Translate

Wednesday, August 27, 2025

ذہنی تناؤ: علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کامران غنی صبا

ذہنی تناؤ: علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامران غنی صبا 

کبھی کبھی میں اپنی کلاس میں طلبا کو ایک سادہ کاغذ دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ وہ اس پر اپنی وہ باتیں لکھ دیں جو وہ کلاس میں سب کے سامنے نہیں کہہ سکتے۔ اس کاغذ پر وہ اپنا نام نہیں لکھتے تاکہ ان کی شناخت پردے میں رہے۔ میں نے بارہا محسوس کیا کہ ان بے نام اور بے چہرہ تحریروں میں جو صدائیں ابھرتی ہیں، وہ خوشی یا مسرت کی آوازیں نہیں ہوتیں بلکہ ایک دباؤ، ایک اندھیرا اور ایک بے نام سا درد ہوتا ہے۔ اکثر یہ کاغذ ایسے دل کے حال سناتے ہیں جو اپنی ہی خاموشی میں گھٹ رہا ہے۔ ان پر لکھی سطریں بتاتی ہیں کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اندر ہی اندر اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو کلاس روم کی چہل پہل اور نصاب کی گونج میں کہیں دب جاتا ہے لیکن بس ذرا چھیڑ بھر دیجیے اور یہ اعتماد دلادیجیے کہ اس کا راز کہیں افشاں نہیں ہوگا تو طالب علم اپنی اصلی حالت ظاہر کر دیتا ہے۔
یہ تجربہ محض انفرادی مشاہدہ نہیں بلکہ ہندوستانی نوجوانوں کی موجودہ نفسیاتی کیفیت کا ایک عکس ہے۔ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلبا کی ذہنی صحت کا مسئلہ رفتہ رفتہ ایک سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یکے بعد دیگرے مختلف رپورٹس اور سرویز نے یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبا میں ذہنی دباؤ، اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی بحران کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے جو براہِ راست تعلیمی معیار، معاشرتی توازن اور قومی ترقی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
 اگر ہم اس مسئلے کا ایک ہلکا سا تاریخی تناظر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طلبا ہمیشہ سے کسی نہ کسی نوعیت کے دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ امتحانات کی تیاری، کیریئر کا دباؤ، خاندانی توقعات اور مالی مشکلات ہمیشہ ان کے ہمراہ رہی ہیں۔ لیکن آج کے دور میں یہ دباؤ ایک غیر معمولی شدت اختیار کر چکا ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں مسابقت کا دائرہ صرف مقامی یا علاقائی نہیں رہا بلکہ عالمی سطح تک پھیل چکا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے بھی طلبا کی نفسیات کو ایک نئی اور پیچیدہ کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
 ٹائمز آف انڈیا میں 12 مارچ 2024 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجوں کے تقریباً 35 فیصد طلبا ڈپریشن کی مختلف سطحوں کا شکار ہیں جبکہ 40 فیصد سے زائد طلبا نے اعتراف کیا کہ وہ امتحانی دباؤ اور تعلیمی بوجھ کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صرف میڈیکل کے طلبا ہی نہیں بلکہ انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کے طلبا بھی اسی طرح کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
 اسی طرح انڈین جرنل آف سائیکاٹری میں 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً 30 سے 35 فیصد طلبا ایسے ہیں جو یا تو ڈپریشن کا شکار ہیں یا اس کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 20 فیصد طلبہ نے خودکشی کے خیالات آنے کا اعتراف کیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تعلیمی ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں رہے بلکہ ان میں نفسیاتی بحران کے آثار بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
 یہ بات بھی اہم ہے کہ طلبا میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی وجوہات یکساں نہیں ہوتیں۔ بعض طلبہ کے لیے یہ دباؤ خاندانی پس منظر اور معاشی مشکلات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بڑی تعداد میں طلبا نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لیے فیس، ہاسٹل کا خرچ، کتابوں اور دیگر ضروریاتِ تعلیم کا بوجھ ایک مستقل پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ دوسری طرف بعض طلبا ایسے بھی ہیں جو تعلیم میں بہترین کارکردگی کے باوجود خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور مقابلہ بے حد سخت ہے۔ اس صورتِ حال میں ان کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے اور وہ رفتہ رفتہ ذہنی دباؤ کے شکنجے میں جکڑ جاتے ہیں۔
 سوشل میڈیا کے اثرات بھی اس تناظر میں کم اہم نہیں۔ آج کے نوجوان طلبا کا ایک بڑا طبقہ دن رات مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وقت گزارتا ہے۔ ایک طرف یہ پلیٹ فارمز معلومات کے تبادلے اور تخلیقی اظہار کا ذریعہ ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسلسل تقابل، لائکس اور فالوورز کی دوڑ، اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کے نمائش زدہ مناظر کے باعث طلبا میں احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کو بڑھا رہے ہیں۔ متعدد مطالعات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جو طلبا روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
 حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایسے طلبا جنہیں بظاہر ہر سہولت میسر ہے، وہ بھی ذہنی دباؤ سے محفوظ نہیں ہیں۔ بڑے شہروں کے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا بھی اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان پر کامیابی کی ایسی غیر حقیقی توقعات لاد دی جاتی ہیں جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں ناکامی یا معمولی کمی بھی انہیں شدید ذہنی بحران سے دوچار کر دیتی ہے۔ یہ کیفیت اکثر اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ان کے والدین یا اساتذہ انہیں سمجھنے کے بجائے مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔
 مسئلہ صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر کسی کلاس یا ہاسٹل میں ایک طالب علم ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کے اثرات دوسروں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس طرح ایک پورا تعلیمی ماحول منفی اثرات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ جب کسی کلاس میں بڑی تعداد میں طلبا ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو تدریسی سرگرمیوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اساتذہ کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ طلبا کی تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔
 یہ سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ کیا تعلیمی ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں؟ افسوس کہ بیشتر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ اگرچہ بعض بڑے اداروں نے کاؤنسلنگ سینٹر قائم کیے ہیں اور ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کی ہیں لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں اب بھی یہ سہولت ناپید ہے۔ اکثر اوقات طلبا کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جائیں اور کس سے رجوع کریں۔ سماجی سطح پر بھی ذہنی صحت کے مسائل کو عموماً کمزوری یا عیب سمجھا جاتا ہے جس کے باعث طلبا اپنے مسائل چھپاتے ہیں اور نتیجتاً ان کی کیفیت مزید بگڑ جاتی ہے۔
 یقیناً یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے صرف فرد یا خاندان نہیں بلکہ پورے سماج کو سنجیدگی سے نمٹنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کاؤنسلنگ کی سہولت لازمی قرار دے۔ ہر تعلیمی ادارے میں ماہرینِ نفسیات کی مستقل تعیناتی ہونی چاہیے تاکہ طلبا کو فوری اور بروقت مدد میسر آ سکے۔ اساتذہ کو بھی اس حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنے طلبا میں ذہنی دباؤ کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں اور انہیں بروقت رہنمائی فراہم کر سکیں۔ میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ اس مسئلے کو عیب یا کمزوری کے بجائے ایک حقیقی بیماری سمجھا جائے جس کا علاج اور سدباب ممکن ہے۔
  ہندوستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی سب سے بڑی طاقت ہے، اگر اسی طبقے کو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہونے دیا گیا تو یہ نہ صرف ان کی انفرادی زندگی بلکہ قومی ترقی کے سفر کو بھی متاثر کرے گا۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ متوازن، پُراعتماد اور صحت مند شخصیتوں کی تشکیل بھی ہے۔ اگر ہم نے آج اس پہلو کو نظر انداز کیا تو کل یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر لے گا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، والدین اور سماج سب مل کر طلبا کی ذہنی صحت کو اولین ترجیح بنائیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہندوستان اپنے تعلیمی اور سماجی مستقبل کو روشن اور مستحکم بنا سکتا ہے۔
 یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف کاؤنسلنگ اور ماہرینِ نفسیات کی خدمات طلبا کے تمام مسائل حل کر سکتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی صرف ذہنی یا جسمانی نہیں بلکہ روحانی پہلو سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جب انسان اپنے اندر کی پیاس بجھانے سے غافل ہو جاتا ہے تو وسائل اور کامیابیاں بھی سکون نہیں دے پاتیں۔ جدید دور کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ انسان نے اپنی دنیا کو مشینوں اور اسکرینوں سے بھر تو دیا ہے لیکن اپنے دل کو ویران چھوڑ دیا ہے۔
 نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی کامیابی اور خوشی محض ایک فریب ہے۔ حقیقی خوشی نمود و نمائش سے نہیں بلکہ سادہ اور بامقصد زندگی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنی روزمرہ زندگی میں دکھاوا اور اسٹیٹس کی دوڑ کم کر دے تو اس کی نفسیات خود بخود متوازن ہو جاتی ہے۔
 روحانی قدریں نوجوانوں کے لیے ایک ڈھال کا کام کر سکتی ہیں۔ خدا پر یقین اور اس کی رضا میں جینے کا احساس انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی زندگی کا سب کچھ نہیں۔ صبر، شکر، ہمدردی، ایثار اور محبت وہ اوصاف ہیں جو انسان کے دل کو بوجھ سے آزاد کرتے ہیں۔ جب انسان دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے اور اپنی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹے تو زندگی ایک نیا سکون عطا کرتی ہے۔
 انسانیت کا لمس بھی اسی وقت بیدار ہوتا ہے جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں سے براہِ راست تعلق قائم کریں۔ ایک دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھنا، والدین کے ساتھ مکالمہ کرنا، استاد سے رہنمائی لینا، اور غریب کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو کسی بھی دوا یا مشین سے زیادہ دل کو سکون دے سکتی ہیں۔
 نوجوانوں کے لیے یہ وقت کا سب سے بڑا مشورہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو ذریعہ بنائیں، سہارا نہ بنائیں۔ انسان کو انسان کے ساتھ بدلنے کی بجائے انسان کو انسان کے قریب لائیں۔ حقیقی رہنما اور آئیڈیل وہ ہیں جو گوشت پوست کے انسان ہیں، جو دکھ اور خوشی میں ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ اسکرین پر جگمگاتی ہوئی شخصیات۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف کامیاب پیشہ ور نہ بنائیں بلکہ اچھا انسان بھی بنائیں۔ ان کے دلوں کو خدا کی یاد سے جوڑیں، ان کی نگاہوں کو دنیا کے فریب سے بچائیں، اور ان کی شخصیت کو سادگی، محبت اور ایثار کے زیور سے آراستہ کریں۔یہی وہ راستہ ہے جو نوجوانوں کو ڈپریشن اور اضطراب کی تاریکی سے نکال کر امید اور اطمینان کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے.

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...