Translate

Wednesday, September 3, 2025

تذکرہ قطب افریقہ سلطان العارفین حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

*تذکرہ قطب افریقہ سلطان العارفین حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ* 

مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور 

آج ہمارے مطالعہ کی میز پر ایک ضخیم سوانح "تذکرہ قطب افریقہ حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ "کی حیات پر مشتمل تذکرہ نگاری کا ایک زندہ وجاوید کا رنامہ ہے،جو جیتا جاگتا اور مطالعہ کے لئے مہمیز دینے والا ایک قلمی شاہکار ہے جس کو وہاں کے سابق استاذ تفسیر وادب اور حضرت مولانا متالاؒ کے محب خاص،خطیب دوراں مولانا محمد عابد حسین ندوی ناظم مرکز رحمت ﷲ الکیرانوی کیرانہ نے تالیف کیا ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے اپنی نظر ڈال کر جن نجوم وکواکب کو تیار کیا ان میں ایک حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ زامبیا افریقہ کی شخصیت بھی تھی،جس نے اپنی جگمگاہٹ سے افریقہ کو بقعۀ نور بنایا،آپ کی پوری زندگی اعلاء کلمةﷲ اور کتاب وسنت کی ترویج واشاعت میں گذری اور حضرت شیخ الحدیثؒ کے حکم اور مساعدت پر ایک ایسے علاقہ کو اپنی جدوجہد اور دعوت وعمل کا میدان بنایا،جہاں غیر معمولی محنت وریاضت درکار تھی،لیکن ان کی فکر ولگن،اخلاص وللہیت، مقصد کی تیئں شب وروز ان کی کوشش کو دیکھ کر رب ذوالجلال نے ان کو کامیابی سے ہمکنار کیا،اور وہ ملت اسلامیہ کی عبقری ونابغۀ روزگار شخصیات میں شمار کئے گئے۔
یہ تعلق اور بزرگان دین کی صحبت ورفاقت کا واضح ثبوت ہے کہ تقریبا 9000 کلو میٹر دور بیٹھ کر مولانا قاری محمد عابد حسین صاحب ندوی زید مجدہ اور ان کے برادر عزیز مولانا مفتی محمد ساجد صاحب ندوی مدظلہ نے بڑی عرق ریزی محنت وجانفشانی سے یہ حسین علمی گلدستہ تیار کیا،اور اس مرد مجاہد کی سرفروشانہ زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی،اور ان کی حیات وخدمات پر مشتمل ایک حسین مرقع امت کے سامنے پیش کیا، جس پر وہ حضرت کے علمی خانوادہ اور قلم وکتاب سے تعلق رکھنے افراد کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ 
یہ محبت واحسان اور بزرگوں کی صحبتوں کا بیش بہا بدل بھی ہے کہ ان کی زندگی سے آنیوالی نسلوں کو روشناس کیا جائے، مولانا محمد عابد حسین ندوی اپنے زمانۀ طالب علمی سے ہی زبان وقلم کے رسیا رہے ہیں اور اس وقت ملک کے عظیم خطیبوں میں سے ایک ہیں جیسے خداوند قدوس نے ان کی زبان میں لطافت وچاشنی،روانگی وبرجستگی اور مجمع پر چھاجانے کا ہنر رکھا ہے اسی طرح ان کی تحریریں بھی سلاست وروانی اور معلومات کا خزینہ ہیں یہ ان کے اوپر حق بھی تھا چونکہ آپ حضرت کے 14 سالہ رفیق اور جلوت وخلوت کے بچشم خود شاہد ہیں، اس طویل صحبت ورفاقت کی بدولت ان کا قرب خاص اور اعتماد حاصل کیا۔ کتاب پڑھنے سے تعلق اس لئے بھی رکھتی ہے کہ ایک نوجوان نے اپنے شیخ کی ایماء پر اپنی پوری جوانی، کہولت اور پھر شیوخت تمام عمر تج کردی اور سنگلاخ افریقہ کی وادی میں علم وعمل ایمان وعزیمت کا ایک ایسا قلعہ تعمیر کیا کہ حضرت شیخ الحدیثؒ بھی ان کی محنت وریاضت کی داد دیتے تھے،اور حضرت شیخؒ نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کو خلافت سے سرفراز فرماکر افریقہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے سامنے اپنا محبوب تصور کرایا،وہ حضرت شیخؒ کے بہت خاص معتمد اور رازدار تھے،اور کاتب خاص تھے۔اس بات کی شہادت میرے پاس اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتی۔
 مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ لکھتے ہیں: 
حضرت مولانا عبد الرحیم متالاؒ کی شخصیت علم ومعرفت اور صلاح وارشاد کی اعلی صفات پر مشتمل معروف شخصیت تھی، حضرت شیخؒ کی خدمت میں ایک خاصی مدت بہت قربت کے ساتھ گزاری اور حضرت شیخ کی وابستگی ان سے بہت گہری رہی اور ان کو حضرت کا بڑا اعتماد حاصل ہوا۔ملاحظہ ہو 15
بالآخر آپ حبشیوں کے درمیان ایک دیدہ زیب چمن تیار کرکے 9دسمبر 2013 بوقت صبح گردن آسمان کی جانب اٹھائی اور سلام کرتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ 
اب حضرت کی اولاد میں ماشاءاللہ بڑے بیٹے اور آپ کی تربیت کا اعلی نمونہ مولانا عبد الحلیم صاحب متالا دامت برکاتہم ہیں، دوسرے بیٹے جو صورت و سیرت اور گفتار و کردار میں آپ کے بہت زیادہ مشابہ ہیں مولانا عبدالرشید صاحب متالا دامت برکاتہم ہیں،اور تیسرے چہیتے بیٹے مولانا عبدالرؤف صاحب متالا مدظلہ العالی ہیں ایک بیٹی عائشہ پٹیل صاحبہ ہیں جو مولانا زکریا صاحب دامت برکاتہم سے منسوب ہیں۔
کتاب کے شروع میں ملک کے بڑے مدارس وتحریکات کے ذمہ داران، علمی اشخاص۔خاندانی بزرگان کی وقیع،چشم کشاں تحریریں موجود ہیں، ایک تحریر اظہار حقیقت کے عنوان سے مشہور سحر طراز ادیب وقلم کار مولانا سید محمود حسنی ندویؒ کی بھی ہے جو یقینا تاریخ وتصوف سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے راحت کا سامان ہے،ان تحریروں سے کتاب کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے،یہ علمی وسوانحی مرقع چھ باب اور ۲۵۵ صفحات پر مشتمل ہے 
پہلاباب:۷۴ تا ۸۲
تمہید،خاندان،ولادت،
والد ماجداور ابتدائی تعلیم وتربیت۔
دوسراباب: ۸۳تا ۱۱۳
بیعت وسلوک اور تربیت وارشاد۔
تیسرا باب: ۱۱۴ تا ۱۲۷
مختصر تذکرہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ۔
چوتھا باب: ۱۲۸ تا ۱۹۴
تعلیمی۔تربیتی، اصلاحی اور روحانی خدمات۔
پانچواں باب:۱۹۵ تا ۲۱۴ 
نمایاں اوصاف وکمالات اور امتیازی خصوصیات وعادات۔
چھٹا باب:۲۱۵ تا ۲۵۴
وفات،حلیہ،پسماندگان تأثرات مشاہیر ومعاصرین۔
اس حقیقت کو مولانا عابد حسین ندوی مدظلہ کے گھرانہ کے لئے خوش بختی ہی لکھا جائے گا کہ ان کے گھرانہ میں علم وعمل کا چرچہ وشہرہ ہے یہ ان کے والدین یا بزرگان دین کی دعائے نیم شبی کا اثر ہے کہ ماشاءﷲ اکثربھائی عالم اور بہنیں عالمہ ہیں اور ملک کے معروف اداروں میں اعلی خدمات پر فائز ہیں۔
مولانا کے برادر عزیز مولانا مفتی محمد ساجد صاحب ندوی مدظلہ نائب ناظم مرکزالامام رحمتﷲ الکیرانوی نے اپنے لئے سعادت سمجھ کر اس کتاب کوتیار کرنے میں اپنی قلمی معاونت کی اس طور پر وہ بھی لائق تبریک ہیں کہ ان کے ذریعہ یہ تاریخی کام انجام پایا،مواد کی جمع وترتیب ، بزرگوں سے رابطہ اور ان کی تحریریں حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ اور کتاب کی کمپوزنگ و طباعت تک کے جملہ دشوار کن مراحل بحسن و خوبی انجام دئیے،دیدہ زیب ٹائٹل، عمدہ طباعت کے ساتھ دار البحوث والنشر مرکز الامام رحمت ﷲ الکیرانوی کیرانہ شاملی نے اس کو شائع کیا ہے،شائقین علم ومطالعہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور ناسازگار حالات میں کام کرنیکا سلیقہ ان تحریروں کو پڑھ کر حاصل کریں کتاب کی قیمت 170 روپئے رقم ہے

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...