ماہِ ربیع الاول کا پیغام
محمد نظام الدین ندوی
اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ گیر مذہب ہی نہیں بلکہ ایک بہترین نظام زندگی اور نظریہ حیات بھی ہے جس کا اعتراف صرف اسلام کے ماننے والوں نے ہی نہیں بلکہ دنیا کے غیر مسلم دانشوروں اور مفکروںو مؤرخوں نے بھی کیا ہے۔ اسلام خدا کی وحدانیت کا درس دیتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف ایک خدا ہے اور وہی عبادت و پرستش کے لائق ہے اس کا کوئی اور شریک نہیں۔خدا نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے، انہیں ضلالت وگمراہی اور بے راہ روی سے روکنے، نجات اور ہدایت کی راہ دکھا نے کے لیے دنیا میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور نبی بھیجے اور سب سے آخر میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہنچا نے کے لیے حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر دنیا میں بھیجا۔ حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو احکام دیے اور جس پر عمل پیرا ہونے کو ذریعۂ نجات بتایا وہ آج بھی ہمارے پاس قرآن مجید کی شکل میں محفوظ ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گا اور اسوۂ رسول ﷺ بھی حدیث کی شکل میں محفوظ ہے۔
یہ امت مسلمہ ہی کا امتیاز ہے کہ اس کے پاس ایک ایسی آئیڈیل شخصیت موجود ہے جس کی زندگی کا ہر ورق روشن اور عیاں ہے، وہ شخصیت ہر زمانہ اور ہر طبقہ کے لیے قابل اسوہ ہے، ورنہ دنیا کے تمام مذاہب ایک آئیڈیل پرسن سے محروم ہیں، اگر ان مذاہب میں کوئی اعلیٰ شخصیت گذری بھی ہے تو شومی قسمت کہ انہوں نے اس کو اپنا اوتار یعنی خدا کا نائب سمجھ لیا۔ لیکن حضور اکرمﷺ کی شخصیت ایسی ہے جس میں شاہ و گدا سب کے لیے اسوہ ہے، دنیا کے ماہرین و منصفین اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جیسی شخصیت تاریخ میں نہیں ملتی۔
افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسی مہتم بالشان ہستی کی ہم سے کما حقہ قدر نہ ہوسکی، اس کی آخری وحی کو ہم اپنی زندگیوں میں نافذ نہ کرسکے، جس میں جینے کا مزہ مخفی تھا، ترقی کی منازل پوشیدہ تھیں۔
ماہِ ربیع الاول ہر سال ہمیں یہ پیغام دےکر جاتا ہے کہ ہمیں اپنے نبیﷺ سے محبت کا جائزہ لینا چاہیے، ان کی سنتوں سے ہمارا کس درجہ تعلق ہے، اس کا احتساب ہونا چاہیے، آپ کی تعلیمات اور آپ کی ذاتی زندگی سے ہماری کتنی حد تک واقفیت ہے، اس کا ہمیں علم ہونا چاہیے، آپ کی زندگی کا بنیادی مقصد اور مشن کیا تھا، یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ دراصل یہ ماہ انہیں سب مقاصد کی تجدید کا پیغام ہے۔
No comments:
Post a Comment