Translate

Sunday, October 26, 2025

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت قاری ممتاز احمد جامعی

ووٹ: ایک شرعی گواہی — اور ذمہ دارانہ انتخاب کی ضرورت 

 قاری ممتاز احمد جامعی
 majaamai@gmail.com

جمہوریت میں ووٹ دینا محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ شرعی لحاظ سے ایک قسم کی گواہی (شہادت) ہے۔ اسلامی شریعت میں شہادت کا مفہوم صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو، اسے بھی گواہی کہا گیا ہے۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ رحمہ اللہ نے معارف القرآن (تفسیر سورۃ المائدہ: آیت 8) میں واضح فرمایا ہے:

> “اسلامی اصول شہادت کے مطابق ووٹ بھی ایک قسم کی گواہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ کسی شخص یا جماعت کو اقتدار کی گواہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہی جانبداری، تعصب یا مفاد پرستی کے تحت دی جائے تو یہ جھوٹی شہادت کے حکم میں داخل ہوگی، جو کبیرہ گناہ ہے۔”
(معارف القرآن، جلد 3، صفحہ 58-60 کے ملاحظات کے مطابق خلاصہ)

یعنی ووٹ دینا صرف دنیاوی فیصلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری اور شرعی امانت ہے۔ اگر ووٹ کے نتیجے میں کوئی ظالم، فاسق یا فرقہ پرست طاقت حاصل کر لے اور وہ کمزوروں پر ظلم کرے، تو اس ظلم میں ووٹ دینے والا بھی شریک سمجھا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ ہو۔

حالیہ انتخابی اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کل اراکین کی تعداد تقریباً 4,850 ہے۔ ان میں سے تقریباً 1,994 (41٪) نے اپنے خلاف درج شدہ مقدمات کی تفصیل ظاہر کی ہے — جن میں 1,283 (26٪) سنگین نوعیت کے اور 711 (15٪) نسبتاً ہلکی نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں جو انتخابی حلف ناموں یا عدالتوں میں ریکارڈ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جاتی، خصوصاً جب متاثرہ فرد کمزور یا غیر مؤثر حیثیت رکھتا ہو، یا جب سیاسی دباؤ پولیس کے راستے میں حائل ہو۔ اسی تناظر میں یہ قیاس ممکن ہے کہ اصل شرح ظاہر کردہ 41٪ سے کہیں زیادہ — ممکنہ طور پر 45٪ تا 50٪ کے درمیان — ہو سکتی ہے۔

یہ بات فقہی اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ جب اقتدار کے مناصب پر ایسے افراد پہنچیں جن کے دامن پر مجرمانہ الزامات ہوں تو ووٹ دینے والوں کی شرعی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ووٹ دیتے وقت تحقیق، دیانت اور زمینی حقیقتوں کا گہرا مطالعہ لازم ہے۔

 موجودہ حالات میں ووٹ دینے کا صحیح شرعی و عملی طریقہ

ملک کے موجودہ حالات، خصوصاً صوبہ بہار میں جہاں فرقہ واریت اور اقتدار کی سیاست نے عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے، ووٹ دینے سے پہلے ہر شہری — بالخصوص اہلِ ایمان — کو غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ذیل میں تین ترجیحات بیان کی جاتی ہیں:

1️⃣ پہلا درجہ: مضبوط آزاد امیدوار (Independent Candidate)
اگر آپ کے حلقے میں کوئی دیانت دار، تعلیم یافتہ اور خدمت گزار آزاد امیدوار موجود ہو، جس پر اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی فرقہ پرست جماعت کی حمایت نہیں کرے گا، تو ایسے امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام اس سے تحریری عہد یا اخباری بیان لیں کہ وہ کسی ظالمانہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گا۔

2️⃣ دوسرا درجہ: قابلِ بھروسہ سیکولر امیدوار
اگر آزاد امیدوار کمزور ہو یا جیتنے کے امکانات نہ ہوں، تو ایسے سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہے جس کا ماضی صاف ہو، جو عوامی مفاد کا حامی ہو، اور جس پر فرقہ واریت یا بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں۔ ایسے امیدوار سے بھی تحریری وعدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ اقلیتوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔

3️⃣ تیسرا درجہ: استثنائی صورت میں فرقہ پرست امیدوار
اگر متبادل امیدوار کمزور ہوں اور فرقہ پرست جماعت کا امیدوار شخصی طور پر نیک، شفاف اور علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہو، تو صرف تحریری عہد و بیان کی صورت میں ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ درجہ نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔
اسلامی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل و اصلاح ہے۔ ووٹ دینے سے پہلے یاد رکھیں کہ یہ عمل اللہ کی عدالت میں گواہی کے مترادف ہے۔ ووٹ صرف اسی کو دیا جائے جو:

1. عوامی اعتماد کا اہل ہو۔

2. ظلم سے پاک سوچ رکھتا ہو۔

3. کمزوروں اور اقلیتوں کی عزت و سلامتی کا ضامن ہو۔

جو لوگ بغیر تحقیق کے صرف پارٹی یا ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، وہ دراصل شہادتِ زور (جھوٹی گواہی) کے مرتکب ہو سکتے ہیں، جس کی قرآن و سنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔

ووٹ امانت ہے، جذبات نہیں۔ اس کے ذریعے آپ صرف کسی امیدوار کو نہیں، بلکہ اپنے ضمیر، اپنی امت اور اپنی آخرت کو بھی گواہی دے رہے ہیں۔ لہٰذا ووٹ دینے سے پہلے غور کیجیے — کہ کہیں آپ کی یہ گواہی ظلم، جھوٹ اور فرقہ پرستی کے پلڑے میں نہ جا پڑے۔

Thursday, October 23, 2025

مسلم معاشرے کی ایک بڑی گندگی۔ محمدامام الدین ندوی ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی

مسلم معاشرے کی ایک بڑی گندگی آپسی جھگڑا 
  محمدامام الدین ندوی
ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی۔


مسلم معاشرے کی بڑی
 گندگیوں میں سےایک بڑی گندگی ان کاآپسی  جھگڑا،اورتکرارہے۔ یہ جھگڑےاکثروبیشتر سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے نتیجے میں رونماہوتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں آپسی بات چیت ہفتوں،مہینوں،بل کہ برسوں بند ہوجاتے ہیں۔سلام کلام،کھان پان،سب بند ہوجاتےہیں۔لوگ ایک دوسرے کی پرچھائی تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے ہیں۔اس سے گھر کے بڑے ہی نہیں بل کہ چھوٹے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ان کے لئے بھی گھرکا دروازہ بند ہوجاتاہے۔گھرمیں بچے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل کود سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔
    اس جگڑے کا اثرسماج ومعاشرے پر پڑتاہے۔معاشرے میں ٹوٹ،پھوٹ،کمزوری،اور آپسی بکھراؤپیدا ہوجاتاہے۔دشمنی چور دروازے سے داخل ہوتی ہے۔سماج آپسی رنجش کا شکار ہوجاتاہے۔آپسی بھائی چارہ ختم ہوجاتاہے۔اورمحبت کی بہ بجائےنفرت جنم لیتی ہے۔
     ایسے موقع پر اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔سورہ حجرات میں ہے" اے ایمان والواگرتمہارے پاس کوئی فاجر کوئی خبرلائے تو اس کی چھان بین ( تحقیق)کرلو "
     چھان بین  اور تحقیق کرنے سے معاملہ کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔اور انسان کی بد ظنی اور بدگمانی ختم ہوجاتی ہے۔کس کی کیاغلطی ہے یہ بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔جولوگ ایک دوسرےکولڑانا چاہتے ہیں ان کا کردا جھلکنے لگتاہےاور چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔
      معاملے کی تحقیق سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ نادانی میں کئے ہوئے اقدام پر شرمندگی ہوتی ہے اور  آدمی سدا کےلئے ایسے کام سے باز آجاتاہے۔لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کا چہرہ کھل کر سامنے  آجاتا ہے۔معاشرہ تباہی سے بچ جاتاہے۔
      لڑائی،جھگڑے جیسی گندگی سے انسان کو بچنا چاہئے۔اس سے آپسی بھائی چارہ ختم ہوجاتاہے۔اس سے آپسی محبت ختم ہوجاتی ہے اور نفرت کے شعلے میں انسان بلاوجہ جلتاہے۔ 
       اللہ تعالی نے آپسی جھگڑے سے بچنے کو کہا ہے۔اور بڑی تاکید کی ہے۔فرمایا" الله اور اس کے رسول کی بات مانوں اور آپس میں نراع پیدانہ کرو ( اگرآپس میں لڑوگے) تو کمزور پڑ جاؤگےاور تمہاری ہوا نکل جائے گی( تم بےوزن ہوجاؤگے) صبر کرو الله تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے۔
       اول لڑنا توہےہی نہیں۔اوراگر لڑائی ہوبھی جائےتواسلامی تعلیمات کاسہارالیناچاہئے
    اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنا ہرصاحب ایمان کا کام ہے۔اوراسلامی احکام کے سامنے بلا چوں چرا اپنے کو ڈال دینا تعمیل احکام ہے۔
     اگر آپسی جھگڑا ہوجائے تو صلح صفائی کا راستہ اختیار کیا جائے یہی قرآن کا حکم ہے۔لوگ عموما عدالت کاسہارالیتے ہیں اور ایک دوسرے پر مقدمات چلاتے ہیں۔جبکہ تھک ہارکر فریقین ایک نہ ایک دن صلح کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں ۔
       اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے" بیشک مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو تم ان کے مابین صلح کراؤ" ( سورہ حجرات)
    صلح کرانا یہ سب سے اچھاتعاون ومدد ہے۔اس سے گھر برباد نہیں ہوتا ہے۔اس لئے اللہ کا فرمان ہے " بھلائی اور نیکی کے کاموں میں مددگار بنو گناہوں اور زیادتیوں کے کاموں میں مددگار نہ بنو"(  سورہ مائدہ)
    جب مسلمانوں کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑےہوجائیں توایسے موقع سے انسان کو تین دن سے زیادہ بات چیت بند نہیں کرناچاہئے۔تین دن سے زیادہ بات چیت بند کرنے سے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم نے منع فرمایاہے۔
     حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں فرماتے ہیں کہ آقا صلی الله عليه وسلم نے فرمایا" آپس میں قطع تعلق پیدا نہ کرو،اورایک دوسرے کے پیچھے نہ پڑو،اورآپس میں بغض نہ رکھو،اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے جلو،اور الله کے بندوں آپس میں بھائی بن جاؤ،کسی مسلمان کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سےتین دن سے زیادہ بات چیت بند رکھے" ( بخاری ومسلم)
    جب آدمی آپس میں لڑ جاتاہے اور کہیں آمناسامنا ہوتاہے تو ایک دوسرے سے کٹ کے نکلتاہے ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتاہے۔جبکہ آقا صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے۔حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ راوی ہیں آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ  چھوڑ دے( بات چیت بندکردے)دونوں آپس میں ملتے ہوں تو یہ اس سے احتراض کرتاہے اور وہ اس سے احتراز کرتا ہے ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے"( بخاری ومسلم)
      جن لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان کی مغفرت کے دروازے ان پر بند ہوجاتے ہیں۔الله تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرتاہے جب تک کہ وہ آپس میں صلح نہ کرلیں۔
      حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایاکہ" ہر سموار اور جمعرات کو بندوں کےاعمال پیش کئے جاتے ہیں چنانچہ الله تعالى  ہر اس آدمی کی مغفرت فرمادیتاہے جو الله تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتاہو سوائے ان دوآدمی کے جن کے درمیان دشمنی ہو تو الله تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرماتاہے ایسے آدمی کے بارے میں الله فرماتا ہے کہ ان دونوں کوچھوڑ دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔"( مسلم شریف)
     آپس میں لڑوانے اور جھگڑے پیدا کرانے میں شیطن مردود کا بھی دخل ہے۔وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر لوگوں کے دلوں کو آپس میں بدلنے اور قطع تعلق پیدا کرنے کی کوششیں کرتاہے۔لوگوں کے دلوں میں فسادوبگاڑ  پیداکراتاہے۔اس پر بھی لوگوں کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
            حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نےنبی صلی الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جزیرۃ العرب میں شیطان مایوس ہوچکاہے اس بات سے  کہ لوگ اس کی عبادت کریں،(لیکن وہ اس بات سے مایوس نہیں ہوا ہے کہ) وہ لوگوں کے درمیان بگاڑ پیداکراتارہے"( مسلم شریف)
      جب آپس میں جھگڑاہوجائے اور تین دن سے زیادہ بات بند ہوجائے،قطع تعلق ہوجائے اور اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جہنمی ہے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
          حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم  نے فرمایاکہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ  چھوڑدے ،چنانچہ تین دن سے زیاد بات بند کردے اور انتقال ہوجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا"( ابوداؤد شریف)
         مسلمانوں میں جہالت عام ہے۔بے دینی بھی عروج پر ہے۔الله ورسول سے رشتہ بھی کمزور ہے اسے دین کی  سمجھ نہیں آتی ہے یا آتی بھی ہے تو انا اسے جھکنے نہیں دیتی ہی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بسااوقات سال سال بھر قطع تعلق رہتاہے۔بات چیت بند رہتی ہے۔ایسے شخص کے متعلق بڑی سخت وعید آئی ہے۔
        حضرت ابو خراش کی روایت ہے انہوں نے نبی صلی الله عليه وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ" جو شخص اپنے بھائی سے ایک سال تک بات چیت بند رکھے تو وہ شخص ظلما قتل کرنے والے کی طرح ہے"( ابوداؤد شریف)
      یعنی جس آدمی نے اپنے مسلمان بھائی سے سال بھر تک بات چیت بند کردی وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ظلما کسی کوقتل کیاہو۔
    مذکورہ بالا تمام آیات وروایات سے معلوم ہواکہ اگر کسی کے بیچ لڑائی جھگڑا ہوجائے تو جتنا جلد ہوسکے آپس میں تعلقات بحال کرلے ۔فرمان رسول صلی الله عليه وسلم کی قطعی خلاف ورزی نہ کرے۔یہ چیز انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔
       مسلم معاشرہ ان گندگیوں میں بہت آگے ہے ۔یہاں مونچھ کی لڑائی بہت زیادہ ہے انا کا بھوت سر چڑھ کے بولتاہے۔خون میں گرمی زیادہ ہے جو جھکنے نہیں دیتا ہے جبکہ کہا گیاہے کہ جو الله تعالیٰ کے لئے جھکتاہے الله تعالیٰ اسے رفعت عطا فرماتاہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کوآپسی بھائی چارہ عطافرمائے نفرت کی جگہ محبت بانٹنے والا بنائے۔اور لڑائی جھگڑے جیسی گندگیوں سے حفاظت فرماٹے۔آمین۔
رابطہ-9801905853
  تاریخ-1-5-1447 
24-10-2025

Sunday, October 19, 2025

یادوں کے چراغ (جلد ششم) مولانا رضوان احمد ندوی معاون مدیر ہفت روزہ نقیب پٹنہ

یادوں کے چراغ (جلد ششم) 

مولانا رضوان احمد ندوی 
معاون مدیر ہفت روزہ نقیب پٹنہ

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم اور ہفتہ وار جریدہ نقیب" پٹنہ کے مدیر حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی ہمہ جہت شخصیت علم وادب اور فکر و فن کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں، انہوں نے اپنی علمی و فکری اور عملی تحریکات سے ملک میں ایک خاص پہچان بنائی ہے، بلاشبہ ان کی ارتقائی سمت و رفتار قابل رشک ہے، ساتھ ہی امارت شرعیہ کے میدان عمل نے بھی ان کے پوشیدہ جوہر کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص کر ہفتہ وار نقیب کی ادارت نے ان کے قلمی جو ہر کو دو آشتہ کر دیا، جس میں ان کے اداریے، تبصرے و تجزیے برابر شائع ہوتے رہتے ہیں، نقیب کا ایک مستقل کالم " یادوں کے چراغ" کے عنوان سے ہے، جس میں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے اصحاب کا شخصی خاکہ پیش کیا جاتا ہے، زیر تبصرہ کتاب" یادوں کے چراغ “ انہیں سوانحی خاکوں کا چھٹا مجموعہ ہے، جو اسم با مسمی ہے، اس مجموعہ میں انہوں نے عہد حاضر کی بعض ممتاز شخصیتوں کے ساتھ قدرے گمنام اصحاب کے بارے میں اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کیا جن سے وہ خود ملے یا ان کو قریب سے دیکھا ہے، اس فہرست میں ہر گروہ، ہر طبقہ اور ہر مسلک کے لوگ شامل ہیں، اس طرح یہ کتاب 2024ء اور 2025ء کی چند نامور مرحوم شخصیات کا ایک مختصر سا انسائیکلو پیڈیا ہے۔
در اصل یہ کتاب چار ابواب و فصول پر مشتمل ہے، باب اول میں 39 علماء و مشائخ اور قراء کے سوانحی خاکے اور ان کی علمی زندگی کی روداد پر مشتمل ہے، باب دوم میں 11/معروف ادباء ونقاد اور دانشوران کی علمی وادبی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا ہے، باب سوم میں 4 بھولے بسرے اور گمنام در نایاب کی خدمات اور ان کے کارہائے نمایاں کا تعارف کرایا گیا ہے، تاکہ ان کی زندگی کے مشاہدات سے سبق لیا جائے اور باب چہارم میں دو چند زندہ شخصیات کی سوز زندگی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ ان کی دعا ئیں ملتی رہیں ، کتاب پر امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت اور دار العلوم وقف دیو بند کے مؤقر استاد حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی
قاسمی صاحب کا بڑا ہی عالمانہ و فاضلانہ گرانقدر مقدمہ" یادوں کا سحر " کے نام سے شریک اشاعت ہے، جس میں انہوں نے اپنے جن جذبات واحساسات کی ترجمانی کی ہے، اس سے کتاب کے خدو خال نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں، حضرت موصوف نے لکھا کہ زیر نظر کتاب " یادوں کے چراغ" خاکوں کا دل کش گلدستہ ہے جس میں ہر طرح کے پھول شامل ہیں۔ اس میں جن اکابرین، دانشوران اور بزرگوں کو روشن کیا گیا ہے، ان کو پڑھ کر خیالات اور عملی زندگی میں بہاؤ تیز ہو جاتا ہے، خوشی اور غموں کی زنجیر سے بندھی ان کی یادیں، کارنامے اور زندگی کا جہد مسلسل ہمیں بہت کچھ دیتا ہے، جس زاویے سے پڑھیں گے، رشک و تحسین کا احساس ہوگا اور ہمارے ارادوں اور جذبات کو حوصلہ ملے گا۔ یادوں کی یہ خوبصورتی ذہن پر دستک دے گی اور ہمیشہ نعمت خداوندی کا احساس کراتی رہے گی اور ہم بجھے ہوئے ارادوں کے دیا جلانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ کتاب نہ صرف بڑوں کے بڑکپن اور ان کی زندگی سے روبرو کراتی ہے، بلکہ امیدوں اور حسرتوں کی نئی دنیا کی بھی سیر کراتی ہے۔ مفتی صاحب نے یادوں کا جو چراغ روشن کیا ہے، اس کی لو بھی مدھم نہیں ہوگی اور یادوں کے اس سحر میں لوگ کھو جائیں گے، کیونکہ اس میں تجربات اور تاریخ کے ساتھ انوکھا پیغام بھی ہے۔ ہماری زندگی کا ہر دن یادوں کے نقش بناتا ہے، لیکن زندگی کے سفر میں چند ایسی بھی یادیں ہوتی ہیں جو اپنی خاصیت و اعتبار کے لحاظ سے لاثانیت کا درجہ رکھتی ہیں مفتی صاحب نے ایسے پرکھوں کے اقدار، روایات کو زندہ جاوید بنانے کی سعادت حاصل کی ہے، انہوں نے مرحومین کے ساتھ یہ قید حیات کچھ چاند ستاروں کو بھی روشن کیا ہے اور ان کی زندگیوں کو بابرکت بنانے کی بھی دعائیں کی ہیں (ص: 12)
 مصنف کتاب نے آغاز کتاب میں کتاب کے اجزا ترکیبی پر بھی روشنی دالی ہے، تذکرے، سوانح نگاری اور خاکہ نگاری کے مشمولات کی بھی وضاحت کر کے قیل و قال کے دروازے بند کر دئے اور وضاحت کر دی کہ " یہ مضامین اصلاً سوانحی خاکے ہی ہیں اور ان کے اجزاء ترکیبی وہی ہیں جو تذکرے ، سوانح اور خاکوں کے ہوا کرتے ہیں، (ص: 9) اس سوانحی خاکہ میں مصنف نے اپنی ذہانت و طباعی سے کہیں کہیں نئے نئے نکتے بھی پیدا کئے ہیں اور حکمت و دانائی کے ساتھ کسی مصلحت کے بغیر سرجری کا فریضہ بھی انجام دیا ہے، مثلاً مفتی عزیز الرحمن شاہد چمپارنی کے حالات زندگی لکھتے ہوئے ایک جگہ لکھا کہ مولانا نفسیاتی اعتبار سے جواں سالی سے ہی سیمابی کیفیت کا شکار تھے، اس لیے بہت دنوں تک ایک جگہ ٹکنے کا مزاج نہیں تھا، مزاج میں سختی بھی تھی، اس لیے ان کو کم لوگ جھیل پاتے تھے، اپنی مخصوص افتاد طبع کی وجہ سے ان کے ملنے والوں کا حلقہ بھی بڑا مختصر تھا (ص: 67) آپ کو اس طرح کی متعدد مثالیں جا بجا ملیں گی جن سے مفتی صاحب کی نکتہ آفرینی نمایاں ہوتی ہے، ہر کتاب کا سب سے زیادہ دشوار گذار اور صبر آزما مرحلہ اس کی طباعت و اشاعت کا ہوتا ہے، جن کی رسائی دور تک ہوتی ہے۔ ان کے حصہ میں ہی یہ سعادت نصیب ہوتی ۔ ہے اور کھٹا کھٹ کتا بیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں ، ما شاء اللہ مفتی صاحب کی اب تک چھوٹی بڑی 54/کتا بیں چھپ چکی ہیں ، جو تقریباً سب اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں، اس کتاب کی طباعت کیلئے مولا نا محمد نصیر الدین مظاهری ناظم دار القرآن مدرسہ عظمتیہ نواده نے نہ صرف دل کھول کر حصہ لیا بلکہ محبت و مروت کا قرض بھی اتار دیا، جس کیلئے وہ ہماری طرف سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔
نقیب کے ان بکھرے مضامین کو دو جواں سال عالم دین اور کمپوزنگ پر فنی مہارت رکھنے والے مولانا راشد العزیری ندوی ( سابق رفیق کار شعبہ کمپیوٹر مرکزی دارالقضاء ) اور مولانا ضیاء الاسلام قاسمی نے خوش سلیقگی سے جمع کر دیا ، پھر مصنف کتاب نے ان مضامین کو تہذیب و تنقیح کے بعد کتابی شکل میں شائع کرا دیا ، کتاب کی طباعت صاف ستھری اور روشن ہے ، 224 صفحات پر مشتمل اس مجموعہ کی قیمت دو سوروپے رکھی گئی ہے، جو کسی قدر مناسب ہے، جن لوگوں کو سوانحی خاکہ کے مطالعہ سے دلچسپی ہو ان کیلئے اس کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا، توقع ہے کہ کتاب کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی علم دوست حضرات دوسو روپے نا شر کتاب کے پتہ پر بھیج کر طلب کریں یا براہ راست مصنف کتاب کے موبائل نمبر 9304919720 پر رابطہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔

Tuesday, October 7, 2025

علم واخلاق کی اعلی ظرف شخصیت ڈاکٹر نذیر احمد ندوی سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

*علم واخلاق کی اعلی ظرف شخصیت*

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور  

آج 7 اکتوبر 2025ء بوقت دوپہر یہ خبر اشکبار کرگئی کہ مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مایہ ناز استاذ وادیب،زبان وادب کے رمز شناس ، عربی ادب کے اہم ستون مولانا ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندویؒ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب ﷲ کو پیارے ہوگئے،اور اپنی زندگی کے بیشتر ایام ندوہ اور ابنائے ندوہ کے نام لکھ گئے۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر 

آج دار العلوم ندوة العلماء کا ذرہ ذرہ، پتہ پتہ،بوٹہ بوٹہ غم واندوہ کی صورت بنا ہوا ہے کیونکہ اس کا ایک مخلص وجفاکش، خلیق و ملنسار،نرم گو مردِ ملنسار آج اچانک الوداع کہہ گیا۔

ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ نام تھا شرافت و انسانیت کا،سذاجت وانکساری کا،بے نفسی ومجاہدہ کا،درس وافادہ کا،علم وادب کا،متانت وسنجیدگی کا،کرداروگفتار
استغناء وبے نیازی کا اور بے پناہ سادگی کا۔

 وہ نرم دم گفتگو کا مجموعہ تھے،علم میں گم تھے،کم گو بھی تھے،عمل کے لئے ہمہ وقت کوشاں تھے،ہمہ جہت مسکراہٹ بکھیرنے کافن ان کے پاس تھا، اخلاق کی شمع چہار سو جلاتے تھے،نفاست ان کا مزاج تھا،امراض نے اس قدر جکڑا کہ اب طبابت سے بھی ان کا یارانہ تھا۔

جی ہاں! نرم گفتاری ان کی شان تھی،محنت ان کی پہچان تھی،سلیقہ وشعار ان کی گھٹی میں پیوست تھا،وہ باادب تھے طلباء کے ساتھ بھی ادب ولطافت سے پیش آتے تھے،میکدۀ شبلی وسلیماں میں ان کی شان جداگانہ تھی پروانہ وار طلباء کا ہجوم ان کے درودیوار پر رہتا،لیکن وہ ہنستے مسکراتے طلباء کو قلم پکڑنا سکھاتے، کسی کے سامنے عربی زبان  کا دسترخوان سجاکر رکھتے،کسی کو انگلش زبان سے واقف کراتے، نہ جانے کتنوں کو انہوں نے ترجمہ وتعریب سے واقف کرایا، وہ ہر فن مولی تھے لیکن ان کی پہچان عربی وانگلش کے ماہر کے طور پر ہوئی،راستہ سے گزرتے ہوئے سوالات کی بوچھار رہتی لیکن خندہ پیشانی سے جواب دیتے،اور چلتے جاتے،ساتھ میں مسکراتے جاتے ۔
ڈاکٹر نذیر احمد اپنے علم وادب میں بے نظیر تھے، اور عمل ویکسوئی میں بے مثیل تھے،تنظیم اوقات اور کثرت کار میں بے بدل تھے،اخلاق ومتانت میں یگانہ تھے۔

وہ دارالعلوم ندوة العلماء کے افق پر براجمان علم وادب کے رواں دواں قافلے کے ممتازفردفریدتھے،
صاحب علم و تدبر تھے،ان کے علم پر اکابرین ندوہ بھی نازاں تھے،اور وہ معتمد بھی تھے، یہاں تک ادیبِ دوراں حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندویؒ بھی ان کی عربی صلاحیت کے معترف تھے جو حضرات مولانا حسنیؒ کے اس مزاج سے واقف ہوں وہ بآسانی ڈاکٹر صاحبؒ کی عربی صلاحیت وقدرت کا اندازہ لگاسکتے ہیں،
ندوہ میں آپ کی پہچان ایک مخلص وجفاکش استاذ کے طور پر ہوئی،طلباء بھی آپ سے بے تحاشا محبت کرتے اور جرعہ نوشی میں مسابقت کرتے،آپ کا درس بڑا مقبول اور کافی وشافی ہوتا تھا،کتاب کا حق ادا کرتے،انہوں نے اپنی زندگی کے اکثر ایام ندوہ کے لئے صرف کئے،اور مستقبل میں علم و ادب کےسپاہی تیار کرنے میں اپنا بیش قیمت وقت نچھاور کیا، وہ بے لوث وبے ضرر تھے۔

وہ صرف کتاب وقلم اور درس وتدریس تک محدود نہ تھےبلکہ اپنی دل کی دنیا کو آباد کرنے کے لئے وہ بزرگان دین سے بڑی گہری عقیدت ومحبت اور پختہ تعلق رکھتے تھے،اپنا قیمتی وقت وہاں گزارتے تھے،ہمارے زمانۀ طالب علمی میں اپنے خالی گھنٹہ میں ہم حضرت مولانا سید عبد ﷲ حسنی ندویؒ کے الرائد دفتر چلے جاتے تو مولانا بھی اکثر تشریف لاتے اور ایسے باادب ہوکر بیٹھتے گویا کوئی ندوہ کا طالب علم بیٹھا ہو جبکہ مولانا حسنیؒ بھی کبھی کبھی گویا ہوتے، مولانا صحیح سے بیٹھ جائیے، مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ کی مجلس میں عشاء بعد اکثر تشریف فرما ہوتے،مفسر ندوہ مولانا برہان الدین سنبھلیؒ اور دیگر بڑے اساتذہ کے پاس حاضری دیتے،اب ناظم ندوہ حضرت  مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی دامت برکاتہم کی مجالس میں شرکت کرتے، اور ان اکابرین کی نصائح کو نہاخانۀ دل میں جگہ دیتے، ہمارے زمانۀ طالب علمی میں رائے پور وسہارن پور کا ذکرکرتے اور یہاں کے بزرگان سے ملاقات کی تمنا کرتے، بعدمیں آپ یہاں تشریف بھی لائے، اور یہاں خلوت وجلوت کے مکینوں سے دید وشنید کی، ان کی حیات مقصد کو پانے اورکثرت کار کا نمونہ تھی،وقت کی تنظیم میں بڑے محتاط تھے اسی وجہ سے وہ اختصاص کے اس مقام پر پہنچے کہ کتاب وقلم سے تعلق رکھنے والے افرادآپ سے واقف ہیں،آج دنیا سے قطع تعلق کرکے وہ اپنے رب کے حضور اپنی خدمات کا صلہ پانے کے لئے چل بسے، خداتعالی ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور ان کو بلند مقام سے نوازے۔آمین

Monday, October 6, 2025

بے چینی اور بے سکونی کا علاج محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

بے چینی اور بے سکونی کا علاج 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 
9506600725


   آج انسانی زندگی میں بے سکونی، اضطراب اور ذہنی بے چینی ایک عام مگر گہرا مسئلہ بنا ہوا ہے، جو مادی ترقی کے باوجود دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ جدید دور کی مصروفیات، فکری الجھنیں اور روحانی خلا انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔ تاہم، قرآن مجید ایک ایسی کامل کتاب ہے جو نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ ہے، بلکہ بے چینی جیسے باطنی امراض کا حقیقی علاج بھی پیش کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و سنت اور جدید علم نفسیات کی روشنی میں بے سکونی کے اسباب، اس کے اثرات اور ان کا قرآنی حل بیان کریں گے، تاکہ دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان حاصل ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" (یاد رکھو! دلوں کا اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں ہے)۔ یہ مضمون اسی نورِ ہدایت کی روشنی میں ایک عملی راہنمائی فراہم کرے گا۔
دوستو !!!!!!!
 انسان کو سماجی حیوان بھی کہا جاتا ہے، وہ کتنی ہی قرابت مندیوں اور رشتہ داریوں کی ڈوری اور بندھن سے بندھا ہو ا ہے، ان ہی رشتوں سے خاندان، برادری اور قبیلہ وجود میں آتا ہے، اور متعدد خاندان اور برادری مل کر جب ایک جگہ قیام کرتے ہیں, تو اس سے معاشرہ،سماج اور سوسائٹی کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ سماج اور قوم میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، سلجھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور شور شرابے والے بھی، پرسکون بھی، اور پرجوش اور پر شور بھی، برد بار، متحمل مزاج اور شگفتہ مزاج بھی اور عجلت پسند، جلد باز اور منفعل مزاج بھی، صابر و شاکر اور قانع بھی اور ناشکرا اور احسان فراموش بھی، جاد مستقیم پر قائم بھی اور وہ لوگ بھی جو صحیح راستے سے منحرف ہیں۔ اس لیے سماج میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور اچھے اور برے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ 
   ان چیزوں اور ان واقعات سے انسان زندگی کا گہرا ربط و تعلق ہے، انسان چاہے نہ چاہے وہ اپنے آپ کو اس سے جدا اور الگ نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے ہر دور اور ہر زمانہ میں معاشرہ اور سماج کی اصلاح کی طرف جنہیں توفیق ملتی رہی، توجہ دیتے رہے اور آج بھی ہر طرف اصلاح معاشرہ اور سماج سدھار کی کوشیش بہت زوروں پر ہیں، اس کے لیے مقامی، ملکی اور بین الاقوامی جمعیتیں اور تنظیمیں کام کر رہی ہیں، فرد کی سطح پر بھی کام ہورہا ہے اور جماعت اور تنظیم کی سطح پر بھی۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس کا فائدہ جس انداز اور جس کیفیت اور کمیت میں ہونا چاہیے وہ بالکل نہیں ہورہا ہے، اس کی واحد وجہ ہے کہ خدا کے یقین، خدا کی بھیجی ہوئی شریعت کی پیروی اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے بغیر سماج کی حقیقی اصلاح نہیں ہوسکتی، اس کے بغیر جو محنتیں کوششیں اور کاوشیں کی جاتی ہیں، ان کی مثال درخت کی جڑ کے بجائے اس کے پتوں اور ٹہنیوں پر پانی ڈالنے کے مترادف ہے۔    
     اسی پس منطر میں خاکسار سوشل میڈیا پر روزانہ ایک کالم آج کا پیغام کے نام سے لکھتا ہے، جس میں سماجی مسائل، سیاسی اور معاشرتی موضوعات کو بھی خاص طور پر اہمیت دی جاتی ہے، خدا کا شکر ہے کہ لوگ اس کو پسند کرتے ہیں اور اخبار و رسائل والے نقل بھی کرتے ہیں۔ 
    آج کے پیغام میں ہم ایک عمومی بیماری، مسئلہ اور دشواری کی جانب اشارہ کریں گے اور اس کا نسخہ اور حل بھی بتائیں گے۔ 
     آج نوے فیصد سے زیادہ لوگ بے سکونی بے اطمنانی اور بے قلی کے شکار ہیں، آپ کو اکثر لوگ بے سکون اور غیر مطمئن نظر آئیں گے، زبان پر شکوہ و شکایت ملی گی۔ ڈپریشن، ذہنی تناؤ بے سکونی آج اکثر لوگوں کا مسئلہ ہے۔ کوئی اپنی بیوی سے پریشان، کوئی اپنے شوہر سے پریشان، کسی کو اپنی اولاد اور پڑوسی سے شکایت، کوئی اپنے ماتحتوں سے پریشان، کوئی اپنے ذمہ داروں سے نالاں، کوئی اپنی آمدنی کے اضافہ کے لیے پریشان، کوئی دوسرے کی خوشحالی سے پریشان، کوئی بیماری سے پریشان، تو کوئی اپنی فیملی لائف سے تنگ عاجز اور پریشان،غرض ہر شخص کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ اور پریشانی، آپ کو گنتی کے چند لوگ ملیں گے جن کی زبان پر آپ قناعت،توکل، اورصبر و شکر کے کلمات پائیں گے اور جن کی زبان سے یہ جملہ نکل رہا ہو کہ الحمدللہ بہت پرسکون اور خوشگوار زندگی گزر رہی ہے۔ یہ مرض اتنا عام اور بیماری اس قدر متعدی ہے کہ مہذب غیر مہذب خواندہ اور غیر خواندہ امیر اور غریب شہری اور غیر شہری عجمی اور عربی شرقی اور غربی سب اس میں مبتلا ہیں۔ 
      ان بیماریوں کا واحد علاج اور ان مسئلوں کا واحد حل ہے کہ انسان خدا کی یاد میں اور خدا کے ذکر میں مشغول ہوجائے اور شکر و احسان شناسی،صبر و قناعت کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لے، کیونکہ ذکر اللہ ہی دلوں کے سکون کا ذریعہ اور ڈپریشن اور بے سکونی کا علاج ہے۔ ارشاد خدا وندی ہے،، الا بذکر اللہ تطمئین القلوب،، سنو اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ 
      سکون دل اور اطمنان قلب کا ایک نبوی ﷺ نسخہ جو بہت کارگر ہے اور بے سکونی کا علاج بھی کہ دینی اور مذھبی زندگی میں اپنے سے بلند انسان پر نظر کرو کہ کاش ہم بھی ان ہی کی طرح عبادت کرلیتے، تلاوت ذکر و تسبیح میں لگ جاتے اور دنیاوی زندگی میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھو کہ ہمیں تو اتنا ملا ہے، ہمارے پاس تو اتنے وسائل ہیں، ہمیں تو اچھا خاندان اچھی فیملی اور اچھی صحت ملی ہے،اور سامنے والے کے پاس تو ہمارے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے۔ جب انسان یہ اصول بنا لے گا تو وہ کبھی پریشان اور بے سکون نہیں ہوگا اور خوشحال اور خوشگوار زندگی گزارنا اس کے لیے آسان ہوجائے گا۔۔ 
    لیکن افسوس کہ ہم ڈاکٹر کے بتائے ہوئے نسخے اور پرہیز پر تو مکمل عمل کرتے ہیں اور اس پر عمل ضروری اور لازمی سمجھتے ہیں۔ لیکن طبیب مطلق اور حکیم مطلق کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل نہیں کرتے، ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب بے سکونی کے شکار اور ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ آج کی اس تحریر کو ایک موثر واقعہ پر ختم کرتے ہیں۔ اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد احساس ہوگا کہ الحمدللہ ہم تو لاکھوں سے بہتر اور پرسکون و خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، لوگ تو ہم زیادہ مسائل اور مشکلات کے شکار ہیں۔۔۔۔ 
     ایک 55 سالہ شخص ڈِپریشن کا شکار تھا، اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات سے ملاقات کی، بیوی نے کہا کہ میرا خاوِند شدید ڈِپریشن میں ہے, براہ کرم مدد کریں. ڈاکٹر نے اپنی مشاورت شروع کی، اس نے کچھ ذاتی باتیں پوچھی اور اُس کی بیوی کو باہر بیٹھنے کو کہا-
 صاحب بولے میں بہت پریشان ہوں، دراصل میں پریشانیوں سے مغلُوب ہوں، ملازمت کا دباؤ، بچوں کی تعلیم اور ملازمت کا تناؤ، ہوم لون، کار لون، مجھے کچھ پسند نہیں دنیا مجھے پاگل سمجھتی ہے لیکن میرے پاس اتنا سامان نہیں جتنا کہ ایک کارتوس میں گولِیاں، میں بہت اُداس اور پریشان ہوں. یہ کہہ کر اس نے اپنی پوری زندگی کی کتاب ڈاکٹر کے سامنے کھول دی۔ 
پھر ڈاکٹر نے کچھ سوچا اور پوچھا کہ آپ نے دسویں جماعت کس اِسکول میں پڑھی؟
اُس شخص نے اسے اِسکول کا نام بتایا، ڈاکٹر نے کہا آپ کو اس اِسکول میں جانا ہے پھر اپنے اسکول سے آپ کو اپنی دسویں کلاس کا رجسٹر تلاش کرنا ہے اور اپنےساتھیوں کے نام تلاش کرنے ہیں اور ان کی موجودہ خیریت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنی ھے.۔ 
ایک ڈائری میں تمام معلومات لکھیں اور ایک مہینے کے بعد مجھ سے ملیں.
وہ شخص اپنے اسکول گیا، رجسٹر ڈھونڈنے میں کامیاب رہا، اور اسے کاپی کروایا،اس میں 120 نام تھے،اس نے ایک مہینے میں دن رات کوشش کی لیکن وہ بمشکل 75 ہم جماعتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں کامیاب رہا. 
ان میں سے 20 مر چُکے تھے, 7 رنڈوے اور 13 طلاق یافتہ تھے, 10 ایسے نکلے جو کہ بات کرنے کے قابل بھی نہیں تھے, 5 اتنے غریب نکلے کہ کوئی ان کا جواب نہ دے سکا, 6 اتنے امیر نکلے کہ اُسے یقین ہی نہیں آیا, کچھ کینسر میں مُبتلا تھے، کچھ فالِج, ذِیابیطس، دمہ یا دل کے مریض تھے، کچھ لوگ بستر پر تھے جن کے ہاتھوں/ٹانگوں یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئی تھیں, کچھ کے بچے پاگل، آوارہ یا بیکار نکلے, ایک جیل میں تھا۔ ایک شخص دو طلاق کے بعد تیسری شادی کی تلاش میں تھا....
ایک ماہ کے اندر دسویں جماعت کا رجسٹر اذِیّت بیان کر رہا تھا.۔ 
ڈاکٹر نے پوچھا اب بتاؤ تمہارا ڈِپریشن کیسا ہے؟.
وہ شخص سمجھ گیا کہ اسے کوئی مُوزِی بیماری نہیں، وہ بھوکا نہیں، اس کا دماغ دُرُست ھے، اسے عدالت، پولیس، وکلاء کا کوئی مسئلہ نہیں، اس کی بیوی اور بچّے بہت اچھے اور صحت مند ھیں، وہ خود بھی صحت مند ھے.
اس شخص کو احساس ہوا کہ واقعی دنیا میں بہت زیادہ دُکھ ہیں، اور وہ بہت سے اذِیّت ناک دُکھوں سے محفُوظ ہے.۔ کہنے والے نے سچ کہا ہے کہ۔۔ 
 دوسروں کی پلیٹوں میں جھانکنے کی عادت چھوڑیں، اپنی پلیٹ کا کھانا پیار سے لیں۔۔۔

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...