Translate

Saturday, November 28, 2020

مسلم مسائل کا حل سیاست سے زیادہ دعوت میں

مولانامحمد زاہد حسین ندوی جمشیدپوری


 آج پوری دنیا میںمسلمانوں کو جن مسائل ومشکلات کا سامنا ہے، چاہے وہ سیاسی مسائل ہوں، معاشی مسائل ہوں یا پھر معاشرتی اور اخلاقی مسائل ہوں، نہج نبوت،طرز صحابہؓ اور اسوۂ سلف کی روشنی میں تو اس کا بس ایک ہی حل نظر آتا ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو ختم نبوت کے صدقہ میں کار نبوت کا جو عظیم فریضہ ملا ہے اسے وہ اپنی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد بنالیں، دعوت دین اور تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کا مشن اور عنوان بنالیں، بالکل اسی طرح جس طرح آخری رسول ؐ کے عاشقینِ صادقین صحابہ کرام ؓ نے اسلام کے دور اول میں اسے اپنا مقصد ِحیات بنایا تھا۔

مسلمانوں کو خدائے بخشندہ کی جانب سے بخشے گئے اس تیر بہدف علاج سے کبھی بھی کسی دور میں نہ غافل ہونا چاہئے اور نہ کسی ادنیٰ شک وشبہ میں پڑکر ثانوی اور ثالثی ذرائع کو ترجیح دینا چاہئے، یہ تیر نبی اور جانشینانِ نبی کا آزمایا ہوا ہے، یہ وہ داروئے شفا ہے جس نے ہر مرض کو دور کیا ہے، یہ وہ سکہ ہے جو ہر زمانہ میں رائج رہا ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دعوت نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں جو بعض دفعہ بڑی بڑی حکومت اور سیاست بھی انجام نہ دے سکی، جس کی سب سے بڑی اور محیر العقول مثال فتنۂ تاتار کی خطرناکی وامتداد کے باوجود شیخ جمال الدین ؒ اور ان کے خلف رشید شیخ رشید الدین ؒ کی حکیمانہ دعوت کے ذریعہ تاتاریوں کے اسلام قبول کرنے اور کعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں مل جانے کی ہے۔ 

(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:تاریخ دعوت وعزیمت: ۱؍۳۳۱)

امام مالک ؒ نے اسی راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنا یہ تاریخی جملہ فرمایا تھا :’’لن یصلح آخر ہذہ الامۃ الا بما صلح بہ اوّلہا‘‘کہ اس امت کے آخری دور میں افراد کی اصلاح ِحال بھی اسی طریقہ پہ ہوگی جس طریقہ پہ اولین طبقہ کی ہوئی تھی، یعنی اصلاحِ حال کے لئے جو تدبیر خیر القرون میں قابل ترجیح تھی آج بھی اسی کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے، اور آج امر واقعہ ہے یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی بحالی اور تعلیم واقتصاد کے میدان میں رزرویشن کی حصولیابی کی مطلوبہ ساری سیاسی کوششوں کے بعد بھی اپنے مسائل کا پائیدار حال نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں ، اور صرف سیاسی لڑائی کے ذریعہ کبھی وہ اپنے مسائل حل کرا بھی نہیں سکتے، اُنہیں ضرورت ہے کہ قرآن وسنت کی گائڈ لائن کے مطابق اسلام کے تابناک ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے از سر نو اپنی نئی حکمت عملی (Strategy) تیار کریں، جس میں سیاست سے کہیں زیادہ دعوت کو جگہ دی جائے؛ بلکہ دعوت ہی کو مقصد ِ اصلی ٹھہراکر حسب ضرورت سیاست کو وسیلہ اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

مشہور ومایہ ٔ ناز عربی صحافی ، ادیب قدیر مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی ؒ اپنے ایک عربی مقالہ ’’اسلام دشمنی کے مقابلہ کے لئے علم اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضروت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’گذشتہ عہد میں اسلامی عمل کے میدان کا یہ المیہ تھا کہ دعوت کے لیے اور ملکی معاملات کے سلسلہ میں سیاسی انداز اختیار کیا گیا ،جس کی وجہ سے حکام، غیر اسلامی ماحول میں تعلیم پانے والوں اور خارجی دنیا کے دشمنوں سے ٹکراؤ پیدا ہوگیا؛ حالانکہ وہی دعوتی طریقۂ کار اختیار کرنا چاہئے جسے ہمارے اسلاف نے اختیار کرکے دلوں کو فتح کرلیا تھا، بلکہ پوری دنیا پر حکمرانی کی، اور وہ طریقہ موعظہ ٔ حسنہ، حسن اخلاق ، نرمی ، محبت، رواداری اور انسانی غمخواری کا طریقہ ہے۔‘‘

موجودہ صورتحال میں دعوت واصلاح کے میدان میں طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے، اور جب مخاطب ، ماحول اور وقت کے تقاضوں کی رعایت کے ساتھ موثر طریقۂ کاراختیار کیا جائے گا تو دشمن بھی دوست بن جائیں گے، اسلامی تاریخ میں اس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں، قرآن مجید کہتا ہے:{ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ} (سخت کلامی کا ایسے طریقہ سے جواب دو جو سب سے اچھا ہو، ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے، یہ انہی کو حاصل ہوتی ہے ، جو برداشت کرنے والے ہیں، اور انہی کو نصیب ہوتی ہے، جو بڑے صاحب ِ نصیب ہیں۔)

مذکورہ بالا نقطۂ نظر کی تائید میں مندرجہ ذیل اخباری رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے:

’’اس وقت دنیا کے تمام خطوں میں دہشت گردی کے نام پر اسلام کے خلاف چلائی جارہی عالمی مہم کے باوجود اسلام کی مقبولیت روز افزوں ہے اور خود یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعہ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے،اخباری رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور نبی ٔ رحمت سرورِکائنات محمدرسول اللہ ﷺ کے خلاف چلائی جانے والی جارحانہ مہم قبول اسلام کا سبب بن رہی ہے، مثال کے طور پر ڈنمارک میں اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے بعد سیرت ِ رسول کے مطالعہ کا رجحان اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سیرت ِ نبوی سے متعلق مطلوبہ زبان میں لٹریچر ختم ہوگیا اور بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ نیویارک سٹی میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے قریب جب مسلمانوں نے مسجد بنانے کی کوشش کی اور پھر اس کے بعد ردعمل کے طور پر پادری ٹیری جانس نے قرآن کریم کے نسخوں کے جلانے کا اعلان کیا تو اس کے ردعمل میں ایک سو اسی(۱۸۰) امریکیوں نے اسلام قبول کرلیا۔برطانیہ کی مسلم آبادی میں حالیہ چھ سالوں میں نصف ملین کا اضافہ ہوا ہے، اور اس کے مقابل برطانیہ میں عیسائیوں کی تعداد میں دو ملین سے زیادہ کمی ہوئی ہے، اور اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کی مہم کے باوجود ایک ہزار برطانوی خواتین نے اسلام قبول کیا ہے، اور اسلام لانے کے بعد اسلام کی برتری اور اس کی افضلیت کو ثابت کررہی ہیں،ان میں سرِفہرست سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ، براڈ فورڈ کی وکیل جان بیلی (عمر؍۳۰ سال) ، لندن چلڈرن اسکول کی معلمہ کاتھرین ہنرلٹائن (عمر؍۳۱سال)، لندن کی مشہور شاعرہ سکینہ دوگلاس (عمر؍۲۸ سال) اور ٹیلی ویژن پروگرامر کیسٹن بیکر ہیں۔‘‘

اس حوصلہ افزا صورتحال کا سبب ایجابی اور مثبت طریقۂ کار ہے، گذشتہ عہد میں مسلمان اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے دینے لگتے تھے اور سڑکوں پر نکل آئے تھے، جس سے مخالف کیمپ میں ردعمل پیدا ہوتا تھا اور اسلام پر حملہ کرنے والوں کو اپنے حلقے میں حمایتی اور مؤیدین مل جاتے تھے اور وہ ہیرو بن جاتے تھے اور اپنی ذلیل حرکتوں اور گستاخیوں سے خوب دولت کماتے تھے، لیکن اب مسلمانوں کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے، اشتعال انگیزی اور احتجاج کی بجائے علم وحکمت پر مبنی ایجابی دفاع، پرامن مذاکرات، باہمی مفاہمت اور حلم وبرداشت کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے، جس کے بڑے ہمت افزا نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

متعدد مسلم تنظیموں اور قائدین نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو جمع کرکے مذاکرات کا جو طریقہ اختیار کیا اور اسلام کے تعارف اور دفاع کے لئے لٹریچر فراہم کیا ، اس کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، ابھی حال میں واشنگٹن میں ’’اسنا‘‘ کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے مسلمان، عیسائی، یہودی، سکھ اور ہندو شریک ہوئے ، تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف چلائی جانے والی مہم بند کی جائے، کیونکہ مذہب ِ اسلام امن وشانتی کا مذہب ہے، ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جائے اور شخصی اور انفرادی تشدد کی بنیاد پر کسی مذہب کو بدنام نہ کیا جائے، اس کانفرنس سے بہت سے غیر مسلم دانشوروں کا ذہن صاف ہوا، خود ہندوستان میں ’’تحریک ِ پیامِ انسانیت‘‘ (بانی مولانا علی میاں ندویؒ) کے جلسوں اور غیر مسلم طلبہ کے درمیان اسلام کی حقانیت وافادیت پر مبنی انعامی تحریریں مقابلوں سے غیر مسلموں کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہورہی ہیں۔


عصر حاضر میں دعوت وتبلیغ کے مؤثر اسالیب

 مولاناعین الحق امینی قاسمی 


دعوت اورتبلیغ جب دونوں لفظ ایک ساتھ اور ایک جگہ استعمال ہوتے ہیں تو دونوں مرادی معنی میں یکساں مفہوم اداکرتے ہیں ،اسی لئے عموما ایک کے تلفظ سے دوسرے کا مفہوم بھی ازخود ذہن میں آجاتا ہے ۔ورنہ دونوں اصل وضع کے اعتبار سے الگ الگ معنی ومفہوم کے لئے ہیں،دعوت کے معنی ،بلانے، پکارنے اور مطالبہ کرنےکے ہوتے ہیں ،جب کہ تبلیغ کا معنی پہنچانا ہوتا ہے ،لیکن عموماً دعوت وتبلیغ بول کر اللہ  اور اس کے رسول کے احکام وتعلیمات کو ان لوگوں تک پہنچا نا مراد ہوتا ہے ،جو کسی وجہ سے اپنے مقصد تخلیق سے غافل اور اپنے رب حقیقی کی کامیابی والی راہ صراط مستقیم سے دور ہوتے ہیں ،اسی لئے دعوت کے اس اہم کام کی انجام دہی کرنے والے کو داعی یا مبلغ کہتے ہیں۔ دعوت الی اللہ کی ڈھیروں فضیلت وارد ہوئی ہے ،قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (آل عمران، 3/ 104)اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور وہی لوگ بامراد ہیں۔ يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ط وَاللهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ  اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِيْنَ (اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بے شک اللہ کافروں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا)

 کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں)

 قُلْ هٰذِهِ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللهِ عَلٰی بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْن (اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجیے: یہی میری راہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔)

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے (ہر بات لوگوں تک) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔(مشکوۃ المصابیح)

ایک روایت میں حضرت ابو ِقرْصَاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی تم مجھ سے سنتے ہو اسے بیان کیا کرو اور کسی شخص کے لیے بھی مجھ پر جھوٹ باندھنا جائز نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اور میرے فرمان کے علاوہ میری طرف کچھ منسوب کیا اُس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا جس میں آتشِ جہنم اُس کی غذا ہوگی۔(ترمذی شریف)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی، کَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، کَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔(مسلم شریف)

دینی مآخذ سے ثابت ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے، البتہ حسب استطاعت جملہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسب توفیق اس اہم فریضے کو انجام دیتے رہیں۔عصری تقاضوں کے پیش نظر اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔

دعوت وتبلیغ کے مؤثراسالیب سے مراد: اسلوب ، طریقہ کار اور حکمت عملی ہے اور ہمیشہ دعوت وتبلیغ کا اسلوب اور طریقہ کار ،وقت حالات کے اعتبار سے مختلف رہا ہے ، تبدیلی اسلوب  بھی دعات اور عام عوام کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے،چوں کہ بعض اوقات دعوت وتبلیغ کا ایک اسلوب ،ایک شخص کے لئے بہت مؤثر ہوتا ہے اور وہی طریقہ دوسرے کے لئے بالکل بھی اثر انداز نہیں ہوتا،اسی طرح اسلوب دعوت کے مؤثر ہونے نہ ہونے میں ادوار کا بھی خاصا فرق پڑتا ہے ،ایک دور میں ایک انداز کا فی مقبول ہوتا ہے ،جب کہ دوسرے دور میں وہ طریقہ عمل کچھ بھی کار گر نہیں ہوتا،اسی لئے اپنی دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ داعی ،حکمت عملی میں تبدیلی کی گنجائش کے ساتھ میدان دعوت وتبلیغ میں اپنا فرض نبھائے ۔جہاں تک دعوت وتبلیغ سے سیکھنے سیکھانے کے عمل کو فوقیت دینے کی بات ہے تو یہ سلسلہ اچھا ہے ،مگر یہ کا م نجی مجلسوں تک ہی محدود رہے تو زیادہ مفید ہے ،ورنہ عام طورپر نوآموز کے ذریعے وعظ و نصیحت کا طریقہ بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ نوآموزوں کی تعلیم وتربیت کے لئے مخصوص اوقات کا  ہی استعمال ہو ،تاکہ غیر سنجیدہ اور نئے ساتھیوں کے ذریعہ کوئی بے سند باتیں عام لوگوں تک نہ پہنچے ،جس سے کہ دینی  امور میں اختلاف وانتشارسے بے چینی کا ماحول تیار ہو۔

عمومی خطاب ،یا تشکیلی وترغیبی بات چیت ہر لحاظ سے کسی معتمد عالم دین کے ذریعے ہی کرائی جائے اور پوری کوشش ہوکہ علماء کی نگرانی میں اور علماء کرام کے ذریعے مستند باتیں بطور پیغام لوگوں تک پہونچائی جائے۔داعی کو اپنے اسلوب دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے  جہاں ہمت وحوصلہ ،صبر تحمل ، قوت برداشت ، برد باری وجفاکشی ،اخلاص وللہیت اور فکر ولگن کی بہت ضرورت ہوتی ہے وہیں طریقہ کار اوراپنے اسلوب کو مؤثر بنانے کے لئے استقامت فی العمل ، گہرے علم ومطالعہ اور اللہ والوں کی صحبت یافتہ ہونے کی بھی اہم ضرورت ہے چوں کہ علم ومطالعے اور اہل اللہ کی مجالس کا حاضر باش بنے   بغیر اسرار دعوت کا کھلنا  نہ صرف محال ہے ،بلکہ اس راہ کے مجاہدے کو  پوری طرح سےجھیلنا اور استقامت کے ساتھ اس پر جمنا بھی  ناممکن ہے ،جب داعی علم ومطالعے اورزمانے کے  حالات وواقعات پر نگاہ رکھ کر دعوتی عمل کو سر انجام دے گا تو یقینا زمانے کے وقتی تقاضے بھی اس کے سامنے ہوں گے اور لوگوں کے رخ کا بھی صحیح اندازہ ہوگا ،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر دور کے حالات اور اس کے تقاضے مختلف رہا کرتے ہیں ،داعی جب ان باریکیوں پر نظر رکھ کر چاق وچوبند ہوکر دعوتی مشن کو لے کر چلے گا تو وہ بہت سی آنے والی آفتوں سے بچے گا ،ورنہ رٹو طوطے کے طرز پر شکاری آئے گا ،جال پھینکے گا تب وہ شکار کرے گا، تب تک معلوم ہوا کہ وہ شکار ہو بھی چکا  تو ایسی سونچ ،دعوت کو مؤثر بنانے میں ناکام رہی ہے ،ابھی کورونا کال میں ’’دعوتی مشن‘‘ پر آفتیں آئیں ،اس میں یقینا ہماری ناعاقبت اندیشی کا بھی کہیں نا کہیں دخل رہا ہے ،ہمیں حالات پر بھی نگاہ رکھنا ہوگا اورآ نے والی ہواؤں کے رخ کو  بھی بھانپناہوگا، تبھی ہم طوفان بلا خیز سے اپنے مشن کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح ہم جس طبقے میں بھی دعوت پیش کریں ،ضروری ہے کہ اس طبقے کے عمومی احوال کابھی ہمیں علم ہو ،تاکہ ہم اس حوالے سے بات کو شروع کرکے اپنے مدعا پر انہیں لاسکیں ،حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ اہل علم کے سامنے اس کے مبلغ علم کی روشنی میں گفتگو کریں،مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ افراد کے سامنے ہمیں دین کی دعوت پیش کرنی ہے ،مگر سب کے لئے ایک انداز ،ایک لہجہ، ایک اسلوب اور ایک حکمت عملی نہیں اپنائی جاسکتی ،ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے دعوتی مواد وامور میں بھی تنوع رکھنی ہوگی ،تاکہ لوگوں سے اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ  رکھ کر ہی دعوتی غرض  بیان کی جائے ۔

مؤثر اسالیب اور منصوبہ بند حکمت عملی کے ضمن میں اس بات کو بھی کشادہ قلبی کے ساتھ جگہ دی جائے کہ  بدلتے تقاضے کے پیش نظر عصری تکنیکی پروگرامس کے ذریعے بھی مستند دینی معلومات کو عام کرنے کی طرف توجہ دی جائے تاکہ وہ طبقہ بھی اس سے براہ راست مستفید ہوسکے جو کسی وجہ سے اب تک  روایتی دعوت وتبلیغ کا برہ راست حصہ نہ بن سکا ہو ۔ عصر حاضر میں اپنی دعوتی حکمت عملی کو بدلنے اور بدل کر اسے مؤثر بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

موجودہ ماحول میں مؤثر اسلوب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ احباب اپنے اپنے مقام پر محنت کریں ، فکر مند علماء کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دیں ،دعوت وتبلیغ کا یہ مبارک کام اس کمیٹیی کی نگرانی میں ہو ،اپنے اپنے مقا م پر رہتے ہوئے گھروں میں یا کسی مخصوص جگہ پر چھوٹی  چھوٹی مجلسیں قائم کی جائیں  ،جن میں نئے تشکیل شدہ ساتھیوں کو دین کے احکام وامور سکھلائے جائیں۔ اسی طرح مقامی احباب کو ساتھ لے کر دینی تعلیمی حلقوں کو مضبوط کیا جائے ،یہ حلقے، مردحضرات کے ذریعے مردوں کےدرمیان لگائے جائیں ،جب کہ مستورات کے  بھی حلقے لگیں ،مگر ان کے حلقے الگ ہوں  اور ایسی کسی بھی طرح کی کوشش یا ایسا کوئی وعظ بیان قطعا نہ ہو جس سے ملک بیزاری اور یا امن ومحبت کو بھنگ کرنے میں شرپسندوں کو کوئی موقع ہاتھ لگ جائے ۔برادران وطن کے بیچ بھی دعوت کا کام مضبوطی ، حکمت عملی ،رجوع الی اللہ اور کامل یقین سمیت علمی مواد کی روشنی میں کیا جائےجس سے باتوں میں وزن بھی پیدا ہو اور عقلا بھی وہ قابل قبول ہو ۔


عدالت صحابہؓ

 مولانا ابو حسن ندوی


جب دنیا کل طور پر فسادوبگاڑ کا شکار ہو گئی۔انسانوں کے اندر سے انسانیت ناپید ہو گئی ۔تعلیمات نبوی اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہیں بلکہ ان میں تحریف کر دی گئیں ۔مسجود حقیقی کو چھوڑ بندوں نے اصنام پرستی سے ارض خدا کو بھر دیا۔ ظلمت وجہالت سے دنیا آباد تھی ۔اللہ واحد کی عبادت کا تصور ختم ہو چکا تھا ۔دنیا تثلیث کی قائل ہو چکی تھی ۔حضرت عیسی کے آسمان پر اٹھائے جانے کا وقفہ طویل تر ہو گیا تھا ۔ایسی صورت میں دنیا کو ایک ہادی کی اشد ضرورت تھی ،جو بندوں کا رشتہ معبود بر حق سے جوڑ کر ظلمت و جہالت کے پردے کوچاک کرکے نور کی کرنوں سے گلستان عالم کو منور ومجلی کر کے انسانوں کو ظلم و جور کے عمیق غار سے نکال کرعدل وانصاف کے راستے پر کھڑا کردے ۔

اللہ تعالی نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کے طور پر دنیا والوں کو دیا ۔ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہے ۔آپ آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔آپ کی آمد ہی انسانوں کی کامیابی وکام رانی کا ذریعہ بنی دنیا سے فسادوبگاڑ کا خاتمہ ہوا۔ انسانوں کا تعلق اللہ واحد سے وابستہ ہوا ۔آپ نے لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدی راحت بخش زندگی کا یقین پیدا کیا ۔لوگ آپ کی بات تسلیم کرتے گئے اور اسلام میں داخل ہوتے گئے ۔آپ نے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا ۔زندگی بسر کرنے کے سارے طریقے سکھائے۔ آپ کی صداقت وامانت کے چرچے عام تھے۔ آپ نے لوگوں کو دیانت داری ،امانت داری،اخلاق بلندی ،معاملات کی درستگی ،آپسی لین دین میں انصاف کی پیروی،صدق وصفا،بلاتفریق رنگ ونسل سب کے ساتھ باہمی تعاون و ہمدردی ،اولوالعزمی،اپنےاور پرائے کے ساتھ ہر جگہ حق گوئی و بےباکی،تقوی وطہارت،خلوص وللٰھیت،امن پسندی ،کا سبق پڑھایا۔لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ سے اٹوٹ محبت کرنے لگے۔آل واولاد ،بیوی بچوں کی محبت آپ کی محبت کے سامنے ہیچ ہوگئے۔آپ کے ایک اشارہ پر اپنی جان ومال آپ کی قدموں میں رکھنا ان کے لیے آسان ہوگیا ۔

ان لوگاں نے بحالت ایمان آپ کو دیکھا اور ان کا خاتمہ بھی ایمان پر ہواصحابی کہلائے ۔آپ نے ان برگزیدہ ہستیوں کی تربیت نبوی انداز سے کی۔بڑےاور چھوٹے امور سکھائے۔ حقوق اللہ ،اور حقوق العباد سکھائے۔حتٰی کہ پیشاب و پاخانہ کے طریقے بتائے ۔

اللہ تعالی نے صحابہ کے دل کی کھیتی کو تقوی کے لیے زرخیز بنا دیاتھا ۔ان کی ایمانی کھیتی قابل کاشت اور لہلہا اٹھی۔

یہی وہ جماعت تھی جسے آپ کی شاگردی کا شرف ملا۔ اس جماعت کا انتخاب خود اللہ تعالی نے فرمایا اور آپ کے حوالے کیا۔یہ پاکیزہ نفوس زیادہ اوقات آپ کے ساتھ گزارتے۔آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کو قابل عمل سمجھتے اور اسے اپنے دل ودماغ میں محفوظ کرلیتے ۔قرآنی احکام،شان نزول،مکان نزول قرآن، نزول وحی،سب کو محفوظ کرتےاور بغیر کمی بیشی من وعن دوسروں تک پہنچاتے۔فرمان مصطفی،عمل نبوی، تقریر رسول کی حفاظت اور اس کے نشرو اشاعت ہی کے لیے اللہ نے اس جماعت کو چنا تھا۔ اس جماعت نے اپنی ذمہ داری پورے طور پر ادا کی، یہی وہ جماعت ہے جو اسلامی وراثت اورنبوی تعلیمات کی ضامن ، آسمانی احکام اور وحی الٰہی کی امین ہے ۔اس نے گھر بار ،مال و دولت لٹا کر اس وراثت کی مکمل حفاظت کی ۔اپنے اور اپنے آل واولاد ،بیوی بچوں کو فاقے میں رکھ کر اس دین کی مکمل حمایت کی ۔

اس جماعت پر ہی دین کا مدار اور بنیاد ہے ۔یہی اس دین کے خشت اول ہیں جسے پورے 3اعتماد کے ساتھ رسول اللہ صلعم نے رکھا تھا ۔ان پر آپکا پورا بھروسہ تھا۔جلوت،و خلوت میں ،خوشی وغم میں ،رنج والم،ان کا پورا تعاون رہا۔یہ آپ کے راز دار اور مشیر بھی بنے ۔بسا اوقات وحی الٰہی بھی ان کے مشورے کے مطابق نازل ہوئے ۔ان کی پوری زندگی فرمان نبوی کے حصول ،وحی الٰہی کی کتابت میں گزی ۔بھوکے ،پیاسے قرآنی آیات،فرمان نبوی کی کتابت کرتے اس طرح وراثت اثاثہ اسلام کی بقا ٕوتحفظ کی ذمہ داری نبھانے میں یہ حضرات عدیم المثال بنے۔صحابہ کرام کی عدالت، صداقت، ثقاہت، امانت، دیانت، ایفا ٕ عہد،انابت الی اللہ،ایثار وہمدردی،جاں نثاری و سرفروشی اپنی مثال آپ تھی ۔اس جیسی جماعت تیار کرنا بنی کے ہی بس کی بات تھی جس کی نظر کرم نے گلہ بان،کو دین کا امین بنا دیا ۔وراثت دین کی حفاظت کی وجہ سے زمام عالم کے مالک بن گئے۔

 دین کے جو بھی احکام ،وقوانین،اصول وفروع آج ہمیں میسر ہیں وہ اسی مقدس نفوس کی دین ہے ۔ صحابہ معیار حق ہیں ۔ صحابہ دین متین کےمضبوط قلعےاورمحور ہیں ۔صحابہ تفقہ فی الدین میں دسترس رکھنے والے حضور کے بعد سب سے بڑے معلم تھے ۔صحابہ نصوص کو زیادہ سمجھنے والے تھے۔انہیں کے ذریعہ ہمیں شریعت ملی ۔انہیں کے ذریعہ ہم نے دین کو سمجھا ۔یہ ہمارے لیے چراغ ہدایت ہیں۔ان سے اللہ و رسول دنیا ہی میں راضی ہو گئے ۔ان کے بارے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔زبان کو کبٹرول رکھنا چاہیے ۔ان کے متعلق کسی طرح کی بدزبانی،بدکلامی،بد ظنی،غلط بیانی، ہمیں دین سے خارج کر سکتی ہے ۔صحابہ سب کے سب عادل تھے ان کے متعلق ادنی سی بے ادبی ، بہتان تراشی وافترا پردازی ،علوم نبوی ،اور وراث دین متین ،پر بلا واسطہ حملہ ہے ۔صحابہ پر حملہ نبی پر حملہ ہے جوآخرت کی بربادی کے لیے کافی ہے ۔ 

صحابہ کے متعلق فرمایا گیا:’’الصحابۃ کلھم عدول‘‘کہیں کہا:  بأیھم اقتدیتم اھتدیتم، اللہ اللہ فی أصحابی لاتتخذوھم من بعدی غرضاً فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم الخ۔

یہ سب صحابہ کی شان ،ان کی عدالت وثقاہت کی بین ثبوت ہے ۔صحابہ کی طعن وتشنیع حرام اور جرم عظیم ہے ۔ صحابہ دین کے صدفی صد حامل وعامل ان پر تنقیدوتنقیص ڈائرکٹ دین پر تنقید وتنقیص ہے ۔اپنی دنیا وآخرت کو سنوارنے کے لیے صحابہ کی عدالت و ثقاہت پر مکل بھروسا کر نے کی ضرورت ہے ۔دین کے اصول و فروع کو زندگی میں لانے کے لیے صحابہ کے ذریعہ ملی تعلیمات نبوی پر اعتماد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ ہمیں صحابہ کے نقش قدم پر چلنے ،ان سے سچی محبت کرنے، ان کی شان کو برقرار رکھنے،اپنی زبان پرکنٹرول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہجرت مدینہ منصوبہ بندی کی بہترین مثال

  مولانا انتخاب پاشا ندوی

ہمارے رب نے دین اسلام کا پیغام قرآن کریم کے ذریعے محض نظریاتی طور پر عطا نہیں فرمایا بلکہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ، ان تمام مشکلات کا حل سنت رسول میں شامل کردیا جو قیامت تک اہل ایمان کو درپیش ہو سکتی ہیں ، ہجرت مدینہ اسی سنت رسول کا ایک فکر انگیز باب ہے، سفر ہجرت کے دوران کئی واقعات پیش آئے،یہ واقعات جہاں ولولہ انگیز ہیں وہیں اسلامی سوچ و فکر اور دینی مزاج کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں    ہمارا قادر مطلق رب اگر چاہتا تو اپنے سب سے پیارے بندہ حضرت محمد ﷺکو بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے شب معراج کی طرح مدینہ منورہ لے جاتا ۔ لیکن اللہ نے ایسا نہ کیا ، اس دانا و حکیم کا ہر کام حکمت سے معمور ہوتا ہے ، جس کا ہم ادراک نہیں کر سکتے، وہ علیم و خبیر اس موقع پر قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر اپنے دین کا خاص مزاج اسوہء حسنہ کی صورت میں واضح کرنا چاہتا تھا ۔ 

سفر ہجرت میں قدم قدم پر یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ آپ نے دستیاب انسانی وسائل کا بھرپور استعمال کیا ،  بہترینی تدابیر کا مظاہرہ کیا ، اور جب انسانی وسائل بے بس نظر آنے لگے تو اس وقت اللہ پر توکل کی شاندار مثال قائم کی ۔     آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کا واقعہ اگرچہ گزر چکا ہے لیکن اس کے احکام زندہ ہیں ، جب جب مسلمان مکہ جیسے حالات سے دوچار ہوں گے ، تب تب ہجرت کے احکام ان پر لاگو ہوں گے ، وجہ یہ ہے کہ ہجرت کا مفہوم ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جانے تک کا نہیں ، بلکہ یہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی کا نام ہے ۔ ہجرت ہی کی بدولت اسلامی دعوت کمزوری سے طاقت کے عالم میں منتقل ہوئی ۔ قبل ہجرت یثرب کے لوگ تفرقہ و انتشار کا شکار تھے ، ہجرت کی بدولت اتحاد و اتفاق کا نمونہ بن گئے۔ ہجرت سے قبل مہاجرین اور انصار داخلی مسائل اور مشکلات کا شکار تھے جسکی وجہ سے وسیع پیمانے پر تبلیغ کا کام مشکل تھا جبکہ ہجرت کے بعد عظیم تحریک اور وسیع کارواں میں بدل گئے ۔

ہجرت نبوی پر غور کرنے سے کئی نکات سامنے آتے ہیں:

۱_ -اہل باطل کے غلبہ کی صورت میں مداہنت و سودے بازی کے بجائے اس سے نجات و دوری کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنا ۔

۲- اللہ تعالی پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ مشروع و مباح مادی اسباب کا اختیار کرنا۔

۳- اپنے دفاع و نجات کے لیے تدابیر اختیار کرنا ۔      

اسی طرح حضور نے مدینہ میں پہلی بار اسلامی حکومت کا سنگ بنیاد رکھا ، ہجرت سے قبل سرزمین عرب میں اسلامی حکومت اور نظام سیاست کا وجود نہیں تھا ، اسی وجہ سے خاندانی اور قبائلی جنگیں سال بھر پورے عرب میں ہوا کرتی تھیں،  مگر آپ کی تشریف آوری کے بعد تمام قبائلی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا ۔

ہجرت کے سبب سے جو مقاصد حاصل ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

۱- مشرکین مکہ کے شر سے حضور کی حفاظت ۔

۲- اسلام ہجرت کے بعد رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

۳- اسلام نے ہجرت کے بعد سیاسی اور سماجی زاویہ سے اپنے آپ کو مستحکم کیا ۔

۴- مسلمانوں نے ہجرت کے بعد دینی احکام اور اسلامی تعلیمات کا کھلم کھلا اظہار کیا ۔

۵- ہجرت کے بعد اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی۔

۶- ہجرت کے بعد مدینہ میں کھل کر مبلغین اسلام کی تربیت کی گئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا ۔

ہجرت کی ان خصوصیات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے جس طرح انصار نے مہاجرین کے ساتھ کیا ، اور دعوت و تبلیغ اسلام کا فریضہ اسی جوش و جذبہ اور حکمت عملی کے ساتھ انجام دینا چاہیے جیسا کہ مہاجرین اور انصار نے انجام دیا اور زندگی اسوہ نبوی کو سامنے رکھ کر اسی طرح گذارنا چاہیے جس طرح کہ صحابہ نے گزاری ۔ کیوں کہ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لیے نمازی 


ماہِ ربیع الاول کا پیغام

ماہِ ربیع الاول کا پیغام


محمد نظام الدین ندوی


 اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ گیر مذہب ہی نہیں بلکہ ایک بہترین نظام زندگی اور نظریہ حیات بھی ہے جس کا اعتراف صرف اسلام کے ماننے والوں نے ہی نہیں بلکہ دنیا کے غیر مسلم دانشوروں اور مفکروںو مؤرخوں نے بھی کیا ہے۔ اسلام خدا کی وحدانیت کا درس دیتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف ایک خدا ہے اور وہی عبادت و پرستش کے لائق ہے اس کا کوئی اور شریک نہیں۔خدا نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے، انہیں ضلالت وگمراہی اور بے راہ روی سے روکنے، نجات اور ہدایت کی راہ دکھا نے کے لیے دنیا میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور نبی بھیجے اور سب سے آخر میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے کے لیے حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر دنیا میں بھیجا۔ حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو احکام دیے اور جس پر عمل پیرا ہونے کو ذریعۂ نجات بتایا وہ آج بھی ہمارے پاس قرآن مجید کی شکل میں محفوظ ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گا اور اسوۂ رسول ﷺ بھی حدیث کی شکل میں محفوظ ہے۔

یہ امت مسلمہ ہی کا امتیاز ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی آئیڈیل شخصیت موجود ہے جس کی زندگی کا ہر ورق روشن اور عیاں ہے، وہ شخصیت ہر زمانہ اور ہر طبقہ کے لیے قابل اسوہ ہے، ورنہ دنیا کے تمام مذاہب ایک آئیڈیل پرسن سے محروم ہیں، اگر ان مذاہب میں کوئی اعلیٰ شخصیت گذری بھی ہے تو شومی قسمت کہ انہوں نے اس کو اپنا اوتار یعنی خدا کا نائب سمجھ لیا۔ لیکن حضور اکرمﷺ کی شخصیت ایسی ہے جس میں شاہ و گدا سب کے لیے اسوہ ہے، دنیا کے ماہرین و منصفین اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جیسی شخصیت تاریخ میں نہیں ملتی۔

افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسی مہتم بالشان ہستی کی ہم سے کما حقہ قدر نہ ہوسکی، اس کی آخری وحی کو ہم اپنی زندگیوں میں نافذ نہ کرسکے، جس میں جینے کا مزہ مخفی تھا، ترقی کی منازل پوشیدہ تھیں۔

ماہِ ربیع الاول ہر سال ہمیں یہ پیغام دےکر جاتا ہے کہ ہمیں اپنے نبیﷺ سے محبت کا جائزہ لینا چاہیے، ان کی سنتوں سے ہمارا کس درجہ تعلق ہے، اس کا احتساب ہونا چاہیے، آپ کی تعلیمات اور آپ کی ذاتی زندگی سے ہماری کتنی حد تک واقفیت ہے، اس کا ہمیں علم ہونا چاہیے، آپ کی زندگی کا بنیادی مقصد اور مشن کیا تھا، یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ دراصل یہ ماہ انہیں سب مقاصد کی تجدید کا پیغام ہے۔


آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...