Translate

Wednesday, January 15, 2025

حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی رحمۃ اللہ علیہ۔ مولانا سید محمد زاہد حسین ندوی

*حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی بن سید واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ* 
 *رفتید ولےنہ از دل ما* 
بھلا بتائیے ابھی کوئی جانے کا وقت تھا ابھی تو آفتاب نے اپنی شعاعیں بکھیرنا شروع کی تھیں ،ابھی تو کمالات کا ظہور ہوا تھا، تکمیل تو باقی تھی۔
 انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف و اعتماد بھی تو قائم ہو ہی ہوگیا تھا اور ابھی ان کی ضرورت ندوے کو باقی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے فیصلے نرالے ہیں اور اس کا ڈھب سب سے جدا ہے، جب جو چاہے اپنی مشیت و حکمت سے کر ڈالے ،اس کی شان تو تو "فعال لما يريد" کی ہے۔
حضرت مولانا سید جعفر حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اسی سادات حسنی قطبی خانوادے کے اس وقت ایک فرد فرید تھے جو اللہ کے اذن سے ہندوستان میں صدیوں سے دینی دعوتی اور اصلاحی خدمات انجام دیتا چلا آرہا ہے، اسی خانوادے میں بعہد عالمگیری حضرت شاہ علم اللہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے متبع سنت ولی کامل پیدا ہوئے ،اسی خانوادے میں حضرت سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسا مجاہد اور شہید پیدا ہوا اور آخر زمانے میں اسی خانوادے میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ جیسا مفکر مصلح اور داعی پیدا ہوا جن کے دل درد مند اور فکر ارجمند نے عرب وعجم کو اسلام کے حق میں سوچنے اور اس کے لۓ کچھ کر گزرنے پر آمادہ کیا۔ 
مولانا جعفر حسنی ندوی کی متاعِ حیات کا بشتر حصہ پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے اور دینی وتعمیری اداروں کے انتظام وانصرام میں گزرا، وہ بڑے دینی صفات کے مالک تھے لیکن کچھ ظاہر نہ ہونے دیتے تھے، اپنے عظیم والد حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح عظیم صفات اور علوم و فنون پر دسترس رکھتے ہوئے بھی،تواضع کے پیکر وسیع الظرف اور کم گو، جیسے کہ خاموش دریا ۔
  اخلاق تو ایسا پایا تھا جسے اخلاق عالیہ کہا جائے، اخلاق فاضلہ کہا جائے، حسن خلق کہا جائے، کرم گستری کہا جائے، کریم النفسی قرار دیا جائے، شرافت کہا جائے نجابت کہا جائے سب درست ہے ،جو بھی ملتا ان کی خوۓ دلنوازی سے اور اداۓ دل بری سے سرشار ہو جاتا ،
ا سے اپنائیت کا احساس ہوتا، ان کی دنیا میں کوئی غیر نہ تھا، غیر بھی اپنے تھے۔
 ایک زمانے تک ندوہ کی شاخ مدرسہ عالیہ لکھنؤ میں تدریسی خدمات انجام دیں ،علوم قرآنیہ اور ادب اسلامی ان کا موضوع تھا، ایک نسل کی تعلیم و تربیت کی اور پھر اپنے والد اور عظیم چچا حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہما کے زیر سایہ" الرائد" جیسے عالم عرب میں بھی مقبول ادبی میگزین کی ادارت سنبھالی اور خوب سنبھالی ، بالکل اپنے بڑوں کے قدم بہ قدم ہوگۓ تھے، اسلوب میں ندرت بھی تھی اور جدت بھی، کلاسیکل زبان لکھتے تھے اور اس کے ساتھ اردو بھی ایسی صاف ستھری اور شگفتہ لکھتے تھے کہ بڑے بڑوں نے اعتراف کیا اور اس وقت انہیں ماجدی اسلوب کا حامل قرار دیا جانے لگا تھا ۔ 
 بڑا خوش آئند قدم تھا جب ندوہ کی مجلس شوریٰ اور ذمہ داروں نے انہیں ندوے کا ناظر عام منتخب کیا ،چند سالوں میں انہوں نے اپنی خاموش انتظامی صلاحیت سے ندوہ کے کام اور کاژ کو آگے بڑھایا ، اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا ،اس کے مقاصد کو فروغ دیا اور توقعات سب کی قائم ہو چلی تھیں کہ ابھی ان کے ذریعے سے اور بھی خدمات انجام دی جائیں گی، ندوہ کو مزید عروج حاصل ہوگا، ناظم ندوہ کی مساعدت سے ندوہ میں اور استحکام آۓ گا لیکن کون جانتا تھا کہ وہ اچانک اس طرح ہماری توقعات کو یونہی ادھورا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملیں گے۔
اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت فرمائے،اپنے جد اصیل( اور جن کے پاک نام پر ان کے بڑوں نے ان کا نام رکھا تھا )حضرت جعفر طیار کے ساتھ محشور فرماۓ کہ شہادت دنیوی تو انھیں بھی حاصل ہوئ،ان کے بال بچوں عزیزان گرامی قدر برادران مولوی خلیل حسنی ندوی،مولوی امین حسنی ندوی اور مولوی عبد الحئی حسنی ندوی کو صبر جمیل عطا فرمائے،اور انھیں ان کا اور اپنے اجداد کا حقیقی وارث بناۓ ،ندوہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ،شیخ مکرم ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید بلال عبدالحئ حسنی ندوی دامت برکاتہم کو صبر و قرار اور دل کو ثبات عطا فرمائے اور دین اسلام کو ان جیسے بہت سے خدمت گزار عطا فرمائے کہ اس دور قحط الرجال میں ایسے سچے واچھے اور مخلص وبے لوث خدام کی بہت ضرورت ہے ۔
ان کی شفقتوں سے بہرہ مند،ان کا ایک عقیدت کیش 
محمد زاہد حسین ندوی 
جمشیدپور

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...