سب سے زیادہ محبت کس سے ؟
مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی
جمشیدپور
انسان کو طبعی طور پر سب سے زیادہ محبت اپنے آپ سے ہوتی ہے،غور کیجیئے، دوسرے سے بھی ہم محبت کرتے ہیں تو اسی لۓ کہ وہ بھی ہم سے محبت کرے،کوئ ہنر،کوئ خوبی اللہ نے دے رکھی ہے تو اس کے اظہار میں بھی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ مجھے پہچان لیں، کوئی میری تعریف کرتا ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں حتی کہ میرے بچوں کی کوئ تعریف کردے تو یہ بھی ہماری خواہش کے عین مطابق ہوتی ہے حتی کہ جنت کے حصول کی تمنا بھی اسی لۓ ہوتی ہے کہ ہمیں ابدی اور اخروی زندگی میں ہمیشہ کاآرام ہو،حالانکہ جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا نہ غلط اور نہ کسی مقام کے خلاف بات ہے ،
اور محبت مجازی کی تو بات ہی رہنے دیجیے کہ وہ تو ہوتی ہی ہے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے چاہے اس پر پاکیزہ محبت وغیرہ کے جتنے بھی حسین عنوان لگادیے جائیں
اور یہ بات طبعی طور پر ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہے اور یہ کوئی خلاف طبیعت یا عقل سے مستبعد بات بھی نہیں، لیکن شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی اس طبعی چاہت کو اللہ کی محبت پر قربان کرے،یہاں تک قربان کرنے کی کوشش کرے کہ ذات خداوندی ہی کی رضا میں اس کی رضا ہو ،انھیں کی خوشی میں اس کی خوشی ہو ،جنت سے بھی زیادہ جنت کے مالک کا دیدار ولقا اس کا مطلوب ہو،جیسا کہ حضرت رابعہ بصریہ کے واقعے میں اس طرح کی کیفیت کا ذکر آتا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے سب سے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پہ قربان کرے اور یہ طبعی محبت عقلی اور اختیاری محبت کے سامنے مغلوب ہو جائے،اسی مضمون کو" والذين امنوا والذين امنوا اشد حبا لله "(بقرہ:165 اور جو مؤمن ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ قوی محبت ہے)کی آیت میں اور " لا يؤمن احدكم حتى أكون احب اليه من والده وولده والناس أجمعين"(بخاری:15 تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کے بچے اور دنیا تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)
والی حدیث میں بیان کیا گیا ہے
محبت ہی میں پوشیدہ دو عالم کی سعادت ہے
محبت ہی کو ہم اس زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
کیونکہ ہمارا وجود اللہ کے فضل وکرم کا مظہر ہے، ان کا کرم نہ ہوتا تو سرے سے ہمارا وجود ہی نہ ہوتا ،پھر اس کے بعد وحی الٰہی کو ہم تک پہنچانے والے ،ہماری تکلیفوں پر بے چینو بے قرار ہو جانے والے،ہماری ہدایت کے بھوکے اور مومنوں کے لۓ رؤوف ورحیم ، اور سراپا احسان ،و پیکر حسن وجمال خواجۂ کونین اللہ کے آخری اور دلارے نبی جی ہیں تو ہمیں آپ سے محبت ہونی چاہیے اور محبت الٰہی اور عشق نبی ہی پھر انسان کی زندگی میں معجزے دکھاتی ہے،جیسا کہ اصحاب نبی، بوبکر وعمر،عثمان وعلی،زبیر وطلحہ،عبدالرحمن وسعید،اور سعد وابو عبیدہ کی زندگیاں زہد و ورع عدل و انصاف،سخاوت و شجاعت فتح وفیروزمندی اور امانت و دیانت کے محیر العقول واقعات وکرامات سے بھری ہوئ ہے اور اب بھی اللہ ورسول کے سچے عاشقوں اور صحابہ کی راہ چلنے والے غازیوں اور فلسطین کے جیالوں کی زندگیاں ایمانی فتوحات سے لبریز ہیں،سچ ہے
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
No comments:
Post a Comment