Translate

Monday, April 14, 2025

اپنے اختلافات کو امت کے لیے نافع بنانے کی کوشش کریں مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علی گڑھ

اپنے اختلافات کو امت کے لیے نافع بنانے کی کوشش کریں 

مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علیگ
علی گڑھ

 *امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے قضیے کے بعد ٬ اب کرناٹک میں مسلمانوں کا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف ٬ وقف جائدادوں سے متعلق اپنی بےچینی کے اظہار نے ٬ امت کو پوری طرح توڑ کر رکھ دیا ہے.* 
 
اتحاد و اتفاق ٬ یکجہتی اور ہمدردی کی خوشبو حاصل کرنے کے بعد ٬ میدان عمل کے ہمارے وہ ساتھی جو اپنی زندگی کی بیش قیمت ٬ خوش گوار یادیں ہمارے ساتھ رکھتے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہےکہ ٬ وہ خود کو بد نامی و رسوائ کے عذاب اور پریشانی میں ڈالنے کے بجائے وہ اپنے اختلاف کو «کسی ادارے یا شخصیت کو نیچا دکھانے کے بجائے» امت کے لئے نافع بنانے کی کوشش کریں۔
 
 جمیعت علماء ہند ٬ جس نے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر لے رکھی تھی ٬ اس نے آج تک اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں دلچسپی نہی دکھا سکی ۔  

امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ ٬ جس کے بنیاد میں سیاسی استحکام کے لئے ٬ اس کی خود کی مسلم سیاسی پارٹی تھی ٬ اس نے بھی اس باڈی کے احیاء کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہی کی ۔ 

مسلم پرسنل لاء بورڈ ٬ جو خود کو سیاست سے دوری کے اظہار کے ساتھ ٬ صرف مذہبی مسائل کی ذمہ داری کے اصول کے ساتھ چلتی ہے ٬ اس کے متعلق کرناٹک کے مسلمانوں کا یہ مطالبہ کیا جارہاہے کہ ٬ بورڈ نے وقف کی جائدادوں کو غلط لوگوں کے قبضہ سے چھڑانے کا اب تک کتنی بار تحریک چلایا ؟ اگر نہی چلایا تو کیا وہ آئندہ کوئ ٹھوس لائحہ عمل بنانے اور تحریک چلانے کا وعدہ کرتی ہے ؟

قارئین کو یاد ہوگا کہ مودی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر بندش کی بات ٬ جب شدت اختیار کرنے لگی تو ٬ *مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے یہ کہاگیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کمی کوتاہی کچھ مسلم لڑکوں کی طرف سے ہورہی ہے اور ایک ہی مجلس میں تین طلاق بول کر لڑکی کی زندگی اور عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اس کی روک تھام کے لئے « ہم خود ایک رجسٹر نکاح نامہ کا تیار کریں گے ٬ جس میں ایسی ایسی شرطیں داخل کریں گے ٬ جس سے کسی بھی لڑکی کے ساتھ اس طرح کی نازیبا اور غیر مناسب حرکت پر روک لگانا آسان ہوگا* » ۔ 

 *کیا کوئ بتاسکتے ہیں کہ وہ قول و قرار والا « نکاح نامہ والا رجسٹر » اب تک بورڈ نے کیوں نہی تیار کیا ہے ؟ یا پھر وہ رجسٹر اگر تیار ہوچکا ہے تو اب تک ائمہ کرام اور امت کے ہاتھوں میں کیوں نہی پہونچ سکا ہے ؟* 

ائمہ کرام جو امت کے لئے پیشوا ہیں ٬ ان کے عزت و وقار کی بحالی کے لئے بورڈ نے آج تک ملکی سطح پر کوئ ایسی تجویز پیش نہی کرسکی ٬ جس میں ائمہ کرام کے لئے زمانہ کے حساب سے معیاری تنخواہ کی لازمیت پر گفتگو کی گئی ہو ٬ *کسی بھی امام کو مسجد میں مقرر کرنے اور ہٹانے سے متعلق ٬ شریفانہ انداز کی لازمیت پر بحث کی گئ ہو ٬ کسی بھی امام صاحب ٬ جنہوں نے اپنی زندگی کی بیش قیمت حصہ ٬ مسجد کی خدمت میں گزار دیا ہو ٬ ان کے لئے بوڑھاپے میں پینشن کی سہولیات پر بورڈ کی طرف سے بات کی گئ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ !* بورڈ نے آج تک ائمہ کرام کی بد حالی اور خستہ حالی کو دور کرنے کی طرف ملکی سطح پر کوئ ٹھوس لائحہ عمل تیار ہی نہی کیا ۔  

یقیناً یہ وقت ان سب باتوں کو باہر لانے کا نہی ہے ۔ لیکن معاملہ کی سنگینی اور بے چینی سے یہ معاملات بھی جدا نہی ہیں۔  

 *اتحاد و اتفاق کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ہی ہم سب کی کامیابی اور عزت ہے۔* لیکن جو لوگ حکومتی سطح پر کچھ دباؤ میں ہوں ٬ ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے اختلاف کو امت کے لئے نافع ضرور بنائیں۔ اپنوں سے دوری اور علیحدگی کے بعد بھی ہماری کوشش یہ ہو کہ امت مسلمہ کے لئے جو کام اب تک ہمارے ادارے اور ہمارے لوگ کسی وجہ سے نہی کرسکے ہیں ان کو پورا کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے لیں ۔ 

حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب ٬ جوکہ سلجھے ہوئے انسان اور ملکی سطح پر سیاسی نشیب و فراز کی فہم رکھتے ہیں ان کے لئے یہ وقت بہت قیمتی اور مفید ہے کہ وہ یہ سب کام جو اب تک ہمارے مذہبی ادارے نہی کر سکے ہیں ٬ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ نئ مسلم سیاسی پارٹی کا وجود اس لئے لائیں تاکہ کٹر ہندو عوام میں جو مسلمانوں کے خلاف زہر بھر دیا گیا ہے اس کا خاتمہ ہوسکے۔ 

اس زہر کا خاتمہ کرنے کے لئے جس پارٹی اور گروہ نے یہ بیج بویا ہے اسی کے ساتھ اتحاد اور ساتھ چلنے کے اعلان کے ساتھ نئی سوچ اور نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان سیاست میں ٬ اس اصول کے ساتھ کہ ملک میں بسنے والی تمام پارٹیاں ٬جو ملک کی سالمیت اور عوام کی فلاح پر یقین رکھتی ہے ان تمام پارٹیوں کے ساتھ ٬ خواہ وہ کانگریس ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ٬ آر جے ڈی ٬ جےڈی یو وغیرہ کوئ بھی ہو ان تمام پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کے لئے اپنا دروازہ کھلا رکھنے کے اعلانیہ کے ساتھ میدان میں ضرور تشریف لائیں ۔ 
تاکہ امت مسلمہ ان کو ایک بار پھر اپنی پیشانی کا جھومر بنا سکے۔ اور آپسی اختلاف کو مزید گہرا کرنے کے بجائے ہر کوئ اپنے اپنے کام میں مثبت انداز میں لک سکے۔ ہم سب کی کوشش ہوکہ ہم جب تک ہم ایک ساتھ رہیں ٬ ایک ادارے میں رہیں تب بھی اور جب ادارے سے الگ ہوجائیں یا آپسی دوری ہوجائے تب بھی اپنے اختلاف کو امت کے لئے نافع بنانے کے عزم کے ساتھ زندگی گزاتے رہیں۔ 

 *میری زندگی کا مقصد تیری دیں کی سرفرازی* 
 *میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی۔*


مفتی اشتیاق احمد ربانی قاسمی علیگ

علی گڑھ 

Ishtiyaqrabbani95@gmail.com

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...