممنوع ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بعض ایسے گھرانے جو ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کا فریضہ انجام دیتے ہیں وہاں بھی رنجشوں کے بتوں کی پرستش کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے افراد موجود ہیں جو گھر سے باہر کی دنیا میں انتہائی خوش اخلاق،ملنسار، دیندار اور مثالی نظر آتے ہیں،لیکن اندرون خانہ ان کی دنیا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر کی دنیا کے لوگوں سے ہمارا تعلق جزوقتی ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے تصنع کے پردے میں خوش اخلاقی کا نمونہ پیش کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس افرادِ خانہ سے ہمارا تعلق کل وقتی ہوتا ہے۔ ان سے ہمارے معاملات زیادہ پیش آتے ہیں۔ اس لیے ان کے سامنے اپنا حقیقی چہرا چھپا کر رکھنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں قرابت داروں سے تعلق استوار رکھنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئو۔(سورۃ النساء)’’اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہواور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔(سورۃ النساء)

ایک حدیث میں تو یہاں تک کہا گیا کہ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا عمل رب کائنات کے ساتھ شرک کرنا، پھر رشتہ داری توڑنا ہے۔‘‘(صحیح الجامع الصغیر، رقم 166)

ایک حدیث کے الفاظ تو اتنے سخت ہیں کہ ’’سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اولاد آدم کے اعمال جمعرات کی شام اور جمعہ کو اللہ تعالیٰ کو پیش کیے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔‘‘

مسلم شریف کی ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’رشتہ عرش الٰہی سے آویزاں ہے، وہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑ دیا اللہ اسے توڑ دے۔‘‘(مسلم 2555)

احادیث شریفہ صلہ رحمی کے انعام اور قطع رحمی کی وعیدوں سے بھری پڑی ہیں۔

افراد خانہ اور رشتہ داروں سے تعلق میں پائداری کے لیے درج ذیل نکات اگر ملحوظ رکھیں جائیں تو ان شاء اللہ بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ 

تعاون کا جذبہ: انسان کو سماجی زندگی میں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی کی عبادت و ریاضت سے جتنا متاثر نہیں ہوتا اس سے کہیں زیادہ متاثراسے لوگوں کا اخلاق و کردار کرتا ہے۔ جو لوگ اچھے برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، فطری طور پر ہمارے دل میں ان کے لیے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ 

جذبۂ ایثار : افرادِ خانہ اور رشتہ داروں کے لیے چھوٹی بڑی قربانی پیش کرنے والوں کا تعلق اپنے متعلقین سے اچھا ہوتا ہے لیکن بسا اوقات سب کچھ کرنے کے باوجود ہماری ذرا سی لغزش تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن جاتی ہے۔ بعض افراد کے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ تو خوب ہوتا ہے لیکن وہ اسے پوشیدہ نہیں رکھ پاتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے اپنے کسی غریب رشتہ دار کی مالی طور پر مدد کی لیکن وہ اسے پوشیدہ نہیں رکھ پایا اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے اس کا ذکر کر ڈالا۔ یقینا ایسا کرنے سے اُس غریب رشتہ دار کی عزت نفس مجروح ہوگی جس سے رشتے میں کشیدگی اور کدورت پیدا ہو سکتی ہے۔

صبر اور برداشت: صبر اور برداشت کے بغیر کوئی بھی تعلق کبھی پائدار نہیں ہو سکتا۔ بیشتر خاندان میں کشیدگی کی سب سے اہم وجہ افراد خانہ کا عدم برداشت ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں بسا اوقات بڑی بڑی رنجیدگیوں کی وجہ بن جاتی ہیں۔ ایک صاحب اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو اپنی بیٹی کا شادی کارڈ دینا بھول گئے۔دونوں گھروں سے پہلے سے انتہائی اچھے مراسم تھے لیکن ایک چھوٹی سی چوک اور دوسری طرف برداشت کی کمی اچھے خاصے تعلق میں بگاڑ کا سبب بن گئی۔

اپنی گھریلو حیثیت کا ادراک: کچھ لوگ گھر سے باہر کی دنیا میں بہت مشہور ہوتے ہیں۔ دنیا انہیں عالم، استاد، دانشور، فنکار وغیرہ کے نام سے جانتی ہے۔ باہر کی دنیا میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ گھر میں انہیں ویسی عزت نہیں ملتی۔ اردو میں ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی باضابطہ ایک محاورہ وضع ہو چکا ہے’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہار کی دنیا میں ہم کتنے ہی بڑے اور مشہور انسان کیوں نہ ہوں گھر میں ہماری حیثیت ایک باپ، بیٹا، بھائی ، ماں ، بہن، بہو وغیرہ ہی کی ہوتی ہے۔ ہمارا گھر اور باہر کا کردار یکساں کبھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمیں اپنی گھریلو حیثیت کا اداراک نہیں ہوگا تو افرادِ خانہ کے تئیں ہمارے دل میں رنجش پیدا ہوگی۔


اردو زبان کے تحفظ کا مسٔلہ

 مولانا محمد نظر الہدیٰ قاسمی

  استاذ: مدرسہ اسلامیہ چہرا کلاں ویشالی ،نگراں نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی 


اردو زبان جس میں ہماری تہذیب پوشیدہ ہے، جس زبان کو اپنی ماں کی طرف منسوب کرکےہم فخر کے ساتھ اسے مادری زبان کہتے ہیں، اس زبان کا حال اور چال ان دنوں بہت ہی ناگفتہ بہ ہے، اس کی حالت زار کو دیکھ کر جگر منھ کو آجاتا ہے، اس کی حالت کا اندازہ اونچے بنگلے میں رہنے والے اور اے سی گاڑیوں میں بیٹھ کر گاؤں گرام کے گرد آلود آب و ہوا سے اپنے کپڑے بچانے والے نہیں لگا سکتے، ہمیں اس کی زبوں حالی کا پتہ اور اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے ارد گرد گھومیں گے،  سماج میں رہنے اور اٹھنے بیٹھنے والے سے اس کی حالت زار کے تعلق سے تفتیش کریں گے، اپنے مکاتب و ملحقہ مدارس کا جائزہ لیں گے، اسکول و کالج سے وابستہ اساتذہ سے اس کی تنزلی کے اسباب دریافت کریں گے تو اس وقت ہم صحیح نتیجہ پر پہنچ پائیں گے کہ اردو کے ساتھ کیا سازش ہورہی ہے، اس سازش کو انجام دینے والے لوگ کون ہیں؟ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ گاؤں اور اس کے اطراف و اکناف میں اردو کی حالت بد سے بدتر ہے،اب اردو کی ترقی کی بات کرنے کے بجائے اس کے تحفظ کی  فکر کرنا انتہائی ضروری  ہے، اردو کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کا تحفظ ہو، گویا کہ ترقی کے لئے تحفظ شرط اول ہے۔

اس کے تحفظ کے لئے پہلے تنزلی کے اسباب تلاشنے ہوں گے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ زبان جس کا ایک زمانہ میں طوطی بولتا تھا،اس کے پڑھنے اور پڑھانے پر لوگ فخر محسوس کرتے تھے، کسی شناسا یا غیر شناسا سے گفتگو ہوتی تھی تو سینہ چوڑا کرکے سر اٹھا کر اپنا تعارف پیش کرتے تھے کہ ہم اردو کے استاذ ہیں، لیکن اب سینہ چوڑا کرنا تو دور کی بات سر اٹھا کربھی اپنا تعارف پیش کرنے کی جرأت نہیں جٹاپاتے، آخر یہ احساس کمتری کہاں سے آیا،اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اس زبان کی زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ مکتب کا نظام ماضی میں جو تھا وہ اب نہیں، ہمارے گاؤں میں مکتب تو ہے؛لیکن والدین اپنے بچوں کو مکتب میں بھیجنا اپنی عزت کے منافی سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے دس کلووزن کا کتابوں سے بھرابیگ پیٹھ پر تو اٹھا کر کنونٹ چلے جاتے ہیں؛ لیکن دوسو گرام کی دو کتاب (نورانی قاعدہ،اردو کی پہلی) اٹھاکر مکتب نہیں جاتے، اس میں بچوں سے زیادہ والدین قصور وار ہیں، والدین کا  یہاں پر دو رخا نظریہ ہوتا ہے،اگر کسی کے پاس دو بچے ہوتے ہیں اس میں کا ایک بچہ مکتب میں تعلیم حاصل کر رہا ہو اور دوسرا بچہ اسکول میں، تو اسکول کے بچے کے جوتے کو پالش دیکر اس کے  تسمے باندھنا والدین فخر سمجھتے ہیں اور جو بچے مکتب میں ہیں ان کی ناک کی رطوبت  کو صاف کرنا حقیر سمجھتے ہیں،اس لئے والدین کو اس سے اپنے آپ کو آزاد کرکے سب سے پہلے  بچوں کو دینی تعلیم دلانی ہوگی، یہ بچوں کے حق میں بھی مفید ہے اور والدین کے حق میں بھی۔جب مکتب کی تعلیم کا فروغ ہوگا تو اس ضمن میں ہمارے بچے اردو سے آشنا ہوں گے،اس کی تنزلی کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں سب موضوع کے لئے کوچنگ کا نظم ہوتا ہے لیکن اردو بیچاری کے لئے کوئی نظم نہیں،اگر اردو کی تعلیم کا نظم کوچنگ اور اسکول میں ہوتا بھی ہے تو وہاں کے پرنسپل اور سرپرست اردو کے اساتذہ کے ساتھ دورخا معاملہ کرکے انہیں احساس کمتری میں ملوث کردیتے ہیں،اسی اسکول اور کوچنگ میں انگریزی وغیرہ کے اساتذہ ہوتے ہیں تو ان کو تنخواہ دینے کے تعلق سے پرنسپل حضرات کا سینہ وسیع ہوتا ہے اور اردو کے اساتذہ کو تنخواہ دینے میں بخل کرتے ہیں اسی وجہ سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی احساس کمتری کے شکار ہوجاتے ہیں، اس حالت میں اردو کی ترقی کا خواب دیکھنا تو درکنار تحفظ بھی ممکن نہیں۔اردو کی زبوں حالی کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اساتذہ چاہے وہ اسکول،کالج یا ملحقہ مدارس کے ہوں نہ اردو پڑھاتے ہیں اور نہ اس کی فکر کرتے ہیں، اس حالت میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زبان محفوظ ہوگی ۔اگر ہم واقعی اردو کا بھلا چاہتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ماضی بعید میں اردو پروان چڑھی ہوئی تھی ویسے ہی پھر پروان چڑھنے لگے تو اس کے لئے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، جو اساتذہ مکتب میں لگے ہوئے ہیں وہ مکتب کے بچوں کو ابتدائی طور پر اس لائق بنا دیں کہ انہیں کوچنگ یا اسکول وغیرہ میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، کوچنگ اور اسکول کے اساتذہ اپنے بچوں کے اندر اتنی لیاقت پیدا کردیں کہ کالج وغیرہ میں جاکربچے اپنے آپ کو کمزور محسوس نہ کریں، اور کالج کے پروفیسر ان حضرات ان بچوں کے اندر ایسی طوفانی صلاحیت پیدا کردیں کہ وہ جہاں جائیں جس جگہ بیٹھیں فخر کے ساتھ کہہ سکیں کہ ہم اردو کے پروفیسر ہیں۔یہ تمام باتیں اسی وقت ممکن ہیں جب تمام لوگ انفرادی طور پراردو کے تعلق سے حساس ہوجائیں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہماری اردو تصنیفات و تالیفات لائبریری کی زینت بن کر رہ جائیں گی، جیسے کہ فارسی زبان جسے لوگ دور سے ہی عبرت کی نگاہ ڈال کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ فارسی کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ بھلا کرے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کا کہ انہوں نے بہار کے چپہ چپہ میں اردو کے تحفظ اور مکاتب کے قیام کے تعلق سے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں اور کارکنوں کا پورا قافلہ عوام کے حوالہ کردیا،ان کی تقریروں سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اب اردو کی ترقی نہیں بلکہ تحفظ کا معاملہ آگیا ہے ، اردو کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جبکہ پہلے اس کا تحفظ ہو۔حضرت امیر نے اردو کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مکاتب کے قیام پر بھی زور دیا اس لیے کہ اردو کی ترویج و اشاعت میں مکاتب و مدارس کا اہم رول رہا  ہے۔













تعلیمی اداروں بالخصوص مدارس اسلامیہ پر لاک ڈائون کے اثرات :مسائل اور حل

  مولانامحمد امام الدین ندوی



کورونا جیسی مہلک وبا سےبچا نے کے لئے ملک میں ”لاک ڈائون“ کا اعلان سرکاری سطح پر ہوا ۔اس کا نفاذ پوری طاقت سے کیا گیا ۔کچھ لوگ بات سے مان گئے اور اپنے گھروں میں قید ہوگئے۔کچھ لوگ بات نہیں سمجھے تو انہیں ”لات، گھونسے، ڈنڈے اور کچھ دوسرے طریقے“سے سمجھایا گیا۔سارے دفاتر ،کل کارخانے، روزگار کے چھوٹے بڑےتمام وسائل بند ہوگئے ۔جو جہاں تھا وہیں سمٹ کر رہ گیا۔ زندگی کی دوڑ بھاگ تھم سی گئی۔

     یہی حال تعلیمی اداروں کا ہوا انہیں بھی مکمل بند کردیا گیا ۔ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔لاک ڈائون کا سلسلہ بہت طویل ہوگیا۔اس سے یہ ادارے کافی متاثر ہوئے۔جو طلباء ان اداروں سے منسلک تھے جن کی وجہ سے یہ ادارے چلتے تھے۔ان اداروں سے جتنے کارکنان اورملازمین منسلک تھے، ان اداروں کے بند ہونے سے ان سب کا بہت نقصان ہوا ۔ان کی معاشی حالت دگرگوں ہو گئی۔ جوادارے نجی زمین پر چل رہے تھے ان میں رمق ابھی باقی ہے ۔لیکن جو ادارے کرائےکے مکان میں چل رہے تھے ان میں سے اکثر بند ہوگئےیا پھر بند ہونے کی کگار پر ہیں۔ ہر ڈائریکٹر کے پاس نہ اتنی سکت ہے کہ وہ اساتذہ کی تنخواہ اور عمارت کا کرایہ ادا کرسکے۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے گارجین کی جانب سے بھی توجہ ہٹ گئی اس طرح یہ ادارے اپنا جنازہ خود پڑھنے کے لائق بھی نہیں رہے۔

    مدارس دینیہ ملک وملت کی عظیم امانت ہیں۔ملک میں امن وسلامتی کی فضااگر قائم ہے تو انہی کے دم سے ہے ۔مسلمانوں کی شناخت اس ملک میں اگر ہے توانہی کی دَین ہے۔نئ نسلوں میں دینی شدبد انہی سے ہے۔ یہ اس ملک میں مسلمانوں کے وجودکے ضامن اور امین ہیں۔دینی مدارس ہماری دینی اور ملی شناخت ہیں۔ہمیں اور ہماری نئی نسلوں کو ہر طرح کے ارتدادسے بچانے کا مضبوط قلع ہیں، ہمارے ایمان کو مضبوط اور اسے صیقل کرنےمیں دینی مدارس کا بہت اہم کردار ہے۔

     پورے ملک میں بے شمار چھوٹے بڑے ادارے کھلے ہوئے ہیں ۔سب اپنا فیض ملک اور بیرون ملک میں پہونچا رہے ہیں۔ ان اداروں سے ایک طرف ملک کا وقار بلند ہوا ہے تو دوسری جانب ملک سے جہالت دور کرنے میں اس کا اہم رول رہا ہے۔

    مدارس دینیہ میں عام طور سے ”خالص دینی تعلیم“ کا نظم ہے ۔عصری علوم جو دراصل اسلام ہی کا بڑا حصہ ہیں۔ مدارس کی تعلیم نے ملک کو پرامن شہری مہیا کئے ہیں۔ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے کا تعلق عام طور پر مسلمانوں کے متوسط وغریب طبقے سے ہوتا ہے ۔کچھ مالدار گھرانوں کے بھی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو دیندار ہوتے ہیں ۔ غریب و یتیم بچوں کے کھانے ،رہنے، قلم وکتاب ،وغیرہ کے سارے اخراجات انہیں مدارس کے ذمہ ہوتے ہیں ۔یہی بوریا نشیں، روکھی سوکھی کھا کر فراغت کے بعد ملک و ملت کی صحیح آبیاری کرتے ہیں۔

      مدارس دینیہ کے مالی اخراجات مسلمانوں کے تعاون سے پورے  کئے جاتے ہیں ۔یہ خطیر رقم اصحاب ثروت کی جانب سے فطرہ زکات،صدقات،عطیات،امداد ،کی صورت میں دی جاتی ہے۔اسے دینی مدارس کے اساتذہ وکارکنان اصحاب خیر حضرات کے پاس سے جاکر لاتے ہیں ۔کچھ  لوگ چیک ،یا بینک اکائونٹ، میں رقم ٹرانسفر کرتے ہیں۔انہیں رقموں سے یہ ادارے چلتے ہیں ۔اسی سے دینی مدارس اور ان کے اساتذہ ،دیگر ملازمین ،کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔سرکار سے نہ کچھ لیا جاتاہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

   اس ”لاک ڈائون“ میں سب سے زیادہ متاثر دینی مدارس ہوئے ہیں ۔ہراعتبار سے ان کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔  تعلیم وتدریس، کے ساتھ مالی اعتبار سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

     اس ”لاک ڈائون“نے مدارس کے لئے بہت  سےمسائل کھڑے کئے ہیں۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔اساتذہ اور طلبہ کا آپسی تعلق ختم ہوگیا ۔ طلبہ واساتذہ کا ادارے سے بھی تعلق کمزور پڑ گیا۔درس وتدریس سے دوری ہوگئی۔پڑھنے پڑھانے سے انسیت کم ہوگئی۔ادارے کی آمدنی بند ہوگئی۔کچھ ادارے کے ذمہ داروں نے صاف کہ دیا کے ہم تنخواہ نہیں دے سکیں گے۔کسی نے کہا کہ آدھی تنخواہ دیں گے ۔کسی نے کہا کہ تنخواہ تو پوری دیں گے مگر جب استطاعت ہوسکے گی تب دیں گے ۔

     ”لاک ڈائون“ کی وجہ سے ادارے بند ہوئے ۔ادارے بند ہونے سے عوام الناس اور مدارس کےآپسی روابط ختم ہو گئی یا کمزور پڑ گئے ۔ادارے کے ذمہ داروں اور  عوام الناس کے روابط کم ہونے سے مالی نقصانات بھی بہت ہو گیا ہے۔

   اس ”لاک ڈائون “ سے چھوٹے چھوٹے،ادارے یا تو بند ہو گئے یا پھر بڑی دشواریوں کا سامناکر رہے ہیں۔ اللہ خیر کا معاملہ فرمائے۔اس سے” طلبہ “کا نقصان تو ہوا ہی”علما ٕ“کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑےگا۔انہیں بہت بڑے ابتلا سے گزرنا پڑے گا۔

ان ”مشکلات “سے ادارو‌ں کو کیسے” نکالا“ اور ”بچایا“ جائے؟یہ بہت بڑا”سوال“ ہے۔خدا نہ خواستہ اگر یہ ”دینی قلعے“ بند ہو گئے تو دوبارہ کھلنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ پھر مسلمانوں کا کیا ہوگا ؟ان کے ایمان کی بقا اور تحفظ کیسے اور کہاں ہوگی؟۔

    ان ”دینی قلعوں“ کی آبیاری کے لئے امت کے غریب وامیر سب کو اپنی استطاعت کے بقدر حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ذمہ داروں اور اساتذہ کو ہر ممکن قربانی دینے کی ضرورت ہے ۔

     ہر ”چھوٹے،بڑے“ ادارے کو بند ہونے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔امت مسلمہ ایک وقت کم کھائے ،موٹے جھوٹے کپڑے استعمال کرے اپنے بال بچوں کی خواہشوں پر کم خرچ کرے اور فراخ دلی سے دینی قلعوں کو مضبوط کرے ۔اس کا پورا اجر اور اس کے عوض دائمی راحت ملے گی۔اور ہماری نسلیں ارتداد سے بچ جائیں گی۔یہی وقت کی آواز اور پکار ہے ۔اس میں ذرا سی غفلت ہمارے دینی وملی وجود کو ختم کر دے گی ۔پھر ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔

        طلباء کے تعلیمی نقصان کی تلافی تو مشکل ہے ۔ارباب مدارس کو ایسا راستہ نکالنا چاہئے جس میں بچوں کے نقصان کی تلافی ہوسکے۔اور طلباء پر تعلیمی بوجھ بھی زیادہ نہ ہو ۔اور ان کا سال بھی بچ جائے۔اسکےلئے طلباء ،اساتذہ،گارجین،عوام الناس، سب کو مل جل کر محنت کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ادارہ چلتا رہے اور طلباء ترقی کرتے رہیں۔اور ایمان کی روشنی گھر گھر پہونچے ۔ہمارا اور آپ کا وجود مکمل اسلامی شعار کے ساتھ برقرار رہے ۔بحیثیت مسلمان اور ایک اچھے شہری بن کر ہم زندہ رہیں ۔اور زندہ قوم کا ثبوت پیش کریں۔


تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو، یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے، بلکہ اب تیار ہوجاؤ، ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو ٗجہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں ٗ انہیں بھلاؤ نہیں، انہیں چھوڑو نہیں، ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ہمارا ملک ہے، ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔

آج زلزلوں سے ڈرتے ہو، کبھی تم خود اک زلزلہ تھے، آج اندھیرے سے کانپتے ہو ٗکیا یاد نہیں کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا، یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے، تم نے بھیگ جانے کے خدشہ سے اپنے پائنچے چڑھا لیے ہیں، وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندر میں اتر گئے، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں آئیں تو ان پر مسکرا دیے، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا، صرصر اٹھی تو اس کا رخ پھیر دیا، آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے ٗآج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے کہ جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔ 

عزیزو! میرے پاس تمہارے لیے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے، وہی پرانا نسخہ ہے جو برسوں پہلے کا ہے، وہ نسخہ جس کو کائنات انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا، وہ نسخہ ہے قرآن کا یہ اعلان کہ {وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ}

مولانا ابو الکلام آزادؒ (خطبات آزاد: ۳۲۱-۳۲۲)


Saturday, March 6, 2021

لاک ڈاؤن کے بعد بچوں کی تعلیم

 مولانا محمد ظفیر الاسلام ندوی

  صدر شعبہ اردو و دینیات صفا پبلک اسکول موانہ کلاں میرٹھ یوپی


کووڈ 19 کے بعد عالمی منظر نامے میں بڑی تیزی سے تبدیلی واقع ہوئی ہے اور ہو رہی ہے اسی طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کے ساتھ نظامِ تعلیم بھی بہت کچھ بدل چکا ہے، اور حالات مزید بدلاؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔

سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جو بھی حالات آئیں جیسا کہ کرونا آیا ان حالات سے ہمیں سیکھنا چاہیے اور ان کو اچھا رخ دینے کی کوشش کرنا چاہیے، اسی لیے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے ہمیں جھٹکا لگا کر ٹریک پر لاکر کھڑا کر دیا، اگر یہ نہ ہوتا تو ہم کئی سال پیچھے رہ جاتے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کے بعد آنے والے حالات کے لیے تیار ہیں، یا نہیں؟ اسکول کھلنے جا رہے ہیں، اور طویل وقفے کے بعد اب بچے اسکول آنے والے ہیں، طویل لاک ڈاؤن اور اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کا طویل تعطل، بچوں کا گھروں میں قید ہو کر رہ جانا، پھر کرونا کے ڈر سے ایک دوسرے سے سوشل ڈسٹینسنگ بناکر رکھنے کی کوشش، یہ سب وہ حالات ہیں جنہوں نے بچوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے، 

چند چیزوں کے بارے میں ہم بات کریں گے

۱ سوچنے کا عمل (Thoghat process) کافی سارے بچوں میں منفی سوچ پیدا ہونے لگی ہے، سیکھنے کے عمل سے لمبی دوری کی وجہ سے سوچنے کی صلاحیت (learning power) کمزور ہو گئی ہے۔

۲_ اخلاق و کردار (Behaviour) جو بچے دوسرے بچوں سے بہت زیادہ الگ رہے ہیں ان کے سلوک میں کافی فرق آ گیا ہے، نخرے بہت بڑھ گیے ہیں، ضدی پن، غصہ اور چڑچڑاپن بہت زیادہ پیدا ہو گیا ہے۔

۳ معمولات (Routine) بہت زیادہ بدل گیے ہیں، دماغی اور جسمانی صحت متاثر ہو گئی ہے، بچوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

۴_ تعلیم ( Education) سب سے زیادہ متاثر بچوں کی تعلیم ہوئی ہے، بہت بڑی تعداد تعلیم چھوڑ چکی ہے، اس کے بھی کئی سارے اسباب ہیں، والدین کی اقتصادی حالت، یا اسکولوں کا بند ہونا وغیرہ وغیرہ۔

۵ باہمی مہارت (interpersonal skills) جتنا پہلے ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے تھے اور ایک دوسرے سے سیکھتے تھے، اب ایک تو ویسے ہی فیملی پلاننگ کے چلتے بچے کم ہوتے ہیں، اور پہلے عام طور سے مشترکہ خاندان ہوتے تھے جس کی وجہ سے گھر میں بچے زیادہ ہوتے تھے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہوئے، جھگڑتے ہوئے، الجھتے ہوئے سیکھتے تھے، اب ہر فیملی الگ رہنا پسند کرتی ہے، اس پر لاک ڈاؤن نے رہی سہی کسر پوری کردی، ہر فیملی آسیولیٹ ہوگئی۔

مندرجہ بالا اثرات اور ان کے علاوہ بہت سارے ایسے اثرات ہیں جو کووڈ 19، لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے وجہ سے بچوں پر پڑ رہے ہیں، یہ وہ چیلنجر ہیں جن کا ہمیں اس وقت سامنا کرنا ہے، ہم اگر اس انتظار میں رہیں کہ سب پہلے جیسا ہوجائیگا، بہت سارے لوگ اسی خوش فہمی میں انتظار کر رہے ہیں کہ حالات معمول پر آ جائیں تب ہم کچھ کریں گے، یہ بہت بڑی بھول ہے، ہمیں ان حالات سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے اور آئندہ کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔

اب اسکول بتدریج کھولے جارہے ہیں، بچے اسکول آنے والے ہیں یا کچھ جگہوں پر آچکے ہیں، لہذا ہمیں بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر پڑھانا ہوگا، نئے حالات کے لیے انھیں تیار کرنا ہوگا، صرف مارنے پیٹنے ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سے ہم ان کو شاید اچھا، ماہر اور کامیاب انسان بنانے میں ناکام رہ جائیں، 

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس ماحول میں ہم نے پڑھا ہے، اور جس طریقے سے ہمارے اساتذہ نے ہمیں پڑھایا اب وہ زمانہ نہیں ہے، نہ وہ حالات ہیں، اگر ہم پرانے گھسے پٹے طریقہ پر چلیں گے تو بہت پیچھے رہ جائیں گے، ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، 

ایک بہت اہم اور ضروری چیز جو اساتذہ کو بچوں کے لیے کرنی ہے وہ یہ ہے کہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں، سوچ پر ڈالیں، thinker بنائیں، تفکیری قابلیت پیدا کرنے کی کوشش کریں، آج خالی معلومات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معلومات کے ذرائع بہت ہیں، ایک کلک میں دنیا بھر کی معلومات اکٹھا کرسکتے ہیں، آج مفکرین (Thinkers) کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ اور بہت کچھ بدلاؤ (changes) کی ضرورت ہے، جن کے بارے میں ماہرین تحقیق کر رہے ہیں، لہذا ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظام بنائیں، تاکہ آنے والی نسل زندگی کی دوڑ کسی سے پیچھے نہ رہے۔




اسلام میں عبادت کا وسیع تصور

  مفتی محمد اعظم ندوی


’’عبادۃ‘‘ عَبَدَ یَعْبُدُ کا مصدرہے،تعظیم کی نیت اور ارادہ سے کسی کے سامنے جھکنا اور پست ہونا، یہ عمل صرف اللہ کے لئے جائز ہے، یہ لفظ اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اہل عرب ایسے اونٹ کو بَعیرٌ مُعَبَّدٌکہتے ہیں جو سواری کے لئے پوری طرح قابو میں آگیا ہو اور ’’طَرِیْقٌ مُعَبّدٌ‘‘ اس راستہ کو کہتے ہیں جو کثرت سے پامال ہوکر ہموار بن گیا ہو،یہ تو ہوئے اس کے لغوی معنی کی وضاحت،اصطلاحی اعتبار سے اس کی کئی تعریفیں کی گئی ہیں، ان میں چند یہ ہیں:

(۱) اللہ کے لئے جھکاؤ اورعاجزی کا سب سے اعلی درجہ ۔

(۲) مکلف کا اپنے نفس کے تقاضہ کے خلاف اپنے رب کی تعظیم میں کوئی کام کرنا۔

(۳) ایسا کام کرنا جس سے صرف اللہ کی تعظیم مقصود ہو اور اللہ تعالیٰ نے ا س کا حکم بھی دیا ہو۔

(۴) ہر وہ قول اورقلبی وجسمانی عمل جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور جس سے خوش ہوتا ہے عبادت ہے۔

(۵) وہ عمل جس کے کرنے پر ثواب ہو، اور اس کا صحیح ہونا نیت پر موقوف ہو۔

 اسلام میں معبود صرف ایک ذات برحق کو قراردیا گیا ہے، جوخالق ہے، اور تمام بندوں کی حیثیت عابد کی ہے، عبادت کے مختلف طریقے ہیں، کچھ وہ ہیں جن کے لئے عبادت کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور کچھ وہ ہیں جونیت کی وجہ سے عبادت بن جاتے ہیں، اورعبادت اپنی تمام شکلوں کے ساتھ مخلوق پر خالق کا حق ہے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے حضور  ا نے دریافت فرمایا:’’اے معاذ!کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ ‘‘میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ ا نے فرمایا: بندوں پر اللہ کاحق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں‘‘(بخاری :2856)

اورعقلی طور پر بھی یہی بات قرین انصاف ہے کہ جس ذات نے اپنے بندوں کو وجودبخشا اور ان کو ہر طرح کی ظاہری وباطنی نعمتوں سے ہروقت نواز رہا ہے صرف اسی کی عبادت کی جائے، یہ اس کا لازمی حق ہے، اس کا یہ حق کسی اور کو دینا یا اس کے کسی حصہ میں شریک کرنا ظلم ہے، اسلام سے پہلے لوگ طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے، اورمختلف قومیں اپنے اپنے خیالات کے مطابق جس چیز میں کوئی غیرمعمولی بڑائی دیکھتی اس کے سامنے جھکنا شروع کردیتی تھیں، اسلام نے واضح کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اسی نے سب کو پیدا کیا ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے، اور ’’لاالہ الا اللّٰہ‘‘ کو اسلام کا کلمہ قرار دیا، قرآن کریم اسلام کا دستور ہے، پورے قرآن کریم کا نچوڑ سورہ فاتحہ ہے، اورسورہ فاتحہ کا نچوڑ اس کی آیت’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ یعنی ہم آپ کے علاوہ نہ کسی چیز کی عبادت کرتے ہیں نہ کسی ذات کی، اور آپ کے علاوہ کسی سے مددنہیں مانگتے۔

  جب بھی کوئی شخص اسلام لاتا حضور ا اس کو اولین ہدایت یہ دیتے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،اسلام کی دعوت میں بھی توحید کے ساتھ عبادت کو شامل کیاجاتا، یہی دعوت آپ نے اس وقت کے بڑے بڑے بادشاہوں اور فرماں رواؤں کو دی، قیصر اور نجاشی کو آپ نے جو خط لکھا اس میں صاف طور پر یہ آیت تحریر فرمائی: ’’قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلَمَۃٍ سَوَائٍ  بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْْئًا وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْہَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ‘‘]آل عمران: 64 [(کہو اے اہل کتاب!آ ؤایسی بات کی طرف جو  ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے، اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے  ہیں)۔

بلکہ قرآن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہی تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے، ہر ایک نے اللہ کی عبادت کا حکم دیا او رطاغوت(باطل اور نظام باطل) کی عبادت سے روکا، قرآن مجید میں ہے:(ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اس کے ذریعہ سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو)]النحل:36 [،اور حضور  ا کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کرکے فرمایا:’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْْہِ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ‘‘ ]الانبیاء:25 [(ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو)،اور قرآن نے انسان کی تخلیق کا مقصود بھی عبادت کو ہی قرار دیا: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ‘‘ ]الذاریات:56 [ (میں نے جن و انس کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں) ۔

 اسلام میں عبادت کی حقیقت دو عناصر سے مربوط ہے،ایک اللہ کے لئے آخری درجہ کا جھکاؤ اور دوسرے اللہ کے لئے آخری درجہ کی محبت،بلکہ علامہ ابن قیمؒ تو فرماتے ہیں:’’اصل عبادت اللہ کی محبت ہی ہے،بلکہ صرف اور صرف اللہ کی محبت،اور یہ کہ محبت کامل ومکمل صرف اللہ کے لئے خاص ہوجائے،اللہ کے ساتھ کسی سے محبت نہ کی جائے،بلکہ جس سے بھی محبت کی جائے اللہ کے لئے اور اس کے نام پرکی جائے‘‘(مدارج السالکین،ج۱،ص۹۹)،اور اقبالؔ عبادت کو بے لوث بنانے کی یہاں تک ترغیب دے گئے کہ:

سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے

اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: ’’ہر وہ قول وعمل جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی عبادت ہے، مثلاً نماز، زکوۃ، روزہ، حج، سچ بولنا، امانت کا پاس ولحاظ کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، صلہ رحمی، وعدہ کو پورا کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، حق کے غلبہ کے لئے ہر طرح کی جد وجہد، پڑوسیوں، یتیموں، مسافروں، غلاموں اور جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک، ذکر و دعاء ، قرآن کی تلاوت، اللہ کی محبت، اس کا خوف، اس کی طرف رجوع، اخلاص، شکرو صبر، تقدیر پر راضی رہنا، توکل اور اللہ کی رحمت کی امید اور ان جیسے تمام کام عبادت میں داخل ہیں‘‘۔

پھرعبادت کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں،قلبی اعمال: وہ اعمال جن کا تعلق دل سے ہے، جیسے توکل یعنی صرف ایک اللہ پر بھروسہ کرنا، ’’رجاء‘‘صرف اللہ سے ہی اچھی امید رکھنا، ’’خوف‘‘ صرف اللہ سے ڈرنا، ’’انابت‘‘ صرف اللہ سے رجوع ہونا، حضور انے فرمایا: ’’اچھا گمان کرنا بھی بہترین عبادت ہے‘‘ (مسند احمد:7956) ایک حدیث میں آپ  ا نے فرمایا:’’ سب سے افضل عبادت مصیبت کے ختم ہونے کا انتظار ہے‘‘(ترمذی:3919)،تعبُّدی اعمال: وہ مخصوص اعمال جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی بندگی کی علامت قرار پاگئے، ان کی تین قسمیں ہیں: بدنی عبادتیں جیسے نماز اور روزہ، مالی عبادتیں جیسے زکوۃ، بدنی اور مالی دونوں خصوصیت رکھنے والی عبادت جیسے حج، جب مطلق’’ عبادت ‘‘یا ’’عبادات‘‘ کا لفظ ذکرکیا جاتا ہے تو ان سے یہی عبادتیں مراد ہوتی ہیں، ان کو عبادات خاص طورسے اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اخروی اعمال ہیں، جب تک ان کو بجالانے کا مقصد دنیا طلبی نہ ہو ان پر آخرت کا ثواب اورجزاء کا وعدہ ہے، اگرچہ ہماری عقلیں ان کی مصلحتوں اور فوائد کو نہ سمجھ سکیں۔

وہ تمام اعمال جن کے کرنے یا نہ کرنے پر ثواب کا وعدہ ہے، کو بجالانا، یا ان سے بچنا بھی عبادت ہے، اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ان میں اللہ سے قریب ہونے کی نیت ہو، ایک حدیث میں حضور  ا نے فرمایا: ’’اے ابوہریرہ! ورِع بن جاؤ سب سے بڑے عبادت گذار ہوجاؤ گے‘‘ (ابن ماجہ:4217) ،ورِع یا متقی اس شخص کو کہتے ہیں جو حرام ومکروہ اور مشتبہ چیزوں سے بچنے والا ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عبادت کا دائرہ بہت وسیع کردیا ہے، حتی کہ ہر وہ عمل جس سے معاشرہ کو فائدہ پہنچے اسلام میں عبادت کے زمرہ میں داخل ہے، شرط یہ ہے کہ اس کام کو کرنے والے کی نیت صرف شہرت حاصل کرنا اور لوگوں سے تعریفیں سننا نہ ہو، حضور انے دوجھگڑا کرنے والوں کے درمیان صلح کرانے کے بارے میں فرمایا کہ روزہ، نماز اور صدقہ سے بہتر ہے(الأدب المفرد : 1391) روزہ، نماز اور صدقہ وغیرہ خالص عبادتیں ہیں، لیکن ایک شخص اگرنفل نمازوں، روزے اور صدقے کی ادائیگی کے بجائے دلوں کو ملانے کا کام انجام دیتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے، اور اس کا ثواب بسااوقات ان سے بڑھ کر ہے، مریض کی عیادت کے بارے میں حضور  ا نے فرمایا:’’ جو کسی مریض کی عیادت کے لئے نکلتا ہے آسمان سے ایک آواز دینے والایہ آواز دے کر کہتا ہے کہ تم پاکیزہ، تمہار اچلنا مبارک، تم نے جنت میں ایک ٹھکانہ بنالیا‘‘(ابن ماجہ : 1443) 

اسلام ان اعمال کو صرف پسند نہیں کرتا بلکہ ان کی ترغیب بھی دیتا ہے، ان کا حکم دیتا ہے، اور ان کو ایک مسلمان کی یومیہ ذمہ داری قراردیتا ہے، بلکہ اسلام نے ان کی اہمیت اس قدربڑھادی ہے کہ کہیں ان کو’’ صدقہ‘‘ اور کہیں’’ صلاۃ‘‘ کے لفظ سے یاد کیا، ایک حدیث میں ہے، حضور انے فرمایا :’’ انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے، ہردن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، دولوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے یہ صدقہ ہے، کسی کی مدد اس کے جانورکے سلسلے میں کردیتا ہے، اس کو اس پر سوار کردیتا ہے یا اس پر اس کا سامان رکھ دیتا ہے صدقہ ہے، بھلی بات کہنا بھی صدقہ ہے، نماز کے لئے چل کرجاتا ہے اس کا ہرہر قدم صدقہ ہے، راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے یہ بھی صدقہ ہے‘‘ (بخاری : 2989)

ا صدقہ اصلاً اللہ کی رضا کے لئے کسی غریب کی مالی مدد کو کہتے ہیں، اور یہ خالص عبادت ہے؛ لیکن ہرشخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا؛ چنانچہ اسلام نے بھلائی کے تمام کاموں کو صدقہ قراردے دیا، اور اس طرح ان کو بھی عبادت میں شامل کردیا، ایک حدیث میں آپ  ا نے یہاں تک فرمایا: ’’انسان کے ہرجوڑ پر ہر دن نماز ہے، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو بہت مشکل ہے، آپ نے فرمایا: بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، کمزور کی مدد کرنا، اور ہر وہ قدم جو تم میں سے کوئی نماز کے لئے اٹھاتا ہے نماز ہے‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی: 11791)۔

اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ  ا نے خالص دنیوی کاموں کو جو انسان اپنی گذر بسر کے لئے کرتا ہے عبادت قراردیا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کام اسلام کی نظر میں درست ہو، اس میں اچھی نیت شامل ہو، اس میں اللہ کے حدود کا لحاظ رکھا گیا ہو، دوسروں کی حق تلفی، خیانت اور دھوکہ سے اپنے معاملہ کو محفوظ رکھا گیا ہو، دنیوی کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے دینی فرائض وواجبات سے غفلت نہ ہونے پائے، اگرایک مسلمان ان امور کی رعایت کرتا ہے تو وہ اپنی دنیوی مشغولیات میں بھی عبادت گذارشمار ہوگا گوکہ وہ مسجد میں نہ ہو، بلکہ خالص وہ امور جو انسان اپنی فطری خواہشات کی تکمیل کے لئے کرتا ہے نیت کی درستگی سے عبادت بن جاتے ہیں ،جیسے کھانا پینا، بیوی سے مباشرت وغیرہ، اس کی سب سے بڑی دلیل وہ حدیث ہے جس میں آپ  ا نے صحابہ ث سے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہے یہ بھی صدقہ ہے، صحابہ نے کہا: ایک شخص اپنی شہوت پوری کرتاہے ، کیا اس پر بھی وہ اجر وثواب کا مستحق ہے؟ حضور نے فرمایا: تم غورکروکہ اگر وہ اپنی خواہش کسی حرام ذریعہ سے پوری کرتا تو اس پر گناہ ہوتا؟انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اسی طرح جب وہ حلال ذریعہ سے اپنی خواہش پوری کررہا ہے تووہ ثواب کا مستحق ہے‘‘(ابن حبان : 4167)۔علماء نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے انتہا رحمت کی بات ہے کہ وہ فطری خواہش کی تکمیل کو بھی عبادت بنا دیتا ہے، اوراس پر ثواب عطا فرماتا ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی اور شرمگاہ کی حفاظت کی نیت کی جائے۔

اسلام کی ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عبادت صرف مخصوص اعمال سے مربوط نہیں بلکہ اس کا رشتہ پوری زندگی سے ہے، اسی لئے حضرت معاذ بن جبل ص فرمایا کرتے تھے:’’وَأَرْجُوْ فِيْ نَوْمَتِيْ مَا أَرْجُوْ فِيْ قَوْمَتِيْ‘‘  ( جس طرح میں تہجد میں اجروثواب کی امید رکھتا ہوں سونے میں بھی اجر وثواب کی امید رکھتا ہوں)،ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اسلام کی مقررہ عبادتوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ حسن نیت اور اخلاص سے اپنی عادتوں کو بھی عبادتوں میں تبدیل کردیں،اور اس طرح ہماری پوری زندگی عبادت سے عبارت ہوجائے:

عبادت اک ضرورت سے تھی پہلے  

 ضرورت اب عبادت ہوگئی ہے





آئیے! خلوص نیت کے ساتھ نیا عزم سفر پیدا کریں

 مولانامحمد سرفراز ندوی قاسمی ازہری 


ریسرچ اسکالر: جامعۃ الازہر مصر

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق کچھ اصولی اور کلی باتوں کی تعلیم دی ہے، عام انسان کو اگر ان اصولی باتوں کا علم ہو جائے، تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے، جیسا کہ اعمال پر اجر و ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اگر ملے گا تو اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت مشہور حدیث ہے کہ "إنما الأعمال بالنیات" یعنی اعمال کے قبول ہونے اور قبول نہ ہونے کا دار ومدار نیتوں پر مبنی ہے یعنی اجر وثواب کا تعلق انسان کی اچھی یا بری نیت سے ہے، اگر انسان نے وہ کام اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے، تو یقینا اس پر اجر وثواب ملے گا۔ 

یاد رہے کہ نیت کا تعلق دل سے ہے اور دل کے قصد و ارادہ کو کہتے ہیں، بہت سے محدثین نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے، بعض نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اس حدیث سے کیا ہے، اس حدیث شریف سے کتاب کا آغاز کرنے کا مقصد اس بات کی تعلیم دینی ہے، کہ جو کام کرنے جا رہے ہیں وہ بہت ہی اہم کام ہے، لہذا اس کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت وارادہ کا جائزہ لے لیا جائے، کیونکہ اعمال کا اللہ کے یہاں قبول ہونا نیتوں کے صحیح ہونے پر ہی موقوف ہے، حضرات علماء نے اس حدیث کو اس کے عظیم معانی کی وجہ سے بڑی اہمیت دی ہے لہذا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث فقہ کے ستر ابواب سے تعلق رکھتی ہے، امام احمد بن حنبل رحمۃ علیہ کا قول ہے کہ یہ حدیث دین کے ایک تہائی علم پر مشتمل ہے، ایسا کیوں نہ ہو، کیونکہ اس حدیث میں نیت کی تعلیم اتنے عام اور سادہ انداز میں دی گئی ہے، جس کے سمجھنے کے لئے کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان اپنے دل سے معلوم کرے کہ اس نے یہ کام کس کے لئے کیا، اللہ تعالی کو خوش کرنے کے مقصد سے کیا ہے یا کوئی اور غرض تھی؟ ایک اور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو یہی بات سمجھاتے ہوئے معلوم کیا کہ اے وابصہ! تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں معلوم کرنے آئیے ہو کہ نیکی کیا ہے اور گناہ کیا ہے؟ تو اے وابصہ! تم اپنے دل سے معلوم کرو، جس سے تمہارا دل مطمئن ہو تو وہ نیکی اور اچھا کام ہے اور جس کے بارے میں دل کے اندر شک وتردد اور پس وپیش ہو تو وہ گناہ ہے، اگرچہ لوگ اس کے بارے میں فتویٰ دیں۔ لہذا مذکورہ حدیث میں ایک اصولی بات کی تعلیم دی گئی ہے جس کو ہر عام وخاص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ سال 2020 ہم سے رخصت ہو چکا ہے اور نئے سال کا ہم استقبال کرنے جا رہے ہیں، لہذا اس موقع پر ہم بھی ایک مرتبہ اپنی نیتوں کا جائزہ لے لیں، ابھی تک جو کام کرتے چلے آرہے تھے ان پر ایک بار سر سری نظر ڈال لیں، ان میں جو اچھے کام شریعت کے مطابق سال گذشتہ ہم سے بن آئے، ان پر رب کا شکر ادا کریں اور مزید کی توفیق طلب کریں، کیونکہ شکر ادا کرنے پر اللہ تعالی نے اپنے کلام پاک میں مزید کا وعدہ کیا ہے، جو کام غفلت یا بھولے سے خلاف شرع ہم سے سرزد ہوئے ہیں ان پر اللہ تعالی سے معافی مانگیں، یقینا اللہ تعالی کو اپنے بندوں کی توبہ بڑی پسند ہے وہ بہت جلد معاف کر دیتا ہے، امام ترمذی رح نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جان حلق میں نہ پھنس جائے یعنی آخری سانس تک بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی کے بندے کو ویران جنگل میں اپنی کھوئی ہوئی سواری یعنی اونٹ کے ملنے سے ہوتی ہے۔ ایک انسان کے پاس ویران جنگل میں، جہاں درندوں کے چیر پھاڑ کا ڈر ہو، اس کی سواری سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوسکتی ہے، اسی لئے مثال دے کر سمجھایا۔ 

اچھی اور بری نیتوں کے درمیان ایک تیسری قسم بھی ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ذکر کیا ہے، اور وہ ہے بے نیتی کے ساتھ کوئی کام کرنا، ہر کام کے شروع کرنے سے پہلے اچـھی نیت ضرور کرنی چاہئے کیونکہ حدیث میں ہے کہ اچھی نیت پر ایک نیکی ضرور مل جاتی ہے، اگر اس کام کو انجام دے دیا تو دو نیکی مل جاتی ہیں ایک اچھی نیت کی وجہ سے اور اس نیت پر عمل کرنے کی وجہ سے۔

اس نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہمیں اچھے کاموں کے کرنے کا عزم کرنا ہے، ہر اچھے کام میں اپنی نیتوں کو دیکھنا ہے اور اچھے کاموں کے کرنے میں نیت و ارادہ کرنا ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ "ایک مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے"۔

  اس نئے سال کی آمد کے موقع پر جہاں ایک طرف ہم اپنے کار وبار کا جائزہ لے رہے ہیں، اپنے مکانوں کی ترمیم و تجدید کر رہے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو تعمیر کرنے کی فکر کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب ہمیں اپنے دینی پہلو پر بھی توجہ دینی ہے، گزشتہ سال اگر فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے، تو اس سال کوتاہی نہیں کرنا ہے، نوافل کا اہتمام اگر نہیں ہو سکا ہے، تو اس سال نوافل کا بھی اہتمام کرنا ہے اگر قرآن کی تلاوت نہیں کی تھی، یا تدبر وفکر کے بغیر ہی پڑھا تھا، تو اس نئے سال کی آمد کے موقع پر آپ یہ عزم وارادہ کریں کہ آج سے کچھ نہ کچھ آیتوں کو ترجمہ ومعانی کے ساتھ پڑھنے کا معمول بنانا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے، سال گذشتہ اگر مطالعہ میں کسی طرح کی کمی ہوئی ہے یا بالکل ہی مطالعہ کی توفیق نہ مل سکی تو آپ ایک نئی امنگ اور پورے جوش وجذبے کے ساتھ نئے سال کا استقبال کریں، روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنے کا معمول بنائیں، سال گذشتہ آپ کی لغت میں نئے الفاظ ومعانی کا اضافہ نہ ہوسکا ہو تو کوئی بات نہیں، اللہ تعالی سے دعا کریں اور کسی دوسری زبان کے سیکھنے کی شروعات کریں۔ اپنے جائز مقاصد کے حصول کے لیے آخری حد تک محنت و کوشش کیجئے اور اپنے نیک اور اچھے کاموں پر جم جائیے کیونکہ اللہ کے رسول علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے "بہترین عمل وہ ہے جو کہ پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ کم ہو۔" 

  الغرض اس نئے سال کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کے ساتھ خود کو بدلنے کی کوشش کیجئے، دنیا میں صرف آپ ہی کے اندر اللہ تعالی نے وہ جادوئی صلاحیت پنہاں کی ہے، جس کی بنیاد پر آپ اپنی نافعیت کو دنیا کے سامنے ثابت کر سکتے ہیں، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے دنیا کے اندر رونما ہونے والے انقلابات میں کار فرما قوت کی جانب بہت ہی بلیغ انداز میں اشارہ فرمایا ہے کہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا انقلاب، کسی بھی طرح کی تبدیلی کی ابتداء خود انسانوں کے اندر سے ہوتی ہے، اس انقلاب وتبدیلی کا سرچشمہ خود انسانوں کی اپنی ذات ہے، ان کا اپنا عزم وارادہ ہے کہ وہ اپنی سابقہ غلط اور غیر شرعی روش کو ترک کر دیں اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کا عزم و ارادہ کریں، جو رب کی منشاء کے مطابق ہو، اس کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق ہو: 

 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا 

اللہ تعالی نے انقلاب کا سرچشمہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، جس کے سوتے اس کے عزم و ارادے سے مربوط ہیں اور اس کی روح اخلاص کے اندر پوشیدہ ہے۔

لہذا نئے سال کے موقع پر ہمیں ایک نئی زندگی کے آغاز کرنے کا عزم کرنا ہے جو نشاط سے پر ہو، جس میں امیدوں کے دریچے ہوں اور ان دریچوں سے کامیاب مستقبل کی ہواؤں کے جھوکے مشام جاں کو معطر کر رہے ہوں۔ کیوں کہ نیا سال بہت سی آرزوؤں اور تمناؤں کا سیلاب لے کر آیا ہے تو ان شاء اللہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ کامل محنت وکوشش کرتے ہوئے اپنے مقاصد پر جم جانا ہے اور پورے جوش اور حکمت عملی کے ساتھ آنے والے سال میں رنگ بھرنا ہے۔


ذہنی توازن

 مولانا عبد الستار ندوی



بنیادی طور پر ہمارے دماغ میں کچھ ایسے مراکز ہیں جو ہمیں خطرے کے وقت متنبہ کرتے ہیں مثلا ہم کسی جنگل میں ہوں اور ہمارے پیچھے کوئی درندہ لگ گیا  ہو یا ہم کسی عمارت میں ہوں اور شدید زلزلہ آ گیا ہو یا اسی طرح ہم کسی گاڑی میں ہوں اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے حادثے کا شکار ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہوں تو پھر ایسے موقعوں پر ہمارے دماغ کے وہ مراکز ہمیں الارم دیتے ہیں کہ ہم اپنا دفاع کرنے کو تیار ہو جائیں، painic disorder میں یہ ہوتا ہے کہ ہمارے  دماغ کا وہ حصہ بہت زیادہ غیر معمولی طور پر حساس ہو جاتا ہے اور بغیر کسی خطرے کے یہ علامات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں انسان ہمیشہ متفکر رہنے لگتاہے اور ہمیشہ اس پرنا امیدی و اداسی چھائی رہتی ہے،اگر یہ تناؤ وقتی ہو تب تو کوئی مسئلہ نہیں مگر یہ کیفیت اگر لمبے عرصے تک کسی پر طاری رہی تو اس سے جسمانی،ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں خصوصاً جب یہ دائمی بن جائیں۔

طویل المیعاد تناؤ سے پیدا ہونے والے مسائل درجِ ذیل ہیں۔

جسمانی توانائی میں کمی،

  سر درد،

 سینے میں تکلیف،

 دل کی دھڑکن تیز ہونا، 

سونے میں مشکلات یا بہت زیادہ نیند،

 مسلز میں تکلیف یا دباؤ،

 کانوں میں گھنٹیاں بجنا، ہاتھوں یا پیروں میں سردی کا احساس یا پسینہ،

 منہ خشک ہونا تھوک یا کوئی چیز نگلنے میں مشکل محسوس ہونا،

 ہاضمے کے مسائل،

 ازدواجی تعلقات میں تبدیلیاں،

 ہائی بلڈ پریشر،

 دل کے امراض،

 ذیابطیس،

 دمہ،

 جوڑوں کے درد،

بہت زیادہ تناؤ کی علامات درج ذیل ہیں

ذہنی بے چینی، 

یا خوف کے حملے،

 تناؤ سے نمٹنے کے لیے منشیات کا استعمال کرنا،

بہت زیادہ کھانا،

تمباکو نوشی،

گھر والوں اور دوستوں سے دوری اختیار کرنا،

ڈپریشن میں چلے جانا۔

اگر کوئی انسان ڈپریشن میں چلا گیا تو  پھر بڑے مسائل ہوتے ہیں،زندگی اجیرن بن جاتی ہے، ڈپریشن کی وجہ سے ہاضمہ اور معدے کا پرابلم تو ہوتا ہی ہے باقی زندگی کی ترتیبیں بھی بگڑ جاتی ہیں، انسان کا دل ہمیشہ اداس رہنے لگتا ہے، اگر زندگی میں کچھ اچھا بھی ہو رہا ہو تب بھی دل خوش نہیں رہتا، عام اداسی اور ڈپریشن والی اداسی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ عام اداسی کسی خوشی کے مل جانے پر دور ہو جاتی ہے مگر یہ اداسی کس خوشی کے حاصل ہونے پر بھی نہیں جاتی ایسا شخص sad soul ہوجاتا غمزدہ رہنا اسکے مزاج میں داخل ہو جاتا ہے، ایسا شخص موجودہ خوشی سے خوش نہیں ہوتا بلکہ اس کی نگاہیں آئندہ کے غم کو تلاش کرنے میں لگی رہتی ہیں، کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا ہے بلکہ ان چیزوں میں بھی دل نہیں لگتا جو کبھی اس کا محبوب مشغلہ رہا ہو جبکہ پہلے وہ اسے خوش دلی کے ساتھ کرتا تھا، نیز یہ کہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے لئے اپنے آپ کو قصور وار گرداننا اس کی عادت بن جاتی ہے، اس لئے زندگی اس کے لئے ایک بوجھ بن کر رہ جاتی ہے چنانچہ ایسے شخص کو بار بار خود کشی کے خیالات آتے ہیں، 2015  کے ایک سروے کے مطابق ہرچالیس سیکنڈ پہ ڈپریشن کی وجہ سے  ایک خودکشی ہوتی ہے۔

ڈپریشن کے وجوہات اور اسلام کا نقطہ نظریہ۔

ڈپریشن کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں ان میں سے چند کا ذکر اور اسلامی تعلیمات سے ان کا حل پیش کیا جاتا ہے۔

ڈپریشن کے وجوہات میں سے سے ایک وجہ ناشکری بھی ہے ایسی حالت میں انسان اپنی نعمتوں کو چھوڑ کر دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتا ہے بلکہ اپنی دنیاوی و مالی حالت کا موازنہ اپنے سے اوپر والے کے ساتھ کرتاہے اس کیفیت کا شکار انسان بہت پریشان رہتا ہے، اگر  ہم اسلامی تعلیمات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے یہ ایک  مذموم وصف ہے جو دل کے سکون کو ختم کردیتا ہے، انسان کو خوش رہنے کے لئے ضروری ہے ہے کہ ہمیشہ اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی طرف دیکھو  جو تم سے کمتر ہے (دنیاوی امور میں) اور اس شخص کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی  اس نعمت کو حقیر نہ جانو جو تم پر ہے (بخاری)

شکر ایک ایسی کیفیت ہے جس سے سکون قلب میسر ہوتا ہے اور اللہ تعالی شکر ادا کرنے والوں پر مزید عنایت فرماتا ہے  سورہ ابراہیم میں اللہ تعالی فرمایاہے کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں  تمہیں اور زیادہ دونگا اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو میرا عذاب بڑا سخت ہے (سورہ ابراہیم آیت7)

زیادہ ماضی میں رہنا

اسی طرح اگر کوئی شخص بہت زیادہ اپنی ماضی کی باتوں کو دہراتا ہے، میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ یا میرے ہی ساتھ  ایسا کیوں ہوا؟اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا،یا میرے ساتھ ایسا نہ ہوتا اگر میں ایسا کیا ہوتا، یہ جو اگر مگر کی کشمکش ہے اس سے انسان ذہنی طور سے بہت زیادہ پریشان ہوجاتا ہے،اور ڈپریشن میں جانے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں ماہرینِ نفسیات نے ڈپریشن کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب ماضی میں بہت زیادہ کھوئے ہوئے رہنا بھی بتایا ہے اس تعلق سے اسلام کی تعلیمات  میں بھی بہت اہم صراحت موجودہے  پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوتا لیکن کہو کہ یہ اللہ نے مقدر کیا تھا،اور اس نے جو چاہا وہ کیا،بیشک لفظ "اگر" شیطان کے عمل کو کھولتا ہے (یعنی شیطان کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے) (مسلم)

اس بارے میں قرآن بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے سورہ حدید میں ہے"تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ نہ عطا کردہ چیز پر اتر آؤ (سورہ حدید آیت 23)

زیادہ مایوس رہنا

ہمیشہ  مایوس رہنا یا اکثر نا امیدی کی باتیں کرنا نا منفی سوچ  اپنے ذہن و دماغ میں پالے رہنا، ان سب چیزوں سے بھی انسان ڈپریشن میں چلا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات تو بے بس اسٹیٹ آف مائنڈ میں چلا جاتا ہے،اگر ہم ڈپریشن سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنی ہوگی جہاں ہم خوش رہ سکیں، خوش رہنا ٹینشن اور ڈپریشن کا سب سے بہتر ہے علاج ہے،ہمیں چاہئے کہ ہم ان چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔

جدید ریسرچ بھی اس بات کو کو ثابت کر چکی ہےکہ ہنسنا، مسکرانا،اور خوش رہنا ذہنی و جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، ذہنی تناؤ،نا امیدی اور بے چینی کو کم کرتی ہے،اسلام بھی ہمیں مسکرانے اور دوسروں کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کرتا ہے۔ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا صدقه ہے (ترمذی) پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں احادیث میں  آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ عیاں رہتی تھی۔ڈپریشن سے بچنے کے لئے اور بھی طریقہ کار استعمال کئے جاسکتے ہیں۔مثلاً خدا کی سچی معرفت،آخرت پر یقین،دنیا کے فانی ہونے کا استحضار،صبر و شکر اور تحمل کو اپنانا،ذکر اللہ کی کثرت،مثبت سوچ پیدا کرنا،حسد سے بچنا،تقدیر پر پورا اور کامل ایمان،لمبے سجدوں کی پابندی،اچھی غذا لینا،ورزش کرنا،فلم اور ڈراموں سے پرہیز کرنا، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔

اس کے علاوہ بھی ڈپریشن کے کئی وجوہات ہیں مثلا جسم میں بائیو کیمیکل کا پرابلم، یا عمر کے کسی حصے میں کبھی جسمانی استحصال، یا اموشنل ابیوز سے گزرنا پڑاہو، اسی طرح دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ بھی ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے،تحقیقات سے بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ بیماری موروثی بھی ہوتی ہے۔

ایسی بیماریوں میں عام طور پر ماہرِ نفسیات کے ساتھ کونسلنگ،ورزش،طرزِ زندگی میں تبدیلی اور سوچ کو مثبت رکھنے کی عملی مشقوں سے انسان پھر سے ہشاش بشاش ہوجاتا ہے،مگر ان کوششوں سے افاقہ نہ ہو تو کسی ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کے استعمال سے بھی عصبی کیمائی مادوں کی مقدار میں توازن پیدا ہوجاتا ہے اور مریض چند ہفتوں کے اندر بہتری محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔


قلم کا مثبت اور منفی پہلو

 مولانا محمد طارق بدایونی ندوی 


ریسرچ اسکالر: ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ

قلم؛ یہ سہ حرفی لفظ ق- ل- م کا مجموعہ ہے ، ماہر لسانیات نے اس کے کئی مفہوم بیان کیے ہیں، مثلاً؛ قینچی، کاٹنا یا تراشنا وغیرہ، نیز اس کو سیاہی اگلنے والا آلہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کے توسل سے لاکھوں کروڑوں حروف کے ذریعہ با معنی الفاظ تراشے جاتے ہیں ، قلم کی نوک سے لکھے گئے الفاظ نقصان دہ بھی ہوتے ہیں اور نفع مند بھی ثابت ہوتے ہیں۔

حقیقۃً قلم کی درست حیثیت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا مثبت فکر اور پاکیزہ خیالات کا حامل ہو، علاوہ ازیں بالعموم انسانوں میں افکار ونظریات کے اعتبار سے ہم دو طرح کے افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں؛

(۱)مصلح قلم کار (۲)مفسد قلم کار۔

پہلی قسم ان حضرات کی ہےجو سماج میں پھیلی برائیوں کے خاتمہ کے خواہاں ہو تےہیں، جیسے؛ فرقہ پرستی، نسل پرستی، قوم پرستی اور زبان پرستی، ایسے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مزاج شریعت اور مزاج نبوت سے واقفیت کے ساتھ قلم کا استعمال کریں۔اور جہاں تک دوسری قسم کا تعلق ہے تو وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا مقصد مفادات سے جڑا ہوتا ہے، جب وہ لکھتے ہیں تو اپنے قلم کو مادیت پرستی ،خود غرضی ،موقع پرستی اور مفاد پرستی کی جانب موڑ دیتے ہیں ۔

یہ بات قابل وضاحت ہے کہ ’’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے ‘‘، یہ جملہ سب سے پہلے ۱۸۳۹ء میں ایک مشہور ناول نگار اور اداکار ’’ایڈورڈبلیو لیٹون ‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں لکھاہے اور واقعی اس نے اس جملہ کا بجا استعمال کیا ہے ، کیونکہ قلم ایک ایسی طاقت ہےجس کے مقابلہ کی توپ و خنجراور تیشہ و بندوق میں تاب کہاں ؟

اسی طرح ایک مفکر کا قول ہے کہ ’’میں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ قلم کی سرسراہٹ سے ڈرتا ہوں‘‘ اور ڈرنا بھی چاہیے کیونکہ اگر قلم کسی غیر جانب دار صحافی کےہاتھ میں ہو تولمحوں میں تمام جرائم اور برائیوں کا انکشاف کر سکتا ہے اور اس میں یہ بھی ہمت ہے کہ وہ سماج میں پھیلی کثافتوں کو بھی خوبیوں سے تبدیل کر سکتا ہے اور ایسی تدابیر اور اصول بھی مرتب کر سکتا ہے جو لوگوں کو فلاح و بہبود سے ہم کنار کر سکیں۔

یہ قلم ہی کی طاقت ہے کہ انسان کی باطنی اصلاح میں بھی اس کو کلیدی کردار حاصل ہے اور مصلحین کرام کے قلم سے نکلی ہوئی تحریروں سے دل کی دنیا بدلنے کا عام دستور رہا ہے۔اسی تعلق سے مولانا جلال الدین رومی کا ارشاد ہے کہ’’انسان اپنی آوازکے بجائے الفاظ کو بلند کرے، کیونکہ لفظوں کی بارش ایک ایسی بارش ہے جو محض گرجتی ہی نہیں بلکہ پھول بھی دیتی ہے۔‘‘قلم سے ہی الفاظ نکلتے ہیں اور مولانا رومی کا اشارہ بھی قلم ہی کی طرف ہے ۔ یقیناً قلم سے اٹھائی گئی آواز پھول اس طور پر دیتی ہے کہ کالے کرتوتوں کو اجاگر کرتی ہے جس کے نتیجہ میں اچھے کارنامے وجود میں آتے ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے؛ ’’ن والقلم ومایسطرون‘‘   مفسرین کرام اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ قلم ہی وہ شئی ہے جس کی رب نے قسم کھائی ہے، جو بلاشبہ قلم کی اہمیت و افادیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہی وہ قلم ہے جس نے احادیث شریفہ کی تدوین کی ، قرآن مجید کو بھی مدون کیا گیا ، یہ الگ بات ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت کی خود اللہ رب العزت نے ذمہ داری لی ہے۔ارشاد ربانی ہے؛’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ اسی طرح رب العالمین نے اپنے کلام کو سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچایا تو ہے لیکن ساتھ ساتھ قلم کو بھی ذریعہ بنایا ہے۔

یہ بات بھی بھلائی نہیں جا سکتی کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس کو تمام جہان عالم کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا ، اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں کہ انسان روز قیامت میں متحیر ہو کر پکار اٹھے گا کہ’’ ان ھذا لشئی عجاب ‘‘ یہ تو بڑی عجیب چیز ہے۔

یہ بھی ذہن نشین کر لیا جائے کہ اسی قلم کی بدولت ہم تک دوسرے ادیان و اقوام اور ان کی مقدس کتب پہنچی ہیں ۔ گویا قلم ایک ایسی بابرکت نسل کے مانند ہے جس کی افزائش تاقیامت جاری رہے گی۔

قلم کا استعمال منفی و مثبت دونوں طرح کیا گیا ہے اور کیا جا رہاہے، درج ذیل کچھ مثالیں نذر قارئین ہیں؛

عبد اللہ بن مقفع نے قرآن کے ہم مثل کتاب لکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام و نا مراد رہا ، بلاشبہ اس سے زیادہ قلم کا ناجائز استعمال انسانیت کی تاریخ میں نہیں ہوسکتا۔

کفار مکہ کے ایک شخص نے قرآن مجید کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ’’الفیل ما الفیل وما أدراک ما الفیل...‘‘  جیسی پھسپھسی عبارت لکھی اور پھر اسے بھی شکست سے دوچارہونا پڑا۔ٹھیک اسی طرح اُن مصنفین کی تحریریں بھی ہیں جو فحش فلموں اور فحش ڈراموں وغیرہ میں کتابت کا کام کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے اکثر و بیشتر  تحریروں کے نتائج تخریب کاری ہی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔

ابھی ۸ ؍دسمبر کا واقعہ ہے کہ تسنیم خلیل کو صرف اس جرم میں حراساں کیا گیا کہ انھوں نے اپنے قلم کو موجودہ حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اور ساتھ ساتھ ان کے دجل و فریب کو آشکارہ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، جس کے نتیجہ میں ان کی والدہ تک کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔قلم کے مثبت استعمال کا شاہکار دور وہ ہے جس میں علم الرجال و حدیث کے ماہرین نے بڑی عرق ریزی سے احادیث نبویہ کو قلم بند کیا ہے۔

قلم کے استعمال کے لیے آج دو طرح کے نظریے پائے جاتے ہیں؛ منفی اورمثبت ۔البتہ ہر دور میں ان قلم کاروں کی افادیت ومعنویت کو سراہا گیا ہے جنھوں نے اپنے قلم سے معاشروں اور قوموں کو درست وصالح راہ کی رہ نمائی کی ہے، تاہم ان افراد کی ارباب علم وفکر نے نہ قدر کبھی کی ہے اور نہ ہی کی جاسکتی ہے جنھوں نے قلم کو تملق ونجی مفادات اور کف گیری کی خاطر استعمال کیا ہے، جس کی موجودہ دور میں سب سے اعلیٰ مثال ملک کی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا ہے۔


غزل

 



نتیجۂ فکر۔ محمد صلاح الدین رضوی ،محمد پور ،مظفر پور


میں ایسی ہواؤں کا چلن دیکھ رہا ہوں

اڑتی ہوئی لاشوں سے کفن دیکھ رہا ہوں


شہزادئی اسلام فقط تیری ادا سے

مہتاب کے چہرے پہ گہن دیکھ رہا ہوں


مانوس تھا ہر سرخئ گل رنگ حنا سے

ماضی کا ترا ایسا چمن دیکھ رہا ہوں


مغرور نہ ہو ظلم نہ کر اہل چمن پر

ہے ملک عدم تیرا وطن دیکھ رہا ہوں


کچھ تجھ سے گلہ اور ہے کچھ اپنی خطائیں 

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن دیکھ رہا ہوں


سکتے میں فقط اہل چمن ہی تو نہیں ہیں

میں وقت کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوں


کیا بات ہے رضوی ترے انداز سخن میں

ہر جا نیا موضوع سخن دیکھ رہا ہوں


مطالعہ-کیوں اور کیسے؟

 طوبیٰ عرفان اعظمی



امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ

’’میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کبھی سیر نہیں ہوتی، جب کسی نئی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ تاریخ میں ایسی نہ جانے کتنی عظیم شخصیات موجود ہیں جن کی کامیابی کا راز مطالعہ ہے۔

مشہور ہے کہ’’مطالعہ روح کی غذا ہے‘‘ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا روح کے لیے ہر غذا فائدہ مند ہی ہوگی؟ تو معلوم رہے کہ جس طرح جسموں کے لیے ہم بہترین غذا کا انتخاب کرتے ہیں، بہت سوچ سمجھ کر اور غذا کی مفادیت کو جان کر ہم جسم کی غذا منتخب کرتے ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری سے ہمیں روح کی غذا کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ وہ ہمارے دل و دماغ کو تندرست اور روشن بناسکے۔

دوستو! تاریخ کی عظیم شخصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں بھی اپنی عادت میں مطالعہ کو شامل کرنا چاہیے، ہمیں بھی اپنی شخصیت کو سنوارنا چاہیے، خود کو نکھارنا چاہیے، تاکہ انسانیت کو فروغ ہو، ہمدردی کا جذبہ پروان چڑھے اور ہمارے معاشرہ میں ایک خوشگوار ماحول قائم ہو۔

مطالعہ کی اہمیت

’’مطالعہ روح کی غذا ہے‘‘ اس لیے کہ مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے، مطالعہ انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور علم انسانیت کی معراج ہے، وہ چیز جو انسان اور حیوان میں فرق کرتی ہے وہ ہے علم۔مطالعہ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ ہمارے سرکار دو عالمﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ پڑھنے ہی سے متعلق تھی، ارشاد ہے؛

{اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ}(پڑھئے اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا)

مطالعہ کے فوائد

بلاشبہ مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، مطالعہ کی عادت وقت کو انمول بناتی ہے، مطالعہ ہماری تنہائی کا سب سے بہترین ساتھی ہے جوشعور و فکر کو جلا بخشتا ہے اور اخلاق کا معیار بلند کرتا ہے، تنگ نظری دور کرتا ہے، جس کے نتیجہ میں انسان کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے، عربی کے ایک مشہور شاعر نے کہا ہے کہ   ؎

خَیْرُ الْجَلِیْسِ فِی ہَذَا الزَّمَانِ کِتَابُ

(دورحاضر میں بہترین ہم نشین کتاب ہے)

مطالعہ خواہ کتابوں کا ہو یا اچھے مضامین کا، بہرحال یہ ایک مفید مشغلہ ہے، ماہرین کے مطابق پڑھنے کی عادت انسان کی صحت پر اچھا اثر ڈالتی ہے، مطالعہ کی عادت سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، ڈاکٹروں کے مطابق مطالعہ انسان کو فکروں سے آزاد کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر ہم کسی عظیم شخصیت سے اس کی کامیابی کا راز پوچھیں تو بلاشبہ اس میں ’’مطالعہ‘‘ سرفہرست ہوگا۔

طوبیٰ عرفان اعظمی


آداب ِمطالعہ

ہر چیز کے کچھ آداب اور اصول ہوتے ہیں، اسی طرح مطالعہ کے بھی کچھ اصول وآداب ہیں، جن کو آپ ذہن میں رکھ کر مطالعہ کا پورا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مطالعہ کے لیے سب سے ضروری ہے کہ آپ جس کتاب کا مطالعہ کریں ٗخواہ وہ درسی ہو یا غیر درسی، اسے اچھی طرح جانچ پرکھ لیں کہ وہ تحریر یا کتاب آپ کے ذہن کے لیے مفید ہے یا نہیں؟ بقول مولانا علی میاں ندویؒ ؛ ’’مطالعہ دو دھاری تلوار ہے جو بگاڑ بھی سکتا ہے اور سنوار بھی سکتا ہے،‘‘ لہٰذا کوشش کریں کہ مطالعہ کسی بزرگ یا عالم دین کی نگرانی ہی میں کیا جائے۔

مطالعہ کرتے وقت جو بات آپ کو پسند آئے یا جو پوائنٹ اہم لگے ٗاسے کسی ڈائری یا کاپی پر ضرور نوٹ کرلیں، تاکہ وہ بات محفوظ ہوجائے اور دوبارہ بھی اسے آسانی سے مطالعہ میں لایا جاسکے، یہ بھی کوشش کریں کہ آپ نے جو کچھ پڑھا یا جو کچھ سیکھا ہے ٗاسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتائیں اور خود بھی اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں، تاہم جو باتیں آپ کو سمجھ نہ آئیں ٗانہیں کسی جان کار سے پوچھ لیں، تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے اور آپ کو تفصیل سے معلومات حاصل ہوسکیں۔مطالعہ ہمیشہ باریک بینی کے ساتھ کریں، صرف وقت گذاری یا تفریح کی نیت سے بالکل نہ کریں، کیونکہ حدیث میں ہے؛

’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ‘‘(اعمال کا دار و مدار نیتوں پر موقوف ہے)

مطالعہ کے لیے ہمیشہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں ٗجہاں تنہائی اور یکسوئی کے ساتھ سکون بھی ہو، تاکہ مطالعہ کے دوران آپ کا ذہن بار بار اِدھر اُدھر نہ بھٹکے، مطالعہ کے لیے جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں سے قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ روشنی اور تازہ ہوا بھی بآسانی میسر ہو۔


اہل عزیمت مولانامحمد سرفراز ندوی قاسمی ازہری


 انسانی تاریخ عام طور سے اور تاریخ اسلامی خاص طور سے ایسے لوگوں کے کارناموں سے روشن ہے، جنہوں نے حق و انصاف کے لیے بڑی سے بڑی پریشانیوں کا سامنا کیا، بڑے بڑے خطرات مول لئے، ان کو حق وانصاف کے سلسلے میں نہ تو دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاور طاقتوں کا جاہ و جلال روک سکا اور نہ ان کو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت حق بات بولنے سے باز رکھ سکی، لیکن ان اہل حق اور اہل عزیمت نے اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہوکر امت کے اجتماعی مفاد کے لئے کام کیا۔ ہمیشہ امت کی خیر خواہی کو حرزِ جاں بنائے رکھا، اعلائے کلمۃ اللہ کو اپنا نصب العین بنایا، اس کے راستے میں آنے والی ہر قسم کی پریشانیوں کو بخوشی قبول کیا، ان اہل عزیمت نے اپنی جان و مال، عزت و آبرو کی بھی پرواہ نہیں کی۔

کوئی انصاف پسند مصنف ان کی فہرست تیار کرنا چاہے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں، ان کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں پوشیدہ ضرور ہے لیکن وہ اہل حق اپنے روشن کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں، جن کارناموں کو ان کے بعض معاصرین نے قلم بند کر کے امت کے لئے ایک قیمتی اثاثہ کے طور پر محفوظ کر دیا، حالانکہ ان کے معاصرین میں بعض ایسے بھی تھے، جو انہیں کے جیسا اثر رسوخ رکھتے تھے، صاحب جبہ و دستار تھے، وقت کی ہواؤں کے ساتھ زندگی کا مادی سفر بڑے عیش و آرام کے ساتھ طے کر رہے تھے، مؤرخین نے ان دونوں ہی قسم کے علماء و مفکرین، دانشوروں وانقلابیوں اور اصحاب قلم وممتاز شخصیتوں کی زندگیوں کی ایک ایک نقل وحرکت کو بڑے سلیقے سے قلمبند کیا ہے، تاکہ جب امت کو عزیمت کے راستے پر چلنے کی دعوت دی جائے، تو ان کے سامنے کچھ عملی نمونے بھی پیش کر دئے جائیں۔

   اللہ تعالی نے ہر میدان کے لئے مناسب صلاحیتوں والے افراد پیدا کئے ہیں، جو خداداد صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر اس میدان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس سلسلے میں اسلامی تاریخ کے فقہاء و محدثین، اصحاب فلسفہ ومنطق اور اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والوں کو بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے، یہ ملکۂ خداداد اور وہبی صلاحیتیں باطل کے ظلمت کدوں میں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشن قندیل کا کام کرتی ہیں، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جب اس قندیل کو ہاتھ میں لے کر ماضی کے گلیاروں میں ان اہل عزیمت کو تلاش کیا جنہوں نے مشکل حالات میں امت کو ارتداد والحاد سے بچایا، باطل طاقتوں کا سامنا کرنا سکھایا، طوفانوں کا رخ کیسے موڑا جاتا ہے، اس کی مثالیں پیش کی اور اس طرح پوری دنیا کو عام طور سے مسلمانوں کو خاص طور سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے "دعوت وعزیمت" نامی کتاب کی شکل میں ایک بہترین تحفہ عطا کیا۔

یہ باتیں میرے ذہن کے نقشے پر اس وقت ابھر کر آئیں، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر ملک کے وزیراعظم کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا، اس موقع پر بعض علماء برادری سے تعلق رکھنے والے اصحاب قلم کی تحریریں سامنے آئیں جن میں حد درجہ مرعوبیت بالکل عیاں تھی، اخبارات میں تحریریں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کہیں قدم بوسی کا مظاہرہ ہورہا ہے، جس میں ہر بعد میں آنے والا شخص پہلے والے پر فوقیت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں یا تو اہل عزیمت کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے تھا کہ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے آواز اٹھائی جاتی یا پھر خاموشی وسکوت اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن یا للاسف۔

شاید ایسے اصحاب قلم کو معلوم نہیں ہے کہ وقت کا مورخ کسی زاویہ میں بیٹھے ہوئے ان کی ہر ہر حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بعد میں آنے والوں کے لیے اس کو محفوظ کر رہا ہے وہ ایک طرف اہل عزیمت پر ہونے والے ظلم وتشدد اور ان کی حق وانصاف کے لئے ثبات قدمی کو ذکر کرنے کے بعد بڑے فخر سے کلیم عاجز کی زبان میں یہ شعر گنگنا رہا ہے کہ: 

ہمیں ہیں آئینہ، آئینہ گر، آئینہ ساز، دیکھو

ادھر کیا دیکھتے ہو، اس طرف کیا ہے، ادھر دیکھو

  ایسے اہل عزیمت حضرات کے روشن کارناموں پر بعد میں آنے والوں کو فخر ہوگا، پھر کوئی مفکر اسلام جیسا انصاف پسند مورخ دنیا کے پردے پر جلوہ نما ہوگا اور ہمارے معاصر اہل عزیمت کو کتابوں کے انبار میں ٹارچ لے کر تلاش کرے گا اور امت کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کرے گا، امت کو مشکل حالات میں ان کے کارناموں سے رہنمائی ملے گی، اس کے حوصلے کو مہمیز ہوگی، حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی اور دوسری طرف ہوا کے دوست پر چلنے والوں کا بھی تذکرہ کرے گا۔ 

جب بھی کوئی تحریر مضمون نگار کے اشہب قلم سے نکلتی ہے، چاہے وہ کسی کتاب کی شکل میں ہو یا بحث و مقالہ اور مضمون کی شکل میں، اللہ کی تقدیر کے مطابق دنیا یا آخرت کے دفتر میں محفوظ ہو جاتی ہے اس کو آپ یہ مت سمجھئے کہ وہ مر گئی ہے، لوگ اس کو بھول گئے ہیں یا بھول جائیں گے، بلکہ وہ زندہ ہے کتب خانوں میں، دنیا کی لائیبریریوں میں اور بعد میں آنے والے محققین اور ریسرچ اسکالر کے ذریعے اس تحریر کو تازگی بخشی جاتی ہے، اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے، اس کے اسباب وعلل کو تلاش کرنے کے بعد ان سے پیدا ہونے والے اثرات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، انصاف پسند کی عقلمندی وزیرکی اور توفیق خداوندی اور فراست الہی کی داد دی جاتی ہے، پھر بطور نمونہ فخریہ طور پر نئی نسل کو ان کے ذریعے غذا بہم پہنچائی جاتی ہے، تاکہ وہ ان ہی کے جیسے سچائی اور جرات مندی کے راستے پر چلیں اور"افضل جہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر" (یعنی سب سے بڑا جہاد ظالم وجابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے) کی زندہ مثال بن کر سامنے آئیں، ان کی مثال تو اس سورج کی طرح ہے جو صبح کو طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوجاتا ہے اور پھر ایک نئی تازگی اور نئی امنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے بقول شاعر: 

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

تو آئیے اہل عزیمت کے راستے پر چلنے کا عزم کرتے ہیں، اللہ تعالی اہل عزیمت کے راستے پر ثبات قدمی نصیب فرمائے۔ آمین


Tuesday, March 2, 2021

دانائے راز امین عثمانی مرحوم مولانا فتح محمد ندوی

   اداس  چھو ڑ  گیا وہ  ہر ایک  موسم  کو

 گلاب کھلتے تھے کل جس کے مسکرانے سے

      بہ قول’’ غالب مرحوم انسان ایک محشر خیال ہے ‘‘ مرزا دہلوی نے غالب کے اس قول میں مزید حسن اس قید سے پیدا کردیا کہ خیال میں حشر برپا کرنے کے لئے کسی بیرونی تحریک کا ہونا لازمی ہے۔امین عثمانی مرحوم کے دماغ، افکا ر اورخیالات میں تحرکات حیات کا نیا جذبہ اور آہنگ جس بیرونی تحریک نے پیداکیااور ساتھ ہی آپ کے گنجینہ علوم کو نور، روشنی ،تحریک ،تحرک ،ڈھنگ، سلیقہ اور شعور عطا کیا ہے وہ دنیا ئے اسلام کے عظیم فقیہ اور مفکر قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی مرحوم ہیں ۔ انہی کی صحبت اور تربیت نے امین عثمانی صاحب کو جہاں بینی اور جہاں نوردی کے اصول سکھائے جس طرح قاضی مجا ہد ا لا لسلام صاحب اپنی چشم بینا سے دنیا کے مسائل اور آنے والے حالات سے آگاہی حاصل کرلیتے تھے ۔یہی فہم اور ادراک قاضی صاحب کی چشم عنایت اور توجہ سے امین عثمانی صاحب کو حاصل ہو گیا تھا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امین عثمانی صاحب قاضی صاحب کے فکر و خیال اور ان کے تحریکی مزاج کے وارث اور امین تھے ۔جذبہ کی وہی صدا قت اور لگن جو قاضی صاحب کے یہاں تھی اس کا اظہار اور نمونہ امین عثمانی صاحب کے یہاں بہ خوبی دیکھا جا سکتا تھا۔ مزید جس طرح قاضی صاحب مسائل کے استنباط اور دیگر معاملات میں فکر و نظر کے اعتبار سے بلاکی وسعت اور ذہنی کشادگی میں منفر د اور امتیازی شان رکھتے تھے اس حیثیت سے بھی امین عثمانی صاحب ان کے نمائندےاورمبلغ تھے ۔ 

   جناب امین عثمانی صاحب مرحوم سے قرب اور شناسائی کا وسیلہ ان کا غیرمعمولی علمی تبحر اور انتظامی امور میںان کی قابلیت اور شہرت بنی ۔ دراصل دہلی میں میرے قیام کی مدت دس سال کو محیط ہے اس طویل مدت میں جادۂ علم و کمال کی بہت سی عظیم ہستیوں کے دربارمیں نیاز مندانہ حاضری ہوئی۔ بلاشبہ ان سبھی کے علمی چشموں سے جرعہ نوشی بھی کی۔ تاہم امین عثمانی صاحب استفادہ کرنے والوںکی اس طویل فہرست میں ایک ممتاز اور منفرد شان رکھتے ہیں۔ میرے حوالے سے ان کی اس انفرادیت کے بہت سے پہلو ہیں، جن میں اور بھی ان کے بہت سے شنا سا شامل ہوں گے۔ لیکن بہت سے مسئلوں میں ان کا مجھ پر جو اعتماد اور اعتبار تھا اور جس رازدارانہ انداز سے وہ مجھ سے گفتگو کرتے تھے اور راز کی باتیں بتاتے تھے یہ ان کا میرے تئیں والہانہ تعلق ان کے اخلاق اور کردار اور خرد نوازی کا ایک خوبصورت عنوان و علامت تھی۔ 

 امین عثمانی صاحب کو لوگ صرف ایک متحرک اور فعال منتظم اور فہم و ادراک کے اعتبار سے ایک دور بیں مدبر اور دانشور کے طور پر جانتے تھے ، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ امین عثمانی صاحب آسمان فضل و کمال کے ستارو ں کی بزم میں ستارہ سحر تھے ۔ اور نسیم سحر کی مانند ان کے وجود سے محفل علم و فن آباد اور شاد تھی ۔ بلکہ آپ خود چراغ محفل تھے جس سے ایک جہان روشن اور تابناک تھا ۔ لیکن ان کی حیثیت اضافی بھی تھی جس کا علم شاید بہت کم لوگوں کو حاصل ہو ۔ 

      وہ چہار دیواری کے اندر گوشہ گیر رہتے ہوئے بھی جس طرح دنیا اور خاص طور سے عالم اسلام کے حالات سے نہ صرف واقف تھے بلکہ آپ کی وہاں  کے سیاسی اور سماجی مسائل میں غیر معمولی دلچسپی اور ہرطرح کے بدلتے ہوئے حالات پر ان کی گہری نظر اور آگا ہی ان کی شخصیت کے معیار کو عالمی سطح پر اسلام کے عظیم مفکر کی حیثیت سے ممتاز اور منفرد بنادیتی ہے۔ دوہزار گیارہ میں  عرب بہارکے نام سے عربوں میںجو انقلاب کی لہر تیونس سے شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ امین عثمانی صاحب کبھی کبھی جب ان انقلا بات پر گفتگو اور تجزیہ پیش کرتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص ان انقلابات کی خود پلاننگ بناکر آیا ہے ۔ حتی کہ کبھی کبھی یہ بھی بتا دیتے تھے کہ انقلابیوں کا اگلا قدم کونسا اور کیا ہوگا اور اب کس عرب ملک پر ان کا اگلا انقلابی اقدام ہوگا۔ یہاں کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ امین عثمانی صا حب خاک کے پردے میں تھے اور قطعی طور پر اپنے آپ کو اگلی صف میں کھڑا کرناپسند نہیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود ان کی نظر نظریہ بن کر معمار جہاں کے تانے بانے بنانے میں مصروف تھی ۔ان کے پاس وہ بصیرت اور وہ ادا شناس فہم تھی جو حالات کو بھانپ کر اس کے دفاع اور اقدام کا خاکہ تیار کردیتی تھی، وہ تنہائی پسند ضرور تھے لیکن وہ وسعت افلاک میںتکبیر مسلسل کے ذریعہ قوموںکو بیدار کرنے میں ہر وقت سنگ نشاں کی جستجو اور تلاش میں منہمک تھے ۔ ان کی مثال اس جنوں شعار مسافر کی تھی جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی وہ سفر در سفر کی ان دیکھی راہوں کو شاہین بن کر پہاڑوںکی اونچائیوں پر پہنچنے کے فراق میں سرگرم رہتے ہیں وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کا مقصد حیات ہر وقت نیا لحظہ نیا طور اور نئی برق اور تجلی کا مصداق اور عمل ہے۔

        امین صاحب کی عادت اور روش بلکہ مزاج تھا کہ وہ نئے نئے زاویہ نظر اورنئے افکار و خیالات کونئی نسل تک منتقل کرنے کے لئے ہر وقت مصروف عمل رہتے تھے جب بھی ان کی علمی بارگاہ میں ملاقات کی غرض سے جانا ہوتا ۔تو ان کے علمی کمالات اور علمی چشموں سے خوب سیرابی ہوا کرتی تھی۔ آپ کے یہاں ہمیشہ نئے نئے مضامین اور نئے خیالات سننے کو ملتے ۔ ایک مرتبہ میرے دوست مولا نا بدرعالم رائپوری نے اپنے اسلامیات میں پی ایچ ڈی مقالے کے عنوان کا مشورہ کیا تو مضامین نو کے انبار لگا دیے ۔ فرمایا کہ بہت سے عنوا نا ت ہیں جن پر کام کیا جا سکتا ہے مثلا قرآن کا اخلاقی تصور ۔ ہندستان کی فقہ اکیڈمیاں اور ان کی علمی خدمات وغیرہ اور بھی بہت سے فکری اور علمی مضامین ان کے ذہن کے نگار خانے سے جو چشموںکی مانند ابل رہے تھے ۔

 قو موں کے عروج و زوال میں آپ نفسیات کا بڑا دخل مانتے تھے بلکہ اس کو وہ عروج و زوال میں بنیاد کا پتھر مانتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کے یہاں قوموںکی نفسیات کے مطالعہ پر بڑا دھیان تھا وہ کہتے تھے کہ جب تک ہم قوموں کی نفسیات سے مکمل آگاہی حاصل نہیں کریں گے توہم سر بلندی کے نشان کو نہیں چھو سکتے ہیں۔ نفسیات کے حوالے سے ان کا نظر یہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے انبیاء کی دعوت او ر تعلیمات میں نفسیات کو خاص اور اہم مقام حاصل ہے۔تاہم کبھی نفسیات کے مطالعہ پر بہ حیثیت دعوت اور قوموں کے عروج و زوال کی حیثیت سے کے کوئی توجہ نہیں کی۔

     ان کو ہندوستان کی موجودہ قیات اور خصوصا اہل علم سے کچھ شکایتیں تھیںدراصل ان کی مستقبل شناس نظر اور دور بیں نگاہیں آنے والے ہندوستان کا جو تماشہ دیکھ رہی تھیں وہ ان کے دل کو بے چین اور پریشان کر کے ر کھتی تھی اور ہر آنے والے شخص سے وہ کسی نہ کسی شکل میں اس کا کھل کر ا ظہار بھی کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم مسلمان اسلام کی اخلاقی ،تمدنی اور تہذیبی تعلیمات کو متعارف کرانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔

 اس کے لیے آپ زبان کو بڑی اہمیت دیتے تھے اور خصوصا اہل مدارس کو ہندی زبان سیکھنے میں ہمیشہ زور دیتے رہے ۔ان کا ماننا تھا کہ اس وقت اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو اس حیثیت سے فروغ دینے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب بہ حیثیت اخلاقی بلندی اور سرفرازی کے اس کی تعلیمات کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ آپ کا مقصد اس سے د ر ا صل یہ تھا کہ اس وقت دنیاکے تمام مذاہب یہ دعویٰ کررہے ہیں بلکہ اس کی اشاعت اور تر ویج میں دولت پانی کی طرح بہا ر ہے ہیں اور ہر مذہب والے کا یہی دعویٰ ہے کہ اخلاق کی تعلیمات کا ذخیرہ ہمارے مذہب میں بھی موجود ہے حالاں کہ اسلام کے مقابلے میں اخلاقی تعلیمات کا نظام کسی دوسرے مذہب کے پاس ہے ہی نہیں۔

     مولانا امین عثمانی صاحب ایک اعلی بلکہ مفکرانہ خطیب کی حیثیت سے دنیا بھرمیں متعارف تھے ، فن خطا بت میں آپ کی اس امتیازی شان کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے لہجے میں جوش اور گھن گر ج کے بجائے سنجیدہ اور خالص علمی اور فکری گفتگو سنائی دیتی تھی۔آپ کا صاف ستھرا  اور ذوق جمال سے بھرا ہوا معتدل لہجہ اور آہنگ دل و دماغ کے دریچوں میں تازگی ، تحریک اور غور و فکر کا جذبہ بھر دیتا تھا ۔مزید آپ کی خطابت میں مایوسی اور نا امیدی کے نوحہ نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ آپ زندگی کے نغمہ گر کی حیثیت سے قوموںکی کمزوریاں اور خامیاں بھی بتاتے تھے لیکن مرض کی اس تشخیص کے ساتھ حاذق طبیب کی طرح نسخہ شفا بھی عطاکرتےتھے۔ 

      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وسیع ہال میں اہل علم و دانش کے ایک مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یقینا یہ ایک اہل علم اور اہل فکر کی مجلس ہے بہت سی باتیں ہوچکی ہیں، میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ میں صرف تین باتیں کہوں گا پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم دعوت دیتا ہے امت مسلمہ کو تبدیلی کی تغییر کی ۔ اور چینجنگ  (changing) کی اور یہ  چینجنگ لا نے کی دعوت دیتا ہے وہ ہر سطح پر ، سماجی سطح پر سیاسی اور معاشی سطح پر تعلیمی اور دیگر سطح پر۔ اور یہ تبدیلی باہر سے نہیں آسکتی بلکہ یہ تبدیلی اندر سے آئے گی قرآنی آیات صاف طور پر بتاتی ہیں کہ جب تک یہ امت اور یہ ملت جو ہندوستان میں موجود ہے وہ ازخو د یہ طے نہیں کریگی کہ ہمیں اپنے اندر کیا تبدیلی لانی ہیں اپنے طریقہ کار سوچ اور موقف اور ایٹی ٹیوڈ  attitude  میںاس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ تقسیم ہند کے بعد سے ملک کے حالات تیزی سے بدل ر ہے ہیں۔ خاص طور سے نئی حکومت کے آنے کے بعد حالات اور مشکل ہوگئے ہیں اس لئے اپنے اندر تبدیلی لاکر بہتر پلاننگ کے ذریعہ ہی ان حالات کا مقابلہ ممکن ہے ۔ کچھ دنوں پہلے کی بات ہے قرآن کریم پر غیر مسلموں کی طرف سے کچھ اعتراض ہوئے تھے میں نے تلاش کیا کہ ایسے افراد جو مدرسہ بیک گراؤنڈ background سے ہوں اور وہ سنسکرت بھی اچھی جانتے ہوں اور انہوں نے ہندستانی مذاہب خصوصا ہندو مذہب اور جین مذہب کا مطالعہ ان کے بنیادی ماخذ سے کیا ہوکچھ مجھے مل جائیں لیکن نہیں ملے۔اس کا مطلب یہ ہو اکہ اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ آج کی تاریخ میںاکثریت سے کچھ گفتگو اور مکالمہ کر نا ہے کچھ ایشوز پر بات کرنی ہے تو ہمارے درمیان ایسے لوگ نہیں ہیں جو ہندوازم کو جانتے ہوں اس کے فلسفے اس کی تاریخ اس کی نفسیات اور اس کے لیڈراس کے بیانات کو جانتے ہوںتو ہمارے پاس نہیں ہیں اس لئے کوئی گفتگو بھی نہیں ہوسکتی معلوم ہو ا یہ کمی بھی ہے دیگر کم یوں کے سا تھ ساتھ‘‘ ۔    

    مولانا امین عثمانی صاحب نے اپنے افکار و خیالات کی ترسیل کی تجربہ گاہ اسلامک فقہ اکیڈ می کو بنایا ۔ زندگی کے آخری ایام تک فقہ اکیڈمی کی حیات نو میں ایک مالی اور باغباں کی طر ح لگے رہے اور اپنے خون جگر سے اس کی حیات نو میں ایسے پھول کھلائے جن کی مہک سے ایک دنیا محظوظ ہورہی ہے۔ یہ امین عثمانی صاحب کی غیر معمولی فہم ، زیرک نگا ہ اور اعتدال پسند طبیعت کا نتیجہ اور حصہ ہے کہ آج فقہ اکیڈمی کو معاصر دنیا میں نیک نامی، شہرت اعتبار اور محبوبیت حاصل ہے اور اکیڈ می کی علمی حیثیت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ یقینا امین عثمانی صاحب کے پاس جو نظر بلکہ نظر یہ تھا وہ ذرہ کو آفتاب اور غبارہ راہ کو کندن بنانے کا ہنر رکھتا تھا۔

     بلاشبہ ہم نے جہاں نم آنکھوں کے ساتھ ایک اعلی مدبر ، مفکر ، مبصر ناقد اورمنتظم کو ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت کے سا تھ الوداع کہہ دیا وہیں ایک معمار جہا ں اور قوموں کی نفسیات اور عروج و زوال کا و ا قف کا ر اور نبض شناس اور بہترین انسان کی جدائی کا غم بھی برداشت کرنا پڑا ۔ سچ بات یہ ہے کہ امین عثمانی جیسے بے نفس اور بے نیاز لوگ اب ہمارے پاس تعداد کے اعتبار سے چند ہی ہیں ۔بلکہ ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔          



لاک ڈاؤن کا احتساب :مایوسی کی نہیں ،عزم سفر کی ضرورت! مفتی عین الحق امینی قاسمی

  اس عارضی زندگی میں کئی" سال "آئے گئے،اس میں گذرے سال کی داستانیں بھی تھیں اور آنے والے نئے سال کی امیدیں بھی وابستہ رہیں ،برسہا برس  کی کہا نیاں بھی علم ومطالعے سے گزریں ،اس موضوع پر تقریبا ہر برس ہی نئے مضامین پڑھنے کو ملتے رہے ،مگر سچ پوچھئے تو 2020ء کے گذرنے کا جو درد ہے ،اس نے آنے والا سال 2021ء کو بھی خوفناک  بنا دیا ہے ۔ہر روز کے حساب سے  اک نیازخم ،ناسور بن کر عمریں گھٹا تا چلا جارہا ہے ، نئے سال کی آمد سے قبل نہ جانے کتنی بہاریں ہماری لوٹ چکی ہوتی ہیں ،اس لئے ہمیں سال کے پورا ہونے پر بیتے دنوں کے حوالے سے کف افسوس ملنے کے بجائے اورپچھلی زندگی کا احتساب کرنے کے بجائے ،ہم آنے والے برس کا پرجوش استقبال کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ،ہم تو کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے "کہنے کے بجائے سال گذرا خدا خدا کرکے "کہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔

اگر صرف2019ء کا ہم احتساب کریں تو ہمارے کے پاس حساب کرنے کو کچھ نہیں ،چہ جائے کہ  2020ء کا ہم احتساب کرنے بیٹھیں ! گذرے سالوں کا احتساب تو ہم تب کریں ،جب ہمارا ذہن ،قوم وسماج کی تعمیر کے لئے فارغ ہو ،بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے یکسو ہو "روٹی، کپڑا  اور مکان " کے تئیں فکر مند ہو ،مگر ان سب کی نوبت کہاں! رہی سہی کسر دہلی فساد میں نکل گئی ، جہاں  بلوائیوں نے پوری طرح سے ہمیں زندہ جلا کر رکھ دیا ،جس میں سینکڑوںسے زیادہ جانیں گئیں ،دکان مکان اور گاڑی اور سمپتییاں ،ہفتوں تک جلتی رہیں ،احساس کیجئے کہ جب" وجود " اور اپنی "بھومی "کو بچانے کے لئے سڑکوں ،پارکوں اور  گذرگاہوں پر زندگی جینا ہمارا مقدر بن چکا ہو اور ہم نے کالے قانون سے تحفظ اور ملک کے دستور کو بچانے میں بچوں کی تعلیم سمیت اپنے آرام وراحت تک کو قربان کردیا ہو ،ہمارا پورا سماج برسر اقتدار حکومتوں سے نمٹنے میں اپنی زندگی داؤ پہ لگا رہا ہوتو اب بچا کیا ہے ،جس کا ہم حساب کریں اور ہم نے کیا کھویا ،کیا پایا کو انگلیوں پر شمار کریں ۔

سی اے اےکی واپسی اور آئین کے تحفظ کے لئے 11/ دسمبر2019 سے ہم مسلسل سڑکوں پہ ہیں  ،22/مارچ2020ء سے ہمیں" کورونا " کے بہانے لاک ڈاؤن کےنام پر گھروں میں بند ہونے پر مجبور کردیا گیا ،کاروبار ،تعلیم وتدریس ،روزی روٹی ،آنا جانا ،ملنا جلنا ،بلکہ ایک دوسرے کے قریب ہونے تک سے ہمیں روک دیا گیا ،اس درمیان ہم بے روزگار ہوکر نان شبینہ کے محتاج  بن کر جہاں تھے وہیں قید ہوکر رہ گئے ،ہم نے ارادہ کیا گھر چل کر بچوں سے ملنے کا ،راستہ ہمارے لئے خندق اور کانٹوں سے آباد دنیا ثابت ہوا ،تحفظ کے نام پر وردی دھاریوں نے ہماری درگت بنائی ،کسی طرح سے پٹتے پٹاتے گاؤں پہنچے تو "کرنٹائن "کے نام پر اسکولوں میں نظر بند کردیا گیا ،بچے بلکتے رہے ،بھوک سے بوڑھی مائیں تڑپتی رہیں ، کتنے ہی رشتہ دار  ،معززین ،محسنین اور اساتذہ بے یار و مددگار اپنی زندگی سدھار لے گئے اور ہم ان کی مٹی منزل تک میں شریک ہونے سے بھی محروم رہ گئے ،ہمیں ان مرحومین کے آخری دیدار سے دور رکھا گیا ۔کہنے کو ڈاکٹروں کو علاج کرنے کی اجازت دی گئی تھی ،مگر اس نے بھی دپکی سادھ لی ۔اس درمیان جمعہ و جماعت ، رمضان واعتکاف ،عید بقرعید ،سبھوں کی اجتماعی ادائگی سے بھی ہم محروم کردئیے گئے ،دیگر تعلیم گاہوں کے ساتھ عربی مدار بھی بند کردئیے گئے ،شادی بیاہ ،میلہ ٹھیلا ،سیاسی ،سماجی ،مذہبی غیر مذہبی تمام پروگرامس ہورہے ہیں ،مگر ابھی تک عربی درسگاہوں کے لئے باضابطہ کوئی گائڈ لائن جاری نہیں ہوسکا ۔

اسی ادھیڑ بن میں 2020ء بڑی سبک گامی کے ساتھ اب ہم سے رخصت ہوا چاہتا ہے ،بلکہ ہمیں تو صحیح سے  احساس بھی نہیں ہو سکا کہ سال رواں میں ہم نے کب قدم رکھا  اور کس طرح سے یہ سال اپنا چکر پورا کرگیا۔ ابھی کورونا سے ابھرے بھی نہیں ہیں کہ تین اور کرسی کالےقانون ہمارے اوپر تھوپ کر  ہمیں پھر سڑکوں پر لے آیاگیا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ  2021 کا سکون بھی ہم سے چھن جائے اور ہم خوف ودہشت کے سائے میں 2021 کے دن گذارنے پر مجبور ہوں ۔

بہر حال ! اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا سکے کا ایک پہلو تھا، لیکن د وسرا پہلو اس سے حق اور سچ ہے جہاں شب دیجور کی رخصت پذیری اور نسیم صبح کی سحر آفرینی  ازل سے طے ہے،یقنا ظلمت شب مٹے گی  اور بہار کےدن بھی لوٹیں گے ،مذہب  اسلام کی سچی اور تابناک تاریخ  سے ہمیں سبقی ے کی ضرورت ہے ، ہم مومن ہیں ،ہمیں اللہ کی قدرت پہ بھروسہ کرنا ہے ،اللہ کو راضی کرنا ہے ،اس کو روٹھنے سے منانا ہے اور بقول راحت اندوری :

     اپنا خالق اپنا مالک افضل ہے 

                         آتی جاتی سرکاروں سے کیا لینا 

یہ دنیا ہے جو ہمارے لئے قیدخانہ ہے ،ہماری نظر منزل  اورمقصد پر رہنی چاہئے  ،ہمیں ہر حال میں محاسبے کے ساتھ زندگی بتانی ہے ،چاہے جیسی گذرے ، ہمارا عقیدہ ہے کہ دین دنیا کی جیسی بھی مصیبتیں ہوں ،یوں نہیں آیا کرتیں  ،اللہ کی مشیت کار فرماہوتی ہیں ،جس طرح ،مصائب میں الجھ کر مسکرانا ہماری فطرت ہے ،اسی طرح حالات اور باد مخالف سے جھوجھتے رہنا بھی ہمارا مقدر اور تاریخ کا حصہ ہے ،مصیبتیں آئی ہیں ٹلیں گی ،اس دنیا میں کبھی بھی وقت اور حالات کو قرار نہیں ہے ۔(وتلک الایام نداولھا بین الناس) ۔ 

        یہ مت کہو خدا سے مری مشکلیں بڑی ہیں 

ان مشکلوں سے کہد و میرا خدا بڑا ہے

موجودہ حالات کے پیش نظربہت ہی قیمتی نسخہ مخدوم گرامی قدر امیر شریعت بہار اڑیسہ جھار کھنڈمفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : "شیطان اور ابلیس کا اپنا کام ہے وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے، مصیبتیں اور آفتیں بھی اپنی روش پر چل رہی ہیں، ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ارادے اور عزائم میں کمزوری نہیں آنی چاہیے، ہمیں اور آپ کو شکست حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگر میدان میں شکست کھا بھی جائیں، تو کوئی خاص بات نہیں، شکست حوصلہ نہ ہوں، یہ خطرناک بات ہے، اس لئے حوصلہ کے ساتھ جئیں اور حوصلے کے ساتھ مرنے کا ارادہ بنائیں"

آئیے عزم جواں کے ساتھ ہم پھر رخت سفر باندھتے ہیں اور پچھلی زندگی کی عملی کوتاہیوں کا احتساب کرتے ہوئے   رجوع الی اللہ اورسنت وشریعت کی پابندی ،منکرات ونواہی سے اجتناب اور تعلیمی و معاشی استحکام کے تعلق سے مسلسل عزم سفر جاری رکھنے کے عہد کے ساتھ کاروان حیات کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں اور متعین شدہ اہداف کے حصول کی خاطر، طوفانوں میں چراغ جلانے کا ہنر آزماتے ہیں :

میں کسی حال میں مایوس نہیں ہوسکتا 

ظلمتیں لاکھ ہوں امید سحر رکھتا ہوں


آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...