Translate

Thursday, October 23, 2025

مسلم معاشرے کی ایک بڑی گندگی۔ محمدامام الدین ندوی ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی

مسلم معاشرے کی ایک بڑی گندگی آپسی جھگڑا 
  محمدامام الدین ندوی
ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی۔


مسلم معاشرے کی بڑی
 گندگیوں میں سےایک بڑی گندگی ان کاآپسی  جھگڑا،اورتکرارہے۔ یہ جھگڑےاکثروبیشتر سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے نتیجے میں رونماہوتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں آپسی بات چیت ہفتوں،مہینوں،بل کہ برسوں بند ہوجاتے ہیں۔سلام کلام،کھان پان،سب بند ہوجاتےہیں۔لوگ ایک دوسرے کی پرچھائی تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے ہیں۔اس سے گھر کے بڑے ہی نہیں بل کہ چھوٹے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ان کے لئے بھی گھرکا دروازہ بند ہوجاتاہے۔گھرمیں بچے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل کود سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔
    اس جگڑے کا اثرسماج ومعاشرے پر پڑتاہے۔معاشرے میں ٹوٹ،پھوٹ،کمزوری،اور آپسی بکھراؤپیدا ہوجاتاہے۔دشمنی چور دروازے سے داخل ہوتی ہے۔سماج آپسی رنجش کا شکار ہوجاتاہے۔آپسی بھائی چارہ ختم ہوجاتاہے۔اورمحبت کی بہ بجائےنفرت جنم لیتی ہے۔
     ایسے موقع پر اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔سورہ حجرات میں ہے" اے ایمان والواگرتمہارے پاس کوئی فاجر کوئی خبرلائے تو اس کی چھان بین ( تحقیق)کرلو "
     چھان بین  اور تحقیق کرنے سے معاملہ کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔اور انسان کی بد ظنی اور بدگمانی ختم ہوجاتی ہے۔کس کی کیاغلطی ہے یہ بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔جولوگ ایک دوسرےکولڑانا چاہتے ہیں ان کا کردا جھلکنے لگتاہےاور چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔
      معاملے کی تحقیق سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ نادانی میں کئے ہوئے اقدام پر شرمندگی ہوتی ہے اور  آدمی سدا کےلئے ایسے کام سے باز آجاتاہے۔لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کا چہرہ کھل کر سامنے  آجاتا ہے۔معاشرہ تباہی سے بچ جاتاہے۔
      لڑائی،جھگڑے جیسی گندگی سے انسان کو بچنا چاہئے۔اس سے آپسی بھائی چارہ ختم ہوجاتاہے۔اس سے آپسی محبت ختم ہوجاتی ہے اور نفرت کے شعلے میں انسان بلاوجہ جلتاہے۔ 
       اللہ تعالی نے آپسی جھگڑے سے بچنے کو کہا ہے۔اور بڑی تاکید کی ہے۔فرمایا" الله اور اس کے رسول کی بات مانوں اور آپس میں نراع پیدانہ کرو ( اگرآپس میں لڑوگے) تو کمزور پڑ جاؤگےاور تمہاری ہوا نکل جائے گی( تم بےوزن ہوجاؤگے) صبر کرو الله تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے۔
       اول لڑنا توہےہی نہیں۔اوراگر لڑائی ہوبھی جائےتواسلامی تعلیمات کاسہارالیناچاہئے
    اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنا ہرصاحب ایمان کا کام ہے۔اوراسلامی احکام کے سامنے بلا چوں چرا اپنے کو ڈال دینا تعمیل احکام ہے۔
     اگر آپسی جھگڑا ہوجائے تو صلح صفائی کا راستہ اختیار کیا جائے یہی قرآن کا حکم ہے۔لوگ عموما عدالت کاسہارالیتے ہیں اور ایک دوسرے پر مقدمات چلاتے ہیں۔جبکہ تھک ہارکر فریقین ایک نہ ایک دن صلح کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں ۔
       اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے" بیشک مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو تم ان کے مابین صلح کراؤ" ( سورہ حجرات)
    صلح کرانا یہ سب سے اچھاتعاون ومدد ہے۔اس سے گھر برباد نہیں ہوتا ہے۔اس لئے اللہ کا فرمان ہے " بھلائی اور نیکی کے کاموں میں مددگار بنو گناہوں اور زیادتیوں کے کاموں میں مددگار نہ بنو"(  سورہ مائدہ)
    جب مسلمانوں کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑےہوجائیں توایسے موقع سے انسان کو تین دن سے زیادہ بات چیت بند نہیں کرناچاہئے۔تین دن سے زیادہ بات چیت بند کرنے سے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم نے منع فرمایاہے۔
     حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں فرماتے ہیں کہ آقا صلی الله عليه وسلم نے فرمایا" آپس میں قطع تعلق پیدا نہ کرو،اورایک دوسرے کے پیچھے نہ پڑو،اورآپس میں بغض نہ رکھو،اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے جلو،اور الله کے بندوں آپس میں بھائی بن جاؤ،کسی مسلمان کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سےتین دن سے زیادہ بات چیت بند رکھے" ( بخاری ومسلم)
    جب آدمی آپس میں لڑ جاتاہے اور کہیں آمناسامنا ہوتاہے تو ایک دوسرے سے کٹ کے نکلتاہے ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتاہے۔جبکہ آقا صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے۔حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ راوی ہیں آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ  چھوڑ دے( بات چیت بندکردے)دونوں آپس میں ملتے ہوں تو یہ اس سے احتراض کرتاہے اور وہ اس سے احتراز کرتا ہے ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے"( بخاری ومسلم)
      جن لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان کی مغفرت کے دروازے ان پر بند ہوجاتے ہیں۔الله تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرتاہے جب تک کہ وہ آپس میں صلح نہ کرلیں۔
      حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایاکہ" ہر سموار اور جمعرات کو بندوں کےاعمال پیش کئے جاتے ہیں چنانچہ الله تعالى  ہر اس آدمی کی مغفرت فرمادیتاہے جو الله تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتاہو سوائے ان دوآدمی کے جن کے درمیان دشمنی ہو تو الله تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرماتاہے ایسے آدمی کے بارے میں الله فرماتا ہے کہ ان دونوں کوچھوڑ دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔"( مسلم شریف)
     آپس میں لڑوانے اور جھگڑے پیدا کرانے میں شیطن مردود کا بھی دخل ہے۔وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر لوگوں کے دلوں کو آپس میں بدلنے اور قطع تعلق پیدا کرنے کی کوششیں کرتاہے۔لوگوں کے دلوں میں فسادوبگاڑ  پیداکراتاہے۔اس پر بھی لوگوں کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
            حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نےنبی صلی الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جزیرۃ العرب میں شیطان مایوس ہوچکاہے اس بات سے  کہ لوگ اس کی عبادت کریں،(لیکن وہ اس بات سے مایوس نہیں ہوا ہے کہ) وہ لوگوں کے درمیان بگاڑ پیداکراتارہے"( مسلم شریف)
      جب آپس میں جھگڑاہوجائے اور تین دن سے زیادہ بات بند ہوجائے،قطع تعلق ہوجائے اور اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جہنمی ہے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
          حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم  نے فرمایاکہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ  چھوڑدے ،چنانچہ تین دن سے زیاد بات بند کردے اور انتقال ہوجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا"( ابوداؤد شریف)
         مسلمانوں میں جہالت عام ہے۔بے دینی بھی عروج پر ہے۔الله ورسول سے رشتہ بھی کمزور ہے اسے دین کی  سمجھ نہیں آتی ہے یا آتی بھی ہے تو انا اسے جھکنے نہیں دیتی ہی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بسااوقات سال سال بھر قطع تعلق رہتاہے۔بات چیت بند رہتی ہے۔ایسے شخص کے متعلق بڑی سخت وعید آئی ہے۔
        حضرت ابو خراش کی روایت ہے انہوں نے نبی صلی الله عليه وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ" جو شخص اپنے بھائی سے ایک سال تک بات چیت بند رکھے تو وہ شخص ظلما قتل کرنے والے کی طرح ہے"( ابوداؤد شریف)
      یعنی جس آدمی نے اپنے مسلمان بھائی سے سال بھر تک بات چیت بند کردی وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ظلما کسی کوقتل کیاہو۔
    مذکورہ بالا تمام آیات وروایات سے معلوم ہواکہ اگر کسی کے بیچ لڑائی جھگڑا ہوجائے تو جتنا جلد ہوسکے آپس میں تعلقات بحال کرلے ۔فرمان رسول صلی الله عليه وسلم کی قطعی خلاف ورزی نہ کرے۔یہ چیز انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔
       مسلم معاشرہ ان گندگیوں میں بہت آگے ہے ۔یہاں مونچھ کی لڑائی بہت زیادہ ہے انا کا بھوت سر چڑھ کے بولتاہے۔خون میں گرمی زیادہ ہے جو جھکنے نہیں دیتا ہے جبکہ کہا گیاہے کہ جو الله تعالیٰ کے لئے جھکتاہے الله تعالیٰ اسے رفعت عطا فرماتاہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کوآپسی بھائی چارہ عطافرمائے نفرت کی جگہ محبت بانٹنے والا بنائے۔اور لڑائی جھگڑے جیسی گندگیوں سے حفاظت فرماٹے۔آمین۔
رابطہ-9801905853
  تاریخ-1-5-1447 
24-10-2025

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...