Translate

Monday, April 21, 2025

امارت شرعیہ سازشوں ے نرغے میں عبداللہ ممتاز قاسمی

امارت شرعیہ سازشوں ے نرغے میں

عبداللہ ممتاز قاسمی

 امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ ایک تنظیم نہیں؛ ایک فکر ہے، ایک ادارہ نہیں؛ اسلامی عدالتی نظام کی ایک نظیر ہے۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا نظام برپا کیا، جس کی مثال اس وقت دنیا بھر میں موجود نہیں۔

 حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد رحمۃ اللہ علیہ اس کے بانی تھے؛ لیکن خود امیر بننے کے بجائے، اس وقت کی دو معروف خانقاہوں، خانقاہ رحمانی مونگیر اور خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشینوں (حضرت مولانا محمد علی مونگیری اور حضرت مولانا سید شاہ بدر الدین قادری) کو اس کے امیر بننے کی پیش کش کی۔ پھر حضرت مولانا مونگیریؒ کے مشورے اور تائید سے امیر شریعت اول حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادری منتخب کرلیے گئے اور خود نائب امیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ میرے استاذ مولانا قاضی عبدالجلیل صاحب عہدوں کی کش مکش کے تناظر میں بڑی معصومیت سے طلبہ سے فرماتے کہ "مولانا ابوالمحاسن کتنےبُڑبک آدمی تھے جنھوں نے امارت قائم کی اور ساری تگ ودو خود ہی کرتے رہے؛ لیکن امیرشریعت خود بننے کے بجائے دوسرے کو بنادیا"۔

 لوگ کہتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کی عمر سو سال ہوتی ہے۔ 1921ء میں امارت شرعیہ قائم ہوا تھا اور 2021ء آتے آتے یہ ادارہ آپسی کش مکش اور کھینچا تانی کی آماجگاہ بن گیا۔ فتنے 2021ء میں پہلی مرتبہ رو نما نہیں ہوے تھے، اس سے پہلے بھی امارت میں اختلافات جنم لیتے رہے؛ لیکن تب ایسی شخصیتیں موجود تھیں، جنھوں نے اپنے مفادات کی قربانی دے کر امارت کا تحفظ کیا۔ امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب کی وفات کے بعد امیر شریعت سادس کے لیے اس وقت کی سب سے معتبر اور لائق شخصیت حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی تھی؛ لیکن لوگوں کی ایک بھیڑ ایسی بھی تھی جو قاضی صاحبؒ کے بجائے مولانا محمد ولی رحمانی کو امیر کے عہدے پر فائز کرنا چاہتی تھی، اس حوالے سے امارت کے اندر انتشار وخلفشار مچانے کی بھی کوشش کی گئی؛ لیکن حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ دونوں شخصیتوں نے اپنی فراست ودانائی سے اور اپنے انا کی قربانی دے کر خود کو پیچھے کرلیا اور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو امیر شریعت سادس منتخب کرلیا گیا۔

 حضرت مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ امارت کی دوڑ میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجود وہ امیر منتخب کرلیے گئے؛ لیکن انھوں نے اپنی پوری حیات اس عہدے کو ایسا نبھایا کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ لوگ بتاتے ہیں کہ اس وقت ایک ہی دفتر ہوا کرتا تھا، جو بیت المال، امیر شریعت اور ناظم امارت کی آفس سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ بیٹھنے کے لیے بوریہ سے زیادہ کا انتظام نہ تھا؛ لیکن جب ان کی وفات ہوئی تو امارت کے پاس نہ صرف اپنی سہ منزلہ شاندار عمارت تھی، بلکہ سجاد ہاسپیٹل، ٹیکنیکل انسٹیوٹیوٹ، المعہد العالی اور دارالعلوم الاسلامیہ جیسے عظیم ادارے موجود تھے۔ حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی نے جہاں امارت شرعیہ کودنیا بھر میں علمی اور قضائی شناخت دیا وہیں مولانا سید نظام الدین نے انتظامی اور عوامی شناخت کو بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کے گاؤں گاؤں تک پہنچایا۔ اللہ تعالی ان کی خوب مغفرت فرمائےاور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

 حضرت مولانا کی وفات حضرت عثمان کی شہادت تھی، یعنی یہ ایک ایسا سانحہ تھا، جس کے بعد باندھ ٹوٹ گیا اور فتنوں کے سیلاب نے امارت کو چاروں طرف سے گھیرنا شروع کردیا۔ مولانا محمد ولی رحمانی ایک مضبوط شخصیت تھے، انھوں نے امارت کو نئی اونچائیوں پر لے جانے کی تگ ودو شروع کی، ان کے جو ترقی پسند افکار ونظریات تھے، امارت کے پلیٹ فارم سے انھیں بروئے کار لانا شروع کیا؛ لیکن وہ امارت کی زمین سے نہیں جڑ سکے۔ ایک طرف سید نظام الدین تھے، جن تک ایک معمولی چپراسی کی بھی رسائی تھی، دوسری طرف مولانا محمد ولی رحمانی کی شخصیت کا امارت میں ایسا خوف پھیلایا گیا کہ قاضی ومفتی کی باریابی کے لیے بھی وقت درکار ہوا کرتے تھے۔ امارت میں ان کی آمد ہٹو بچو جیسی تھی۔ اس لیے ان کے گرد چاپلوسوں اور مفاد پرستوں نے گھیرا بنالیا۔ 

 دارالعلوم الاسلامیہ کا قضیہ ان ہی کے زمانے میں رونما ہوا۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے معتمد خاص، مفتی جنید احمد قاسمی جنھوں نے الف با سے لے کر دورہ حدیث شریف تک دارالعلوم الاسلامیہ کو اپنی محنت وکاوش اور امارت شرعیہ کی سرپرستی میں پہنچایا، آپسی اختلاف کی بنیاد پر دارالعلوم الاسلامیہ سے نکال دیے گئے اور امارت میں مفتی کے عہدے سے بھی انھیں مستعفی ہونا پڑا۔ دارالعلوم پر قبضے کی ایسی جنگ برپا ہوئی جس میں امارت کے ذمے داران اور طلبہ دارالعلوم کے درمیان ہاتھا پائی اور لاٹھی وبانس چلنے کی بھی نوبت آئی۔ 

 حضرت الامیر کے حکم پر"دین بچاؤ ، دیش بچاؤ" جیسا بہار کی تاریخ کا ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کے کنوینر اور اجلاس کے حوالے سے مولانا کے دست وبازو خالد انور نے اجلاس اور مولانا کی شخصیت کو سیڑھی بناکر کسی الیکشن میں کامیابی حاصل کیے بغیر نتیش کمار کی پارٹی سے ایم ایل سی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 

 مولانا شبلی قاسمی جو پٹنہ کی کسی مسجد میں امام تھے، حضرت الامیرکی قربت وچاپلوسی میں کامیاب ہوگئے، جس نے کبھی ایک منٹ کے لیے بھی بطور امارت کے کارکن کے بھی کام نہیں کیا تھا۔ انھیں قائم مقام ناظم کے عہدے سے سرفراز کردیا گیا۔ ناظم بنتے ہی انھوں نے مولانا محمد ولی رحمانی کی قربت اور اپنے عہدے کا دھونس اپنے سے نچلی سطح کے ملازمین پر جمانا شروع کردیا۔ امارت کے اکثر ملازمین ان سے خائف تھے؛ چوں کہ حضرت الامیر کی ان تک پہنچ تھی۔ان پر باورچن کے ساتھ جنسی زیادتی اور مالی غبن کا الزام اسی عرصے میں لگا؛ لیکن زبانیں خاموش رہیں؛ چوں کہ حضرت الامیر تک ان کی پہنچ تھی۔

 نام نہاد مولانا ابوطالب رحمانی (جو نہ تو مولانا ہیں اور نہ ہی رحمانی) جو کبھی نتیش کمار کے پرچاک اور فرنٹ مین رہے تھے، انھوں نے بھی اپنی چاپلوسی وچرب زبانی سے مولانا محمد ولی رحمانی کی قربت حاصل کی۔ حضرت امیر شریعت کے رحم وکرم پر امارت شرعیہ کے رکن شوری اور ٹرسٹ کے ممبر بنائے گئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بھی ممبران میں شامل ہوگئے۔ جدیو نیتا اشفاق کریم بھی امارت کے ٹرسٹی بنائے گئے، وہ بھی مولانا سید محمد ولی رحمانی کے مرہون منت ہیں۔ (یہ وہ نام ہیں جنھوں نے موجودہ امیر کے خلاف بغاوت کی پیشوائی کی ہے، اس لیے قابل ذکر ہیں)
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ڈھال تھے، فتنے ان کے زمانے میں پلے اور بڑھے اور سازشوں نے جنم ضرور لیا؛ لیکن بہرحال ان کے رعب ودبدبہ نے ان فتنوں کو کبھی سر اٹھانے نہیں دیا۔ نہ معلوم کیا مصلحت تھی جو انھوں نے اپنے دور امارت میں نائب امیر اور ناظم جیسے اہم اور کلیدی عہدوں کو بھی خالی رکھا۔ ناظم امارت کا عہدہ تو آج تک خالی ہے۔ ان کے مرض الوفات میں پھر حسب عادت ایک دور کی شخصیت جس کا نہ صرف امارت سے کوئی لینا دینا نہیں؛ بلکہ وہ خالص تدریسی شخصیت ہیں، کو نائب امیر منتخب کیا گیا۔

خیر! امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد امارت میں ایک بھونچال آیا۔ امیر بننے کی ریس لگ گئی۔ جو امیر بننے کے ریس میں شامل تھے، انھوں نے پیڈ قلمکاروں سے اپنے فضائل ومناقب لکھوانا شروع کیا، ارباب حل وعقد میں خرد برد کیے گئے، پٹنہ اور اطراف میں کمپین چلائے گئے، جمہوری الیکشن کی طرح نومینیشن اور الیکشن ہوے اور امارت کی روح کو مجروح کرکے انتخاب عمل میں آیا۔
جن کی فتح ہوئی، انھوں نے جشن منایا اور جن کی شکست ہوئی، انھوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ صاحب الیکشن میں جھول تھا، "ای وی ایم ہیک تھے" وغیرہ؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی الیکشن اور "اسی ای وی ایم "کے ذریعہ آپ بھی امیر بننےکے خواہاں تھے۔ اب شکست کے بعد الزام کیسا؟ یقینا موجودہ امیر اصطلاح میں عالم نہیں ہیں، جو لوگ انھیں عالم جانتے ہیں وہ انجینیر محمد علی مرزا کو انجینیر فیصل ولی رحمانی سے بڑا عالم سمجھتے ہوں گے اور ڈاکٹر اسرار احمد اور ڈاکٹر ذاکر نائک کو بھی صف علماء میں اول مقام پر رکھتے ہوں گے۔

ان کوتاہیوں کے باوجود، جو ہونا تھا سو ہوگیا۔ انتخاب کے چار سال بعد انتخاب میں دھاندلی یا ان کے غیر عالم یا غیر ملکی ہونے کا حوالہ دے کر امارت میں شورش برپا کرنا، نہ صرف خطرناک قسم کی فتنہ انگیزی ہے؛ بلکہ بہار کی سطح پر اتحاد امت کو پارہ کرنے کی سازش بھی ہے۔ منتخب امیر کے مقابلے جنھیں امیر بنایا گیا ہے، وہ باب سیاست میں ایسے نوآموز ہیں، جنھیں 2021ء کے انتخاب کے وقت اتنی بات سمجھ نہیں آئی کہ دستور امارت میں غیر عالم امیر نہیں بن سکتا تو پھر غیر عالم کے ساتھ زور آزمائی کیوں کی؟ ارباب حل وعقد کے انتخاب میں دھاندلی ہوئی، پھر انھیں ووٹ دینے کی اجازت کیوں دی؟ اور دستور کے کس ضابطے سے اراکین ٹرسٹ منتخب امیر کو معزول کرسکتے ہیں اور نئے امیر کا انتخاب کرسکتے ہیں؟ اگر اتنی بات انھیں نہیں سمجھ میں آرہی ہےتو ان کے مقابلے کسی عام فہم انسان کا امیر بننا زیادہ بہتر ہے، انجینیر صاحب تو پھر بھی ڈپلومہ ہولڈر ہیں اور ملٹی لینگول بھی ہیں اور اس پر مستزاد سیاست کے داؤ پیچ سے واقف بھی۔

جن لوگوں نے امارت میں فتنہ انگیزی کی ہیں، ان میں پیش پیش، ابوطالب رحمانی، شبلی قاسمی اور اشفاق کریم، خالد انور اور مفتی سہیل جیسے لوگ ہیں۔ یہ کرسی کے پجاری اور برسر اقتدار حکومت کی چاکری کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کے نزدیک امارت شرعیہ حصول مفاد کا ایک ذریعہ تھا، سو انھوں نے اختیار کیا۔ جب ان کے آقاؤں کا مفاد امارت شرعیہ سے متصادم ہوا، انھوں نے ملت کے پشت میں چھرا گھونپ کر آقا کی خوش نودی حاصل کی۔ فیصل ولی رحمانی سے ہزار اختلاف؛ لیکن وہ اب منتخب امیر ہیں۔ ان کے خلاف بغاوت امارت کے خلاف بغاوت ہے۔ ان کے خلاف سازش ملت کے اتحاد کے خلاف سازش ہے، پولیس میں ان کی شکایتیں لگانا اور ان پر الزام تراشیاں کرنا ، ملت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

 امیر شریعت پر طور پر تین الزام ہیں، جنھیں بنیاد بناکر امارت شرعیہ میں شورش برپا کی گئی ہےاور امارت کو توڑنے کی پوری سازش کی جاچکی ہے۔ آئیے ان تینوں کا جائزہ لیں۔

(1) "امیر شریعت عالم نہیں ہے"۔ ہاں یقیناوہ اصطلاحی عالم نہیں ہیں اور دستور امارت میں امیر کے لیے عالم ہونے کی شرط ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ شرط قرآن وحدیث سے مستنبط ہےیا اس کا تعلق انتظام واجتہاد سے ہے۔ یقینا ایک عام فہم شخص بھی یہی کہے گا کہ اس کا تعلق انتظام واجتہاد سے ہے۔ یہ ضابطہ بنایا کس نے ہے؟ امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب کے زمانے میں شوری نے اس دستور کو منظوری دی تھی۔ امیر شریعت ثامن فیصل ولی رحمانی کی زمانے میں شوری نے اس ضابطے کی عملا وضاحت کردی کہ ایسا شخص جو اصطلاحی عالم تو نہ ہو؛ لیکن شریعت کا ایک معتد بہ علم رکھتا ہو، وہ بھی امیر بن سکتا ہے؛ چوں کہ انتخاب امیر کے وقت شوری اور انتخاب کمیٹی نے ان کی اہلیت پر اس حوالے سے سوال نہیں اٹھایا اور"معرض سوال میں سکوت، رضامندی کی دلیل ہوتی ہے"۔ پھر یہ کہ انسانوں کے بنائے ہوے دستور کا جب ٹکڑاؤ خدا کے دیے حکم سے متصادم ہو تو ظاہر ہے، خدا کے حکم کی تعمیل کی جائے گی، نہ کہ انسانی دستور کی۔ اللہ کا صاف حکم ہے: ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو‘‘(آل عمران ؍103) اور "آپس میں جھگڑا مت کرو، ورنہ دشمنوں کے سامنے تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ (الانفال:46) اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’اگر تم پر ناک یا کان کٹا غلام بھی امیر بنادیا جائے جو اللہ کی کتاب کی روشنی میں تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو‘‘ (مسلم) اور ’’سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام (امیر) مقرر ہو جائے اگرچہ اس کا سر ( چھوٹا ہونے کی وجہ سے) منقہ جیسا ہو‘‘ (بخاری)۔ انتخاب امیر سے پہلے اختلاف کوئی معیوب بات نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت بھی اختلاف ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت بھی؛ لیکن انتخاب کے بعد اختلاف بغاوت ہے، چاہے وہ امیر آپ سے کہتر ہو؛ چناں چہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تمام کارناموں کے باوجود ( کہ شہادت عثمان کے بعد جو فتنوں کا دروازہ کھلا تھا اور اسلام کی فکری اور ملکی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں تھیں، انھیں محفوظ بنانے کا عظیم کارنامہ انھوں نے ہی انجام دیا تھا) حضرت علی سے بغاوت کو ہم ان کی اجتہادی خطا جان کر ہی انھیں کلین چٹ دیتے ہیں۔

(2) "وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں"۔ اسلام سرحدی بندشوں کا پابند نہیں۔ یہ لکیریں ہم نے کھینچی ہیں۔ اس لیے امارت کے دستور میں بھی ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ اس کا تعلق خالص انتظام سے ہے۔ اگر ہندوستانی آئین میں، ان کا امریکی شہری ہونا، امارت شرعیہ کا امیر بننے کے منافی ہے تو بلاشبہ انھیں اس عہدے سے معزول کیا جانا چاہیے چوں کہ ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور اس کے دستور کی پاسداری کرنا ہر شہری کی ذمے داری ہے؛ لیکن اگر ہندوستانی قانون میں اس کی گنجائش ہے، تو پھر اسے بنیاد بناکر انھیں معزول کرنے کی گنجائش شرعی ضابطے میں ہے اور نہ ہی امارت شرعیہ کے دستور میں۔
البتہ امیر شریعت سے میری یہ گزارش ضرور ہے کہ آپ چوں کہ ہندوستان میں پیدا ہوے، آپ کی پرورش وپرداخت ہندوستان میں ہوئی، بعد میں آپ نے اپنی قابلیت کی بنیاد پر امریکی شہریت حاصل کی۔ خبروں کے مطابق آپ کے پاس او سی آئی بھی ہے۔ نہ تو آپ امریکہ میں پیدا ہوے اور نہ ہی آپ کو دیش نکالا کیا گیا ہے۔ اس لیے واپس ہندوستانی شہریت حاصل کرنا کوئی جوئے شیر لانے جیسا کام نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکی شہریت بآسانی نہیں ملتی، اس سے آپ کی اور آپ کے فیملی کے بہت سے مفادات وابستہ ہیں؛ لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری اور امارت شرعیہ کے امیر سے زیادہ اس کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔

(3) "مالی بدعنوانی، ڈکٹیٹرشپ، شوری کی میٹنگ نہ بلانے جیسے چھوٹے موٹے الزامات"۔ دنیا میں ایسا کون شخص ہے، جو دودھ سے دھلا ہو۔ الزام لگانے والے پر کوئی الزام نہیں؟ اگر ایسے الزامات کی بنیاد پر امیر شریعت کو معزول کیا جانے لگےتو گزشتہ سو سالوں میں سات امیر نہیں، سات سو امیر منتخب اور معزول ہوچکے ہوتے۔

امارت شرعیہ سے بغاوت کرنے والوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، شاید عدالت میں آپ امارت کو توڑنے اور اپنی ایک الگ امارت بنانے میں کامیاب بھی ہوجائیں؛ لیکن شاید آپ کسی خوش فہمی میں ہیں، جس طرح دارالعلوم، جمعیت اور مظاہر کی طرح آپ کی امارت کی بھی وہی اہمیت ہوگی جو ان کی ٹوٹنے بعد بھی باقی رہی تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ نے قدم پیچھے نہیں ہٹایا، تو یہ آپ کے نہ صرف مستقبل کے کریر کے لیے ہلاکت ہوگی؛ بلکہ ماضی میں آپ نے امارت کے لیے جو کچھ کیا، اس پر بھی پانی پھر جائے اور تاریخ امارت میں آپ کے سامنے بس ایک لفظ لکھا جائے گا "باغی"۔چوں کہ امارت کی بنیاد ہی اتحاد پر ہے، اگر اتحاد باقی نہیں رہا تو پھر باقی کیا رہا؟امید ہے کہ مولانا انیس الرحمن قاسمی اس بات کو سمجھیں گےاور مفاد پرستوں کے نرغے سے خود کو نکالیں گے۔ آپ قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے معتمد رہے ہیں اور امارت کے لیے طویل خدمات ہیں ان کی۔ آپ کی شناخت انتظامی حیثیت سے زیادہ علمی حیثیت سے رہی ہے۔ آپ اپنی کھلوں آنکھوں سے دیکھیے اور محسوس کیجیے کہ جنھوں نے آج آپ کے گرد ہالہ بنایا ہوا ہے اور جو آپ کو امیر شریعت کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں، کیا یہی کل تک فیصل ولی کو امیر بنانے کے لیے پوری تگ ودو نہیں کر رہے تھے۔ ان سے مفادات حاصل نہیں ہوے، اس لیے ان کے باغی بن گئے، کل آپ سے مفادات حاصل نہیں ہوں گے تو کیا وہ آپ کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے؟

 اس پورے واقعہ میں ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جو امارت کے رکن شوری ہیں اور امارت سے خاص وابستگی ہے، (مسلم پرسنل لاء کے قضاء کی تربیت یہیں ہوتی ہے) خاموش تماشائی ہیں۔ شاید آپ سمجھ رہے ہیں کہ خاموش رہ کر امارت میں اپنے کردار کونیوٹرل رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے؛ لیکن معمولی سیاسی شد بد رکھنے والے بھی آپ کی خاموشی کو معنی خیز سمجھ رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء سے ان کا نکالاجانا، جھارکھنڈ امارت کی علیحدگی، پھر امارت میں شورش اور ان سب پر آپ کی گہری خاموشی بے وجہ نہیں ہے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...