Translate

Monday, July 4, 2022

قربانی اللہ کی اطاعت کا عظیم مظہر

 
محمدامام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی 
9801805853
       عید الاضحٰی ہرسال ماہ ذی الحجہ کے دسویں تاریخ کو ادا کیا جاتا ہے۔عیدالاضحٰی سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال،عظیم ترین،سنت ہے ۔یہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔اس طرح کی قربانی نہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی نے دی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد ۔یہ مطالبہ اللہ کا تھا اور اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پورا کرنا تھا۔یہ محیرالعقول فرمائش خالق کائنات کی طرف سے تھا۔جو خود مختار ہے۔پاور فل ہے۔کسی کا محتاج نہیں ہے۔فرمائش بھی ابو الانبیاء سے تھی۔جنہیں شروع سے ہی مختلف امتحانات سے گزرنا پڑا۔یہ فرمائش عجب نوعیت کی تھی۔زروجواہرات،زمین جائیداد،مال ودولت،اپنی جان،کو قربان کرنا نہیں تھا بلکہ بڑھاپے کا سہارا،دل کا ٹکڑا،آنکھ کی ٹھنڈک،مستقبل کاخواب،گھر کی رونق،باپ کا پیار،ماں کی ممتا،صفاومروہ کی،سعی،اور زم زم کے موجد،سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تھا۔عقل انسانی حیران تھی کہ پوری تاریخ انسانی میں اس طرح کا روح فرساں واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ایک باپ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں حقیقت میں ذبح کرے گا؟۔انسانی تاریخ شروع سے آج تک جانوروں کو ذبح کرتے آئی ہے۔بھلا انسان بھی ذبح ہوگا ؟۔اللہ کا ایسا حکم اس سے پہلے کسی کو نہیں ملا۔
       یہ نوٹیفیکیشن اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام جاری ہوا جس کا موضوع حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھا۔
  یہ نوٹیفیکیشن غیر معمولی اور اہم ترین تھا۔جس کے نام جاری ہوا وہ بھی غیر معمولی شخصیت تھی۔اور مضمون بھی غیر معروف تھا۔ 
     حضرت نے اس نوٹیفیکیشن کے مضمون کو اپنے لاڈلے کے سامنے پڑھ سنایا قرآن اس کی شہادت یوں دیتا ہے"یا بنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذاتری "
   بیٹے میں بےخواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں (اللہ کا یہ حکم ہے)تمہاری کیا رائے ہے۔
    بیٹے نے جواب دیا "یا ابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شاءاللہ من الصبرین "
      ابا آپ اس حکم کی تعمیل کیجئے ان شاءاللہ آپ مجھے وفادار پائیں گے۔
    آپسی گفتگو اور رضامندی، کے بعد امتثال حکم خداوندی کی تکمیل کچھ اس طرح کی گئی۔
    باپ بیٹے دونوں سوء منی روانہ ہوئے۔دونوں مکمل تیاری میں گھر سے نکلیں۔اپنے اپنے دائرے میں دونوں برگزیدہ بندے ثابت قدم۔نہ زندگی کے ختم ہونے کا کوئی ملال اور نہ کوئی خوف دہشت۔نہ بیٹے کی جدائی کا غم اور دردوالم اور نہ ہی انقطاع نسل کی کوئی فکر۔بس ایک ہی دھن " اللہ کے حکم کی تعمیل"۔اس پر ثابت قدمی کی فکر۔
   دونوں منی پہوچیں۔حسب وعدہ باپ نے اپنے ہاتھ میں چھری سنبھالا۔بیٹا چت لیٹ گیا۔بیٹے نے باپ سے کہا کہ آپ آنکھ پر پٹی باندھ لیں کہیں ہماری محبت غالب نہ آجائے اور آپ سے چھری نہ چل سکے۔والد بزرگوار نے ایساہی کیا۔اور حلقوم اسماعیل پر چھری چلادی۔اللہ تعالٰی نے چھری کے کاٹنے کی صلاحیت صلب کرلی۔چھری کند اور بھوتھی ہوگئی۔ادھر والد بزرگوار پریشان ہیں کہ چھری کیوں نہیں چل رہی ہے۔چھری کو پٹخ رہے ہیں جھنجھلا رہے ہیں۔اس ماجرا کو دیکھ کر پوری مخلوق حیران وششدر ہے۔پورا عالم ساکت ہے گویا سارا نظام عالم تھم سا گیا ہے۔سب ساکت ہیں۔
     جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا جبرئیل جلدی جا میرے خلیل کے محبوب کو چھری کے نیچے سے ہٹا۔جبرئیل جلدی کر ۔جا جلدی جا۔بچالے۔میرے خلیل کے لخت جگر کو بچالے۔جنت سے دنبہ لیتے جا۔ذرا جلدی کر ۔ذبیح اللہ کو کنارہ لگا۔مینڈھے کو اس کی جگہ پر رکھ۔جا جبرئیل جلدی جا۔میرا خلیل میری محبت میں سر تا پا غرق ہے۔میری محبت کے آگےاسے کچھ دکھتا ہی نہیں۔میرے تعمیل حکم میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔بیوی بچوں کو بے آب وگیاہ اور لق ودق میدان میں میری خاطر چھوڑنے کی نوبت آئی تو خوشی خوشی انہیں چھوڑ آیا۔نار نمرود میں بھی میری یاد میں تڑپا۔اب بیٹے کو میری خاطر قربان کرنا ہے تو اس پر بھی آمادہ ہے۔جا جلدی جا۔
    حضرت جبرئیل جنت سے مینڈھے کو لیکر منی پہونچے۔اسماعیل علیہ السلام کو ہٹایا۔اس کی جگہ مینڈھے کو پٹخا۔مینڈھا ذبح ہوا۔والد کو تسلی ہوئی چلو اللہ کا حکم پورا ہوا ۔اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی۔پٹی کھولی تو دیکھا بیٹا دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔مینڈھا زمین پر مذبوح پڑا ہے۔اتنے میں من جانب اللہ ندا آئی "یاابراھیم قد صدقت الرؤیا اناکذلک نجزی المحسنین"
   ابراھیم تونے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہم وفا شعاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    ہمیں آپ کے گوشۂ جگر کو قربان کرانا قطعی مقصود نہیں تھا۔آپ کے عصائے پیری سے محروم کرنا ہرگز مطلوب نہ تھا۔بس یہ دیکھنا تھا کہ آپ کو آپ کا رب زیادہ محبوب وپیارا ہے یا آپ کا لاڈلا۔آپ کہیں بیٹے کی محبت میں مغلوب تو نہیں ہیں۔ہمیں آپ سے آپ کے بیٹے کو چھیننا مقصود نیہں تھا ۔بس یہ دیکھنا تھا کہ بیٹے کی محبت میں آپ کہیں ڈگمگاتو نہ جائیں۔پر آپ دونوں نے وہ کر دکھایا جو میں چاہتا تھا۔میری محبت دنیا کی محبوب ترین شئے پر غالب رہی۔
     پدروپسر(باپ بیٹے) کی یہ قربانی رضاء الھی کا عظیم نمونہ تھا جسے دونوں بزرگوار نے پیش کیا۔حکم خدا کے سامنے بلا چوں چرا اپنے کو پیش کردیا۔محبوب کی آرزو،تمنا،اور خواہش کی تکمیل کو ہر خواہشات پر دونوں نے ترجیح دیا۔دنیا والوں کی لعنت وملامت،طعن وتشنیع،تضحیک وتذلیل،استہزا،کی پرواہ کئے بغیر رب کے مطالبات کی تکمیل کو فوقیت دی۔اللہ تعالٰی کا حکم آیا اور بلا ہچکچاہٹ اسے پورا کردیا۔بلا تاخیر اسے پایۂ تکمیل کو پہوچادیا۔نفس کی غلامی کو کچل دیا اور اللہ کی غلامی قبول کرلی۔اللہ تعالٰی کو یہی مطلوب تھا۔
        اصل قربانی یہی ہے۔اللہ کو یہی مطلوب ہے۔اللہ کے ہر حکم کو مقدم رکھنا ہی مومن کی شان ہے۔
   قربانی ہر سال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کی تکمیل کے لئے ہر لمحہ اپنے کو ذہنی وجسمانی طور پر تیار رہے۔ہر آنے اور جانے والی سانس مرضی مولی کی منتظر رہے۔آل واولاد،اپنے پرائے،رشتےناطے،جان ومال، عزت وآبرو، بیوی بچے، گھربار،زمین جائیداد، کھیت کھلیان،دوکان ومکان،تجارت،سب پر اللہ کی محبت اور امتثال احکام خداوندی مقدم رہے۔در حقیقت یہی عظیم قربانی ہے جو اللہ کو محبوب ہے۔ 
     ایک مومن کی زندگی کا ہر لمحہ وہرپل قربانی سے عبارت ہے۔گھریلو زندگی ہو۔عائلی زندگی ہو،معاشرتی زندگی ہو،اجتماعی زندگی ہو ،انفرادی زندگی ہو،سماجی زندگی ہو،ان کی کامیابی کا راز قربانی میں ہی پنہاں ہے۔بدنی عبادت ہو چاہے مالی،یا پھر دونوں۔چھوٹی عبادت ہو یا بڑی،یہ سب قربانی چاہتی ہے۔
   سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں امتثال احکام الھی کو من وعن،بلا ترددوتأمل،اور بلا تاخیر ہر شعبہائے زندگی میں پورا کرنے کی تاکید کرتی ہے۔یہی تقرب الھی کا بہترین اور مضبوط ذریعہ ہے۔
            حضرت اسماعیل کی بجائے مینڈھے کی قربانی قیامت تک جاری ہوگئی۔شریعت محمدی میں بھی اسے باقی رکھا گیا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول صلعم سے پوچھا قربانی کیا ہے؟۔آپ نے کہا "سنۃ ابیکم ابراھیم"۔تمہارے باپ ابراھیم کا طریقہ ہے۔"قالوا فمالنافیھایارسول اللہ" ہمیں اس میں کیا ملےگا" قال بکل شعرۃ حسنۃ"۔ہربال کے بدلے ایک نیکی۔قربانی کے دن اللہ کی نگاہ میں خون بہانے سے زیادہ محبوب عمل اور کوئی نہیں۔قربانی کا جانور اپنے اعضاء کے ساتھ آئے گا۔قربانی کے مستحق افراد کو قربانی نہ کرنے پر بڑی وعید آئی ہے۔آپ صلعم نے فرمایا "لا یقربن مصلانا" وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
      قربانی کا مقصد گوشت خوری نہیں ہے۔شہرت وناموری نہیں ہے۔گوشت کا ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔فخرومباحات قطعی نہیں ہے۔ایک دوسرے پر فوقیت وبرتری نہیں ہے۔قربانی کا اصل مقصد حصول تقوی ہے۔امتثال حکم الہی ہے۔
     ہماری قربانی کس کے لئے ہے۔اللہ کی خوشنودی کے لئے ہے یا نام ونمود کے لئے۔اگر اللہ کی رضاجوئی کے لئے ہے تو بہتر ہے۔اگر نام ونمود کے لئے ہے تو وبال جان ہے۔
"ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین"
   بیشک میری نماز میری قربانی میرا جینا میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پالنہارہے 
        اللہ ہم سب کو حقیقی قربانی کی لذت نصیب فرمائے۔آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...