Translate

Saturday, January 24, 2026

جشن جمہوریہ۔ اور ہماری ذمہ داریاں محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

جشن جمہوریہ۔ اور ہماری ذمہ داریاں

محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ9506600725

  آزاد ہنـدوسـتان کی تاریخ میں دو دن قومی اعتبار بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/ اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا اور  دوسرا 26/ جنوری جس دن ملک کی بقاء و سالمیت اور استحکام کے پیشِ نظر  "سیکولر جمہـوری قوانین" نافذ کئے گئے۔ 
اس لئے 26 جنوری 1950ء کو نئے جمہوری قوانین کے نفاذ کی خوشی میں پہلا یومِ جمہوریہ منایا گیا اور پھر اسی طرح ہرسال 26 /جنوری کو  جشـنِ جمہـوریت "یـومِ جمہـوریہ" کے نام سے منایا جانے لگا۔ 
اور 15 اگست 1947ء کی طرح یہ تاریخ بھی ہمارے ملک کی یادگار بن گئی، جس طرح 15 / اگست کو شہـداءِ وطن کی قربانیوں کو یاد کرکے انہیں مبارکباد پیش کی جاتی ہے ، اسی طرح 26/ جنوری کو سیکولر جمہوری نظام کے بانیین، مرتبین اور نافذین کو بہترین انداز میں خراجِ عقیدت و محبت پیش کی جاتی ہے۔ 
        اس ملک کے جمہوری قوانین کو نافذ کرنے کے لیے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کی صدارت میں 29 اگست 1947ء کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئ تھی، جس کو ملک کا موجودہ قانون مرتب کرنے میں ۲/ سال ۱۱/ ماہ ۱۸ دن لگے ۔ دستور ساز اسمبلی کے مختلف اجلاس میں اس نئے دستور کی ہر شق پر کھلی بحث ہوئی، پھر 26/ نومبر 1949ء کو اسے قبول کرلیا گیا اور 24/ جنوری 1950ء/  کو ایک مختصر اجلاس میں تمام ارکان نے نئے دستور پر دستخط کر دیا ۔البتہ  شاعر حریت حسرت موہانی مرحوم  نے مخالفت کرتے ہوئے دستور کے ڈرافٹ پر ایک نوٹ لکھا کہ ۰۰ یہ دستور برطانوی دستور کا ہی اجراء، چربہ اور توسیع ہے، جس سے آزاد ہندوستانیوں اور آزاد ہند کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہوتا۔
بہر حال 26/ جنوری 1950ء کو اس نئے قانون کو لاگو (نافذ )کرکے پہلا جشن جمہوریہ منایا گیا۔ اس طرح ہر سال 26/  جنوری کو جشن جمہوریت، اور یوم جمہوریت کے عنوان سے منایا جانے لگا اور 15/ اگست 1947ء /  ہی کی طرح یہ تاریخ بھی ملک کی قومی اور یاد گار تاریخ بن گئ ۔ 
     ہمارے ملک کے سیکولر دستور میں ہر ایک کا خیال رکھا گیا ہے ،تمام قبائل،قوموں اور ذات برادری نیز اقلیتوں کی بھر پور رعایت کی گئی ہے۔ جمہوری قانون کے اعتبار سے اس ملک کے قانون کا مطالعہ کیا جائے تو ہمارے ملک کا قانون بہت منظم،مرتب اور متنوع ہے اور اس میں ہر طبقہ کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے اور کسی طرح کے ساتھ بھید بھاؤ اور اونچ نیچ اور دونظری سے صاف رکھا گیا ہے۔ اگر ہندوستانی باشندے  یہاں کی حکومت اور عدلیہ سب کے سب یہاں کے قانون کی سو فیصد پاسداری اور رعایت کرنے لگیں، تو یہ ملک صحیح معنی میں بے مثال و بے نظیر جمہوری ملک بن جائے گا اور پھر کسی طبقہ کو کسی سے شکایت نہیں رہ جائے گی۔  
لیکن دوستو !  یہاں ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا ہے کہ یہ آزادی و خوشی اور یہ جشـن و بہار ھمیں ایک یا دو انگلی کٹا کر اور ایک دو سال کے احتجاج کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہوئی ہے۔ 
بلکہ اس کے لئے ھمارے اسلاف نے اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کیا ہے اور مسلسل 90 سال تک عظیم قربانیاں دی ہیں، تب کہیں جاکے ھمیں یہ آزادی کی نعمت حاصل ہوئی ہے ۔ 
دوستو !
آپ سب جانتے ہیں کہ آج سے  پچہتر ستتر سال پہلے ہمارا یہ عظیم ملک جس کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اور جس کو قدرت نے ہر طرح سے مالا مال کیا تھا،  سفید انگریزوں کے قبضے میں تھا۔ یعنی ہم اس وقت غلام ہو گئے تھے ۔ اور انگریز ہم پر حاکم ہو گیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ غلامی کتنی بدتر چیز ہے۔ غلام آدمی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ اسی لئے غلامی کو لعنت کہا جاتا ہے۔ ناپاک انگریز صرف ہم پر حکومت ہی نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ پوری مکاری ، عیاری اور چالاکی کے ساتھ یہاں کی قیمتی دولت کو سات سمندر پار بھیج رہے تھے۔ اور اس ملک کو کنگال کر رہے تھے ۔ ولایت کی سستی چیزوں کو یہاں قیمتی داموں میں فروخت کرتے تھے اور یہاں کی مہنگی چیزوں کو  خاص طور پر ڈرائے فروٹ اور مسالحہ جات کو جو صرف ہندوستان میں زیادہ ہوتا تھا اس کو بہت سستے داموں میں ملک برطانیہ والوں سے بیچتے تھے۔ جب ہمارے بدھی جیئویوں نے محسوس کیا کہ اس طرح تو ہمارا ملک کنگال ہو جائے گا اور یہاں کے لوگ بھوکے مرنے لگیں گے ، تو یہاں کے باشندے آزادی کی لڑائی کے لئے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے میدان آزادی میں کود گئے اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر انگریزوں سے مقابلے کے لئے تیار ہوگئے۔ 
دوستو ! پھر ایک طویل جد و جہد اور کوشش کے بعد جس میں لاکھوں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانیں گئیں اور لاکھوں کو قید و بند کی زندگی گزارنی پڑی اور اپنی جان و مال کا نقصان کرنا پڑا تب کہیں ہمارا یہ ملک آزاد ہوا ۔ اور ہم کو آزادی نصیب ہوئی۔
اس ملک کو آزاد کرانے میں ہندو مسلم اور سکھ پارسی سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ تھے۔ اور ان سب کی کوششوں سے آزادی کی یہ نعمت ہم سب کو ملی ۔ 
اس ملک کو آزاد کرانے میں مہاتما گاندھی مولانا محمد علی جوہر رام پرشاد بسمل جواہر لال نہرو ابو الکلام آزاد سردار ولبھ بھائی پٹیل سروجنی نائیڈو خان عبد الغفار مولانا محمود الحسن سہارن پوری مولانا حسین احمد مدنی مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی حسرت موہانی شوکت علی سوبھاش چندر بوس اور بہت سے لوگ آگے تھے اور ان کے پیچھے لاکھوں ہندوستانی تھے، جو ان کے اشارے پر کھڑے تھے ۔ آزادی کے یہ وہ ہیرو اور سورما ہیں جن کی قربانی اور بلدان کو ہم کبھی بھلا نہیں سکتے ۔  
دوستو ! ہم کو یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں مختلف افکار و خیالات اور تہذیب و تمدن کے لوگ رہتے اور بستے ہیں۔ 
   لیکن کثیر المذاھب ہونے کے باوجود یہ ملک گنگا جمنی تہذیب اور کثرت میں وحدت کی مثال پیش کرتا رہا اور یہی تنوع اور رنگا و رنگی اس ملک کی علامت و پہچان تھی۔ 
لیکن افسوس ! کہ ھمارا ملک  دھیرے دھیرے فرقہ پرستوں کے چنگل میں آگیا اور اسے حاسدین کی نظرِ بد لگ گئی کہ پورے ملک میں بد امنی و بےچینی پھیل گئی، جو تنوع اور رنگا و رنگی اس ملک کی پہچان ہوا کرتی تھی آج وہ فرقہ واریت میں تقسیم ہو گئی، اتحاد و اتفاق کی تصویر ہی مٹادی گئی اور مذہب کے نام پر قتل و غارت گری نے جگہ بنالی۔ 
 اس صورت حال نے جمہوری اقدار کو پامال کیا ، جمہوریت میں صرف حکومت کا ہی عوامی ہونا ضروری نہیں ہے ، عوام کی خواہشات ، امنگیں ، ان کے حقوق کا تحفظ ، مذہب پر چلنے کی آزادی سب کا خیال رکھنا ضروری ہے، بد قسمتی ہے کہ اب ملک میں نفرت کا ماحول بن رہا ہے ، ذات پات کی اور رنگ و نسل قوم و مذہب کے نام پر سیاست ہو رہی ہے، مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ، گئو رکچھا، لو جہاد، مندر تعمیر کے نام پر رواداری کا ماحول گذشتہ چندسالوں میں تیزی سے ختم ہوا ہے، نوٹ بندی نے عوامی زندگی کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ چھوٹے کاروباری تجارت کے اعتبار سے ختم ہو چکے ہیں کوڈ19 اور لاک ڈاؤن کے غیر منصوبہ بند،نفاذ نے ہر شہری کو پریشانی میں آج تک مبتلا رکھا ہے، گاندھی جی اس ملک میں عدم تشدد اور اہنسا کی علامت کے طور پر مختلف جگہوں پر تصویری شکل میں موجود تھے، انہیں بھی دیش نکالا دینے کی تیاری زوروں پر چل رہی ہے ، کئی جگہ سے انہیں ہٹایا جا چکا ہے اور روپے پر بھی کتنے دن نظر آئیں گے، کہنا مشکل ہے، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ملکی باشندوں کو عصبیت کا سامنا ہے اور جان بوجھ کر دلتوں ، مسلمانوں اور لسانی اقلیتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، بحالیوں میں اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں بھی سرکار سینئرٹی کو نظر انداز کرکے پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے ،۔۔ 
  اس ملک کو ہمارے پروجوں، بزرگوں اور پرکھوں نے بے مثال قربانیاں دے کر آزاد کرایا،اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔آپسی بھائی چارہ کی فضا قائم کرکے ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ دیا۔
 آج وہی ملک بدامنی اور ہنسا کا آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ملک کے دستور و آئین کی دھجیاں اڑا کر ملک کی فضا میں نفرت ،تعصب اور تشدد کا زہر گھولا جا رہا ہے ۔ جمہوریت پر مبنی قوانین کی اصلی شکل و ہئیت تبدیل کرکے منوواد کے نام پر ایک سیاہ قانون اور کالا بل ملک کے لوگوں پر تھوپنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔ 
ایسے نازک حالات میں ہماری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ ہم جمہوریت اور سیکولرزم کی حفاظت کرکے اس ملک میں امن و شانتی اور پریم و محبت کے ماحول بنائیں اور ساتھ ہی اپنی نسلوں کو ملک کے جمہوری قوانین سے متعارف کرائیں ،اور انہیں بتائیں کہ یہاں کے آئین نے ہمیں کس قسم کے اور کیسے اختیارات دئیے ہیں ۔
کاش ! اس وقت نفرت بھرے ماحول کو امن و آشتی اور بھائی چارگی سے بدلنے کی کوشس کی جاتی،  اقلیت و اکثریت کی جگہ جمہوری اقتدار پر توجہ دی جاتی، فرقہ پرستی کے بدلے اتحاد و اتفاق کو جگہ مل پاتی، نانک و چشتی کے خوابوں کی تعبیر کو ڈھونڈنے کا عزم کیا جاتا ، ملک کو پھر سے گنگا جمنی تہذیب کا مرکز بنایا جاتا اور اسی تنوع و رنگا و رنگی کو دوبارہ لایا جاتا ـ
.   کیونکہ..
      مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
     ہندی ہیں ھم وطن ہیں ہندوستاں ھمارا
 ہم تمام ہندوستانی باشندے کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس جمہوری ملک کے نام کو پوری دنیا میں روشن کریں اور یہاں کے جمہوری دستور و قانون کو عملی طور پر برتیں اور سب مل کر امن و شانتی اور پریم و محبت کے ساتھ رہیں اور ہر جگہ انسانیت اور شرافت کا اعلی نمونہ پیش کریں۔
****

Saturday, January 17, 2026

اسراء ومعراج کے مضمرات مفتی محمد اعظم ندوی

اسراء ومعراج کے مضمرات 
 محمد اعظم ندوی 
 
تاریخ انسانی کے طویل دھارے میں ایسے لمحے کم آتے ہیں جب زمان ومکان کے بندھن ٹوٹتے ہیں اور حقیقت کا آئینہ بے نقاب ہوتا ہے، اسراء ومعراج کا واقعہ سیرت کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے جب زمین وآسمان کے درمیان فاصلے سمٹ گئے اور ایک بندۂ خاکی نہاد ومولا صفات کو خدائے بزرگ وبرتر کا قرب خاص نصیب ہوا، یہ محض ایک جسمانی نقل مکانی یا خواب کی کوئی رومانوی داستان نہیں، بلکہ امت محمدیہ ﷺ کی فکری، روحانی اور اخلاقی تشکیل کا سرچشمہ اور انسانیت کے مقام ومرتبے کا آفاقی اعلان ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: "یہ دونوں سورتیں سورۂ اسراء اور سورۂ نجم جو واقعۂ معراج کے سلسلہ میں نازل ہوئیں، یہ اعلان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قبلوں (مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ) کے نبی اور دونوں سمتوں مشرق ومغرب کے امام اور اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر ورہنما ہیں، آپ کی شخصیت اور آپ کے سفر معراج میں مکہ بیت المقدس سے اور مسجد حرام مسجد اقصی سے ہم آغوش ہوگئی، آپ کی امامت میں تمام انبیاء نے نماز پڑھی، اور یہ دراصل آپ کے پیغام ودعوت کی عمومیت وآفاقیت، آپ کی امامت کی ابدیت اور ہر طبقۂ انسانی کے لیے آپ کی تعلیمات کی ہمہ گیری وصلاحیت کی دلیل وعلامت تھی، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت کا صحیح تعارف اور اس کی صحیح نشان دہی، آپ کی امامت وقیادت کا بیان، آپ کی اس امت (جس میں آپ مبعوث ہوئے) کے اصل مقام وحیثیت عرفی کا تعین اور اس پیغام ودعوت اور مخصوص کردار کی پردہ کشائی کرتا ہے، جو اس امت کو اس وسیع وعریض دنیا اور عالمی برادری میں انجام دینا ہے" (نبی رحمت، ص191)

قرآنِ حکیم نے اس داستانِ حقیقت کا آغاز لفظ "سُبْحَانَ" سے کیا، ایسا لفظ جو پاکیزگی، تقدیس اور تنزیہ کا پیکر ہے، گویا پہلے ہی اشارے میں یہ بتا دیا گیا کہ جو کچھ پیش آنا ہے وہ انسانی پیمانوں اور معمول کے ادراک سے ماورا ہے، یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا جسے عقل کی ترازو میں تولا جا سکے، بلکہ یہ خدائی قدرت کا وہ جلوہ تھا جو رب کریم اپنے محبوب ﷺ کو دکھانا چاہتا تھا، اور پھر اس محبوب کو "عبْدہ" کہہ کر پکارا—"اپنے بندے کو"، اس میں ایک لطیف نکتہ پنہاں ہے: معراج جیسی عظیم الشان سعادت کا راز کسی دعوے یا تفاخر میں نہیں، بلکہ کامل اور مخلصانہ عبودیت میں ہے، گویا بلندی تک پہنچنے کی شرط ہی یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی میں اتنا گم ہو جائے کہ اس کی ذات، خواہش اور انانیت پردہ بننے سے رہ جائے۔

مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک کا سفر بظاہر ایک جغرافیائی مسافت کو طے کرنے سے عبارت تھا، مگر درحقیقت یہ تاریخِ انبیاء کا ایک زندہ مرقع تھا، مسجد اقصیٰ وہ مقدس مقام ہے جو انبیائے کرام علیہم السلام کے قدم مبارک سے منور اور معطر ہے، وہاں ان کی دعائیں جذب ہوئیں اور ان کے سجدے ثبت ہوئے، نبی اکرم ﷺ کا اس سرزمین پر تشریف لانا اور تمام انبیاء کا نماز با جماعت میں امام بننا محض ایک رسمی اجتماع نہ تھا، بلکہ یہ ایک علامتی اور تاریخی اعلان تھا کہ ہدایت کی مشعل، جو ہر دور میں انبیاء کے ہاتھوں روشن رہی، اب اپنے آخری اور کامل وارث تک پہنچ چکی ہے، یہ گویا رسالت محمدیہ ﷺ کی عالمگیر اور جامع حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھا، یہ واقعہ امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم امانت بھی تھا کہ جس سرزمین کو رسولِ خدا ﷺ نے اپنے قدموں سے سرفراز فرمایا، وہ محض ایک قطعۂ زمین نہیں، بلکہ ایمان کی نشانی، توحید کا مرکز اور تاریخ اسلام کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، بیت المقدس سے جذباتی، فکری یا عملی طور پر کٹ جانا، درحقیقت اپنی روحانی وراثت، اپنی شناخت اور اپنی تاریخ سے بیگانگی کے مترادف ہے۔

معراج کا سفر رات کے سناٹے میں ہوا، یہ انتخاب محض اتفاق نہ تھا، رات وہ وقت ہے جب دنیا کی ہلچل تھم جاتی ہے، بازاروں کی رونقیں ماند پڑتی ہیں اور انسان اپنے آپ سے روبرو ہوتا ہے، یہی وہ گھڑی ہے جب دل کی زبان سے نکلی ہوئی فریاد بہتر طور پر سنی جا سکتی ہے، رب کریم نے اپنے حبیب ﷺ کو اسی وقت بلایا جب زمین خاموش تھی، تاکہ آسمان کی بے آواز سرگوشیاں پورے وقار کے ساتھ سنی جا سکیں، یہ سفر محض روحانی نہ تھا، بلکہ جسم وروح دونوں کے ساتھ طے ہوا، اس میں ایک گہری حکمت پنہاں تھی، یہ دکھانا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مادہ اور روح، جسم اور جان، زمین اور آسمان سب یکساں طور پر مسخر ہیں، وہ چاہے تو مٹی کے پیکر کو نور بنا دے، فاصلے کو قربت میں بدل دے اور لمحے کو سرمدی تجربے میں تبدیل کر دے۔

جب حضور ﷺ آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے تو ہر آسمان پر کسی نہ کسی برگزیدہ نبی سے ملاقات ہوئی، یہ محض تعارفی ملاقاتیں نہ تھیں، بلکہ یہ تسلسل نبوت کا ایک زندہ اظہار تھا، ہر نبی گویا رسول اکرم ﷺ کو یہ بتا رہے تھے کہ جس راستے پر آپ ﷺ چل رہے ہیں، آپ تنہا نہیں، اس پر پہلے بھی حق کے قافلے گزر چکے ہیں، آدم علیہ السلام کی جلاوطنی، یوسف علیہ السلام کی آزمائش، موسیٰ علیہ السلام کی سرکش قوم، عیسیٰ علیہ السلام کی مظلومیت اور ابراہیم علیہ السلام کی توحید کی جدوجہد—یہ سب درحقیقت سرور دو عالم ﷺ کی زندگی میں آنے والے مراحل کی جھلکیاں تھیں، ان ملاقاتوں میں ایک طرف تو تسلی کا پہلو تھا کہ آپ ﷺ تنہا نہیں ہیں، اور دوسری جانب یہ ذمہ داری کا احساس بھی تھا کہ جو امانت پہلے ان برگزیدہ ہستیوں کے ہاتھوں میں تھی، اب اور کامل ومکمل شکل میں آپ ﷺ کے سپرد ہے۔

معراج کا سب سے قیمتی اور عملی تحفہ نماز ہے، جو زمین پر نہیں بلکہ آسمان دنیا سے بلند تر مقام پر فرض ہوئی، یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بندے اور رب کے درمیان تعلق محض ایک نظریاتی یا تاریخی رشتہ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ، متحرک اور روزانہ کا روحانی مکالمہ ہے، پچاس نمازوں سے پانچ پر تخفیف محض ایک عددی کمی نہیں، بلکہ رحمت خداوندی کی وسعت اور بندے پر شفقت کا اظہار ہے، اجر وثواب وہی رہا، مشقت کم کر دی گئی، تاکہ بندہ بوجھ کے احساس کے بجائے محبت اور شوق سے اپنے رب کے سامنے جھکے، نماز دراصل ہر مومن کی اپنی روزانہ کی معراج ہے، یہ وہ مقدس لمحہ ہے جب انسان دنیا کی خاک آلودگی سے اٹھ کر خدا کے حضور کھڑا ہوتا ہے، اپنی تمام تر کمزوریوں، حاجتوں اور التجاؤں کے ساتھ، جو شخص نماز کو زندہ رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کی روحانی توانائی کو بھی زندہ رکھتا ہے، اور اس کے عروج کا سفر جاری رہتا ہے۔

اس رات نبی کریم ﷺ کو جنّت ودوزخ کے مناظر دکھائے گئے، اور مختلف اعمال کرنے والوں کی حقیقی صورتیں بھی آشکار ہوئیں، جو لوگ دنیا میں گناہوں کو ہلکا سمجھتے ہیں، وہاں اس کی بدبو، اس کی کراہیت اور اس کی ہولناکی بے نقاب ہوئی، زنا، غیبت، سود، ظلم اور بے حیائی کی تصویریں محض ڈرانے کے لیے نہ تھیں، بلکہ یہ جاننے کے لیے تھیں کہ اخلاقی بگاڑ صرف ایک سماجی یا انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک کائناتی خرابی ہے جو انسان کے اندرون میں تعفن پیدا کردیتی ہے، یہ مناظر دراصل بصیرت کا دروازہ کھولتے ہیں، تاکہ انسان اپنے انجام کو دیکھ کر اپنے حال کو سنوار سکے۔

یہ بھی غور طلب امر ہے کہ معراج کا یہ اعزاز اس وقت عطا ہوا جب زمینی زندگی میں دکھوں اور مصائب کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا، طائف کے پتھر، قریش کی تمسخر آمیز آوازیں، اپنوں کی بے رخی اور مخالفتوں کا طوفان، یہ سب ابھی تازہ تھے، ایسے میں آسمان کے دروازے کھلے اور رسولِ خدا ﷺ کو وہ مقام دیا گیا جس کا تصور بھی مشکل تھا، یہ درحقیقت یہ اعلان تھا کہ جو اللہ کی راہ میں ٹوٹتا ہے، وہی اس کی قربت میں سجایا جاتا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بے تردد اور فوری ایمان لانا ("اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو سچ کہا ہے") اس واقعے کی سب سے قیمتی اخلاقی گونج ہے، وہ ایمان جو دلیل وثبوت کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ محض رسول کی صداقت پر موقوف ہوتا ہے، وہی اصل روحانی دولت ہے۔

اسراء ومعراج کا اہم پیغام یہ بھی ہے کہ دین محض چند رسومات، تہواروں یا یادگاروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ بندگی، اخلاق، ذمہ داری اور روحانی بیداری کا ایک مکمل نظام حیات ہے، یہ واقعہ ہمیں بلاتا ہے کہ ہم اپنی نماز کو محض حرکات کا ایک سلسلہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی روحانی معراج بنائیں، اپنی سچائی کو مضبوط کریں، اپنے اخلاق کو سنواریں، اور اپنی تاریخ وروایت سے جڑے رہیں، اگر ہم نے معراج کی اس روح کو پا لیا، تو پھر آسمان آج بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں رہتے؛ کیونکہ معراج کا واقعہ تو ایک رات میں مکمل ہو گیا، لیکن روحانی بلندیوں کی طرف سفر کی راہ قیامت تک ہر اس شخص کے لیے کھلی ہے جو اپنے رب کی تلاش میں ہے، یہ سفر آج بھی جاری ہے، بس ضرورت ہے تو اسے پہچاننے اور اس پر چلنے کے عزم مصمم کی، خدا اس امت کی مشکلیں آسان فرمائے۔

Tuesday, January 13, 2026

مذہب میں سیاست یا سیاست میں مذہب مفتی محمد نصر الله ندوی


  مذہب میں سیاست یا سیاست میں مذہب
 
 مفتی محمد نصر الله ندوی 
       
          مذہب انسان کی بنیادی ضرورت ہے،ہر انسان فطری طور پر مذہب سے وابستہ ہوتا ہے، مذہب اسے روحانی طور پر سکون دیتا ہے،اس کی زندگی کا مقصد متعین کرتا ہے،مذہب کی وجہ سے سماج میں امن وسکون پیدا ہوتا ہے،یہ انسان کو ظلم وانصافی سے روکتا ہے،اور اسے خود غرضی ،مفاد پرستی اور ہوی وہوس کے راستے پر چلنے سے منع کرتا ہے،مذہب سے وابستگی کے نتیجہ میں ایک صالح اور مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے،جہاں ہر طرف علم ،اخلاق اور محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور لوگوں کی زندگی عموما خوشحال اور پرسکون ہوتی ہے۔
 
                   مذہبی سے غیر معمولی تعلق کی بنیاد پر ہندوستان کے سیاستداں ووٹروں کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں،ان کو اونچے اونچے خواب دکھاتے ہیں اور ان کی جہالت اور حماقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں،تازہ معاملہ مہاراشٹر کا ہے ،جہاں میونسپل الیکشن کی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اسدا الدین اویسی نے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا،جب باحجاب خاتون ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی،اس طرح کا بیان انہوں نے 2022ؑ میں یوپی الیکشن میں بھی دیا تھا،نتیجہ یہ ہوا کہ باحجاب خاتون وزیر اعظم تو نہیں بن سکی،البتہ یوگی آدتیہ ناتھ پوری اکثریت کے ساتھ وزیر اعلی بن گیا،جس کی خباثتیں اور مسلم دشمنی جگ ظاہر ہے،اب تک سیکڑوں مساجد،مدارس ، خانقاہیں اور مسلمانوں کے گھر بلڈوز ہو چکے ہیں،کتنے مدرسے بند ہو چکے ،مائک سے اذان پر پابندی لگ چکی ہے،مدارس میں دہشت گرد تلاش کئے جارہے ہیں۔
  
             بہار کے حالیہ الیکشن میں انہوں نے کہا کہ جب ایک ملاح کا بیٹا نائب وزیر اعلی بن سکتا ہے،تو ایک مسلمان وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکتا؟اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجلس کو پانچ سیٹ تو مل گئی ،لیکن بے جے پی پورے دم خم کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوگئی،وزارت داخلہ کی کمان بی جے پی کے پاس ہے،اور ہر طرف بلڈوزر کا قہر جاری ہے،مسلمانوں کا ننگا کرکے ماب لنچنگ کی جارہی ہے،بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتا کر قتل کیا جارہا ہے،بیریسٹر صاحب کو ان واقعات کی خبر یا نہیں مجھے نہیں معلوم، وہ خود تو زیڈ پلس سیکورٹی کے سایہ میں چلتے ہیں،لیکن اس غریب مزدور مسلمان کی پرواہ نہیں کرتے،جو دوروٹی کی تلاش میں تن تنہا سڑکوں پر چلتا ہے اور گلی کوچوں کی خاک چھانتا ہے۔
  
                ایک ایسے ملک میں جہاں ایک میڈیکل کالج کو صرف اس لئے بند کردیا جاتا ہے کہ اس میں منتخب ہونے والے اکثر طلبہ مسلمان تھے،جہاں کوئی مسلمان یونیورسیٹی کا وی سی نہیں بن سکتا جب تک وہ آرایس ایس کا وفادار نہ بن جائے، جہاں ہندوستان کے دل دلی میں بلڈوز دندناتا رہتا ہے اور اسلامی آثار کو چن چن کر نیست ونابود کردیتا ہے،جہاں عمر خالد اور شرجیل امام جیسے ہونہار نوجوانوں کو جیل میں سڑنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے،جہاں عدالتیں کھلے عام آئین اور دستور کی دھجیاں اڑاتی ہیں، وہاں ایک باحجاب خاتون کے وزیر اعظم بننے کی باتیں کرنا،دیوانے کی بڑ جیسا ہے،لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس پر تالیاں بجارہے ہیں اور فرط مسرت سے جھوم رہے ہیں،جیسے بیریسٹر صاحب نے کوئی نادر نکتہ یا کوئی گہری بات کہ دی ہو ،جہاں تک کسی لیڈر کی رسائی نہیں ہے،یہ وہی طرز سیاست ہے جو بی جے پی کو بہت پسند ہے،جو لوگ اس طرز کو اختیار کرتے ہیں،بی جے پی ان سے ہمدردی رکھتی ہے،بلکہ ان کو کھلی چھوٹ دیتی ہے کہ وہ جو چاہیں بو لیں اور جس طرح چاہیں مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال کریں،حال ہی میں بنگال میں بابری مسجد کے نام پر لاکھوں کی بھیڑ جمع کی گئی اور اس کی آڑ میں اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کی گئی،ملک میں کچھ ایسے بابا ہیں جو سناتن کے نام سے اپنی روٹی سینکتے ہیں،یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ملک مذہبی جنون کے راستہ پر چل پڑا ہے ،جس کا انجام تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں ہے،تقسیم ملک کے وقت وطن دنیا نے خونیں منظر دیکھا اور ملک کے ٹکڑے ہوگئے،آج ایک بار پھر اسی کہانی کو دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے،ماضی میں جو کام مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کیا نے کیا،اب مجلس اور بھا جپا اسی کردار کو دہرانے کی کوشش کررہی ہے ،اگر ملک کے دانشوران،قائدین اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیا،تو ملک کو ٹوٹنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
  
            اگر کوئی اسلام کے مطابق سیاست کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے ابوبکررض وعمر رض کا دور خلافت موجود ہے،گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر کوئی حکومت کرنا چاہتا ہے تو اس کو بوبکر رض وعمر رض کا نمونہ دیکھنا چاہئے،ان دونوں حضرات نے عدل وانصاف ،مساوات اور انسانیت کی ایسی مثال پیش کی کہ دنیا آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے دنیا عاجز ہے،اگر آج کوئ مسلم لیڈر سیاست کرنا چاہتا ہے تو اسے ان دونوں کے طرز عمل کو اختیار کرنا چاہئے،یہی دین کی روشنی میں سیاست کا منہج ہے،اس کو چھوڑ کر آرایس آرایس اور ہندو مہا سبھا کے طریقہ پر چلنا ، شرعا درست ہے ،نہ موجودہ حالات سے ہم آہنگ ہے۔

Saturday, January 10, 2026

صفئہ نبوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی اسلامی درسگاہ ترتیب/ محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

صفئہ نبوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی اسلامی درسگاہ 

ترتیب/ محمد قمر الزماں ندوی 
 مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

   دنیا میں سب سے زیادہ جس مذہب نے علم پر زور دیا، تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور بنیادی دینی و دنیاوی تعلیم کو لازمی قرار دیا، وہ مذہب اسلام ہے ، اسلام کی ابتداء ہی لفظ تعلیم سے ہے، کیونکہ فترہ کے بعد آپ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس میں پہلا لفظ اقراء ہے ۔ جس معنی ہیں پڑھو علم حاصل کرو ۔ آپ اندازہ کیجئے کہ دنیا کے نقشہ پر اور دنیا کے جغرافیہ میں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کی حالت کیا تھی ،جہالت کا دور دورہ تھا ،عرب کا بڑا حصہ بلکہ اکثر حصہ جہالت و ناخواندگی کی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھا اور نہ صرف علم کی دولت سے محروم تھا ،بلکہ عرب علم کی اہمیت ،اس کی عظمت اور اس کی افادیت و اہمیت سے بھی نابلد تھا ۔ 
ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس میں کفر و شرک کی تردید نہیں اور خدا پر ایمان لانے کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ،جو قرآن کی تبلیغ اور اسلام کی دعوت کا عطر اور خلاصہ ہے ۔اس پہلی وحی میں آخرت اور فکر عقبیٰ کا تذکرہ نہیں، جو ایمان و عمل کا اصل محرک ہے ۔ اس پہلی وحی میں نبوت و رسالت کی بہت زیادہ تشریح اور اعلان نہیں، جس پر اسلام کی پوری بنیاد اور عمارت کھڑی ہے ۔ اس میں ظلم و ناانصافی اور افتراق و انتشار کی مذمت بھی نہیں جو عرب کے مزاج میں داخل ہوگیا تھا ،اس وحی میں اخلاقی برائیوں اور اخلاقی پستیوں پر بھی تنقید نہیں، جن کی اصلاح کو آپ نے اپنی دعوت اور اپنی زندگی کا مشن بنایا بلکہ یہ پہلی وحی انسانیت کو علم کی طرف متوجہ کرتی ہے ،جس میں پہلا لفظ ہی اقراء کا ہے جس کے معنی ہیں علم شکھچھا اور گیان حاصل کرو ۔۔۔ اس سے تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ قرآن مجید نے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جس حیثیت کو سب سے زیادہ واضح کیا وہ یہی ہے کہ آپ معلم ہیں داعی اور مبلغ ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما بعثت معلما میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعثنی اللہ معلما اور فرمایا بعثنی اللہ مبلغا ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے معلم و مبلغ بنا کر بھیجا ۔ آپ نے بنیادی دینی تعلیم اور شعور و آگہی کے حاصل کرنے کو لازمی قرار دیا ،ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام بچوں کے جبری تعلیم کا قائل ہے تاکہ ہر شخص اپنے نفع و نقصان کو اچھی طرح جان سکے اور اپنی مقصد پیدائش سے واقف ہوسکے ۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں علم کا چراغ بن کر آئے اور اس جہالت کو اپنا نشانہ بنایا جس کے سایہ میں برائیاں پنپتی ہیں ۔
   آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں بھی جہاں مسلمانوں کے لیے حالات بہت مشکل تھے ،آپ نے تعلیم و تربیت کو نظر انداز ہونے نہیں دیا اور اپنے ایک جانثار کے مکان دار ارقم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔جو صفا کی چوٹی پر واقع تھا اور جو ہر لحاظ سے وہاں کے لیے موزوں تھا، تعلیمی و تربیتی مرکز بنایا اور تعلیم کا ماحول برپا کیا ۔
  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کرگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولین کام یہی کیا کہ مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی اور اسی کے متصل ایک چبوترہ تعلیمی مقصد کے لیے بنایا جسے صفہ کہا جاتا تھا یہ گویا اسلامی تاریخ کا پہلا مدرسہ تھا اور دنیا میں جتنے بھی ادارے اور مدارس قائم ہیں ان سب کا شجرہ اسی صفئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے ۔۔ اس مدرسہ میں مقیم اور غیر مقیم دونوں طرح کے طلبہ علم حاصل کرتے تھے اور یہی دار الاقامہ اور دار العلوم تھا ،ان میں طلبہ کی تعداد حالات و زمانہ کے اعتبار سے گھٹتی بڑھتی رہتی تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درسگاہ کے سرپرست ناظم مہتمم نگراں اور معلم بلکہ ناظم مطبخ بھی تھے ۔ اس ادارہ سے اس وقت استفادہ کرنے والوں کی تعداد ریکارڈ کے مطابق نوسو تک تھی ۔ یہاں کبھی طلبہ کی تعداد سو ہوتی کبھی ڈیڑھ سو ۔
ذیل کے مضمون میں ہم اس پہلی اسلامی درسگاہ کا مکمل تعارف مختلف ماخذ اور متعدد مراجع کی روشنی میں پیش کرتے ہیں تاکہ ہم اسلام میں علم کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور صفہ نبوی کی علمی تاریخی اور دینی حیثیت کو جان سکیں ۔۔۔۔۔
۔
صفہ کے معنی ہیں چبوترا (تھڑا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مسجد نبوی سے متصل پیچھے کی جانب تھوڑا سا چبوترا بنادیا گیا تھا جہاں مہمان اترتے تھے اور علم سیکھنے والے فقراء صحابہ وہاں مستقل طور پر رہتے تھے۔صفہ سائبان اور سایہ دارجگہ کو کہتے ہیں، عہد رسالت میں تحویل قبلہ کے بعد مسجد نبوی کے شمال ِمشرق میں مسجدسے متصلا ایک چبوترا بنایا گیا ،جس پر سایہ کا بھی انتظام کیا گیا تھا ،اس چبوترا کو صفہ کہا جاتا ہے ،اس جگہ قیام کرنے والے صحابہ کرام کو اصحاب صفہ کہا جاتا ہے ۔

صفہ اور اصحاب صفہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو مسافر ،ضعفائے مسلمین و فقرائے مہاجرین اور وہ مساکین جن کا گھر بار نہیں ہوتا تھا ،وہ حضرات بارگاہِ نبوت ورسالت میں حاضر ہوتے اور اسی چبوترے میں قیام فرماتے تھے،موجودہ توسیع کے اعتبار سے ریاض الجنہ کے پیچھے ،باب جبرئیل یا باب النساء سے داخل ہونے کے بعد بائیں جانب واقع ہے ،مقام صفہ کا طول وعرض چالیس مربع فٹ ہے ۔[1] یہ حضرات اصحاب صفہ کہلاتے تھے انہی کی سی صفات رکھنے والوں کو آج صوفیاء کہتے ہیں، یعنی صفائی دل اور صوف کا لباس رکھنے والی جماعت یہ حضرات کم و بیش ہوتے رہتے تھے کبھی 70 اور کبھی 200 سے زیادہ گویا یہ مدرسہ نبوی تھا۔ ان حضرات میں مشہور صحابہ کرام یہ ہیں ابو ذر غفاری، عمار ابن یاسر، سلمان فارسی، صہیب، بلال، ابوہریرہ، عقبہ ابن عامر، خباب ابن ارت، حذیفہ ابن یمان، ابو سعیدخدری، بشر ابن خصاصہ، ابو موہبہ رضی اللہ عنھم وغیرہ ، انہی حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ"الخ۔[2]

وجہ تسمیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحابہ کرام کا ایک گروہ جو محض عبادت الہٰی اور صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر مہاجرین مکہ تھے اور فقر و غنا کی زندگی بسر کرتے تھے۔ مسجد نبوی کے ایک کنارے پر ایک چبوترا تھا،جس پر کھجور کی پتیوں سے چھت بنا دی گئی تھی۔ اسی چبوترا کا نام صفہ ہے جو صحابہ گھر بار نہیں رکھتے تھے وہ اسی چبوترا پر سوتے بیٹھتے تھے اور یہی لوگ اصحاب صفہ کہلاتے ہیں۔[3]

نبوی درسگاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جہاں کہیں تبلیغ و دعوت اسلام کی ضرورت ہوتی ان میں سے بعض‌حضرات کو بھیج دیا جاتا۔ قرآن شریف میں بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے اور احادیث میں بھی ان کا ذکر تھا۔
وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ۔ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ سب لوگ بکھر جائیں۔ کیوں نہ ہر گروہ سے کچھ لوگ (ٹھہر جائیں) تا کہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کر یں اور جب واپس اپنی قوم میں جائیں تو ان کو اللہ کا خوف دلائیں، شاید وہ لوگ کفر سے پرہیز کرنے لگیں۔ [4]
صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ نے فرمایا میں نے 70 ستر اصحاب صفہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی‘ یا لنگی (تہ بند) تھی‘ یا کمبلی‘ جس کو گلے میں انھوں نے باندھ رکھا تھا۔ کسی کے آدھی پنڈلی تک تھی‘ کسی کے ٹخنوں تک۔ اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتا تھا تاکہ ستر نہ کھل جائے۔[5]
قتادہ کا بیان ہے کہ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ۔۔ سے اصحاب صفہ مراد ہیں جن کی تعداد سات سو تھی یہ سب نادار لوگ تھے اور رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) : کی مسجد میں فروکش تھے نہ کسی کی کھیتی تھی نہ دودھ کے جانور نہ کوئی تجارت‘ نمازیں پڑھتے رہتے تھے ایک وقت کی نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں رہتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ستائش ہے اس اللہ کے لیے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کر دیے جن کی معیت میں مجھے جمے رہنے کا حکم دیا۔[6]

اصحاب صفہ کی مصروفیات
اور وہاں کا نصاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصحاب صفہ ارباب ِتوکل اور اصحاب تبتل کی ایک جماعت تھی جو رات دن تزکیہ نفس ،کتاب و حکمت کی تعلیم پانے اور دینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خدمت اقد س میں حاضر رہتے تھے ،اصحابِ صفہ میں حضرت ابوہریرة ، حضرت ابوالدرداء،حضرت سلمان فارسی ،حضرت بلال وغیرہ حضرات سر فہرست ہیں،ان حضرات کو نہ تجارت سے کوئی مطلب تھا،نہ زراعت سے کوئی سروکار، یہ حضرات اپنی آنکھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار پرانوار کے لیے ،کانوں کو آپ کے کلمات قدسیہ کے سننے کے لیے اور جسم کو آپ کی صحبت و معیت کے لیے وقف کر چکے تھے ۔
اصحابِ صفہ اپنے اوقات قرآن مجید سیکھتے ،احادیث نبویہ سننے اور ذکر واذکار میں صرف کرتے ،یا ان خدمات کی انجام دہی میں اپنا وقت لگاتے جن کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیا کرتے تھے ،قبائل تک اسلام کی دعوت پہنچانا ،نو مسلم جماعتوں کو قرآن مجید اور اسلام کی تعلیم دینا اور تقاضوں کے پیش نظر جنگی مہمات میں شرکت ان حضرات کی مشغولی تھی، بئر معونہ میں ستر قراء صحابہ کی شہادت ہوئی ،ان کا تعلق بھی اصحاب صفہ ہی سے تھا، گویا صفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم گاہ ،تربیت گاہ ،خانقاہ اور اضیاف اسلام کا مہمان خانہ تھا۔ اصحابِ صفہ دعوتی و تبلیغی اسفار، سرایا میں شرکت ،وطن واپسی ،نکاح ،گھر کا انتظام اور وفاتِ وغیرہ کی وجہ سے کبھی کم ہو جاتے اور کبھی بڑھ جاتے ،کبھی ستر(70) ہو گئے اور کبھی کم وبیش حتی کہ یہ تعداد کبھی چار سو(400) تک جا پہنچتی ۔[7]
  اس درسگاہ کے نصاب تعلیم کا موضوع قرآن مجید اور احکام کی تعلیم تھی ،لیکن اس کے علاوہ تحریر و کتابت پر بھی توجہ دی جاتی ، جس کی عرب معاشرے میں بڑی اہمیت تھی ۔یہاں شعبئہ خطاطی بھی تھا اور اس کے ماہر استاد حضرت عبد اللہ بن سعید بن عاص انصاری تھے ۔ ۔تعلیم کے حصول میں اس مدرسہ نے دین و مذہب کے اختلاف کو بھی رکاوٹ بننے نہیں دیا ،چنانچہ غزوئہ بدر میں جو مشرکین قید ہوکر آئے ان میں جو لوگ کتابت سے واقف تھے آپ نے ان کا فدیہ یہی مقرر فرمایا کہ وہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں ۔

اصحاب ِ صفہ کی تعلیم و تربیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابو طلحہؓ حضرت ام سلیم ؓ کے پاس آئے اور فرمایا :میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر آیا ہوں ،آپ اصحاب ِصفہ کو سورة النساء پڑھا رہے ہیں،آپ نے بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا ہے ۔ [8] حضرت عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں: ہم صفہ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ،فرمایا: تم میں سے کون چاہتاہے کہ صبح سویرے بطحان یا عقیق نامی بازار میں جائے ، وہاں سے دو کوہان والی اونٹیاں گناہ اور قطع رحمی کے بغیر لے آئے ،ہم نے عرض کیا ،ہم میں سے ہر ایک اس کی خواہش کرے گا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص صبح سویر ے مسجد جاکر قرآن پاک کی دو آیتیں سیکھے ،وہ دو اونٹیوں سے افضل ،تین آیتیں سیکھے، تین اونٹیوں سے افضل اور چار آیتوں کا سیکھنا چار اونٹیوں سے افضل ہے [9] حدیث کی کتابوں اور سیرت طیبہ میں ہمیں بے شمار واقعات اس نوعیت کے ملتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کے علم و ذکر کے حلقوں میں تشریف لے جاتے ،انھیں قرآن مجید کی تعلیم دیتے ،تربیت فرماتے، احادیث نبوی سناتے ،ان کی حوصلہ افزائی فرماتے، تحصیل علم کی ترغیب دیتے اور فقر وفاقہ پر صبر کی تلقین فرماتے ،مذکورہ دو روایتیں بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں ۔

اصحاب صفہ کی اہمیت اور مقام 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنحضرت اپنے اہل بیت کے مقابلے میں ان کا حق مقدم سمجھتے تھے اور ان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرمایا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض لوگ جنگل سے لکڑیاں کاٹ لاتے اور بیچ کر اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ضرورت پوری کرتے۔ جولوگ شادی کر لیتے تھے وہ اس زمرے سے نکل جاتے تھے۔ حضرت بلال، ابوذرغفاری، زید بن خطاب اسی گروہ سے تھے اور ہر وقت رسول اللہ کی خدمت میں حاضری کے باعث زیادہ تر احادیث انہی سے مروی ہیں۔
آپﷺ کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام علیہا کو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک خادمہ کی ضرورت تھی، وہ اپنے والد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ابّا جان! مجھے ایک خادمہ کی ضرورت ہے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ قیدی آپ کے پاس لائے گئے ہیں اگر ان میں سے ایک کو مجھے عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹی! خدا کی قسم! میں تمھیں نہیں دے پاؤں گا، کیا میں اہل صفہ کو بھوکا رہنے دوں، ان پر نہ خرچ کروں، میں ان غلاموں کو فروخت کرکے ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔ [10]

اصحابِ صفہ کا زہد و توکل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں:میں نے ستر(70) اصحاب صفہ کو دیکھا کہ ان کے پاس چادر تک نہ تھی ،فقط تہبند تھا ،یا کمبل جس کو اپنی گردنوں میں باندھ لیتے تھے، کمبل اس قدر چھوٹا کہ کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتا، کسی کے ٹخنوں تک اور ہاتھوں سے اس کو تھامتے کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ۔[11]
صفہ والے اسلام کے مہمان تھے ،ان کے کھانے کا انتظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ فرماتے ہیں :اصحاب صفہ فقراء ومساکین تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہے ،وہ تیسرے آدمی کو اپنے ساتھ لے جائے ،جس کے گھر میں تین آدمیوں کا کھانا ہے،وہ چوتھے کولے جائے ،جس کے پاس چار لوگوں کا کھانا ہو، وہ پانچویں اور چھٹے آدمی کولے جائے ، حضرت ابوبکر ؓ تین افراد کو لے آتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دس افراد کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ [12]

اہل صفہ کا انتظام خورد و نوش اور مطبخ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جو طلبہ صفہ میں مقیم تھے ،اہل مدینہ ان کے کھانے کا نظم کرتے اور ان کو اپنا اور اپنے رسول کا مہمان سمجھ کر ان کے ساتھ اکرام کا معاملہ فرماتے تھے ان کے کھانے کا نظم دو طرح سے ہوتا تھا ۔اول یہ کہ خود صفہ میں کھانے کی چیزیں پہنچا دی جاتی ۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ لوگ کچھ طلبہ کو اپنے گھر بلا کر لاتے اور ان کو کھانا کھلاتے ۔۔۔حضرت سعد بن عبادہ رض کا مکان اہل صفہ کے لیے گویا سب سے بڑا مہمان خانہ تھا ،ابن سیرین کی روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ہر شب اسی طلبہ کو اپنے یہاں شب کا کھانا کھلاتے ۔( سیر اعلام النبلاء 1/ 200) اس پتہ چلتا ہے کہ عام طور پر 80/ طلبہ تو دار الاقامہ میں ہوتے ہی تھے ۔
 مطبخ کے نظم و نسق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان طلبہ کے قیام وطعام کے مسائل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ رہتے تھے اور کھانے کے معیار پر بھی نظر رکھتے تھے ۔ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ،دست مبارک میں عصا تھا اور کچھ کھجور کا ایک خوشہ لٹکا ہوا تھا یہ کجھور اچھی نہیں تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاٹھی سے اس خوشہ کو مارا اور فرمایا کہ اگر یہ شخص چاہتا تو اس سے بہتر کھجور بھی دے سکتا تھا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا قیامت کے دن یہ بھی ایسا معمولی کھجور کھائے گا ۔(ابو داؤ شریف حدیث نمبر 1608)
  ابتداء اسلام میں صفہ ہی تعلیم کا اصل مرکز تھا ، لیکن یہ چھوٹی سی جگہ تھی ، اس لیے اگر واردین کی کثرت ہوتی اور طالبان کا اژدہام ہو جاتا تو عارضی طور پر ان طلبہ کو مختلف اہل علم پر تقسیم کر دیا جاتا کہ وہ ان کے قیام وطعام کا نظم کریں ۔اور تعلیم و تربیت کا بھی ۔اس سلسلہ میں وفد عبد القیس کا واقعہ سیرت کا ایک مشہور واقعہ ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صحابہ پر تقسیم فرمایا ،پھر آپ نے استفسار حال بھی فرمایا کہ میزبان بھائیوں کا کیسا سلوک رہا ؟ وفد نے بڑی تعریف کی اور کہا انہوں نے رہائش کا بہتر نظم کیا، اچھے کھانے کھلائے اور شب و روز ہمیں کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور وفد کے ایک ایک رکن سے ان کی تعلیم و تربیت کے بارے میں الگ الگ گفتگو کی ۔۔۔( دینی و عصری تعلیم مسائل و حل )

قبائل میں صفہ کے مبلغین اور ان کی شہادت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: چند لوگ( قبیلہ رعل ،ذکوان ،عصیہ اور بنولحیان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہمارے ساتھ آپ کے چند اصحاب کو روانہ فرمائیں جو ہمیں قرآن وسنت سکھائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے ستر صحابہ جن کو قراء کہا جاتا تھا، ان کے ساتھ روانہ فرمایا: جن میں میرے ماموں،حرام بھی شامل تھے ،یہ حضرات راتوں میں قرآن پڑھتے ،یاد کرتے اور سیکھتے تھے،دن میں مسجد میں پانی لاتے ، لکڑی کاٹ کر بیچتے اور فقراء واصحاب صفہ کے لیے کھانا وغیرہ خرید کر لاتے ،منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی درمیانی راستے میں ان سب حضرات کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا،ان شہداء نے دعا کی۔
اللہم بلغ عنا نبینا انا قدلقیناک، فرضینا عنک ،ورضیت عنا ،قال: واتی رجل حراما خال انس من خلفہ، فطعنہ برمح حتی انقذہ ،فقال حرام : فزت ورب الکعبة ،الخ
اے اللہ ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے اطلاع دیجئے کہ ہم آپ سے آکر مل گئے ہیں ، ہم آپ سے راضی ہو گئے ہیں اور آپ ہم سے راضی ،حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ایک شخص میرے ماموں کے پیچھے سے آیا اوراس نے نیزے سے حملہ کر دیا ،میرے ماموں نے کہا : ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ،(اللہ نے ان لوگوں کی دعا قبول فرمائی اور اپنے رسول تک ان کی خبر پہنچائی پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ خبر پہنچائی۔[13] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ سے شدید صدمہ پہنچا ،آپ نمازِ فجر میں تقریباً ایک ماہ تک دعائے قنوت میں ان قبائل کے لیے بددعا کرتے رہے۔

اصحاب صفہ اورحیرت ناک قوت حافظہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت ابوہریرة ؓصفہ کے مشہور ونامور طالب علم ہیں،صحابہ کرام میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے صحابی ہیں،حدیث کی کتابوں میں تقریباً آپ سے پانچ ہزار تین سو چوہتر (5374) روایات مروی ہیں ، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضر ت ابوہریرة ؓفرماتے تھے۔
تم کہتے ہو کہ ابوہریرة ؓ بہت احادیث بیان کرتے ہیں(حالاں کہ انھوں نے سن آٹھ ہجری کے بعد اسلام قبول کیا ہے ) ۔اللہ کے یہاں حساب ہوگا۔مہاجرین اور انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی احادیث کیوں نہیں بیان کرتے ؟(اس سوال کا جواب یہ ہے کہ )میرے مہاجر بھائی بازار میں تجارت میں مشغول رہتے اور میرے انصاری بھائی باغات وغیرہ میں مصروف رہتے ،میں ایک فقیر انسان تھا ،بقدر کفایت روزی کے ساتھ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پڑا رہتا تھا، جس وقت یہ حضرات موجود نہیں ہوتے ،میں اس وقت بھی حاضر خدمت رہتا، جو احادیث وہ بھول جاتے ،میں ان کو یاد کر لیا کرتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا: جب تک میں اس مجلس میں گفتگو کروں، اس وقت تک تم میں سے جو شخص چادر پھیلائے رکھے گا،پھر اس کو اپنے سینے سے لگالے گا ،وہ کبھی ان احادیث کو نہیں بھولے گا ،میں نے اپنی چادر پھیلادی ،اس چادر کے علاوہ میرے پاس کوئی چادر بھی نہیں تھی ،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطاب مکمل فرمایا، اس وقت میں نے اس چادر کو اپنے سینے سے لگایا ،قسم ہے، اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ بھیجا، میں نے اس مجلس کی کسی بات کو آج تک نہیں بھولا۔[14] ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرة ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ،یا رسول اللہ !آپ سے بے شمار احادیث سنتاہوں ،پھر بھول جاتا ہوں،آپ نے ارشاد فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھلائی ، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں سے چلو بھرا (چلو بھر کر چادر میں کسی محسوس چیز کے ڈالنے کی طرح اشارہ فرمایا) اس کے بعد فرمایا : اس کو اپنے سینے سے لگا لو، میں نے ایسے ہی کیا ،اس کے بعد سے کبھی کوئی حدیث میں نے نہیں بھولی ۔[15]

اصحاب صفہ کی تعداد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ جلال الدین سیوطی نے اصحاب صفہ کے ایک سو ایک نام گنائے ہیں (جو ان کو معلوم ہو سکے) اور ایک مستقل رسالہ میں ان حضرات کے اسماء گرامی تحریر فرمائے ہیں، محدث حاکم نے اپنی مشہور کتاب مستدرک میں چونتیس نام تحریر فرمائے ہیں، حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں 43 نام لکھے ہیں، حافظ ابن حجر کی تحریر کے موافق ابن عربی اور سلمی نے بھی ان حضرات کے اسماء گرامی جمع کیے ہیں اصحاب صفہ کے اسمائے گرامی محمد حاکم نے مستدرک میں جن حضرات اصحاب صفہ کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں، وہ یہ حضرات ہیں :
(1) سلمان فارسی
(2) ابوعبیدہ ابن جراح
(3) عمار بن یاسر
(4) عبد اللہ بن مسعود
(5) مقداد بن الاسود
(6) خباب بن الارت
(7) بلال بن رباح
(8) صہیب بن سنان
(9) زید بن الخطاب(عمر فاروق کے بھائی)
(10) ابو کبشہ
(11) ابو مرثد الغنوی
(12) صفوان بن بیضاء
(13) ابو عبس بن جبر
(14) سالم مولی ابی حذیفہ
(15) مسطح بن اثاثہ
(16) عکاشہ بن محصن
(17) مسعود بن الربیع
(18) عمیر بن عوف
(19) عویم بن ساعدہ
(20) ابولبابہ بن عبد المنذر
(21) سالم بن عمیر
(22) ابو الیسر کعب بن عمرو
(23) خبیب بن یساف
(24) عبد اللہ بن انیس
(25) ابو ذر غفاری
(26) عتبہ بن مسعود
(27) ابو الدرداء
(28) عبد اللہ بن زید الجہنی
(29) حجاج بن عمرو الاسلمی
(30) ابو ہریرہ دوسی
(31) ثوبان مولیٰ محمد
(32) معاذ بن حارث القاری
(33) سائب بن خلاد
(34) ثابت بن ودیعہ
حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں جن حضرات کو اصحاب صفہ میں سے تسلیم کیا ہے یا جن کے اصحاب صفہ میں سے ہونے کی تغلیط نہیں کی وہ یہ ہیں۔
اسماء بن حارثہ، اغر المزنی، بلال بن رباح، البراء بن مالک، ثوبان مولیٰ رسول ﷺ، ثقیف بن عمرو، ابو ذر غفاری، جرہد بن خویلد، جعیل بن سراقہ الضمری، جاریہ بن جمیل، حذیفہ بن اسید، حارثہ بن النعمان، حازم بن حرملہ، حنظلہ بن ابی عامر غسیل الملائکہ، الحکم بن عمیر، حرملہ بن ایاس، خباب بن الارت، خنیس بن حذافۃ السہمی، خریم بن فاتک، خریم بن اوس الطائی، خبیب بن یساف، دکین بن سعید، عبد اللہ ذو البجادین، ابو لبابہ الانصاری، ابو رزین، زید بن الخطاب، سلمان فارسی، سعد بن ابی وقاص، سعید بن عامر، سفینہ مولی رسول اللہ، سالم مولی ابی حذیفہ، سالم بن عبید الاشجعی، سالم بن عمیر، سائب بن خلاد، شقران مولی رسول اللہ ﷺ، شداد بن اسید، صہیب بن سنان، صفوان بن بیضاء، طخفہ بن قیس، طلحہ بن عمرو، طفاوی دوسی، عبد اللہ بن مسعود، ابو ہریرہ"۔[16]

کچھ اور درس گاہیں اور مکاتب 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  مدینہ منورہ میں صفہ کی اس درسگاہ کے علاوہ بعض اور مکاتب اور چھوٹی چھوٹی درس گاہیں بھی تھیں ۔حضرت مخرمہ بن نوفل رض کا مکان تو دار القراء ہی سے مشہور تھا ۔اور یہاں بھی تعلیم کا پورا نظم تھا ۔حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رض کے بارے میں آتا ہے کہ وہ غزوئہ بدر کے کچھ ہی دن بعد تشریف لائے تو اسی دار القراء میں مقیم ہوئے ۔یہاں بھی محدود ہی سہی طلبہ کے قیام کا نظم تھا ۔

صفہ سے متعلق خلاصہ کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے ”حلیہ الاولیاء“میں امام حاکم نے ”المستدرک “ میں صفہ اور اصحاب صفہ کے حالات کے مفصل بیان کیاہے ،نیز حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری، کتاب الاستیذان باب کیف کان عیش النبی واصحابہ میں اصحاب الصفہ سے متعلق بہت ساری تفصیلات جمع کی ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ صفہ اسلامی تاریخ کا اولین دار العلوم ہے ، جہاں کے پہلے مدرس اور صدر مدرس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،وہاں کے ممتاز طالب ِعلم اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے محدث ہیں،یہ مقام نہایت بابرکت ہے ،بطور خاص علما وطلبہ کے لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ مدینہ پاک کی حاضری کی سعادت نصیب فرمائیں ،تو اس مقام میں حاضر ہوکر علمی کمال پیدا کرنے کے لیے کوئی ظاہری تدبیر ضرور کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔
  خلاصہ یہی کہ صفہ اولین درسگاہ ہے کہ

Thursday, January 8, 2026

اپنے بچوں کو مساجد سے جوڑئیے۔ورنہ آنے والی نسلیں دین سے بےبہرہ ہوجائیں گی احمدنادرالقاسمی۔ جامعہ نگر نئی دہلی۔ ٩ جنوری ٢٠٢٥۔

اپنے بچوں کو مساجد سے جوڑئیے۔ورنہ آنے والی نسلیں دین سے بےبہرہ ہوجائیں گی                                                                       احمدنادرالقاسمی۔ جامعہ نگر نئی دہلی۔ ٩ جنوری ٢٠٢٥۔                                                اسلام میں مساجدکا اپناایک الگ ہی دینی۔روحانی اورکردارسازی کاانقلابی رول ہے۔مساجدکے بغیر ایک مسلم اوراسلامی معاشرےکاتصورہی نہیں کیاجاسکتا۔مساجدمرکزتوحیدبھی ہے۔اورایمانی کردارسازی کی جان بھی ہے اورانسانی تربیت گاہ بھی۔ اس کی اثرانگیزی کایہ عالم ہےکہ جب کوئی بندہ ۔خواہ عمرکےکسی بھی مرحلے میں ہومسجدکارخ کرتاہےتواس کے اندرکی انسانیت۔انسانی شرافت اورتحمل وبردباری اورمتانت وسنجیدگی یکایک جاگ اٹھتی ہے۔ایک اخلاقی اورسولائزمعاشرہ جس طرح کے انسان کی توقع رکھتاہے۔ایساانسان وہاں سے ڈھل کرنکلتاہے۔اس لئیے شیطان کبھی نہیں چاہتاکہ کسی انسانی آبادی میں مساجدکاوجودرہے۔کیونکہ ان کی وجہ سے انسان اوربنی آدم کو غلط راستوں پرڈالنے کے شیطانی اہداف میں رکاوٹ پیداہوتی ہے۔مسجدسے جڑےہوئے انسان سے آوارگی۔برخصلتوں اورجرائم کے جذبات پزمردہ ہوجاتے ہیں۔اوراعلی انسانی اقداران کےاندر موجیں مارنےلگتاہے۔برے خیالات اورفاسد نفسانی خواہشات کچل جاتےہیں۔توحید کی شمعیں قلب وجگرمیں روشن ہوجاتی ہیں۔ زندگی سے مایوسیاں راہ فراراختیارکرتی ہیں اوراللہ کی ذات سےتوکل واعتماداستوارہوتااورصبرواستقامت اورفرحت وانبساط میسرہونےلگتے ہیں۔۔قران نے حضرت لقمان کی اپنے فرزندکو اپنی اصلاح۔اپنے عقائدواعمال کی پاکیزگی۔اوراسی کےساتھ معاشرے کے اصلاح کی فکر۔برائیوں کےخاتمے کی کوشش۔اوران مراحل میں پیش آنےوالی دشواریوں پرصبرواستقامت اختیارکرنے والی نصیحت کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاہے۔:”یابنی اقم الصلوۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبرعلی مااصابک ان ذلک من عزم الامور“(سورہ لقمان 17)۔اس آیت میں اقامت صلات کاذکر ہے صرف نمازاداکرنےکانہیں۔اس لئیے کہ گوشہ نشین ہوکراوردنیاسے کٹ کرعبادت اورزہداختیارکرناجس میں صرف اپنی فکرہودوسروں کی نہیں۔ یہ رھبانیت ہے۔اوراسلام میں رھبانیت اورتجرد۔یعنی تنہائی پسندی نہیں ہے۔عبادت کےلئے یکسوہوناالگ چیزہے۔اقامت صلاۃ اس بات کامتقاضی ہےکہ اجتماعیت ہو یونٹی اورکمیونٹی ہو اوراس کے ساتھ مل کرروحانی اوراخلاقی سولائز معاشرہ تشکیل دیاجائے۔۔اسی طرح حضرت یعقوب کی اپنےبیٹوں کو وصیت ونصیحت کہ بچوبتاؤمیرےمرنےکےبعد تم لوگ کس کی عبادت کروگے۔؟اس پرفرزندان یعقوب علیہ السلام کایہ جواب کہ ہم توآپ کےرب کی اورآپ آباواجدادابراہیم واسماعیل اوراسحاق کےرب کی عبادت وبندگی کرتے رہیں گے۔۔قران نےسورہ بقرہ١٣٣میں جب بنی اسرائیل اوریہودیوں نےدعوت محمدی  صلى الله عليه واله وسلم سے روگردانی کی تویعقوب سےان کی اولاد کاکیاگیاعہدوپیمان یاددلاتےہوئے تفصیل بیان کی ہے۔”ام کنتم شھداء اذحضریعقوب الموت اذقال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالوانعبدالھک والہ ابائک ابراہیم واسماعیل واسحاق الھاواحدا۔ ونحن لہ مسلمون“(سورہبقرہ133)۔                                            میرے عزیزو ۔دیکھوقران نے آنےوالی نسلوں کےایمان کی فکرکرنےکی کیسی تعلیم دی ہے۔آج ہماری اولادیں مرکزتزکیہ اورمساجدسےدورہیں۔جس کی وجہ سے کفروالحاد۔آوارگی۔منشیات ۔اخلاقی بگاڑ۔سرکشی۔جرائم اورارتدادکی راہ پرجارہی ہیں۔ہمیں ان کی کوئی فکرنہیں۔ہم ”یایھاالذین آمنوا قواانفسکم واھلیکم نارا۔وقودھا الناس والحجارۃ“(سورہ تحریم 6)۔کافرمان خداوندی بھول گئے۔آج اگرہماراکوئی بچہ اسکول نہ جائے۔آفس اورکام پرنہ جائے توہم اس پرآگ بگولہ ہوجاتےہیں۔مگرمسجدنہ جائے اورنمازنہ پڑھے توہمارےاوپراس کاکوئی اثرنہیں ہوتا۔ہمیں احساس ہی نہیں ہوتاکہ اللہ کی بندگی سےدورہوکرہماری اولاد ہلاک وبربادہورہی ہے۔                                                            دوستو !سوچو! اگرہم نے اپنے بچوں کومساجدسےنہیں جوڑا ۔ان کونمازوقران اوردین کاعادی نہیں بنایا۔انکی اخلاقی اورروحانی تربیت نہیں کی۔توہم آخرت میں اللہ کےروبروجواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے۔اورنہ ہی ان کوآنےوالے ارتدادی اورالحادی طوفان سے بچاسکیں گے۔ہمارے دین وایمان کےتحفظ کے لئیے ہماری مساجدکی حیثیت ماں کی گود کی طرح ہے۔جیسے ماں اپنی گود میں بچے کی حفاظت کرتی ہے۔ایسے ہی ہماری مساجدہمارے دین اورعقائدکی حفاظت کرتی ہیں۔اس لئیے اپنے بچوں کومساجدلےجائیے ۔ان کوعادی بنائیے اوران کے دین ودنیاکی حفاظت وکامیابی کاسامان کیجئے۔ اللہ ہماراحامی وناصرہو آمین۔وصلی اللہ علی خاتم النبیین وسلم۔۔-

Wednesday, January 7, 2026

پرواز رحمانی - ذمے دارانہ صحافت کی آبرو محمد رضی الاسلام ندوی

پرواز رحمانی - ذمے دارانہ صحافت کی آبرو 

محمد رضی الاسلام ندوی 
         برادر عزیز محمد اسعد فلاحی نے اطلاع دی کہ پرواز رحمانی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے تو دل دھک سے رہ گیا - میں دہلی میں اپنی داہنی آنکھ کا موتیابند آپریشن کروانے کے بعد کچھ دنوں کے لیے اپنے وطن آگیا تھا ، اس لیے جنازہ میں شرکت سے محروم رہا - دہلی میں کئی بار مسجد اشاعت اسلام (مرکز جماعت اسلامی ہند) میں ان کی بیماری کے اعلان کے ساتھ دعا کی درخواست کی گئی - وہ برین ہیمریج اور فالج کا شکار تھے - وقفے وقفے سے ان کی طبیعت کی بحالی کی اطلاع پاکر اطمینان ہوجاتا تھا ، لیکن اب وقتِ موعود آگیا اور وہ بارگاہِ الہی میں حاضر ہوگئے -

           پرواز رحمانی کا وطن ریاست مہاراشٹر کے ضلع آکولہ کا شہر آکوٹ تھا - وہ عین جوانی میں 1964 میں دعوت سے ، جس کے اُس زمانے میں روزنامہ اور سہ روزہ دونوں ایڈیشن نکلتے تھے ، وابستہ ہوئے اور پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی - وہ نچلی سطح کی مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے اس کے اعلیٰ ترین منصب (چیف ایڈیٹر) تک پہنچے - انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاس داری کی اور کبھی سنسنی خیزی یا غیر ذمے دارانہ صحافت کا راستہ نہیں اختیار کیا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ وہ کم گو اور کم آمیز شخصیت کے مالک تھے ، لیکن ان کی سوچ تعمیری اور فکر گہری ہوتی تھی - وہ جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی مجلس نمائندگان اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے -

           علمی ، دینی اور صحافتی حلقوں میں پرواز صاحب کا تعارف سہ روزہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم 'خبرونظر' سے تھا - ان سے پہلے ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر جناب محمد مسلم نے اس کالم کو مخصوص پہچان عطا کی تھی - دعوت کے پہلے صفحے پر بائیں جانب اوپر تین ذیلی عناوین پر مشتمل یہ کالم اس کی جان تھا - اس میں کسی سیاسی ، سماجی ، معاشی ، تہذیبی خبر کا مختصر ذکر کرکے اس کا تجزیہ کیا جاتا تھا اور خاتمہ اسلامی نقطۂ نظر کی پیش کش پر ہوتا تھا - ایمرجنسی کے دور میں جماعت اسلامی ہند کے قائدین کے ساتھ محمد مسلم صاحب کو بھی گرفتار کیا گیا تو ’دعوت‘ کی اشاعت بھی معطل ہوگئی تھی ۔ 1977 میں جب ایمرجنسی کا خاتمہ ہوا اور اس کی اشاعت بحال ہوئی تو اس کے بعد پرواز صاحب کو’خبرونظر‘ لکھنے کا زیادہ موقع ملا - مسلم صاحب 1982 تک تقریباً 25 برس ’دعوت‘ کے ایڈیٹر رہے - ان کی تربیت میں رہ کر پرواز صاحب مسلم صاحب ہی کی طرح لکھنے لگے تھے - 'دعوت‘ میں لکھے گئے ان کے ’خبرونظر‘ کے مستقل کالم کا ایک انتخاب 1996 میں شائع ہواتھا ، جو 1989 سے 1993 تک ' خبر و نظر " کے تحت شائع شدہ تحریروں کا مجموعہ ہے ۔ اس کالم کے تحت ان کی باقی تحریروں ، بلکہ مسلم صاحب کی 'خبر و نظر' کے تحت شائع شدہ تحریروں کا مجموعہ بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے -

          خبر و نظر ہی نہیں ، پرواز صاحب چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے دعوت کی ادارت میں اپنا خونِ جگر جلاتے تھے - ان کے ساتھ منجھے ہوئے صحافیوں کی ایک ٹیم تھی ، جن میں شفیق الرحمن ، عقیدت اللہ قاسمی ، عمیر کوٹی ندوی ، محمدصبغۃ اللہ اور اشرف بستوی جیسے سنجیدہ صحافی تھے - افسوس کہ دعوت کے سہ روزہ سے ہفت روزہ ہونے کے بعد یہ ٹیم منتشر ہوگئی -

        پرواز رحمانی نے دعوت کی ادارت کے دوران اس کے جو خصوصی شمارے ترتیب دیے وہ بھی اپنے موضوعات اور تنوّع کے اعتبار سے منفرد ہیں ۔ کتابی سائز میں شائع ہونے والے یہ شمارے تعمیری صحافت کا اعلیٰ نمونہ ہیں -

          سہ روزہ دعوت میرے پسندیدہ جرائد میں سے تھا - میں نے لکھنا شروع کیا تو اس میں بھی میرے متعدد مضامین شائع ہوئے - علی گڑھ سے وقتاً فوقتاً دہلی آنا ہوتا تھا تو کبھی کبھی پرواز صاحب سے علیک سلیک ہوجاتی تھی - 2011 کے اواخر میں دہلی منتقل ہوا تو ان سے ملاقات کے مواقع بڑھ گئے - وہ کسی موضوع پر خصوصی شمارہ نکالنے کا فیصلہ کرتے تو کبھی مجھے بلاتے اور مشورہ کرنے کے ساتھ مجھے بھی کوئی عنوان لکھنے کے لیے دیتے - چنانچہ قرآن ، سیرتِ نبوی ، جہاد ، اجتماعی نظامِ زکوٰۃ ، سماجی برائیاں اور دیگر موضوعات پر شائع ہونے والے خصوصی شماروں میں میرے مضامین شائع ہوئے -

       پرواز صاحب سے میرے رابطہ کا ایک ذریعہ مولانا سید جلال الدین عمری سابق امیر جماعت اسلامی ہند کی شخصیت تھی - مولانا مجھ سے بعض مضامین لکھواتے اور ان کی اشاعت دعوت میں ہوتی - مولانا کا وطن تامل ناڈو کا ایک گاؤں تھا - وہ جامعہ دار السلام عمر آباد سے فراغت کے بعد اُس وقت کے مرکز جماعت رام پور میں آگئے تو یہیں کے ہوکر رہ گئے - 50 برس کے بعد ایک بار وہ اپنے گاؤں گئے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے - میں نے اس کا سفرنامہ لکھا ، جو دعوت میں شائع ہوا - اسی طرح مولانا کی معیت میں مجھے دو بار پڑوسی ملک کا سفر کرنے کا موقع ملا ہے - ان مواقع کی رودادِ سفر بھی دعوت میں شائع ہوئی - ایک دانش ور سائنس زدگی کا شکار ہوکر بہکی بہکی باتیں کرتے تھے - جب پانی سر سے اوپر چڑھنے لگا تو مولانا نے مجھے ان کی فکر پر ایک تنقیدی مضمون لکھنے کی ہدایت کی - میں نے اپنے معمول کے اسلوب سے ہٹ کر بہت سخت انداز میں مضمون لکھا ، جو دعوت میں شائع ہوا - مولانا عمری تین میقات جماعت اسلامی ہند کے امیر بنائے گئے - ہر بار پرواز صاحب جماعت کی ترجیحات کے بارے میں ان کا انٹرویو لیتے ، جس میں مولانا کی شخصیت ، حالاتِ زندگی اور علمی کاموں کے علاوہ جماعت کی سرگرمیوں کا تفصیلی تعارف ہوتا - یہ انٹرویو دعوت میں شائع ہوتا ، پھر کتابچہ کی صورت میں بھی اس کی اشاعت کی جاتی -

          پرواز صاحب کی ذمے دارانہ صفحات کا ایک واقعہ یاد آتا ہے ، جو میرے لیے بڑی شرمندگی کا باعث بنا - مشہور محقق و مصنف ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے تقسیمِ ملک کے بعد پوری زندگی پیرس میں گزاری - آخری 5 برس ، جب وہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے تھے ، انھوں نے امریکہ میں گزارے ، جہاں ان کی بھتیجی رہتی تھیں - وہ پیرس آکر انھیں اپنے ساتھ لے گئی تھیں - امریکہ منتقلی کے موقع پر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے عربی مجلہ ماہ نامہ البعث الاسلامی میں ایک مضمون شائع ہوا ، جس کا عنوان تھا : ' اظلمت باریس برحیل الدکتور محمد حمید اللہ - '(یعنی ڈاکٹر حمید اللہ کے پیرس سے چلے جانے کی وجہ سے وہ تاریکی میں ڈوب گیا -) مضمون نگار نے اپنی تحریر میں ڈاکٹر حمید اللہ کی علمی خدمات کا تذکرہ کیا تھا ، ان کے وفات پانے کی کچھ تفصیل نہ دی تھی - میں نے عنوان کا مطلب ڈاکٹر موصوف کا دنیا سے رخصت ہوجانا سمجھ لیا - مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی عظیم شخصیت کا انتقال ہوگیا اور کوئی تعزیتی مضمون کسی رسالے میں اب تک شائع نہیں ہوا - میں نے اس عربی مضمون کا ترجمہ کردیا اور اس کی ابتدا میں ان کے انتقال پاجانے کی صراحت کردی - دعوت میں میرے مضمون کا شائع ہونا تھا کہ عالمی سطح پر بے چینی محسوس کی گئی - حیدر آباد میں ان کے رشتے داروں نے وفات کی تردید کی - میں ان دنوں علی گڑھ میں تھا - پرواز صاحب نے فوراً مجھے فون کیا ، تفصیل بتائی اور اس بے احتیاطی پر سرزنش کی اور دعوت کے اگلے شمارے میں تردید اور معذرت نامہ شائع کیا - دل چسپ بات یہ کہ البعث الاسلامی کے اُس مضمون کا اردو ترجمہ ندوہ ہی کے اردو ترجمان پندرہ روزہ تعمیر حیات میں شائع ہوا تو میری طرح اس کا مترجم بھی مبہم ہیڈنگ سے غلط فہمی کا شکار ہوگیا تھا اور اس نے بھی ان کے وفات پانے کی خبر بنادی تھی -

      پرواز صاحب نے اپنے پیچھے اہلیہ اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے - اللہ تعالیٰ ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے ، آمین - پرواز صاحب کی وفات تعمیری ، اخلاقی اور مقصدی صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہے - اس پر ہم سب تحریک اسلامی کے وابستگان تعزیت کے مستحق ہیں - اللہ تعالیٰ تحریک کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین!

Monday, January 5, 2026

مولانا عبد الماجد دریابادی تحریر: صباح الدین عبد الرحمن

مولانا عبد الماجد دریابادی
تحریر: صباح الدین عبد الرحمن
آج ہی کی تاریخ کو مورخہ ۶ جنوری ۱۹۷۷ء مولانا عبد الماجد دریاادیؒ کا حادثہ رحلت پیش آیا تھا، اس مناسبت سے مولانا کی رحلت پر صباح الدین عبد الرحمن صاحب مدیر معارف اعظم گڑھ کا لکھا ہوا تاثراتی مضمون علم وکتاب مین پیش خدمت ہے۔ 
آہ! مولانا عبدالماجد دریابادی
 معارف کے زیر نظر شمارہ کی کتابت ہوچکی تھی کہ فخر روزگار، یگانہ وقت، مجاہد العلم، رئیس القلم اور دارالمصنفین کی مجلس ارکان کے صدر نشین مولانا عبدالماجد دریاباری کی رحلت کی اچانک خبر ریڈیو سے سنی تو ع عجب اک سانحہ ہوگیا ہے۔
 ان کی زندگی کی شاندار کتاب ختم ہوگئی، جس کا ہر ورق اپنی گوناگوں خوبیوں سے مزین رہا، یہ عاجز راقم گزشتہ ۴۲ سال سے ایک ادنی خورد کی حیثیت سے ان کی بزرگانہ شفقت اور علمی جلالت کے سامنے سرتسلیم خم کرتا رہا، اس مدت میں ان کی زندگی کی جو سرگرمیاں رہیں وہ متحرک تصویروں کی طرح نظروں کے سامنے گھومنے لگیں۔
گل و آئینہ کیا ، خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
 کیننگ کالج لکھنؤ سے بی،اے کرنے کے بعد ان کی زندگی کا آغاز الحاد وبے دینی کی وادی کی سیر سے ہوا، مگر یہیں ان کی نظر شعلۂ طور بن کر چمکی، جس کے بعد وہ توحید اور رسالت کے ایسے داعی اور مبلغ بنے کہ سندیافتہ عالم نہ ہونے کے باوجود باوقار عالم تسلیم کیے گئے، اچھے اچھے علماء ان کے سامنے جھکے، کبھی علماء کی مجلس کے سرخیل بھی منتخب ہوئے اور ان کا خاتمہ بالخیر کلام پاک کے مفسر اور شارح کی حیثیت سے ہوا، انھوںنے اردو اور انگریزی میں جو تفسیر لکھی ہے اس میں اسرائیلیات کی فتنہ سامانیاں اور توریت و انجیل کی تحریفات کی شرانگیزیوں کی راز کشائی میں جو دیدہ وری اور نکتہ وری دکھائی ہے اس سے کلام پاک کے مفسروں میں ان کا مقام ہمیشہ نمایاں رہے گا، ان کی یہ تفسیر گنجینہ معارف و تحقیق بھی سمجھی جاتی رہے گی۔ 
 وہ کچھ دنوں تک فلسفی بھی رہے، ان کی ’’فلسفہ جذبات‘‘ اور ’’فلسفہ اجتماع‘‘ ان کی ابتدائی دور کی تصانیف ہیں جن کے بعد ان کی ’’مبادی فلسفہ‘‘ کی دو جلدیں ’’فلسفہ اور اس کی تعلیم‘‘، ’’ہم اور آپ بھی نکلیں‘‘، ان کے فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا اور جب اردو کا خالی دامن ان کے فلسفیانہ خیالت سے پر ہورہا تھا تو انھوں نے فلسفہ کے چناں وچنیں سے منہ موڑ کر اقبال ہی کی طرح پیرروم کو اپنا معنوی مرشد قرار دیا، اسلامی تصوف اور فیہ مافیہ لکھ کر راہ سلوک کے ایک پرجوش سالک بن گئے، مولانا حسین احمد مدنیؒ سے بیعت بھی ہوئے، مگر حکیم الامت لکھ کر مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تعلیمات کے اسرار و رموز کے شارح بنے جس کے بعد
؎جس طرف کے لے چلا رہبر چلے 
 وہ بڑے اچھے مترجم بھی تھے، انگریزی سے اردو میں برکلے کے مکالمات، لیسکی کی تاریخ اخلاق یورپ بکل کی تاریخ تمدن، سیوپال کے پیام امن کے ترجمے کیے ان کے ترجمے میں اصل کتاب ہی کی لذت اور کیفیت محسوس ہوتی ہے، ان کتابوں سے یورپ کے تہذیب و تمدن سے واقف ہوئے تو ان سے متاثر ہونے کے بجائے ان کو یا جوجی تمدن اوردجالی فتنہ قرار دیا، وہاں کی فحاشی، عریانی، رندی اور بے راہ روی پر اپنی مختلف تحریروں سے ایسی کاری ضربیں لگاتے رہے کہ جن لوگوں نے ہندوستان کو یورپ کی تمدنی فریب کاریوں سے بچایا ہے ان میں ان کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جائے گا۔ 
 وہ اردو تنقید نگاری کے ایک خاص رنگ کے امام بھی رہے، اردو شعر و ادب کی رمزشناسی میں ان سے شاید ہی کوئی سبقت لے جاسکا، لکھنوی تہذیب کے ساتھ لکھنو کی شاعری اور اس کے نثری اسلوب کے بڑے دلدادہ تھے، زہر عشق، مرزا رسوا اور گل بکائولی پر ان کے تبصرے ان کے نقادانہ دقت نظر کے شاہکار ہیں، غالب کو ایک فلسفی کے بجائے ہر بات کو حکیمانہ انداز میں کہنے والا شاعر مرزا شوق کو ایک بدنام شاعر حالی کو ایک واعظ شاعر، اکبر آبادی کی شوخی اور دل لگی کو ایک نیا آئین اکبری، شکوہ والے اقبال کو صاحب حال اور سالک اور جواب شکوہ کے اقبال کو صاحبِ مقام اور عارف کہکر نقادوں کے ذہن کے لیے نئے دریچے کھول دیئے۔
 وہ اپنے زمانہ میں اردو کی انشاء پردازی کے بھی امام رہے، وہ اپنے طرز کے موجد اور خاتم تھے، شبلیؒ، مہدی افادی اور سید سلیمانؒ کے انداز بیان کے بڑے پرستار اور قدردان تھے، مگر اپنے طرز نگارش میں کسی کی تقلید پسند نہیں کی، بالکل منفرد اور غیر مقلد رہے، ان کی تحریروں میں جہاں تندی صہبا موجِ خرامِ یار، نکہتِ بادِ بہاری اور فکری لالہ کاری ملے گی وہاں کج رو حریفوں کے مقابلہ میں سانپ کی پھنکار، بچھو کا ڈنک اور خنجر کا وار بھی ہے، وہ اپنے مخالفوں کے خلاف اپنے قلم سے صف شکن یلغار اور مردافگن یورش کرکے اپنی انشا پردازی کا جوہر دکھاتے، اپنے عزیز دوستوں اور محبوب معاصروں کی موت پر ماتم کرتے تو اس میں دلسوزی، عقیدت مندی اور وفاکہشی کے ساتھ ان کے قلم کی رعنائی، شگفتگی اور رنگینی کی پوری بہار آفریں قوس قزح نظر آتی، مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا عبدالماجد بدایونی، بہادر یارجنگ اور سید سلیمان ندوی اور حکیم عبدالمجید لکھنوی پر ان کی ماتمی تحریروں میں ان کے زور بیان کے ساتھ اثر، تاثیر اخلاص محبت اور درد کے جھلملاتے جواہر ریزے نظر آتے ہیں، ان کے مضامین کے مجموعے انشائے ماجدی میں جمع کردیئے گئے ہیں جو ہر زمانہ میں بلاغت کی سحرکاری، فصاحت کی تازگی اور سلاست کی پرکاری کے لحاظ سے اردو ادب کے شہ پارے بنے رہیں گے، یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ لکھنو کی زبان کا بانکپن اور رسیلاپن دکھانے والا سفر حجاز اور تفسیر کی زبان لکھنے میں کس قدر باوقار، باوزن اور متین ہوگیا ہے۔
 انھوں نے سچ اور صدق نکال کر اپنے کو شیر دل بلکہ کفن بردوش صحافی بھی ثابت کیا، حکومت کا دبدبہ قانون کا شکنجہ، انقلاب کا کوئی ہچکولہ ان کے قلم کی آزادی کو نہ روک سکا، مسلمانوں کے غمخوار، غمگسار اور دمساز بن کر ان کے سیاسی المناک حوادث پر خون کے آنسو روئے، ان کی سیاسی کامیابی اور فتح پر اپنی مسرت و شادمانی کا اظہار دل کھول کرکیا، خواہ ان کی یہ تحریریں حکومت کی پالیسی کے خلاف ہی کیوں نہ ہوتیں، سچ اور صدق جدید میں سچی باتیں لکھ کر ایمان، ایقان اور عرفان کے موتی بکھیرتے رہے، اس انداز کی تحریر اب مدت مدید تک کوئی اور نہ لکھ سکے گا، اسی کے ساتھ اسلامی طرز فکر کی راہ چھوڑنے والوں کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں اترتے، کردار کو نیلام کی بولی پر بھینٹ چڑھانے والوں کے نہاں خانے میں پہنچ کر شب خوں مارتے، اپنی تحریروں کی ناوک فگنی سے تجدد پسندوں کے کلیجوں کو چھلنی کرتے رہے، ان کے اخبار کا ایک شعر ایک جلی سرخی، ایک زہریلا فقرہ ان کے حریفوں کے پورے مضمون پر بھاری ہوتا۔
 ان کے چھوٹے سائز کا ہفتہ وار اخبار سچ یا صدق جدید کل آٹھ صفحے پر مشتمل ہوتا، اس کو شروع سے آخر تک خود ہی لکھتے جو ان کے قلم کی صاعقہ پاشی کی دلیل ہوتی، اس میں کبھی تو واعظ، کبھی فقیہ، کبھی مرد مومن، کبھی مفسر قرآن، کبھی متکلم اسلام، کبھی نقاد، کبھی سیاسی مبصراور ہاں کبھی قلم کے افراسیاب، کبھی اسلوب کے جمشید اور کبھی زور بیان کے رستم بن جاتے اور اپنی آخر عمر میں خوش ہوں گے کہ علم، ادب اور فن کا ایک انبار نہیں بلکہ گل و گلزار لگاکر زندگی ختم کررہے ہیں۔ 
 وہ خلافت تحریک میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور مولانا محمد علی کے اصرار سے شریک ہوئے، مگر کبھی سیاسی رہنما ہونے کے دعوے دار نہیں ہوئے، البتہ علی برادران کی طرح جو کھدر کا کرتہ اور پائجامہ اور چغہ پہنا تو آخر عمر تک پہنتے رہے، مولانا محمد علی کے نام پر جان چھڑکتے رہے، ان کی یاد میں محمد علی کی ڈائری کے نام سے جو دوجلدیں لکھی ہیں ان میں ان کے نہ صرف دل و جگر کے ٹکڑے بلکہ انشا پردازانہ کمالات کے سارے جلوے نظر آتے ہیں، مولانا محمد علی پر ان دونوں جلدوں سے بہتر اب تک کوئی اور کتاب نہیں لکھی گئی۔ 
 دارالمصنفین کی اکسٹھ سالہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں اس کے ہمدم اور ہمراز بنے رہے، شروع میں اس کی مجلس انتظامیہ کے رکن تھے، پھر اس کی مجلس ارکان کے صدر بھی ہوگئے، اس کا شائد ہی کوئی ایسا جلسہ ہواہو جس میں ان کی شرکت نہ ہوئی ہو، آخری بار گزشتہ نومبر میں ان کی علالت کے زمانہ میں ملنے گیا تو رخصت کرتے وقت فرمایا کہ، خدا کرے دارالمصنفین کے آئندہ جلسہ میں پھر حاضری کا موقع مل جائے، وہ یہاں تشریف لاتے تو تمام لوگ ان کے سامنے مودب بیٹھتے، سید صاحب سے وہ عمر میں بہت چھوٹے تھے، مگر وہ ان کا بڑا احترام کرتے، ان کو کوئی خط لکھتے تو اس احترام کو برقرار رکھتے، خود وہ سید صاحب کی بڑی عزت بلکہ ان سے بڑی محبت کرتے، جب کبھی ان پر کوئی مضمون لکھا، ان کا قلم بہت ہی رواں اور شگفتہ ہوگیا، مولوی مسعود علی ندوی سے ان کی بڑی بے تکلفی رہتی، وہ طبعاً بہت ہی متین سنجیدہ اور خاموش تھے کسی مجلس میں مشکل سے کچھ بولتے، مگر مولوی مسعود علی ندوی سے باتیں کرتے تو عندلیب شیوا بیان بن جاتے، صدق میں ان سے کسی سے قلمی جنگ شروع ہوجاتی تو سید صاحب فرماتے کہ ان کے گوریلا جنگ کے خلاف کسی کا کامیاب ہونا آسان نہیں، سید صاحب کے بعد وہ دارالمصنفین کے علمی محتسب بھی بن گئے تھے، معارف اور یہاں کی نئی تصانیف ان کی خدمت میں ضرور بھیجی جاتیں، زبان اور انداز بیان میں کوئی فروگذاشت ہوجاتی تو اس کی طرف توجہ ضرور دلاتے اور جو چیز پسند آجاتی اس کی تعریف دل کھول کر کرتے، افسوس دارالمصنفین اپنے ایک بڑے علمی محتسب سے محروم ہوگیا۔ 
 ان تمام اوصاف کے ساتھ ان کا ایک بہت بڑا صف یہ بھی تھا کہ انھوںنے بڑی جرأت کے ساتھ اسلامی جمعیت کی دیدبانی، اسلامی شعار کی پاسبانی اور ملی غیرت کی رجز خوانی کی، ان کی تفسیر کے ساتھ ان کا وہ سوز نہاں اور درد پنہاں جو ان کے دل میں اسلام کے لئے رہا، ان کا توشہ آخرت بنے گا، ان ہی کی بدولت جنت کے رضوان نے ان کا خیر مقدم کیا ہوگا اور حوریں پیشوائی میں شراب طہور کا مینا و ساغر لے کر بڑھی ہوں گی، ان سطروں کے لکھتے وقت اخبار سے معلوم ہوا کہ ان کے جنازہ کی نماز ندوۃ العلماء کے احاطہ میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، مولانا علی میاں سے تو وہ محبت نہیں بلکہ عشق کرتے، ندوہ سے بھی ان کو غیر معمولی لگائو رہا، ندوہ میں مولانا علی میاں نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھا کر اپنا فرض اور قرض دونوں ادا کیا، یہ راقم بخار میں مبتلا تھا، اس لئے تعزیت میں نہیں پہنچ سکا لیکن جنازہ کی شرکت کے لئے ایک سہ رکنی وفد دارالمصنفین کی طرف سے بھی گیا، دل کے تقاضے سے مجبور ہوکر یہ سطریں بستر علالت ہی پر سے قلمبند کی جارہی ہیں۔ ع اے نالہ! نشانِ جگر سوختہ کہاں ہے۔
 موت سے کس کو رستگاری ہے، مگر مولانا سپردخاک ہوئے تو ان کے سینہ میں علم کی جو ہمہ گیری، قلم کی جو صاحبقرانی تحریر کی جو برق روشنی، علم و عرفان کی جو فرمانروائی اور اسلام کی عزت و ناموس کی خاطر جو قلمی سرفروشی اور جانبازی تھی، وہ بھی ان کے ساتھ خاک ہوگئی، عالم بقا کے مسافر! تجھ پر رحمت، تیری روح پر رحمت، اسلامی روایت کی تیری حدی خوانی پر رحمت، تیرے قلم کی اس کوہ کنی پر رحمت جس سے جوئے شیر اسلامیہ بہتی نظر آتی، الوداع، السلام، تو جاچکا، مگر تو زبان حال سے کہتا گیا:
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں 
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
(’’ص۔ ع‘‘، جنوری ۱۹۷۷ء)
 

Sunday, January 4, 2026

(چھٹی قسط )مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

(چھٹی قسط )
مطالعہ نگار: 
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: 
جامعة الحسنین 
صبری پور
خاکہ نگاری میں انفرادی شان کی حامل اس کتا ب میں اب ذکر ہے بیسویں صدی عیسوی کی نابغۀ روزگار شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کا جنہوں نے قافلۀ انسانیت کو صحیح رخ دیا،عنوان ہے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی اور مغربی تہذیب کی تئیں آپ کا موقف ،
معروف قلم کار مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی کےمطالعہ وتحقیق کے مطابق آپ کی شخصیت کی تشکیل کے عناصر درج ذیل ہیں۔
1۔علمی خانوادہ، اس خاندان کا انتہائی پاکیزہ اور تربیتی ماحول،دین و ایمان کی حفاظت، ہر دور میں نامور علماء و فضلاء کی موجودگی۔
2۔ ان کی شخصیت میں نکھار میں دارالعلوم ندوة العلماء کا کردار اہم اور نمایاں ہے اس ادارے میں زیر تعلیم لے کر معاصر تحریکات، باطل نظریات اور جدید تخریبی رجحانات سے اچھی طرح واقف ہوئے اور ان کا حل تلاش کرنے کا موقع ملا۔
3۔ خاک مدینہ کو اپنی انکھ کا سرمہ بنانے والے علامہ اقبال کی انقلابی وعقا بی شاعری کے اثر نے آپ کی شخصیت سازی میں انقلابی کردار ادا کیا۔
4۔ قرآن کریم اور سیرت طیبہ سے استفادہ آپ نے اپنے فکر و فن کی بنیاد اسی پر رکھی کہ یہ دونوں اسلام کے سرچشمے ہیں۔
5۔ تاریخ اور علوم اسلامیہ آپ نے بڑی باریک بینی اور دقیقہ رسی سے تاریخ کا مطالعہ کیا اور علوم اسلامیہ کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ کیا جس نتیجے میں قوموں کے عروج و زوال کے تمام گوشے نگاہوں کے سامنے روشن ہوئے، پھر آپ نے وہ روشن مدلل گفتگو فرمائی اور کتابیں تصنیف کیں جو مدلل اور سلجھی ہوئی ہوتیں،خواص آپ کی آراء سے مطمئن ہوتے اور آپ کے ارشادات و فرمودات پر عمل شروع کر دیتے۔
6۔ خدا ترس علماء و صلحاء کے ساتھ خصوصی ربط و تعلق، علماء و مشائخ سے بے پناہ قلبی وارفتگی، وقتا فوقتا حاضری اور استفادہ، اسی وجہ سے آپ ایک عالم ربانی ثابت ہوئے،علامہ یوسف القرضاویؒ نے اپ کو العالم الربانی لکھا ہے مولانا اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دین اسلام کی اشاعت رجال ﷲ اور کتاب ﷲ کے ذریعہ ہوئی ہے اس لیے مولانا نے اس جانب توجہ کی اور اہل ﷲ سے وابستہ رہے،وہ مشائخ عظام جن کی خدمت میں باریابی کو مولانا ندوی باعث خیر و برکت شمارکرتے تھے۔ 
* حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ 
* شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
* بانی تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ
* حضرت مولانا شاہ یعقوب صاحب مجددی بھوپالیؒ

 یہ وہ اہم اور بنیادی مقاصد تھے جن سے مولانا ندوی کی شخصیت نکھر کر سامنے آئی اور وہ مر جع خلائق بنے۔
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ نے مفکر اسلامؒ کا مغربی تہذیب کی تئیں موقف صراحت کے ساتھ بیان کرنے سے قبل ثقافت و تہذیب کا مفہوم واضح کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں۔
ثقافت ان علوم و معارف اور نظریات کا نام ہے جن میں مرور زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ تبدیلی اور ارتقاءکا عمل ہوتا رہتا ہے، لیکن تہذیب کا قالب، نظام سیاست و معیشت،طرز رہائش، اقتصادی وسائل، علم و فہم، انسانی روایت سے ڈھلتا ہے،گویا تہذیب و تمدن دنیا کے اندر رہن سہن کے مختلف طریقوں سے عبارت ہے، لہذا جو بھی انسان اس عالم دو گیتی میں بستا ہے وہ ولادت سے وفات تک الحضارة یعنی تہذیب و تمدن کو لازمی طور پر اختیار کرتا ہے،چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو،یا ناخواندہ، پڑھا لکھا ہو، یا انپڑھ۔

حضرت مفکر اسلامؒ اسلامی تہذیب و تمدن کو صحیح اور معیاری تہذیب و تمدن گردانتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
 اسلامی تہذیب و تمدن ہی صحیح معیاری اور مثالی تہذیب و تمدن ہے کیونکہ اس کی بنیاد توحید ،رسالت، آخرت اور اچھی بری تقدیر کے سلسلے میں ایمانی موقف پر ہے،اسلامی تہذیب میں جزا و سزا کا تصور ہے،وہ زندگی اور سماج کے صرف کسی ایک یا چند گوشوں میں مثالی کردار پیش نہیں کرتی ہے بلکہ ہر ہر گوشے اور ہر سمت میں رہنمائی کرتی ہے،یہ اسلام کا اعجازی کارنامہ ہے، اسلامی تہذیب درحقیقت ایک دائمی انسانی تہذیب ہے اس میں جسم روح دونوں کا بڑے توازن اور جامعیت کے ساتھ خیال رکھا گیا ہے،
مغربی تہذیب کی اساس اور اس کا آغاز اسپین کی تاریخ سے استفادہ اور اپنی طویل خرمستی و خواب سے بیداری کے بعد جب یورپ نے حکومت و اقتدار سے پر غلبہ حاصل کر لیا تب اس کی ترقی کی شروعات ہوئی اور تھوڑی ہی مدت میں تعمیر و ترقی کی چوٹی پر پہنچ گئی اور اس تہذیب نے یورپین افکار و نظریہ کو اپنی اساس قرار دیا۔
حضرت مولانا علی میاںؒ نے یورپ کے افکار کو مختصرا چار نکات میں پیش کیا ہے۔ 

محسوس پر ایمان اور محسوس اشیاء کے اندازے میں کمی
 خشوع و خضوع کا فقدان
زندگی کا بڑا اہتمام اور اس کی لطف و لذت کا ضرورت سے زیادہ خیال
 قوم پرستی کا رجحان
 چنانچہ اگر انسان غور کرے تو پوری طرح محسوس ہو جائے گا کہ مادیت وہ جامع کلمہ ہے جس پر یورپ کا بڑا پختہ ایمان ہے یورپین اقوام جس کلمے کا سب سے زیادہ ذکر کرتے ہیں وہ ہے پیٹ،اور معدہ،
 مادیت کا عنوان بہت ہی روشن اور اس کا جسم بڑا آبدار ہے اس کے اندر ایسی قوت اور کشش پائی جاتی ہے جو ہر ایک کو اپنے دام میں پھانس لیتی ہے، اور اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
مولانا علی میاںؒ اور تمدنی خرابیوں کی بیخ کنی۔
 انیسویں صدی کے وسط میں مغرب نے عالم اسلام پر حملہ کیا اور یہ حملہ انتہائی زبردست اور دور رس اثرات کا حامل تھا اس حملے کے مقابلے کے لیے فکر و نظر میں وسعت و گہرائی، دقیقہ رسی، و باریک بینی اور جرأت وشہامت کی ضرورت تھی اور اس دور کے مفکرین وقائدین میں یہ چیزیں تقریبا مفقود نظر آتی تھیں، تومغربی حملے کے مقابلے کے لیے مشرق میں جو ستارہ طلوع ہوا وہ علامہ جمال الدین افغانی کی ڈائنامیکی شخصیت تھی لیکن ان پر سیاسی رنگ کا غلبہ تھا، چنانچہ علامہ افغانی کی پوری توجہ اسلامی ممالک کو مغربی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے پر تھی،اور علامہ افغانی کے نامور شاگرد مفتی محمد عبدہ کا موقف بھی دفاعی انداز کا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اسلام کے بعض مسلمہ حقائق کی بھی تاویل کی اب امیدیں اخوان المسلمون سے وابستہ تھیں، لیکن ان کی راہ میں بھی بہت سی رکاوٹیں پیدا ہو گئیں، بر صغیر کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی نے بھی مغربی تہذیب و تمدن پر زبردست یلغار کی،علامہ اقبال نے بھی مورچہ سنبھالا ،مگر علامہ کی تنقید اور حملوں کا دائرہ بھی بہت وسیع نہ ہو سکا ایسے ماحول میں دنیا کو ایک ایسی شخصیت کا انتظار تھا جس میں وسعت ہو، اعتدال ہو ،جن کے پاس فکر ارجمند کے ساتھ زبان ہوش مند ہو، عربی زبان و بیان پر اعلی درجہ کی قدرت ہو،وہ شخصیت زہد وقناعت اور اخلاص مع ﷲ، اخلاق و کردار کی دنیا میں بھی مثالی شان رکھتی ہو، چنانچہ ﷲ تعالی نے زمانے کی ضرورت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مولانا علی میاںؒ ندوی کی ذات میں اس مطلوب و منتظر عبقری شخصیت کو جلوہ گر فرمایا،اور علامہ ندویؒ نے حیات بخش نسخے تجویز فرمائے، مسائل کا اطمینان بخش حل پیش فرمایا ،دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا،ایک ایک ملک،ایک ایک سلطنت،اور مقتدر شخصیت کو خطاب کیا انہیں مخاطب کر کے اپنی بات پہنچائی، خیر کا اعتراف کیا، بھلائیوں کی نشاندہی کی ،اور اس خطرے سے بھی آگاہ کیا جو پوری پوری سلطنت کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا،مولانا نے اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ ہر باغیرت انسان کے ضمیر کو جھنجوڑا انہیں آواز دی تاکہ عالمِ اسلام سے اس احساس کمتری کا خاتمہ ہو جائے جس نے ہر بڑے چھوٹے کو اپنے شکنجے میں کس لیا تھا۔جاری

جب انسان کے عمل کا رخ خدا کی طرف ہوتا ہے محمد قمر الزماں ندویمدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

جب انسان کے عمل کا رخ خدا کی طرف ہوتا ہے 

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

   حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح (ولادت ۱۲۸۰ھج وفات ۱۳۶۲ھج) ہندوستان کے عبقری، یکتائے روز گار اور یکتائے زمانہ لوگوں میں سے تھے، آپ نے تنہا وہ علمی و تحقیقی کام کیا ہے، اور وہ کارنامہ انجام دیا ہے، جو یورپ میں پوری پوری اکیڈمی کیا کرتی ہے ۔ آپ اونچے درجے کے عالم ،محقق ،عارف، مصنف اور مصلح و مربی تھے، ہزاروں علمی و تحقیقی کتابوں کے آپ مصنف ومؤلف تھے۔ خانقاہ اور علمی و دینی تصنیفات کے ذریعہ آپ کا علمی روحانی اور احسانی فیض خوب جاری ہوا۔ ہزاروں افراد کو آپ کی تربیت سے توبہ اور رجوع الی اللہ کی توفیق ہوئی اور ایک بڑی خلقت نے آپ کے کشکول علم و فضل سے خوب خوب سیرابی حاصل کی۔  
حضرت حکیم الامت رح دین و مذھب کے حکیم تھے ۔ 
آج بھی ان کے ملفوظات و مواعظ مکتوبات و خطبات دلوں کو گرماتے ہیں ،ذہن و دماغ کو آسودگی و توانائی بخشتے ہیں اور قوت عمل میں تحریک پیدا کرتے ہیں، یقینا وہ اس لحاظ سے غزالی وقت اور اویس زمانہ تھے ۔ 
آج ہم اپنے قارئین باتمکین کی خدمت میں غزالئی وقت حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رح کا ایک واقعہ سناتے ہیں، جو بڑا دلچسپ، بصیرت افروز اور دل زندہ کے لئے انقلاب آفریں ہے ۔
 یہ واقعہ ہمیں مہمیز لگانے کے لئے اور عمل کا رخ خدا کی طرف کرنے اور پھیرنے کے لئے ایک اکسیر ثابت ہوسکتا ہے، شرط یہ ہے کہ ہم خلق کی طرف سے نگاہ ہٹا کر اپنی نگاہ خالق کی طرف کرلیں اور ہر عمل میں للہت و تقویٰ اور اخلاص و یقین پیدا کرلیں ۔ 
چونکہ یہ واقعہ ایک عارف زمانہ کا ہے، اس لئے اس واقعہ کی تفصیل ایک عارف باللہ ہی کی زبانی سنئے ۔ مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوری رح فرماتے ہیں :
حضرت تھانوی رح کے یہاں پہلے ضابطہ تھا کہ جب کوئی وارد (نیا آنے والا) آئے تو بغیر سوال کئے خود بتائے کہ میں فلاں ہوں، فلاں جگہ سے آیا ہوں،اور فلاں مقصد کے لئے حاضر ہوا ہوں ،لیکن جب حضرت والا کی نظر مبارک سے یہ حدیث گزری
،، بالداخل وحشة تلقونه بمرحبا،، (الدیلمی )  
یعنی نئے آنے والے کو اجنبیت کے سبب ایک قسم کی حیرت زدگی اور بدحواسی ہوتی ہے، اس لئے اس سے آو بھگت اور بشاشت کے ساتھ ملا کرو ۔تاکہ اس کی طبیعت کھل کر مانوس ہو جائے اور حواس بجا ہوجائیں اور ہر قول و فعل کا موقع سمجھ کر نہ خود پریشان ہو اور نہ دوسرے کو پریشان کرے۔  
حضرت تھانوی رح نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ حدیث میری نظر سے اس وقت گزری جبکہ میری عمر اکہتر سال کی ہوچکی تھی ،اللہ تعالیٰ نے حدیث کی برکت سے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ اب آنے والے سے میں خود اس کا مقام ،اس کے آنے کی غرض اور اس کا مشغلہ پوچھ لیا کرتا ہوں ۔اس سے ضروری حالات معلوم ہوجاتے ہیں اور وہ مانوس ہوجاتا ہے۔ *(معرفت الہیہ ص: ۳۷۱)*
  حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کے اس واقعہ اور طرز عمل سے یہ سبق اور پیغام تو ملتا ہی ہے کہ مہمان اور نئے آنے والے کے ساتھ شفقت، اپناییت، محبت اور الفت کا کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے اور مرحبا اور خوش آمدید کہہ کر کس لطف و کرم مہربانی اور خندہ پیشانی کے ساتھ استقبال اور ویل کم کرنا چاہیے کہ آنے والا اپنے سفر کی تکان اور راہ کی صعوبتوں، مشقتوں اور پریشانیوں کو بھول جائے ،اس کے دل سے اجنبیت کا احساس جاتا رہے اور وہ یہ سمجھے کہ میں اپنے کسی رشتہ دار، قریبی ساتھی اور کسی خاص عزیز دوست و احباب کے پاس آیا ہوں ۔ جہاں مجھے ہر طرح کا آرام سکون اور راحت میسر ہے ،کسی طرح کا خوف اور اجنبیت کا مجھے یہاں احساس نہیں ہوتا ۔ لیکن اس واقعہ کی تہہ میں اور اس واقعہ کے اندر پنہاں جو اصل پیغام ہے اور جو پیغام ہمارے قلب و نظر ذہن و دماغ اور فکر و خیال کو مہمیز لگانے کے لئے کافی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی حق کا اعتراف، سچائی کو تسلیم کرنا اور اظہار حق کرنا، انسان کی سب سے بڑی خوبی، اور کمال ہے، یہی علمی دیانت ،انسانی شرافت اور حق نگری اور حق پرستی کا تقاضا ہے ،اس سے انسان کی شان اور مقام و مرتبہ کم نہیں ہوتا ۔ عزت کم نہیں ہوتی ۔زیادہ ہوتی ہے ،اعتماد مجروح نہیں ہوتا بحال ہوتا ہے ۔ 
باخبر لوگ بے خبر نہیں ہوں گے کہ مضبوط دلیل سامنے آنے کے بعد اپنے کسی فکر ، قول ،نظریہ، موقف اور مانوس عمل پر جمے رہنا اور مختلف تاویل توجیہات اور دور از کار تاویلات کے ذریعہ اس کو درست اور صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنا ،اہل حق کا شیوہ نہیں، اہل باطل کا وطیرہ ہے ،حق پرست تو حق کے سامنے جھک جاتے ہیں ۔ سچائی کا اعتراف کرتے ہیں اور حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ غزالئی وقت اور بو حنیفئہ عصر ہونے کے باوجود بشر ہونے کے ناطے کوئی خطا ہو جائے ، انسان ہونے کے ناطے کوئی غلطی اور چوک ہوجائے، تو اس کا اعتراف کرتے ہوئے شرماتے نہیں ہیں اور نہ ہی غلطی پر پردہ ڈالنے کی مذموم سعی و کوشش کرتے ہیں، ایسی کسی بھی غلطی یا چوک کے بعد ۰۰اعتراف ۰۰ ۰۰جہل۰۰ کی علامت نہیں، عین ۰۰ علم ۰۰ کی دلیل ہے ۔ عمر کا کوئی حصہ ہو اور نسبی،جاہی ،مالی اور علمی شہرت کی کوئی بھی منزل اور مقام ہو ،قبول حق اور اظہار حق کی راہ میں کسی بھی چیز کو آڑے نہیں آنی چاہیے، ہر حالت میں، ہر صورت میں حق، حق ہے اور باطل،باطل ہے جس کا برملا اعتراف اور اظہار انسان کو حق پرستوں اور انصاف پسندوں میں لاکھڑا کرتا ہے ۔ 
    لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا ،انسان اس میں منزل و مقام پر اس وقت پہنچے گا اس کا ذھن و دماغ اور فکر نظر اس سانچے میں اس وقت ڈھلے گا ،جب کہ انسان کے عمل کا رخ اپنے جیسے انسان کی طرف نہیں، اپنے جیسے شخص کی طرف نہیں، بلکہ خدا کی طرف ہو شریعت کی طرف ہو، اسی کی خوشی اور ناخوشی کو اپنے لئے معیار کسوٹی میزان اور پیمانہ بنایا گیا ہو ،خلق سے نظر ہٹ کر خالق کی طرف متوجہ ہوگئی ہو اور اس پر جم گئی ہو ۔ عمل میں اخلاص عبادتوں میں للہیت اور معاملات و معاشرت میں خلوص ایسی ہی صورت میں پیدا ہوتا ہے اور ایسے ہی مخلصانہ عمل کی خوشبو ہر سو پھیلتی ہے ۔ اور آج دنیا کو اس خوشبو کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ( مستفاد از چراغ راہ مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح ص: ۲۰۹)
   *حضرت تھانوی رح* کا یہ واقعہ ،ان کا یہ عمل ،ان کا یہ اسوہ،ان کا یہ طریقہ ان کا یہ کردار اور ان کی یہ سیرت ہمارے لئے مثل آئنیہ ہے، ہم سب اس آئنیہ میں اپنی اپنی تصویر پہچان سکتے ہیں ۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے عمل کا رخ خدا کی طرف ہے یا انسان کو راضی اور خوش کرنے کے لئے ؟
 اس آئنیہ میں اپنی سیرت اور کردار و عمل کو جانچ سکتے ہیں کہ ہماری نگاہ اس عمل کے پیچھے خالق کی طرف ہے یا مخلوق کی طرف ؟ ہم کسی فکر ،عقیدہ اور نظریہ پر قائم و دائم صرف اپنی انا اور ضد کی وجہ سے ہیں یا سچ مچ اللہ کے کلمہ اور دین کے لئے ہیں؟ خدا کرے اس آئنیہ میں ہم سب کو اپنی اپنی تصویر اور صورت کو پرکھنے اور اپنے عمل کو جانچنے اور عمل کے رخ کو خدا کی طرف کرنے کی توفیق مل جائے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا رب العالمین

Thursday, January 1, 2026

تواضع کا پیکرِجمیل حضرت مولانا نذیر احمد صاحب قاسمیؒ مظفری سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

تواضع کا پیکرِجمیل 
حضرت مولانا نذیر احمد صاحب قاسمیؒ مظفری 


سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین 
صبری پور 

ہمارے علاقہ کے مشہور ومعروف عالمِ دین اور ایک متواضع،شریف وملنسار،انکسار وسادگی کا پیکرِجمیل حضرت مولانا نذیر احمد قاسمیؒ تقریبا اپنی عمر کی نو دہائی علم وعمل اور خدمت انسانیت میں گذارنے کے بعد اپنے رب حقیقی سے جاملے،ﷲتعالی ان کو اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے۔

مولانا نذیر احمد قاسمی تواضع وانکساری کے پیکر جمیل اور رشد وہدایت کی صفات سے مزین ایک صوفی منش بزرگ تھے،صبح سے شام تک دین متین کی اشاعت میں مصروف عمل تھے اپنے مدرسہ کی ترقی طلباء کی کفالت کے لئے شب وروز پیدل چلنے کا سفر ان کا معمول تھا،کوئی راہ گیر راستہ میں مل گیا وہ اس لمحہ باعث برکت سمجھ کر ان کو بٹھا لیتا اور ان کے مقام پر چھوڑدیتا،انہوں نے اپنی پوری زندگی محنت وجفاکشی اور جہد مسلسل کے ساتھ گزاری،وہ بے ضرر تھے،کبھی کسی کے بارے میں کوئی گمان تک شائد ان کو نہ ہوا،کہیں بیٹھ جاتے،کہیں چلے جاتے،اس اعتبارسے انہوں نے بعض وہ دینی کام انجام دئیے جہاں تک اچھے اچھوں کی رسائی نہیں۔
جب بھی ملاقات ہوتی تواضع کا مجسمہ دکھائی دیتے،اور کسی دوسری دنیا میں مگن نظر آتے،ان کی پوری زندگی تعلیمی واصلاحی پیش رفت میں گزری، عوام وخواص ان کے یہاں دعا ومناجات کے لئے حاضر ہوتے،وہ پانی پر دم بھی کرتے،اور تعویذ وغیرہ بھی دیدیتے تھے، جس سے بڑی شفا ہوتی تھی،آپ کی آخر عمر میں عارف باللہ طبیب حاذق حضرت مولانا سید مکرم حسین صاحب سنسارپوریؒ نے ان کو خرقۀ خلافت سے بھی نوازا جس سے ان کا اصلاحی میدان بھی بڑا وسیع ہوا اور اصلاح و افادہ کی فضا عام ہوئی ان کی وفات سے آج علاقہ ایک نیک صفت بزرگ سے خالی ہوگیا ﷲ تعالی ان کے قائم کردہ مدرسہ اور ان کی جدوجہد کے مرکز کو نعم البدل عطا فرمائے آمین 


نماز جنازہ ابھی ظہر بعد ان کی آبائی بستی مظفری مظفرآباد میں ادا کی جائے گی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...