Translate

Tuesday, September 29, 2020

 *اعلان*


انگریزی زبان کا مشہور محاورہ ہے؛ *The pen is mightier than the sword* یعنی قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، اکبر الہ آبادی کا مشہور شعر ہے؛

  کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

  جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو


واقعہ یہ ہے کہ اس عالم کون و فساد کا نظام قلم ہی کی وساطت سے برقرار ہے، شرافت کی حس اور انسانیت کی رمق اسی سے باقی ہے، اخلاق و کردار اور تہذیب و تمدن کا رشتہ بھی اسی سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کے قلم کار اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، تاریخ کی زندگی انہیں کی بدولت ہے، معاشرہ کا توازن انہیں سے استوار ہے، قوموں کی تقدیریں انہیں کے سپرد ہیں، معاشرہ کی اصلاح و تربیت کا جوا بھی انہیں کے سر ہے۔ ایک بیدار مغز، حساس اور امانت دار قلم کار اپنے زور قلم سے اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ بلاشبہ قلم ایک مخلص صحافی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ صحافی کی قلم رو میں ایک کائنات ہے۔


*صحافت* در اصل اطلاع رسانی کے ساتھ معاشرتی بیداری کا ایک مؤثر وسیلہ اورانسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن ہے، صحافت معاشرہ کے ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے، جو رائے عامہ کی ترجمان اور اس کی عکاس ہوتی ہے۔


موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے باشعور صحافیوں کا فقدان ہے جن کی آواز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب تک یکساں طور پر مؤثر ہو، جن کی ایک تحریر سے باطل لرزہ براندام ہوجائے اور وہ سماج کی حقیقی بیماری سے باخبر کریں، لہٰذا اس وقت شدید ضرورت ہے کہ قوم و ملت کے اصحاب علم اور اہل قلم ہمت کریں، جدید چیلنجز کا بغور جائزہ لیں اور پوری دیانت داری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑیں۔


یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ کو برقی صحافت میں انقلاب کی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعہ ہر کام انتہائی آسان اور غیر معمولی تیز ہوگیا ہے، اس سے پہلے شاید اس کا تصور مشکل تھا، مگر اب حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جدید وسائل اختیار کرتے ہوئے اپنے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کریں اور اس سلسلہ میں جو لوگ بھی اپنی مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا تعاون کریں۔


سہ ماہی *تعمیر افکار* آن لائن اردو میگزین بھی انہیں عزائم کی ایک منھ بولتی تصویر ہے، جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، (فللّٰہ الحمد ولہ الشکر) یہ رسالہ نو عمر اور تعمیری و مثبت جذبات سے بھرپور اہل قلم کا قدرداں ہے اور امید کرتا ہے کہ انشاء اللہ ہمارے وہ نوجوان حضرات بھی اس کے علمی معاون بنیں گے جن کی صلاحیتیں اب تک لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔


ان شاء اللہ ہمارا آئندہ شمارہ (ستمبر - نومبر ۲۰۲۰ء) کی اشاعت پر مشتمل ہوگا، جس کے لیے مضمون ارسال کرنے کی آخری تاریخ ۱۸/اکتوبر ۲۰۲۰ء طے کی گئی ہے، امید ہے کہ اہل ذوق حضرات قبل از وقت ہی اپنا قیمتی مضمون بذریعہ میل یا واٹسیپ بھیجنے کی زحمت گوارہ کریں گے، ذیل میں چند عناوین بھی چسپاں کردیے گئے ہیں، جن کی روشنی میں تحریر کردہ مضمون کو اشاعت کے وقت ترجیح دی جائے گی؛


*اسوۂ حسنہ کی جامعیت*

*نبیﷺکا عہد شباب*

*نبیﷺکی سیاسی بصیرت*

*نبیﷺکا انداز تربیت*

*عظمت صحابہ*

*عدالت صحابہ*

*مشاجرات صحابہ*

*فتنوں کا دور اور اسلامی تعلیمات*

*ملک کی زبوں حالی کے مادی و سیاسی اسباب*

*دعوت وتبلیغ کے مؤثر اسالیب*



                والسلام

        *محمد نظام الدین ندوی*

        مدیر تعمیر افکار (بہار)

       9027780226

alhudaurdulibrary@yahoo.com

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...