Translate

Wednesday, March 8, 2023

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں محمد امام الدین ندوی مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

مسلمان انسانیت کے لئےنفع بخش بنیں 

محمد امام الدین ندوی 
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی
انسان کی تخلیق نفع رسانی کے لیے کی گئی ہے۔ اس کی آمد کا ایک عظیم مقصد انسانوں کی خدمت ہے۔مخلوق سے ہمدردی ہے۔جو چیز نفع بخش ہوتی ہے کار آمد ہوتی ہے اس کی ضرورت  اور اس کا مطالبہ بڑھ جاتا ہے۔آدمی کا نفع بخش بننا اور اپنی نافعیت کو باقی رکھنا حقیقی وصف ہے اور یہی وصف اسے دیگر مخلوق سے ممتاز کرتا ہے۔
      اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے" اما الزبد فیذھب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض" 
     جو چیزیں نفع بخش نہیں ہوتی ہیں وہ پانی کے دھار میں بہ جاتی ہیں اور جو اشیاء کار آمد ہوتی ہیں وہ زمین میں ٹھہرجاتی ہیں۔
      انسانوں سے بھری اس دنیا میں مومنوں کو پورےعالم کے لئےنافع بنایا گیا ہے۔اسی صفت نافعیت کی بنیاد پر اسے بہتری کی سند دی گئی ہے۔ 
"كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتهون عن المنكر وتومنون بالله"
    تم بہترین امت ہو لوگوں کے نفع رسانی کے لئے برپا کی گئ ہو ۔تم لوگوں کو بھلائ کاحکم کرتی ہو انہیں برائی سے روکتی ہو اور اللہ واحد پر ایمان رکھتی ہو۔
     آج مسلمانوں کی حالت عجب سی ہوگئی ہے۔اس میں "خیر "کی بجائے "شر" کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔مفید کی بجائے وہ غیر مفید بن گیا ہے۔اور جوچیز غیر مفید ہوتی ہے اسے لوگ کچڑے کے ڈھیر میں ڈال دیتے ہیں اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے ہیں۔اسے گھناؤنی 
نظر وں سے دیکھتے ہیں۔اسے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے ہیں۔ماضی میں ہم دیگر قوموں کی ضرورت تھے۔ہیرے جواہرات سے کہیں زیادہ ہماری قدرو قیمت تھی۔لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور کہتے تھے کہ یہ مسلمان ہے۔اسی سے نفع کی امید ہے۔یہ لوگ غیر ضرر  ہیں۔اس لئےلوگ اپنے مسائل حل کراتے تھے لوگ بہ خوبی جانتے تھے کہ یہی انصاف پسند ہیں۔معمولی اور غیر معمولی مسئلے میں انہیں سےرہنمائی حاصل کرتے تھے کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ سچا رہبر یہی ہے۔اپنی ہر طرح کی امانتوں کا امین انہیں تسلیم کئے ہوتھے کیونکہ دغابازی اور دھوکہ دھڑی،غبن،کی صفت ان میں نہیں تھی۔
     دنیا ان سے مامون اور دنیا والے اپنے کو محفوظ سمجھتے تھے کہ نبی کا پیغام ہی ہے "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده" 
    مسلمان وہ ہے جس کےہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔
     جب تک مسلمان اپنے اعلی اخلاق،پاکیزہ کردار،نرم گفتار،بے لوث جذبہ ہمدردی ،خدمت خلق کا جذبہ،بلا تفریق غریبوں،محتاجوں،درد کے ماروں،یتیموں،بیواؤں،کی دادرسی جیسے عظیم صفت سے متصف رہے،وہ لوگوں کی ضرورت سمجھے گئے اور لوگوں نے پلکوں پر بٹھایا۔جب سے ان میں بد اخلاقی،بد سلوکی،بد عہدی،منافقانہ صفات،چال بازی،دھوکہ دھڑی،ذاتی مفاد،خودغرضی،رشوت خوری،بدکلامی،جیسے صفات خبیثہ جنم لئے لوگ انہیں غلاظت سمجھ کر اسے اپنے سے الگ کردیا۔اب وہ بےقیمت بن گئے ان کا خریدار کوئی نہیں رہا۔
     ہم آدم کی اولاد "  آدمی" ہیں ۔آدمی میں صفت آدمیت ہی اہم اور اعلی وصف ہے۔اور یہی صفت آدمی کو قیمتی بناتاہے۔یہ صفت مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہئے تاکہ دنیا میں پھیلے بے شمار آدم زادوں کے لئے  یہ مفید بن سکیں۔
    مسلمان قانون سماوی کے پاسباں ہیں۔یہ قانون سب کے ساتھ ایثارو ہمدردی کا حکم دیتا ہے۔ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔خود نہ کھا کر غیروں کے کھلانے کو کار ثواب بتاتا ہے۔پڑوسی چاہے جیساہواس کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ کرتا ہے۔مسلمانوں کو قانون ربانی سے آراستہ ہوکر ابن آدم کی خدمت کوترجیح دینےکی تعلیم دیتا ہے۔
مسلمان اپنی نافعیت کو ثابت کردے تو آج بھی لوگ اسے پلکوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ہم نافع بنیں ضار نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خیر الناس من ینفع الناس" لوگوں میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے نافع ہو

    خود غرضی کی اس دنیا میں آج مسلمان بھی مطلب پرست اور خودغرض بنا گھوم رہا ہے۔اس خود غرضانہ صفت نے دنیا میں بڑی تباہی برپا کی ہے۔فسادو بگاڑ اپنا پنجہ ہر سو جمائے ہوا ہے۔اخلاقی بگاڑتیزی سے جنم لے رہا ہے۔سماجی راہ ورسم اور بندھن ٹوٹ گیا ہے۔خاندانی شیرازہ درہم برہم ہونے لگا ہے۔دوستوں کی دوستی مکڑی کے جالے سی ہے۔دلوں میں نفرتوں کی آگ جل رہی ہے۔دماغ میں خبث بھر چکا ہے۔رشتے،ناطے کے خون سفید ہو رہے ہیں ۔لوگ کب ،کہاں، کیسے،کسی کو استعمال کرلے اس کا پتہ نہیں ہے۔دشمنی دوستی کے خوب صورت دروازے سے داخل ہورہی ہے۔اپنے پرائے بن گئےہیں ۔خود غرضی نے مسلمانوں کے تانے بانے کو ادھیڑ دیا ہے۔اور مسلمان بے قیمت ہو گئے ہیں۔ان کی نافعیت ختم ہوگئی ہے۔
         مسلمانوں کی نافعیت ختم ہونے سے صرف ان کا ذاتی نقصان نہیں ہواہے بلکہ عالمی پیمانے پر سب کانقصان ہوا ہے۔ان کا کام ہی تھا اچھائی کو فروغ دینا اور بدی کے دروازے کومکمل بند کرنا۔امن قائم کرنا اور بدامنی کا قلع قمع کرنا۔خیر کی شمع روشن کرنا اوربدی کی تیزو تند ہواؤں کو روکنا۔علم کا شمع ہر فردبشر کے دلوں میں جلانااور جہل کی گھٹا کو دور کرنا۔لیکن معاملہ برعکس ہونے کے نتیجے میں اور قانون سماوی سے پہلوتہی کرنے کی وجہ سے مسلمان بے قیمت ہوگئے۔اس کا خسارہ پورے عالم کو ہوا۔اور سارا عالم ایک کشتی کا میدان بن گیا ہے۔بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل رہی ہے۔طاقتور کمزور کو اپنا لقمہ تر سمجھ رہا ہے۔ظالم کھلی فضاؤں میں گھوم رہاہے۔عدالت ان کا پشت پناہ ہے۔مظلوم زنداں کی سلاخوں کے پیچھے محبوس ہے۔غلام آقا کا رہین ہے۔آن کی آن میں بلاوجہ میزائل برسائے جارہے ہیں ۔انسانوں کی آبادی شہر خموشا بن جاتی ہے۔انسانیت شرمشارہے ۔حیوانیت کا کھلا راج ہے۔درندے بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہماری صفت آدم زادوں میں کیسے منتقل ہوگئی ہے۔کتے صوفے پر سورہے ہیں ۔عمدہ اور اعلی محلوں میں جی رہے ہیں عمدہ سواریوں میں سیر کررہے ہیں۔ان کے کھلانے پلانے،بول وبراز،نہلانے دھلانے پر خدام متعین ہیں۔انسان فٹ پاتھ پر فاقے کے عالم میں جی رہا ہے۔کتے کے حصے میں تازہ اور نفیس کھانا ہے وہیں گھر کے خادموں کے لئے باسی،اور سڑے گلے،موٹے جھوٹے،کھانے کا نہ سہی انتظام ہے نہ ہی مناسب وقت ہے۔
آج مسلمانوں کودنیا کے سامنےاپنی نافعیت ثابت کرنے ضرورت ہے۔جن قوموں نے اپنی نافعیت کو اخلاقی،تہذیبی تمدنی،لسانی،معاملاتی،فکری،علمی ادبی،سیاسی،سماجی،سائنسی،ٹکنالوجی،ہراعتبار سے اپنی قیمت ثابت کیا ہے آج نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کو ان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔اور ان کا استقبال کیا جارہا ہے۔اس لئے بہ حیثیت خیر امت مسلمان اپنی نافعیت کو سمجھیں۔اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...