اصلاح و استفادہ سے کوئی مستغنی نہیں !
(1)
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
راقم الحروف نے ابتدائی عربی تعلیم ندوہ کی شاخ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی میں حاصل کی، جو اہل اللہ کا مرکز ہے، اور ایک سال مدرسہ انوار الاسلام مادھو پور سیوان میں تعلیم حاصل کی، اور عربی چہارم سے فضیلت تک کی تعلیم دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں ہوئی،مزید ایک سال فقہ و افتاء کا خصوصی کورس دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد میں کیا، وہاں حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح اور فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی سے استفادہ کا بھر پور موقع ملا۔
ندوہ میں حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی تصنیفات و تالیفات کو پڑھنے اور ان کی مجالس سے بھی استفادہ کا موقع ملا ، حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی تصانیف اور ان کی مجالس نے ذہنی و فکری اعتدال کیساتھ یہ ذہن بھی بنایا کہ ہمیشہ سلف اور سواد اعظم کے منہج پر قائم رہوں اور اہل سنت و الجماعت کی ڈگر سے سر مو انحراف نہ ہونے پائے ، اصلاح و استفادہ سے کبھی اپنے کو مستغنی نہیں سمجھوں ،علماء و صلحاء کی محفل میں شرکت کروں ان سے محبت و عقیدت رکھوں ،ان کی خدمت میں محض اس لئے شرکت کروں کہ ایسی بات سننے میں آئے جس سے دل میں کچھ کیفیت پیدا ہو،یقین میں اضافہ ہو اور اس میں ایمانی حلاوت نصیب ہو اور رسم و صورت میں حقیقت پیدا ہو ۔
میں اکثر عربی کے یہ اشعار گنگناتا ہوں ،،
احب الصالحین و لست منہم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
نیک لوگوں سے محبت رکھتا ہوں اگر چہ میں نیک لوگوں میں سے نہیں ہوں
بعید نہیں ان سے تعلق کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بننے کی توفیق دے دے ۔
تشںبھوا ان لم تکونوا مثلھم
فان التشبہ بالکرام فلاح
نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرو اگر چہ تم ان کی طرح نہیں ہو
بیشک نیک لوگوں کی مشابہت میں فلاح و کامیابی مضمر ہے
مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی مجالس، ان کی تصانیف ان کی زندگی اور مشن سے بہت کچھ سیکھنے اور برتنے کا موقع ملا ، بطور تحدیث نعمت یہ کہتا ہوں کہ ان کی فکر کا عکس اور پرتو میری تحریر و تقریر میں بھی موجود ہے ۔
آج کی مجلس میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں مذکورہ عنوان کے تحت مفکر اسلام کی قیمتی افادات میں سے کچھ پیش کریں گے ،جس میں ہم سب کہ لئے عبرت و نصیحت کے بہت کچھ سامان موجود ہیں ۔
حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ہمیشہ طلبہ اور اپنے مسترشدین کو یہ نصیحت کرتے تھے کہ سلف اور سواد اعظم کے منھج و موقف پر ہمیشہ قائم رہو ان کی تحقیق و جستجو پر اعتماد رکھو اور اصلاح و استفادہ سے کبھی اپنے کو مستغنی نہ سمجھو ، وقفہ وقفہ سے اہل اللہ کی خدمت میں حاضری دیا کرو ، مولانا رح خود ہمیشہ اس کا التزام فرماتے اور حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رح حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رح حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاپگڑھی اور اپنے پیر و مرشد حضرت عبد القادر رح کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان کی مجالس سے کسب فیض کرتے اور اس کو کسی طرح اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتے ۔
مولانا رح لکھتے ہیں ،،
میری مثال بالکل ایسی ہے ، اس لیے میں ہمیشہ اپنے بزرگوں کی خدمت میں اور خصوصا آخری دور میں حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رح کی خدمت میں محض اس لئے آتا تھا کہ ایسی کوئی بات سننے میں آئے جس سے دل میں کچھ کیفیت پیدا ہو، یقین میں اضافہ ہو اور اس میں ایمانی حلاوت نصیب ہو اور رسم و صورت میں حقیقت پیدا ہو۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ کچھ لکھ پڑھ جاتے ہیں یا ان کو کچھ تصنیف و تالیف کا اتفاق ہوتا ہے اور ان کی طرف کچھ نگاہیں اٹھنے لگتی ہیں کہ ہم بھی کچھ جانتے بوجھتے ہیں تو پھر اب ان کو کچھ سننے کی اور کہیں جانے کی اور کسی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں تو ان کا خیال بالکل صحیح نہیں ، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دور میں بھی اور کسی عمر میں بھی اور کسی حالت میں بھی استفادے سے بلکہ اصلاح سے مستغنی نہیں ہوتا،، ۔
صحابئہ کرام کو بھی اپنے ایمان کی فکر رہتی تھی ، ہمہ شما کا تو کیا ذکر ؟ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسی صحبت حاصل تھی، جس کو کیمیا اثر کہنا بھی حقیقت میں اس کی کچھ تعریف نہ ہوگی ، بس یوں سمجھئے کہ ایسی پاک صحبت ،جس کے بعد کسی صحبت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور کوئی صحبت اس سے بڑھ کر موثر نہیں ہوسکتی ،مگر پھر بھی صحابہ کرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ اس بات کی فکر و طلب رہتی تھی کہ اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور ہمارے قلوب میں وہی سوز و گداز اور کیفیات پیدا ہوں جو صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاصل ہوا کرتی تھی یا کم از کم اس کا اثر اور عکس ہی نصیب ہو جائے ۔
بخاری شریف میں ایک جلیل القدر صحابی کا یہ قول امام بخاری نے نقل کیا ہے،، اجلس بنا نومن ساعة، ،، آؤ بھائی تھوڑی دیر بیٹھ کر ذرا ایمان کی باتیں کرلیں ، اور ایمان کا مزہ اٹھا لیں ،ایمان کے جھوکے آئیں اور ہم اس سے لطف اندوز ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو بعد والے کیونکر اس سے مستغنی ہوسکتے ہیں ؟
حضرت مولانا علی میاں ندوی رح فرمایا کرتے تھے ،،
اپنے کو ہمیشہ قابل اصلاح سمجھو ، جن لوگوں کو ذرا بھی تجربہ ہے ان کے قلوب مردہ نہیں ہو چکے ہیں وہ خود جانتے ہیں کہ ان کو دوسروں سے زیادہ ہزار درجہ زیادہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ والوں کی بات ادب و احترام اور تعظیم کے ساتھ سننے کی ضرورت ہے اگر وہ سمجھیں کہ ہم مستغنی ہیں یا ہم بھرے ہوئے ہیں ،تو ان سے زیادہ محروم و بدقسمت کوئی نہیں ، اس لیے ضرورت ہے کہ اپنے کو اصلاح کا محتاج ظاہر کیا جائے ، اللہ والوں کے یہاں اس طرح حاضر ہوا جائے کہ ہم بالکل خالی ہیں ، مفلس و محتاج بن کر آپ کی خدمت میں کچھ لینے آئے ہیں ،،۔
مولانا لکھتے ہیں ،،
مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی ندوی رح نے جب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح سے رجوع کیا تو ان کے بہت سے غالی معتقدین کو ناگوار ہوا اور سید صاحب سے احتجاج کیا کہ ہماری جماعت کی ایک طرح کی سبکی ہوئی ہے کہ ہم نے آپ کو بڑا بنایا تھا ،گویا آپ شیخ الکل تھے اور ہر چیز میں آپ امام کا درجہ رکھتے تھے اور آپ نے دوسرے کا دامن پکڑ لیا تو اس سے ہماری خفت ہوئی ،اس پر ایک دن سید صاحب رح نے فرمایا کہ عجیب لوگ ہیں ،ایک طرف تو میرے معتقدین بنتے ہیں دوسری طرف مجھ پر ہی اعتماد و اعتبار نہیں کرتے ، یعنی میں اپنا فائدہ سمجھ کر وہاں گیا تو ان کو اس سے اختلاف ہے، گویا میرے استاد بن کر مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کہاں چلے گئے ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں ان سے پوچھ کر وہاں جاتا، میں تو اپنا فائدہ اس میں دیکھتا ہوں اور آپ کی خاطر وہاں نہ جاؤں ،گویا اس دولت سے محروم رہوں ،،۔( مستفاد ماہنامہ رضوان جلد 65/ فروری 2012ء)
نوٹ/ باقی کل کی مجلس میں ملاحظہ فرمائیں
No comments:
Post a Comment