محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
روزہ کیا ہے ؟ روزہ در اصل ہماری دنیا کی زندگی کی پہچان اور علامت ہے اور عید ہماری آخرت کی زندگی کی نشانی اور علامت ۔
روزہ گویا امتحان ہے اور عید اس کا انجام اور نتیجہ و ریزلٹ ۔ روزہ مشقت زحمت اور تکلیف و محنت کا دور ہے اور عید آرام اور راحت و خوشی کا دور ۔
روزہ دنیا کی محدودیت کی یاد دہانی کراتا ہے اور عید لا محدود زندگی یعنی جنت کی نشانی ۔
روزہ میں صبح سے شام تک ساری زندگی طرح طرح کی پابندیوں میں گزرتی ہے کہ یہ کرو یہ نہ کرو ،اس وقت تک کھاؤ اور اس وقت تک نہ کھاؤ ،اتنی دیر آرام کرو اور پھر تراویح اور قیام لیل میں مشغول ہو جاؤ ،غرض پورا مہینہ ایک تربیتی اور روحانی ماحول اور ٹریننگ میں گزر جاتا ہے ، محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کی پوری زندگی دوسرے کے قبضے میں ہے ، آدمی اپنی مرضی پر نہیں بلکہ دوسرے کی مرضی پر چلتا ہے ، اس طرح روزہ آدمی کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی نگرانی میں دئے ہوئے ہو اور تمام معاملہ میں خدا کے حکموں کی پابندی کر رہا ہو ۔
اس طرح کے ایک پر مشقت مہینہ کے بعد عید آتا ہے ۔عید کے دن اچانک تمام احکام بدل جاتے ہیں ، رمضان میں روزہ رکھنا فرض تھا ،عید کے دن روزہ رکھنا حرام ، پہلے لازمی ضرورتوں تک پر پابندی لگی ہوئی تھی اور عید کے دن یہ آڈر اور حکم کہ خوشیاں مناؤ گھومو اور رشتہ داروں دوست و احباب سے ملو، یہاں تک کہ غریبوں کے لئے صاحب حیثیت پر صدقئہ فطر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی آج کے دن خوشیوں سے محروم نہ رہیں ۔ یہ گویا آخرت کی تصویر ہے ۔یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جنت میں خدا کے جنتی بندوں سے ہر قسم کی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی ۔ وہ ابدی خوشی کی جنتوں میں داخل کر دئیے جائیں گے ۔
دوستو !
غرض یہ کہ روزہ اور عید کا تعلق محض تقویم کے دو متعین ایّام کا تعلق نہیں، بلکہ یہ انسانی حیات کے دو مرحلوں کی علامت ہے،
ایک امتحان کا اور دوسرا انعام کا؛ ایک محنت کا اور دوسرا راحت کا؛ ایک محدود دنیا کا اور دوسرا لا محدود آخرت کا۔ اسلامی سال کے مقدس مہینے رمضان میں رکھا جانے والا روزہ دراصل انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آشنا کرتا ہے، جبکہ عید الفطر اس جدوجہد کا بابرکت انجام اور ربّ کریم کی طرف سے عطا کردہ خوشی کا اعلان ہے۔
روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ خواہشات کو لگام دینے، نفس کو قابو میں رکھنے اور دل و نگاہ کو پاکیزگی کی طرف موڑنے کا ایک ہمہ گیر تربیتی عمل ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اس میں آسائشیں محدود ہیں اور راحتیں مشروط۔ جس طرح روزہ دار طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنی جائز خواہشات کو بھی مؤخر کر دیتا ہے، اسی طرح مؤمن اپنی پوری زندگی میں بہت سی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرتا ہے۔ یوں روزہ دراصل دنیاوی زندگی کی ایک تمثیل بن جاتا ہے،ایک ایسی زندگی جس میں صبر، ضبط اور استقامت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
اس کے برعکس عید اس صبر و ضبط کی تکمیل کا اعلان ہے۔ عید کی صبح گویا یہ پیغام دیتی ہے کہ جو بندہ آزمائش میں ثابت قدم رہا، اس کے لیے راحت کا سامان ہے؛ جو مشقت میں صابر رہا، اس کے لیے مسرت کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہ دن ہمیں اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آخرت کی زندگی بھی اسی ترتیب پر قائم ہے: دنیا امتحان گاہ ہے اور آخرت جزا و سزا کا میدان۔ اگر رمضان کی راتیں عبادت کی خاموش گواہ ہیں تو عید کی صبح قبولیت اور بخشش کی بشارت ہے۔
روزہ انسان کو اس کی کمزوری کا احساس دلاتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا تجربہ اسے بتاتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کا محتاج ہے، اس کی طاقت محدود اور اس کی ضروریات بے شمار ہیں۔ یہی احساس بندگی کی روح ہے۔ جب یہ بندگی اپنی معراج کو پہنچتی ہے تو عید کی صورت میں شکر اور سرور کا اظہار بن جاتی ہے۔ گویا روزہ انسان کو جھکنا سکھاتا ہے اور عید اسے اٹھا کر عزت و وقار عطا کرتی ہے۔
دنیا کی زندگی بھی کچھ اسی سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ یہاں مشقت ہے، ذمہ داریاں ہیں، نفس اور حالات سے کشمکش ہے۔ لیکن یہی کشمکش انسان کی روح کو جِلا بخشتی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی محنت نہ ہو، کوئی ضبط نہ ہو، کوئی قربانی نہ ہو تو آخرت کی راحت کا مفہوم ہی ماند پڑ جائے۔ روزہ ہمیں اسی فلسفۂ حیات کی عملی تربیت دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ وقتی محرومی دائمی محرومی نہیں، اور وقتی مشقت ابدی راحت کی تمہید ہو سکتی ہے۔
عید دراصل اسی امید کا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک مہینے کی ریاضت کے بعد عید کی خوشی نصیب ہوتی ہے، اسی طرح پوری زندگی کی ریاضت کے بعد جنت کی نعمتیں مؤمن کا انتظار کرتی ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو روزہ دنیا کی محدود ساعتوں کی یاد دہانی ہے اور عید لا محدود حیات کی نوید۔ روزہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ دنیا چند دن کی ہے؛ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل خوشی ان چند دنوں کے بعد آنے والی دائمی زندگی میں ہے۔
آج کی تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ہم روزہ اور عید کو محض عبادت اور تہوار کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ انہیں ایک مکمل فکری و روحانی نظام کے دو مربوط اجزا کے طور پر سمجھیں۔ روزہ بغیر عید کے ادھورا ہے، اور عید بغیر روزہ کے بے معنی۔ ایک میں ضبط ہے تو دوسرے میں شکر؛ ایک میں آنسو ہیں تو دوسرے میں مسکراہٹ؛ ایک میں امتحان ہے تو دوسرے میں انجام۔ یہی ربط و مناسبت دراصل اسلام کے اس جامع تصورِ حیات کی عکاسی کرتی ہے جس میں دنیا اور آخرت ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔
چنانچہ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمیں عید کی خوشی ہی نہیں، آخرت کی کامیابی بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے؛ اور جب ہم عید مناتے ہیں تو ہمیں رمضان کی تربیت اور اس کے تقاضوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہی شعور روزہ اور عید کے باہمی تعلق کو زندہ رکھتا ہے، اور یہی فہم ہماری دنیا کو بھی سنوارتا ہے اور آخرت کو بھی روشن بناتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روزہ اور عید ہماری زندگی کے دو مرحلوں اور دو حیثیتوں کو یاد دلانے کے لیے ہیں، روزہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مرحلہ میں ہمیں کس طرح زندگی گزارنی ہے اور عید ہم کو یہ بتاتی ہے کہ آخرت کے آنے والے مرحلہ میں ہماری زندگی کیسی زندگی ہوگی ۔
No comments:
Post a Comment