Translate

Tuesday, October 7, 2025

علم واخلاق کی اعلی ظرف شخصیت ڈاکٹر نذیر احمد ندوی سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

*علم واخلاق کی اعلی ظرف شخصیت*

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور  

آج 7 اکتوبر 2025ء بوقت دوپہر یہ خبر اشکبار کرگئی کہ مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مایہ ناز استاذ وادیب،زبان وادب کے رمز شناس ، عربی ادب کے اہم ستون مولانا ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندویؒ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب ﷲ کو پیارے ہوگئے،اور اپنی زندگی کے بیشتر ایام ندوہ اور ابنائے ندوہ کے نام لکھ گئے۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر 

آج دار العلوم ندوة العلماء کا ذرہ ذرہ، پتہ پتہ،بوٹہ بوٹہ غم واندوہ کی صورت بنا ہوا ہے کیونکہ اس کا ایک مخلص وجفاکش، خلیق و ملنسار،نرم گو مردِ ملنسار آج اچانک الوداع کہہ گیا۔

ڈاکٹر نذیر احمد ندویؒ نام تھا شرافت و انسانیت کا،سذاجت وانکساری کا،بے نفسی ومجاہدہ کا،درس وافادہ کا،علم وادب کا،متانت وسنجیدگی کا،کرداروگفتار
استغناء وبے نیازی کا اور بے پناہ سادگی کا۔

 وہ نرم دم گفتگو کا مجموعہ تھے،علم میں گم تھے،کم گو بھی تھے،عمل کے لئے ہمہ وقت کوشاں تھے،ہمہ جہت مسکراہٹ بکھیرنے کافن ان کے پاس تھا، اخلاق کی شمع چہار سو جلاتے تھے،نفاست ان کا مزاج تھا،امراض نے اس قدر جکڑا کہ اب طبابت سے بھی ان کا یارانہ تھا۔

جی ہاں! نرم گفتاری ان کی شان تھی،محنت ان کی پہچان تھی،سلیقہ وشعار ان کی گھٹی میں پیوست تھا،وہ باادب تھے طلباء کے ساتھ بھی ادب ولطافت سے پیش آتے تھے،میکدۀ شبلی وسلیماں میں ان کی شان جداگانہ تھی پروانہ وار طلباء کا ہجوم ان کے درودیوار پر رہتا،لیکن وہ ہنستے مسکراتے طلباء کو قلم پکڑنا سکھاتے، کسی کے سامنے عربی زبان  کا دسترخوان سجاکر رکھتے،کسی کو انگلش زبان سے واقف کراتے، نہ جانے کتنوں کو انہوں نے ترجمہ وتعریب سے واقف کرایا، وہ ہر فن مولی تھے لیکن ان کی پہچان عربی وانگلش کے ماہر کے طور پر ہوئی،راستہ سے گزرتے ہوئے سوالات کی بوچھار رہتی لیکن خندہ پیشانی سے جواب دیتے،اور چلتے جاتے،ساتھ میں مسکراتے جاتے ۔
ڈاکٹر نذیر احمد اپنے علم وادب میں بے نظیر تھے، اور عمل ویکسوئی میں بے مثیل تھے،تنظیم اوقات اور کثرت کار میں بے بدل تھے،اخلاق ومتانت میں یگانہ تھے۔

وہ دارالعلوم ندوة العلماء کے افق پر براجمان علم وادب کے رواں دواں قافلے کے ممتازفردفریدتھے،
صاحب علم و تدبر تھے،ان کے علم پر اکابرین ندوہ بھی نازاں تھے،اور وہ معتمد بھی تھے، یہاں تک ادیبِ دوراں حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندویؒ بھی ان کی عربی صلاحیت کے معترف تھے جو حضرات مولانا حسنیؒ کے اس مزاج سے واقف ہوں وہ بآسانی ڈاکٹر صاحبؒ کی عربی صلاحیت وقدرت کا اندازہ لگاسکتے ہیں،
ندوہ میں آپ کی پہچان ایک مخلص وجفاکش استاذ کے طور پر ہوئی،طلباء بھی آپ سے بے تحاشا محبت کرتے اور جرعہ نوشی میں مسابقت کرتے،آپ کا درس بڑا مقبول اور کافی وشافی ہوتا تھا،کتاب کا حق ادا کرتے،انہوں نے اپنی زندگی کے اکثر ایام ندوہ کے لئے صرف کئے،اور مستقبل میں علم و ادب کےسپاہی تیار کرنے میں اپنا بیش قیمت وقت نچھاور کیا، وہ بے لوث وبے ضرر تھے۔

وہ صرف کتاب وقلم اور درس وتدریس تک محدود نہ تھےبلکہ اپنی دل کی دنیا کو آباد کرنے کے لئے وہ بزرگان دین سے بڑی گہری عقیدت ومحبت اور پختہ تعلق رکھتے تھے،اپنا قیمتی وقت وہاں گزارتے تھے،ہمارے زمانۀ طالب علمی میں اپنے خالی گھنٹہ میں ہم حضرت مولانا سید عبد ﷲ حسنی ندویؒ کے الرائد دفتر چلے جاتے تو مولانا بھی اکثر تشریف لاتے اور ایسے باادب ہوکر بیٹھتے گویا کوئی ندوہ کا طالب علم بیٹھا ہو جبکہ مولانا حسنیؒ بھی کبھی کبھی گویا ہوتے، مولانا صحیح سے بیٹھ جائیے، مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ کی مجلس میں عشاء بعد اکثر تشریف فرما ہوتے،مفسر ندوہ مولانا برہان الدین سنبھلیؒ اور دیگر بڑے اساتذہ کے پاس حاضری دیتے،اب ناظم ندوہ حضرت  مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی دامت برکاتہم کی مجالس میں شرکت کرتے، اور ان اکابرین کی نصائح کو نہاخانۀ دل میں جگہ دیتے، ہمارے زمانۀ طالب علمی میں رائے پور وسہارن پور کا ذکرکرتے اور یہاں کے بزرگان سے ملاقات کی تمنا کرتے، بعدمیں آپ یہاں تشریف بھی لائے، اور یہاں خلوت وجلوت کے مکینوں سے دید وشنید کی، ان کی حیات مقصد کو پانے اورکثرت کار کا نمونہ تھی،وقت کی تنظیم میں بڑے محتاط تھے اسی وجہ سے وہ اختصاص کے اس مقام پر پہنچے کہ کتاب وقلم سے تعلق رکھنے والے افرادآپ سے واقف ہیں،آج دنیا سے قطع تعلق کرکے وہ اپنے رب کے حضور اپنی خدمات کا صلہ پانے کے لئے چل بسے، خداتعالی ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور ان کو بلند مقام سے نوازے۔آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...