1/
محمد قمر الزماں ندوی
(مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ) 9506600725
راقم الحروف خدائے وحدہ لاشریک کا بے حد شکر گزار ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنی توفیق سے نوازا ـ ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے دار العلوم ندوۃ العلماء کا انتخاب ہوا ـ توفیق الہی کے بقدر ، وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنے اندر عقل و فہم شعور و ادراک پیدا کیا، اور کچھ نہ کچھ علمی صلاحیت کا حصول ہمارے لیے آسان ہوا ـ تجربہ اور عمر کی کمی اور باقاعدہ کسی مربی اور اتالیق کے نہ ہونے کی وجہ سے علمی میکدہ ندوہ سے کما حقہ استفادہ ، طالب علمی کے زمانے میں ممکن نہیں ہو سکا، لیکن فکر ندوہ، اس کی جامعیت اور اس کے مسلک اعتدال و سطیت کو سمجھنے کی کچھ نہ کچھ حد تک کوشش کی ـ زبان ہوشمند جو ندوہ کا امتیاز ہے، اس کو سمجھنے اور برتنے کی مشق کی ـ سات سالہ یہ مہم الحمدللہ سر ہوگئی ـ بڑوں کے مشورہ سے کچھ مزید استفادہ کے لیے حیدرآباد گیا اور وہاں مولانا محمد رضوان القاسمی رح اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے استفادہ کا پورا موقع ملا ـ ندوہ کی تعلیم و تربیت کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی ایک سالہ تربیت نے مزید نکھار پیدا کیا ـ والد صاحب اسکول میں سرکاری ٹیچر تھے ـ زمین و جائداد بھی تھی ـ متوسط گھرانہ تھا ـ والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں علی گڑھ جاکر کوئی کورس کروں ـ بی یو ایم ایس کر لوں یا ایم اے اور پی ایچ ڈی کرلوں ـ بڑے بھائی صادق احمد ایڈووکیٹ بھی اس وقت علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے ،ایل ایل بی کر رہے تھے، لیکن میرا فطری میلان اور طبعی رجحان تھا کہ میں دینی خدمت سے جڑ جاوں اور کسی مناسب اور معیاری مدرسہ میں تدریسی خدمت انجام دوں ـ اس وقت پانچوں بھائی پڑھ رہے تھے ـ والد صاحب کی پوری تنخواہ گھریلو ضرویات کے بعد تعلیم پر صرف ہوجاتی تھی، بلکہ اس کا اکثر حصہ تعلیم پر صرف ہوتا تھاـ میں والد صاحب کی پریشانی کو بھی محسوس کررہا تھا، اس لئے آگے کی مزید تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہا ـ میرے والد کا کمال یہ تھا کہ وہ دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے اپنے بچوں کے درمیان توازن و اعتدال باقی رکھتے تھے؛ بلکہ ترجیح دینی تعلیم کو ہی دیتے تھے۔ اس کے بعد کا مرحلہ اس صلاحیت کو عملی و تخلیقی میدان میں لگانے کا تھا ـ اللہ تعالی نے اس مرحلہ کو بھی آسان کردیا اور کڑہ مانک پور جو کسی زمانہ میں اسلامی سلطنت کا حصہ تھا، بلکہ اس کا دار السلطنت تھا ، کے ایک قصبہ کنڈہ (ضلع پرتاپگڑھ یوپی) میں حضرت مولانا عبد اللہ حسنی ندوی رح کے مشورہ سے درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا، اور یک در گیر محکم بگیر پر عمل کرتے ہوئے ،زندگی کی رفتار کو آگے بڑھاتا رہا اور اپنے شوق و جذبہ کو مہمیز لگاتا رہاـ یاد رہے کہ دینی مدرسہ میں رہ کر خدمت یہ میری مجبوری نہیں تھی ،بلکہ یہ میری پسند اور چوائس تھی ،آج بھی میں اپنے فیصلے پر خوش بلکہ شاداں و فرحاں ہوں ۔ کبھی یہ احساس اور صدمہ نہیں ہوا کہ میں اس لائن میں کیوں آگیا اور نہ کسی کے دنیاوی عہدہ و منصب اور مال و زر سے متاثر ہوتا ہوں ۔
غیب کا علم اللہ کو ہے ـ ان ایام میں جان بوجھ کر کبھی ایسا عمل نہیں کیا کہ ادارہ کی ترجیحات پر اپنی ترجیحات کو مقدم رکھا ہو۔ اپنے ارادے سے کسی کوتاہی کو راہ نہیں دی۔ لیکن عملی زندگی میں جہاں ذریعہ اور واسطہ کی ضرورت پڑی، چالاکی اور ہوشیاری اور بوقت ضرورت عیاری سے کام نکالنے کی ضرورت پڑی؛ لیکن اللہ کی حکمت و مصلحت کہ ہم قطعا ناکام ثابت ہوئے۔ کبھی کبھی حالات ایسے بھی آئے کہ ارادے مضمحل ہونے لگے ـ ہمت نے جواب دینا شروع کردیا ـ شیطان فقر و فاقہ کا اندیشہ لے کر سامنے آیا اور لائن بدل دینے کا مشورہ دینے لگا۔ کبھی کبھی نفسیاتی صدمہ سے بھی دو چار ہونا پڑا ، آج بھی بعض لوگ خیر خواہی میں مشورہ دیتے ہیں کہ سرکاری ملازمت کر لیجیے آپ کے پاس تو آپشن ہے ، بورڈ مدرسہ میں ـ خدا ہر شخص کو اس سے بچائے جس کا یہ ایمان ہو کہ خیر و شر، اچھا برا ہر چیز خدا کی طرف سے مقدر ہوتی ہے ـ دوران طالب علمی اور عملی میدان میں آنے کے بعد بھی یہ سمجھتے رہے کہ اپنی محنت، لگن اور جد وجہد و علمی لیاقت سے زندگی کے دیگر مسائل بھی حل ہوجائیں گے ـ ہماری محنت اور صلاحیت شاہ کلید 🔑 (Master Key) ثابت ہوگی ـ زندگی کے سارے تالے اسی سے کھل جائیں گے ـ ہماری بقدر ضرورت روزی روٹی کے لیے کوئی دروازہ بند نہیں ہوگا ـ اس فکر اور سوچ کی وجہ سے مادے اور معدہ کی دنیا میں کام آنے والے کسی ذریعہ اور واسطہ کی کوئی پرواہ نہ کی ـ معاش کے مسئلہ کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھا ـ مشترکہ خاندان تھا، گمان بلکہ یقین اور غالب گمان تھا کہ مستقبل کے بہت سے مسائل مشترکہ خاندان کی طاقت اور بھائیوں کے اشتراک سے حل ہو جائے گا؛ لیکن حیف کہ!
*خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا*
یہ الگ بات ہے کہ دل کا روگ ہو جانے یا پال لینے کے وقت، جب مشکل حالات ائے، اور جب احقر موت و زیست کی حالت میں تھا ، اس وقت ہمارے سارے بھائی بہن، رشتہ دار اور ہمارے مدرسہ کے ذمہ دار اور بعض دوسرت و احباب بھی سب سے زیادہ کام آئے ، سب کی دعائیں لگیں اور اللہ تعالیٰ نے صحت و عافیت سے نوازا اور پھر ایک بار زندگی کی مصروفیات میں پہلے کی طرح لگ گیا ۔،
ادھر یہ تجربہ اور اندازہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ جوڑ توڑ ادھر ادھر کی اپنی صلاحیت، عیاری، طالع آزمائی، دنیا کو جیت لینے کی اپنی عجیب سی طاقت و قوت کی وجہ سے بہت سے علمی لیاقت، دعوتی صلاحیت، اخلاص کی قوت، عمل کے لیے وقف ہوجانے کی توفیق والوں پر ہر طرح سے غالب آجاتے ہیں ـ اور وہ اپنے تمام دنیاوی کاموں کو آسانی سے انجام دے لیتے ہیں ـ ان کا کام اتنا آسانی سے ہوجاتا ہے کہ فریق ثانی اس کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ پاتے۔ فریق ثانی کو اپنی اس ناکامی پر ملول اور صدمہ ہوتا ہے، اس وقت وہ اپنے کو ہارا ہوا سمجھ لیتا ہے، اور زندگی کے دوڑ میں پیچھے رہنے کا احساس اس کو ستائے رہتا ہے، لیکن پھر وہ جلد ہی سنبھل جاتا ہے، توفیق الہی دست گیری کرتی ہے اور وہ صحیح فکر کی طرف لوٹ آتا ہے اور جلد ہی اس کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ *دنیوی مفاد اور جیت ہی ساری جیت نہیں ہے، بلکہ اصل جیت اور کامیابی آخرت کی جیت ہے۔* کسی صحیح آدمی کی جیت اور ہار کو دنیوی پیمانے سے ہی ناپا اور تولا جائے گا، تو دنیا کے سارے نیک، صالح بلکہ انبیاء و اولیاء اکثر ناکام اور ہارے ہوئے ثابت ہوں گے۔۔۔ بقول مولانا امینی صاحب: *باصلاحیت لوگوں کا خدا سے صحیح رشتے کے باوجود دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا پچھتانے کا مقام نہیں، بلکہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان دنیا کے ساتھ دین بھی ہار جائے کہ یہاں بھی ناکام رہے اور خدا سے بھی اس کا رشتہ صحیح نہ رہے۔* اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ـ
انتیس سالہ تدریسی زندگی اور طویل تجربہ نے بتا دیا۔۔۔۔( یاد رہے کہ خاکسار اس وقت عمر کی پچاسویں بہار دیکھ رہا ہے) اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ صرف علمی صلاحیت، علم میں یکسوئی، شبانہ روز کی مصروفیت، جی جان سے مطالعہ کرنا، کتابوں کا کیڑا بن جانا، اپنی زندگی کو درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دعوت و تبلیغ میں کھپا دینا اور صرف اسی طرح کے کاموں کے لیے وقف ہو جانا زندگی کے پیچیدہ اور پریشان کن مسائل سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے؛ بلکہ ان سعادت مندانہ سرگرمیوں کے ساتھ زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی صلاحیت، جد و جہد ،ذہانت نیز دنیا داروں اور مالداروں اور دنیاوی زندگی کے ماہرین اور مسائل حیات سے نمٹنے کا خصوصی تجربہ رکھنے والوں سے ضروری حد تک ربط و تعلق اور میل جول بنائے رکھنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص جتنا علمی، دینی، دعوتی سرگرمیوں کے ساتھ اس دوسری سرگرمیوں میں بھی طاق رہے گا، وہ اسی درجہ اطمنان اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے گا۔ اور جو شخص صرف علمی کاموں میں مشغول رہے گا، اپنے علمی غموں سے فرصت نہیں پائے گا، وہ اتنا ہی پریشان اور بے چین رہے گا۔ *کامل اخلاص کے ساتھ بھی محض علمی لیاقتوں کے تقاضوں کی تسکین میں میں لگے رہنے سے آپ پرسکون زندگی نہیں گزار سکتے،* اس لیے کہ زندگی کے بھی تقاضے ہوتے ہیں، زندگی کو مطمئن کرنے کے لیے بھی آپ کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ورنہ آپ زیادہ دن تک اپنے علمی کاموں اور علم و مطالعہ میں یکسوئی کے ساتھ نہیں رہ پائیں گے اور بعید نہیں کہ اس میدان کو چھوڑ کر کسی اور کام میں سرگرم ہوجائیں ـ کیونکہ زندگی کے اپنے تقاضے ہیں، بیوی بچوں کی خواہشات اور ضروریات ہیں، ان مسائل و معاملات ہیں ۔ آپ اپنی ضرورت دبا سکتے ہیں لیکن ان کی خواہشات کو کیسے دبا دیں گے۔
میں نے بہت سے انتہائی لائق و فائق اور جینیس لوگوں کو پریشان ہوتے دیکھا ہے اور دیکھ رہا ہوں، اس لیے کہ انہوں نے زندگی کے تقاضوں اور بیوی بچوں کی خواہشات و ضروریات سے بے نیازی دکھائی تو زندگی نے بھی اس کو کوئی اہمیت نہ دی، نہ کوئی لفٹ دیا بلکہ انہیں ڈستی رہی، انھیں کہیں کا نہ چھوڑا اور جیتے جی لمحہ لمحہ مرنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن یہ مسئلہ ہم جیسے عام انسانوں سے ہے جو تقوی و طہارت اور قناعت کے معیار مطلوب پر کھرے نہیں اترتے جو تزکیہ و احسان اور سلوک و معرفت سے کوسوں دور ہوتے ہیں، ورنہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا سے اس قدر بے نیاز ہوکر مخلوق کی خدمت کرتے ہیں اور اس قدر دنیا سے بے تعلق رہتے ہیں کہ دنیا ان کے قدموں پر گرتی ہے وہ پوری بے نیازی اور استغنا کے ساتھ دنیا کو جھٹک دیتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ دنیا میں خال خال پائے جاتے ہیں۔
تجربہ کاروں اور میدان کے ماہرین کا ہم جیسے عام لوگوں کے لیے جو نفع و نقصان کے اسیر ہیں اور اسباب دنیا کا دامن تھامنے سے بے نیاز نہیں ہیں اور جو *ولا تنس نصیبک من الدنیا*( اور اپنا دنیا کا حصہ فراموش نہ کر) پر پختگی سے ایمان رکھتے ہیں ، مشورہ یہی ہے کہ ساری صلاحیتوں، لیاقتوں اور علمی سرگرمیوں کے بعد بھی ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ وقت نکال کر زندگی کے مسائل سے بھی نمٹو ـ اسے بالکل نظر انداز مت کرو ـ اور راہ حیات پر اس طرح چلو کہ ان کے دل و جگر کو خراش نہ لگے اور عزت و آبرو کا دامن کسی کانٹے میں نہ الجھے کہ راہ حیات صرف کانٹوں اور خاروں سے پٹی ہوئی ہے، جن سے ہر مسافر کا دامن ضرور الجھتا ہے سوائے اس خوش قسمت اور سعادت مند کے جس کا خصوصی محافظ و نگراں خدا ہو۔
آج دینی اداروں،انجمنوں،دینی و دعوتی مرکزوں اور رفاہی تنظمیوں کی کمی نہیں ہے، روز روز نئے نئے ادارے، تنظیمیں اور جمعیتیں وجود میں آرہی ہیں، ان میں سب تو نہیں لیکن ایک بڑی تعداد ماشاء اللہ اچھے تعمیری ، ٹھوس، دیرپا اور دور رس کام کررہی ہیں۔ لیکن کاش کچھ ایسے ادارے ہوتے جن کا مقصد اور کام یہ ہوتا کہ وہ کچھ لائق اور تجربہ کار اور دیانت دار افراد کو اس کام پر لگا دیتے کہ وہ معلوم اور تحقیق کریں کہ ملت کے مختلف زمرہ حیات میں کتنے مخلص محنتی اور لگن کے لوگ ہیں جو علمی دینی کاموں میں مشغول ہیں۔ لیکن ان کے منصوبے۔ عزائم اور تخلیقات و تصنیفات مادی وسائل کی کمی کی وجہ سے ادھورے رہ جاتے ہیں، تکمیل کو نہیں پہنچ پاتے۔ اور ایسے افراد کی صلاحیت، کام کا جذبہ و حوصلہ ہمت شکن صورت حال سے دو چار ہے۔ ان کی سفارشوں اور مشاہدات کی بنیاد پر ان کی مدد کی جاتی، ان کے لیے وہ سارے وسائل فراہم کیے جاتے جن کی انہیں ضرورت ہے۔تاکہ یہ باکمال اور باصلاحیت افراد اپنے اپنے میدان میں رہ کر پوری یکسوئی کے ساتھ علمی کاموں میں منہمک رہتے، امت کو فائدہ پہنچاتے اور باطل طاقتوں کا بھر جواب دیتے اور ان کے علمی اعتراض پر ان کو اپنی تحریروں سے دنداں شکن جواب دیتے، اور وہ کسی الجھن، فکر و تشویش اور اپنے مزاج کے خلاف کاموں میں پڑ کر اپنے کام سے لاچار نہ ہوتے، جیسا کہ اس وقت ہورہا ہے، جس کی وجہ سے لائق اور قابل افراد جو امت کے لیے اصل سرمایہ کی حیثیت رکھتے تھے وہ کسی اور میدان میں جاکر ضائع اور برباد ہو رہے ہیں۔
آج ضرورت ہے اس بات کی کہ کچھ ادارے اور تنظیمیں صرف اس لیے قائم ہوں کہ وہ لائق لوگوں کی، ان کے کام کی جگہوں میں ٹوہ لگاییں اور ان مخلص علماء دین دار داعیوں اور علمی کاموں میں مشغول لوگوں کی جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں ان کی معاونت کریں۔
(جاری)
No comments:
Post a Comment