محمدامام الدین ندوی
مدرسہ حفظ القرآن،منجیا ویشالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بوڈر پٹنہ صوبہ بہار کاایک باوقار ادارہ ہے۔یہ بہار کی اقلیتوں کی عظیم شناخت ہے۔مسلم طلبہ وطالبا ت کے امتحان لینے کی ذمہ داری اسی کو ہے۔درجہ وسطانیہ،فوقانیہ،مولوی،وغیرہ کے امتحانات یہی ادارہ لیتاہے۔اس کے ماتحت بہت سارے ادارے آتے ہیں جو ملحقہ مدارس کے نام سےجانے جاتے ہیں۔اساتذہ کی تنخواہیں،ان کی بحالی،امتحانوں کے سوالات کی ترتیب،امتحان کے لئے کاپی مہیا کرانے اور جوابی کاپیوں کو چیک کرانے رزلٹ دینے جیسے اہم کام اس کے ذمے آتے ہیں۔
اس ادارے میں مختلف عہدے ہیں ۔ان عہدوں میں ایک عہدہ چیر مین کا ہے۔اس پر عموما صوبہ بہار کی حکمراں جماعت سے وابستہ کوئی فرد متمکن ہوتا ہے۔وہ فرد عموما مسلمان ہوتاہے۔
اس عہدے پر متمکن شخص خود مختار نہیں ہوتا ہے۔وہ حکومت کے اشاروں پر ہی ناچتاہے۔ان کے منہ میں سرکار کی زبان ہوتی ہے۔
سرکار کے منشے کے مطابق ہی وہ عمل کرتا ہے۔
اس ادارے نے اپنی عمر کے تقریبا ١۰٣ برس مکمل کر لئے ہیں
مؤرخہ ٢١ اگست ٢۰٢۵ کو اس ادارے کا صد سالہ جشن منایا گیا۔اس کے لئے تاریخ طے کی گئی ۔پرچار وپرسار خوب ہوئے ۔موجودہ چیرمین جناب سلیم پرویز نے بہارکےمختلف اضلاع کے مختلف ملحقہ مدارس کے دورے کئے ۔اساتذہ کو ان کے مسائل حل کرانے کی وکالت بھی کی۔اساتذہ کو سبز باغ بھی دکھائے۔ضلع ویشالی کا بھی ان کا دورہ ہوا۔
اس ضلع میں ایک قدیم ادارہ "مدرسہ احمدیہ" ابابکر پور ہے جو بورڈ سے ملحق ہے۔اس کا ماضی غیر معمولی شاندار رہاہے۔اس مدرسے کی خوش نصیبی کپئے یا چیرمین کی بدنصیبی کہ وہ اس ادارے کی زیارت سے محروم رہے جبکہ اس ادارے سے تقریبا دو کیلو میٹردور موضع شاہ پور خرد میں عارف حسن سابق مکھیا کے دروازے پر تشریف لائے۔اور مدرسہ احمدیہ کے انچارج پرنسپل،اساتذہ اور قریب کے دیگر ملحقہ مدارس کے اساتذہ نے ان کا استقبال کیا تصویر کشی بھی ہوئی۔
پچھلے دنوں چیرمین کا ایک آئیڈیو خوب مشتہر ہواتھا جس میں وہ ایک مخصوص برادری کو برا،بھلا کہتے سنے گئےتھے۔انہیں اس کا خدشہ دامن گیر تھا کہ کہیں لوگ ان اس پرجواب نہ طلب کرلیں اس لئے مدرسہ میں نہ جانےکوہی موصوف نےغنیمت سمجھا۔
چیر مین کا عہدہ ایک باوقار عہدہ ہوتاہے۔اس پر متمکن شخص اگر داروخانہ یا تاڑی خانہ والی زبان استعمال کرے تویہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔اس طرح کی خسیس حرکت غیر مناسب ہے۔
صدسالہ جشن کے موقع سے ملحقہ مدارس میں تعطیل کردی گئ تاکہ بھیڑ زیادہ سے زیادہ اکٹھی ہوسکے۔اور ایساہی ہوا۔اساتذہ جوق درجوق باپو سبھاگار پٹنہ کی جانب رواں دواں نظر آئے۔دل وماغ میں توقعات کے شیش محل سجائے ہوئے،امید کی شمع جلائے ہوئےسرزمین پٹنہ میں داخل ہوئے۔انہیں حق الیقین تھا کہ آج کے اسٹیج کے مہمان ذی وقار نتیش کمار انہیں قیمتی سوغات سے نوازیں گے اور ان کے مسائل کو حل کریں گے۔
ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے بہت سے مسائل ہیں۔تنخواہ کا وقت پر نہ ملنا۔کئی کئی ماہ تنخواہ کا انتظار کرنا۔تنخواہ میں گاہے بہ گاہے اضافہ کا نہ ہونا۔ریٹاٹر منٹ کے بعد خالی ہاتھ لوٹنا۔مدارس کے خالی عہدے کی بحالی میں رشوت خوری کا مکمل سد باب ہونا وغیرہ۔
بورڈ کے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کی مالی حالت دگرگوں ہے۔ان کی زندگی کی گاڑی پٹری سے اتر چکی ہے۔سوائے صدر مدرس کے ۔انہیں کچھ نہ کچھ آمدنی کے ذرائع میسر ہوتے ہیں۔
بورڈ کے اس صدسالہ جشن میں شرکت کے لئے ویشالی ضلع سے بھی لوگ گئے ان میں ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے علاوہ کچھ دوسرے چہرےبھی تصویر کشی کراتے نظر آئے۔
بہار کے وزیر اعلی نے تقریر کی۔سن 2005 سےقبل اور بعد کا موازنہ طنزیہ انداز میں خوب کیاجیسا کہ نیتاؤں کی خصلت ہوتی ہے۔اپنے زمانہ اقتدار میں کئے کاموں کی دوہائی دی۔ہم نے یہ کیا وہ کیا ۔125 یونٹ بجلی مفت کردی ۔مسلمانوں کے لئے باگھ مارا شیر پچھاڑا ۔وزیر اعلی نے اس بات کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ ان کو اس کرسی تک کون لایا؟ ۔یہ 2005 سے اب تک اقتدار پر قابض ہیں تو اس کا سہرا کس کے سرجاتاہے؟. سن 2005 سے پہلے ان کا کیا وقار تھااور یہ کس صف میں شمار ہوتے تھے؟.وزیر اعلی پر بہار کے مسلمانوں نےمکمل بھروسہ کیا ۔ان کو اپنا محسن ومشفق سمجھا ۔وزیر اعلی نے جہاں بہت سے کام کا تذکرہ کیا وہاں یہ بھی کہنا چاہئے تھاکہ وقف ترمیمی بل کا بھی ہم نے کھل کر حمایت کیا۔یہ حمایت ان کے تمام کاموں پر مقدم ہے۔انہوں نےاس کا تذکرہ دانستہ طورپرچھوڑ دیا۔ بھاگل پور کے فساد کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ بھاگل پور میں فساد ہوا۔اس جملے سے لگتاہے کہ وزیراعلی اس وقت شیر خوار تھےاس لئےانہیں اس کاپتہ نہیں چلا۔
مسلمان کی حیثیت صرف دری بچھانے،تھیلہ ڈھونے،پارٹی کا جھنڈا بلند کرنے،پارٹی کے لئے بھیڑ اکٹھا کرنے کی ہے۔اگر کسی سیاسی پارٹی میں مسلمان ایم پی،ایم ایل اے ہے بھی تو وہ خود مختار نہیں ہے وہ اپنے آقا کے مرہون منت ہے۔آج بھی میر جعفر کی ایک اچھی تعداد اپنے آقاؤں کی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلی نے اپنی پوری تقریر میں ملحقہ مدارس کےاساتذہ کے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوئی بات نہیں۔ان کے توقعات کے شیش محل لمحوں میں بکھر گئے۔ان کی آس ،یاس میں تبدیل ہوگئ ۔ان کی خوشی،سوگ میں بدل گئی۔چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔پاؤں بوجھل ہوگئے۔وہ مکمل اداس ہوگئے۔جس جوش جذبے سے گئے تھے اس سے کئی گنا زیادہ مایوس اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔
جشن صدسالہ ہنگاموں کے نذر ہوگیا۔وزیر اعلی کی تقریر ہوتی رہی لوگوں کے ہنگامے بھی ہوتے رہے۔
موجودہ چیر مین نے گھوم گھوم کر اساتذہ کو یقین دلایاتھا کہ ہم آپ کےدرپیش مسائل کا تصفیہ وزیر اعلی کے ذریعہ کروائیں گےآپ بڑی تعداد میں اس جشن صد سالہ کی زینت ضرور بنیں۔اس سے ان کا مقصد اپنی کرسی کی حفاظت اورآئندہ انتخاب میں مسلم ووٹ کےسپورٹ کے ذدیعہ وزیر اعلی کی کرسی کو بھی بچاناتھا۔
بھیڑ اکٹھی تو ہوئی پر ان کے جوش سرد پڑ گئے نہ تو وزیر اعلی نے ان کے مسائل حل کرنے کی بات کی اور نہ چیر مین نے اس پر لب کشائی کرنے کی زحمت کی۔اس طرح یہ جشن صدسالہ تاریخ ساز بننے کہ بہ جائے تاریخ کا سیاہ باب بن گیا۔
اس تقریب میں ارباب بورڈ نے وزیر اعلی کو ٹوپی پہنانے کی بھرپورکوشش کی پروہ ٹوپی پہننے سے انکار کرگئے جبکہ ٹوپی سرکا تاج ہوتی ہے۔اور ماضی میں مسلمانوں کے مختلف پروگرام میں وہ ٹوپی استعمال کر چکے ہیں۔
حقیقت میں جوبرابر دوسروں کو ٹوپی پہناتا ہو اسے کوئی کیسے ٹوپی پہنا سکتاہے۔
بہر حال بورڈ سے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے بہت سے واجبی مسائل ہیں انہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں ان کی نہ سنی جائےگی تو کب سنی جائے گی۔
No comments:
Post a Comment