Translate

Wednesday, December 31, 2025

(پانچویں قسط )جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس :جامعة الحسنین صبری پور

(پانچویں قسط )
جنہیں میں نے دیکھا ہے 
مطالعہ نگار:
 سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس :جامعة الحسنین صبری پور
یادگار زمانہ علامہ شبلی نعمانیؒ کی تحریری خصوصیات اور ان کی اردو شاعری کو زندہ وتابندہ کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب زید مجدہ انہیں کے قابل فخر شاگردِ رشید اور معمار دارالمصنفین علامہ سید سلیمان ندویؒ کی علمی وتحقیقی بارگاہ میں قدم رکھتے ہیں اور ان کے علمی و فکری ورثے کو اپنے قلم کی جنبش میں لاتے ہیں عنوان ہے ''علامہ سید سلیمان ندویؒ کا علمی اور فکری ورثہ"۔
 ظاہر ہے بات قلم و زبان کے شناور،علم وتحقیق کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور بر صغیر کے اس جلیل القدر عالم زمانہ کی ہے،جس کی شخصیت، علمیت، جامع کمالات تھی ان کے علمی ورثے بڑی جاں فشانی اور تحقیقی نظر سے سامنے آئیں گے اور ان کی فکری آراء بڑی عرق ریزی اور وسعت فکری کے ساتھ اوراق کی زینت بنائی جاسکیں گی، ڈاکٹر صاحب کے قلم کی کائنات میں علمی وتحقیقی جستجو،شخصیات کو سمجھ کر لکھنے کا فن ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ اپنے استاد علامہ شبلی نعمانیؒ کے قابل فخر شاگرد اور دارالمصنفین کے تعمیری و فکری اور علمی و تحقیقی منصوبوں کے معمار تھے،عالم اسلام کے لیے باعث عزو ناز تھے، علامہ اقبالؒ جیسے دانائے راز نے ان کو علامہ شبلی نعمانیؒ کے بعد استاد الکل اور اسلام کےجوئے شیر کے فرہاد کے لقب سے یاد کیا،آپ کی شخصیت میں کمال جامعیت تھی، مصنف گَر کی تربیت نے ان کو کندن بنایا،وسعت مطالعہ اور علمی تبحر میں وہ یادگار سلف تھے قدیم علوم میں غیر معمولی رسوخ و مہارت کے ساتھ علم و تحقیق کے جدید تقاضوں سے آگاہ تھے۔
 ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں جب ان کی پہلی تحقیق تاریخ ارض القرآن سامنے آئی، تو اس کو اس موضوع پر پہلی تصنیف ہونے کا امتیاز حاصل ہوا ،صدی کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اس کی امتیازی شان میں کمی نہیں آئی،ان کی دوسری تصنیف سیرت عائشہ بھی ابھی تک اپنے موضوع پر بے نظیر ہے،لیکن ان کی زندگی کا اصل کارنامہ سیرت النبیﷺ کے عظیم الشان منصوبے کی تکمیل ہے، عالمی اسلامی لٹریچر میں اس کا جو مقام و مرتبہ ہے اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں، ان کی تصنیفات میں غیر معمولی تنوع ہے ایک طرف سیرت النبیﷺ، خطبات مدراس،سیرت عائشہ، تاریخ القرآن جیسی لازوال تصنیفات ہیں، تو دوسری طرف عرب و ہند کے تعلقات، اور عربوں کی جہازرانی، جیسی نادر تحقیقات، آخر الذکر دونوں موضوعات پر مشرق و مغرب دونوں جگہ ان کی کتابوں کی اشاعت کے بعد جو کچھ لکھا گیا وہ دراصل انہیں سے ماخوذ ومستفاد ہے، خیام پر ان کی کتاب اب تک بے نظیر ہے، انہوں نے قرآنیات، حدیث،فقہ اور دوسرے اسلامی موضوعات پر ایک نہایت وسیع اور ثروت مند علمی اور فکری ورثہ چھوڑا ہے، اپنی تحقیقات میں انہوں نے مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل علمی جواب فراہم کیا، استاد گرامی کی سوانح حیات لکھی تو اس عہد کی علمی تاریخ کی تدوین کا کارنامہ انجام دیا، شعر و ادب کا بھی نہایت اعلی اور پاکیزہ ذوق تھا،عربی فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں اعلی درجہ کی شاعری کے نمونے یادگار چھوڑے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے ارادت کے بعد ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا،اور تصوف کی لذت آشنائی کے اثرات ان کی زندگانی اور نگارشات میں صاف طور پر محسوس کیے گئے دارالعلوم ندوة العلماء کے معتمد تعلیمات کی حیثیت سے بھی تعمیر و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا، اور تحریک آزادی میں بھی فعال شرکت رہی،اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے،تحریک خلافت اور جمعیت علماء سے نہایت قریبی روابط رہے،بیرون ملک جانے والی تحریک خلافت کے وفود کے رکن رکین رہے،علمی اور تحریکی دونوں لحاظ سے ایک نہایت ممتاز فعال اور ثمر آور زندگی گزاری، اور ملی اور ملکی دونوں سطح پر دیر پا اثرات چھوڑے۔

اس کے بعد اردو ادب کی ایک مشہور صنف خطوط نگاری پر اپنی انگلیوں کو جنبش دی اور سیمنار میں پیش کرنے کی غرض سے علامہ سید سلیمان ندوی اور خطوط نگاری لکھا۔
 سید الطائفة علامہ سید سلیمان ندویؒ ایک نابغۀروزگار شخصیت تھے،وہ اپنے عہد میں یگانۀ روزگار تھے، جبکہ اس وقت بر صغیر میں متعدد جبالِ علوم و فنون موجود تھے مگر سید الطائفة جیسا متنوع صلاحیتوں کا مالک جامع الکمالات والعلوم والفنون، قدیم و جدید کا سنگم،مدبر و مفسر قرآن، فقہ و حدیث، نقد و ادب اور تاریخ و سیرت کا ایساجامع ترین نظر نہیں آتا ان کی شخصیت میں اتنی جامعیت تھی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ نے فرمایا تھا۔
 سید صاحب کے فضائل و کمالات، اخلاق وعادات، تحقیق ریسرچ،ملی،سیاسی اور علمی خدمات اتنی متنوع ہیں کہ ان کی تفصیل کے لیے ہزاروں صفحات ناکافی ہیں۔

سید صاحب کی ان گوناگوں خصوصیات اور نگینہ جیسی ہشت پہل شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے خطوط و مکاتب کا مطالعہ ضروری ہے کسی بھی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خطوط کا مطالعہ بے حد معاون ثابت ہوتا ہے کیونکہ خطوط کی حیثیت نجی تحریروں کی ہوتی ہے اس میں بڑی حد تک ظاہر و باطن اخلاق و کردار اور ادب و قلم کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے سید صاحب کے مراسم بہت وسیع تھے اپنے عہد کی تمام بڑی شخصیات سے ان کے اچھے روابط، بہتر تعلقات اور گہرے مراسم تھے، آپ کے ان خطوط میں عالمی حالات کا تذکرہ بھی ہے علمی نکات کا تجزیہ بھی، ادبی لطائف اور اسلوب بیان کی چاشنی ہے،قیمتی مشورے ہیں، مستقبل کی رہنمائیاں ہیں،سچ یہ ہے کہ اگر خطوط نگاری کے حدود اربعہ متعین کئے جائیں اور پھر خطوط سلیمانی کا جائزہ لیا جائے تو بھی ہر اعتبار سے خطوط سلیمانی کا اقلیم فن میں بول بالا ہوگا، چنانچہ ان خطوط میں کہیں سید صاحب مدافعت اسلام کرتے نظر آتے ہیں، کہیں خلافت کی شوکت و سطوت بیان کرتے ہیں، کہیں علمی مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں،تو کہیں نقد وجرح، کہیں یورپ کی تہذیب پر تلخ و لطیف تبصرے کرتے ہیں،تو کبھی بخیہ دری بھی کرتے ہیں، کبھی اس امت کی زبوں حالی پر نوحہ و ماتم کرتے ہیں،تو کبھی مستقبل کے خاکوں پر گفتگو کرتے ہوئے امید کی کرن پیدا کر دیتے ہیں، کبھی ملی مسائل اور ملی قیادت سے ہم کلام نظر آتے ہیں، تو کبھی خالی سیاسی مسائل میں علمی نکتہ آفرینی کرتے دکھائی دیتے ہیں، الغرض نکتہ سنجی، ادبی لطائف اور خردوں کی علمی تربیت کا نرالا انداز کوئی دیکھنا چاہے تو خطوط سلیمانی کا مطالعہ کرے،سید صاحبؒ کا ادبی مذاق اور علمی و تحقیقی ذوق مکاتیب میں خوب نکھر کر سامنے آتا ہے، نقوش کے مکاتیب نمبر میں سے سیدصاحبؒ کے خطوط پر ڈاکٹر سید عبدﷲ نے بجا تبصرہ کیا ہے۔
کہ سید صاحب کے خطوط کا امتیازی وصف فرحت افزائی اور نکتہ آفرینی ہے۔
الغرض آپ کے مکاتیب ایک علمی فکری ادبی اور وسیع ثقافتی آماجگاہ ہیں۔

مفتی عین الحق امینی قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھے ہیں کئی روپ نرالے تیرے(ارشد فیضی قاسمی ،ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے )

مفتی عین الحق امینی قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھے ہیں 
کئی روپ نرالے تیرے

(ارشد فیضی قاسمی ،ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے )
جب بھی میں مایوسی یا افسردگی کے عالم میں اپنی پرانی یادوں کے دریچے کھولتا ہوں تو میرے سامنے برسوں ساتھ وقت گزارے ہوئے ان باحوصلہ افراد کے چمکتے دمکتے چہرے میرے لئے امید کی روشن کرن بن کر اپنے خاص انداز میں وہ پیغام دے جاتے ہیں جس کی بیساکھی مجھے آگے بڑھنے اور زندگی کے میدان میں مسلسل بڑھتے چلے جانے کا قابل اطمینان سبق بتاتی ہے ۔
مجھے خوب یاد ہے کہ نیم بے شعوری کے عالم میں جب تعلیم کے مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا میرا تعلیمی سفر مادر علمی دارالعلوم دیوبند پہونچا تو بھلے ہی اس خوبصورت فضا میں جہاں تعلیم،تعلیم اور صرف تعلیم کے فارمولے پر عمل پیرا رہنے کا ایسا خوشنما ماحول ہے کہ اپنی تعلیمی مشغولی بہت کم لوگوں کو دوسرے کے مستقبل کے تئیں فکر مند رہنے کا موقع دیتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ علم وادب کی اس چہار سو پھیلی دنیا میں ہم مزاج کا مل جانا بھی کسی بڑی خوش نصیبی سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔
تاہم مجھے خوشی کے ساتھ اپنے اوپر ناز بھی ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی ماحول میں اپنے سفر کی شروعات کے ساتھ ہی چند ایسے افراد کی دیرینہ رفاقت میرے حصے میں آئی جنکی علمی گہرائی،فکری بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں نے اس وقت بھی میرے حوصلے کو زندگی دی اور آج بھی مایوسی کے اوقات میں انہی احباب کے تصوراتی خاکے میرا سہارا بن کر مجھے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جانے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔
اگر چہ میرے احباب کی فہرست میں کچھ زیادہ لوگ شامل نہیں رہے ہیں،اور نہ یہ میرا مزاج رہا ہے مگر اس اعتبار سے میں خود پر نازاں رہتا ہوں کہ میرے حصے میں جن باوقار افراد کی رفاقت آئی ان میں ایک نہایت معتبر اور قابل قدر نام مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کا بھی ہے،جو طالب علمی کے دور سے لے کر آج تک ایک چلتی پھرتی انجمن کی شکل میں نے جانے کتنوں کا درد اپنے سینے میں سمائے مسلسل کامیابی کی طرف رواں دواں ہے، مجھے یاد ہے کہ مادر علمی کے چھ سالہ تعلیمی دور میں قدم قدم پر جن لوگوں کی انگلیاں پکڑ کر میں مسلسل کامیابی کی طرف بڑھتا چلاگیا یا کہ لیں کہ جن احباب نے میرے کمزور حوصلے کو جوانی کی دہلیز تک پہونچاکر کسی قابل بنایا ان میں مفتی عین الحق قاسمی ناظم معہد عائشة الصدیقہ خاتو پور بیگو سرائے سر فہرست رہے ہیں،نام تو کئی اور بھی ہیں جن کا ذکر کسی اور موقع پر آئے گا ۔لیکن سچ کہوں تو مفتی عین الحق قاسمی جن کو اللہ رب العزت نے ایسی امتیازی خوبیوں سے نوازا ہے کہ وہ پہلے بھی ہم لوگوں میں ممتاز رہے اور آج بھی ہیں ،بات چاہے درسگاہ کی چٹائی پر بیٹھ کر علمی گتھتیوں کا سلجھانے کی ہو،یا علاقائی انجمنوں سے لے کر بہار اڑیسہ ،جھارکھنڈ اور نیپال کی مشترکہ انجمن بزم سجاد کے مسابقاتی پروگراموں کے خوبصورت اور باوقار اسٹیج کی،معاملہ چاہئے انتظامی صلاحیتوں کے مظاہرے کی ہو یا مختلف مزاج کے حامل حلقہ احباب کو ایک اتحادی لڑی میں پروکر ساتھ چلنے پر زور دینے کی ہر مقام پر وہ طاق رہے۔ان سب خوبیوں کے ساتھ ہر وقت اپنے احباب کو میسر رہنے اور خود کو تکلف وخود نمائی سے اوپر اٹھا کر کار آمد بنانے کی فکر نے انہیں ایسے مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ ہم انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔یقین جانئے تو ان کا ہنستا مسکراتا اور بے تکلفانہ لہجہ ان کی خاص پہچان کراتا تھا ۔
مفتی عین الحق قاسمی صرف ایک نام نہیں بلکہ ان کو میں نے ہمیشہ چلتی پھرتی ایسی تحریک کے طور پر دیکھا ہے جس نے نا امیدی ،مایوسی اور قدم قدم پر درپیش مسائل کا سینہ چیر کر اپنے کے لئے کامیابی کی ایسی راہیں بنائی کہ بعد میں آنے والے ان کے نقش راہ کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھ کر آگے بڑھتے چلے گئے۔بلا تکلف اعتراف کروں تو میرے تحریری شعور کو زندگی دینے میں جن چند افراد کی کوششوں کا خاص دخل ہے ان میں ایک وہ بھی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی پانچ سالہ رفاقت کی یادیں تو دو دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہے حالانکہ اس طویل مرحلے میں ملاقات کے مواقع بہت کم آسکے جس میں کمزوری صرف میری رہی مگر مختلف ذرائع پرانی یادوں کی تجدید کا مسلسل باعث بنتے رہے،کاش ان یادوں نے گزرتے وقت کی رفتار میں زنجیر ڈال دی ہوتی۔
مادر علمی سے سیرابی کے بعد انہوں نے جس میدان عمل کا انتخاب کیا وہ ان کا عین مزاج تھا ،پھر بات یہ بھی رہی ہے کہ اس راہ پر وہ ایسے چلے کہ ان کی کامیابیوں نے انہیں بڑوں کا عزیز ،چھوٹوں کا رہنما اور مجھ جیسے لوگوں کے لئے قابل رشک بنا دیا ،وہ ایک ساتھ کئی محاذوں پر اپنی حاضری درج کراتے رہے اور ہر محاذ سر کرنا ان کی عادت بنتی چلی گئی،چاہے بات تعلیمی ادارہ کے پلیٹ فارم سے نئی نسل کی تربیت کی ہو یا جمعیة جیسی تحریک سے وابستہ رہ کر انقلابی اقدامات کی میں نے کم از کم اپنے ہم عصروں میں ان جیسے کردار کے ساتھ بہت کم لوگوں کو عملی میدان میں رواں دواں دیکھا ہے ۔ایسا بھی نہیں کہ انہیں بنی بنائی راہ میسر آئی جس پر ان کو صرف چلنے کا دکھاوا کرنا تھا بلکہ حق بات یہ ہے کہ زندگی کے ہزار طوفانوں کا سینہ چاک کر کے انہوں نے جو راہ نکالی اور اس پر جس اعتماد کے ساتھ چلے کہ قدم قدم پر حوصلے مکمل حیاء کے ساتھ ان کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔ان دنوں مسلسل کئی کتابوں کے سر ورق نظر سے گزرے جن کی تالیف ان سے منسوب تھی دیکھ کر قلب کو جو سرور ہوتا ہے اس کے اظہار کا حوصلہ تو ہے مگر مناسب الفاظ ابھی تک میسر نہیں ۔۔۔بس میں ان کے بڑھتے قدم کو اپنی کم علمی وکم مائگی کا کفارہ مانتا ہوں ۔۔۔۔۔انہوں نے مجھے سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔کہ

پاوں پتھر کر کے چھوڑے گی اگر رک جائیے 
چلتے رہئے تو زمیں بھی ہم سفر ہو جائے گی ۔

علم کلام کا جدید اسلوب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

علم کلام کا جدید اسلوب
 
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے مناظرہ اور اس کے اثرات پر ان دنوں زوروں کی بحث چل رہی ہے، مفتی شمائل ندوی کے وجود باری تعالیٰ پر جدید کلامی اسلوب کے دلائل نے جاوید اختر پر کپکپی طاری کی اور ان سے جواب نہیں بن پڑا ، سامعین نے واضح طور پر ان کی گفتگو کے لکچر ، غیر علمی اور بلا دلیل ہونے کو محسوس کیا اور فتح مفتی شمائل ندوی کے نہیں ، حق کے حصہ میں آئی ، اس مناظرہ کو دیکھ کر مجھے حضرت ابراہیم اور نمرود کے مکالمہ اور مناظرہ کی یاد آئی جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور جس میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کو بتایا کہ اللہ وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے، تو نمرود نے کہا کہ یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں، حضرت ابراہیم نے محسوس کیا کہ یہ ایسے نہیں مانے گا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دوسری دلیل دی کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا! تو کافر ہکا بکا رہ گیا، یہی حال جاوید اختر کا ہوا، مفتی شمائل ندوی کے استدلال سے وہ ہکا بکا رہ گیا اور اسے منہ کی کھانی پڑی۔

سوشل میڈیا پر مبارکبادی کی باڑھ سی آگئی، استقبالیہ اجلاس منعقد کیے گیے اور اس کی گونج آج تک محسوس کی جارہی ہے، ایک بڑا استقبالیہ پروگرام دیوبند میں بھی ہوا ، جس میں مفتی شمائل ندوی نے اور باتوں کے علاوہ اداراتی تعصب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ندوہ ، دیوبند الگ الگ نہیں ہے، دونوں ایک ہیں، دونوں کا مکتب فکر ایک ہے، یہ کہہ کر انہوں نے ان لوگوں کی زبان کو لگام دینے کا کام کیا ، جو اس جیت کے بعد ندوہ کے قصائد اس طرح پڑھنے لگے تھے جیسے دونوں کی سوچ اور کار کردگی الگ الگ ہو اور ان کی خدمات کو اداراتی گروہ بندی میں بانٹ کر دیکھا جائے، مفتی شمائل نے یہ کہہ کر اکابر ندوہ کی دیرینہ روایت اور تعلقات کو تقویت پہونچائی ہے جو دونوں کو تعصب کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گیے تھے، جو سوشل میڈیا پر ان کے ندوہ کی سند کو وائرل کر کے اس مہم کو تقویت پہونچانا چاہتے تھے۔

یہ مناظرہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پرلائیونشر ہورہا تھا، وہ آپ کے مختلف گروپ پر بھی آرہا تھا، ان میں سے بعض گروپ وہ تھے جو اپنی گائیڈ لائن کی مخالفت کسی حالت میں برداشت نہیں کرتے ، جیسے نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی ، ویشالی صرف کتابوں کی پی ڈی ایف کی فراہمی کا کام آن لائن کرتا ہے، اس نے اپنے ضابطہ کو توڑ کر پورے مناظرے کو اپنے گروپ پر نشر کیا تا کہ منسلک لوگوں تک مناظرہ من و عن پہونچے اور کائنات کی اس بڑی حقیقت کے دلائل سے لوگ واقف ہوسکیں ۔
یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مفتی شمائل ندوی اس مناظرہ میں اس لیے کامیاب ہو سکے کہ انہوں نے قدیم علم کلام کے ساتھ جدید کلامی اور منطقی اصول، دلائل کا مطالعہ جدید اسلوب میں کر رکھا تھا، انگریزی زبان، سائنسی طریقہ کار اور مناظرہ میں اپنی باتوں کو سلیقہ سے رکھنے کا ہنر جدید اسلوب کی رعایت کے ساتھ فنی اعتبار سے مضبوط بنیادوں پر پیش کرنے پر قادر تھے، اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی کمی ہوتی تو ان کی پیش کش اس قدر شاندار نہیں ہو پاتی۔ یہیں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں علم کلام کو جدید اسلوب میں پڑھانے کی کس قدر ضرورت ہے، جو لوگ درس نظامی سے منطق کو خارج کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی اس میں بڑا پیغام پنہاں ہے کہ آج بھی منطقی اصولوں پر استدلال ہی منکرین اسلام اور ملحدین مذاہب کو سمجھانے کے لیے کام آتا ہے، قضایا کو جوڑ کر اور حد اوسط حذف کر کے نتائج تک پہونچنے کا ہنر اسی فن سے پیدا ہوتا ہے۔ 
مفتی شمائل ندوی کے اس پورے مناظرہ میں دلائل کی مضبوطی کے ساتھ ان کا عالمانہ وقار اور داعیانہ کردار بھی خوب کام آیا ، ان کی حاضر جوابی ، اشتعال سے پر ہیز ، ہتک آمیز جملوں سے اجتناب نے بھی سامعین کو خاصا متأثر کیا،جاوید اختر بھی اس سے متأثر نظر آئے۔

مدارس اسلامیہ سے جو فارغین ان دنوں نکل رہے ہیں، مناظرہ کی انجمنوں میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کی تربیت بھی کرنے کی ضرورت ہے، مولانا یاسر ندیم الواجدی، مفتی شمائل ندوی اور مفتی توقیر بدر القاسمی جیسے افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، جب کہ علم جدید نے جو نئے چیلنج کھڑے کیے ہیں اور جو نئے فرقے وجود میں آرہے ہیں، مغربی مفکرین اور مستشرقین کے ذریعہ اسلام پر جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان کے دفاع لیے رجال کار کی تیاری اس وقت کا بڑا دینی فریضہ ہے، اب تک ہمارے یہاں جو مناظرہ کی روایت رہی ہے، وہ داعیانہ کم ، مخالفانہ زیادہ رہی ہے، جب کہ مناظرہ کو اگر دعوتی بنیادوں پر کیا جائے تو ان میں مخالفانہ انداز کے بجائے ایک داعی کے دل کی تڑپ ، کسک اور کڑھن بھی شامل ہوگی ، یہ مخالفین کے دلوں پر دستک دیں گے تو حق کی قبولیت کے لیے ان کے دل کے دروازے کھلیں گے۔

Sunday, December 28, 2025

(چوتھی قسط )جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار :سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس :جامعة الحسنین صبری پور

(چوتھی قسط )
جنہیں میں نے دیکھا ہے
 مطالعہ نگار :
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
 رئیس :
جامعة الحسنین 
صبری پور 
اس تازہ وارد میں شخصیات کے عناوین سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی صاحب دامت برکاتہم نے قریب و بعید کی علمی وتاریخی،دینی ودعوتی اہم شخصیات کو پڑھا ہے، اور ان کی قلمی کاشت کی سیر کی ہے اور صرف تاریخی طور پر مطالعہ نہیں کیا بلکہ زبان و ادب کا ذائقہ لے کر ان کے علمی و فنی دسترخوان سے خوشہ چینی کی ہے، جیسا کہ آپ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے اب ہم بات کریں گے اردو کے اساسی اراکین میں شامل علامہ شبلی نعمانیؒ جیسی جامع صفات اور جامع جہات شخصیت کی،عنوان ہے "علامہ شبلی نعمانی کا طرز تحریر اوران کی بعض تحریری خصوصیات ( 1857- 1914)
عنوان ہی سے معلوم ہوتا ہے اس موضوع پر لکھنے کے لئے علامہ شبلیؒ کی کتابوں کی خاک چھانی جائے گی اور تحریری خصوصیات تلاش کرنے کے لئے تحلیل و تجزیہ سے کام لینا ہوگا لیکن ڈاکٹر صاحب خوش قسمتی سے اس میدان میں بھی سبقت لے گئے،اور طبع آزمائی میں کامیابی کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں رہے۔ 
 بیسویں صدی کے اوائل میں جن اہل قلم نے لیلائے اردو کے گیسو سنوارے ،ان میں علامہ شبلی نعمانیؒ کا نام سر فہرست ہے، وہ ایک ادیب و انشاء پرداز کی حیثیت سے ممتاز اور اپنے معاصرین میں فائق نظر آتے ہیں، ان کے معجز قلم نے جو الفاظ رقم کئے ان کو ادب وانشاء کے میدان میں اتھارٹی حاصل ہوئی،اور وہ گوہر آبدار ثابت ہوئے، اس درجہ انفرادیت انکی تحریروں میں پائی جاتی ہے کہ نظر پڑتے ہی علامہ شبلیؒ کی تخلیق کا اعلان ہوتا ہے، زبان و بیان کی شگفتگی کا عنصر ان کے یہاں زیادہ ہے، اور بقول مولانا عبدالماجد دریابادی۔
 علمی تحریروں کے لئے اب تک شبلی کے اسلوب سے بہتر کوئی نمونہ اردو میں موجود نہیں ہے ۔

ادب کا کوئی گوشہ نہیں جس میں انہوں نے اپنا سکہ نہ جمایا ہو اور لوہا نہ منوایا ہو۔
 رام بابو سکسینہ مصنف تاریخ ادب اردو نے سچ کہا ہے ۔
اگر کوئی شخص ایک شاعر، فلسفی،مؤرخ، ناقد،ماہرِتعلیم، معلم، واعظ،ریفارمر،جریدہ نگاہ، فقیہ، محدث سب کچھ ہو سکتا ہے تو شبلی ہی کی ذات تھی۔ 
 اسلام،بانئ اسلام یا مشاہیر اسلام پر کسی جانب سے اعتراض کئے جاتے،تو پھر شبلی کا اسلوب اپنا رنگ دکھاتا ہے دنیا کے کسی اور حصہ اور خطہ میں مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑی تو شبلی کا قلم جولانیاں دکھانے لگا،ان کا کمال یہ تھا کہ ان کی حقیقت نگاری میں غیر مستند روایات کا حوالہ جرم تھا،آپ نے مذہب تاریخ اور ادب کو اپنے بحث و تحقیق کا موضوع بنایا اپنے بیان کو وثوق اور اعتماد کے ساتھ بیان کرنا شبلی کا آرٹ ہے، تاریخ کے میدان میں خاص طور سے شبلی کا یہ وصف قابل تعریف و تحسین ہے۔
 ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں اگر ہم مختصر الفاظ میں شبلی کے اسلوب نگارش کی خصوصیات شمار کرنا چاہیں تو وہ یہ ہوں گی۔
بے ساختگی روانی۔ برجستگی اور شگفتگی۔ 
فارسی الفاظ و تراکیب کی خوشگوار آمیزش۔ 
ایجاز و اختصار،زور بیان،جوش اور قوت استدلال۔
علمی و تحقیقی متانت، اور مؤرخانہ عظمت۔
استحکام رائے اور مقصدیت۔
حقیقت نگاری۔
فصاحت وبلاغت۔
رنگینی و شعریت اور تخیل کا عنصر۔
شستگئ بیان اور ادبی لہجہ۔
احساس کمال، احساس عظمت اور تہذیبی احساس۔ 
تنقید نگاری۔
تحقیقی رنگ۔ 
انہی گوناگوں محاسن کے باعث شبلی کے اسلوب کو مقبولیت کے دربار میں جو بلند مقام ملا وہ کسی دوسرے نثر نگار کے نصیب میں نہ آسکا، عصر جدید کے تمام نقاد بہت واضح الفاظ میں اس طرز تحریر کے حسن و خوبی کا اعتراف کرتے ہیں،شبلی کا سب سے بڑا کمال جس پر تمام نقاد متفق ہیں یہ ہے کہ انہوں نے اردو اسالیب بیان کی ایک طویل روایت اور عظیم سلسلہ کو اپنے طرز تحریر میں سمو لیا ہے یہ ایک ایسی منفرد خصوصیت اور امتیاز ہے جس کی نظیر اردو ادب کی پوری تاریخ میں مفقود ہے چنانچہ ہم کو شبلی کے اسلوب نگارش میں غالب کی شگفتگی،سر سید کی منطقیت اور استدلال، حالی کی سادگی و صفائی، محمد حسین آزاد کی شوخی ورعنائی اور نذیر احمد کا روز مرہ محاورہ، سب کی حسین قوس قزح جھلملاتی نظر آتی ہے اور پھر ان سب پر شبلی کی خود اپنی جدت و ندرت اور میناکاری نے واقعہ یہ ہے کہ اردو نثرکو دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں سے آنکھیں ملانے کے قابل بنا دیا،
اگر ہم مختصر ترین الفاظ میں شبلی کے اسلوب تحریر کے محاسن کو ذہن نشیں کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ اس میں قطب مینار کی رفعت و بلندی، تاج محل کا شکوہ وجمال، وادئ کشمیر کا حسن،گنگ و جمن کی پاکیزگی و تقدس، سمندر کا تموج، دریا کی روانی،دلربا حسینہ کی خوش ادائی وشوخی، اور بت طناز کی رعنائی سبھی کی جلوہ نمائی یکجا مل جاتی ہے۔
قدرت نے انہیں متضاد صفات سے نوازا تھا، ان کی تحریروں میں نفاست ،بلاغت، علمیت، حلاوت،متانت اور سلاست کا اتنا حسین امتزاج ہے جو ہمیں اردو کے کسی اورانشاء پرداز میں نظر نہیں آتا۔
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ اردو ادب کی ایک خاص صنف اردو شاعری پر بھی لکھا، آئندہ مضمون کا عنوان ہے " علامہ شبلی نعمانیؒ اور ان کی اردو شاعری"
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ اپنی انگلیوں کو جنبش دے کر علامہ کی اردو شاعری پر گلکاریاں کرتے ہیں:

علامہ شبلی نعمانیؒ برصغیر کے ان چنندہ اور مایۀناز اہل دانش اور اصحاب قلم میں سے ہیں جن کو میدان تحقیق کا سر خیل اور نقد و تاریخ کا امام کہا جا سکتا ہے آپ کی فکری جامعیت اور گوناگوں علمی موضوعات پر تجدیدی نگارشات آنے والی کئی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں، لیکن آپ کا شاعرانہ ذوق،لطافت طبع،ادبی نکتہ سنجی اور نہایت معیاری سخن وری معاصر شعراء میں آپ کو نمایاں مقام اور الگ پہچان دیتی ہے اگرچہ علامہ شبلیؒ کا نام شاعروں کی فہرست میں نہیں اور نہ پبلک میں ان کو اس حیثیت سے شہرت ملی لیکن وہ ایک عظیم شاعر بھی تھے اس کا گواہ ان کا اردو اور فارسی دیوان ہے مولوی نذیر احمد صاحب اپنی تقریر سے پہلے ایک سیدھی سادی نظم بھی سنا یا کرتے تھے اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں۔
 تم اپنی نثر کولو نظم کو چھوڑو نذیر احمد
 کہ اس کے واسطے موزوں ہیں حالی اور نعمانی 
مولانا حالی کی شاعری تو مشہور ہے مگر علامہ شبلی کی شاعری ان کے علمی کمالات کے ڈھیر میں ایسی چھپ گئی کہ وہ بہت کم لوگوں کو نظر آئی۔
وہ ہمہ گیر اور جامع شخصیت کے مالک تھے،انہوں نے اپنے قلم سے ادب،سیاست، تعلیم ،مذہب اور فلسفے کو متاثر کیا اور سب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے آپ کا خاص میدان نثر نگاری تھا ایک طرف سیرت پر سیرت النبی ﷺ جیسی منفرد کی کتاب لکھ کر اس فن کے معلم اول بن گئے،تو دوسری طرف موازنۀ انیس ودبیر جیسی گرانمایہ تصنیف کر کے فن تنقید کو بام عروج پر پہنچا دیا،آپ نے ان فنون کو اردو زبان میں منتقل کر کے اس کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا جس پر اردو زبان ہمیشہ ناز کرے گی۔
آپ نے اردو شاعری سے بھی اس میدان کو جلا بخشی،لیکن انہوں نے شاعری کی طرف بہت کم توجہ کی اس کے بارے میں انہی کی زبانی سنیئے وہ اپنے ایک دوست کو خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں۔
 ندوے کی جھنجھٹ اور شاعری ساتھ ساتھ چلنے کی چیزیں نہیں، بہرحال چارہ بھی نہیں، ندوہ فرض مذہبی ہے اور شاعری فرض طبعی،کس کو چھوڑوں،پھر انہیں پر موقوف نہیں ایک دل ہزار سودا۔

علامہ شبلی نعمانیؒ کے شاگرد رشید اور ان کے علمی جانشین علامہ سید سلیمان ندویؒ کلیاتِ شبلی کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں۔
 مولانا مرحوم کے علمی کمالات میں اگرچہ فارسی اور اردو کی شاعری بھی داخل ہے تاہم انہوں نے بذات خود کبھی اس کو اپنا قابلِ فخر کارنامہ قرار نہیں دیا اور اس حیثیت سے کبھی اپنے ہم عصروں کی صف میں حریفانہ حیثیت سے کھڑے نہیں ہوئے، بلکہ یہ ان کا ایک تفریحی مشغلہ تھا اور زیادہ تر تو اس کی تحریک خاص خاص مؤثرات و محرکات کی وجہ سے ہوتی تھی۔
 
ڈاکٹر صاحب آگے رقم طراز ہیں۔
 یوں تو علامہ شبلی نعمانیؒ کی شعری داستان طویل ہے اور تفصیل طلب بھی، اس کے لیے کلیات شبلی کا مطالعہ ضروری ہے،
شبلی کی شاعری ان کی شگفتہ لطیف اور رسا طبیعت کا کبھی کبھی کا ابال ہے جو شعریت کے ساتھ ساتھ اچھی اور صالح سماجی قدروں کی علمبرداری کرتی ہے انہوں نے اپنی پرجوش و مزیدار سیاسی اخلاقی اور تاریخی نظموں سے اردو شاعری میں خوشگوار اضافہ کیا ان کے اسلوب میں شگفتگی و بانکپن اور چستی ملتی ہے۔
 بقول عبداللطیف اعظمی کے۔
 حالی نے اردو شاعری کو زندگی سے زیادہ قریب لانے کی کوشش کی لیکن یہ ابتدائی کوششیں تھیں،شبلی نے اسے ترقی دے کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا، اردو شاعری کو زندگی کی حقیقی مسائل سے قریب سے قریب تر لاکر ہندوستانی تہذیب کا آئینہ دار بنا دیا،جدید مسائل پر طبع آزمائی کی اور ایک نئی شاعری کی داغ بیل ڈالی،شبلی کے یہاں غزل بہت کم ملتی ہے لیکن اس میں تغزل ہے، ان کا تغزل محض گل و بلبل کی حکایت اور جوانی کی داستان کے لیے نہیں،ملک و قوم کے مسائل اور تاریخ کے اوراق کی تشریح کے لیے ہے،یہ زود ہضم بھی ہے اور صحت بخش بھی،اس کا اندازہ ان کے کلام سے لگایا جا سکتا ہے۔علامہ کہتے ہیں ۔
پوچھتے کیا ہو جو حال شبِ تنہائی تھا
 رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا 
شبِ فرقت میں دلِ غمزدہ بھی پاس تھا
 وہ بھی کیا رات تھی کہ عالم تنہائی تھا
 اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۀدل
 غم سے مانا بھی کہ اس گھر میں خالی کر لوں 
آپ جاتے تو ہیں اس بزم سے شبلی لیکن
 حال دل کا کہیں اظہار نہ ہونے پائے۔

یہ شبلی کی غزل گوئی تھی جو ان کی ابتدائی دور میں منظرِ عام پر آئی ویسے وہ وقتا فوقتا سیاسی حالات پر نظمیں لکھتے رہے، آپ نے شہنشاہیت کے خلاف جرأت وہمت کے ساتھ نظمیں لکھیں ۔

ایک نظم جنگِ بلقان اور دوسری تقسیمِ بنگال کے حالات سے متاثر ہو کر لکھی جو اس وقت کے نا گفتہ بھی حالات کی عکاسی کرتی ہیں،طویل نظم ہے دو شعر لکھے جاتے ہیں،فرماتے ہیں۔
حکومت پر زوال آیا تو پھر نام و نشاں کب تک 
چراغ کشتۀمحفل سے اٹھے گا دھواں کب تک 
مراکش جا چکا، فارس گیا،اب دیکھنا یہ ہے 
کہ جیتا ہے یہ ٹرکی کا مریض سخت جاں کب تک 
یہ ہیں وہ نالۀمظلوم کی لے جن کو بھائی ہے 
یہ راگ ان کو سنائے گا یتیم ناتواں کب تک 
کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کے استادو!
یہ ظلم آرائیاں تاکے یہ حشر انگیزیاں کب تک۔
طلبائے ندوہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
کئے تھے ہم نے بھی کچھ کام جو کچھ ہم سے بن آئے
 یہ قصہ جب کاہے باقی تھا جب عہدِشباب اپنا
 اور اب تو سچ یہ ہے جو کچھ امیدیں ہیں وہ تم سے ہیں 
جواں ہو تم۔، لبِ بام آچکا ہے آفتاب اپنا۔
طنزیہ شاعری میں آپ کو بدرجۀاتم قدرت حاصل تھی، یونیورسٹی اور الحاق، عرض و نیاز بجناب مالک الملک، لیگ کی دائم المرضی کی علت اصل، بمبئی کی وفادار انجمن، یہ نظمیں اس کی بہترین آئینہ دار ہیں،جس کی مثال اردو شاعری میں ملنی مشکل ہے ان کی طنزیہ شاعری کے بارے میں رشید احمد صدیقی تحریر فرماتے ہیں:
 لطیف طنزیہ لکھنے کا سہرا علامہ شبلی نعمانیؒ کے سر ہے۔
 خلاصہ کلام یہ کہ اگر ہم ان کی شاعری کے مختصر سے مجموعہ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک بڑے اور سچے شاعر کے کلام میں جن خوبیوں کی ضرورت ہے وہ پوری طرح ان میں موجود ہیں ۔
آخر میں ان کا مشہور شعر بر زبان ہے ۔
عجم کی مدح لکھی، عباسیوں کی داستان لکھی
 مجھے چندے مقیم آستانِ غیر ہونا تھا
 مگر اب لکھ رہا ہوں سیرت خاتم 
خدا کا شکر ہے جو خاتمہ بالخیر ہونا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے بھی یہ لکھ کر قلم روک دیا:
 آپ کی شاعری کتنی الہامی تھی کہ شاعرانہ پیشین گوئی تاریخ کا واقعہ ہو کر رہی۔

Saturday, December 27, 2025

(تیسری قسط )جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

(تیسری قسط )
جنہیں میں نے دیکھا ہے 
مطالعہ نگار: 
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور 
خاکوں کی دنیا (جنہیں میں نے دیکھا ہے )میں چوتھی شخصیت مولانا محمد غزالی ندوی بھٹکلیؒ (1944- 2018) کی ہے،ڈاکٹر صاحب زید مجدہ مضبوط قلم اور عمدہ طرز نگارش کے ساتھ ساتھ قوی حافظہ اور غیر معمولی محبت کا فیضان اپنے جلو میں رکھتے ہیں،آپ کی پہلی ملاقات مولانا مرحومؒ سے جس وقت ہوئی، اس کو اپنے ذہن کے دریچوں میں جھانک کر یادگار بنایا ہے،جناب مولانا محمد غزالی ندوی بھٹکلیؒ حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ کے تربیت یافتہ اور ان کی فکر کے فریفتہ تھے آپ بھٹکل کے ایک مشہور علمی و سماجی خاندان میں پیدا ہوئے بزرگان دین اور اپنے دور کے عباقرۀ علم و فن اور عشق نبوی سے سرشار اکابرین سے آپ کا مضبوط تعلق رہا، انہیں کے زیر سایہ تربیت پائی، اور انہیں کے آغوش میں زندگی گزاری ظاہرا تو آپ صاحب حال بزرگ حضرت مولانا شاہ یعقوب صاحب مجددی بھوپالیؒ سے بیعت ہوئے اور ان کے زیر سایہ اپنے اندر نکھار پیدا کیا لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ سے بڑی محبت اور عقیدت تھی اور اس دور میں تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز نظام الدین دہلی سے پیوستہ رہے بلکہ 1975ء میں حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد مرکز ہی کے ہو کر رہ گئے،آپ کی شخصیت،علمی وقار، اکابرین کا حسن ظن آپ کے بارے میں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ خلیفہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے آپ سے جو حسن ظن رکھا،وہ لکھتے ہیں۔
 ﷲ تعالی اگر قیامت کے دن پوچھے گا کہ کیا لے کر آئے ہو تو میں غزالی کو پیش کروں گا،آپ گنے چنے ان دوستوں میں ہیں،جن کی محبت کو میں اپنے لیے سرمایۀآخرت جانتا ہوں۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ فرماتے ہیں۔
 آپ سے خصوصی محبت محسوس کرتا ہوں جو ہر ایک سے نہیں ہوتی، امید ہے کہ آپ اپنی درسگاہ اپنے خاندان اور اساتذہ کا نام روشن کریں گے۔
 اور مرشد الملت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ نے آپ کو خلافت سے بھی سرفراز فرمایا، ندوۃ العلماء کی شوری کے بھی رکن رہے،علماء و مشائخ اور اہل ﷲ سے گہرے مراسم و ربط رہے،اور بہت سی اہم شخصیات کی چھاپ ان کی زندگی میں نمایاں رہی، آپ کا اصل میدان دعوت و تبلیغ بنا،اور اسی میں پیش پیش رہے اور یہی رنگ آپ پر غالب رہا مرکز نظام الدین تشریف آوری کے بعد حضرت جی مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ کی مقناطیسی شخصیت سے وہ چپک کر رہ گئے پھر مرکز میں ان کو اہم ذمہ داریاں بھی دی گئیں عرب مہمانوں کی تقریروں کا اردو ترجمہ کرنا،ان کے امور خدمت اور جملہ ذمہ داریاں آپ کے سپرد رہتی آپ بانئ تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ ﷲ علیہ کی اصلاحی کوششوں کے علمبردار بنے۔
پانچویں شخصیت کے طور پر اس مثالی مہتمم کا تذکرہ ہے جن کے دور اہتمام کے تابندہ نقوش اور سنہری یادیں آج بھی نقش کالحجر ہیں،حضرت مولانا محب ﷲ لاری ندویؒ( 1905 -1994) اس دور کی عالمی شہرت یافتہ اشخاص میں سے ہیں اور سلسلۃ الذہب کی وہ کڑی ہیں جن پر ندوہ بھی ہمیشہ ناز کرے گا،آپ ایک علمی ذوق کی حامل شخصیت اور میدان علم و عمل کے شہ سوار تھے، آپ کے مخلص رفیق مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی خواہش پر آپ کو دارالعلوم ندوة العلماء کے اہتمام پر فائز کیا گیا اور تقریبا ربع صدی یہاں کے ایک باوقار مثالی مہتمم رہے،خدا تعالی نے آپ کو انتظامی صلاحیت وہبی طور پر عطا فرمائی تھی،آپ نے ادارتی امور فراست ایمانی اور عمل کے ساتھ انجام دئیے۔
 ڈاکٹر صاحب زید مجدہ آپ کی انتظامی خوبیوں کا ذکر جمیل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
ان کی اہم خصوصیات و کمالات میں سب کے درمیان عدل و انصاف کرنا، توازن برقرار رکھنا، فرائض وحقوق ادا کرنا،مختلف فکر اور مزاج کے حامل اساتذہ کرام کی نفسیات، مزاج، صلاحیت کے مطابق ان سے کام لینا، مقامی ملکی اور عالمی افراد وجماعت سے تعلق اور ربط،اور ہر ایک کی ضرورت اور بات کو غور سے سننا، اس کا حل تلاش کرنا، کم بولنا، لیکن وقت پر صحیح اور درست فیصلہ کرنا،سب کے حقوق کا خیال رکھنا، بلکہ ادا کرنا وغیرہ شامل ہے،ندوہ کے عظیم مشن کو رواں دواں رکھنا،طلباء کی تعلیم و تربیت،نگرانی، نئی نسل کی تیاری اور ذہن سازی، قدیم صالح اور جدید نافع کا قدم قدم پر خیال رکھنا، ادارے کی تعلیمی، تربیتی، علمی،فکری اور دینی فضا کو سازگار بنائے رکھنا، اور اس کو خوب سے خوب تر بنانا ان کے دورِاہتمام کی خصوصیات ہیں۔
آپ سراپا خلوص و ایثار کے پیکر تھے یقین محکم،عمل پیہم،جہد مسلسل کی عملی تصویر تھے،خاموش محنت آپ کا مزاج تھا، جاں فشانی سے آپ کی زندگی عبارت تھی،بہت سنجیدہ اور خاموش طبیعت تھے ،اسٹیج سے دور بلکہ نظروں سے اوجھل رہتےتھے، اخلاص وللہیت کے پیکر اور علم و عمل کے جامع تھے، اچھے انتظام و انصرام میں کام آنے والی عادت اصول و ضوابط کے انتہائی پابند تھے، قانون شکنی کا ان کے یہاں کوئی گزرنہ تھا، اور اس سلسلے میں اپنے اور پرائے کا کوئی خیال نہ تھا، ندوہ کی تعمیر و ترقی میں یقینا بہت سے اکابرین کی قربانیاں شامل ہیں کہ انہوں نے اپنے خون پسینہ سے اس کو سینچا ان میں ایک نام مولانا مرحومؒ کا بھی ہے جن کے دور اہتمام میں ندوہ کو تعلیمی و تعمیری تربیتی ترقیات نصیب ہوئیں اور یہ دور ندوہ کا زریں دور کہلائے جانے کے قابل ہے۔
چھٹے نمبر پر تذکرہ ہے ہندوستان کے ایک تاریخی وعلمی خاندان کے چشم و چراغ اور بانئ دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی (1926- 2018) کا ذکر جب چھڑ گیا تو اب کیا رکئیے۔
 خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ ایک جید عالم دین، مفکر و خطیب اور بہترین محدث تھے، اسرار شریعت سے واقف اور طریقت کے رموز سے آشنا تھے،ماہر تعلیم اور علوم و معارف میں کمال قدرت رکھتے تھے،اسی وجہ سے خطیب الاسلام لقب ملا، خانوادۀ قاسمی کے گل سر سبد کو اپنے والد جلیل حضرت حکیم الاسلامؒ کی وفات کے بعد اسٹیج سے جو عالمانہ شناخت حاصل ہوئی وہ حکمت قاسمی سے لبریز خطابت کی وجہ سے میسر آئی، اسی وجہ سے موزوں لقب بھی ملا،آپ کی تقریرعلمی بصیرت کا شاہکار،فقیہانہ و منطقیانہ استنباط، فلسفیانہ نکتہ سنجی اور عالمانہ وواعظانہ درس انگیزی کا مرکب ہوتی تھی، سلاست و روانی کا بہاؤ، الفاظ و جملوں کی بندش، بلند افکار و خیالات کی عکاسی ان کی خطیبانہ پہچان تھی،مدارس اسلامیہ میں نصاب تعلیم کی زمانے کے ساتھ تبدیلی کے وہ خواہاں تھے اور اس ناحیہ سے ان کی زندگی میں بہت سی کارکردگی نظر آتی ہیں، اس زاویہ سے انہوں نے اپنی قلمی آراء اور عملی طور پر سیمینار کا انعقاد بھی کیا، اور دل درد مند ودوربیں نگاہوں سے بھانپ کر حالات کو دیکھا تب وہ جمود کو توڑ کر نصاب تعلیم میں تبدیلی کے خواہاں ہوئے،خانوادۀ قاسمی کے اس چشم و چراغ پر لکھے جانے والے اس تذکرے میں ڈاکٹر صاحب نے عنوان کا انتخاب بھی نصاب تعلیم سے کیا ہے،(مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ اور مدارس اسلامیہ کا نصاب تعلیم) اس وارد میں اکثر خطیب الاسلامؒ کے اس طرز فکر و نصاب تعلیم میں تبدیلی کو لے کر گفتگو کی گئی ہے۔

جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

جنہیں میں نے دیکھا ہے 
مطالعہ نگار: 
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: 
جامعة الحسنین صبری پور 

اس کتاب کے عناوین میں جدت وندرت ہے،شخصیات کے مختلف پہلوؤں کو تحریر میں قید کیا ہے صرف پیدائش ووفات اور دینی وعلمی کارناموں کو ہی نہیں لیا بلکہ زندگی کے اہم نشاطات کے ساتھ ان شخصیات کے محبوب فنی وعلمی امتیازات، کام کرنے کے سلیقے، اور لامتناہی سلسلوں کو چھیڑا ہے جن میں تنوع بھی ہے اور وسعت بھی،تحقیق کی جستجو بھی ہے اور کمال کا بانکپن بھی۔ 

اگر اس کتاب کے مشمولات وعناوین پر نظر ڈالتے ہیں تو مقدمہ وتقریظات کے بشمول 17 خاکے اس میں شامل ہیں جن کے عناوین سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کتنی جانفشانی وجفاکشی سے کام کیا ہے۔
کتاب کی تبویب کچھ یوں شروع ہوتی ہے، سب سے پہلے ملک کے معروف قلم کار اور ندوی فاضل برادر عزیز مولانا ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب زید مجدہ کا مقدمہ ہے جس میں موصوف نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت،ان سے تعلقات، ان کی رفاقتیں،ان کے قلم کی سلاست وروانی،علم کی فراوانی اور اپنی محبتوں کو قلمی جامہ پہناکر زینت بنایا ہے اس کے بعد مولانا مناظر منعم رحمانی ندوی مہتمم مدرسہ سیدنا بلال لکھنؤ نے ''مؤلف کتاب ایک نظر میں''رقم کیا ہے جس میں موصوف محترم کا خاندانی پس منظر،ابتدائی واعلی تعلیم ولیاقت،مشہور اساتذہ،دعوتی وتجارتی اسفار اور الندوة ایجوکیشنل اسلامک سینٹر کا قیام،کاکردگیاں، امتیازات کو بیان کیا ہے ایک تقریظ برادرم مولانا سید شعیب حسینی ندوی مدظلہ کی کتاب کو چار چاند لگاۓ ہوئے ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کی علمی وقلمی صلاحیت ،کمالا ت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ فاضل قلم کار کے قلم کا بھی گہراربط ہے انہوں نے محبت میں ڈوب کر اپنے محسن کا نقش بنانے کی کامیاب سعی کی ہے پھر عرض مؤلف میں فاضل گرامی مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن فیضی ندوی دامت برکاتہم نےبزرگان دین سے جڑنے ، استفادہ کرنے کی ترغیب اور اپنے تعلقات پر روشنی ڈالی ہے ان کی دلی تمنا ہے کہ ہم اپنے بڑوں سے مربوط ہوکر زندگی گزاریں اور ان کے کئے ہوئے کاموں،ان کی پیشانی سے ظاہر ہونیوالے خوابوں کو بھانپ کر اپنی جوانی اور علمی صلاحتیں اس کے نام کریں جس کی امت بڑی شدت سے منتظر ہے۔   
یہ خوش قسمتی اور نیک بختی کی علامت ہے کہ انسان اپنے بزرگان اور محسنوں کو فراموش نہ کرے،بلکہ ان کے علمی ورثہ کی حفاظت کے ساتھ ان کی میراث کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے ،تاکہ اس کے ذریعہ آنے والی نسلوں کےدین و ایمان کے تحفظ کی راہ ہموار ہو ورنہ شاعر کی زبانی سریا سے زمین پر آسمان دے مارتا ہے۔
 سوانح نگاری کی اس طویل زنجیر میں سب سے پہلے فخر گجرات حضرت مولانا عبداللہ کا پودرویؒ کی شمولیت ہے حضرت مولاناؒ ایک ہمہ گیر ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کئی زبانوں پر دسترس اور عبور رکھتے تھے کئی زبانوں میں آپ کے دروس و خطابات مہیا ہیں جس نے امت کی کشتی کو ناخدا بن کر ساحل بکنار کیا آپ کو ﷲ تعالی نے انتظامی صلاحیت اور ادارتی امور میں فراست ایمانی عطا فرمائی تھی جس کی جیتی جاگتی مثال اپنے خون جگر سے سینچے جانے والے ادارہ جامعہ فلاح دار ین ترکیسرگجرات سے ملتی ہے، جس کی تعلیمی و تعمیری ترقیات اور اس کے عروج کی داستان آپ کے شب و روز کی مرہون ہے اور اس کی مرکزی،عالمی شناخت، اس کے تربیت یافتہ علماء کے ذریعے آج سب کے سامنے ہے، آپ کا سراپا خلوص و ایثار، جہد مسلسل بلکہ جنون کی حد تک کچھ کر گزرنے کا عزم جواں اور ملت کی کشتی کو ساحل سے ہمکنار کرنے کی دھن، لیل ونہار کی انتھک کوششوں سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا، اور ان کی اندرونی طاقت نے گرتوں کو تھاما، مصنف محترم نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حضرت مولاناؒ مفکر اسلامؒ کی فکر کی ترویج و اشاعت میں اختصاص رکھتے تھے ملی تڑپ ان کے سینے میں موجزن تھی، علم ومطالعہ، وسیع فکرو نظر، زندگی کے بیش قیمت تجربات کا سرمایہ ،دینی حمیت وغیرت کا اظہار آپ کا سرمایۀ افتخار تھا، آپ نے مذہبی مفاد،دین کی بالادستی اور حق گوئی کو گلے لگایا اور اخلاص واستغناء کو اپنا شعار بنایا،اسی وجہ سے وہ جامعیت و انفرادیت کے حامل و داعی بنے،ان کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کام کرنے کے لیۓعمر کی قید نہیں بلکہ کردار کی جلوہ گری، اندرونی تڑپ اور خلوص کی آمیزش درکار ہے جو ترقیات کی سیڑھی چڑھنے میں معاون ہے۔
دوسری شخصیت أمیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جون پوریؒ کی ہے ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم نے جب شیخ یونسؒ پر قلم اٹھایا تو گویا ان کی علمی رگ بھڑک اٹھی اور ہندوستان میں علم حدیث کی قندیلیں کب روشن ہوئیں اور کب یہ شجر برگ وبال لایا اور اس نے بہاریں دکھلائی پروان چڑھنے سے فروغ پانے تک جو شخصیات اس میں شب و روز مشغول رہیں اور علم حدیث ہی ان کی پہچان بنا،سب کو شمولیت دے دی پھر شیخ الحدیثؒ کا ذکر کرتے ہیں۔
 بلاشبہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد یونس صاحبؒ ایک عبقری،منفرد اور لاثانی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی عبقریت، لیاقت اور فنی مہارت ،علم حدیث میں وسعت واقفیت،اور رسوخ فی العلم سے ہندوستان اور پھر عالم عربی کو ششدر کر دیا، قدرت کے دست فیاض نے ان کو علم حدیث میں کمال اورﷲو رسولﷺ کی سچی محبت عطا فرمائی تھی، ان کے پہلو میں حدیث رسولﷺ کا خشک نہ ہونے والا ابلتا اور پھوٹتا چشمہ، حفاظت حدیث کا نہ بھجنے والا شعلۀ جوالہ آویزاں تھا،ان کو قلب سلیم،حب رسولﷺ عطا ہوئی تھیں، آپ ایک پوری نسل کے معمار اور علم حدیث کے ایک مدرسہ کے علمبردار تھے، جن کی تصنیفات، رجال سازی سے تاریخ اسلام مزین رہے گی،وہ بر صغیر ہند میں علم حدیث کا مرجع اور اپنے دور کے تنہا شہ سوار تھے،آپ کے درس حدیث کی خصوصیات کو آپ ہی کے نامور تلمیذ رشید حضرت مولانا محمد ایوب سورتی گجراتی دامت برکاتہم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ 
 حدیث شریف کے جو ہیرے اور جواہرات اور اسرار و رموز ہمیں حضرت شیخ کے پاس ملے وہ کسی اور محدث کے پاس نہیں ملے ،آپ کی مجلس حدیث کی مثال بحر ذخار کی تھی جس میں علوم حدیث کی موجیں اور لہریں اٹھتی تھیں غواص اور شناور اپنی استعداد ظرف اور صلاحیت کے بقدر فیض یاب ہوتا، اس کے ذہن و دماغ کی سلوٹوں پر محدثین، متکلمین، مفسرین اور شارحینِ حدیث کے اسمائے گرامی نقش ہو جاتے،آپ کا طرز تدریس یہ تھا کہ روات کے احوال ذکر کرتے، علماء کرام کے اقوال میں تقابل اور موازنہ فرماتے، دونوں فریق کے دلائل کا جائزہ لیتے پھر وجہ ترجیح بیان کرتے، دوران درس ایسا محسوس ہوتا کہ ہم بچشم خود بیک وقت فتح الباری، عینی، قسطلانی اور کرمانی کی نگارشات اور شروحات کا مشاہدہ کر رہے ہیں،اور ان کی کتابیں ہماری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی ہیں،اس طرز کا ذائقہ ہم نے بحث و تحقیق کے ذواق کی طرح چکھا،اور اس سے پڑھنے اور مطالعۀ کتب کرنے کا انداز سیکھا،بر صغیر ایشیا میں بہت سے محدثین شیخ کے تلامذہ اور تلامذہ کے تلامذہ ہیں۔
 آپ کا علمی مقام بہت بلند تھا،بخاری شریف کو امام بخاریؒ کے طرز پر پڑھانے میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا انداز محققانہ وفاضلانہ تھا، ان کی بخاری فہمی پر علمائے عرب انگشت بدنداں رہ جاتے تھے،ان کی نکتہ سنجیاں، وسیع علم و فہم اور عمیق تدبر و تفکر پر شاہد ہیں، اپنے موضوع پر حجت اور فن میں امام اور سند تھے۔
تیسری شخصیت حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمہ ﷲ کی ہے آپ ان کے عزیز شاگرد بھی ہیں اور ان کے خاص تربیت یافتہ بھی،آپ کے مشوروں سے زندگی گزارنے والے بھی اور انہیں کی گائیڈ لائن کے مطابق اپنے مستقبل کی تعمیر کرنے والے بھی،ڈاکٹر صاحب نے اپنے ملک سے کوسوں دور رہ کر علمِ دین کی جو شمعیں روشن کیں ان کوبنانے اور سنوارنے میں مولانا واضح رشید حسنی ندویؒ کا اہم رول ہے۔
ادیب اریب حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں عربی کے ایک بلند پایہ ادیب اور صحافت کے ایک ستون تھے،آپ عربی اردو اورانگریزی صحافت میں بڑی مہارت وبصیرت اور عالم اسلام مغربی ممالک کے سیاسی اتھل پتھل پردقیق نظر رکھتے تھے، اور اس دور میں ان کا کوئی ثانی بھی نہ تھا، آپ خانوادۀ حسنی کے چشم و چراغ، دارالعلوم ندوة العلماء کے سابق معتمد تعلیم، کئی عربی و اردو ماہناموں کے مدیر و رئیس تھے،وہ علم و عمل میں جامیت کے ساتھ قدیم و جدید کا حسین سنگم اور اخلاق میں بے مثال تھے،اعلی صفات کے حامل تھے، ندوة العلماء کے تعلیمی و تربیتی ماحول کو ان کے مزاج نے اعتدال دیا، بڑے وسیع نظر وسیع الفکر جہاں دیدہ عالم دین تھے،وہ ہمیشہ شعارنا الوحید الی الاسلام من جدید کے پیامبر رہے، افراد سازی ومردم گری میں ان کو بڑا ملکہ تھا،ان کی زندگی بے نفسی وریاضت،دنوں کی تپش،راتوں کا گداز، خود انکساری، الفت و محبت اور تمام اسلامی اقدار کا پیکر جمیل تھیں،آپ کی تحریریں بڑی عالمانہ شان کی حامل اور مدلل ہوتی تھیں، شخصیت سازی پر ان کو دسترس تھی،آپ نے مسند درس و تدریس کو تقریبا 40 سال زینت بخشی اور ایک طویل جماعت اپنے زیر تربیت ایسی تیار فرمائی جو ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام اور تمام براعظموں کے اکثر ممالک میں دینی و تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب خود رقم طراز ہیں:
 راقم کی حقیر شخصیت کی تکوین و تشکیل میں جن اکابر نے نمایاں کردار ادا کیا ان میں لاریب والد مرحوم(حضرت مولانا محبوب الرحمٰن ازہری) کے بعد دوسرا نام مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ کا ہے مولانا مرحوم کی ندوة العلماء آمد کے بعد سے راقم کی کلی طور پر تعلیم و تربیت مولانا کی سرپرستی میں انجام پائی،جو بلاشبہہ میری زندگی کا بیش قیمت اثاثہ ہے
مولانا کثیر الجہات اور متنوع صفات شخصیت کے حامل تھے،شاگردوں کا بے تحاشہ خیال کرتے تھے، خوب سے خوب تر بنانے کی فکر دامنگیر رہتی تھی، جو مولانا کے قریب ہوا انہیں کا ہو کر رہ گیا اس کو محبت کاایسا جام پلا دیتے پھر وہ کہیں اور میسر نہ آتا۔
ڈاکٹر صاحب کے گہر قلم سے تحریر کیا جانیوالا یہ خاکہ استاد وشاگرد کے تعلق،محبت کی ایک پہچان ہے

Wednesday, December 24, 2025

دو خوبیوں کی جامع ایک دل آویز شخصیت سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

دو خوبیوں کی جامع ایک دل آویز شخصیت

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور 

دنیا کے اندر بعض اشخاص وہ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں ابتدا ہی سے جدو جہد،کدو کاوش اور قابل رشک کارنامے وجود میں آتے ہیں اور یہ ان کی محنت میں خلوص وللہیت کے ساتھ انجام پاتے ہیں جس قدر خلوص کے ساتھ محنت ہوتی ہے اسی قدر وہ قبولیت پاتی ہے اور امت کے لئے نفع بخش ہوتی ہے کچھ ایسے ہی روشن کارنامے ہمیں حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب قاسمیؒ سابق مہتمم جامعہ کاشف العلوم چھٹملپور کی حیات میں نظر آتے ہیں ان کی پوری زندگی دینی و علمی اورروحانی کاموں میں صرف ہوئی اور ان کی محنت و جانفشانی اور مجاہدات کے بعد مبداء فیاض نے ان کو قبولیت کا پروانہ عطا کر کے ان کو زندہ و جاوید اور ان کے نام و کام کو تابندہ کر دیا۔

آپ کی پیدائش سن 1945ء میں بروز جمعہ ہوئی، ابتدائی تعلیم عاشق رسول ولی صفت انسان حضرت الحاج میاں جی غلام نبی سے ہوئی اور حفظ قرآن مکمل کیا، اس کے بعد جامعہ کاشف العلوم کے مہتمم ثانی کے ایماء پر آپ نے کاشف العلوم میں داخلہ لیا جہاں آپ نے فارسی و عربی کی ابتدائی درجات تک مکمل توجہ اور محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور یہاں کے بافیض اساتذہ سے کسب فیض کیا، پھر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا یہاں جبال علم و عمل اساتذہ کی جھرمٹ میں قرآن و حدیث کے اسباق اور روحانی شخصیات کے سائے تلے عشق و محبت اور کردار و اخلاق کو سنوارنے میں اپنا قیمتی وقت صرف کیا اور وہیں سے فراغت حاصل کی، وہاں سے فراغت کے بعد آپ کی صلاحیتوں کا اقرار کرتے ہوئے آپ کو آپ کے مادر علمی ہی میں سن 1388ھ میں حضرت مولانا شریف احمد صاحبؒ نے تقرر فرمایا اور اپنے اعتماد کا اظہار فرمایا۔
 انسان کی تخلیق و تولید کے ساتھ ساتھ ﷲ تعالی نے انسان کو زبان و بیان اور نطق گویائی سے بھی سرفراز فرمایا ہے اور زبان کی سحرطرازی کا اظہار حدیث نبوی میں بھی درج ہے اگر اس میں خلوص کی آمیزش ہو جائے اسی کو شاعر
 دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے 
پر نہیں طاقت پروازمگر رکھتی ہے کہتا ہے۔ 
 خطابت میں انہیں خاص صفات کے مالک تھے حضرت مولانا محمد ہاشم صاحبؒ، ان کی تقریر عام فہم، انبیاء و صحابہ کے واقعات سے مستنیر اور اکابر کی حیات پر بہار پر روشنی دکھا تی تھی آپ کی خطابت کو جامعہ کاشف العلوم کے بانی و مہتمم حضرت مولانا شریف احمد صاحبؒ نے بھی ایک ہاشم ساجادو بیاں یہاں لکھ کر تسلیم کیا، اور مفکر ملت حضرت الحاج مولانا محمد اسلم صاحبؒ بھی آپ کوخطابت کا شہ سوار کہتے تھے جہاں ہم بول کر تھکتے ہیں وہاں سے ان کی تقریر کا آغاز ہوتا ہے۔
بڑے با ادب تھے اور شفیق تھے، محسن تھے، غمگسار تھے، کام آنے والے تھے، وہ اپنے عزیز و متعلقین کے یہاں بنا کسی پیشگی اطلاع کے اس لیے جاتے تھے میری وجہ سے کاموں کو چھوڑ کر پریشانی میں مبتلا نہ ہوں اور میرے انتظام میں ان کو خلل نہ ہو اپنے ایک مسترشد کے یہاں ان کے گھر اور ادارہ تشریف لے گئے وہ اس وقت سفر پر تھے تو ایک رقعہ پر ایک شعر لکھا
 فقیرانہ آئے صدا کر چلے
 میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے 
اور یہ پرچہ گیٹ کیپرکو دےکر واپس لوٹ گئے،یہ ادائیں وہ تھیں جو اب رہ رہ کر یاد آتی ہیں اور ان اکابرین کی محبت کا چراغ دلوں میں روشن کرتی ہیں،آپ ہمیشہ تواضع کا خوگر بنے رہے، انکساری کا جوہر ان میں نمایاں تھا،من تو اضع للہ رفعہ ﷲ عزوجل کی جیتی جاگتی تصویر ان کی شخصیت میں پیوست تھی،سفر ہو یا حضر، جلوت ہو یا خلوت،وہ اپنے کو چھوٹا اور معمولی انسان گردانتے تھے اور لبوں پر یہ اشعار رہتے
 جو کچھ ہوا ہوا کرم سے تیرے 
جو کچھ ہوگا تیرے کرم سے ہوگا

 مدینہ منورہ کے تذکرے پر آپ کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی اور یہ شعر بار بار پڑھتے رہتے 
لوگ سمجھیں گے محروم ووقار و تمکین
 تو نہ کہہ دے میری بزم کے قابل نہ رہا 

حج کے موقع پر جب آپ کی زبان سے اشعار نکلے وہ بڑے اثر انگیز اور درد لئے ہوئے ہیں۔
 یہ ہاشم تمہارا چلا آ رہا ہے.....
..........
 دارالعلوم ندوۃ العلما میں تعلیم حاصل کرتے وقت اکثر حضرت مولانا محمد اسلم صاحبؒ سے رسم وراہ رہتی تھی آپ کی رحلت کے بعد ان کے خلف الرشید جناب مولانا محمد آصف صاحب ندوی زید مجدہ سے دید و شنید ہوئی اور ساتھ میں ایک مخلص و ملنسار شخصیت حضرت مولانا محمد ہاشم صاحبؒ سے بھی تعارف ہوا اس کے بعد قلب میں ان کی محبت جاگزیں ہو گئی اور کاشف العلوم میں ان سے ملاقات کے لئے جانا ہونے لگا، اکثر حاضری کا معمول رہتا،بڑی مہمان نوازی فرماتے، بزرگان دین کے واقعات و مشاہدات ذکر فرماتے، حالات پر گفتگو فرماتے، اپنے خلفاء کی خبر گیری کرتے ان کے کام اور احوال دریافت کرتے ضلع سہارن پور کے اکثر مدارس میں سالانہ اجلاس کے مواقع پر آپ کی شمولیت قابل تبریک ہوتی اخیر عمر میں اسفار کم کر دئیے تھے ورنہ جدوجہد بھاگ دوڑ میں آپ نے کبھی سرد و گرم کی پرواہ نہ کی مختلف مدارس و تنظیموں کی سپرستی فرمائی اور بہترین خدمات پیش کی یہاں صبری پور میں واقع ہمارے ادارہ جامعۃ الحسنین کے سالانہ اجلاس اور تعلیمی بیداری کانفرنس کے موقع پر تشریف فرما ہوئے خطاب سے نوازا اور اس نوزائد ادارے کے تعلیمی احوال جان کر خوشی کا اظہار فرمایا۔
 بچپن جوانی اور بڑھاپا ایک دینی و تعلیمی تحریک پر قربان کرنے والے کا نام حضرت مولانا محمد ہاشمؒ تھا وہ اپنے بچپن ہی میں کاشف العلوم میں آگئے، جوانی یہیں گزری، بڑھاپے میں اسی کی ترقی اور علوم نبوی کی اشاعت میں صرف ہوئے اب ان کے کام کو ان شاءﷲ العزیز ان کے روحانی خلفاء آگے بڑھائیں گے جو بڑی تعداد میں اور اعلی مقام پر فائز ہیں۔
 بچپن کی تربیت، بزرگان دین سے پیوستہ تعلقات نے ان کو انسانی خصوصیات و امتیاز ات کا مرقع بنایا تھا اور کچھ خوبیاں ان کی شخصیت میں مزید چار چاند لگاتی اور ممتاز بناتی تھیں، فیضان ہاشم نامی سلسلۀ خطبات میں حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب قاسمیؒ کے تعلق سے رقم ہے کہ فنا فی ﷲحضرت الحاج حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ نے آپ میں دو خوبی پاکرآپ کوخلافت سے سرفراز فرمایا تھا دیانت نفس، اور دیانت مال ،
یہ دونوں خوبی عین جوانی میں ہونا یقینا شرف کی دلیل ہیں اور یہ خوبیاں صحبت نیکاں اور اچھے ماحول سے میسر آتی ہیں اپنے نفس کی نگرانی، قدم کو سنبھال کر اٹھانے، نیز تربیت اصلاح پیش نظر رکھ کر یہ خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں،تب انسان ان صفات سے مزین ہو کر دنیا میں بہترین کارنامے اور آخرت میں انعام خداوندی کا مستحق ہوتا ہے۔

Sunday, December 21, 2025

مفتی شمائل ندوی کو مبارک باد محمدامام الدین ندوی خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی

مفتی شمائل ندوی کو مبارک باد
    محمدامام الدین ندوی
خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی
مؤرخہ 20-12-2025 بہ روز پیر ملحد جاوید اخترصاحب اور موحد کبیر مفتی شمائل ندوی حفظہ اللہ کے مابین ڈیبیٹ ہوا۔جاوید اختر صاحب اور ان جیسے بےشمار لوگ الحادو دہریت کے علم بردار ہیں اور اسی فکر کے داعی ومبلغ ہیں۔ جہالت وجاہلیت ان کے رگ وریشے میں ہیں۔نہ تو مذہب کو مانتے ہیں اور نہ مذہبی قوانین پر عامل ہیں۔
      اللہ کے وجود کو تسلیم کرنے کے لئے اور اسے گلے لگانے کے لئے انسان کا اپنا وجود ہی کافی ہے۔انسان اس میں غور کرے تو انسان کی عقلیں حیران ہوجاتی ہیں۔اور الله تعالیٰ کے وجود،اس کی ربوبیت،کو انسان بلا چون چرا قبول کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔
   ملحدانہ نظریات کے حامل اور انہیں افکار کے مبلغ نام نہاد مفکرجاویداختر صاحب کی بولتی،مفتی شمائل ندوی اطال الله بقائہ نے بند کردی۔جاوید صاحب اپنی بات کو ثابت کرنے میں طفل مکتب ثابت ہوئے اور چاروں شانے چت ہوگئے۔ساتھ ہی ساتھ وہ پوری نشست میں مجبورو بے بس نظرآئے۔لگتاہے کہ موصوف نےتھیتھرلوجی میں ٹریپل PHDکیاہے۔جب آدمی تہیہ کرلے کہ نہیں مانناہے تو نہیں مانیں گے چاہے انہیں سورج صاف طور پر نظر ہی کیوں نہ آئے۔
     دوسری جانب مفتی شمائل ندوی صاحب زیدمجدہ نے ان کی باطل نظریات وافکارکو دلیل عقلی ونقلی سے مکمل غلط ثابت کردیا۔جاوید اختر صاحب اور ان کے ہم نواؤں کو منہ کی کھانی پڑی۔مفتی صاحب کی گفتگو میں سنجیدگی،شائستگی،
عالمانہ وقار،مؤمنانہ رعب،داعیانہ شان،اخلاقی بلندی،احترام اکابر،بات میں پختگی،خوداعتمادی،
توازن،نمایاں اور قابل دیدتھی۔فریق مخالف کے ہر سوال کا مدلل اور مسکت کرنے والا جواب نے اس نشست کو نرالابنادیا۔فرعون اور حضرت موسی علیہ السلام کا مکالمہ قرآن نے پیش کیا ہے جس میں حضرت موسی کو الله تعالی نے فرعون پربرتری عطاکی اور اس وقت کا ظالم وجابر،طاقتور،حکومت کے نشے میں غرق فرماں روا بےبس ہوگیا اور الله کی ربوبیت غالب آگئی آج ایک بار پھر الله تعالی نے اپنے مضلص بندے کے ذریعے الحاد ودہریت کے شیش محل کوزمیں دوزکردیا۔اور ایوان کفروالحاد میں کھلبلی مچ گئی۔مفتی صاحب مدظلہ العالی کا پوری امت پر احسان ہے کہ آپ نےہم سب کی طرف سے فرض ادا کر دیا۔ندویت کے مضبوط قلعہ کی حفاظت کی اور دیوبندیت کے افکار میں چارچاند لگایا۔الله تعالی آپ کی اور آپ کی پوری ٹیم کی کاوش کو قبول فرمائے۔ سوربھ دیویدی جی کا شکریہ کہ انہوں نے توازن ودیانت کے پہلو کو قائم رکھا
  یہ نشست حق وباطل پر مبنی تھی حق آیا اور باطل کا قلع قمع ہوا۔باطل اپنے ہمنواؤں کے ساتھ رفوچکر ہوا۔
    روز مرہ کی زندگی میں بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے ہیں لیکن اس کے وجود کے قائل ہیں جیسےہوا،سردی،گرمی ،بھوک 
پیاس،شربت میں گھلے شکر،سالن میں ملےنمک،دوا کی کڑواہٹ ومٹھاس،عقل ،
سوچ،سانس،وغیرہ اس کے وجود کے ہم سب شاہد ہیں چاہےداناہویابینا،خردہوں یاکلاں،پیر ہوں یا جوان سب ان چیزوں کے موجودہونےکی گواہی دیتے ہیں جبکہ ان اشیاء کوہم دیکھ نہیں سکتے۔بہت سےواقعات،حادثات،
جنہیں رونماہوتےہم اپنی آنکھوں سےنہیں دیکھتے کسی کے کہنے پر یقین کرلیتے ہیں اور اس کو مان لیتے ہیں تو خداکے وجود کی خبر مخبرصادق صلی الله عليه وسلم نے دی مان لینے میں کیا حرج ہ
۔لیکن لوگ اللہ تعالیٰ کےوجود کو نہیں مانتے ہیں یہ وہ باطل افکار ونظریات ہیں جووقتافوقتاحق کی راہ میں رخنہ انداز بنے ہیں اور اہل حق نے اس کا دندان شکن جواب دیاہے۔جناب جاوید اخترصاحب اور ان کے پیروکاروں کو مفتی صاحب نے مدلل وتشفی بخص جوابات دئے یقینا جاوید صاحب کو بات سو فی صد سمجھ میں آگئ ہوگی اور وہ اپنے نظریات سےضرورتوبہ کریں گے۔اگر ان کے اندر عناد،سرکشی،بغض،کبرجیسے کیڑے نہیں ہوں گے۔اور وہ اس ڈیبیٹ کو اپنے لئے اخروی نجات کا ذریعہ سمجھیں گے۔
ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں مفتی شمائل ندوی صاحب کو کہ آپ نے ملک کے سلگتے ماحول میں ایک ملحدودہریے کی جانب سے برپا کئے گئےطوفان بلاخیز کو بنیان مرصوص سے سدا کے لئے بند کردیاحق باطل پر غالب ہوا۔اور ہم سب کو اپنا احسان مند بنا۔الله تعالیٰ آپ کی ہر چہار جانب سے حفاظت فرمائے آمین

Wednesday, December 17, 2025

مسلمانوں کو مضبوط ایمان اور صبر و استقامت کی ضرورت ہے محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ



 مسلمانوں کو مضبوط ایمان اور صبر و استقامت کی ضرورت ہے 

  محمد قمر الزماں ندوی 
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

میں مطمئن ہوں اگر چہ خراب ہے ماحول 
خزاں کے بعد کا موسم بہار ہوتا ہے 

دوستو بزرگو اور بھائیو! اس وقت ہم مسلمان عجیب دو راہے پر کھڑے ہیں، حالات انتہائی نازک ہیں،دشمن ہر چہار جانب سے ہم پر حملہ آور ہیں،وہ ہماری شناخت اور ملی وجود کو مٹانا چاہتے ہیں، طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں،ہمارے مذہبی مقامات پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں،تعلیمی ،سیاسی اور معاشی طور پر ہم کو بے وزن کرنے اور دو نمبر کا شہری ثابت کرنے کی پلانگ کر رہے ہیں،غرض ہم کو مٹانے اور ہماری شریعت کو ختم کرنے کی ہر روز اور ہر وقت وہ پلانگ کر رہے ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم مسلمان حالات سے مایوس نہیں ہیں ۔ 
اللہ کی ذات پر ہم سب کا مضبوط یقین اور بھروسہ ہے، کہ وہ ہمیں بے سہارا اور بے یار و مددگار نہیں چھوڑیں گے، اللہ کی نصرت اور مدد ضرور آئے گی۔ 
اس وقت ضروت ہے کہ ہم خوف و ہراس اور بزدلی و کم ہمتی و شکست خوردگی کے ماحول سے اپنے کو نکالیں، اور اپنے اندر صبر، ہمت، استقامت، جرآت، حوصلہ، حق گوئی،بے باکی اور شجاعت و بہادری کے اوصاف پیدا کریں، اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں ، ملی مسائل پر سب ایک زبان ہو جائیں ۔ جس مجلس اور جس جگہ رہیں وہاں لوگوں میں حوصلہ افزائی اور جرآت کی بات کریں اور لوگوں کو یہ احساس دلائیں کہ یہ جان اللہ کی امانت ہے، اگر ملت کی سربلندی کے لئے اور اپنے جائز حقوق کو حاصل کرنے کے لئے نیز ملک میں امن و امان اور سلامتی پیدا کرنے کے لئے، جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت بھی پڑے گی، تو ہم اس ملک کی سلامتی اور امن و شانتی کے لیےاس میں دریغ نہیں کریں گے اور اس قربانی کو اپنے لئے سعادت سمجھیں گے، اس ملک میں امن و شانتی،مانوتا ، انسانیت و محبت پریم، اور بھائی چارہ کی فضا قائم رکھیں گے، نیز اس کے لیے ہر طرح کی کوشش کریں گے مشکل و پریشان کن حالات پر صبر کریں گے اور استقامت و حوصلہ کا ثبوت دیں گے۔                 
    دوستو! 
 اس وقت وقت ایمان و عقیدہ کی درستگی کیساتھ استقامت کی راہ اپنانا یہ اہم اور ضروری ہے ، استقامت یہ بہت بڑی دولت ہے ، کرامت سے بھی بڑھ کر ہے ۔
 قرآن مجید میں جگہ جگہ ایمان والوں کو راہ حق کی کٹھنائیوں دقتوں،پریشانیوں اور دشوار مراحل پر استقامت اختیار کرنے کی تلقین و تاکید کی گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو استقامت کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ *انما الھکم الہ واحد فاستقیموا الیہ و استغفروہ*۔۔۔ ۔ 
 (حم السجدہ)
  تمہارا معبود تو بس ایک خدا ہے ۔ لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اسی سے معافی کے طلب گار بنو ۔ 
*فاستقم کما امرت و من طاب ولا تطغوا انہ بما تعملون بصیر*
     (ھود ۱۲۱)
تو اے نبی! تم اور تمہارے ساتھی جنہوں نے توبہ کرلی ہے راہ استقامت پر ثابت قدم رہیں جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے ۔ اور حد سے نہ بڑھو کہ وہ اللہ تمہارے اعمال پر نگاہ رکھتا ہے ۔ 
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب مکہ میں فضا تنگ کر دی گئی اور عرب کا تپتا ہو ریگستان دیں حق کی مخالفت میں غیظ و غضب کا بھڑکتا ہوا تنور بن گیا اور مکہ کے سارے لوگ آپ کی دشمنی اور ایمان والوں سے عداوت پر متحد ہوگے اور عرب کی وسیع زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی، تو اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ مسلمانوں کو اعلان حق اور حق پر جمے رہنے اور استقامت اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ۔ 
*فلذلک فادع و استقم کما امرت و لا تتبع اھواءھم*  
   اس لئے اب تم اسی دین کی طرف سب کو بلاو اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہو اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے مت چلو ۔ 
 اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ایسے ایمان والوں کی بھر پور تعریف کی ہے جو ایمان و استقامت کے پیکر ہیں اور جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مان کر ہر طرح کے خوف اور خطرے کو دل سے نکال دیا ہے ان لوگوں کے لئے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ کامیابی تمہارے لیے ہی ہے اور یقینا وہ دن آئے گا جب تمہیں نہ کوئی غم ہوگا اور نہ کسی قسم کا ڈر ۔،،ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا الخ،، 
  استقامت یہ قرآنی تعبیر ہے، استقامت کے لفظی معنی تو سیدھے چلنے یا سیدھے رہنے کے ہیں، لیکن استقامت کا جو تصور اور خاکہ قرآن نے پیش کیا ہے اس اعتبار سے ،،استقامت،،کا مفہوم اور مطلب یہ کہ جس بات اور جس عقیدہ کو حق سمجھا جائے اس پر قائم اور دائم رہا جائے۔ مصائب و آلام اور مشکلات و مسائل آجائیں ۔ مخالفتیں ہوں یا ستایا جائے تو اسے برداشت کیا جائے اور حق سے منھ نہ موڑا جائے بلکہ اس راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ جما رہے ۔ اور آگے بڑھتا جائے ۔ 
  دین میں استقامت کا کیا درجہ ہے اور یہ وصف اسلام میں کتنا مطلوب ہے اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی کہتے ہیں :
میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے اسلام کے سلسلہ میں ایسی بات بتا دیجئے کہ میں اس کو آپ کے بعد پھر کسی سے نہ پوچھوں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛: تم کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ثابت قدم رہو ۔  
  جن آیات میں ایمان والوں کو راہ حق کی خاطر استقامت اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ان آیات میں الفاظ اور جو تعبیر اختیار کیا گیا ہے ، وہ الفاظ بڑے جامع ہیں جو دنیا سے آخرت تک ہر مرحلے میں اہل ایمان کے لئے تسکین کا ایک نیا مضمون اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ کہ باطل طاقتیں خواہ کتنی ہی بالا دست اور چیرہ دست ہوں ان سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے اور حق پرستی کی وجہ سے جو تکلیفیں اور محرومیاں تمہیں سہنی پڑیں ان پر کوئی رنج اور تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔ کیوں کہ آگے تمہارے لئے وہ کچھ ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔
   صحابئہ کرام نے جب استقامت کی راہ اختیار کیا اور اس پر عمل کیا تو وہ پوری دنیا پر حکمراں بن گئے اور وہ نقوش ثبت کئے اور ایمانی و اخلاقی بہادری کے وہ کارنامے انجام دئے کہ دنیا کی تاریخ حیران و ششدر ہے اور تاریخ کی زبان سے مستقل آفرین کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ۔ 
ایمان و استقامت کی اس تاریخ کو مسلمانوں کو موجودہ حالات میں پھر دہرانے کی ضروت ہے ۔ 
مسلمانوں کا یہ ایمان اور یقین ہونا چاہیے کہ راہ حق میں مشکلات و مصائب کا آنا یہ قانون الہی ہے ۔ راہ حق میں ان حالات و واقعات کا پیش آنا اور ان میں مردان خدا کی استقامت کی آزمائش اللہ تعالی کا وہ اصول ہے جو ہمیشہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک اس میں کوئی شخص یا کوئی قوم پوری نہیں اترتی ۔
 (مستفاد تفہیم / ماہ نامہ ندائے اعتدال شمارہ جون ۲۰۱۹ء)
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو ! ایمان والوں کو اور راہ حق کے مسافروں کو ہر دور میں آلام و مصائب مشکلات و مسائل اور ابتلاء و آزمائش سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے ۔ قرآن مجید بھی اس پر شاہد ہے، کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں راہ حق کے مسافروں کو ،ایمان و عزیمت کے متوالوں کو اور ایک خدا کے پرستاروں کو مشکلات و مصائب اور آلام و آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ حق کی راہ میں مشکلات کا آنا اور اس میں مردان خدا کی استقامت کی آزمائش اللہ تعالی کا وہ اصول ہے جو ہمیشہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک دنیا قائم ہے اور جب تک اس میں کوئی شخص یا کوئی قوم پورے طور پر کھری نہیں اترتی ۔ 
   اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایمان والوں کو یوں مخاطب فرمایا ہے : 
*ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم الخ* ( سورہ بقرہ ۲۱۴) 
    کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا کہ یوں ہی جنت میں چلے جاو گے، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا جو تم سے پہلے ایمان والوں پر گزرا ہے ۔ ان پر سختیاں آئیں ،تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اس وقت ان سے کہا گیا کہ سنو ! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے ۔ 
 صحابئہ کرام نے دین اور شریعت کی خاطر جس قدر سختیوں کو جھیلا اور برداشت کیا اور جس قدر آلام و مصائب کے ان پر پہاڑ ٹوٹے اس کا اندازہ ان آیات کریمہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں غزوئہ احزاب کی جو منظر کشی کی ہے اور ایمان والوں کی بے چینی کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ عجیب ہے اور سخت ہولناک بھی ۔ ارشاد خداوندی ہے :
 *اذجاوء من فوقکم و من اسفل منکم* الخ
جب کفار کی متحدہ فوجیں تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئیں اور جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس وقت ایمان والے خوب آزمائے گئے ۔ 
 ایمان والوں کو راہ حق میں آنے والے مشکلات پر صبر کرنے اور استقامت کو اختیار کرنے کی ترغیب و ہدایت کے لئے پچھلی امتوں کی استقامت کی مثالیں اور نمونے بھی کثرت سے قرآن مجید میں پیش کئے گئے ہیں ۔ طالوت کا اور اصحاب اخدود کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے ۔ طالوت کے مختصر سے لشکر نے قلت تعداد کے باوجود اور بھوک و پیاس کے باوجود غنیم کے بہت سے لشکر کا مقابلہ کیا اور آخر کامیاب ہوا ۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ دعا جاری تھی *ربنا افرغ علینا صبرا و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکافرین*
(بقرہ ۲۵۰)     
  اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کی طاقت اور ہمت دے اور ہمارے قدم جما دے اور اس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ 
 اصحاب اخدود کا جو واقعہ پیش آیا اس کی مختصر تفصیل اور تاریخ یہ ہے کے یمن میں حضرت عیسی علیہ السلام کی امت کے کچھ مخلص اور پکے مسلمانوں کو یہودیوں نے طرح طرح کی تکلیفیں دیں ان کو ہر طرح سے ستایا اور آخر کار ان کو گڈھا کھود کر آگ میں جھونک دیا مگر دین حق کے وہ دیوانے اور ایمان و یقین کے متوالے راہ حق سے برگشتہ نہ ہوئے ۔ 
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے کہ ایک دفعہ ہم نے *حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* سے اپنی مصیبتوں کا تذکرہ کیا اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا حال بیان کیا اور درخواست کی کہ ہمارے لئے دعا کر دیجئے ۔ چوں کہ یہ ایک طرح کی بے چینی بے کلی اور بے تابی کا اظہار تھا ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
خباب !
   تم سے پہلے کے لوگوں میں ایسا مرد بھی ہوا ہے جس کو زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا اور آرہ سے اس کو چیر کر دو ٹکڑا کر دیا جاتا تھا ، مگر یہ اس کو دین حق سے رو گرداں نہیں کرتا تھا ۔ اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تار تار کردیا جاتا تھا ، مگر یہ بھی اس کو اس کے دین سے ہٹا نہ پاتا تھا ۔( بخاری کتاب المناقب ) 
     علامہ شبلی نعمانی رح نے *سیرت النبی جلد اول* میں مکہ میں مسلمانوں پر ہوئے ظلم اور ان پر مسلمانوں کی استقامت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
*بہر حال قریش نے جور و ظلم کے عبرت ناک کارنامے شروع کئے ۔ جب ٹھیک دو پہر ہوجاتی تو وہ غریب مسلمانوں کو پکڑتے ،عرب کی تیز دھوپ ریتیلی زمین کو دوپہر کے وقت جلتا توا بنا دیتی ہے ،ان غریبوں کو اسی توے پر لٹاتے ،چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ کروٹ نہ بدلنے پائیں، بدن پر گرم بالو بچھاتے ،لوہے کو آگ پر گرم کرکے اس سے داغتے ،پانی میں ڈبکیاں دیتے ۔ یہ مصبتین اگر چہ تمام بیکس مسلماں پر عام تھیں لیکن ان میں جن لوگوں پر قریش زیادہ مہربان تھے ان کے نام یہ ہیں* ۔  
   آگے *علامہ شبلی نعمانی رح* نے *خباب بن ارت رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا حضرت ابو فکہیہ رضی اللہ عنہ حضرت لبینہ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ* پر ہوئے داستان ظلم و ستم اور جبر و تشدد کو وضاحت کہ ساتھ بیان کیا ہے تفصیل کے لیے آپ سیرت النبی جلد اول کا مطالعہ کریں ۔ اور اسلام کے ان جیالوں کی داستان زندگی کا مطالعہ کرکے اپنے اندر ایمان و یقین ہمت و حوصلہ اور عزم و استقلال پیدا کریں ۔ 
 خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے ان انتہائی دشوار اور مشکل ترین حالات میں بھی جب کہ ہر وقت جان کا خطرہ تھا تو دوسری طرف لالچ اور طمع کے بے شمار مواقع تھے آپ نے کفار کی درخواست اور خواہش کے باوجود ان کی کسی دھمکی اور حملے کی پرواہ کئے بغیر نہ دب کر صلح کی اور نہ ان کے سامنے امن و سلامتی کی درخواستیں دیں ۔ شعب آبی طالب کا تین سالہ دور کس پریشانی بے چینی اور بے کلی کے ساتھ مسلمانوں نے گزارا وہ آج بھی تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہے اور ایمان والوں کے لئے راہ استقامت اختیار کرنے کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے بھوکے بچوں کو بلکتے دیکھا ،کمزور مسلمانوں کو مکہ کی گلی میں گھسیٹتے پایا،مدینہ میں کفار کا نرغہ،معاشی مقاطعہ اور بار بار کے جان لیوا حملے برداشت کئے ،لیکن دشمن سے دب کر رہنے اور اپنی جان بچانے کے لیے درخواست دینے کا طریقہ اور رویہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام تر مادی مشکلات ،معاشی پریشانیوں افرادی قوت کی کمی ،دشمنوں کی بھاری تعداد کثیر وسائل اور پر ہجوم مخالفت اور ہجومی تشدد اور حملہ کے باوجود حالات کا جم کر مقابلہ کیا اور ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کیا ۔ آپ کبھی بھی کفار کی کثرت تعداد اور کثرت ساز و سامان سے مرعوب نہیں ہوئے ۔ اور نہ ان کے رعب میں آکر اپنی پالیسی بدلی اور طرز عمل کو حالات کے خوف سے بدلا ۔ جتنی نرمی آپ کے اندر تھی اسی قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق کی خاطر استقامت اور سخت موقف بھی اختیار فرماتے تھے ۔ یہی حکم اللہ کی طرف سے اپ کو تھا ۔اور یہ سچ ہے کہ کافروں سے دب کر صلح کی درخواستیں کرنا اور اپنی پالیسیاں بدلنا یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے :
*فلا تھنوا و تدعوا الی السلم و انتم الاعلون* ( محمد ۳۵)  
   پس تم سست نہ ہو اور صلح کی درخواستیں نہ پیش کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو ۔ 
   (مستفاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت انقلاب بحوالہ ماہنامہ ندائے اعتدال علی گڑھ شمارہ جون ۲۰۱۹۶)
  ہندوستان کے موجودہ حالات میں جہاں مسلمانوں پر حالات تنگ سے تنگ کئے جارہے ہیں ، ان کے لئے مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں ، مسلمان بھگوا دہشت گردوں کے ہجومی تشدد کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں ان کو چاہئے کہ ہمت اور صبر سے کام لیں، مایوسی اور خوف و ہراس دل سے نکال دیں ۔ مناسب وقت میں اپنا دفاع خود کریں دین و ایمان اور عقیدہ و عمل کی حفاظت کے لئے استقامت کا مظاہرہ کریں ۔ بحیثیت خیر امت اپنی دعوتی اور اصلاحی ذمہ داری نبھائیں ۔ حالات کا ڈٹ کر اور بہادری سے مقابلہ کریں ۔ قائدین امت سے بھی درخواست ہے کہ وہ امت کو کسی حال میں اپنی تقریروں تحریروں اور بیانات سے مایوس نہ کریں ۔ کم ہتی اور مایوسی سے امت کو نکالیں،ان کے اندر حوصلہ اور ہمت یقین اور جرآت صداقت اور شجاعت کا حوصلہ پیدا کریں ۔ اور امت کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ۔

میں مطمئن ہوں اگر چہ خراب ہے ماحول
       خزاں کے بعد کا موسم بہار ہوتا ہے

Monday, December 15, 2025

راہنمائی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

راہنمائی

 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

راہنمائی دنیا کے عظیم ترین کاموں میں سے ایک ہے، اس کے لیے مختلف طریق کار استعمال کیے جاتے رہے ہیں ، اس کے پیچھے ہر دور میں اہم شخصیات کار فرمارہے ہیں اور ان کی جد و جہد کوشش لگن اور جذبہ خیر خواہی سے ملک و سماج اور انسان پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں، یہ کام انتہائی تحمل، برداشت اور صبر کا متقاضی ہوتا ہے، دلوں کی نرمی اور جذباتیت سے دوری کے بغیر اس کام کو کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا ملکوں کی تاریخ کے اوراق الٹیے تو بے شمار واقعات میرے اس خیال کی تائید کے لیے آپ کو مل جائیں گے۔
 آج کل رہنمائی کے لیے مشین ایجاد ہوگئی ہے آپ کوکہیں جاتاہے، راستہ نامعلوم ہے تو مشین میں اپنی منزل کا پتہ ڈال دیجئے اور بے فکر ہو کر اس کے بتائے ہوئے راستے پر گاڑی بڑھاتے جائیے ، وہ راستے کے بارے میں نقشہ بھی دکھائے گا ، ایگزٹ بھی بتائے گا، اگر آپ پڑھنا نہیں جانتے ہیں، نقشہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ بول کر بھی آپ کو بتائے گا، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اس کی ہدایت کو نہیں مانا اور اپنی دھن میں آگے بڑھ گیے تو وہ آپ کو برا بھلا نہیں کہتا ، گالیاں نہیں دیتا ، یہ بھی نہیں کہتا کہ میری ہدایت نہیں ماننی ہے تو میری خدمت لیتے ہی کیوں ہو، جاؤ من مانی کرو اور گمراہ ہو جاؤ ، راہنمائی کرنیوالی یہ مشین ایسا کچھ نہیں کرتی وہ آپ کو اگلا موڑ بتا دیتی ہے، جہاں سے آپ اپنی منزل کی طرف بڑھ سکتے ہیں، دوبارہ بھی آپ نے اسکی ہدایت کی اَن دیکھی کر دی تو بھی وہ آپ سے خفا نہیں ہوتا ، بلکہ اگلا راستہ بتاتا ہے جہاں سے آپ صحیح راہ پر چل کر منزل کو جاسکتے ہیں۔
انسان کے بنائے ہوئے مشین میں راہبری کے لیے یہ خاص وصف موجود ہے کہ وہ کسی حال میں آپے سے باہر نہیں ہوتا بلکہ ہر بار بھٹکنے پر نئے راستے کی راہنمائی کرتا ہے، انسانوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے، وہ اگر راہنما ہے، راہ بری کرتا ہے، قائد ہے یا قیادت کرنا چاہتا ہے تو اسے لازم ہے کہ یہ صفت اپنے اندر پیدا کرے، راہنماؤں کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ وہ ہدایت کی تھوڑی بہت اَن دیکھی پر بھی چراغ پا ہو جاتے ہیں ، مسلک ذات برادری، علاقائیت کے داعیان اور اپنی اپنی برادری کے رہنماؤں میں اس سلسلے میں بڑی کمیاں پائی جاتی ہیں، جو خود کو راہ بر سمجھتے ہیں وہ دوسروں کو برا بھلا کہنے طعن و تشنیع کرنے بلکہ کافر اور مرتد تک کہنے سے گریز نہیں کرتے ، یہ کام راہ بر کا نہیں ہے، راہ بر کا کام آخری وقت تک بغیر چراغ پا ہوئے راہنمائی کرنا ہے، اور انتہائی صبر کے ساتھ منزل تک پہونچنے کے لیے اگلا ایگزٹ (Exit) بتاتے رہنا ہے، اس کو کہتے ہیں متبادل کی تلاش ، جن لوگوں کے درمیان راہ بری کارگر نہیں ہو پارہی ہے، اس کو کو کس طرح منزل تک پہونچایا جائے یہ راہ بر کی ذمہ داری ہے، راہبر یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں جھاڑ سکتا کہ لوگ اس کی نہیں سنتے ، ان کے مزاج کا ٹھیک نہیں رہتا ، وہ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتے رہتے ہیں، یہ سب شیطانی وساوس اور عذر لنگ ہے جو راہبری کے فرض سے انسانوں کو دور کرتا ہے، یہاں معاملہ راہ زنوں سے گلہ کا نہیں ، سوال راہ برکی رہبری کا ہے، ہم اپنی ساری ناکامی دوسروں کے سر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں، یہ اطمینان ہمیں اپنے مقصد سے بھی دور کرتا ہے اور راہ پر کی جدو جہد کو نا کامی تک پہونچا دیتا ہے۔
راہ بر کی حیثیت خواص کی ہوتی ہے ، لوگوں کی بھیڑ میں وہ لوگوں سے کچھ الگ تھلگ اور ممتاز ہوتا ہے، وہ سماج کی روح اور جان ہوتا ہے، اسے کسی بھی حال میں نہ تو بھیڑ کا حصہ بننا ہے اور نہ ہی اس سے کٹ کر زندگی گزارنی ہے، اس لیے کہ عوام کی بھیڑ ہی خواص کے لیے جسم ہے، اگر یہ جسم اس سے الگ ہو جائے تو روح اس دنیا میں رواں نہیں رہ سکتی ، اس کا مقام یا تو علین ہوگا یا سجین ، روح کو رواں ہونے کے لیے جسم کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے خواص کو اگر کچھ کرنا ہے تو جسم یعنی عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ، اسی طرح عوام کو بھی اپنی قیادت اور راہنماؤں سے بدظن نہیں ہونا چاہیے ، اس لیے کہ اگر عوام نے اپنا رشتہ خواص اور قائد سے کاٹ لیا تو وہ جسم بغیر جان کے ہو جائیں گے اور بغیر روح کے جو جسم ہوتا ہے اس کا مقام منوں مٹی تلے قبرستان ہے۔

دریائے تصوف کا ایک اور چشمہ خشک ہوا۔ محمدامام الدین ندوی ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

دریائے تصوف کا ایک اور چشمہ خشک ہوا۔
   محمدامام الدین ندوی
ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی۔
    موت مومن کے لئےاللہ کی جانب سےایک بیش بہا تحفہ ہے۔ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس عظیم تحفہ کو قبول کرے۔
    موت بندے کو اللہ سے ملانے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ بھی ہے۔اسی لئے اسے پل سے تعبیر کیا گیا ہے۔
   گذشتہ کل پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
   پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کامیدان تصوف میں ایک بڑا نام رہاہے۔آپ نے بہت سے بنجر دلوں کو سرسبزوشاداب بنایاہے۔بہت سے مایوس دلوں میں آس پیدا کی ہے۔بہت سے بےراہ رووں کو  ہدایت کی منزل تک پہونچایا ہے۔
  بہت سوں کے ظاہروباطن کو صیقل کیاہے۔اس وقت کے بڑے اکابر علماء نے اپنے ظاہروباطن کی صفائی کے لئے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے ہیں۔آپ کی زندگی خلق خدا کواللہ ورسول سے جوڑنے میں وقف تھی۔آپ تقوی وطہارت اور للھیت میں اول صف میں تھے یقینا ایسی شخصیت کا دنیاسے جانا بڑاہی غم ناک اور ناقابل برداشت صدمہ ہے۔لیکن اللہ کا قانون ہے اور سب کے لئے ہے خواہ امیر ہو یا غریب،عالم ہو یاجاہل،ظالم ہو یا مظلوم،شاہ ہو یاگدا،موت سب کے لئے ہے اور اس کا گھونٹ سب کو پینا ہے۔
پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت برسوں میں پیدا ہوتی ہے ایسے نفوس قدسیہ کی زندگی بھی خوش گوار اور موت بھی شاندار ہوتی ہے۔ایسے بافیض لوگ دنیا سے چلے تو جاتے ہیں لیکن ان کے فیض سے خلق خدا ہمیشہ مستفیض ہوتی رہتی ہے۔
 پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کو متقیوں کی صف میں شامل فرمائے اور اپنے شایان شان بہتر بدلہ عنایت فرمائے آمین ۔
   یقینا پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ دریائے تصوف کے ایک بافیض چشمہ کی مانند تھے جو کل سدا کے لئے خشک ہو گئے۔
ہم اس صدمے کی گھڑی میں اہل خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔

Sunday, December 14, 2025

پیر فقیر کی رحلت ایک عہد کا اختتامتحریر : شمیم ریحان ندوی

پیر فقیر کی رحلت
 ایک عہد کا اختتام

تحریر : شمیم ریحان ندوی 

          کچھ شخصیات وقت کی گرد میں گم ہونے کی بجائے خود وقت پر نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک درخشاں روحانی شخصیت، حضرت مولانا پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددیؒ، اتوار کی صبح 14 دسمبر 2025 کو 72 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات کی خبر نے بر صغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ان کے عقیدت مندوں کے دلوں کو سوگوار کر دیا۔
         مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی ولادت یکم اپریل 1953 کو ضلع جھنگ، پنجاب کے ایک دیندار اور علمی ماحول میں ہوئی۔ ابتدا ہی سے ان کی طبیعت میں سنجیدگی، فکر کی گہرائی اور باطن کی جستجو نمایاں تھی۔ جدید تعلیم کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی، مگر دل کی دنیا کسی اور سمت کھنچتی چلی گئی۔ یہ وہی دل کی آواز تھی جو آخرکار انہیں قرآن، سنت، تصوف اور تزکیۂ نفس کے راستے پر لے آئی۔
          انہوں نے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں روحانی تربیت حاصل کی اور اجازت و خلافت کے بعد دینِ اسلام کی دعوت، اصلاحِ باطن اور اخلاقی تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ جھنگ میں قائم ادارہ مہد الفقیر الاسلامی ان کی فکری و روحانی کاوشوں کا زندہ استعارہ ہے، جہاں سے علم، ذکر اور اصلاح کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا۔
         مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ محض ایک شیخِ طریقت ہی نہیں تھے بلکہ ایک مؤثر داعی، صاحبِ قلم اور مربی بھی تھے۔ مختلف اسلامی موضوعات پر ان کی 200 سے زائد کتابیں شائع ہوئیں، جن میں عقائد، تصوف، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت جیسے اہم پہلوؤں کو نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان کیا گیا۔ ان کے بیانات اور تحریروں نے لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑا اور بے شمار لوگوں کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔
         ان کی علمی و روحانی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی ہوا۔ 2013–2014 میں انہیں دنیا کے 500 بااثر مسلمانوں میں شامل کیا گیا۔ پاکستان، جنوبی ایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں ان کے مریدین اور عقیدت مندین پھیلے ہوئے تھے۔ مذہبی و سیاسی حلقوں میں بھی ان کی رائے کو وزن دیا جاتا تھا، تاہم وہ ہمیشہ دنیاوی نمود و نمائش سے بے نیاز رہے۔
         ان کے انتقال کا غم اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب یہ خبر سامنے آئی کہ ان کے نائب اور صاحبزادہ عبدالرحیم نقشبندیؒ بھی ایک دن قبل وفات پا گئے تھے۔ یہ سانحہ ان کے اہلِ خانہ، مریدین اور وابستگان کے لیے دوہرا صدمہ ثابت ہوا۔
       دارالعلوم دیوبند سمیت اکابر علما نے ان کی دینی خدمات، سلسلہ نقشبندیہ میں ان کے مقام اور اہلِ سنت والجماعت کی دیوبندی روایت کے فروغ میں ان کے کردار کو سراہا۔ آج ان کی جدائی سے روحانی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ بآسانی پُر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
      نمازِ جنازہ اور تدفین کے اعلان کا انتظار ہے، مگر یہ طے ہے کہ جب ان کا جسدِ خاکی سپردِ خاک ہوگا تو ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں دل اشک بار ہوں گے۔
        مولانا پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندیؒ چلے گئے، مگر ان کی فکر، ان کی تعلیمات اور ان کی روحانی نسبتیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
       اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور اہلِ خانہ، مریدین اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔۔

انجمن فلاح المسلمین، حاجی پوردینی، تعلیمی اور ہمہ جہت فلاحی خدمات کا معتبر مرکز۔ ڈاکٹر ذاکر حسین۔

انجمن فلاح المسلمین، حاجی پور
دینی، تعلیمی اور ہمہ جہت فلاحی خدمات کا معتبر مرکز۔ 
ڈاکٹر ذاکر حسین۔ 8002988177
انجمن فلاح المسلمین، حاجی پور ضلع کا ایک مؤقر، فعال اور عوامی اعتماد کا حامل دینی، تعلیمی اور فلاحی ادارہ ہے، جو برسوں سے خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کے عظیم مقصد کے تحت سرگرمِ عمل ہے۔  اصلاح ملت کمیٹی حاجی پور ویشالی کے زیر اہتمام ماسٹر قمرالدین محلہ نون گولہ حاجی پور کی رہائشی گاہ پر محمود عالم حاجی پور کی صدارت میں انجمن فلاح المسلمین حا جی پور کی موجودہ کمیٹی کے ذریعے انجمن کے نظم و ضبط میں بے ضابطگی کے تعلق سے ایک نسشت کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں شہر کے دانشوران،ملی ہمدرد  اور بنیادی نقطہ فکر کے محققین کی
 جماعت نیز  ماسٹر محمد عظیم الدین انصاری، ڈاکٹر ذاکر حسین جنرل سکریٹری ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی،ماسٹر عبد القادر، حافظ فیضان،اوسامہ فاروقی  کے علاوہ کئی سرگرم نوجوان  نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  محمود عالم نے فرمایا کہ یہ انجمن اپنے قیام کے دن سے ہی اسلامی تعلیمات کے فروغ، تعلیم کی ترویج اور سماجی فلاح و بہبود کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہے۔لیکن شہر کے کچھ مفاد پرست اشخاص انجمن کی مخالفت بھی کرتے ہیں تو ان کا مفاد مخالفت میں پوشیدہ ہوتاہے۔ ماسٹر قمرالدین نے کہا کہ اگر دانشوران کی جماعت انگشت نمائ نہیں کرے تو انجمن کا مقصد موجودہ کمیٹی کے ذریعے پستی میں چلا جائے گا۔ جو مقامی لوگوں کی زمہ داری بنتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جنرل سکریٹری ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی خدمات کے میدان میں انجمن فلاح المسلمین نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مساجد، مکاتب، مدارس، دینی اجتماعات اور اصلاحی مجالس کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیم، اخلاقی اقدار کی آبیاری اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ انجمن کا مقصد صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک صالح، باکردار اور باخبر معاشرے کی تشکیل ہے۔ تعلیمی شعبہ انجمن کی سرگرمیوں کا ایک مضبوط ستون ہے۔ تعلیمی بیداری، طلبہ کی رہنمائی، مستحق اور نادار طلبہ کی مالی امداد، نیز جدید اور دینی تعلیم کے امتزاج کے ذریعے نئی نسل کو علم، شعور اور خود اعتمادی سے آراستہ کرنا انجمن کی ترجیحات میں شامل ہےہے انجمن کے موجودہ کمیٹی ان نقاط پر سنجیدگی سے تخیل وتفکر کرے اور اخلاص کے ساتھ خدمت کی غرض سے اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی زحمت گوارا کرے۔ اس کے ذریعے معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ فلاحی خدمات کے میدان میں انجمن فلاح المسلمین نہایت ہمہ گیر کردار ادا کر رہی ہے۔ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور بے سہارا افراد کی مدد، بیماروں کے علاج میں تعاون، قدرتی آفات کے مواقع پر راحت رسانی اور دیگر سماجی خدمات انجمن کے دردِ انسانیت کا عملی ثبوت ہیں۔ لاوارث میت کی تجہیز و تکفین — ایک عظیم انسانی خدمت ہے۔  انجمن فلاح المسلمین کی فلاحی خدمات کا ایک نہایت قابلِ قدر اور قابلِ تحسین پہلو لاوارث میت کی تجہیز و تکفین کا عمل ہے۔ معاشرے میں بعض اوقات ایسے افسوسناک حالات پیش آتے ہیں جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جاتا ہے اور اس کا کوئی وارث، عزیز یا مددگار موجود نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر انجمن فلاح المسلمین انسانیت اور اسلامی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ انجمن کی جانب سے لاوارث میت کو اسلامی طریقے کے مطابق غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے، نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور باعزت طریقے سے تدفین عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں شرعی اصولوں کی مکمل پابندی کی جاتی ہے اور میت کے احترام و حرمت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ خدمت نہ صرف ایک دینی فریضہ ہے بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار کی عملی تصویر بھی ہے۔ انجمن کا یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ زندگی ہی نہیں بلکہ موت کے بعد بھی انسان کی عزت و تکریم کو مقدم رکھتی ہے، اور سماج کے ہر کمزور، بے سہارا اور نظرانداز شدہ فرد کے ساتھ کھڑی ہے۔ الغرض، انجمن فلاح المسلمین، حاجی پور ایک ایسا ادارہ ہے جو دین، تعلیم اور فلاحِ انسانیت کو یکجا کرکے سماج میں مثبت، پائیدار اور تعمیری تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی خدمات نہ صرف ملتِ اسلامیہ کے لیے باعثِ فخر ہیں بلکہ پورے ضلع کے لیے انسانیت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی روشن مثال بھی ہیں۔

Thursday, December 11, 2025

تہمت وبہتان-شرعی نقطۂ نظر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

تہمت وبہتان-شرعی نقطۂ نظر
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 کسی آدمی میں ایسی بُرائی بیان کرنا جو اس کے اندر نہیں یا کسی ایسے بُرے عمل کی اس کی طرف نسبت کرنا جو اس نے کیا ہی نہیں ہے ، افترا اور بہتان کہلاتا ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ایک سوال کے جواب میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ بات اس میں موجود ہو اور تم بیان کرو تو وہ غیبت ہے اور اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے ا س پر بہتان لگایا۔
 قرآن کریم میں افترا، اور بہتان دو الفاظ اس معنی میں آئے ہیں، گو دونوں میں بعض اعتبار سے فرق ہے، لیکن مجموعی طور پر ان الفاظ کا استعمال الزام تراشی اور بہتان کے لیے کیا گیا ہے ، بہتان کا لفظ واقعۂ افک میں آیا ہے اور افترا کا لفظ اللہ رب العزت کی طرف غلط باتوں کے منسوب کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
 ہمارے یہاں سماج کا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ وہ الزام تراشی اور بہتان کو تیزی سے پھیلانے کا کام کرتے ہیں، اس میں ان کو ایک خاص لذت محسوس ہوتی ہے ، کیوں کہ شیطان ان کو اس کام پر ابھارتا ہے اور لا یعنی باتوں اور کاموں میں مشغول کردیتا ہے ، شریعت کے نزدیک یہ عمل انتہائی مبغوض، نا پسندیدہ اور انسانیت سے گری ہوئی بات ہے۔
 اس معاملہ میں شریعت کا حکم دو ٹوک اور واضح ہے کہ اگر کوئی شریر تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جہالت کی وجہ سے کچھ ایسا کر بیٹھو جو بعد میں تمہارے لیے ندامت کا سبب بن جائے ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تجھے علم نہیں، بے شک کان ، آنکھ اور دل سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی سی بات کافی ہے کہ وہ جو سنے اس کو بغیر تحقیق کے من وعن دوسرے سے نقل کردے، ظاہر ہے ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے، اس سے بڑی وعید اور کیا ہو سکتی ہے ، اسی طرح جو اللہ کے لیے من گھڑت باتیں بیان کرتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے اور جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط باتیں قصدا منسوب کیں تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
بہتان تراشی کرنے والے کا جہنم میں جو حال ہوگا اس کا ذکر حضرت انس بن مالکؓ کی روایت میں ملتا ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میرا گذر ایک ایسی جماعت پر ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے، اور وہ اپنے چہرے اور سینوں کو اس سے نوچ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل ؑ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں، حضرت جبرئیل ؑ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کا گوشت کھا تے تھے اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے، ابو داؤد شریف کی ایک روایت ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کی بدگوئی نہ کیا کرو اور نہ ان کے عیوب کے پیچھے پڑا کرو، جو شخص ان کے عیوب کے درپے ہوگا، اللہ اس کے عیوب کے درپے ہوں گے، اور اللہ جس کے عیوب کے درپے ہوں گے تو اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کر دیں گے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ مسلمان کا مال ، عزت اور خون دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے۔
 پھر اگر اس تہمت کا تعلق کسی کی عزت وآبرو سے ہو تو دنیا وآخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب اور اللہ کی لعنت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پاکدامن پر تہمت لگانے کو سات ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک قرار دیا ہے ، اور اس سے بچنے کا حکم دیاہے؛کیونکہ جس معاشرہ میں تہمت لگانا لوگوں کے معمول کا حصہ بن گیا ہو،اس میں بدگمانی عام ہوجاتی ہے، جو خود ایک گناہ ہے، تجسس کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے، جس سے قرآن کریم میںمنع کیا گیا ہے، تہمت اور بہتان کو پھیلانے کی وجہ سے غیبت کا بھی صدور ہوتا ہے، جسے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے، اس بُرے عمل کی وجہ سے آپسی اعتماد میں کمی آتی ہے اور لوگ شکوک وشبہات میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،گویا تہمت ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو بے شمار گناہوں میں مبتلا کرتی ہے، اس لیے اس سے حد درجہ بچنے کی ضرورت ہے۔ آج کل پرنٹ اور الکٹرونک میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا نے سماج میں اپنی جگہ بنا لی ہے ، پہلے خبروں کی ترسیل ایڈیٹر کی مرضی پر منحصر ہوا کرتی تھی، وہ چاہے تو چھاپے، نہ چاہے تو نہ چھاپے، مکمل چھاپے یا کتر بیونت کردے، لیکن سوشل میڈیا کے چلن نے لکھنے والے کو آزاد کر دیا ہے، جو چاہے لکھے اور جس پر چاہے کیچڑ اچھال دے، پھر اس پر بحث شروع ہوتی ہے اور ایسی ایسی گالیاں اور ایسے ایسے بے بال وپر کے نکتے پوسٹ کیے جانے لگتے ہیں کہ الامان والحفیظ ، حالاں کہ یہ عمل، فحش کی اشاعت کے قبیل سے ہے، اللہ رب العزت کا واضح ارشاد ہے کہ جو لوگ بد کاری کا چرچا چاہتے ہیں ایمان والوں میں سے، ان کے لیے دنیا وآخرت میں درد ناک عذاب ہے، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (النور: ۱۹) ایک دوسری آیت میں ہے کہ اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور بُری بات ہی بتلائے گا۔
شریعت میں عزت وآبرو پر تہمت کے معاملہ میں شہادت کے اصول بھی سخت ہیں۔ اس معاملہ میں چار چشم دید گواہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس نے سوئی میں دھاگے کی طرح اس واقعہ کو دیکھا ہے، ابو داؤد شریف کی روایت ہے کہ جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں تو اللہ اسے دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا، ان آیات وروایات کا حاصل یہ ہے کہ صرف شبہہ کی بنیاد پر کسی کو کوئی شخص مطعون نہیں کر سکتا ، اب اگر کسی شخص سے ان امور میں کوتاہی ہو رہی ہے تو اس کو خلوت میں سمجھا نے کا حکم دیا جائے گا ، مگر اسے سر بازار رسوا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، اور بغیر ثبوت شرعی کے خلوت میں سمجھانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ اس سے خواہ مخواہ کی بدگمانی کا دروازہ کھلے گا۔ شریعت کی منشا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر ثبوت شرعی کے کسی پر الزام یا تہمت نہ لگائے، اگر ایسا کرتا ہے تو اس کی سزا بھی اسلامی حکومت میں متعین ہے، گویہ سزا ہتک عزتی کا دعویٰ کرنے کے بعد دی جاسکے گی ، کیوں کہ اصل معاملہ اس بندے کا ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے ، وہ اگر تہمت لگانے والے پر کوئی دعویٰ نہیں کرتا تو تہمت لگانے والا متعینہ سزا سے محفوظ رہے گا۔
 جس شخص پر تہمت لگائی گئی ہے اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے واقعہ افک میں تفصیل سے احکامات دیے ہیں،اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ کہی گئی کہ جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں تمہیں میں سے ایک جماعت ہے، تم اس کو اپنے حق میں بُرا نہ سمجھو؛ بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ، ہر آدمی کے لیے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا اور جس نے اس بڑے بوجھ کو اٹھایا ہے، اس کے واسطے بڑا عذاب ہے۔
اس آیت میں تہمت جس پر لگائی گئی اس کے لیے تسکین کا سامان ہے؛ کیونکہ اللہ نے اسے اس کے حق میں بہتر قرار دیا ہے، رہ گیے مسلمان تو ان کو ایسے موقع سے بر ملا اس بات کا اعلان کرنا چاہیے کہ یہ ایک طوفان ہے، واقعہ افک جو تہمت کا انتہائی خباثت سے بھرا ہوا واقعہ ہے اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے ہدایت دی کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تویوں کہہ دیتے کہ ہمارے لیے ایسی بات زبان سے نکالنی جائز نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اس آیت سے ثابت ہو ا کہ ایسی خبروں کے سننے کے بعد مسلمانوں کاکیا رد عمل ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ صاف کہہ دیں کہ ایسی بات بلا کسی دلیل کے زبان سے نکالنا بھی ہمارے لیے جائز نہیں ہے، یہ توبہتان عظیم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں حسن ظن کی تاکید کی گئی ہے، ظنُّوْا بِالْمَؤمِنِیْنَ خَیْرًا کہا گیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے لکھا ہے کہ ’’ہر مسلمان کو گناہوں سے پاک وصاف سمجھنا اصلِ شرعی ہے، جو دلیل سے ثابت ہے، اس کے خلاف جو بات بغیر دلیل کے کہی جائے اس کو جھوٹا سمجھنے کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے، صرف اتنا کافی ہے کہ ایک مؤمن مسلمان پر بغیر کسی دلیل شرعی کے الزام لگایا گیا ہے، لہذا یہ بہتان ہے۔(معارف القرآن)
 آگے لکھتے ہیں: جہاں ثبوت شرعی نہ ہو وہاں اس طرح کی بے حیائی کی خبروں کو چلتا کر دینا اور شہرت دینا ، جب کہ اس کے ساتھ کوئی سزا نہیں، طبعی طور پر لوگوں کے دلوں سے بے حیائی اور فواحش کی نفرت کم کر دینے اور جرائم پر اقدام کرنے اور شائع کرنے کا موجب ہوتی ہے، جس کا مشاہدہ آج کل کے اخبارات میں روزانہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی خبریں ہر روز ہر اخبار میں نشر ہوتی رہتی ہیں۔
 یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کریم میں بہتان سے متعلق آیات واحکام کا تعلق خاص واقعہ سے ہے، لیکن اس میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں، وہ عام ہیں، کیوں کہ بعض مخصوص آیتوں کو چھوڑ کر احکام شان نزول کے ساتھ خاص نہیں ہوتے؛ بلکہ حکم عام ہوتا ہے۔ اس لیے واقعہ افک کی وجہ سے جو احکام نازل ہوئے وہ بھی تہمت وبہتان کے باب میں عام ہوں گے۔ تہمت کی علت ہی ان احکامات کے نفاذ کے لیے کافی ہوگی۔

Thursday, December 4, 2025

بد مزاجی-انسانی رشتوں کے لئے زہر قاتل

بد مزاجی-انسانی رشتوں کے لئے زہر قاتل
 
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ

 امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی صلاحیت بہت اچھی ہو، لیکن مزاج صحیح نہیں ہو تو لوگ آپ سے دور بھاگنے لگیں گے، بالکل اسی طرح جس طرح گُہمن سانپ کے لعل کے حصول کا خواہشمند ہر آدمی ہوتا ہے، لیکن اس کی جو پھُنکار ہوتی ہے اس سے ڈر کر آدمی اس کے قریب نہیں جاتا، اسی طرح با صلاحیت انسان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہوتی ہے، لیکن اس کی بد مزاجی، بے قابو زبان اور بد اخلاقی کی وجہ سے انسان اس سے دوری بنائے رکھنے میں عافیت سمجھتا ہے، تاکہ وہ عزت نفس کے ساتھ جی سکے، جو لوگ بد مزاجوں سے قربت رکھتے ہیں، وہ کبھی بھی ذلیل ہو سکتے ہیں اور ان میں بے غیرتی کے جراثیم تیزی سے پروان چڑھنے لگتے ہیں۔
 نفسیات کی زبان میں ایسے لوگوں کو”ٹیکسک رویہ“کا انسان کہا جاتا ہے، اس رویہ میں صرف بُرے تجربات ہی شامل نہیں ہوتے، کچھ ایسے معاملات بھی ہو تے ہیں، جنہیں آپ معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں، لیکن وہ آپ کے دل کے نہاں خانوں میں جگہ بنا لیتے ہیں، تحت الشعور میں دبی یہ چنگاریاں مایوسی اور تناؤ کی شکل میں باہر آکر دوسروں کو رسوا کرنے کا کام کرتی ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں اپنی زندگی سے نکال دینے میں ہی عافیت ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے رہے تو اس کا بُرا اثر آپ کی خود اعتمادی پر پڑتا ہے، اگر آپ کسی بات کو سچ سمجھتے ہیں تو اسے سچ کہنے کا حوصلہ جٹائیے،ہمیشہ خاموش رہ جانا مسئلہ کا حل نہیں ہوتا، کئی بار اہم معاملات پر اپنی رائے رکھنی بھی ضروری ہوتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے بد مزاجی ایک رویہ ہے، رویہ انسانی شخصیت کا بیان ہوتا ہے، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم سرونسنٹ چرچل(۵۶۹۱-۴۷۹۱) کے مطابق رویہ ایک معمولی سی چیز ہے، لیکن انسانی شخصیت میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ رویہ کا انحصار بڑی حد تک انسان کے اپنے طرز فکر پر ہوتا ہے، اگر وہ تکبر اور ترفع کا شکار ہے، ”انا“ کا اسیر ہے تو اس کے بدمزاج ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، ایسے لوگ اپنے رویہ پر قابو پانے میں ناکام ہوتے ہیں، وہ اگر زبان سے کچھ نہ بولیں تو ان کے چہرے بولنے لگتے ہیں، ان کی بد مزاجی کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر ہونے لگتے ہیں، ایسے لوگوں پر جذباتی تاثر فوری طور پر غالب آجاتا ہے، ان کی شخصیت کی سب سے بڑی کمزوری ان کی انفعالیت ہوتی ہے، ایسا شخص اخلاق وعادات کے اعتبار سے مضبوط نہیں ہوتا، اپنا فائدہ نظر آئے تو کچھ بھی کر گذرتا ہے، انفعالیت دربار خداوندی میں تو اچھی چیز ہے، لیکن بندوں کی بارگاہ میں یہ شخصیت کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔
 بد مزاجی ایک منفی رویہ ہے، اس رویہ کا عادی شخص دوسرے کے کاموں میں خامیاں نکال کر اور تنقید کرکے نفسیاتی تسکین حاصل کرتا ہے۔ بد مزاج آدمی کا رویہ دھمکی آمیز بھی ہو سکتا ہے، وہ آپ کو نقصان پہونچانے کے درپے بھی ہو سکتا ہے، اس کے باوجودیہ یاد رکھنا چاہیے کہ بد مزاجی فطرت نہیں ہے، جسے بدلا نہ جا سکے، یہ ایک چال چلن ہے، جسے مثبت رویہ اور صحیح سوچ کے ذریعہ بدلا جا سکتا ہے، اپنی سوچ کو مثبت اور غیر ضروری اندیشوں کے خول سے باہر لائیے، دوسروں کا اکرام واحترام کیجئے، ان کی باتوں کو غور سے سنئے اور جو درست ہوں ان کو اہمیت دیجیے اور اس پرعمل کیجئے، بد مزاجی ختم ہوجائے گی، لیکن اگر کوئی شخص ہٹلر اور مسولنی کی طرح ڈِکٹیٹر بن کر بد مزاجی ختم کر نا چاہے تو یہ ناممکن العمل ہے، اس کا علاج صرف رویوں میں تبدیلی ہے۔ رویے مثبت ہوں گے تو بد مزاجی ختم ہوگی، منفی ہوں گے تو تبدیلی کبھی نہیں آئے گی،رویوں کی تبدیلی کا یہ کام بد مزاج شخص خود بھی کر سکتا ہے اور خارجی دباؤ سے بھی بد مزاجی ختم ہو سکتی ہے، یہ خارجی دباؤ کئی قسم کے ہو سکتے ہیں، جن کا انتخاب حالات اور ماحول کے اعتبار سے کیا جا سکتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بد مزاج شخص کے اندر سے تکبر کو نکالنے کی کوشش کی جائے، اللہ کی بڑائی کا استحضار اذان واقامت کے کلمات کا جواب بھی اللہ کی بڑائی کے تصور کو ذہن نشیں کرنے میں بہت معاون ہوتا ہے، بد مزاج شخص کے ذہن میں اگر یہ بات بٹھادی جائے کہ تم بڑے نہیں ہو، اللہ بڑا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ عہدے مناصب کی بلندی پر پہونچنے کے باوجود تم سب محتاج ہو، بے نیاز ذات صرف اللہ کی ہے تو بد مزاجی دور ہوجائے گی، اور لوگ بد مزاج کی بد مزاجی سے محفوظ ہوجائیں گے۔
 انفرادی زندگی سے الگ ہو کر اگر ہم اجتماعی تنظیموں اور اداروں کی بات کریں اور اس پر کسی بد مزاج شخص کا تسلط ہو تو اس کی بدمزاجی کے اثرات اجتماعی نظام پر پڑتے ہیں، اور اداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شریعت نے اسی وجہ سے اجتماعی کاموں میں خصوصیت کے ساتھ مشورے پر زور دیا ہے، وَشَاوِرْ ھُم فِی الاَمْر، وَاَمْرُھُم شُوْرَی بَیْنَھُم“ کا حکم اسی نقصان سے بچنے کے لیے ہے، اس پر جس قدر مضبوطی سے عمل ہوگا، فرد کی اصلاح بھی ہوگی اور اجتماعی تقاضوں پر بھی عمل کیا جا سکے گا۔
بد مزاج شخص کے دل میں سختی ہوتی ہے، اس کا دل اسی کے سامنے نرم ہوتا ہے جس سے اس کا کوئی مفاد وابستہ ہو یا اسے نقصان کا خطرہ ہو یعنی ”جلب منفعت“ اور”دفع مضرت“ اس کی زندگی کا نصب العین ہوجاتا ہے، وہ اگر کسی کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے تو نفع کا حصول مد نظر ہوتا ہے یا نقصان سے بچنا، اس کے علاوہ وہ دوسروں کو اپنی بد مزاجی کی وجہ سے نفع سے محروم کرتا رہتا ہے، ایسے بد مزاج شخص کا اکرام کوئی دل سے نہیں کرتا؛ بلکہ اس کی مضرت رسانی کے خوف اور ڈر سے کرتا ہے، اسی کو حدیث میں یُکْرَمُ الرجُلُ مَخَافۃَ شَرِّہِ سے تعبیر کیا گیا ہے اور جب معاملہ یہاں تک پہونچ جائے تو حدیث میں مسلسل اور متواتر مصائب کے نزول کی بات کہی گئی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح دھاگہ ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے مسلسل گرنے لگتے ہیں۔
بد مزاج لوگوں کے ساتھ خود بد مزاج بن جانا صحیح نہیں ہے، اس سے آپ کی سوچ منفی بنتی ہے اور یہ آپ کے لیے پریشانی کا باعث ہوا کرتی ہے، ان حالات میں قرآنی ہدایات ”اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ“ یعنی خوش اسلوبی سے معاملات کو ٹالنے کی ہے، ایسے لوگوں کو معاف کر دینا یا انہیں محبت کے ذریعہ قریب کرنا بھی ایک حل ہے، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اگر آپ کے اندر قوت بر داشت ہے تو صبر بھی کر سکتے ہیں۔لیکن یہ بد مزاج شخص کے لیے دوا کا نہیں، مرض بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین نفسیات نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ بد مزاجی کی بڑی وجہ دوسروں پر غالب آنے کی بے جا ہوس ہوتی ہے، بد مزاج آدمی اپنی زور دار آواز اور بُرا بھلا کہہ کر دوسروں کو مغلوب کرنا چاہتا ہے، عام طور پر سا منے والا چوں کہ بد مزاج نہیں ہوتا؛اس لیے وہ خاموش رہ جاتا ہے، جس سے بد مزاج انسان کاحوصلہ بڑھتا ہے اور وہ اپنی منوانے پر مصر ہوجاتا ہے۔ آپ ایسے لوگوں کی بات مانتے مانتے اپنی شخصیت کھو دیتے ہیں،ا ٓپ کی فکر اور سوچ بھی کہیں گم ہوجاتی ہے، اور آپ کا شمار ان لوگوں میں ہونے لگتا ہے؛ جس کی کوئی اپنی فکر نہیں ہوتی۔آپ کی خاموشی کو لوگ آپ کی بزدلی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔
اپنی شخصیت کی حفاظت کے لیے دباؤ کے اس ماحول سے نکلنا بھی ضروری ہے، ورنہ آپ دوسروں کی دیکھا دیکھی اور دباؤ میں بہت سارے غلط، صحیح فیصلے لینے اور قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، ایسے موقع سے ضروری ہے کہ آپ جذبات میں نہ آئیں، پر سکون رہیں، کبھی کبھی ہنسی مذاق میں ٹال سکتے ہوں تو ٹال دیجئے، اپنی بات کھل کر رکھیے اور اپنے طرز عمل سے بتادیجئے کہ عزت نفس میرے پاس بھی ہے اور مجھے اس کی حفاظت کرنی اچھی طرح آتی ہے۔
 بد مزاجی، بد اخلاقی کا ایک حصہ ہے، اور بد اخلاقی شریعت میں انتہائی مذموم ہے۔ بدمزاجی کبھی تو خود پرستی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور کبھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے، ایک اور وجہ اپنے مقصد اور منصوبوں میں ناکامی ہوا کرتی ہے، آپ نے اپنا ایک ہدف بنا رکھا ہے، اس ہدف تک پہونچنے میں اگر آپ ناکام ہوجاتے ہیں، یا اس میں تاخیر ہو رہی ہے تو آپ کے اندر بد مزاجی پیدا ہوجاتی ہے، بد مزاج آدمی کے پاس سر تو ہوتا ہے لیکن اس میں غور وفکر کرنے والا دماغ کمزور پڑ جاتا ہے، ایسے میں بد مزاج آدمی اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے، سلگتا رہتا ہے، اس جلنے اور سلگنے کا نقصان دوسروں کو تو پہونچتا ہی ہے، خود اس کی اپنی ذات کوبھی پہونچ جاتا ہے،ماچس کی تیلی کو آپ نے دیکھا ہے اس کے پاس سر ہوتا ہے، دماغ نہیں ہوتا اس لیے ذراسی رگڑ سے جل اٹھتا ہے اور اپنے جسم کو خاکستر کر دیتا ہے، بد مزاج آدمی کا دیر سویر یہی حال ہوتا ہے۔
 بدمزاجی اپنے ساتھ بہت سارے منفی رویوں کو بھی ساتھ لاتی ہے، بد مزاجی کی وجہ سے حسد، جلن، بغض وعداوت، چغل خوری وغیرہ انسانی زندگی میں گھر کر لیتے ہیں، یہ رویہ انسانی رشتوں کے لیے زہر قاتل ہوتا ہے۔ اس کا علاج اپنے رویے میں تبدیلی ہے، جب تک رویوں میں تبدیلی نہیں آئے گی، بدمزاجی ختم نہیں ہوگی۔

Wednesday, December 3, 2025

غیر مسلموں سے تعلقات اور تعلیماتِ اسلامی ! (1)محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

غیر مسلموں سے تعلقات اور تعلیماتِ اسلامی ! 
                          (1)

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

  انسانی معاشرے کی تعمیر و بقا باہمی تعامل، رواداری اور حسنِ سلوک پر قائم ہے۔ اسلام نے جہاں اپنے ماننے والوں کے لیے ایک مضبوط ایمانی و اخلاقی بنیاد رکھی، وہیں نوعِ انسانی کی حرمت، عدل و احسان اور بقائے باہمی کے آفاقی اصول بھی واضح کئے۔ عصرِ حاضر کی کثیر الثقافتی، عالمی اور باہمی انحصار کی دنیا میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات، میل جول، تعاون اور معاشرتی و سماجی اشتراک ایک ناگزیر حقیقت بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اس سوال کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ دوستی، حسنِ سلوک اور موالات کے حوالے سے کیا ہدایات دیتا ہے؟ اور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں اس باب کے کیا نمونے ملتے ہیں؟
لفظِ موالاة شریعت کی اصطلاح میں دل کی گہرائیوں سے وابستگی، نصرت و حمایت اور دینی و سیاسی وفاداری کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ دوستی اور حسنِ معاشرت کا دائرہ اس سے مختلف اور وسیع تر ہے۔ تاریخی طور پر بعض آیات و احادیث کے ظاہری مفاہیم کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھنے کی وجہ سے یہ موضوع کبھی کبھی غلط تعبیرات کا شکار بھی ہوا۔ اس بنا پر ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کے جامع اور منضبط اصولوں کی روشنی میں، نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے، عصرِ حاضر کے حالات و تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس مسئلے کی علمی توضیح کی جائے۔
سیرتِ طیبہﷺ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے غیر مسلم اقوام و افراد کے ساتھ نہ صرف عدل، رواداری اور حسنِ سلوک کو اختیار کیا بلکہ معاہدات، تجارتی معاملات، سفارتی روابط، سیاسی ضمانتوں اور سماجی تعاون جیسے متعدد پہلوؤں میں عملی نمونے پیش کیے۔ مدینہ کا میثاق، اہلِ مکہ کے ساتھ Hudaybiyyah کا معاہدہ، نجران کے وفد کی میزبانی، یہودی ہمسایوں کے ساتھ روزمرہ تعلقات اور مشرکین کے ساتھ اخلاقی و انسانی سلوک ،یہ سب اسوۂ نبوی کے روشن ابواب ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام انسانیت کی بنیاد پر تعلقات کے دروازے کھلا رکھتا ہے، بشرطیکہ دینی وفاداری، تہذیبی تشخص اور امتیازی شناخت مجروح نہ ہو۔
عصرِ حاضر میں بین الاقوامی تعلقات، شہری ریاست کے قوانین، اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب مکالمہ اور عالمی تعاون جیسے معاملات میں مسلم سماج اور معاشرہ کو حکمت و بصیرت کے ساتھ ان اصولوں کی تطبیق کی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق انہی خطوط پر یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گی کہ شریعت نے غیر مسلموں کے ساتھ کامل دلی موالات کو کیوں ممنوع قرار دیا، اور عام انسانی دوستی، حسنِ سلوک، معاملات، پڑوسی حقوق، معاشرتی تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو کس طرح مشروع اور مستحسن قرار دیا۔
پیشِ نظر مقالہ اسی اہم اور نازک موضوع کا ہمہ جہت جائزہ پیش کرے گا، جس میں ؛ 
1. قرآن و حدیث میں موالات اور دوستی کے مفاہیم کی وضاحت،
2. سیرتِ نبوی ﷺ کی عملی مثالوں کا تجزیہ،
3. مشاہیر فقہاء و مفسرین کی آراء،
4. اور عصرِ حاضر کے تناظر میں ان تعلیمات کا اطلاق،
یکجا کر کے ایک متوازن، جامع اور قابلِ عمل نتیجہ سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
یوں یہ تحقیق نہ صرف علمی و فقہی اہمیت رکھتی ہے، بلکہ عصرِ جدید کے سماجی، سیاسی اور بین المذاہب تقاضوں کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے، تاکہ مسلمان بحیثیت امّت اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انسانیت کے عالمی قافلے کے ساتھ مثبت اور بامقصد تعلقات قائم کر سکیں۔ 
   مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اس موضوع پر ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں ۔
 "اسلام نے دوسرے مذاہب کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ،خاص طور پر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کے جان و مال، عزت وآبرو اورحقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں، اُن کے ساتھ حسن ِسلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ ہمارے فقہاء کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی یہودی یا آتش پرست کو اے کافر ! کہہ کر خطاب کیا، جس سے اس کی دل آزاری ہوئی، تو ایسا خطاب کرنے والا گنہگار ہوگا۔
(فتاوی عالمگیر ی ص ۵۹/۵)
قرآن کریم نے فرمایا ہے:
”اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ نہ کرو ۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “(ترجمہ سورہ ۶۰ آیت ۸)
اسی بنیاد پر احادیث کا ذخیرہ اور اسلامی فقہ اور تاریخ کی کتابیں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نہصرف رواداری، بلکہ حسنِ سلوک اور برابر کےانسانی حقوق کی تاکید و ترغیب سے بھری ہوئی ہیں ۔ 
لیکن رواداری، حسن سلوک اور انصاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مذاہب کے درمیان فرق اور امتیاز ہی کو مٹا دیا جائے، اور مسلمان رواداری کے جوش میں غیر مسلموں کے عقیدہ و مذہب ہی کی تائید شروع کر دیں یا اس عقیدہ پر مبنی مذہبی تقریبات میں شریک ہو کر یا ان کے مذہبی شعائر کو اپنا کر ان کے مذہب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ 
قرآن کریم نے اس سلسلے میں جو واضح طرز عمل بتایا ہے ، وہ یہ ہے: "تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین"
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی کے دائرے میں اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود کوئی رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان کی وہ مذہبی رسمیں جو ان کے عقیدے پر مبنی ہیں، ان میں کوئی مسلمان انہی کے ایک فرد کی طرح حصہ لینا شروع کردے ۔
  جو مسلمان توحید کا عقیدہ رکھتا ہو،اور لَااِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ پر ایمان اس کی شناخت کا لازمی حصہ ہو، اس کے لئے اس عقیدے کے عملی مظاہرے کا حصہ بننا روا داری نہیں، مداہنت اور اپنے عقیدے کی کمزوری کا اظہار ہے۔
 اس لئے اس میں تمام پہلوؤں کی رعایت اور مختلف جہتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ (مولانا عثمانی صاحب کی تحریر سے ملخص)
 فقیہ عصر،حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ
  صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا محمد صابر حسین ندوی کی کتاب ،،غیر مسلموں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک اور عصری تقاضے،، کے،، مقدمہ،، میں لکھتے ہیں،، 
 جو اس موضوع پر بڑی چشم کشا تحریر ہے ۔
 لکھتے ہیں کہ 
 "اسلام ایک مکمل دستور اور نظام حیات ہے، زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، عبادات سے لے کر معاملات تک ہلکی سے لے کر بین الاقوامی تک ، مذہبی اور بین المذاہب تمام طرح کے مسائل کا حل دین اسلام میں موجود ہے، یہی بات اسلام کو باقی مذاہب سے ممتاز بھی کرتی ہے، حالات خواہ کیسے بھی ہوں ، سازگار یا نا سازگار ؛ ہر حال میں اسلام اس کے ماننے والوں کی یکساں رہنمائی کرتا ہے، اگر کوئی شخص کسی غیر اسلامی ملک میں مقیم ہو جائے تو ایسا نہیں ہے کہ وہ دین کا مخاطب نہیں رہے گا ، اس پر اعمال و فرائض سر انجام دینے کے مطالبے ویسے ہی قائم رہیں گے جس طرح اسلامی مملکت میں ہوتے ہیں، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی ، مدنی دونوں ادوار میں امت کے سامنے نمونہ پیش کیا ، اگر ایک مسلمان برادران وطن کے درمیان رہے تو وہ کیسے دعوت و مبلغ اور احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ ادا کرے، اور جب اسلامی ریاست قائم ہو جائے تو کس طرح مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کرے؟ ایسا نہیں ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو ایک آنکھ نہیں دیکھنا چاہتا ، اسلام مخالف لوگوں نے یہ بات عام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اسلام میں غیر مسلموں کی کوئی جگہ نہیں اور یہ کہ نعوذ بااللہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم ) غیر مسلموں سے محض جنگ کرنے کیلئے مبعوث کئے گئے تھے۔ یہ صریح جھوٹ ، افتری پروازی اور بغض و عناد کے سوا کچھ نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو بنو نجار، غطفان اور بہت ۔ سے قبائل جو غیر مسلم تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے مصالحت نہ کرتے ، میثاق مدینہ نہ ہوتی اور جہاد کا حکم اول مرحلہ ہی سے دے دیا جاتا۔
      اسی طرح ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں پر مسلمانوں نے عرصہ دراز تک حکومت کی ہے، اگر واقعی اسلام کا یہ پیغام ہوتا تو یہاں کوئی غیر مسلم نہ بچتا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ ایک مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیارا خلاق فاضلہ ہے، اگر کوئی شخص روزہ نماز کا پابند ہو، لیکن اس کے اخلاق ایسے ہوں کہ پڑوسی کو پریشان کرتا ہو ، معاملات میں غبن کرتا ہو، خواہ وہ مسلم کے سا ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ وہ نا قابل قبول ہے، اس کی نیکیاں، اچھائیاں اعمال نامے بے وزن تصور کئے جائیں گے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ خواہ کسی مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے یا کسی غیر مسلم کے ساتھ ؛ ان کے مابین یکساں سلوک کرتے حتی کہ آپ نے یہودیوں سے بھی معاملہ میں کوئی کوتاہی نہ برتی اور امت کے سامنے بہترین تقلیدی نمونہ چھوڑا ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو قرآن مجید نے انك لعلى خلق عظیم کا تمغہ دیا۔
     اس وقت اشد ضرورت ہے کہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھا جائے اور عملی طور پر غیر مسلموں کو دکھایا جائے کہ اسلام سراپا رحمت ہے اور اس کا وجود ملک وملت کیلئے نافع ہے، وہ سودمند، انسان دوست اور بہی خواہ ہے، خصوصاً ہندوستان میں اکثریتی سماج کے ساتھ رویہ اور سلوک میں سنت رسول کی پیروی کی جائے ، اور ملک میں ابھرتے زعفرانی، ہند و احیائیت اور عصبیت کے طوفان کو ٹھنڈا کیا جائے ، خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا، اس کیلئے پانی کی ضرورت ہے، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ابر رحمت بن کر برسیں اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات عام کرنے کی مہم چلا ئیں ، ہاں ! یہ بات ضرور ہے کہ شعائر اسلام سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ، ایک مؤمن کیلئے کل سرمایہ حیات اس کا ایمان ہے، چنانچہ اگر کسی بھی صورت ایمان کے ساتھ مصالحت کرنی پڑے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا؛ تاہم مزاج میں نرمی ، کردار میں محبت ، معاملات میں صفائی اور بھائی چارگی مطلوب ہے، اگر ایسا کیا گیا تو یقین ہے کہ ہندوانہ تشدد ، منافرت اور تعصب میں کمی آئے گی ، اہل ایمان کیلئے راہیں کھلیں گی ، دعوت تبلیغ کی راہ ہموار ہوگی اور اس ملک میں مسلمانوں کیلئے ایک نئی صبح ہوگی "۔

نوٹ/ یہ مضمون کئی قسطوں میں ہے ، ہم وقفہ وقفہ سے اسے قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے ۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...